جمعرات، 31 اکتوبر، 2019

اردو ریڈیائی ڈراما: منظر پس منظر مضمون نگار: پاکیزہ اختر



اردو ریڈیائی ڈراما: منظر پس منظر
پاکیزہ اختر

ریڈیو کے ذریعے کہانی یا افسانہ سننے سنانے کا رواج تقریباً ثلث صدی پر محیط ہے۔دنیا کے مختلف ریڈیو اسٹیشنوں نے اس روایت کو آگے بڑھایا ہے۔ برصغیر میں خاص طورپرآل انڈیا ریڈیو اپنے مختلف اسٹیشنوں سے مختلف زبانوں میں کہانیاں نشر کرتا رہا ہے۔ آل انڈیا ریڈیو سے اب تک نہ صرف دنیا کی مختلف زبانوں میں باقاعدہ افسانے بلکہ قسط وار ناول بھی براڈ کاسٹ ہوتے رہے جن میں اردو کے کئی بڑے ناولوں کے نام فخرکے ساتھ لیے جاسکتے ہیں۔مثلاً: مرزا ہادی رسوا کا ناول امراﺅ جان ادا،پریم چند کا ناول گئودان اور رتن ناتھ سرشارکا ناول ’فسانۂ آزاد‘ وغیرہ قسط وار نشر ہوئے۔ ریڈیو پر کہانیوں، ناولوں اور ڈراموں کی نشریات کے ذخیرے کو وسعت دینے میں اردو کے اکثر مصنّفین وفکشن نگاروں کا اہم کردار رہا ہے۔ اردو کے کئی اہم کہانی کاروں نے باضابطہ اردو سے وابستہ ہوکر ریڈیو کے لیے مختلف النوع تحریریں،کہانیاں اور ڈرامے وغیرہ لکھے اور بعض نے مستقل وابستگی نہ رکھنے کے باجود ریڈیو کے لیے ڈرامے اور افسانے تخلیق کیے۔سعادت حسن منٹو،راجندر سنگھ بیدی، کرشن چندر اور اوپندر ناتھ اشک اردو کے وہ فکشن نگار ہیں جنھوں نے باقاعدہ ریڈیو میں ملازمت اختیار کی اور اپنی تحریروں کے ذریعے سے ریڈیائی اصناف کو وسعت بخشی۔
ہندوستان میں ریڈیائی ڈرامے کی روایت کا آغاز انڈین براڈ کاسٹنگ کمپنی کے قیام کے بعد ہوااور 1928 سے ریڈیو ڈرامے پابندی سے نشر کیے جانے لگے۔ 1930تک ریڈیائی ڈراموں کی مقبولیت کی رفتار دھیمی رہی مگر اس کے بعد بتدریج ریڈیو ڈراموں کو اہمیت اور مقبولیت حاصل ہونے لگی۔ سامعین نے بھی ان ڈراموں کی سماعت میں دلچسپی کا مظاہرہ کیااور ڈرامہ نگاروں نے بھی اس طرف بھرپور توجہ مرکوز کی۔آج آل انڈیا ریڈیو کے سبھی مراکز سے ڈرامے نشر کیے جاتے ہیں۔
جہاں تک اردو ادب میں ریڈیائی ڈرامے کی ابتدا کا سوال ہے تواس کی شروعات 1936میں آل انڈیا ریڈیو کے قیام کے ساتھ عمل میں آئی۔ ابتدائی دور میں اردو کے جو ڈرامے ریڈیو پر نشر ہوئے،وہ دوسری زبانوں کے ڈراموں کا ترجمہ تھے۔اس دورکے مترجمین میں حکیم شجاع، سید علی عابد، فضل الحق قریشی، محمد حنیف، محمد عمرو نورالٰہی وغیرہ کے نام اہمیت کے حامل ہیں۔اردو کا پہلا نثری ڈراما جھبروداس چٹرجی کے بنگالی ڈراما ’من توش‘ کا اردو ترجمہ تھا جس کو حکیم احمد شجاع نے اردومیں کیا اور ذوالفقار علی بخاری نے اس ڈرامے کو پروڈیوس کیا۔ محمد عمر ونور الٰہی نے مولیئر کے ڈرامے کا ترجمہ ’راگ ڈانٹ‘ کے نام سے کیا۔اس کے علاوہ ان کے اردومیں ترجمہ کیے ہوئے جو ڈرامے ریڈیو پر نشر ہوئے ان میں تین ٹوپیاں، جان ظرافت، بگڑے دل، ظفر کی موت، چپ کی داد، قزاق اور روحِ سےاست کو خاصی پذیرائی حاصل ہوئی۔ عابد علی عابد نے انگریزی اور بنگالی ڈراموں کے ترجمے میں دلچسپی لی۔ انھوں نے ٹیگور کے ڈراموں مالن کا چادیوا پانی، قربانی اور لپناسی کا بھی ترجمہ کیا۔ان کے اکثر ترجمہ شدہ ڈرامے ریڈیو پر نشر ہوئے۔
اس کے بعد اردومیں براہ راست ریڈیائی ڈرامے لکھے جانے لگے اور ریڈیو پر اردو کے بہت سے ڈرامہ نگاروں کے ڈرامے نشرکیے جانے لگے۔جن ڈرامہ نگاروں کے ڈرامے ریڈیو پر نشر ہوئے، ان میں سے چند اہم نام اس طرح ہیں: امتیاز علی تاج، آغاحشر،میاں لطف الرحمن، عشرت رحمانی، انصار ناصری، انتظار حسین، کرشن چندر، سعادت حسن منٹو، اوپندر ناتھ اشک، عصمت چغتائی، شوکت تھانوی، چودھری سلطان، کرتارسنگھ دگل، ابوبکر، رفعت سروش، محمد حسن، محمدخالدعابدی، جاوید اقبال، یوسف ظفر، قیوم نظر، انور جلال، کمال احمد رضوی، شیر محمد اختر، ناصر الدین شمس، صالحہ عابد حسین، عاشق بٹالوی، فیاض محمود، باسط سلیم، غلام عباس، ہاجرہ مسرور، ممتاز مفتی، ضمیر جعفری، بلونت گارگی اور زماں حبیب وغیرہ اردو کے بعض ادیب تو باضابطہ اردو ریڈیو سے وابستہ ہوئے اور انھوں نے ریڈیو کے لیے ڈرامے لکھے جو وقتاً فوقتاً ریڈیو سے نشر ہوتے رہے۔
ریڈیو سے وابستہ اردو کے بڑے ادیبوں میں کرشن چندرکا نام اہمیت کا حامل ہے۔کرشن چندر باضابطہ ریڈیو میں ملازم تھے۔انھوں نے ریڈیو کے لیے بہت سی تحریریں لکھیں جن میں ڈرامے بھی شامل ہیں۔کرشن چندر کے ممبئی میں قیام کے دوران جو ڈرامے پروڈیوس ہوئے، ان میں ’مس بےلا باٹلی والا‘، ’کتاب کا کفن‘ اہم ڈرامے ہیں۔ ان کے ڈراموں کا مجموعہ ’دروازہ ‘ کے نام سے شائع ہوا جس میں چھ ڈرامے ہےں: (1) قاہرہ کی ایک شام( 2)دروازہ (3) حجامت(4)بےکاری(5) نیل کنٹھ(6) سرائے کے باہر۔
سعادت حسن منٹو کی شناخت اگرچہ افسانہ سے قائم ہے، لیکن وہ ایک اچھے ڈراما نگار بھی تھے۔انھوں نے کئی ڈرامے آل انڈیا ریڈیو کے لیے لکھے جنھیں زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔بقول عشرت رحمانی:
” سعادت حسن منٹو 1937میںآل انڈیا ریڈیو دہلی میں ڈرامہ نگار کی حیثیت سے ملازم ہوکر آئے اور نثری تکنیک کے اعلیٰ نمونے پیش کرنے لگے۔ متعدد کامیاب ڈرامے لکھے اور اچھوتی آواز میں اپنے کمالات سے ریڈیو ڈرامہ کو نیا اسلوب بخشا۔ ان کے نثری ڈرامے یہ ہیں۔ کروٹ، ماچس کی ڈبیا، اتوار،خودکشی، نیلی رگیں، رندھیر پہلوان۔ تین موٹی عورتیں، آﺅ، مسلسل خاکے، محبت کی پیدائش، نیپولین کی موت، قلوپطرہ کی موت، ڈراموں کے مجموعے، منٹو ڈرامے اور جنازے وغیرہ۔“1
 منٹو کے ریڈیائی ڈراموں کا پہلا مجموعہ ’آﺅ ‘ ہے۔ یہ ڈرامہ انھوں نے ریڈیو کی ملازمت کے دوران تخلیق کیا تھا۔ اس مجموعے کے سبھی ڈرامے سیریل کی حیثیت رکھتے ہیں۔’ آﺅ کھوج لگائیں‘، ’آﺅ چوری کریں‘، ’آﺅ کہانی لکھیں‘ اس مجموعے کے مشہور ڈرامے ہیں۔منٹو کا ایک اور ریڈیائی ڈراموں پر مشتمل مجموعہ ’تین عورتیں‘ ہے۔ ان ڈراموں میں عورت کی نفسیات کو پیش کیا گیا ہے۔ اس میں پانچ ڈرامے ہیں۔تین خوبصورت عورتیں، تین موٹی عورتیں، تین صلح پسند عورتیں، تین خاموش عورتیں اور تین بیمار عورتیں۔ان ڈراموں کو پڑھ کر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ منٹو عورتوں کے مسائل، مزاج اور نفسیات سے بخوبی واقف تھے۔
راجندر سنگھ بیدی بھی اردو کے وہ ادیب ہیں جنھوں نے ریڈیو کی ملازمت اختیار کی اور ریڈیو کے لیے افسانے، ڈرامے اور مختلف النوع تحریریں لکھیں۔ ریڈیو کے لیے لکھے گئے ان کے ڈراموں کا مجموعہ بھی شائع ہوچکا ہے، جس کا نام ’بے جاچیزیں‘ ہیں۔ اس مجموعے میں (1) کار کی شادی (2) ایک عورت کی نا (3) روحِ انسانی (4) اب تو گھبراکر (5) بے جان چیزیں (6) خواجہ سرا، شامل ہیں۔مجموعے کے پہلے ڈرامے کا نام ’کارکی شادی‘ ہے۔اس کے کردار شفیق محمود، بتول، فرحت، زینت، حمید اور اکرم، ابّا جان، اماں جان اور کریمن ہیں۔ اس ڈرامے کا موضوع اگرچہ عام ہے،لیکن خارجی اور داخلی کیفیات کے درمیان ایک توانا فکری کشمکش دکھائی دیتی ہے۔ اس ڈرامے میں ایک جوڑے کی محبت کی داستان ہے،البتہ اس میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ کچھ لوگوں کے لیے محبت سے بڑھ کر دولت اہم ہوتی ہے۔ گویا اس میں دولت مند لوگوں کو طنز کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ بیدی کے ڈراموں کا دوسرا مجموعہ’ سات کھیل‘ کے نام سے منظر عام پر آیا۔ اس مجموعے کی فہرست اس طرح ہے: خواجہ سرا، چانکیہ، تلچھٹ، نقل مکانی، آج، رخشندہ، پاﺅں کی موچ۔ 
ریڈیائی تحریروں اور ڈراموں کے حوالے سے شوکت تھانوی کا نام ہمیشہ احترام کے ساتھ لیاجائے گا۔ وہ ریڈیو اسٹیشن لکھنو میں ملازم رہے۔اس دوران ان کے قلم سے بہت سی عمدہ تحریریں نکلیں۔انھوں نے ’منشی جی‘ کے نام سے ایک سیریز نشر کرائی۔ اس سیریز میں جو ڈرامے نشر ہوئے وہ اس طرح تھے : (1)منشی جی نے کہانی کہی (2)منشی جی نے چائے بنائی (3) منشی جی نے خط لکھا (4)منشی جی نے دواپی (5)منشی جی نے صفائی کی(6)منشی جی نے تصویر کھنچوائی (7)منشی جی سودالائے(8) منشی جی نے سبق پڑھایا (9)منشی نے سفر کیا (10)منشی جی نوکر ہوگئے (11)منشی جی نے مکان بدلا۔شوکت تھانوی کا دوسرا ڈراموں کا مجموعہ ’کھی کھی‘ بھی خاصا مشہور ہوا۔ اس میں بھی گیارہ ریڈیائی ڈرامے ہیں۔ جیسے:پہلی تاریخ، پارٹی کے بعد، تین سو چھیاسٹھ، دریا، جہاں پناہ، آم اور جامن، نقش ونگار، مرقع، مرقع وہی، ڈاکٹر صاحب، دوزخ۔ ان کے ’سنی سنائی‘ مجموعے میں بارہ ریڈیائی ڈرامے ہیں جن کے عنوانات اس طرح ہیں۔ مگریاں، برلن کا اسپتال، لاٹری کا ٹکٹ، سچ، ماں باپ کا، زندگی بنام زندہ دلی، خدا حافظ، چھوٹا خواب، پارٹی کے بعد، ملازمہ کی تلاش، انتیس کا چاند،سال گرہ۔مجموعہ’مجھے خریدلو‘ میں دس ریڈیائی ڈرامے شامل ہیں: برکھوا، میر صاحب کی عید، اتوار کو ایک ملازم کس طرح مصروف ہوتا ہے، کون جیتا، مقروض، جنوری، رات گئے، سمجھوتہ، الٹ پھیر، خدا نخواستہ۔
شوکت تھانوی اپنے ڈراموں میں طنز کا بھی استعمال کرتے ہیں اور مزاح کا بھی لیکن مزاح ان کے ڈراموں پر غالب دکھائی دیتا ہے۔وہ اپنے ڈراموں کے بارے میں کہتے ہیں:
”میں نے ریڈیو ڈرامے کے لیے جس قدر بھی تمثیلیں لکھی ہیں۔ان سب میں اپنے مزاج کا رنگ غالب رکھنے کی کوشش کی ہے۔مگر مجھے اعتراف ہے کہ کہیں ریڈیو کے حدود نے مجھ کو کھل کر کھیلنے سے باز رکھا ہے۔“2
 ریڈیائی ڈراموں کی تاریخ اوپندرناتھ اشک کے تذکرے کے بغیر ادھوری سی لگتی ہے۔لاہور ریڈیواسٹیشن میں قیام کے دوران اشک کا پہلا ڈراما 1938میں ریڈیو پر نشر ہوا۔ اس ڈرامے کا نام ’پاپی‘ تھا۔وہ ریڈیو سے ایک عرصے تک وابستہ رہے۔انھوں نیرےڈیو میں ملازمت کے دوران متعدد ڈرامے لکھے۔وہ عورتوں کے مشہور پروگرام’باجی‘ کے لیے ہر مہینے ریڈیائی ڈراما لکھتے تھے۔ پاپی نام سے اشک کے ڈراموں کا مجموعہ شائع ہوا۔اس مجموعے میں کل آٹھ ڈرامے شامل کیے گئے ہیں جن کے عنوان اس طرح ہیں:دیوتاﺅں کے سائے تلے، بیسوا، حقوق کا محافظ، پاپی،کراس ورڈ، لکشمی کا سواگت، باہمی سجھوتہ، جوتک۔ ان ڈراموں میں اشک نے سرسید احمد خاں کی طرح سوتے ہوئے لوگوں کو خواب غفلت سے جگانے کی کوشش کی اورلوگوں کو ان ڈراموں کے ذریعے طنزیہ انداز سے مخاطب کیا۔بقول اشک:
”جہاں تک معلوم ہے اردو میں سب سے پہلے میں نے ہی ایک بابی ڈرامے لکھے اور سب سے زیادہ تقریباً پچاس ایکٹ کے ڈرامے لکھے جن میں سے دو ایک کو چھوڑ کر سب کے سب نہ صرف ملک بھرکے اسکولوں، کالجوں کے شوقیہ منچوں پر کھیلے گئے۔ریڈیو پر نشر ہوئے نصاب میں پڑھائے گئے، کچھ دوردرشن پر دکھائے گئے بلکہ جاپان،روس، امریکہ اور انگلستان میں بھی کھیلے گئے۔“3
’پاپی ‘ کے علاوہ اشک کے ڈراموں کادوسرا مجموعہ ’چرواہے‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوا۔اس مجموعے کے ڈراموں میں زیادہ تر علامتوں کا استعمال کیاگیا ہے۔ علامتوں کے ذریعے بسااوقات بات کا اثر بھی بڑھ جاتا ہے اور معنویت بھی۔اکثر یہ علامتیں دبیز پردوں میں چھپی ہوتی ہیںاور ان کے جلو میں بہت سارے اسرار ہوتے ہیں۔ یہ مجموعہ ان سات ڈراموں چرواہے، میمونہ، مقناطیس، معجزے، چلمن، کھڑکی، سوکھی ڈالی جیسے ڈراموں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ اشک کا ایک اور ڈراموں کا مجموعہ’ پکا گانا‘ ہے۔ اس میں بھی سات ڈرامے ہیں۔اس طرح اندازہ کیا جاسکتاہے کہ اشک نے استقلال کے ساتھ ریڈیو کے لیے ڈرامے لکھ کر ریڈیائی ڈراموں کے ذخیرے میں کس قدراضافہ کیا۔ 
ریڈیائی ڈرامہ نگاروں میں ایک اور نام چودھری سلطان کاہے جنھوں نے مسلسل ریڈیائی ڈرامے اور فیچر لکھے۔ اس حوالے سے چودھری سلطان کی اپنی پہچان ہے۔ جیساکہ رسالہ’آواز‘ کے 1941کے شمارے کے مندرجہ ذےل اقتباس سے ظاہر ہے:
” چودھری سلطان آل انڈےا رےڈےو کے دیہاتی پروگرام میں سب سے زیادہ مشہور ہیں۔وہ ہنسی ہنسی میں بہت سی ایسی کام کی باتیں بتاجاتے ہیں جو دیہاتیوں کے لیے نہایت فائدہ مند ہوتی ہیں،خصوصاً حالات حاضرہ پر ان کی نکتہ چینی ایسی پر لطف ہوتی ہے کہ اس کے باعث دیہات کا بچہ بچہ اس کے نام سے واقف ہے۔جب چودھری سلطان کی نوک جھونک غلام محمد یا پنڈت جی سے ہوتی ہے تو اس وقت کا پروگرام سننے کے قابل ہوتا ہے۔دیہاتی ان کی پر لطف باتیں سننے کے ایسے مشتاق رہتے ہیں کہ جوں جوں شام کا وقت قریب آتا جاتا ہے، ان کا شوق اور بڑھتا جاتاہے۔“4
چودھری سلطان کا ریڈیائی ڈراموں کا مجموعہ ’سلطان کے ڈرامے‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ان کے ڈرامے اپنے سامعین یا قارئین کو تاریخ کی طرف مائل کرتے ہیں، کیونکہ ان کے زیادہ تر ڈرامے تاریخی نوعیت کے ہیں۔ اس کا اندازہ ان کے مذکورہ مجموعے کے ڈراموں کے عنوانات سے کیا جاسکتا ہے جو اس طرح ہیں: راجہ بکرما جیت، شہنشاہ ظہیر الدین بابر، ہمایوں، شہنشاہ اکبر، شہنشاہ جہانگیر، قلعے کی سیر، رستم وسہراب، پڑھائی کی عینک، افیم کی ترنگ۔
چودھری سلطان کے یہ ڈرامے وقتاً فوقتاً مختلف ریڈیو اسٹیشنوں سے نشر ہوچکے ہیں۔ ان ڈراموں میں بادشاہ ظہیر الدین بابر، ہمایوں، اکبر اور جہانگیر کے کردار ادا کیے گئے ہیں۔ یہ ڈرامے نشریات کے تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر لکھے گئے ہیں۔اس لیے ان ڈراموں میں مکالمہ نگاری اور کردار نگاری کے اعلیٰ نمونے ملتے ہیں۔ 
عشرت رحمانی کا نام بھی نشریاتی ادب کے فروغ کے حوالے سے اہمیت کے ساتھ لیا جاتاہے۔انھوں نے ریڈیو کے لیے ڈرامے بھی لکھے اور ڈراموں کی تنقید بھی۔ ان کے ریڈیائی ڈراموں کا مجموعہ’ دکھیا سنسار‘ مندرجہ ذیل چھ ڈراموںپرمشتمل ہے :دکھیا سنسار،پریم دان، نذرانہ، ایک مصنف، غریب محبت کے لیے، دامِ خیال۔ جب ہم ریڈیائی ڈراما نگاروں کی بات کرتے ہیں تو اس سلسلے میں کرتار سنگھ دُگل کا نام بھی ہمیں بہت اہم نظرآتاہے۔ ان کا ریڈیو سے براہِ براست تعلق تھا۔ وہ آل انڈیا ریڈیو کے اسٹیشن ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔کرتارسنگھ دُگل کے ریڈیائی ڈراموں کا مجموعہ ’اوپر کی منزل‘ 2012میں منظر عام پر آیا۔اس مجموعے میں ان کے دس ڈرامے شامل ہیں جن کی ترتیب اس طرح سے ہے:کہانی کیسے بنی،بے نور،پائل میں سوئے نغمے،اوپر کی منزل،اپنی اپنی کھڑکی، دومرد اورایک ماں، امانت، انار کے دوپٹّے، اللہ میگھ دے، جھوٹے ٹکڑے۔’دےا بجھ گیا‘ کرتار سنگھ دگل کا مشہور ڈراما ہے جس کے حوالے سے پروفیسر محمد حسن نے کرتار سنگھ دگل کی ڈراما نگاری پربحث کرتے ہوئے لکھا ہے:
” ان کا ڈراما ’دیا بجھ گیا‘ فن کا اچھا نمونہ نہیں ہے لیکن ’شور اور سنگیت ‘، ’میٹھا پانی‘ اور چند اور ڈرامے کامیاب ڈرامے ہیں اور وہ مختلف سماجی اور نفسیاتی مسائل کو فن کارانہ سلیقے کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔’میٹھا پانی‘ ایک ایسی عورت کی داستان ہے جو تقسیم ہند کے بعد کے ہنگامے میں بھگائی گئی تھی اور جسے بازیافت کیا جاتا ہے۔ اس داستان کو جس انداز سے بیان کیا گیا ہے اس سے پنجاب کی پوری فضا سامنے آجاتی ہے۔اسی طرح ’شور اور سنگیت ‘ میں گھر کے غسل اور شور کی نفسیاتی توجیہ ہے۔کس طرح یہ شور ایک ایسی نوجوان عورت کے لیے نفسیاتی الجھن کا سبب بن جاتا ہے جسے ماں بننے کاارمان تھا اور پھر کس طرح بچہ ہونے پر یہی شور سنگیت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔دگل چھوٹے چھوٹے مکالموں سے بڑا کام لیتے ہیں اور ان کے یہ ڈرا مے یقینا اس دور کے اچھے ڈرا مے شمار کیے جائیں گے۔“ 4
محمد حسن کا شمار ریڈیو، اسٹیج اور ٹیلی ویژن کے ڈراما نگاروں میں ہوتا ہے۔انھوں نے اپنے ڈرامے خود اسٹیج کیے اور دوسروں کے بھی۔ ان کے ریڈیائی ڈراموں کا مجموعہ ادارہ فروغ اردوامین آباد پارک لکھنؤ سے ’میرے اسٹیج ڈرامے‘ کے نام سے شائع ہوا۔اس میں محمد حسن کے چھ ریڈیائی ڈرامے شامل ہیں۔ ان ڈراموں کی فہرست اس طرح ہے:ریہرسل،محل سرا،میرتقی میر،موم کے بت،فٹ پاتھ کے شہزادے،گوشۂ عافیت۔محمد حسن کی ریڈیائی تحریریں،ریڈیو کے اصولوں کو پیش نظر رکھ کر تحریر ہوئی ہیں۔انھوں نے ریڈیو ڈراموں میں لمبے لمبے مکالموں سے گریز کیا اور ان تمام ریڈیائی تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کی۔ان رےڈےائی ڈرامہ نگاروںکے علاوہ اور بھی بہت سے ڈرامہ نگاروں نے رےڈےو کے لےے ڈرامے لکھے۔ اےسے ڈرامہ نگاروں میں رفعت سروش،محمد خالد عابدی، ابوبکر آوارہ،عشرت رحمانی،شوکت تھانوی وغےرہ کے نام بڑی اہمےت کے حامل ہیں۔
بعض ادیبوں نے باضابطہ ریڈیو میں ملازمت نہ کرنے کے باجودریڈیو کے لیے تسلسل کے ساتھ ڈرامے لکھے یا ان کے ڈرامے ریڈیو پر نشر ہوتے رہے، ایسے ادیبوں میں ایک معتبر نام عصمت چغتائی کا ہے۔ اگرچہ ان کا نام آتے ہی ہمارا ذہن ناول اور افسانے کی طرف جاتاہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ عصمت چغتائی نے ڈرامے بھی لکھے ہیں اور خاص طورپر ریڈیو کے لیے بھی لکھے ہیں۔ریڈیائی نشریات پر مشتمل ان کے ڈراموں کا مجموعہ ’شیطان‘ کے نام سے شائع ہوا۔اس مجموعے میں مجموعی طور پر چھ ڈرامے ہیں۔(1) شیطان (2) خواہ مخواہ (3) تصویریں (4) دلہن کیسی ہے (5) شامتِ اعمال (6) دھانی بانکپن۔ عصمت چغتائی کے ڈراموں کا دوسرا مجموعہ ’کلیاں‘ ہے۔ا س میں افسانے اور ڈرامے دونوں شامل ہیں۔ جن کے عنوان اس طرح ہیں: انتخاب، سانپ، فسادی، ڈھپٹ، بنئے۔ مذکورہ ڈرامہ نگاروں کے علاوہ جن ادیبوں نے ریڈیائی ڈرامے لکھے ان میں میاں لطیف الرحمن، رفیع پیرزادہ، سید انصار علی ناصری، مرزاادیب، احمد ندیم قاسمی، اشتیاق حسین قریشی، حفیظ جاوید، یوسف ظفر، مختار صدیقی، عمیق حنفی، رفعت جمالی، حیات اللہ انصاری، عابد علی عابدی، شمیم حنفی، فضل حسین، وارث احمد خاں، قمر جمالی وغیرہ اہم ہیں۔
ریڈیو ڈرامے پر سیر حاصل گفتگو کا تقاضا ہے کہ ریڈیوڈرامہ کے فن کوبھی سامنے رکھا جائے اور اس کی تعریف، اقسام، تکنیک، ہیئت وغیرہ کا جائزہ لیاجائے، ساتھ ہی اس پہلو پر بھی نظر ڈالی جائے کہ ریڈیو ڈرامہ اور اسٹیج ڈرامہ کے مابین کیا مماثلت ہے اور کیا تفاوت۔
ریڈیائی ڈرامہ لکھنا ایک فن ہے۔ جو ڈراما نگار ریڈیو کے لیے ڈرامے تیار کرے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ مائیکرو فون کی اہمیت اور اس کی گوناگوں صلاحیت سے بھی واقف ہو۔ ریڈیو ڈرامے فنی نقطہ نظر سے تکنیکی نقطہ نظر اور پیش کش کے نقطۂ نظر سے بھی اپنا انفرادی مقام رکھتے ہیں۔ ریڈیو ڈرامہ چونکہ اسٹیج ڈرامے سے کافی مختلف ہوتا ہے۔ مثلاًریڈیو ڈرامے میں آواز کاسہارا لیا جاتا ہے، پانی کی آواز، سیلاب کی آواز وغیرہ۔ آوازوں کے اس کھیل میں مائیکروفون ساتھ دیتا ہے۔ مائیکروفون ایک ایسا ساتھی اور دوست ہوتا ہے جو آرٹسٹ کی نقل وحرکت پر نگاہ رکھتا ہے۔ ریڈیو ڈرامے کے متعلق ہر یش چندرکھنہ تحریر کرتے ہیں :
” ریڈیو ڈرامے کی تعمیر نشری اسٹوڈیو کی خصوصیات کو ذہن میں رکھ کر کرنا چاہیے۔ دوسرے الفاظ میں ریڈیو کے لیے لکھی گئی کہانی کو اس شکل میں ہونا چاہیے کہ وہ الفاظ صوت اور موسیقی کے ذریعہ پیش ہوسکیں۔“6
ریڈیو ڈرامہ ایک نازک فن ہے۔ڈرامے کی کامیابی اور ناکامی کا انحصار ڈرامہ پروڈیوسر پر ہوتا ہے۔ ڈرامہ پروڈیوسر کا ریڈیو ڈرامہ کے تقاضوں سے اچھی طرح واقف ہونا چاہیے جب اسے تمام چیزوں سے واقفیت ہوگی تبھی وہ ایک اچھا ڈرامہ پروڈیوس کرسکتاہے۔
ریڈیو ڈرامے اور اسٹیج ڈرامے کے درمیان فرق ہے۔ اس لیے کہ ریڈیو کے تقاضے اسٹیج کے تقاضوں سے بہت حد تک مختلف ہوتے ہیں۔ اسٹیج میں سارا منظر آنکھوں کے سامنے ہوتاہے جب کہ ریڈیو ڈرامے کا تعلق سماعت سے ہوتا ہے۔کیونکہ ریڈیو ڈرامے میں نظر کام نہیں کرتی اور کہانی کااظہار الفاظ، صوت اور موسیقی کی مدد سے کیا جاتاہے،اس لیے بیان یا اشارہ نظرنہیں آسکتا۔ ریڈیو ڈرامے میں کہانی کا اظہار اور تعمیر و تشکیل میں دیکھنے اور سننے کے فرق کو اولیت دی جاتی ہے۔ چنانچہ ریڈیائی ڈرامے اپنی الگ حیثیت رکھتے ہیں۔ فنّی اعتبار سے بھی بہت حدتک دونوں کا میدان الگ الگ ہوتاہے۔ریڈیو آواز کی دنیا ہے۔ آواز انسانوں کی، سازوں کی، موسموں کی، خوفناک درندوں کی، پرندوں کی اور آندھیوں اور سناٹوں کی وغیرہ۔ صرف آوازوں کے اتار چڑھاﺅ اور بہاﺅ سے ہی ریڈیائی ڈرامے مرتب کیے جاتے ہیں۔
اسٹیج کی دنیا میں  اداکاروں کے وجود اور مکالموں کے علاوہ اسٹیج کی سجاوٹ، مناسب روشنی اور پھر ادا کاروں واداکاراﺅں کی حرکات و سکنات، نشست وبرخاست، ان کا میک اَپ، ہدایت کار اور سب سے بڑھ کر ڈرامے کے تماش بیں ضروری ہیں۔مگر ریڈیائی ڈراموں میں ان سب کے بدلے آواز کام کرتی ہے۔اسٹیج پر جس ضرورت کے تحت مخصوص لباس زیب تن کیا جاتا ہے، میک اَپ کیا جاتا ہے۔اس ضرورت کو آرٹسٹ صرف اپنی آواز سے پورا کرتا ہے۔ وہ اپنے لہجے کو اس قابل بناتاہے کہ وہ کردار کی پوری عکاسی کرسکے۔ضرورت کے مطابق اسے آواز بدلنی پڑتی ہے۔ ڈراما پروڈ یوسر حسب ضرورت پس منظر میں موسیقی کاجادو جگاتاہے اور بھیڑ بھاڑ مثلاً بازار، ریلوے اسٹیشن یا کھیل کے میدان کا مخصوص شور ان مخصوص آوازوں کی ریکارڈنگ کے سہارے اس طرح پیش کرتا ہے کہ سامعین کو سب کچھ وقوع پذیر ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
ریڈیو ڈراما نظارے سے محروم رہتاہے، اس لیے وہ اسٹیج ڈرامے کی طرح تین چار گھنٹے کی مدت پر مشتمل نہیں ہوتا۔ اگرچہ بی۔بی سی سے ڈھائی گھنٹے کا ریڈیو ڈراما نشر ہوچکاہے۔پھر بھی ریڈیو ڈرامے زیادہ تر پندرہ منٹ سے لے کر ایک گھنٹے تک کے لکھے جاتے ہیں۔ریڈیو ڈرامے میں دوہرے پلاٹ کی گنجائش ہے مگر زیادہ کردار طویل مکالموں، عمل کے وسیع پھیلاﺅ اور کہانی کی کشادگی کے متحمل نہیں ہوسکتے، اس لیے کم کردار، اکہرے یا دوہرے پلاٹ مگرکم پیچیدگی کے ساتھ، مختصر، جامع اور گھٹے ہوئے مکالمے، کہانی کی کشمکش اور تصادم کافوری اظہار ریڈیو ڈرامے میں خاص اہمیت رکھتاہے۔
مختصر طورپریوں کہاجاسکتاہے کہ ریڈیو ڈراما ’سماعتی فن‘ اور اسٹیج ڈراما ’نظری فن‘ کے تابع ہے۔فن کے اختلاف سے دونوں کی تکنیک اور اسلوب میں بنیادی فرق پیدا ہوجاتاہے۔ تین ہزار سال سے ڈرامے کی جو روایت چلی آرہی ہے، وہ بیسویں صدی میں نئی شکلوں میں سامنے آئی ہے۔بہرکیف ریڈیو اور اسٹیج ڈراموں، دونوں، کا مقصد انسان کی زندگی کی تشریح وتعبیر ہے۔ان دونوں ڈراموں نے علم و فن کے بدلتے ہوئے افکار و خیالات کو اپنے قالب میں جگہ دی ہے۔زندگی کو مختلف پہلوﺅں اور زاویوں سے دیکھا اور پرکھاہے اور سامعین وناظرین کو اپنے فن سے لطف اندوز کیاہے۔
معروف ناقداحتشام حسین ریڈیو ڈرامے کو مکمل ڈراموں کی راہ کی رکاوٹ قرار دینے کے باوجود اس کی انفرادیت واہمیت کے قائل ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
” ریڈیو کی ضروریات کے لیے ریڈیو ڈرامے کی شکل میں بنیادی تبدیلی ہوئی اور لکھنے والوں کی تکنیک کے معاملے میں خاص طرح کی پابندیوں کاسامنا کرنا پڑا۔“7
ریڈیائی ڈرامہ نگاروں نےاپنے ڈراموں میں ندگی کی بہترین عکاسی کی ہے۔ یہ ڈرامے نشر بھی ہوئے اور اسٹیج بھی اور ساتھ ہی ساتھ شائع بھی ہوئے۔یہ ڈرامے نصیحت آموز ہیں اور ان میں طنزومزاح کی چاشنی بھی پائی جاتی ہے۔یہ ڈرامے مکالمہ نگاری کے حوالے سے کامیاب ہیں میری ذاتی رائے کے مطابق ان ڈراموں سے اردو ادب کو بے حد فائدہ پہنچا۔سامعین ان ڈراموں کو دلچسپی سے سنتے تھے اور لطف اندوز ہوتے تھے۔ دھیرے دھیرے ریڈیو کا چلن کم ہوا تو ان کی مقبولیت میں بھی کمی واقع ہوئی۔ریڈیائی ڈرامے مقررہ وقت پر سنے جاتے تھے اور پھر دوبارہ سامعین ان کو سن نہیں سکتے تھے، لیکن جب یہ ڈرامے کتابی صورت میں ہوئے تو قارئین نے اس بات کو محسوس کیا کہ اب تو کسی بھی وقت ان ڈراموں کو پڑھا جاسکتا ہے اور چونکہ ریڈیو پر جو ڈرامے نشر ہوا کرتے تھے تو ڈراما نگاروں کو کم وقت میں پورا ڈراما پیش کرنا ہوتا تھا، اس لیے ان ڈراموں میں طویل مکالموں سے گریز کیا جاتا تھا اور کرداروں (تعداد) کی پیش کش بھی کم ہوتی تھی۔بہرحال ان تصانیف کی اہمیت ومقبولیت اگلے زمانوں میں بھی رہے گی اورانھیں کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔
 حواشی:
(1) اردو ڈرامے کی تاریخ و تنقید عشرت رحمانی ص 244
(2) نشریات تاریخ، اصناف اور پیش کش از زبیر شاداب، ص 252-253
(3) نشریات، تاریخ، اصناف اور پیش کش از: زبیر شاداب، ص 243
(4) اردو میں نشریاتی ادب، از ڈاکٹر محمد شکیل اختر ص168
(5) رسالہ آج کل ڈراما نمبر جنوری1959ءدہلی، ص 26
(6) ریڈیونشریات آغاز وارتقائ۔حسن مثنیٰ، ص 202
(7) جدید اردو ڈراما اور اس کے بعض مسائل، از:احتشام حسین۔ آج کل ڈراما نمبر، 1959، ص8

Ms. Pakeeza Akhtar
Marazigund Rafiabad
Baramulla Kashmir - 193303 (J&K)



ماہنامہ اردو دنیا،اکتوبر 2019

 قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے


بدھ، 23 اکتوبر، 2019

مضمون : اردو غزل میں قدرتی آفات مضمون نگار: محمد عادل



اردو غزل میں قدرتی آفات
محمد عادل

جب سے انسان کا وجود اس روئے زمین پر ہے اس نے مختلف مواقع پر بہت سی قدرتی آفات کا سامنا کیا ہے گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسان اور قدرتی آفات کا تعلق بہت پرانا ہے۔جب انسان اس دنیا میں آیا اور اپنے ماحول سے آشنا ہوا تو اس نے اپنے اطراف میں ہونے والی تبدیلوں کا تجزیہ کیا تو قدرتی آفات کے باعث رونما ہونے والی تبدیلیوں نے اسے حیرت و تجسس کے دریا میں غوطہ زن ہونے پر مجبور کردیا۔
ماہرین کے مطابق صدیوں سے وقتاً فوقتاً رونما ہونے والی قدرتی آفات انسان اور اس کے گرد و پیش کے لیے خطرناک ثابت ہوئی ہیں۔دراصل قدرتی آفات کسی بھی قدرتی خطرے جیسے سیلاب،طوفان،آتش فشاں، زلزلے، جنگل میں آگ، باڑ، سنامی وغیرہ جیسے اثرات کا نام ہے،جو ہمارے قدرتی ماحول پر اس طرح اثر انداز ہوتے ہیں کہ جس سے نہ صرف ہمارے قدرتی وسائل کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ جان و مال کی بھی بربادی دیکھنے کو ملتی ہے۔اس لیے انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان اقدام کے بارے میں سوچے جن کے باعث وہ خود کو اور کائنات کو ان قدرتی آفات سے محفوظ رکھ سکے یا ان کے نقصانات کم سے کم ہوں۔
ہر سال دنیا بھر میں 8اکتوبر کا دن قدرتی آفات کے طورپر منایا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں اس سے متعلق معلومات فراہم کراتے ہوئے یہ شعوربیدار کیا جائے کہ کسی بھی مشکل یا قدرتی آفات کے موقع پر ایک انسان کیا عمل انجام دے اور جان و مال کی کس طرح حفاظت کر سکے۔دنیا بھر کے سائنسدانوں نے اس پر تحقیق کر کے ان آفات کی وجوہات کے بارے میں معلومات حاصل کی ہے اور لوگوں کو اس سے آشنا کرایا ہے۔اسی طرح ہر بڑا ادیب اور شاعر جو انسانیت کا محافظ ہوتا ہے اور ماحول اور معاشرے کا ترجمان ہوتا ہے وہ بھی اپنے کلام کے ذریعے لوگوں کو ان قدرتی آفات سے واقف کراتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر ادب میںان آفات کی حقیقی ترجمانی دیکھنے کو ملتی ہے۔اگر ہم اردو غزل کی بات کریں تو اس کے دامن میں بہت سے ایسے اشعار دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں واضح طور پر ان آفات کا ذکر ملتا ہے۔مثال کے لیے کچھ قدرتی آفات کا ذکر پیش کیا جاتا ہے جنھیں شعراءنے اپنی شاعری میں جگہ دی ہے۔

زلزلہ (Earth quake ) 
دنیا کے وجود میں آنے سے لے کر دور حاضر تک زلزلہ آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ہماری زمین مختلف سطحوں سے مل کر بنی ہے۔زلزلہ زمین کی سطح کے اچانک ہل جانے سے پیدا ہوتا ہے۔زلزلہ کے دوران زمین میں دراڑیں پڑجاتی ہیں اور تیز جھٹکے محسوس ہوتے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق زمین کے آخری حصے کے اندر گرمی کی وجہ سے وزن والی چیز زمین کے نیچے جاتی ہے اور جس چیز کا وزن کم ہوتا ہے وہ زمیں کے اوپر آجاتی ہے جیسے اگر پانی کے اوپر تیل ڈالا جائے تو وہ پانی کی سطح پر آتا ہے۔اسی طرح جب کوئی چیز زمین کے نیچے جاتی ہے تو اس کی وجہ سے ایک کرنٹ پیدا ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے زمین کی پلیٹیں آپس میں ٹکراتی ہیں جس کی وجہ سے زلزلے آتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ زمینی سطح پر بہت سی تبدیلیاں بھی رونما ہوتی ہیں۔مثلاًزمین میں شگاف پیدا ہونا،مٹی کا دھسنا، ہمارے ملک کے ہمالیہ اور دیگر پہاڑی سلسلے ہندوستان کی پلیٹ چین اور یورپ کی بڑی پلیٹوں سے ٹکرانے کے سبب وجود میں آئے ہیں۔زلزلے کی شدت کو ناپنے کے لیے Seismograph" " کا استعمال کیا جاتا ہے۔زلزلہ آنے سے گھر، مکان، عمارتیں، پل، سڑک ٹوٹ جاتے ہیں،عمارتوں میں دبنے سے ہزاروں لاکھوں لوگوں کی موت ہو جاتی ہے۔26جنوری 2001 میں گجرات میں زبردست زلزلہ آیا جس میں20000 سے زیادہ لوگوں کی جانیں گئیں۔اپریل 2015میں نیپال میں زبردست زلزلہ آیا جس میں 8000سے زیادہ لوگ مارے گئے اور2000 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
زلزلہ آنے سے انسانی ماحول،اس کی زندگی اور نفسیات پر بھی گہرا اثر مرتب ہوتا ہے۔اور جب کوئی حساس شاعر اس تکلیف سے دوچار ہوتا ہے تواس کی ترجمانی اپنی تخلیقات میں کرتا ہے۔اردو غزل میں زلزلہ سے متعلق اشعار دیکھیں  

زلزلہ آیا تو دیواروں میں دب جاﺅں گا
لوگ بھی کہتے ہیں یہ گھر بھی ڈراتا ہے مجھے
(اختر ہوشیارپوری)

تم جسے بانٹ رہے ہو وہ ستم دیدہ زمیں
زلزلہ آئے گا کچھ ایسا کہ پھٹ جائے گی
 (عارف عبدالمتین)

زندگی جس کی اجڑ جاتی ہے اس سے پوچھو
زلزلہ شہر میں آتا ہے چلا جاتا ہے
 (ہاشم رضا جلال پوری)

زلزلہ آیا مکاں گرنے لگا
نیند میں اک خواب داں گرنے لگا
(شمائلہ بہزاد)

آتش فشاں (Volcano) 
آتش فشاں میں زمین کے اندر سے گرم لاوا، راکھ، گیس نکلتی ہے۔یہ زور دار آواز کے ساتھ اوپرآتا ہے۔یہ ایک ایسا نظام ہے جو دھیرے دھیرے بھی ہو سکتا ہے اور تیزی سے بھی عمل میں آسکتا ہے۔
آتش فشاں کے پھٹنے کے بعد پرندوں اور جانوروں کی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے،پرندے اس سے نکلنے والی آگ، دھوئے اور گرمی سے مرجاتے ہیں۔جنگلات میں آگ لگ جاتی ہے۔انسانی بستیاں برباد ہو جاتی ہیں۔ اردو غزل میں آتش فشاں سے متعلق بہت سے اشعار دیکھنے کو ملتے ہیں مثلاً  

ٹھٹھر گیا ہے بدن سب کا برف باری سے
دہکتا کھولتا آتش فشاں تلاش کرو
(اسعد بدایونی)

جانے لاوا سلگ اٹھے کس وقت
دل کہ آتش فشاں ہے کھیل نہیں
(شفیق دہلوی)

پھٹا مجھ میں پھٹا آتش فشاں پھر
ہیں سینے میں دھماکوں پر دھماکے
(شمیم عباس)
یہ خوف ہے کہیں آتش فشاں نہ بن جائے
ہمارے پاﺅں کے نیچے دبا ہوا ساکچھ
(راشدجمال فاروقی)

غم کا اک آتش فشاں تھا اور میں
دور تک گہرا دھواں تھا اور میں
(کبیر اجمل)

کیا جانے کس مقام سے لاوا ابل پڑے
آتش فشاں زمیں پہ سفر کر رہے ہیں ہم
(ناصر شکیب)

جنگل کی آگ (WildFire) 
 جنگل کی آگ وہ آگ ہے جو جنگل کے درختوں یا کسی غیر آبادی والے ہرے بھرے علاقے میں قدرتی طور پر بھڑکنے لگے۔ایسا دیکھنے کو ملتا ہے کہ عام طور پر گرمی کے موسم میں جنگلوں میں بہت خطرناک آگ لگ جاتی ہے۔اس کے پیچھے انسانی اور قدرتی عوامل دونوں ہوسکتے ہیں۔کئی بار انسان کی لاپرواہی سے بھی جنگل میں آگ لگتی ہے۔جب انسان جنگل کے اطراف میں کہیں آگ جلاتا ہے اور اس کو بجھانا بھول جاتا ہے جس کے سبب دھیرے دھیرے جنگل میں آگ پھیل جاتی ہے اور وہ ایک خطرناک روپ اختیار کر لیتی ہے۔اور کبھی ایسا بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ سورج کی گرمی کی وجہ سے سوکھی پتیوں میں آگ لگ جاتی ہے اور پورا جنگل اس کی گرفت میں آجاتا ہے۔ہمارے ملک ہندوستان کے اترا کھنڈ صوبے میں واقع چیڑ کے جنگلات میں اسی قسم کی آگ دیکھنے کو ملتی ہے۔ جنگل کی آگ کے بہت برے اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جس سے ہمارا قدرتی ماحول بھی بری طرح متاثر ہوتا ہے۔گذشتہ کئی صدیوں میں یہ ایک بڑی تباہی کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔اس طرح کے واقعات دنیا بھر میں دیکھنے کو ملے ہیں۔مثلاً ’انٹار کٹکا‘ اور دیگر براعظم میں پیش آئے واقعات اس کی ترجمانی کرتے ہیں۔اس کے سبب ہمارے قدرتی ماحول،انسانی جان و مال،جنگلی جانوروں،پرندوں،پیڑ پودوں کے تباہ ہونے کا خطرہ کافی بڑھ جاتا ہے۔اردو غزل کے منفرد اشعار میں اس کی بڑی دلچسپ ترجمانی دیکھنے کو ملتی ہے  
آبادیوں کی خیر منانے کا وقت ہے
جنگل کی آگ پھیل رہی ہے ہوا کے ساتھ
(سرشارصدیقی)
ڈھونڈیں گے اب پرندے کہاں شام کو پناہ
جنگل کی آگ کھا گئی سب ڈالیاں درخت
(پروین کمار اشک)
تیرے گھر تک آچکی ہے دور کے جنگل کی آگ
اب ترا اس آگ سے ڈرنا بھی کیا لڑنا بھی کیا
(وزیر آغا)
تمام شہر میں جنگل کی آگ ہو جیسے
ہوا کے دوش پہ اڑتی ہوئی خبر تھا میں
(جمنا پرشاد راہی)
کون اس کو جلانے والا تھا
اپنی ہی آگ میں جلا جنگل
(شین کاف نظام)

 بجلی گرنا یا برق کا گرنا (Lightening) 
اکثربجلی بارش کے موسم میں آسمان سے زمیںپر گرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں 24000 لوگ آسمانی بجلی گرنے سے موت کے شکار ہوجاتے ہیں۔ آسمان میں مخالف سمتوں میں جاتے ہوئے بادل جب آپس میں ٹکراتے ہیں تو رگڑ پیدا ہوتی ہے جس سے بجلی بنتی ہے۔اردو غزل میں بجلی گرنے کے عمل سے متعلق بہت سے اشعار دیکھنے کو ملتے ہیں   

قفس میں مجھ سے روداد چمن کہتے نہ ڈر ہم دم
گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو
(غالب)
برق کا آسماں پر ہے دماغ
پھونک کرمیرے آشیانے کو
(مومن خاں مومن)

کیا نہیں یاد برق کا گرنا
پھر بناتا جو آشیاں ہوں میں
(میر مہدی مجروح)
ظالم خدا سے ڈر کہیں بجلی نہ گر پڑے
مشکل بہت ہے گرنا اگر آسمان کا
(اطہر نادر)

بلا سے برق گری میرے آشیانے پر
اندھیری رات کے رہرو کو روشنی تو ملی
(اولاد علی رضوی)

برق تھی بیتاب میرے آشیانے کے لیے
ابر سے بھی بیشتر آئی جلانے کے لیے
(خواجہ محمد وزیر لکھنوی)

برق تھی گر گئی شخص تھا جل گیا
دیر تک راکھ سے آنچ آتی رہی
(گل افشاں)

برق گرتی ہے تو خرمن کو جلا جاتی ہے
کب اسے محنت دہقاں کی خبر ہوتی ہے
(انوار الحسن انوار)

آندھی (Storm)  
گرم اور خشک موسم کے دوران میدانی علاقوں میں بڑی ہی طوفانی اور تلاطم خیز ہوائیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ایسی ہواﺅں کو آندھی کہا جاتا ہے۔لیکن جب یہ اپنے ساتھ گرد و غبار لے کر چلتی ہیں تو ان کے لیے انگریزی میں ایک خاص قسم کی اصطلاح Dust Storm کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جب یہ سیاہ رنگ کے گرد وغبار کے بادل لے کر چلتی ہیں تو اس کو ’سیاہ آندھی‘ کہا جاتا ہے۔اور جب زرد رنگ کے گردو غبار کے بادل کے ساتھ چلتی ہے تو’زرد آندھی‘ کہتے ہیں۔’سیاہ آندھی‘ آنے پر سب جگہ گھنا اندھیرا چھا جاتا ہے اور’زرد آندھی ‘آنے پر ماحول زرد رنگ میں رنگا نظر آتا ہے۔ہواﺅں کی رفتار بہت تیز ہوجاتی ہے۔ہر جگہ ریت ہی ریت نظر آتی ہے۔ایسی آندھی آنے سے درخت جڑ سے اکھڑ جاتے ہیں،فصلیں برباد ہوجاتی ہیں،بجلی کے تار اور کھمبے ٹوٹ جاتے ہیں،مکانات اور عمارات کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔بڑے پیمانے پر لوگوں کو جان و مال کا خطرہ اٹھانا پڑتاہے۔ یہ طوفانی ہوائیںبڑے طویل فاصلے طے کرتے ہوئے چلتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ فاصلے دو سے ڈھائی ہزار میل تک ہو سکتے ہیں۔مغربی افریقی ممالک میں چلنے والی خشک اور ریتلی آندھی کو ’ہرمٹن ‘ (Harmattan) کہا جاتا ہے۔یہ آندھی دنیا کے سب سے بڑے ریگستان ’سہارا‘ کے اطراف میں چلتی ہے۔عام طور سے یہ آندھیاں نومبر کے آخر سے شروع ہوکر مارچ کے مہینے تک دیکھنے کو ملتی ہیں۔یہ آندھیاں اپنے ساتھ بڑے باریک مٹی کے ذرات لے کر چلتی ہیں جن کا حجم 0.5سے10 مائیکرومیٹر تک ہوتا ہے۔ان طوفانی ہواﺅں کے اثرات انسانی بصارت کو متاثر کرتے ہیں۔کئی دن تک سورج کی روشنی زمین تک نہیں آپاتی ہے۔اس کے علاوہ انسان اور جانور ایک خاص قسم کی الرجی سے متاثر نظر آتے ہیں۔اب اس سے متعلق اشعار ملاحظہ فرمائیں  

آندھیاں تند درختوں کو اڑا لے جائیں گئیں
بس وہی شاخ بچے گی جو لچک جائے گی
(نامعلوم)
ہوئے ہیں سیہ بخت برباد لاکھوں
اٹھیں آندھیاں بارہا کالی کالی
(قدر بلگرامی)
آندھیاں بجلیاں شجر کمزور
بچ نہ پائے گا آشیاں تنہا
(رشید الظفر)
آندھیاں ہی اکھاڑتی ہیں اسے
آندھیوں میں ہی پیڑ پلتا ہے
(سیما شرما میرٹھی)
ایک تنکا بھی نہ چھوڑا گھر میں
تیز آندھی سی چلی ہو جیسے
(وجدچغتائی)
آئی تھی جس حساب سے آندھی
اس کو سوچو تو پیڑ کم ٹوٹے
(سور یا بھانوگپت)
مالک یہ دیا آج ہواﺅں سے بچانا
موسم ہے عجب آندھی کے آثار ملے ہیں
(حکیم ناصر)

طوفان (Cyclone ) 
ہمارے ملک ہندوستان میں طوفان بنگال کی کھاڑی میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔یہ سمندر کی سطح پر ہوائی دباﺅ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔تیز ہوائیں بارش کے ساتھ گھیرا بنا کر چلتی ہیں۔جو سمندری کناروں پر تباہی کا باعث بنتی ہیں۔ان کی رفتار280 km/h سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ہمارے ملک ہندوستان میں1737 میں "Hooghly River Cyclone" آیا جس کے برے اثرات بنگلہ دیش اور کلکتہ میں دیکھنے کو ملے۔اس طوفان کے سبب تقریباً تین لاکھ افرادکی موت واقع ہوئی۔اس کے بعد 25نومبر1839میںآندھراپردیش میں آئے "Koring Cyclone" میں بیس ہزار سے زیادہ افراد کی موت ہوئی۔1999 اڑیسہ میں آئے 05B کے طوفان میں 15000سے زیادہ لوگوں کی جانیں گئیں۔ان شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ جب بھی کہیں وسیع پیمانے پر کوئی طوفان آتا ہے تو اس کے برے نتائج ہمارے معاشرے کو جھیلنے پڑتے ہیں۔ان حالات کا پروردہ شاعر اپنی غزل میں طوفان کے موضوع کو اس طرح بیان کرتا ہے  
طوفان کر رہا تھا میرے عزم کا طواف
دنیا سمجھ رہی تھی کہ کشتی بھنور میں ہے
(نامعلوم)
مٹّی کے گھر ہی صرف نہیں باعث ملال
طوفان کی حدوں میں ہیں پکّے مکان بھی
(عزیزخیر آبادی)
ایک ندی ہے کہ رکتی ہی نہیں
ایک طوفان اترتا جائے
(شین کاف نظام)
کوئی سناٹا سا سناٹا ہے
کاش طوفان اٹھادے کوئی
(ناصر زیدی)
وہ نہیں دیکھتے ساحل کی طرف
جن کو طوفان صدا دیتا ہے
(سیف الدین سیف)

مدو جزر(Tides) 
چاند اور سورج کی ثقلی قوتوں اور زمین کی گردش کے مجموعی اثرات کی وجہ سے سمندر ی سطح کا اتار چڑھاﺅ ہوتا ہے۔جس کے سبب مدوجزر پیدا ہوتے ہیں۔اسے عام زبان میں جوار بھاٹا بھی کہا جاتا ہے۔اس کے اثرات صرف سمندروں پر ہی مرتب نہیں ہوتے بلکہ ان سبھی چیزوں پر اس کا اثر ہوتا ہے جن پر وقت اور مقام کے ساتھ قوت ثقل لگتی ہے۔زمین،چاند،اور سورج کی قوت ثقل مدو جزر پیدا ہونے کی اہم وجہ ہیں۔اردو غزل میں اس موضوع سے متعلق اشعار دیکھیں  
دریا کے مدوجزر بھی پانی کے کھیل ہیں
ہستی ہی کے کرشمے ہیں کیا موت کیا حیات
(فراق گورکھپوری)
مہتاب تو نکلا ہی نہیں ڈوب کے فاخر
لیکن مرے دریا میں وہی مدوجزر ہے
(احمد فاخر)
مجھ کو بھی علم ہے سب مدو جزر کا
میں بھی تو سب کے ساتھ انھیں پانیوں میں ہوں
(محسن زیدی)

بگولہ(Tornado) 
طوفان گرد و باد یا بگولہ ہوا کے طوفان کو کہتے ہیں یہ طوفان جو چکر کھاتے ہوئے بڑھتے ہیںاور کالے با دل کی طرح گھومتے ہوئے زمین کی طرف اترتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔اس میں ہوا کی رفتار 300 میل فی گھنٹہ تک پہنچ جاتی ہے۔اردوغزل کے شعراء نے اس موضوع کو بھی منفرد انداز میں پیش کیا ہے  

جو دیکھیے تو بگولہ ہے ریگ آوارہ
جو سوچیے تو یہی آبروئے صحرا ہے
(رفعت سروش)
میں اک انساں ہوں یا سارا جہاں ہوں
بگولہ ہے کہ صحرا جارہا ہے
(احمد ندیم قاسمی)
ترا غبار زمیں پر اترنے والا ہے
کہاں تک اب یہ بگولہ تھکن چھپائے گا
(احسان دانش)
اب مری تنہائی کم ہو جائے گی
اک بگولہ مل گیا ہے دشت میں
(بلوان سنگھ آذر)
یک بیک ہوگیا اوجھل وہ نظر کے آگے
دھند کا ایک بگولہ سا اُٹھا تھا کیا تھا
(حسرت دیوبندی)

 بھنور(Whirlpool) 
عام طور سے بھنور سمندر میں مدو جزر پانی کا ایک چکردار حصہ ہوتا ہے۔زیادہ تر بھنور زور دار نہیں ہوتے ہیں۔لیکن اگر کبھی بہت شدید اور زوردار بھنور آتا ہے تو اس کے لیے انگریزی میںMaelstroms کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہیں جو عمومی طور سے کم ہی آتے ہیں۔ بھنور آنے پرسمندر میں بڑی اتھل پھتل دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس دوران ملاح جن کی زندگی کا دارومدار سمندر کی مخلوقات پر ہوتا ہے بری طرح متاثر ہوتے ہیں ان کی کشتیاں اور پانی کے جہاز اس بھنور میں پھنس کر ڈوب جاتے ہیں۔جس سے ان کو جان و مال کا نقصان اٹھانا پڑ تاہے۔اردو غزل میں بھنور سے متعلق اشعار دیکھیں: 
یوں تو آیا ہے تباہی میں یہ بیڑا سوبار
پر ڈراتی ہے بہت آج بھنور کی صورت
(الطاف حسین حالی)
بھنور سے لڑو تند موجوں سے الجھو
کہاں جارہے ہو کنارے کنارے
(نامعلوم)
مرے اندربھنور اٹھنے لگے تھے
سمندر سے بڑی وحشت ہوئی تھی
(یاسمین حبیب)
بھنورکا حکم ہے دریا پہ جاری
کنارے ناﺅ سے کترا رہے ہیں
(ظفرصہبائی)
آکہ دکھلاﺅں رقص پانی کا
اک بھنور اب بھی ناچتا ہوگا
(فیصل سعید ضرغام)

سیلاب (Flood) 
کسی علاقے پر جب اچانک سے بہت زیادہ بارش ہوجاتی ہے تو پانی جگہ جگہ بھر جاتا ہے۔ایسے حالات میں سڑکیں، راستے،کھیت،ندی،نالے،سبھی جگہ پانی بھر جاتا ہے جس کے سبب سے سیلاب آتا ہے۔سیلاب آنے سے نشیبی حصے میں رہنے والے لوگ اپناگھر چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔فصلوں کو بہت نقصان ہوتا ہے۔زیادہ سیلاب آنے سے پرندے اور جانور پانی میں ڈوب کر مر جاتے ہیں۔لوگوں کاجینا دشوار ہو جاتا ہے۔2009 میں ممبئی میں خطرناک سیلاب آیا جس میں 5000 لوگ مارے گئے۔ اردو غزل کے شعراءنے سیلاب کے موضوع کو اپنے کلام کے ذریعے اس طرح پیش کیا ہے   

بارش کا لطف بند مکانوں میں کچھ نہیں
باہر نکلتے گھر سے تو سیلاب دیکھتے 
(شہریار)
ساحل کی بستیوں کا سارا گھمنڈ ٹوٹا
سیلاب نے طمانچہ جب تان کر دیا ہے
(فرحت احساس)
اس طرف شہر ادھر ڈوب رہا تھا سورج
کون سیلاب کے منظر پہ نہ رویا ہوگا
(انور مسعود)
بستی کے گھروں کو کیا دیکھے بنیاد کی حرمت کیا جانے
سیلاب کا شکوہ کون کرے سیلاب تو اندھا پانی ہے
  (سلیم احمد)
بہا کر لے گیا سیلاب سب کچھ
فقط آنکھوں کی ویرانی بچی ہے
(شہزاد احمد)
کھیت جل تھل کردیے سیلاب نے
مرگئے ارمان سب دہقان کے
(افضل ہزاروی)

سنامی (Tsunami) 
 سنامی یعنی ’بندر گاہوں کی لہریں‘ سمندر کی سطح پر ہل چل، زلزلہ،زمینی درار پڑنے،زمین کی پلیٹیں ہلنے سے سنامی کی بے حد خطرناک لہریں پیدا ہوتی ہیں اس لہر کی رفتار 400 km/h تک ہوسکتی ہے۔لہروں کی اونچائی 15 m سے زیادہ ہو سکتی ہے۔سنامی کے وجہ سے بھاری جان و مال کا نقصان ہوتا ہے۔آس پاس کے علاقوں، سمندری کناروں، بندرگاہوں اور انسانی بستیوں کو یہ برباد کر دیتی ہے۔
26 دسمبر2004میں آئی سنامی نے نہ صرف ہندوستان بلکہ انڈونیشیا،شری لنکاکے ساتھ 14 ممالک کو متاثر کیا جس میں 2 لاکھ 30 ہزار لوگوں کی موت ہوئی۔

زلزلے آرہے ہیں دریا میں
خوف ہے پھر ہمیں سنامی کا
(ڈاکٹر ہلال نقوی)

کبھی بھنور تھی جو ایک یاد اب سنامی ہے
مگر یہ کیا کہ مجھے اب بھی تشنہ کامی ہے
 (شمیم عباس)

شور کرتا ہے آج دریاکیوں
آگئی پھر یہاں سنامی کیا
(عادل فراز)

دو بدن آب آب کرنے کو
ایک سنامی اٹھی محبت کی
(وفانقوی)

قحط (Famine/Drought) 
قحط کے دوران کسی مقام پر کئی مہینوں سالوں تک بارش نہیں ہوتی ہے۔جس کی وجہ سے زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے نیچے گرنے لگتی ہے۔اس کی وجہ سے پیڑ پودے سوکھنے لگ جاتے ہیں،فصلیں برباد ہو جاتی ہیں، پینے لائق پانی کی کمی ہوجاتی ہے،درجہ حرارت میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔پرندوں اور جانوروں کی زندگی بھی دشوار ہوجاتی ہے اور ان کی موت واقع ہونے لگتی ہے۔ایسے دشوار کن حالات میں کھانے پینے کے اشیاءکی کمی ہونے کی وجہ سے انسان بہت سی بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جنگلات کی کٹائی، بارش کا نہ ہونا، زیر زمین پانی کا حد سے زیادہ استعمال،ماحولیاتی آلودگی، قحط پڑنے کے اہم اسباب ہیں۔ اردو شعراءنے قحط کے موضوع کو اپنے اشعار میں بڑے پر اثر طریقے سے پیش کیا ہے   

سب کے سوکھے ہوئے ہیں پیمانے
ہر طرف قحط آب ہو جیسے
(ڈاکٹر ہلال نقوی)

ہر طرف قحط آب تھا لیکن
ایک طوفان میرے اندر تھا
(شریف منور)
جو چاروں سمت گرانی کی ہے فراوانی
تو قحط بھی اسی بہتات سے نکلتا ہے
(ظفر اقبال)
قحط نے سارے گھر اجاڑ دیے
ایک جو بچ گیا ہے خالی ہے
(انعام کبیر)
الغرض اردو غزل میں قدم قدم پر منفرد انداز میں قدرتی آفات کا بیان دیکھنے کو ملتا ہے۔کیونکہ یہ وہ موضوع ہے جس سے انسان کی زندگی ہر صدی میں متاثر ہوتی رہی ہے۔جب سے اس زمین کی تخلیق ہوئی ہے اور دور حاضر تک ان قدرتی آفات کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔اور خاص طور سے انسان کی بد عملیوں نے ان خطرات کے ہونے کے امکانات کو اور بڑھا دیا ہے۔انسان اپنے مفاد کی خاطر قدرتی ماحول سے کھلواڑ کر رہا ہے۔جس سے ہمارے ماحول میں نا گزیر تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں اور جو کہیں نہ کہیں قدرتی آفات کے آنے کا سبب بنی ہیں۔ ہمیں آج اس موضوع پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح ہم ان خطرات کے آنے کے امکانات کو کم کر سکتے ہیں۔اور کس طرح ان آفات سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں جس سے انسانی جان و مال کا خطرہ کم ہوسکے۔

Er. Mohd Adil
Hilal House, HNO: 4/114, Jagjeevan 
Colony, Naglah Mallah, Civil Line
Aligarh - 202002 (UP)
Mob: 09358856606

 ماہنامہ اردو دنیا،اکتوبر 2019

 قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے




اردو کی پہلی داستان اور شمالی ہند کی داستانیں: ایک تنقیدی مطالعہ مضمون نگار: سعود عالم


اردو کی پہلی داستان اور شمالی ہند کی داستانیں: ایک تنقیدی مطالعہ

سعود عالم 
یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ کسی بھی زبان کا اوّلین دور ادبی نثر سے معرا ہوتا ہے۔ایسا ہی کچھ اردو زبان کے ساتھ بھی ہوا ہے۔اس میں شک نہیں کہ نثری داستان کے علاوہ اردوزبان کی تمام اصناف کی ابتدا دکن میں ہوئی۔اگرملاوجہی کی ’سب رس‘: 1635 کو اردو کی پہلی داستان مان لیا جائے تو وہ اردو کی پہلی داستان کہلائے گی ورنہ اردو کا باقاعدہ آغاز وارتقا دکن کے بجائے شمالی ہند تسلیم کیا جائے گا۔ اردو کے مشہورمحقق ونقاد پروفیسر گیان چند جین اپنی کتاب ’اردو کی نثری داستانیں‘ میں ’سب رس‘ سے متعلق یوں گویا ہیں کہ ”سب رس ایک نیم عارفانہ تمثیل ہے۔ اسے پڑھتے وقت ہم اس کے کرداروں کو محض اشخاص کا قصہ نہیں سمجھتے بلکہ مجاز کے پردے دور کرکے ان کے معنی کو بھی پیش نظر رکھتے ہیں۔ اس لیے سب رس اس معنی میں داستان نہیں جن معنوں میں چاردرویش یا طلسم ہوشربا داستانیں ہیں۔“1
وہ مزید لکھتے ہیں: ”بہرحال ’سب رس‘ کو افسانہ گوئی کا شاہکار بھی سمجھ لیا جائے تو بھی اس کے علاوہ دکن میں اور کوئی ایسی داستان نہیں جس میں ادبیت کے پھول کھلے ہوں۔“2
 اس قول سے واضح ہوجاتا ہے کہ اردو کی ابتدائی اصناف مثنوی، قصیدہ، مرثیہ، غزل وغیرہ کے برخلاف اردو داستان پوری کی پوری دکن کے بجائے شمالی ہند کی مرہونِ منّت ہے۔دکن میں داستان کا فقدان نثرکے فقدان کا ہم نشیں ہے۔ اس کی شیر خوارگی خانقاہ میں گزری جس کے بعد دربارِ شاہی نے اس کی سرپرستی کی۔ مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اردو کی ابتدائی نثر صوفیائے کرام کے مذہی رسالوں تک محدود ہے۔قطب شاہی اور عادل شاہی سلاطین کے زمانے میں اردو نثرکے راستے میں ایک موڑ ایسا بھی آیا تھا کہ اس کی بھرپور آبیاری ہوسکتی تھی لیکن یہ حضرات خود شاعر تھے اور ان کے پاس شعرائے اردو سے بزم سلطانی آراستہ کرنے کے علاوہ اور کوئی دوسراراستہ نہ تھا، اس لےے یہ حضرات بھی ان سے محض اپنی محفلیں گرما نے کا کام لینا چاہتے تھے۔ تو بھلا ایسے میں نثرکی ترویج وترقی کیسے ممکن تھی؟
شاعری کے مقابلے نثر کی تنزلی کا ایک دوسرا سبب یہ بھی تھا کہ نثر میں وہ رنگینی، وہ تڑپ، وہ برجستگی کہاں جو شاعری کی مرصع سازی میں ہوتی تھی۔شاعری میں مسند اور اَورنگ کا دل موہ لینے کا ہنر تھا برخلاف نثر کے کہ اُس میں نہ وہ رعنائیاں تھیں اور نہ وہ عشوہ طرازیاں۔ نتیجتاً دکن میں اردو نثر بالکل نظرانداز کردی گئی۔اور وہ وہاں پھلنے پھولنے اور پروان چڑھنے سے قاصر رہی بالٓاخر نثر نے بجائے دکن کے شمالی ہند میں اپنا راستہ ہموار کیا اور شمالی ہند کے اُدبا نے اُسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور اس کی بھرپور ترویج واشاعت کی۔ اس سے پہلے کہ آپ شمالی ہند کی نثری تاریخ سے روشناس ہوں آپ کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ شمالی ہند میں داستان کی ابتدائی ترویج میں نہ شاہ صاحبان کا ہاتھ ہے نہ بادشاہ صاحبان کا، چند لوگوں کو اگر چھوڑ دیا جائے تو گنتی کے چند گروہ باقی رہ جائیں گے۔ اس لحاظ سے داستان کے فروغ میں جس تحریک کی سب سے زیادہ اہمیت رہی ہے، وہ فورٹ ولیم کالج ہے اوروہ بھی بہت دنوں تک نہ چل سکی۔
 فورٹ ولیم کالج کے تحت اردو کی کئی شاہکار داستانیں منظر عام پر آئیں۔ اس کے اچھے نثر نگاروں میں میر امن دہلوی مانے جاتے ہیں۔ کلکتہ میں میر امن کے ساتھ کام کرنے والوں میں میر شیر علی افسوس، حیدر بخش حیدری، کاظم علی جوان، نہال چند لاہوری، مظہر علی ولا، مرزا علی لطف، میر بہادر علی حسینی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ان میں سب سے زیادہ شہرت کے حامل میر امن دہلوی ہیں جنھوں نے ’نو طرز مرصع‘ کا ترجمہ ’باغ وبہار‘کے نام سے کیا جو خالص دہلوی زبان پر مبنی ہے۔
باغ وبہار کی تاریخی اہمیت وافادیت کوجاننے سے قبل ضروری ہے کہ اس کے مرجع ومصدر کے بارے میں تھوڑی بہت معلومات حاصل کرلی جائے، جس کی اردو ادب میں ایک سنگ میل کی حیثیت ہے اوروہ رہتی دنیا تک برقرار رہے گی۔اس کے بعد شمالی ہند کی داستانوں کا مختصراً تنقیدی جائزہ لیا جائے گا۔ لہٰذا ایسے میں سب سے پہلے بات ’نو طرز مرصع‘ کی ہوگی۔
’نوطرز مرصع‘ اٹھارویں صدی کی سب سے اہم اردو داستان ہے۔ جس کے مؤلف میر محمد حسین عطا خاں معروف بہ تحسین ہیں۔3
 یہ داستان اٹھارہویں صدی کے آخری دور ہے میں لکھی گئی تھی۔ تحسین نے خود واضح کردیا ہے کہ وہ داستان لکھ کر نواب شجاع الدولہ (المتوفی: 1775) کے حضور میںپیش کرنا چاہتاتھا کہ حیات مستعار نے نواب سے دغا کی۔ بعدہ اس قصّہ کو نواب آصف الدولہ (المتوفی:1797) کے حضور میں پیش کیا۔اِس سے واضح ہوتا ہے کہ تحسین نے اس کتاب کواٹھارویں صدی کے آخری دورہے میں لکھا تھا۔ ہم یہاں پر توثیق کے لیے دونوں کے مقدمہ سے ایک ایک حوالہ پیش کریں گے جس سے اس کے استناد میں مزیدپختگی آئے گی۔
ڈاکٹر نورالحسن ہاشمی ’نوطرزمرصع‘ کے مقدمہ میں اس کی سنہ تالیف کی تصدیق کچھ اس انداز میں کرتے ہیں: ”ڈاکٹر سجاد نے لندن کی لائبریریوں میں ڈوب کر نہ صرف جنرل اسمتھ کا پتا چلایا بلکہ اس کے سفرکلکتہ کا زمانہ 1768 بھی معلوم کرلیا۔ اس سے یہ طے ہوجاتا ہے کہ ”نوطرز مرصّع کی داغ بیل 1768 میں پڑ چکی تھی۔ تکمیل 1775 میں ہوئی ہوگی۔“4
جبکہ ’باغ وبہار‘ کے مرتب مولوی عبدالحق اپنے مقدمے میں اس کی سنہ اشاعت سے متعلق کچھ یوں رقم طراز ہیں:
”غرض نواب شجاع الدولہ کی وفات کے بعد انھوں نے یہ کتاب نواب آصف الدولہ کے نام سے معنون کی۔ نواب آصف الدولہ کی تخت نشینی1775 میں ہوئی۔ اس وقت یہ کتاب ختم ہوچکی تھی۔یعنی اس کی تالیف باغ وبہار سے تخمیناً25-30برس پہلے ہوئی تھی۔5
متذکرہ بالا دونوں محققین و مدونین کے بیان کماحقہ ایک جیسی تاریخ کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس سے تمام طرح کے شکوک و شبہات کی گنجائش رفع ہوجاتی ہے۔
اب جہاں تک اس داستان کے منصہ وجود پر آنے کا سوال ہے تو اس سے متعلق خود تحسین نے لکھا ہے کہ وہ جنرل اسمتھ کی رفاقت میں دریائے گنگ میں بہ سواری کشتی کلکتہ جارہے تھے۔ راستے میں ایک عزیز نے یہ داستان شروع کی۔ تحسین کو خیال ہوا کہ اس داستانِ بہارِستان کو اردو میں لکھنا چاہیے۔ چنانچہ اس کا ابتدائی حصہ کشتی ہی میں سپرد قلم کیا۔وہ لکھتے ہیں:
”ایک مرتبہ مبارز الملک، افتحار الدولہ جنرل اسمتھ بہادر صولت جنگ سالار فوج انگریزی کی ہمراہی میں بجرے پر کلکتے کا سفر درپیش آیا۔ خالی بیٹھے بیٹھے دل گھٹنے لگا، تو ایک عزیز نے جو ہمراہ تھا، یہ قصہ سنانا شروع کیا۔بہت پسند آیا اور اسی وقت سے ’زبان ہندی‘ میں لکھنے کی دھن لگ گئی ”کیونکہ سلف میں کوئی شخص موجد اس ایجاد تازہ کا نہ ہوا۔“چنانچہ اسی خیال سے لکھنا شروع کیا۔“6
’نوطرز مرصع‘ جس وقت لکھی گئی اس وقت اردو نثر کو علمی درجہ نصیب نہ تھا۔ ’نوطرز مرصع‘ کے تقریباً پون صدی بعد تک اردو کے شعرا اُردو نثر کو سرمایۂ ننگ سمجھتے تھے جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا کہ ملاّوجہی کی’سب رس‘[جو کہ تمثیلی نثر پر مبنی ہے] کو چھوڑ کراردو نثر کی مکمل داغ بیل شمالی ہند میں انیسویں صدی کے آغاز میں ڈالی گئی۔
تحسین نے ’نوطرز مرصع‘ میں جابجا اردو کے مستند شعرا بالخصوص خواجہ میر درد، مرزا رفیع سودا وغیرہ کے اشعار داخل کرنے کی کوشش کی ہے اوربیشتر جگہوں پر اپنے کہے ہوئے اشعار شامل کےے ہیں۔ انھوں نے محض ایک دو اشعار پر اکتفا نہیں کی بلکہ پوری پوری غزلیں لکھ ڈالیں ہیں جس کی بدولت کہانی کا تسلسل اور لطف مفقود ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر گیان چند جین تحسین کی ادبیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی حرماں نصیبی پر افسوس کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”تحسین کی بدنصیبی تھی کہ میر امن جیسے انشا پرداز نے اس داستان کو دوبارہ لکھا۔ جس کی وجہ سے تحسین کا کارنامہ ماند پڑگیا۔ لیکن یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ اس وقت شمالی ہند کی اردو نثر میں کوئی ادبی تصنیف نہ تھی۔ نوطرز مرصّع اپنے طرز کی پہلی کوشش ہے۔“7
مولوی عبدالحق تحسین کی علمی لیاقت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”ان کو فارسی اردو نظم ونثر دونوں پر قدرت تھی، وہ بہت اچھے خوش نویس بھی تھے اور اسی بنا پر ان کا خطاب ’مرصع رقم‘ تھا۔ علاوہ اس کتاب کے وہ انشائے تحسین، ضوابط انگریز اور تواریخ فارسی وغیرہ کے مؤلف ہیں۔ یہ سب کتابیں فارسی زبان میں ہیں۔“8
اب جہاں تک سوال’باغ وبہار‘کا ہے تو یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ یہ میر امن دہلوی کی سب سے مقبول ومعروف کتاب ہے۔ یہ کتاب سنہ1802 میں کلکتہ کے فورٹ ولیم کالج میں پائے تکمیل تک پہنچی اور 1803 میں منظر عام پر آئی۔یہ قصّۂ چہار درویش کا اردو ترجمہ ہے۔ میر امن سے پہلے میر محمد حسین عطا خاں تحسین نے اس کا فارسی سے اردو میں ترجمہ کیاتھا۔ کتاب کے دیباچے میں میر امن نے ’نوطرز مرصع‘ کا کوئی ذکر نہ کرتے ہوئے صرف فارسی ترجمہ کی بات کی ہے۔ 1931 میں جب مولوی عبدالحق نے ’باغ وبہار‘کو مرتب کرکے شائع کیا تو انھوں نے فارسی نسخے (مترجم /مصنف : محمد علی معصوم9) کی کئی عبارتوں کا ’نوطرز مرصع ‘اور’باغ وبہار‘ سے موازنہ کرکے یہ پردہ فاش کردیا کہ میر امن کا مآخذ ومنبع ’نوطرز مرصع‘ ہے۔ 1933 میں حافظ محمود خاں شیرانی اپنے مشہور مضمون چاردریش، مشمولۂ کارواں لاہور میں باغ وبہار کی ابتدائی اشاعت کے سرورق کی مندرجہ ذیل عبارت کچھ اس طرح پیش کرسکتے ہیں:
”باغ وبہارتالیف کیا ہوا میر امن دلّی والے کا ماخذ اس کا نوطرز مرصّع کہ وہ ترجمہ کیا ہوا عطا حسین خاں کا ہے فارسی قصّہ چہار درویش سے۔“10
 تحسین اور میر امن کے علاوہ محمد غوث زرّیں نے بھی ’قصہ چہار درویش ‘ کا اردو میں ترجمہ کیا۔ زرّیں نے متن کی ابتدا میں کتاب کا نام ’چاردرویش‘ لکھا ہے۔ زرّیں نے اپنے اردو نسخے کی ابتدا میں لکھا ہے کہ اوّل انھوں نے یہ قصہ فارسی میں لکھاتھا اُسی کو اردو میں ترجمہ کردیا۔ اس کی تاریخِ تالیف1198ھ ہے۔ بقول گیان چند جین ”زرّیں کا فارسی نسخہ اردو نسخے کی نسبت بہت مفصّل اور ترقی یافتہ ہے۔ “وہ ایک مضمون میں لکھتے ہیں:
”زرّیں نے بھی اپنے اردو چار درویش کی تاریخ ”باغ وبہار (1217ھ) سے نکالی ہے لیکن یہ میر امن کے شاہکار سے واقف نہیں“11
خلاصۂ کلام یہ کہ ’قصہ چہار درویش‘ کوئی زیادہ قدیم نہیں ہے۔یہ مغلیہ دور کی پیداوار ہے۔غالب گمان ہے کہ یہ18ویں صدی کی تصنیف ہے جیسا کہ محمود خاں شیرانی اور دیگر حضرات کے بیانات سے واضح ہوتا ہے۔
شمالی ہند کی دوسری مقبول عام داستان فسانہ عجائب ہے۔ یہ مرزا رجب علی بیگ سرور کی سب سے مشہور اور مقبول کتاب اور شمالی ہند کی پہلی اہم طبع زاد داستان ہے۔ یہ داستان سنہ 1824 میں لکھی گئی جو دبستان لکھنؤ کی ایک شاہکار ہے۔ اکثر ناقدین کا کہنا کہ’ فسانۂ عجائب ‘ کے مختلف اجزا قدیم فارسی اور اردو داستانوی مثنوی میں مل جاتے ہیں۔محققین نے اسے محمد بخش مہجور کی ’گلشن نوبہار‘، میر حسن کی مثنوی ’سحرالبیان‘ مصحفی کی مثنوی’گلزارِ شہادت‘ اور ’داستان امیر حمزہ‘ سے مشابہ قرار دیا ہے۔ان کایہ بھی کہنا ہے کہ یہ داستان ’پدماوت اور بہار دانش ‘ کی یاد دلاتی ہے۔کیونکہ دونوں کی کہانی میں طوطا اسی طرح رہبری کرتاہوا نظرآتا ہے۔
فسانۂ عجائب میں سب سے زیادہ دلچسپی کا حامل تبدیلیٔ قالب کا واقعہ ہے۔ڈاکٹر گیان چند جین اس کو سرور کے دماغ کی اُپچ تسلیم نہیں کرتے۔ان کا کہنا ہے کہ سنسکرت ادب میں اس طرح کی متعدد کہانیاں ہیں۔وہ ڈاکٹر پرکاش مونس کی کتاب ’اردو ادب پر ہندی ادب کا اثر‘ کے حوالے سے بات کرتے ہیں کہ ”ایسے واقعات ’کتھا سرت ساگر‘ اور ’پربندھ چنتا منی‘ میں، راجہ نند اور راجہ مکند کی کہانی،’ پنچ تنتر‘، ’بیتال پچیسی‘ میں راجہ وکرم کے سلسلے میں اورمرگیندر کی تصنیف پریم پیوندھی میں ملتے ہیں۔“12
گیان چند جین مزید لکھتے ہیں کہ ”پریم پیوندھی کا واقعہ بالکل فسانہ عجائب سے مماثل ہے۔“13
اس میں کوئی شک نہیں کہ سرور نے اپنے ماقبل داستانوں اورکہانیوں سے استفادہ کیا ہے،بہر حال ہر فن کار چراغ سے چراغ جلاتا ہے۔ باوجود اس کے سرور نے اپنی کتاب کے شروع میں وجہ تالیف کچھ اس اندازمیں بیان کی ہے کہ ایک روز وہ لکھنؤ میں دوستوں کے زمرے میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک دوست نے ان سے قصہ گوئی کی فرمائش کی تاکہ پریشانی طبیعت دور ہو، اس پر سرور نے کہانی کے چند کلمات بیان کےے:یہ کہانی دوستوں کو پسند آئی۔ بعدمیں ان دوستوں کے اصرار پریہ داستان منظر عام پر آیا۔
اس کے باوجود پروفیسرگیان چند جین فسانۂ عجائب کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں اور شمالی ہند کی اہم داستانوں میں اس کو شمار کرتے ہیں، وہ لکھتے ہیں:”اگر کوئی پوچھے کہ اردو کے دو سب سے بڑے داستان نگارکون ہیں تو ہرشخص بلاتامل جواب دے گا کہ میر امّن اور رجب علی بیگ سرور“۔14
اس میں کوئی شک نہیںکہ دونوں اپنے اپنے دبستان کے مشہورداستان نویس ہیں اور دونوں کی کتابیں اپنی اپنی نوعیت سے الگ الگ مقام رکھتی ہیں۔ایک کو دوسرے پر فوقیت دینا سراسر ناانصافی ہوگی۔
سرور نے اس کتاب میں انشا پردازی کا اعلیٰ کمال دکھایا ہے جب یہ کتاب شائع ہوئی تو اردو حلقوں میں اسے کافی مقبول ملی اور حیرت کی نگاہ سے دیکھی جانے لگی، مگر بدقسمتی سے انھوں نے دیباچہ میں میر امن اور اہل دہلی کے متعلق کچھ ایسے نازیبا الفاظ کا استعمال کیا جس سے دونوں دبستانوں کے درمیان لفظی جنگ چھڑ گئی۔ انھیں وجوہات کی بنا پر دہلی والوں کے نزدیک ان کی اہمیت خاک میں مل گئی۔
فسانۂ عجائب میں کثرت سے اساتذہ کے کلام سے استفادہ کیا گیا ہے۔ یہ اشعار سرور اور ان کے استاد نوازش حسین خاں کے ہیں۔ان کے علاوہ حافظ، جامی، سعدی، میر،سودا، میر حسن، سوز، جرأت،اور مصحفی وغیرہ کے بھی اشعار جابجا نظر آتے ہیں۔
ڈاکٹر وقار عظیم فسانۂ عجائب کے اسلوب اور طرز اداکو اس وقت کے خاص اسلوب سے منسوب کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”فسانۂ عجائب ایسے طرز میں لکھی گئی جو اس خاص زمانے اور اس خاص ماحول کا پسندیدہ طرز ہے۔“15
پروفیسر گیان چند جین لکھتے ہیں:”فسانۂ عجائب کی فضیلت اس کے اسلوب اور معاشرت کے بیانات کی وجہ سے ہے۔ اس کا دیباچہ گو قصے کا جزو نہیں لیکن وہ ادب میں مستقل جگہ پاگیا ہے۔“16
نوطرز مرصع، باغ وبہار اور فسانۂ عجائب کے علاوہ شمالی ہند کی ایک اور مشہور ومقبول داستان ہے جو باغ وبہار کے فوراً ہی بعد منصۂ شہود میں آگئی تھی۔ اردو ادب میں یہ داستان ’رانی کیتکی کی کہانی‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اصل میں اس داستان کا نام ”داستان رانی کیتکی اور کنور اودے بھان کی “ ہے جو انجمن ترقی اردو سے 1933 میں شائع ہوئی جس کے خالق انشا اللہ خاں انشا ہیں۔ یہ اردو کی مختصرترین طبع زاد داستان ہے جو 1803 میں لکھی گئی تھی۔ اس داستان کی تصنیف کے پیچھے انشا کا مقصد صرف یہ تھا کہ اس کی عبارت میں ہندی کے علاوہ (مثلاً فارسی یا عربی)کسی زبان کا کوئی لفظ نہ آنے پائے۔وہ لکھتے ہیں:
”ایک دن بیٹھے بیٹھے یہ بات اپنے دھیان میں چڑھ آئی کہ کوئی کہانی ایسی کہیے جس میں ہندوی چھُٹ اور کسی بولی سے پُٹ نہ ملے، تب جاکر میرا جی پھول کی کلی کے روپ کھلے۔ باہر کی بولی اور گنواری کچھ اس کے بیچ نہ ہو۔“17
 انشا بہت حد تک اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوئے ہیں اور کیوں نہ ہوتے کیونکہ اس داستان کا موضوع ہندوانی زندگی اور معاشرت سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے کردار بھی معمولاً ہندی ہی بولتے ہیں۔ ایسے میں داستان نگار کے فن کی اصل آزمائش ہوتی ہے کہ وہ اپنی تحریر میں ایسی تکنیک کا استعمال کرے جس سے قاری کو دقتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ انشا کے فن کا کمال ہے کہ انہوں نے عبارت کے ہندوی پن میں سادگی، سلاست اور روانی بھی قائم رکھی ہے اور روزمرہ کے لطف میں بھی کہیں کمی آنے نہیں دی ہے۔ یہاں قاری کی آسانی کے لیے داستان سے بعض اقتباسات نقل کےے جارہے ہیں۔ روایت کے مطابق داستان کا آغازحمد، نعت اور منقبت سے ہوتا ہے لہٰذا ذیل کی عبارت حمدسے ماخوذ ہے:
” یہ کل کا پتلا جو اپنے اس کھلاڑی کی سُدھ رکھے تو کھٹائی میں کیوں پڑے اور کڑوا کسیلا کیوں ہو؟ اس پھل کی مٹھاس چکھّے جو بڑوں سے بڑے اَگلوں نے چکھّی ہے۔“18
اس کے بعد کہانی کا آغاز بقول انشا: ”کہانی کے اُبھارکے ساتھ بول چال کی دلہن کا سنگار“ سے شروع ہوتا ہے۔ کنور چندر بھان جھولا جھولتی ہوئی لڑکیوں کے پاس پہنچتا ہے، وہ جھولاجھول رہی ہیں اور ساتھ ہی ساون گا رہی ہیں، ان چالیس پچاس دو شیزاؤں میں ”ایک ایک سے اگلی تھی لیکن ایک لاجواب تھی۔“ انشا کہتے ہیں:”ان سبھوں میں سے ایک کے ساتھ اس کی آنکھ لڑ گئی“اس طرح کنور کو رانی کیتکی سے محبت ہوئی اور ”اس کے جی میں اس کی چاہ نے گھر کیا“
مذکورہ بالا عبارت سے پتہ چل رہا ہے کہ اس میں باوجود ہندی کے الفاظ روز مرہ کی سادگی اور محاوروں کا بے تکلف استعمال جگہ جگہ پایا جاتا ہے۔قاری کو پوری کتاب میں معمولاً یہی سادگی، سلاست اور روانی کا حسین امتزاج نظرآئے گا۔اسی طرح ہندو کردار کی زبانی قصے کے ہندوی پن کے التزام نے عبارت میں چار چاند لگا دیے ہیں۔ دیکھیے یہ اقتباس:
”جو میرے داتا نے چاہا تو وہ تاؤ بھاؤ اور آؤ جاؤ کود پھاند اور لپٹ جھپٹ دکھاؤں جو دیکھتے ہی آپ کے دھیان کا گھوڑا جو بجلی سے بھی بہت چنچل، اُچھلا ہٹ میں ہرنوں کے روپ میں ہے، اپنی چوکڑی بھول جائے۔“19
اردو کی مختصرین ترین داستانوں میں ایک آرائش محفل ہے۔ یہ قصہ حاتم طائی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس داستان کے خالق حیدر بخش حیدری ہیں۔ فورٹ ولیم کالج کے اعلیٰ پائے کے مترجموں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ان کا اسلوب اور طرز نگارش قابل ستائش ہے۔ باغ وبہار کے بعد فورٹ ولیم کالج کے تحت ترجمہ شدہ کتابوں میں سب سے آسان وسلیس ترجمہ ہمیں آرائش محفل میں نظر آتا ہے۔ ادبی پہلو کے قطع نظر آرائش محفل کا قصہ’ باغ وبہار‘ سے بھی کہیں زیادہ زبان زدِ خاص وعام ہے۔اس داستان کی کہانی اور ساخت اتنی دلچسپ ہے کہ قاری پل بھر کے لیے بھی اس سے ہٹنا گوارہ نہیں کرتا، ہر موڑ پرایک نئی طرح کا تذبذب برقرار رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ قاری ہمیشہ کہانی سے پردہ اٹھنے کا منتظر رہتا ہے۔
دیگر داستانوں کی طرح اس داستان کا آغاز بھی کچھ اس طرح ہوتا ہے کہ ”اگلے زمانے میں طے یمن کا ایک بادشاہ تھا۔ نہایت صاحب حشم، عالی جاہ، فوج کی طرح سے فرخندہ حال مرد، جواہرات سے مالا مال“ 20 اس کے بعدبادشاہ کے یہاں مہر لقا نام کا ایک شہزادہ پیدا ہوتا ہے جو آگے چل کر حاتم طائی کے نام سے اس قصے کا ہیرو طے پاتا ہے۔ پھر وہی پچھلی داستانوں کی طرح نجومی، پنڈت، جفر داں اور رمال وغیرہ آتے ہیں اور اپنے زائچوں اور پوتھیوں کی مدد سے شہزادہ ہفت اقلیم کا بادشاہ بن جاتا ہے، اور ساری عمر اپنے آپ کو راہِ خدا میں وقف کردیتا۔ پوری کہانی سات چیزوں کے گرد گرد گھومتی رہتی ہے۔
ایک باردیکھا ہے، دوسری بار دیکھنے کی خواہش ہے
نیکی کر دریا میں ڈال
کسی سے بدی نہ کر، اگر بدی کرے گا تو بدی پاوے گا
سچ کہنے میں ہمیشہ راحت ہے
کوہِ ندا کی خبر لانا
اُس موتی کا جوڑا تلاش کرنا جو مرغابی کے انڈے کے برا بر ہے
حمام بادگرد کی خبر لانا
اس کے علاوہ بھی اردو کی بہت ساری ایسی داستانیں شمالی ہند میں وجود میں آئی ہیں جن کا تفصیل سے ذکر پھر کہیں کسی موقع پر کیا جائے گا۔ تاہم یہاں صرف اتنا ذکر کرنا ضروری ہے کہ داستان کی اہمیت وافادیت آج کے سماج میں زبان کی اصلاح کے لیے بہت ضروری ہے۔موجودہ دور میں داستان کی زبان اور تہذیب کی صورت حال کاموازنہ اگر ماضی کی داستانوں سے کیا جائے تواندازہ ہوگا کہ آج داستان کی باتیں صرف داستانوں میں ہی سمٹ کر رہ گئی ہیں۔وہ روز بہ روززوال کی طرف گامزن ہوتی چلی جارہی ہیں۔ باوجوداس کے آج کا قاری ناامید ہرگز نہیں ہے۔ اس کا آج بھی ہماری کلاسیکی داستانوں سے لگاؤ ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں مزیداس کلاسیکی صنف پر زور دیا جائے گا۔
حواشی
(1) اردو کی نثری داستان، گیان چند جین، ص95
(2) ایضاً، ص:95
(3) بقول گیان چند جین: بعض لوگوںکو تحسین کے نام پر اختلاف ہے، گیان چند جین مسعود حسین رضوی ادیب کے حوالے سے اپنی کتاب ’میں لکھتے ہیں کہ: ”میر امن نے’ باغ وبہار‘ میں اور آزاد نے’آب حیات‘ میں ان کا نام عطا حسین خاں لکھا ہے لیکن ان کا صحیح نام میر محمد حسین عطا خاں تھا جو ان کے دوست امیر اللہ ابوالحسن نے تذکرۂ مسرت افزا میں درج کیا ہے۔ ’نوطرز مرصّع‘ کے قدیم ترین نسخوں میں بھی یہی نام ملتا ہے۔ داستان کے مرتب ڈاکٹر نورالحسن ہاشمی نے بھی [مقدمہ میں] اسی کو صحیح قرار دیا ہے۔“دیکھیے، اردو کی نثری داستان، ص:206اور ایک دوسرے مرتب مولوی عبدالحق نے بھی اپنے مقدمہ کے صفحہ 5پر ان کا نام میر محمد حسین عطا خاں تخلص بہ تحسین بتایا ہے۔ 
(4) بحوالہ مقدمہ’نوطرز مرصع‘ از ڈاکٹر نورالحسن ہاشمی، ص:23
(5) باغ وبہار، مرتبہ: مولوی عبدالحق،مطبع انتظامی کانپور، 1931، مقدمہ، ص:7
(6) ایضاً،ص::5-6
(7) اردو کی نثری داستان، گیان چند جین، ص:212
(8) باغ وبہار، مرتبہ: مولوی عبدالحق،مطبع انتظامی کانپور، 1931، مقدمہ، ص:5
(9) بعض لوگوں کا خیال ہے ’قصہ چہار درویش‘ امیر خسرو کی کتاب ہے۔پروفیسر محمود شیرانی کی تحقیق اس کی مکمل تردید کرتی ہے۔وہ اپنے دلائل اورحقائق سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قصّہ چہار درویش امیرخسروکی تصنیف نہ ہوکرمحمد علی معصوم کی تصنیف کردہ کتاب ہے۔پروفیسرگیان چند جین اپنی کتاب ’اردو کی نثری داستانیں، ص:265 میں اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ: ”چاردرویش کی تحقیق میں پروفیسر محمود شیرانی کا نام ہمیشہ درخشندہ رہے گا۔ انھوں نے حتمی طور پر ثابت کیا کہ امیر خسرو کو اس قصے سے دور کا تعلق نہیں۔ ان کے دلائل کا خلاصہ درج ذیل ہے:
l اس کا کوئی فارسی مخطوطہ بارہویں صدی ہجری سے پیشتر کا نہیں۔ نہ اس سے قبل کسی تحریر میں اس کا کوئی ذکر ملتا ہے۔
l فارسی نسخے میں متعدد اشعار خسرو سے بعد کے شعرا مثلاً حافظ، عرفی اور نظیر کے ہیں۔
l قصّے میں تومان اور اشرفی کا ذکر ہے جو خسرو کے عہد میں رائج نہیں ہوئی تھیں۔ نیز ایسے متعدد عہدہ داروں کا تذکرہ کیا گیا ہے جو دورِ مغلیہ کی اختراع ہیں۔مثلاً قورچیاں، کشک چیاں، اشک آقایاں،وکیل السلطنت، خزانہ دار امیر آمورخور۔
l امیر خسرو کی نثر بڑی مرصّع، دقیق اور صنائع بدائع سے پُر ہوتی ہے۔ چار درویش کے کسی متن کا اسلوب ایسا نہیں ہے۔ 
(10) بحوالہ، محمود خاں شیرانی، مضمون :چاردریش، مشمولۂ ’کارواں‘ لاہور،1933
(11) اردو کی نثری داستان، گیان چند جین،قومی کونسل برائے فروغ اردو،نئی دہلی۔ ص:279
(12) ایضاً، ص:531
(13) ایضاً
(14) ایضاً، ص:507
(15) اردو کی داستانیں، وقار عظیم، ص:234-35
(16) اردو کی نثری داستان، گیان چند جین، ص:539
(17) دیکھےے، رانی کیتکی کی کہانی، انشا اللہ خاں انشا
(18) ایضاً، ص:
(19) ایضاً، ص:
(20) دیکھیے، آرائش محفل،شیر علی افسوس

Saud Alam
B.114, Ist Floor. R.No 05
Okhla Main Market, Jamia, Nagar
New Delhi - 110025
Mob: 8076495936

 ماہنامہ اردو دنیا،اکتوبر 2019

 قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے




جمعرات، 3 اکتوبر، 2019

برج نرائن چکبست کی شاعری میں حب الوطنی کے عناصر مضمون نگار: ممتاز احمد خاں



برج نرائن چکبست کی شاعری میں حب الوطنی کے عناصر

ممتاز احمد خاں
اردو زبان میں ابتدا سے ہی بلکہ زمانۂ آفرینش سے جمہوری اور انسانی اقدار کی پیش کش پائی جاتی ہے۔ اس زبان نے ہمیشہ سماج میں مثبت اقدار اور اخلاقی و انسانی تعلیمات کے ذریعے کلچر کی تعمیر و تشکیل میں حصہ لیا ہے۔ اردو کا سارا ادبی و شعری سرمایہ اس بات کا گواہ ہے کہ اس میں ہندوستانی کلچر کے بہترین عناصر کی شرکت و شمولیت ہے۔ اردو کے شاعروں اور ادیبوں نے اعلیٰ انسانی قدروں کی ہر دور میں تبلیغ کی ہے۔ اردو خود مشترکہ کلچر کی پیداوار ہے۔ ہند ایرانی کلچر کے خوبصورت عناصر و اجزا سے اس کی تشکیل ہوئی ہے اور اس کی شاعری اور ادب کی آبیاری میں ہندوؤں، مسلمانوں اور سکھوں بلکہ تمام ہندوستانیوں کا حصہ ہے۔ ولی، میر، سودا، درد، آتش، ناسخ، ذوق، غالب، مومن، داغ، انیس، اقبال، فیض، شاد عظیم آبادی، جوش اور حسرت موہانی کے متوازی اور پہلو بہ پہلو دیا شنکر نسیم، پنڈت رتن ناتھ سرشار، پنڈت برج نرائن چکبست، درگا سہائے سرورجہاں آبادی، تلوک چند محروم، رگھوپتی سہائے فراق، پنڈت دتاتریہ کیفی، آنند نرائن مُلا، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، جگن ناتھ آزاد، کرشن موہن، رام لعل، جوگندر پال، آنند موہن زتشی گلزار دہلوی، بلراج کومل وغیرہ کے نام آسمانِ ادب پر روشن ستاروں کی مانند جگمگا رہے ہیں۔ چنانچہ اردو شاعری اور ادب سے معاشرے میں ہمیشہ امن اور شانتی، محبت و اخوت، انسانی ہمدری، انصاف و عدل، مساوات اور قوانین کی پابندی و پاسداری کی فضا پیدا ہوئی ہے۔ معاشرے کے مختلف طبقات میں ہم آہنگی اور باہمی تعلقات میں رواداری، تعاون اور خوش خلقی کو فروغ ہوا۔ ہندوستان کی پانچ چھ سو سال کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ سماج کے ہر طبقے کے افراد نے ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیا اور صدیوں سے بھائی چارے کے ماحول میں زندہ رہنے کی مثال قائم کی۔ ایسی رواداری اور پُرامن ماحول دنیا میں شاید ہی کہیں اور دیکھنے کو ملے گا۔ اردو کے جید ادیب و مبصر علی جواد زیدی نے اردو کی اسی خصوصیت پر مندرجہ ذیل لفظوں میں روشنی ڈالی ہے۔
”یہ کہنا ایک حقیقت کو دُہرانا ہے کہ خود زبان اردو یک جہتی کی پیداوار ہے۔ ابتدا سے اس میں ہماری رنگا رنگ تہذیب کی گنگا جمنی خصوصیات جھلکتی رہی ہیں۔ اس میں سنسکرت نے اپنا رس گھولا ہے، برج بھاشا، کھڑی، اودھی، مراٹھی، گجراتی، تیلگو، بنگالی، سندھی، پنجابی، پشتو، فارسی، ترکی، عربی، انگریزی، فرانسیسی، پُرتگالی، لاطینی، یونانی، چینی اور روسی نے اپنا بانکپن اور اپنی عظمت و وسعت سموئی ہے۔ یہ ہر تبدیلی اور انقلاب کی خاموش شاہد ہی نہیں بلکہ اچھائیوں کو سمیٹنے اور اندرونی کثافتوں کو دور کرنے کے لیے ہمیشہ آمادہ و تیار رہی ہے۔ آج بھی کشادہ دامنی سے لبیک کہہ رہی ہے اور نئے پھولوں کے لیے اپنے دامن میں جگہ بنارہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس کا الگ مزاج ہے، وہ مزاج جو مختلف روایات کے امتزاج سے بنا ہے اور جو رُکنے اور تھمنے کے بجائے آگے بڑھتا ہے، جو مسلسل ارتقا پر ایمان رکھتا ہے، جو ترقی کی کسی شکل کو حرفِ آخر نہیں سمجھتا۔ ان معنوں میں اردو کی تاریخ یک جہتی کی تحریک کی تاریخ بھی ہے۔“
(مضمون ’اردو میں یک جہتی کی روایت‘، مشمولہ ماہنامہ شاعر، بمبئی، قومی یک جہتی نمبر، ص144)
اردو شاعری کا ابتدائی دور دکن سے شروع ہوتا ہے۔ اردو کے پہلے صاحبِ دیوان شاعر محمد قلی قطب شاہ کی تخلیقات کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی شاعری میں ہندوستانی عناصر اور قومی یکجہتی کے اجزا وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ ان کے بعد ولی دکنی، سراج اورنگ آبادی، فائز دہلوی او دیگر شاعروں کے یہاں یہ روایت پھلتی پھولتی اور فروغ پاتی ہے۔ قومی یک جہتی اور ہندوستانی طرزِ احساس کی واضح اور طاقت ور عکاسی نظیر اکبرآبادی کے یہاں نظر آتی ہے۔ نظیرنے ہندوستانی معاشرت اور کلچر پر بے شمار نظمیں لکھیں جن کی کوئی مثال ہندوستان میں کسی اور زبان کے شاعر کے یہاں نہیں ملتی۔ نظیر کی روایت کو محمد حسین آزاد، مولانا حالی، اسمٰعیل میرٹھی، سرور جہان آبادی اور برج نرائن چکبست نے پروان چڑھایا۔ میرے اس مقالے کا موضوع ’پنڈت برج نرائن چکبست کی شاعری‘ ہے، اس لیے میں اپنی گفتگو کو ذیل کی سطور میں چکبست کی شاعری تک ہی محدود رکھوں گا۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ چکبست کی شاعری پر گفتگو سے قبل ان کی سوانح حیات مختصراً لکھ دی جائے۔ پنڈت برج نرائن چکبست فیض آباد کے ایک خوشحال کشمیری برہمن خاندان میں 1882 میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان بعد میں لکھنؤ آکر آباد ہوگیا۔ ان کے والد پنڈت اُودِت نرائن چکبست بھی شعر کہتے تھے۔ ان کا تخلص یقین تھا۔ چکبست کم عمری ہی سے بے حد ذہین اور مطالعے کے شوقین تھے۔ انھوں نے قانون کی تعلیم پائی اور لکھنؤ کے ممتاز وکلا میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ انھوں نے اساتذۂ اردو کے کلام کا بہت وسیع اور گہرا مطالعہ کیا تھا۔ شعر کے رموز و نکات پر گہری نظر رکھتے تھے۔ شرر لکھنوی سے ’گلزارِ نسیم‘ کے موضوع پر ان کا معرکہ بہت مشہور ہے۔ اہلِ نظر جانتے ہیں کہ اس معرکے میں چکبست کا پلّہ بھاری تھا۔ چکبست کا مجموعۂ کلام ’صبحِ وطن‘ ان کی وفات کے بعد شائع ہوا اور بعد میں ’کلیاتِ چکبست‘ کے نام سے ان کے کُل کلام کا مجموعہ بھی چھپ گیا۔ اس کلیات کو کالی داس گپتا رضا نے مرتب کیا تھا۔ پھر ان کی نثری تحریروں کا ایک مجموعہ ’مضامینِ چکبست‘ کے نام سے آیا۔ ان کے مضامین کے مطالعے سے ان کی علمیت، قابلیت، تنقیدی شعور اور ادبی، سماجی و تاریخی حالات و واقعات پر ان کی نظر کا اندازہ ہوتا ہے۔ چکبست پر میرانیس کے اثرات صاف نظر آتے ہیں۔ فراق گورکھ پوری کا خیال ہے کہ چکبست کی شاعری انیس کی انسان دوست شاعری (Humanistic Poetry) کی توسیع ہے۔ چکبست نے قومی وطنی نظمیں بڑی تعداد میں لکھی ہیں مگر ان کی زندگی نے وفا نہ کی۔ وہ صرف 44 یا 45برس کی عمر میں فالج کے حملے سے انتقال کرگئے، ورنہ وہ بہت بڑے اور اچھے غزل گو بھی تھے۔ یہاں ان کی غزل کے چند اشعار ملاحظہ ہوں  
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے؟ اِنھی اجزا کا پریشاں ہونا
——
جس کی قفس میں آنکھ کھلی ہو مری طرح
اس کے لیے چمن کی خزاں کیا، بہار کیا؟
——
بلائے جاں ہیں یہ تسبیح اور زُنّار کے جھگڑے
دلِ حق بیں کو ہم اِس قید سے آزاد کرتے ہیں
——
تھکے ماندے مسافر ظلمتِ شامِ غریباں میں
بہارِ جلوۂ صبحِ وطن کو یاد کرتے ہیں
——
یہ مانا بے حجابانہ نگاہیں قہر کرتی ہیں
مگر حُسنِ حیا پرور کا عالَم اور ہوتا ہے
چکبست کی شاعری کی ابتدا ہی حُب الوطنی اور قومی ہمدردی سے ہوتی ہے۔ انھوں نے بارہ تیرہ سال کی عمر ہی سے شاعری شروع کردی تھی۔ ان کی پہلی نظم ’حُب قومی‘ کے عنوان سے ملتی ہے۔ یہ زمانہ 1894 کے آس پاس کا تھا۔ چکبست نے یہ نظم لکھنؤ کے ایک جلسے میں پڑھی۔ کم عمری میں ایسی نظم لکھنے پر ان کو بہت داد ملی۔ عمر کے ساتھ ساتھ ان کا مذاقِ شعری پروان چڑھنے لگا اور ان کا مطالعہ و مشاہدہ بھی وسیع ہوا۔ ان کے کلام میں پختگی آنے لگی۔ انیسویں صدی کی آخری دہائی اور بیسویں صدی کے اوائل میں ہر طرف قومی ہمدردی اور حُب الوطنی کا چرچا تھا۔ سرسید اور حالی ہندوستانیوں کی تعلیم اور ترقی کا صور پھونک چکے تھے۔ ان کے بعد کے تعلیم یافتہ نوجوانوں نے ان کی آواز میں آواز ملائی۔ انگریزوں کی ظالمانہ حکومت، ہندوستانیوں کی ذلت و محکومی سے تمام حسّاس فن کار و ادیب دل برداشتہ تھے۔ اندر ہی اندر آزادی کی آرزو کروٹ بدل رہی تھی اور ہندوستانیوں کے آپسی اتحاد و اتفاق اور یک جہتی کی اہمیت سمجھ میں آرہی تھی۔ مختلف طبقات میں ہم آہنگی اور یگانگت کی ضرورت شدّت سے محسوس کی جانے لگی۔ ایسے دور میں اقبال، چکبست، جوش ملیح آبادی، سرور جہاں آبادی، تلوک چند محروم نے حُب الوطنی کے گیت گائے اور اتحاد واتفاق کی تعلیم کو اپنی شاعری سے عام کرنے کی کوشش کی۔ چکبست نے ’خاکِ ہند‘ کے عنوان سے جو نظم لکھی، وہ اس سلسلے میں قابلِ ذکر ہے۔ اس نظم کے صرف دو بند ملاحظہ ہوں  
اے خاکِ ہند تیری عظمت میں کیا گماں ہے
دریائے فیضِ قدرت تیرے لیے رواں ہے
تیری جبیں سے نورِ حُسنِ ازل عیاں ہے
اللہ رے زیب و زینت، کیا اَوجِ عزّ و شاں ہے
ہر صبح ہے یہ خدمت خورشید پُر ضیا کی
کرنوں سے گوندھتا ہے چوٹی ہمالیہ کی
اس خاکِ دلنشیں سے چشمے ہوئے وہ جاری
چین و عرَب میں جن سے ہوتی تھی آبیاری
سارے جہاں پہ جب تھا وحشت کا ابر طاری
چشم و چراغِ عالَم تھی سر زمیں ہماری
شمعِ ادب نہ تھی جب یوناں کی انجمن میں
تاباں تھا مہرِ دانش اس وادیِ کُہن میں
اس نظم میں بھی چکبست نے ہندوستان کے مشترکہ کلچر اور روایات کا ذکر خوب صورت انداز میں کیا ہے  
اب تک اثر میں ڈوبی ناقوس کی فغاں ہے
فردوسِ گوش اب تک کیفیّتِ اذاں ہے
چکبست نے اپنے قومی و وطنی جذبات کا اظہار موثر انداز میں کیا ہے۔ ان کے اسلوب میں جذبے کا خلوص، زبان کی فصاحت اور فن کی چابک دستی بھی ہے۔ اس نظم کا یہ بند ملاحظہ ہو 
شیدائے بوستاں کو سَر و سَمن مبارک
رنگیں طبیعتوں کو رنگِ سخن مبارک
بلبل کو گُل مبارک، گُل کو چمن مبارک
ہم بے کسوں کو اپنا پیارا وطن مبارک
غنچے ہمارے دل کے اِس باغ میں کھلیں گے
اِس خاک سے اُٹھے ہیں اِس خاک میں ملیں گے
چکبست نے اپنے زمانے کے کئی قومی لیڈروں کی موت پر جو مرثیے لکھے، ان کا مقصد بھی یہی تھا کہ وہ نوجوانوں میں اعلیٰ انسانی و اخلاقی خوبیاں پیدا کرنا چاہتے تھے۔ گوکھلے، تلک اور گنگا پرساد ورما کی موت پر ان کے جو مرثیے ہیں، وہ زبان و بیان، اندازِ خطاب اور اخلاقی خوبیوں کی تعریف و تحسین کے اعتبار سے خاصے کی چیز ہیں۔ ان کو پڑھنے سے حب الوطنی، کشادہ نظری اور خدمتِ قومی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ایسے مرثیوں اور نظموں کی فنّی سطح اونچی نہیں ہوتی مگر ایسے مرثیوں اور نظموں کی ضرورت ہوتی ہے۔ معاشرتی زندگی میں شاعری سے تعلیم و تربیت اور جوش وولولہ کو اُبھارنے کے لیے ایسے شعری اقتباسات بہت مفید اور کارآمد ثابت ہوئے ہیں۔ صرف اردو میں نہیں، دنیا کی دوسری زبانوں میں بھی ایسی تخلیقات وجود میں آئی ہیں۔
چکبست کی شاعری کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان کا وِژن (Vision) وسیع تھا۔ وہ تنگ دلی اور تنگ نظری سے کوسوں دور تھے۔ مختلف طبقات اور افراد میں باہمی محبت و اُخوت کو پسندیدہ نظروں سے دیکھتے تھے۔ ان کی شاعری میں بھی ان کا یہ نقطۂ نظر صاف نظر آتا ہے۔ پروفیسر منظراعجاز نے ان سے متعلق لکھا ہے :
”چکبست مظاہر کے حُسن میں حقیقت کے جمال کا پرتَو دیکھتے ہیں اور فطرت و انسانیت کو ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ چکبست دنیا کو ایک گھر یا کنبہ تسلیم کرتے ہیں اور پرستشِ وفا کو ہی انسانیت کی معراج تصور کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک کعبہ و بت خانہ میں کوئی فرق نہیں بشرطیکہ وفا قدرِ مشترک ہو۔ یہی وہ اخلاقی نکتہ ہے جس پر چکبست مذہبی رواداری، وسیع المشربی، مساوات اور اُخوت جیسے قدری عناصر کو سمیٹ کر انسانیت کے معیار کی تعمیر و تشکیل کرتے ہیں۔“ 
(اقبال اور قومی یک جہتی، ص217)
چکبست کے اس نقطۂ نظر کو اُجاگر کرنے کے لیے ان کی دو نظموں کے مندرجہ ذیل بند پیش کیے جاتے ہیں 
(الف)
شرابِ اُنس حقیقی سے تھا ہر اِک سرشار

شجر تھا، کوہ تھا، چشمہ تھا یا یہ مشتِ غبار

درخت و کوہ ہیں کیا، ذاتِ پاک انساں کیا

طیور کیا ہیں، ہوا کیا ہے، ابرِ باراں کیا

یہ موجِ ہستئیِ بیدار کے عناصر ہیں

سب ایک قافلۂ شوق کے مسافر ہیں
(ب)
ہر ذرّۂ خاکی ہے مرا مونس و ہمدم

دنیا جسے کہتے ہیں وہ کاشانہ ہے میرا

جس جا ہو خوشی، ہے وہ مجھے منزلِ راحت

جس گھر میں ہو ماتم وہ عزاخانہ ہے میرا

جس گوشۂ دنیا میں پرستش ہو وفا کی

کعبہ ہے وہی اور وہی بت خانہ ہے میرا
یہاں ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ چکبست اور ان کے جیسے دوسرے شاعر و فن کار کے یہاں قومی یک جہتی کا محدود تصور نہیں ہے۔ یہ فنکار ملک اور قوم کی سطح اور دائرے سے اوپر اُٹھ کر دنیا کے تمام انسانوں کے لیے امن و سلامتی اور خوشحالی کا جذبہ رکھتے ہیں اور ہر قوم کی ترقی اور ہر انسان کی عزت و عافیت اور امن و سلامتی کی تمنا کرتے ہیں۔ چکبست اور ان کے قبیل کے دیگر شعرا و مفکرین یہ مانتے ہیں کہ انسان کو رنگ و نسل، مذہب و زبان اور خطّے میں تقسیم نہیں کرنا چاہیے۔ سب کی انسانی حیثیت یکساں ہے۔ سب عزت و احترام، آزادی و مساوات، امن و سلامتی کے مستحق ہیں۔ انسانوں اور انسانی گروہوں سے امتیازی برتاو آپسی دشمنی اور منافرت کو جنم دیتی ہے۔ چنانچہ سارے عالم کے انسانوں کو وحدتِ آدم اور احترامِ آدمی کی تعلیم سے مزیّن کرنا چاہیے۔ جب ہی یہ دھرتی امن و سکون اور محبت و اُخوت اور تہذیب و تمدن کا حقیقی گہوارہ بن سکتی ہے۔ اقبال نے بہت پہلے ہی کہہ دیا ہے  
شکتی بھی شانتی بھی بھکتوں کے گیت میں ہے
دھرتی کے باسیوں کی مُکتی پریت میں ہے


Dr. Mumtaz Ahmd Khan
Sajida Manzil, Baghmali
Hajipur - (Bihar)
Mob.: 09852083803


 ماہنامہ اردو دنیا،اکتوبر 2019

 قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے