بدھ، 20 دسمبر، 2017

تبصرہ: غواصی(مونوگراف) مبصر: ارشاد قمر


تبصرہ: غواصی (مونوگراف)

غواصی کا شمار گولکنڈہ کے سربرآوردہ اور ممتاز شعرا میں ہوتا ہے۔ انھوں نے مختلف اصناف سخن میں طبع آزمائی کرکے اپنی شعری صلاحیتوں اور ادبی توانائیوں کا مظاہرہ کرکے شعراےدکن میں اپنا ایک منفرد مقام بنایا۔ غواصی کی شہرت ان کی معروف و مشہور مثنویوں، سیف الملوک و بدیع الجمال اور طوطی نامہ وغیرہ کے سبب ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی وہ ایک اعلیٰ درجے کے غزل گو بھی تھے۔ علاوہ ازیں انھوں نے چند قصائد و مراثی اور رباعیاں بھی تحریر کیں۔ غواصی کی غزلوں میں ہندستانی معاشرت کا عکس نظر آتا ہے۔ عورت کے زیورات و ملبوسات اور مجموعی طور پر اس کی زندگی کے احوال کو غواصی نے عمدگی سے پیش کیا ہے۔ غواصی نے اپنی تشبیہات اور استعارات کو اپنے کلام میں برتا جس سے ان کے کلام میں چاشنی پیدا ہوگئی۔

قومی کونسل کے زیراہتمام بہت ہی اہم اور نادر علمی، ادبی اور سماجی شخصیات کے مونوگراف شائع ہوکر منظرعام پر آچکے ہیں۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے غواصی کا مونوگراف شائع کیا گیا ہے جسے محترمہ سیدہ جعفر نے تیار کیا ہے۔ مصنفہ نے اسے کئی عناوین میں تقسیم کرکے غواصی کے تمام حالات کو قلم بند کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ اس کے تحت شخصیت اور سوانح، غواصی کی شعری کاوشیں، تنقیدی جائزہ اور انتخاب کلام اہم ہیں۔

اس مونوگراف کے پہلے باب میں غواصی کی شخصیت اور سوانح سے متعلق ان تمام گوشوں کو اجاگر کیا گیا جن کی وجہ سے غواصی اردو ادب، خاص طورسے دکنی ادب میں اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ ساتھ ہی غواصی کے ہم عصروں کی مختصر مگر کارآمد معلومات بھی شامل ہے۔

دوسرے باب میں غواصی کی شعری کاوشوں کاتحقیقی و تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے اور ان کے کلام کی خوبیوں اور خامیوں پر ایک محققانہ اور ناقدانہ تجزیہ پیش کیا گیا۔ تیسرے باب میں مجموعی طور سے ان کے کلام کا ایک عمومی جائزہ لیا گیا ہے جس میں ان کی مثنویاں مینوستونتی، سیف الملوک و بدیع الجمال، طوطی نامہ اور غواصی کی غزلوں، قصائد، رباعی وغیرہ پر بڑی عالمانہ اور بصیرت افروز باتیں کی گئی ہیں۔

اس مختصر سے مونوگراف میں غواصی کی تمام خدمات کا مفصل جائزہ ممکن نہیں تھا لیکن اس کے باوجود مصنفہ تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالنے میں کامیاب رہی ہیں اور انھوں نے اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ ان کی زندگی کا کوئی پہلو اچھوتا نہ رہ جائے۔

آخر میں غواصی کی مثنویوں، قصائد، غزل اور رباعی وغیرہ کے اشعار بطور نمونہ پیش کیے۔ ان اشعار کا اگر تجزیہ و تعارف پیش کیا جاتا تو معلومات میں مزید اضافہ ہوتا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود مونوگراف کی معنویت اپنی جگہ مسلم ہے جسے اردو ادب میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے اور حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔

محترمہ نے بڑی محنت و لگن سے غواصی کا سوانحی خاکہ اور ان کی خدمات کا جائزہ پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ انھوں نے گیان چند جین کے اشتراک سے ’تاریخ ادب اردو‘ ابتدا سے 1700 تک بھی لکھی ہے جسے قومی کونسل نے شائع کیا ہے۔ اس کے علاوہ من سمجھاون، یوسف زلیخا، تنقید اور اندازِ نظر اور فراق گورکھپوری وغیرہ پر ان کی ترتیب و تصنیف منظرعام پر آچکی ہیں۔ سیدہ جعفر جامعہ عثمانیہ حیدر آباد اور سنٹرل یونیورسٹی آف حیدرآباد میں پروفیسر اور صدر شعبہ کے فرائض بھی انجام دے چکی ہیں۔ وہ ایک وسیع المطالعہ اور صاحب اسلوب ادیبہ تھیں۔اس طرح غواصی (مونوگراف) ہر اعتبار سے ایک کامیاب مونوگراف ہے۔ 

کتاب :  غواصی (مونوگراف)
مصنفہ:    سیدہ جعفر
صفحات:  140
قیمت: 82 روپے
سنہ اشاعت: 2016
ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

مبصر: ارشاد قمر،نئی دہلی 

پیر، 11 دسمبر، 2017

تبصرہ: کلیاتِ سلیم واحد سلیم از مغیث احمد علیگ



تبصرہ
کلیاتِ سلیم واحد سیلم
مغیث احمد علیگ
یوں تو ترقی پسند شاعروں کی ایک لمبی فہرست ہےلیکن وہ شعرا  جو اپنی سرگرمی اور فعالیت کی وجہ سے نہ صرف مشہور ہوئے بلکہ اہل اقتدار کی آمریت کے سامنے آہنی چٹان بن کر کھڑے ہونے کی جرأت کی اور ان کے عتاب کا شکار بھی ہوئے ان ہی عظیم شخصیات میں سے ایک نام ڈاکٹر سلیم واحد سلیم کا ہے، افسوس ہے کہ ہم عام آدمی تو دور، ادب نواز حلقہ بھی اپنے پیش روؤں سے بے اعتنائی کا شکار ہے۔ ڈاکٹر سلیم واحد سلیم کا نام اگرچہ نیا نہیں مگر ادبی حلقوں نے انھیں اس طرح فراموش کردیا جیسے ہمارے لیے کوئی نیا نام ہو۔
کلیات سلیم واحد‘ ڈاکٹر سلیم واحد سلیم کی آزاد و پابند نظموں اور موضوعاتی غزلوں، قطعات، متفرقات، فارسی کلام اوررباعیات خیام کا ’خیام نو‘ کے نام سے منظوم اردو ترجمے کا مجموعہ ہے جس میں عمرخیام کی رباعیوں کو بڑی مہارت سے اردو کی منظوم لڑی میں پرویاگیا ہے۔

یہ کتاب جہاں شاعر مرحوم کے انقلابی ذہن کی عکاس ہے، وہیں ان کے تخلیقی و علمی کمالات کی ترجمان بھی ہے، جسے شاعر مرحوم کے صاحبزادے اور عہد حاضر کے معروف شاعر مسلم سلیم نے ترتیب دےکر ایک فرزند ارجمند اور لائق سپوت ہونے کا ثبوت دیا ہے۔اس کلیات کا آغاز ’مدح سرور کونین‘ سے ہوتا ہے:
بزم امکاں میں ہے ہر سمت اجالا تجھ سے                   رونق محفل ہستی ہے دوبالا تجھ سے

کتاب کے ہر مصرعے سے ادبیت ٹپکتی ہے، حتی کہ نظموں اور موضوعاتی غزلوں کے عنوان میں بھی ادبیت کی چاشنی نظر آتی ہے جیسے دختران چین، دیوانے کی بڑ، اندھا سفر، نافرستادہ جواب، بے وفا کی وفا، تار نفس، بولتی ہوئی آنکھیں، لاشعور، یاد لاحاصل، فتح سحر ہونے تک، الہام سے خود تک، شکست یاس، نوائے فراق، خدایان جمہور کا فرمان، آہنی عزم، خود فراموشی، حرف ہاے گفتنی، تیرونشتر، روداد غم، جلوہ زار، عرفان حال، طوفان درد، کوشش پیہم، صبح شام الم، احساسات کیف و سرور وغیرہ۔

اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں عمرخیام کی تقریباً  176 رباعیات کا منظوم اردو ترجمہ موجود ہے جو اپنے آپ میں ایک غیرمعمولی کارنامہ ہے۔ خیام کی رباعیات پر بہت کام ہواہے، دنیابھر میں اس کے بہت سے تراجم ہوئے، اردو میں بھی اس کے کئی منظوم و منثور تراجم ہوئے ہیں، لیکن ڈاکٹر مرحوم کے ترجمے میں جو بات ہے وہ اردو کے بہت کم ہی تراجم میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ بحرطویل میں لکھے گئے اس منظوم ترجمہ میں معانی کی مفصل ادائیگی، لفظیات کی روح تک رسائی اور نغمگی پائی جاتی ہے جو انھیں دیگر مترجمین سے ممتاز کرتا ہے۔

رباعیات کے اس ترجمہ کے بارے میں پروفیسر افتخار احمد لکھتے ہیں:
تجزیاتی نقطۂ نظر سے اسلوب کی شگفتہ کاری اپنے موضوع کو سربلندی اور ارتقائی پرواز بخشتی چلی جاتی ہے جس میں ایک قسم کی کشش اور جاذبیت پنہاں ہے۔ الفاظ کا مناسب چناؤ موضوع کو واضح کرتا چلاجاتاہے اور اس کی گرہیں خود بخود یکے بعد دیگرے کھلتی چلی جاتی ہیں۔ ہم کسی الجھن یا مبہم استادیت کے شکار نہیں ہوپاتے کہ خود شاعر کی پختہ کاری اور فنی چابکدستی نے موضوع کو بڑی عمدگی سے نبھایاہے جو اس کی شاعرانہ عظمت اور فنی شعور کا غماز ہے۔آپ بھی ان کے تراجم کے چند نمونے    ملاحظہ کریں:
آمد سحری ندا ز میخانہ ما        کہ اے رند خراباتی و دیوانہ ما
برخیز و پرکنید پیمانہ ز می      زان پیش کہ پرکنند پیمانہ ما

یعنی ایک صبح ہمارے میخانے سے آواز آئی کہ اے رند خراباتی اور میرے مستانے اٹھ اور اپنے پیمانے کوجام سے بھرلے قبل اس کے کہ ہمارا پیمانہ بھردیا جائے۔ اب ذرا اس کا منظوم ترجمہ ملاحظہ کریں:
جب رات گئی تو وقت سحر، گونجی یہ صدا میخانے میں
کیا رند میں کوئی جان نہیں، کیا ہوش نہیں دیوانے میں

اٹھ جام کو بھر اور جھوم کے پی، ہے سرپہ وہ وقت نازک بھی
جب موت کی مے چپکے سے بھرے، بے رحم قضا پیمانے میں

اسی طرح خیام کی دوسری رباعی ملاحظہ کریں:
گرمی نہ خوری طعنہ مزن مستان را
گردست دھد توبہ کنم یزدان را
تو فخر بدین کنی کہ من می نخورم
صد کار کنی کہ می غلام است آن را

            اس شعر کا مختصر مفہوم یہ ہے کہ اگرتم شراب نوشی نہیں کرتے تو مستوں کو طعن و تشنیع کا شکار نہ بناو، اگر موقع مل جائے تو میں بھی توبہ کرنے کو تیار ہوں، تمھیں اس بات پر فخر ہے کہ میں شراب نہیں پیتا، جب کہ سیکڑوں ایسے کام ہیں جس کا شراب غلام ہے(یعنی جو شراب نوشی سے بھی بدتر ہیں)۔ اب ذرا ڈاکٹر موصوف کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:
تقوی کے تفاخر رہنے دے اور زعم نہ بادہ پینے کا
اپنا بھی ارادہ رہتا ہے توبہ کے جہاں میں جینے کا
اے خون بشر کے متوالے، بے رحم غلام حرص و ہوس
یہ بادہ کشی تو رستہ ہے معصوم خوشی کے دفینے کا

کتاب کا سرورق سادہ ہونے کے باوجود پرکشش ہے، پروف ریڈنگ کی خامیاں تقریباً 'نا' کے برابر ہیں، منجملہ خصوصیات اور محتویات کو دیکھ کر یہ بات بجا طور پر کہی جاسکتی ہے کہ یہ کتاب بشمول اردوو فارسی کے طلبا و اساتذہ کے لیے علم بخش ہے۔ 

کتاب:     کلیاتِ سلیم واحد سلیم
مرتبہ:    مسلم سلیم
صفحات:    432
قیمت:      150 روپے
ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

مبصر: مغیث احمد علیگ ، جامعہ نگر، نئی دہلی

جمعہ، 8 دسمبر، 2017

تبصرہ منٹو کے نادر خطوط از فاروق اعظم قاسمی



تبصرہ:منٹو کے نادر خطوط
                                                                                                                         مبصر: امیرحمزہ

تلاش و جستجو انسانی فطرت کا خاصہ ہوتا ہے ۔ جس میدان میں مسلسل تلاش و جستجو کو برو ئے کار لایا گیا ہے اس میدان میں تر قی دیکھنے کو ملی ہے۔ جس طر ح سے تحقیق و تجر بات سے دنیا نئی مناز ل طے کر رہی ہے اسی طر یقے سے ہم ادب میں بھی مسلسل تحقیقات سے بلند ی کی جانب گامزن ہیں۔

منٹو اگر چہ پچھلی صدی کا اردو کے اول درجے کا افسانہ نگار ہے لیکن اس کی بھی کئی چیزیں ہیں جواب تک پر دۂ خفا میں ہیں ۔مثلاًکئی ایسے نام سامنے آتے ہیں جن کو اس نے خطوط لکھے۔ لیکن وہ اب تک ہمارے ادب کا سر مایہ نہیں بن سکے تھے ۔ جن میں سے کچھ کو فاروق اعظم قاسمی نے بہت ہی محنت اور جفاکشی سے ارد وادب کے حوالے کیا ہے جن کی تعداد 33 ہے ۔ ان نادر خطوط کو جس تحقیق و تلاش کے بعد سامنے لایا گیا ہے وہ ہمیں فن تحقیق سکھلا تی ہے اور اس جانب بھی اشارہ دیتی ہے کہ ایک سرے کے ملنے سے دو سرے سر ے کیسے کھلتے جاتے ہیں ۔

منٹو کے خطو ط کے متعلق موصوف نے پانچویں کڑی پیش کی ہے ۔ ان سے قبل 1962 ، 1969 اور 1991 میں احمد ندیم قاسمی منٹو کے خطوط کی جمع و تر تیب کرچکے ہیں ۔ ان کے بعد اسلم پر ویز نے 2012 میں ان کے خطوط کو مر تب کیا جس میں انھوں نے قدیم تر تیب سے محض بارہ خطوط کا اضافہ کیا۔

فاروق اعظم قاسمی نے جب سندی تحقیق میں داخلہ لیا تو انھوں نے ’ منٹو کے خطوط ندیم کے نام‘ کے موضوع کاانتخاب کیا۔ انھوں نے اپنی تحقیق تو مکمل کی ہی ساتھ ہی ان کی کھوجی طبیعت نے 33 مزید خطو ط سے اردو دنیا کو متعارف کر ایا ۔ اب تک منٹو کے خطو ط سے متعلق یہ پانچویں تحقیق ہے ۔یہ تحقیق بالکل بھی آخری تحقیق نہیں کہی جاسکتی ۔ کیوں کہ اب بھی کئی ناموں کی جانب اشارے ملتے ہیں جن کو منٹو نے خطوط لکھے ہیں لیکن ان خطوط تک رسائی ممکن نہیں ہوسکی ہے ۔

کتا ب کے شروع میں تقریباً 12 صفحات پر مشتمل مقدمہ ہے ۔ واقعی یہ مقدمہ اتنا تحقیقی ہے کہ اکثر پیر اگراف میں نئی نئی تحقیقات ان کے خطوط کے متعلق پیش کی گئی ہیں۔ مقدمہ میں انھوں نے سب سے پہلے سابقہ تحقیق کہ منٹو نے سب سے پہلا خط 1937میں لکھا ، اس کو اپنی تحقیق سے مستر د کر دیا اور اپنی تحقیق میں انھوں نے یہ پیش کیا کہ منٹو کا پہلا خط 13ستمبر 1933 کا ہے جو مولانا حامد علی خاں کے نام ہے ۔ اس خط کو بھی موصوف نے اس کتاب میں شامل کیا ہے ۔اسی خط کے متن ” از راہ عنایت اپنے گرا می ناموں میں مجھے مکرمی اور محترمی ایسے الفاظ سے یا د نہ فر مایا کریں“ سے اشارہ ہورہا ہے کہ اس سے پہلے بھی مولانا حامد علی خاں اور منٹو کے درمیان مراسلت ہوچکی ہے۔

اس کتاب میں آٹھ لوگوں کے نام خطوط ہیں ۔ مولانا حامد علی خاں کے نام 14 ، مصطفی خاں کے نام 5، اپنی بڑی بہن ناصر ہ اقبال کے نام 4، والدہ کے نام 2، مجید امجد اور اختر الایمان کے نام ایک ایک خط ہیں ۔ ان کے علاوہ دو عمومی خطوط ہیں ایک رائلٹی سے متعلق اور ایک مختلف فیہ افسانہ سے متعلق ہے جو انگریزی میں ہے ۔

موصوف نے مقدمہ میں اس بات کی جانب اشارہ کیا ہے کہ اسلم پرویز نے جب 2012 میں ان کے خطوط کو جمع کیا تو اس میں انھوں نے بارہ نئے ناموں کا اضافہ کیا ۔ ان کے خطوط کا سراغ تو نہیں لگ سکا البتہ جن ذرائع سے ان ناموں کا پتہ چلتا ہے اس کابھی ذکر نہیں ہے ۔لیکن فاروق اعظم قاسمی ان بارہ ناموں کے علاوہ مزید 19 اسما کا ذکر کرتے ہیں او ر ان خطوط کے سراغ کا بھی ذکر کر تے ہیں ۔

محقق نے جن خطوط کو تلاش کر کے اس کتاب میں جمع کیا ہے ان خطوط کا تعلق ادبی ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخی بھی ہے ۔ ان خطوط سے منٹو کے ابتدائی حالات کے بہت سے گوشے روشن ہوتے ہیں ۔ممبئی آنے سے قبل کی زند گی پر سے پردہ اٹھتا ہے ۔ نیز مولانا حامد علی خاں سے متعلق جو خطوط ہیں وہ بہت ہی دلچسپ ہیں۔ ان خطوط میں منٹو اپنی فلم شناسی کا ثبوت پیش کر تے ہیں اور مولانا کے تئیں جو عقیدت و محبت تھی اس کا بھی احساس کر اتے ہیں ۔جن جن کے نام مکتوب ہیں موصوف نے ان کااجمالی تعارف ان کے خطوط سے پہلے پیش کیا ہے اور ان کے خطوط کے اخیر میں حوالہ پیش کیا ہے کہ محقق کو یہ خطوط کہاں سے ملے۔خطوط میں مذکورہ اشخاص بطور خاص اہل خانہ کا اشاریہ بھی مصنف نے پیش کیا ہے ۔امید ہے کہ ہمیشہ کی طرح یہ کتاب بھی مطبوعات کونسل میں سے اہم کتاب ثابت ہوگی اور اس کتاب سے یقیناً منٹو کے متعلق تحقیقات کے نئے دریچے روشن ہوں گے ۔
امیر حمزہ
حاجی کالونی، جامعہ نگر،
 نئی دہلی

کتاب: منٹو کے نادر خطوط
تحقیق و تر تیب : فاروق اعظم قاسمی
صفحات : 62
 قیمت: 55 روپے
ناشر : قومی کونسل بر ائے فروغ اردو زبان

اگر آپ اس کتاب کو خریدنا چاہتے ہیں تو رابطہ کریں:
شعبۂ فروخت: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،ویسٹ بلاک8، وِنگ 7،آر کے پورم، نئی دہلی۔110066
ای میل: sales@ncpul.in, ncpulsaleunit@gmail.com
فون: 26109746-011
فیکس: 26108159-011

بچوں سے متعلق قومی اردو کونسل کی دیگر کتابوں کو آن لائن پڑھنے کے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں:
http://urducouncil.nic.in/E_Library/urdu_DigitalFlip.html

کونسل کی دیگر ادبی کتابوں کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں۔
http://urducouncil.nic.in/E_Library/urduBooks.html

منگل، 5 دسمبر، 2017

مضمون ۔ شفاف اسلوب کا شاعر: شہریار از ساجد حسین انصاری



شفاف اسلوب کا شاعر: شہریار


جدید غزل یا جدید نظم پر گفتگوکرتے وقت ہم ان شعراء کو نظرانداز نہیں کرسکتے جن کا تعلق ترقی پسند تحریک سے تھا کیوں کہ اس تحریک سے متعلق شعرا نے غزل اور نظم دونوں کو جدید اسلوب، جدید طرزِ احساس اور جدید موضوعات سے روشناس کرایا۔ فراق، جذبی، مجروح اور جانثار اختر کا نام غزلیہ شاعری میں لیاجاسکتاہے تو نظم میں فیض، ن۔م۔راشد، میراجی اور اخترالایمان کا نام خاص طورپر آتاہے ان شعراء میں ن۔م۔ راشد اور میراجی کا تعلق حلقۂ ارباب ذوق سے تھا جو ترقی پسندی کے مقابلے میں متوازی اسالیب کی پروردہ ادیبوں کی ایک ایسی جماعت تھی جنھوں نے داخلی کیفیات اور نفسیاتی سنجیدگیوں کو اپنی نظموں میں جگہ دی تھی۔ ان شعرا نے ترقی پسند ادب کی اجتماعیت اور منصوبہ بند شاعری سے انحراف کیا۔

حسرت موہانی کو اردو کی غزلیہ شاعری میں اس لیے اہمیت حاصل ہے کیوں کہ انھوں نے جدید غزل کا احیاء کیا۔ حسرت موہانی کے علاوہ جگر اور فراق نے بھی جدید غزل کے گیسو سنوارنے میں بڑی محنت اور سلیقہ مندی کا ثبوت دیا۔ ترقی پسند تحریک سے متعلق شعرا جانثاراختر، جذبی اور مجروح نے اردو غزل کو ترقی پسند رجحانات سے روشناس کرایا۔ اس کے موضوعات میں تنوع پیداکیا۔

مذکورہ شعرا بھی آزادی کے بعد کے شعری افق پر چھائے رہے لیکن ان کے علاوہ ایک نئی نسل نے نئے انداز اور نئے اسلوب کے ساتھ اردو شاعری میں اپنی جگہ بنالی۔ اس نئی نسل کے شعرا میں نوعمر شعرا جوش وجوانی اور آزادی کے جذبے کے تحت اِس تحریک سے وابستہ تھے آہستہ آہستہ اس سے بیزار ہونے لگے اور نتیجتاً انفرادی جذبات اور داخلی موضوعات کو قلم بند کرنا شروع کردیا جو ترقی پسند تحریک سے مختلف رویہ تھا۔ ان نئے شعرا کی شاعری میں ترقی پسند شاعری کا اثر نہیں تھا بلکہ اِن شعرا نے دوربینی اور خودکلامی کو اپنا مقصد بنایا۔ ان شعرا میں خلیل الرحمن اعظمی، باقر مہدی، بلراج کومل، مصطفیٰ زیدی، ابن انشا، وحیداختر کے نام قابل ذکر ہیں۔ دوسری طرف وہ شعرا بھی تھے جن کی ذہنی تربیت حلقہ ارباب ذوق کے زیراثر ہوئی ان میں منیرنیازی، مجید امجد، وزیر آغا اور ضیاء جالندھری وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان دونوں قبیل کے شعراء کے علاوہ ایک بڑا حلقہ ان شعرا کا تھاجو ہر رویہ اور ہرجذبے کو اپناتے رہتے تھے۔  ان شعرا میں اخترالایمان، عمیق حنفی، زبیر رضوی، حمیدالماس، محمدعلوی، عادل  منصوری، مخمور سعیدی، کمارپاشی، ندافاضلی، مظہرامام، شاذ تمکنت کے علاوہ ایک اہم نام شہریار کا ہے۔

 شہریار نے  1959 سے باقاعدہ شعرکہنا شروع کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ترقی پسند تحریک اپنا تاریخی رول اداکرچکی تھی اور بطور تحریک تقریباً ختم ہوچکی تھی لیکن ترقی پسندانہ خیالات زندہ تھے شہریار نے اپنی شاعری پر کوئی ٹھپایا نشان نہیں لگایا لیکن وہ ایک مدت تک ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے اس کے بعد وہ جنوادی تحریک سے بھی منسلک رہے لیکن ان کے اندر کا شاعر ہمیشہ کشمکش میں رہا اور ان کی تخلیقی صلاحیت ہمیشہ انھیں ذہنی آزادی کی نئی راہیں تلاش کرنے کے لیے مہمیز کرتی رہی اسی کوشش نے انھیں شخصی واردات اور ذاتی تاثرات کو پیش کرنے کی طرف متوجہ کیا۔ ان کی نظمیں اور غزلیں سبھی داخلیت سے مملو ہیں۔

شہریارکی تربیت ایک مذہبی خاندان میں ہوئی۔ ان کے والد محکمہ پولس میں ملازم ہونے کے باوجود صوم وصلوٰۃ کے پابند تھے اس لیے شہریار کے یہاں باوجود آزاد خیالی کے مذہب کا احترام ملتاہے۔ انھوں نے اپنی نظموں کے تعلق سے نہایت دردمندانہ انداز اختیارکیاہے اور زندگی کے حالات اور مختلف واقعات کی بہتر ترجمانی کی ہے شہریار کے پہلے مجموعۂ کلام ’اسم اعظم‘ میں شامل نظموں سے ان کے تخلیقی سفر کی ابتدائی منزلوں، اس کے محرکات اور مذاقِ فن کے تمام زاویوں کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ان نظموںمیں اجتماعی اور انفرادی تجربوں کی وہ داستانیں پوشیدہ ہیں جن سے عصری تہذیب اور حسّیت کا اندازہ لگایاجاسکتاہے۔ شہریار کے یہاں اکثر وہی موضوعات ان کے قلم سے نکلے جو ان کے ذہن اور زندگی پر اثرانداز ہوئے۔ زندگی سے اثراندازی اس بات کی کھلی ہوئی دلیل ہے کہ وہ سچے شاعر ہیں اسی لیے انھوں نے احساسات اور جذبات کی ترجمانی کی جو ان کے دل کو چھوتے اور ان کے جذبات کو متاثر کرتے ہیں۔ان کی شاعری لسانی افراط سے پاک ہے ساتھ ہی جذباتی خودمختاری میں مافی الضمیر کوادا کرنے پر قادربھی۔ بقول شمیم حنفی:
’’ شہریار کا سب سے بڑا کمال ان کی لسانی کفایت شعاری اور جذباتی خودمختاری میں مضمر ہے۔ وہ اپنی آواز کو، اپنے تجربے کو، اپنے شدید ترین رد عمل کو اور ان سب کا احاطہ کرنے والے بے حد شفاف اور شخصی اسلوب کو پل بھر کے لیے بھی بے حجاب نہیں ہونے دیتے۔ خواب اور حقیقت کی ایک ازلی اور ابد ی Dialecticsایک گہرے باطنی تصادم اور پیکار کی حصار بندی میں اپنی حسیات کی تمام تر شمولیت کے ساتھ بھی شہریار اپنے تجربے کا وقار قائم رکھتے ہیں۔اسے کبھی بے قابو نہیں ہونے دیتے۔ ایک سوچی سمجھی سطح سے اوپر نہیں جانے دیتے۔ جذبے کا اسراف اور لفظوںکا اسراف جو شہریارکے بیشتر معاصرین کے ساتھ پرچھائیں کی طرح لگاہواہے، شہریارکی شاعری میں اس کی گنجائش کبھی نہیں نکلتی۔‘‘
شہریارکی شاعری میں یہ وصف ان کی بنیادی سچائی کی وجہ سے پیداہوئی اور یہ وصف ہراچھے شاعر کے لیے ضروری بھی ہے۔ سچائی سے میرا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی مخصوص رنگ یا کسی مخصوص مکتب خیال کے پابند نہیں رہے اور نہ ہی انھوں نے خود کو کسی دائرے میں محدود ہونے دیا بلکہ جیسے جیسے ان کی شخصیت میں تبدیلیاں پیداہوتی گئیں وہ ان کا اظہار کرتے رہے۔شہریار کی شاعری کا دور ایک عبوری دور تھا جس میں اقدار کی پامالی کی وجہ سے انسان کسی بھی نظریے اور کسی خیال کا پابند نہیں ہوپاتا تھا۔

 انھوں نے جہاں اپنے زمانے سے اثرات قبول کیے ہیں وہیں روایت سے بھی اپنا رشتہ برقرار رکھاہے جس کی بدولت ان کی شاعری کو وہ خاص کیفیت بھی حاصل ہوئی جس کو ہم تغزل سے عبارت کرتے ہیں۔ بقول شمس الرحمان فاروقی:
’’ شہریار ہمارے زمانے کے ان چند شعرا میں سے ہیں (او ر ان میں بھی ممتاز ہیں)جن کے یہاں جدید فکر ایک ایسے اسلوب میں ظاہرہوئی ہے جو اوپر تو مختلف معلوم ہوتاہے لیکن جس میں روایت کے تسلسل کا احساس ہے یہ روایت بہت سے دوسرے شعرا کے علی الرغم) ماضی قریب سے اتنی زیادہ منسلک نہیں جتنی اس اصل روایت سے جڑی ہوئی ہے جس کو فیشن کی تبدیلی اور مغربی فکر کوسمجھنے میں غلطی کرنے(یعنی حالی)یا مشرقی فکر کو سمجھنے میں غلطی کرنے کے باعث ہم لوگ ایک عرصہ سے بھولے ہوئے تھے اسی لیے انھوں نے نظم اور غزل دونوں میں ایک ہم آہنگی بھی دریافت کرلی ہے ( یہ معاملہ بہت سے جدید شعراء کو پریشان کرتارہاہے کہ نظم کو غزل سے مختلف رکھیں یا مماثل بنائیں، اگر مماثل بنائیں تو دونوں میں سے ایک غیرحاضر ضروری ہوجاتی ہے اور اگر مختلف رکھیں تو اس اختلاف کی بنیاد کیاہو؟) شہریارنے مماثل یا مخالف کے بجائے ہم آہنگی کا راستہ اختیارکرکے اس مشکل کو جس طرح حل کیاہے وہ انھیں کا حصہ ہے۔‘‘ 

روایت کے شعورنے ان کی شاعری میں پختگی اور تازگی پیداکردی ہے اس کے علاوہ اس رشتے کی توسیع کا عمل بھی ان کے یہاں نظرآتاہے چند شعر ملاحظہ فرمائیں:
غم زدہ وہ بھی ہیں دشوار  ہے مرنا  جن کو
وہ بھی شاکی ہیں جنھیں جینے کی آسانی ہے
اس  نتیجے  پہ  پہنچتے  ہیں  سبھی  آخر  میں
حاصلِ سیرِجہاں  کچھ نہیں ویرانی ہے
مذکورہ بالااشعار شہریارکے آخری مجموعہ ’ شام ہونے والی ہے ‘ سے لیے گئے ہیں۔ اس مجموعے کی بیش تر غزلیں اور نظمیں روایت پرستی اور تغزل کی جیتی جاگتی تصویریں ہیں۔ ان میں وہی موضوعات ہیں جو کلاسیکی شعراء کے یہاں عام طورسے ملتے ہیں۔ ان میں واردات عشق کی مختلف کیفیات ہیں اور ہر کیفیت کو نہایت سادگی اور خلوص کے ساتھ بیان کیاگیاہے ساتھ ہی زمانے کی تلخ حقیقتوں کو انتہائی مؤثر انداز میں پیش کیاگیاہے اسی لیے شہریار کی شاعری جدید ہونے کے باوجود قدیم شعری روایات کی پاسداری کی بدولت بے رنگ ہونے سے بچ گئی ہے اور اس میں ایک خاص قسم کی رنگارنگی پیداہوگئی ہے۔شہریارکی غزلوں کے یہی بنیادی موضوعات ہیں جن کے تعلق سے انھوں نے حیات وکائنات کے راز، دنیا کی پیچیدگی اور عصر حاضر کے انسانوں کی لامحفوظیت اور بے چہرگی کو بیان کیاہے۔ شہریار نے زندگی سے بڑی حد تک محبت کی ہے ان کی شاعری میں جو دکھ درد کی مدھم آنچ روشن ہے،وہ دراصل دنیا سے محبت کاہی نتیجہ ہے جس نے انھیں دنیا سے لاتعلقی اختیارکرنے سے بچائے رکھا۔ شہریار کی شاعری ان کے ذاتی تجربے کی ترجمان ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کے تجربوں کو اپناکر خود اپنی ذات کا حصہ بنتی ہوئی نظرآتی ہے۔ وہ اپنی ذات کوآئینہ بنانے کے ساتھ ساتھ دوسرے آئینوں میں بھی اپنی صورت دیکھنے کا ہنر جانتے ہیں اور اسی ہنرمندی نے انھیں اچھا اور کامیاب شاعر بنایا۔ شہریار کی شاعری میں اپنا دکھ زمانے کا دکھ اور زمانے کا درد اپنا دردبن کر ابھرتاہے اور یہی وہ خاصیت ہے جو شہریار کو اپنے ہم عصر شعرا میں ممتاز کرتی ہے۔ اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کی شاعری چاہے غزل کی ہو یا نظم کی جدید رجحانات کی بہترین عکاسی کرتی ہے اور غزل کے سلسلے میں تویہ حقیقت ہے کہ انھوں نے جدید غزل کو سنوارنے اور سجانے میں بڑا اہم کام کیاہے جس طرح ترقی پسند تحریک کے زیرِ اثر فیض، جذبی، سردار جعفری، جاں نثار اختر اور مجروح سلطانپوری پیش پیش رہے۔ اسی طرح جدید شاعری کے اہم اور نمائندہ شعراء میں شہریار کی شاعرانہ عظمت مسلّم ہے، ان کی شاعری کو فراموش نہیں کیاجاسکتا۔

جمعرات، 30 نومبر، 2017

تبصرہ اصولِ تعلیم اور عملِ تعلیم از شاہ عمران حسن



اصولِ تعلیم اور عملِ تعلیم

مبصر: شاہ عمران حسن
زیر نظر کتاب ’اصولِ تعلیم اور عملِ تعلیم، ممتاز ماہر تعلیم و مصنف ڈی ایس گورڈن کی تحریرکردہ ہے جس کا اُردو ترجمہ ڈاکٹر خلیل الرحمٰن سیفی پریمی نے کیا ہے۔اُردو ترجمہ نہایت سلیس انداز میں کیا گیا ہے۔ کتاب کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کتاب اُردو میں ہی لکھی گئی ہے۔

یہ کتاب اصلاً مدرسین کے لیے تحریر کی گئی ہے اور وہ بھی ہندوستانی مدرسین کے لیے جو دو حصوں پر مشتمل ہے،پہلے حصے میں اصولِ تعلیم پر بحث کی گئی ہے جب کہ دوسرے حصے میں تنظیم مدرسہ پر،دونوں حصے میں بارہ بارہ ابواب ہیں۔ذیل میں ابتداً پہلے حصے کے بارہ ابواب پر مفصل بات کی جا رہی ہے،اس کے بعد دوسرے حصے پر مختصر گفتگو کی جائے گی۔

پہلے باب میں اصولِ تعلیم پر بحث کی گئی ہے۔اس میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ تعلیم کی اصل کیا ہے اور سماج میں یہ کس طرح ارتقا ئی منزل پرپہنچی۔سماج میں کس کس طرح سے تعلیم کا سلسلہ چلا۔نیز تعلیم کے وسائل کیا رہے ہیں یعنی تعلیم کے حصول کا ذریعہ سماج میں کیا کیا رہا ہے۔ جب کہ دوسرے باب میں مشرق میں مروجہ تعلیم کا تذکرہ ملتا ہے۔مثلاً چینی سماج،برہمنی نظام، بدھ نظام،مسلم سماج،برطانوی تعلیمی نظام کا مفصل ذکر کیاگیا ہے جو اساتذہ کے لیے دل چسپی کا باعث ہے۔

تیسرا باب یورپ میں مروجہ تعلیم پر گفتگو کرتا ہے۔مثلاً یونان،اسپارٹی تعلیم،ایتھنسی تعلیم، سقراط، افلاطون،ارسطو کا نظریہ تعلیم، رومی تعلیم پر صاحب ِ کتاب نے سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ یہ نہ صرف تعلیمی گفتگو ہے بلکہ اس میں تاریخ کا عنصر بھی نظر آتا ہے۔ جب کہ کتاب کا چوتھا باب تعلیم میں سائنسی نقطہ نظر پرگفتگو ہے۔اس میں تعلیم کی فنی اصطلاحات پر بات کی گئی ہے کہ تعلیم آرٹ ہے یا سائنس۔ علم حیاتیات، علم عضویات، علم نفسیات،علم سماجیات،منطق،اور تعلیم میں شماریات کے حوالے سے اچھی بحث کی گئی ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ اساتذہ کرام فنی اصطلاحات سے واقفیت حاصل کرسکیں۔ پانچواں باب بہت اہم ہے۔اس با ب میں تعلیم کے مقاصد پر صاحبِ کتاب نے اپنا نظریہ پیش کیا ہے۔ وہ یہ بتاتے ہیں کہ تعلیم حاصل کرنے کے مقاصدکیا ہیں۔مثلاً معاش، علم، سماجی کارکردگی،اخلاقی مقاصد،فرصت،متوازن شخصیت،باہمی تعاون وغیرہ پر مختصر نوٹ تحریر کیا گیا ہے جو کسی بھی قاری کے مطالعے کے لیے دل چسپی کا باعث ہے۔

چھٹا باب تعلیمی عمل سے متعلق ہے۔اس میں مصنف نے یہ بتایا ہے کہ تعلیمی عمل کس طرح سماجی ورثے کی حیثیت سے نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے اور اس کے طریقِ کار کیا ہیں اورساتواں باب’بچہ‘کی نفسیات کے مطالعے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ تعلیم کی ترسیل کے وقت بچے کی نفسیات کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔ اس میں پروفیسر ریمانٹ اور پروفیسرباگلے کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔

آٹھواں باب استاد وشاگرد کے رشتے پر تحریر کیاگیا ہے۔ نویں باب میں نصاب کے حوالے سے بات کی گئی ہے۔ کتاب کا دسواں باب طریقہ تدریس کے اصول پر مشتمل ہے۔ جب کہ گیارہواں باب تدریسی تکنیک پر بحث کرتا ہے کہ تعلیم دینے کے لیے کس کس تکنیک کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔اور آخری باب مرکز تعلیم پر مبنی ہے۔

 کتاب کا دوسرا حصہ تنظیم مدرسہ سے تعلق رکھتا ہے،یہ بھی بارہ ابواب پر مشتمل ہے، اس میں تکنیکی گفتگوکی گئی ہے۔ مثلاً سماج اور مدرسہ کا تعلق، اقامتی مدرسہ،اسکول اسمبلی، اسکول کی ذمہ داری، انعام اور سزا،اسکول کے تہذیبی مشاغل، مدرسہ کی عمارت اور سازو سامان، استاد کی شخصیت، طلبہ کی درجہ بندی،نظام اوقات، مدرسہ کے فرائض،مدرسہ کی صحتی زندگی، اسکول کا ریکارڈ،امتحان اور جانچ وغیرہ پر مفصل گفتگو کی گئی ہے۔

غرضِ کہ مدرسین کے لیے یہ ایک مفید کتاب ہے،جس کا مطالعہ مدرسین کو ضرور کرنا چاہےے تاکہ وہ تدریس کے فرائض انجام دیتے ہوئے اس سلسلے کی تمام دشواریوں اور اصطلاحوں کو سمجھ کر مثبت قدم اُٹھائیں۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اس اعتبار سے مبارک باد کی مستحق ہے کہ مدرسین کے لیے ایک نایاب کتاب کو دوبارہ شائع کیا ہے۔

کتاب کا نام:   تعلیم اور اصولِ تعلیم
مصنف:  ڈی ایس گورڈن
مترجم:ڈاکٹرخلیل الرحمن سیفی
صفحات: 330
سنۂ اشاعت: 2016
قیمت: 155
ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی


اگر آپ اس کتاب کو خریدنا چاہتے ہیں تو رابطہ کریں:
شعبۂ فروخت: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،ویسٹ بلاک8، وِنگ 7،آر کے پورم، نئی دہلی۔110066
ای میل: sales@ncpul.in, ncpulsaleunit@gmail.com
فون: 26109746-011
فیکس: 26108159-011

بچوں سے متعلق قومی اردو کونسل کی دیگر کتابوں کو آن لائن پڑھنے کے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں:
http://urducouncil.nic.in/E_Library/urdu_DigitalFlip.html

کونسل کی دیگر ادبی کتابوں کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں۔
http://urducouncil.nic.in/E_Library/urduBooks.html

بدھ، 29 نومبر، 2017

مولانا ابوالکلام آزاد کی صحافت از فیروز بخت احمد



مولانا ابوالکلام آزاد کی صحافت

لارڈ جارج سے ایک بار کسی نے دریافت کیا کہ صحافی بننے کے لیے ایک انسان کو کیا کیا جاننا چاہیے؟ انھوں نے جواب دیا، ’’سب کچھ اور کچھ نہیں یعنی کہ صحافی در اصل وہ ہے جو کہ دنیا کی تقریباً تمام باتوں کو جانے لیکن ماہر کسی کا نہ ہو!‘‘ لیکن مولانا کی یہ عجیب و غریب خصوصیت کہ وہ بہت کچھ جانتے تھے اور جو کچھ جانتے تھے ماہرانہ حیثیت سے جانتے تھے۔ جس موضو ع پر بھی لکھا، اپنا سکہ جمایا۔ یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جس کی نظیر دنیا ئے صحافت میں مشکل ہی سے ملتی ہے۔

بقول نیاز فتح پوری ’’مولانا کے دور صحافت کا تاریخی تعین دشوار ہے کیونکہ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ اس کا آغاز کب سے سمجھا جائے۔ مولانا کی علمی و صحافتی زندگی کے سلسلے میں رسالہ ’مخزن‘، اخبار ’وکیل‘ اور ’الندوہ‘ کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی ابتدا ’لسان الصدق ‘ کے اجرا سے ہوتی ہے جسے انھوں نے جاری کیا، خود مرتّب کیااور خود ہی بند کر دیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ جس فضا و ماحول میں رہ کر اسے جاری کیا گیا تھا، وہ مولانا کے لیے بہت تنگ تھی اور وہ بہت سی باتیں جنھیں مولانا کھل کر کہنا چاہتے تھے کہہ نہیں پاتے تھے۔ یہ زمانہ مولانا کی بہت کم سنی کا تھا اور اتنی کم سنی کہ اس عمر میں لوگ اپنی تعلیم بھی ختم نہیں کرسکتے۔

حریت کے شیدائیوں، مظلوموں اور بیکسوں کی صدا کو اپنی صحافت کے ذریعے بین الاقوامی سیاسی شعور دے کر مولانا آزاد نے معاشرے میں ایک انقلاب برپا کردیا۔ 1899  میں انھوں نے ’المصباح ‘کی ادارت کی۔ان کا تعلق 1901 میں مولوی سید احمد حسن فتحپوری کے ’احسن الاخبار‘ اور ’تحفۂِ احمدیہ‘ سے بھی رہا۔’احسن الاخبار‘ کی ادارت کی بیش تر ذمے داری مولانا ہی انجام دیتے تھے۔ وہ عربی اخباروں کے مضامین اور خبروں کے انتخاب و ترجموں کے کام بھی انجام دیتے تھے۔ پھر انھوں نے ’لسان الصدق‘ (1904) اور ’خدنگ نظر‘،’ایڈ ورڈ گزٹ‘، ’مرقع عالم‘،  ’البصائر‘،  ’مخزن‘،  ’الندوہ‘،  ’وکیل‘، ’دارالسلطنت‘، ’الہلال‘، ’البلاغ‘، ’اقدام‘، ’پیغام‘، ’الجامعہ‘، ’پیام‘، ’المصباح‘،  ’زمیندار‘، ’البشیر‘، ’مسلم گزٹ‘، ’مساوات‘، ’ثقافت الہند‘ وغیرہ میں نہ صرف مضامین دیے بلکہ ان میں سے بہت سوں کی ادارت بھی کی۔

مولانا کے صحافتی سفر کے شروعاتی دور کا ایک واقعہ نیاز فتح پوری کچھ اس طرح سے بیان کرتے ہیں:
 ’علامہ رشید رضا، ایڈیٹر ’المنار‘ ایک عظیم الشان اجتماع میں تقریر کرنے جا رہے تھے جو بڑے بڑے علما پر مشتمل تھا۔ ضرورت ایک ایسے شخص کی پڑی کہ جو عربی اور اردو دونوں کا ماہر ہو اور ان کی عربی تقریر کا برمحل ترجمہ کرتا جائے۔ مولانا شبلی کے منصب سے یہ بات فرو تر تھی کہ وہ خود اس خدمت کو انجام دیں۔ لہٰذا وہ بڑے متفکر تھے۔آخر ’’جز قیس کوئی اور نہ آیا بروئے کار‘‘مولانا ابو الکلام بے تکلفانہ سامنے آجاتے ہیں اور اس خدمت کو اتنی خوبی و دلکشی سے انجام دیتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ترجمہ نہیں بلکہ خود تقریرکر رہے ہیں۔‘‘
یہ تھا مولانا کی ذہانت و قابلیت کا پہلا عملی مظاہرہ جسے کھلے اسٹیج پرسیکڑوں مدعیانِ فضل و کمال نے دیکھا۔

مولانا نے ’لسان الصدق‘ جاری کیا ’لسان الصدق‘ کی ادارت کے زمانے میں مولانا آزاد کی شہرت دور دور تک پہنچ گئی تھی اور بہت سے لوگ ان کے مداح بن گئے تھے۔ انھیں میں ایک صاحب شیخ غلام محمد امرتسر کے رہنے والے تھے۔ وہ اس زمانے کے مشہور سہ روزہ اخبار ’وکیل‘ کے مالک تھے جو امرتسر سے شائع ہوتا تھا۔ جب مولانا آزاد نے اکتوبر 1905 سے مار چ 1905تک 6 مہینے ’الندوہ‘ سے وابستہ رہنے کے بعد کسی وجہ سے خود بخود تعلق قطع کر لیاتو شیخ غلام محمد نے انھیں امرتسر آنے اور ’وکیل‘ کی ادارت سنبھالنے کی دعوت دی۔ اس پر مولانا امرتسر چلے گئے اور انھوں نے اپنے زمانۂ ادارت میں ’وکیل ‘ میں بہت خوش گوار تبدیلیاں کیں جس سے پرچے کی مقبولیت میں اضافہ ہوا لیکن ایک نجی حادثہ ایسا پیش آگیا کہ انھیں بادل نخواستہ جلد ہی امرتسر سے واپس جانا پڑا۔

مولاناآزاد کے ایک بڑے بھائی مولاناابو النصر غلام یٰسین آہ یعنی اس نا چیز کے دادا تھے دونوں بھائیوں کی تعلیم ایک نہج اور معیار پر ہوئی تھی۔ان کے والد مولانا خیرالدین کاپیری مریدی کا سلسلہ بھی تھا۔کلکتہ اور بمبئی کے اطراف میں ان کے مریدوں کی خاصی تعدادتھی۔ وہ بڑے بیٹے غلام یٰسین آہ کو اپنی جانشینی کے لیے تیار کر رہے تھے۔آہ بھی خوٗبوٗ  میں اپنے والد کے نقشِ قدم پر تھے لیکن خدا کے کاموں میں کون دخل دے سکتا ہے۔آہ عراق کے سفر پر گئے اور وہاں بیمار ہوگئے۔حالت خراب سے خراب تر ہوگئی۔ وہ بمبئی واپس آئے تاکہ وہاں علاج ہو سکے۔ والد کلکتہ سے بمبئی پہنچے اور انھیں ساتھ لے گئے لیکن ان کا وقتِ اخیر آ پہنچا تھا۔کلکتہ پہنچنے کے بعد وہ اللہ کو پیارے ہوگئے۔اپنے پیچھے وہ اپنی واحد اولاد نور الدین احمد صاحب یعنی راقم کے والد کو چھوڑ گئے تھے جن کی پرورش کی ذمے داری کا بوجھ مولانا پر بھی آگیا تھا۔یہ وسط 1906  کی بات ہے جب مولانا آزاد امرتسر میں وکیل سے وابستہ تھے۔ مولانا خیر الدین نے انھیں لکھا کہ اب تم گھر آجا ؤ اور کام کاج میں ہاتھ بٹاؤ۔ یہ ابھی جانے کی سوچ ہی رہے تھے کہ نومبر 1906  کو والد نے ایک آدمی امرتسر بھیج دیاتاکہ انھیں اپنے ساتھ لے آئے۔ اب کوئی چارئہ کار نہیں رہ گیا تھا۔یہ کلکتہ چلے گئے۔امرتسر کا زمانۂ قیام اپریل 1906  سے نومبر 1907  یعنی صرف آٹھ مہینے رہا۔ وہ والد کے حکم کی تعمیل میں مجبوراً کلکتہ چلے گئے لیکن سچ یہ ہے کہ وہاں جو کام ان کو سپرد کیا گیا،وہ کسی عنوان ان کی پسندکا نہیں تھا۔ مریدوں کی تعلیم و تربیت اور وعظ وغیرہ سے وہ کوسوں دور تھے۔ادھر اخبار نویسی کا مشغلہ ان کا دل پسند و مرغوب کام تھا۔ شیخ غلام محمد بھی ان کے کام سے ہر طرح مطمئن اور خوش تھے۔ قصہ کوتاہ چند دن بعد انھوں نے اپنے والد سے کھل کر کہہ دیا کہ وہ اس پیری مریدی کے سلسلے کو جاری نہیں رکھ سکتے۔ نہ انھیں یہ پسند ہے کہ لوگ آئیں اور ان کے ہاتھ پاؤں کو فرطِ عقیدت سے بوسہ دیں۔ والد آدمی سمجھدار تھے۔ انھوں نے دیکھ لیا کہ یہ بیل منڈھے چڑھنے کی نہیں۔ ان کی مرضی کے خلاف انھیں کسی کام پر مجبور کرنے سے کیا فائدہ۔ انھوں نے اجازت دے دی کہ اچھا اگر یوں ہے تو وہ واپس امرتسر جا سکتے ہیں۔اس پر وہ اگست 1907 میں امرتسر چلے گئے اور دوبارہ ’وکیل‘کی ادارت کی باگ ڈور ان کے سپرد کر دی گئی۔ لیکن اب  ان کی صحت جواب دے گئی اور وہ بیمار رہنے لگے۔ سال بھرہی مشکل سے وہاں رہے اور اگست 1908میں ’وکیل‘ سے الگ ہو گئے۔

مولانا کی عمر اس وقت 20سا ل کے لگ بھگ تھی اس دوران انھوں نے کئی پرچوں میں کام کیا۔ ان میں سے بعض ان کی ذاتی ملکیت تھے۔ بعض دوسروں کے کہ جہاں وہ تنخواہ پر ملاز م کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ وہ کہیں بھی رہے ہوں، ان کا نصب العین ہمیشہ بلند رہا۔ان کی یہی خواہش اور کوشش رہی کہ صحافت کو ملک و ملت کی بہتری اور بہبودی، خدمت گزاری اور خیرخواہی کا وسیلہ بنایا جائے۔

’وکیل‘، ’زمیندار‘، ’مسلم گزٹ‘، ’پیسہ اخبار‘، ’مشرق‘، ’حبل المتین‘، ’مسلمان‘، ’الحکم‘، ’الحق‘، ’ہمدرد‘ اور انگریزی کا ’کامریڈ‘، سب کے سب پان اسلامی(Pan Islamic) رنگ میں ڈوبے ہوتے تھے اور اسلام و مسلمانوں کے بارے میں لکھتے وقت ’الہلال‘ کا نام ان اخباروں سے بالکل مختلف نہ تھا۔ ’الہلال‘ کی اصل خصوصیت مولانا کا مخصوص انداز تحریر تھا، جذباتی قسم کا اسلوبِ بیان جس میں تحریروں میں خطابت کی شان نظر آتی تھی۔ جملوں اور لفظوں کے تو وہ بادشا ہ تھے۔ محض ترتیب کے الٹ پھیر سے اپنی تحریروں میں گرمی پیدا کر دیتے تھے جس کی آنچ مدھم ہوتے ہوتے بھی پڑھنے والے کے شعور کو بے بس کر جاتی تھی۔

اور سب باتوں کو چھوڑ کر ’الہلال‘ کے صرف ادارۂ تحریر کو لیجیے تو حیرت ہوتی ہے۔ مولانا آزاد کے علاوہ اس میں مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا عبداللہ عمادی، مولانا عبد السلام ندوی اور بعض دوسرے اصحاب کام کرتے تھے۔ ان سب کو باقاعدہ تنخواہ ملتی تھی۔شاید ہی کسی ہفتہ وار، پندرہ روزہ یا ماہنامہ کو ایسا ادارۂ تحریر نصیب ہوا ہو۔ پھر اس کے مضمون نگاروں میں ملک کے صف اول کے ادیب اور انشا پر داز شامل تھے۔

مولانا ابو الکلا م آزاد شروع سے ہی ہندوستان کی آزادی اور باہمی ہم آہنگی ویگانگی کے علمبردار رہے۔ ان کے صحافتی سفر کا باقاعدہ آغاز 13جولائی 1912  میں ہوا جب انھوں نے کلکتہ سے ’الہلال‘ جاری کیا۔ یہ ایک ایسا اخبار تھا کہ جس نے قومی جذبات اور سیاسی شعور کو بیدار کرکے ملک میں تہلکہ مچادیا اور ہندوستان پر قابض انگریزی ایوانِ حکومت میں زلزلہ پیدا کر دیا۔

’الہلال‘ صرف اخبار ہی نہ تھا بلکہ انگریزی حکومت کے خلاف تحریک بھی تھی جس نے ملت کے سرد و منجمد لہو کو گرم اور رواں دواں کر دیا۔ مردہ دلوں میں نئی جان ڈال دی، مظلوموں اور مغلوبوں کو آزادی کا شیدائی و فدائی بنا دیا۔اس کی للکار اور پکار نے غلاموں کو زنجیرِ غلامی توڑنے کی توفیق دی اور شعلہ حیات بھڑکا دیا۔
جب جب جدوجہد آزادی ہند کی بات کی جائے گی تو مولانا ابو الکلام آزاد کے پرچہ ’الہلال‘ کا ضرور ذکرہوگا۔ مولانا اپنے جن کمالات، خصوصیات و امتیازات کے توسط سے تمام ملک پر چھائے ہوئے تھے اور جن کی نابغۂ روزگار شخصیت، غیر معمولی ذہنی و دماغی قابلیت نے لوگوں کے دل و جان پر اپنے گہرے نقش چھوڑے تھے، اس کی وجہ ان کی صحافت تھی۔

صحافت کا مقصد ان کے نزدیک اخلاص اور بے لوثی سے ملک و ملت کی خدمت کرنا تھا۔ یہ بات صاف ہے کہ انھوں نے اسے کمائی کا ذریعہ کبھی نہیں سمجھا، ہاں مشن ضرور ما نا۔ مولانا آزاد نے صحافت کو جو عزت و وقار عطا کیا، اس کے لیے اردو زبان آج بھی ان کی مشکور ہے۔

جناب احمد سعید ملیح آبادی، مدیر روزنامہ ’آزادہند‘، کلکتہ بیان کرتے ہیں : 
’’جس اخبار اور رسالے کو ہاتھ لگا دیا، اسے چار چاند لگا دیے۔ ایڈٹ کرنے کا گُر مولانا نے خود اپنے لیے وضع کیا، ان کے سامنے اور اگر کوئی نمونہ تھا تو وہ مصر اور ترکی کے اخبارات اوررسالے تھے جو مولانا کے پاس آتے تھے۔ مضامین کے انتخاب، موضوعات کے تعین، مسائل و مباحث کے بیان حتی کہ الفاظ و اصطلاحات کی ترجیحات اور املا کی پابندی پر بھی مولانا کی نظر اور گرفت رہتی تھی۔‘‘(رشید الدین خاں : ابو الکلام آزاد ایک ہمہ گیر شخصیت ص 280 مضمون :احمد سعید ملیح آبادی)

’ الہلال‘ مولانا آزادکی علمی، ادبی، دینی و سیاسی بصیرت کا نچوڑ تھا۔ وہ ہر اعتبار سے ایک عہد آفریں جریدہ تھاکیوں کہ اس کے مقابلے کاکو ئی بھی ہفتہ وار پرچہ اب تک نہیں نکلا تھا۔’الہلال‘ کی تعریف میں ضیاء الدین اصلاحی صاحب لکھتے ہیں:
کانک شمس والملوک کواکب
اذا طلعت لم یبد منھن کواکب
(اے باد شاہ تو سورج ہے اور دوسرے سب بادشاہ ستارے ہیں
 جب سورج نکلتا ہے تو سارسے ستارے غائب ہو جاتے ہیں۔)

’الہلال‘ اردو کا پہلا با تصویر ہفت روزہ اخبار تھا جو ترکی سے منگوائے ہوئے ٹائپ پر چھپتا تھا۔ ’الہلال‘ کی مقبولیت اور لوگوں کی اس کے لیے بے چینی اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ اس کے ایک پرچے کو لوگ حلقہ بناکر سنتے اور مولانا کے ایک ایک لفظ اور فقروں پر سر دھنتے تھے۔

’الہلال‘ کا جادو سر چڑھ کر بولتا تھا کیونکہ یہ لوگوں کے قلوب پر چھا گیا تھا اور اس نے فکر و نظر کے زاویے بدل دیے، نئی راہیں کھولیں اور نئے اسلوب میں نیا پیا م دیا۔ مسلمانوں کی حمیتِ ایمانی کو للکارااور انگریزوں کی نفرت کا نقش ان کے دلوں پر بٹھا دیا۔ بقول ممتاز اردو ادیب مالک رام ’الہلال‘کا اصلی کارنامہ اس کا اسلوب تحریر تھا جس میں رنگینی، شگفتگی اور ابداع و اختراع کی جلوہ گری تھی۔‘‘ ڈاکٹر عابد رضا نے لکھا ہے کہ ’الہلال‘ کی اصل خصوصیت مولانا کا مخصوص انداز تحریر تھا۔ اس میں جذباتی قسم کا اسلو ب تھا جس کی تحریرمیںخطابت کی شان نظر آتی تھی۔ لفظوں کے تو وہ بادشاہ تھے اور محض ترتیب کے الٹ پھیر سے اپنی تحریروں میں وہ گرمی پیدا کر دیتے تھے۔ ’الہلال‘ میں مولانا نے قرآنی آیتوں اور عربی عبارتوں کو نگینے کی طرح جڑ دیا ہے۔ فارسی اشعار نے بھی ان کی تحریروں کو نکھارنے اور سنوارنے میں بڑا حصہ لیا ہے۔

’الہلال‘ اردوصحافت کا اہم ترین سنگ میل ہے۔ یہ جریدہ تمام تر سیاست کے لیے وقف تھا۔  پھرتفسیرِ کلا مِ پاک میں اور سیاسی تعبیروں میں تاریخی عوامل و محرکات کا پورا پورا احسا س تھا۔ لہٰذا صحیح معنوں میں ’الہلال‘ پہلا اخبار تھاجس نے اسلامی سیاست میں ایک ترقی پسندانہ اور آفاقی اندازاپنایا اور اس کی ترویج میں غیر معمولی کردار اپنایا۔

اس وقت کسی بھی رسالے کا حکومت پر تنقید کرنا آسان نہ تھا۔ یہ تو خوش قسمتی تھی کہ بنگال حکومت میں ایسے کارکنوں کی کمی تھی جو ’الہلال‘ کی فارسی اور عربی آمیز اردو سمجھ پاتے۔ پھر بھی لکھنؤ کے انگریزی اخبار ’پائینیر‘ نے حکومت کو آگاہ کیا کہ وہ پرچہ کس قدرزہر بھرا پرو پیگنڈہ کر رہا ہے۔ اس بات کے لیے مولانا پہلے سے تیار تھے کہ جس طرح کا مواد وہ چھاپ رہے ہیں،اس کے پیش نظر ظالم اور جابر حکومت ان سے ایک دن ضمانت طلب کرے گی۔ چنانچہ حکومت نے ان سے پہلی مر تبہ دو ہزار روپے کی ضمانت طلب کی۔ مگر حکومت بنگا ل نے اس پہلی ضمانت کو ضبط کر لیا۔

’الہلال ‘جاری ہونے کے بعد مولانا آزاد نے ’البلاغ‘  نام سے نیا پریس قائم کیا اور اسی نام پر ایک اخبار  نکالنے لگے۔ یہ اخبار 12 نومبر 1915 کو منظر عام پر آیا اور اس وقت تک جاری رہاجب تک انگریزوں نے اس کوبھی ضبط نہیں کر لیا۔ ’البلاغ‘ میں جو روح کار فرما تھی، وہ’ الہلال‘سے کسی طور مختلف نہیں تھی لیکن اس میں اسلام کے اخلاقی فلسفے پر زیادہ زور تھا۔ ’البلاغ‘ کی تلقین تھی کہ مسلمان مطلق العنانی کے خلاف سینہ سپر ہو جائیں۔

معروف ادیب وناقد مالک رام کا خیال ہے کہ ’الہلال‘ ان کے عہد شباب کی یادگار ہے اور ’غبار خاطر‘ بڑھاپے کی مگر کوئی بھی شخص اسے پڑھ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ کسی تھکے ہوئے دماغ یا قلم کی تخلیق ہے۔ یہاں بھی ان کے ذہن کی گرم جولانی اور قلم کی گل افشانی میں وہی دلکشی ہے جو روز اول سے ان سے منسوب رہی۔  اگر تمام مشغولیتوں سے قطع نظر کر کے اپنے آپ کو علم و ادب ہی کے لیے وہ وقف رکھتے تو نہ معلوم آج اردو کے خزانے میں کیسے کیسے قیمتی جواہر کا اضافہ ہو گیا ہوتا۔

فیروز بخت احمد