جمعہ، 28 فروری، 2020

معاصر غزل میں اسلامی افکار و اقدار مضمون نگار: کوثر مظہری





معاصر غزل میں اسلامی افکار و اقدار
کوثر مظہری
یہ موضوع میرے لیے کارآمد بھی ہے اورنقصان دہ بھی ۔ کارآمد اس لیے کہ مجھے ذہنی سکون ملے گا اور نقصان دہ اس لیے کہ بعض احباب مجھ پر قدامت پرستی، فکری فرسودگی اور کٹھ ملّائیت کا لیبل چسپاں کریں گے۔ اتنی بات عرض کرتا چلوں کہ میں کوئی سوشل ریفارمر نہیں ہوں اورمیرا تصور یہ بھی نہیں ہے کہ شعر و ادب کو مذہبیات واخلاقیات کے لیے ذرائع ابلاغ کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ لیکن اگر شاعری سن کر کسی کا بھلا ہوجاتا ہے یا اس کی فکر میں مثبت تبدیلی آجاتی ہے یاپھر اس کے اخلاقی ظواہر میں تغیر پیدا ہوجاتا ہے توکسی شاعریا نقاد کا کیا بگڑ جاتا ہے۔ اخلاقی تاثر تواردو کا سب سے بڑا غزل گو شاعر بھی پیش کرتاہے۔ میرکوسنیے:
خدا ساز تھا آزر بت تراش
ہم اپنے تئیں آدمی تو بنائیں
ہماری کلاسکی غزل کا سرمایہ اس نوع کے عناصر سے معمور ہے لیکن یہاں 1980 تک آتے آتے اور اس کے بعدکی غزلیہ شاعری میں جو مذہبی افکار اور قدریں دیکھنے کو ملتی ہیں، ان کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ خدا کا تصور، اس کی وحدانیت اور تاریکی میں خدا کے روشن ہونے کا استعارہ نئی غزلوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ تجلی اور نور کو اس پُرآشوب عہد میں بھی نئے غزل گویوں نے اپنی فکرکا حصہ بنائے رکھا ہے۔  یہ اشعار:
انتہاؤں کی سند لامتناہی دے گا
اپنے ہونے کی خدا خود ہی گواہی دے گا

(فصیح اکمل)
خدا کا خوف نہ ہوتا کمال دل میں اگر
تو میں زمانے میں ہر آدمی سے ڈر جاتا

(کمال جعفری)
دشت کی تیرہ شبی میں جب خدا روشن ہوا
دھند میں ڈوبا ہوا ہر راستہ روشن ہوا
(شاہد کلیم)
اک یاد سے روشن ہوئے دیوار و در و بام
خم ایک نئی طرح کا محراب میں آیا
(اسعدبدایونی)
چمک اٹھتی ہے کوئی شے افق کے پار جیسے
تحیر، جلوئہ نایاب سے آگے بھی ہے
(منظورہاشمی)
مانگتا ہے تو وجود ذات باری کا ثبوت
کیا جہانِ رنگ و بو اے بے خبر کافی نہیں

(خالد محمود)
جانے قلم کی آنکھ میں کس کا ظہور تھا
کل رات میرے گیت کے مکھڑے پہ نور تھا
(عبدالاحدساز)
گناہ گاروں میں بیٹھے تو انکشاف ہوا
خدا سے اب بھی بہت خوف کھایا جاتا ہے
(شارق کیفی)
وہ نام دانۂ تسبیح پر پڑھو طارق
چھڑا دے شیشۂ دل کا جو زنگ اللہ ہُو
(شمیم طارق)
یہ معجزہ بھی خدا ہی دکھانے والا ہے
جہاں چراغ نہیں ہے وہاں اجالا ہے
(شکیل جمالی)
بھٹک رہے تھے غزالوں کی طرح صحرا میں
خدا کے رحم سے جنگل میں گھر نکل آیا
(جمال اویسی)
چیخ اٹھی ہے بے زبانی بھی
ہیں غضب کی یہ ساعتیں مولا
(عادل حیات)
میں جب ایسے اشعار کی قرأت کرتاہوں توایک طرح کی تخلیقی مستنیریت کے احساس سے دوچار ہوتا ہوں۔ ایسا اس لیے بھی ہے کہ کم سے کم یہاں نیطشے کی نیستیت (Nihilism) یا غالب کی بے دلی ہائے تماشا یابے کسی ہائے تمنا تونہیں:
بے دلی ہائے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق
بے کسی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں
لیکن غالب کے اس شعر سے غالب کی شاعری کے تئیں اسے میرا نظریہ نہ سمجھ لیاجائے۔ غالب کو تو میں ایسا شاعر تصور کرتا ہوں جو منجمد خون میں برقی رودوڑادینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہاں غالب کاذکر محض ایک ضمنی حوالے کے طورپر آیاہے۔ ورنہ تو غالب کے یہاں خدا کی وحدانیت اور دینی جمالیات کے بہت سے اشعار موجود ہیں۔ دو شعر ملاحظہ کیجیے:
نہ تھا کچھ تو خدا تھاکچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
دلِ ہر قطرہ ہے سازِ اَناالبحر
ہم اُس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا
ہماری غزلوںمیں جو روشنی اورچمک ہے، وہ انہی مذہبی اقدار وعناصرکے سبب ہے۔ ایک ایسا دوربھی گزرا ہے جب شاعروں نے خدا سے لوہا لینے کا عزم بھی پیش کیا اور یوںبھی ہوا کہ خدا کی شان میں گستاخیاں بھی کی گئیں۔ ن م راشد کی نظموں میں، مخدوم کی نظموں میں اس میلان کو دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن بات غزل کی ہو رہی ہے۔1960کے بعد کی غزلوں میں اس نوع کی مثالیں مل جاتی ہیں۔ روشن خیالی کی اس تحریک یا رجحان نے ذہنوں کو خوب خوب پامال کیا۔
آج کی غزلوں میں شاعروں کے ذہنی میلان کو دیکھتے ہوئے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ان کے یہاں سرفرازی یا ناکامی جو بھی ہے، اس کا تعلق وہ خدا سے جوڑتے ہیں۔ یعنی آج کے غزل گوشعرا نے اپنے عقائد کو آلودہ نہیں ہونے دیا ہے۔ کبھی کبھی شاعر غزل میں خیروشر کی بات کرتا ہے توزمانے پربھی طنزکرتا جاتاہے۔ یہ لہجہ سخت بھی ہوتا ہے اور لطیف بھی۔یہ اشعار شاید میرے موقف کی تائید کریںگے:
رفتہ رفتہ چھٹ گئی گمراہیوں کی ساری دھند
اس طرح کچھ آفتاب حق نما روشن ہوا
(ناز قادری)
بس اتنی خطا ہے کہ ترا نام ہے لب پر
دشمن ترے آمادۂ پیکار کھڑے ہیں
(حماد انجم)
خدا کرے کہ نشانے پہ اپنے جا بیٹھوں
ابھی تو وقت کی لچکی ہوئی کمان میں ہوں
(شہپررسول)
خدا کی راہ میں دستِ دعا پھیلا کے بیٹھا ہوں
سنا ہے رحمتیں، مجبور دِل کا ساتھ دیتی ہیں
(ظفر عدیم)
سو خوف زمانے کے سمٹ آئے ہیں دل میں
بس ایک خدا پاک کا ڈر ہی نہیں آتا
(ارشدعبدالحمید)
صدیوں سے بھی عظیم تھی لمحے کی زندگی
جب جی گیا تھا میں بھی مدینے کی زندگی
(فریاد آزر)
کرامت دیکھ کر اللہ والوں کی ہوئے قائل
جو کہتے تھے میاں اعمال قرآنی سے کیا ہوگا
(طارق متین)
سوچا کہ دیکھیں تجھ سے مفر کی ہے کوئی راہ
صد شکر چھان ڈالا کوئی راستہ نہ تھا
(شمیم عباس)
انسان کے پُرزے ہوئے، فولاد کے ٹکڑے
ملبوں سے مگر نکلا ہے قرآن سلامت
(اَشہر ہاشمی)
مزہ تو یہ ہے انھیں بھی نوازتا ہے رب
جو اس جہان کو رب کے بغیر چاہتے ہیں
(طاہرفراز)
حصار توڑ کے باطل کی ہر شریعت کا
بساط حق پہ میں مدت سے اعتکاف میں ہوں
(نوشادکریمی)
ان مذکورہ بالا اشعار میں مختلف اسالیب میں اللہ کی ربوبیت اور اس کے وجود کا اقرار ملتا ہے۔ آج کی غزلیہ شاعری میں کم سے کم ایسے مشورے تونہیں ملتے کہ:
رات بھر پی کے لڑکھڑاتے رہو
صبح مسجد میں سر جھکاتے رہو
(محمدعلوی)
نہ اتنے زورسے سوچو کہ جاگ اٹھے وہ
خدا ابھی ہمیں تخلیق کرکے سویا ہے
(شجاع خاور)
لیکن علوی کے یہاں حمدیہ اشعار بھی ہیں اس لیے ان پر کوئی الزام دھرنا درست بھی نہیں۔ شجاع خاور کے یہاں بھی عقیدے کا اعتراف ملتا ہے اورکہیں کہیں تیکھے لہجے نے اس اعتراف کو مجروح بھی کیا ہے۔
آج کی غزلوںمیں ایسے مضامین بھی ملتے ہیں جو تصوف کے مضامین سمجھے جاتے ہیں۔ جیسے خودی، خوداری، اناپرستی، ترک دنیا، ایثار، قناعت پسندی، حب الٰہی، ذکر الٰہی اور قلندری وغیرہ۔ اگر اسے تصوف سے الگ کرکے بھی دیکھیں تو یہ مضامین انسانی زندگی میں روشنی کا کام کرتے ہیں۔ موسیو بریماں (Bremond) نے Prayer and Poetryکے نام سے ایک کتاب لکھی تھی جس کاحوالہ انگریزی نقادD.G. Jamesنے اپنی کتاب Scepticism and Poetryمیں تفصیل سے دیا ہے۔ بریماں(Bremond)کا یہ نظریہ ہے کہ شاعرانہ ادراک بنیادی طورپر صوفیانہ ادراک کی ایک صورت ہوتی ہے اور شاعر کے شعور کا نقطۂ عروج ایک عالم عبادت ہے۔ اسی طرح ڈن (Donne)اور ملٹن نے مذہبی افکار واقدار کو اپنی تخلیقات میں جگہ دی۔ٹینی سن (Tennyson) نے بھی خدا کی وحدانیت کے تصور کو تسلیم کیا۔ آرنلڈ اور میریڈتھ (Merridith) نے توستاروں کے مربوط نظام کواخلاقی احکام کی تعمیل اور فرائض کی تکمیل کے لیے ایک سبق تصور کیا۔ ہم سب کو بھی قرآن کے ذریعے باربار کائنات کے نظام اور زمین وآسمان کی نشانیوں پرغور وفکر کی دعوت دی گئی ہے۔ نئے اور مشہور زمانہ شاعرونقاد ٹی ایس ایلیٹ کی سب سے مشہور نظم ویرانہ (The Wasteland)کاتو مرکزی خیال ہی یہ ہے کہ آزادی اور انسانیت کی تکمیل محض مذہبی ایمان اور ایثار نفس کے ذریعے ہوسکتی ہے۔ اسی طرح اس کی نظم Four Quartetsکا موضوع بھی یہ ہے کہ یہ جو سلسلۂ حدوث ہے اس سے مذہب ہی انسان کو نجات دلاسکتاہے۔ اگراسلامی تصوف کے حوالے سے گفتگو کریںتویہاں کم ازکم چھ مثالیں پیش کرنا چاہوں گا جن کا ذکر قرآن مقدس میں ملتاہے۔
فقر    :
اصل حق ان حاجت مندوں کا ہے جو مقید ہوگئے ہوں اللہ کی راہ میںاور وہ لوگ کہیں چلنے پھرنے کا امکان  نہیںرکھتے۔  
(پارہ3،آیت2,3)
ایثار   :
اوروہ اپنے نفسوںپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خودانھیں حاجت ہو۔
 (سورہ حشر،آیت9)
توکل  :
بیشک اللہ ایسے اعتماد کرنے والوں سے محبت فرماتے ہیں۔
( پارہ۴، آیت159)
ترک دینا:
اوردنیاوی زندگی توکچھ بھی نہیں مگرصرف دھوکے کا سودا ہے۔
(پارہ4،آل
عمران،آیت185)
ذکرالٰہی  :
میراذکر کرومیں تمھارا ذکرکروںگا اورتم میرا شکرکرو اور کفران نعمت نہ کرو۔
(پارہ،2آیت،152)
حبِّ الٰہی  :
اورجومومن ہیں ان کواللہ کے ساتھ قوی محبت ہے۔
(پارہ2،165)
   مذکورہ افکاراسلامی کی روشنی میں چنداشعار اور پیش کیے جاتے ہیں:
ہمیں خبر تھی زباں کھولتے ہی کیا ہوگا
کہاں کہاں مگر آنکھوں پہ ہاتھ رکھ لیتے
(آشفتہ چنگیزی)
متاعِ صبر و توکل پہ جینے والوں کو
کسی سخی کی عطا بھی گراں گزرتی ہے
(شمیم طارق)
دعوت تو بڑی چیز ہے ہم جیسے قلندر 
ہر ایک کے پیسے کی دوا بھی نہیں کھاتے
(منوررانا)
وہ فقیری صبر و استغنا کی صورت آئی تھی
یہ فقیری درہم و دینار لے کر آئی ہے
(فرحت احساس)
غبار اشک مری چشم بے خطا سے نکل
مرے غنیم کریں گے یہاں وضو تجھ سے
(رئیس الدین رئیس)
فقیری اورامیری،توکل اور صبرواستغنا، یہ سب مضامین تصوف ہیں جن کا سیدھا تعلق اسلامی افکار سے ہے۔ دوتین اشعار اور ملاحظہ کیجیے:
مطمئن ہوگئے آداب شہیری لے کر
ہم نے کچھ بھی نہ لیا اوج فقیری لے کر
(راشد طراز)
دنیا یہی دنیا ہے تو پھر کیا ہے یہ دنیا
عقبیٰ کے لیے کیوں نہ میں دنیا سے گزر جاؤں
(حماد انجم)
میرے قدموں میں ہے دنیا کہ بنا لو اپنا
اور تمنا یہ مری ہے کہ میں تیرا ہو جاؤں
(جاوید ندیم)
خیر سے صبر و توکل ہے قرینہ میرا
کون کہتا ہے کہ دشوار ہے جینا میرا
(رئیس الدین رئیس)
ذرا دیکھو ہماری بادشاہت
فقیری میں خزانہ بولتا ہے
(اسدرضوی)
یہاں ہر شعر کی اپنی انفرادیت اور معنوی جہت ہے۔ اس میں الگ الگ شعر کی صراحت نہیں کی جارہی ہے۔ کوشش یہ کی گئی ہے کہ منتخب اشعار پیش کردیے جائیں تاکہ مطلع کچھ صاف ہوجائے۔ یہاں تشریح کا موقع نہیں۔
فقرواستغنا کوشاعرمشرق نے رسول مکرمؐ کی دولت تسلیم کیاہے۔ اسلامی تعلیمات میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ اس حوالے سے علامہ کے بھی اشعار دیکھتے چلیں جہاں سے آج کے غزل گویوں نے کسب فیض کیاہے:
فقر و ذوق و شوق و تسلیم و رضا ست
ماامینیم، این متاعِ مصطفیؐ ست
باسلاطیں برفتد مردِ فقیر
از شکوہِ بوریا لرزد سریر
تری خاک میں ہے اگر شرر تو خیال فقر و غنا نہ کر
کہ جہاں میں نانِ شعیر پر ہے مدارِ قوت حیدری

مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
ان اشعار میں اقدارحیات کے جونقوش ہیں، وہ زندگی کرنے میں روشنی کا کام کرتے ہیں۔ شاعرجب اوج فقیری کو نقطۂ ارتفاع اور آداب شہیری تصور کرتاہے تویہ محض اس کاانفرادی رویہ نہیں رہ جاتابلکہ یہ ایک ضابطۂ حیات بن کر بنی نوع انسان کی شریانوں میں سرایت کرجاتاہے۔ شاعر جب صبرواستغنا یامصلحت کوشی سے اجتناب کی بات کرتاہے تویہ اُس کا انفرادی طریقہ زندگی نہیں رہ جاتا بلکہ اس کا نفوذ معاشرے میں بھی ہوتاہے۔ پروفیسر ممتازحسین لکھتے ہیں:
’’تخلیقی ادب کی جہاں یہ ایک بنیادی خصوصیت ہے کہ وہ ایک آزادشخصیت کی خودمتحرک (Self Motivated)تخلیق ہوتی ہے، وہاں اس کی دوسری بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ خصوص سے عموم کی طرف اورمحسوس سے معقول کی طرف سفر کرتی ہے اوراسی کے ساتھ ساتھ تاریخی اور مقامی حدود سے بلندہونے کی کوشش کرتی ہے۔‘‘(نقدحرف ازممتازحسین:1985،ص151)
  اسی طرح جب شاعر تشکیک، کفروالحاد یامذہب بیزاری کی بات کرتاہے تو اس کا سفر بھی انفراد سے معاشرے یا اجتماع کی طرف ہوتاہے اسی لیے حالی نے کہا تھا کہ جب شاعری کا مذاق بگڑجاتاہے تواس کا اثر معاشرے پربھی پڑتاہے۔ ہمارے پیش روشاعروں میں اس نوع کے شاعروں کے امام جوش ملیح آبادی رہے ہیں:
یہ شاعری ہے عرش کی بازی گری نہیں
یعنی خدا نخواستہ پیغمبری نہیں
شبیر حسن خاں نہیں لیتے بدلہ
شبیر حسن خاں سے بھی چھوٹا ہے خدا
اسی طرح ن م راشد کہتے ہیں:
خدا کا جنازہ لیے جارہے ہیں فرشتے
اسی ساحر بے نشان کا/جومغرب کاآقاہے مشرق کا آقا نہیں ہے
ساحر کے مطابق:
عقائد وہم ہیں مذہب خیال خام ہے ساقی
ازل سے ذہنِ انساں بستۂ اوہام ہے ساقی
ن م راشد کے پہلے مجموعۂ کلام ’ماورا‘ کے دیباچے میں بھی ایسے اقوال زرّیں ملتے ہیں۔آپ بھی ملاحظہ کیجیے:
’’دوسرا سبب ہمارا مذہب ہے جس نے ہمیں کافی بالذات ہونا سکھایا۔ اس کا ایک نتیجہ توہے کہ اس میں ہماری انفرادیت کی نشوونما بہت حد تک رک گئی۔ کیونکہ ہرمذہبی خاندان کا بچہ اپنے جسم وروح پر ایک ایسی مہر لے کر پیدا ہوتاہے جو عمر بھراسے ایک مخصوص گروہ سے وابستہ اور ہم آہنگ کیے رکھتی ہے۔ دوسرا نتیجہ یہ ہے کہ ہم اپنے تصورات پر خارجی اثرات قبول کرنے کے قابل ہی نہیں رہے۔‘‘ (دیباچہ: ماورا)
کاش ن م راشد اسلامی نظریہ حیات سے جزوی طورپر بھی واقف ہوتے۔ وہ خارجی اثرات سے ایسے مغلوب ہوئے کہ خود کو نذرآتش کرانے کی خواہش کا اظہار بھی کردیا، جس کا احترام بھی کیا گیا۔
ایسی مثالیں بہت ہیں۔ مذہب کو اوہام سے موسوم کرنا یا رجعت پرستی سے یا پھر مذہب اور متعلقات مذہب کی تضحیک محض ذہن انسانی کے لیے راہ فرار ہے۔ یہ برگشتگی صالح انسانی اقدار کو بھی مجروح کرتی ہے۔ مذہبی اقدار شعور انسانی کی ترتیب وتہذیب کا کام کرتی ہیں۔ مذہب بیزاری رویوں سے تنگ آکر آل احمدسرور کو بھی یہ لکھنا پڑا تھا کہ:
’’اکثر رسالوں میں ایسی نظمیں دیکھنے میں آتی ہیں جن میں خدا کے ساتھ شوخی ملتی ہے یا مادیت کی تبلیغ کی جاتی ہے یا مذہبی قدروں کا مذاق اڑایا جاتاہے یااخلاق کے نظام کوآگ لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘‘ (نئے اورپرانے چراغ، ص30)
سرور صاحب ترقی پسند تھے لیکن مذہبی اور مادی افکار و اقدار کے فرق کو خوب سمجھتے تھے۔
خدا کا شکر ہے کہ1980 تک آتے آتے مذہب بیزار رویوں میں کمی آگئی۔ ایک طرح کا احساس جنم لیا جس میں انسانی فکر میں خدا کی وحدانیت، ربوبیت اور خدا اوربندے کے درمیان حقیقی رشتے مستحکم ہونے لگے۔ اگر بندہ اپنے سرغرور کو جھکاتا بھی ہے تو اس لیے کہ وہ خود کو آخرکار بندہ ہی رکھنا چاہتا ہے۔ بندے کے سرکی عظمت بندگی میں ہے سرگشتگی میں نہیں۔ یہ چند اشعار ملاحظہ کیجیے:
عظمتِ سر کا بھی عرفان ہوا ہے اس دم
سجدئہ شوق جو بندے سے خدا نے مانگا
(ابراہیم اشک)
صحن کے دانے کبوتر چگ رہا تھا اور وہ
صحن کو مہکا رہی تھی سنتیں پڑھتے ہوئے
(عنبربہرائچی)
حادثے اُس کا کیا بگاڑیں گے
جو ترے حفظ میں امان میں ہے
(ماجد دیوبندی)
حوصلہ جنگ کا جب اس نے عطا مجھ کو کیا
یہ بھی اُمید ہے وہ لاکھ سپاہی دے گا
(راشدانور راشد)
تو پھر یہ خلق خدا کس کی اقتدا کرتی
سر غرور اگر میں جھکا نہیں دیتا
(خالد عبادی)
فاصلہ کُفر سے ایمان کا بس اتنا تھا
ہم جو بُت خانے سے نکلے تو مدینہ آیا
(شکیل اعظمی)
ان ہاتھوں میں لاٹھی گر ایمانی ہوگی
پانی پر بھی چلنے میں آسانی ہوگی
(مشتاق صدف)
میرے مشام جاں میں اک تو ہے اور تو
بس جائے دوسرا بھی ایسا خیال کیا
(نوشاد مومن)
بس یہ تیرا ہی کرم ہے جو ہم اس حال میں ہیں
ورنہ کہنے کے لیے گردش حالات بھی ہے
(عمیر منظر)
مذہبی اقدار میں ’’دعا‘‘ کی اہمیت بھی کم نہیں۔ اس سے شخصیت میں انکسار پیدا ہوتا ہے۔ نئی غزلوں میں ’’دعا‘ ‘کو طرح طرح سے برتنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پیش رو شاعروں میں مظہرامام کے یہاں ’’دعا‘‘ کا استعمال مثبت اندازمیں ملتاہے۔ کہیں کہیں لفظ ’’دعا‘‘ کے بغیر بھی اس لہجے کو برتا گیا ہے۔آج کی غزلوں میں دعائیہ لہجہ دیکھیے:
کیا کمی ہے اب تو مجھ پر منکشف ہو اے خدا
حرف سب اشکوں سے تر لیکن دعا نامعتبر
(ظفرمرادآبادی)
اندھیروں کی سرحد کی پہچان دے
کہاں سے کہاں تک اجالا کروں
(ریاض لطیف)
پہلو سے تمکنت ہو عیاں جس میں اے خدا
میرے لبوں کو عمر بھر ایسی ہنسی نہ دے
(شمس رمزی)
اے خدا اس کو کہیں کوئی کنارا مل جائے
ناؤ اک چھوڑی ہے دریا میں سہارے تیرے
(راشدانور راشد)
جب آنکھ اشک ندامت میں ڈوب جاتی ہے
دعا کا پیڑ بہت بارور نکلتا ہے
(طارق متین)
اُس کو برباد کر دے گی مغروریت
اے خدا اس میں کوئی کمی چھوڑ دے
(ملک زادہ جاوید)
ہاتھ پھیلا کر دعائیں مانگتا ہوں روز و شب
اور کر دیتا ہوں ان کو دشمن جانی کے نام
(عبیدالرحمن)
نہیں میری کشتی میں پتوار کوئی
ہواؤں کو میرا نگہبان کر دے
(فراغ روہوی)
ساحل کے آس پاس بھنور ہے تو کیا ہوا
اک شمع جل رہی ہے دعا کے حصار میں
(اظفرجمیل)
مفلسی ڈھانپ لوں اپنی تری عزت رکھ لوں
مجھ کو چھوٹی ہی سہی ایک ردا دے یا رب
(عاصم شہنواز شبلی)
مرے خدا تو مجھے اپنا معترف رکھنا
میں جان بوجھ کے دنیا سے انحراف میں ہوں

(نوشادکریمی)
جو لوگ اسلامی افکار سے خوف کھاتے ہیں وہی مذہب کو فرسودہ اور محض رسم ورواج کا مرقع سمجھتے ہیں۔ دراصل اسلامی افکار تہذیب فطرت انسانی کا کام انجام دیتے ہیں۔ اگر وہ لوگ علامہ اقبال کے طرززندگی اور وضع لباس وبودوباش کو دیکھیں؛ نیز ان کے علوم جدید سے اکتساب فیض کوسامنے رکھیں تو بات سمجھ میں آجائے گی کہ وہ کتنے جدید تھے اور کتنے قدیم۔ انھوں نے اسی قدیم وجدید کے تصور کو ہم آہنگ کرنے کے لیے تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ لکھی۔ یہ بحث طویل ہوسکتی ہے اسی لیے اس کتاب کے آخری خطبہ بہ عنوان ’’کیا مذہب کا امکان ہے‘‘ سے صرف ایک اقتباس پیش کرکے اپنی گفتگو آگے بڑھاؤں گا:
’’عصرحاضر کا انسان اگرپھر سے وہ اخلاقی ذمے داری اٹھاسکے گا جوعلوم جدید کے نشوونما نے اس پر ڈال رکھی ہے توصرف مذہب کی بدولت۔ یوں ہی اس کے اندر ایمان ویقین کی اس کیفیت کا احیا ہوگا جس کی بدولت وہ اس زندگی میں ایک شخصیت پیدا کرتے ہوئے آگے چل کر بھی اسے محفوظ وبرقراررکھ سکے گا۔ اس لیے مذہب،یعنی جہاں تک مذہب کے مدارج عالیہ کا تعلق ہے، نہ تو محض عقیدہ ہے نہ کلیسا۔ نہ رسوم وظواہر۔‘‘
تصوف کا ذکر تو میرے مضمون میں ایک طرح سے ضمنی طور پر آیاہے۔ میں اسلام کے ان افکار واقدار کی چھان پھٹک کرنا چاہتا ہوں جن سے انسانی زندگی کو صحیح سمت ورفتار ملتی ہے۔ صالح معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے۔ اسلام میں ترک دنیا کا مطلب رہبانیت قطعی نہیں۔ بلکہ یہاں مقصد یہ ہے کہ تنہائی میں یکسوئی کے ساتھ ذکرالٰہی کیاجائے۔ خودہمارے رسولؐ کا غارِحرا میں عبادت کرنا؛ یا رات میں اٹھ کر عبادت میں مشغول ہونا، اسی ترک دنیا اور یکسوئی کو ظاہر کرتاہے۔ یہاں تک کہ اصحاب صفہ کا ایک جگہ جمع ہونا بھی اس بات کو ظاہر کرتاہے کہ اللہ کے رسولؐ اس جماعت کے لیے ہمہ وقت عبادت میں منہمک رہنے کو مستحسن سمجھتے تھے۔ سورئہ انعام اورسورئہ کہف میں ایسے لوگوں کوحقارت کی نظر سے دیکھنے سے منع کیا گیا ہے۔
1980 اوراس کے بعد کی غزلوں میں ایمان کا بھی اچھوتا مضمون ملتا ہے۔ یہ ایک مثبت پہلو ہے کہ ہماری نسل کے غزل گویوں میں الحاد وتشکیک کے عناصر تقریباً ناپید ہیں۔
کوئی تو ہے کہ جو مجھ کو اجالے بخش جاتاہے
بظاہر میں کسی تاریک ٹاپو میں اکیلا ہوں

(عنبربہرائچی)
کشادہ ہونے لگے آسماں کے دروازے
فرشتے لے کے صحیفے زمیں پہ آنے لگی

(مہتاب حیدر نقوی)
سب ترے رحم و کرم پر منحصر ربِّ جلیل
میں، مری خاموشیاں بھی، طاقتِ گفتار بھی

(اکرم نقاش)
دل میرا کہ قرآن سناتی ہوئی تتلی
برباد نہ ہوجائے یہ اللہ کی بستی

(رؤف رضا)
مرے پاس کوئی عصا ہے نہ تیر
مگر وہ علی کُلِّ شیئٍ قدیر

(نعمان شوق)
پتھر میں بھی کیڑوں کو جو دیتا ہے ہری گھاس
بدخواہوں سے کہہ دو کہ وہی میرا بھی رب ہے

شمیم طارق
اسلامی افکار آج کی غزلوں میں جگہ جگہ ملتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی تلمیحی طورپر بھی جنگ بدر ، ہجرت،مسلمان جری سپاہی جیسے خالد بن ولید، محمدبن قاسم، طارق بن زیاد وغیرہ کاذکر آیاہے۔اسی طرح کربلا، صحرا، ابابیل وغیرہ کا ذکر بھی خوب ہواہے۔ اس کے ذیل میں یہ اشعار پیش کیے جاسکتے ہیں:
فتح لشکر سے بہت پہلے چلا کرتی تھی
سربریدہ کبھی لڑتے تھے سپاہی اپنے

(فصیح اکمل)
ہم لوگ مختصر تھے تو سب کی نظر میں تھے
کثرت ہوئی تو صرف نظر ہو کے رہ گئے

(فرحت احساس)
مجھے بھی لمحہ ہجرت نے کر دیا تقسیم
نگاہ گھر کی طرف ہے قدم سفر کی طرف

(شہپررسول)
صحرا کی خاک اس کی جبیں سے ہے مرتّب
آشفتہ سر طراز بھی رکھتا ہے اک مثیل

(راشد طراز)
عجب نہیں کہ یزید آئیں پھر یزید کے بعد
کوئی حسین قبیلے میں تم بچا رکھنا

(سلیم انصاری)
وقت شاید پھر وہی تاریخ دہرانے کو ہے
پھر لہو میں ریگزار کربلا روشن ہوا

(ناز قادری)
یہ فوج جو کذابوں کے خیمے سے چلی ہے
اس کے لیے درویش کی تلوار بہت ہے

(عین تابش)
جس کی ہر اک سانس سے اٹھتی  رہی تکبیرحق
دشمنوں کو نوک نیزہ پر وہ سر اچھا لگا

(شمس رمزی)
تول کر رکھ دیا منقار پر معیار حیات
کون سی روح تھی نا چیز ابابیلوں میں

(منظراعجاز)
اسی طرح فرات اور غارحرا کو بھی نئی غزلو ںمیں جگہ دی گئی:
فرات جاری ہے پھر کربلا کی آنکھوں سے
فراز کوفہ میں پھر عید کرنے آیا ہوں

(تفضیل احمد)
جب ہمارے سامنے ہجرت کا منظر آگیا
یوں ہوا محسوس دل سینے سے باہر آگیا

(اشفاق قلق)
اندر آکر دیکھ کبھی تو
مجھ میں بھی اک غار حرا ہے

(قمرصدیقی)
حضرت ابراہیمؑ کے بے خطرآگ میں کود جانے اور حضرت اسماعیلؑ کے ایڑیاں رگڑنے اور اس سے چشمہ پھوٹنے کو بھی تلمیح کے طور پر استعمال کیا گیا اور یہ سب اسلامی تاریخ کے تلمیحی اشارے ہیں:
بے خوف و خطر کود گئے آگ میں ہم تو
اب کام ہے اس کا اسے گلزار وہ کردے

(ابراہیم اشک)
ایڑیاں تم رگڑ کے تو دیکھو
چشمہ ہوگا رواں راستے میں

(رفیق راز)
اِسی طرح فاقہ کشی میں حضور ؐکا پیٹ سے پتھر باندھنا بھی ہماری نئی غزل میں تلمیح کی صورت میں کہیں کہیں نظر آتا ہے۔ اس تاریخی تناظر کو اِن دو اشعار میں دیکھا جاسکتا ہے:
ہمارے پیٹ کے پتھر پہ طنز مت کرنا
ہمارے گھر میں پیمبرؐ کی رسم آئی ہے

(شان الرحمن)
شکم سیرو! ذرا قابو رکھو اپنی ڈَکاروں پر
کسی نے پیٹ سے ممکن ہے پتھر باندھ رکھا ہو

(معین شاداب)
ہمیں یادرکھنا چاہیے کہ کوئی فن پارہ خلا میں پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے محرکات میں معاشرہ اورمعاشرے کی تہذیب اور فنکار کے تجربات سب شامل ہوتے ہیں۔ مادی حالات بھی شامل ہوتے ہیں لیکن سچا فنکار صداقتوں کے نقوش کواپنی تخلیقی بصیرت کا حصہ بناتاہے۔ مذہب کو شاعری میں افادی نقطہ نظر سے پیش کرکے علامہ اقبال نے یہ ثابت کردیا کہ خالص مذہبی افکار بھی شعری فن پارہ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ البتہ فن پارہ واقعی فن پارہ بن جائے یہ ایک چیلنج بھی ہے۔ اس میزان پر دیکھیں تو انیس کے مراثی بھی صالح اقدار و افکار کو تخلیقی اور فنی رموز کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ شاعری بہ ذات خود بھی عرفان انسانی کا ذریعہ ہوتی ہے اور مذہبی افکار سے بھی انسان ادراک حقیقت کا کام لیتا ہے۔ خالص تخیل یعنی Imaginationآدمی کو محض ہوا میں اڑاتا ہے، جبکہ مذہبی افکار والی شاعری آدمی کو اپنی اصل حقیقت میں جھانکنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اگر ہم شاعری کے جمالیاتی پہلو کوسامنے رکھتے ہوئے کانٹ کے Immediate Pleasureوالے فلسفے کو اہم سمجھیں گے توشاعری بھی صحافت بن کر رہ جائے گی۔ ہاں، اس بات سے انکار نہیں کیاجاسکتاکہ شاعری ذہنی مسرت بھی فراہم کرتی ہے۔
سرفلپ سڈنی(Philip Sidney)نے شاعری کی مدافعت میں ایک رسالہ لکھا تھا جو سولہویں صدی کی نشأۃ ثانیہ میں زیربحث رہا۔ شاعری کے خلاف اعتراضات سامنے آئے۔ اخلاقی اورمذہبی بنیادوں پرسڈنی نے شاعری کی مدافعت کی۔ شاعری کو کردار کے لیے مضر تصور کیاجاتا تھا اور اسے جھوٹ کا ماخذ سمجھا جاتاتھا۔ سفلی جذبات کو بھڑکانے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ ہمیں حالی اورآزاد کے خیالات بھی سامنے رکھنے چاہیے۔ بیشک خالص جذبات کی تسکین اورسطحی خیالات کی عکاسی اگرشاعری میں مرکزی حیثیت رکھتی ہو توایسی شاعری دو رازکار ہے۔ ایسی صورت میں اگر ہم غزلوں میں ایسے مذہبی اوراخلاقی اقدار کی تلاش کرتے ہیں تو شاید اس پُرآشوب ماحول کی یہ ایک اہم ضرورت ہے۔ کیا آج ہمیں الوہی جو ہر(Divine Essence) کی ضرورت نہیں؟ کیا باطن کی آلائشوں کے تزکیے کے لیے ایسے اشعار بے معنی ہیں:
اگر انار میں وہ روشنی نہیں بھرتا
تو خاکسار دم آگہی نہیں بھرتا
(رؤف خیر)
ہاتھوں میں آسمانی صحیفوں کے باوجود
عالم تمام حمد و ثنا کے بغیر تھا
(احمدکمال پروازی)
اے خدا بھیج دے اُمید کی اک تازہ کرن
ہم سرِ دشتِ دعا ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں
(عزیز نبیل)
مرے خدا مجھے کر دے چراغِ راہ گزر
چراغ گھر کے، سبھی کو ضیا نہیں دیتے
(خواجہ جاوید اختر)
یہ دور وہ ہے کسی کو قبول کوئی نہیں
لہو لہان سبھی ہیں، رسول کوئی نہیں

(شکیل اعظمی)
پیدا نہ اب دلوں میں کوئی امتیاز ہو
سیدھی کرو صفیں کہ مکمل نماز ہو
(شارق عدیل)
ایک دن تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی
پھر کسی نمردو کو مچھر اڑا لے جائے گا
(عطا عابدی)
تیری یادوں سے منور ہے مرا کعبۂ دل
یہ الگ بات ترے در سے الگ رہتا ہوں
(ضمیر یوسف)
موت ہی ایک حقیقت ہے یہاں
زندگی تو ہے فسانے کا سفر
(معید رشیدی)
آخر میں ان لوگوں کے لیے جومذہبی اعتقاد کو شعروادب میں برتے جانے کے خلاف ہیں، Douglas Bushکی زبانی ایک سوال کرنا چاہتاہوں جو اس نے اپنی کتاب Science and  English Poetryمیں ’’اعتقاد کا زوال‘‘ کے عنوان سے قائم کیاہے وہ لکھتاہے:
’’اگر مذہب کے مقرر کیے ہوئے نصب العین کی تحصیل نوع انسانی کی منزل مقصود نہیں تو وہ کون سی منزل ہے جس کی طرف ہم قدم بڑھا رہے ہیں۔ کل پرزوں کی ایک طلسمی دنیا، مجرد افکار کا ایک خلائے محض یاایک آفاق گیر تباہی؟‘‘ (بحوالہ مغربی شعریات، مرتب و مترجم: ہادی حسین،  ص278)

Dr. Kausar Mazhari
Department of Urdu,
Jamia Millia Islamia, New Delhi-25
سہ ماہی فکر و تحقیق،جنوری تا مارچ 2013