بدھ، 23 فروری، 2022

فائز دہلوی کے کلام میں مقامی رنگ - مضمون نگار : نفاست کمالی

 



شمالی ہند میں جدید تحقیق کے مطابق نواب صدرالدین خاں فائز دہلوی اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر ہیں ان کے آباو اجداد سلطنت مغلیہ کے منصب داروں میں سے تھے اور خود بھی منصب امارت اور جاگیر سے سرفراز تھے۔ غالباً اس لیے وہ اپنے نام کے شروع میں ’نواب ‘ کا اضافہ کرتے تھے۔

فائز دہلوی کا زمانہ سیاسی طور پر بڑے انتشار کا تھا۔ سلطنت مغلیہ دن بہ دن زوال کے تاریک غار کی طرف جا رہی تھی۔ آئے دن بادشاہ تبدیل ہو رہے تھے۔ سیاست کی طاقت بکھر رہی تھی لیکن اردو اپنی تمام تر قوتوں کے ساتھ ترقی کے زینوں کی طرف گامزن تھی۔شمال میں اردو شاعری اپنا اعتبار قائم کر رہی تھی جبکہ اس وقت تک دکن میں شعروادب کے انبار لگ چکے تھے خصوصاً صنف مثنوی نے بڑی ترقی کر لی تھی۔ فائز کا بہر حال یہ کارنامہ ہے کہ وہ اپنی منصبی ذمے داریوں کوپوراکرتے ہوئے اردو کے دامن کو اپنی شاعر ی سے ’دامانِ باغباں‘اور ’کف گل فروش‘ بنا رہے تھے اوراس طرح انھوں نے شاعری میں اپنی ایک امتیازی حیثیت بنالی۔ فنی اور ادبی حیثیت سے اگر چہ فائز دہلوی کا مرتبہ زیادہ بلند نہیں ہے لیکن قدامت کو ذہن میں رکھتے ہوئے فائز کی شاعری کا ناقدانہ جائزہ لیں تو فائز کی اہمیت کو تسلیم کرنا ہی پڑے گا۔

فائز دہلوی بنیادی طور پر فارسی کے شاعر ہیں اور ان کے فارسی کلام کا ایک بڑا ذخیرہ آج بھی موجود ہے پھر بھی ان کو شہرت ان کے اردو دیوان کی وجہ سے حاصل ہوئی۔ انھوں نے اردو میںباضابطہ شاعری اس وقت شروع کی جب 1720 میں ولی کا دیوان دہلی پہنچا۔ اس سلسلے میں جمیل جالبی اپنی کتاب ’تاریخ ادب اردو‘ میں لکھتے ہیں :

’’انھوں نے رواج زمانہ کے مطابق دیوان ولی کے آنے کے بعد1132ھ بمطابق 1720میں یا اس کے بعد اردو میں شاعر ی شروع کی۔‘‘

(جمیل جالبی: تاریخ ادب اردو، جلد دوم،  نمبر301

اس سے قبل بہت سے اہل قلم کی طرح اردو کو فارسی زبان کے مقابلے میں حقیر اور بازاری سمجھتے تھے انھوں نے جملہ اصناف میں طبع آزمائی کی لیکن غزل گوئی اور نظم نگاری کو فوقیت حاصل ہوئی۔فائز کے زمانے میں ایہام گوئی کا دور  دورہ تھا۔ حاتم، ناجی، آبرو، مضمون، یکرنگ وغیرہ اردو کے تمام سربر آوردہ شعرا اس رنگ سے رنگے ہوئے تھے۔بعد میں یہ رنگ ہلکا پڑگیا اور شاعروں نے اس طرز کو چھوڑ دیا اور دوسروں کو بھی اسے ترک کرنے کی تلقین کی لیکن فائز ایہام گو شاعر نہیں ہیں انہوں نے ولی دکنی کا اثر قبول کرکے انھیں کے طرزپر شاعری شروع کی ان کی 46غزلوں میں سے 33 غزلیں ولی کی ہی طرز پر لکھی گئی ہیں۔خطبۂ کلیات میں خود فائز کے اپنے آغاز شباب کی حدت،شوخی اور آزاد روی کا ذکر کیا گیا ہے اپنی عاشقانہ اور رومانی افتاد طبع کی وجہ سے کبھی بھی مضمون آفرینی کی کوشش نہیں کی۔شوق کے غلبے میں جو کچھ محسوس کیا بلا کم وکاست لکھ دیا اوراس طرح انھوں نے شاعری میں اپنی امتیازی حیثیت بنالی۔انھیں امتیاز وخصوصیات میں سے ایک خصوصیت ہندوستانی یا مقامی رنگ کی بھی جلوہ گری ہے۔

ان کے کلام میں ہندوستانی عناصر اور مقامی رنگ کی عکاسی بڑی خوبی سے کی گئی ہے۔فارسی اور ہندوستانی عناصر کے امتزاج سے ان کی شاعری میں گنگا جمنی حُسن پیدا ہو گیا ہے۔ابتدا میں ان کی شاعری کی بنیاد فارسی شاعروں کی روایتوں پر کھڑی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں فارسی کے اصناف غزل،قصیدہ،مثنوی،اردو میں لائی گئیں۔خیالات اور مواد میں تقلید کی گئی اس طرح فارسی شاعری کی بیجا تقلید اردو شاعری کی روایت بن گئی اس لیے یہ کہنا بیجا نہ ہو گا کہ اردو شاعری ولی سے غالب کے زمانے تک خارجی اور معنوی حیثیت سے صرف فارسی شاعری کی نقالی کرتی رہی یہی وجہ ہے کہ اردو شاعری میں ہمیشہ اصلی تجربات و مشاہدات اورذاتی جذبات واحساسات کی کمی محسوس کی گئی حد تو یہ ہے کہ اردو شعرا بیت کے علاوہ مضامین بندش الفاظ و تراکیب تشبیہات واستعارات میں کورانہ تقلید کرنے لگے نقادوں نے اس سلسلے میں اردو شاعری پر کافی تنقیدیں کی ہیں جو بجاہیں۔محمد حسین آزاد اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ’آب حیات‘ میں کچھ اس طرح رقم طراز ہیں:

’’ تعجب ہے کہ فارسی شاعری نے اس قدر خوش ادائی اور خوش نمائی پیدا کی ہے کہ ہندی بھاشا کے خیالات جو خاص اس ملک کے حالات کے موجب تھے انھیں بھی مٹا دیا چنانچہ خاص وعام پپیہے اور کوئل کی آواز چمیلی کی خوشبو کو بھول گئے۔نسرین وسنبل جو کبھی دیکھی نہ تھی ان کی تعریف کرنے لگے رستم اور اسفند یار کی بلندی کو ہ اَلوَنداور بے ستون کی بلندی اور جیحوں اورسیہون کی روانی نے وہ طوفان اٹھا یا کہ ارجن کی بہادری ہمالیہ کی ہری ہری پہاڑیاں برف سے بھری چوٹیاں گنگا جمنا کی روانی  کو با لکل روک دیا۔‘‘

(آب حیات)بحوالہ کلیم الدین احمد اردو شاعری پر ایک نظر  ص2)

کلیم الدین احمد کہتے ہیں :

’’فارسی شاعری نے کچھ ایسا سبز باغ دکھا یا ہے کہ شعرا اپنی فطری ذہانت اور طباعی،اپنی قوت اور جدت طرازی سے دست بردار ہو کر فارسی شاعری کی تقلید میں منہمک ہو گئے۔‘‘(اردو شاعری پر ایک نظر)

حقیقت بھی یہی ہے کہ اردو شعرا ہندوستانی ماحول اور آب وہوا میں رہ رہے تھے لیکن ایرانی ماحول کا نقشہ اپنے کلام میں پیش کر رہے تھے۔لیکن فائز دہلوی اور نظیر اکبر آبادی  اس سے مستثنیٰ ہیں۔ان کی شاعری ایرانی فضا میں سانس نہیں لیتی ہے۔ہندوستانی عناصر سے اپنے کلام کو آراستہ و پیراستہ کرتے ہیں اس سلسلے میں فائز کے کلام کا جائزہ لیتے ہوئے مسعود حسین رضوی تحریر کرتے ہیں :

’’ اردو شاعری پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ وہ مقامی رنگ سے خالی ہے لیکن فائز کا کلام اس اعتراض کی زد سے دور ہے وہ تشبیہوں،استعاروںا ور تلمیحات میں خالص ہندوستانی چیزوں سے زیادہ کام لیتے ہیں۔‘‘

(مقدمہ، دیوان فائز مسعود حسین رضوی ادیب ص830)

فائز ہندوستانی زندگی،ہندوستانی رسم ورواج، تہوار اور میلوں کا منظر اپنے کلام میں بڑی خوبصورتی سے پیش کرتے ہیں مجنون گورکھپوری نے نظیر کے بارے میں لکھا ہے جو فائز پر بھی صادق آتا ہے :

’’نظیر پہلے شاعر تھے جن کو میں نے زمین کی چیزوں کے متعلق باتیں کرتے ہوئے پایا۔پہلی دفعہ میں نے محسوس کیا کہ شاعر کا تعلق روئے زمین سے بھی ہے۔‘‘

فائز سراپا ہندوستانی ہیں۔ان کے سوچنے کا انداز، تخیل،فکر اور ان کا اسلوب بیان ان کے پیش کردہ مناظر حتی کہ ان کی تشبیہات واستعارات بھی سو فیصد ہندوستانی نظر آتے ہیں فائز کا یہ کمال ہے کہ ہماری زندگی کی چلتی پھرتی تصویر پیش کر دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ ان کے کلام میں بھر پور صداقت اور واقعیت کی جھلک ملتی ہے۔نظموں کے چند عنوانات دیکھیے       ؎

تعریف پنگھٹ،تعریف ہولی، بیان میلہ بہتہ، تعریف جوگن، دروصف کاچن،تعریف تمبولن،در وصف بھنگیرن،تعریف گوجری،درگاہ قطب وغیرہ۔

پنگھٹ کا تعلق پورے طور پر ہندوستان سے ہے اس کے نام ہی سے ایک خاص رومانی فضا کا تصور ذہن میں ابھر تا ہے۔جہاں لڑکیاں اور عورتیں پانی بھرنے کو جمع ہوتی ہیں۔کیا ہی خوبصورت منظر نظر آتا ہے۔عاشق مزاج حضرات اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔فائز نے اپنی فنکاری اور تخلیقی قوت سے تمام جزئیات کے ساتھ اس منظر کو پیش کر دیا ہے چند اشعار ملاحظہ ہوں         ؎

کیا جب سیر میں پنگھٹ کا گلزار

کنویں کے گرد دیکھی فوج پنیہار

ہر اک پنیہار واں اک اپچھرا تی

کنویں کے گرد اندر کی سبھا تی

لے آئی تھی ججریاں اک سندر

لے جاتی اک گگریاں سیس پر دھر

سبن کی رنگ رنگ لہنگا وساری

کنارے ان کے تھی ٹانکی کناری

ان اشعار میں سارے الفاظ تلمیحات وتشبیہات ہندوستانی ہیں۔پنگھٹ پر ساری لڑکیاں انھیں اپسرا ہی نظر آئیں معلوم ہوتا ہے کہ فائز کی نگاہ میں کوئی بدصورت عورت تھی ہی نہیں۔

نظم ’’تعریف ہولی بھی ایک کامیاب اور دلکش نظم ہے۔اس کے واقعات اور مناظر بڑے ہی دلکش انداز میں پیش کیے گئے ہیں ان کی رنگ رلیاں اور گل چھڑے کا مزہ لے لے کر تبصرہ کرتے ہیں۔گلال،ابیر،کیسر کے چھینٹے پھینکے جاتے ہیں مرد عورت مستی میں ہنسی مذاق اور ٹھیٹھول کرتے ہیں خوشی اور مسرت میں رقص کرتے ہیں فائز کہتے ہیں           ؎

لے ابیر اور گجابھر کر رومال

چھڑکتے ہیں اور اڑاتے ہیں گلال

سب کے تن میں ہے لباس کیسری

کرتے ہیں صد برگ سوں سب ہمسری

ناچتی گا گا کے ہوری دم بدم

جیوں سبھا اندر کے دربار ارم

بعد میں اس روایت کو نظیرنے کافی آگے بڑھایا اور ہولی کی رنگینی کو زیادہ موثر طریقے سے پیش کیا۔ فائز سے پہلے قلی قطب شاہ  نے بھی ہولی بسنت وغیرہ پر خوبصورت نظمیں کہی ہیں۔

نظم ’بیان میلہ بہتہ‘ میں ایک بازار کی تصویر کشی ملتی ہے جو لال قلعے کے لاہوری دروازے پر لگتا تھامنظر نگاری سے صداقت جھلکتی ہے۔لوگوں کا ریلا آرہا ہے،شور و غل بڑھ رہا ہے،بازار وں کی چہل پہل بھی بڑھ رہی ہے،ماہ جبیں عورتیں بھی بازار کی رونق میں اضافہ کر رہی ہیں۔کہیں تاشہ،حلوائی،گلفروش،تمبولن،شراب فروش ہیں کہیں بھکتوں کا ہجوم ہے تو کہیں بھانڈ اور نٹ  کا ہنگامہ۔ سبھی اپنی دکانیں سجائے بازار میں جلوہ افروز ہیں ذرا فائز کی زبانی سنیے        ؎

آج بہتے کا یار میلا ہے

خلق کا اس کنارے ریلا ہے

مرد وزن سب چلے ہیں اس جاں پر

خلق پھیلی کنارے دریا پر

بہل وگاری میں سب چلے نسواں

کوچۂ بازار میں ہوں چیں چاں

اک جانب میں بھانڈ کا ہے شور

دیکھنا ان کا اہل دل کو ضرور

اس زمانے میں جب کہ اردو شاعری گھٹنوں کے بل چل رہی تھی۔ فائز کی نظموں میں تخیل کی فراوانی، تخلیقی صلاحیت،قوت مشاہدہ اورتجربات واحساسات کی تیزی دیکھ کر حیرت ہوتی ہے وہ بڑی سادگی سے سارے مناظر پیش کر دیتے ہیں۔

کاچن،تمبولن،بھنگیرن،گوجرن یہ تمام مختلف پیشہ ور عورتیں ہیں اور نچلے طبقے سے تعلق رکھتی ہیں لیکن فائز نے ایک عام ہندوستانی نظر سے دیکھا۔ان عورتوں کے ہندوستانی حسن اور لباس سے بہت متاثر ہیں۔فائز نے اس زمانے کی عام روش کے خلاف پست طبقے کی گنوار عورتوں کے حسن اور طور طریقے کو اجاگر کیا ہے۔بعد میں جوش ملیح آبادی نے جامُن والیاں اور دیگر مزدور پیشہ جفاکش عورتوں کی تعریف میں نظمیں لکھیں۔وہ عام زمینداروں اور رئیسوں کے مقابلے میں نچلے طبقے کی حمایت کرتے تھے۔ ان کی نظم ’تمبولن ‘ کے چند اشعار پیش ہیں          ؎

ایک تمبولن دیکھی میں دل ربا

ماہ رخاں بیچ بہت خوش ادا

بانکری تھی ہاتھ میں اس کے ہری

بیٹھی دکان میں وہ جوں پری

ہونٹا اوپر زیب دیتی تھی دھڑی

گَل میں تی موتیاں کی اس کو لڑی

کیلے کے گابھے سے ملائم دو ہات

دیکھ کے مرجھا تے تھے کیلے کے پات

نت دل عشاق کی چوری کرے

ہاتھ میں لے اپنی گلوری کرے

ان اشعار کی یہ خوبی ہے کہ عورت کے حسن وادا کے ساتھ عشوہ وغمزہ اور چاہنے والے کے ساتھ اس کے برتاؤ کو بھی پیش کیا گیا ہے۔

تشبیہات واستعارات کی شیریں ادائیگی کی فکر میں کبھی کبھی شاعر بہک بھی جاتا ہے اوردور ازکار تشبیہات انقباض پیدا کرتی ہیں لیکن فائز نے تشبہیات و استعارات کی پیش کش میں بڑی تخلیقی بصیرت اور فن کاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ مسعود حسین رضوی ادیب لکھتے ہیں :

’’وہ تشبیہوں استعاروں اور تلمیحوں میں خاص ہندوستانی چیزوں سے زیادہ کام لیتے ہیں مثلاً پلک کو کٹاری،نرم اور نازک گول باہوں کو کمل کی ڈنڈی اور کیلے کا کابھا،ناک کو چمپے کی کلی سے دلکش،رفتارکو موڑ اور مست ہاتھی کی چال سے تشبیہہ دیتے ہیں حقیقت بھی یہی ہے کہ تشبیہات اور استعارات سے ان کے قوت مشاہدہ اور فن کا رانہ بصیرت کا بخوبی اندازہ ہو جاتاہے۔‘‘

(مقدمہ،دیوان فائز دہلوی سید مسعود حسین رضوی ادیب  ص83)

اس سلسلے کے چند اشعار ملاحظہ ہوں            ؎

خوش نما تھا اس کے پگ میں پائے زیب

پیر نارنگی و تلوے تھے سیب

کنک سوں سفادار وہ بدن

کنول ڈال ہے ہاتھ گال ہے چرن

دو کنول دو گل ہیں گال

کلی چمپے کی ناک کو ہے مثال

آوارہ اور اوباش لوگ بھنگیر خانے میں اس طرح پھیلے ہوئے ہیں جیسے آشیانے پر کوے اودھم مچا رہے ہیں۔کوا ہندوستانی پرندہ ہے۔کوّے کا غول کبھی کبھی جو منظر پیش کرتا ہے وہ ہندوستانیوں سے پوشیدہ نہیں۔ہندی شاعری کی پیروی اور تقلید میں معشوق کا استعارہ چاند سے اور عاشق کا چکور سے پیش کیا جاتاہے جیسے   ؎

 سب چکورے بھنگیر خانے پر

جیسے کوّے ہیں آشیانے پر

فائز نے اپنی شاعری   میں ہندؤں کے مذہبی عقائد اور معاشرتی طریقوں کا بھی ذکر کیا ہے جیسے اندر کی سبھا،اپچھرا وغیرہ فائز کی نظموں میں ان کی غزلوں کی بنسبت ہندوستانی عناصر یا مقامی رنگ زیادہ ہیں لیکن ان کی غزلیں بھی مقامی رنگ سے بالکل عاری نہیں ہیں۔ خاص کر عشق میں ان کی ارضیت اور معشوق کی سج دھج بالکل ہندوستانی ہے۔طرز ادا اور لب ولہجہ پر خالص برج بھاشا اور دہلی کی بولیوں کا اثر ہے۔غزل کے ایک شعر کی طرز ادا ملاحظہ ہو      ؎

حسن بے ساختہ لبھاتا ہے مجھے

سُرمہ انکھیا ں میں لگایا نہ کرو

اس طرح کے اور بھی اشعار ہیں جن کی تلاش میں جانے پر طوالت پائے قلم تھام لیتی ہے۔

فائز کی شاعری کا محاکمہ کرتے ہوئے جمیل جالبی لکھتے ہیں :

’’فائز کی شاعری میں کوئی گہری معنویت نہیں ہے لیکن آبرو، ناجی اور دیگر شعرا کے یہاں سے زیادہ مقامی رنگ ملتا ہے۔ان کی شاعری کی فضا ان کے ذخیرۂ الفاظ اور ان کے رمز و کنایے میں ہندوئیت کی چھاپ گہری ہے۔ یہی وہ رنگ سخن ہے جو فائز کو اردو کے دوسرے شاعروں سے مختلف کرتاہے۔‘‘

(ڈاکٹر جمیل جالبی :تاریخ ادب اردو، حصہ دوم  ص305)

اتنی بات تو تسلیم کرنی ہی ہوگی کے فائز دہلوی نے فارسیت کے اس دور میں مقامی رنگ اور ہندوستانی عناصر کی جلوہ گری سے اردو شاعری کے دامن کو وسیع اور زبان کو تقویت بخشی ہے یہ ان کاطرۂ امتیاز ہے۔



Dr. Nafasat Kamali

Asst Professor

Guest Faculty, Dept of Urdu

C M College, Qila Ghaat

Darbhanga - 846004 (Bihar)

 

 

 ماہنامہ اردو دنیا، دسمبر 2021



اٹل بہاری باجپئی دانش ہند کا شاعر - مضمون نگار :جگ موہن سنگھ

 



بھارت رتن ایوارڈ یافتہ اٹل بہاری باجپئی جدید ہندوستان کے معماروں میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ ہندوستان صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریۂ حیات (Ideology) کا نام ہے۔  اٹل بہاری باجپئی کی سیاسی سرگرمیاں اسی نظریے کے ارد گرد گھومتی ہیں لیکن سیاست سے الگ ان کی جو تخلیقی سرگرمیاں، نثر یا شاعری کی شکل سامنے آتی ہیں ان سے اندازہ ہوتاہے کہ انھوں نے ملک وقوم کی ترقی کے لیے اپنے گزارے ہوئے شب وروز میں سے اگر کچھ اور زیادہ وقت اپنے تخلیقی اظہار وبیان کے لیے نکالا ہوتا تو ادبی حلقوں میں بھی ان کا شمار اس ملک کے دوسرے دانشوروں، ادیبوں اور شاعروں سے زیادہ بلند ہوسکتا تھا۔

اٹل بہاری باجپئی پیدائشی شاعر تھے۔ شاعری انھیں ورثے میں ملی تھی۔ ان کے والد شری کرشن بہار ی باجپئی معتبر شاعر تھے ا ور مشاعروں میں بھی شرکت کیا کرتے تھے۔ اٹل بہاری باجپئی کے بڑے بھائی شری اودھ بہاری باجپئی بھی شعر کہتے تھے۔ چوں کہ اٹل جی کا مزاج لڑکپن سے ہی شاعرانہ تھا اس لیے ان کے شعری ذوق وشوق کو دیکھتے ہوئے ان کے والد اکثر انھیں بھی مشاعروں میں اپنے ساتھ لے جایا کرتے تھے۔ مشاعروں سے اٹل بہاری باجپئی نے شعر وشاعری کے مضمرات اور لوازمات کا گیان حاصل کیا اور ان کے والدنے اٹل بہاری باجپئی کے شاعرانہ ذوق کو صیقل کیا جس کی بنا پر وہ بہت جلد ایک شاعر کی حیثیت سے بھی مشہور ہو گئے۔

 شاعری اٹل بہاری باجپئی کی آتما تھی لیکن ملک وقوم ان سے عملی سیاسی رہنمائی کا تقاضا کررہے تھے۔ چنانچہ اٹل جی نے حصول تعلیم کے دنوں سے ہی ہندوستان کی جنگ آزادی اور سیاسی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کردیا۔ اٹل جی ہندوستانی سیاست کے ایک اہم ستون تھے جس کا اعتراف پنڈت جواہر لال نہرو کے علاوہ حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے تمام بڑے لیڈروں نے کیا ہے لیکن اٹل بہاری باجپئی کی شاعرانہ حیثیت پر کم ہی توجہ دی گئی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ جیسے جیسے وقت گذرتا جارہاہے اور ہندوستان کے سماجی، سیاسی، تہذیبی اور اخلاقی مسائل میں پیچیدگی پیدا ہوتی جارہی ہے، عوام اور خواص میں اٹل بہاری باجپئی کی شاعری زیادہ سے زیادہ مقبول ہوتی جارہی ہے۔ اگر دیکھاجائے تو اٹل جی کی شاعری ملک وقوم کو ہر نئے چیلنج(Challenge) کے موقع پر رہنمائی کے لیے سامنے آجاتی ہے۔ اٹل بہاری باجپئی پوری دنیا میں امن چاہتے تھے اور کسی ایک سماج کی نہیں بلکہ تمام انسانوں کی آزادی انھیں عزیز تھی۔ اسی لیے جب ملک آزاد ہوا تودوسرے دیش واسیوں کی طرح اٹل جی نے بھی خوشیوں کے گیت گائے لیکن اسی دن 15اگست 1947 کو انھوں نے ایک نظم ’سوتنترتا دِوس کی پکار‘ ( یوم آزادی) کے عنوان سے لکھی۔

اٹل بہاری باجپئی کی پیدائش کرسمس کے دن 25 دسمبر 1924 کو گوالیار میں ہوئی۔ ابتدا سے لے کر گریجویشن تک کی تعلیم گوالیار میں ہی حاصل کی۔ کانپور سے Political Scienceمیں ایم اے کیا اور پھر قانون کی ڈگری بھی حاصل کی۔ اٹل صاحب ایک ہونہار مقرر تھے۔ ان کی خطابت میں لب ولہجے کی تیزی کے ساتھ ساتھ فکر وخیال میں بھی منفرد روشن خیالی ہوتی تھی۔ اسی لیے اکثر وبیشتر ادبی، علمی اور سیاسی مباحثوں میں انھیں اول انعام سے نوازا جاتا تھا۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ بہت مشہور ہے۔

’’ایک بار الٰہ آباد میں بحث کا مقابلہ رکھا گیا جس میں اٹل جی گوالیار سے ٹرین لیٹ ہوجانے کے باعث مقابلے  کے مقام پر تب پہنچے جب مقابلہ تقریباً ختم ہوچکاتھا۔ ججوں نے لگ بھگ اپنے فیصلے تیار کرلیے تھے، لیکن سفر سے تھکے اٹل جی جلد ہی اسٹیج پر پہنچ کر بولنے لگے اور انھوں نے دیر سے آنے کا سبب بیا ن کر کے معذرت چاہی اورمتعلقہ موضوع پر مؤثر طریقے سے تقریر کی۔ ان کی تقریر پر سامعین عش عش کراٹھے  اور ججوں کو اپنا فیصلہ بدلنا پڑ گیا۔ اٹل جی اول نمبرپر آئے اور انھوں نے انعام پایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ججوں میں ڈاکٹر ہری ونش رائے بچّن بھی شامل تھے۔‘‘

 (بحوالہ مضمون ’اٹل بہاری باجپئی اور ان کی شاعری‘  از کرشن موہن۔ کتاب ؛اٹل بہاری باجپئی کی نظمیں1998، ص 12)

اٹل بہاری باجپئی نے 1942 کی ’بھارت چھوڑو تحریک‘ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جس کے نتیجے میں کئی دوسرے سیاسی لیڈروں کی طرح اٹل بہاری باجپئی کو بھی گرفتار کرلیا اٹل جی24دنوں تک جیل میں رہے اس کے بعد بھی انھیں ان کی سیاسی سرگرمیوں کے لیے کئی بار قید وبند کی سختیاں جھیلنی پڑیں۔

سنہ1946 میں اٹل بہاری باجپئی نے سنگھ کے پرچارک کا کام شروع کیا۔ اس کے ساتھ ہی ’راشٹریہ دھرم‘ نامی اخبار کی ادارت بھی کرتے رہے۔ اس اخبار میں اٹل بہاری باجپئی جواداریے اور مضامین لکھتے اور گاہے بگاہے ان کی جو نظمیں شائع ہوتی، انھیں پورے ملک میں پسند کیا گیا۔ خاص طورپر چلا پتی راؤ، پرشوتم داس ٹنڈن، بنارسی داس چترویدی، یشپال، امرت لال ناگر، رام کمار ورما، مہادیوی ورما، پنڈت سوریہ کانت ترپاٹھی جیسے ادبا، شعرا اورصحافی اٹل بہاری باجپئی کی تحریروں کی بہت تعریف کرتے تھے۔

اٹل بہاری باجپئی صاحب کی نظموں کا ایک مجموعہ بعنوان ’ اٹل بہاری باجپئی کی نظمیں‘ اردو اکیڈمی دہلی نے 1998 میں شائع کیا ہے۔ اس مجموعے میں ’حرف ِآواز‘ کے طورپر اردو کے مشہور شاعر مخمور سعیدی نے لکھا کہ :

’’جناب اٹل بہاری باجپئی ملک کے صف اول کے سیاسی رہنما ہونے کے علاوہ ہندی کے بلند پایہ شاعر بھی ہیں۔ کچھ مدت پہلے ان کی منتخب نظموں کا ایک مجموعہ دیوناگری میں شائع ہوا تھا اور ملک اوربیرون ملک کے ہندی حلقوں میں اس کی دھوم مچ گئی تھی۔ اب یہی نظمیں جو اٹل جی کی شاعرانہ شخصیت کے گوناگوں پہلوؤں کی نمائندگی کرتی ہیں  اور ان کی ذہنی اور جذباتی رویوں کی ترجمان ہیں، اردو رسم الخط میں شائع کی جارہی ہیں۔‘‘

(اٹل بہاری باجپئی کی نظمیں ص10)

 اٹل بہاری باجپئی کی شاعری کو چار حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلے حصے کا عنوان ’انوبھوتی کے سرُ‘ (محسوسات کے نغمے) ہے۔ اس حصّے کی نظموں میں آمد کے رنگ میں اپنے اعزازت اور سچے احساسات کی کار فرمائی، اظہارکی سادگی، بے ساختگی اور روانی ملتی ہے۔ دوسرے حصّے میں ’راشٹریتا کے سُر‘ کے عنوان سے قومی نظمیں ملتی ہیں۔ ان نظموں میں اٹل بہاری کی اپنے وطن سے محبت مختلف صورتوں میں جلوہ گر ہوئی ہے۔ تیسرے حصے میں جس کا عنوان ’’چنوتی کے سر‘‘(للکار کے نغمے) ہے۔ اٹل بہاری باجپئی نے ملک کے مسائل کو ذہن میں رکھتے ہوئے اہل وطن کو صبر وسکون اور ہمت سے کام لینے کی تلقین کی ہے۔ اس مجموعے کا چوتھا اور آخری حصہ ’وِودھ سُر‘ (متنوع نغمے) ہے۔ جس میں انھوں نے بحیثیت انسان اپنے آس پاس کی زندگی، زمانہ،حالات و واقعات کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کیاہے۔

 مجموعے کے  پہلے حصے میں اٹل بہاری باجپئی نے ملک کی آزادی کو ایک نعمت قرار دیتے ہوئے ماضی، حال اورمستقبل کی بات کی ہے۔ نظم ’آؤ پھر سے دیا جلائیں‘ میں اٹل بہاری باجپئی نے کہا ہے کہ آزادی تو مل گئی لیکن ابھی کام ادھورا ہے۔ آزادی کے باوجود ملک سے غریبی اور مفلسی کا اندھیرا دور نہیں ہوا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایک بار پھر ملک کے تمام لوگ اس پسماندگی کے اندھیرے کو دور کرنے کے لیے متحد ہوکر جدو جہد کا دیا جلائیں۔ اٹل صاحب فرماتے ہیں          ؎

 بھری دوپہری میں اندھیارا

سورج پرچھائیں سے ہارا

انتر تم کا نیہہ نچوڑیں، بجھی ہوئی باتی سُلگائیں

 آؤ پھرس ے دیا جلائیں

 ہم پڑاؤ کو سمجھے منزل

لکشیہ ہوا آنکھوں سے اوجھل

ورتمان کے مئوہ جال سے آنے والا کل نہ بھلائیں

 آؤ  پھر سے دیا جلائیں

اٹل جی نے اپنی نظم’پہچان‘میں انسانیت اور مساوات کا درس دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں          ؎

 پیڑ کے اوپر چڑھا آدمی

اونچا دکھائی  دیتا ہے

 جڑ میں کھڑا آدمی

نیچا دکھائی دیتا ہے

 

آدمی نہ اونچا ہوتاہے نہ نیچا ہوتاہے

نہ بڑا ہوتاہے نہ چھوٹا ہوتاہے

آدمی صرف آدمی ہوتاہے

اسی طرح اپنی نظم’گیت نیا گاتا ہوں میں‘ میں اٹل جی اپنے تصور میں ایک ایسے ہندوستان کا سپنا دیکھتے ہیں۔ جس میں پورا ملک خوشحال ہے اور کہتے ہیں حالات جیسے بھی ہوں میں ہارنہیں مانوں گا اسی لیے میں امید کے گیت گاتا ہوں۔ لکھتے ہیں          ؎

 ٹوٹے ہوئے تاروں سے ٹوٹے واسنتی سُر

 پتھر کی چھاتی میں آگ آیا تو اَنکُر

 جھڑے  سب پیلے بات

کوئل کی کوہک رات

پراچی میں ارونما کی ریکھ دیکھ پاتا ہوں

گیت نیا گاتا ہوں

ٹوٹے ہوئے سپنے کی سنے کون سسکی

انتر کو چیرویتھا پلکوں پر ٹھٹکی

ہار نہیں مانوں گا

رار نئی ٹھانوں گا

کال کے کپال پر لکھتا مٹاتا ہوں

گیت نیا گاتا ہوں

اٹل بہاری باجپئی کے وجود میں دیش بھکتی بھری ہوئی تھی۔ ملک کے آزاد ہونے کی انھیں خوشی تھی لیکن مذہب کے نام پر ملک کی تقسیم کا انھیں بے حد رنج بھی تھا۔ اسی لیے انھوں نے 15اگست1947 کو ہی ’سوتنترتا دِوس کی پکار‘ کے نام سے جو نظم لکھی ہے،  اس میں آزادی کے بعد بھی ہندو اور مسلمانوں کے رنج وغم کا ذکر کیاہے۔

اٹل بہاری باجپئی نے’چنوتی کے سر‘ کے عنوان کے تحت ملک اور ملک کے عوام کو درپیش چیلنجوں پر نظمیں لکھی ہیں۔ اپنی نظم ’ماتر پوجا پری بندھت‘ میں لکھا ہے کہ انسان کو چنوتیوں سے گھبرانا نہیں چاہیے کیوں کہ پھول کانٹوں کے درمیان کھلتے ہیں اور اندھیروں کے بیچ ہی چراغ روشن ہوتے ہیں جیسی بھی مصیبتیں آئیں اپنے وطن سے محبت اور اس کی ترقی کے جذبات کو رُکنے نہیں دینا چاہیے۔ اٹل بہاری باجپئی صاحب لکھتے ہیں          ؎

پشپ  کنٹکوں میں کھلتے ہیں

دیپ اندھیروں میں جلتے ہیں

آج نہیں، پرہلاد یُگوں سے

پیڑاؤں میں ہی پلتے ہیں

کنتو یاتناؤں کے بل پر

نہیں بھاؤنائیں رکتی ہیں

چتا ہولیکا کی جلتی ہے

انیائی کرہی ملتے ہیں

اور پھر دیش وایسوں کواٹل بہاری باجپئی اپنی نظم ’قدم ملا کر چلنا ہوگا‘ میں کہتے ہیں کہ حالات جیسے بھی ہوں ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ سبھی لوگ ایک دوسرے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلیں۔ اٹل جی کے لفظوں میں       ؎

 بادھائیں آتی ہیں آئیں

گھِریں پرلے کی گھورگھٹائیں

پانو کے نیچے انگارے

سرپر برسیں یدی جوالائیں

نج ہاتھوں سے ہنستے ہنستے

آگ لگا کر  جلنا ہوگا

قدم ملا کر چلنا ہوگا

اس مجموعے کے آخری حصے میں جس کا عنوان ہی ’وودھ سر‘ (متنوع نغمے) ہے۔اٹل بہاری باجپئی نے ذاتی جذبات و خیالات کو نظموں کی شکل میں پیش کیا ہے۔ دراصل ان نظموں میں اٹل جی نے اپنے من کی گھانٹھوں کو کھولنے کی کوشش کی ہے لیکن انسان کی مجبوری یہ ہے کہ کوشش کے باجود من کی ساری گھانٹھیں کُھل نہیں پائی۔ اس لیے انھوں نے لکھا ہے        ؎

من میں لگی جو گانٹھ مشکل سے کھلتی

داغدار زندگی نہ گھاٹوں پر دُھلتی

 جیسی کی تیسی نہیں

جیسی ہے ویسی سہی

 کبیرا کی چدریا بڑے بھگ مِلتی

 اس حصے کی دوسری نظموں میں بھی انھوں نے اپنے من کی مختلف الجھنوں،جذبات اور کیفیات کا اظہار کیاہے۔ لیکن اس حصے میں ایک نظم امن اور شانتی کی حمایت میں بھی ہے۔اٹل بہاری باجپئی نے اپنی زندگی میں مغرب کی کئی جنگوں کے علاوہ پاکستان اور چین کے ساتھ بھی کئی جنگوں کو دیکھا تھا۔ وہ یہ مانتے تھے کہ ہندوستان ایک امن پسند ملک ہے۔اسی لیے وہ ہمیشہ سے جنگ کے مخالف رہے ہیں اپنے امن پسند نظریے کی بنیاد پر ہی انھوں نے پاکستان کا بھی دورہ گیا تھا لیکن اس دور ے کے فوراً بعد ہندوستان اور پاکستان کے بیچ کارگل جنگ ہوگئی۔

اٹل بہاری باجپئی کو جنگ سے نفرت اور امن سے محبت تھی کیوں کہ امن میں ہی انسانیت پھلتی پھولتی اور پروان چڑھتی ہے۔ اسی لیے انھوں نے اپنی نظم ’جنگ نہ ہونے دیں گے‘میں لکھا ہے کہ ہم عالمی امن کے پجاری ہیں اس لیے پچھلی عظیم جنگوں میں پوری  دنیا میں جو تباہی ہوئی۔ کھیتوں اور کھلیانوں میں انسانی لاشوں کی فصل کٹی اور ایٹم بمبوں سے ناکا ساکی جس طرح جلا ہم اس کے حق میں نہیں ہیں ہم ایک ایسی دنیا کا خواب دیکھتے ہیں۔ جہاں جنگ نہ ہواور صرف امن کا ہی بول بالا ہو۔ اٹل بہاری باجپئی کے ان جذبات کا اندازہ ان کی نظم کے اس بند سے لگایاجاسکتاہے۔

ہم جنگ نہ ہونے دیں گے

وشوشانتی کے ہم سادھک ہیں جنگ نہ ہونے دیںگے

کبھی نہ کھیتوں میں پھر خونی کھاد پھلے گی

کھلیانوں میں نہیں موت کی فصل کھلے گی

آسمان پھر کبھی نہ انگارے اگلے گا

ایٹم سے ناگاساکی پھر نہیں جلے گی

یدھ وہین وشوکا سپنا بھنگ نہ ہونے دیں گے

جنگ نہ ہونے دیں گے

بحیثیت مجموعی اٹل بہاری باجپئی ایک بے حد حساس انسان اور محب وطن شاعر اور دانشور تھے۔ ان کی شاعری کے مطالعے سے اندازہ ہوتاہے کہ ان کے یہاں رومانیت اور حقیقت پسند ی کو توازن کے ساتھ برتا گیاہے۔ ان کی شاعری کے لفظ لفظ سے ان کی دیش بھگتی ٹپکتی ہے۔ زبان پر انھیں کامل عبور حاصل ہے۔ اسی لیے انھوں نے موضوع اور موقع محل کے حساب سے الفاظ اور تراکیب کوپوری مہارت کے ساتھ برتاہے۔اٹل بہاری باجپئی کی شاعر ی میں ترقی پسندی بھی ہے اور انقلابیت بھی۔ لیکن وطن دوستی ان کی شاعری کی روح ہے۔ جس کا اظہار ان کی شاعری میں پورے یقین اور روانی کے ساتھ ہوا ہے۔ ویسے تو ہندوستان میں محب وطن شاعروں کی ایک بڑی تعداد رہی ہے لیکن بیسویں صدی کی چھٹی دہائی سے لے کر اکیسویں صدی کی پہلی دہائی تک کے دور میں اٹل بہاری باجپئی نے جس طرح کہیں استعاروں اور علامتوں کے سہارے اورکہیں صاف اورسادہ اسلوب میں ہزاروں سال پر پھیلی ہندوستان کی تاریخ کے حوالے سے اس ملک کے امن پسند اور عالمی بھائی چارے کے نظریے کو پیش کیا ہے، اس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتاہے کہ اٹل بہاری باجپئی صاحب دانش ہند کے سچے شاعر تھے۔


Dr. Jug Mohan Singh

S/o Sh. Vilayat Singh

C/o Cambridge International School

Purkhoo Camp, Domana, Jammu, 181206

Mob.: 7889762542