جمعرات، 29 جولائی، 2021

اردو ادب و صحافت کے امام: افتخار امام صدیقی- مضمون نگار۔ شمع اختر کاظمی




 ماضی سے عہد حاضر تک اردو کے بے شمارادبی و نیم ادبی رسائل و جرائد شائع ہوئے لیکن تجزیہ نگاروں اور علم و ادب کے پارکھیوں نے پہلے آگرہ اور پھر ممبئی سے نکلنے والا رسالہ ماہنامہ ’شاعر‘ کو ادبی رسالوں کا سرتاج ہی نہیں قافلۂ سالارکہا۔ ’شاعر‘ کو یہ افتخار حاصل ہے کہ ہر دور میں اسے ممتاز و مقتدر اہل قلم کا تعاون حاصل رہا، بلکہ اردو ادب کے قابل قدر قلم کاروں نے اپنی تخلیقات کے شاعر میں شائع ہونے پر فخر محسوس کیا۔ 

شاعر کے تاحال ایڈیٹر افتخار امام احمد صدیقی 16 ستمبر 1947کو آگرہ میں پیدا ہوئے اور طویل علالت کے بعد 4 اپریل 2021 کو اس دارفانی سے کوچ کرگئے۔ وہ ایک ایسے گھرانے کے چشم و چراغ تھے جو نہ صرف شعر و ادب کا شیدائی بلکہ شعرا و ادبا کا قدردان، منکسرالمزاج، مہمان نواز اور انتہائی مہذب بھی ہے۔ اپنے والد محترم اعجاز صدیقی کی رحلت کے بعد تاجدار احتشام صدیقی کے ایما پر رسالہ شاعر کی باگ ڈور افتخار امام صدیقی نے سنبھالی۔غالباً یہ مارچ 1978 کا زمانہ تھا۔ ادبی رسالے کے مسائل اور اس کا کرب ان پر ظاہر تھا پھر بھی اپنے اسلاف کی ادبی وراثت کو زندہ رکھنے کی خاطر بہت ساری قربانیاں دیں۔ شاعر جیسے تاریخ ساز رسالے کو ایک تاریخی تسلسل سے ہم کنار رکھا۔ خرابیِ صحت کے باوجود اردو زبان کے کسی رسالے یا مجلے کی طویل مدتی اشاعت، ادبی صحافت کے چٹیل میدان میں لالہ و گل کھلانے کے مترادف ہے۔ 

ایک متحرک و متنوع شخصیت کا نام افتخار امام صدیقی تھا جن کی ذات بہت سارے اوصاف کی جامع خوبیوں کی حامل تھی۔ صحافتی، علمی، ادبی ہر میدان میں ایک انفرادی مقام رکھتے تھے۔ باکمال شاعر و صحافی ہی نہیں باوصف انسان بھی تھے۔ جن کا ذہن و قلم ہمہ دم تروتازہ رہا۔ وہ اپنی فطری ذہانت کے ساتھ اپنے چاہنے والوں پر خلوص پسند مشوروں کے لعل و گہر لٹاتے۔ شاعری ‘ ادب و صحافت کی روشنائی سے انسانیت کی راہ اجالنے والے افتخار امام جنھیں رب العالمین نے کمال خوبیوں سے نوازا تھا۔ انھوں نے اپنی زندگی برسوں کنج تنہائی میں گزاردی، جس گھر میں شعور کی آنکھیں کھولی وہاں ہر طرف شعرو سخن کے چرچے تھے، شعرا و ادبا کی آمدورفت تھی، ادبی محفلوں کی دھوم اور طبیعت میں خداداد شعری صلاحیت تھی، یہی وجہ ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ممبئی اور پھر عالمی مشاعرے کے ایک مقبول ترین غزل گو شاعروں کی صف میں شمار کیے جانے لگے۔ ان کے کلام میں غیر صالح خیالات و جذبات کا کہیں گذر نہیں۔ قربان جایئے کہ بڑھتی ہوئی عمر اور نقاہت کے باوجود تخلیقی قوتوں میں کوئی فرق پڑا نہ یادداشت میں بلکہ حافظہ غضب کا رہا۔ شاعری ذاتی تجربات و ذہنی کیفیات کی دین رہی وہ عالمگیر سطح پر عام انسانوں کے مسائل اور مقتدر جماعت کے کارناموں سے بھی واقف تھے        ؎

ایسا نہ ہو کہ خواب ہی ہوجائے آدمی 

آبادیوں میں پھیلتے جنگل کو روکیے

جب افکار کے دریچے کھلتے تو لفظیات کی تلاش اور جملوں کے دروبست انھیں حیران نہیں کرتے۔ نئے اچھوتے لفظ اور جملے خلق کرتے۔ ایسی ایک دنیا ان کے سوچ کینوس میں آباد تھی اس کا بھلا مشاہدہ رسالہ شاعر کے ہر شمارے میں کیا جاسکتا ہے۔ کسی فنکار، انشا پرداز کی شخصیت و کردار اور اس کے کارناموں کا اختصار نویسی کے ساتھ لفظوں کی جادوبیانی سے ایسا مرقع تراشتے کہ قلم کار پردۂ خفا سے کاغذ پر اترآتا۔ محسوس یہ ہوتا گویا چند جملوں میں تخلیق کار کو اس کی فنی خوبیوں اور کارناموں کے حوالے سے قاری کے روبرو کردیا گیا ہو۔ ایسی تحریری تصویر کشی سے ان کے باریک بین، گوہر شناس اور بصیرت افروز نقدو نظر کا اندازہ ہوتا ہے۔ 

افتخار امام صدیقی کی طبیعت میں کمال بے نیازی کا غرّہ تھا۔ تمکین و تمکنت کے جذبے سے نہاں حلم و انکساری بھی دامن گیر تھی لیکن مزاج میں نہ خودسری اور نہ درشتی تھی وہ پرخلوص، مشفقانہ احترام کے جذبے سے نہال تھے۔ کرب تھا تو برسوں کی بے کراں تنہائی کا، وہ ہمیشہ رجائیت پسند رہے۔ ہزارہا کرب آزار و تنہائی کے نئے چراغوں کی باتی بڑھاتے، ان کے ظاہر و باطن میں کوئی فرق نہ تھا۔ نیک طینت، شریف النفس، خوش فکری اور نرم خوئی ان کے کردار و افکار کو اونچا بناتی تھی۔ کبھی کبھی گفتگو کے دوران خاموشی کا لمحہ طویل ہوجاتا یہ بیماری کا تقاضہ تھا یا فطرت کا خاصہ، پتہ نہیں۔ یہ فرض کفایہ مانی بھائی (ناظر نعمان صدیقی) ادا کرتے۔ ایک محفل پسند شاعر کی ایسی اتھاہ خاموشی میں پنہاں صبر ان کے کرب کو سمجھنے پر دلالت کرتا ہے۔ وہ علم و ادب کے سفیر تھے۔ اپنا کرب اپنے سینے میں سمیٹے ادب کے قاری کو ادب فہمی اور ادب نوازی کے ہزارہا طریقے بتاتے رہے۔ زندگی میں ماندگی کے کئی موڑ آئے مگر مثبت انداز فکر اورحوصلے سے سب کا رخ موڑ دیا۔ حادثے انھیں آزماتے رہے اور عارضے اپنا شکار بناتے رہے۔ یہاں تک کہ بصارت اور سماعت تھک گئیں۔ مطالعے کی خاطر بلوری شیشے کا سہارا لیتے، جسم کی ہڈیاں خستہ جاں ہوچکی تھیں۔ ہمہ وقت بھائی مانی سائے کی طرح ساتھ رہتے۔ بقول مانی بھائی۔ ’’ ہم تو اب زرد پتہ ہیں کب جھڑ جائیں پتہ نہیں، مگر یا اللہ مجھے افتخار کے بعد اٹھانا میرے بعد ان کا کیا ہوگا...؟ یہ ایک بھائی کی اپنے بھائی کے لیے ایسی دردمندی کہ جس میں محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر پنہاں تھا۔ اپنا گھربار، بیوی بچے، کہیں آنا جانا وہ سب کچھ بھائی افتخار کی دیکھ ریکھ پر قربان کر بیٹھے تھے۔ 

افتخار امام صدیقی نے اپنی معذوری کو ہمیشہ مثبت انداز میں قبول کیا۔ کبھی شکوہ سنج نہ رہے۔ برسوں گوشہ نشینی کا کرب جھیلا پھر بھی انسان دوستی کا فریضہ ادا کیا۔ ٹرین حادثے میں زخمی ہوئے اور پھر لگاتار کوئی نہ کوئی افتاد انھیں آزماتی رہی۔دو دہائیوں سے زائد عرصہ وہ صاحب فراش رہے۔ پے در پے عارضے کا حملہ مگر واللہ کیا ذات رب پر توکل کامل، ہمہ وقت ان کا دماغ منصوبے ترتیب دیتا، جدت پسندی شاعر کے ہر شمارے میں دیکھی جاسکتی تھی۔ ادبی اختراع اور یادداشت کی درستگی پر سخت حیرت کہ اس لاغر و ناتواں جسم کا دماغ اتنا توانا... آخر یہ ناتواں جسم کس قدر بوجھ برداشت کرتا، حافظہ اور حوصلہ جسم و جاں سے مطابقت بھی نہیں رکھتے تھے۔ اپنے ایک شعر میں انھوں نے درست ہی کہا        ؎

کون ہے کس کی دعاؤں کی چھاؤں میں

چل رہی ہے سانس تلواروں کے بیچ

مرحوم کی حمدونعت، سلام و منقبت جیسی تقدیسی شاعری اپنی پوری تابانی کے ساتھ دین فطرت سے مستعار نظر آتی ہے۔ حتی کہ نظموں اور غزلوں میں بھی ان کے پاکیزہ خیالات، معاشرے و سماج کی فکرمندی، انسانیت و اقدار کے زوال کا درد اور فطرت کا عکس ان میں نظر آتا ہے۔ انھوں نے امریکہ، کینیڈا، لندن، پاکستان اور خلیجی ممالک کے مشاعروں میں شرکت کی۔ ان کے دو شعری مجموعے ’چاند غزل‘ اور ’یہ شاعری نہیں ہے‘ زیر ترتیب تھے۔ حمد اور نعت کی بھی دو کتابیں ترتیب دے چکے تھے۔ افتخار صاحب کی غزلوں کو اپنی آواز سے سجانے والوں میں چترا سنگھ، جگجیت سنگھ، چندن داس، پنکج اداس اور سدھا ملہوترا ہیں۔ 

مستقل علالت اور کمزوری کے باوجود وہ بستر ہی سے ماہنامہ شاعر کی ادارتی ذمے داری کو ادا کررہے تھے۔ شاعر کے متعدد خصوصی شمارے شائع ہوئے جس نے ادبی رسالوں میں اپنی منفرد پہچان بنائی۔ اردو کی نئی بستیوں کے قلم کاروں کو متعارف کرانے میں اہم رول ادا کیا۔ زندگی کے آخری ایام تک تقریباً سو قلم کاروں سے تحریری انٹرویو لیے، باصلاحیت خواتین کی ادب کی راہ تک رہنمائی کی اور شاعر کے صفحات ان کے اعتراف ذات میں پیش کیے۔ شاعر ان کی ادارت میں مارچ 1978 سے تاحال بلاناغہ اسی آن بان اور شان سے جاری ہے جس طرح ان کے والد مرحوم اعجاز صدیقی اور دادا سیماب اکبرآبادی نے جاری رکھا تھا۔ رسالہ شاعر کا طرۂ امتیاز یہ بھی ہے کہ اس میں خالص ادبی و لسانی مواد کو زیربحث لایا جاتا ہے۔ ادبی نظریات، ترجیحات و تبادلۂ خیال ترسیل کا ذریعہ بنتے ہیں جو اپنے عہد کے لسانی رجحانات اور افکار و مزاج کا عکاس ہوتے ہیں۔ 

شاعر کے ایک قدیم شمارے میں کائنات، آدمی، نظریہ اور زندگی کے عنوان سے تحریر کردہ اداریے اس بات کی توثیق کرتے ہیں کہ نثرنگاری کے فن میں بھی انہیں مہارت حاصل تھی۔ ایک خودساختہ مشن کے ذریعے نئے قلم کاروں کو دعوت فکر دیتے رہے ہیں۔ شاعر کے اداریے میں وہ لکھتے ہیں۔

’’سوال یہ ہے کہ کیا نظریے کے بغیر ادب تخلیق نہیں ہوسکتا...؟ سوال یہ بھی ہے کہ نظریے کے بغیر زندگی بسر کی جاسکتی ہے کہ نہیں...؟ مگر میں فکرمندہوں نئی نسل کے لیے جو ترقی پسندی یا جدیدیت کے الجھاؤ میں پڑے بغیر ادب تخلیق کرنا چاہتی ہے یا ادب تخلیق کررہی ہے۔ دراصل نظریہ یا رجحان جو بھی کہہ لیں، اس نے قلم کار اور قاری دونوں ہی کا مزاج خراب کردیا ہے۔ ترقی پسندوں نے اپنا ادب اور جدیدیوں نے اپنا ادب دونوں ہی نے انتہا پسندی کی بھی انتہا کردی۔ نظریہ مذہبی ہو یا مادی، نظریہ ساز بھول جاتے ہیں کہ ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں۔ نا ابتدا کی خبر ہے نا انتہا معلوم سانسوں کا شور اور اپنے ہونے کا تھوڑا بہت ادراک اور اپنے آس پاس کو ٹھیک ٹھاک رکھنے کی خواہش اور خواہش کی تعمیر، ارتقا پذیر دنیا میں کوئی بھی آئیڈیا لوجی بہت دور تک نہیں جاتی، اپنا اچھا برا کردار ادا کرتی ہے، یا تو ختم ہوجاتی ہے یا پھر شکل بدل لیتی ہے۔ شب و روز کے تسلسل میں چلتے پھرتے آدمی کی بنیادی جبلتیں مر تو نہیں گئیں۔ ایک دوسرے سے خوفزدہ آدمی سرحد وںسے باہر کب آیا ہے...؟ ہاں اتنا شائستہ ضرور ہوگیا ہے کہ بہت پہلے پتھروں سے اپنا دفاع کرتا تھا۔بیسویں صدی کے ختم ہوتے ہوتے اس نے جدید مہلک ہتھیار بنالیے ہیں۔ آدمی کے بنیادی مسائل اپنی جگہ ہیں اور اس کی ساری تگ و دَو اسی کے لیے ہیں۔ کوئی پل کوئی لمحہ ایسا نہیں جس نے آدمی کو اپنی بنیادی ضرورتوں سے بے نیاز کردیا ہو۔ طاقت، اقتدار اور تحفظ کسی بھی نظریے کا تصور اور نفاذ ان کے بغیر ممکن نہیں۔ نظریوں کی تاریخ تو یہی بتاتی ہے کسی بھی نظریے کے اچھے برے اثرات تو مرتب ہوتے ہیں، کسی عالمی سماج کی تشکیل و تعمیر کا خواب دیکھنے کی عملی صورتوں میں اختلاف بھی شامل ہوتا رہتا ہے۔ یہ ایک فطری عمل ہے۔ اس کی نفسیاتی و جمالیاتی سطحیں بھی اپنا دفاع کرتی رہتی ہیں۔ 

اردو میں نقاد و دانشور یہ تو بتارہے ہیں کہ عالمی سطح پر جدید فکری صورت حال کیا ہے۔ سیاسی، سماجی، علمی اور ادبی سطح پر نظریوں کو اب کس طرح دیکھا جارہا ہے۔ وہ باخبر تو ہیں اور بضد بھی کہ جو اطلاعات وہ فراہم کررہے ہیں انہیں تسلیم کیا جائے۔ لیکن چونکہ ان کا اپنا کوئی فکری نظام نہیں ہے۔ لہٰذا نئی نسل یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اسے اب بھی ترقی پسند نظریے کے تحت اپنا ادب تخلیق کرنا ہے یا پھر جدیدیت یا مابعد جدیدیت کے رجحان کو اپناتے ہوئے اپنا تخلیقی نظام قائم کرنا ہے۔ مگر ایک تیسری صورتحال بھی ابھر رہی ہے۔ (تیسری دنیا نہیں) اور وہ یہ کہ بغیر کسی نظریاتی وابستگی کے آزادانہ طور پر ادب تخلیق کیا جائے۔ تمام نظریوں کی کسی مشترک فکری اساس کے بغیر۔

تخلیقی ذہن، نظریوں کا پابند نہیں ہوتا،  اگر وہ بڑا اور سچا فن کار ہے تو اپنا نظریہ خود پیش کرتا ہے۔ وہ نظریوں سے سچ کو اخذ کرتا ہے اور اسی کا آزادانہ اظہار کرتا ہے۔ خاموشی کو لفظ دیتا ہے، لفظوں میں اپنی آواز رکھتا اور یہ آواز سفر کرتی ہے۔ اس آواز کی روح جتنی توانا ہوگی، آواز باقی رہے گی، روشن رہے گی، عہد بہ عہد سفر کرے گی اور ہر عہد کو منور کرے گی۔ 

فن کار چاہے جس آئیڈیا لوجی سے وابستہ ہو اسے سچ بولنا ہے‘ سچ لکھنا ہے وہ اپنے فکری رویوں سے فن پارے کو جیتا ہے اور اجتماعی آئیڈیالوجی کو سنوارتا ہے‘ نا کہ نظریے کا مبلغ بن جاتا ہے۔ اردو میں مبلغ و مقلد بہت ہوئے ہیں مگر جنوئن یا جئنیس فنکاروں کی کمی رہی ہے۔ سچا فنکار قطعی آزاد مزاج ہوتا ہے وہ کہیں ٹھہرنا پسند نہیں کرتا کھلی آنکھوں اور کشادہ ذہن سے دیکھتا اور سوچتا ہے۔ اپنے آپ میں جذب کرتا رہتا ہے۔ ہم عصر اردو ادب میں فلسفۂ جمالیات اور تنقید کے دبستانوں کی اہمیت اپنی جگہ لیکن تخلیقی ذہن بہرحال ان دبستانوں میں قید نہیں ہوتا وہ ان میں رچ بس جاتا ہے اور پھر ان سے ابھر جاتا ہے۔ ساری کوششیں اسی کے لیے ہونی چاہئیں جو عموماً ہوتی نہیں ہیں۔ کیونکہ نئے قلم کاروں کو گمراہ کرنے والی تنقیدی تحریریں اپنا کام بھی کرتی رہتی ہیں۔ آج بھی یہی ہورہا ہے۔ 

مگر نئے قلم کاروں کو نہ صرف یہ کہ اپنے عہد کو پوری طرح محسوس کرنا ہے بلکہ آنے والے زمانوں کی دھمک کو بھی سننے کی سعی پیہم کرنا ہے۔ نظریہ چاہے سیاسی ہو سماجی یا مذہبی، انتہاپسندی سے بچتے ہوئے اس سے استفادہ کرنے اور ادب و فنون میں اس کے مناسب نفوذ کا شعور پیدا کرنا چاہیے۔ میں مذہب کو برا نہیں سمجھتا مگر ان کے خلاف ہوں جو مذہب کی گفتگو کرنے والوں کو بنیاد پرست کہتے ہیں۔ نظریوں کی زندگی یا موت کی بحث میں مذہب زیر بحث آنا چاہیے مگر وہ مذہب نہیں جو سیاسی ہو۔‘‘

افتخار امام صدیقی کی مقبولیت اور عظمت کا راز دراصل ان کی صلاحیتوں اور بے پایاں فکر و فن میں پوشیدہ ہے۔ گو کہ وہ ایک منفرد لب و لہجے کے جدت پسند شاعر تھے لیکن انھیں اداریہ نگاری میں یدطولیٰ حاصل تھا۔ اردو میں اداریہ نگاری کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ یہ مشکل فن ایک بیدار متنوع ذہن چاہتا ہے۔ اداریے کے مطالعے سے حالات حاضرہ سے لے کر ادب، تاریخ، فلسفہ، طنز و مزاح سب کچھ صحافی کے قلم کی زد پر رہتا ہے اور جن کے پاس بے پناہ مدیرانہ صلاحیتیں، ادب و شاعری تینوں جوہر موجود ہوں تو ان کی زبان اور ذہن میں خلاقانہ شان پیدا ہوجاتی ہے تب اداریہ دل و دماغ کی تربیت کا فریضہ ادا کرتا ہے، ادبی مسائل کی گرہ کشائی کرتا ہے ادب کے کھوکھلے پن کو اجاگر کرتا ہے اور ادب کی صالح اور دیرپا قدروں کے فروغ میں حصہ لیتا ہے۔ رسائل و جرائد کے اداریے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ کن قدروں کا پاس دار ہے۔ اس کا مزاج کیسا ہے۔ افتخار امام صدیقی کے اداریے ہمیشہ منفرد، نئے موضوعات و ادبی مسائل پر اپنا اشارتاً نہیں بلکہ واضح طور پر اپنا مدعا بیان کرتے، کسی خاص نظریے اور موضوع کے تحت تحریر کیے جانے والے اداریے عصری حسیت کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ انھوں نے مدیرانہ، مدبرانہ اور شاعرانہ زبان میں بسا اوقات حق اداریہ ادا کیا۔ مختصر اور جامع اداریے بھی تحریر کیے مگر اپنی اثرپذیری سے ایک جہاں کو متاثر کیا۔ ان کی تحریروں میں الفاظ اور جملے بھرتی کے نہیں ہوتے بلکہ ہر لفظ اور جملے سے معنی کا ایک جہاں ابھرتا تھا۔ ادب، جمالیات اور صحافت سے متعلق اپنا واضح نظریہ ’افتخار‘ رکھنے والے ’امام‘ نے ادب اور ادبی صحافت کی خدمت کو اپنا وظیفۂ حیات بنالیا تھا۔ رسالہ ’شاعر‘ کے اداریے کے ذریعے انھوں نے میدان ادب میں فرمانروائے فکر و فن کی حیثیت اختیار کرلی تھی۔ اپنی بات کو نئی سوچ، نئے رنگ، نئے احساس، نئی زبان، نئی لفظیات اور نئے جملوں کے قالب میں ڈھال کرقاری کو نئی طرز تحریر سے آشنا ہی نہیں کیا بلکہ نئی اسلوبی راہیں بھی دریافت کیں۔ انھوں نے اعترافی ادب میں بھی اسی جدت طبع سے کام لیا۔ اداریہ نگاری ایسا بحرذ خار کہ اچھے اچھوں کو اس میں ڈوبتے دیکھا گیا۔ اس کی تھاہ پالینا سب کے بس کی بات نہیں۔ 

زبان ویسے بھی تغیر بذیر شئے ہے اور اردو زبان تو بہت سے چولے بدل کر ہم تک پہنچی ہے۔ یہ کسی کے ہاتھ کی کٹھ پتلی نہیں، یہ خود ساختہ زبان و زماں، ذہنوں ذہن سفر کرتی سوچ کو لفظ عطا کرتی، مزدور، کاریگر، صنعت کار، فنکار اور تخلیق کاروںکے الفاظ، سوچ فکر، خودداری اور خود اعتمادی کے ساتھ مسکراکر سب کو اپنا محبوب بناکر اور اپنا نیا روپ دکھا کرآگے بڑھ جاتی ہے۔ یہ سلسلہ صدیوں صدی سے جاری ہے۔ کچھ جگمگاتے، حیرت زدہ کرتے، سنہرے الفاظ کے جادو کی چھڑی اپنے دیوانوں کو سونپ کر کہیں اور نکل جاتی ہے۔ جدیدلفظوں کی یہ شہزادی ہر دور میں آتی رہی ہے اور آئے گی۔ 

افتخار امام نے نصف صدی سے زائد عرصے تک کاروان ادب و صحافت کی سالاری کی، تہذیب و ثقافت کے دیے روشن کیے ان کی واحد دلچسپی ادب، ادبیات اور ادبی صحافت سے تھی۔ محبت اور جاںنثاری کے جس شعبے سے وہ اٹھتے تھے وہ ان کی پسندیدہ اور تخلیق کردہ تھی۔ اخباری صحافت کی بنسبت ادبی صحافت کے مسائل بہت زیادہ ہیں۔  چونکہ ادبی رسائل سیاست دانوں کے بیان اور تقریر نہیں چھاپتے نہ تبصرے کرتے نہ تصویر شائع کرتے ہیں۔ وہ سیاسی پارٹیوں کے اتار چڑھاؤ اور ابن آدم کے خرید و فروخت کے دام تک نہیں بتاسکتے۔، کسی معجون اعظم، قرص مقوی کے اشتہار ہوں یا ضرورت رشتہ کا اشتہار وہ شائع نہیں کرتے۔ اپنی پوری توجہ، زبان و ادب، لسانیات، ادبی مسائل، ادبی شخصیات، اجرا و وفات پر رکھتے ہیں۔ یہ ایسا جرم کہ جس کی وجہ سے ان کا حلقۂ اشاعت، تعداد اشاعت دونوں متاثر و محدود ہوجاتا ہے۔ ساتھ ہی طباعت کے مصارف، اشاعت کی مشکلات، کاغذ کی فراہمی، سرکیولیشن کا مسئلہ مسلسل سر پر سوار رہتا ہے۔ وزیروں، سفیروں اور سیاست دانوں اور سرمایہ داروں کو ان سے کوئی نسبت بھی نہیں ہوتی۔ ان کی نظر کرم ایسے خشک رسالوں تک بھلا کیوں پڑے...؟ اس پر افتاد یہ کہ ادبی رسائل اپنے معیار و وقار کے دائرے میں محبوس اور زرآمد کے ذرائع مفقود۔ رسالے کا وقت پر شائع ہونا ہی بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ ایسے مسائل سے اکیلے شخص کا گزر نا پل صراط طے کرنے کے برابر ہوتا ہے جس کا اعتراف افتخار صاحب نے برجستہ اپنے اداریے میں بارہا کیا تھا۔ تمام اخراجات کا بار ان کے نوک قلم پر ٹکا ہوا تھا۔ ساتھ ہی زندگی کی ضروریات، مسائل اور شکم کے تقاضے بھی تھے۔ اپنی ذہانت اور جدوجہد سے رسالہ شاعر کو بلندی تک پہنچایا۔ ایک خوددار، آزردہ اور خلوت انجمن پسند انسان، صحافت کے کالے بازار میں معاش اور ادب کی خاطر یرقانیت کے کاروبار کا جھولا لٹکائے برسوں کھڑا رہا مگر اس کے ہاتھ اور کردار ہمیشہ اجلے رہے۔ وہ دنیا سے چلا گیا۔ اپنے پیچھے مال و زر نہیں عزت و افتخار چھوڑگیا۔ 

ایک دین دار، متقی، پرہیزگار، نیک طنیت انسان جن کی فطرت میں انکساری اور متحمل مزاجی رچی بسی تھی، شاعروں، ادیبوں اور تخلیقی فن کاروں کی قدر و منزلت کرنے والے افتخار امام جیسے محسن اردو کی غیر معمولی کوششوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ کسی کی موت کے بعد ان کے حوالے سے ہم سب بارہا باتیں کرتے ہیں۔ موت نے کیسے کیسے باغ و بہار شخص سے ہمیں محروم کردیا جن کا ہم احترام کرتے ہیں۔ ان کے لیے تعزیتی کالم لکھنا کتنا مشکل کام ہوتا ہے۔ 

شاعر خاندان نے جس طرح مصائب و افتاد کا سامنا کیا اور ثابت قدم رہے۔ نامساعد حالات کے باوجود ثابت قدمی کی بنیاد بیگم اعجاز صدیقی رہیں۔ محترمہ نسیم بانو اعجاز صدیقی دراصل حالات کے مارے اس خاندان کی سب سے بڑی طاقت و قوت تھیں۔ ماہنامہ شاعراور شاعر خانوادے کو ایک برانڈ بنادیا۔ اس کی حرمت اور دائمیت کو قائم رکھنے میں محترمہ نسیم بانو اعجاز صدیقی کا کردار اہم ہی نہیں اساسی نوعیت کا حامل بھی ہے۔ 

افتخار امام صدیقی نے جس گھرانے میں آنکھیں کھولی، بچپن گزرا، وہاں خونی رشتوں کا ہی نہیںبغرض ملاقات آنے والوں کا بھی احترام کیا جاتا، ادبا و شعرا کا خیرمقدم ہوتا، آگرہ سے ممبئی تک ہر دور میں زبان و ادب سے وابستہ خواتین بصد شوق ملاقات کو جاتیں تو خانوادۂ سیماب کی مستورات ان کی خوب پذیرائی اور خاطر مدارت کرتیں۔ ایک ملاقات کے دوران افتخار صاحب نے بتایا کہ 

’’ہمارے بچپن کے زمانے میں مہنگائی ایسی نہ تھی لوگ بڑے مخلص تھے۔ کوئی تخلیق کار خاتون ہمارے گھر ملنے آتیں تو گھر کی عورتیں انہیں گھیر لیتی، خوب خاطر ہوتی، ہماری دادی جان ان کی آمدورفت کے اخراجات اور جوڑے انہیں دیتیں، ہتھیلی پر کچھ نذرانے بڑے شوق سے رکھتیں اور پھر کسی قریبی رشتے سے وابستگی باندھ لیتیں اور ہمیشہ اسی رشتے سے ان کا ناطہ جڑ جاتا۔ یہ ہمارے ادبی خاندان کی تہذیبی روایت رہی ہے۔۔۔‘‘

آج ایک خوش خلق اور مشفق شخصیت ہماری نگاہوں سے ہمیشہ کے لیے اوجھل ہوگئی۔ افتخار صاحب کی موت ایک بڑا ادبی خسارہ ہے۔ جس کا ازالہ تقریباً ناممکن ہے ان کی مقبولیت اور شہرت کو سرحدوں میں قید نہیں کیا جاسکتا۔ ماہنامہ شاعر جو عنقریب اپنی اشاعت کے سو سال مکمل کرلے گا۔ بلاشبہ افتخار امام صدیقی اردو کی ادبی صحافت کا افتخار تھے۔ افسوس کہ ادب کے اس ’’امام‘‘ کی آواز ہمیشہ کے لیے بے صدا ہوگئی۔ 

پتہ نہیں پہلے پہل میں نے انھیں بھائی کب کہا یا انھوں نے مجھے بہن کا درجہ دیا لیکن اس مقدس رشتے کا تمام حسن انہوں نے قائم رکھا۔ ہمیشہ میرے ساتھ ان کا برتاؤ ایک محترم بھائی کے خلوص کی صداقت کا مظہر رہا۔ وہ سراپا مہر و مروت رہے۔ اردو ادب و صحافت سے محبت اور رشتوں کی نگہبانی کرنے والے میرے محترم بھائی میں بڑی خوبیاں تھیں         ؎

درد کی ساری تہیں اور سارے گزرے حادثے 

سب دھواں ہوجائے گا ‘ ایک واقعہ رہ جائے گا


Shama Akhtar Kazmi

12/14, Sai Nagar, 

Gaibi Nagar, 

Bhiwandi - 421302 (M.S.)

Mob.: 9284690949





مراثیِ انیس میں ڈرامائی عناصر - مضمون نگار۔ جاوید حسن

 



مرثیہ ایک زمانے تک مذہبی شاعری تک محدود رہا۔ اُنیسویںصدی تک آتے آتے اس کی ایک ادبی شکل بن گئی۔ اِس سلسلے میں میر ضمیر اور میر خلیق کی خدمات سے ہر کوئی واقف ہے کہ کس طرح ان دونوں تخلیق کاروں نے اپنی ذہانت اور جودت طبع سے کئی اہم تبدیلیاں ایسی کیں جس سے مرثیے کا دامن وسیع ہوتا گیا۔ اس کے بعد میر ببر علی انیس اور مرزا سلامت علی دبیر کا نام آتا ہے جنھوں نے صنف مرثیہ کو عظمت بخشی۔ رَثائی ادب، جس میں مرثیے کو بجا طور پر  بنیادی مقام حاصل ہے،پر فی زمانہ بہت کچھ لکھا جاتا رہا ہے۔ صنف مرثیہ اورانیس و دبیر پر لکھے جانے کا سلسلہ ہنوز جاری بھی ہے۔ بقول پروفیسر شارب ردولوی:

’’اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر مرثیے کو انیس جیسا ماہر فنکار،ندرت فکر،وسعت نظر،گہرا مشاہدہ،تجربہ،انسانی نفسیات سے واقفیت،اپنے سامعین کی کیفیت اور جذبات کا نباض نہ مل جاتا تو شاید مرثیہ فن کی اس معراج تک نہ پہنچ پاتا جہاں آج وہ نظر آتا ہے۔ ‘‘ 

 ہم سب جانتے ہیں کہ ڈراما اور مرثیہ بنیادی طورپر دو مختلف اصناف ہیں،لیکن میر انیس کے مرثیے کا کینوس اتنا وسیع ہے کہ اس کی حدیں المیہ ڈرامے کی حدود سے جا ملتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مراثیِ انیس میں بھی وہ تمام خصوصیات اور عناصر ہمیں مل جاتے ہیں جو ڈرامے کے مخصوص عناصر شمار ہوتے ہیں۔ جیسے قصہ، کردار، مکالمہ، اورتصادم وغیرہ کے علاوہ سب سے اہم عنصرکتھارسس  یا تزکیہ نفس یا طہارت نفس جو کہ مصنف کا اصل مقصد ہوتا ہے۔ اِس روشنی میں اگر ڈرامے کے عناصر اور مرثیے کی ہئیت او رعناصر کو دیکھیں تو ظاہر ہے اِن میں کوئی تعلق نہیں ملتا لیکن واقعۂ کربلا ایسا المناک سانحہ ہے جس میں رزمیہ بننے کے امکانات پوشیدہ ہیں۔

میر انیس کسی ڈرامے کی تخلیق نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ ایک حقیقی واقعے کو مختلف طریقوں سے اپنی شاعری میں بیان کر رہے تھے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ مرثیہ لکھتے وقت ا گر چہ اَنیس کے سامنے ڈرامے کے عناصر نہیں تھے لیکن اُن کے مرثیوں کو پڑھتے ہوئے ہمیںیہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ تمام لوازمات جو کسی واقعے کو ایک کامیاب ڈرامے میں تبدیل کرتے ہیں، انیس کے مرثیوں میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پرحسینؓ کی فوجِ مخالف سے گفتگو، خاص طور پر حُر او راِبن ِسعد کے درمیان مباحثے،حضرت زینب کی عباس اور عون و محمد سے بات چیت نیز اآلِ رسولؐ کی رجز وغیرہ میں ایکشن یا حرکت کی بے شمار مثالیںہم دیکھ سکتے ہیں، جس سے انیس کے مرثیوں میں ڈرامائی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔راقم نے اس مطالعے کو ڈرامے کے دو عناصر ترکیبی یعنی کردار نگاری اور مکالمے تک محدود رکھا ہے۔

کردار نگاری کے  ضمن میں یوں تو بہت سے ایسے کردار ملتے ہیں مگرسر دست صرف ایک کردار کے بارے میں بات کرتے ہیں اور وہ بے مثال کردار ہے حضرت ِحُرکا۔ اِس سلسلے میں معروف فکشن نگار ڈاکٹرخالد جاوید اپنے ایک مضمون بعنوان ’انیس کے منظر نامے کا ایک وجودی کردار ‘ میں لکھتے ہیں :

 ’’انیس کی کردار نگاری کے جوہر بھی دَر اصل منظر نامے سے ہی کھُلتے ہیں۔ اُن کے یہاں کردار کی تشکیل،اُس کا ارتقا اور اُس کے تمام تخلیقی امکانات بیانیہ میں نہیں بلکہ منظر نامے میں نظر آتے ہیں۔ ‘‘

( رسالہ جامعہ،جلد نمبر100، جولائی- دسمبر، 2003)

میرے خیال سے یہ منظر نامہ ایک ڈرامائی کیفیت میں سمایا ہوا ہے۔ ارسطو نے یونانی المیوں کے حوالے سے کتھارسِس     ( تزکیہ نفس یا طہارت نفس) کا جو تصوّر پیش کیا تھا اُس کے مطابق المیے کا ہیرو شجاعت، بہادری، ذہانت اور حسن کا مرکز تو ہوتا ہی ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک بڑے مقصد کے لیے اپنی قربانی بھی دیتا ہے۔ یوں اگر ہم دیکھیں تو تمام مرثیوں میں طہارتِ نفس کا یہ پہلو بدرجۂ اتم موجود ہے اور اُردو میں مثنوی کو چھوڑ کر دوسری ایسی کوئی صنف سخن نہیں جس میں ڈرامائی کیفیت یا ڈرامے کی حرکیات سے اتنا زیادہ کام لیا گیا ہے جتنا کہ مرثیے میں ہمیں نظر آتا ہے۔ڈاکٹر خالد جاوید اپنے مذکورہ بالا مضمون میں آگے لکھتے ہیں کہ :

’’حُر کا کردار انیس کے مرثیے کا ایک وجودی کردار نظر آتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اُس عہد میں نہ صرف دوسرے مرثیہ نگار کے یہاں بلکہ کسی دوسری صنف سخن میں بھی ایسے کردار کا تصور ممکن نہ تھا۔ ... انیس کا کارنامہ یہی ہے کہ یہ مرثیہ اس کردار کے حوالے سے بہت اہم قرار پاتا ہے بلکہ یہ مذہبی اور تاریخی کردار (حُر) اُردو کی کلاسیکی شاعری کا بھی ایک نا قابلِ فراموش کردار بن جاتا ہے۔‘‘ ( رسالہ جامعہ،جلد نمبر100، جولائی-دسمبر، 2003)

 جنگ کرتے ہوئے جب حُر زخمی ہوکر زمین پر گر پڑتے ہیں تو اس وقت کا منظر اور ان کے درمیان گفتگو  ملاحظہ کیجیے         ؎

نیم وا چشم سے،حُر نے رُخِ مولا دیکھا

زیر سر، زانوئے شبّیر کا تکیہ دیکھا

مُسکرا کر،طرفِ عالمِ بالا دیکھا

شہ نے فرمایا کہ اے حُرِ جری کیا دیکھا؟

عرض کی،حُسنِ رُخِ حور نظر آتا ہے

فرش سے عرش تلک نور نظر آتا ہے

——

باغِ فردوس دکھاتا ہے مجھے اپنی بہار

صاف نہریں ہیں رواں،جھوم رہے ہیں اشجار

شاخوں سے،میری طرف بڑھتے ہیں میوے ہر بار

حوریں لاتی ہیں جواہر کے طبق بہر نثار

ہے یہ رضواں کی صدا، دھیان کدھر تیرا ہے ؟

دیکھ اَے شاہ کے مہمان! یہ گھر تیرا ہے

——

قبلہ رو کیجیے لاشہ میرا  اے قبلۂ دیں !

پڑھیے یاسین کے اب دم باز پسیں

کوچ نزدیک ہے، اے بادشہ عرش نشیں!

لیجیے، تن سے نکلتی ہے مری جانِ حزیں !

بات بھی،اب تو زباں سے نہیں کی جاتی ہے

کچھ اُڑھا دیجیے مولا! مجھے نیند آتی ہے

حُر کو ایک وجودی کردار ثابت کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد جاوید نے اپنے مضمون میں حُر کی شہادت کو ایک انفرادی موت سے تعبیر کیا ہے اور بقول ان کے دراصل یہ اپنے وجود کا عرفان ہونے کے بعد کی موت ہے جو ایک نیند کی طرح ہے، نیند جو ایک ساتھ نشاط انگیز اور اُداس ہے ’’جب چپ چاپ چادر اوڑھنے کو جی چاہے تو یہ ایک انفرادی موت ہے جس کا اجتماعی تصّور مرگ سے کوئی علاقہ نہیں ۔‘‘

کردار نگاری پر مختصر اظہار خیال کے بعد آئیے بات کرتے ہیں مکالمے کی۔ڈرامے میںکرداروں کواپنی ذات کی نمائندگی کرتے ہوئے خود اپنے افعال ومکالمات سے اپنی شخصیت کو اجاگر کرنا پڑتا ہے۔کرداروں کی نفسیات اورجذبات کونمایا ںکرکے ان کی شخصیت کوموثر بنانے میں درجہ ذیل تین صورتیں معاون ہوتی ہیں۔ (1) کسی کردار کی دوسرے کردار سے گفتگو (2)کسی کردار کے بارے میں دو کرداروں کا اظہار خیال اور(3) واقعات اور ڈرامے کی اندرونی فضا سے کرداروں کی شخصیت پرروشنی پڑنا۔کردار نگاری کے سلسلے میں وقار عظیم کا ایک قول اہمیت کا حامل ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’ کردار کی گفتگو اور اس کی حرکات و سکنات سے جہاں ایک طرف کردار کی شخصیت اور اس شخصیت کے انفرادی پہلو ابھرتے اور اجاگر ہوتے ہیں، دوسری طرف ان ہی دو چیزوں سے ڈراما نگار اور بہت سے کام لیتا ہے۔ کردار اپنی باتوں میں اور اپنی حرکتوں سے پلاٹ کے چھپے ہوئے حصوں کی تکمیل کرتے جاتے ہیں، وہ انھیں دونوں چیزوں سے کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں۔ یہی دونوں چیزیں ناظر کے اس انہماک (جو ڈراما دیکھنے کی بڑی ضروری شرط ہے) اور اس کے اس اشتیاق کو جس پر اچھی کہانی کا انحصار اور دار و مدار ہے، قائم رکھنے کا سب سے موثر وسیلہ ہیں، یہی دونوں چیزیں ارتقاکی ساری منزلیں طے کرنے میں پلاٹ کی راہ نما بنتی ہیں۔ اور ان ہی کے سہارے سے اس کی ابتدائ اور اس کے نقطئہ عروج اور اس کے خاتمے میں صحیح قسم کا ربط تسلسل اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اور یہی دونوں چیزیں اس مجموعی تاثر کو برقرار رکھنے کی خدمت انجام دیتی ہیں جو اچھے ڈرامے کا طرئہ امتیاز ہے‘‘۔

کسی بھی ڈرامے میںمکالمے کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ یہ ڈرامے کا سب سے اہم جزو ہے مگر بعض دفعہ فکشن میں بھی اس سے کام لیا جاتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مرثیہ جو کئی اصناف کی خوبی اپنے اندر سموئے ہوتا ہے، متعدد جگہ اس کی وجہ سے ایک متاثر کن فضا نظر آتی ہے جس سے واقعات کے بیان میں بھی کافی مدد ملتی ہے۔مکالمے حرکت و عمل کو قوت بخشنے اور قصّے کو آگے بڑھانے کے لیے ہوتے ہیں،  ڈرامے میں مکالمے مختصر اور برجستہ ہوتے ہیں لیکن ان کے اختصار میں گہری معنویت موجود ہوتی ہے۔ ایسے مکالمے ڈرامے کی کامیابی کے ضامن ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں پروفیسرمحمد حسن اپنی کتاب ’ادبیات شناسی‘ میں لکھتے ہیں:

’’مکالمے تین صورتوں سے خالی نہیں ہوتے اور اگر وہ ان تینوں میں سے کوئی شرط بھی پوری نہ کرتے ہوں تو ڈرامے میں ان کی گنجائش نہیں۔یا تو مکالمہ کہانی کو آگے بڑھاتا ہو۔ یا کردار کے کسی پہلو کو واضح اور اس میں تبدیلی یا ارتقا ظاہر کرتا ہو یا فضا پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہو۔‘‘ 

 مکالمے ڈرامے کی جان ہوا کرتے ہیں۔ اس لیے مکالمے لکھتے وقت بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، ورنہ مکالمہ نگاری بے جان اور بے اثر ہو جاتی ہے: مثلاً مشکل زبان اور اُلجھے ہوئے فقرے، بے موقع اور بے ربط اور ایسا اسلوب و ادا جو کردار اور ماحول کے لیے مناسب نہیں ہوتے مکالمے کے لیے معیوب سمجھے جاتے ہیں۔ اسی طرح طویل فقرے اور جا بجا واعظانہ پند و نصیحت کا انداز یا خو دکلامی کی بہتات یا طویل خود کلامی وغیرہ بھی مکالمے میں عیب کا باعث ہوتی ہیں۔ اس کے بر عکس مناسب و موزوں نیز سلیس و فصیح زبان کا استعمال; برمحل، برجستہ، اور چست فقرے جو سلاست اور فصاحت کے آئینہ دار ہوں اور سادہ و مختصر گفتگو جو عام فہم ہونے کے ساتھ موقع ومحل کے لحاظ سے مناسب ادائیگی کے قابل ہوں مکالمے میں حسن پیدا کرتی ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ مراثیِ انیس میں بے شمار ایسے موثر مکالمے موجود ہیں۔ مثال کے طور پر میر انیس کے مرثیوں کے چند بند ملاحظہ کیجیے     ؎

اُٹھے یہ شور سن کے امامِ فلک وقار

ڈیوڑھی تک آئے،ڈھالوں کو روکے رفیق و یار

فرمایا مُڑ کے، چلتے ہیں اَب بہرِ کارزار

کمریں کسو جہاد پہ، منگوائو راہوار

دیکھیں فضا بہشت کی،دل باغ باغ ہو

اُمّت کے کام سے،کہیں جلدی فراغ ہو

——

بولے قریب جا کے،شہ آسماں جناب

مضطر نہ ہو، دعائیں ہیں تم سب کی مستجاب

مغرور ہیں،خطا پہ ہیں یہ خانماں خراب

خود جا کے دکھاتا ہوں اِن سب کو رہِ صواب

موقع نہیں بہن، ابھی فریاد و آہ کا

لائو تبرّکات، رِسالت پناہ کا

بی بی زینب کی عون و محمد سے گفتگو کا ایک انوکھا انداز ملاحظہ کیجیے          ؎

کرتے تھے دونوں بھائی کبھی مشورے بہم

آہستہ پوچھتے کبھی ماں سے وہ ذی حشم

کیا قصد ہے علی ولی کے نشان کا؟

اماّں ! کسے ملے گا عَلَم نا نا جان کا ؟

——

زینب نے تب کہا،کہ تُمھیں اِس سے کیا ہے کام ؟

کیا دخل مُجھ کو ؟ مالک و مختار ہیں امام

دیکھو نہ کیجو بے اَدَبانہ کوئی کلام!

بگڑوں گی میں،جو لوگے زباں سے علم کا نام

لو جائو بس کھڑے ہو الگ،ہاتھ جوڑ کے

کیوں آئے تُم یہاں  علی اکبر کو چھوڑ کے

——

سر کو،ہٹو،بڑھو،نہ کھڑے ہو عَلَم کے پاس

ایسا نہ ہو کہ دیکھ لیں،شاہِ فلک اَساس

کھوتے ہو اور،آئے ہوئے تُم مرے حواس

بس !قابلِ قبول نہیں ہے یہ التماس

رونے لگوگے پھر، جو برا یا بھلا کہوں

اس ضد کو بچپنے کے سوا اور کیا کہوں؟

 مراثی انیس کے مذکورہ بالا مختلف بند میں جو مکالمے پیش کیے گئے اسے مکالمہ نگاری کی بہترین مثال قرار دی جا سکتی ہے۔ مکالمے کے ساتھ ساتھ انیس کے بیشتر مرثیوں میں منظر نگاری کی بھی بہت عمدہ مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً جنگ کے روزوہاں کے حالات کا نقشہ کس طرح کھینچا گیا ہے،اس بند میں ملاحظہ کیجیے          ؎

گرمی کا روزِجنگ کی، کیوں کر کروں بیاں؟

ڈر ہے کہ مثلِ شمع نہ جلنے لگے زباں

وہ لُوں کہ الحذر،وہ حرارت کہ الاماں

رن کی زمیں تو سرخ تھی،اور زرد آسماں

آب خنک کو خلق، ترستی تھی خاک پر

گویا ہوا سے آگ برستی تھی خاک پر

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ مراثیِ انیس میںڈرامے کے بہت سے عناصر مشترک ہیں۔ اخیر میں پروفیسر شارب ردولوی صاحب کی بات پرمیں اپنی گفتگو ختم کرتا ہوں کہ ’’ رثائی ادب بالخصوص منظوم رثائی ادب جو ہمارے ادب کا بڑا وقیع حصہ ہے وہ سمٹتا جا رہا ہے۔ رِثائی ادب کی تخلیق ہو یا فروغ دونوں کا معاملہ زبان کی تعلیم اور اصناف میں اس کی تدریس سے وا بستہ ہے جس کی طرف توجہ زبان اور رِثائی ادب دونوں کے تحفظ کی ضمانت ہوگی۔‘‘

 

Dr. Jawaid Hassan

Guest Teacher, Department of Urdu

Jamia Millia Islamia

New Delhi - 110025

Mob.: 9718483089

 

ماہنامہ اردو دنیا، جون 2021 

 

 

 

 


بدھ، 28 جولائی، 2021

کرتار سنگھ دگل کی اردوڈراما نگاری - مضمون نگار۔ اقبال احمد


 


سر زمینِ پنجاب ازل سے ہی مختلف نسلوں کے افراد سے آباد ہے اور مختلف مذاہب و عقائد یہاں کی رنگارنگ زندگی کا جزو ہیں۔یہاں تھوڑے فاصلے سے یا کہیں کہیں گردوارے، مسجد، مندر اور گرجا گھر اکٹھے بھی نظر آتے ہیں۔ جو اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ یہ علاقہ سیکولر ہے اوران مختلف مذاہب و عقائد کے باوجود پنجاب میں ہمیشہ سے ہی اتحاد،اتفاق ہے۔ دراصل یہی باطنی احساس اور نفسیاتی و جذباتی ہم آہنگی کا تصور قومیت کی تشکیل کرتا  ہے اورکسی قوم کو متحد رکھنے میں ایک اہم رول ادا کرتا ہے۔ پروفیسر محمد جمیل اس سلسلے میں لکھتے ہیں کہ:

’’پنجاب پانچ دریاؤں، پیروں، پیغمبروں، صوفی اوتاروں کی دھرتی ہے، جس کی جواں مردی، سرفرازی، دانشوری اور مہمان نوازی کی شہرت آج بھی باقی ہے۔ جہاں پر مختلف مذاہب کے تصورات و خیالات شامل ہیں۔ یہیں کے آب دریا نے لوگوں کے دلوں میں پیار و محبت، امن و آشتی کا پیغام دیا ہے... پنجابیوں میں آپسی رواداری  الفتوں اور محبتوں کا پیغام زندگی کے سفر کے ساتھ  رواں دواں ہے۔ ‘‘(اردو فارسی اور پنجاب،ص 107-8)

اسی متحدہ قومیت کے تصور کو قائم رکھنے کے لیے ایک ایسی زبان کی ضرورت تھی جسے اس خطے کے تمام افراد سمجھ، بول اور پڑھ سکیں۔ جب برصغیر ہند میں مسلمانوں کی آمد کے ساتھ عربی و فارسی زبانیں آئیں اور ایک عرصہ تک فارسی یہاں کی سرکاری و درباری زبان بھی رہی اور بیرونی زبانیں یہاں کی مقامی زبانوں کے ساتھ میل جول کے باعث ایک نئی مخلوط زبان نے جنم لیا جسے مختلف ادوار اور علاقوں میں الگ الگ ناموں سے پکارا جاتا رہا اور بالآخر اردو کے نام سے موسوم ہوئی۔

اس بات کے کہنے میں کوئی تامل نہیں ہے کہ بلا شبہ اردو زبان کے جنم داتا مسلمان رہے ہیں مگر اردو محض مسلمانوں کی ہی زبان نہیں ہے اور نہ ہی اسے مذہب کے ساتھ جوڑا جاسکتا ہے۔ اس زبان کی ترویج و اشاعت میں ہمارے غیر مسلم ادبا و شعرا کا ایک بہت بڑا حصہ ہے بلکہ یہ کہا جائے کہ برابر کے شراکت دار ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ امام مرتضیٰ نقوی لکھتے ہیں کہ :

’’اردو کو اس کی دلکشی اور رعنائی کے باعث ہر مذہب اور ہر فرقے کے لوگوں نے اپنایا ہے۔ہندو ہوں یا مسلم سکھ ہوں یا عیسائی۔ہندوستان کے ہر گروہ اور فرقے نے اس میں اپنے لیے پناہ ڈھونڈی ہے ۔‘‘

(اردو ادب میں سکھوں کا حصہ،ص 5)

تقریباً دو سوا دو صدیوں پر محیط اردو ادب کے منظرنامے کا جائزہ لینے سے اردو کے غیر مسلم ادبا میں صرف سکھ قلمکاروں کے ہی اَن گنت ایسے نام سامنے آتے ہیں جو اردو کے خدمت گزاروں اور جاں نثاروں میں شامل ہیں۔ اردو نظم ونثر، صحافت۔ خطابت، ڈرامہ، تنقید و تحقیق وغیرہ غرض ہر صنف اور ہر دور میں سکھ قلمکاروں کی خدمات اردو زبان و ادب کو حاصل رہی ہیں۔ اردو میں سکھ شعرا کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن نثر کے میدان میں ان کی تعداد شاعری کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ڈاکٹر سیفی پریمی لکھتے ہیں کہ:

’’آج ہمارے سامنے سکھ شاعروں کی طویل فہرست موجود ہے جنھوں نے نعت،قصیدہ، سلام وغیرہ مختلف اصناف پر طبع آزمائی کی ہے۔ ‘‘

(اردو ادب میںسکھوں کا حصہ،ص 11)

اسی طرح سکھ نثر نگاروں کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:

’’سکھوں میں وقیع نثر نگار بھی ہیں۔ ان کی نگارشارت آل اندیا ریڈیو سے نشر کی جاتی ہیں۔انھوں نے ریڈیو کے لیے فیچر لکھے ہیں۔بمبئی میں فلم کے مکالمے سپردِ قلم کیے ہیں... ممتاز کہانی کار،ناول نویس، ڈرامہ نگار اور نقاد ہیں۔ بعض تخلیقات پر حکومتِ ہند نے انعام بھی دیا ہے۔‘‘

(اردو ادب      میں سکھوں کا حصہ،ص 11-12)

اردو کی دیگر نثری اصناف کے ساتھ ساتھ سکھ قلمکارو ں نے ڈرامے کے فروغ میں بھی اہم کردارادا کیا ہے اور اردو کے چند گنے چنے بلند پایہ ڈرامہ نگاروں میں سکھ ڈرامہ نگاروں کا نام بھی شامل ہے جن میں ایک اہم نام کرتار سنگھ دگل کا بھی ہے۔

کرتار سنگھ دگل کا شمار صرف پنجاب کے ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے اہم قلمکاروں میں ہوتا ہے۔ دگل کا جنم یکم مارچ 1917کو راولپنڈی میں ہوا تھا۔ فارمین کرسچن کالج لاہور سے ایم۔ اے کرنے کے بعد 1942 میں آل انڈیا ریڈیو میں ملازمت حاصل کی اور اس کے علاوہ نیشنل بک ٹرسٹ کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ دگل کا نام پنجابی زبان و ادب میں تو کافی اہمیت رکھتاہی ہے اس کے علاوہ وہ، اردو، ہندی اور انگریزی میں بھی اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ ان کا پنجابی اردو اور ہندی کاکل ادبی سرمایہ جو 41 کہانیوں کے مجموعوں، 33ڈراموں، 14 ناولوں، 9 تحقیقی و تنقیدی کتابوں، دو سوانح حیات اور 8 شعری مجموعوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ انگریزی زبان میں ان کی مجموعی تخلیقات 41ہیں جو ناولوں،افسانوں اور ڈراموں پر مشتمل ہے۔دگل کے عرصۂ حیات کے ساتھ ساتھ ان کے فن کی عمر بھی کافی طویل رہی مگر اس طویل عرصے میں انھوں نے دیگر زبانوں کے مقابلے میں اردو ادب کوبہت کم تخلیقات عطا کی ہیں مگر جو دی ہیں وہ کافی بلند پایہ،منفرد اور شاہکار ہیں۔ ادب میں دگل کے مقام کے متعلق ڈاکٹر انعام الرحمن لکھتے ہیں کہ:

’’پنجابی اور اردو ادب میں ان کا مقام وہی ہے جو انگریزی ادب میں ملک راج آنند اور خوشونت سنگھ،اردو ادب میں سعادت حسن منٹو،راجندر سنگھ بیدی اور اوپندر ناتھ اشک کا ہے‘‘

(پنجاب میں اردو ڈرامے کی روایت :تفہیم و تجزیہ، ص 402)

کرتار سنگھ دگل کی سلطنتِ اردو نثرنگاری کی سرحدیں صرف افسانے اور ناول تک ہی محدود نہیں ہیںبلکہ انھوں نے صنفِ ڈرامہ میں بھی قابل قدر کارنامے انجام دیے ہیں۔ کرتار سنگھ دگل اردو کے ایک اہم اور مایہ ناز ڈرامہ نگار تھے۔ ان کا ڈرامہ ’دیا بجھ گیا‘ اور ایک ڈراموں کا مجموعہ ’اوپر کی منزل ‘کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ ان کے ڈراموں کا مجموعہ ’اوپر کی منزل‘دس ڈراموں پر مشتمل ہے۔ دگل نے زیادہ تر ایکانکی ڈرامے لکھے ہیں اور پنجاب کے ایکانکی ڈراما نگاروں، اوپندر ناتھ اشک، کرشن چندر، سعادت حسن منٹو اور راجندر سنگھ بیدی کے ساتھ ان کا نام لیا جاسکتا ہے۔ ’ایکانکی ڈراما‘ ڈرامے کی ایک ایسی قسم ہے۔جسے انگریزی میں ون ایکٹ پلے(One Act Play) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ون ایکٹ پلے میں سب سے زیادہ اہمیت مرکزی کردار کی رہتی ہے، جس کا پلاٹ بہت مختصر ہوتا ہے اور اس کے سبھی کردار مرکزی کردار کو ایک ایکٹ میں پیش کرتے ہیں۔ دگل کا شمار اردو کے ان چند ڈراما نگاروں میں کیا جاتا ہے جن کے ڈرامے فنی اعتبار سے کامیاب اور مکمل کہے جاسکتے ہیں۔انعام الرحمن لکھتے ہیں کہ :

’’دگل نے اپنے فن کا لوہا اس وقت منوایا جب ان کے ارد گرد کرشن چندر،سعادت حسن منٹو اور راجندر سنگھ بیدی جیسے افسانہ اور ڈرامہ نگارموجود تھے۔ریڈیو ڈراموں میں جو مقبولیت دگل کو ملی کسی کو بھی نصیب نہیں ہوئی‘‘

(پنجاب میں اردو ڈرامے کی روایت :تفہیم و تجزیہ، ص405)

کرتار سنگھ دگل کاایک مخصوص وصف جو انھیں دوسرے ڈرامہ نگاروں سے ممیز کرتاہے وہ یہ ہے کہ ان کے چند ڈرامے مونو لوگ Monologue ہیں۔مونولوگ سے ایسے ڈرامے مراد لیے جاتے ہیں۔ جن میں صرف ایک ہی کردار ہو۔اس طرح کے ڈرامے ریڈیو کے لیے لکھے جاتے تھے اور ان کے اکثر و بیشتر ڈرامے ریڈیو کے لیے ہی لکھے گئے ہیں۔ان کے مشہور ریڈیو ڈراموں میں دیا بجھ گیا، پرانی بوتلیں،اپنی اپنی کھڑکی اور’اوپر کی منزل‘ شامل ہیں۔یہ ڈرامے پنجاب اور بیرونِ پنجاب ریڈیو کے علاوہ اسٹیج پر بھی دکھائے گئے ہیں۔ ’اوپر کی منزل‘ان کے مونولوگ ڈرامے کا بہترین نمونہ ہے۔ اس ڈرامے کا مرکزی خیال ان مردوں کی کہانی ہے جو اپنی بیویوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اس ڈرامے کا مرکزی کردار ایک مرد ہے جو اپنی بیوی پر شک کرتا ہے۔ نمونے کے طور پراس ڈرامے کے کردار کی خودکلامی کو ملاحظہ کریں:

’’مرد:۔ (بھرائی ہوئی آواز میں )

کبھی ایسا ہوا ہے

دنیا میں کبھی ایسا ہوا ہے

کہ کوئی پینتیس سال کی بیوی

پھر سے عشق کرنے لگ جائے

کبھی ایسا بھی ہوا ہے

کہ کوئی تین بچوں کی ماں

کسی پرائے مرد کے لیے پاگل ہو اٹھے

کبھی کسی نے یہ بھی سنا ہے

پندرہ سال ایک چھت کے نیچے رہ کر

کوئی یوں آزاد ہو جائے‘‘

(اوپر کی منزل،ص 100-101)

انھوں نے اپنے ڈراموں کو صرف پنجابی ہی نہیں بلکہ ہندوستانی تہذیب اور معاشرت کے پس منظر میں بھی پیش کیاہے۔ہندوستان کے تقریباً ہر طبقے کی ترجمانی ان کے ڈراموں میں ملتی ہے۔ان کے ڈراموں کے کردار امیر،غریب،فقیر اور متوسط غرض ہر طرح کے لوگ ہیں۔ انھوں نے اپنے ایک ڈرامہ’جھوٹے ٹکڑے‘ میں ایک فقیر اور رئیس کا نقشہ کچھ یوں کھینچا ہے۔

’’ایک: فقیر ( گلی میں )  بابا اللہ کے نام پر ایک ٹکڑا روٹی! میں بھوکا ہوں۔

بڑھیا: یہ کم بخت پھر آگیا۔

فقیر گاتے ہوئے

’’چڑی چونچ بھرلے گئی ندسی نہ گھٹیو نیر‘‘

بڑھیا :۔ یہ پیچھا نہیں چھوڑے گا عشو اسے کچھ دے کر ٹالو۔‘‘ (اوپر کی منزل ص270)

مکالمے ڈرامہ کی جان ہوتا ہے اور ڈرامے کی کامیابی اسی پر منحصر ہوتی ہے۔ مکالمے سے ہی کسی شخص کے ذہنی رجحان،نفسیات اور مزاج کا پتہ چلتا ہے اور یہ ڈرامہ نگار کی صلاحیت پر منحصر ہے کہ اپنے کردار سے کس قسم کا مکالمہ ادا کروائے۔ دگل نے مکالمہ نویسی کے حوالے سے تمام تر باریکیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی ڈرامے تحریر کیے ہیں۔ان کے اکثر و بیشتر ڈرامے ریڈیو کے لیے ہی لکھے گئے ہیںاور ریڈیو ڈرامے چونکہ بصری نہیں بلکہ سمعی ہوتے ہیں اس لیے اس کمی کو مکالموں، صوتی اثرات اور تخیل سے پورا کیا جاتا ہے۔ ان کے ڈراموں کے مکالمے، کرداروں کی انفرادیت ان کے شعور اور عمل کو ظاہر کرتے ہیں۔ موقع  ومحل کی وضاحت بھی مکالمات سے ہی ہوتی ہے۔ ان کے ڈراموں کے مکالمے عام طور پر مختصر ہیں اور جہاں کہیں طویل مکالمے ہیں انھیں چھوٹے چھوٹے جملوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ نمونے کے طور پر ان کے ڈرامہ ’دیا بجھ گیا‘ سے یہ طویل مکالمہ ملاحظہ کریں:

’’نوراں

بیٹا جو تیرے جی میں آئے کر

تو اس گھر کی مالکن ہے

آج میں کتنی خوش ہوں

کشمیر یہ جنت

کشمیر یہ فرشتوں کا دیش

جہاں پریاں آکر ٹہلتی ہیں

حوریں جہاں آکر سستاتی ہیں‘‘

اسی طرح تقریباً ایک سے زائد صفحے پر مشتمل یہ طویل مکالمہ چھوٹے چھوٹے جملوں میں منقسم ہے۔ دگل کے مکالمے کرداروں کی آمدورفت کو ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ تخیل کی بیداری اور ریڈیو اسلوب کے لیے بہت ہی موزوں ہیں۔

کرتار سنگھ دگل کے ڈراموں کے پلاٹ مربوط اور متناسب ہیںان میں عضویاتی وحدت موجود ہے۔ انھوں نے اپنے ڈراموں کے واقعات اور کرداروں کے انتخاب کرنے میں اختصار اور اہمیت کا خاص دھیان رکھا ہے۔ وہ کم سے کم وقت میں اہم واقعات اور کرداروں کو پیش کرنے کے فن سے بخوبی واقف تھے۔ ان کے ڈراموں کے پلاٹ کی تینوں منازل یعنی آغاز، درمیان اور انجام سبھی صاف اور واضح ہوتے ہیں۔ دگل اپنے ڈراموں کے پلاٹ کی ترتیب و تعمیر میں انجماد اور ایجاز و اختصار سے کام لیتے تھے۔ ان کے پلاٹ اپنے اندر ایک معتدل قسم کی رومانیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے المیہ اور طربیہ دونوں قسم کے ڈرامے لکھے ہیں۔ المیہ ڈراموں کی تخلیق آسان نہیں ہوتی اس کا تعلق جذبات سے ہوتا ہے اس لیے ڈرامہ نگار کے لیے یہ از حدضروری ہوتا ہے کہ وہ خود اپنے اندر ایسے جذبات پیدا کرے جس سے وہ کامیاب کرداروں کی تخلیق کرسکے۔

دگل کے المیہ ڈراموں میں امانت، جھوٹے ٹکڑے، اور ’دیا بجھ گیا‘ بہت ہی کامیاب ڈرامے ہیں۔ ان کا ڈرامہ امانت ایک ایسی نوجوان لڑکی کی کہانی ہے، جو جوانی میں موت کے منھ میں چلی جاتی ہے۔مرتے وقت اس لڑکی کے جذبات ایک مکمل تصویر بن کر ہماری آنکھوں  کے سامنے آجاتے ہیں۔ اس ڈرامے کا اختتام کچھ یوں ہوتا ہے۔

’’لڑکی؛ اب سن میری چھاتی کی طرف چل پڑی ہے

میرا گلا رک رہا ہے

میری آنکھوں کے سامنے جیسے تارے گھوم رہے ہیں

میری آخری سانس تک

ابّا میں جارہی ہوں

امّی میں جارہی ہوں

بھیا میں جارہی ہوں

بہنو میں جارہی ہوں

میں جا.....

لڑکی کی آواز رک جاتی ہے۔‘‘

(اوپر کی منزل ص 212)

اسی طرح ’چھوٹے ٹکڑے‘ میں بھی دگل نے ایک غریب گھرانے کا نقشہ کھینچا ہے، جس کا ایک نوجوان غربت اور فاقوں کے باوجود بھی اپنی خوداری کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔  جھوٹے ٹکڑوں کو وہ نوجوان حقارت سے دیکھتا ہے اور ملامت کرتا ہے۔مکالمے ملاحظہ کریں :

’’ باپ : تمھیں کیا ہورہا ہے

برکت : یوں خیرات دے کر سیٹھ نے ہماری غربت کا منھ چڑایا ہے

باپ : بیٹا!

برکتـ یہ تمھارے ہاتھ میں ٹارچ کیسی ہے

باپ: حبیب سیٹھ نے دی تھی

برکت ـ : چاند کی چاندنی دیکھو کیسے کھلی ہوئی ہے اور سیٹھ نے اسے ٹارچ دی ہے۔ اندھیرے سے بچنے کے لیے چوروں سے بچنے کے لیے۔ ادھر مٹھائی دیتے ہیں ادھر چوروں سے بچانے کا انتظام کراتے ہیں۔ہمارا کوئی بیری نہیں ہے۔ہمارے پاس ہے ہی کیا جو کوئی چرا لے جائے گا۔ میں ایسی مٹھائی کو ہاتھ نہیں لگاؤ ں گا۔

بڑھیا: اب لے ہی آئے ہیں تو کھا ہی لے

برکت:مجھے اس میں سے بو آتی ہے۔ میں اسے چھونے تک کو تیار نہیں۔‘‘

(ٹوکری کو فرش پر پھینک دیتا ہے۔)

(اوپر کی منزل، ص301-302)

المیہ ڈراموں میں دگل کو کافی حد تک کامیابی ملی ہے بلکہ کامیاب ہوئے ہیں لیکن طربیہ ڈرامے لکھتے وقت ان کا قلم ذرا دھیما چلتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے سوچ سوچ کر اور رک رک کر لکھ رہے ہیں۔ان کے طربیہ ڈرامے رومانیت سے سرشار ہیں۔ ان کے طربیہ ڈرامے ’اپنی اپنی کھڑکی‘میں وہ ایک دوشیزہ کے جذبات کا اظہار کچھ یوں کرتے ہیں:

’’میرا: کھڑکی بڑی اور چھوٹی کیا کھڑکی میں سے تو کسی کی جھلک ہی لینی ہوتی ہے ایک نظارہ اور کوئی مدہوش ہو جاتا ہے۔ کھڑکی بڑی اور چھوٹی کیا دیکھنا یہ ہے کہ کھلتی کس طرف ہے نیلے آسمان کی جانب یا کسی بدرو کی طرف۔ کھڑکی بڑی اور چھوٹی کیاکھڑکی میں سے تو ٹھنڈی ہوا آتی ہے۔محبوب کے دیس کی حسین یادیں۔‘‘

(اوپر کی منزل،ص 143)

دگل نے اپنے ڈراموں میں جہاں کہیں عورت کا کردار پیش کیا ہے وہ ہمیں صرف مشرقی عورت کے روپ میں ہی  نظرآتی ہے۔یعنی جس میں توہم پرستی بھی ہے، ایثار بھی ہے،محبت کا پیکر و مجسمہ بھی ہے اور زندگی کے نشیب و فراز سے واقف بھی ہے۔ دگل کے ڈراموںکے نسوانی کرداروں میں نوراں،راجی،میرا اورپروین وغیرہ اس کا اہم نمونہ ہیں ۔

المختصر کرتار سنکھ دگل نے اپنے ڈراموں کے ذریعے زندگی کے تمام پہلوؤ ں کی نمائندگی کی ہے۔ انھوں نے نہ صرف اردو ادب کو بہت سے ڈراموں اور کہانیوں سے نوازا ہے بلکہ پنجابی ادب کو بھی ڈھائی سو کے قریب کہانیاں عطا کی ہیں۔ ان کی تخلیقات میں انسان دوستی، اتحاد، رفاقت،نئے دور کی بشارت، وطن پرستی، سماجی شعور، ہندوستان کی معاشرت کا نقشہ اور قومی تصورات وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے فنی کارنامے ثابت کرتے ہیں کہ دنیا کی کسی بھی زبان پر کسی مخصوص طبقے اور مذہب کی اجارہ داری نہیں ہے۔زندگی کو سنوارنے اور نکھارنے میں زبان و ادب کا ایک اہم رول ہوتا ہے۔ کرتار سنگھ دگل نے بھی دیگر زبانوں کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں بھی اس کام کو انجام دیا ہے۔ بلاشبہ اردو ڈرامہ نگاری میں ان کا ایک اہم مقام ہے۔ اردو ڈرامہ نگاری بالخصوص پنجاب کی اردو ڈرامہ نگاری کے حوالے سے انھیں ہمیشہ یا د رکھا جائے گا۔ دگل کو ادبی خدمات کے اعتراف میں پدم بھوشن سمیت ان گنت اعزازات اور ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔


 

Iqbal Ahmed

Research Scholar

Deptt. of Persian,Urdu & Arabic

Punjabi University

Patiala- 147002 (Punjab)

Email:oafgme9111@gmail.com

Contact  9682619937

 

 ماہنامہ اردو دنیا، جون 2021