بدھ، 27 جولائی، 2022

قیصر تمکین کی افسانہ نگاری - مضمون نگار : فیضان الحق

 



بیسویں صدی کے نصف آخر کے افسانہ نگاروں میں قیصر تمکین ایک اہم نام ہے۔قیصر تمکین کی پیدائش لکھنؤ میں ہوئی لیکن انھوں نے انگلستان  ہجرت کرکے اسے اپنا مستقل ٹھکانا بنا لیا۔ قیصر تمکین کے بیشتر افسانوں کا خام مواد ہندوستانی مسائل، فرقہ واریت، مشترکہ تہذیب کے زوال اور روایت سے منحرف مسلمان بچوں کی نفسیات سے تیار ہوا ہے۔ قیصر تمکین کا عہد تقسیم کے معاً بعد کا عہد ہے۔ یہی وہ دور ہے جب ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو پامال کرنے کے لیے انتہا پسند طاقتوںکی سازشیں شروع ہوئیں۔ قیصر تمکین نے ان سازشوں کو کامیاب ہوتے اور باہمی رواداری کومٹتے دیکھا تھا۔یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں کے مرکزی موضوعات فرقہ واریت، قومی انتشار اور فسادات کے سبب رونما ہونے والے منفی نتائج ہیں۔ فسادات کے متعلق ان کے افسانوں کا دائرہ ہندوستان تک محدود نہیں بلکہ اسرائیل و فلسطین اور جرمن نازیوں کے مابین تنازعات تک پھیلا ہوا ہے۔ اس نوعیت کے نمائندہ افسانوں میں یہودن، کفارہ، یروشلم یروشلم، درگاہ شریف، اللہ اکبراور ایک کہانی گنگا جمنی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔

قیصر تمکین بیشتر مقامات پر فرسودہ روایتوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے نظر آتے ہیں۔اس موضوع پر ان کا سب سے طویل اور عمدہ افسانہ ’ژینیت‘ ہے۔ فرسودہ اقدار کے خلاف بغاوت کا جذبہ اس افسانے میں کامیابی کے ساتھ ظاہر ہوا ہے۔ ان کی ترقی پسندی انھیں مذہب، ملک اور قوم کے دائروں سے پرے ہو کر غور و فکر کا موقع فراہم کرتی ہے۔ وہ جذباتیت اور انتہا پسندی کو نقصان دہ ثابت کرتے ہوئے اسے فساد کی جڑ قرار دیتے ہیں۔یہ جذباتیت کس طرح بڑے بڑے نقصانات کو جنم دیتی ہے اس کی ایک مثال افسانہ ’ایک کہانی گنگا جمنی‘ کے کردار’ مولوی حقی ‘ہیں۔ جنھوں نے گلی کے ایک بندر پرانتقاماً لاٹھی چلا کرشرپسندوں کے لیے فرقہ وارانہ فساد برپا کرنے کے لیے ایک بڑا موقع فراہم کر دیا تھا۔

قیصر تمکین کے افسانوں کے بیشتر کردار خیالی دنیا کے بجائے آس پاس کے ماحول سے سروکار رکھتے ہیں۔ علامتی اور تجریدی افسانہ نگاری سے یقینا انھوں نے اثر قبول کیا ہے لیکن یہ رنگ ان کے افسانوں پر حاوی نہیں ہونے پاتا۔ ان کی یہ خواہش بھی نہیں تھی کہ انھیں ایک علامتی اور تجریدی افسانہ نگار کے طور پر یاد کیا جائے۔البتہ انھوں نے اپنے افسانوں کو سپاٹ بیانیہ اور طے شدہ انجام پر ختم ہونے سے بچانے کی کوشش ضرور کی ہے۔ یہ خوبی جدیدمعاشرے پر نظر رکھنے والے افسانہ نگار کے یہاں ہی پیدا ہو سکتی تھی۔قیصر تمکین کے بقول’’ان کہانیوں میں کہیں کہیں یہ کوشش مستور ہے کہ’’پھر کیا ہوا؟۔ یہ تجسس اس بات کی علامت ہے کہ کہانی کبھی ختم نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس کا طے شدہ انجام ہوتا ہے۔ جس طرح زندگی مختلف جہتوں میں آگے بڑھ جاتی ہے، اسی طرح کہانی بھی کہیں ختم ہو کر کہیں سے شروع ہو جاتی ہے۔

قیصر تمکین کے بعض افسانے قدیم ہندو دیو مالا، اساطیراور ما بعد الطبیعاتی عناصر کی عکاسی بھی کرتے ہیں، لیکن ان کے کرداروں کی ارضیت، موجودہ معاشرے کی تصویر کشی اور رہن سہن جلد ہی قاری کو ایک جانی پہچانی دنیا میں داخل کر دیتے ہیں۔ان کے افسانو ں کا ابہام تفہیم کی سطح پر چیستاں نہیں بننے پاتا۔البتہ قارئین کے لیے ذہنی آسودگی کا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید اسلوب میں ڈھلے ہونے کے باوجود ان کے افسانے ’کہانی پن ‘سے مزین ہیں۔

قیصر تمکین کی تخلیقات میں نو افسانوی مجموعے،دو ناولٹ،ایک خود نوشت اور تین تنقیدی کتابیں شامل ہیں۔ حالیہ دنوں میں ان کے نمائندہ افسانوں کا انتخاب ’’گومتی سے ٹیمز تک‘‘منظر عام پر آیاہے۔اس انتخاب میں اٹھارہ افسانے شامل ہیں جس میں مختصر افسانوں کے ساتھ وہ افسانے بھی موجود ہیں جنھیں طویل انداز نگارش کی مثال کہا جا سکتا ہے۔ اسی طرح علامتی اور دیومالائی طرز اسلوب کے اہم افسانوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیاہے۔

افسانہ ’سواستکا‘ کی قرأت ایک علامتی افسانے کے طور پر بھی ممکن ہے، لیکن افسانے میں موجود سریت سواستکا کو کسی مخصوص معنی کی علامت نہیں بننے دیتی۔ یہ افسانہ راوی اور اجنبی شناسا کے مابین ایک کش مکش کو سامنے لاتا ہے۔ اس کش مکش کی بنیاد پرانی اقدار کی شکست اور تہذیب نو کی بلاخیزی ہے۔ یہ صلیب اور سواستکا کے درمیان کا فرق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سواستکا والا شناسا اجنبی املی کے درخت کے پاس صلیب جلنے پر فاتحانہ شان سے ہنستا ہوا باہر آتا ہے۔افسانے کا آخری اقتباس ملاحظہ کیجیے:

’’آرام دہ وی سی10 کے کیبن میں لیٹے لیٹے میں ملکوں ملکوں، شہروں شہروں ہوتا ہوا جب گھر پہنچا تو آنگن میں املی کا وہ درخت کٹ چکا تھا جس کے سایے میں ہم جوان ہوئے تھے۔ وہاں پر ایک صلیب جل رہی تھی۔گھر میں کوئی نہ تھا۔صرف دھواں ہی دھواں پھیلا ہوا تھا۔ایک خوفناک قہقہے نے میرا خیر مقدم کیا۔وہاں میرا منحوس شناسا،وہی پراسرار اجنبی تھا۔جس کے چہرے پر فتح مندی کی چمک تھی۔‘‘

(گومتی سے ٹیمز تک، مرتبہ احسن ایوبی، ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، نئی دہلی،سنہ 2021، ص41)

یہاں املی کا درخت اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ راوی اپنے وطن میں صلیب (جو کہ جرمن نازیوں کی خاص علامت ہے) کے خلاف بغاوت اور مخالفت کی آگ جلتی ہوئی دیکھتا ہے۔ یہاں محض سواستکا کا لفظ علامت نہیں ہے، بلکہ صلیب اور سواستکا دونوں دو مختلف تہذیبوں کی علامتیں ہیں۔ کہانی کا مبہم کردار (شناسا اجنبی) ان پرانی اقدار کا واہمہ ہے جو انسان کے ذہن و دماغ سے کبھی محو نہیں ہوتیں اور وقتاً فوقتاً اپنی روایت سے انحراف کا خوف پیدا کرتی رہتی ہیں۔

افسانہ ’باب الابواب‘ انسانی بے حسی اور سرد مہری کے خلاف ایک بیانیہ ہے۔ افسانے کے مرکزی کردار ’نادر علی‘کی طرح بڑا پھاٹک اور اس کے پیچھے بسنے والی مخلوق بھی پراسرار ہے۔ بظاہر یہ افسانہ قدیم لکھنوی تہذیب و ثقافت کی عکاسی کرتا ہے لیکن کہانی میں موجود سریت اس کی معنوی پرت کو گہرا کر دیتی ہے۔یہ سریت کبھی انسانی بے حسی کی طرف لے جاتی ہے اور کبھی روایت شکنی کی طرف۔ اس میں عہد حاضر کی ترقیوں کے علائم بھی ہیں (مثلاًہیلی کاپٹر) اور عہد عتیق کی مضبوط مثالیں (مثلاًمسیح) بھی۔

افسانہ ’مرحبا‘ Irony Based افسانہ ہے۔ یہ ان لوگوں پر طنز ہے جو احساس برتری میں مبتلا ہو کر دوسروں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ لیکن جب وہی صورت حال ان کے سامنے آتی ہے تو منافقانہ رویہ اپناتے ہوئے اپنا دامن بچا کر نکل جاتے ہیں۔ ’دیدے‘ اور ’محمود ہومن‘دو مختلف زاویۂ نظر کے ترجمان ہیں۔ محمود ہومن کے متعلق یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے:

’’محمود ہومن جب پڑھے لکھوں میں بیٹھتا ہے تو اس کی طبیعت افسردہ ہو جاتی ہے۔جب وہ اچھے لوگوں سے ملتا ہے تو شرمندہ سا ہو جاتا ہے۔جب کامیاب شخصیات کے قصے سنتا ہے تو کھسیانا ہو جاتا ہے۔جب مسکراہٹوں اور قہقہوں کی سنہری چمکیلی دھوپ آس پاس بکھرتی ہے تو اس کے وجود پر گہرے منحوس بادل چھا جاتے ہیں اور سب سے زیادہ رنجیدہ تو وہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ ننھے شرمگیں پودوں کی طرح لہلہاتی الہڑ اور البیلی لڑکیوں کو دیکھتا ہے۔’’حسن ہم کو درد مند کیوں بنا دیتا ہے؟‘‘ یہ سوال وہ اپنے آپ سے کرتا ہے اور کوئی جواب نہیں پاتا ہے۔ اس کا فرانسیسی دوست دیدے کہتا ہے:’’ محمود ہومن تم میڈیوکر ہو۔‘‘(ایضاً، ص 48,49)

اس کے بالمقابل دیدے دوسری نوعیت کا فن کار ہے۔وہ کہتا ہے:

’’تم محمود ہومن شاعری اور حقیقت کی کھچڑی پکانے کی کوشش میں میڈیوکر بن جاتے ہو۔یہ کیوں نہیں سمجھتے ہو کہ سراپا غم ہو کر مسکرانا ہی اصل فن ہے۔‘‘

لیکن بالآخر جب ’فریدہ‘سیاہ فام مرد کی طرف بڑھ جاتی ہے اور اس کے دونوں پیر ٹخنوں تک خون کے حوض میں ڈوب جاتے ہیں تودونوں میں سے کوئی آگے نہیں بڑھتا۔اس وقت ثقافت کا پرستار دیدے اور قنوطیت کا بیمار محمود ہومن خاموش تماشائی بنے کھڑے رہتے ہیں۔ دیدے،جو بات بات پر محمود کو میڈیوکر بتاتاتھا، بے شرمی سے قہقہہ لگاتا ہے اور یہ تسلیم کر لیتا ہے کہ ہم دونوں ہی میڈیوکر ہیں۔ یہ سماجی خیرخواہوں کے کھوکھلے دعووں کی شکست ہے جو وقت آنے پر باطل طاقتوں کے سامنے گھٹنا ٹیک دیتے ہیں۔قیصر تمکین نے یہاں تثلیث کا جو زاویہ قائم کیا ہے وہ دو خود پرستوں کو بے نقاب کرتا دکھائی دیتا ہے۔ فریدہ کا کردار ایک آئینے کی صورت میں ظاہر ہوا ہے،جو دیدے اور محمود کو ان کا اصلی چہرہ دکھانے کا کام کرتا ہے۔

سیر گل خوب نہ دیدیم‘، یہ افسانہ ہجرت کے کرب، اجنبیت اور خونی رشتوں سے دوری کو اپنا موضوع بناتا ہے۔ کہانی کے تینوں مرکزی کردار، منظر، ناظر اور صائمہ کی زندگیاں اسی انتشار کے سبب بے رنگ ہوجاتی ہیں۔ منظور صائمہ بجیا سے دوری برداشت نہیں کر پاتا۔ایک لمحے کو یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ منظور کا صائمہ بجیا سے ناجائز رشتہ ہے، لیکن یہ رشتہ ایک پاکباز رشتہ تھا۔یہاں حادثاتی طور پر ان دونوں کی علاحدگی فطرت سے کھلواڑ کے مترادف ہے، جو کہ دونوں کی تباہی کا سبب بنتی ہے۔قیصر تمکین نے ہجرت کو صرف ملک اور جغرافیائی نقشے کی تقسیم نہ سمجھ کر اسے بہت سے رشتوں کی تقسیم کے طور پر بھی دیکھا ہے۔ یہ رشتے فطرتی ہیں،جن میں تقسیم کے غیر فطری عمل کے سبب علاحدگی پیدا ہو گئی اور دونوں کی تباہی کا سبب بنی۔

افسانہ ’خدا حافظ ابوالحسن‘ عقلیت پسند میڈیوکر ٹائپ لوگوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ افسانے کا آغاز نہایت دلچسپ اور دیومالائی ہے۔ لیکن کہانی میں ابوالحسن کی انٹری کے بعد افسانہ جنید اور ابوالحسن کے افکار و خیالات کو لے کر آگے بڑھتا ہے۔ابوالحسن ایک عقلیت پسند مفکر ہے۔ اس نے اپنی پوری زندگی عقلیت کی تبلیغ کی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ مرنے کے بعد جسم کی تدفین کا بھی قائل نہیں تھا۔اتفاقاً اجنبی ملک میں ابوالحسن کی موت ہو جاتی ہے۔اب مسئلہ یہ سامنے آتا ہے کہ ابوالحسن نے اپنی موت سے قبل وصیت کی تھی کہ اسے اس کے آبائی وطن میں دفن کیا جائے۔’ جنید‘ جو کہ اس کا پرانا دوست ہے، اس وصیت کو لوگوں کی طرف سے گڑھی ہوئی بات سمجھتا ہے۔ وہ رات میں رقص کے دوران خاموشی سے ابوالحسن اور فوٹوگرافر ’ڈیونیر‘ کے تابوتوں میں ہیرا پھیری کر دیتا ہے۔ جس کے سبب فوٹوگرافر دفن کر دیا جاتا ہے اور ابوالحسن کی لاش جلائی جاتی ہے۔ جنید کا یہ رویہ عقلیت پسندی کے خلاف ایک تازیانہ ہے۔ ساتھ ہی ابوالحسن کی بیجا عقلیت پسندی کا نتیجہ بھی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ابوالحسن نے اپنی موت سے قبل واقعی اس طرح کی کوئی وصیت کی تھی تو اس کے کیا اسباب تھے؟ یہاں افسانہ نگار خاموش ہے۔شاید اس لیے کہ عقلیت پسندوں کے منحرف رویوں پر اسے بھی حیرانی ہے۔

افسانہ ’یروشلم یروشلم‘اس امر کا اثبات ہے کہ قدیم عمارتیں اور پرانی یادیں ہماری زندگی کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ ان کے ضائع کرنے سے انسانی تاریخ کا ایک بڑا حصہ حذف ہو جاتا ہے۔ افسانہ اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ کوئی بھی شے اپنے وجود کے اعتبار سے نئی یا پرانی نہیں ہوتی، بلکہ لوگوں کی ترجیحات بدلنے سے ان پر قدامت کا گمان گزرنے لگتا ہے۔ لیکن معیار بدل جانے سے حقیقت نہیں بدلتی۔ اس افسانے کا موضوع قیصر تمکین کی ہندوستان دوستی اور ان کا عہد طفلی ہے۔ افسانہ نگار اپنے ماضی کا قدردان بھی ہے اور اس کے تحفظ کے لیے فکر مند بھی۔

افسانہ ’عہد گل ختم ہوا‘طالب علموں کی ہوسٹل لائف کے علاوہ سماج میں بڑھتی عدم رواداری کو اپنا موضوع بناتا ہے۔ افسانے کے دو مرکزی کردار ’رام سنگھ‘ اور ’معجز‘دو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے کے باوجود ہم پیالہ وہ مشرب والی زندگی گزار رہے ہیں۔ رام سنگھ کیمپس چھوڑنا نہیں چاہتا اور معجز کو سند کی کوئی ضرورت نہیں۔ دونوں اپنے اپنے مقصد میں کامیاب ہیں۔ لیکن ان دونوں کی شراب نوشی اور نتائج سے بے خبری پرانی قدروں کی شکست کی علامت کے طور پر ظاہر ہوئی ہے۔ یہ افسانہ قومی منافرت کے دوستی پر اثرانداز ہونے کی مثال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم قوم سے دشمنی کی خبریں سن کر رام سنگھ شرمندہ ہو کر خودکشی کر لیتا ہے۔ اس وقت ’معجز‘کو بھی مسلمانوں کی اپنی کوتاہیوں کا احساس ہوتا ہے۔ قیصر تمکین انتہا پسندی کے خلاف ہیں اور یہاں انتہا پسندی کے نتیجے میںخراب ہوتے دوستانہ تعلقات کے ذریعے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ حساس ذہن اور دردمند دل کبھی بھی انتہا پسندی کو قبول نہیں کر سکتے۔رام سنگھ کی خودکشی قوم کے انتہا پسندرویے پر حد سے زیادہ شرمندگی اور صدمے کی مثال ہے۔

افسانہ ’باز پرس‘اپنی مٹی سے وابستگی اور ایثار کو سامنے لاتا ہے۔ یہ ان لوگوں پر گہرا طنز ہے جو ہجرت یا فرار کو راہ نجات سمجھتے ہیں۔ یہاں افسانہ نگار اپنی زمین سے وابستہ رہتے ہوئے شہید کر دیے جانے کو ہجرت پر ترجیح دیتا ہے۔ اس کے اندر ایک احساس فتح مندی ہے۔ اور اسی احساس کے ساتھ عالم ارواح سے وہ خط کے ذریعے ان لوگوں سے باز پرس کرتا ہے جو ہجرت کر گئے تھے یا ہجرت کے لیے بیتاب تھے اور مارے گئے۔اس سلسلے میں وہ ادیبوں اور شاعروں پر بھی اظہار خیال کرتا ہے۔ ایک خط ملاحظہ کیجیے:

’’رضوی صاحب!

’’اصل میں ادیب و فن کار اگر محض سماجی رتبوں کا پروردہ نہیں ہے تو ایک ایسا مسلک اپناتا ہے جس میں ’مجنوں باشی‘ کی قدیم شرط اول ہی شرط آخر بھی ہوتی ہے۔  اسی بنا پر میرا خیال ہے کہ کوئی بھی شاعر اور ادیب جو اپنے ملک، اپنے زمین و آسمان اور اپنے شہریوں اور ہمسایوں سے بھاگ کر دوسرے ملکوں میں پناہ گزیں ہوتا ہے تو وہ سب کچھ تو ہو سکتا ہے مگر ایک مخلص ادیب و دانشورنہیں قرار دیا جا سکتاہے۔ ڈاکو ہو سکتا ہے،سوویت یونین کا سولزے نتسن ہو سکتا ہے، البانیہ کا اسماعیل قادری ہو سکتا ہے، اردو کا۔۔۔خیر چھوڑیے بھی۔ کہنا یہ تھا کہ بھاگنے والا سقراط،مسیح اور منصور نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ اس راہ فرار کے معنی ہی فقدان اخلاص کے ہیں۔ ‘‘ (ایضاً، ص ص141)

یہاں افسانہ نگار نے ایسے ادیبوں اور شاعروں کو نشانہ بنایا ہے جو ملک سے ہجرت کر جانے کو ہی مسئلے کا حل سمجھتے ہیں۔حالاں کہ قیصر تمکین خود بھی ایک مہاجر تھے،لیکن اس کے باوجود ان کا یہ خیال اہمیت ضرور رکھتا ہے۔ ان کے مطابق ادیب کا اصل کام ہجرت کرنا نہیں بلکہ مسائل سے نبرد آزما ہونا اور ان پر بے باکی سے اظہار خیال کرنا ہے۔ مکتوباتی انداز میں لکھا گیا یہ افسانہ یک طرفہ ہونے کے باوجود کافی دلچسپ اور Attacking نوعیت کا ہے۔

افسانہ’سر مقتل‘ ضبط تولید کو زیر بحث لا کر آنے والی نسلوں کے تئیں ایک تشویش کو اجاگر کرتا ہے۔ راوی کا یہ خوف کہ اب ایسی نئی نسل پیدا ہی نہیں ہو سکتی جس کے لیے کوئی پیغام چھوڑا جائے، نسل نو کی اقدار دشمنی، اور رنگینیوں کی طرف ان کے میلان کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے کچھ جملے ملاحظہ فرمائیں:

’’وہ دن گئے جب دن دن بھر کتب خانوں میں صرف یہ معلوم کرنے کے لیے بیٹھے رہتے تھے کہ اگلے وقتوں کے جانباز کس دھج سے سر مقتل گئے۔‘‘

حقیقت یہ ہے کہ وہ نئی پیڑھی جس کا’میں‘ منتظر ہوں اور ’وہ‘ متوالا تھا،اب ہماری تہذیب کے بطن سے پیدا ہی نہیں ہو سکتی۔‘‘  (ایضاً، ص 171)

بغیر کوئی آخری پیغام دیے پھانسی کے پھندے پر جھول جانے والا یہ شخص اصول پسند اور اپنی روایت کا امین ہے، جس کے بعد اس کا کوئی وارث نہیں۔ وراثت کے تحفظ کا فقدان جو کہ ہمارے عہد کا بڑا المیہ ہے اس افسانے کا مرکزی خیال بن کر ابھرا ہے۔

نوجیون‘ایک ایسا افسانہ ہے جو فسادات کے انسانی ذہن و دماغ پر پڑنے والے مہلک اثرات کی نشان دہی کرتا ہے۔ افسانے کا مرکزی کردار ’عنایت‘ ہے۔جو شر پسندوں کے ہاتھوں قتل کیے جانے کی کئی واردات دیکھ چکا تھا۔وہ بالآخر اپنے آپ کو ایک مردہ تسلیم کرلیتا ہے۔ اسی غیر انسانی رویے کے سبب وہ مذہب سے بھی بیزار ہو جاتا ہے۔ اس افسانے میں بھی قیصر تمکین نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ انتہا پسندی کس طرح امن پسند ذہنیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔اور فسادات سے اس شخص پر کیسے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہاں جو حالت ’عنایت‘کی ہے، بیشتر امن پسند اشخاص اسی صورت حال میں گرفتار نظر آتے ہیں، اور یہی ہمارے سماج کیIrony ہے۔

ژینیت‘ اس انتخاب میں شامل سب سے طویل کہانی ہے۔ اسے طویل انداز نگارش کی ایک مثال بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ’ژینیت‘ متعصب اور قدامت پرست مسلم گھرانوں سے اٹھنے والی بغاوت اور احتجاج کی ان آوازوں کی کہانی ہے جو اپنے گھروں کے فرسودہ نظام کے خلاف بلند ہوتی ہیں۔ کہانی کے مرکزی کردار ’ژینت‘ اور ’عدو‘ بھائی کی زندگیوں کے اتار چڑھاؤ دوسروں کے لیے ایک تحریک اور ترغیب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک معمولی غریب لڑکی ہونے کے باوجود ژینیت جس طرح بیرون ملک جاکر کامیاب آرٹسٹ بنتی ہے اور خوب پیسے کماتی ہے، یہ اس کی بے باکی کی مثال ہے۔ ژینیت کا کردار شروع ہی سے اپنی بہادری کا جلوہ دکھاتا نظر آتا ہے، جس کی پہلی نمائش احمد کے اسکول میں کچھ غنڈوں کی پٹائی کے وقت سامنے آتی ہے۔ ژینیت نے یہ ثابت کردیا کہ دنیا میں اصل تقسیم صرف امیری اور غریبی کے مابین ہے۔ اس تقسیم سے نہ کوئی رشتے دار محفوظ ہے اور نہ ہی مساوات کا درس دینے والاکوئی فرد۔ ژینیت کا کردار لڑکیوں کی زندگی کے کئی پہلوؤں کو روشن کرتا ہے۔ اسی طرح ’عدو ‘بھائی کا کردار متمول مسلم گھرانوں کے ان لڑکوں کی مثال ہے جو کچھ دنوںتک روایتی نہج پر چلنے کے بعد اپنے شعور کو کام میں لاتے ہیں اور اس نہج سے انحراف کی جسارت کر بیٹھتے ہیں۔ اس قسم کے کردار ماحولیاتی تبدیلی کو قبول کرنے کے لیے اپنے ذہن و دماغ کو تیار رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ژینیت بھی جب عدو سے ایک مدت کے بعد ملتی ہے تو اس کی فکر سے متاثر ہو کر اس سے قریب ہو جاتی ہے۔ عدو کی ماں اور دوسرے لوگوں کی ہزار کوششوں کے باوجود افسانے کے اخیر میں عدو اور ژینیت کی ایک دوسرے سے جذباتی ہم آہنگی محض اتفاق نہیں، بلکہ ناسازگار ماحول میں دو مثبت روحوں کے ملاپ کی علامت ہے۔

زبان و اسلوب کی سطح پر یہ اعتراف ضروری ہے کہ قیصر تمکین کے افسانوں کی زبان بہت سلیس اور رواں ہے۔ وہ صحافی بھی ہیں اور انگلستان میں رہنے کی وجہ سے وہاں کی زبان اور کلچر سے بخوبی واقف بھی۔ لیکن ان کی زبان نہ تو انگریزی زدہ ہے اور نہ ہی ان کا بیانیہ صحافت کی شکل اختیار کرتا ہے۔ انھوں نے اسلوب کی سطح پر کئی تجربے کیے ہیں لیکن کسی بھی عنصر کو اپنے آپ پر حاوی نہیں ہونے دیا ہے۔ وہ ایک کہانی کار ہیں اور کہانی کار کی حیثیت سے علامت، دیومالا، ابہام اور داستان سے بھی استفادہ کرتے نظر آتے ہیں۔     

 

Faizanul Haque

F-11/18, Third Floor

Jogabai Extn, Near Nooh Masjid, Jamia Nagar

New Delhi - 110025

Mob.: 8800297878





1950 کے بعد اردو نظم کا رجحان - مضمون نگار : محمد شاہد

 



1947 کے سانحۂ تقسیم،فسادات اور سماجی انتشار کے بعد ہی سے ادب میں ایک جدید تخلیقی رویے اور خیال بندی کے منظر نامے کی تشکیل کی بنیاد پڑ چکی تھی۔تقسیم ہند کا واقعہ ایک عظیم سانحہ تھا جس نے برصغیر میں انسانی زندگی اور اس کی داخلی کائنات کو تبدیل کر کے رکھ دیا تھا۔عالمی سطح پر بھی دوسری جنگ عظیم کو زیادہ وقت نہیں گزرا تھا جس نے پوری دنیا کے انسانوں کو متاثر کیا تھا۔ جس آزادی اور انسانی فلاح کی راہ انسانوں نے دیکھی تھی وہ سراب ثابت ہو چکی تھی،آزادی اور انقلاب جیسے نعرے کھوکھلے اور بے معنی ثابت ہوئے تھے اور اس عہد کے انسانوں کا سماجی انقلاب اور مشترکہ جد وجہد سے بھروسہ اٹھ چکا تھا۔ 1950 کے بعد جس طرح کے حالات اور مسائل کا سامنا انسان کو ہو ا وہ انتہائی المناک تھے۔آدمی مایوس ہو کر اپنی ذات کے خول میں بند ہو رہا تھا جس کی بنا پر اسے شدید ذہنی کشمکش، الجھن، عدم تحفظ اور تنہائی کا سامنا تھا۔سماجی اور تہذیبی قدروں سے اس کی دلچسپی ختم ہو رہی تھی جس کی وجہ سے اس کی سماجی زندگی بحران کا شکار ہوگئی اور انسان تنہا ہو تا گیا۔وقت کے جبر اور حالات نے انسان کو شدید مایوسی اور افسردگی میں مبتلا کر دیا تھا۔ اب شاعر اور ادیب انسان کی اس نئی زندگی اور اس کے نئے تقاضوں سے شعر وادب کو ہم آہنگ کر نے کی کوشش کرنے لگے اور ادب میں اس نئے رجحان کو جدید یت کے رجحان سے تعبیر کیا گیا۔ اس جدید رجحان کی بنیاد انسان کی ذات، اس کی پیچیدہ کائنات کے سربستہ اسرار کا انکشاف،اس کی پیچیدہ ذہنی کشمکش اور نفسیات کو سمجھنے کی کوشش اور بحیثیت فرد اس کے مسائل اور احساسات و جذبات کی عکاسی پر تھی۔

اردو ادب میں جدیدیت کا رجحان 1955 کے آس پاس واضح طور پر سامنے آیا اور اردو ادب میں نظم کی صنف میں اس رجحان کو بہت جلد مقبولیت حاصل ہو گئی۔ جدیدیت کے رجحان کے زیر اثر لکھی جانی والی نظم کو نئی نظم یا جدید نظم کا نام دیا گیا۔ اس رجحان کے زیر اثر لکھنے والوں نے گروہ بندی،جماعت،حلقہ اور تحریک سے مکمل احتراز کیا اور اظہار خیال کی آزادی کی موافقت کی۔اظہار خیال کی آزادی اچھے ادب کی تخلیق کے لیے ناگزیر ہے اور آزادیِ اظہار کی بنا پر یہ رجحان ترقی پسند تحریک کی جگہ بہت جلد مقبول عام شعری رجحان بن گیا۔

1950 کے آس پاس ترقی پسند تحریک کے انحطاط کادور شروع ہوا اور اردو ادب میں نیا رجحان سر اٹھانے لگا۔1960 کے آس پاس یہ رجحان واضح طور پر ظاہر ہوا اور جدیدیت سے موسوم کیا گیا۔شاعری میںیہ رجحان نظم کی صنف میں بہت مقبولیت کے ساتھ نمودار ہوا اور اس کے زیر اثر تخلیق شدہ نظموں کو نئی نظم سے تعبیر کیا گیا۔ جدیدیت در اصل شعر وادب کے اس نئے اور جدید طرز فکر اور اسلوب کا نام تھا جو مروجہ روایت سے بغاوت کے نتیجے میں پروان چڑھ رہا تھا اور آزاد طرز تخلیق پر مبنی تھا۔ جدید نظم نگاروں نے انسان کی ذات، اس کے وجود کے اسرار و رموز اور اس کی داخلی کائنات کے انکشاف کی شعوری کوشش کی ہے۔یہ کسی مخصوص طرز فکر اور طرز و اسلوب کا پابند نظریۂ شعر وادب نہیں تھا اور نہ اس کا تعلق مخصوص عہد سے تھا۔یعنی ایسا نہیں ہے کہ اس دور کا ہر لکھنے والا جدیدیت کا علم بردار تھا۔جدیدیت کا عام اور آسان مطلب یہی ہے کہ وہ خاص انداز نظر اور طرز فکر جو موجودہ زمانے سے ہم آہنگ ہو اور روایت اور اپنے ماضی سے گریزاں ہو، جدیدیت ہے۔ن م راشداپنے مضمون ’جدیدیت کیا ہے‘میں لکھتے ہیں:

’’جدیدیت کی ایک تعریف تو یہی ہو سکتی ہے کہ جو انداز نظر اپنے زمانے کے ساتھ ہم آہنگ ہو اور ماضی سے یگانگت اور ربط محسوس نہ کرے وہ گویا جدیدیت کا حامل ہے۔ تاہم جدیدیت کا معنی محض معاصریت نہیں ہیں۔ یعنی ہر شاعر جو ہمارے زمانے میں زندگی بسر کر رہا ہے اور شعر کہتا ہے جدید شاعر نہیں کہلا سکتا۔یہ پیش افتادہ بات معلوم ہوتی ہے لیکن اس کی تکرار اس ضمن میں ضروری تھی کیونکہ بیشمار شعرا اس وقت ’موجود ‘ہیں لیکن ’جدید‘ نہیں ہیں۔ جدید شاعر صرف وہی ہے جو’جدید‘شعر کہتا ہے۔‘‘

( مقالات ن م راشد،ن م راشد، ص180،مطبوعہ الحمرا پبلشنگ اسلا م آباد2002)

 وہ نظریۂ ادب جو ترقی پسند تحریک کے زیر اثر پروان چڑھا اور سماج اور انسانی زندگی کے نئے مسائل اور تقاضوں کی بنا پر وجود میں آیا، اس نظریے کو جدیدیت سے تعبیر کیا گیا۔ روایت سے بغاوت اور مروجہ طرز فکر سے انحراف کے نتیجے میں پیدا ہونے والا یہ رجحان موضوع، طرز اظہار، ہیئت،نئے رنگ وآہنگ اور تنوع سے عبارت تھا۔

نئی نظم کے خد وخال مکمل طریقے سے 1960 تک ظاہر ہو چکے تھے اور یہ رجحان اردو شاعری کا غالب رجحان بن چکا تھا۔نئی نظم میں موضوع، بیان اور ہئیت یا کسی اور اعتبار سے پابندی سے گریز ملتا ہے۔ نئی نظم کے شعرا اپنی انفرادی بصیرت اور فکر کا اظہار کرتے ہیں اور یہ اظہار اپنے اندر مختلف رویوں کا حامل ہے۔ اختلاف رائے اور اختلاف طرز اظہار ان شعرا کے یہاں مسئلہ نہیں ہیں اور وہ اسے ایک فطری اورادبی سچائی کی حیثیت سے قبول کرتے ہیں۔

نئی نظم کا شاعر حیات و کائنات کے سربستہ رموز کو اپنی بصیرت اور تجربات کی نگاہ سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہے اور ایک جدید فلسفے کی دریافت کرتا ہے۔وہ انسانی زندگی یا سماج کو کسی مخصوص مروجہ سماجی نظریے یا سیاسی نظریے سے دیکھنے کا قائل نہیں بلکہ بحیثیت فرد وہ انسانی زندگی اور کائنات کی حقیقتوں کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔نظم کے اس رجحان کے زیر اثر شاعری کرنے والوں نے کسی مخصوص لب و لہجے، زبان و بیان کے مخصوص مسائل، ہیئت، موضوع یا بیان کے محدود رویوں میں آزادی اظہار کو اہمیت دی ہے اسی لیے جدید شعرا کے یہاں موضوع، اسلوب، لہجہ اور زبان و بیان میں تنوع ہے۔

نئی نظم میں زبان وبیان، اسلوب، طرز اظہاراور موضوع کے اعتبار سے بہت وسعت ہے، تنوع اور رنگارنگی ہے۔ یہ علاقہ، حلقہ،تحریک، جماعت اور گروہ بندی کی مکمل نفی کرتی ہے۔اس نئے رجحان کے زیر اثر شاعر یا نظم نگار کو کسی تحریک اور گروہ سے وابستگی یا موافقت کا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ وہ ان پابندیوں سے آزاد ہے تاکہ اچھا اور سچا ادب تخلیق کر سکے کیونکہ نئے ادیبوں اور شاعروں کاخیال تھا کہ آزاد اذہان و افکار ہی اچھا ادب تخلیق کر سکتے ہیں نہ کہ گروہ بندیوں،تحریکوں اور جماعتوں کی اتباع میں لکھنے والے۔ اس اتباع میں فنکار کی وہ داخلی حس جہاں سے شعر وادب اور فن کے سوتے پھوٹتے ہیں وہ دب جاتی ہے،اس کی انفرادیت واضح نہیں ہو پاتی اور جو فن پارہ تخلیق ہوتا ہے وہ در اصل اس کی آواز نہ ہو کر بھیڑ اور گروہ کی آواز بن جاتا ہے۔نئی نظم میں فنکار کو آزادی ہے کہ وہ جو تخلیق کرنا چاہتا ہے کر سکتا ہے۔ نہ اس میں کوئی موضوع کی قید ہے، نہ ہیئت کی اور نہ کوئی واضح اور معینہ اسلوب۔ خلیل الرحمن اعظمی نئی نظم کے شعرا کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’1960 اور 1970 کے درمیان کے شعرا کی نمایاں خصوصیت تنوع، رنگا رنگی اور پہلوداری ہے۔نئی شاعری اب آزاد نظم کے مترادف نہیں سمجھی جاتی، اس کی متعین اور سکہ بند ہیئت ہے اور نہ اس کا بندھا ٹکا اسلوب،پابند، نیم پابند، معریٰ،آزاد ہر طرح کے اسالیب میں نئی جہتیں پیدا ہوئی ہیں اور نئی حسیت نے ان میں تازگی پیدا کی ہے۔نئی پابند نظم پرانی پابند نظم کے درمیان اپنے ذائقے، اپنی خوشبو اور اپنے لہجے سے پہچانی جا سکتی ہے۔ ‘‘

(نئی نظم کا سفر، خلیل الرحمٰن اعظمی،ص22،مکتبہ جامعہ نئی دہلی2011)

نئی نظم میں بیان کی رنگا رنگی، وسعت فکر،مختلف شعری ہئیتوں کے تجربات،آہنگ اور بیان کا تنوع اور لفظوں کے نئے معانی سے ہم آہنگی ہے۔ مضامین کے برتنے کی اگر بات کی جائے تونئی نظم کے شاعر نے جسم سے روح تک کا سفر کیا ہے اور تجرید سے تجسیم تک کے مراحل طے کیے ہیں۔ ظاہر و باطن کی کشمکش، جذبہ، خیال، حسیت، مادہ روح کا فلسفہ، تجرید اور تجسیم اور طبعیات سے ما بعد الطبعیات تک کے موضوعات کا تنوع ہے۔ اس میں روحانیت سے لے کر مادیت تک سب کچھ ہے۔ زبان و بیان کے اعتبار سے عام اور واضح حقیقی طرز اظہار سے لے کر علامتی اور استعاراتی مبہم اسلوب اور جدید ہئیتوں کی دریافت کے ساتھ نئی نظم نے ارتقا کا یہ سفر طے کیا ہے۔ 1980 کے آس پاس نثری نظم کے تجربے دیکھنے کو ملتے ہیں اور پھر نثری نظم بھی نظم کا اہم حصہ بن جاتی ہے۔ اردو نظم نے اس رجحان کے زیر اثر ارتقا کے بہت سے مراحل طے کیے اور اپنی ایک اہم شناخت قائم کی۔

نظم کے اس نئے رجحان کو ابتدا میں جن شعرا نے پروان چڑھایا وہ ترقی پسند تحریک کی انتہا پسندی سے بیزار تھے۔ وہ آزادیِ اظہار اور شعرو ادب کے نئے رویوں کے متلاشی تھے جو نئے انسانی اور سماجی مسائل کی بہتر ترجمانی کرنے کے لیے معاون ثابت ہوں۔ 1960 کے آس پاس اردو نظم میں یہ جدید شعری رجحان عام ہوا۔اس رجحان کو نئی شعری کائنات میں وجود بخشنے کا سہرا ان شعرا کے سر جاتا ہے جو ادبی انتہا پسندی سے بیزار ہو کر نئے رویے کی دریافت میں فکری سفر پر سرگرداں تھے اور فکرو فن کو تحریکوں اور مخصوص سیاسی و سماجی نظریات کی بیڑیوں سے آزادی دلانا چاہتے تھے۔اولا جن نظم نگاروں کے ذریعے نئی نظم کی تعبیر عمل میں آئی ان میں خلیل الرحمن اعظمی، باقر مہدی، عمیق حنفی، وحید اختر، شاذ تمکنت،قاضی سلیم،ساجدہ زیدی،  محمود ایاز، بلراج کومل، شفیق فاطمہ شعری اور شہاب جعفری وغیرہ اہم نام ہیں۔ ان شعرا نے نئی نظم کے اولین نمونے پیش کیے۔ان شعرا کے بعد نظم کی اس فضا میں طلوع ہونے والے شعرا میں شہریار،ندا فاضلی، زبیر رضوی، کمارپاشی، شمس الرحمٰن فاروقی، زاہدہ زیدی، حمید الیاس، عادل منصوری، خلیل مامون، بشر نواز، عزیز قیسی، صلاح الدین پرویز، علی ظہیر،شاہد ماہلی، عتیق اللہ، سلیم شہزاد اور جاوید ناصروغیرہ اہم ہیں۔ان شعرا کو بنی بنائی فضا ملی اور انھوں نے اس سے استفادہ کر کے اس کو مزید ترقی سے ہمکنار کیا۔

خلیل الرحمٰن اعظمی ان اولین نئے نظم نگاروں میں سے ہیں جو ترقی پسند اور حلقۂ ارباب ذوق والوں کے گروہی اور مخصوص نظریاتی ادب سے الگ نئے ادبی رویوں کی تلاش میں سرگرداں تھے۔نئی نظم کے ابتدائی خد وخال مرتب کرنے میں ان کا اہم رول رہا ہے۔ان کے علاوہ وحید اختر کا شمار بھی اس رجحان کے اولین نظم نگاروں میں ہوتا ہے۔انھوں نے ’پتھروں کا مغنی ‘جیسی عمدہ اور خوبصورت نظمیں تخلیق کی ہیں جو اپنے اندر جدید اسلوب اور آہنگ رکھتی ہیں۔اردو شاعری کے اس جدید رجحان کی فضا میں شہریار طلوع ہوتے ہیں اور فکر و فن کی روشنی بکھیرتے ہیں۔ شہریار نے خلیل الرحمٰن اعظمی کی صحبت سے فیض یاب ہو کر اردو نظم کے اس نئے افق پر خوبصورت رنگ بھرے۔ان کی نظموں میں موضوع اور بیان کا بہت زیادہ تنوع ہے۔شہریار نے اپنی نظموں میں مکمل علامتی اور استعاراتی فضا تخلیق کی اور ز ندگی اور کائنات کی تلخ حقیقتوں سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ ان کی نظمیں سرگوشی کی سی کیفیت لیے ہوئے ہیں اور ان کا لہجہ خودکلامی کا سا ہے۔ان کے علاوہ ساجدہ زیدی اور زاہدہ زیدی نے جدید نظم کے ارتقا میں حصہ لیا ہے اور عمدہ نظمیں لکھی ہیں۔ منیب الرحمن بھی جدید شعرا کی صف میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔منیب الر حمن کبھی کسی تحریک، مخصوص نظریے، رجحان یا رویے کے پوری طرح پابند نہیں رہے البتہ وہ ترقی پسند تحریک کے نظریات و مفروضات، حلقۂ ارباب ذوق کی نرم گفتاری، ابہام گوئی اور فنی اصول کی اہمیت و معنویت کے رجحان سے ضرورمتاثر ہوئے مگر ان کو اپنے لیے کبھی بیڑی نہیں بننے دیا جس کی بنا پر ان کا شعری سفر ارتقا کی نئی منزلوں سے ہمکنار ہوتا رہااور جب نئی نظم کا سفر شروع ہوا تو ان کی نظمیں نئی نظم کے تصور سے ہم آہنگ ہوتی گئیں۔منیب الرحمن کا تعلق اگرچہ حلقۂ ارباب ذوق سے بھی رہا ہے لیکن ان کی نظمیں جدید رنگ و آہنگ کی ہیں۔ حلقۂ ارباب ذوق سے وابستہ شعرا کا لہجہ، علامتی اور استعاراتی اسلوب اور آہنگ نئے نظم نگاروں کے یہاں بھی ملتا ہے لیکن ان کے یہاں حلقے والوں کی طرح مخصوص اسلوب اور نظریے پر اصرار نہیں ہے۔منیب الرحمٰن کی نظموں کا ارتقائی سفر حلقۂ ارباب ذوق کے زیر اثر ہوتے ہوئے جدیدنظم سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔

مذکورہ شعرا میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو 1950 سے پہلے بھی شاعری کر رہے تھے لیکن 1950 کے بعد کے شعرا میں ان کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ اگرچہ ان کی شاعری کا آغاز ہو چکا تھا مگر ان کے فن نے ارتقائی مراحل 1950 کے بعد طے کیے۔اس سے پہلے دو دہائیوں سے اردو نظم ترقی پسند تحریک کے زیر اثر تھی،بیچ میں حلقۂ ارباب ذوق نے مختلف نظریات کی بنا پر ایک گروہ بنا لیا اور ایک نئے رجحان سے اردو شاعری آشنا ہوئی۔آزادی، تقسیم ہند، فسادات، نفرت اور انسانی قدروں کے انتہائی زوال نے انسانی زندگی میں نئے مسائل کو جنم دیا اور یہ شعرا نئے ادبی رویوں کی طرف متوجہ ہوئے تاکہ انسانی زندگی اور اس کے مسائل سے شعر و ادب کو ہم آہنگ کریں۔

نئے شاعروں نے زندگی اور کائنات کو اپنے تجربات اور بصیرت کی روشنی سے دیکھا اور پرکھا۔یہ بصیرت فنکار کا ذاتی رویہ ہے جو مخصوص سیاسی اور سماجی نظریات اور تحریکات کے زیر اثر وجود میں نہیں آیا۔یہ اس کے باطن اور روح کی آواز ہے جو وقت اور حالات نے اسے دی ہے۔نئی نظم میں ابہام ہے، علامتی اور استعاراتی فضا میں رچی بسی نظمیں انسان کی پیچیدہ حیات اور کائنات کا احاطہ کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو سمجھنا عام قاری کے لیے مشکل ہوتا ہے۔نئے شاعروں نے کس طرح انسان کے نئے مسائل اور میلانات کو اپنی نظموں میں علامتی اور اسعاراتی مبہم نظام فکر قائم کیا ہے اس کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں         ؎

مسیح وقت تم بتائو کیا ہوا

دیو علم کے چراغ کا، کیوں بھلا بپھر گیا

دھواں دھواں بکھر گیا/سنو کہ چیختا ہے، کام۔کام

ساحلوں کے سمت ہو سکے تو روک لو

اس نئے عذاب کو/ناخدا کی آخری شکست تک

سمندرں کی ریت چھانتے رہو

(وائرس :قاضی سلیم )

ابھی سانپ چھتری لگائے ہوئے

بھاپ نیلے خلاؤں کی جانب رواں ہے

وہ جس کی ضیافت کی تیاریاں تھیں، کہاں ہے

مری آتما چاک کر چیختی ہے

یہ ہانڈی ابلنے لگی ہے

یہ مٹی کی ہانڈی ابلنے لگی ہے

یہ مٹی کی دیوانی ہانڈی ابلنے لگی ہے

(ابال :عمیق حنفی)

پتھروں نے سنا اور چپ چاپ سنتے رہے

پتھروں کی اسی انجمن کا مغنی ہوں میں

اور بے درد،بے حس ستم گار پتھر سنیں گے کبھی

ان کا وہ مطرب خوش نوا شکوہ سنج زماں

اپنے نغمات کی آگ میں جل گیا

یا پھر ان ہی کے مانند پتھر کا بت بن گیا

(پتھروں کا مغنی :وحید اختر)

علی بن متقی رویا

مقدس آیتوں کو مخملیںجزداں میں رکھا

امام دل گرفتہ/نیچے منبر سے اتر آیا

خلا میں دور تک دیکھا

فضا میں دور تک پھیلی ہوئی تھی/دھند کی کھائی

(علی بن متقی رویا: زبیر رضوی)

جدید نظم نگاروں کے یہاں سفر، خواب، کشتی، دریا، ریت، دھنداور دھوپ جیسے الفاظ کثرت سے استعمال ہوئے ہیں۔یہ الفاظ موجودہ زندگی کی صحیح اور موزوں تعبیر پیش کرتے ہیں۔انسان کی پیچیدگیوں میں بھری زندگی کسی طوفان سے کم نہیں ہے جس کو شاعراس طرح کے الفاظ سے تعبیر کرتا ہے۔

جدید شاعر ایسی لفظی اور معنوی رعایتیں استعمال کرتا ہے جس سے نظم کی زبان اور فضا دونوں ستعاراتی ہو جاتی ہیں۔ اس دور کی نظموں میں فطری زندگی اور صنعتی زندگی کا فرق اور زندگی کے فطرت سے صنعت کی طرف سفر کا پتہ چلتا ہے۔جدید شعرا کی نظموں میں شور، گڑگڑاہٹ، ریل، فیکٹری، سڑکوں پر بھاگتی مخلوق جیسی فضا ملتی ہے اور اس ٖفضا میں انتہائی افسردہ،کرب زدہ، مایوس، تنہا، بھوکااور خود سے ناراض انسان ظاہر ہوتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف پہاڑ، جنگل، ندی، جھیل اور جھرنے جیسے الفاظ ہیں۔یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان میں فضا خوشگوار ہے لیکن یہاں بھی درد ہے،تنہائی اور کرب ہے جس سے نکلنے کی کوشش میں انسان صنعتی زندگی میں مثبت امید کے ساتھ داخل ہوتا ہے لیکن وہ مثبت احساسات سے مزید دور ہوتا جا رہا ہے۔

نوسماجی تشکیل اور نئی اقدار کے نظم گو شعرا کے یہاں لفظوں کا ایسا تضاد دیکھنے کو ملتا ہے جو معنی میں تضاد کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ زندگی کے تصادم کو دکھاتا ہے۔یہ تضاد نظم کے خیال میں نہ ہوکر لفظوں اور ان کے استعمال میں ظاہر ہوتا ہے۔جدید شعرا کے یہاں علامتی طرز اظہار ملتا ہے۔ علامتی گفتگو(Symbolic discourse)پر مبنی لفظوں کی ایسی بھول بھلیاںشاعر تخلیق کرتا ہے کہ عام قاری کے لیے مطالب و مفاہیم تک رسائی بہت مشکل ہو جاتی ہے۔ صنعتی اور تکنیکی ترقی اور اس کے زیر اثر تشکیل پاتی جدید طرز زندگی، فکر اور مسائل اس دور کے شعرا کے اہم موضوعات ہیں۔

نئی نظم کا منظر نامہ انسانی زندگی اور اس کی ذات کے جن حالات اور مسائل سے تشکیل پاتا ہے وہ انسانی زندگی کے پیچیدہ اور اس کی ذات کے گم ہوجانے سے عبارت ہے۔ اس عہد کے انسا ن کی ذہنی کشمکش، اس کی داخلی کیفیت اور اس کی نفسیات کی ترجمانی کرنے کے لیے اور اس کے اندر جھانکنے کی کوشش میں نیا نظم نگار پیچیدہ اور مبہم اسلوب اختیار کرتا چلا جاتاہے۔خارجی معاملات اور مسائل کی ترجما نی کرنے اور انسان کی ذات کی داخلی سطحوں میں جھانکنے کے عمل میں یہی بنیادی فرق ہے جو نئی نظم نگاری اور ترقی پسند یا دوسری خارجی شاعری میں نظر آتا ہے۔

1950 کے آس پاس کا دور جب یہ نیا رجحان کہیں نہ کہیں عالم وجود میں آچکا تھا، انسانی زندگی کے نئے مسائل اورزندگی اور سماج کے نئے تقاضوں سے آشنا ہو رہا تھا۔یہ نئے مسائل انسانی زندگی میں اور اس کی ذات میں بہت سے غیر امکانی طوفان لے کر آئے جس کی وجہ سے انسان عجیب صورت حال سے دوچار ہوا۔تقسیم، ہجرت، نفرت، فسادات، تہذیبی قدروں کا خاتمہ اور معاش کی شدید فکر اور ان کے نتیجے میں، خود غرضی، نفرت،بے مروتی، رشتوں کی پاکیزکی کا خاتمہ،اور سب سے بڑھ کر انسان کی ختم ہوتی اہمیت نے انسان کو تنہائی،بے چینی، عدم تحفظ اور غیر یقینیت میں گرفتار کر دیا۔ نئے نظم نگار وں نے انسان کی ذہنی کیفیت اور اس کی زندگی کے جدید مسائل و میلانات کو موضوع بنایا۔اپنے عہد کے سنگین حالات، فسادات،وحشی پن اور ظلم و زیادتی کو بھی یہ نظم نگار موضوع بناتے ہیں مگر وہاں بھی ان کا انداز استعاراتی اور مبہم ہی رہتا ہے:

خون میں لتھڑی ہوئی دو کرسیاں

شعلوں کی روشنی میں وحشی آنکھوں کا ہجوم

رات کی گھڑیوں میں موجزن

اجنبی بڑھتے ہوئے سایوں کا شور

نیم مردہ سا چاند

کوئی دوشیزہ کا جیسے ادھ کٹا پستان

اور اس پر خون کی لتھڑی ہوئی دو کرسیاں

(خون میں لتھڑی ہوئی دو کرسیاں : عادل منصور)

نئے شعرا کی نظموں میں خود کلامی کی کیفیت کا احساس غالب ہے۔ ان کی نظموں میں سوچنے کا انداز، خود میں کھو جانے، کہیں گم ہو جانے اور کچھ تلاش کرنے،کچھ اچانک غیر متوقع ہو جانے اور ایک دم سے چونک جانے کا انداز ملتا ہے۔ شہر یار کی نظموں میں چونکنے کا یہ انداز اور خوف کے سائے کا احساس غالب ہے اوران کی بیشتر نظموں میں نیم خوابی کی سی کیفیت کا احساس ہوتا ہے۔

نئے نظم نگاروں کے یہاں انسان کی شناخت ایک اہم موضوع ہے۔ بھیڑ میں انسان اپنی شناخت اور اہمیت کھو چکا ہے۔یہ موضوع نظم نگاروں کے یہاں مختلف انداز سے آیا ہے۔شناخت کھو نا یا شناخت کا بدل جانا ایک ہی بات ہے اور نظم نگاروں نے شناخت کے گم ہو جانے کی انہی مختلف جہات کو اپنے اپنے منفرد اسلوب میں موزوں کیا ہے۔نظم کا یہ رجحان اردو شاعری میں گو ناگوں کیفیات کا حامل ہے۔

ہندوستان کی آزادی ساتھ میں تقسیم اور فسادات کی ایسی تلخیاں اور کربناکیاں لے کر آئی تھی جس نے آزادی کی خوشیوں میں نہ صرف ماتم برپا کردیا تھا بلکہ آزادی کو مشکوک اور نامکمل بنا دیا تھا۔نئے شاعروں نے اس مسئلے کو بھی نظموں میں پیش کیا ہے۔ تقسیم کا ناقابل برداشت درد اور آزادی کے نام پر غلامی کے چہرہ بدل کر آجانے پر اس شاعر کا دل تڑپ اٹھتا ہے اور تڑپ کر ان کو جھنجھوڑتا ہے جو آزادی کے اس فریب کا شکار ہو گئے ہیں۔خلیل الرحمٰن اعظمی کی نظم ’’ کوڑھ کے داغ‘‘ میں فریب خوردہ انسانوں کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔

خلیل الرحمن اعظمی اس رجحان سے وابستہ اولین شعرا میں سے ہیں۔ انھوںنے عرفان ذات اور باطنی و روحانی دنیا کی جستجو پر توجہ دی ہے۔ وہ باطنی دنیا تک رسائی کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔باطن ہی اصل ہے اور باطن کی جستجو کا مطلب وہی ہے جو اقبال کے یہاں خود ی،خود شناسی یا عرفان ذات سے ہے۔باطن کی تلاش اور عرفان ذات کا شعور انھوں نے بیدار ضرور کیا ہے مگر ساتھ ہی وہ اس سماجی اور معاشی جبر پر شدید طنز بھی کرتے ہیں جس نے انسان کو جسم کی آگ اور پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے اس کے فکر وشعور کو گروی رکھ لیا ہے۔نظم ’نیا آدمی‘، ’میں گوتم نہیں ہوں ‘ اور ’پچھلے جنم کی کتھائیں‘، ان نظموں میں خود شناسی اور باطن کی جستجو کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ نظم ’نیا آدمی‘ بہت خوبصورت نظم ہے۔نظم علامتی پیرائے میں ہے۔نظم میں انسان کی اس جدید نفسیات کی گرفت کرنے کی کامیاب کوشش اس نظم میں ملتی ہے جس کے زیر اثر وہ اپنے عقل و شعورکو بروئے کار نہ لا کر ہر کسی پر ایمان لاکر اس کے پیچھے چلتا ہے اور پھر پھر کوئی آکر نیا اعلان نامہ سناتا ہے اور وہ اس کے پیچھے ہو لیتا ہے۔نظم کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کسی نجات دہندہ کا انتظار کرنے کے بجائے اپنی روحانی اور باطنی قوت کو پہچانو :

چند لوگوں نے یہ آکے ہم کو بتایا

کہ اب ان پرانی کتابوں کو

تہہ کر کے رکھ دو/ہمارے وسیلے سے/تم پر

نئی کچھ کتابیں اتاری گئی ہیں/انھیں تم پڑھوگے

تو تم پر صداقت نئے طور سے منکشف ہوگی

بوسیدہ و منجمد ذہن میں/کھڑکیاں کھل سکیں گی

تمہیں علم وعرفان اور آگہی کے/خزینے ملیں گے

اور پھر یوں ہوا/ان کتابوں کو اپنی کتابیں سمجھ کر

انھیں اپنے سینے سے ہم نے لگائی

ہر اک لفظ کا ورد کرتے رہے

اک اک حرف کا رس پیا

اور ہمیں مل گیا /جیسے معنی و مفہوم کا /اک نیا سلسلہ

اور پھر یوں ہوا /ان کتابوں سے/اک دن

یہ ہم کو بشارت ملی /آنے والا ہے دنیا میں

اب اک نیا آدمی

اس دور کا شاعر انسانوں کی بے حسی کو موضوع بناتا ہے۔ نظم ’پتھروں کا مغنی‘وحید اختر کی ایک ایسی ہی نظم ہے۔ شاعرنے اس میں خود کو پتھروں کا مغنی کہا ہے اور پتھر اس دور کے انسان کا استعارہ ہے۔مغنی کی آواز پتھر کے انسانوں کے کانوں سے ٹکراکر واپس آجا تی ہے۔اس کے پر اثر نغمے بے حس اور انسانی جذبوں سے عاری سماج پر بے اثر واقع ہوئے ہیں۔ یہ نظم ان کے عہد کی غیر معمولی سماجی اور سیاسی بصیرت کی حامل ہے۔یہ نظم آج کے انسان کی بے حسی، خود غرضی، انسانی قدروں اور جذبوں سے دوری پر روشنی ڈالتی ہے اور اس سے کسی انسانی انقلاب کی امید کو سراب کے نام سے تعبیر کرتی ہے۔ انسان کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ وہ پتھروں کی مانند ہو گیا ہے۔اس میں بصیرت، درد، تڑپ، احساس اور انقلاب کا جذبہ نہیں ہے۔ان میں زندگی کی کوئی علامت موجود نہیں ہے اور پتھروں کی مانند ان پر بھی کوئی چیز اثر انداز نہیں ہوتی۔ اس نظم میں پتھروں کی درشتی کے ساتھ درد و کرب کی ندی کا سیل رواں ہے جو پتھروں کے اس شہر (دنیا) میں رواں دواں ہے       ؎

 اس نے جب زخم دل کو زباں بخش دی

سننے والوں نے بے ساختہ آہ کی

عشق کے ساز پر جب ہوا نغمہ زن

شور تحسیں میں خود اس کی آواز دب سی گئی

مطرب خوش نوا پھر بھی تنہا رہا

مطرب خوش نوا زندگی کے حسیں گیت گاتا رہا

اس کی آواز پر انجمن جھوم اٹھی

داد و تحسیں کے ہنگامۂ ذوق کش اسے

ہر طرف ملامت کے پتھر ملے

مطرب خوش نوا پتھروں سے پٹکتا رہا اپنا سر

پتھروں کو زباں تو ملی،پر تکلم نہیں

پتھروں کو ملے ہونٹ، لیکن تبسم نہیں

پتھروں کو ملی آنکھ لیکن نظر کون دیتا انھیں

پتھروں کو خد وخال انسان ملے،دولت درد و غم کب ملی

پتھروں کو حسیں صورتیں تو ملیں،دل نہیں مل سکا

 

مطرب خوش نوا پتھروں کو سناتا رہا درد دل

اپنا غم /ان کا غم /سب کا غم

پتھروں نے سنا اور چپ چاپ سنتے رہے

پتھروں کی اسی انجمن کا مغنی ہوں میں

 بھیڑ میں گم ہوتا اور اپنی شناخت کھوتا ہوا انسان نئی نظم کے شاعر کی نظموں کا اہم موضوع ہے۔شہر یار نے بھی اس موضوع پر عمدہ نظمیں لکھی ہیں۔ نیا شاعرجدید عہد میں انسان کی شناخت کی بازیابی کے لیے سرگرداں ہے۔ وہ انسان کی مسخ شدہ صورت سے خو فزدہ ہے اور یہ بات اسے مزید افسردہ کر دیتی ہے کہ انسان کو اپنے مسخ شدہ چہروں کا عرفان نہیں ہے مگر جب انھیں اپنی بگڑی اور مسخ شدہ صورتوں کا عرفان ہوگا تووہ کس قدرخوف زدہ ہوگا  اور ان کے خوف کاکیا عالم ہوگا؟شاعر اس بات پر خوفزدہ ہے اور نئے عہد میں انسان کی شناخت کو موضوع بناتے ہوئے اسے آئینہ دکھانے کی کوشش کر تا ہے      ؎

نفرتوں کے آئینے/چور ہونے سے پہلے

تم کو اپنے چہروں کے/مسخ ہونے کاعرفاں

ہو گیا تو کیا ہوگا

(ایک عجیب خوف)

میں نہیں جاگتا تم جاگو/سیہ رات کی زلف

اتنی الجھی ہے کہ سلجھا نہیں سکتا کوئی

                             ( میں نہیں جاگتا)

نئی نظم کا شاعر ایسی نادر اور انوکھی ترکیب اور تشبیہ استعمال کرتا ہے جو پہلے استعمال نہیں ہوئیں۔ ان نادر تشبیہات اور تراکیب سے نظم میں لفظی اور معنوی دونوں اعتبار سے ایک خاص طرح کی جدت اور تاثر پیدا ہوجاتا ہے   ؎

نیم سگرٹ ترے پوروں میں دبی

سرخیٔ لب نے نشاں چھوڑ دیا ہے جس پر

کہہ رہی ہے کہ حقیقت ہے فقط دود رواں

تو بھی خاموش ہے، میں بھی چپ ہوں

اور ہم دونوں یہی سوچ رہے ہیں دل میں

کاش منت کش اظہار نہ ہونا پڑتا

(منیب الرحمن)

سرخیِ لب نے نشاں چھوڑ دیا ہے جس پر…نیم سگرٹ ترے پوروں میں دبی …نظم کا یہ حصہ اردو نظم میں انفرادیت کا درجہ رکھتا ہے۔اس سے پہلے شاید اردو شاعری میں ایسی مثال نظر نہیں آتی کہ نیم جلی سگریٹ جو پوروں میں دبی ہے اور لپسٹک نے اس پر اپنا نشان چھوڑ دیا ہے۔یہ نظم اندرونی لطیف احساس کی ترجمانی کرتی ہے۔اس نظم میں عشق کا لطیف اور مترنم جذبہ تو ہے ہی ساتھ ہی مایوسی اور اداسی کا ہلکا سا احساس بھی ہے جو ساتھ ساتھ چلتا ہے جس سے نظم کی فضا میں ایک سحر اور پیچیدگی سی پیدا ہو گئی ہے۔ اس نظم میں اس عہد کے انسان کی پیچیدہ اور کشمکش سے بھری زندگی کا المیہ شاعر نے منظر نگاری کے حوالے سے بہت خوبصورتی سے بیان کر دیا ہے۔منظر نگاری کے اعتبار سے یہ ایک غیر معمولی نظم ہے۔شاعر نے لفظوں کے ذریعے بہت واضح تصویر بنائی ہیں۔ نظروں کے سامنے دو کردار آجاتے ہیں جوایک دوسرے سے کچھ کہنا چاہتے ہیں مگر یہ سوچتے ہیں کہ کاش منت کش اظہار نہ ہونا پڑتا۔ سگریٹ،پیشانی پر پسینے کی نمی،نظم کی فضا میں زندگی کے تلخ اور پیچیدہ احساس کو پرونے کی کوشش ہے۔




Dr. Mohd Shahid

Dept. of Urdu,

Aligarh Muslim Univrsity

Aligarh - 202001 (UP)

Mob.: 9412273054

Email.: mskhanalig12@gmail.com