پیر، 24 جنوری، 2022

بالی ووڈ فلمیں اور مشاہیر اردو - مضمون نگار: محمد عارف

 



اردو ہندوستان میں جنم لینے والی ایک ایسی زبان ہے جس نے زندگی کے ہرشعبے پر اپنا گہرا اثر مرتب کیا ہے۔ یہ اس زبان کی شیرینی، سادگی اور سلاست کا ہی کرشمہ ہے کہ جو اس زبان سے نا مانوس ہیں انھیں بھی اس زبان سے انسیت ہے۔اس کا ایک ثبوت بالی ووڈ کی فلمیں ہیں جن میں زیادہ تر ڈائلاگ، نغمے اور مکالمے اردو میں ہوتے ہیں۔مگر وہ ناظرین کو اتنے بھلے لگتے ہیں کہ زبان کی اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا اور نغمے تو کانوں میں اس طرح رس گھولتے ہیں کہ فلم دیکھنے والا کسی اور ہی دنیا میں کھو سا جاتا ہے۔ جہاں زبان سے زیادہ جذبے کی تپش محسوس ہوتی ہے اور حقیقت یہی ہے کہ انسانی جذبات اور احساسات کی بہت ہی خوب صورت عکاسی اسی زبان میں ہوتی ہے۔اسی لیے اردو زبان نہ جانتے ہوئے بھی لوگوں کو اس زبان سے عشق سا ہو جاتا ہے اور شاید عشق کا یہی وہ جادو ہے جو آج بھی بالی ووڈ میں سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا توغالب پر لکھی ہوئی سعادت حسن منٹو کی مشہور زمانہ کلاسیکل فلم ’غالب‘ اور گلزار کا تحریر کیا ہوا ٹی وی ڈراما’ مرزا غالب‘اور دوسری بہت سی فلموں کو اتنی مقبولیت اور شہرت نصیب نہ ہوتی۔

میر و غالب وغیرہ تو سب کی پسند ہیں اور ان کے نغمے پوری دنیا میں گونجتے ہیں۔ بالی ووڈ کی فلموں میں بھی اردو کے کلاسیکی شاعروں کی بہت سی غزلیں ہیں جو بہت مقبول ہیں اور جنھیں گلوکاروں کی آواز نے نئی زندگی سی بخش دی ہے۔یہ وہ نغمے ہیں جو صرف جذبے کو مہمیز نہیں کرتے بلکہ انسانی وجود کو ایک ایسے آہنگ سے بھر دیتے ہیں جس کی وجہ سے اس کے ذہن کا انتشار ختم ہو جاتا ہے اور اس کی زندگی میں ایک نیا احساس جنم لیتا ہے۔ جب کہ ان نغموں میں اردو کی سہل اور سادہ لفظیات کے علاوہ تلاطم، عقوبت، سنگ باری، غمازی جیسے مشکل الفاظ بھی استعمال میں آتے ہیں۔

خالص اردو کے شہکاروں پر بنی فلمیں بھی اردو زبان کی مقبولیت اور قدر و قیمت کا ثبوت ہیں۔ مرزا ہادی رسوا کے ناول ’امرائو جان ادا‘ پر مظفر علی کی بنائی ہوئی فلم نے اپنا جو اثر ناظرین پر نقش کیا ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ واقعی اردو کے تخلیقی ادب میں بڑی قوت اور توانائی ہے۔یہی وہ فلم ہے جس میں ریکھا نے اپنی اداکارانہ صلاحیت کا لوہا ایک زمانے سے منوایا اور جس کے نغموں کی وجہ سے شہریار نے ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں شہرت کے  ہفت آسمانوں کی سیر کی۔اس سے بھی پہلے آغا حشر کاشمیری کے ڈرامے ’یہودی کی لڑکی‘ پر بنائی جانے والی فلم ’یہودی کی بیٹی‘ میں دلیپ کمار کے کردار نے اس کہانی کی ڈرامائیت میں چار چاند لگادیا۔اسی طرح منشی پریم چند کی کہانیوں پر بھی ہندوستانی فلم نگری میں کئی کہانیاں بنائی گئیں۔لیکن اس سلسلے میں سب سے زیادہ مشہور ہوا ان کے ناول’ گئودان‘ پر بنایا ہوا ٹیلی ویژن ڈراما۔جس کی جذباتیت نے ناظرین کو اس قدر متاثر کیا کہ اسے آج بھی ہندوستانی فلم اور ٹیلی ویژن میں کسی شاہکار سے کم کا درجہ حاصل نہیں ہے۔اردو معاشرے اور تہذیب پربنائی جانے والی فلموں اور ٹی وی ڈراموں نے بھی ہندوستان میں خاصی شہرت حاصل کی۔ایسی فلموں میں شبانہ اعظمی، ارمیلا ماتونڈکر اور دیا مرزا جیسے فنکاروں کو لے کر بنائی جانے والی فلم ’تہذیب‘ اور امیتابھ بچن اور شری دیوی جیسے اداکاروں سے سجی ہوئی فلم ’ خدا گواہ‘۔اس کے علاوہ ٹی وی پر آنے والا مشہور فیملی ڈراما’ حنا‘ بھی اردو تہذیب کی جلوہ گری کے باعث لوگوں کی نگاہو ںمیں رچ بس گیا اور اس نے اپنی شہرت کی بنیاد پر دوسرے کئی ہم عصر ٹیلی ویژن ڈراموں کو پیچھے چھوڑ دیا۔اردو نے ہندی فلم نگری پر ایسا جادو کیا کہ اس کی سحر انگیز نگاہوں کی روشنی نے ایک عالم کو اپنا اسیر بنالیا۔اس حوالے سے یہ اقتباس کافی اہم ہے:

’’ہندی فلموں نے اردو کی ان تمام مشہور داستانوں کو فلما کران کی شہرت اور مقبولیت میں چار چاند لگادیے اور اردو کی بیش بہا خدمات انجام دیں۔اس حقیقت سے بھلا کون انکار کرسکتا ہے کہ ایک دیکھی جانے والی کہانی، پڑھی جانے والی کہانی کی بہ نسبت زیادہ موثر ہوتی ہے کیونکہ ایک کہانی کو بیک وقت ایک ہی شخص پڑھ کر متاثر ہوتا ہے جب کہ وہی کہانی جب فلم کے پردے پر دکھائی جاتی ہے تو بیک وقت ہزاروں اشخاص مثبت یا منفی اثر قبول کرتے ہیں۔چنانچہ اردو ادب کی مشہور اور معرکتہ الآراداستانوں مثلاً قصہ چہار درویش، قصہ حاتم طائی، شیرین فرہاد، لیلیٰ مجنوں، گل و صنوبر، شہزادی، علی بابا چالیس چور، انارکلی (ڈرامہ)، امرائوجان ادا (ناول) وغیرہ کو ہندی فلموں نے حیات جاودانی بخش دی۔آج یہ کہانیاں کتابوں کے صفحات سے اڑ کر عوام کے دلوں میں جا بسی ہیں۔ان کتابوں کے مصنفین اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ ان کی کہانیاں اتنی مقبول ہوسکیں گی۔ان کہانیوں کے علاوہ اردو کے مشہور ناولوں پر مبنی فلمیں بھی بنائی جاچکی ہیں۔مثلاً راجندر سنگھ بیدی کی ’ایک چادر میلی سی‘ اور منشی پریم چند کے ناول ’ غبن ‘ اور ’کفن ‘ بھی فلم کے پردے کی زینت بن چکے ہیں۔’شطرنج کے کھلاڑی‘ستیہ جیت رے کی مشہور فلم تھی جو پریم چند کی کہانی سے ماخوذ تھی۔ان کے علاوہ جتنی بھی کہانیاں لکھی گئیں ان میں بیشتر کے خالق اردو کے ادیب ہی تھے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔‘‘

(ہندی فلموں پر اردو کا جادو از پروفیسر محمد منصورعالم، ص 41، ہندوستانی فلموں کا آغاز و ارتقا، مولف الف انصاری، مطبوعہ اقبال پبلیکشنز، کلکتہ)

اردو کے بہت سے ادیبوں نے ہندوستانی فلم انڈسٹری کے لیے خدمات انجام دیں۔ان ادیبوں کے شاعرانہ اور فلمی کرئیر کے بارے میں گفتگو کی اسے ادب اور آرٹ کے اس اہم سنگم کا بہت خوبصورت منظرنامہ سامنے آئے گا۔

سعادت حسن منٹو:سعادت حسن منٹو کی شخصیت سے کون واقف نہیں ہے۔انھوں نے اردودنیا میں اپنے نام اور کام دونوں کا سکہ جمایا۔گوکہ منٹو کو فلمی دنیا میں زیادہ بڑی جگہ نہ مل سکی۔ ان کی کہانیاں بہت سی فلمی پلاٹس کی زینت بنیں مگر ان کے جیتے جی وہ ہندوستانی فلم انڈسٹری سے اتنا کچھ حاصل نہ کرپائے جتنا کہ ان کا حق تھا۔اس کی وجہ ہم منٹو کی اس لاابالی فطرت کو بھی کہہ سکتے ہیں جو کہ ہر اصلی تخلیق کار کے یہاں پائی جاتی ہے۔وہ کہیں بھی ٹک کر کوئی کام کرنے سے قاصر رہے۔تاہم انھوں نے اپنی دلچسپی کی بنیاد پر مرزا غالب پر ایک فلم لکھی اور ہندی فلم جگت میں اسے اپنے افلاس زدہ دنو ںمیں کسی ڈائرکٹر کے بہت زیادہ اصرار کرنے پر فروخت کردیا۔نتیجتاً فلمی پردے کی زینت بنی اور اپنے زمانے میں بے حدکامیاب بھی رہی۔اس کے علاوہ منٹو کی مشہور زمانہ کہانی جو کہ تقسیم ہند کے موضوع پر تھی اور جسے دنیا ٹو بہ ٹیک سنگھ کے نام سے جانتی ہے۔کئی بار ہندوستانی فلم اور ڈراما کمپنیوں کی جانب سے فلمائی اور اسٹیج کی گئی۔

مجروح سلطان پوری: مجروح سلطان پوری کا اصلی نام اسرار الحسن خان تھا۔آپ کا آبائی وطن نظام آباد، اعظم گڑھ تھا۔انھوں نے اپنے فلمی کریئر کا آغاز 1945میں کیا اور دو دہائیوں کے مقبول ترین نغمہ نگار رہے۔مجروح صاحب کو اس بات پر اپنی پوری زندگی میںفخر رہا کہ انہیں اپنی اردو شاعری کی بنا پر ہی فلمی دنیا میں آنے کا اور ایسی سنہری خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔

مجروح صاحب نے چھبیس سال کی عمر میں اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا اور اپنی اردو شاعری اور زبان کی صلاحیت کی بنیاد پر ایک سے ایک فلمی گیت تخلیق کیے۔مجروح صاحب نے اپنی فلمی زندگی میں نوشاد صاحب، مدن موہن، اوپی نیر، شنکر جے کشن، جتن للت اور اے آر رحمن جیسے عظیم میوزک ڈائرکٹرز کے ساتھ کام کیا اور ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لوگوں کے دلوں کو اپنے اردو کے خوبصورت الفاظ کے رشتے میں پروتے چلے گئے۔انھوں نے اپنی پہلی فلم’ شاہجہاں‘ کے ہی گانے اس قدر خوبصورت لکھے کہ ان میں سے بیشتر عوام میں بہت مقبول ہوئے اور پروڈیوسر کے حسب خواہش ان نغموں میں مغلیہ عہد کے زبان و بیان کی اس چاشنی کو بھی ملحوظ رکھا گیا۔ ان کی ایسی ہی شاہکار خدمات کی وجہ سے انھیں 1965میں اپنے مشہور نغمے ’چاہوں گا میں تجھے سانجھ سویرے‘ کے لیے فلم فیئر ایوارڈ اور 1993میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بنام دادا صاحب پھالکے سے نوازا گیا۔مجروح صاحب نے اپنے تمام فلمی گیتوں میں اردو زبان اور اس کی زود اثری سے لوگوں کے دلوں کو مسخر کیا۔ آج بھی ان کے اشعار فلمی گیتوں اور مکالموں میں استعمال کیے جاتے ہیں اور جس شعر نے انہیں دنیائے ادب اور فلم دونوں میں یکساں طور پر شناخت حاصل کرنے میں مدد دی وہ ہے       ؎

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

مجروح سلطان پوری کے مشہور نغمے اس طرح سے ہیں جس پر انھیں فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا۔    

چاند میرا دل چاندنی ہو تم چاند سے ہے دور چاندنی کہاں        (ہم کسی سے کم نہیں)، راجہ کو رانی سے پیار ہو گیا  (اکیلے ہم اکیلے تم)، پہلا نشہ پہلا خمار(جو جیتا وہی سکندر)، او میرے دل کے چین (میرے جیون ساتھی)،

یہ ہے ریشمی زلفوں کا اندھیرا(میرے صنم)، آجا پیا توہے پیار دوں (بہاروں کے سپنے)،  ائے دل ہے مشکل جینا یہاں (سی آئی ڈی)،چھپا لو یوں دل میں پیار مرا(ممتا)

ساحر لدھیانوی:  ساحر کی تخلیقی صلاحیت کو کون نہیں پہچانتا۔ ان کے نغمے آج بھی ریڈیو، ٹی وی کے ذریعے لوگوں کے گوش گزار ہوتے رہتے ہیں اور وقت کی کئی پرتیں پڑنے کے باوجود ان نغموں کی مہک تازہ ہی رہتی ہے۔وہ بیسویں صدی کے وسط میںلاہور سے ہندوستان آئے اور یہاں آکر ممبئی میں انھوں نے فلم ’آزادی کی راہ پر‘ سے اپنے فلمی کرئیر کا آغاز کیا۔یہ فلم اپنا کچھ خاص اثر ہندوستانی سنیما پر نہیں ڈال پائی مگر ساحر کی تخلیقی صلاحیت کو ابھی اور چمکنا تھا اس لیے وہ اس راہ پر آگے بڑھے اور انھوں نے 1950میں فلم ’نوجوان‘ کے گانے لکھے جو کہ اتنے مقبول ہوئے کہ ساحر کا نام بطور نغمہ نگار ہندوستانی فلم انڈسٹری میں خاصی شہرت حاصل کرگیا۔ساحر کی شخصیت چونکہ خود بھی بے حد رومانی تھی اس لیے انھوں نے جب اپنی رومانویت کو نغموں میں اتارنا شروع کیا تو لوگ اس سحرزدہ لہجے کی تمکنت سے چونک اٹھے۔

ساحر کے فلمی نغمے نہ صرف اپنی غنائیت کی وجہ سے بے مثال ہیں بلکہ ان نغموں کی معنی آفرینی اور معاشرتی حسیت نے انھیں آفاقیت عطا کی ہے۔ساحر کا امتیاز ہے کہ جو باتیں نثر کے پیرائے میں بیان کی جا سکتی ہیں انھیں ساحر نے شعر کے قالب میں ڈھال کر نہایت غنائیت کے ساتھ پیش کیا ہے۔

کبھی کبھی   میرے  د ل   میں  خیال  آتا  ہے

 کہ   جیسے  تجھ کو  بنا یا  گیا   ہے  میرے   لیے

تو  اب  سے  پہلے  ستاروں  میں بس رہی تھی کہیں

تجھے  ز میں  پہ   اتارا   گیا   ہے  میرے  لیے

ساحر لدھیانوی اپنے عہد کے وہ نازک مزاج نغمہ نگار تھے جنہوں نے دھنوں پر گیت لکھنے سے انکار کرتے ہوئے اپنے قلم کی عظمت کا اعتراف کروایا۔انھوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ وہ پہلے گیت لکھیں گے اور اس کے بعد ہی ان کو دھنیں عطا کرنے کے لیے موسیقار کو محنت کرنا پڑے گی۔اس طرح موسیقی اور شاعری کی اس پرانی جنگ میں انھوں نے فلم انڈسٹری کو اپنے عہد تک تو یہ بات ماننے پر مجبور کردیا کہ گانوں میں بول کی اہمیت دھنوں سے زیادہ ہوتی ہے۔اس کے علاوہ بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں پر ان کو کس حد تک ناز تھا اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے ہمیشہ فلموں میں موسیقاروں کی بہ نسبت پروڈیوسر سے ایک روپیہ زیادہ ہی قیمت وصول کی۔وہ اپنے کلام کی سحر بیانی کی صحیح قیمت سے واقف تھے اور اسی وجہ سے انھوں نے زندگی بھر کسی بھی طرح کے معاوضے کے لیے معاہدہ کرنا غیر ضروری سمجھا۔ساحر کے چند مشہور نغمے اس طرح ہیں       ؎

جا نے وہ کیسے لوگ تھے جن کے پیار کو پیار ملا

ہم نے جب کلیاں مانگیں کانٹوں کاہار ملا

(فلم ’پیاسا)

عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا

جب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیا

ندا فاضلی: اردو شاعری کے لحاظ سے فلمی دنیا میں ندا فاضلی کا نام ایک انفرادی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی شاعری نے اپنے اسلوب اور افکار کی بدولت ایک ایسے لہجے کی بازیافت کی ہے جو بیک وقت میر اور نظیرکی یاد دلاتا ہے۔ نداکے یہاں جو فکری بہائو ہے وہ دراصل اودھت گیتا سے مستعار ہے۔

 ایک دن اچانک وہ ایک مندر کے پاس سے گزرتے ہیں جہاں انہیں سورداس کا ایک بھجن ’مدھوبن تم کیاں رہت ہرے؟برہ بیوگ سیام سندر کے ٹھارے، کیوں نہ جرے؟‘ سنائی دیا۔ اس بھجن میں کرشن کے متھرا سے دوارکا چلے جانے پر رادھا اور گوپیاں چمن سے استفسار کرتی ہیں کہ اے چمن! تم کرشن کے بغیر اتنے سرسبز کیوں ہو، ان کی جدائی کے غم نے تمہیں جلا کیوں نہ دیا؟۔۔۔اس واقعے کو ندا کے لہجے کی تشکیل اور فکر کی پرواز کی اساس کہا جاسکتا ہے اور یہاں سے ان کے دورِ مشق کے بعد ان کا اصل شعری دور شروع ہوتا ہے اور دراصل یہی درمیانی دور ندا کی شناخت کے طور پر مقبول ہوا۔ ندا کی شاعری کا تیسرا دور ان کی بمبئی (موجودہ ممبئی) آمد کے ساتھ 1964میں شروع ہوا۔یہاں آنے کے بعد ندا نے اس دورِ زندگی کا تجربہ حاصل کیا جہاں لوگ ایک دوسرے کے غم آشنا ہوتے ہوئے بھی ان غموں سے بھی فائدہ اٹھانے کی تدابیر میں جٹے رہتے تھے۔ندا اپنے فلمی کیریئر میں اس قدر کامیاب نہیں ہوئے جتنا انھیں ہونا چاہیے تھا بلکہ ان کی زیادہ شہرت اسی فقیر منش شاعر کے طور پر ہے جس کے اقوال کے آئینے میں لوگ دنیا کی سیدھی سچی تصویر دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔معاصر شاعری میں ندا فاضلی نے جدیدیت کے جس رنگ کی جانب اپنے اسلوبِ شعر کی باگ موڑی تھی خود اس کا وجود اتنا قوی ثابت نہیں ہوا کہ ندا جیسے شاعروں کے خیالات کی ترجمانی کا بوجھ برداشت کرسکتا۔اس لہر سے جڑنے کی بھی ایک اپنی وجہ گوتم بدھ کے اسی بیان کی سی معلوم ہوتی ہے جس میں وہ خود کو پانی کا مماثل قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ’’ ان کا رنگ کچھ نہیں ہے بلکہ وہ اوروں کے رنگ میں رنگنے کی اہلیت ضرور رکھتے ہیں۔‘‘ایسا نہیں ہے کہ اور شاعروںنے ندا کی طرح نظموں اور ددہوں میں دنیا کی تفہیم کی اس کوشش کو شامل نہیں کیا بلکہ کئی ایک تو ایسے ہیں جنہوں نے ندا کے یہاں سے خوشہ چینی کو بھی برا نہیں مانا مگر غزل کے قصر میں ندا کا اپنا ایک علیحدہ مقام ہے اور غزل کو سادھو سنتوں کا چولا پہنانے والے ندا کی برابری کرنا کسی بھی شاعر کے بس کی بات نہیں ہے یہ صرف ندا کا ہی حصہ ہے۔وہ اپنی دھرتی اور اس کی بوباس میں اس طرح رچے بسے ہیں کہ یہاں کے اوتار، ندیاں، مزاریں، گنڈے، تعویذ، درخت اور پرندے ان کی شاعری کی دنیا کا ایک اٹوٹ حصہ بن چکے ہیں جس کو بمبئی کی بھیڑ بھی پامال کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی اور سچ پوچھا جائے تو ندا کی بہت بعد تک کی شاعری میں ان کے یہاں کا وہی خالص اور صوفیانہ اسلوب کارگر رہا جس نے انہیں ہجر کی تنہائی میں بھی خدا کے ترحم کا درس دیا تھا اور شہر کی ہائوہو میں بھی اسی کی کرپا کا پاٹھ پڑھایا۔البتہ فلمی دنیا میں رومانیت کے سہارے اپنی غزلوں سے فلموں میں چار چاند لگانے والے ندا فاضلی کے جن بولوں نے لوگوں کو متاثر کیا ان میں ’کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا‘، ’ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے‘ جیسے سدا بہار اور مشہور نغمے سر فہرست ہیںجنھیں ہندوستانی عوام کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔

شہریار: مرزا ہادی رسوا کے ناول ’امرائو جان ادا‘ پر بنائی ہوئی مظفر علی کی یادگارفلم ’امرائو جان ‘ میں اپنے نغموں سے سحر طاری کرنے والے شاعر شہریار اپنی فنی صلاحیتوں کی وجہ سے ہندوستانی فلمی دنیا میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ شہریار نے امرائو جان ادا کے فلمی نغمے واقعی اتنے اچھے تحریر کیے تھے۔ آج بھی وہ نغمے روح کو تازگی بخشتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کا مشہور نغمہ      ؎

دل چیز کیا ہے آپ مری جان لیجیے

بس ایک بار میرا کہا مان لیجیے

شہریار اردو ادب میں اپنی فنی بصیرت اور ادبی خدمات کی وجہ سے ہمیشہ یاد کیے جائیں گے۔ہندوستانی فلم انڈسٹری نے بھی ان کے کلام کی پختگی کو قبول کیا اور ان کی انمول اور بے بہا خدمات کی وجہ سے انھیں 2012میں ہی ان کے انتقال سے کچھ عرصہ پہلے مشہور اداکار امیتابھ بچن کے ہاتھوں سے ایک ایوارڈ سے نوازا گیا۔شہریار نے فلموں کی طرح اپنی ادبی زندگی میں شاعری سے لوگوں کو متاثر کیا۔

اخترالایمان: اخترالایمان کے اندر چونکہ ایک بہت ہی اہم شاعر وقت کے ساتھ ساتھ پروان چڑھ رہا تھا اس لیے وہ بہت جلد ہی روایت شکن بن کر ابھرے اور ان کی یہی روایت شکنی انہیں ممبئی کی فلم نگری کی جانب کھینچ لائی۔ ممبئی میں ان کی آمد 1945میں ہوئی۔ انھیں اپنی مکالمہ نگاری کے سبب 1963میں فلم’ برہمپتر‘ اور 1966 میں فلم ’وقت‘ کے لیے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اخترالایمان نے تیس سے زائد فلموں میں مکالمے لکھے۔

اخترالایمان کے لیے کہا جاسکتا ہے کہ انھوں نے جس قدر کامیابی اپنے ادبی کریئر میں حاصل کی اتنی ہی انھیں فلمی دنیا میں بھی ملی۔چونکہ وہ زبان و بیان پرقادر تھے اس لیے انھوں نے کئی فلموں میں گیت بھی لکھے اور مکالموں کی ہی طرح ان کے نغمے بھی عوام کے لیے سدا بہار ثابت ہوئے۔

اخترالایمان اپنی شاعری کی ہی طرح بالکل منفرد شخصیت کے حامل تھے۔انھوں نے فلم نگری میں رہ کر بھی اپنی فنی صلاحیتوں کو کسی بھی طور کم نہیں ہونے دیا۔وہ ایک باکمال اور با صلاحیت ادیب ہونے کے ساتھ ایک خوبصورت مکالمہ نگار بھی تھے۔اسی لیے یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ جب جب اردو اور بالی ووڈ کے رشتوں کا ذکر ہوگا۔تب تب اردو کے شعرا و ادبا کو یاد کیا جائے گا۔

کیفی اعظمی: 14جنوری9 191کو آنکھیں کھولنے والے کیفی اعظمی کو آج ہندوستانی فلم انڈسٹری میں کون شخص نہیں جانتا ہوگا۔ان کا مشہور زمانہ نغمہ ’’عجیب داستاں ہے یہ، کہاں شروع کہاں ختم‘ لوگوں کے لیے آج بھی کلاسیک کا درجہ رکھتا ہے۔ان کی فلمی خدمات کے لیے انھیں خواجہ احمد عباس کی ہدایت میں بنی ہوئی فلم ’سات ہندوستانی‘ میں برائے نغمہ نگاری نیشنل فلم ایوارڈ سے 1970میں نوازا گیا۔اس کے علاوہ 1975میں انہیں فلم فیئر کی جانب سے بہترین مکالمہ نگاری، بہترین منظرنامے اور بہترین کہانی کے لیے ایوارڈ سے نوازا گیا۔کیفی اعظمی نے اپنی اردو زبان دانی کی بدولت فلمی کرئیر میں ایسی کئی فلمیں لکھیں اور ایسے نغمے تحریر کیے جس میں اس زبان کا جادو سننے والے کے سر چڑھ کر بولتا ہوا محسوس ہوا۔  ان کے کچھ سدا بہار نغمے مندرجہ ذیل ہیں        ؎

  آج کی رات بہت گرم ہوا چلتی ہے

  تو جو بے جان کھلونوں سے بہل جاتی ہے

  وقت نے کیا کیا حسیں ستم

  تم اتنا جو مسکرارہے ہو

  زندگی بھر مجھے نفرت سی رہی اشکوں سے

  آج سوچا تو آنسو بھر آئے مدتیں ہو گئیں مسکرائے

اس کے علاوہ اور بھی بہت سے نغمے ہیں جو ان کے قلم سے نکلے اور ہندوستانی فلم انڈسٹری کے آسمان پر ستاروں کی صورت جگمگائے۔

شکیل بدایونی: ساحر لدھیانوی کی طرح شکیل بدایونی بھی اردو ادب کے حوالے سے فلموں میں ایک بہت عظیم نام بن کر ابھرے۔ان کی شاعرانہ صلاحیتوں کی ہی بدولت انھیں فلم انڈسٹری میں سو سے زائد فلموں کے گیت لکھنے کا موقع ملا۔یوں تو ان کے بہت سے نغمات مشہور ومقبول ہوئے لیکن ان کا سب سے بڑا کارنامہ مغلِ اعظم جیسی فلم میں لکھے گئے ان کے نغموں کو ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔بھلا کون ہے جو’پیار کیا تو ڈرنا کیا‘ اور ’اے محبت زندہ باد‘ جیسے گانوں کی کھنک آج بھی اپنے کانوں میں محسوس نہیں کرتا۔ بہترین نغمہ نگار کے طور پرانھیں کئی بارفلم فیئر ایوارڈ ملا۔ شکیل بدایونی کے تقریباًتمام فلمی نغمے مقبول و محبوب ہوئے ہیں، مثال کے طور پر کچھ مشہور نغموں کا ایک ایک مصرعہ پیش کرنا چاہتا ہوں        ؎

اودور کے مسافر ہم کو بھی ساتھ لے لے (اڑن کھٹولہ)، تو گنگا کی موج میں جمنا کی ھار       (بیجو باورا)، او دنیا کے رکھوالے سن دردبھرے میرے نالے(بیجو باورا)، جب پیار کیا تو ڈرنا کیا (مغل اعظم)

حسرت جے پوری : حسرت کا نام اقبال حسین تھا۔ 15اپریل 1922کو جے پور میں پیدا ہوئے۔ ان کے نانا فدا حسین اردو اور فارسی میںشاعری کرتے تھے حسرت کو بچپن ہی سے شعروشاعری میں دلچسپی تھی اکثراپنے نانا کے ساتھ مشاعروں میںشریک ہوتے تھے۔یہیںسے ان کے اندر شعر فہمی کی صلاحیت پیدا ہوئی۔ اٹھارہ سال کی عمر میں ممبئی آگئے اور پابندی سے مشاعروں میںشریک ہونے لگے۔

ایک مرتبہ ایک مشا عرے میں پرتھو ی راج کپور نے ان کی نظم ’مزدور کی تلاش‘ سنی تو ان کی ملاقات اپنے بیٹے راج کپور سے کرائی۔راج کپورنے ان سے کچھ اور غزلیں سنیں تو انھیں اندازہ ہواکی ان کے اندر نغمہ نگاری کی صلاحیت کوٹ کوٹ کر بھری ہے اسی ملاقات نے حسرت کی زندگی بدل کر رکھ دی راج کپور کے ہی وسیلے سے ان کو فلموں میں کام مل گیا۔اسی بنا پرہم دیکھتے ہیں کی راج کپور کی بیشتر فلموں کے نغمے حسرت جے پوری کے تحریر کردہ ہیں۔راج کپور کی فلموں کے سدا بہار نغمے حسرت جے پوری کی گہری بصیرت اور کمال فن کے مظہر ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر پروڈکشنز کے تحت بننے والی فلموں میں بھی ان کی بڑی حصے داری ملتی ہے۔ان کے کچھ نغمے جو انھیں بالی ووڈ میں بلند مقام عطا کیے     ؎

زندگی ایک سفر ہے سہانہ  (انداز)، تیری پیاری پیاری صورت کو کسی کی نظر نہ لے (سسرال)، پنکھ ہوتے تو اڑ آتی رے (صحرا)، احسان تیرا ہو گا مجھ پر(جنگلی)، تم مجھے یوں بھلا نہ پائو گے (پگلا کہیں کا )، بدن پر ستارے لپیٹے ہوئے  (پرنس)

حسرت نے اپنا پہلا فلمی نغمہ ’جیا بے قرار ہے چھائی بہارہ ہے،آجا مورے بالما تیرا انتظار ہے‘ لکھا،ان کے نغموں میں سہل نگاری اور سلاست پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے یہ بہ آسانی زبان زد عام ہوئے۔کبھی کبھی ہندی تراکیب کا استعمال کر کے اپنے کلام میں ایک نیاآہنگ پیدا کر دیتے ہیں۔

گلزار:  ہندوستانی فلمی صنعت میںکم لوگوں کو اس بات کا اعزاز حاصل ہے کہ جنھوں نے فلم سازی کے مختلف شعبوں میں اپنی انفرادیت اور صلاحیتوں کے چراغ روشن کیے ہیں۔ پورن سنگھ عرف گلزار بھی انھیں لوگوں میں سے ایک ہیں و ہ بہترین اور حساس نغمہ نگار، کامیاب ہدایت کار، فطری مکالمہ نویس اور چست اسکرپٹ رائٹر کی حیثیت سے جا نے جاتے ہیں۔ بحیثیت نغمہ نگار گلزار کی پہلی فلم ’بندی‘ تھی جس کے ایک نغمے نے حسن کی ایک نئی تعریف وضع کی اور وہ نغمہ بہت مقبول ہوا۔  گلزار ایک ایسے نغمہ نگار ہیں جو اپنے نغموں میں نئی لفظیات، اچھوتے خیال اور اپنی انفرادیت کو برقرار رکھتے ہیں         ؎

ہزار راہیں مڑکے دیکھیں کہیں سے کوئی صدا نہ آئی

بڑی ادا سے نبھائی تم نے ہماری تھوڑی سی بے وفائی

(فلم ’تھوڑی سی بے وفائی)

وہ شام کچھ عجیب تھی، یہ شام بھی عجیب ہے

وہ کل بھی آس پاس تھی، وہ آج بھی قریب ہے

(فلم’خاموشی)

نوشاد: نوشاد صاحب ہندوستان میں موسیقار اعظم کے نام سے جانے جاتے ہیں۔انھوں نے بیجو باورا سے لے کر مغل اعظم جیسی فلموں تک میں اپنی موسیقی سے جادو جگایا ہے۔ان کی عظمت کا اعتراف آج بھی ہندوستان کے کم و بیش تمام موسیقار کرتے ہیں۔نوشاد صاحب کے بارے میں شاید زیادہ تر لوگ یہ بات نہیں جانتے ہیں کہ وہ اردو کے ایک بہت اچھے شاعر بھی تھے اور ان کا شعری مجموعہ ’آٹھواں سر‘ کے نام سے شائع ہوکر منظر عام پر آیا تھا۔نوشاد صاحب کو اردو زبان وادب دونوں سے دلچسپی تھی۔انھوں نے فلم مغل اعظم کی کلاسیکیت کو برقرار رکھنے کے لیے جس طرح نرگسی موسیقی کی دھنیں تیار کی تھیں اس سے یہ بات تو ثابت تھی کہ وہ اردو کے کلاسیکی مزاج سے پوری طرح واقف ہیں اور نہ صرف ان دھنوں کو زبان عطا کرنا جانتے ہیں بلکہ زبان کی دھنوںکا بھی پورے طور پر ادراک رکھتے ہیں۔

کمال امروہی: یہ ہندوستانی فلم سینما کی تاریخ میں اپنی تخلیقی صلاحیت کی وجہ سے ہمیشہ یادرکھے جائیں گے۔ انھوں نے جو مکالمے لکھے اور جن فلموں میں ہدایتکاری کے فرائض انجام دیے۔ان میں سے بیشتر کامیاب رہیں۔

کمال صاحب کا کمال یہ تھا کہ وہ ذہنی طور پر اپنا بالکل جداگانہ انداز رکھتے تھے۔جب ہندوستانی سینما میں تشدد اور عریانیت سے بھرپور فلمیں بنائی جانے کا ایک فیشن چل نکلا تھا تو انھوں نے ’پاکیزہ‘ جیسی خوبصورت اور پاکیزہ فلم بنائی۔زبان و بیان کے معاملے میں بھی ابتدا سے ہی کمال صاحب اپنی زبان میں اردو الفاظ کا بھرپور استعمال کیا کرتے تھے۔ان کی لکھی ہوئی کہانیوں اور مکالموں میں اردو زبان کی چاشنی و شیرینی کو بہت صاف طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔پھر مغل اعظم کے مکالموں کو کون شخص بھول سکتا ہے۔جن کی وجہ سے انھیں فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔اصل میں کمال امروہی صاحب صرف اردو زبان سے ہی نہیں بلکہ اس کی تہذیب اور تہذیب کے ہر مخفی وظاہر گوشوں سے اچھی طرح واقف تھے۔اسی لیے انھوں نے فلمی دنیا میں اردو زبان و ادب کی ترویج میں ایک اہم کردار ادا کیا۔

کمال امروہی صاحب نے بمبئی جوگیشوری (مشرق) میں کمالستان نام کا ایک اسٹوڈیوبھی تعمیر کروایا تھا۔اس اسٹوڈیو میںخود ان کی ہدایتکاری میں بننے والی فلم رضیہ سلطان کے علاوہ امر اکبرانتھونی، کالیہ، کوئلہ اور حال میں بننے والی فلم دبنگ دوئم کی بھی شوٹنگ ہوئی ہے۔یہ اسٹوڈیو تقریباً پندرہ ایکڑ میں پھیلا ہوا ہے۔

کمال صاحب کی مقبولیت ان کی زندگی میں تو تھی ہی، فلم انڈسٹری نے ان کے انتقال کے بعد بھی ان کی شخصیت کے اثر کے حصار سے کبھی خود کو باہر محسوس نہیں کیا ہے۔گزشتہ سالوں میں ان کی شخصیت اور فلم انڈسٹری میں ان کی جدوجہد اور کردار سے متاثرہوکر ’کھویا کھویاچاند‘ نام کی ایک فلم بھی بنائی گئی تھی جس میں ’شاہنی آہوجہ‘ نے کمال امروہی صاحب کا کردار ادا کیا تھا۔

اردو زبان اور ادب سے ان کو گہرا عشق تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جب وہ اردو رسائل میں سید امیر حیدر کمال کے نام سے شائع ہوا کرتے تھے تب سے شہرت کی بلندیوں کو سر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو ممبئی کے فلمی طلسم کدے میں ہمیشہ اسی زبان نے اپنی ایک الگ پہچان بنانے میں مدد دی۔

 

Mohammad Arif

62, Paick Road, Ajeet Nagat

Pratapgarth - 230001 (UP)

Mob.: 9015799692

 

 



دیارِ دکن کا پروقار قلم کار: پروفیسر بیگ احساس - مضمون نگار: شبیر احمد لون


 


پروفیسر بیگ احساس کا اصل نام محمد بیگ اور قلمی نام بیگ احساس ہے۔ ان کی پیدائش 10اگست 1948 کو حیدر آباد میں ہوئی۔ان کے والد کا نام خواجہ حسن بیگ ہے۔ بیگ احساس انتہائی شریف النفس اور دھیمے لہجے کے آدمی تھے۔ ان کے سینے میں ایک درد مند دل دھڑکتا تھا اورہمیشہ امن و آشتی کے خواہاں تھے۔گفتار دھیمی، پر نہایت خوش کرنے والی،ان کی ادا میں خوشی جیسے سمائی تھی۔

بیگ احساس نے اعلیٰ تعلیم عثمانیہ یونیورسٹی سے حاصل کی۔ بی اے سال 1975 میں اور ایم اے سال 1979 میں مکمل کیا۔ اس کے بعد 1985 میں یونیورسٹی آف حیدر آباد سے ’کرشن چندر فن اور شخصیت‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ سال 1984 میں بیگ احساس نے عثمانیہ یونیورسٹی میں بحیثیت لیکچرر کام کرنا شروع کیا اور سال 2000 میں پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اس کے بعد 2000 سے لیے کر 2006 تک صدرِ شعبہ اردو کی حیثیت سے کام کیا۔ 2007 میں حیدر آبادسینٹرل یونیورسٹی سے جُڑ گئے اور 2013تک یہاں پہلے پروفیسر اورپھر صدرِ شعبہ اردو کے فرائض انجام دیتے رہے۔ اس کے علاوہ بیگ احساس حیدر آباد لٹریری فورم کے مشترکہ امور کے جنرل سیکریٹری اور صدررہے اور 1988 میں ساوتھ انڈیااردو اکیڈمی کے جنرل سیکریٹری  بھی رہے۔ بیگ احساس  مختلف اداروں اور انجمنوں کے رکن بھی رہے، جن میں ساہتیہ اکادمی، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، اردو راسٹرز اینڈ جرنلسٹس ویلفیئر فنڈ،آندھرا پردیش اردو اکیڈمی وغیرہ شامل ہیں۔

پروفیسر بیگ احساس مشہور ادبی رسالہ’سب رس ‘ کے مدیر کی حیثیت سے بھی کام کرتے تھے۔ 2013 سے  اب تک رسالہ ’سب رس ‘ کے ساتھ جڑے رہے۔ اس کے علاوہ بطورِ صحافی اقبال اکیڈمی،حیدر آباد کی جانب سے نکلنے والا رسالہ’اقبال ریویو‘ کے چند خصوصی شمارہ جات کی ادارت بھی کی۔

پروفیسر بیگ احساس کی ادبی خدمات کے تئیں ہندوستان میں انھیںمختلف انعامات سے نوازا گیا۔ سال 2016  میں تلنگانہ اردو اکیڈمی کی جانب سے پروفیسر بیگ احساس کو مخدوم ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اسی سال افسانوی مجموعہ’ دَخمہ‘ پر ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا جو انھیں سال 2017 میں ملا۔ عصرِ حاضر کے یہ بہترین قلم کار تقریباً پندرہ روز تک ہسپتال میںزیرِ علاج رہنے کے بعد 8ستمبر 2021 کو 11 بجے دماغ پر فالج کی وجہ سے اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ان کی تدفین نمازِ عشا کے بعد پیرا مائونٹ ہلس قبرستان،ٹولی چوکی میں ہوئی۔

پروفیسر بیگ احساس بیک وقت افسانہ نگار، صحافی، محقق، نقاد، ادیب، استاد اور مقرر تھے۔ آپ کی ادبی زندگی لگ بھگ پچاس سالوں پر محیط ہے۔ان پچاس سالوں میں بیگ احساس نے تین افسانوی مجموعے خوشہ گندم (1979)، حنظل (1993)، دخمہ (2015)،  ایک تحقیقی و تنقیدی کتاب ’کرشن چندر شخصیت اور فن‘ (1999)، تنقیدی مضامین کا مجموعہ ’شور جہاں‘ (2005)، شاذ تمکنت پر ایک مونوگراف(2010) اور ڈاکٹر ایم کے کول کے ساتھ مل کر (دکنی فرہنگ، 2012)بھی تدوین کی۔ اس کے علاوہ ’ہزار مشعل بکف ستارے‘(انتخاب کلام علی ظہیر، 2005)، تعلیم بالغان سے متعلق(مرزا غالب اور بوجھ کیوں بنوں، 2004)  ترتیب دیے ہیں۔ بیگ احساس ایک بہترین صحافی بھی تھے۔مشہوررسالہ ’سب رس ‘ کے مدیر اعلیٰ کی حیثیت سے مختلف شماروں کے اداریے لکھ کر اردو زبان و ادب کی آبیاری کی لیکن بنیادی طور پر بیگ احساس افسانہ نگار ہیںاور اپنی ادبی زندگی کا آغاز بھی افسانہ نگاری سے 1971 میں افسانہ ’سراب ‘ سے کیا جو ماہنامہ ’ بانو‘،دہلی میں شائع ہوا۔ افسانوی مجموعہ ’حنظل ‘ کے آغاز میں لکھتے ہیں:

’’میں نے اپنی پہلی کہانی 1971 میں لکھی اور کہانی کا بیج کہاں سے اُڑ کر میرے وجود میں آپڑا کب اس نے آنکھیں کھولیں، کب اس نے نمو حاصل کی میں نہیں جانتا۔ سوتے جاگتے ہر پل یہ کہانی میرے ساتھ رہنے لگی۔ ایک تشنج ایک اضطراب کی کیفیت طاری رہی۔پھر میرے قلم سے کہانی نکلی۔یہ کہانی ’ افسانے‘ کی شکل میں تھی۔‘‘

(حنظل: بیگ احساس، مکتبہ شعر و حکمت،حیدر آباد، 1993،ص9)

ان کے افسانوں میں عصر ِ حاضر کے درد و کرب اور پیچیدہ مسائل کانہایت حقیقت پسندانہ اظہار ملتا ہے۔ جدیدیت سے مابعد جدیدیت تک کا سفر کرنے والا یہ عظیم فکشن نگار عصری تقاضوں سے نہ صرف اچھی طرح واقف ہے بلکہ انسانی نفسیات کا نبض شناس بھی ہے۔ییگ احساس کے افسانوں کا موضوع کچھ بھی ہو لیکن جملے بہت مختصر اور سلیس پیش کرتے ہیں۔ان کے پیرایہ اظہار میں برجستگی، سادگی اور تازگی ہے۔بیگ احساس نے خارجی اور داخلی زندگی کی ہم آہنگی کو اپنے افسانوں کا وصفِ خاص بنایا۔بقول اقبال متین :

’’ بیگ احساس ایک سچے فن کار کی طرح اردو فکشن کے ایوان میں خاموشی سے داخل ہوئے۔ نہ سہارا دینے کے لیے کسی گروپ کی ادبی لاٹھی ساتھ تھی نہ کسی پیشہ ور نقاد نما خطوط نویس کا دوشِ دست گیر۔نہ کبھی انھوں نے اس کی ضرورت محسوس کی اس لیے کہ انھیں اپنی تحریروں پر اعتماد تھا اور ہے۔اوپر سے کہانیوں پر کسی فیشن کا نقاب اُڑھانے کی بجائے انھوں نے خارجی زندگی اور داخلی محسوسات کے آہنگ کو اہمیت دی۔‘‘

(خوشہ گندم: بیگ احساس، انجمن معمار ادب، حیدرآباد 1979، ص 11)

بیگ احساس کا پہلا افسانوی مجموعہ ’خوشہ گندم‘ نومبر 1979 میں پہلی بار انجمن معمار ادب، حیدر آباد سے شائع ہوا۔اس مجموعے میں کل بارہ افسانے ہیں،جو اس طرح ہیں: خوشہ گندم، خوابوں کا صحرا، تنکا اور طوفان، سنگ اُٹھایا تھا کہ ٹوٹتے لمحوں کا کرب، آگہی کے اندھیرے، اندھیری دھوپ، ریت کا سمندر، گندی،  سوئی ہوئی آگ، تیرگی کا سفر، سلگتی برف۔بیگ احساس کے یہ سارے افسانے نہایت خوبصورت ہیںاوران میں حیدر آبادی تہذیب کی بھرپور ترجمانی کرتے ہیں۔ اس مجموعے میں شامل افسانے اگرچہ ’حنظل‘ اور ’ دَخمہ ‘ کے معیار کے برابر نہیں ہیں کیونکہ یہ ستر کی دہائی میں لکھے گئے افسانے ہیں اور اس وقت کے سماجی، سیاسی اور ثقافتی مسائل کچھ مختلف تھے اورفنی اعتبار سے اتنی پختگی بھی بیگ احساس کے ہاں موجود نہ تھی۔ دوسری جانب جدیدیت اپنی انتہا پرپہنچ چکی تھی اور مابعد جدید اثرات نے اپنا جلوہ دکھانا شروع کر دیا تھا۔اس گہماگہمی میں مجموعہ ’خوشہ گندم‘ میں کچھ تکنیکی خرابیاں نظر آتی ہیں۔ پھر بھی بیگ احساس کے افسانے ایک نیا چہرہ پیش کرتے ہیں۔ دراصل بیگ احساس کو افسانہ لکھنے کا سلیقہ بھی آتا ہے اور افسانہ بننے کا گُر بھی جانتے ہیں۔

 بیگ احساس کے افسانوں کا دوسرا مجموعہ ’ ’حنظل‘ ہے۔یہ مجموعہ دسمبر1993 میں مکتبہ شعر و حکمت،حیدرآباد سے شائع ہوا۔اس میں کل بارہ افسانے شامل ہیں اور ابتدائیہ کے طور پر ’کہانی اور میں‘ کے عنوان سے ایک مضمون شامل ہے۔ ’ حنظل‘  میں شامل افسانوں کی ترتیب اس طرح ہے ۔پناہ گاہ کی تلاش، میوزیکل چیئر، کرفیو، اجنبی اجنبی، ملبہ، سوا نیزے پہ سورج، بے سورج آسمان، نیا شہسوار، خس آتش سوار، حنظل، برزخ، آسماں بھی تماشائی۔

مجموعہ ’حنظل‘ کا عنوان ہی اتنا پرکشش ہے کہ اس کو پڑھنے کی چاہ پیدا ہوجاتی ہے۔’حنظل‘ اور ’دَخمہ‘ کے عنوانات  ایسے ہیںجو اس قدر مبہم ہیں کہ قاری کو لغت کا سہارا لینا پڑتا ہے۔معروف ادیب مجتبیٰ حسین اس کے متعلق لکھتے ہیں:

’’جتنی محنت وہ خود افسانہ لکھنے میں کرتے ہیں اتنی ہی محنت وہ اپنا افسانہ پڑھنے والے قاری سے بھی کراتے ہیں کم از کم مجھ جیسے کم علم سے تو وہ محنت ضرور کراتے ہیں۔ جب سے میری عمر اسی برس کے قریب تک پہنچنے کے آثار دکھائی دینے لگے ہیں، میں نے اپنی ساری ڈکشنریوں کو اُٹھا کرالماری کے سب سے اوپر والے شیلف میںرکھوادیا ہے،بھلا اب اس عمر میں کسی لفظ کے معنی جان کر میں کیا کروں گا،اور معنی سمجھ میں آبھی گئے تو ان پر عمل پیرا کیونکرہو سکوں گا۔تاہم بیگ احساس نے کم از کم دو مرتبہ مجھ جیسے ضعیف آدمی کو مجبور کیا کہ میں سیڑھی لگا کر جیسے تیسے ان   ڈکشنریوں کو نیچے اتاروں اصل قصہ یہ ہے کہ ان کے افسانہ کا عنوان تھا ’ حنظل‘۔اب میں پریشان کہ یہ حنظل کیا   بلا ہے۔تلاش بسیار کے بعد پتہ چلا کہ حنظل کڑوے پھل کو کہتے ہے،بتائیے میں تو صبر کے پھل کے انتظار میں ہوں اور بیگ احساس نے تو میری خدمت میں کڑوا پھل پیش کردیا۔ ایک اور افسانہ کا عنوان تھا ’دَخمہ‘ اس بار پھر وہی  سیڑھی کی کشاکش اور محنت سے گزر کر معنی دیکھا تو معلوم ہوا کہ ’پارسیوں کے قبرستان‘ کو کہتے ہیں۔ اب بھلا بتائیے عمر کی اس منزل میں قبرستان کو لے کر کیا کروں گا۔ مگر جب افسانہ پڑھا تو اس کے انوکھے بیانیہ اور طرز ادا کو پڑھ کر جی خوش ہوگیا۔چلو ڈکشنریوں والی کڑی محنت  اکارت تو نہیں گئی۔‘‘

(مضمون’بیگ احساس تم ہی ہو‘، رسالہ ’چہار سو‘، لاہور، جلد27، شمارہ مئی- جون 2018، ص 20)

 حنظل میں شامل ساری کہانیاں 1979 سے لے کر 1993 تک مختلف رسالوں میں چھپتی رہیں اور 1993 میں پھریہ مجموعہ کتابی صورت میں شائع ہوا۔اس میں پہلی کہانی ’پناہ گاہ کی تلاش ‘ ذکی محمد انور کے نام لکھی ہے۔ اس میں ایک کینوس میں سارے مصنفوں کو جمع کرتے ہیں اور خود بھی اس میں موجود ہیں۔ پھر مصنف اور کردار میں وہ مکالمہ ہوتا ہے جس میں مصنف کی ساری ہیرا پھیری کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ مکالمہ نگاری کے اعتبار سے یہ ایک خوبصورت افسانہ  ہے۔اس کہانی میں فن میں سچائی کو پیش کرنے کے مسئلے کو موضوع بنایا گیا ہے۔ایک کینوس جو چاہتا ہے کہ اس منظر پر خوبصورت رنگوں کا برش پھیر دے لیکن کچھ مدّت گزرنے کے بعدہی نئے رنگ دھل جاتے ہیں اور پرانی حالت پھر لوٹ آتی ہے۔اس افسانے میں کردار وں کا کام’ منظر‘اور ’تلاش‘نے نبھایا ہے ۔یہ افسانہ دراصل فکشن نگاروں پر طنز کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

میوزیکل چیئر‘ میں بھی سماج کے نچلے طبقے کی ایک عورت کی گود میں دم توڑتی بیٹی کو دکھایا گیا ہے جسے گاڑی میں سیٹ تک نصیب نہیں ہوتی اور کوئی میوزیکل چیئر پر آرام سے بیٹھا میگزین پڑھ رہا ہوتا ہے۔دوا دارو کے لیے نزدیک کوئی ہسپتال بھی نہیں ہے۔غربت کی وجہ سے عورت کی جسمانی حالت اتنی کمزور ہوگئی ہے کہ چھاتی سے بیٹی کے لیے دودھ تک نہیں نکلتا۔اس طرح سے ’میوزیکل چیئر ‘ میںایک طرف آج کی مصروف زندگی اور وسائل کی عدم دستیابی سے پیدا شدہ مسائل دکھائے گئے ہیں وہیں عورت کو محض جنسی لذت دینے والی شئے کے طور پر بھی پیش کیا گیا ہے۔

افسانہ ’حنظل‘ ایک علامتی نوعیت کا افسانہ ہے جس میں ایک درخت کو موضوع بحث بنایا گیا ہے جس میں پھل آنا خوشحالی کی طرف اشارہ ہے۔ اس افسانے میں ہندوستان کی 200 سالہ تاریخ کو پیش کیا گیا ہے کہ کس طرح انگریزوں نے ہماری جڑوں کو نقصان پہنچایااور ملک غلام ہو گیا۔ ’حنظل‘ایک ایسا پھل ہے  جو نہایت کڑوا ہوتا ہے۔ آدم کو جس پھل کی وجہ سے جنت سے نکالا گیا تھا وہ تو لذیز تھا پر آج وہی پھل حنظل کے پھل میں تبدیل ہوگیا ہے۔یعنی زندگی کڑوی حقیقتوں سے بھر چکی ہے۔اس افسانے میں درحقیقت جڑوں سے بچھڑنے کا شدید احساس ہے۔

 آسماں بھی تماشائی ‘  ایک ایسی کہانی ہے جو سماج کے ان لوگوں کی بے حسی کی طرف اشارہ کرتا ہے جن کے پاس طاقت ہے اور جو بہت کچھ کر سکتے ہیں مگر نہیں کرتے کیوں کہ ان کو تماشائی بن کر دیکھنے میں ہی مزہ آتا ہے۔

 افسانہ ’برزخ ‘  کا بنیادی موضوع ’وقت‘ ہے۔ اس میں دو متضاد حقیقتوں، زندگی اور موت کے تصادم میں تخلیقی عمل کو استعارہ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔اس کہانی کو ایک اپاہج کے احساس کمتری نے قلمبند کیاہے جو زندگی اور موت کے بیچ لٹک رہا ہے۔ اس افسانے میں وقت کواس لیے موضوعِ بحث بنایا گیا ہے کیوں کہ اس اپاہج کے نزدیک وقت ایک عذاب ہے۔

افسانہ’کرفیو‘ میں ایک عورت کے اندر پیدا ہونے والی داخلی کشمکش کو تمثیلی انداز میں بیان کیا گیا ہے جو شہر میں لگے کرفیومیں پھنس جاتی ہے اور ایک مرد کے گھر رات گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

اسی طرح مجموعے میں شامل ایک اور افسانہ’ خس آتش سوار ‘ جس میں قدیم ہندوستان کے مٹھوں کا نقشہ کھینچا گیا ہے جہاں مرد اور عورت ساتھ ساتھ گرودیو سے نظری علوم کی جگہ عملی علوم سیکھتے ہیں۔

بہر حال ’حنظل‘ میں بیگ احساس نے بیانیہ تمثیل کی تکنیک کا اکثر سہارا لیا ہے۔ اس کے افسانوں میں کرداروں کا کوئی حتمی نام نہیں ہے بلکہ وہ اپنے سیاق و سباق سے پہچانے جاتے ہیں۔اس مجموعے میں تشبیہی ساخت کے استعارے زیادہ استعمال ہوئے ہیں۔

پروفیسر بیگ احساس کے افسانوں کا تیسرا اور سب سے اہم مجموعہ ’دَ خمہ‘ ہے جو سال 2015 میں عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی سے شائع ہوا۔یہ افسانوی مجموعہ گیارہ افسانوں پر مشتمل ہے۔اس کا ابتدائیہ مرزا حامد بیگ نے لکھا ہے۔ ’ دخمہ‘ میں شامل افسانوں کی ترتیب اس طرح ہے: سنگ گراں، کھائی، چکرویو، درد کے خیمے، سانسوں کے درمیان، نجات، دھار، شکستہ پر، دخمہ، نمی دانم کہ، رنگ کا سایہ۔

اس مجموعے کے سبھی افسانے فنی پختگی کے غماز ہیں۔ جن میں برجستگی بھی ہے اور تہہ داری بھی۔اس افسانوی مجموعے میں ستر کی دہائی میں مخصوص جدیدیت کی تحریک کی رد میں اُٹھنے والی آوازوں کا ردِ عمل دیکھنے کو ملتا ہے۔ مرزا حامد بیگ’ دخمہ ‘ کے ابتدائیہ میں لکھتے ہیں:

’’ بیگ احساس کا تعلق بھی ستر ہی کے دہے سے ہے، لیکن وہ جدیدیت کی تحریک سے الگ تھلگ رہے۔ نہ ’ شب خون‘ الٰہ آباد میں دکھائی دیے،نہ اوراق،لاہور میں لیکن انھیں صرف و محض سادہ بیانیہ کبھی نہیں بھایا۔یہی سبب کہ انھوں نے سیدھے سجائو تشکیل دیے گئے بیانیہ کے اندر پرت در پرت کئی ایک تہیں جما کر کامل علامتی، استعاراتی، کیوبسٹک اور تجریدی افسانہ لکھنے کی بجائے ایک ایسا تہہ دار بیانیہ تشکیل دیا،جس میں معنویت کی کئی ایک پرتیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔‘‘

(دخمہ: بیگ احساس، عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی، 2015، ص 9)

’’د خمہ‘ کے سارے افسانے موضوع اور تکنیک کے اعتبار سے  ندرت رکھتے ہیں۔خود مجموعے کا عنوان ہی اپنے آپ میں ندرت رکھتا ہے جو قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ’دخمہ ‘ میں شامل پہلا افسانہ ’سنگِ گراں‘ ہے۔ اس افسانے میں عورت کی نفسیات کا بڑی باریکی سے تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔صارفیت کے اس دور میں کیسے ایک مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والا انسان زندگی کے فطری عوامل سے خود کو دور رکھتے ہوئے تنہائی کی زندگی بسر کرتا ہے۔ اس افسانے میں دو کردار ہیں جو آپس میںایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور شادی کر لیتے ہیں۔لڑکے کے پاس خود کا مکان نہ ہونے کے سبب وہ لڑکی کو چھوڑ دیتا ہے۔ کچھ مدّت بعد اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کی بیوی کے پیٹ میں بچہ پل رہا ہے تو خوش ہونے کے بجائے وہ اسے اپنا حمل گرا دینے کے لیے کہتا ہے۔ ماں بننا جو عورت کا فطری تقاضا ہوتا ہے وہ بھی شوہر کی مجبوریوں اور حالات کو مدِ نظر رکھ کر فطرت کے عمل میں رکاوٹ ڈال کر اپنے وجود سے آنے والے بچے کو گرا دیتی ہے۔

مجموعے کا دوسرا افسانہ’ کھائی‘ـ ہے۔جس میں تین نسلوں کی کہانی کو پیش کیا گیا ہے۔اصلاََ یہ کہانی تین نسلوں کے مابین نسلی اور ذہنی اختلافات کو پیش کرتی ہے۔اس میںامیری اور غریبی کے درمیان بنی کھائی کو خوبصورتی سے دکھایا گیا ہے۔ افسانے کے تین اہم کردار شوکت علی جاگیردارانہ ذہنیت کا حامل ہے اور کفایت جو اس کا بیٹا ہے کفایت شعار ہے اور ہر وقت کفایت شعاری سے کام لیتا ہے۔ کفایت کا بیٹا شہزادہ شاہانہ رکھ رکھاو اور تصنع کا دلدادہ ہے۔اس افسانے میں جو تفریق دکھائی گئی ہے وہ اصل میں نئی نسل کی اس سوچ کو پیش کرتی ہے کہ دوسروں کے لیے وہ جھوٹی شان وشوکت کا لبادہ اوڑھتے ہیں لیکن اپنوں سے خلوص نہیں رکھتے۔

مجموعے میں شامل چوتھا افسانہ ’ درد کے خیمے‘ ہے۔ یہ افسانہ1947 کے بعد بٹوارے سے متعلق ہے۔اس میں تین اہم کردار بہن،بہنوئی اور ننھی بھانجی کے ذریعے سے ہجرت کے واقعہ کو خوبصورتی اور ڈرامائی طریقے سے دکھایا گیا ہے۔ اس افسانے میں حیدر آباد (دکن)سے کھوکھرا پار کے راستے سے کراچی تک کی ہجرت کو  بیانیہ انداز میں دکھایا گیا ہے۔اس افسانے میں بیگ احساس نے ناسٹلجیا کی ایک نئی جہت کو یوں شامل کیا ہے کہ ہجرت کرے یا کوئی مر جائے دونوں ایک ہی تجربہ ہے۔

موضوع بحث افسانوی مجموعے میں شامل پانچواں افسانہ ’ سانسوں کے درمیاں‘ ہے۔یہ افسانہ انسانی رشتوں کی پامالی اور جھوٹی شان وشوکت سے متعلق ہے۔ انسان کے پاس جب دولت ہوتی ہے یا پیسہ ہوتا ہے تب سارے رشتے دار انتہائی قریب معلوم ہوتے ہیں اور جوں ہی ہاتھ سے پیسہ چلا جاتا ہے سب رشتے پرایے ہو جاتے ہیں۔ اس افسانے میں انسانی جذبات کو ابھرتے اور ڈوبتے دکھایا گیا ہے۔

دخمہ‘ میں شامل چھٹا افسانہ ’ نجات‘ ہے۔یہ ایک نفسیاتی افسانہ ہے جس کا مرکزی کردار فرحان ہے۔اس افسانے میں 9/11کے بعد گلف ممالک سے ان وطن واپس لوٹنے والوں کو موضوع بحث بنایا گیا ہے،جن کو اپنے ملک میں دوبارہ سیٹ ہونے میںمختلف دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔نتیجے کے طور پر وہ خود کی اور دوسروں کی زندگی اجیرن بنا دیتے ہیں۔

مجموعہ’دخمہ‘ میں شامل ساتواں افسانہ ’دھار‘ ہے۔یہ بھی ایک نفسیاتی مگر سیاسی نوعیت کا افسانہ ہے۔ اس افسانے  میںقومی اور بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کی جو ستم خوردہ حالت ہے اس کو تمثیلی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

مجموعے میں شامل آٹھواں افسانہ ’ شکستہ پر‘ ہے۔یہ افسانہ عورت کی نفسیات اور رشتوں کی نزاکت پر مبنی ہے۔ اس کہانی کے مرکزی کردار،سشما،سمیر اور سمن ہے۔ سشما جو ایک طلاق یافتہ عورت ہے اس کی ایک بیٹی (سمن) بھی ہے۔سمیر سشما کے ساتھ شادی کر لیتا ہے پھر بیٹی کو اپنانے کا مسئلہ،بیٹی کو اپنانے کے بعداس کا اپنی ماں کے ساتھ موازنہ کرنا اور اپنے سوتیلے باپ کی جانب راغب ہونا وغیرہ یہ وہ واقعات ہیں جن کو اس افسانے میں دکھایا گیا ہے۔

زیر ِگفتگو افسانوی مجموعے کا نواں افسانہ خود مجموعے کا عنوان ’دخمہ‘ ہے۔دخمہ جس کو پارسی قبرستان یا نعش کے رکھنے کی خاص جگہ کہا جاتا ہے۔چوں کہ اس افسانے  میں پارسی برادری جس میں کسی مرنے والے کودفن یا جلانے کے بجائے دخمہ کی چھت پر رکھ دیا جاتا ہے جہاں اس کی نعش کو گدھ نوچ لیتے ہیں۔پارسیوں کے یہاں یہ ایک مذہبی عقیدہ ہے اور اسے نیک شگن مانا جاتا ہے۔یہ افسانہ گاتھی(Gothic)طرز کا افسانہ ہے جس میں عقائد، رسومات،روایات،تاریخ،سیاست اور انسانی میلانات کو ایک دوسرے کے ساتھ ضم ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

افسانوی مجموعہ ’دخمہ‘ میں شامل دسواں افسانہ ’ نمی دانم ‘ ہے۔ اس افسانے میں خانقاہ کی زندگی اور وہاں ہورہے واقعات کو پیش کیا گیا ہے۔یہ افسانہ درحقیقت اندھی عقیدت اور توہم پرستی سے متعلق ہے  اور’دخمہ‘ کا آخری افسانہ ’رنگ کا سایہ ‘ ہے۔اس افسانے میں ریاست حیدر آباد میں مسلمانوں کے اقتدار کے خاتمے کے بعدکی صورت حال کا خوبصورت نقشہ کھینچا گیا ہے۔

یہ تھا بیگ احساس کے مختصر مگر فنی و تکنیکی اعتبار سے پختہ افسانوں کا خاکہ۔ مجموعی طور پر بیگ احساس کے افسانے فن کی بلندیوں کو چھوتے نظر آتے ہیں۔ ان کی زبان اگرچہ دکنی تھی لیکن اپنے افسانوں پر اس کو حاوی نہیں ہونے دیا۔زبان سادہ اور برجستہ ہے۔جملے بھی مختصر استعمال کیے ہیں۔پلاٹ سیدھے سادے ہیں۔واقعات کی ترتیب میں تسلسل قائم ہے اور مکالمے نہایت چست اور برمحل ہیں۔ حیدر آبادی فضا کو اکثر افسانوں کی زینت بنایا ہے۔کرداروں کی تخلیق میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ بیگ احساس کے افسانے جدید حسیت کی فنکارانہ مثال ہیں اور ان کے افسانوں کی سب سے نمایاں خوبی جو ذہن پر دیرپا اثر چھوڑتی ہیں،ان کا حزنیہ اختتام ہے۔انھوں نے جو بھی لکھا تنقید کی کسوٹی پر پرکھ کر لکھا۔یہی وجہ ہے کہ موضوعاتی اعتبار سے اور تکنیکی اعتبار سے بیگ احساس کے افسانے جدید دور میں نمائندہ حیثیت حاصل کر چکے ہیں۔

کرشن چندر شخصیت اور فن ‘ بیگ احساس کی پی ایچ ڈی کا موضوع تھا۔اس کام میں بیگ احساس نے انتہائی باریک بینی سے کام لے کر کرشن چندر کے ان تمام پنوں کو کھنگالنے کی کوشش کی جو تاریخ کے اوراق میں گُم تھے۔یہ کام بیگ احساس نے پروفیسر گیان چندکی فرمائش پر 1979 میں شروع کیا اور 1985 میں مکمل کیا۔اس کا پہلا باب کرشن چندر کی حالات زندگی پر مشتمل ہے جس میں بیگ احساس نے پیدائش سے متعلق اور ان کی بڑی بہن چندر مکھی کے ساتھ ساتھ سلمیٰ صدیقی سے شادی وغیرہ کی اصل سے قارئین کو آشنا کرانے کی کوشش کی ہے۔ دوسرے باب میں کرشن چندر کے بچپن، لڑکپن، جوانی، عملی زندگی، کھان پان،ملازمتیں،گھریلو زندگی،سیاسی نظریات وغیرہ سے متعلق جانکاری دی گئی ہے۔تیسرے باب میں بیگ احساس نے کرشن چندر کے فن پر بات کرکے ان کے افسانوں کو دو ادوار میں تقسیم کیا ہے۔پہلا دور 1936 تا 1945 اور دوسرا دور 1945 تا 1977۔ چوتھے باب میں بیگ احساس نے300سے زائد افسانوں،44 ناولوں، ڈراموں، تنقیدی مضامین، مزاحیہ مضامین، رپورتاژ، بچوں کا ادب، خاکوں، خطوط، دیباچوںوغیرہ کی فہرست تیار کی ہے اور ساتھ ساتھ چند تخلیقات کا تنقیدی جائزہ بھی لیا ہے۔

شور جہاں‘ یہ کتاب 2005 میں مکتبہ شعر و حکمت سے شائع ہوئی۔ اس کتاب میں 21 مضامین ہیں جنھیں بیگ احساس نے چار ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ (1) زمیں کھا گئی آسمان کیسے کیسے۔(2)پھول کی پتی سے۔(3) ولولہ روح میں افسانہ در افسانہ اٹھا۔(4)  ناخن کا قرض

یہ مضامین مختلف موقعوں پر لکھے گئے ہیں جن میں فکر انگیزی بھی ہے اور باریک بینی بھی۔اس کتاب کا پہلا مضمون ’ امیر مینائی حیدر آباد میں‘ ہے۔ ’شور ِ جہاں ‘ میں شامل دیگر مضامین اس طرح ہیں:

امجد حیدر آبادی کی نثر،اقبال اور حیدر آباد، مولانا حسرت موہانی ایک بے باک و حق گو مجاہد ِ آزادی،جوش اور فراق کی شخصیتیں،پریم چند کی فکر، آگ کا دریا،جو رہی سو بے خبری، اردو شاعرات کی لسانی حسیت، نیا اردو افسانہ تشکیک سے تشکیل تک، معاصر اردو افسانہ وغیرہ اور ناخن کا قرض میں 6 مضامین جو مختلف تقاریب اور جلسوںمیں پڑھے گئے ہیں۔

ہزار مشعل بکف ستارے(مرتب):یہ کتاب 2005 میں استعارہ پبلی کیشنز،نئی دہلی سے شائع ہوئی۔ انتخاب کلام ِ علی ظہیرکو مرتب کر کے بیگ احساس نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔یہ کتاب بیگ احساس نے شمس الرحمن فاروقی کے نام کی ہے۔اس کتاب میںبیگ احساس نے علی ظہیرکی سینتیس سالہ شاعری کی 183 نظموں اور چند غزلوں کا انتخاب کیا ہے۔ اس کتاب کو مرتب کرنے کے پیچھے بیگ احساس کاجومقصد تھا وہ بقول ان کے یہ تھا:

’’علی ظہیر مجھے جدید شاعروں میں ویسے ہی منفرد لگتے ہیں جیسے ترقی پسند شاعروں میں فیض  تھے۔فیض کے یہاں  عربی اور انگریزی کا پس منظر تھا تو علی ظہیر کے یہاں فارسی اور انگریزی کا پس منظر ہے۔ فیض نے غم جاناں سے    لے کر بین الاقوامی مسائل تک کو اپنی نظموں میں جگہ دی۔ علی ظہیر نے بھی بین الاقوامی مسائل اور مظلوموں سے ہمدردی کے ساتھ عشق،وصل اور ہجر کی کیفیات کا خوب صورت اظہار کیا ہے۔علی ظہیر کے یہاں بھی فیض کے موضوع سخن کی طرح کشمکش ہے۔‘‘

(ہزار مشعل بکف ستارے: بیگ احساس (مرتب)، استعارہ پبلی کیشنز،نئی دہلی2005، ص 11)

پروفیسر بیگ احساس کی صحافتی خدمات:

بیگ احساس کا صحافت سے گہرا تعلق تھا۔ان کی صحافتی زندگی کا آغاز ’ فلمی ستارے‘سے ہوا۔ابتدا میں حیدر آباد کے مختلف روزناموں (فلم رہبر، منصف، سیاست وغیرہ )میں فلمی صفحوں کے لیے ہفتہ وار کالم لکھتے تھے۔ پروفیسر مغنی تبسم کے انتقال کے بعد اردو کے مشہور رسالہ ’سب رس‘ کے مدیر بنے۔ سب رس ملک کا قدیم ماہنامہ ہے جو ادارہ ادبیات اردو،حیدر آباد سے نکلتا ہے۔ بیگ احساس کافی عرصے سے تا حال اس رسالے کے مدیر رہے۔ اس کے علاوہ اقبال اکیڈمی حیدر آباد سے نکلنے والا رسالہ ’اقبال ریویو‘ کے بھی مدیر رہے۔اس کے تحت ایک خصوصی شمارہ’ مطالعہ اقبال آہنگِ غالب کے پسِ منظر میں‘ نکالا جوکافی مشہور ہوا۔ اس کے علاوہ آن لائن ادبی فورم ’بازگشت‘ کے سرپرست کے طور پر بھی صحافتی خدمات انجام دیں۔ ’ بازگشت‘ کی جانب سے مختلف موضوعات کے تحت نشستوں کا اہتمام کیا۔

متذکرہ بالا خدمات کے علاوہ پروفیسر بیگ احساس نے دکن کے نامی گرامی شاعر شاذ تمکنت کا مونوگراف بھی لکھا ہے اورساتھ ہی ساتھ تعلیم بالغان کے حوالے سے دو کتابیں (مرزا غالب، بوجھ کیوں بنوں) اور ڈاکٹر ایم کے کول کے ساتھ مل کر دکنی فرہنگ بھی ترتیب دی ہے۔ مجموعی طور پر بیگ احساس دیارِ دکن کے مقبول ترین ادیبوں اور صحافیوں میںسے ایک ہیں جس نے اپنی قابلیت، ذہانت اور متانت سے نہ صرف اپنی تخلیقات کوسجایا سنوارا بلکہ دکنی تہذیب اوردکنی حسّیت سے تہہ دار بیانیہ کی صورت ایجاد کرکے انھیں تہذیبی ورثہ بنا دیا ہے۔اتنا ہی نہیں اپنی محنت لگن اور علمی صلاحیت سے عثمانیہ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف حیدر آباد میں اردو طلبا کی ایک بڑی کھیپ تیارکی۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر سمیناروں کا انعقاد کرکے نہ صرف حیدر آباد بلکہ پورے اردو ادب کی شان بلند کی۔ پچھلی تین چار دہائیوںمیں جدید ڈکشن میں ایسی کہانیاں ترتیب دیں کہ جدید اردو افسانہ کے موضوع پرگفتگوان کے حوالے کے بغیر ادھوری ہے۔فن افسانہ نگاری میں اپنا لوہا منوانے کے ساتھ ساتھ تنقید کے میدان میں بھی اپنی انفرادیت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔مختصراََ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ گلشن ادب میں بیگ احساس کی ذات بہار کی مانند تھی۔

 

Shabbir Ahmad Lone

Frisal

Kolgam - 192232 (J&K)

Mob.: 7006942976

Email.: shabberlone2018@gmail.com