جمعہ، 30 نومبر، 2018

اختر تلہری: ایک گمنام ادبی شخصیت. مضمون نگار:۔ سید ابوذر علی




اختر تلہری: ایک گمنام ادبی شخصیت

سید ابوذر علی

اختر تلہری کا نام سید اختر علی تھا۔انھوں نے عصری علوم کے ساتھ دینی علوم بھی حاصل کیے۔ مولاناسیداختر علی تلہری 21اپریل 1901 میں شاہ جہانپور (اترپردیش) کے ایک چھوٹے سے قصبہ تلہر میں پیدا ہوئے۔ ان کے آبا واجداددور مغلیہ میں گاسنا ڈاسنا سے کسی سبب ہجرت کرکے تلہر آبسے تھے۔مغلیہ سلطنت نے انھیں خاصی عزت بخشی تھی اورتصرف کے لیے باغات وغیرہ بھی دے رکھا تھا،لیکن 1857کے غدر میں باغیوں کی اعانت کی پاداش میں ساری چیزیں ضبط کر لی گئیں۔ اختر تلہری کے والد سید اکبر علی ریاست رام نگر کے منیجر تھے۔ان کا انتقال اختر تلہری کے بچپن میں ہی ہوگیا اور والدہ بھی بچپن میں ہی اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ والدین کے انتقال کے بعد پرورش کی ذمہ داری ان کی پھوپھی خورشید بیگم نے سنبھالی۔ جب وہ سن بلوغ کو پہنچے تو ان کے چچا حکیم سید اصغر علی جو کہ خود بھی ایک شاعر تھے اور اصغر تخلص کرتے تھے، بہتر تعلیم کے لیے ان کو اپنے ساتھ لیتے گئے۔خیال تھا کہ مجتہد بنائیں گے۔ اسی بات کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے ابتدائی تعلیم عربی اور فارسی سے شروع ہوئی اور ان کا داخلہ مدرسہ اسلامیہ عین العلم میں کرادیاگیا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے مدرسہ عالیہ رام پور میں داخلہ ہوا۔ جہاں پر ان کا شمار ممتاز طالب علموں میں ہوتارہا۔ رام پور سے فراغت کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے عربی اور فارسی کی اعلیٰ اسناد حاصل کیں۔ 1916 میں مولوی فاضل، 1917 میں درس نظامی اور 1918میں منشی فاضل کا امتحان پاس کیا۔1ہائی اسکول اور انٹر کے امتحانات بھی ساتھ ہی ساتھ پاس کرلیے۔تعلیم مکمل ہوتے ہی ملازمت مل گئی۔ پہلا تقرر 1919 میں گورنمنٹ ہائی اسکول للت پور میں بحیثیت مدرس (عربی وفارسی) ہوا۔ایک سال بعدیعنی 1920میں للت پور سے ٹرانسفر ہوکر گورنمنٹ ہائی اسکول حمیر پور آگئے۔حمیر پور میں چار سال تک پڑھایا، پھر 1924 میں جوبلی انٹر کالج لکھنؤ میں تبادلہ ہوگیا اور وہاں 18 سال کی طویل مدت تک تعلیم دی۔ 1942میں گورنمنٹ ہائی اسکول شاہجہاں پور بھیج دیے گئے۔ 1957 میں شاہجہاں پور سے ہی ریٹائر ہوئے۔ 1947 میں شاہجہانپور کے کلکٹر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ان کی تدریسی خدمات کے عوض ایوارڈ سے نوازا۔ جب 1957 میں اختر تلہری ریٹائر ہوئے تواس وقت تاریخ آزادی ہند لکھی جارہی تھی، جس میں اختر تلہری کو بحیثیت پروجکٹ ریسرچ اسسٹنٹ کے لکھنؤ میں متعین کیاگیا۔ مگر عارضہ چشم میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اس فرض سے سبکدوش ہونا پڑا اور پھر لکھنؤ میں ہی مع اہل وعیال مستقل قیام پذیر ہوگئے۔
اختر تلہری ہمیشہ نزلے کا شکاررہتے تھے اور کام کی کثرت کی وجہ سے رفتہ رفتہ ذہن بھی کمزور ہوتاچلاگیا۔ 1970 میں دل کا پہلا دورا پڑا،جس کی وجہ سے ایک ہاتھ اور ایک پیر مفلوج ہوگیا۔ ابھی اس دورے سے سنبھل بھی ناپائے تھے کہ1971میں پھردوسرا دوراپڑگیا۔ یہ دورااس قدر شدید تھاکہ ڈاکٹروں کی لاکھ کوششوں کے باوجود انھیں بچایا نہ جاسکا اور وہ 21 اپریل 1971 کو دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کر گئے۔ ان کی وصیت کے مطابق ان کی تدفین ان کے آبائی قبرستان مہمندگڑھی میں ہوئی۔2 ان کی نماز جنازہ شیعہ وسنی دونوں ہی طریقوں سے ادا کی گئی۔ آپ کے جنازے میں عقیدت مندوں کی کثیر تعدادموجود تھی۔
مولاناسیداختر علی تلہری ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ ادیب،نقاد، بہترین نثرنگار اور لغت شناس ہونے کے ساتھ ہی ساتھ ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ ان کے اشعار کا کوئی دیوان یا مجموعہ تو موجود نہیں ہے،البتہ ان کے اشعار غزل، نظم اور سلام کی صورت رسالوں میں بکھرے پڑے ہیں۔اگر ان کو اکٹھا کیاجائے تو ایک خاصا مجموعۂ کلام ضرورتیار ہوسکتاہے۔ان کے اشعار کے مختلف رنگ و آہنگ ہیں۔ وہ ایک روشن خیال شاعر تھے اور اسی روشن خیالی کا نتیجہ تھا کہ انھوں نے کبھی بھی سکہ بند شاعری نہیں کی۔ یہاں پر ان کے چند اشعار بطور نمونہ پیش کیے جارہے ہیں تاکہ ان کی فکری اور فنی صلاحیتوں کاقدرے اندازہ لگایا جاسکے۔مختلف غزلوں کے چند اشعار مندرجہ ذیل ہیں۔ ملاحظہ کریں ؂
ہر نفس قید نو ہے میرے لیے
یوں نظر آرہاہوں میں آزاد
یہ مرے ذہن کی شوریدہ مزاجی اختر
اپنے ہی رنگ میں رنگتا ہے وہ یزداں ہی سہی
سبحہ و زنّار میں الجھا ہوا ہے تیر ا ذوق
تو ابھی انسانیت کے رنگ میں کامل نہیں
غزلوں کے علاوہ ان کی نظموں کا بھی اپنا ایک الگ اسلوب ہے۔ بطور مثال ان کی ایک نظم کے دوشعر ملاحظہ کریں ؂
نظر نہیں ہے حقیقت نگر تری ورنہ
بہار میں ہے وہ کیا رنگ جو خزاں میں نہیں
حدیث گردش دوراں ہے دل گداز مگر
فغاں کا ذکر کہیں میری داستاں میں نہیں
اختر تلہری نے غزلوں اور نظموں کے علاوہ’ سلام‘ بھی کہے ہیں۔ایک سلام کے چند اشعار نقل ہیں ؂
دل میں جگہ دے سوزِ مشیت گداز کو
تجھ کو اگر ہے خواہش فیضانِ زندگی
او محوِ نائے و نوش نظر کو بلند کر
دیکھی نہیں ہے تو نے ابھی شان زندگی
تو نے حیات کا ہمیں بخشا نیا نظام
حیدر کی جان اے شہِ مردانِ زندگی
مولاناسیداختر علی تلہری کی اصل دلچسپی نثر نگاری سے تھی۔ان کی نگارشات میں فلسفہ مذہب میں’ابتلائے عظیم‘(1925)، ’شہادت عظمیٰ‘ (1930)، ’مذہبی تصورات‘ (1953)، اور ’علوی تصورات‘(1954) شامل ہیں۔ادبی نگارشات میں ’تنقیدی شعور‘ (1957)، ’شعروادب‘ (1958) اور’مقالات تلہری‘ (1960) کے علاوہ معیاری ادبی جریدوں خاص کرسرفراز،ادب، نگار، الحکیم وغیرہ میں بہت سارے مضامین بکھرے پڑے ہیں۔اگر انھیں اکٹھا کر دیا جائے توادب کے لیے کافی مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔
مولانا سید اختر علی تلہری ایک غیر معمولی صلاحیت کے مالک تھے۔ ان کے لیے مشہور یہ تھا کہ وہ ترقی پسند تحریک کے مخالفوں میں ہیں۔ جبکہ یہ خیال درست نہیں ہے۔ اصلاًوہ قدامت پسندی سے دور تھے اور ادب کے تمام گوشوں پر ایک روشن فکر رکھتے تھے۔ ان کی طبیعت میں اعتدال تھا۔اسی سبب انھیں افراط و تفریط سے دوری تھی اور اگر کوئی ادیب کسی مسئلے پر افراط و تفریط کا شکار ہوجائے، چاہے وہ ان کا محبوب سے محبوب تر ادیب و شاعر ہی کیوں نہ ہو،اس پر اعتراض کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ اسی لیے ان کے زیادہ تر مضامین کی کیفیت ادیبوں کے افراط و تفریط کا جواب ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی ان کے مجموعہ مضامین ’تنقیدی شعور‘ کا مضمون ’حالی اور پیروی مغربی‘ ہے۔ ’حالی اور پیروی مغربی‘ کافی اہم مضمون ہے جس میں اختر تلہری نے خواجہ الطاف حسین حالی کے مندرجہ ذیل شعر میں ’پیروی مغربی‘ کی وضاحت بڑی خوبی کے ساتھ کی ہے۔حالی کا مشہور زمانہ شعر ؂
حالی اب آؤپیروی مغربی کریں
بس اقتدائے مصحفی و میرکرچکے
اصل میں اس شعر میں لفظ ’پیروی مغربی‘ کے سلسلہ میں 5 ستمبر 1948 کے صداقت (لکھنؤ )میں پروفیسر احتشام حسین نے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ’پیروی مغربی‘ سے مغربی ادب اور مغربی خیال کے سوا اور کوئی چیز مراد نہیں ہوسکتی۔ اسی کے جواب میں اختر تلہری نے اس خیال کی تردید کی اور بڑا ہی راسخ خیال اپنی دلیلوں کے ساتھ رکھا۔ اختر تلہری کا ماننا ہے کہ اس شعر میں ’پیروی مغربی‘ سے مغربی خیال کی پیروی مرادنہیں ہے بلکہ ایک ایرانی نژاد صوفی شاعر شیریں تبریزی المتخلص بہ مغربی گذرا ہے۔ اس شعر میں حالی اسی شاعرکی پیروی کی بات کررہے ہیں۔ جبکہ مولانا اختر علی تلہری نے اس مضمون میں مغربی شاعروں سے حالی کے متاثر ہونے کی بھی بات مضمون کے شروع ہی میں قبول کی ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’ مجھے اس بارے میں ذرا بھی شک نہیں ہے کہ اپنی عمر کے آخری حصے میں سر سید کے اثر سے حالی بھی مغربی ادب و شعر سے اچھے خاصے متاثر ہوگئے تھے۔ انھوں نے اپنی شاعری کا محور بدل دیاتھا۔‘‘3
مولانا اختر علی تلہری ما قبل کے اقرار نامے کے باوجود ’پیروی مغربی‘ سے مرادایرانی صوفی شاعر ’مغربی‘ کی ہی پیروی کو مانتے ہیں۔ اس کے ثبوت میں وہ چند دلیلیں بھی رکھتے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’میں جہاں تک اس شعر کے انداز بیان، نشست الفاظ اور اسلوبِ خیال پر غور کرتا ہوں مجھے اس کا یقین بڑھتا جاتاہے کہ حالی نے اس شعر میں کوئی ایسی بات نہیں کہی ہے جس کے سمجھنے کے لیے فلسفیانہ نظریات کا سہارا لینے کی ضرورت ہو بلکہ یہ سیدھی سادی سی بات کہی ہے کہ ہم بوالہوسی کے سوتے سے جو کیفیتیں اور جذبے پھوٹتے ہیں انھیں کی ترجمانی کرتے رہے، آؤ ! اب وارداتِ ہوس کی تصویر کشی سے کنارہ کریں اور اس عشق حقیقی کی دنیا میں قدم رکھیں جہاں پاکیزگی ذرّے ذرّے میں لہریں لیتی ہے۔ اس خیال میں کوئی خاص شاعرانہ ندرت نہیں ہے۔ عشق مجازی کے کاکل و گیسو میں الجھے ہوئے بہت سے شاعروں میں بوالہوسی سے نفرت پیدا ہوئی ہے اور انھوں نے مختلف پیرایوں میں اسے ادا کیاہے۔ اس شعر میں تازگی اسلوب بیان کے راستے سے آئی ہے۔ عشق مجازی کا نمائندہ مصحفی ومیر کو قرار دیاگیا۔ اس لیے کہ ان کی شاعری کا غالب حصہ مجازی حسن وعشق کے زلف وگیسو ہی کو الجھاتا اور سلجھاتا رہاہے اور عشق حقیقی کا نمائندہ ایران کے مشہور صوفی شاعر شیریں تبریزی المتخلص بہ مغربی کو قرار دیاگیا۔ اس لیے کہ تصوف کے ایک خاص الخاص نظریے کے آستانے پر اس کی شاعری کی جبین عقیدت ہمیشہ جھکی رہی۔‘‘4
اس سلسلہ کی دوسری توجیہہ میں اختر تلہری کا خیال ہے کہ اگر اس شعر میں ’پیروی مغربی‘ سے مغرب کی پیروی مان لی جائے تو حالی جیسے قادر الکلام شاعر پر نفسیاتی الجھن کے تحت غلط ترکیبوں کے استعمال کا الزام آئے گااور ایسا حالی جیسا شاعر نہیں کرسکتا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’حالی کے مذکورہ بالا شعر کے اس ٹکڑے ’پیروی مغربی‘ میں ’مغربی‘ سے مراد قطعاً ایران کا مشہور شاعر شیریں تبریزی ہی ہے اور یہ کوئی بڑا ادق معمائی مطلب بھی نہیں ہے۔ جو لوگ ’مغربی‘ سے متعارف ہیں ان کا ذہن فوراً اس طرف منتقل ہوگا، البتہ جولوگ مغربی سے آشنا نہیں ہیں، ہوسکتا ہے کہ ان کا ذہن مغربی شاعر کی طرف منتقل نہ ہو مگر اسی کے ساتھ یہ بات بھی ضروری ہے کہ اگر انھیں اردو کے صرفی ونحوی نکات اور اس کی عبارتی ترتیب کے ڈھانچوں کے انداز سے واقفیت ہے تو ان کے سلیقۂ شعر فہمی کو اس مقام پر ٹھٹک جانا چاہیے کیونکہ حالی کا سا قادرالکلام شاعر ’پیروی مغرب‘ کی جگہ ’پیروی مغربی‘ استعمال نہیں کرسکتا۔‘‘5
اسی سلسلہ گفتگو میں اختر تلہری حالی کے اردو الفاظ کے تصرفات کا دائرہ وسیع مانتے ہوئے،ان کے تصرفات کے دائرے کی بھی نشاندہی کردیتے ہیں تاکہ کسی کو کسی اعتبار کا کوئی شبہ باقی نہ رہ جائے۔چنانچہ اسی سلسلہ تحریک میں لکھتے ہیں:
’’مولانا حالی کے نزدیک اردو کے تصرفات کا دائرہ اچھا خاصا وسیع ہے مگر اس کے ساتھ یہ بھی تو ہے کہ حالی انھیں غلط الفاظ کے استعمال کی اجازت دیتے ہیں جو خاص وعام دونوں زبانوں پر جاری ہوجائیں۔
عوام اور جہلا کی زبان پر جو غلط لفظ جاری ہوگئے ہیں ان کے جواز کے قائل نہیں ہیں۔ ’مزاج‘ کو ’مجاز‘۔ ’نسخہ‘ کو ’ نخسہ‘ کہنا ان کے نزدیک بھی غلط ہے۔ ایسی حالت میں وہ ’مغرب‘ کی جگہ یا ’مغربی شاعری‘ کی جگہ ’مگربی‘ استعمال کریں،محال تو نہیں لیکن بہت ہی مستعبد امر ہے۔‘‘6
’پیروی مغربی‘ کی تیسری اور آخری توجیہ میں اختر تلہری نے ’مقدمہ دیوان‘ سے حالی کی ہی تحریر کا سہارا لیا ہے جس میں حالی نے سعدی، رومی، حافظ، عراقی، جامی، احمد جامی کے ساتھ مغربی کا ذکرکرتے ہوئے ان شعرا کو عشق الٰہی کا راگ گانے والا اور اہل اللہ کہاہے۔ ’مقدمہ دیوان‘کا اقتباس یہ ہے :
’’غزل کو جن لوگوں نے چمکایا اور مقبول خاص وعام بنایاہے، یہ وہ لوگ تھے جو آج تک اہل اللہ اور صاحب باطن یا کم سے کم عشق الٰہی کا راگ گانے والے سمجھے جاتے ہیں جیسے سعدی، رومی، خسرو، حافظ، عراقی، مغربی، احمد جام اور جامی وغیرہم۔‘‘7
اقتباس بالا کے نقل کرنے کے بعد اختر تلہری لکھتے ہیں کہ’’ اگر اہل ذوق نظر ڈالیں گے تو انھیں اس کے تسلیم کرنے میں کوئی تامل نہ ہوگا کہ ’پیروی مغربی‘ سے مراد ’مغربی‘ شاعر ہی ہے۔‘‘
اختر تلہری کی تنقید نگاری میں ادبی دیانت کا خاصہ ہے۔ وہ اپنی تحریروں میں اعتدال کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ان کی تحریریں ناقدین میں ایک نیا رنگ انقلاب بھرنے کا کام کرتی ہیں اور ایک عالمانہ اور حکیمانہ ادبی شعور بھی بخشتی ہیں۔علی عباس حسینی ان کی تحریروں کے سلسلہ میں لکھتے ہیں:
’’ان کی تحریر میں استدلال وتفکر انشا پردازی کی صوری خوبیوں سے چولی دامن کی طرح ہمکنار ہیں۔ وہ نئی نئی ترکیبیں ایجاد کرنے اور اچھوتے فقرے تراشنے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ ان کا ادبی مذاق بہت ہی سلیم، سلجھا اور رچا ہوا ہے۔ ان کی نقد کا پورا رنگ نکھرا، ستھرا، خالص، سچا، پر خلوص، مدلل، حق بین اور راست گوہے۔‘‘8
حواشی
(1) انجمن وظیفہ سادات ومومنین رجسٹرڈ کا سلور جبلی نمبر ص104
(2) شمیم مبارک: سخنوران شاہجہانپورص206)
(3) اختر علی تلہری: تنقیدی شعور، ص 196
(4) ایضاً، ص 197 (5) ایضاً، ص 198 
(6) ایضاً، ص 198 (7) ایضاً، ص 200 
(8) (علی عباس حسینی از مقدمہ ’شعروادب‘
n
Syed Abu Zar Ali
Research Scholar, Dept of Urdu
BHU, Varanasi - 221005 (UP)





قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

اردو کی اولین نسائی آواز: رشیدۃ النساء بیگم. مضمون نگار:۔ رخسار پروین





اردو کی اولین نسائی آواز: رشیدۃ النساء بیگم

رخسار پروین


1857 کی جنگ آزادی جسے غدر کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے برصغیر ہند و پاک کا ایک عظیم واقعہ ہے جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی اور اس جنگ آزادی میں مغلوں کی آٹھ سو سالہ حکومت کا خاتمہ ہو گیا جس کے سبب عوام و خواص کی زندگی بے حد متاثر ہوئی اور ہندوستانیوں کے زوال کا آغاز ہوا۔ انیسویں صدی کے ہندوستانی سماج کا جائزہ لینے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستانی سماج اپنی بے حسی اور بے عملی کے سبب تنزلی کا شکار اور مغربی سماج اپنی بیداری کے سبب ترقی کی راہ پر گامزن ہوا۔ غرض یہ کہ انیسویں صدی کا زمانہ ہندوسان کی مفلوک الحالی کا زمانہ تھا۔ اس دور کے ہر طبقے کی حالت ابتر تھی، اس سماج کا ہر طبقہ مرد ہو یا عورت، بداخلاقی، جہالت، بدعنوانی اور ریاکاری کا مرقع تھا۔ بے حیائی، غلط رسم و رواج غرض یہ کہ تمام طرح کی برائیاں اس عہد میں رائج تھیں۔ جہالت کا دور دورہ تھا اور تعلیم محض امیروں اور رئیسوں کی جاگیر تھی۔ غریب اور نچلے طبقے خصوصاً عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں تھا۔ اگر اس دور کی عورت کا تصور کیا جائے تو گھر کی چار دیواری میں مقید علم و عقل سے بے بہرہ اور زندگی کے مسائل سے بے خبر اور محض دوئم درجے کی مخلوق نظر آتی ہے۔ سماج میں ہندو مسلم خواتین ذلت و رسوائی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھیں۔ ان کو مرد اساس سماج میں اپنے کوئی حقوق حاصل نہ تھے۔ مردوں کو دیوتا بنا کر پوجنا، ان کی خواہشات پوری کرنا اور ان کے مرنے کے بعد ستی ہو جانا (یعنی چتاؤں کے ساتھ جل جانا) ہی ان کی قسمت تھی۔ا یک طرف جہیز کی لعنت نے جہاں اس کی زندگی کا دائرہ تنگ کیا وہیں ستی کی رسم نے عورت سے جینے کا حق بھی چھین لیا۔ بیوہ عورت کی زندگی تمام رنگوں اور خوشیوں سے خالی تھی اور بے چارگی کی زندگی اس کا نصیب بن جاتی تھی۔ نہ وہ دوسری شادی کر سکتی تھی اور نہ کسی کی شادی اور خوشیوں میں شامل ہو سکتی تھی۔ غریب خاندان کی عورتیں محنت، مزدوری کر کے گھر کے اخراجات پورے کرتیں اور مرد محض مے نوشی اور جواخوری میں بدمست رہتا اور اس کے باوجود بھی وہ عورتوں پر ظلم و ستم کرنے کے لیے آزاد تھا گویا کہ یہ اس کا عینی حق تھا۔ ڈاکٹر تاراچند ’’تاریخ تحریک آزادی ہند‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ولیم برفورس لندن کی پارلیمنٹ میں جون 1813 کی رپورٹ میں ہندوستان کے متعلق کہتا ہے:
’’ہمارا مذہب ارفع و اعلیٰ پاکیزہ اور اچھا ہے ان (ہندوستانیوں) کا مذہب رکیک، عیاشانہ اور ظالمانہ ہے.... اس دوران (1793 سے 1813) جو کچھ سنا اور پڑھا ہے اس نے ہندوستان کے متعلق برے خیالات میں اضافہ کر دیا ہے۔‘‘
(تاریخ تحریک آزادی ہند، از ڈاکٹر تاراچند، جلد دوم، صفحہ206) 
اس طرح مختلف تاریخ نگاروں نے اس دور کی عورتوں کے حالات اور ان کے مسائل کی تصویر کشی کی ہے۔ ڈاکٹر تارا چند خود لکھتے ہیں:
’’ان (ہندوستانی مردوں) کے نزدیک عورت کھیلنے کے لیے ایک گڑیا تھی اور انسان کی شہوت کو آسودہ کرنے کا ایک ذریعہ، وہ اپنی خود انفرادی شخصیت رکھنے والی ہستی نہ تھی۔ اس لیے صحیح محبت کی چیز نہیں بن سکتی تھی۔‘‘(جلد اول، صفحہ274)
عورت کے ہر عمل اور سوچ پر مرد کی اجارہ داری ہوتی تھی اور یہی نہیں بلکہ تعلیم شعور و آگہی حاصل کرنے کو عورتوں کی آوارگی اور بدکرداری سے جوڑا جاتا تھا۔ اس دبی کچلی بے چاری عورت کی زندگی کا واحد مقصد محض بچے پیدا کرنا اور بچوں کی تربیت کرنا تھا۔ اس وقت بال وواہ (cky fookg) کی رسم عام تھی- ہوش سنبھالنے سے پہلے بے چاری بچے سنبھالتی نظر آتی تھی۔ عورت کے منفی روپ اور اس کے متعلق یک طرفہ تصورات انیسویں صدی تک محدود رہے اور کیا پتہ کب تک محدود رہتے لیکن 1857 کے انقلاب کے بعد انگریزوں نے برصغیر ہند و پاک پر باقاعدہ قبضہ کر لیا اور یہ ایسا انقلاب اور اتنا بڑا سانحہ تھا کہ اس سے پہلے رونما نہ ہوا تھا۔ چنانچہ آہستہ آہستہ زمانے میں نئے تغیرات، نئی تہذیب، نئے حالات، نئی شورش، نئے احکامات اور نئی مشکلات رونما ہوئیں۔ یہ بہت بڑی تبدیلی تھی اور ایک بڑے انقلاب کا پیش خیمہ بھی۔ اس جنگ آزادی کے بعد ہندوستان میں جدید مغربی تہذیب و تمدن کا آغاز ہوا اور زندگی نے اس نئے ماحول میں نئی کروٹ بدلنی شروع کی۔
چنانچہ حالات کے تقاضے کے تحت اور بدلتے ماحول کا سامنا کرنے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت تھی اور چونکہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے لہٰذا اس ضرورت نے ایسی پرآشوب گھڑی میں بہت سی عظیم شخصیات و رہنماؤں کو جنم دیا جنھوں نے اس بدلتے ہوئے ماحول کو محسوس کیا اور نئے حالات سے نپٹنے کے لیے مختلف تجاویز کیں اور قوم کو نئی راہوں پر گامزن کیا۔ ان رہنماؤں میں سرسید احمد خاں، راجہ رام موہن رائے، دیانند سرسوتی، ایشور چندودیا ساگر، گاندھی جی اور ولزلی کے نام قابل ذکر ہیں جنھوں نے اپنی مساعی سے اصلاحی تحریکوں کو جنم دیا اور ملک و قوم میں شعور و بیداری پیدا کی۔راجہ رام موہن رائے نے ’’ستی‘‘ کی رسم کے خلاف آواز اٹھائی تو دیانند سرسوتی نے ہندو مذہب کے احیاء کے لیے اپنے خیالات و نظریات کا اظہار کیا۔ سرسید نے تعلیم نسواں کا نعرہ بلند کیا اور ہندوستان کی شناخت قائم رکھنے کے لیے عورتوں کی تعلیم اور شعور و بیداری پر زور دیا۔ اسی طرح ایشور چندو دیا ساگر نے بیوہ عورتوں کی دوبارہ شادی کرانے کی پرزور حمایت کی اور مہاتما گاندھی اور وویکانند نے عورتوں کی آزادی کی بات کی اور ’’بال وواہ‘‘ یعنی کم عمر میں لڑکیوں کی شادی کی مخالفت بھی کی ۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ان رہنماؤں نے اپنی اصلاح کے ذریعہ ہندوستان میں پھیلی ہوئی ایسی تمام برائیوں کو ختم کرنے کی کوشش کیں اور ان میں شعور و بیداری کا احساس پیدا کیا۔
اس طرح مختلف تحریکوں نے ہندوستان میں تعلیمی، معاشی، معاشرتی اور سیاسی تبدیلیاں پیدا کیں اور آہستہ آہستہ انگریزی تہذیب و تمدن نے معاشرے کو تیزی سے تبدیل کرنا شروع کر دیا۔ عورتوں کے حقوق آزادی اور تعلیم نسواں وقت کی اہم ضرورت بن کر ادب کا موضوع بنے۔ 
سرسید تحریک کے ایک اہم رکن مولوی نذیر احمد نے سب سے پہلے عورتوں کے حوالے سے ایسے ادب کا آغاز کیا جس میں عورتوں کی تعلیم و تربیت کے متعلق بات کی جائے۔ چنانچہ اسی مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے 1869 میں اپنا پہلا ناول ’’مراۃ العروس‘‘ لکھا جس میں اصغری اور اکبری کے حقیقی کرداروں کے ذریعہ عورتوں کی اصلاح کا کام لیا گیا۔ حالی نے ’’مجالس النساء‘‘ دو جلدوں میں لکھی اس کے علاوہ بھی بہت سے ناول لکھے گئے جن میں عورتوں کی تعلیم، مشہور و معروف علوم کے متعلق بنیادی باتیں، خواتین کے مسائل و توہمات اور رسم و رواج کی اصلاح پر خصوصی توجہ دی گئی۔
بلاشبہ یہ اردو کے اولین قصے تسلیم کیے جاتے ہیں جس میں عورتوں کے مسائل پیش کیے گئے اور اصغری و اکبری اور مریم زمانی جیسے نسائی کرداروں پر ان کی عمارت تعمیر کی گئی۔ خصوصاً نذیر احمد کے ناولوں نے عورتوں کی تعلیم وتربیت اور اصلاح میں نہایت اہم رول ادا کیا جس نے آگے چل کر عورتوں میں بھی ایک نئی بیداری اور شعور پیدا کیا جس کی بنیاد پر ان میں اظہار کی مختلف پنہاں صورتیں نمایاں ہوئیں۔ اور اب عورتوں نے خود بھی اپنے مسائل باقاعدہ طور سے پیش کرنے شروع کر دیے۔ چنانچہ نذیر احمد نے عورتوں کی وکالت کا جو کام شروع کیا اسے اب خود عورتوں نے شروع کر دیا جس کے ذریعہ نئے نئے مسائل و موضوعات نمایاں ہوئے اور مختلف قصے اردو ادب کی زینت بنے۔
اردو ادب میں بہ حیثیت خاتون ناول نگار رشیدۃ النساء بیگم نے اپنا ناول ’’اصلاح النساء‘‘ پیش کیا۔ یہ پٹنہ صوبہ بہار سے تعلق رکھتی تھیں۔ رشیدۃ النساء اردو کی پہلی باقاعدہ ناول نگار تسلیم کی جاتی ہیں۔ انھوں نے اردو ادب کا پہلا معاشرتی، اصلاحی اور مقصدی ناول لکھا جو کہ 1894 میں منظر عام پر آیا ۔مصنفہ نے اس ناول کے دیباچے میں ذکر کیا ہے کہ اس کا مسودہ تیرہ برس یوں ہی پڑا رہا۔ اس لحاظ سے اس کا سن تصنیف1881 شمار کر سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ زمانہ ایسا تھا جہاں عورتوں کا پڑھنا لکھنا معیوب سمجھا جاتا تھا اس لیے ان کے لیے اپنی کہانیوں کو چھپوانا ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔ خاص طور سے مسلم معاشرے کی شہزادیوں کے لیے نام ہی کیا آواز تک کا پردہ ہوا کرتا تھا۔ ایسے ماحول میں انھوں نے پہلے پہل لکھنا شروع کیا اور ’’اصلاح النساء‘‘ میں اپنا تعارف اصل نام کے بجائے اس طرح کرایا ہے: ’’والدہ محمد سلیمان بنت سید وحیدالدین خاں و ہمشیرہ امداد امام اثر‘‘ بعض محققین نے ان کا دوسرا نام خدیجۃ الکبری بھی بیان کیا ہے۔ رشیدۃ النساء اردو کے مشہور و معروف محقق امداد امام اثر کی بہن تھیں۔
’’اصلاح النساء‘‘ مسلم گھرانوں میں پھیلی برائیوں اور مسلمان خواتین کی اصلاح کے لیے ہی تحریر کیا گیا۔ یہ ایک مقصدی ناول ہے جس کا خاص مقصد مسلم معاشرے میں پھیلی ہوئی غلط اور لغو رسم ورواج توہمات اور روایات و حکایات کی اصلاح و انسداد تھا۔ بلاشبہ یہ ناول مولوی نذیر احمد کے ناول ’’مراۃ العروس‘‘ سے متاثر ہو کر اور اس کی پیروی میں لکھا گیا لیکن اس ناول کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں عورت کی جدوجہد کو گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ عورتوں کی بیداری اور حقوق کی بھی بات کی گئی ہے۔ نذیر احمد کے اعتراف میں ایک جگہ رشیدۃ النساء لکھتی ہیں:
’’اللہ مولوی نذیر احمد کو عاقبت میں بھی بڑا انعام دے۔ ان کی کتاب پڑھنے سے عورتوں کو بڑا فائدہ پہنچا۔ جہاں تک ان کو معلوم تھا انہوں نے لکھا اور اب جو ہم جانتے ہیں اس کو انشاء اللہ تعالیٰ لکھیں گے۔ جب اس کتاب کو لڑکیاں پڑھیں گی تو مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ سب اصغری ہو جائیں گی۔ شاید سو میں سے ایک اپنی بدقسمتی سے اکبری رہ جائے تو رہ جائے۔‘‘
بے علمی کے سبب مسلم معاشرے میں غلط رسم و رواج، شرک و بدعت اور بری رسومات وروایات پیدا ہو چکی تھیں ان سے خواتین کا طبقہ زیادہ شکار ہو رہا تھا۔ خصوصاً مسلمان گھرانوں کی عورتیں گمراہی کی حد تک جا پہنچی تھیں۔ اس وقت سماج میں جو بدلاؤ ہو رہے تھے خصوصاً نئی تعلیم، ٹکنالوجی اور نئی روشنی کی بدولت سماج میں جو تبدیلی ہو رہی تھی اس سے مرد طبقہ تو براہ راست مستفیض ہو رہا تھا لیکن عورتیں جو گھر کی چاردیواری میں مقید تھیں اس نئی روشنی سے بے خبر تھیں ان کو یہ موقع نہ ملا تھا۔ لہٰذا رشیدۃ النساء بیگم نے عورتوں کے تمام مسائل اور خامیوں پر مبنی ناول ’’اصلاح النساء‘‘ لکھ کر ان عورتوں کی اصلاح کی کامیاب کوشش کی۔ غالباً رشیدۃ النساء نے نذیر احمد کی طرز پر ہی اپنے ناول میں مقصدیت کو پیش نظر رکھا اور کرداروں کو بھی اپنے مقصد کے مطابق دو حصوں میں تقسیم کر دیا یعنی خیر و شر کے زمرے میں، ایک حصہ بے انتہا خوبیوں کا مالک بن گیا اور دوسرا سراسر خامیوں سے لبریز۔ ایک طبقہ ترقی پسند اور دوسرا رجعت پسند بن کر سامنے آیا۔ مثلاً امتیاز الدین کی والدہ اور گھر والے فرسودہ رسوم و روایات کو حقارت کی نگاہوں سے دیکھتے جبکہ دوسری طرف بسم اللہ کا خاندان ہر طرح کی بدعات و شرک میں مبتلا ہوتا ہے۔ چونکہ مصنفہ کو رجعت پسندی کو غلط اور برا ثابت کرنا ہے اسی لیے انھوں نے یہ نقشہ کھینچا ہے کہ بسم اللہ اور اس کی والدہ زمانے بھر کی ٹھوکریں کھانے کے بعد اور اپنے ہاتھوں پیدا کیے ہوئے برے اور ناخوش گوار حالات سے گھبرا کر بالآخر شر سے خیر کی جانب مراجعت کرتی ہیں۔ رشیدۃ النساء بیگم کا کہانی لکھنے کا یہ انداز نذیر احمد کے جیسا ہی ہے۔ یہاں اس قصے کے کرداروں کے نام بھی نذیر احمد کے انداز بیان سے کافی مماثلت رکھتے ہیں، مثال کے طور پر محمد واعظ، اشراف النساء وغیرہ۔ ان بنیادی خامیوں کے باوجود بھی رشیدۃ النساء کا یہ ناول فنی طور پر نذیر احمد کے ناولوں سے کہیں زیادہ بہتر درست اور بھروسے کے لائق ہے کیونکہ مولوی نذیر احمد کے ناولوں میں محض سادہ و سپاٹ قصے اور وعظ و نصیحت کے علاوہ کسی طرح کی کوئی تہذیبی و معاشرتی منظر کشی نہیں ملتی جبکہ رشیدۃ النساء کے یہاں اس زمانے کی مکمل منظر کشی خصوصاً نسوانی زندگی کے ہر پہلو کی ماہرانہ و فنی طور پر زور بیان اور قوت مشاہدہ کے ساتھ منظر کشی کی گئی ہے جس کی داد دیے بغیر قاری آگے نہیں بڑھ سکتا۔ علی الخصوص یہ ان کی فنی مہارت اور قوت مشاہدہ کا بہترین نمونہ ہے اور اسی سے متاثر ہو کر اردو کے مشہور و معروف نقاد پروفیسر وقار عظیم نے نذیراحمد کے ناول ’’مراۃ العروس‘‘ پر رشیدۃ النساء کے قصے ’’اصلاح النساء‘‘ کو فوقیت دی ہے۔
’’اصلاح النساء‘‘ اس دورکا ایسا ذخیرہ و گنجینہ ہے جس میں زمانے کی خصوصاً عورتوں کی تمام اوہام اور رسوم و روایات کا ذکر مکمل طور پر پیش کیا گیا ہے۔ رشیدۃ النساء کی گھریلو زندگی پر بہت گہری نظر تھی اور اسی لیے انھوں نے اس ناول میں اپنے مشاہدات و تجربات سے پورا پورا فائدہ اٹھایا ہے اور بہترین منظر کشی کی ہے اور کردار نگاری و جزئیات نگاری کی ایسی شاندار مثال پیش کی ہے کہ نذیر احمد کا ناول بھی اس کے سامنے پھیکا نظر آتا ہے۔ انھوں نے کرداروں کو ایک اچھا نمونہ بنا کر پیش کیا ہے۔ نذیر احمد کے کردار آئیڈیل، غیر حقیقی اور جامد ہوتے ہیں جبکہ رشیدۃ النساء کے کردار حقیقت پر مبنی اور سماج کے جیتے جاگتے افرادہیں۔ امتیاز الدین کا کردار ہیرو کا ہے اور عورتوں کے کردار میں بسم اللہ اور وزیرن پوری کہانی میں چھائی ہوئی ہیں۔ دوسری جانب لاڈلی اور سردار دلہن کے کردار کے ذریعہ انھوں نے اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کی ہے اور انھیں کرداروں نے اس ناول کو کامیابی سے سرفراز کیا ۔ ان کے کرداروں میں زندگی کی حرکت اور چہل پہل ملتی ہے۔ اسی طرح نچلے طبقے کے مختلف کردار ہیں جو اس ناول کی رونق ہیں جن کے ذریعہ کہانی اپنے انجام تک پہنچتی ہے مثلاً دھوبن، مامائیں، چوڑی والی، پنڈت اور ملا، کمہارن، تیلن باجے والی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ناول کا سب سے اہم اور پُرجوش کردار وزیرن کا ہے جس کے ذریعہ مصنفہ نے اس عہد میں پھیلی ہوئی غلط رسومات، توہمات اور واہیات رسموں کی بھرپور عکاسی کی ہے۔ یہ کردار خرافات، بیہودہ باتوں، واہیات رسموں، ٹونہ ٹوٹکے اور تعویذ گنڈوں کے امید و بھروسے زندہ نظر آتا ہے۔ ناول میں وزیرن کا کام غیر تعلیم یافتہ اور توہم پرست عورتوں کو بہکا کر جھوٹے فقیروں و پیروں کے پاس لے جا کر ان سے پیسے حاصل کرنا ہے۔ لہٰذا اس کردار کے ذریعہ مصنفہ نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ کہ کس طرح غریب جاہل عورتوں کو بہلا پھسلا کر انھیں غلط رسومات میں مبتلا کر دیا جاتا تھا جس کی انھوں نے مذمت بھی کی ہے اور اصلاح بھی۔ وہ ترقی پسند خیال کی حامل تھیں اور سماج میں پھیلی برائیوں کو دور کرنا چاہتی تھیں۔ عورتوں کو تعلیم یافتہ بنانا چاہتی تھیں تاکہ وہ جہالت اور فرسودہ رسومات سے خود کو بچا سکیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ ہمارے معاشرے کی عورتوں میں موجود ان تمام خرابیوں اور برائیوں کا اصل سبب ان میں تعلیم کی کمی ہے جس کی وجہ سے معاشرہ غلط عقائد و نظریات اور غلط رسومات و توہم پرستی میں مبتلا ہوتا جا رہا ہے۔ لہٰذا انہیں برائیوں کو دور کرنے کے لیے وہ عورتوں کو تعلیم یافتہ کرنا چاہتی تھیں اور اس میں وہ بڑی حد تک کامیاب بھی ہوئیں اور رشیدۃ النساء کے انہیں تعلیمات نے عورتوں اور لڑکیوں میں جہالت سے دور رہنے اور تعلیم کے حصول کی ایک جرأت و دلیری کے ساتھ ساتھ حوصلہ افزائی بھی کی ہے۔
’’اصلاح النساء‘‘ میں رشیدۃ النساء نے جہیز پر بھی لعن طعن کی ہے اور اس کی پرزور مخالفت کی ہے جو اس زمانے کے لحاظ سے ایک عورت کے لیے بہت ہی دلیرانہ اور جرأت مندانہ قدم تھا، لیکن انھوں نے کسی کی پرواہ کیے بغیر اپنا قلم اٹھایا اور تیکھا طنز کیا۔اس کے علاوہ دیگر فرسودہ رسومات و روایات اور شرکت و بدعت پر بھی گہرا طنز کیا ہے۔ علاوہ ازیں زمانے میں پھیلی دیگر برائیوں اور بہت سی حرکتوں کو غیر اسلامی قرار دے کر پند و نصیحت کے ذریعہ اصلاح کی مکمل کوشش کی ہے مثال کے طور پر ایک گیت کے کچھ بول پیش کیے جا رہے ہیں جو شادی بیاہ کے موقع پر گائے جاتے تھے جس میں شرک کے کلمات جابجا ملتے ہیں اور اس پر کتنی خوبی سے انھوں نے طنز و اصلاح کی ہے:
اللہ میاں کا چہرا رنگ بھرا
میں تو دیکھت ہوں گی نہال
اے بے نیاج مجھ پر رحم کرو
کچھ رحم کرو کرم کرو
میرے پروردگار مجھ پر رحم کرو
کوٹھے بیٹھے اللہ میاں
چھجّے بیٹھے اللہ میاں
پھر سہرا باندھے اللہ میاں
کنگنا باندھے اللہ میاں
اس دور میں یہ گیت شادی کے موقع پر گایا جاتا تھا اور اس کے خلاف کسی کو بولنے کی جرأت نہ ہوتی تھی لیکن مصنفہ کا یہ کمال ہے کہ انھوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ دھیمے لہجے میں ایک کردار کے ذریعہ اس کی یوں مذمت کی ہے اور لوگوں کی اصلاح کی ہے۔ ناول کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ طبقۂ نسواں کی اصلاح سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں عورت کے مختلف رنگ و روپ، منفی و مثبت افکار و نظریات کے پیش نظر مصنفہ نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ بغیر تعلیم یافتہ عورت گھر اور سماج کوجہنم بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی اس لیے عورت کا تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ جہالت و گمراہی کے سبب جب عورت برائیوں میں گھر جاتی ہے تو اس کے زیر سایہ پرورش پانے والی نسل بھی اسی سے متاثر ہو کر ایک برے معاشرے کی تشکیل کرتی ہے۔ چنانچہ انھیں عیوب و نظریات کے پیش نظر انھوں نے اپنا یہ اصلاحی اور مقصدی ناول اصلاح النساء لکھا جس کے ذریعہ معاشرے کی عورتوں کی اصلاح ہو اور وہ صحیح راہ پر گامزن ہو سکیں۔
مختصراً یہ ناول ’’اصلاح النساء‘‘ اپنے عہد کی معاشرتی حقیقت پر مبنی ہے۔ ہر چند کہ اس کی بنیاد نذیر احمد کے ناولوں پر رکھی گئی اور اس کی اتباع میں لکھا گیا لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ ناول نذیر احمد کے ناولوں سے زیادہ معتبر و مؤثر ہے۔ ’’اصلاح النساء‘‘ گویا طبقۂ خواتین کے پندو نصیحت اور اصلاح و شعور کا ایک مؤثر سبب بنا۔ یہ ناول اس عہد کی بہترین تخلیق ہے جس میں مصنفہ نے علم ، شعور و آگہی کی اہمیت او رعظمت کو عیاں اور آشکار کرنے کی جدوجہد کی ہے۔ اس طرح رشیدۃ النساء بیگم نے اپنے اس ناول کو مشعل بنا کر عورتوں میں علم کی روشنی پھیلانے کی سعی کی اور علم کے فائدے و نقصانات پر بھی روشنی ڈالی ہے چنانچہ پہلی مصلح خاتون ہونے کا سہرا انہیں کے سر ہے۔

Rukhsar Parveen
Research Scholar
Department of Urdu

University of Allahabad -211002 (U.P)




قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

بدھ، 28 نومبر، 2018

منیر شریف کی چھوٹی بڑی درگاہوں کی تاریخی اہمیت۔ مضمون نگار۔ مہتاب جہاں






منیر شریف کی چھوٹی بڑی درگاہوں کی تاریخی اہمیت

مہتاب جہاں

2014  میں پٹنہ جانے کا اتفاق ہوا۔ پٹنہ ویسے تو کئی بار گئی ہوں مگر اس دفعہ کئی مشہور و معروف جگہوں کی زیارت کی اور پٹنہ کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ان معروف جگہوں میں بہار شریف، پھلواری شریف، نالندہ کے کھنڈرات، پٹنہ یونیورسٹی،پٹنہ کالج، مخدوم جہانیاں کا مقبرہ جسے مخدوم کنڈ بھی کہاجاتا ہے۔ کماؤ، گول گھر، تارا منڈل یہ تمام جگہیں دیدنی ہیں اور بہارکی تاریخ میں اہم حیثیت سے جانی اور پہچانی جاتی ہیں، ایک جگہ جس نے اپنی طرف ایک خاص وجہ سے توجہ مبذول کرائی وہ مقدس و پاک جگہ تھی۔’منیر شریف‘ اور اس میں واقع چھوٹی اور بڑی درگاہیں۔ چھوٹی درگاہ کو دیکھ کر ایک عجیب و غریب کیفیت اور ایک ہیبت کا عالم طاری ہوتا ہے۔اس عمارت کی عظمت کو سلام کرنے کو جی چاہتا ہے۔ یہ پُرشکوہ عمارت اپنے پورے وقار کے ساتھ اس سرزمین پر ایستادہ ہے۔ اور یہ دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے اور آنکھیں خیرہ کہ کوئی پرسان حال نہ ہونے کے باوجود یہ عمارت صحیح و سالم ہے۔ اس عمارت کی خوبصورتی دل کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور اس عمارت کاجلال و دبدبہ نگاہوں سے پوشیدہ نہیں ہوتا۔ شاید اس کی وجہ وہ پاک روحیں ہیں،جو اس میں دفن ہیں۔ میں دہلی کی رہنے والی ہوں اور یہاں بے شمار مغلیہ اور سلاطین دور کی عمارتیں اپنی پوری شان و شوکت سے دہلی و ہندوستان میں اپنے جلوے بکھیر رہی ہیں۔ خاکسار کو کئی طرح کی عمارتیں دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ مگر نہ جانے کیوں جب بھی بہار جاتی ہوں۔منیرشریف جائے بغیر نہیں رہ سکتی۔ گھنٹوں اس عمارت کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملتا ہے۔ایک بے حد پرسکون اور ویران جگہ پر واقع یہ عمارت اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ کھڑی ہے۔ آس پاس آبادی بھی بسی ہوئی ہے جس نے عمارت کے اطراف کو کافی غلاظت اور گندگی سے آلودہ کیا ہوا ہے۔مگر پھر بھی یہ پاکیزہ جگہ ایک عجیب سا تاثر دل پر چھوڑتی ہے۔یہ عمارت پٹنہ سے 25-30 کلومیٹر مغرب میں نیشنل ہائی وے پر واقع ایک تاریخی شہرمیں ہے جو عہد وسطیٰ میں کافی اہمیت کا حامل رہا ہے۔مگر اس عمارت اور اور منیر شریف کے بارے میں بات آگے بڑھانے سے پہلے یہ لازمی معلوم ہوتا ہے کہ پہلے اس کے تاریخی پس منظر پر نگاہ ڈالی جائے۔
منیر شریف کا تاریخی پس منظر:

صوبہ بہار میں اسلامی حکومت کا آغاز محمد بن بختیار خلجی کی فتوحات سے ہوا۔ لیکن بعض واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ محمد بن بختیارخلجی سے پہلے مسلمانوں نے یہاں قدم جمانا شروع کردیے تھے۔ مقامی روایات کے مطابق منیر کو پہلے سلطان محمود غزنوی کے سپاہیوں نے فتح کیا تاریخ سالار مسعود غازی سے ظاہر ہوتا ہے کہ محمود غزنوی کی وفات سے دو سال پہلے اس کا لشکر اُس کے بھانجے سالار مسعود غازی کی ماتحتی میں ہندوستان آیا۔ مسعود نے سترکھ کے مقام پر قیام کرکے مشرقی علاقوں پر چڑھائی کی۔اکثر راجاؤں نے اکٹھا ہوکر مقابلہ کیا۔ لیکن ان میں بعض ایسے تھے جو پہلے سے سلطان محمود سے تعلق رکھتے تھے۔ اور بعض کا خیال تھا کہ ایک بھاری لشکر مسعود کی مدد کے لیے غزنی سے روانہ ہونے والا ہے۔ بہرحال مسعود نے اکثر راجاؤں کو شکست دے کر ان کی متحد طاقت کو ختم کردیا۔ لیکن بالآخر وہ خود بھی قتل ہوا ور بہرائچ میں دفن ہوا اور اس کے بعد تقریباً 160 سال تک سلاطین غزنین کا کوئی لشکر اس طرف نہیں آیا۔ جن مقامات پر مسعود غازی کے سپاہیوں نے جنگ کی۔اور مقتول ہوکر مدفون ہوئے۔ عام طور سے ایسے علاقے گنج شہیداں کے نام سے مشہور ہیں۔ کڑہ مانکپور کے اطراف، غازی پور، سیوان( ضلع سارن) اور ان کے علاوہ خاص قصبہ منیر میں ایسی جگہ موجود ہے جہاں اس واقعہ کی یادگار میں سالانہ میلاد ہوا کرتا ہے۔ جو ’غازی میاں کے میلے‘کے نام سے مشہور ہے۔منیر کے مخدوم زادوں کے سفینوں سے معلوم ہوتا ہے کہ 1178 میں حضرت تاج فقیہ اور قطب سالار نے راجہ منیر کو شکست دے کر منیر پر قبضہ کیا قطب سالار کا مزار منیر سے دو میل پورب میں موضع مہدواں میں مسجد کے پیچھے میدان میں واقع ہے اس جنگ میں جو مسلمان شریک تھے ان میں 25 آدمیوں کے نام بھی سفینوں میں مذکور ہیں ان سفینوں کی رو سے حضرت تاج فقیہ اور قطب سالار کے آنے سے پہلے ایک مسلمان مومن عارف منیرمیں رہتا تھا جس کو راجہ منیر سخت اذیتیں دیتا تھا۔ مومن نے اس راجہ سے تنگ آکر مدینہ کی راہ لی اور وہاں جاکر حضرت تاج فقیہ کو اپنا حال بیان کیا۔ حضرت تاج فقیہ جن کا اصل وطن خلیل الرحمن ( ہبرون) تھا وہ ایک گروہ کو لے کر غزنی ہوتے ہوئے منیر پہنچے اور راجہ منیر سے جنگ کرکے منیر پر قابض ہوگئے۔ بہرحال اس زمانے میں مومن عارف یا کسی مسلمان کا منیر کا باشندہ ہونا اس طرح ہوسکتا ہے کہ مسعود غازی کے ساتھیوں میں سے کسی نے شایدمنیر آکر سکونت اختیار کرلی ہواور اس کی نسل میں مومن عارف، تاج فقیہ اور قطب سالارکے زمانے میں منیر کا باشندہ تھا۔
منیر اور مخدوم شرف الدین احمد:
مخدوم شرف الدین کی حیثیت صوبہ بہار میں ایک روحانی بادشاہ جیسی ہے محمد تاج فقیہ کی اولاد نے اسلام کی تبلیغ اور خدمت خلق کا جو نمونہ پیش کیا ہے اس میں اس جیسی جامع اور منظم تحریک کی مثال برّ صغیر پاک و ہند میں منفرد ہے اس خاندان نے جو خاندان مخدوم کے نام سے مشہور و موسوم ہے 1608-1178 تک یعنی چار سو تیس سال تک تبلیغ اشاعت دین اور خدمت خلق کا سلسلہ بہت ہی پامردی،تڑپ اور بصیرت کے ساتھ جاری رکھا اور اس کے بعد بھی یہ سلسلہ قائم رہا۔ شرف الدین احمد کی بدولت مشرقی ہندوستان اور بہارمیں دین اسلام کو تقویت حاصل ہوئی۔
انھوں نے صرف اپنی تقریری صلاحیت سے ہی کام نہیں لیا بلکہ تحریر کے ذریعہ بھی تبلیغ اور درس و تدریس کو ملفوظات اور مکتوبات کی شکل میں پھیلایا اسلامی مسائل اور دوسری چیزوں کو جہاں اس کی وضاحت کی اشد ضرورت تھی آپ نے اس کا م کو انجام دینے کی سعی قوی کی۔ ان کی تصانیف اسلامی تاریخ کا بیش بہا خزانہ ہیں۔ آپ کی کل 35تصانیف بتائی جاتی ہیں ان میں مکتوبات صدی، مکتوبات، ملفوظات، فارسی کتاب آداب المریدین، مکتوبات دو صدی مکتوبات تین صدی، مکتوبات جوابی اور ملفوظات میں معدن المعانی و خوان پُر نعمت وغیرہ اہم و مشہور ہیں۔ مخدوم شرف الدین کو تعبیر گوئی پر بھی پورا ملکہ حاصل تھا اس کا ثبوت ہمیں معدن المعانی میں تعبیر خواب کے ایک خاص باب کے حوالے سے ملتا ہے۔شیخ شرف الدین احمد ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کا خاندان علم وا دب کا گہوارہ تھا۔ آپ شاعر بھی تھے۔ اور مشرف آپ کا تخلص تھا۔ آپ کے فالنامے، فقیری نسخے، اور دوہے اور ریختہ گوئی کے اسلوب قابلِ رشک ہیں۔ شرف الدین احمد کی والدہ بی بی رضیہ بہت ہی عبادت گزار اور بزرگ خاتون تھیں۔ مخدوم شرف الدین نے ابتدائی تعلیم گھر پرہی پائی۔ آپ نے 29 برس کی عمر میں اپنے استاد ابوتوامہ سے کلام پاک کی تفسیر، حدیث، فقہ، فلسفہ اور ریاضی کی تعلیم مکمل کی۔دوران تعلیم ریاضت و مجاہدہ میں مشغول رہے۔ اور علم تصوف کا بھی مطالعہ کیا جسے انھوں نے اپنے مکتوبات میں تحریر کیا ہے۔ دور ان تعلیم ہی آپ کی شادی ان کے استاد مکرم کی بیٹی سے ہوگئی۔ دوران تعلیم آپ گھر سے دور تھے اور جتنے خطوط بھی گھر سے آتے آپ نے ایک بھی نہیں کھولا، مگر جب فراغت پائی تو ان تمام موصولہ خطوط کو کھولا تو اس میں ان کی والدہ کی موت کی خبر تھی اس خبر سے آپ دل برداشتہ ہوکر گھر پہنچے مگر وہاں قلیل مدت کے لیے ہی رکے کیونکہ آپ کا دل بے قرار تھا۔اور آپ کو اس کے مداوے کے لیے ایک عابد و زاہد کی تلاش تھی اس تلاش کی بنا پر آپ حضرت نظام الدین اولیا اور شیخ نجیب الدین فردوسی کے پاس بھی پہنچے اور بیعت لی۔ اور وہاں سے رخصت ہوکر گھر کو روانہ ہوئے۔ مگر راستہ میں جب آپ ضلع آرہ کے بہیا کے جنگل میں پہنچے تو ان پر عجیب کیفیت طاری ہوگئی اور آپ گریبان چاک کرکے جنگل میں نکل گئے۔ آپ کے بھائی نے جنگل میں بہت ڈھونڈا مگر وہ ناکام گھر واپس لوٹ گئے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ نے تیس برس جنگلوں میں عبادت کی جن میں بارہ سال بہیا کے جنگل اور کئی سال راج گیر کے علاقوں میں رہے۔ راج گیر پہاڑوں کے دامن میں ہرابھراجنگل سے بھرا ایک بے حد خوبصورت اور صحت افزا مقام ہے۔اس مقام کی اپنی ایک تاریخ و اہمیت ہے۔راج گیر کا اصل نام راج گری ہے یعنی بادشاہوں کی رہائش گاہ۔ مہابھارت کے زمانے میں اس جگہ کو گرب راج کہا جاتا تھا۔ یہ تاریخی شہر ادیان ہند کامرکز تھا۔اجات شترو کا دارالحکومت اور جین مذہب کی تبلیغ کا بھی مرکز تھا۔ اور گوتم بدھ نے بھی اپنی زندگی کے آخری ایام یہیں گزارے۔ آخر میں یہاں برہمنوں کی ایک آبادی بس گئی۔ بدھ مذہب کی پہلی تاریخی کونسل یہیں منعقد ہوئی تھی۔یہاں کئی گرم پانی کے چشمے ہیں جن میں مخدوم کنڈسب سے مشہور ہے یہیں پر شیخ شرف الدین احمد کا حجرہ بھی ہے۔ اس وجہ سے بھی یہ جگہ بہت اہمیت کی حامل ہے۔آپ نے ساٹھ برس تک بہار شریف میں تبلیغ اسلام کی۔ آپ کی روحانیت، شہرت اور اہلیت و درویشی کا حال سن کر سلطان محمد تغلق نے بہار شریف میں ایک خانقاہ تعمیرکرائی اور پرگنہ راج گیر بھی ایک فرمان کے ذریعہ نذر کیا تاکہ اس سے خانقاہ کے اخراجات اس کی آمدنی سے پورے ہوسکیں۔مگر مخدوم صاحب کو یہ پسند نہیں آیااور انھوں نے اس کو لوٹادیا۔آپ کے والد یحییٰ منیری نے بھی بختیار خلجی کو اپنے والد تاج فقیہ کی فتح کردہ حکومت منیر حوالہ کردی تھی۔ یعنی آپ کا خاندان گویا فقیری میں بادشاہ تھا۔ آپ کی منکسرالمزاجی کا یہ عالم تھا کہ آپ نے اپنے ملفوظات میں اکثر خود لکھا ہے کہ میں تواسلام کے لائق بھی نہیں ہوں اور کئی جگہ خود کو بدبخت اور ذلیل وغیرہ بھی تحریر کیا۔ غرور اور ظاہرداری سے آپ کو سخت نفرت تھی۔ آپ کا لباس بے حد سادہ اور غذا میں صرف خشک روٹی، چاول، یا کھچڑی کھایا کرتے تھے۔آپ کا وصال 782ھ بروز جمعرات نماز عشاء کے وقت ہوا اور آپ نے تقریباً 121 سال عمر پائی۔
منیرشریف کی چھوٹی بڑی درگاہیں:
ان درگاہوں اور منیر سے متعلق اہم معلومات ہمیں انگریزی زبان میں مستند تحریروں کے حوالے سے ملتی ہیں ان میں سے سب سے پہلے 1812-14 میں بکانن (Buchanan) کی تیار کردہ پٹنہ اور گیا سے متعلق رپورٹ ملتی ہے۔ اس کے کچھ مدت بعد جنرل کننگھم (Cunninghim) نے اور اس کے بعد بلاک (Bloch) نے 1902 میں آثار قدیمہ کے تعلق سے رپورٹیں تھیں جن مین ضخیم کننگھم کی تھی۔اس کے بعد1924 میں مولوی حمید قریشی نے بہار اور اڑیسہ کے تحفیظ شدہ آثار سے متعلق فہرست مرتب کی جس میں منیر کی درگاہوں کا تفصیل سے ذکر ہے۔ 1927 میں L.S.S.O.Malleyکے گزیٹئیرز(Gazetteer)کے نظرثانی شدہ ایڈیشن کی بھی اشاعت ہوئی۔ حافظ شمس الدین منیری نے بھی ایک طویل مضمون میں منیر کی تاریخ اور آثار قدیمہ کے بارے میں مفصل بیان کیا ہے۔ جو 1930 میں تحریر ہوا۔ 1963میں ڈی۔آر۔پاٹل کی کتاب بہ عنوان Autiquarian Remains in Bihar)جس میں منیر کی تاریخی معلومات فراہم ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ سید حسن عسکری اور قیام الدین احمد نے بھی منیر کی عہد وسطیٰ کی تاریخ کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ 1973 میں قیام الدین احمد کی ایک کتاب Corpus of Arabic & persian inscription of Biharکے عنوان سے شائع ہوئی جو بہت تفصیلی اور تحقیقی کتاب ہے۔
بڑی درگاہ:
یہ درگاہ منیر شریف کے دیگر مقدس مقامات میں خاص طور سے متبرک ہے۔ یہ تالاب سے متصل مرتفع ٹیلہ پر مشرق کی جانب واقع ہے اس کے روضہ کا احاطہ وسیع ہے اور دیواروں کی حدبندی کی ہوئی ہے اس میں دو بڑے دروازے ایک جانب مغرب اور دوسرا شمال کی طرف ہے مشرقی جانب ایک مسجدہے جو پہلے تین عالیشان گنبدوں کی بنی ہوئی تھی چند سال ہوئے موجودہ صاحب سجادہ کے اہتمام سے نئے طریقے سے تعمیر ہوئی ہے۔ جس کے بیچ کا دروازہ اپنی اصلی حالت پر ہے اس کے آگے ایک صحن ہے۔ اترکی طرف ایک سنگی دالان اور حجرہ ہے صحن سے متصل حضرت مخدوم کے وضو کرنے کا چبوترہ ہے۔ بیچ احاطہ میں ایک چبوترے پر حضرت ولی اعظم سلطان المخدوم حضرت شاہ یحییٰ منیری قدس سرّہٗ کا مزار اقدس ہے۔ آپ کے قریب آپ کی والدہ ماجدہ اور والد محترم اور عم محترم کے مزارات ہیں۔ ایک چھوٹے احاطے میں ملک کے ممتاز بزرگ حضرت مخدوم جہاں شاہ شرف الدین احمدکی اہلیہ محترمہ اور دو صاحبزادیاں مدفون ہیں۔ حضرت مخدوم کے زیرپائین آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت مخدوم جلیل الدین احمد منیری فردوسی کا مرقد مبارک ہے۔ آپ کے دوسری جانب حضرت شاہ ہدایت اﷲ منیری رحمۃ اﷲ علیہ اور آپ کی شریک حیات کا اور آپ سے متصل حضرت مولانا شمس الدین مازندرانی مدفون ہیں۔وغیرہ
مغربی دروازے کے قریب تاج الدین کھانڈ گاہ کا مزار ہے جو سلطان محمود غزنوی کے خاندان کے ایک رکن تھے۔ حضرت مخدوم کے خاندان کے بیشتر افراد اسی احاطے میں دفن ہیں شمالی پھاٹک کے باہر ایک کھلی ہوئی مسجد ہے، جس کو شاہان دہلی کے کئی بادشاہ کے دو خواجہ سراؤں نے تعمیر کرایا تھا۔ اور حسب وصیت یہیں سپرد خاک بھی ہوئے مسجد سے متصل اس زمانے کے دو کمرے ہیں اس سے کچھ دور ایک سنگی مجسمہ ہے جسے وہاں کے عوامی لوگ شہدول یا سادول کے نام سے پکارتے ہیں۔یہ قدیم زمانے کی یادگار ہے۔ دراصل یہ مجسمہ ایک شیر کاہے جو ایک ہاتھی کے بچہ کو اپنے پیروں کے بیچ لیے ہوئے ہے بقول مولوی حمید قریشی کے یہ بڑی درگاہ راجہ منیر کا قلعہ تھی جس کا ثبوت یہ مجسمہ ہے جو درگاہ کے دروازہ پر ایستادہ ہے۔اور اسی کے آثار کا ایک نشان یا حصہ ہے اس کے علاوہ مقامی روایتوں کے مطابق بھی اسے امام تاج فقیہ کے ذریعہ قلعہ کی فتح کی ایک یادگارکے طور پر بیان کیا جاتا ہے وغیرہ۔ اس درگاہ کے احاطہ میں سیکڑوں پختہ مزارات اولیا اور شاہزادوں کے ہیں اور جابہ جا قناتی مسجدیں بھی ہیں۔ بڑی درگاہ کے احاطہ کو اس کے سائبان اور مسجد کو دوسری بار ابراہیم خان کانکر مغل امیر جو کہ صوبہ گجرات کا صوبہ دارتھا۔ 1014ھ میں تعمیر کرایا تھا۔
چھوٹی درگاہ:
یہ وہ جگہ ہے جہاں حضرت سلطان المخدوم شاہ یحییٰ منیری رحمۃ اﷲ علیہ کے خاندان کے ممتاز بزرگ حضرت قطب الاقطاب مخدوم امام یزید الملقب بہ شاہ دولت منیریؒ آرام فرما ہیں۔ یہ مقبرہ آپ کے مرید ابراہیم خاں کانکر صوبہ دار گجرات نے تعمیر کرایا ہے۔
تعمیر روضہ کا جب خیال ہوا تو حضرت سے آپ کی زندگی ہی میں اس کی اجازت طلب کی۔ حضرت نے فرمایا کہ میرے بزرگوں نے آسمان کا سایہ اختیار کیا ہے، مجھے اس کی ضرورت نہیں۔انھوں نے کہا مجھے تعمیر کی اجازت دی جائے تاکہ میں بھی مرنے کے بعد اس میں دفن کیا جاؤں۔ اس طور پر اس عالیشان عمارت کی بنیاد پڑگئی۔ ابراہیم خاں کانکر بہت غریب تھے۔ آنحضرت کی سفارش سے عبدالرحیم خان خاناں نے ان کو گجرات میں جگہ دی، ابراہیم خاں کانکر اپنی دلاوری اور حسن خدمت سے معزز ہوکر شاہی ملازمت تک بلند ہوئے اور توزک جہانگیری کی تحریر کے مطابق عہد جہانگیری میں دلاور خاں کے خطاب سے سرفرازکیے گئے اور تمام عمر کاٹھیاوار اور گجرات میں خدمت جلیلہ انجام دیتے رہے۔ گجرات ہی میں انہوں نے روضہ اور تالاب کا خاکہ تیار کیا، اور تنگر قلی خاں بدخشانی ماہر تعمیرات کو اس نقشہ اور لوازمہ ٹھیک کرنے پر مامور کیا، یہ عالیشان مقبرہ سرتاپا سنگ چنار کا بنا ہوا ہے۔ صوبہ کی اور عمارتوں میں یہ عالیشان اور بہت خوبصورت عمارت ہے۔ 58 فٹ مربع اور دو فٹ اونچے چبوترہ پر واقع ہے۔ باہر کی چہار دیواری،252 فٹ چوڑی اور دس فٹ اونچی ہے۔ چاروں کو نے پر بارہ پہل کی برجیاں ہیں، جنوب مشرق کی جانب جو برجی ہے اس کے دوتلے پر نہایت نفیس پتھر کی جالیاں ہیں، جس حصہ پر مقبرہ ہے وہ باہر سے 34 فٹ 8 انچ مربع ہے اور اس کے چاروں طرف 11 فٹ 8 انچ چوڑا برآمدہ ہے۔ برآمدہ کی چھت اعلیٰ قسم کی سنگ تراشی اور نقاشی کا نمونہ ہے۔ چھت میں جابہ جا آیات قرآنی بھی کندہ ہیں۔اس سنگ تراشی کا مقابلہ فتح پور سیکری کی بہترین سنگ تراشی اور نقاشی سے کیا جاسکتا ہے۔ اندر سے مقبرہ 13فٹ مربع ہے اور ہر طرف چار بڑے ستون ہیں۔ ستونوں کے درمیان نہایت پتلی دیوارہے۔ محراب کی جالیوں پر عربی خط میں اﷲ کافی لکھا ہوا ہے۔اور ستونوں کے برایکٹ پر پتھرکی سلیاں رکھ کر اس کو ہشت پہل پھر دائرہ بنایا گیا ہے۔
مقبرہ کے اندر کی قبروں میں بیچ کی قبرحضرت مخدوم شاہ دولت منیریؒ کی ہے۔ پائین کی دو قبروں میں پورب کی قبر آپ کی اہلیہ محترمہ کی اور پچھم بانیِ مقبرہ ابراہیم خان کانکر کی ہے۔
ابراہیم خاں کا انتقال 1028ھ میں ہوا۔ اور حسب و صیت اندرون مقبرہ اپنے محترم پیر کے پہلو میں دفن ہوئے۔
شمال اور مغرب کی طرف پتھر کے ستونوں پر کھلی ہوئی گیلریاں ہیں۔ پچھم والی گیلری کے وسط میں ایک خوشنما لداؤ چھت کی شاندار مسجد ہے۔ اس میں ایک کتبہ ہے جس کی اول دو سطروں میں آیات قرآنی اور آخر سطر میں سنہ تعمیر 1028ھ۔1618 کندہ ہے۔ قطعۂ تاریخ ؂
چوں این عالی بنائے کعبہ تمثیل جہاں آرا
بفیض صانع قادر تمامی اقتضا کردہ
دل عاصی ہمہ جست از خرد سال بنائے او
خرد گفتا جو ابراہیم بیت اﷲ بنا کردہ
1028ھ
قطعۂ تاریخ کا ترجمہ:جب اس عالی شان عمارت کی بنیاد دنیا کو سجانے والے کعبہ کی طرح خدا کے فیض سے رکھنے کی خواہش ظاہر ہوئی ہے تو اس نافرمان اور گنہگار دل نے عقل سے اس کو بنانے کی تاریخ تلاش کی توعقل نے کہا جیسے ابراہیم نے بیت اللہ (کعبہ )کی بنیاد رکھی ہے۔اس جملے کے اعداد میں تاریخ تعمیر پو شیدہ ہے۔ 
مسجد کے سامنے ایک چپوترہ پر حضرت مخدوم شاہ مبارک حسین عرف شاہ دھومن منیریؒ ، آپ کے والد ماجد آپ کے جدامجد اور بھی خاندان کے بزرگوں کے مزارات ہیں۔ مقبرہ سے دکھن جانب ایک صفہ عالی پر آپ کے دو صاحبزادے حضرت مخدوم شاہ فرید الدین احمد محمد ماہرو فردوسی منیری و حضرت مخدوم شاہ محمد علیؒ اور آپ کے سجادگان حضرت شاہ قطب الدین احمد فردوسی منیری و حضرت شاہ امجد حسین چشتی النظامی الفردوسی المنیری، حضرت سید شاہ ابوالظفرفرید الدین احمد فردوسی منیری حضرت سید شاہ ابولفرح فضل حسین قادری منیری اور حضرت سید شاہ دولت علی محمد امان اﷲ فردوسی منیری اور بھی خاندان کے بہت سے حضرات آسودہ خاک ہیں۔
مقبرہ کے پورب جانب حضرت شاہ اعظم علی عرف فردوسی بھیکن منیری المتوفی 1270ھ ابن حضرت سید شاہ ابوالفرح شاہ لطف علی فردوسی منیری حضرت شاہ نظام الدین منیری 1297ھ، حضرت سید شاہ خلیل الدین احمد جوش منیری، حضرت شاہ اولاد علی زاہدی الفردوسی المنیری المتوفی 1307ھ اور حضرت سید شاہ احتشام الدین حیدر المتخلص یہ مشرقی منیری اور بہت سے لوگوں کے مزارات ہیں۔
مسجد کے دکھن جانب سائبان میں ایک زمین دوز کمرہ ہے جس میں جانے کے لیے زینے بنائے گئے ہیں۔ درگاہ سے تالاب کے طرف جانے کے لیے ایک سنگی دروازہ ہے۔ جنوب مغرب گوشہ پر ایک خوبصورت کمرہ اور جنوب مشرق گوشہ پر ایک ناغول (چھت دا ر زینہ) ہے۔ جس کی دیوار اعلیٰ قسم کے پتھرکی جالدار بنائی گئی ہے۔ تالاب کی طرف دو ناغول ہیں جوبہت خوب ہیں۔ مقبرہ سے شمال کی جانب عظیم الشان صدر پھاٹک ہے جو 5 فٹ 9 انچ چوڑا ہے، طرز تعمیر مغلیہ ہے۔ پھاٹک کے دونوں طرف ہشت پہلو خوبصورت برجیاں ہیں، جن پر جانے کے لیے زینے بنے ہوئے ہیں۔ دروازہ کے باہر 30فٹ لمبا اور 12فٹ چوڑا خوبصورت سنگی چپوترہ ہے۔ صدر پھاٹک پر تین کتبے ہیں جن میں دو عربی میں اور ایک فارسی میں ہے۔
چو درین روضۂ مقدس شاہ
روئے زینت نہادہ براتمام
سال تاریخ من از او جستم
خردم بہر این خجستہ مقام
بدعا لب کشودہ گفتا
در دولت کشادہ باد دوام
1028ھ
قطعۂ تاریخ اشعار کا ترجمہ:جب بادشاہ کے اس مقد س روضہ(باغ)نے اس سر زمین کو زینت بخشی ہے یعنی جب اس عمارت کی تعمیر مکمل ہوئی تو میں نے عقل سے اس کی تاریخِ تعمیر دریافت کی تو عقل نے اس مبارک مقام کے واسطہ اپنے لب کھولے اور کہا اس دولت و حکومت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں۔اسی مصرعہ میں تاریخ تعمیر پوشیدہ ہے یعنی 1028ھ۔1618ء۔
تالاب کے چاروں طرف دو دو گومتیاں بنائی گئی تھیں۔ پچھم اور پورب کی گومتیاں ابھی قائم ہیں۔ اُتّر کی گومتیاں بہت شکستہ ہوچکی ہیں۔ دکھن کی منہدم ہوگئی ہیں۔ تالاب میں جانے کے لیے چاروں طرف سے زینے بنائے ہیں اور اس کے دکھن بلندی پر گورنمنٹ کا پُرفضا ڈاک بنگلہ ہے۔
غرض منیر شریف کی یہ دونوں درگاہیں بے حد مقدس اور عہد مغلیہ کی شاندار یادگار ہیں۔
مآخذ:
1۔ تاریخ بہار : چند مقالات، ندیم گیا، خدابخش اورینٹل لائبریری پٹنہ، اشاعت1994
2۔ ارض بہار اور مسلمان : عبدالرقیب حقانی، خدابخش اورینٹل پبلک لائبریری پٹنہ2012
3۔ آثار منیر :تصنیف سید شاہ مراد اﷲ منیری، خدابخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ شاعر اول 1948 اشاعت دوم 2010 

Mehtab Jahan
Dept of Persian
Delhi University
Delhi - 110007






قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

علامہ شبلی اور ملا واحدی ,مضمون نگار: محمد الیاس الاعظمی






علامہ شبلی اور ملا واحدی
محمد الیاس الاعظمی


محمد ارتضیٰ معروف بہ ملا واحدی (1888-1976) دہلی کے رہنے والے اردو کے ممتاز اہل قلم تھے۔ دہلی کی ٹکسالی زبان لکھتے تھے۔ 88 سال عمر پائی اور 70 سال تک لکھتے رہے یہی وجہ ہے کہ تحریروں کا ایک بڑا ذخیرہ یادگار چھوڑا ہے۔ خواجہ حسن نظامی (1878-1955) سے عقیدت مندانہ مراسم قائم ہوئے تو ان کے اشتراک سے 1909 میں دہلی سے رسالہ نظام المشائخ جاری کیا جسے وہ پچاس برس تک نکالتے رہے۔ دہلی میں 1947 کے فسادات سے دل برداشتہ ہوکر ہندوستان کو خیرباد کہہ کر پاکستان کی راہ لی، جس وقت انھوں نے ہجرت کی اس وقت وہ آٹھ رسائل اور ایک اخبار کے مدیر تھے۔ اسی پر دیوان سنگھ مفتون (1890-1975)نے کہا تھا کہ واحدی کوچہ چیلان کو رسالوں اور اخباروں کا قبرستان بنا کر گئے۔1 حالانکہ ان کی زبان پر یہ نوحہ تھاکہ : 
تذکرہ دہلی مرحوم کا نہ چھیڑ اے دوست 
نہ سنا جائے گا ہم سے یہ فسانہ ہرگز
ان کے لکھنے پڑھنے کا آغاز نوجوانی اور طالب علمی میں ہوا۔ بے شمار مضامین و مقالات، انشائیے اور خاکے لکھے ان کے علاوہ ان کی متعدد کتابیں میر ے زمانے کی دلی، دلی کا پھیرا، دلی جو ایک شہر تھا، میرا افسانہ، سوانح خواجہ حسن نظامی، حیات سرور کائنات، تاثرات وغیرہ شائع ہوئیں، ان میں میرے زمانے کی دلی بہت مشہور ہوئی، ان کے اخباری کالموں کا مجموعہ تاثرات بھی قابل ذکر ہے جسے حکیم محمد سعید دہلوی نے مرتب کرکے شائع کیا۔ ملا واحدی نے دلی اور دلی والوں پر بائیس تےئس برس تک لکھا۔ دہلی سے متعلق ان کی کتاب ’ناقابل فراموش لوگ اور ناقابل فراموش باتیں‘ خدا جانے شائع ہوئی یا نہیں۔ اسی طرح ’تاثرات‘ کا ایک اور ضخیم مجموعہ مرتب کیا تھا غالباً اس کی اشاعت کی بھی نوبت نہیں آئی۔ اخیر دور میں اپنی خودنوشت میرا افسانہ اپنے بچوں کے لیے لکھی جو نامکمل رہی۔ ان کی وفات کے بعد ان کے بچوں نے اسے سائیکلو اسٹائل کراکے تقسیم کیا، جسے مشہور محقق مالک رام (1906-1993) نے اپنے رسالہ تحریر دہلی (جولائی ستمبر 1878) میں شائع کیا۔ 2015میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کراچی نے اس کا ایک خوب صورت ایڈیشن شائع کیا ہے۔ راقم کے پیش نظر یہی جدید اشاعت ہے۔ 
ملا واحدی کے بارے میں گذشتہ سطور میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ دراصل ان کی آپ بیتی ’میرا افسانہ‘ سے ماخوذ ہے۔ البتہ ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ ’میرا افسانہ‘ میں انہوں نے ان بزرگوں اور احباب کا بھی ذکر کیا ہے جن سے رسالہ نظام المشائخ کے توسط سے روابط قائم ہوئے، ان میں ایک اہم نام علامہ شبلی کا بھی ہے۔ 
دور طالب علمی میں ملا واحدی کی نصابی کتابوں سے طبیعت اچاٹ ہوئی تو غیر درسی کتابوں کا مطالعہ کرنے لگے اور پھر اس کی ایسی چاٹ لگی کہ تعلیم ادھوری رہ گئی، اس دور میں انھوں نے جن اساطین علم و ادب کا مطالعہ کیا، اس میں ایک اہم نام علامہ شبلی کا نعمانی کا بھی ہے۔ 2
1908 میں علامہ شبلی (پیدائش: 4جون 1857، وفات: 18نومبر 1914) نے خواجہ حسن نظامی کو لکھا کہ میں تھک گیا ہوں، آرام کرنا چاہتا ہوں چنانچہ خواجہ صاحب نے انھیں دہلی بلا لیا۔ اس پوری مدت میں ملا واحدی ان کے ساتھ مقیم رہے۔ 3 ملا واحدی نے اس واقعہ کا ذکر اپنی آپ بیتی میں اس طرح کیا ہے: 
’’نظام المشائخ کے اجرا کے بعد سب سے پہلے مولانا شبلی نعمانی ہمارے ہاں تشریف لائے اور تقریباً مہینہ بھر ٹھہرے تھے۔ خواجہ حسن نظامی کو مولانا شبلی نے کسی خط میں لکھا تھا کہ کام کرتے کرتے تھک گیا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ مہینہ بھر کے لیے کہیں باہر چلا جاؤں۔ خواجہ صاحب نے جواب دیا کہ کہیں نہ جائیے یہاں تشریف لے آئیے۔ سکون کا پورا بندوبست کر دیا جائے گا۔ مولانا نے یہ تجویز اس شرط پر منظور فرمائی کہ آپ صرف قیام کا انتظام کریں، طعام کا انتظام میرا باورچی کرے گا، باورچی کو لاؤں گا۔‘‘ 4
واحدی صاحب نے تاثرات میں بھی ’علامہ شبلی کی یاد‘ کے عنوان سے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ: 
’’علامہ شبلی نعمانی ایک دفعہ دلی تشریف لائے اور خواجہ حسن نظامی کے ہاں مہینہ بھر ٹھہرے۔ خواجہ صاحب اس زمانے میں نواب بڈھن کے کمرے میں رہتے تھے جو اعظم خاں کی حویلی (دہلی) کے سامنے تھا، کمرہ کیا پورا دیوان خانہ تھا۔ کمرے سے متصل نواب بڈھن کی محل سرا تھی۔ نواب غلام نصیرالدین عرف نواب بڈھن رئیس شیخوپورہ برناوہ ضلع میرٹھ نے کمرہ اور محل سرا د ونوں خواجہ صاحب کے سپرد کرکے رکھے تھے۔ رسالہ نظام المشائخ کی ابتدا اسی کمرے سے ہوئی تھی، جو میں نے اور خواجہ صاحب نے جاری کیا تھا۔‘‘ 
خیر یہ 1908 کی بات ہے، نظام المشائخ کے اجرا سے سوا سال پہلے کی، مگر میں اس کمرے اور محل سرا میں آنے جانے لگا تھا۔‘‘ 5
ضیاء الدین احمد برنی (1890-1969) مصنف عظمت رفتہ نے علامہ شبلی کے اس سفر کا سال 1909 لکھا ہے، 6 اور مولانا سید سلیمان ندوی نے 1914 7 چونکہ کسی اور مقام پر اس سفر کا ذکر نہیں ملتا اس لئے قیاس ہے کہ ملا واحدی ہی کا بیان کردہ سنہ درست ہے۔ علامہ شبلی نے 1914 میں بھی دہلی کا ایک سفر کیا تھا۔ ممکن ہے اس سفر میں بھی خواجہ حسن نظامی سے ملاقات ہوئی ہو لیکن تصوف پر تقریر کا واقعہ 1908 ہی کا ہے جیسا کہ ملا واحدی نے صراحت سے لکھا ہے۔ 
ملا واحدی چونکہ علامہ شبلی کے قیام دہلی میں ان کی مجالس کے حاضر باشوں میں تھے اس لیے انھوں نے علامہ کو قریب سے دیکھا تھا، ان کے معمولات تصنیف و تالیف کے بارے میں لکھتے ہیں: 
’’میں نے دیکھا کہ علامہ شبلی صرف آٹھ بجے سے دس بجے تک لکھنے کا کام کرتے ہیں اور دس بجے کے بعد یا اخبار رسالے اور کتابیں پڑھتے ہیں، یا لوگوں سے ملتے جلتے ہیں، آٹھ سے دس بجے تک کے لیے ہدایت تھی کوئی آئے ، مت آنے دو، اور کچھ ہوجائے مت خبر کرو۔‘‘ 8
علامہ شبلی کے دوسرے سفر دہلی میں بھی جو 1913 میں ہوا تھا ان کا یہی معمول رہا، ملا واحدی لکھتے ہیں: 
’’دوسری دفعہ غالباً 1913 میں علامہ شبلی دلی تشریف لائے اور حکیم اجمل خاں کے ہاں قیام فرمایا، وہاں بھی آٹھ سے دس (بجے) تک وہ تخلیہ کرتے تھے اور ان کے قریب پرندہ پر نہیں مار سکتا تھا۔ 
علامہ شبلی کی تمام معرکۃ الآرا تصانیف دو گھنٹے روزانہ لکھنے کی کرامات ہیں۔ دو گھنٹے سے زیادہ لکھنا ان کے نزدیک حرام تھا اور دوگھنٹہ پابندی سے لکھنا فرض۔ اسے وہ سفر و حضر میں نباہتے تھے۔ باقی اوقات میں کبھی کھانا بھی پکا لیتے تھے۔ پکانے کا غالباً شوق تھا اور کھانا کھانا بھی جانتے تھے۔‘‘ 9
علامہ شبلی نے خواجہ صاحب سے یہ شرط رکھی تھی کہ طعام کا انتظام وہ خود کریں گے۔ اس کی تفصیل پیش کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں: 
’’خواجہ صاحب نے نواب بڈھن کی پوری محل سرا مولانا کے سپرد کردی جہاں وہ باورچی سے آگ ضرور سلگواتے تھے اور چپاتیاں پکواتے تھے، باقی سالن اپنے ہاتھ سے پکاتے تھے۔‘‘ 10
اس محل سرا میں خواجہ حسن نظامی کی خواہش پر علامہ شبلی نے تصوف کے موضوع پر تقریر کی جسے چند لوگوں نے مل کر نقل کیا اور جسے نظام المشائخ دہلی کے 1909 کے کسی شمارے میں شائع کیا گیا۔ نظام المشائخ کا یہ شمارہ راقم کو اب تک دستیاب نہیں ہوسکا ہے اس لیے تصدیق نہیں کی جاسکی کہ وہ خطبہ خطبات شبلی میں شامل ہے یا نہیں؟ 
مولانا سید سلیمان ندوی نے اس خطبہ سے خواجہ حسن نظامی کے متاثر ہونے کا ذکر کیا حیات شبلی میں مولوی اکرام اللہ خاں (م: 16جنوری 1952) ایڈیٹر کانفرنس گزٹ علی گڑھ کے حوالہ سے کیا ہے اور لکھا ہے کہ: 
’’تقریر کے بعد خواجہ صاحب نے کہا کہ اگر تصوف قالی چیز ہوتی تو میں آج آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لیتا۔‘‘ 11
ضیاء الدین احمد برنی جو اس خطبہ کے سامعین میں تھے اپنی کتاب ’عظمت رفتہ‘ میں لکھتے ہیں: 
’’تقریر سے قبل ہم میں سے بہت سوں کا خیال تھا کہ چونکہ علامہ صوفی منش بزرگ نہیں اس لیے تصوف جیسے موضوع پر ان کی تقریر بالکل خشک ہوگی، لیکن جب انھوں نے تقریر ختم کی تو سب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں اور میں نے کم سے کم یہ محسوس کیا کہ علامہ تو چھپے رستم ہیں۔ معلوم ہوتا تھا کہ جنید یا بایزید بسطامی کے پایہ کا کوئی درویش ہے جو تصوف کے رموز و نکات کے دریا بہائے چلا جا رہا ہے۔ تقریر کے بعد جس عقیدت مندی سے حاضرین نے ان کے ہاتھ چومے وہ سماں آج بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے۔‘‘ 12
تاثرات میں ایک جگہ ملا واحدی نے منصف مزاج مستشرقین کا ذکر کیا ہے، اس میں علامہ شبلی کا ایک قول نقل کیا ہے: 
’’ بعض منصف مزاج مستشرقین یورپ حضورؐ کی زندگی کے وہ محاسن اور کمالات بیان کرجاتے ہیں کہ بڑے بڑے ذی علم مسلمانوں کی نظر ان تک کم جاتی ہے۔ بقول علامہ شبلی نعمانی راکھ کے ڈھیر میں سونے کے ذرے نکال لیتے ہیں، منصف مزاج ہی نہیں متعصب مستشرقین نے بھی صف انبیاء کا ہیرو حضوؐر ہی کو قرار دیا ہے۔‘‘ 13
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملا واحدی نے شبلی کی تحریروں کو بڑے غور سے پڑھا تھا، مگر حوالہ نہیں دیا ہے کہ انہوں نے یہ قول کہاں سے نقل کیا ہے۔ 
تاثرات کا ایک عنوان ’مولانا ابوالکلام کی یاد‘ ہے۔ اس میں انھوں نے مولانا ابوالکلام آزاد سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ ان سے پہلی ملاقات کان پور ریلوے اسٹیشن پر ہوئی تھی۔ دوسری ملاقات کی تفصیل میں علامہ شبلی کا بھی ذکر ہے۔ لکھتے ہیں: 
’’ندوۃالعلماء کا دلی میں اجلاس تھا جس کی صدارت کرنے مصر سے علامہ رشید رضا آئے تھے۔ مولانا شبلی، مولوی حبیب الرحمن شروانی اور مولانا ابوالکلام آزاد اور خدا معلوم کتنے بڑے بڑے علما مطبع مجتبائی میں مقیم تھے۔ مولانا ابوالکلام کا کمرہ مولانا شبلی اور مولوی حبیب الرحمن کے کمروں کے درمیان تھا۔ ایک طرف مولانا شبلی دوسری طرف مولوی حبیب الرحمن شروانی، صرف دو ہی شخص ایسے تھے جن سے شاید ابوالکلام متاثر رہے ہوں۔ لیکن میں اور خواجہ حسن نظامی کئی مرتبہ مولانا شبلی اور مولانا حبیب الرحمن شروانی کے پاس گئے۔ مولانا ابوالکلام کو ایک مرتبہ بھی ان دونوں کے کمروں میں قدم رکھتے نہیں دیکھا۔ شام کے وقت سب علما ٹکڑیاں بنا کر صحن میں بیٹھا کرتے تھے۔ اس وقت مولانا ابوالکلام بھی باہر نکلتے تھے اور مولانا شبلی اور مولوی حبیب الرحمن کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ میری دوسری ملاقات مولانا ابوالکلام سے اسی شام کی مجلس میں ہوئی۔‘‘ 14
ندوۃالعلما کا وہ اجلاس جس کی صدارت علامہ رشید رضا نے کی تھی وہ تو لکھنؤ میں منعقد ہوا تھا اور مطبع مجتبائی دہلی میں تھا۔ راقم یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ ملا واحدی جو خود اس اجلاس میں شریک تھے انہیں کیسے التباس ہوا اور اس کی حقیقت کیا ہے؟ ندوہ کا 1910 کا اجلاس دہلی میں ہوا تھا غالباً ملا واحدی اور خواجہ حسن نظامی اس میں شریک ہوئے ہوں اور 1912 کے لکھنؤ اجلاس میں بھی شریک رہے ہوں اس وجہ سے دونوں کی روداد بیان کرنے میں لکھنؤ اور دہلی میں شبہہ ہوگیا ہو۔ البتہ ملا واحدی نے اس کے بعد مولانا ابوالکلام آزاد کی عربی دانی اور خطابت کا جو ذکر کیا ہے اسے سید صاحب نے بھی حیات شبلی میں قلم بند کیا ہے۔ ملا واحدی لکھتے ہیں: 
’’علامہ رشید رضا نے خطبہ لکھا نہیں تھا، علامہ برجستہ بولے تھے۔ مولانا محمد فاروق چریاکوٹی (استاد مولانا شبلی) کے ذمہ تھا کہ ترجمہ کریں گے، مگر ترجمہ کرنے لگے تو متبحر عالم ہونے کے باوجود سٹ پٹا گئے، مولانا شبلی نے فوراً مولانا ابوالکلام کو اشارہ کیا۔ مولانا اگلی صف سے اٹھے اور اسٹیج پر پہنچے اور حاضرین سے کہا کہ الگ الگ فقروں کا ترجمہ نہیں کروں گا۔ صاحب صدر کی تقریر ختم ہونے دیجیے پوری تقریر کا ترجمہ ایک ساتھ کردوں گا۔ چنانچہ تیئس سالہ ابوالکلام نے ایسا مربوط ترجمہ سنایا کہ بوڑھے اور متبحر علما کو متحیر کر دیا۔‘‘ 15
ملا واحدی کے اس اقتباس سے جہاں مولانا آزاد کی عربی دانی کا اندازہ ہوتا ہے وہیں پہلی بار یہ بات سامنے آتی ہے کہ علامہ رشید رضا کی تقریر کے ترجمہ کی ذمہ داری مولانا فاروق چریاکوٹی کے ذمہ تھی۔ 
ملاواحدی کے ان چند اقتباسات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف علامہ شبلی سے ملے تھے، ان کی تحریروں کو بغور پڑھا تھا بلکہ ان سے متاثر بھی تھے۔ 
حواشی 
(1) تاثرات ص 22 (2) ایضاً، ص 21
(3) عظمت رفتہ ص 265 (4) میرا افسانہ ص 68
(5) تاثرات ص 46 (6) عظمت رفتہ ص 261
(7) حیات شبلی ص 748 (8) تاثرات ص 46
(9) ایضاً، ص 47 (10) میرا افسانہ ص 68
(11) حیات شبلی ص 748 (12) عظمت رفتہ ص 266 
(13) تاثرات ص 102-3 (14) ایضاً، ص 258
(15) ایضاً ص 259


Dr. Mohd Ilyas Azmi
Shaesta Manzil, 641, Ghulami Kapura
Behind Awas Vikas
Azamgarh- 276001 (UP)
Mob.: 9838573645




قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے