پیر، 30 دسمبر، 2019

لئیق صلاح کی علمی و ادبی خدمات مضمون نگار: قمر النسا



لئیق صلاح کی علمی و ادبی خدمات


 قمر النسا

 پیش کردہ خاکوں سے متاثر ہو کر لکھے گئے ہیں۔“علاقہ حیدرآباد کرناٹک کی خواتین قلمکاروں میں ایک ایسی قلمکارہ بھی شامل ہیں جن کو اگر اس علاقے کی خواتین قلمکاروں کی ملکہ عالیہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا اور یہ شاہانہ جاہ و جلال اور شان و شوکت ان کے نام اور کام میں بھی شامل تھی وہ ادب کی ایک ایسی ملکہ رہی ہیں جو اپنے فن کے ذریعے اس خطے کی ادبی دنیا میں آن بان اور شان سے پچھلے کئی سالوں سے ابھی کچھ وقت پہلے تک حکومت کرتی رہیں۔اپنے حسن سلوک،شائستہ مزاجی، خوش رو و نرم گفتاری،شفقت،محبت اور ہمدردانہ سلوک سے ہر کسی کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔سرخ و سفید رنگت،پروقار چہرہ، شائستہ مزاج،خلوص و محبت کا پیکر،ہمدردی اور شفقت کا سمندر اور اردو کی فلاح کا دوسرا نام تھا پروفیسر لئیق صلاح۔
حیدرآباد کرناٹک کی یہ ملکہ عالیہ10 فروری 1938 کو حیدرآباد دکن کے القعیطی خاندان میں جلوہ افروز ہوئیں۔ آپ کے جد امجد عمر بن عوض القیعطی ناصرالدولہ نظام چہارم کے عہد میں عرب سے یہاں تشریف لاکر حیدرآباد دکن میں سکونت اختیار کی۔ وہ نظام سرکار کے عہد میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے اور ان کے کارناموں اور خدمات سے خوش ہوکر انھیں شمشیر الدولہ اور جنگ بہادر کے خطابات سے نوازا گیا تھا۔ ’عصمت النساء بیگم‘  لئیق صلاح کی نانی خود ایک شاعرہ تھیں اور ان کا تخلص باقرہ تھا۔ آپ کی ابتدائی تعلیم ان ہی کے زیر نگرانی ہوئی۔بچپن سے ہی علمی و ادبی ماحول میسر ہوا اور سات سال کی عمر میں اپنا پہلا مضمون لکھا۔ نامپلی  سے اسکول اور پی یو سی کی تکمیل کے بعد ویمنس ڈگری کالج سے بی اے، علی گڑھ سے ایم اے کی تعلیم حاصل کی۔  اس وقت شعبہ اردو کے صدر  کے عہدے پر پروفیسر آل احمد سرور فائز تھے۔ جامعہ عثمانیہ سے ایم فل ’میر شمس الدین حیات اور کارنامے‘ کے عنوان سے ڈاکٹر سیدہ جعفر کی زیر نگرانی  پر مغز مقالہ تحریر کیا اس مقالے کے بارے میں مسعود حسین خان کو یہ کہنا پڑا کہ:
یہ مقالہ ایم فل کے معیار سے بلند تر مقالہ ہے
اور سیدہ جعفرہی کی زیر نگرانی میں ڈاکٹر یٹ کا مقالہ بعنوان عہد ارسطو جاہ کی علمی وادبی خدمات تحریر کیا۔اور ان مقالوں کے ممتحن ڈاکٹر گیان چند جین اور ڈاکٹر محمد حسن جیسے نامور محققین اور نقاد تھے۔
وہ ایک مہذب معزز اور شائستہ مزاج خاتون تھیں۔ مشرقی اقدار کی پاسداری کرنے والی، اعلیٰ ذہن وفکر رکھنے والی، بلند پایہ محقق، بے مثل تنقیدی شعور رکھنے والی، کامیاب  طنز و مزاح نگار،عمدہ تبصرہ نگار، تجربہ کار اور ہر دلعزیز استاد اور اردو کی خا موش خدمت گزار تھیں۔لئیق صلاح کی شخصیت پر صغری عالم لکھتی ہیں۔
لئیق صلاح کی شخصیت پر اظہار کرنا تفصیل طلب امر ہے یعنی کہ ایک گلشن کے تمام احوال بیان کرنا ہے، فطری انداز گفتگو پر کیف لہجے میں شان افتخاری سے افہام وتفہیم کی مخلصانہ فضا پیدا کرتی ہیں ہر بات نپی تلی ہوتی، متوازن ہموار اور روشن انداز گفتگو،پھول بکھرتے ہوئے لب ولہجہ کی اپنی مثال آپ رہی ہیں۔
ڈاکٹر لئیق خدیجہ جو ادبی دنیا میں لئیق صلاح کے نا م سے مشہور ہیں پیشہئ تدریس سے وابستہ تھیں۔مختلف کالجس میں درس وتدریس کے فرائض انجام دیے پھر 1983 میں بحیثیت اردو لیکچرر شعبہ اردو گلبرگہ یونیورسٹی میں تقرر عمل میں آیا۔ریڈر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں اور 1995میں بحیثیت پروفیسر شعبہ اردوسے ایک نیا دور شروع ہوا۔1997 تک صدر شعبہ اردو کی حیثیت سے کام کرتی رہیں اور اپنے دور صدارت میں بہت سے کام انجام دیے، نئی نسل کو روزگار سے جوڑنے کے لیے صحافت اور کمپیوٹر کو اپنے نصاب میں شامل کرنے کا سہرا آپ کے ہی سر جاتا ہے۔کئی سمینار، ادبی اجلاس منعقد کروائے اور اردو کے ریفریشر کورس کا انعقاد کیا۔ ارمغان نامی مجلے میں اس کورس کے لیکچرز اور ساری روداد کو شائع کرکے اسے دستاویزی شکل دی۔وہ صرف شعبہ اردو کی ہی صدر نہیں رہیں بلکہ کرناٹک اردو اکادمی  کے صدر کے عہدے پر بھی فائز رہیں۔وہ اکادمی کی پانچویں صدر تھیں ا ور کرناٹک اردو اکادمی کی خواتین صدور میں دوسری خاتون صدر ہیں۔ ایک خاتون ہوتے ہوئے بحیثیت صدر کے دو مختلف ذمے داریوں کو بحسن و خوبی انجام دیتی رہیں۔ مختلف ادبی جلسوں کا انعقاد کروایا ریاست کے تقریباً تمام اضلاع تک اکادمی کی ساری سر گرمیوں کو پہنچایا۔فصیل کے چھ شمارے (1) مضامین وشاعری نمبر (2) ابولکلام آزاد نمبر (3) جنوبی ہند میں اردو کانفرنس (4) خبرنامہ (5) گلبرگہ ارد وسیمینار نمبر (6) توسیعی خطبات نمبر شائع کروائے۔ یہی نہیں انھوں نے مستحقین کو ایوارڈ سے نوازا ان کی تخلیقی اشاعت کو شائع کروایا اور ایسے ہی بے شمار علمی و ادبی سرگرمیوں کے ذریعے اکادمی کے ہر شعبے میں ایک نئی روح ایک نئی فضا ایک نئی سوچ ایک نئی فکر عطا کی۔ سمینار، ادبی مقابلے، کانفرنس اور تہذیبی پروگرام، مشاعرے، سمپوزیم، بحث ومباحثہ وغیرہ کاا نعقاد کروایا۔ انھیں اردو زبان سے بے پناہ محبت تھی اور ان کی کاوشیں ان کی اردو سے محبت اور اردو کی بقاء کی ضامن بن گئیں اور ان کی خدمات ناقابل فراموش بن گئیں۔
ڈاکٹر حمیرا جلیلی آپ کی صفات کے متعلق رقمطراز ہیں:
ڈاکٹر لئیق صلاح نہ صرف ایک نامور ادیبہ، بہترین استاد بلکہ ایک نہایت مہذب خاتون ہیں جہاں کہیں بھی ڈاکٹر لئیق صلاح کا ذکر آتا ہے وہاں کے ماحول میں سنجیدگی، شرافت، نفاست اور شائستگی کی رعنائیاں  جلوہ افروز رہا کرتی ہیں۔ آداب گفتگو،شرافت کی خوشبو،فکر وخیال کی روشنی اس بات کی غماز ہیں کہ وہ مہذب معاشرہ کی ایک معزز خاتون ہیں۔
بحیثیت صدر  جہاں ان کی خدمات لائق تحسین ہیں تو وہیں ان کی تصنیفات اردوزبان وادب کے لیے باعث افتخار ہیں۔ ادب میں آپ نے بحیثیت طنز ومزاح  نگار اپنی منفرد چھاپ چھوڑی ہے۔ حیدرآباد کرناٹک کے مزاحیہ ادب میں ایک نئے باب کا اضافہ ڈاکٹر لئیق صلاح کے طنزیہ و مزاحیہ مضامین کا مجموعہ سنی سنائی سے ہوتا ہے۔ جس میں مصنفہ اپنی طنز ومزاح نگاری کے متعلق بعنوان ’کوئی بتلاوٗ کہ‘ کے عنوان سے لکھتی ہیں:
ہمارا اور مزاح کا تعلق پیدائشی ہے۔جیسے جیسے شعور پختہ ہوتا گیا اس کی نشوونما ہوتی رہی اور جب پڑھنے لکھنے کی سوجھ بوجھ پیدا ہوئی تو زیادہ تر وہی کردار پسند آیا کرتے تھے جن میں مزاح کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا۔پھر شوکت تھانوی،شفیق الرحمن،پطرس،رشید احمد صدیقی اور مجتبی حسین نے اپنی طرف متوجہ کیا۔لیکن ان سب سے زیادہ جس شخصیت نے متاثر کیا، وہ ہیں زینت آپا (ڈاکٹر زینت ساجدہ) اس لیے کہ وہ تمام فن کار ہم سے دور تھے آپا کا ہمارا ساتھ قدم قدم پر رہا کرتا تھا۔ پڑھاتیں تو پر لطف جملوں سے محفوظ کرتیں۔ اسی طرح قلم بھی جب رواں ہوتا تو مزاح کا طوفان امنڈ پڑتا اس تصنیف میں جو خاکے ہیں وہ ان ہی کے
 سنی سنائی 1981 میں شائع ہوئی۔ جس کا مقد مہ مجتبیٰ حسین نے لکھا ہے وہ ڈاکٹر لئیق صلاح کی طنز و مزاح نگاری کے متعلق رقمطراز ہیں:
لئیق صلاح کے مزاحیہ مضامین میں بلند بانگ قہقہوں کی گنجائش نہیں البتہ نیم زیر لب کی خوشگوار رو سارے مضامین میں جاری وساری ملے گی۔لئیق صلاح ایک باشعور مزاح نگار کی طرح سماج کے بے ہنگم پن اور  بے اعتدالیوں پر ہنسی ہنسی میں چوٹ کرتی ہو ئی گزر جاتی ہیں اور یہی مزاح نگار کا سب سے بڑا فرض منصبی ہے وہ ایک دردمند دل رکھتی ہیں اسی لیے ان مضامین میں ان کی ہمدردیاں سماج کے کچلے ہوئے انسانوں کے ساتھ ہیں جہاں وہ کسی کردار کا مضحکہ اڑاتی ہیں وہیں اس کے کردار سے ہمدردی بھی رکھتی ہیں۔
سنی سنائی میں کہیں مکالماتی انداز ہے تو کہیں بعض مضامین پر انشائیہ کا گمان ہوتا ہے جیسے’آجکا اخبار‘ اور ’سنے جاتے نہ تھے‘ وغیرہ یہ مضامین انشائیے کی صنف میں فٹ بیٹھتے ہیں بعض تحریریں دل کو چھو لیتی ہیں اور شروع سے آخر تک قاری کے لبوں پر تبسم جاری رکھتے ہیں اور یہی دراصل مزاح ہے۔
مضمون  ’آج کا اخبار‘سے ایک اقتباس:
بے چارے جئے پرکاش نارائن بے موت مارے گئے سمجھ میں نہیں آتا کہ بعد کی زندگی کو دوسرا جنم کہیں یا نہیں؟خیر جانے دیجیے ان کی والی بات تو بعد میں ہوگی پہلے اس خبر رساں ایجنسی کی خبر لینی چاہیے جس نے 22 مارچ 1978 کو ہی جئے پرکاش کو آنجہانی بنا دیا تھا اس کا خمیازہ بھی مہنگا پڑا۔دراصل بے موت جئے پرکاش جی مرے نہیں بلکہ وہ مرگیا
دیدہ و شنیدہ کے نام سے ڈاکٹر لئیق صلاح کے مضامن کا مجموعہ 2012 میں منصہ شہود پر آیا۔اس میں شامل مضامین سے آپ کی وسعت مشاہدہ کا اندازہ ہوتا ہے بحیثیت عورت کہیے یا بحیثیت مصنفہ اپنے ماحول اور معاشرے کو جس نگاہ سے دیکھا اس کو بیان کردیا۔
دیدہ و شنیدہ سے ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے:
بس کے انتظار میں ٹھہرے ہوئے لوگوں میں بے تحاشا اسی طرح کا اضافہ ہوتا گیا جس رفتار سے ہندوستانی آبادی میں ہورہا ہے اس آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے فرقہ وارانہ فسادات یا سیلاب وغیرہ نہ ہوتے تو پتہ نہیں اور کیا حال ہوتا۔
طنز ومزاح کے ساتھ ساتھ نصاب پر بھی ان کی نگاہ گہری تھی۔ ’آؤ اردو سیکھیں‘ کے عنوان سے نصابی کتابوں کا سلسلہ پہلی تا چوتھی جماعت اپنے دیگر ساتھیوں کی مددسےSCERTگورنمنٹ آف کرناٹک بنگلور کے زیر اہتمام تالیف کر کے اردو زبان و ادب کی اہم خدمت انجام دی۔ دیوان  ولی کو بھی NCPUL کے زیر اہتمام اضافوں اور حوالوں کے ساتھ مرتب کیا۔ 2013 میں ’خدا لگتی‘ تبصروں پر مشتمل تصنیف منظر عام پر آئی۔
ڈاکٹر لئیق صلاح نے تحقیقی و تنقیدی مضامین بھی تحریر کیے جو مختلف اخبارات و رسائل میں اکثر شائع ہوتے رہتے تھے۔ 1992 میں آپ کے تنقیدی و تحقیقی مضامین کا مجموعہ’عکس در عکس‘شائع ہوا  اور 1994 میں ’نقد وجستجو‘ منظر عام پر آیا۔جو آپ کی تنقیدی فکر اور تحقیقی کاوشوں کا بین ثبوت ہے۔
تحقیق کے میدان میں پروفیسر لئیق صلاح کی دو کتابیں میر شمس الدین فیض:حیات اور کارنامے اور دوسری  عہد ارسطو جاہ کی علمی و ادبی خدمات مقبول عام ہوچکی ہیں انھوں نے تحقیق کے میدان میں بھی اپنی قابلیت کا لوہا منوایا ہے اگرچہ یہ دونوں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالے ہیں جو کتابی شکل میں شائع ہوئے ہیں۔
آپ کے ایم فل کا مقالہ میر شمس الدین حیات اور  کارنامے میں مصنفہ نے شخصیت کا بھرپور جائزہ لیا ہے ان کے حالات زندگی،پیدائش،تعلیم وتربیت،درباروں سے وابستگی اور ان کی  شاعری کا مکمل احاطہ کیا ہے آپ کی اس تصنیف کے متعلق جناب مہدی عباس حسینی رقمطراز ہیں۔
لئیق صلاح نے اپنی کتاب میر شمس الدین فیض میں یہی خدمت انجام دی ہے انھوں نے ایک شخصیت  نہیں ایک دور کے رخ سے پردہ اٹھایا ہے..... انھوں نے بڑی محنت اور دیدہ ریزی سے اس کو مرتب کیا ہے اور فیض کے فن کاا س طرح  تنقیدی جائزہ لیا ہے کہ ادب میں ان کے مرتبے کا تعین ہوجاتا ہے اگرچہ یہ کتاب ایک تحقیقی مقالہ ہے جو ایم فل ڈگری کے لیے عثمانیہ یونیورسٹی میں پیش کیا گیا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ مصنفہ یہ مقالہ اتنی محنت اور سلیقے سے لکھا ہے اور ہر طرح کے تعصبات سے بلند ہو کر فیض اور ان کے معاصرین کے بارے میں غیر جانبدارانہ اور بے لاگ تبصرے کیے ہیں کہ مقالہ اردو کے بہترین تحقیقی کاموں کی فہرست میں شامل ہونا چاہیے۔
عہد ارسطو جاہ علمی وادبی خدمات آپ کی دوسری تصنیف ہے جس کو انھوں نے آٹھ ابواب میں تقسیم کیا ہے پہلا باب سیاسی وادبی پس منظر دوسرا غزل گوئی (جس میں عہد ارسطو جاہ کے غزل گو شعرا کا جامع تعارف مع نمونہ کلام)تیسرا باب قصیدہ نگاری (عہد ارسطو جاہ کے اہم قصیدہ گو شاعرہ)چوتھا باب مثنوی نگاری (پانچواں باب تاریخ نویسی (10 تاریخ نویسوں کی کتا بوں کا تجزیہ) چھٹا باب تذکرہ نویسی، ساتواں باب متفرقات نظم ونثر، آٹھواں باب لسانی جائزے سے متعلق ہے غرض انھوں نے اس کتاب میں عہد ارسطو جاہ کے علم وادب کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔آپ کی تحقیق کاوش کے متعلق پروفیسر سیدہ جعفر کے خیالات پیش ہیں:
ڈاکٹر لئیق صلاح نئی پود کی ان باشعور ادبی شخصیتوں میں سے ہیں جن میں تحقیق کا سچا ذوق موجود ہے۔وہ اس کے آداب سے بخوبی واقف ہیں... زیر نظر کتاب ڈاکٹر لئیق صلاح کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے جس میں انھوں نے ارسطو جاہ اور ان کے ہم عصر شعراء کی علمی وادبی خدمات پر روشنی ڈالی ہے۔         
ان دونوں تحقیقی و تنقیدی کتابوں کے علاوہ سید تمکین کاظمی کے غیر مطبوعہ مقالے ’ارسطو جاہ‘کو بھی ڈاکٹر لئیق صلاح نے مرتب کیا ہے۔   جو کام سید تمکین کاظمی نے کیا تھا، ڈاکٹر لئیق صلاح نے اس کو ترمیم و اضافے کے ساتھ شائع کیا جس پر مرتبہ نے 71 صفحات کا طویل اور مفصل مقدمہ لکھ کر اس موضوع کے تئیں  اپنی دلچسپی کا ثبوت دیا ہے۔           
پروفیسرلئیق صلاح کی شخصیت اور علمی و ادبی خدمات پر یونیورسٹی آف حیدرآباد سے نشاط تہنیت (بیدری)نے پروفیسر انورالدین کی زیر نگرانی  ایم فل کا مقالہ تحریر کیا اور سندحاصل کی۔جبکہ گلبرگہ یو نیورسٹی سے ڈاکٹر حبیب تنویر نے ڈاکٹر جلیل تنویر کی نگرانی میں  پی ایچ ڈی کامقالہ تحریر کرکے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
پروفیسر لئیق صلاح جب تک درس وتدریس سے وابستہ رہیں طلبہ کی رہبری اور ریسرچ اسکالر ز کی سرپرستی فرماتی رہیں۔اس کے ساتھ لکھنا، پڑھنا، مطالعہ، ادبی گفتگو  آپ کا وطیرہ رہا۔ وظیفہ حسن خدمت  سے سبکدوش ہونے کے بعد ادبی مشاغل جاری رہے اشاعتی سلسلہ تیز تر رہا اس طرح آپ کی بہت ساری تصانیف منظر عام پر آئیں۔
راقمۃ کو بھی پروفیسر لئیق صلاح سے ملاقات کا شرف حاصل ہواہے۔ پروفیسر لئیق صلاح میرے استاد محترم عبدالرب استاد کی استانی رہ چکی ہیں۔ سر کی اپنی استانی سے دلی و روحانی وابستگی تھی سر کی اکثر باتوں اور لیکچرز میں میڈم کا ذکر ہوتا تھا۔  اسی لیے ہمارے دل میں میڈم سے ملاقات کی چاہ جاگی اور صرف ایک ہی ملاقات میں پروفیسر لئیق صلاح نے محبت، اپنائیت، شفقت اور خوش گفتاری سے اپنا گرویدہ بنا لیا ہم نے اپنے استاد محترم سے ہمیشہ اپنی استانی کے لیے خلوص محبت اور تعظیم ہی دیکھی اس قدر خلوص اور تعظیم وتکریم دیکھ کر ہمارے دلوں میں اپنے اساتذہ کے ساتھ ساتھ پروفیسر لئیق صلاح کے لیے بھی عزت بڑھتی چلی گئی۔
پروفیسر لئیق صلاح نے بحیثیت استاد اپنے شاگردوں کے دلوں میں انمٹ نقوش چھوڑے ہیں تو دوسری طرف بحیثیت فنکار اردودنیا پر اپنی علمی وادبی و فنی خدمات کے دیرپا اثرات ثبت کیے ہیں جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے غرض لئیق صلاح ایک شخصیت نہیں اس خطے کا ایک عہد ہیں ایک عورت کی اتنی خدمات ہم تمام اردوداں طبقے کے لیے باعث افتخار ہے اور حالیہ دنوں ان کی موت نے اردو طبقے میں ایک خلا سا پیدا کردیا ہے اردو کی فلاح کے لیے لڑنے والی دوسری لئیق صلاح ملنا مشکل ہے۔


Qamerunnisa (RS)
Dept of Urdu & Prsian
Gulbarga University - 585106 (Karnataka)
Mob: 7259673569


ماہنامہ اردو دنیا،دسمبر 2019


 قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

اردو شاعری اور روزمرہ کی زندگی مضمون نگار: بدر محمدی



اردو شاعری اور روزمرہ کی زندگی
بدر محمدی

تلخیص
مقالہ ’اردو شاعری اور روزمرہ کی زندگی‘ میں شاعری اور بالخصوص اردو شاعری کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کی خصوصیت اور جاذبیت بیان کی گئی ہے۔ اردو اشعار کی پیش کش کے طریقہئ کار اور ان کے اثر و رسوخ سے روشناس کرایا گیا ہے۔ شعروادب کی وابستگی انسانی زندگی سے قائم کی گئی ہے۔ شاعری اور روزمرہ کی زندگی کے مابین رشتہ استوار کیا گیا ہے۔ شاعری کا علاقہ زندگی سے بھی ہے اور ہماری روزمرہ کی زندگی سے بھی۔ اس مقالے میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ شاعری ہماری زندگی کو روانی اور تیزگامی بخشتی ہے۔ اس سے زندگی متحرک اور فعال رہتی ہے۔ آئے دن ہم اردو اشعار سے کس قدر استفادہ کرتے ہیں، اس کی وضاحت زیر نظر مقالے میں کی گئی ہے۔ ضرب المثل کا درجہ پائے اشعار کی تشریح بھی کی گئی ہے اور انہیں حسب موقع استعمال کا محل بھی بتایا گیا ہے۔ روزمرہ کی زندگی اور گفتگو کو کیف آگیں بنانے کی ترکیب سجھائی گئی ہے۔ اردو شاعری کو مختصر مگر جامع اظہار کا وسیلہ ٹھہرایا گیا ہے۔ روزمرہ کی زندگی کو روبروئے شاعری کھڑا دکھایا گیا ہے۔ زندگی کو شاعری اور شاعری کو زندگی ثابت کیا گیا ہے۔ روزمرہ کی زندگی میں کن کن ذرائع سے شاعری کا لطف اٹھایا جاتا ہے اور فرد کا فرد سے کیونکر رشتہ مستحکم ہوتا ہے، یہ بھی بتایا گیا ہے۔ اردو شاعری کی قدردانی دوسری زبانوں کے دانشوروں کے حوالے سے بھی واضح کی گئی ہے۔ اس مقالے میں اردو شاعری اور روزمرہ کی زندگی کے تعلقات کو مدلل اور مفصل بیان کیا گیا ہے۔ اردو شاعری میں یہ سلیقہ ہے کہ کون سی بات کب، کہاں اور کیسے کہی جائے۔ اردو شاعری اور روزمرہ کی زندگی کے رشتے کے سلسلے میں تحقیق بھی کی گئی ہے اور اس رشتے کی تنقید بھی پیش کی گئی ہے۔

کلیدی الفاظ
شاعری، موزونیت، جدیدیت، مابعدجدیدیت، ایجاز، عشق ِ مجازی، عشقِ حقیقی، حسنِ بیاں، اشارہ، کنایہ، رمز، ایما، ضرب المثل، بندشِ الفاظ، ابہام، پیچیدگی، سلیس، نازک خیالی، تبلیغ، اصلاح، تفریح، نثری اظہار، برمحل اشعار
——————
ایجاز و اختصار کے باجود شعر جامع اور مکمل ہوتا ہے۔ لفظوں کی ترکیب با وزن ہونے کے باعث اس میں موزونیت اور نغمگی پائی جاتی ہے۔ نغمگی کا ہی نتیجہ ہے کہ تنہائی میں جب کوئی مخاطب نہیں ہوتا، مترنم آواز نہ ہوتے ہوئے بھی ہم کسی شعر کو پڑھتے نہیں گنگناتے ہیں۔ اسی طرح جب مشاعرے کا انعقاد کیا جاتا ہے اور سننے سنانے کی باضابطہ محفل آراستہ کی جاتی ہے تو شعر کو ترنم سے پڑھنے میں ہی زیادہ مقبولیت حاصل ہوتی ہے مگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ شعر چونکہ کلام موزوں کا نام ہے اس لیے ترنم سے پڑھنا ہی اس کی درست ادائیگی ہے۔ اس کی زندہ مثال ہماری روزمرہ کی زندگی ہے۔ جب ہم کسی سے محو کلام ہوتے ہیں تو تبادلہئ خیال کا ذریعہ نثری پیرایہئ بیان ہوتا ہے۔ دوران گفتگو اگر کوئی شعر پیش کرنے کی نوبت آجاتی ہے تو ایسے میں ہم مترنم آواز کا سہارا نہیں لیتے بلکہ تحت اللفظ میں ہی شعر پڑھتے ہیں اور اس وقت اس میں اتنی برجستگی اور موزونیت ہوتی ہے کہ ترنم کا وسیلہ اپنایا جائے تو شعر مذاق بن کر رہ جائے۔ واضح ہو کہ تحت اللفظ کوئی نثری لب و لہجہ نہیں بلکہ اس میں وزن کی کارفرمائی صاف جھلکتی ہے۔ یعنی اوزان کی نشست و برخاست کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ جس وجہ سے غیر مترنم وسیلہ ہوتے ہوئے بھی شعر کی پیش کش کا اپنا ایک طرز دکھائی دیتا ہے۔ بعض شعر کی تو ساخت ہی کچھ ایسی ہوتی ہے کہ روزمرہ کے معمولات کیا، مشاعرہ اور دیگر تقریبات کے موقع سے تحت اللفظ میں پڑھنا ہی زیادہ مناسب ہوتا ہے۔چنانچہ اردو کی بہت ساری غزلیں ایسی ہیں جنہیں گایا نہیں جاسکتا۔ ترنم کا جادو دراصل سماعت کو محظوظ کرنے کے لیے جگایا جاتا ہے۔ اس سے ذہن میں تصورات کے گلشن آباد ہونے لگتے ہیں اور ہم خواب و خیال کی وادی میں کھو جاتے ہیں۔ چونکہ مشاعرہ یا شعری نشست کا انعقاد ایک منصوبے کے تحت ہوتا ہے اس لیے خود کو محظوظ کرنے کی چاہت رہتی ہے۔ شعری فنکاری کے ساتھ ساتھ صوتی ہم آہنگی کی بھی طلب ہوتی ہے۔ لہٰذا فنکار اپنے جذبات و احساسات کا اظہار اثر انگیز ترنم میں کرتا ہے اور اس طرح مشاعرے کو تفریح کا وسیلہ بنایا جاتا ہے۔
ادب ہر زمانے میں زندگی سے وابستہ رہا ہے وہ ادب برائے ادب کا دور ہو یا ادب برائے زندگی کا عہد۔ ترقی پسند تحریک کا زمانہ ہو یا جدیدیت اور مابعد جدیدیت کاعرصہ۔ ادب کا شعری حصہ یعنی شاعری جو فنون لطیفہ کی اعلیٰ ترین قسم ہے، زندگی سے نسبتاً زیادہ منسلک رہی ہے۔ وہ یوں کہ زندگی احساس کا نام ہے اور شعرو ادب احساس کی ترجمانی ہے۔ شاعری الفاظ کو محض بروزن ترتیب دینے کا عمل نہیں بلکہ شاعری کے لیے شعریت ضروری ہے جو بات کہی گئی ہو اس کالہجہ شاعرانہ ہو اور ظاہراً جو مفہوم سمجھ میں آرہا ہو،حقیقی معنی اس سے بالا تر ہو۔ تک بندی اور شعر گوئی میں بڑا فرق ہے۔ شعر سمجھنے اور سمجھانے کی چیز نہیں بلکہ محسوس کرنے کی شے ہے، دوسری جانب یہ بات بھی ہے کہ شعر کی مقبولیت اس کی گہرائی و گیرائی یا داخلی معنویت کی بنیاد پر نہیں طے کی جاسکتی۔ بڑا شعر وہ نہیں کہ جس کی تشریح در تشریح ہو اور وہ تحقیق کا موضوع بنے بلکہ اچھا شعر وہ ہے جو زیادہ سے زیادہ کوٹ کیا جائے اور یہ بات دعویٰ کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ روزمرہ کی زندگی میں اردو کے اشعار جس قدر کوٹ کیے جاتے ہیں کسی اور زبان کے اشعار کو یہ اعزاز حاصل نہیں۔تحریر و تقریر اور عام بول چال میں اتنے اشعار کسی دوسری زبان میں مستعمل نہیں اور پھر ان اشعار کابدل بھی نہیں   ؎
زندگی کیا کسی مفلسی کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
شدت ضعف نے حالت یہ بنائی میری
نبض چلتی ہے تو دکھتی ہے کلائی میری
مفلسی سب بہار کھوتی ہے
مرد کا اعتبار کھوتی ہے
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر
آرام کیا کہ جس سے ہو تکلیف اور کو
پھینکوں کبھی نہ پاؤں سے کانٹا نکال کے
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر
کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت
جس میں جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے
جن کا اقبال جوانی میں چمک جاتا ہے
ان کو بچپن کے حبیبوں سے حجاب آتا ہے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلبگار نہیں ہوں
بازار سے گذرا ہوں خریدار نہیں ہوں
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا
لازم ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
طاعت ہو یا گناہ پس پردہ خوب ہے
دونوں کا جب مزہ ہے کہ تنہا کرے کوئی
الٰہی خیر مرے کارواں کی
جسے دیکھو امیر کارواں ہے
جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
جہاں رہے گا وہیں روشنی لٹائے گا
کسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا
گو ذرا سی بات پہ برسوں کے یارانے گئے
لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے
شاعری کی شروعات مختصر بیانی کے پس منظر میں ہوئی تھی۔ اس کا ایجاز و اختصار آج بھی ہماری ضرور ت ہے۔ فرق یہ ہے کہ زمانۂ قدیم میں سماجی بندشوں کے پیش نظر عاشق و محبوب چوری چھپے ملتے تھے۔ ایسے میں اظہا ر خیال کے لیے اختصار درکار تھا۔ اشارے کنائے میں دل کی بات کرنے سے شعر گوئی بالخصوص غزل گوئی فروغ پائی۔ جو لوگ دل لگاتے تھے نتیجتاً شاعر ہو گئے اور ایسا بھی ہوا کہ شعر کہتے کہتے دل لگانے لگے۔ آج بھی ہمارے پاس وقت کی قلت ہے اور یہ قلت دوڑتی بھاگتی زندگی کے باعث ہے۔ لہٰذا آج کا آدمی مختصر ملاقات اور مختصر بات چاہتا ہے۔ یہ کہنے کا زمانہ جاتا رہا کہ   ؎
ابھی تو آئے ہو بیٹھو ذرا چلے جانا
لگے گی دیر تمھیں حال دل سنانے میں
عملاً ہم زندگی سے بتدریج دور ہوتے جارہے ہیں۔ ہماری زندگی مصنوعی ہوتی جارہی ہے اور احساس مرتا جارہا ہے۔ اگر احساس کہیں زندہ ہے تو شاعر اور ادیب کے یہاں۔ شعرو ادب اس لحاظ سے بھی زندگی سے وابستہ ہیں۔ اردو شاعری روزمرہ کی زندگی سے پیدا ہوتی ہے اور یہیں پھولتی پھلتی ہے۔ تعلیم و تعلم، تحریر و تقریر اور روزمرہ کے دیگر حالات و کوائف میں ہم انھیں لازماً استعمال کرتے ہیں۔ مختصر گفتگو اور مکمل اظہار کے لیے شاعری بالخصوص اردو شاعری اچھا وسیلہ ہے اور نسبتاً زیادہ اثرانگیز بھی۔ دوبدو گفتگو کے لیے اب ملاقات بھی ضروری نہیں اور نہ ملاقات کے لیے بات ضروری ہے   ؎
اب گفتگو میں بیچ سے غائب ہے آدمی
ہم تک تو آتے آتے روایت بدل گئی
——
کیسے کہدوں کہ ملاقات نہیں ہوتی ہے
ملتے رہتے ہیں مگر بات نہیں ہوتی ہے
عشق بازی کے شغل کو اردو شاعری نے بہتر بتایا ہے وہ عشق حقیقی ہو یا مجازی۔ محبت کی دنیا حسیں ہے اور محبت کی دنیا میں سب کچھ حسیں ہے۔ محبت ایک جاوداں زندگی ہے۔ محبت نہیں تو زندگی بھی نہیں۔محبت زندگی ہے اور زندگی کا تعلق روزمرہ سے ہے لہٰذا محبت کا رشتہ بھی روزمرہ سے ہے اور پھر اردو شاعری کا محبت سے۔ اردو شاعری میں ہر بات محبت کی زبان سے کہی جاتی ہے اور کانوں میں مصری گھولا جاتا ہے۔ شعرائے اردو معاملات محبت سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ ”میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے“ کے علمبردار ہوتے ہیں۔ شعرائے اردو محبت کریں یا نہ کریں مگر محبت کی بات ضرور کرتے ہیں اور اس محبت کے تناظر میں کیسی کیسی باتیں دل پسند انداز میں کہہ جاتے ہیں۔جنہیں سنتے رہنے کا جی چاہتا ہے   ؎
گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
کیوں آج اس کا ذکر مجھے خوش نہ کر سکا
کیوں آج اس کا نام مرا دل دکھا گیا
کسی کی یاد قیامت سے کم نہیں لیکن
کسی کو بھولنا اس سے بڑی قیامت ہے
ویراں ہے میکدہ خم و ساغر اداس ہے
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے پاس رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
تجھ سے ملنا خوشی کی بات سہی
تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں
کوئی آیا نہ آئے گا شاید
کیا کریں گر نہ انتظار کریں
الٹی ہی چال چلتے ہیں دیوانگان عشق
آنکھوں کو بند کرتے ہیں دیدار کے لیے
تم مخاطب بھی ہو قریب بھی ہو
تم کو دیکھیں کہ تم سے بات کریں
دیکھا جو تیر کھاکے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی
ہم با وفا تھے اس لیے ٹھکرا دیے گئے
شاید انھیں تلاش کسی بے وفا کی تھی
وہ آئے ہیں پشیماں لاش پر اب
تجھے اے زندگی لاؤں کہاں سے
تعزیر جرم عشق ہے بے صرفہ محتسب
بڑھتا ہے اور ذوق گنہ یاں سزا کے بعد
بہر عیادت آئے وہ لیکن قضا کے ساتھ
دم ہی نکل گیا مرا آوازِ پا کے ساتھ
انھیں پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ
مرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے
سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد
سنتے ہیں کہ مل جاتی ہے ہر چیز دعا سے
اک روز تجھے مانگ کے دیکھیں گے خدا سے
ان کا غم ان کا تصور ان کی یاد
کٹ رہی ہے زندگی آرام سے
اردو شاعری کا حسن اس کا حسن بیاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو شعر پارلیمانی اور اسمبلی اجلاس، سمینار، سپوزیم، بیت بازی میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ اردو شاعری میں نالہئ بلبل شیدا بھی ہے، جسے ہنس ہنس کر سنا جاتا ہے اور وہ بیان بھی ہے جسے سننے کے لیے جگر تھام کے بیٹھنا پڑتا ہے۔اردو اشعارسے استفادہ شاعر و ادیب ہی نہیں استاد، عالم، طالب علم، افسر، رہنما، وکیل، اور دیگر شعبہ جات کے افراد بھی کرتے ہیں۔ ان سب کے ذریعے تلخ، شیریں، سنجیدہ، مزاحیہ، کلاسیکی اور جدید اشعارپیش کیے جاتے ہیں۔ الغرض مزاج پرسی اور خیریت کی آگاہی کے سلسلے میں اردو کے بے شمار اشعار زبان زد خاص و عام ہیں ان اشعار میں یہ خاصیت بھی ہے کہ انھیں حسب موقع استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان کا روئے سخن بدلتا بھی رہتا ہے    ؎
خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
کیفیت چشم اس کی مجھے یاد ہے سودا
ساغر کو مرے ہاتھ سے لینا کہ چلا میں
اب کے جنوں میں فاصلہ شاید نہ کچھ رہے
دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب دیکھیے ٹھہرتی ہے جاکر نظر کہاں
ملنا ترا اگر نہیں آساں تو سہل ہے
دشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں
ہمیں جب نہ ہونگے تو کیا رنگ محفل
کسے دیکھ کر آپ شرمائیے گا
آئے بھی لوگ بیٹھے بھی اٹھ بھی کھڑے ہوئے
میں جا ہی ڈھونڈتا تری محفل میں رہ گیا
لائے اس بت کو التجا کر کے
کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے
ابھی اس راہ سے کوئی گیا ہے
یہ کہے دیتی ہے شوخی نقشِ پا کی
آکے سجادہ نشیں قیس ہوا میرے بعد
نہ رہی دشت میں خالی مری جا میرے بعد
زاہد تنگ نظر نے مجھے کافر جانا
اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلمان ہوں میں
لاؤ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں
کس کس کی مہر ہے سر محضر لگی ہوئی
ہم اپنے حال پریشاں پہ مسکرائے تھے
زمانہ ہو گیا یوں بھی تو مسکرائے ہوئے
کہا میں نے کتنا ہے گل کا ثبات
کلی نے یہ سن کر تبسم کیاٍ
مگس کو باغ میں جانے نہ دینا
کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا
ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھے
وہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کرگیا
ورنہ گلشن میں علاج تنگی داماں بھی تھا
بخش دے داور محشر مرا اعمال نہ پوچھ
اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں
ہندی کے معروف شاعر و ادیب تری لوچن شاستری کا اعتراف ہے کہ اردو غزل میں جو زبان مستعمل ہے وہ گفتگو کے لہجے سے بہت قریب ہے اس لیے اردو شاعری میں زندگی کے عناصر تحلیل ہو جاتے ہیں۔ امریکہ کے معروف ماہر نفسیات پروفیسر جیمس نے ہر شخص کو کم سے کم دس منٹ اردو شاعری کے لیے وقف کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ مارکنڈے کاٹجو کا ماننا ہے کہ دنیا کی سب سے زیادہ فروخت والی کتاب اردو غزل کی ہے۔نامور صحافی خوشونت سنگھ نے بھی اردو شاعری کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اردو میں ایسے ایسے الفاظ ہیں جو جذبات و احساسات دل کی سچی ترجمانی کرتے ہیں۔ داخلی کیفیات کی منھ بولتی تصویر کھینچ دیتے ہیں   ؎
آہ نے وہ گہرے نقشے کھینچے ہیں تاثیر کے
تم تو دل رکھتے ہو آنسو گر پڑے تصویر کے
چونکہ شاعری بالخصوص اردو شاعری احساسات و جذبات کی ترجمانی ہے اور احساس کی وضاحت ممکن نہیں کیونکہ یہ محسوس کرنے کی چیز ہے۔ اس لیے اشارہ کنایہ، رمز و ایما اور ایجاز و اختصار کی جلوہ گری اردو شاعری کا جزو لاینفک ہے۔ یہی خوبیاں نثری فقرے کو ضرب المثل بناتی ہیں تو پھر اردو اشعار کو کیونکر نہ ضرب المثل کا درجہ حاصل ہو۔ ان میں نغمگی اور موسیقیت بھی ہے جو نثری فقرے میں نہیں۔ اردو اشعار ہمارے روزمرہ کی زندگی میں ضرب المثل کی صورت مستعمل ہیں۔ برمحل ایک شعر کی بدولت اس کا شاعر زندہ ہے، شعروادب زندہ ہیں، روزمرہ کی گفتگو آباد ہے    ؎
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
عمر یونہی تمام ہوتی ہے
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
سدا دار و دورہ دکھاتا نہیں
عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
ایام مصیبت کے تو کاٹے نہیں کٹتے
دن عیش کے گھڑیوں میں گذر جاتے ہیں کیسے
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
یاد ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں
کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں
فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا
مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں
وہ طفل کیا گرے کہ جو گھٹنوں کے بل چلے
فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
اب تو دھوپ آ پہنچی جھاڑیوں کے اندر بھی
اب پناہ لینے کو تیرگی کہاں جائے
کچھ سمجھ ہی کر ہوا ہوں موج دریا کا حریف
ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے
نکالیں سیکڑوں نہریں کہ پانی کچھ تو کم ہوگا
مگر پھر بھی مرے دریا کی طغیانی نہیں جاتی
ساحل کو دیکھ دیکھ کے یوں مطمئن نہ ہو
کتنے سفینے ڈوبے ہیں ساحل کے پاس ہی
گیا شیطان مارا ایک سجدہ کے نہ کرنے میں
اگر لاکھوں برس سجدے میں سر مارا تو کیا مارا
فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں
ڈور کو سلجھا رہا ہے اور سرا ملتا نہیں
آج بنگلے پہ مرے آئی تھی آواز اذاں
جی رہے ہیں ابھی کچھ اگلے زمانے والے
اپنے کعبہ کی حفاظت ہمیں خود کرنی ہے
اب ابابیلوں کا لشکر نہیں آنے والا
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
سب پہ جس بار نے گرانی کی
اس کو یہ ناتواں اٹھا لایا
بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے
ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
سنی حکایت ہستی تو درمیاں سے سنی
نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم
حباب بحر کو دیکھو کہ کیسے سر اٹھاتا ہے
تکبر وہ بری شئے ہے جو فوراً ٹوٹ جاتا ہے
مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
کیا ٹھکانا ہے زندگانی کا
آدمی بلبلہ ہے پانی کا
ہو مرض تو دوا کرے کوئی
مرنے والے کو کیا کرے کوئی
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ کل ہماری باری ہے
سیر کی خوب پھرے پھول چنے شاد رہے
باغباں جاتے ہیں گلشن ترا آباد رہے
اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
زندگی کا ہے کو اک خواب ہے دیوانے کا
زندگی بھی تو پشیماں ہے مجھے لا کے یہاں
ڈھونڈتی ہے کوئی حیلہ مرے مرجانے کا
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے انھیں اجزا کا پریشاں ہونا
موت اس کی  ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
ورنہ دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لیے
آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزہئ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
یہ ایسے اشعار ہیں، جن کے بغیر ہماری بات چیت بے مزہ ہوجائے اور بات بے مزہ ہو جائے تو حرکت و حرارت بھی بے لطف ہو جائے۔ حرکت و حرارت کے بے لطف ہونے سے روزمرہ کی زندگی بھی بے معنی ہو جائے۔شعر آمیز گفتگو میں نہ صرف بولنے والوں کی رغبت ہوتی ہے بلکہ سننے والے بھی دلچسپی دکھلاتے ہیں۔کیونکہ ایسی گفتگو میں متوجہ کرنے کی پوری قوت ہوتی ہے۔ جو کام ہزاروں باتوں سے نہیں ہوتا ایک شعر سے ہوجاتا ہے۔ ایک شعر سے مکمل داستان سنائی جاسکتی ہے۔ شعر کے ذریعے کوئی مخاطب کے سراپا میں اترتا چلا جاتا ہے۔ اچھا شعر انسان کو ذہنی اور روحانی فرحت بخشتا ہے۔ ذہنی خلفشار اور جسمانی تساہل سے نجات دلاتا ہے۔ اردو اشعار کے ذریعے پیار کا بھی اظہار ہوتا ہے اور غصے کا بھی۔ ان میں سرور و انبساط ہی نہیں احتجاج کی بھی باتیں ہوتی ہیں۔ علاحدگی، مظاہرہ، ناراضگی، رضا مندی اور دیگر متضاد خیالات کی کارفرمائی ملتی ہے۔ اردو اشعار کا استعمال، مافی الضمیر کی ادائیگی، سرخروئی اور برتری حاصل کرنے کے لیے بھی ہوتا ہے۔ مد مقابل کو ایک شعر سنا کر پسپا بھی کیا جاتا ہے۔ روزمرہ کی زندگی میں صرف سنجیدہ اشعار سے ہی کام نہیں لیا جاتا بلکہ طنز کے نشتر بھی چلائے جاتے ہیں اور مزاح سے بھی استفادہ کیا جاتا ہے۔ اردو مطالبے اور تقاضے کی زبان ہے۔ لہٰذا اردو شاعری میں بھی یہ رنگ نمایاں ہے۔ اردو نے روزمرہ کی زندگی کو بہت کچھ دیا ہے، جس میں انقلاب زندہ باد کا نعرہ بھی ہے۔ زبان اردو بے اعتنائی کی شکار ہے مگر اس کے اشعار کی مقبولیت اپنی جگہ آج بھی مسلم ہے۔ دوران گفتگو ہم کبھی میر کی باتوں سے اتفاق کرتے ہیں تو کبھی غالب کے اقوال سے اور کبھی اقبال اور اکبر کے پیام سے۔ بعض اوقات گمنام شاعر کا شعر بھی استعمال کرتے ہیں۔ یعنی اس سے غرض نہیں کہ کس کا، کب کا اور کہاں کا شعر ہے بلکہ بحث اس سے ہے کہ شعر برمحل، موزوں اور برجستہ ہے یا نہیں۔ سامع یا قاری کو متاثر کرنے والے اشعار ضرب المثل بن جاتے ہیں اور ان کا اثر تا دیر قائم رہتا ہے۔ ضرب المثل اشعار شعوری کوشش کے متقاضی نہیں ہوتے، موقع محل سے یہ خود در آتے ہیں۔ ان سے روزمرہ کی گفتگو، تحریر و تقریر کو موثر، دلچسپ او ر بامزہ بنایا جاتا ہے۔ گفتگو میں شعر کی آمیزش کے لیے ضروری نہیں کہ متکلم شاعر ہی ہو، یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ناموزوں مصرع بھی استعمال کیا جاتا ہے مگر اس میں بھی موزونیت کی کوشش کارفرماہوتی ہے۔ دراصل اپنی بات کو جاندار بنانے کے لیے اس میں غنائیت اور جاذبیت بھرنے کے لیے اور گفتگو کو نپی تلی بنانے کے لیے شعر کی مدد لی جاتی ہے۔ مصرع کے اشتراک سے نثر شاعرانہ ہو جاتی ہے، بندش الفاظ میں چستی آ جاتی ہے،گفتگو کی معنویت بڑھ جاتی ہے۔ مکالمے کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے، جب شعر کا جواب شعر سے دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات دوران گفتگوشعر کی اصلاح بھی ہو جاتی ہے۔ الغرض روزمرہ کی زندگی میں مستعمل اردو شاعری زندہ شاعری ہے، زندہ دلوں کی شاعری ہے، زندگی سے وابستہ شاعری ہے   ؎
زندگی زندہ دلی کا نام ہے
مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں
چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موج حوادث سے
اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے
وہ کون ہے جنہیں توبہ کی مل گئی فرصت
یہاں گناہ بھی کرنے کو زندگی کم ہے
عمر بھر مصروف ہیں مرنے کی تیاری میں لوگ
ایک دن کے جشن کا ہے کتنا زیادہ اہتمام
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
دنیا کے جو مزے ہیں ہر گز وہ کم نہ ہونگے
چرچے یہی رہیں گے افسوس ہم نہ ہونگے
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے کل کی خبر نہیں
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
نشیمن پر نشیمن اس قدر تعمیر کرتا جا
کہ بجلی گرتے گرتے آپ خود بیزار ہو جائے
سفر ہے شرط مسافر نواز بہترے
ہزارہا شجر سایہ دار راہ میں ہے
ایک ہو جائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں
ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا بات بنے
دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست بن جائیں تو شرمندہ نہ ہوں
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے
ہو چکا عشق اب ہوس ہی سہی
کیا کریں فرض ہے ادائے نماز
دنیا میں کوئی غم کے علاوہ خوشی نہیں
وہ بھی ہمیں نصیب کبھی ہے کبھی نہیں
کہانی میری روداد جہاں معلوم ہوتی ہے
جو سنتا ہے اسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کردے
کہ جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کردے
رہے دو دو فرشتے ساتھ اب انصاف کیا ہوگا
کسی نے کچھ لکھا ہوگا کسی نے کچھ لکھا ہوگا
دوران تحریر و تقریر حوالے کے لیے ایک یا ایک سے زیادہ شعر پیش کیے جاتے ہیں۔ ایک شعر میں دو مصرعے ہوتے ہیں اور ان دونوں مصرعوں سے بات پوری ہو تی ہے مگر بہت سے مصرعے ایسے ہیں جنہیں تنہا مکمل شعر کی حیثیت حاصل ہے۔ انھیں دوسرے مصرعے کی ضرورت نہیں ہوتی اگر شعر کو مکمل کیا جائے تو بدمزگی پیدا ہو جائے۔ کسی کسی شعر کے دونوں مصرعے کو الگ الگ بھی حسب موقع پیش کیا جاتا ہے۔ ایسا مصرع ابہام و پیچیدگی سے مبرّا، سادہ سلیس، رواں دواں، خوبصورت اور موثر ہوتا ہے۔ اس طرح کے مصرعے سے مضمون کی سرخی بھی بناتے ہیں۔ کتاب کا عنوان بھی دیتے ہیں۔ طرحی مشاعرے کے لیے ایسے ہی مصرع کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس قبیل کا مصرع نپا تلا اور برجستہ ہوتا ہے۔ ایسا مصرع اس قدر جامع اور مکمل ہوتا ہے کہ وہ ضرب المثل بن جاتا ہے یعنی اسے بے پناہ مقبولیت ملتی ہے۔ روزمرہ کی زندگی میں ایسے مصرعوں کو کوٹ کرنے سے مختصر وقت میں بڑی بات کہہ دی جاتی ہے۔ اس طرح کے چند مصرعے آپ بھی ملاحظہ فرمائیں  ع
ہر حال میں ہے شکر خدا کچھ نہ پوچھیے
——
آغاز تو اچھا ہے انجام خدا جانے
——
ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا
——
میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں
——
ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے
——
تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے
——
خوب گذرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو
——
اللہ کرے مرحلہئ شوق نہ ہو طے
——
ایسی بھی کوئی شام ہے جس کی سحر نہیں
——
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
——
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
——
رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ
——
کنارے سے کبھی اندازۂ طوفاں نہیں ہوتا
——
راستے بند ہیں سب کوچۂ قاتل کے سوا
——
یاروں نے کتنی دور بسائی ہیں بستیاں
——
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
——
کہاں کھولے ہیں گیسو یا ر نے خوشبو کہاں تک ہے
——
دیکھو مجھے جو دیدہئ عبرت نگاہ ہو
——
ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
——
دلربائی کے تجھے کتنے ہنر آتے ہیں
——
کوئی معشوق ہے اس پردہئ زنگاری میں
——
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
——
تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں
——
رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی
——
ہمیں سے سنت منصور و قیس زندہ ہے
——
عاشق کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
——
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
——
اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی
——
چھٹتی نہیں ہے منھ سے یہ کافر لگی ہوئی
——
ہم کہاں تک ترے پہلو سے سڑکتے جائیں
——
زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے
——
قصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم
——
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
——
جو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے
——
زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو
——
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
——
کون سنتا ہے فغان درویش
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
——
تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں
——
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے
——
کھاؤں کدھر کی چوٹ بچاؤں کدھر کی چوٹ
——
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
——
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
——
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا
——
اللہ رے سناٹا آواز نہیں آتی
——
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
——
اک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں
——
جب دئے رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا
——
پاسباں مل گیا کعبے کو صنم خانے سے
——
ایک دھوپ تھی جو ساتھ گئی آفتاب کے
——
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
——
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
——
خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں
——
پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
——
کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں
——
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا
زندگی موت کے آنے کی خبر دیتی ہے
——
آدمی چند ملاقاتوں میں مرجاتا ہے
ہماری روزمرہ کی زندگی شاہد ہے کہ اردو شاعری کس طرح عوام سے منسلک ہے۔ روزنامہ اور ہفتہ وار اخباروں میں اس کی جلوہ نمائی ملتی ہے۔ ماہنامہ، دو ماہی اور سہ ماہی رسائل و جرائد کی دل کشی شعری مشمولات سے ہی متعین ہوتی ہے۔ روزانہ کسی نہ کسی کا شعری مجموعہ منصہ شہود پر آتا رہتا ہے۔ریڈیو، ٹیلی ویژن پر شعری نشست اور اسٹوڈیو مشاعرہ کا انعقاد معمول کا حصہ ہے۔ اردو اشعار کو روزمرہ کی زندگی سے ہم آہنگ کرنے میں فیس بک اور واٹس ایپ کی کارکردگی بھی ناقابل فراموش ہے۔ اردو شاعری سیاست، صنعت، کھیل کود، فلم، صحت، کیریئر سازی سارے شعبہ ہائے حیات سے وابستہ ہے۔ اردو شاعری داخل نصاب ہے۔ اس کی جلوہ گری، مدرسہ، خانقاہ، ادبی اڈہ اور میخانے میں دیکھی جاتی ہے۔ اردو شاعری شکایت کا ذریعہ بھی ہے اور عبادت کا وسیلہ بھی۔ قرآن کا منظوم ترجمہ، حمد، مناجات، نعت، مرثیہ، منقبت، منظوم دعا اردو شاعری کی مقبولیت پر دال ہیں۔ پیدائش، موت، شادی بیاہ، آمد، رخصتی کے ذکر کو بھی قافیہ بند کیا جاتا ہے حتیٰ کہ بعض اوقات منظوم دعوت نامہ بھی پڑھنے کو ملتا ہے۔ اردو شاعری میں افواہ بھی ہے اور سچائی بھی۔ پہیلی بھی ہے اور کھلا اظہار بھی۔ معافی بھی ہے اور شاباشی بھی۔ آہ بھی ہے، واہ بھی۔ افسوس بھی ہے، حوصلہ بھی۔ اس طرح اردو شاعری آئے دن کام آنے والا سرمایہ ہے۔ تلقین و ہدایت، صبر و تحمل، حلم و بردباری، عاجزی و انکساری، میل محبت، خودی وانا نیت، سربراہی و رہنمائی اور تعزیت و تہنیت جیسے سیکڑوں معاملات میں اردو شاعری پیغام رساں لگتی ہے    ؎
تم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
اس شعر میں غالب کی خیر خواہی، نازک خیالی کی انتہا سہی مگر یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ مبارکباد کے لیے اس سے بڑی بات کسی زبان میں شاید ہی کہی گئی ہو۔ اس کے برعکس کسی شخص سے تو تومیں میں کی صورت میں غصہ انتہا کو پہنچ جائے اور اظہار ناراضگی کے لیے لفظ نہ ملے تو ایسے میں اردو کا شعر موثر آلہ ثابت ہوتا ہے جس سے دل کی آگ بجھ جاتی ہے، مخاطب کو ضرب کاری لگتی ہے اور لہجہ شاعرانہ ہونے کے باعث بات مزید بڑھنے سے رک جاتی ہے   ؎
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمھیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے
شاعری سے معاشرے میں شائستہ روی آتی ہے۔ بالخصوص اردو شاعری کا معاشرہ مہذب و سنجیدہ ہوتا ہے اس میں خوش اخلاقی پائی جاتی ہے لہٰذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ شاعری سے تبلیغ و اصلاح ممکن ہے یوں تو دامن اردو متعدد اصناف سخن سے بھرا پڑا ہے مگر غزل کی حیثیت ممتاز و منفرد ہے۔ غزل کی تہہ داری اس کی معنی آفرینی سے عبارت ہے۔ آزادغزل اگرچہ تجربہ تک محدود رہی لیکن آزاد شاعری اور نثری شاعری مقبول ہو رہی ہے۔ آج کی جدید اردو شاعری میں ہر طرح کے خیالات پیش کیے جارہے ہیں۔ ہر طرح کے خیالات کی پیش کش کا مطلب ہے کہ ہر طرح کے موضوع پر بات ہو رہی ہے۔ اردو شاعری ہمارے شب و روز کے معمولات پر اس طرح اثر انداز ہے کہ دوسری زبان والے بھی اردو کے اشعار کو یاد رکھنے پر مجبور ہیں   ؎
مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے
——
سر فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
——
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
اردو شاعری ہماری ذہنی تفریح کا سامان بیش بہا ہے۔ یہ اس زمانے سے تفریح طبع کے کام آرہی ہے جب اس کے لیے کوئی اور ذریعہ نہیں تھا۔ آج کے سائنسی اور مشینی عہد میں مصروفیت کی نوعیت بدل گئی ہے۔ اس لیے تفریح کے بھی طریقے بدل گئے ہیں لیکن اس عہد میں بھی شگفتہ شعر سننے سے ذہنی آسودگی حاصل ہوتی ہے اور ہم تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی وقت کے عذاب سے چھٹکارا پا جاتے ہیں اور خود کو لطف اندوز ہوتا محسوس کرتے ہیں۔ جس طرح کوئی شاعر کسی دن اگر شعر نہیں کہتا ہے تو اسے عجیب سا لگتا ہے۔ اسی طرح جب کوئی با ذوق شخص کسی روز کوئی شعر نہیں سنتا یا پڑھتا ہے تو اسے بے لطفی کا احساس ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ کسی شاعر یا شعروشاعری سے دلچسپی رکھنے والے فر د سے جب ہماری ملاقات ہوتی ہے تو اس سے شعر سنانے کی فرمائش کرتے ہیں۔ کسی سے پسندیدہ شعر سنانے یا پسندیدہ شاعر کا نام بتانے کی گذارش کیے جانے کی روایت بھی رہی ہے۔ یعنی ہماری روزمرہ کی زندگی مختلف طرح سے رو بہ رو شاعری کے کھڑی لگتی ہے۔ حوصلہ دینے کے لیے،گھبرانے سے بچانے کے لیے، اردو اشعار ہتھیار کا کام کرتے ہیں۔ روزمرہ کی زندگی اگر اردو شاعری کے جسم میں روح پھونکتی ہے تو اردو شاعری بھی زندگی کی رگوں میں صالح خون دوڑاتی ہے۔ اردو شاعری روحانی غذا ہے۔ یہ انسان کو زندگی کا احساس دلاتی ہے۔ اسے اپنے آپ سے روشناس کراتی ہے۔ اردو شاعری حیات انگیز شاعری ہے۔جو روزمرہ کی زندگی میں فعال و متحرک نظر آتی ہے اور ہم اس کے بغیر حقیقتاً بے حس و حرکت دکھائی دیتے ہیں۔ تلفظ کی درست ادائیگی کے لیے، قواعد کا مسئلہ سلجھانے کے لیے، دوران گفتگو اردو اشعار کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ شاعری نثری اظہار کو پختگی بخشتی ہے۔ بعض اوقات شعر کی نثر یا اس کا مفہوم پیش کیا جاتا ہے۔ برمحل اشعار کی نثر اور اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کے استعمال سے بات میں جان ڈال دی جاتی ہے۔ اردو شاعری کون سی بات کب، کہاں، کیسے کہی جاتی ہے کا وہ سلیقہ دیتی ہے کہ ہر بات سنی جاتی ہے۔
Badr Mohammadi
AT - Chandpur Fatah
P.O. - Bariarpur - 843102
Distt - Vaishali (Bihar)
Cell - 9939311612
E-mail:badrmohammadi1963@gmail.com


سہ ماہی فکرو تحقیق، اکتوبر تا دسمبر 2019
 قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے