جمعہ، 26 مئی، 2017

ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کی صورتِ حال


طلبا کی تعداد کے لحاظ سے چین اور امریکہ کے بعد ہندوستان کا اعلیٰ تعلیمی نظام دنیا کاتیسرا بڑا اعلیٰ تعلیمی نظام ہے۔ تاہم چین کے برعکس ہندوستان کی اعلیٰ تعلیم و تحقیق کی بنیادی زبان عمومی طور پر انگریزی ہے جس سے اس کی وسعت دوسری زبانوں میں کی ہوئی تحقیق کے مقابلے بڑھ جا تی ہے لیکن دوسری طر ف یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندوستان میں صرف 11 فیصدعوام کو اعلیٰ تعلیم تک رسائی حاصل ہے۔ اس کے برعکس چین میں 20 فیصد لوگوں تک اعلیٰ تعلیم کی رسائی ہے۔ ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کے اہم اداروں میں یونیورسٹیاں اور ان سے منظور شدہ/ ملحقہ کالج شامل ہیں۔ فی الوقت ہندوستان میں حکومت سے منظور شدہ تقریباً 769 یونیورسٹیاں ہیں۔ ان میں 47 مرکزی یونیورسٹیاں، 123ڈیمڈیونی ورسٹیاں،14اوپن یونیورسٹیاں اور 353 ریاستی سطح کی یونیورسٹیاں ہیں۔ ریاستی یونیورسٹیوں کے اپنے الحاق شدہ کالج ہیں جہاں گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن سطح تک کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کے رجحان سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارا ملک جلد ہی چین کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا سب سے کثیر آبادی والا ملک بن جائے گا نیز ہندوستان معیشت کے میدان میں 7-8 فیصد سالانہ کی اوسط ترقی (Gross Domestic Product) کی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں متوسط طبقے کے درمیان اعلیٰ تعلیم کی مانگ میں اگلے دس برسوں میں 500ملین سے زائد لوگوں کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ہندوستان کے تعلیمی نظا م بالخصوص اعلیٰ تعلیمی نظام کا اصل موقف طبقہ اشرافیہ کی خدمت /مدد فراہم کرنا تھا۔ آزاد ہندوستان میں اعلیٰ تعلیمی نظام کا موقف بدل چکا ہے۔ اب اسے عوام کی معاونت اور فلاح و بہبود کوپیش نظر رکھ کر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ بالخصوص ابھرتے ہوئے نئے تکنیکی منظر نامے کے پیشِ نظر ہمارے تعلیمی نظا م میں جدید کاری اور تبدیلی لازمی ہوگئی ہے۔

جب ہم اعلیٰ تعلیم میں تبدیلی کے سیاق و سباق پر غور کرتے ہیں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ہمارا تعلیمی نظام ایک غیر معمولی تبدیلی کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ اس کی اصل وجہ ہماری بڑھتی ہوئی معیشت و ڈیمو گرافک تبدیلی ہے۔ ہندوستان سال 2020تک دنیا کی سب سے بڑی مڈل کلاس آبادی والے ملک کے ساتھ ایک بڑی معیشت بن کر ابھرے گا۔ گذشتہ دس برسوں میں اہم پیش رفت کے باوجود ہندوستانی اعلیٰ تعلیمی نظام متعدد چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ان میں سب سے بڑا چیلنج طلب اور فراہمی کے درمیان ایک طویل خلا کا ہونا ہے۔ ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلوں کی شرح ( 16فیصد ) دوسرے ہم پلہ ممالک کے نسبتاً کم ہے۔ جب کہ چین میں اعلیٰ تعلیم میں داخلوں کی شرح 26فیصد اور برازیل میں36 فیصد ہے۔ ہمارے یہاں فی الوقت اعلیٰ تعلیم کی دستیابی مانگ کے مطابق نہیں ہے۔ جب کہ ہماری حکومت 2020تک مجموعی داخلے (Gross Enrolment Rate) کی شرح کو 18فیصد سے بڑھاکر 30 فیصد تک لے جانا چاہتی ہے۔ اس ضمن میں دوسری سب سے بڑی مشکل ہمارے یہاں تعلیم کا کمزور معیارہے۔ دراصل ہمارا اعلیٰ تعلیمی نظام معیار کے متعدد مسائل مثلاً اساتذہ کی سخت قلت، غیر معیاری تدریس، فرسودہ اور زمانے سے مناسبت نہ رکھنے والا نصاب ‘ تدریسیات کی عدم احتسابی، معیار کی عدم ضمانت (Ineffective quality assurance) اور تعلیم و تحقیق کو الگ الگ نہ کیے جانے(Segregation of Education and Reserach) جیسے مسائل سے گھرا ہواہے۔

 تحقیق میں جدت کا فقدان اور ان سے وابستہ دیگر بندشیں بھی ہماری مشکلوں میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔ ہمارے یہاں تحقیق میں داخلوں کی شرح اچھی نہیں ہے نیز اعلیٰ معیار کے محققین کا فقدان ہے۔ بین الکلیاتی اور کثیر شعبہ جاتی کام کرنے والوں کو بھی مواقع حاصل نہیں ہوتے۔ ہمارے ریسرچ اسکالروں میں ابتدائی مرحلے کے تحقیقی تجربے کی کمی بھی محسوس کی جاتی ہے۔ ان سب کے علاوہ ہندوستان میں جدّت طرازی کے لیے کمزور ماحولیاتی نظام‘ تحقیق کرنے والوں کو صنعتی سرپرستی حاصل نہ ہونا جیسی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نیز ہندوستان کی مکمل آبادی کو یکساں ترقی اور مواقع تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ نیز سماجی و معاشرتی یکسانیت نہیں ہونے کے سبب ہندوستان کی آبادی ڈیموگرافی کی سطح پر کئی حصوں میں منقسم ہے۔ دوسری طرف کثیرالابعاد عدم مساوات- (Multi-Dimensional Inequality) کے سبب ملک کے وسیع جغرافیائی حصے و طبقے میں پھیلی ہوئی مکمل آبادی کو اعلیٰ تعلیم تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

’ہندوستان میں اقتصادی ترقی‘ -2920  سال کے نوجوانوں کی کثیر آبادی ‘ موجودہ بین الاقوامی صورت حال ‘ وسیع تر عالمی عوامل اور تعلیم کی عالم گیریت وغیرہ وہ عوامل ہیں ‘ جو اگلے 10برسوں میں ہندوستان کے تعلیمی نظام کو نہ صرف متاثر کریں گے بلکہ یہ تحقیق کے لیے مالیہ (فنڈ کی فراہمی ) کی شرائط کو اس قدر بدل دیں گے کہ تعلیمی ادارے ایک تجارت و صنعت کی حیثیت حاصل کرلیں گے۔ ہندوستانی معیشت میں اضافے کے سبب 2025 تک ملک کی کثیر نوجوان آبادی کے درمیان ثانوی و اعلیٰ تعلیم کی مانگ میں خاصا اضافہ ہوگا۔ قیاس یہ ہے کہ ثانوی اعلیٰ تعلیم کی مانگ اس حد تک بڑھ جائے گی کہ مانگ کے مطابق فراہمی مشکل ہوگی۔ثانوی و اعلیٰ تعلیم کے خواہاں وہ لوگ ہوں گے جو حکومت کی مالی معاونت کے بغیر اپنے تعلیمی اخراجات کو بخوبی برداشت کر سکیں گے۔

دراصل معیشت یا گھریلو پیداوار کے اضافے سے ثانوی و اعلیٰ تعلیم کی مانگ میں اضافہ ہونا لازمی ہے۔ یہ شرح اضافہ خصوصاً ان ممالک میں اور زیادہ بڑھ جاتی ہے جن ملکوں میں گھریلو پیداوار (GDP) کی شرح پہلے سے کمزور ہوتی ہے۔ ہندوستان کی مضبوط ہوتی ہوئی معیشت میں پہلی نسل کے تعلیم یافتہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم تک رسائی کا مطالبہ کرے گی۔ آئندہ 10برسوں میں یہاں تقریباً ڈھائی کروڑ خاندان (Household) ایسے ہوں گے جن کی آمدنی 10لاکھ روپے سالانہ سے تجاوز کر جائے گی۔ ظاہر ہے یہ طبقہ اس قابل ہو گا کہ اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم پر ہونے والے اخراجات کو بخوبی برداشت کرسکے گا۔ تا ہم یہ ترقی نا ہموار ہوگی۔ نتیجتاً سب سے بڑی چنوتی یہ ہوگی کہ ہمارے یہاں ایک طرف وہ طبقہ ہوگا جن کے پاس بہتر زندگی کے مواقع میسر ہوں گے۔ دوسری طرف وہ لوگ ہوں گے جن کی بہتر زندگی تک رسائی حاصل نہیں ہوگی۔ پرائمری اندراج کی شرح میں بڑی کامیابی حاصل کرنے کے باوجود بھی آﺅٹ آف اسکول ( Out of School) بچوں کی تعداد افریقی ملکوں کے مقابلے ہمارے یہاں سب سے زیادہ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی 69فیصد آبادی آج بھی اپنے اوپر 100روپیہ روزانہ سے کم خرچ کرتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ عالمی بینک نے ہندوستانی معیشت کو دوہری معیشت کے زمرے میں رکھا ہے۔

ہندوستان ثانوی تعلیم کے حصول کی خواہاں آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ فی الحال ہندوستان کی نصف آبادی سے زیادہ کی عمر ابھی اوسطاً 25 برس سے کم ہے۔ OECDکی ایک رپورٹ کے مطابق 2020 تک دنیا بھر میں 25-34سال عمر والے 20کروڑ لوگ کسی نہ کسی یونیورسٹی سے فار غ التحصیل ہوں گے۔ ان میں 40فیصد چین اور ہندوستان سے ہوں گے۔ اس طرح ہندوستان اور چین عالمی طور پر باصلاحیت لوگوں (Global Talent Pool) کے ایک بڑے تناسب کی نمائندگی کریں گے۔

2020تک ہندوستان میں 4کروڑ لوگ اعلی تعلیم کے لیے کوشاں ہوں گے جو موجودہ تعداد سے تقریبا ڈھائی گنا زیادہ ہوگا۔ گذشتہ دہائی میں ہمارے یہاں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں نمایاں ترقی رونما ہوئی ہے۔ اب ہندوستان اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے والے اداروں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک اور طلبا کی تعداد کے لحاظ سے دوسرا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ تاہم اپنی مثالی ترقی کے باوجود اعلیٰ تعلیم میں مجموعی داخلہ تناسب (Gross Enrolment Number) کے لحاظ سے ہندوستان ابھی بہت پیچھے ہے۔ یعنی یہاں داخلے کاتناسب ابھی بھی 20فیصد تک ہی ہے جب کہ عالمی داخلہ تناسب 30فیصدسے تجاوز کر چکا ہے۔ مجموعی داخلہ تناسب کی سطح پر جب ہم اپنا موازنہ اپنے پڑوسی ملک چین یا برازیل سے کرتے ہیں تو اپنے آپ کو ان ممالک کی صف میں نہیں پاتے۔ 2010کی رپورٹ کے مطابق چین اور برازیل میں مجموعی داخلہ تناسب بالترتیب 26فیصد اور 36فیصدتھا۔

فی الحال ہندوستان میں تقریباً 3کروڑ طلبا و طالبات ثانوی سطح کے اداروں میں اندراج کراچکے ہیں۔ اس حساب سے ہمیں 2020تک 800یونیورسٹیوں اور 40000 کالجوں کی ضرورت ہوگی۔ اتنی تعداد میں یونیورسٹیوں اور کالجوں کا قیام وہ بھی اتنی کم مدت میں ایک دشوار مرحلے کے ساتھ مالی اخراجات کے بوجھ کو بڑھانے والا ہدف ہے۔ اس لیے حکومت نے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے جرأت مندانہ منصوبہ بنایا ہے جس میں پرائیویٹ و بیرونی تعلیمی اداروں کو فروغ دینا اور ان کے قیام میں آنے والی رکاوٹوں کو آسان کرنا شامل ہے۔ ہندوستان میں ثانوی اور اعلیٰ سطح کی تعلیم فراہم کرنے والے اداروں کی درجہ بندی تین قسموں میں کی جاسکتی ہے (1) یونیورسٹی اور یونیورسٹی سطح کے ادارے،(2)کالج،(3)ڈپلوما فراہم کرنے والے ادارے۔ اسی طرح فنڈ کی فراہمی کی سطح پر ان اداروں کو تین زمرے میں رکھا جاسکتا ہے :

ہندوستان میں اعلیٰ تعلیمی ادارے
ادارے کی نوعیت/ تعداد                                     مرکزی      ریاستی      پرائیویٹ    کل تعداد
یونیورسٹی اوریونیورسٹی  سطح کے ادارے              152         316         191         659        
 کالج                                                                669         13024    19930    33023
ڈپلوما دینے والے ادارے                                      0             3207       9541     12748
داخلوں کی فیصد                                               %2.6       %38.6    %58.9    %100
 (ماخذ :بھارت میں اعلیٰ تعلیم :بارہویں پنچ سالہ منصوبہ اور اس کے آگے ، ارنٹ اینڈ نیگ )

دراصل یونیورسٹیوں سے الحاق شدہ کالج ہندوستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کا اہم و مضبو ط ڈھانچہ ہیں۔ طلبا کی ایک وسیع تعداد انھیں ریاستی یونیورسٹیوں سے الحاق شدہ سرکاری اور غیر سرکاری کالجوں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے اپنا رخ کرتی ہے۔یہ تمام کالج کسی نہ کسی یونیورسٹی سے ملحقہ ہوتے ہیں۔ انھیں اپنی ڈگری دینے کااختیار حاصل نہیں ہوتا۔ ہندوستان میں الحاق شدہ کالج بڑی تعداد میں ہیں۔ جہاں ملک کے 90فیصد سے زیادہ انڈر گریجویٹ طلبا 70فیصد پوسٹ گریجویٹ اور 17فیصد ڈاکٹریٹ کے طلبا مندرج ہیں۔ بعض یونیورسٹیوں میں الحاق شدہ کالجوں کی تعداد 1000تک پہنچ چکی ہے۔ الحاق شدہ کالجوں کی اتنی بڑی تعداد کا نظم و نسق اور کوالٹی کنٹرول ایک چیلنج ہے۔ کچھ کالجوں کو چھوڑ کر اکثریت میں معیار کا فقدان ہے۔ اس طرح ریاستی یونیورسٹیاں اپنی مختلف سرگرمیوں کے ذریعے ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کی فراہمی میں ایک اہم کردار نبھاتی ہیں۔ یہ تمام یونیورسٹیاں اپنی متعلقہ ریاستی حکومتوں کے ذریعے مالی امداد حاصل کرتی ہیں۔ یونیورسٹیوں کی مالی امداد کی رقم مختلف ریاستوں میں مختلف نوع کی ہیں۔ لیکن صحیح صورت حال یہ ہے کہ گذشتہ 20برسوں سے ریاستی یونیورسٹیوں کی مالی امداد میں خاصی کمی آئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کالجوں سے حاصل شدہ فیس اور حکومت کی مالی امداد سے ریاستی یونیورسٹیاں تدریسی عملے اور غیر تدریسی عملے کی تنخواہیں دینے کے علاوہ نیا کچھ نہیں کر پاتیں۔ اکثر یونیورسٹیوں میں تدریس اور اکتساب کے لیے درکار لازمی ڈھانچے دستیاب نہیں ہیں۔ ان اداروں میں استعداد رہتے ہوئے بھی تحقیق کی طرف کوئی مائل نہیں ہو پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر طلبا کا لجوں کی بجائے یونیورسٹیوں میں داخلے لینا پسند کرتے ہیں۔ ریاستی یونیورسٹیوں کا زیادہ تر وقت ان سے منسلک کا لجوں میں داخلے اور امتحانات کا نظم ونسق سنبھالنے میں ہی ختم ہو جاتا ہے۔

دوسری طرف نج کاری کے سبب ثانوی تعلیم کے فروغ میں ریاستی حکومتوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پرائیوٹ سیکٹر کی طرف سے نت نئے کالجوں کا قیام عمل میں آ رہا ہے۔ نجی شعبے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں بڑی تیزی سے اپنا جال بچھا رہے ہیں۔ آج ثانوی سطح کے تقریباً 59فیصد طلبا انھیں اداروں میں مندرج ہیں۔ فی الحال پرائیوٹ یونیورسٹیوں کا قیام بڑی تیزی سے عمل میں آ رہا ہے اور ہر سال اس میں تقریباً 40فیصد کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کو درپیش مسائل کو چار زمروں میں رکھا جاسکتا ہے۔

(1)تدریس اور اکتساب کا کمزور معیار،
(2) فراہمی او ر طلب میں خلا،
(3)نا ہموار ترقی اور مواقع تک رسائی،
(4) تحقیق اور جدت طرازی کی کمی۔ 

صحیح معنوں میں ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کو درپیش سب سے بڑا چیلنج اساتذہ کی شدید کمی ہے۔ مختلف رپورٹوں کے سامنے آنے کے بعد یہ اندازہ ہوتا ہے کہ 30-40 فیصد اساتذہ کے عہدے خالی پڑے ہیں۔ زیادہ تر اساتذہ کو موجودہ تعلیمی چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی ٹریننگ نہیں دی گئی ہے۔ ان کے علاوہ تدریس اور اکتساب سے جڑے ہوئے دوسرے مسائل اس طرح ہیں:

٭      فرسودہ اور غیر لچک دار نصاب اور کورس کے مواد اور مہارت کی ترقی میں Employer کی غیر موجودگی، نیز بین الکلیاتی تعلیم کے لیے بہت کم مواقع

٭      ہماری تدریسیات اور اندازۂ قدر (Assessment) کا انحصار کم و بیش رٹ کر یاد کرنے (Rote Learning) اورInput کی بنیاد پر ہونا، طلبا کو تنقیدی سوچ کے لیے راغب نہ کرنا‘ تجرباتی استدلال‘ مسئلہ کوحل کرنے اور باہمی تعاون کے ساتھ کام کرنے نیز ایک وسیع تناظر و بین الکلیاتی مہارتوں ( Skills Transversal) کے مواقع حاصل نہ ہونا۔

٭     طلبا اور اساتذہ کا تناسب میں کافی فرق ہونا۔ دراصل تدریسی عملے کی کمی اور زیادہ سے زیادہ طلبا کے داخلے کے دباﺅ سے طلبا و اساتذہ کا تناسب بگڑ جاتا ہے۔

٭      تحقیق و تدریس کی علیحدگی : طلبا کو ابتدائی مرحلے کی تحقیقی تجربے کی کمی۔

٭     ایک غیر موثر کوالٹی اشورینس (معیار کی ضمانت ) کا نظام، اور ریاستی و مرکزی اداروں، طلبا اور دیگر Stakeholders کی طرف سے احتساب کا مکمل فقدان۔

ان ہی اسباب کی وجہ سے نہ صرف ہندوستان میں بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں Low Employability گریجوٹس کی تعداد روز بہ روز بڑھتی جا رہی ہے۔ دوسری طرف ہمارے ملک میں گریجویشن کے بعد اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے لیے نا کافی سہولیات اورلازمی بنیادی ڈھانچا کا نہ ہونا۔
(بحوالہHigh University enrolment, low graduate employment’, British Council with the Economist Intelligence Unit 2014)

ہندوستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروںبشمول مایہ ناز اعلیٰ تعلیمی اداروں بالخصوص الحاق شدہ کالجوں اور سرکاری یونیورسٹیوں میں یہ مسئلہ ایک عام سی بات ہے۔ گذشتہ دہائی میں 7فیصد سے زائد اوسط اضافے کی شرح کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم کا مجموعی داخلہ تناسب (GER) بہت کم ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق ہندوستان 2020تک اعلیٰ تعلیم میں 30فیصد تک مجموعی داخلے کے ہدف اگر حاصل بھی کر لیتا ہے تو اس صورت میں ہماری یونیورسٹیوں کے پاس اتنی گنجائش نہیں ہوگی کہ ثانوی تعلیم سے مزین ان تمام طلبا کو داخلہ دے سکیں۔ اس پس منظر میں فاصلاتی نظام تعلیم کی اہمیت و افادیت بڑھ جاتی ہے۔ اعلیٰ تعلیم کی اس اضافی مانگ کو پورا کرنے کا یہ واحد طریقہ ہوگا جس کے ذریعے ہم مختلف پروگراموں کی شروعات یونیورسٹیوں میں کر سکتے ہیں۔ ثانوی درجے تک تعلیم یافتہ طلبا کی اتنی بڑی تعداد کے لیے یونیورسٹیوں میں داخلہ کو یقینی بنانا ایک دشوار کن عمل ہوگا۔ ادھر یونیورسٹیوں اور کالجوں میں مانگ کے مطابق مختلف النوع پروگراموں کی کمی کے سبب انجینئرنگ، ٹیکنیکل اور ایم بی اے گریجویٹس کی طلب میں خاصی کمی آئی ہے۔

ملک کے تمام خطوں اور ریاستوں میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کا نیٹ ورک ہونے کے باوجود ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے درمیان بالخصوص شہری اور دیہی علاقوں کے اداروں میں بڑا فرق ہے۔ یہ فرق کثیر الجہت عدم مساوات کے سبب ملک کے مختلف علاقوں، با لخصوص دیہی و شہری آبادی، امیر و غریب اقلیت اور اکثریت، مرد وں اور عورتوں کے درمیان اندراج کی شرح میں اور بھی نمایاں ہو جاتا ہے۔ اس صورت حال میں شمولیتی ترقی کو ہندوستانی تعلیمی اصطلاحات میں ترجیح دینی ہوگی۔ متوسط طبقے میں غیر معمولی ترقی کے ساتھ ہمارے طلبا کے پروفائل میں بھی نمایاں تبدیلی آئے گی جس کے لیے ہماری یونیورسٹیوں کو تیار ہونا ہوگا۔

ہندوستان میں اعلیٰ معیار کے محققوں کی خاصی کمی ہے۔ پی ایچ ڈی اور تحقیقی خطوط پر کام کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ چین کی 30,000اور امریکہ کی 0 25,00 پی ایچ ڈی اسناد کے مقابلے ہندوستان میں صرف 4500پی ایچ ڈی اسناد سائنس و انجینئرنگ کے شعبوں میں ہر سال دی جاتی ہیں۔ ہندوستان میں تدریس و تحقیق کا شعبہ منظم طور پر علیحدہ علیحدہ ہے۔ ہمارے یہاں ان تعلیمی اداروں کی واضح اکثریت دکھائی پڑتی ہے، جہاں طلبا کو تحقیقی تجربات سے مشاہدہ کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ نتیجتاً مستقبل میں وہ اپنے آپ کو تحقیق کی طرف راغب نہیں کر پاتے۔
(بحوالہ: The Future of Higher Education and Opportunities for International Cooperation: British Council)

 یہ وہ تمام دشواریاں و رکاوٹیں ہیں جن کے سبب ہمارے اعلیٰ تعلیمی ادارے عالمی رینکنگ میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں۔ یہاں ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ مندرجہ بالا چیلنجز کے حل کے لیے 12واں پنج سالہ منصوبے کالائحہ عمل بنایا گیا اور بہت حد تک اس پر عمل آوری بھی ہوئی۔ یعنی ہمیں بہتر کار کردگی حاصل کرنے کے لیے ان تھک کوشش کرنی ہوگی تاکہ ہر شعبے میں امتیازی مقام حاصل کر سکیں۔ ا س کے لیے ہمیں اپنے تدریس و آموزش کے معیار کو بلند کرنا ہوگا۔ نیز آموزش کے نتائج (Learning outcomes) پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ تدریس کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے فیکلٹی کی ترقی نیز تدریس و اکتساب میں ہو رہے نئے تجربات و رجحانات سے اساتذہ کی واقفیت و شمولیت لازمی ہے۔ تحقیق و تعلیم کے درمیان جو فرق ہے اس کو ختم کرنا ہوگا اور اُسے ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم کرنا ہوگا بلکہ انھیں ایک دوسرے کے لیے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ تحقیق و تعلیم کے معیار کی بہتری کے لیے بین الاقوامی اشتراک کے رجحان کو فروغ دینا ہوگا۔ تحقیق میں جد ت و ندرت کے لیے صنعت اور تحقیقی اداروں کے درمیان بہتر روابط و شمولیت لازمی ہوگی۔ نیز تمام تحقیقی و تعلیمی اداروں کے نیٹ ورک کو ایک Consortiumکے ذریعے جوڑنا ہوگا۔

بہتر تو یہ ہوگا کہ تعلیم عامہ کے بجٹ کو بڑھایا جائے۔ کم از کم دوسرے ہم پلہ ممالک انڈونیشیا، سری لنکا کے قومی تعلیمی بجٹ کے مساوی کیا جائے۔ تاکہ ملک کے طول و عرض میں اعلیٰ تعلیم کے لیے تمام جدید سہولیات سے مزیّن نئے ادارے کھولے جا سکیں۔ ساتھ ہی ساتھ موجودہ تعلیمی اداروں کی صلاحیت پیمائی (Scaling Capacity) کی جائے۔ انجینئرنگ اور دوسرے ٹیکنیکل کالجوں کے قیام کی جو ایک دوڑ لگی ہے اس پر روک لگائی جائے اور ان ہی کالجوں کے قیام کی اجازت دی جائے جو معیار پر کھرے اترتے ہوں۔ لچک دار اور ہنر سکھانے والے (Skill based Learning) کورسز فراہم کرنے والے اداروں کو مالی تعاون دیا جائے۔ نیز ان اداروں کی طرف لوگوں کو راغب کیا جائے جو ہماری معیشت کی ضروریات کے مطابق کورسوں کا انعقاد کر رہے ہوں تاکہ نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ صحیح معنوں میں ہندوستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کو بین الاقوامی معیار کا بنانے کے لیے کئی سطحوں پر کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔

مختصر یہ کہ ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم مجموعی طورپر بہت اعلیٰ معیار کی نہیں ہے۔ لہٰذا ہمارے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے معیار کو بلند کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ایسا محسوس ہوتاہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں کا معیار اداروں کے ذاتی وسائل مثلاً انسٹی ٹیوٹ کے آخری صفحے پر درج کی ہوئی تفصیلات، فیکلٹی کی تعلیمی ڈگریاں،لائبریری میں کتابوں اور رسالوں کا ذخیرہ، ایک انتہائی جدید (Ultra-modern) کیمپس میں سمٹ کر رہ گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی کمیٹیوں اور ماہرین ِتعلیم نے ہمارے تعلیمی نظام کو درپیش مسائل مثلاً تعلیم یافتہ عوام کی بے روزگاری میں اضافہ، طلبا کی عدم حوصلہ افزائی، کیمپس میں بڑھتی ہوئی بدامنی و نظم وضبط کی کمی، انتظامیہ کے بار بار بدلنے سے درپیش رکاوٹیں، معیار کی کمی وغیرہ کی طرف نشاندہی کی ہے اور ان سب سے بڑھ کر یہ کہ جو کچھ پڑھایا جا رہا ہے اس کی معنویت (Relevance) پر سوالیہ نشان قائم کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست داں اور پالیسی ساز ہمارے تعلیمی نظام میں مکمل تبدیلی کی ضرورت محسو س کرتے ہیں۔ ہاں! آزادی کے طویل سفر کے بعد ہندوستان ایک مضبوط قوم و ملک کی شکل میں ابھر رہا ہے لیکن اپنے آپ کو مکمل طور پر ترقی یافتہ ملک کی صف میں کھڑا کرنے اور ایک مضبوط ہندوستان کی تعمیر کے لیے ہمیں تعلیمی نظام پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ اس مقام و حیثیت کے حصول کے لیے سب سے بڑی طاقت ہمارے انسانی وسائل ہیں؛ جنھیں معیاری تعلیم مہیا کر کے ان کابہتر سے بہتر استعمال کرنا ہوگاکیوں کہ تعلیم ہی قوم کی بقا کا واحد ذریعہ ہے۔

جمعہ، 12 مئی، 2017

نصابِ تعلیم میں انسانی اقدار کی تلاش! از ڈاکٹر مشتاق احمد

عہد حاضر میں عالمی برادری کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا انسانی سماج مختلف اقسام کے تشدد کا شکار ہے اور اس تشدد کی آگ نے یقیناً ہمارے سماج کی صالح وتعمیری اقدار کو شکست وریخت سے دوچار کردیا ہے اور اس کے اسباب پر جب ہم سنجیدگی سے غور وفکر کرتے ہیں تو ہہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ عصر حاضر میں بچوں کی تعلیم کے لیے جو نصاب مرتب کیا گیا ہے اس میں تحفظ انسانیت، اخلاقیات، سماجی مساوات، انصاف پسندی ، اجتماعی شعور اور اسلاف کے کردار وعمل کے اسباق کا فقدان ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں جو تعلیم دی جارہی ہے وہ طلبا کو صرف انفرادی زندگی جینے اور ان کو اپنی منزل تک پہنچانے کا راستہ دکھاتی ہے۔ ہمارا نصاب بچوں کو یہ سبق نہیں سکھاتا کہ ان کے اوپر ملک وقوم کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں، بالخصوص ہندوستان جیسے جمہوری نظام والے ملک میں اگر طلبا کے کردارو افکار میں تضاد رہتا ہے تو وہ کبھی بھی اجتماعی شعور کے مالک نہیں بن سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہماری نئی نسل سماج اور ملک کی بات تو دور وہ اپنے خاندان بلکہ اپنے والدین کے تئیں بھی حساس نہیں ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج نہ صرف مغرب بلکہ مشرقی ممالک میں بھی اولڈ ایج ہوم کا تصور فروغ پارہا ہے۔ ہندوستان جہاں کبھی ’شرون‘ پیدا ہوتا تھا، یہاں بھی اپنے ماں باپ کو اولڈ ایج ہوم پہنچانے والوں کی تعداد لاکھوں میں پہنچ گئی ہے۔

واضح ہوکہ بچوں کی معاشرت کا آغاز خاندان کے اندر ہوتا ہے پھر سماجی روابط کے ساتھ ساتھ اس میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ بچوں کو سماجی یا انسانی رشتوں کا درس اپنے ماں باپ، بھائی بہن اور اساتذہ سے ملتا ہے۔ اس بات پر تمام ماہرینِ تعلیم اور ماہرین علم نفسیات اتفاق رکھتے ہیں کہ بچوں کی نشو ونما میں اس کی بنیادی تعلیم کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ بنیادی تعلیم اس کے ذہن کو زرخیزی عطا کرتی ہے اور ثانوی تعلیم اس کے شعور کو پختگی بخشتی ہے، جب کہ کالج کی تعلیم اس کے اندر غور وفکر کرنے کی قوّت عطا کرتی ہے۔ ظاہر ہے کہ تعلیم کے ان مراحل میں نصاب کو کلیدی حیثیت حاصل ہوتی ہے کہ بچے اپنے نصاب کے سہارے ہی درجہ بہ درجہ سفر طے کرتے ہیں۔ ہم اس حقیقت سے بھی بخوبی آگاہ ہیں کہ انسان کے شعوری فروغ کا محور ومرکز تعلیم ہے، ایسی صورت میں اگر تعلیم کے اندر ہی انسانی ہمدردی اور سماجی شعور کے درس کا فقدان ہوگا تو آخر بچوں کے اندر کس طرح تعمےری فکر ونظر پیدا ہوگی۔ ایک عظیم فلسفی اور ماہر تعلیم سر ہینری واٹسن (1556-1639)نے بچوں کی تعلیم کے لیے خاکہ نصاب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بڑی کارآمد بات کہی تھی کہ تعلیم کا مطلب ہے کہ طلبا کے اندر چھ  خوبیاں پیدا کی جائیں۔ (1) بچوں کو اپنا مذہب اور اپنی تہذیب سکھائی جائے، (2) اس کے اندر تجسس پیدا کیا جائے، (3) اس کے کردار کو مثالی بنایا جائے، (4) اس کے اندر انسانیت کا جذبہ پیداکیا جائے، (5) اس کے اندر قوتِ فیصلہ پیدا کی جائے اور (6) اس کو اخلاقیات کا سبق پڑھایا جائے۔ واضح ہوکہ واٹسن نے یہ بات 1626 میں کہی تھی اور اس وقت کے تعلیمی نصاب میں مذکورہ اسباق کو شامل کرنے کی انھوں نے وکالت کی تھی۔ اگر ہم ان اسباق پر غور وفکر کریں تو یہ عقدہ بہ آسانی اجاگر ہوتا ہے کہ واٹسن نے تعلیمی نصاب میں جن اجزا کی شمولیت کو لازمی قرار دیا ہے ان میں مذہب اور اخلاقیات بھی شامل ہیں، لیکن افسوس ہے کہ عصرِ حاضر میں ہم نے اپنے تعلیمی نصاب کو مذہب اور اخلاقیات کے اسباق سے کوسوں دور رکھا ہے۔ نتیجہ ہے کہ ہماری تعلیم حروف شناسی اور ڈگریوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں تشدد کے واقعات میں روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے ، انسان دوستی کا چراغ بجھتا جارہا ہے اور تحفظ انسانیت کا شعور ختم ہوتا جارہا ہے۔ غرض کہ موجودہ تعلیم کی روشنی سے ایوان انسانیت میں روشنی کی بجائے تاریکی پھیلتی جارہی ہے۔ اسی طرح شوپنہار نے بھی اپنی کتاب ’پریرگا‘ (Parerga) میں اپنے فلسفہ تخلیق، نظریہ حیات انسانی اور جہدالبقا پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ بات کہی ہے کہ ”انسان کی زندگی اسی وقت صحت مند اور صالح عقل سلیم کی آئینہ دار بن سکتی ہے جب بچپن میں اس کی آبیاری صحت مند قدروں سے کی جائے۔“ بلا شبہ جب تک تعلیم کے ذریعے صالح انسان نہیں پیدا کیے جائیں گے اس وقت تک انسانی معاشرہ تحفظِ انسانیت کا گہوارہ نہیں بن سکتا۔ آج باہری دنیا کی بات تو چھوڑیے اب اسکول اور کالج کے احاطے بلکہ کلاس روم میں بھی غیر انسانی فعل کے واقعات رونما ہونے لگے ہیں۔ چند سال قبل امریکہ کے ایک اسکول میں ایک طالب علم نے اپنے دس ساتھیوں کو گولیوں سے بھون ڈالا تھا جب کہ ہندوستان میں چنئی کے ایک اسکولی طالب علم نے اپنی استانی کو ہی محض اس لیے گولی مار دی کہ اس نے سبق یاد نہیں کرنے پر اس کو کلاس میں کھڑا کردیا تھا۔یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ کاش ہم نے بہت پہلے اردو کے ایک دانش ور شاعر اکبر الٰہ آبادی کے اس شعر کی روشنی میں اپنے اسکول وکالج کے نصاب کو ترتیب دیا ہوتا تو شاید کم از کم ہمارے ملک ہندوستان کی اسکولی تعلیم کے نصاب میں انسانی اقدار کے اسباق کا فقدان نظر نہیں آتا۔ اکبر الٰہ آبادی نے نصابوں میں انسانی اقدار اور اخلاقیات کے اسباق نہ ہونے پر اپنی ناراضگی اور فکر مندی کا اظہار یوں کیا تھا: 
ہم ایسی کل کتابیں قابل ضبطی سمجھتے ہیں
کہ جن کو پڑھ کے بیٹے باپ کو خبطی سمجھتے ہیں

اور اکبر الٰہ آبادی نے انسان کی زندگی میں علم کی کیا اہمیت ہے اس پر بھی روشنی ڈالی تھی: 
سب جانتے ہیں علم سے ہے زندگی کی روح
بے علم ہے اگر تو وہ انساں ہے ناتمام
بے علم وہنر ہے جو دنیا میں کوئی قوم
نیچر کا اقتضا ہے کہ بن کر رہے غلام

واضح ہوکہ انسان دو ذرائع سے علم حاصل کرتا ہے، ایک علم بالوحی ہے یعنی مذہبی کتابوں کے ذریعے علم حاصل کرنا، دوسرا علم بالسعی یعنی انسان اپنے معاشرے اور اسلاف کے کردار وعمل کے مشاہدات وتجربات سے حاصل کرتا ہے۔ ہم مذہبی کتابوں میں تو کوئی تبدیلی نہیں کرسکتے جب کہ علم بالسعی میں تغیر زمانہ کے مدِنظر تبدیلی لاسکتے ہیں۔ تمام مذاہب میں تعلیم کو انسانی زندگی کی بقا کا ضامن بتایا گیا ہے۔ مذہب اسلام میں قرآن وسنت کی تعلیم کو فرض قرار دیا گیا ہے اور قرآن وسنت کا علم انسان کو نہ صرف اس کے مقصد حیات سے واقف کراتا ہے بلکہ اسے انسانی حقوق وفرائض سے بھی آشنا کراتا ہے۔ سناتن دھرم یعنی ہندو مذہب تعلیم کا مفہوم کائنات کو سمجھنے اور انسان بننے کی تلقین کرتا ہے۔ عیسائی، سکھ، بودھ اور جین مذہب کی کتابوں میں تعلیم کا مفہوم ایک مکمل انسان کی تعمیرو تشکیل بتائی گئی ہے۔ انگریزی لفظ ’ایجوکیشن‘ (Education) جو لاطینی لفظ Educere سے مشتق ہے کے معنی بچوں کی ہمہ جہت پرورش ہے۔
تعلیمی نصاب کی تاریخ تقریباً تین سو سالہ سفر طے کرچکی ہے اور اس راہ منزل کے سنگ میل کومینس، پستالوزی، روسو، ہربارٹ، واٹسن، مارگریٹ مالیان، فریڈریک فروبیل، ماریا مانٹیسری، سرسیّد، مہاتما گاندھی، مولانا ابوالکلام آزاد، سرو پلی رادھا کرشنن، رابندر ناتھ ٹیگور، مسز اینی بیسنٹ اور ڈاکٹر ذاکر حسین جیسے ماہرین تعلیم نے خاکہ نصاب کی اہمیت وافادیت پر بھرپور روشنی ڈالی ہے اور بالخصوص بنیادی تعلیم کے نصاب کو اخلاقی تعلیم سے آراستہ وپیراستہ کرنے کی وکالت کی ہے۔ بچوں کے لیے بنیادی تعلیم کے طریقۂ کار کے موجد فریڈریک فروبیل جس نے جرمنی میں K.Gیعنی کنڈر گارٹن اسکول کی بنیاد رکھی تھی، اس نے بچوں کی ذہنی نشو ونما میں اخلاقی اسباق اور کھیل وثقافت کو لازمی جزو قرار دیا تھا۔ اسی طرح نرسری اسکول کے موجد مارگےریٹ ملیان نے بچوں کے اندر سماجی شعور پیدا کرنے کی وکالت کی ہے اور مانٹیسری اسکول کی موجد ماریا مانٹیسری جس نے 1907 میں اٹلی میں ایک مانٹیسری اسکول قائم کیا تھا، اس نے بھی بچوں کے لیے طریقہ تعلیم ترتیب دیتے وقت بچوں کی متوازن نشوونما اور ان میں خود انضباطی صفت پیدا کرنے اور ان کے حواس خمسہ کی صحیح تربیت کے اسباق کی شمولیت کو لازمی بتایا ہے۔ ہمارے ملک ہندوستان میں جب پہلا کانونٹ اسکول لوریٹا کانونٹ 1874 میں قائم ہوا تو اس کے نصاب میں بھی اخلاقی اسباق کی اہمیت تسلیم کی گئی۔ بعدہٗ رابندرناتھ ٹیگور اور مسز اینی بیسنٹ نے بھی مشترکہ طور پر اسکولی نصاب ترتیب دیا اور پرائمری تعلیم کے خطوط واضح کیے۔ مہاتما گاندھی نے 1937میں جو اپنا تعلیمی تصور پیش کیا اس میں بھی اخلاقی تعلیم کی وکالت کی اور جب ڈاکٹر ذاکر حسین کی صدارت میں ایک تعلیمی کمیٹی تشکیل دی گئی تو اس کی رپورٹ میں بھی جو بنیادی تعلیم سے متعلق سفارشیں کی گئی تھیں ان میں بھی دستکاری، جسمانی اور اخلاقی اسباق کو شامل کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ اس کے بعد بھی پرائمری تعلیم کے لیے کھیر کمیٹی (1939)، سارجنٹ رپورٹ (1944)، سکینڈری ایجوکیشن کمیشن (1953)، کوٹھاری کمیشن(1966) اور نئی تعلیمی پالیسی(1986) میں بھی بنیادی تعلیم کے نصاب میں انسانی اقدار اور سماجی ومذہبی اخلاقیات کی تعلیم پر زور دینے کی تلقین کی گئی تھی اوران تمام سفارشات کا مقصد صرف یہ تھا کہ تعلیم کے ذریعے ایک صالح فرد پیدا کیا جائے تاکہ اس کی تعمیری فکر ونظر کی بدولت ایک مثالی معاشرہ تشکیل پا سکے۔ ڈاکٹر ذاکر حسین نے 20 اکتوبر 1962 کویونیورسٹی آف جموں وکشمیر کے جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا:

”تعلیم کا مقصد نمو پذیر ذہن اور تمدنی اشیا کے درمیان، جن میں روز مرہ استعمال کی چیزیں، سماجی جماعتیں، جمالیات، ادبی اور تکنیکی کامیابیاں، فلسفہ اور مذہب جیسی چیزیں جو ماحول میں تشکیل پاتے ہوئے ذہن کی تجسیم ہوتی ہیں، شامل ہیں۔ تعلیم نئی نسلوں اور پیڑھیوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہے۔ اپنی کامرانیوں میں زندہ رہنے والے لوگوں اور ان لوگوں کے درمیان رابطہ ہے جن کے لیے کامرانیاں تفہیم کا ایک ذریعہ ہے۔ تعلیم مزید تخلیق کے لیے ایک مہمیز ہے، تکمیل اور خود افروزی کی رہنما ہے۔“    (اعلیٰ تعلیم- ڈاکٹر ذاکر حسین، مترجم مسعودالحق، ص131-132)

پروفیسر ہچینگ(Hutchings) جس نے امریکہ کے تعلیمی نظام میں ایک بڑا انقلاب پیدا کیا ، نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’ یونیورسٹی آف یوٹوپیا‘ میں اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ کسی بھی ملک وقوم کی تقدیر تعلیم کے ذریعے ہی بدلی جاسکتی ہے، لیکن تعلیم اسی وقت با مقصد اور انسانی برادری کے لیے فلاح وبہبود کی ضامن بن سکتی ہے جب اس کا تعلیمی نصاب صحت مند فکر ونظر کا درس دیتا ہو۔ اسی طرح ڈاکٹر المہرسٹ (Elmhirst) کا خیال ہے کہ علم بے کار ہے اگر وہ پُراسرار جتھے یا گروہ کے نجی فیصلے میں رہتا ہے۔ علم میں نجات دلانے والی توانائی اور زندگی بخشنے والی قوت صرف اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب وہ سماجی زندگی اور انسانی شعور کے اسباق سے لبریز ہوتی ہے۔

بلاشبہ تعلیم کا ایک واضح اخلاقی تصور ہے جو انسان کے اندر حقیقی سماجی شعور کو بیدار کرنے کا وسیلہ بنتا ہے اور انسانی معاشرے کو حساس بناتا ہے اور یہی اجتماعی شعور ایک فرد کو انسانی معاشرے کے تحفظ کا علمبردار بناتا ہے لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب ہم بنیادی تعلیم سے ہی اپنے بچوں کے اندر انسانی اقدار اور سماجی شعور کا چراغ روشن کریں گے۔ اس کے لیے طریقۂ تعلیم یعنی نصابی خاکہ کو مفید بخش نظریے کا حامل بنانا ہوگا۔ ڈاکٹر ذاکر حسین کی یہ بات حرف بہ حرف صداقت پر مبنی ہے:

”اگر تعلیم کا مقصد واقعی تعلیم دینا یعنی ذہن کی مکمل نشوونما میں مدد کرنا ہے اور ہماری قومی زندگی کو درپیش کارکردگی اور اخلاقی دیانت داری کے دو بڑے بحرانوں کے تدارک میں معاون ہونا ہے اور یہ مدد صرف تعلیم ہی کرسکتی ہے تو ہمارے تعلیمی اداروں کو اسکول سے یونیورسٹی تک سب کو فعال ذہنی کاموں کے مراکز، مشترکہ تجربات اور مشترکہ اقدار کی برادریاں بننا ہوگا۔ یہ سمجھانے کی غالباً ضرورت نہیں ہے کہ اسکول اور یونیورسٹی دونوں کے کاموں کی حدود، ان کی نوعیت اور ان کی اہمیت الگ الگ ہوگی۔ انھیں اپنے آپ کو مجہول تاثر پذیری کے بجائے خودرو فعالیت کے مراکز بنانے ہوں گے۔ معلومات کے محض حصول کے بجائے معلومات کے استعمال، انفرادی مسابقتی ولولوں کی بجائے خدمت کے سماجی تعاون کے جذبے کے مراکز مےں تبدیل کرنا ہوگا، ذہنی یک سمتی کی جگہ پر عملی انسانی ہمہ جہتی کو اپنانا ہوگا۔“ (خطبہ جلسہ تقسےم اسناد، اتکل ےونےورسٹی کٹک،6 دسمبر1959، مشمولہ کتاب اعلی تعلےم، ص55-56)

جب 1986 مےں نئی تعلےمی پالےسی تےار کی جارہی تھی تو اس مےں بھی موجودہ تعلےمی نصاب بالخصوص اسکولی نصاب میں بڑی تبدیلی کی وکالت کی گئی تھی اور مجوزہ تعلیمی پالیسی کے تحت بنیادی اسکول کے نصاب میں Ten core elements کو شامل کرنے کی تلقین کی گئی تھی اور تمام ریاستوں کی حکومتوں کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ اسکولی نصاب میں ان دس بنیادی اجزا کو خصوصی اہمیت دی جائے۔ یہاں ان دس بنیادی اجزا کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں جو مندرجہ ذیل ہیں:
(1) ہندوستان کا مشترکہ ثقافتی ورثہ
(2) ہماری آئینی اور دستوری ذمے داریاں
(3) قومی تشخص و وقار کے لیے اقدام
(4) ہندوستان کا مشترکہ تہذیبی ورثہ
(5) مساوات، مذہبی رواداری اور جمہوری اقدار کی پاسداریاںٍ
(6) مساوات مرد وزن
(7) تحفظ ماحولیات
(8) سماجی برائیوں اور رسومات کا خاتمہ
(9) چھوٹے خاندان کی اہمیت اور
(10) سائنسی رجحان کا فروغ

مذکورہ نصابی اجزا پر غور وفکر کیجیے تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ مجوزہ تعلیمی پالیسی بنانے والوں کو بھی درپیش یہی مسئلہ تھا کہ ملک کا موجودہ تعلیمی نصاب ناقص ہے اور اس میں ایک بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے مگر افسوس صد افسوس کہ اس نئی تعلیمی پالیسی کے نفاذ کے بعد بھی جو تعلیمی نصاب مرتب کیے گئے اس میں مذکورہ اجزا کی صد فیصد شمولےت نہےں ہوئی۔ دراصل آزادی کے بعد سے اب تک تعلےمی شعبے مےں تجربے ہی تجربے ہورہے ہےں۔ آزادی سے قبل میکالے کی تعلیمی پالیسی جس کا مقصد صرف اور صرف انگریزی حکومت کے لیے دفتری کلرک پیدا کرنا تھا اس نے ہم ہندوستانیوں کو تعلیم کے اصل مطالب ومقاصد سے کوسوں دور کردیا۔ آزادی کے بعد جمہوری نظام ہونے کی وجہ سے حکومت کا بدلنا تو فطری عمل ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ہم اچھی بری تمام چیزوں کو بدلنے کی کوشش شروع کردیتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ حکومت بدلنے کے ساتھ ساتھ پالیسیاں نہیں بدلنی چاہیے، بلکہ میرا مدعا صرف یہ ہے کہ جو پالیسی ملک وقوم کے مفاد میں ہو اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ یورپ کا ایک عظیم ماہر تعلیم رابرٹ موراں جس نے 1904 سے 1926 تک صرف اسکولی تعلیم پر تحقیق کی تھی، اس نے بھی یہ کہا تھا کہ ہندوستان میں جو تعلیم گروکل اور مدارس میں دی جاتی تھی وہ ایک انسان کو مکمل طور پر انسان بناتی تھی اور آج کی تعلیم انھیں حرف شناس بنارہی ہے۔ غرض کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے اسکولی نصابوں میں اخلاقی قدروں کی تعلیم پر زیادہ زور دینا چاہیے۔ اسکول انتظامیہ اور معلم اپنے طالب علموں کو ملک کی تہذیبی وراثت، عظیم رہنماﺅں کے کردار وعمل ، صوفیوں اور سنتوں کے پیغامات کے علاوہ مذہبی اسباق سے روشناس کرائیں۔ طالب علموں کو صرف اسکولی احاطے تک ہی مہذب رہنے کا سبق نہ سکھایا جائے بلکہ ان کے اندر قومی اور سماجی فرائض بالخصوص احساس تحفظ انسانیت پیدا کیا جائے۔ اگر اسکولی احاطے میں طلبا کو نسل پرستی، تشدّد، عدم رواداری اور تعصبات ومنافرت سے پرہیز کرنے کی تعلیم دی جائے تو ممکن ہے کہ ہمارے بچے منفی فکر کے دائرے سے باہر نکل کر تعمیری فکر ونظر کے علمبردار بن جائیں۔ ہندوستان کے ایک معروف سیاسی مفکر راج گوپالاچاری نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ ”اگر ہندوستان کے تمام لوگ اپنے اپنے مذہبوں، سماجی فرائض اور انسانی قدروں پر ایمان داری سے عمل کرنے لگیں تو ملک سے قتل وغارت گری، بدامنی اور فرقہ پرستی کا خاتمہ خود ہی ہوجائے گا۔

بلاشبہہ ہندوستان کی سماجی زندگی میں مذہب کو روح کی حیثیت حاصل ہے اور کیوں کر نہ ہو کہ یہاں رام اور کرشن کا جنم ہوا ہے جنھوں نے انسانی برادری کو آپسی بھائی چارہ اور امن کی تعلیم دی، گوتم بدھ اور مہابیر پیدا ہوئے جنھوں نے سماج سے اونچ نیچ اور بھید بھاﺅ کو مٹا کر ایک مساواتی سماج کا تصور دیا۔ مذہب اسلام کے پیشواﺅں اور صوفیوں نے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلیم کے پیغامات کو گھر گھر پہنچانے کا کام کیا اور ایک انسان کو دوسرے انسان سے محبت سے پیش آنے کا ابدی سبق سکھایا، گرو نانک جی نے ’نہ تو مسلمان نہ تو ہندو‘ کہہ کر سارے انسانوں کو ایک دوسرے کا احترام کرنے کا سبق پڑھایا۔ ایسے کثیر المذاہب، کثیر التہذیب وتمدن والے ملک میں اگر انسانیت دم توڑ رہی ہے اور ہمارا سماج تشدّد کا شکار ہے تو اس مسئلے پر سر جوڑ کر نہ صرف بیٹھنے کی ضرورت ہے بلکہ ملک کے تعلیمی نصاب کو اسباق فلاح بہبود وبشر کے اجزا سے مزین کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ تعلیم کے ذریعے ہی ہم اپنی معاشرتی بیماریوں کو دور کرسکتے ہیں۔


پیر، 8 مئی، 2017

ہندوستان اور بیرونی ممالک میں اردو زبان و ادب کا منظر نامہ


خواجۂ خواجگان کی چوکھٹ، سلاطین و فرمان روا کی کار گاہ عمل، رشیوں اور منیوں کا آستانہ، شاعر و ادیبوں کا فکری گہوارا، فن کاروں و دستکاروں کی نمائش گاہ۔ جس دہلی نے تاریخ کے اوراق ہی نہیں ان گنت ابواب پر اپنے ایسے دستخط ثبت کیے کہ جس کی سیاہی آج تک روشن ہے۔ دہلی جس نے ایک ایسی تہذیب کو جنم دیا جہاں جمنا کے تٹ پر بنسی کی آواز کے ساتھ اذان کی آواز بھی گونجی، اسی تٹ پر گوپیوں نے اشنان بھی کیے اور مُلاّ وضو بھی بناتے رہے۔ گیان دھیان کے ساتھ چِلّوں اور ہوَن کے ساتھ مراقبے نے ہم آہنگ ہو کر دنیا کو کثرت میں وحدت کا پیغام دیا اور اپنی ایک الگ زبان تشکیل دی۔ ایسی زبان جس کی ساخت عرب سے لی گئی قواعد فارس و اصفہان سمیت سنسکرت سے کچھ الفاظ بھاکا کے لیے تو کچھ دراوڑی کے بِرج کے تحفے بھی قبول کیے اور علاقائی بولی ٹھولی کو بھی صیقل کرکے اسے مرصع و مسجع بنا ڈالا اور نام اردو رکھ دیا۔ وہ اردو جس کے خمیر میں خسرو کی پہیلیوں اور کہہ مکرنیوں کی ساحرانہ کشش ہے اور صوفیوں و ولیوں کی خود فراموشی بھی۔ وہ اردو جس کے اشعار ولیوں کی درگاہوں، صوفیوں کے تکیوں، مے خانے کی دیواروں، مساجد کے محرابوں، بادشاہوں کے درباروں سے ہوتے ہوئے پارلیامنٹ کے ایوانوں میں بھی نہایت فخر کے ساتھ بولی، سنی اور سمجھی جاتی ہے۔ آج یہاں دہلی میں اسی زبان کا عالمی جشن ہے جس کی میزبانی قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کر رہی ہے اور ساری دنیا سے میکشانِ اردو زبان و ادب اس سمینار میں شریک ہو رہے ہیں۔فروری اور مارچ کا مہینہ، دہلی میں ادبی بہار کا سیزن ہوتا ہے۔خوشگوار اور پر فضا موسم کے سائے میں ادبی رونق کا چہار جانب چکا چوند کا سماں، اپنی خاموش زبان سے دعوت نظارۂ ادب دیتا نظر آیا۔ 2017 کا مارچ بھی اسی روایت کی پاسداری کرتا ہوا گزرا۔ شہر کی جملہ ادبی و تہذیبی سرگرمیوں کے درمیان قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام18,17اور19مارچ کو عالمی اردو کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں زبان و ادب سمیت تہذیبی سرگرمیاں اپنے عروج پر تھیں افتتاحی پروگرام دہلی کے مشہور پانچ ستارہ اشوک ہوٹل میں منعقد کیا گیا جب کہ 18اور 19مارچ کے تمام پروگرام لودھی روڈ پر واقع اسکوپ کمپلیکس کے خوبصورت آڈیٹوریم میں انعقاد پذیر ہوئے۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم کی قیادت میں منعقد ہونے والے اس عالمی سمینار کا عنوان تھا ’ہندوستان اور بیرونی ممالک میں اردو زبان و ادب کا منظر نامہ‘ اور اس موضوع پر کناڈا، برلن، جرمنی، ایران، سعودی عرب، انگلینڈ، ماریشس، قطر، ترکی، دبئی، امریکہ اور ازبیکستان کے تئیس سے زیادہ سفیر زبان و ادب اور ملک کی تقریباً ہر ریاست سے اردو کے دانشور و اسکالرز نے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے پر مغز مقالے پیش کیے۔ اردو زبان اسی ملک میں پیدا ہوئی اور یہیں پلی بڑھی، یہ ملک کے ہر طبقے کی زبان ہے۔ اردو انسانوں کے درمیان محبت کی زبان ہے۔ یہ ملک گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار ہے اور اردو اسی تہذیب کی ترجمان ہے۔ ان خیالات کا اظہاروزیر مملکت برائے فروغ انسانی وسائل ڈاکٹر مہیندر ناتھ پانڈے نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی چوتھی عالمی اردو کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے اپنی افتتاحی تقریر میں کونسل کے کاموں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہایت خوشی کا موقع ہے کہ قومی اردو کونسل نے اپنی کانفرنس میں پوری اردو دنیا کی اہم شخصیات کو اکٹھا کرلیا ہے جو یقیناً اردو زبان کے لیے خوش آئند ہے۔ میں اس کانفرنس میں شریک تمام مندوبین کا حکومتِ ہند کی جانب سے استقبال کرتا ہوں اور کانفرنس کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر اُدت راج نے کہا کہ اردو ہندوستان کی اپنی زبان ہے اور اس زبان کو کسی مذہب سے جوڑنا اردو کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ سابق وزیر اور ممبر پارلیمنٹ جناب سید شاہ نواز حسین نے اس موقعے پر کہا کہ موجودہ سرکار کے تحت اردو کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی۔ کیوں کہ ہماری سرکار ملک کے تمام شعبوں میں ترقی کی خواہش مند ہے۔ اردو کے فروغ کو ایک تحریک بنا دینے کی ضرورت ہے۔ قومی اردو کونسل اور تمام اردو والوں کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اردو کو ہر گھر میں پہنچانے کا نظم کریں۔ میں برسراقتدار پارٹی کا ترجمان بنایا گیا ہوں لیکن اردو کا پیدائشی ترجمان ہوں اور اس کی فلاح و بہبود نیز ترقی کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتا ہوں۔ اس سے قبل قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے سبھی مہمانوں کا استقبال کیا اور عالمی اردو کانفرنس کی غرض و غایت پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے وزیر موصوف سے 3 مارچ کو یومِ اردو منانے کی منظوری دینے کی بھی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس میں شرکت کرنے والے کئی لوگوں کی یہ خواہش ہے کہ یہ کانفرنس ملک کے باہر بھی ہونی چاہیے۔ اس سلسلے میں انھوں نے سرکار سے مدد کی درخواست کی۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اسکولوں میں کونسل کی طرف سے اردو اساتذہ مہیا کرانے کی بھی یقین دہانی کرائی۔ پروگرام کا باضابطہ آغاز وزیر مملکت برائے فروغ انسانی وسائل ڈاکٹر مہیندر ناتھ پانڈے، ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر اُدت راج، سابق ممبر پارلیمنٹ سید شاہ نواز حسین، پروفیسر شمس الرحمن فاروقی، اسرار الحق قاسمی، پی اے انعامدار وغیرہ نے شمع روشن کرکے کیا۔

کانفرنس کا کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے نامور ناقد و محقق پروفیسر شمس الرحمن فاروقی نے اردو کی تاریخ پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو کے پچہتر فیصد الفاظ سنسکرت سے لیے گئے ہیں۔ اردو کے نامور فکشن نگار سید محمد اشرف نے اس موقعے پر کہا کہ اردو کا بنیادی مسئلہ اردو کی تعلیم و تدریس ہے۔ انھوں نے سرکار سے درخواست کی کہ حکومت کو اس سمت میں کونسل کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنی چاہیے۔

افتتاحی اجلاس کے بعد کناڈا سے تشریف لائے جاوید دانش نے قدیم صنف ’داستان گوئی‘ کی وساطت سے بیرون ملک رہنے والے لوگوں کی جذباتی کیفیت کو نہایت ڈرامائی انداز میں پیش کر کے ایک سماں باندھ دیا۔ افتتاحی تقریب کے آخری مرحلے میں ممبئی سے تشریف لائے رحمان علی اور ان کے ہمنواﺅں نے اردو کے معروف شعرا کے کلام کو اپنی ساحرانہ آواز میں پیش کرکے سامعین کو مسحور کر دیا۔

قومی اردو کونسل کی عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے دن صدارتی خطاب کرتے ہوئے الہ آباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر رتن لال ہانگلو نے کہا کہ اردو زبان پوری دنیا میں رابطے کی سب سے بڑی زبان ہے۔ اسی زبان نے پورے ملک کو جوڑ رکھا ہے۔ قومی اردو کونسل قابل ستائش ہے کہ اس نے نہایت اہم موضوع ’’ہندوستان اور بیرونی ممالک میں اردو زبان کا منظرنامہ‘‘ پر اس عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور اردو زبان کی ترقی کا دور ہے اور ہمیں نئی تحقیق کے ساتھ ساتھ علاقائی تاریخ اور ادب پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ کانفرنس کے دوسرے دن کے دوسرے اجلاس میں سب سے پہلا مقالہ جرمنی سے تشریف لائے ڈاکٹر دویہ راج امیا نے پیش کیا۔ ان کے علاوہ دہلی یونیورسٹی کے ڈاکٹر ساجد حسین، ڈاکٹر فرزانہ اعظم لطفی (ایران)، ڈاکٹر ہاجرہ بانو (مہاراشٹر)، جناب فہیم اختر (برطانیہ)، ڈاکٹر مشتاق احمد (دربھنگہ) اور پروفیسر نعمان خان (بھوپال) نے اپنے مقالے پیش کیے۔ اس اجلاس کی مجلس صدارت میں پروفیسر ہانگلو کے علاوہ رانچی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر شین اختر، دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر چندر شیکھر، پروفیسر زماں آزردہ (کشمیر)، پروفیسر حبیب نثار(حیدرآباد) اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر رضا حیدر شامل تھے۔ پروفیسر شین اختر نے کہا کہ ہندوستان میں اگر مسلمان نہ بھی آتے تب بھی اردو زبان زندہ رہتی۔ یہ زبان اسلامی، ایرانی، ہندی اور دیگر تہذیبوں کے میل جول سے بنی تھی۔ نظامت ڈاکٹر اشفاق عارفی نے اپنے خوبصورت انداز میں انجام دی۔

 کانفرنس کے دوسرے دن کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے ملک اور بیرون ملک سے تشریف لائے سبھی مہمانوں کا استقبال کیا۔ سمینار کے پہلے اجلاس کا آغاز جناب فیروز بخت احمد کے مقالے سے ہوا۔ اس اجلاس میں ماریشس کی تاشیانہ شمتالی، ترکی کے جناب سائی ناتھ وتھال چاپلے، ماریشس کے جناب آصف علی عادل نے مقالے پڑھے۔ اس سمینار کی صدارت پروفیسر ناشر نقوی، جناب مشتاق احمد نوری، ریحان خان (دبئی)، جناب امتیاز احمد کریمی نے کی۔ جب کہ نظامت کے فرائض جویریہ قاضی نے انجام دیے۔ صدارتی خطبے میں ناشر نقوی نے قومی اردو کونسل سے درخواست کی کہ وہ قومی بہادری ایوارڈ یافتہ بچوں کے حوالے سے کتابوں کی اشاعت کا اہتمام کریں۔ امتیاز احمد کریمی اور جناب مشتاق احمد نوری نے اپنے صدارتی خطبے میں اردو اور نئی نسل کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا۔ ریحان خان (دبئی) نے بھی اردو کی موجودہ صورتِ حال پر روشنی ڈالی۔

ظہرانے کے بعد تیسرا اجلاس پروفیسر فاروق بخشی، پروفیسر بیگ احساس، پروفیسر سید سجاد حسین، پروفیسر شبنم حمید اور مہمانِ خصوصی ڈاکٹر ظہیر آئی قاضی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر قمر تبریز نے کی۔ اس اجلاس میں محترمہ وفا یزداں منش (ایران)، جناب مہتاب قدر(جدہ)، جناب محمد امان اللہ ایم بی (چنئی)، معصوم عزیز کاظمی (گیا)، محترمہ جمیلہ (ماریشس) اور ڈاکٹر رجب درگن (ترکی) نے مقالے پڑھے۔ ڈاکٹر ظہیر آئی قاضی نے بے حد پرمغز گفتگو کی اور اردو کی بنیادی تعلیم کو درپیش مسائل پر بھی روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ بنیادی تعلیم مادری زبان میں حاصل کرنے والا اپنے ملک اور تہذیب سے جڑا ہوتا ہے۔ اردو تا قیامت زندہ رہنے والی زبان ہے۔ مجلس صدارت کے دیگر اراکین نے بھی اظہارِ خیال کیا۔ اس سیشن کے بعد اردو کی ہم عصر ادبی و لسانی صورتِ حال پر ایک مباحثے کا انعقاد کیا گیا جس کی نظامت محترمہ وسیم راشد نے کی۔ بحث کا آغاز معروف فکشن نگار پروفیسر حسین الحق نے کیا۔ اس مباحثے میں پروفیسر شریف حسین قاسمی، پروفیسر قدوس جاوید، پروفیسر غضنفر علی اور امریکہ سے تشریف لائے جناب افروز تاج نے حصہ لیا۔ مباحثے کے بعد ایک شاندار مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک اور بیرونِ ملک کے شعرائے کرام نے معیاری کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔

مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل عزت مآب پرکاش جاوڈیکر نے قومی اردو کونسل کے زیراہتمام منعقدہ عالمی اردو کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں کہا کہ ہر زبان بہت پیاری ہوتی ہے اور اردو تو بہت ہی پیاری اور میٹھی زبان ہے۔ یہ کسی خاص مذہب نہیں بلکہ سب کی زبان ہے۔ بہت سی ہندوستانی زبانوں کے میل جول سے ایک ہندوستانی بھاشا وجود میں آئی جس کا نام اردو ہے۔ امیر خسرو کے کلام سے جو کچھ بھی وجود میں آیا ہے وہ آج تک ہم پڑھتے اور سنتے ہیں۔ اردو میں زیادہ سے زیادہ تعلیمی مواد فراہم کیا جانا بہت ضروری ہے کیوں کہ اگر ہندوستانی زبانوں میں نصاب نہیں تیار ہوگا تو اس زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے کہاں سے آئیں گے۔ انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اردو میڈیم اور ہندوستانی زبانوں کے اسکول بند ہورہے ہیں۔ ان اسکولوں کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ ہمارے ذہنوں پر انگریزی کا بھوت سوار ہے۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ انگریز جب ملک سے چلے گئے تو انگریزی زبان ہمارے اندر اور زیادہ شدت سے داخل ہوگئی۔ لوگ یہ سوچنے لگے ہیں کہ بغیر انگریزی کے ترقی ممکن نہیں ہے۔ جب کہ بنیادی تعلیم مادری زبان میں ہونی چاہیے۔ انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ عبرانی بولنے والوں کی تعداد بہت کم ہے لیکن سائنس، میڈیکل، انجینئرنگ اور دیگر علوم و فنون کا سارا مواد عبرانی زبان میں موجود ہے۔ وزیر محترم نے عالمی یومِ خواتین کے موقعے پر شائع ہونے والے قومی اردو کونسل کے نئے مجلے ماہنامہ ’خواتین دنیا‘ اور دو حصوں پر مشتمل نئی کتاب ’اردو صحافت کے دو سو سال‘ کا بھی اجرا کیا۔ محترم پرکاش جاوڈیکر نے قومی اردو کونسل کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اردو کی ترقی کے لیے ٹھوس تجاویز پیش کریں تو حکومت ان پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ اٹھارہ ملکوں سے آئے ہوئے مندوبین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انھو ں نے کہا کہ اردو کو صرف ہندوستان نہیں بلکہ بیرونی ممالک میں بھی فروغ دینے کی کوشش کی جائے گی۔ انھوں نے اس موقعے پریہ بھی کہا کہ میں تمام زبانوں کا احترام کرتا ہوں۔

واضح رہے کہ سہ روزہ عالمی اردو کانفرنس کا افتتاح اشوک ہوٹل میں 17 مارچ کو کیا گیا تھا۔ اس کے بعد کے سارے اجلاس اسکوپ آڈیٹوریم لودھی روڈ نئی دہلی میں منعقد کےے گئے۔ سہ روزہ عالمی کانفرنس میں پر کناڈا سے تشریف لائے جاوید دانش نے اردو کے حوالے سے کچھ تجاویز پیش کیں۔ انھوں نے حکومت اور کونسل کے تعاون سے امریکہ، لندن، دوحہ(قطر) میں غالب چیئر کے قیام کی تجویز رکھی اور ڈیجیٹل دنیا میں اردو کو اور زیادہ بہتر اور موثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ہندوستانی سفارت خانوں میں اردو سینٹرز کے قیام اور اردو کتب و رسائل کی فراہمی کی بھی تجویز رکھی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے عزت مآب پرکاش جاوڈیکر جی کی اردو دوستی کے جذبے کو سلام کیا اور یہ واضح کیا کہ قومی اردو کونسل کی ترقی کا سفر ان کی سرپرستی میں جاری ہے اور آئندہ بھی ان کی سرپرستی میں قومی کونسل ترقی کی نئی عبارتیں رقم کرے گی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وزیرمحترم اردو کی ترقی کے لیے اتنے فکرمند ہیں کہ خود اردو زبان سیکھنے کے خواہش مند ہیں۔ اس موقعے پرغیر ملکی مندوبین کو مرکزی وزیر محترم پرکاش جاوڈیکر،ڈاکٹر ظہیرآئی قاضی اور جناب احتشام عابدی کے ہاتھوں مومنٹو اور توصیفی اسناد بھی دی گئیں۔

اختتامی اجلاس سے قبل مقالات کا سیشن ہوا جس کی صدارت ظہیر آئی قاضی، پروفیسر اخترالواسع، ظہورالاسلام جاوید، پروفیسر عین الحسن، خواجہ عبدالمنتقم، قاسم خورشید اور معصوم عزیز کاظمی نے کی اور نظامت کے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے جناب حقانی القاسمی نے انجام دیے۔ اس موقعے پر محترمہ زینب سعیدی (ایران)، نند کشور وکرم (دہلی)، خاقان قیوم جو(ترکی)، احمد اشفاق (قطر)، شہاب الدین احمد (قطر)، ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری (میرٹھ)، ڈاکٹر ایم سعیدالدین (چنئی) نے اپنے پرمغز مقالات پڑھے اور عالمی سطح پر اردو کی مجموعی صورتِ حال کا جائزہ پیش کیا۔ اردو کے مسائل اور متعلقات کے حوالے سے پرمغز گفتگو ہوئی۔ مقالہ خوانی کے بعد ’شامِ افسانہ‘ کا انعقادکیا گیا جس میں ہندوستان کے ممتاز افسانہ نگاروں نے اپنے افسانے پیش کیے۔اس کانفرنس میں ہندوستان کی بیشترریاستوں کے ممتاز قلم کاروں اور دانشوروں کے علاوہ دہلی کی تینوں جامعات کے طلبہ اور معززینِ شہر نے شرکت کی۔