بدھ، 30 دسمبر، 2015

تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر /ابولکلام قاسمی

نئے ادبی نظریہ سازوں نے ادب کے ان تمام سکّہ بند معیاروں پر سوالیہ نشانات قائم کیے ہیں جن کے سبب، بالادست فکری اور ادبی طبقات کو ماضی کے ادبی اظہار(Discourse) میں مرکزیت اور مثالی حیثیت حاصل رہی ہے۔ ادب کی روایت میں آفاقی اصولوں کا تصور ہو یا جاگیر دارانہ مسلمات کی قطعیت ، غالب سماجی اداروں کی اجارہ داری ہو یا پدرانہ نظام پر قائم سماجی تصورات اور جنسی تفریق کی بالادستی ، اس نوع کے سارے معیارات گزشتہ برسوں میں شدت کے ساتھ زیربحث آئے ہیں۔ ان مباحث کے ماحصل کے طور پر لسانی، ثقافتی اور جنسی اکائیوں کی طرف سے روایتی طور پر تسلیم شدہ اصول و معیار کی نفی پر اصرار بڑھ گیا ہے اور اپنی شناخت کا مسئلہ بنیادی اہمیت اختیار کرگیا ہے ۔ بسا اوقات یہ اصرار تشخص کی تلاش کے حوالے سے مسلّمہ اقدار پر خطِ تنسیخ کھینچنے کی صورت میں سامنے آیا ۔ تشخص کی تلاش و جستجو کی اس کوشش نے جنسی تفریق پر قائم معاشرے کے فکری اور ادبی اظہارات کی بحث کو ادبی مباحث کے مرکز میں لاکھڑا کیا ہے ۔ اس طرح تانیثیت کا مسئلہ نظری اعتبار سے ایک اہم مابعد جدید مسئلہ بھی بن گیا ہے۔ ورجینیا وولف سے لے کر سیمون دی بوائر تک کے درمیانی وقفے میں ادبی درجہ بندی کے جو مباحث سامنے تھے ان کی حیثیت کہیں طبقاتی اور کہیں نفسیاتی درجہ بندی کی تھی۔مگر ان دونوں دانش ور خواتین کی تحریروں نے معاصر تانیثی تصورات کی تشکیل جدید کے لیے نئی بنیادیں فراہم کیں۔ یہی سبب ہے کہ مسئلہ، نسائی شناخت کا ہو، تانیثی نظریے کا یا تانیثی تنقید کا ان کی تحریروں سے کسب ِ فیض کرنے کی کوشش تقریبا ً ہر نئی کتاب اور تحریر میں دکھائی دیتی ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اُردو کے حوالے سے تانیثی ادب کی شناخت کے مسائل من و عن وہ نہیں ہوسکتے جن سے مغرب کے تانیثیت پسند مصنّفین دوچار ہیں ۔ اس لیے کہ ان کی گفتگو کی اساس نمایاں طور پر مغربی زبانوں کے فکشن اور شاعری کے نمونوں پر قائم ہے ۔ تاہم کچھ موازنے کی سہولت کی خاطر اور بڑی حد تک نظریاتی بنیادوں کے تعیّن اور تفہیم کی غرض سے مغربی تانیثیت کی مبادیات سے رجوع کرنا موضوع گفتگو کے تقاضوں کے عین مطابق ہوگا ۔

اس تفصیل میں جانا سردست غیر ضروری ہے کہ ورجینیا وولف کی کتاب "A Room of ones own" اور سیمون دی بوائر کی کتاب "The Second sex" نے کیوں کر تانیثی نقطۂ نظر کی ضرورت کا احساس دلایا اور اس بات کی اہمیت واضح کی ، مغرب میں ادبی تخلیق اور تنقید کس طرح صدیوں سے رائج پدری نظام کی بنیاد پر قائم تہذیب کی عکّاسی کرتی ہے ۔ اس پس منظر میں اُردو کے حوالے سے بھی اس وقت تک تانیثیت پسند نقطۂ نظر کو سمجھنا مشکل ہوگا، جب تک ہم پدری نظام میں مرد کی مرکزیت اور عورت کو غیر سمجھنے کے رویّے کو نشان زد نہ کرلیں اور یہ اندازہ نہ لگالیں کہ جنسی ثنویت کی نشان دہی جن تحریروں کے وسیلے سے کی جاسکتی ہے ان کو مغرب میں کس تجزیاتی طریقِ کار کے ذریعے زیرِ بحث لایا گیا ہے ۔ ڈیل اسپنڈر اور ٹورل موئی نے تانیثی ادبی نظریات کو جس طرح مرتّب کیا ہے اس کی رو سے مغرب ، مرد کی مرکزیت کے تصور کا ایسا عادی ہے کہ اس میں عورت اپنے آپ محکوم یا غیر بن کر رہ جاتی ہے ۔ چنانچہ بیش تر ادبی تحریروں میں اس تفریق کا عکس اس طرح منتقل ہوا ہے کہ مرد کرداروں کے مقابلے میں عورت کا کردار نصف بہتر کے بجائے نصف کہتر کے نمونے پیش کرتا ہے۔ اس صورتِ حال میں مردانہ رویّوں کی بالادستی کے سبب مرد ادیبوں کی تحریریں صرف مردوں کے لیے لکھی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ اس لیے اس رویّے کی مزاحمت کی خاطر ایک ایسے زاویۂ نظر کی شدید ضرورت محسوس کی گئی جو جنسی عدم توازن اور افراط و تفریط کو نشان زد کرسکے اور قدیم و جدید ادب کی قرأت ثانی یا قرأت مختلف پر اصرار کرسکے۔ اس طرز ِ مطالعہ کو مزاحمتی قرأت کا بھی نام دیا گیا ہے ۔ اس تبدیل شدہ طرز ِ مطالعہ نے واضح کیا کہ ہم نے اب تک مرد کے ساتھ متحرک ، بہادر اور تعقّل پسند جیسے اوصاف اور عورت کے ساتھ مجہول ، کمزور اور جذباتی جیسی منفی صفات وابستہ کر رکھی ہیں —اس طریق تنقید نے تانیثی زبان کے مسئلے کو از سرِ نو بحث کا موضوع بنایا ہے اور جملوں کی ساخت ، ڈسکورس کی مختلف اقسام اور تانیثی زبان اور اسلوب کے عناصر کی تلاش کو گزشتہ برسوں میں ایک طاقت ور رجحان کی صورت میں تبدیل کردیاہے — رولاں بارتھ کی معنیات اور دریدا کی لاتشکیل کی مدد سے تانیثیت پسند مصنّفین کے ایک حلقے نے لسانیاتی مطالعہ کی نوعیت تبدیل کردی ہے ۔ ان نظریہ سازوں کا بنیادی مسئلہ ایسی نسائی زبان کی اختراع ہے جو پدری بنیاد پر قائم نظام کی توثیق نہ کرے ۔

تاہم یہ بات وضاحت کی محتاج ہے کہ تانیثیت ادبی قدر کانعم البدل کیسے بن سکتی ہے؟ ادب کے قاری کے لیے تانیثی رجحان یا طریق تنقید سے تانیثیت کی شناخت تو بڑی حد تک قائم ہوجاتی ہے ، مگر ادب کو ادب کی حیثیت سے پڑھنے اور اس کی پرکھ کی معیار بندی کرنے کا مسئلہ ہنوز اپنی جگہ برقرار رہتا ہے ۔ اس لیے کہ دوسری طرح کی موضوعاتی شناخت کی طرح تانیثی نقطۂ نظر کو بھی بجائے خود فنّی معیار کا نام تو نہیں دیا جاسکتا ، البتّہ اس طرز مطالعہ سے موضوعاتی اور تہذیبی توازن کا نظام ضرور قائم کیا جاسکتا ہے ۔ جہاں تک ادبی قدر کی معیار بندی کا سوال ہے تو اس کا تعیّن بہر حال شعریات کے عمومی اصول و ضوابط ہی کریںگے ۔

تانیثی نظریے کے اس پس منظر کو یوں تو مغرب اور مشرق کی کسی بھی زبان کے ادب کے مطالعہ کی بنیاد بنایا جاسکتا ہے ۔ ویسے اگر اُردو کے خصوصی حوالے سے تانیثی ادب کی شناخت قائم کرنے کی کوشش کی جائے تو مغرب کی زبانوں کے مقابلے میں اُردو کا معاملہ زیادہ افراط و تفریط کا شکار دکھائی دیتا ہے ۔ ہمارے معاشرتی نظام کے زیرِ اثر ادب میں بھی پدری نظام کی بالادستی شعوری سے کہیں زیادہ تحت الشعوری گہرائیوں میں پیوست ہے کہ خود عورتیں بھی عموما ً جنسی تفریق پر قائم اپنے ادبی سرمایے پر قانع ہیں ، اور ان کے رویّے اپنی محکومیت کے رجحان کو تقویت دینے میں کچھ کم معاون نہیں۔ اس بات میں کوئی مضائقہ نہیں کہ خواتین اپنے نسائی رویّوں سے بلند ہو کر فلسفیانہ یا دانش ورانہ سطح پر ان ہی ذہنی اور فکری مسائل اور واردات کو اپنے ادب کا موضوع بنائیں جن سے مرد و زن یکساں طور پر دوچار ہیں ۔ مگر جس سماج میں طبقاتی کش مکش ، زیر دستوں کی حمایت اور معاشرے کی پس ماندہ اکائیوں کے مسائل کا احساس ، ادب کے اہم موضوعات بن سکتے ہیں وہاں جنسی تفریق کے مسئلے کو نشان زد کرنے سے چشم پوشی مقام حیرت ہی نہیں مقام غیرت بھی معلوم ہوتی ہے ۔

مطالعہ کی سہولت اور ارتکاز کی خاطر اگر شاعری کے حوالے سے اُردومیں تانیثی رجحان کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ گزشتہ کئی صدیاں اُردو میں نسائی اظہار کے وجود سے ہی بڑی حد تک عاری ہیں ۔ ظاہر ہے کہ جس معاشرے میں عرصے تک خواتین علمی و ادبی سرگرمیوں کا حصّہ ہی بن پائی ہوں اس میں نسائی مسائل اور تانیثی نقطۂ نظر کی تلاش زیادہ سود مند ثابت نہیں ہوسکتی۔ لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں خاتون ادیبوں اور شاعروں کی معتدبہ تحریریں کچھ اس تنوع کے ساتھ سامنے آئی ہیں کہ ہم ان کی بنیاد پر نسائی رویّوں کی نوعیت کا تعیّن ضرور کرسکتے ہیں۔ جہاں تک مرد ادیبوں کی تحریروں میں عورت کی امیج کا سوال ہے تو اس سلسلے میں طبقاتی سماج کی ناہمواریوں کی نشان دہی کے دعوے دار شاعروں تک کے یہاں طبقہ اُناث سے ناانصافی کی مثالیں کثرت سے ملتی ہیں ۔ اس ضمن میں باقر مہدی کی یہ رائے عبرت ناک صورت حال کو نمایاں کرتی ہے کہ :

’’خود ترقّی پسند اور جدید ادیبوں اور شاعروں کی تحریریںعورت کی جذباتی اور معاشرتی کش مکش کو مسخ کرکے پیش کرتی رہی ہیں ۔ خواہ وہ راشد کی نظم میں ہم رقص ہو یا مجاز کی ’آنچل کو پرچم بنانے والی باغی لڑکی ‘ ہو، عورت کے جسم و ذہن کی اتنی ہی اہمیت ہو جتنی مرد کی ، کہیں نظر نہیں آتی، اور غزل کی حکمرانی نے عورتوں پر تغزل کے دروازے اس طرح بند کیے تھے کہ وہ جان غزل تو بن سکتی تھی مگر خود غزل گو نہیں بن سکتی تھی ۔‘‘

اُردو شاعری کے معاصر منظرنامے میں جن شاعرات کی کاوشوں کو سنجیدہ مطالعہ کا موضوع بنایا جاسکتا ہے، ان کی اکثریت بھی جنسی بنیاد پر قائم تفریق کے مسائل کو بالعموم قابلِ اعتنا بھی نہیں سمجھتی۔ بعض شاعرات ، نسائی جذبات و احساسات کی پیش کش یا کسی حد تک اعترافی شاعری کی حدوں کو چھوتی ہوئی نظر آتی ہیں اور معدودے چند ایسی ہیں جن کی نظموں میں اپنی صورت حال سے بے اطمینانی، قدرے انحراف اور مساوی حقوق کی طلب کا واضح رجحان ملتاہے ۔ مثال کے طور پر شفیق فاطمہ شغریٰ دانشورانہ موضوعات ، مذہبی اور روحانی محرکات سے دلچسپی اور گہری بصیرت کے سبب ، ایک ایسی شاعرہ کا تاثر قائم کرتی ہیں جس کے لیے جنسی بنیاد پر قائم معاشرہ کوئی قابلِ توجہ مسئلہ نہیں محسوس ہوتا۔ تاہم شغریٰ نے اپنی بعض نظموں میں نسائی امیج کو مذہبی حوالوں کے ساتھ نمایاں کرنے کی طرف توجہ دی ہے ۔ اس نوع کی نظموں میںان کی ایک قدرے طویل نظم ’’اے تماشا گاہ عالم روئے تو‘‘ کا ایک ذیلی عنوان ’دعائے بانوئے فرعون ‘ ہے۔ انھوں نے اس حصّے سے متعلق حاشیے میں ’بانوئے فرعون ‘ کی تلمیح کے مضمرات بیان کرتے ہوئے اپنے معاشرے میں عورت کی حیثیت پر بھی گفتگو کی ہے ۔ نظم کے متعلقہ مصرعے کچھ اس طرح ہیں :

’’اب تو میرا گھر وہی گھر / جس کا تو بانی بنے/ اب تو تیرے ہی جوارِ قرب کے باغات میں / یارب بسیرا ہو مرا / —رستگاری دے مجھے فرعون سے ارتفاعِ بیت کے اُس دور کا آغاز ہو / جس میں اسوہ / بانو ئے فرعون کا اسوہ وہ پہلا سنگ میل / جس پہ اتری تابشِ اُمّ الکتاب ۔‘‘  

شفیق فاطمہ شغریٰ ’’بانوئے فرعون‘ ‘ کے کردار کی وضاحت میں اس کی معنویت یوں نمایاں کرتی ہیں :

’’ بانوئے فرعون کا کارنامہ یہ ہے کہ ان کی دعا کے الفاظ سے یہ عقیدہ ختم ہوجاتا ہے کہ سربراہ خاندان ، خاص طور سے شوہر سے غیر مشروط ہم آہنگی کا نام ’وفا ‘ہے ، اور عورت ایک ایسی مخلوق ہے جو اس وفا کی بنا پر باشرف ہے۔ فرعونی جلال و جبروت کو ٹھکراتے ہوئے صرف عائلی نظام ہی سے نہیں، بلکہ ناکسوں کے اہتمام خشک و تر سے بھی غیر مشروط ہم آہنگی کے وفادارانہ عقیدہ کو وہ مسترد کرتی ہیں جس کو آج سے ہزاروں برس پہلے مسترد کرنا، جان کا زیاں تھا۔‘‘

اس حاشیے میں وہ سماجی نابرابری کی تحریکات کے ساتھ جنسی نابرابری کی عالمی تحریک کا بھی ذکر کرتی ہیں اور اسے آزادیٔ اظہار کی بوکھلاہٹ کا نام دیتی ہیں اور ان الفاظ میں اپنے موقف کی مزید وضاحت بھی کردیتی ہیں :

’’ یہ ضروری نہیں کہ ان خیالات کی بناء پر ، میں اُناثی تحریک کی گردِ کارواں سمجھی جاؤں ، سچ بات تو یہ ہے کہ اس تحریک کے رطب و یابس کا بوجھ اُٹھانا میرے بس کا روگ نہیں ۔‘‘

شاید یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اپنی نظم کے بین السطور میں ایک نسائی امیج کو مثالی اور انحرافی قرار دینے کے باوجود ، شغریٰ آزادیٔ اظہار کی ان سرحدوں کو چھونا نہیں چاہتیں جہاں مذہبی قدغن سے سابقہ پڑنے کا اندیشہ ہو ۔

کم و بیش یہی صورت حال شاعرات کی غزل گوئی کی ہے۔ غزل گو شاعرات کا عام رویّہ تانیثی نقطۂ نظر کے اظہار کے برخلاف غزل کے مروجّہ موضوعات سے دلچسپی اور جنسی تفریق پر قائم ثنویت سے صرف نظر کرنے کی صورت میں سامنے آیاہے۔ البتّہ بعض شاعرات نے اپنے عشقیہ جذبات کو خواب ناک محبوبیت کے ساتھ یا خود سپردگی کی شکل میں پیش کرنے کی کوشش ضرور کی ہے۔ کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض کی غزلوں کے تسلسل کے طور پر پروین شاکر ، رفیعہ شبنم عابدی اور عشرت آفریں کے اشعار میں حسّی اور جذباتی نسائیت کے عناصر ملتے ہیں ۔ مگر چوںکہ ان حسّی اور جذباتی مسائل کو کبھی نابلوغت سے وابستہ جذبات کا نام دیا گیا اور کبھی ان پر ناپختہ کار تجربے کا الزام عائد کیا گیا ، اس لیے تنقیدی دہشت گردی کی ہیبت نے اس رجحان کو بھی زیادہ پنپنے کا موقع نہیں دیا۔ حالاںکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر عمر کا سچّا تجربہ ، سچّے اظہار سے ہم آہنگ ہوسکتا ہے اور اپنے مخصوص تناظر میں جینون تخلیقی رویّے کی حیثیت سے پہچانا جاسکتاہے ۔ اس لیے صرف نمونے کے طور پر یہ چند اشعار ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں جو فکری دبازت کی نفی ہی نہیں کرتے بلکہ خواب ناک نسائی احساس اور جذبے کی صداقت کی نمائندگی بھی کرتے ہیں :

دل میں ہے ملاقات کی خواہش کی دبی آگ

مہندی لگے ہاتھوں کو چھپا کر کہاں رکھوں

کشور ناہید

کچھ یوں ہی زرد ، زرد سی ناہید آج تھی

کچھ اوڑھنی کا رنگ بھی کھلتا ہوا نہ تھا

کشور ناہید

اب ایک عمر سے دُکھ بھی کوئی نہیں دیتا

وہ لوگ کیا تھے جو آٹھوں پہر رُلاتے تھے

کشور ناہید

ہرلمس ہے جب تپش سے عاری

کس آنچ سے میں پگھل رہی ہوں

فہمیدہ ریاض

وہ خواہشِ بوسہ بھی نہیں اب

حیرت سے ہونٹ کاٹتی ہوں

فہمیدہ ریاض

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی

وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کردے گا

پروین شاکر

بارش سنگ ملامت میں وہ میرے ساتھ ہے

میں بھی بھیگوں ، وہ بھی پاگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ

پروین شاکر

 ان اشعار میں سے بیش تر کو اعترافی شاعری کا نام دینا زیادہ مناسب ہوگا ۔ تانیثی نظریۂ ادب کے نقطۂ نظر سے اس رویّے کی اہمیت اس لیے بھی قابلِ توجہ بن جاتی ہے کہ احتجاج اور انحراف کی منزلوں تک پہنچنے والوں کے لیے ان مرحلوں سے گزرنا بڑی حد تک ناگزیر ہوتا ہے ۔

غزل کے مقابلے میں شاعرات کی نظموں کو نسائی رویّوں کی تفہیم کا زیادہ بہتر وسیلہ بنایا جاسکتا ہے ۔ واضح رہے کہ غزل ہی کی طرح نظموں میں بھی اگر ہم ان رویّوں کو ارتقائی صورت میں دیکھنا چاہیں تو پتہ چلے گا کہ عورت کی حیثیت سے اپنے وجود کا احساس ، نسائی جذبات کا اظہار یا اعتراف اور جنسی ثنویت پر قائم معاشرے سے انحراف جیسے مراحل اُردو میں تانیثی رویّے کے مختلف مدارج ہوسکتے ہیں ۔ جہاں تک نسائی منصب کے احساس کا سوال ہے تو ہمیں بعض ایسی نظمیں ملتی ہیں جو تخلیق کے تجربے کے مختلف مراحل کو کچھ اس انداز سے موضوعِ گفتگو بناتی ہیں کہ ان میں تخلیق کے مطلق عمل کے ساتھ تنقیدی اصطلاح میں ’تخلیقی عمل ‘ کے اسرار بھی کھلتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اس نوع کی ایک نظم کا حوالہ شاید یہاں خارج از بحث نہ ہو :

’’ وہ حرف ، جو فضائے نیلگوں کی وسعتوں میں قید تھا / وہ صوت ، جو حصار خامشی میں جلوہ ریز تھی / صدا ، جو کوہسار کی بلندیوں پہ محو خواب تھی / روائے برف سے ڈھکی / وہ حرف جو ہوا کے نیلے آنچلوں سے چھن کے / جذب ہورہا تھا ریگ زار ِ وقت میں / وہ ذرّہ ذرّہ منتشر تھا / دھندلی دھندلی ساعتوں کی گرد میں / وہ معنی گریز پا ، لرز رہا تھا جو رگِ حیات میں / وہ رمزِمنتظر کہ جوابھی نہاں تھا بطن کائنات میں / بس ایک جست میں حصار خامشی کو توڑ کر / پگھل کے میرے درد و آرزو کی آنچ میں / وہ میرے بطن کی صباحتوں میں ڈھل گیا / وہ آبشار نغمہ ونوا ، کہ کوہسار سرد سے گرا/ کہ گونجتی گپھاؤں سے ابل پڑا / وہ جوئے ذات ، نغمۂ حیات ، جو رواں دواںہے بحر بے کراں کی کھوج میں ۔              (زاہدہ زیدی)

تخلیقی عمل کے مختلف مراحل کی گرفت اور شعوری اور لاشعوری محرکات کی دریافت خود شاعر کے لیے ایک مشکل عمل رہی ہے۔ اس نظم میں زاہدہ زیدی نے تخلیقی عمل کو صرف شاعر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک خاتون شاعر کی حیثیت سے جس طرح موضوع گفتگو بنایا ہے ، وہ وسیلۂ تخلیق کی حیثیت سے نسائی سرشت کا عمدہ اظہار بھی ہے اور داخلی سرگزشت کا اعتراف بھی ۔ اسی موضوع کی دوسری جہت ہمیں ایک مکمل اعترافی نظم میں ملتی ہے ، جس میں جنس کو ایک تخلیقی تجربہ بنایا گیا ہے:

یہ کون سا مقام ہے / کہ چاروں سمت منتشر ہیں /ریزہ ریزہ آبگینۂ ہائے شوق / یہیں توحسرتوں کے بیج بو کے / فصلِ درد اُگائی تھی / یہیں تو آرزو ، نقیب وقت بن کے آئی تھی / وہ کوہِ درد سینۂ حیات پر / وہ بوجھ بھی سبک سبک/ وہ جرعہ ہائے آتشیں / لہو میں جذب آگ سی / یہ کائنات ٹوٹ کر بکھر گئی / کہ چور چور ہیں نشاطِ جاں کے آئینے /کہ ریگ ریگ نشۂ بدن ہے / ذرّہ ذرّہ جستجو کی راکھ ہے / فضائے ذہن بے اذاں / تصوّرات رائیگاں / تلاش ذات جوئے خوں/ یہ کوہِ جرم حادثات / یہ قطرہ ہائے انفعال/ برجبین کائنات/ چٹخ رہی ہیں ہڈیاں وجود کی ۔    (فشار : ساجدہ زیدی)

ساجدہ زیدی نے نظم کے ان مصرعوں میں جس طرح بالواسطہ انداز میں نسائی تجربے کو اعترافی شاعری میں تبدیل کردیا ہے وہ فنّی نقطۂ نظر سے بھی استعارہ سازی کی عمدہ مثال ہے۔ اس نظم کی امیجری میں تانیثی رویّوں کو خیال اور فکر کے بجائے حواس کے حوالے سے شعری پیکروں میں تبدیل کیا گیا ہے ۔ یہ انداز ایک خاتون شاعر کی حیثیت سے بھی ان کی شناخت متعیّن کرتا ہے اور فنّی تدبیر کاری کی بھی قابلِ توجہ مثال پیش کرتا ہے ۔

تاہم ساجدہ زیدی اور زاہدہ زیدی کی اس نوع کی گنتی کی چند نظمیں ان کی شاعری کے عام رجحان کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ ان کی شاعری کا عمومی رجحان ، فکری اور دانش ورانہ سطح پر ایسی عام شعری فضا کی عکاّسی کرتا ہے جس میں مرد و زن ، دونوں طرح کے شاعر ، یکساں طور پر شریک ہیں۔ ان شاعرات کے برخلاف فہمیدہ ریاض کی شاعری کا غالب رویّہ نسائی احساس کی ترجیح پر قائم ہے ۔ پدری نظام پر قائم سماج کی ناہمواریوں کی نشان دہی ان کی نظموں کاطاقت ور رجحان ہے ۔ انھوں نے ماں بننے کے تجربے کو جس فن کاری اور حسّی ارتعاشات کے ساتھ اپنی ایک ابتدائی نظم ’’ لاؤ ، ہاتھ اپنا لاؤ ذرا ‘‘ میں پیش کیا تھا ، وہی دراصل ان کی شاعری کی مخصوص شناخت بن گیا ۔ تانیثی رویّے کے بعض اور پہلو ، جن میں اپنے سماج میں ثنویت کا احساس مرکزی حیثیت رکھتاہے ، بعد کی ، ان کی بیش تر نظموں کا پس منظر ہے ۔ اس ضمن میں ان کی متعدد نظموں میں سے محض ایک مختصر نظم کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ، جس میں ثنویت کا یہ احساس نمایاں طور پر موجود ہے :

مگر آہ اس میں نئی بات کیا ہے / وہ عورت ہے ہم جنس سب عورتوں کی / سدا جس پہ چابک برستے رہے ہیں / وہ ہر دور میں سربریدہ مسانوں میں لائی گئی ہے / کبھی بھینٹ بن کر/ پَتی کی چتا پر چڑھائی گئی ہے / کبھی ساحرہ کا لقب دے کر زندہ جلائی گئی ہے / یہ عورت کا تن ہے / قبیلوں کی نسلیں

بڑھانے کا آلہ ہے / ان کی حمیت کی بس اک علامت / جو چاہو تو تم اس علامت کو روندو / اسے مسخ کردو / اسے دفن کردو ۔   (فہمیدہ ریاض)

اس نظم کی بلند آہنگی اور اس کا براہِ راست انداز ، فنّی نقطۂ نظر سے البتّہ معرض بحث میں آسکتے ہیں ، مگر فکری اور ادبی موقف کے اعتبار سے فہمیدہ ریاض کی اس نوع کی نظموں سے ان کی تانیثی شناخت ضرور متعیّن ہوتی ہے

فہمیدہ ریاض کے مقابلے میں کشور ناہید نے اوّل و آخر ایک تانیثیت پسند ادیب اور شاعرہ کی حیثیت سے معاصر شاعرات میں فکری ، فنّی اور عملی طور پر اپنی شناخت قائم کی ہے ۔ ان کی تحریریں ، خواہ نثر کی صورت میں ہوں یا شاعری کی شکل میں ، تانیثی تحریک کو اس کے سارے لوازم کے ساتھ برتنے کی کوشش کرتی ہیں ۔ انھوںنے طبقاتی طریق کے ترقّی پسند نقطۂ نظر سے اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا تھا ، مگر وقت کے ساتھ ساتھ جنسی تفریق کے مسئلے کو نمایاں کرنے کو اپنی تحریروں کا محور بنالیا —ان کے مضامین کا مجموعہ ’’ عورت ، خاک اور خواب کے درمیاں ‘‘ تانیثی نظریے کو ریسرچ ، تجزیہ اور فنّی اظہار سے متعلق مسائل کو منضبط اور مدلل انداز میں پیش کرنے کی اُردو میں ایک اہم کوشش ہے ۔ انھوںنے سیمون دی بوائر کی کتاب کا ترجمہ تلخیص کے ساتھ پیش کرکے ’عورت‘ کے نام سے شائع کیا ہے ، اور اپنی توضیحات کے ذریعہ اُردو دنیا سے تانیثی نظریے کو متعارف کرانے کی علمی بنیادیں فراہم کی ہیں۔ لیکن ایک تانیثیت پسند فن کار کے طور پر ہمارے لیے اگر ان کی کوئی تحریر قابلِ مطالعہ ہوسکتی ہے تو وہ ان کی نظمیں ہیں ۔ اپنی نظموں میں ، ان کی بلند آہنگی نظریاتی وابستگی کی شدت کو ظاہر کرتی ہے ۔ انھوںنے اپنے تانیثی نقطۂ نظر کے اظہار کے لیے بالعموم دو طرح کے اسالیب کا انتخاب کیا ہے ۔ ایک تو ان کی نثری نظمیں ہیں جن میں وہ اپنی نظریاتی وابستگی کو چھپا نہیں پاتیں اور دوسرے ان کی آزاد نظمیں ، جن کی لفظیات ، علائم اور فنّی لوازم کا اہتمام اس بات کا وافر ثبوت فراہم کرنے کا وسیلہ ہیں کہ انھوںنے خود کو محض ایک تانیثیت پسند مفکّر کے طور پر ہی متعارف نہیں کرایا بلکہ قابلِ توجہ شاعرہ کی حیثیت سے بھی اپنی اہمیت تسلیم کرائی ہے ۔ نیلام گھر، جاروب کش، میں کون ہوں اور انٹی کلاک وائز ، جیسی نظمیں ان کے تانیثی رویّوں کی بھرپور نمائندگی کرتی ہیں۔ ’’انٹی کلاک وائز ‘‘ میں انھوںنے طبقۂ اناث کے لیے درپیش

صورت حال کو نسبتاً زیادہ صراحت کے ساتھ پیش کیا ہے :

میرے ہونٹ تمہاری مجازیت کے گن / گا گا کر خشک ہو بھی جائیں تو بھی تمہیں یہ خوف نہیں چھوڑے گا /کہ بول تو نہیں سکتی ، مگر چل تو سکتی ہوں/ میرے پیروں میں زوجیت اور شرم و حیا کی بیڑیاں ڈال کر/ مجھے مفلوج کرکے بھی / تمہیں یہ خوف نہیں چھوڑے گا کہ میں چل تو نہیں سکتی / مگر سوچ سکتی ہوں / آزاد رہنے ، زندہ رہنے اور مرے سوچنے کا خوف / تمہیں کن کن بلاؤں میں گرفتار رکھے گا ۔  (کشور ناہید )

اس نظم کے مقابلے میں آزاد نظم کی ہیئت میں ان کی متعدد نظمیں فنّی لوازم کو زیادہ بہتر طریقے پر اپناتی ہیں اور صحیح معنوں میں اسی نوع کی نظمیں نسائی جمالیات کے ضمن میں ان کی کاوشوں کا منفرد ثبوت پیش کرتی ہیں۔ نمونے کے طور پر یہاں ایک نظم کے چند مصرعے ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں:

 مجھے سزا دو کہ میں نے اپنے لہو سے تعبیر خواب لکھی / جنوں بریدہ کتاب لکھی/ مجھے سزا دو کہ میں نے تقدیسِ خواب فردمیں جاں گزاری / بہ لطفِ شب زادگاں گزاری / مجھے سزا دو / کہ میں نے دو شیزگی کو سودائے شب سے رہائی دی ہے / مجھے سزا دو /کہ میں جیوں تو تمہاری دستار گر نہ جائے/ مجھے سزا دو / کہ میں تو ہر سانس میں نئی زندگی کی خوگر / حیات بعد ممات بھی زندہ تررہوںگی / مجھے سزا دو / کہ پھر تمہاری سزا کی میعاد ختم ہوگی۔

ہمارے معاشرے میں عورت کو’ ’نصف بہتر‘‘ قرار دینے کا مشفقانہ اور ترحم آمیز رویّہ اس وقت بے نقاب ہوتا نظر آتا ہے جب کشور ناہید جیسی کوئی شاعرہ اس رویّے کے مضمرات پر اپنے شدید ردّعمل کا ایسا اظہار کرتی ہیں جس میں فکری بغاوت کے ساتھ اس نظم کی طرح شعریت کا بھی اہتمام کیا گیا ہو۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ تانیثی تحریک کے تناظر میں کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض کو اُردوشاعرات کے مابین نمائندہ ترین ترجمان شاعرات کی حیثیت دی جاسکتی ہے ۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ ان کے بعد کی نسل میں اس رجحان پر مبنی شاعری کی کوئی توسیع نہیں ہوئی ۔ بعض نسبتاً نووارد شاعرات کی نظموں میں اس رویّے کی گونج اس طرح سنائی دیتی ہے ، گویا وہ ابھی اپنی شناخت اور آواز کی دریافت میں مصروف ہیں ۔ ایسی شاعرات میں نمونے کے طورپر شہناز نبی اور عذرا پروین کے نام لیے جاسکتے ہیں ۔ شہناز نبی کی نظم ’بھیڑیں ‘ میں طنزیہ طریقِ کار اور علامتی معنویت کے سبب تانیثی اظہار کے قدرے مختلف اسلوب کو اپنانے کی کوشش ملتی ہے :

اک چرا گا ہ / سو چراگاہیں / کون ان ریوڑوں سے گھبرائے/ پڑگئیں کم زمینیں اپنی تو / کچھ سفر ، کچھ حضر کا شغل رہے / کچھ نئی بستیوں سے ربط بڑھے / ان کو آزاد کون کرتا ہے / یہ بہت مطمئن ہیں تھوڑے میں / اک ذرا سا گھما پھرا لاؤ / کچھ اِدھر ، کچھ اُدھر چرالاؤ / بھیڑیں معصوم بے ضرر سی ہیں/ جس طرف ہانک دو چلی جائیں ۔       (شہناز نبی)

ردّ عمل اور طنز کی شدّت پر مبنی اس نظم سے قدرے بدلے ہوئے اسلوب ، سے اس وقت ہمارا واسطہ پڑتا ہے ، جب ہم عذرا پروین کی نظمیں پڑھتے ہیں ۔ ان کی نظموں میں بالواسطہ طریقِ کار کے بجائے براہِ راست لب و لہجہ ملتا ہے، لیکن اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہیے کہ ان کی شاعری مرکزی حیثیت سے جنسی تفریق کے موضوع کو زیرِ بحث لاتی ہے ۔ یہ الگ بحث ہے کہ فنّی طور پر ان کا منصب کیا متعیّن ہوتا ہے ۔ ان کی ایک نظم ہے :

                ’’ میں اور ہی کوئی ہندسہ ہوں ‘‘

میں اب نیا کوئی حادثہ ہوں / میں اور ہی کوئی ہندسہ ہوں / تمہارے پہلو میں کل سے اب تک جو اک بہ صورت صفر ، صفر تھی ، وہ میں نہیں تھی/ وہ میں نہیں ہوں / جو تجھ میں تیرے سفر کی دھن تھی/ جو خود مسافر نہ ہوکے بس تیری رہ گزر تھی / وہ میں نہیں تھی/ وہ میں نہیں تھی/ سنو تذبذب کی برف پگھلی/ میں ایک نشچت اڑان ہوں اب/ جو اک انشچت اگر مگر تھی/ میں وہ نہیں تھی / وہ میں نہیں ہوں / میں اب، نیا کوئی حادثہ ہوں / میں اب نئی کوئی انتہا ہوں/ میں اور ہی کوئی ہندسہ ہوں ۔    (عذرا پروین)

شاید یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ معاصر شعری منظر نامے میں اور جن شاعرات کی نظمیں اور غزلیں ادبی جرائد میں شائع ہوتی ہیں ، ان کو بالعموم نسائی شناخت کے نقطۂ نظر سے مطالعہ کا موضوع ہی نہیں بنایا جاسکتا ۔ پاکستان میں پروین فنا سیّد اور عذرا عبّاس اور ہندوستان میں شبنم عشائی جیسی معدودے چند شاعرات ایسی ہیں جو اپنی ذات کے اظہار کے مسئلے سے دوچار ہیں ۔ لیکن ان کی شاعری کسی طاقت ور نسائی رجحان کی نمائندگی نہیں کرتی ۔

نسائی رویّوں اور تانیثی رجحان کی پہچان اور تعیّن قدر، کے اس جائزے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ادبی اور تنقیدی اظہار میں تانیثیت کی شمولیت کے بعد ادبی فکر و فن کے تناظر کے افق میں کیوں کر وسعت پیدا ہوئی ہے ؟ اُردو میں چوں کہ تانیثی نظریے کو کسی طاقت ور رجحان کی صورت میں ابھی پنپنے کا موقع نہیں ملا ، اس لیے انفرادی کوششوں کی اہمیت کے باوجود ابھی نسائی جمالیات کی تشکیل ہونا باقی ہے ۔ ظاہر ہے کہ اس نسائی جمالیات میں تانیثی نقطۂ نظر کے ساتھ ادب کی تفہیم ، ہئیت و مواد کے توازن اور تخلیقی فن پاروں کے تعیّن قدر کے مسائل نئے سرے سے مرتّب ہوں گے اور اسی صورت میں ہم تانیثیت کو نظریے کی سطح سے بلند کرکے فنّی سطح تک لاسکتے ہیں۔         (2000)

***



کتاب کا نام: شاعری کی تنقید

مصنف: پروفیسر ابولکلام قاسمی

مطبوعہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان

کتاب حاصل کرنے کا پتہ:

وزرات ترقی انسانی وسائل،حکومت ہند

فروغ اردو بھون،ایف سی۔33/9،

انسٹی ٹیوشنل ایریا، جسولہ،نئی دہلی۔110025

فون نمبر: 011-26109746

منگل، 29 دسمبر، 2015

البیئر کامیو/زبیر رضوی

اَلبیئر کامیو کی 47سال کی عمر میں فرانس میں ہوئے ایک کارحادثے میں موت واقع ہوگئی تھی، طاعونThe Plague ، میں جب حوصلہ مند نوجوان وبا میں مرنے لگتے ہیں تو ایک بوڑھا کردار کہتا ہے۔
’’ جو اچھے ہوتے ہیں وہی چلے جاتے ہیں، زندگی کے سلسلے ایسے ہی ہیں۔‘‘
طاعون میں بوڑھے کردار کا کہا یہ جملہ کامیو کی جواں عمری کی موت پر بے حد صادق آتا ہے۔ یہ اُس بے معنی زندگی کے ڈرامے کی آواز بازگشت بھی ہے جس کی گرہ کشائیوں میں کامیو کا قلم زندگی بھر مصروف رہا۔ادھر ساری دنیا میں کامیو کی تیسویں برسی منائی گئی، فرانسیسی کلچر سینٹرس کی طرف سے فرانس، اٹلی اور امریکہ کے ساتھ ساتھ ہندوستان کو بھی کامیو کے فن اور شخصیت پر سیمینار کے لیے منتخب کرنا، اس بات کا اعتراف تھا کہ ہندوستانی تخلیقی ذہانتوں نے کامیو کے ورک میں غیر معمولی دلچسپی لی ہے اور وہ دوسروں کے مقابلے میں کامیو کو خود سے زیادہ قریب محسوس کرتے ہیں۔ اسی دوران کامیو کے ڈرامے The Justکو بمبئی میں اسٹیج کیا گیا ۔ اس کی کتابوں میں دی پلیگ، دی آوٹ سائیڈر اور دی فال کے تامل، اڑیہ، ملیالم، بنگالی، کنّڑا میں ترجمے ہوچکے ہیں، ہندی میں توکامیو کا سارا ہی ورک ترجمے کی شکل میں منتقل ہوچکا ہے ۔ اردو میں بھی کامیو کے ورک کو قارئین سے متعارف کرایا جاچکا ہے ۔ اس زُمرے میں کامیو پر ناصر بغدادی ، جمیل جالبی اور فاخر حسین کے مضامین خصوصی ذکر کے مستحق ہیں۔
ہندوستانی ادب میں کامیو کے نام اور اُس کے تخلیقی دھماکوں کی آواز سن ساٹھ کی دہائی میں سنائی دینی شروع ہوئی تھی جب اُس کے ناول جلا وطن Exile کو نوبیل انعام ملا تھا۔ کامیو کے افکار سے ہندوستانی ذہنوں کی قربت کی وجہ قدرت اور اُس کے مظاہر، سمندر،سورج سے اس کا والہانہ اظہارِ عشق اور انسانی معاشرے میں فرد اور اس کے وقار اورحیثیت پر مسلسل اصرار تھا۔ کامیو کی تصانیف میں انسانی زندگی غربت اور تنگ دستی کی بے رحمیوں سے دوچار ہوتی رہی تھی، پہلی جنگ عظیم میں باپ کے مارے جانے کے وقت کامیو کی عمرایک سال تھی اس کی ماں کو اپنے معصوم بچوں کی پرورش کرنے کے لیے بھٹیوں میں کوئلہ جھونکنے کاکام کرنا پڑا تھا۔ صبح و شام محنت کش طبقے کو گھر کے چولہے میں آگ روشن کرنے کے لیے کیا کیا جتن کرنے پڑتے ہیں۔ غریبی اور تنگ دستی کیسے کڑوے اورکسیلے ذائقے زبانوں پر چھوڑ جاتی ہے۔ اس کا حقیقی احساس اور تجربہ کامیو کو حاصل تھا۔اس نے لکھا تھا ’’ اگر مجھے ماں اور انصاف کے درمیان انتخاب کرنا پڑے تو ماں کی طرف داری کروں گا‘‘ اس کے اکثر کردار خاص طور سے ’کیلی گیسولا‘ اپنی اہمیت جتانے کی سعی ٔ کرتا ہے اور اس کے ساتھ وہ دیگر کردار بھی ہیں جو کامیو کی مانند اس لیے انکسار کے مارے ہوئے ہیں کہ یہ مفلس بچوں کا نفسیاتی ورثہ ہے۔17 برس کی عمر میں دِق جیسی بیماری اُسے لاحق ہوگئی تھی ، اُس کی عمر کا یہ وہ حصہ تھاجب وہ فٹ بال اور تیراکی میں غیرمعمولی دلچسپی لے رہا تھا اس بیماری کا جان لیوا احساس خوشگوار موتHappy Death میں بہت واضح ہے ، کامیو کا ممتاز کردار Meursault   اپنی نازک ترین حالت کے باوجود پُر وقار انداز میں موت کو لبیک کہتا ہے ، کامیو کی زندگی اور اس کی طرز فکر میں بڑی ہم آہنگی ہے ۔ اس کی سب ہی تصانیف میں اس کی وہ زبردست خواہش کار فرما ہے جو ایک نئے معاشی نظام کی تعمیر و تشکیل سے تعلق رکھتی ہے ، کامیو کی تحریروں میں باغیانہ رویے اوررجحانات کے عناصر بھی بڑے حاوی ہیں بقول ہر برٹ ریڈ:
’’ یہ بغاوت وہ نہیں جو غلام کی آقا کے خلاف یا غریب کی امیر کے خلاف ہوتی ہے یہ بغاوت مابعد اطبیعی بغاوت ہے جو زندگی کے حالات اور خود اپنے وجود کے خلاف انسان کے باغی رویے سے تعلق رکھتی ہے۔‘‘
کامیو کے ابتدائی مضامین میں جیسے نہ ادھر نہ ادھرBet Wixt and between سے اس کے آخری دنوں کی تحریروں تک ’زندگی کے جشن‘ محنت کش طبقے کی محرومیاں اورشدید نوعیت کا اکیلا پن جیسے موضوعات جاری اور ساری رہتے ہیں لیکن قنوطیت کے اس احساس کے باوجود کامیو کی تحریروں میں انسانی وقار کو کہیں مٹ میلا ہونے نہیں دیا گیا۔ مثال کے طور پر الجیریا کے شہر اور ان میں1940 میں پھوٹ پرنے والے طاعون میں جب کثیر تعداد میں بھیانک طور پر لوگ مرنے لگتے ہیں تو کامیو کی دی پلیگThe Plague کا ایک کردار کہتا ہے۔
’’جب موت ہی اس کائنات کی صورت گری میں ایک غالب عنصر کی طرح حاوی ہے کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ ہم خدا میں یقین سے انکار کردیں اور آسمان میں بیٹھے تماشا دیکھنے والے گونگے خدا کی طرف اپنی آنکھ اٹھائے بغیر ،پوری قوت کے ساتھ موت کے خلاف جدوجہد میں لگے رہیں۔‘‘
دی پلیگ ہی میں رمبرٹ صحافی والے کردار کے ذریعے کامیو نے اپنے اس کرب کو بھی ظاہر کرنے کا جتن کیا ہے جو جنگ کے دوران اس کی بیوی Francine Faure  سے زبردستی ہونے والی علاحدگی سے تعلق رکھتا تھا۔ اسی دوران مزاحمتی رجحان کے حامل اخبارCombat  کے ایڈیٹر کے طور پر کام کرتے ہوئے کامیو نے اپنا مشہور ناول اجنبی The Outsider لکھا تھا۔ اس کے بعد The myth of sisyphus پھر باغی The Rebal  اورسوانحی ناول زوال The Fall  لکھاتھا۔ جلا وطن The Exile  ، کامیو کا وہ ناول ہے جس میں زندگی کے تضادات کے ساتھ فرد کی مفاہمت کا رویہ اپنے نقطہ ٔعروج پر ہے ۔’’ہمارے پاس اپنے ساتھ رہنے کا وقت نہیں ہے ہمارے پاس صرف خوش رہنے کے لیے وقت ہے ‘‘ خوشگوار موتA Happy Death میں کامیو کی یہ آواز جنگ کے بعد والے یورپ کو متاثر کرنے والی ایک بے حد بااثر آواز کے طور پر اُبھری تھی، کامیو نے ایک ایسی زندگی بسر کرنے کو ترجیح دی جو ان اقدار کی حامل تھی جو کامیو کوعزیز تھیں۔ شہرت اور زندگی کی آسائشوں کی حصول سے قطع نظر، کامیوں کو الجیریا کے ریت کے ساحل، سمندر اورسورج بے حد عزیز تھے، اس کی تحریروں میں صنعتی نظام کی بدصورتی اورمادہ پرستی کے رجحان سے شدید نفرت کا احساس بڑا طاقت ور ہے۔ کامیو نے اپنے فلسفیانہ نظریات میں انسانی زندگی کے ’لغو‘ Absurd ہونے کو کلیدبنایا اس کی زیادہ تر ادب پاروں میں تین بنیادی اشارے ہیں۔ خاموش ماں، افریقہ کی سرزمین اورخاک وموت- متھ آف دی سسی فس کا بنیادی موضوع جرمنی اورفرانس کے فلسفے کا یہ بنیادی موضوع ہے کہ انسان کے احساسات، ادراک اور اس کی زندگی معنی کیا ہیں ان مسائل پر کامیو کی فکر ان کے فلسفے’لغو‘ کی تشکیل کرتی ہے۔
مافوق الفطرت پرغیر یقینی اور بے اعتمادی کی مزید تشریح کامیوThe Rebel (باغی 1951) میں کرتے ہیں اس میں وہ انسانی تاریخ کی طے شدہ راہوں میں غیریقینی اوربے اعتمادی ظاہر کرتے لغویت کے نظریے کا اثباتی مفہوم مرتب کرتے ہیں جس کے بغیربے یقینی کے عالم میں انسان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ وہ یا تو خود کشی کرلے ورنہ اپنے گرد وپیش کی دنیا کی تمام تر خامیوں اور نا انصافیوں کو بے زبان اورکسی قسم کا مزاحمانہ ردعمل ظاہر کیے بغیر سب کچھ قبول کرتا رہے The Rebel پر کامیو اور سارتر کے درمیان جو بحث ہوئی وہ ادبی تناظر میں بھی تھی اورسیاسی نظریات کے حوالے سے بھی دونوں کے درمیان اختلاف رائے اس قدر بڑھا جو بالآخر دوستانہ مراسم کو بول چال کے بندہونے تک لے آیا کامیو کا کہنا یہ تھا کہ The Rebel سیاسی انقلابات اور ان کے نظریات کے تجزیے کا حامل ہے انقلاب اوراس سے وابستہ سرگرمی میں انسان کا حصہ دار بننا انصاف کی لڑائی میں تاریخی اعتبار سے اپنے سماجی فریضے کی انجام دہی ہے اور ایسے انقلابات کو عملی شکل دینے کے مرحلوں میں قتل و غارت جائز عمل ہے کامیو کے ساتھ سارتر کی بحث کا آغاز ان کی ادارت میں نکلنے والے رسالے ’ لے تان مودیرن‘ سے ہوا تھا ساتر کا موقف یہ تھا کہ انسان انقلاب میں حصہ لیتے وقت اپنی خود پرستی ترک کرکے نظریے اور تاریخی شعور کی بنا پر حصہ لیتا ہے’ تجرید‘ شرکت انقلاب میں بے معنی ہے سارتر اور کامیو کے درمیان مباحثہ دو مختلف فلسفیانہ دعوؤں پرقائم رہا اور اسی اعتبار سے اپنے وقت کے یہ دونوں سربرآورہ ادیب اپنے مقصد اوراس کے حصول میں اپنی عملی سرگرمیوں کے جواز سے بحث کرتے ہوئے ’معتبر‘ ہونے کی بحث کرتے رہے تھے۔ کامیو کی داخلی اقدار کی بتدریج نشان دہی ان کے ناول دی آؤٹ سائیڈر، دی پلیگ اور دی فال میں ملتی ہے Exile and the Kingdom (1957)  چھہ مختصر کہانیوں کی فکر اوران کااسلوب ’دی فال‘ سے مماثل ہے اور اس کا سرد طنز پڑھنے والوں کو مجروح کرتا ہے کامیو کا ڈرامہ ’کیلی گیولا‘ ایک ظالم رومن بادشاہ کی کہانی کو اپنے عصر سے مربوط کرنے کاایک کامیاب تخلیقی اظہار ہے کامیو کا یہ ڈرامہ NSD کے ڈرامہ فیسٹول میں ایک پیش کش کے طور پر مقبول رہا ہے۔
’’ایک ادیب بڑی حد تک اس خیال کے تحت لکھتا ہے کہ اسے پڑھا جائے جولوگ اس اعتراف سے منکر ہیں ہمیں ان کی تعریف کردینی چاہیے مگر ان کے اس مفروضے پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔‘‘ ایسا لکھتے ہوئے غالباً کامیو کو یہ احساس تھا کہ آنے والی دہائیوں میں اسے نہ صرف دلچسپی اور انہماک سے پڑھا جائے گا اسے بشری وجودیت کے نظریے کا امام اور پیغمبرِ جدید مانا جائے گا۔
نئی دلّی میں سہ روزہ ہندوستان ، فرانس سیمینار میں جو کامیو کی انکاریت اورانسان دوستی کے موضوع پر منعقد ہوا تھا۔ اس میں کامیو کے فلسفہ زندگی پربحث کرتے ہوئے ویدانت، اُپنیشد، گیتا اور کرشن کے ذکر کے ساتھ ساتھ کامیو کے کرداروںCaligula، Meursault  اور Reux بھی زیربحث آئے، ہندوستان کے آواں گارد ادب میں کامیو کے مثالی ناول اجنبی کی گونج بھی پورے سیمینار میں بار بار سنائی دی۔ ڈاکٹر پربھاکر ماچوے کے خیال میں کامیو کی تمام تحریروں میں اپنے اُس عہد کو سمجھنے کی بھرپور کوشش ہے جس میں وہ جیتا رہا، یہ وہ زمانہ تھا جب پچاس برسوں میں سات کروڑ سے زیادہ انسان اجاڑے گئے ، مارے گئے ، یا محکوم بنادیے گئے، کامیو کے یہاں انکاریت کی تکرار کے باوجود اس کے لہجے پرقنوطیت کا غلبہ نہیں ہے ڈاکٹر پربھاکر ماچوے نے ہندوستانی طرزِ فکر میں پائے جانے والے شنیہ واد اور کامیو کے وجودی فلسفے کاموازنہ بھی کیا انھوں نے کہا کہ انسانی وجود کی بے معنویت کااحساس تو اقبال کے یہاں بھی ہے ۔
تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی
ڈاکٹر پربھاکر ماچوے نے ہندوستانی آواں گارد ادب پر کامیو کے اثرات کی نشاندہی کرتے ہوئے ہرونش رائے بچن کی نظموں کا حوالہ دیا، کامیو کے یہاں پائے جانے والے بے گانگی کے احساس کو ، بنگالی میں مانک بنرجی، سماریش باسو کے ناولوں کے کرداروں، مراٹھی میں مردیکر، نیمادے ، ہندی میں جنیندر کمار، اگئیے، دیوراج اورملیالم میں اُو ۔وی۔ وجیتن کی تحریروں میں تلاش کیا ۔ انھوں نے مختلف کتابوں کے ایسے ناموں کی بھی نشان دہی کی جو کامیو کے تبتع کی واضح مثال ہیں مثلاً ’میں‘ (مراٹھی) گھن پوکا(بنگالی) اوایہہ جیونا (پنجابی) اُداس نسلیں (اردو) اورخود پر بھاکر ماچوے کا ناول (لاپتہ) شامل ہیں۔
عصری ہندوستانی ادب کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر کے چیلپسن نے کامیو کے Caliguala اورگریش کرناڈ کے تغلق میں تخلیقی مماثلات کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ کرناڈ نے خود بھی اس کا اعتراف کیا ہے ڈاکٹر چیلپسن کا خیال تھا کہ کرناڈ کا تغلق ایک وجودی ہیرو ہے جو کامیو کے ’’نفسیاتی خودکشی‘‘ والے نظریے کی توضیح ہے اوراس خیال کاحامی ہے کہ جینے کے لیے زندگی ایک وجودی کے لیے بہت کچھ ہے یہی تصور Caligulaکا بھی ہے۔ ان کے خیال میں آنندمورتی کا ناول سمسکرا Samskara بنیادی طورپر کامیو کے طاعون اور اجنبی کی ہی آواز بازگشت ہے ۔ ملک راج آنند کے اچھوت اورقلی میں بھی منکرانہ فکر اورسماجی ناانصافی کی بنا پر فرد کے یہاں بے گانگی کا احساس ملتا ہے ۔ ارون جوشی کے غیر ملکیThe Foreigner  میں Sindy کاکردار کامیو کے کردار Meursault کے قبیلے سے تعلق رکھتا ہے وہ بڑے اُداس لہجے میں کہتا ہے۔
’’ میں بستر پر پڑے سوچتا ہوں کیا میں اس زندگی کا حصہ ہوں جو میرے مکان کی کھڑکی کے نیچے شور کررہی ہے۔ شاید میں ایسا اس لیے محسوس کررہاہوں کہ میں امریکہ میں ایک پردیسی ہوں۔ لیکن اگرمیں کینیا یا ہندوستان میں بھی ہوتا تب بھی کیا فرق پڑنے والا تھا کیونکہ میں وہاں بھی خود کو پردیسی ہی محسوس کرتا۔ یہ پردیسی پن میرے اندر ہے اور میں اپنے آپ کوپیچھے نہیں چھوڑ سکتا۔‘‘
ہندوستانی ادیب مراٹھی کے کہانی کار ولاس سارنگ کا خیال ہے کہ جیمز جوائس اورورجینا وولف اور ڈی ایچ لارسن کی کوئی تصنیف کامیو کے ’اجنبی‘ کی طرح اُن کے جیسے قاری کو متاثر کرنے کی خوبی نہیں رکھتی کیونکہ انگریزی ادب پڑھنا تودراصل تاریخی حالات کا تقاضا تھا لیکن کامیو یا دوسرے ادیبوں کے ساتھ ساتھ ہماری ذہنی رفاقت روحانی قربتوں اورفکر کی یگانگت کے احساس کی دین ہے اس سلسلے میں اگرسارتر کے ناول Nauseaکی بات کریں تو ہمیں محسوس ہوگا کہ اجنبی میں فلسفہ لادا ہوا نہیں لگتا یہی وجہ ہے کہ سارتر کو ایک پیشہ ور فلسفی کی قیمت ادا کرنی پڑی جبکہ کامیو کوتخلیقی اور فنی سطح پر زیادہ کامیابی حاصل ہوئی ہے اجنبی میں کامیو کی فلاسفی، فن پارے کا ایک اٹوٹ حصہ بن کر سامنے آتی ہے اور قاری میں اس کی فلاسفی اورتصنیف کو زیادہ گہرائی تک سمجھنے کا از خود احساس پیدا ہوتا ہے موازنے اور تقابل کی اس زو میں ہمنیگوے کے ناول ’بوڑھا آدمی اورسمندر‘ کا غیرمعمولی پن اور اس میں کارفرما روحانی اور متانت ہے کامیو کا ممتاز کردار Meursault بھی ہمنیگوے کے ہیروز سے کئی طرح مطابقت رکھتا ہے یہ بظاہر بے وقوف ہے خاموش ہے لیکن فطرتاً درد مند ہے Meursault کو ایک ایسے قتل کے جرم میں موت کی سزا دی جاتی ہے جو حادثاتی اورغیرارادی طورپرواقع ہوا تھا اس کردار میں ایک ایسی انفعالیت اور سپردگی ہے جو احتجاج سے عاری ہے اس اعتبار سے ’اجنبی‘ کا ہیرو بڑی حد تک غیریورپی اورغیرمغربی ہے آپ کہہ سکتے ہیں کہ کامیو اور کافکا میں مشرقیت کے عناصر نمایاں ہیں اس کی وجہ الجیریا میں اس کی پیدایش اورعرب تہذیب سے اس کا مانوس ہونا ہے اس کے دونوں ناول ’طاعون‘ اور ’زوال‘ واضح طورپر احتجاجی لہجے Protest کے حامل ناول ہیں اس زاویے سے دیکھیں تو وہ بالآخر مغربی Ethosسے خود کو ہم آہنگ کرلیتا ہے۔
کامیو کی 4 جنوری 1960 میں ایک کار حادثے میں جب موت ہوئی تو اس سے تین سال قبل اسے The Outsider پر 1957میں ادب کا نوبیل انعام مل چکا تھا اس کے بعد وہ بڑا خاموش ہوگیا تھا اس کی وجہ پچاس کی دہائی میں الجیریا کی جنگ آزادی جاری تھی اس جنگ نے کامیو کو ایک عجیب مخمصے میں ڈال دیا تھا اس دور کے اکثر ادیبوں اور دانش وروں کی طرح کامیو بھی حکومت فرانس کی الجیریا پالیسی کے خلاف تھا اس نے عرب دنیا کو بھی اور یورپ کو بھی الجیریا کی آزادی اور خود مختاری کے مطالبے کی سرگرم حمایت کرنے کی تحریک دی تھی کامیو فرانس کی کمیونسٹ پارٹی کا سیاسی محاذ پر ہمنوا تھا مگر جب روس پر تنقید کرنے سے دانش وروں کو نرمی برتنے کا اشارہ دیا گیا تو کامیونے سویت روس میں Gulagکو آمریت اورجبر کے طور پر مسترد کردیا پچاس کی اسی دہائی میں آندرے ژبد، ژاں پال سارترے، مالرو، جیویس رومین، روجر مارٹن دی گارد اور خود البیرکامیو اپنی تحریروں سے فکروفلسفے کی دنیا کو متاثر کررہے تھے لیکن ساٹھ کی دہائی میں یہ صورت حال بدل گئی اوراینٹی ہیونٹ تحریک زور پکڑنے لگی جو تاریخ، عمرانیات، لسانیات کے موضوعات کو تخلیقی ادب کا نعم البدل بنارہی تھی اب بورخیس، فاکو Foucault، Leve Straiss، جیسے نئے علم برداروں کے سامنے کامیو کا ادبی شہرہ ماند پڑگیا تھا فرانس کا دانشورانہ طبقہ اس صورت حال کا سامنا کررہا تھا کہ اسی عرصے میں کار کے حادثے میں مٹی دھول میں اَٹا کامیو کے جس ناول کا ادھورا مسودہ ملا تھا اس کی بیوی Francineکے انتقال کے بعد اس کی بیٹی کیتھرین نے 144 صفحات کے اسی ہزار الفاظ پر مشتمل اس نامکمل مسودے کی نوک پلک درست کرکے ماں کی خواہش کو نظرانداز کرکے اُسے Le Premier Homane’پہلا آدمی‘ کے نام سے شائع کیا تووہ شائع ہوتے ہی ادبی دنیا میں گفتگو کا موضوع بن گیا اس کے سات ایڈیشن نکلے اوردولاکھ سے زائد کا پیاں فروخت ہوئیں۔
کامیو کی زندگی میں شائع ہونے والی تحریروں کے برخلاف اس مسودے میں کامیو نے زندگی کے تہہ دار فلسفے سے کام کم لیا ہے اس کے ابتدائی حصے کا ہیرو Jacques Cornery فلسفے سے زیادہ زندگی کے سامنے نظر آنے والی سچائیوں کا داعی ہے اس نئی اور آخری تحریر نے کامیو کی فرانس میں مدھم پڑتی ہوئی مقبولیت کو پھر سے زندگی دے دی تھی۔ کامیو نے عرب قوم پرستوں کو جس کلچر کی یاد دلائی تھی وہ الجیریا کے یورپی باشندوں کا وہ کلچر تھا جو فرانس کے کلچر سے مختلف ہے اور ایک ایسا قیمتی اثاثہ ہے جسے برباد نہیں کیا جانا چاہیے الجیریا کا یہی وہ تہذیبی امتیاز اورامتزاج تھا جو کامیو کے مذکورہ آخری ناول کا موضوع تھا ۔
ناول پڑھتے ہوئے جو بات سامنے آتی ہے وہ اضطراب اور ایک طرح کی جھلاہٹ کا احساس دلاتی ہے الجیریا کے یورپی پاشندے کی حیثیت سے کامیو خود پیرس میں ’پردیسی‘ تھا اسی لیے اُس کے اندر دو شخصیتیں ایک دوسرے سے متصادم تھیں اس کے ادبی معاصرین اور دانش وروں نے صرف ایک ’شخصیت‘ کو جاننے اور پسند کرنے پر اصرار کیا جبکہ کامیو نے دوسری شخصیت کو سامنے لانے اوراس کا نقطہ نظر بیان کرنے کی کوشش کی جسے کم سراہا گیا کا میوکے لکھے ادب میں دلچسپی لینے والوں کا خیال تھا کہ ہماری دنیاؤں کے درمیان یہی وہ دوری اور فاصلہ تھا جو کامیو کے ذہنی اضطراب کا باعث تھا کامیو اپنے عہد کے تناظر میں علامتوں اوران کے تنوع کے ساتھ انسانی زندگی کی لایعنیت کو اور اس کے پس منظر میں انسان اور اس کی زندگی کے وسیع تر مسائل کا تجزیہ پیش کرتا ہے کامیو کے خیال میں ایک لایعنی انسان وہ ہے جو تن بہ تقدیر خود کو حالات کے سپرد کردیتا ہے اوربغاوت کے عمل سے گزرنے کی لاحاصل کوشش کرتا ہے کامیو اپنے اس نقطہ نظر کو دیو مالائی قصوں کے حوالے سے بھی لایعنی انسان کی تشکیک اور بے یقینی کو اپنی تحریروں میں نمایاں کرتا ہے ’متھ آف سی فس‘ اس کی مثال ہے کامیو کے نزدیک ایک لایعنی انسان ’سی فس‘ سے مختلف نہیں جسے دیو تاؤں کے دیوتاز یوس (ZEUS) نے تا اَبد ایک چٹان نما پتھر ، پہاڑ کی چوٹی پر لے جانے اور اسے وہاں سے لڑکانے کی سخت سزا دی تھی ۔ اس دور کاانسان کچھ بھی ایسی ہی سزائیں کاٹ رہا ہے ’سی فس‘ نے اپنی فولادی ارادے اور قوت کے ساتھ دیوتا کی دی ہوئی سزا کو ایک فتح کے احساس کے ساتھ کود کو سربلند کرلیا تھا The Rebel’باغی‘ میں یہ اعلان کہ ’’میں باغی ہوں اس لیے زندہ ہوں‘‘اپنے تاریخی پس منظر میں بلند ترین انسانی اقدار کی نیو رکھنے والا تو ہے ہی ان کی بازیافت بھی ہے ۔
کامیو کا امتیاز یہ ہے کہ اس نے فکشن بھی لکھا، ڈرامے بھی، خطوط بھی اور مضامین بھی۔ اپنی اِن تحریروں کے ذریعے اُس نے ایک نئی سوچ، فکر اور فلسفۂ حیات کی بنا ڈالی جسے دنیا کے دانشور حلقوں نے بڑی آمادگی سے قبول کیا اور یورپ میں نوآبادیات کے خاتمے کے بعد کے دنوں میں صاحبِ اقتدار طبقے کے خلاف ادیبوں نے مزاحمت کا ایک موثر ہتھیار بھی مانا، کامیو کی سوچ میں ایک عالمی کشش اور اپیل تھی اُس کا لکھا ادب ’بیسٹ نسل‘ کا آدرش تھا، اُس نے فرسودہ خیالی کی مذمت کی جس طرح اسپین کی سول وار کے زمانے میں جارج آرویل اور آندریو Gide نے سول وار کی حمایت کی اسی طرح کامیو نے بھی فرانس پر دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی قبضے کے خلاف فرانس میں روپوش ہوکر اس کی مزاحمت کی تھی اور ہیروشیما پر بم گرانے پر زور دار احتجاج کیا تھا، اپنے معاصر ادیبوں کے برعکس کامیو ہر اُس محاذ اور ہر اُس تحریک کے ہم قدم رہا جو جنگ، نوآبادیات اور جبر کے خلاف صف آرا تھا اُس نے اُس وقت یونیسکو سے اپنی وابستگی 1950 میں ختم کرلی تھی جب اِس عالمی تنظیم نے جنرل فرنیکو کے اسپین کو اپنی رکنیت دی تھی کامیو کی پچیس تیس سال کی سرگرم زندگی پر نظر ڈالی جائے تو یہ احساس برابر ہوتا رہے گا کہ وہ ایک جیالا باغی تھا، جب وہ 23 سال کا تھا تو اُس پر تپ دق کا پہلا حملہ ہوا تھا، اس نے 1935 میں فرانس کی کمیونسٹ پارٹی سے وابستگی اختیار کی لیکن 1937 میں وہ Trotskyite ہونے اور باغیانہ آواز اٹھانے پر پارٹی سے الگ کردیا گیا تھا۔ 1948 میں کامیو نے فرانس کی انارکسٹ تحریک سے تعلق قائم کیا اور ہر طرح کے جبر اور ظلم کے خلاف مذمتی اور مزاحمتی رویہ اپنایا گو کامیو اپنے سیاسی مسلک میں بائیں بازو کے خیالات کا حامل تھا لیکن اُس نے مشرقی جرمنی میں 1935 اور ہنگری میں 1956 میں سوویت یونین کے جبر اور دباؤ کی کھل کر مزاحمت کی تھی جبکہ بائیں بازو کے زیادہ تر دانشوروں نے اس سلسلے میں مصلحتاً خاموشی اختیار کرلی تھی۔ کامیو کی شخصیت کا یہ پہلو بھی مرکزِ نگاہ بنتا رہا تھا کہ اپنے زمانے کے ہر اہم مرد اور عورت سے اس کی شناسائی تھی جس میں سارتر بھی شامل تھا۔
                کامیو کی غیرمعمولی تحریر The Myth of Sisyphus میں اُس کی سوچ یہ ہے کہ انسانی زندگی میں اُمید کے مکمل فقدان کا مایوسی کے احساس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور یہ بھی کہ It must not be confused with renouncement and a conscious dissatisfaction اگر کامیو کے مِتھ آف سی سی فس کے کردار کالی گولا (Caligula) اور The Outsider  کے Meursault کا مختلف پہلوؤں سے تجزیہ کیا جائے تو یہ ماننا ہوگا کہ وہ کامیو کے مطابق اینٹی ہیروز ہیں اور دونوں کے یہاں منکر ہونے کی قوی سوچ کے ساتھ نجات کی خواہش بھی سر اٹھاتی رہتی ہے، اپنے تخلیقی رویوں کے ساتھ کامیو آرتھر Koestler کا ہمنوا تھا اور چاہتا تھا کہ پھانسی کی سزا ختم کردی جائے۔ کامیو کی خوبی یہ تھی کہ وہ جو کچھ لکھتا تھا اس کو اپنے عمل کا حصہ بھی بناتا تھا، اُس نے اِس کرۂ ارض پر جنگ کی صورت انسانی زندگی اور اس کی ہلاکتوں کا خون خرابہ دیکھا تھا اسی لیے وہ دنیا میں خوف اور جنگ کے مناظر کے سخت خلاف تھا، وہ دنیا کو بدلنا چاہتا تھا لیکن وہ نظریہ پرستی کے حق میں نہیں تھا۔ کامیو نے اپنی تحریروں میں جس عینی نفس کی شبیہ سازی کی تھی وہ بھلے ہی اس کی معاصر دنیا کے لیے outsider بنا رہا ہو لیکن وہ اپنے شخصی ضمیر کی سچائیوں کے ساتھ کمیٹڈ رہا تھا۔ کامیو نے اپنی مخصوص فکری سوچ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا تھا:
'' I would rather live my life as if there is a God and die to find out there isn't, and than live my life as if there isn's and die to find that there is."
***


کتاب کا نام: عصری عالمی ادب کے ستون
مصنف: زبیر رضوی
مطبوعہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان
کتاب حاصل کرنے کا پتہ:
وزرات ترقی انسانی وسائل،حکومت ہند
فروغ اردو بھون،ایف سی۔33/9،
انسٹی ٹیوشنل ایریا، جسولہ،نئی دہلی۔110025
فون نمبر: 011-26109746