بدھ، 26 اگست، 2020

شین مظفرپوری کی صحافت: نصف صدی کا قصہ مضمون نگار: ابرار احمد اجراوی

 



ولی الرحمن شیدا یعنی شین مظفر پوری (1920-1996) ہر فن مولا شخص تھے۔وہ مصنف و مدیر اور شہرت یافتہ شاعر و ادیب تھے،انھوں نے ہر صنف پر طبع آزمائی کی۔شعر و نثر، ادب و صحافت، ناول وافسانہ، ڈرامہ وخاکہ، طنز و مزاح، خود نوشت و انشائیہ، کیا ہے جس سے ان کی زنبیل خالی ہے۔ ان کے موضوعات و مضامین کی بھی کوئی تحدید و تعیین نہیں ہے،وہ افسانہ نگار توتھے،مگران کاذہنی وجود صحافت سے عبارت تھا،ان کے افسانے فنی اعتبارسے ذراکمزور بھی تھے کہ یہ بسیار نویسی اور کم سنی کے زائیدہ تھے اور جو لکھا اس پر نظر ثانی کی نوبت بھی کم ہی آئی، مگر ان کی صحافتی تحریروں پرپختگی اور کہنہ مشقی کا نقش ثبت تھا، ان کی صحافیانہ تحریروں پر حک و اضافہ کرنا اور اس پر ایک نقطے کا اضافہ کرنا بھی ہما شما کے لیے نا ممکن سا لگتا ہے۔ صحافت ان کی رگوں میں خون بن کر دوڑتی تھی، انھوں نے پچاس سال سے زائد تک قلم و قرطاس کی محفل روشن کی، ہزاروں صفحات پر ان کی تحریریں ثبت ہیں، اس میں سب سے زیادہ حصہ صحافت کا ہی ہے۔ گرچہ ان کا صحافتی سرمایہ بہت کچھ مجلات و رسائل کی دھول پھانک رہا ہے کہ وہ ایک بے نیازاور خود دار صحافی تھے،شہرت و ناموری کا غم کم پالتے تھے، انھوں نے تین سو سے زائد افسانے لکھے، مگران کی ادبی زندگی کا اول و آخرصحافت ہی ٹھہرا، اسی سے ان کا ذہن لگا کھاتا تھا، انھوں نے اپنی قلمی زندگی کا آغازاخباری صحافت سے کیا اور صحافت ہی ان کا آخری پڑاؤ ثابت ہوا۔ 10 ؍افسانوی مجموعے، دو ناولٹ اور 5؍ ناول، طنز و مزاح کا مجموعہ، انشائیہ،ڈرامہ،خاکہ اور سیکڑوںمضامین، ان تمام تحریروں کے بین السطور میں بھی ان کی صحافیانہ صلاحیتوں کا جوہر نظر آتا ہے۔

شین مظفر پوری کا وطن باتھ اصلی ضلع سیتا مڑھی تھا، یہیں انھوں نے ایک معمولی مذہبی اور کسان گھرانے میں آنکھیں کھولیں، ان کے والد حافظ تھے جو کلکتہ کی ایک مسجد میں امامت کرتے تھے۔تعلیم کی بسم اللہ بھی یہیں ہوئی، اور گاؤں کے مکتب میں ہی اردو، دینیات، فارسی اور قرآن شریف ناظرہ وغیرہ کی بنیادی تعلیم پائی، ان کی تعلیم واجبی اور بہت مختصر تھی، مدرسہ عالیہ کلکتہ سے ثانوی تعلیم پائی اور کلکتہ یونی ورسٹی سے انھوں نے میٹریکولیشن کیا تھا، یہی تھی ڈگری کے حوالے سے ان کی کل کائنات، نہ اعلی اداروں کی سند اور نہ سرمایہ دار گھرانے کی چمک دمک،مگر انھوں نے ڈگریوں سے محرومی کے باوجود زبان و ادب کے نقشے پر اپنی مستحکم شناخت قائم کی۔ان کا ذریعۂ اظہار تو اردوتھا، مگر انھیں اردو، فارسی اور انگریزی ہر ایک زبان پر عبور حاصل تھا۔اور 1937 کے آس پاس ایک بار ان کا قلم جب چل پڑا تو پھر انھوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، مالی تنگ دستی، معاشی بحران، اقتصادی مسائل سے نجات کے لیے انھوں نے بسیار نویسی کا دامن تھاما کہ اسی راہ سے ان کی گزر بسر کا سامان نکلتا تھا،معاش کی تکمیل اور دہنی تسکین کی خاطر 24-24 گھنٹے قلم انگلیوں میں تھامے رہے،اتنا لکھا کہ پٹنہ اور کلکتہ ہی نہیں، دہلی اور لاہور کے رسالوں میں بھی ان کا نام پکی روشنائی سے لکھا جانے لگا۔اپنے ادبی اور صحافتی سفر کی داستان وہ خود اپنی تالیف’آدھی مسکراہٹ‘ کی ابتدائی سطروں میں یوںبیان کرتے ہیں:

’’سنہ 1937 عیسوی میں(بہ عمر ۱۷ سال) بے سان و گمان ادب کا چسکا لگا تو ذہنی اور علمی دونوں اعتبار سے میں ناپخت بلکہ مفلس تھا۔ علمی اعتبار سے تو آج بھی مفلس ہوں اور مفلس ہی مروں گا۔ ہاں تو ادبی دنیا میں جب میںنے آنکھیں کھولیں تو افسانے میں سب سے زیادہ کشش پائی اور ہوتے ہوتے 1940 سے باقاعدہ افسانہ نویسی شروع کردی۔ مروجہ رجحانات کے مطابق میں سمجھا کہ افسانے بس حسن و عشق، غریبی، ناداری اور ظالم و مظلوم وغیرہ ہی کے لکھے جاتے ہیں۔ چنانچہ بعض وہبی صلاحیت کے طفیل اسی ڈگر پہ تیزی سے چل پڑا..... چل پڑا تو چل پڑا۔ مگر کسی خود رو پودے کی مانند۔ قدم بہ قدم، کسی بیساکھی کے بغیر چلتے چلتے 1947 میں وہ منزل بھی آئی جہاں یکا یک محسوس ہوا کہ مقامات آہ و فغاں اور بھی ہیں۔ ذہن و فکر کا انداز، فن کا مزاج اور تحریر کا رنگ روپ اپنے آپ بدلنے لگا۔ تب تک صحافت کو بطور پیشہ اختیار کرچکا تھا۔ آج محسوس ہوتا ہے کہ صحافت نے بھی میرے فکر و فن کو ضرور متاثر کیا ہوگا۔ تحریر میں تیکھا پن آنے لگا۔ اخبارات و رسائل میں طنز و مزاح لکھنے کے بھی مواقع ملے۔‘‘(آدھی مسکراہٹ،ص:5، پٹنہ لیتھو پریس پٹنہ1980)

شین مظفر پوری ایک Self Made Personیعنی خود ساختہ شاعر و ادیب تھے۔ ان کی شخصیت سازی میں کسی خاص شخص یا کسی مخصوص تحریک کا رول نہیں تھا۔وجہ ان کی حد درجہ خلوت پسندی، خود داری، طبیعت کی بے نیازی اور مزاج کی آزادہ روی تھی۔انھوں نے ترقی پسند تحریک اور اس سے وابستہ مصنّفین کا اثر ضرور قبول کیا، مگر وہ کسی ازم یا تحریک سے کلیتاً وابستہ اور کسی لکیر کا فقیر نہیں تھے۔ وہ خود کہتے ہیں:

’’ابتدا سے لے کر اب تک ادب و صحافت میں میرا کوئی راہبر اور استاد نہیں رہا ہے۔ میری حیثیت خود رو پودے کی ہے۔ ‘‘(شین مظفر پوری:شخص اور عکس، ص53)

شین مظفر پوری  مالی بد حالی کا شکار تھے، شاید اسی لیے انھوں نے زیادہ تر کمرشیل فلمی رسالوں میںکام کیا، اور مفت نہیں بالمعاوضہ لکھا،اپنی یاد داشت میںلکھتے ہیں:

’’دریں اثنا لاہوری کمرشیل رسالوں نے مجھے قلیل حق المحنت کا’چارہ‘ ڈالنا شروع کردیا تھا۔ اس طرح ادب کا چسکا کچھ اور بڑھا، مگر یہ ’چارہ‘ تو آٹے میں نمک کے برابر تھا۔ پھر بھی میری افسانہ نگاری کی رفتار تیز سے تیز ترہوتی گئی۔ کچھ شہرت بھی ملنے لگی۔ کیوں کہ درجنوں رسائل میں تواتر کے ساتھ میری چیزیں چھپ رہی تھیں۔ہوتے ہوتے اگست 1945 میں کلکتہ کے ہفتہ وار نقاش میں کام شروع کرکے صحافت کا پیشہ اختیار کرلیا۔ یہ گویا ایک سانحہ ہی تھا۔‘‘

(رقص بسمل،دی آرٹ پریس پٹنہ، ص:8-9، 1993)

شین مظفر پوری اردو کے سنجیدہ حلقوں اور با ذوق قارئین میں اتنے مقبول تھے کہ انھیں ابتدا سے ہی اہم رسالوں سے تحریری معاوضہ ملنے لگا تھا۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’لاہور کے بازار ادب میں انہوں]شبلی بی کام[نے ہی مجھے روشناس کراکر فروختنی (Saleable)  بنایا تھا۔ میری ابتدائی ادبی زندگی (1939) کے دور میں شبلی ہی نے رسالہ بیسویں صدی سے چار آنہ فی صفحہ کے معاوضہ پر میرا معاملہ کرایا تھا۔ غریبی کے مارے ہوئے انہی ایام میں ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے طور پر مجھے معاوضہ کا چسکا لگا۔ ایڈیٹر کی پسند بازار کی طلب کے مطابق زیادہ سے زیادہ لکھ کر زیادہ سے زیادہ معاوضہ پاکر اپنی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرتا۔لکھتا تو میں ملک کے اور خود لاہور کے کتنے ہی رسالوں میں تھا لیکن ابتدامیں معاوضہ صرف بیسویں صدی ہی سے ملتا تھا۔ 1947 تک غالبا دو روپے فی صفحہ تک میرا ریٹ پہنچ چکا تھا۔ شبلی اپنے رسالہ عالمگیر اور خیام میں بھی مجھے خوب چھاپتے تھے۔ ان کی اس فراخدلی سے مجھے کافی پبلسٹی ملی۔ بعد میں بیسویں صدی کے علاوہ کمترمعیار کے دو تین دوسرے رسائل بھی معاوضہ دے کر مجھ سے لکھوانے لگے۔‘‘(رقص بسمل، ص129)

شین مظفر پوری نے محنت و ریاضت سے اپنی خودی کو بہت بلند کرلیا تھا، اسی لیے وہ کسی رسالے میں مفت کی ملازمت بھی نہیں کرنا چاہتے تھے، کیوں کہ وہ ایک مشہور ادیب و صحافی تھے اور قارئین میں بے حد مقبول بھی، پھر وہ ثروت مند نہیں، ایک مفلس و قلاش ادیب تھے، ان کے سامنے معاش کا مسئلہ اژدہے کی طرح منہ پھاڑے رہتا تھا۔چناں چہ جب لاہور میں رسالہ نیرنگ خیال کے ادارتی کاموں میں بلا معاوضہ ہاتھ بٹانے کی بات آئی تو پریشانی کے عالم میں بھی وہ ٹال گئے۔حالاں کہ اس میں ان کی کئی چیزیں پہلے شائع ہوچکی تھیں۔ :

’’انھوں ]ایڈیٹر اور پروپرائٹر حکیم یوسف حسن صاحب[ نے یہ فرمائش کی(پیش کش نہیں) کہ نیرنگ خیال کے ادارتی کاموں میں ان کا ہاتھ بٹادیا کروں۔ میں خاموش رہا کہ حکیم صاحب کچھ آگے بھی بولیں۔ کیوں کہ اندھا کیا چاہے دو آنکھ۔ مجھے تو کسی ایسی سبیل کی تلاش ہی تھی۔ میں ان کے سامنے اپنا سارا دکھڑا رو ہی چکا تھا۔ مگر آگے حکیم صاحب سکوت اختیار کیے رہے۔ ظاہر ہے میں ایک ’شوق فضول‘ِکے طور پر اس کام کو کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔‘‘(رقص بسمل، ص143)

شین مظفر پوری صحافت کے مرد مریض تھے، اس لیے انھوںنے ابتدا سے ہی صحافت کو اپنا مرکز و محور بنالیا تھا اور ادھر ادھر کے رسالوں میں لکھنے اور چھپنے بھی لگے تھے، مگر ان کی صحافتی زندگی کا باضابطہ آغاز دربھنگہ سے نکلنے والے ماہنامہ’ہمالہ‘ سے ہوا، جس کی ابتدا 1941 میں ہوئی تھی، لیکن یہ ایک ادبی رسالہ تھا اور اس کی عمر بھی بہت مختصر تھی۔ اور یہ ان کی پیشہ ورانہ صحافت سے الگ چیز تھی۔اپنی صحافت کی بسم اللہ کے تعلق سے لکھتے ہیں:

’’1941 میں دربھنگہ سے میری ادارت میں ماہنامہ ہمالہ کے دو تین شمارے نکلے تھے۔۔۔۔۔میرے صحافتی تجربے کی بسم اللہ یہیں سے ہوئی تھی۔‘‘(رقص بسمل، ص264)

سوال یہ ہے کہ ایک اچھے خاصے ادیب اور مشہور افسانہ نگار نے صحافت کو اپنی جولان گاہ کیوں بنایا؟ابھی ذکر آیا کہ لاہوری کمرشیل رسالوں میں شین مظفر پوری لکھنے لگے تھے اور وہاں سے چارہ بھی ملنے لگا تھااور افسانے کی اشاعت سے تھوڑی بہت آمدنی ہونے لگے تھی، اور اس سے قبل وہ کلکتہ اور بمبئی وغیرہ میں کلرکی کی ملازمت بھی کرچکے تھے، مگر ایک تو یہ ملازمت ان کے افسانوی مزاج سے میل نہیں کھاتی تھی، دوسرے اس دفتری ملازمت کی سماج یا سوسائٹی میں کوئی اہمیت بھی نہ تھی اور آمدنی بھی کوئی زیادہ نہ تھی کہ ان کی معاشی کفالت کرسکے۔ ان سب وجوہ سے انھوں نے صحافت کو بطور پیشہ اختیار کرلیا، اس میں نام بھی تھا اور مال بھی۔ ڈاکٹر منظر اعجاز لکھتے ہیں، حالاں کہ انھوں نے شین مظفر پوری کی با ضابطہ صحافت کی ابتدا کو نقاش کلکتہ سے جوڑ دیا ہے:

’’چنانچہ متبادل انتظام کے طور پر انھوں نے صحافت کا پیشہ اختیار کیا۔ اور اس کا باضابطہ آغاز 1945 میں ہفتہ وار’نقاش‘ کلکتہ کی ملازمت سے ہوا اور کچھ ہی دنوں میں بہ حیثیت صحافی ان کی شہرت دلی کی صحافتی دنیا تک پہنچ گئی جس کے نتیجے میں فوری 1946 کی ابتدائی تاریخوں میں رسالہ ’آرٹسٹ‘ کے مالک خلیق دہلوی کے بلاوے پر شین مظفر پوری دہلی پہنچ گئے۔‘‘

(شین مظفر پوی:شخص اور عکس، ص60)

اس طرح وہ بہار کی محدود صحافتی دنیا سے نکل کر دلی کے وسیع صحافتی افق کا حصہ بن گئے۔یہ فروری 1946 کی بات ہے۔دہلی میں شین مظفر پوری کا زیادہ تر تعلق فلمی رسالوں سے رہا۔انھوں نے نہ صرف ان رسالوں میں کام کیا، بلکہ اس وقت دلی میں صحافت کی جو کچھ صورت حال تھی، اس پر بھی نظر رکھی۔ رقص بسمل میں لکھا ہے:

’’ان دنوں دلی کی صحافت میں جو عبرت ناک صورت حال تھی اس کا ایک سرسری جائزہ میں نے اپنے ناول’’کھوٹا سکہ‘‘ کے ایک باب میں پیش کیا ہے۔ خالص ادبی رسالہ تو (جہاں تک مجھے یاد آتا ہے) صرف ایک ماہنامہ ساقی  ہی نکلتا تھا۔ باقی کم از کم دو درجن نیم ادبی یا فلمی رسالے نکلتے تھے۔ ان میں سے کچھ نام یوں یادرہ گئے ہیں۔ شمع، فلم لائٹ، آرٹسٹ، کامیاب، مشہور، آریہ ورت، کہکشاں، آستانہ، (مذہبی)صوفی(مذہبی) محشر خیال، مولوی، خاتون مشرق، پیشوا(مذہبی)دین دنیا، نگار خانہ، انوار سحر اور روزانہ اخبارات میں الجمعیۃ، تیج، جنگ، انجام۔ کوئی ہفتہ وار یاد نہیں۔میرا پیشہ ورانہ واسطہ زیادہ تر فلمی رسالوں ہی سے رہا۔ ان میں زیادہ بول بالا شمع، فلم لائٹ اور کہکشاں کا تھا۔ ان تینوں میں معاصرانہ چشمک اور پیشہ ورانہ رقابت بھی خوب خوب تھی۔‘‘ (رقص بسمل، ص15)

 

رسالہ آرٹسٹ کے مالک و مدیر خلیق دہلوی نے شین مظفرپوری کا شایان شان استقبال کیا۔ان کی آؤ بھگت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ رسالے کا دفتر گلی قاسم جان میں واقع تھا۔ شین مظفر پوری کی رہائش کا انتظام بھی یہیں کردیا گیا۔ انھوں نے اس رسالے کی ادارت تو بحسن و خوبی انجام دی ہی، دوسرے رسائل نے بھی ان کی صلاحیتوں سے خوب فیضان حاصل کیا،خان عیسی غزنوی کے رسالے فلم لائٹ میں بھی انھیں اچک لیا گیا۔ ان کے سامنے مواد و مضمون کا ایک دفترتھا، جو کسی تخلیقی ذہن کا منتظر تھا،چناں چہ انھوں نے اپنے شوق قلم نویسی کو تیزتر کردیا،یکسوئی تھی،پھر انھیں لکھنے پڑھنے کا اچھا ماحول بھی ملا، وہ یہاں کوئی ڈیڑھ سال رہے ہوں گے، مگر اسی مختصر مدت میں انھوں نے نہ صرف ادب و صحافت کی دنیا میں اپنی پہچان بنائی، بلکہ اپنا حلقۂ یاراں بھی وسیع تر کرلیا۔ اورمعاشی تنگ دستی جو بہار سے لے کر کلکتہ اور بمبئی تک، ان کا تعاقب کر رہی تھی، اس سے بھی وہ بڑی حد تک آزاد ہوگئے تھے، مگر اسی درمیان 1947 کا الم ناک حادثہ پیش آگیا، ملک دو لخت ہوگیا، دونوں طرف خون کی ہولی کھیلی گئی، دلی سے لاہور تک،ہر جگہ سرخ انسانی خون سے زمین لالہ زار ہوگئی۔اس کا شکار شین مظفر پوری بھی ہوئے، پولس کی گولی سے بال بال بچے، راستے بند تھے سب کوچۂ قاتل کے سوا۔نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔مایوس و شکستہ حال، پرانے قلعے کی پناہ گزینی ان کا بھی نصیبہ بنی اور پھر یہی طوفان انھیں لاہور لے گیا۔

 دلی سے12گھنٹے کے بجائے 72 گھنٹے میں لاہور پہنچے، جن لوگوں نے یہ خوش نما خواب پالے تھے کہ یہاں سے نکل کر دار الامن میں امن و سکون ہوگا، فارغ البالی ہوگی، اپنا ملک اور اپنا جھنڈا ہوگا، اپنی زمین اور اپنا آسمان ہوگا،انھیں بہت جلد کف افسوس ملنا پڑا۔لاہور میں دلی سے کم بدتر حالات نہ تھے، یہاں بھی نفسی نفسی کا عالم تھا، کوئی کسی کا پرسان حال نہ تھا، سبھی کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے تھے، سنہرے خوابوں کا جو شیش محل دو قومی نظریہ کے حامیوںنے ذہن میں تعمیر کیا تھا، وہ پل بھر میں چکنا چور ہوگیا۔مگرحسن اتفاق کہ شین مظفر پوری کو یہاں بھی دلی کے کچھ احباب مل گئے، یہ لوگ معاشی طور پرذرا خوش حال تھے، شین صاحب کی طرح نادار اور مجبور نہ تھے۔ لاہور میں بھی انھیں ایک عدد نوکری کی تلاش تھی، مگر کہیں نوکری ملنی دشوار تھی۔ سبھی ہائے ہائے کر رہے تھے،سارے کاروبار ٹھپ تھے، سارے کل کارخانے مقفل اور سارے معاشی ذرائع بند تھے۔ شین مظفر پوری کی جیب میں دو چار روپے تھے، جس سے وہ کسی طرح صبح و شام بسر کر رہے تھے،شین صاحب ہی کیا، سبھی کے چہرے پر خوف اور نا امیدی کے آثار نمایاں تھے، انھوں نے یہاں پہنچ کر ان رسائل اور اخبار کا چکر کاٹا جس میں وہ ماقبل آزادی لکھتے رہے تھے اور جس کی وجہ سے علمی اور ادبی حلقوں میں ان کا شہرہ بھی تھا،سب سے پہلے رسالہ عالمگیر کا دفتر تلاش کیا،جو بڑی مشقت سے انھیں ملا۔ انھی دنوں رسالہ نیرنگ خیال کے دفتر کا چکربھی کاٹا۔ وہ لاہور میں پہلے سے متعارف تھے، اس لیے انھیں پاؤں جمانے میں دیر نہ لگی،لکھتے ہیں:

’’لاہور کے رسالوں میں چوں کہ میں بہت چھپ چکا تھا اس لیے وہاں کے قاریوں بالخصوص شاعروں ادیبوں میں میری کافی شہرت تھی۔ جس سے بھی میرا تعارف کرایا گیا اس کے لیے میرا نام نیا نہیں تھا۔ اور بعد میں بھی میں نے وہاں اپنے لیے نسبتا ایک نرم گوشہ محسوس کیا۔‘‘(رقص بسمل، ص121)

 دلی کے جو صاحب ثروت افراد ہجرت کرکے لاہور آئے تھے، وہ کچھ کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے تھے اور اپنے بال و پر پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ انھی پناہ گزینوں میں رفیق چمن بھی تھے، جن سے شین صاحب کی شناسائی تھی، اورجو لاہور میں کس مپرسی کی زندگی جی رہے تھے۔جب ان کے یہاںکچھ ہریالی اور چہل پہل آگئی تو انھوں نے صحافت کو اپنا میدان عمل منتخب کیا۔ اور دو ڈکلیریشن ( روزنامہ مسلم اور ہفت روزہ نور جہاں کے لیے)انھوں نے لے لیے۔ انھوں نے اپنا روزنامہ اخبار ’مسلم‘ جاری کیا، شین مظفر پوری اس میں بحال کر لیے گئے۔ حالاں کہ اس وقت تک انھیں اخباری صحافت کا کوئی خاص تجربہ نہیں تھا، جیسا کہ انھوں نے خود لکھا ہے۔ اس اخبار میں ان کے ذمے کیا کام تھا اور یہ منزل ان کے لیے کس طرح آسان ہوئی، وہ لکھتے ہیں:

’’ دو ورق کا اخبار تھا۔ خبریں بنانا، انگریزی سے ترجمہ کرلینا رفتہ رفتہ میرے لیے آسان ہوگیا۔۔۔۔بھائی چمن سے کچھ پیسے بھی ملنے لگے تھے۔ اس سہولت کے بعد طبیعت کچھ موج میں رہنے لگی۔‘‘(رقص بسمل، ص172)

’’مسلم‘ بمشکل دو ہفتہ جاری رہا اور ایک روز بندہوگیا اور شین مظفر پوری کے لیے دو وقت کی روٹی کی جو امید قائم ہوئی تھی، اس پر بھی اوس پڑگئی۔پھر ہفت روزہ ’نور جہاں ‘کی ذمے داری ان پر آگئی۔ انھوں نے رقص بسمل میںلکھا ہے کہ یہ جوا بھی میرے ہی کاندھوں پر پڑا۔

 شین صاحب کے لیے میدان صحافت میں ایک راستہ بندہوا تو دوسرے راستے کھلنے شروع ہوگئے، الٰہی بخش یا بخش الہٰی نام کے ایک فرد نے  ہفت روزہ اخبار ’آبشار‘ کا ڈکلیریشن حاصل کرلیا اور وہ بھی شین مظفر پوری کی ادارت میں۔ مگر اس میں پناہ گزیں رفیوجیوں کے حال زار پر کچھ اس قسم کے سخت الفاظ میں تبصرہ کیا گیا تھا کہ اس کا پہلا شمارہ ہی ضبط ہوگیا۔یہ تحریر دو قومی نظریہ کی مذمت پر لکھی گئی تھی،جو شین مظفر پوری کی ہی تھی، اس لیے الٰہی بخش کو نہ صرف نقصان برداشت کرنا پڑا بلکہ انھوں نے اس کی پاداش میں شین مظفر پوری سے قطع تعلق بھی کرلیا۔ اور نتیجتاً وہ دوبارہ بے روز گارو بے کار ہوگئے۔

لاہور میں وہ دس ماہ رہے ہوں گے کہ رفیق چمن کے بھائی خلیق دہلوی نے انھیں کراچی بلالیا، جو ’مضراب‘ نام سے ایک رسالہ نکالنے کی پلاننگ کر رہے تھے۔ اس کا دفتر جنگ اخبار کے دفتر سے ملحق تھا، جنگ کے ادارتی سیکشن میں بھی شین مظفر پوری نے لگ بھگ دو ماہ،جزوی طور پر کام کیا۔ خیر اصل میں وہ مضراب کی ادارت سنبھالنے کے لیے کراچی آئے تھے، یہ ایک ادبی رسالہ تھا،  اس کا پہلا شمارہ شین مظفر پوری کی ادارت میں ہی منظر عام پر آیا۔ خلیق دہلوی نے مضراب کے دفتر میں ہی ان کی بود و باش کا انتظام کر رکھا تھا اور انھیں تنخواہ کے طور پر ڈیڑھ سو روپے ماہوار دینا طے کیا تھا۔ ’مضراب‘ ایک ترقی پسند ادبی جریدہ تھا،چونسٹھ صفحات پر مشتمل اس کا پہلا شمارہ اگست 1948 میں منظر عام پر آیا۔ دوسرا شمارہ ستمبر1948 میں اور تیسرا شمارہ دسمبر1948 میں شائع ہوا۔ اس کے بعد شین مظفر پوری لوٹ کر ہندستان آگئے کہ وہ اپنے والدین، بھائی، عزیز و اقارب اور بال بچوں سے ملنے کے لیے بے تاب و بے قرار تھے، ان کی یاد رہ رہ کر انھیں کچوکے لگاتی تھی، کیوں کہ وہ ہزاروں میل دور تھے، اور بہار بھی فرقہ وارانہ فسادات کی زد پر رہتا تھا۔احمد ندیم قاسمی، خدیجہ مستور اور ہاجرہ مسرور وغیرہ نے انھیں منایا، اپنا ارادہ بدلنے پر مجبور کیا اور وہاں کے ادبی حلقے اور کئی اعلی افسران نے بھی چاہا کہ وہ پاکستانی شہریت اختیار کرلیں، مگر وہ ہندستان واپسی کے اپنے فیصلے پر مصر رہے۔ 29دسمبر 1984 کو کراچی سے بذریعہ پانی جہاز روانہ ہوئے،پہلے بمبئی اور پھر دلی پہنچے۔ دلی میں دو تین دن رکے۔ خوشتر گرامی سے ملاقات کے لیے بیسویں صدی کے دفتر گئے، خوشتر صاحب نے بڑی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کیا اور جو معاوضے کی بقایا رقم تھی وہ بطیب خاطر ادا کردی۔ اس کے بعد رسالہ ’شمع‘ کے دفتر بھی گئے، حافظ یوسف دہلوی اور ان کے صاحب زادے یونس دہلوی نے ان کا خیر مقدم کیا۔ شین مظفر پوری اس وقت معاشی بد حالی کے شکنجے میں تھے، نا گفتنی کا عالم تھا، اس لیے انھوں نے اشارے کنایے میں حافظ یوسف دہلوی سے اپنا مدعا بھی بیان کردیا کہ وہ پھر دلی کو ہی اپنا مسکن بنانا چاہتے ہیں اور یہیں تلاش معاش کرنا چاہتے ہیں، مگر انھوں نے کوئی رسپانس نہیں دیا،اس لیے انھوں نے بذریعہ ٹرین 5 جنوری کو پٹنہ کے لیے رخت سفر باندھ لیا اورایک بار پھر اپنی آبائی ریاست بہار کو ہی اپنا مسکن و مرکز بنالیا۔ ان کی پٹنہ آمد کی خبر ہر جگہ مشتہر ہوگئی، طلبہ اور نو جوانوں میں وہ پہلے سے بے حد مقبول تھے، جس ہوٹل میں وہ ٹھہرے تھے، وہاں کئی طلبہ نے انھیں آکر گھیر بھی لیا۔طلبہ اور نوجوانوں سے مختلف امور پر تبادلۂ خیال ہوا، اور پھر 8جنوری 1948 کو وہ دربھنگہ کے لیے روانہ ہوگئے اور مظہر امام کے یہاں امیر منزل پہنچ گئے۔ شین مظفرپوری کو گھر سے جدا ہوئے ایک طویل عرصہ بیت گیا تھا اور پھر 1947 کے ہنگاموں نے ان کے اندرون کو ہلا کر رکھ دیا تھا، وہ بال بچوں سے ملنے کے لیے سخت بے چین بھی تھے، اس لیے وہ دربھنگہ سے بلا تاخیر 10 جنوری کو سیتا مڑھی کے لیے روانہ ہوگئے اور سسرال جاکر لوگوں سے ملاقات کی۔پھر بیوی بچوں کے ہمراہ بیل گاڑی پر اپنے گاؤں کے لیے نکل پڑے۔

کسب معاش کا مسئلہ ایک بار پھر شین مظفر پوری کا پیچھا کرنے لگا۔ انھیں اپنا پیٹ پالنے اور گھر بار چلانے کے لیے نوکری کی تلاش تھی۔اس بار انھوں نے اپنی پرانی آماج گاہ کلکتہ کا انتخاب کیا اور وہاں پہنچ کر ’عصر جدید‘ اور روزانہ ’ہند‘ میں کام کرنے لگے۔ وہ اپنے عہد کے ایک سینئر صحافی تھے، وہ میدان صحافت کے شہسوار اور ماہر سمجھے جاتے تھے۔ صحافت میں ان کا کوئی رقیب و حریف نہ تھا۔کلکتہ میں ان کی صحافت کا طوطی بولتا تھا۔ مگرکلکتہ میں انھوں نے بہت سی مجبوریوں کا بار اٹھایا۔ اپنے نام سے بھی لکھا اور تسکین نفس کی خاطر پردے کے پیچھے سے دوسروںکے نام سے بھی لکھا۔ فرضی ناموں کو بھی انھوں نے وقار بخشا اور اپنی تحریریں؍افسانے بازار ادب میں فروخت بھی کیے۔ کلکتہ میں انھوں نے نام بھی کمایا اور کافی بد نام بھی ہوئے اور جب ذلت و رسوائی نے ان کا دامن نہ چھوڑا، تو پھر وہ پٹنہ لوٹ آئے، جہاں وہاب اشرفی نے انھیں ماہ نامہ’صنم‘ کی ادارتی ذمے داری سونپ ڈالی۔ وہاب اشرفی لکھتے ہیں:

’’میرے ان(شین مظفر پوری) سے دیرینہ تعلقات تھے۔ کلکتہ میں جب دوستوں کی مدد سے روز نامہ ’اخوت‘ (مدیر ناظرالحسینی) نکالا گیا تو نہ معلوم کیوں مجھے شین مظفر پوری نظر آئے۔ وہ اس وقت ممبئی میں تھے۔ میں اکبر ’بکی‘ کو جو اس اخبار کے مالک تھے، شین صاحب کی انشا پردازی اور صحافتی تجربے کا حال بتایا تو انہوں نے فورا ان کو دعوت بھیج دی۔ وہ کلکتہ چلے آئے اور ’اخوت‘ سے وابستہ ہوگئے۔ میں کچھ دنوں کے بعد جب پٹنہ آیا تو’صنم‘ کا اجرا کیا۔ اب تک اس کے پچاس شمارے نکل چکے تھے۔ میرا تبادلہ جب گیا ہونے لگا تو میں نے خود شین مظفر پوری کو دعوت دی کہ وہ ’صنم‘ کی باگ ڈور سنبھالیں۔ موصوف میری دعوت پر پٹنہ آگئے اور یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ اپنے اخبارات بھی نکالے۔ دوسرے اخبارات میں بھی فیچر لکھتے رہے اور اپنا تخلیقی کام بھی سر انجام دیتے رہے۔ پھر وہ بہار اردو اکادمی کے رسالہ ’زبان و ادب‘ سے وابستہ ہوگئے۔‘‘

انھوں نے پٹنہ پہنچ کر کسی در کا فقیر بننا گوارا نہیں کیا، ملازمتی ذمے داریوں کی تکمیل کے ساتھ آزادانہ طور پر بھی کام کرتے رہے۔ انھوں نے اپنا ہفت روزہ اخبار ’ہمارا بہار‘ پٹنہ سے نکالاجو کافی مقبول ہوا، یہ ایک بے باک اخبار تھا اور عوام میں اپنی جرأت و حق گوئی کے لیے کافی مشہور بھی تھا۔

شین مظفر پوری کی اخباری اور مجلاتی صحافت ہی نہیں، ادبی صحافت کا کینوس بھی بہت زیادہ وسیع تھا اور ان کی ادبی تخلیقی تحریروں کا جو معیار تھا، وہ بہتوں کے لیے ایک چیلنج تھا۔ انھوں نے ادبی صحافت کا حق ادا کیا اور جن ادبی رسالوں اور مجلات سے وابستہ رہے، اس کو شہرت کے اوج ثریا پر پہنچادیا۔ کئی ادبی رسائل کی ادارت کی اور اس میں تنقیدی ادبی مضامین اور تبصرے لکھے، زبان اور شعر و ادب کے اسرار سے ہم عصروں کو باخبر کیا۔

انھوں نے صحافت برائے صحافت نہیں کی، بلکہ اصولی اور بے لوث صحافت کی، صحافت کے تعلق سے ان کا ایک کمٹنمنٹ تھا،صحافیانہ رموز و نکات پربھی ان کی نظر بڑی گہری تھی۔ وہ اردو صحافت سے اتنے بیزار بھی نہیں تھے جتنے آج کل کے نام نہاد دانش ور اس میں مبتلا نظر آتے ہیں اوربلا وجہ اردو صحافت کی زبوں حالی اور پستی پر مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہیں۔ وہ اردو صحافت سے بڑی حد تک مطمئن تھے، مگر وہ اس کو مزید صیقل کرنے اور اس کو مانجھنے کے حق میں تھے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں:

’’میںنے محسوس کیا ہے کہ فی الواقع صحافی خال خال ہی پائے جاتے ہیں۔ باقی جو کارکن ہیں وہ نام کے صحافی ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ایک صحافی کا زبان داں اور کسی نہ کسی درجے کا ادیب ہونا بنیادی طور پر ضروری ہے۔ اس کے بعد دیگر صلاحیتوں کی بات آتی ہے لیکن میں نے یہ دیکھا ہے کہ اردو کے بیشتر صحافیوں میں بنیادی صلاحیت ہی مفقود ہے۔ خیر جس ڈھنگ اور جس معیار کی اردو صحافت ہے اسے بھی غنیمت سمجھتا ہوں کیوں کہ اس کے وجود سے اردو کو بہت تقویت پہنچ رہی ہے لیکن اردو صحافت کے معیار اور حالات سے میں مطمئن نہیں ہوں۔‘‘(شین مظفر پوری:شخص اور عکس، ص58-59)

شین مظفر پوری ایک بسیار نویس اور تیز نویس ادیب و صحافی تھے، انھوںنے دس ہزار صفحات کا اخباری ادارتی سرمایہ دنیائے صحافت کو دیا، اخباری طنز و مزاح پر مبنی انھوں نے 500 صفحات اپنے پیچھے چھوڑے اور تقریبا ایک ہزار صفحات کے ادبی اداریے لکھے، ایک لاکھ صفحات تو وہ ہیں، جو ترجمہ ہوکر اخباروں کی زینت بنے، خلاصہ یہ کہ انھیں صحافت سے پیار تھا،صحافت ان کا عشق تھا، صحافت ان کے لیے دانہ پانی کی حیثیت رکھتی تھی، یہی وجہ ہے کہ ان کی تمام تالیفات میں صحافتی نقوش روشن ملیں گے۔ ایک ناول’کھوٹا سکہ‘ کا تو پورا باب ہی دلی کی صحافت اور وہاں کے رسائل آرٹسٹ وغیرہ اور اس کے ماحول اور اس مکان کی فضا پر مرکوز ہے، جہاں سے یہ رسالہ شائع ہوتا تھا۔ان کی صحافت کا شہرہ اتنا تھا کہ لوگ انھیں اپنے اخبار و رسائل کی ادارت کی باگ ڈور سونپنا باعث اعزاز سمجھتے تھے۔ انھوں نے ایڈیٹر سے زیادہ پلے بیک ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کیا، پیش منظر سے زیادہ پس منظر میں رہ کر صحافت کو اعتبار بخشا، نام بھی کمایا اور بد نام بھی ہوئے، شہرت بھی حصے میں آئی اور یار دوستوں نے تحقیر کا ٹھیکر ا بھی ان کے سر پھوڑنے میں دریغ سے کام نہیں لیا۔

شین صاحب اپنے عہدشباب میں مختلف اخبارات و رسائل کی تقدیر اور تصویر بدلتے رہے، مگر وہ خود اپنی تصویر نہ بدل سکے، اخیر تک مفلس رہے،کئی نومولود رسائل کو انھوں نے اپنا خون جگر پلاکر طفولیت سے شباب کی دہلیز پر پہنچایا، مگروہ خود شباب کی منزل پر قدم نہ رکھ سکے۔

اخیر عمر میں بڑی صعوبتیں اور اذیتیں اٹھائیں۔

وفات سے کوئی دو ماہ قبل جو ایک مکتوب لکھا ہے، اس کا ایک جملہ ہمیں اپنی بے توجہی اور ادیب و صحافی کی نا قدری پر آنسو بہانے پر مجبور کرتا ہے:

’’اعصاب کی ناتوانی سے معذوریاں بڑھتی جارہی ہیں۔ میرے حال احوال پر کہیں سے کوئی توجہ بھی نہیں ہورہی ہے۔‘‘

ان کا آخری وقت بہت ہی خراب حالت میں گزرا، مرتا کیا نہ کرتا،جب روزی روٹی کے لالے پڑ گئے تو انھوں نے گاؤں کی مسجد میں مؤذن بننے کی مشقت اٹھائی، ایک مذہب بیزار آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے مذہب پسند بننے پر مجبور ہوگیا۔ اور ایک ایسا صحافی جس کی تحریروں کی ایک دنیا دیوانی تھی، جس کی تحریروںپر مبنی رسالوں کو محفوظ کرلیا جاتا تھا، وہ پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے مسجد کے درو دیوار میں محصور ہوکر رہ گیا۔گویا وہ اپنے ناول’’کھوٹا سکہ‘‘ کازندہ جاوید مرکزی کردار مسعود بن گئے۔ وہی مسعود جو ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوا، کسب معاش کے لیے ادب و صحافت کی دنیا میں ملازمت کی، کلکتہ، بمبئی، کانپور اور دلی کی سڑکوں پر قلندرانہ بھٹکتا رہا اور جب اپنی معشوقہ سے جدا ہونے کا وقت آیا تو اس کو مخاطب کرکے آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دے گیا کہ:

’’اگر خدا کا کرنا ایسا ہوجائے تو تم آگے چل کر صاحب اولاد بنو تو ایک بات کا ضرور خیال رکھنا۔ اگرتم اپنی اولاد کا رجحان اردو شعر و ادب یا اخبار نویسی کی طرف دیکھو تو چپکے سے اسے زہر کھلا دینا۔‘‘


Dr Abrar Ahmad

B.M college, Rahika

Madhubani-847238 (Bihar)

 


منگل، 25 اگست، 2020

شاعری کے کرداروں کا مطالعاتی تناظر- مضمون نگار: قسیم اختر



بیانیہ اصناف کی طرح شعری اصناف میںبھی کردار ہوتے ہیںمگر دونوں کے تقاضے الگ ہیں اور دونوں کے مطالعے کا طریقہ بھی الگ۔اس فرق کو سمجھنے کے لیے پہلے چند کرداروں پر غور کرنا لازمی ہے۔یہ چند افسانوی کردار؛ شیخ وجودی، ہمایوں فر، بلغان خاتون، نصوح، ظاہر دار بیگ، ہوری، دھنیا گوبر، کالو بھنگی، شمن وغیرہ ہیں۔پھر شاعری کے چند کرداروں پر نظر ڈالیں:کدم راؤ، پدم راؤ، اکھرناتھ، قطب مشتری، مریخ خان، عطارد، سمن بر، ہمایوں فر، زین الملوک، حسن آرا۔ ان تمام افسانوی اور شاعرانہ کرداروں کے برتاؤ میں یک گونہ مماثلت ہے۔ کیوں کہ باضابطہ ناموں کے ساتھ ان کی تشکیل ہوئی۔  اردو تنقید میں ایسے کرداروں کا کم وبیش مطالعہ کیا بھی گیا۔ مگر جب شاعری کے ان کرداروں کو ابھاراجا ئے جن کے ناموں کی وضاحت نہیں ہوتی (صیغہ واحد، غائب، جمع، متکلم وغیرہ کے پس منظر والے شاعرانہ کرداروں کامطالعہ کیا جائے ) تو تنقیدی مطالعے کا ایک نیا طریقہ سامنے آئے گا، یہاں اس پہلو پر بھی نظر رہے کہ کلاسیکی شاعری میں چند معروف کردار تھے، مثلاً: عاشق، معشوق، واعظ، پیرِ مغاں، رقیب،وغیرہ۔ یہ بھی واقعہ ہے کہ تمام شاعروں نے ہرکلام میں مذکورہ معروف کرداروں کے فقط حقیقی معنی مراد نہیں لیے۔بہت سے مقام پر عاشق کے لفظ سے فقط عاشق ہی مقصودنہیں ہوتا۔ اس لیے یہ کہنا مناسب ہے کہ بیانیہ اصناف کے کرداروں سے شاعری کے کرداروں کا مطالعہ ذرا مختلف ہوتا ہے۔

اس سرسری وضاحت کے بعد کردار کے تاریخی پس منظر پر بھی روشنی ڈالنا مناسب ہے۔ انسائیکلو پیڈیا امریکانا کے حوالے سے پروفیسر نجم الہدی لکھتے ہیں:

’’۔۔۔انگریزی میں کیریکٹر براہ راست یونانی لفظ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں: نقش کرنا، کندہ کرنا۔ اسی وجہ سے ابتدا میں یہ لفظ، سکوں پر مہرلگانے کے رنگ کے لیے استعمال ہوتا تھا اور اس صورت کے لیے بھی جس سے مہر ہوتی تھی۔ رفتہ رفتہ اس کا مفہوم وسیع ہوگیا اور اس کے معروف استعمال کی جہتیں مختلف النوع ہوتی گئیں۔ پانچویں صدی قبل مسیح سے کردار نے کسی فرد یا قوم یا کسی تحریری صورت ِ اظہار کے ممیز اور انوکھے پہلوؤں کا مفہوم اختیار کرلیا ہے۔‘‘

(نجم الہدی، کردار اور کردار نگاری، شمشاد اختر، میر بخش علی اسٹریٹ، مدراس، 1980، ص 7)

کردار‘ کے یونانی پس منظر کے بعدموجودہ مختلف اردو لغات کی طرف رجوع کر نے سے یہ تمام معانی ’’روش، طرز، طور طریق، عمل، فعل، چلن،قاعدہ،عادت، رویہ خصلت، اخلاق‘‘ برآمد ہوتے ہیں۔اب ان لغوی معانی کو کردار کے اصطلاحی معنی سے ملائیں تو بہت زیادہ فرق نظر نہیںآئے گا۔کیوں کہ ادبی اظہار میں’کردار‘ کئی حیثیت سے سامنے آتا ہے۔ کبھی کردار کے تناظر میںماحول کے مطالعے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی کردار کے مدنظر تخلیق کار کی فن کاری کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔ اسی طرح کبھی کردار کے مطالعے سے موضوع کو ابھارا جاتا ہے۔ مطالعۂ کردار کے ان رویوں پر غو کریں تو معلوم ہوگا کہ ان مطالعوں میں بھی کردار کے لغوی معنی کسی نہ کسی سطح پر پوشیدہ ہوتے ہیں۔

 اس تاریخی تناظر کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کرداروں کا مطالعہ ایک دل چسپ مطالعہ ہے اورکرداروں کی رنگارنگی یا کردار وں کے جمود وتحرک کی بنیاد پر ہم شاعروں کے کلام کی شدت وحدت بھی محسوس کرسکتے ہیں۔ معروف ناقد شمس الرحمن فاروقی نے جہاں کلامِ میر کی بہت سی خصوصیات واضح کرتے ہوئے ان کی انفرادیت ثابت کی، وہیں میر کے کلام کے کرداروں کو بھی پیش نظر رکھا اور ان کے ذریعہ میر کی خصوصیت طے کی۔ میر کے کردار کے متعلق وہ لکھتے ہیں:

’’میر کا زبردست کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے عاشق کے رسومیاتی کرداروں کو برقرار رکھتے ہوئے اس کو انفرادیت بھی عطا کی ہے۔ اگر وہ باقاعدہ کردار خلق کررہے ہوتے تو انھیں مثنوی نگارکا منصب ملتا۔۔۔ غالب کے یہاں عاشق کا کردار سراسررسومیاتی ہے۔ غالب نے اپنی انفرادیت پرستی کو یوں ظاہر کیا کہ انھوں نے عاشق کے رسومیاتی کردار کو اس کی انتہا پر پہنچا دیا۔ ‘‘

(شمس الرحمن فاروقی، شعر شور انگیز، حصہ اول، قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان، نئی دہلی، 1990، ص 80-81)

مضمون کی ابتدا میں بیانیہ اور شعری اصناف کے کرداروں کی تھوڑی سی وضاحت کی گئی اور اب فاروقی صاحب کے اس اقتباس سے کرداروں کے مطالعے کا ایک اہم طریقہ بھی سامنے آ رہا ہے۔گویایہ کہنا مناسب ہے کہ ہم شاعری کے کرداروںکا مطالعہ مختلف طریقوں سے کرسکتے ہیں اور کرداروں کی انفرادیت سے شعرا کی انفرادیت بھی طے کی جاسکتی ہے۔ذیل میں ہم فقط چند متفرق اشعار پر سرسری بحث کریں گے، تاکہ کرداروں کے مطالعے کا ایک دھندلا سا طریقہ سامنے آجائے۔

ڈگر ڈگر وہی گلیاں چلی ہیں ساتھ مرے

قدم قدم پہ ترا شہر یاد آیا ہے

مخمور سعید ی

شاعر ی میں افسانوں کی بہ نسبت ذی روح اور غیر ذی روح کردار زیادہ بنتے ہیں۔ افسانوی کرداروں میں بھی غیر ذی روح چیزیں بطور کردار سامنے آتی ہیں، مگر شاعری سے کم۔ مخمور سعید ی کے مذکورہ شعر میں غیر ذی روح کردار ہیں۔ وہ بھی اس طرح کہ’گلیاں‘ فاعل بن رہی ہیں اور’ ڈگر ڈگر‘ مفعول۔پھر ’تیرا شہر‘ کا ذکر آتا ہے۔ اس طرح دیکھیں تو’تین مقامات‘ بنیادی طور پر کردار بن گئے، مگر ’ گلیاں‘ فاعل کی حیثیت سے مضبوط کردار ہے۔

مذکورہ شعر میں ایک شہر کودیکھ کر دوسرے شہر کو یاد کرنا بھی اپنے آپ میں یاد کا نفسیاتی پہلو رکھتا ہے۔اس لیے یہ کہا جاسکتاہے کہ نفسیاتی معاملات سے جہاں فن پارے کے موضوعات پر بحث کی جاسکتی ہے،وہیں کردار کی تخلیق کا معاملہ بھی اٹھایا جاسکتاہے۔

 خیر، مذکورہ شعر میں مقامات کردار بن رہے ہیں۔ ان مقامات کے علاوہ دو کردار اور ہیں۔ایک خود شاعر ہے جو کہہ رہا ہے اور دوسرا وہ فرد جس سے کہا جارہا ہے۔ گویا اس شعر میں ’’ذی روح اور غیر ذی روح دونوں کرداربن کر سامنے آئے۔ ذیل میں ایسے دو اشعار پیش کیے جارہے ہیں جن میں ذی روح کردار کا پلڑا بھاری ہے ۔

گلاب اس نے آنسوؤں میں ڈبو دیے تھے

میں اُس کے نزدیک سرجھکائے کھڑا تھا

عتیق اللہ

اس شعر میں فقط دو کردار ہیں۔ ایک’اس ‘ صیغہ واحد غائب۔ دوم، ’میں‘ صیغۂ متکلم۔ اس طرح دیکھیں تو شعر میں کردار کم ہیں مگر عتیق اللہ نے ان کرداروں میں انتہائی جدت پیدا کردی۔اس شعر کو ’محبت، تعظیم ‘ کے پس منظر میں سمجھ سکتے ہیں۔ پہلے ’’گلابی رنگ کی سرخی، خون کے آنسو، پھر سرجھکا کر کھڑا ہونا‘‘ پر غور کیجیے۔اس پہلو سے شعر کی غمگینی واضح ہوتی ہے، یعنی ایک کردار نے دوسرے کردار کو گلا ب کا پھول تو دیا،مگر پھول دینے والے نے کچھ دنوں کے بعد پھول لینے والے کا دل توڑ دیا۔ جب عشق میں دل ٹوٹ جائے تو خون کے آنسو رونا پڑتا ہے۔ اس نکتے پر آکر گلاب کا خون ہوتا ہے اور ’گلاب کا یہ خون‘ خون کے آنسو کی شکل میں بہہ جاتا ہے۔

دوسرے مصرعے کو اس طرح سمجھنے کی کوشش کیجیے کہ پھول دینے اور لینے والے کرداروں کے درمیان ناچاقی ہوگئی ہو اورپھر  دونوں کی اتفاقیہ ملاقات ہوجائے۔اب پھول لینے والا،پھول دینے والے کردار کے سامنے خوب روئے اور گلاب، خون کے آنسو بن کر بہہ جائے۔ ان کی تفہیم اس طرح بھی ہو سکتی ہے کہ دو کردار ہیں،جو کبھی قریب آئے، مگر کسی وجہ سے وہ دونوں دور ہوگئے، پھر تیسر ے مرحلے میں کہیں ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر ایک کردار نے شکوہ کیا اور دوسر ا سرجھکائے نادم کھڑا رہا۔ ہوسکتاہے کہ ندامت کے آنسو بہانے والے کردار نے اپنے شکوہ سنج محبوب کو دوبارہ اپنا لیا ہو۔ اس طرح چوتھا مرحلہ وجود میں آ جاتا ہے۔ عتیق اللہ کے اس شعر کا مطلب چاہے کچھ اور ہو، مگر اس شعرسے کرداروں کے مطالعے کا ایک نیا طریقہ بھی سامنے آتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محبت اور نفرت کے مسئلے کو شاعر نے کرداروں میں بڑی خوب صورتی سے پیش کردیا ہے۔ 

سلسلہ میرے سفر کا کبھی ٹوٹا ہی نہیں

میں کسی موڑ پہ دم لینے کو ٹھہرا ہی نہیں

سلطان اختر

دانستہ طور پر سلطان اختر کے اس شعر کا انتخاب کیا گیا ہے جو کئی معنوں میں عتیق اللہ کے مذکورہ شعر سے بالکل مختلف ہے۔ سلطان اختر کے اس شعر میں بہ ظاہر ایک ہی کردار ہے۔وہ ’میں ‘ واحد متکلم ہے، مگر گہرائی سے دیکھیں تو اس شعر میں کئی کردار ہیں۔ شعر کے دونوں مصرعے ’’میرے سفر۔۔۔ میں کسی موڑ‘‘ سے ایک ہی فرد واضح ہوتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ شاعر کس سے کہہ رہا ہے کہ میرے سفر کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا؟کیا وہ خود سے کہہ رہاہے؟ کیا دوستوں کی ایک بڑی جماعت سے وہ مخاطب ہے؟ اگر شاعر خود سے مخاطب ہے تو خود شاعر کے اندر دو کردار ابھر رہے ہیں۔ ایک وہ کردار جو بول رہا ہے اور دوسرا جو سن رہا ہے۔ اسی طرح شاعر کسی محفل سے مخاطب ہے تو اس شعر میں بہت سے کرداروں کی شمولیت از خود ہوگئی۔ عتیق اللہ کے مذکورہ شعر سے دو کرداروں کے علاوہ بھی کردار دریافت کیے جاسکتے ہیں، مگر سلطان اختر کے مذکورہ شعر میں جہاں بہت سے کردار ابھر سکتے ہیں، وہیں اس میں خود کلامی کا عنصر بھی ہے۔

کیا حادثہ ہوا ہے جہاں میں کہ آج پھر

چہرہ ہر ایک شخص کا اترا ہوا ساہے

شہریار

شہریار کے اس شعر میں کردار کا ایک الگ رنگ ہے۔ اول،’کیا حادثہ‘ یعنی کس قسم کا حادثہ ہوا۔ دوم، سوالیہ انداز میں کہ کیا کوئی حادثہ ہوا ہے۔ شاعر جس فرد سے یہ سوال کررہا ہے، وہ فرد بھی ایک کردار کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کردار کی اسی وقت وضاحت ہوسکتی ہے جب اس شعر کی قرأت کئی طرح سے کی جائے۔ گویا اس شعر میں کردار کو دریافت کرنے کا ایک الگ طریقہ موجود ہے۔

آؤ پھر آج کریدیں دل افسردہ کی راکھ

آؤ سوئی ہوئی یادوں کو جھنجھوڑا جائے

ملک زادہ منظور احمد

سلطان اختر کے اوپر والے شعر میں فقط گنجائش تھی کہ وہ کسی محفل کے کرداروں سے مخاطب ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ میں کسی موڑ پر ٹھہرا ہی نہیں، مگر ملک زادہ منظور احمد کے اس شعر میں خطابیہ انداز ہے، یعنی جب خطاب ہوگا تو ازخود بہت سے کرداروں کی شمولیت ہو جائے گی۔

 بطور مثال یہاں پر فقط پانچ اشعار پیش کیے گئے اور ان اشعار میں کرداروں کی کیفیت اور انداز الگ الگ بھی ہے۔ اردو میں افسانوی کرداروں پر معمولی توجہ دی گئی، مگرشاعری کے کرداروں پر نہیں۔اگر شاعری کے کرداروں کا مطالعہ کیا بھی گیا تو فقط مثنوی کے کرداروں کا، غزلیہ کرداروں کا مطالعہ خال خال ہی نظر آتاہے۔ پھر مثنوی کے کرداروں کا مطالعہ بھی بہت خوب نہیں ہوا۔سید محمد عقیل رضوی نے لکھا ہے :

’’۔۔۔ان تمام منظوم وغیر منظوم افسانوں میں کردار کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں رہی۔۔۔ اس کا سب سے بڑا سبب اردو ادب میں ابتدا سے ڈراموں کے نہ ہونے میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔‘‘

(سید محمد عقیل، شمالی ہندمیں، اردو مثنوی کا ارتقا،اترپردیش اکادمی، لکھنؤ،983 1، ص 320)

ظاہر سی بات ہے کہ مثنوی کے کرداروں کا بھی مطالعہ بہتر طریقے سے نہیں کیا گیا تو غزلیہ کرداروں کی روایت کیسے مستحکم نظر آئے گی لیکن اب ہمیں افسانوی کرداروں کے ساتھ ساتھ غزلیہ کرداروں پر بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ مطالعے کا ایک اور بہتر طریقہ سامنے آئے۔ 

کرداروں کے اس سرسری مطالعے سے میر امقصد یہ نہیں تھا کہ کسی شاعر کی فوقیت ثابت کی جائے اور نہ ہی اس مختصر مضمون میں اس کی گنجائش ہے۔ البتہ اس میں کئی حوالوں سے کرداروں کی بحث آگئی اور شعری کرداروں کی انفرادیت بھی واضح ہوئی:

اول: اردو میں شعری کرداروں کا مطالعہ کم ہوا ہے۔ ایسا شاید اس لیے ہو ا کہ ڈراموں کی شروعات ہمارے یہاں تاخیر سے ہوئی یا پھر ہمارا بھی کچھ تساہل رہا۔

 دوم: افسانوی کرداروں میں انسان زیادہ ہوتے ہیں، مگر شاعری میں انسانوں کے ساتھ وقت اور حالات بھی کثرت سے کردار بنتے ہیں۔

سوم: کرداروں سے زمانے کے نشیب وفراز بھی ابھرتے ہیں۔ہمارے دور میں جو سیاسی اتھل پتھل ہے، اس کا اثر شاعری کے کرداروں میں بھی نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاعروں کے اسلوب میں مزاحمت کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے۔ سماج کے طرز عمل،افتادطبع اور ذہن ومزاج سے تخلیق کارکوئی نہ کوئی رنگ منتخب کرتا ہے اور اسی میں اپنے تخیل سے رنگ آمیزی کرتا ہے اور اسی رنگ آمیزی سے ادبی کردار تشکیل پاتے ہیں۔

چہارم: یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ اسلوبیات اور لفظیات کے مطالعے سے جس طرح لسانی مباحث ابھرتے ہیں، اسی طرح کرداروں کے مطالعے سے بھی مختلف النوع انکشافات ہوسکتے ہیں۔کیوں کہ لفظیات کا تعلق جہاں بیانیہ سے ہوتاہے وہیں مکالموں سے بھی ہوتا ہے۔ ظاہر ہے جہاں مکالمے ہوں گے، وہاں ازخود کردار بھی ابھر کر سامنے آ ئیں گے مگر ہمارے ادبی اور تنقیدی رویوں میں کرداروں کے مطالعے کا کوئی خاص اہتما م نہیں ملتا۔بہ مشکل تمام افسانوی کرداروں پر نظر ڈالی جاتی ہے اور اس کی بھی کوئی مضبوط ومستحکم روایت نہیں۔


Dr. Qaseem Akhtar

Asst. Prof. Purnia University

Purnia- 854301 (Bihar)

Mob.: 9470120116

E-mail: qaseemakhtar786@gmail.com

 

ماہنامہ اردو دنیا، جولائی 2020 

جمعہ، 21 اگست، 2020

عہداکبری میں علوم و فنون اور تہذیب و ثقافت کی صورتِ حال مضمون نگار: محمد مبارک حسین

 


ہندوستان ایک قدیم تہذیبی ملک ہے جو ہزارہا سال کے تمدنی آثار رکھتا ہے۔ یہاں اہل عرب کی آمد اسلام سے بہت قبل سے جاری ہے اور ہندوستان کے لوگ بھی عرب اور وسط ایشیا کے ملکوں میں صدیوں سے آناجانا کر رہے ہیں۔ موجودہ ہندوستانیوں کے خون میں جس طرح بیرون ملک سے آنے والوں کا خون شامل ہے، اسی طرح دوسرے ممالک میں بھی ہندوستانیوں کی آمد ورفت اور اختلاط کے سبب وہاں کی مٹی میں ہندوستانی مٹی کی سوندھی مہک شامل ہوچکی ہے۔ ہندوستان میں بسنے والے سبھی مذاہب کے لوگوں نے ایک دوسرے کے مذہب کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے ایک دوسرے کی مذہبی کتابوںکو پڑھا ہے، ان کے تراجم کیے ہیںاور اشاعت کی ہے۔ محمود غزنوی کی فوج کے ساتھ آنے والے فلسفی و مؤرخ ابوریحان البیرونی نے ’کتاب الہند ‘ لکھ کر ہندوستانی تہذیب وتمدن اور یہاں کے علوم وفنون سے دنیاکو آگاہ کرنے کا پہلا کام کیا تھا۔ حالانکہ اسی دور میں بغداد کے عباسی خلفا بھی ہندوستانی کتابوں کے تراجم کرا رہے تھے اور انھوں نے ہندوستان کے علم نجوم وطب سے استفادے کی کوشش کی تھی۔ پروفیسر حکیم سید ظل الرحمن رقم طراز ہیں:

’’عربوں نے بلاد روم کی فتح کے وقت وہاں کے علوم و معارف اور کتابوں کے ساتھ وہ حشر نہیں کیا، جو ہسپانیوں نے فتح اندلس کے وقت، یا تاتاریوں نے بغداداور وسط ایشیا کے دوسرے اسلامی ملکوںکی تاراجی کے بعد عربی کتابوں کے ساتھ کیا۔ چنانچہ ہارون رشید (786-808) کے زمانے میں عموریہ اور انقرہ کی فتح کے بعد جب کتابوں کے ذخیرے ہاتھ آئے تو عربوں نے ان کی پوری حفاظت کی۔ طب، فلسفہ اور فلکیات کی نادر اور نفیس کتابیں بغداد لائی گئیں۔ یوحنا بن ماسویہ (وفات 243ھ/857) جیسے وحید عصر کی تولیت میں ان کتابوں کو دیا۔ اس نے ان کے تراجم کے اہتمامات کیے، اور متوکل کے عہد تک اس کی خدمت کا سلسلہ جاری رہا۔ ہارون کے زمانے میں ہندوستانی طبیب منکہ نے سنسکرت سے فارسی اور عربی میں ترجمے کیے۔ اسی طرح ابن دھن جو بیمارستان برامکہ سے وابستہ تھا متعدد کتابوں کا مترجم ہے۔ ‘‘ 

( طبی تقدمے، ص، 137، پروفیسر سید ظل الرحمن، مسلم یونیور سٹی پریس، علی گڑھ2000)

ہندوستان میںمغل حکمراں جلال الدین محمد اکبر کو علم پروری کے لیے جاناجاتاہے مگر اس نے علمی کتابیں کم اور آرٹ کی کتابوں کی طرف زیادہ توجہ دی تھی۔ اکبر نے مہابھارت کا ترجمہ ’رزم نامہ‘ کے نام سے کرایاتھا۔ یہ قدیم  داستان کوروؤں اور پانڈوؤں کے درمیان کی لڑائی ہے، جو پشتہاپشت سے عوامی زبان پر رائج ہے اور یہ جنگ ضرب المثل کے طور پر بیان کی جاتی ہے۔ جنگ کے دوران شری کرشن نے ارجن کی رتھ بانی کی خدمت انجام دی تھی اور اس بیچ انھوں نے انھیں بہت سی نصیحتیں کی تھیں جن کا مجموعہ ’بھگوت گیتا‘ ہے اس کتاب کا فارسی ترجمہ فیضی نے کیا تھا۔ مہابھارت کو ایک مقدس کتاب مانا جاتا ہے اور اکبر چونکہ مذہبی رواداری کا قائل تھا۔ لہذا اس نے اس کتاب کا ترجمہ کرایا ہوگا۔ اس نے جن کتابوں کے تراجم سنسکرت سے فارسی میں کرائے تھے ان میں مہابھارت، رامائن اور اپنیشد،سنگھاسن بتیسی، حیات الحیوان، اتھروید، انجیل، لیلا وتی، کلیلہ ودمنہ، تاریخ کشمیر، تزک بابری، معجم البلدان، جامع رشیدی، بحرالاثمار، ہربنس، بھی شامل تھیں۔اس سلسلے میں شیخ محمد اکرام تحریر کرتے ہیں:

’’اکبر نے ادبیات کی سرپرستی کی، سنسکرت، عربی، ترکی، یونانی سے فارسی میں کتابیں ترجمہ کرائیں، سنسکرت سے جو کتابیں ترجمہ ہوئیں، ان میں رامائن، مہابھارت، بھاگوت گیتا،اتھروید اور ریاضی کی کتاب لیلا وتی مشہور ہیں۔‘‘

(رود کوثر، ص164، شیخ محمد اکرام، تاج کمپنی ترکمان گیٹ، دہلی 2004)

اکبر کے دربار میں رباعیات بھی خوب لکھی گئیں مگر اس دور میں غزل کا رنگ زیادہ چڑھا۔باکمال اساتذہ کی تقلید،تکمیل فن کی خاطر کی جاتی تھی۔چنانچہ غزل ہو یا قصیدہ با کمال شعرا کے یہاں ان کے پیش رو اساتذہ کے رنگ میں اس قسم کی تقلید کے بہت سے نمونے ملیں گے،نظیری اور فیضی دونوں کے کلام میں گذشتہ اساتذہ کے رنگ بھی ملتے ہیں۔ان میں جوش بیان بھی ہے اور مضامین کی طرفگی بھی،استعارات کی جدت بھی،تشبیہات کی لطافت بھی،شوخی بھی،ندرت بھی،نئی نئی ترکبیں بھی،مضمون آفرینی بھی جن سے اس دور کے تغزل میں بڑی تابناکی پیدا ہو گئی۔یہ دونوں اساتذۂ فن تھے، اس لیے ان میں یہ ساری خوبیاں آسانی سے مل جائیں گی لیکن اس کے علاوہ اس دور کے دوسرے شعرا کے کلام میں بھی بہت ساری خوبیاں ملتی ہیں۔مجموعی طور سے اس دور کی غزلیں صاف،سلیس اور دلنشیں انداز میں لکھی گئی ہیں۔ اس دور میں تاریخ گوئی کا بھی رواج عام تھا،رفیعی معمائی نے ایک رباعی کہی تھی جس سے 26 تاریخیں نکلتی ہیں، خواجہ حسین مروی نے شہزادہ سلیم کی ولادت کے موقع پر ایک طویل قصیدہ کہا جس کے پہلے مصرع سے اکبر کی تاریخ جلوس اور دوسرے مصرع سے سلیم کی تاریخ ولادت نکلتی ہے۔

اس عہد میں بات بات پر قطعۂ تاریخ کہے جاتے تھے۔ولادت،شادی بیاہ، وفات، فتح، سفر، کتاب کی تالیف کے موقع پر پھڑکتی ہوئی تاریخ کہہ کر ادبی دنیا میں برابر داد طلب کی جاتی رہی۔ نیز یہ عہد فارسی زبان و ادب کے لیے ایک ایسا عہد گزرا ہے جہاں قلم و سخن کا ذکر اگر مختصراً بھی کیا جائے تو ایک ذخیرہ تیار ہو جائے گا۔

ہندوستان کی تاریخ میں عہداکبری کئی اعتبار سے نہایت اہم دور کہلاتا ہے۔ انھوںنے اپنے جانشینوں کے لیے علوم وفنون کی وسیع پیمانے پر سرپرستی کی اور وہ روایات قائم کیں جنھوں نے مغلیہ تہذیب وتمّدن کو آب وتاب بخشی۔ اکبر کے دربار  میں عبدالقادر بدایونی، فیضی، ابوالفضل اور نظام الدین جیسے اہل علم رہتے تھے۔ اس بادشاہ کا دور حکومت ہندوستان میں فارسی ادب کی ترقی کا دور تھا مگر اسی کے ساتھ اس زمانے میں سنسکرت کے فروغ کے لیے بھی کام ہوا۔ ’آئین اکبری‘ میںاکبر کے راج دربار کے 59 شعرا کے نام ملتے ہیں، ان کے علاوہ سنسکرت کے علما بھی تھے اور بہت سے علماء فارسی و سنسکرت دونوں زبانوں میں مہارت رکھتے تھے۔ اکبر کے زمانے میں ہی عبدالرحیم  خانخاناں بھی تھا جو سنسکرت کا بڑا عالم اور اہل علم کی سرپرستی کرتا تھا۔ وہ ہندی کے معروف شاعروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہندی کے مشہور شاعر راجہ بیربل، مان سنگھ، بھگوان داس وغیرہ اکبر کے دربار سے وابستہ تھے۔ تلسی داس اور سور داس مغل  دور کے دو ایسے عالم تھے جو اپنی تخلیقات سے ہندی ادب کی تاریخ میں امر ہوگئے۔

اکبربادشاہ کے زمانے میں جتنا متنوع علمی وادبی کام ہوا وہ کسی اور عہد میں نہیں ہوا۔ علم وادب کے علاوہ مصوری،خطّاطی اور دوسرے فنون میں اس زمانے میں اتنی ترقی ہوئی کہ اس کو بجا طور پر دور متوسط کا سنہرا زمانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔اکبرنے نہ صرف فن مصوری کو اختیار کیا بلکہ اسے ایک مستقل ادارے میں تبدیل کردیا۔ اور اس نے ایرانی مصوروں کے اردگردفن کاروں کا ایک نیا گروہ تیار کرلیا جو انھیں فنکاروں کے ترتیب یافتہ تھے جن کے ذریعے اکبر نے مصوری کے ایک اسکول کی بناڈالی جس میں ’حمزہ نامہ‘کی تصویریں بنانے کا کام شروع ہوا۔ حمزہ نامہ کے بارے میں ابوالفضل نے لکھا ہے :

’’ داستان امیر حمزہ بارہ جلدوں میں تقسیم کی گئی تھی، اس کتاب میں ایک ہزار چارسوحیرت انگیز تصویریں بنائی گئیں، جن سے ناظرین استعجاب میں مبتلا ہوگئے۔  ‘‘

(آئین اکبری، جلداوّل، ص195، شیخ ابوالفضل، ( بتصحیح سر سید احمد خان ) سر سید اکیڈمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی2005)

 اکبر کے زمانے میں جو نقاش کام کررہے تھے ان میں زیادہ تر کشمیری، گجراتی اور پنجابی ہندو تھے جو اپنے علاقائی اور موروثی رسم ورواج ساتھ لائے تھے، چنانچہ ملک کے مختلف طرز جو ملک کے مختلف حصوں میں مثلاً مالوہ، گجرات، راجستھان، گوالیار اور کشمیر میں پنپ رہے تھے۔ اب اکبر کے اسکول میں بنائی گئی تصویروں میں جھلکنا شروع ہوگئے۔اکبر کے اسکول کے مصوروں نے اپنا الگ ہی طرز اپنایا ہواتھا جس میں سب سے زیادہ مشہور بساون ہے جس کا طرز فارسی طرز،رسوم اور رنگوں سے بالکل ہی الگ تھا۔ ابوالفضل بساون کی تعریف میں رقمطراز ہے :

’’بساون در طراحی وچھرہ کشای ورنگ آمیزی مانند نگاری ودیگر کار ھای این فن یگانہ زمان شد وبساون ازدیدہ وران شناسا او را بر دسونت ترجیح دھند۔  ‘‘ ( ایضاً، ص194)

اکبر کے عہد کا سب سے مشہور یاد گار شہر فتح پور سیکری ہے جس کی تعمیرات کی تکمیل میں پورے 15 برس صرف ہوئے، اس محل کی دیواروں پر جو نقاشی ملتی ہے وہ ایرانی اور ہندوستانی نقاشوں نے مل کر کی جس سے اس محل کی سجاوٹ ظاہر ہوتی ہے۔معروف مؤرخ ابوالفضل جو بادشاہ اکبر کے بہت قریب تھا اپنی کتاب آئین اکبری میں بادشاہ کی نقاشی سے لگاؤ کی تعریف ان الفاظ میں کرتاہے۔

’’خدیو عالم از آغاز آگھی بدین کا ردل نھاد ورواج ورونق آن طلبگار شد‘‘(ایضاً، ص83)

اکبر کے عہد میں ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کو بہت ترقی ملی خاص طور پر اس کے عہد میں موسیقی کو ہندو مسلم اتحاد کا ایک اہم ذریعہ تصور کیا جاتا تھا۔اس زمانے میں ہندوستانی موسیقی کے ان نظری اصولوں کو بخوبی سمجھاجانے لگا جن کا ذکر سنسکرت تحریروں میںموجود ہے۔ابوالفضل نے آئین ِ اکبری میں ان اصولوں کو اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس نے موسیقی کے 36 استادوں کے نام دیے ہیں جو اکبر کی ملازمت میں تھے، ان میں مغنی اور سازندے دونوں شامل ہیں۔ ان میں سب سے اہم نام ’تان سین‘کا ہے۔

عہد اکبری میں منجملہ دیگر علوم وفنون کے فنون لطیفہ بھی بام عروج پر پہنچے ہوئے تھے آج بھی بہت سی عمارتیں اس کی فنکارانہ عظمت کا ثبوت دیتی ہیں اور اس کی عظیم الشان ومستحکم شہنشاہی پر شاہد ہیں۔

اکبر غیر متعصب بادشاہ تھا، اس کی شروع سے یہی کوشش رہی کہ وہ ہندو اور مسلمانوں کے درمیان قدیم نفاق اور حسد کو مٹاکر ایک قوم کی شکل دے۔ اپنی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے اس نے ہر ممکن کوشش کی۔ اکبر نے سابق مسلم حکمرانوں کے برخلاف اپنی رعایا کے ساتھ ہمدردی اور انسانیت کا سلوک کیا۔ اکبر کو یہاں کی ہر چیز سے محبت تھی، وہ ہندوستان کو اپنا ملک اور یہاں کے لوگوں کو اپنا دوست سمجھتاتھا، جذبۂ ملی اس کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہواتھا اور یہی جذبہ وہ اپنی رعایا میں پیدا کرنا چاہتاتھا۔  اس جذبے کو پیدا کرنے کے لیے اس نے ہندوؤں کے ساتھ میل جول بڑھایا، ان کے خاندانوں میں شادیاں کرکے ان کے ساتھ ازدواجی رشتے قائم کیے۔ اکبر نے صرف خود ہی راجپوت شہزادیوں سے شادی نہیں کی۔ بلکہ اپنے بیٹے سلیم کی شادی بھی راجپوت خاندان میں کی، اس طرح اس نے ہندو اورمسلمانوں کے درمیان رشتے ناطے قائم کرنے کی ایک نئی راہ کھولی، انھیںا پنے دربار میں اعلیٰ مناصب عطا کیے اور ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جیسا کہ دیگر امرا کے ساتھ کرتا تھا۔

اکبر نے صرف ہندو راجپوتوں کو اپنا دوست نہیں بنایا بلکہ ان کے رسم ورواج اور ان کے تہواروں مثلاً ہولی، دیوالی، دسہرہ، رکشا بندھن، بیساکھی وغیرہ کو بھی اپنے دربار کی تقریبات کا حصّہ بنایا۔ ان تہواروں کو وہ اتنی ہی شان وشوکت سے مناتا جتنی دھوم دھام سے وہ عید الفطر، عید الاضحی اور نوروز مناتاتھا۔ دربار میں ان جشنوں کے منعقد ہونے کی وجہ سے ہندو امرا کے درمیان برابری اور دوستی پیدا ہوگئی۔ جب مسلم ہندوؤں کے تہوار میں شریک ہونے لگے تو ہندو بھی مسلمانوں کی عیدوں میں شامل ہونے لگے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔

اس کے علاوہ اکبر نے معاشرے میں پھیلی ہوئی دیگربرائیوں کو دور کرنے کی بھی فکر کی۔ قدیم زمانے سے ہندوستانی معاشرے میں چند نازیبا اور ظالمانہ رسم ورواج رائج تھے جن پر یہاں کی عوام عمل پیرا تھی۔ اکبر کو اپنی رعایا کی بھلائی کی بڑی فکر تھی۔ لہٰذا اس نے ان ظالمانہ رواجوں کے خلاف سخت قوانین عائد کیے۔ اکبر نے سب سے پہلے ہندوؤں کی قدیم رسم ’ستی‘ کے خلاف آواز بلند کی اور حکم نافذ کیا کہ کسی بھی عورت کو اس کی مرضی کے بغیر ستی ہونے پر مجبور نہ کیا جائے۔

اکبر کا عہد علوم وفنون کی ترقی کا عظیم الشان دور ہے، تہذیب وثقافت میں ہم آہنگی، مساوات و برابری کی اہمیت پر زور دیاجاتاتھا، اکبر مذہبی رواداری اور ہندو مسلم اتحاد کا علمبردار ہونے کے ساتھ علوم وفنون کی سرپرستی اور تہذیب و ثقافت کی یکسانیت کا داعی تھا۔ بلاشبہ انہی خصوصیات نے اسے تاریخ کے اوراق میں اکبر اعظم کا خطاب دلایا ہے۔

کتابیات

.1        منتخب التواریخ،جلد دوم و سوم،  ملا عبدالقادر بدایونی، مترجم علیم اشرف خان، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی2012

.2         مغلیہ سلطنت کا عروج وزوال: آر، پی، ترپاٹھی، مترجم، ریاض احمد،  قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

.3         ادبیات فارسی میں ہندوؤں کا حصّہ:  ڈاکٹر سید عبداللہ،( باہتمام انیس احمد) انجمن ترقی اردو نئی دہلی،1992

.4         آئین اکبری شیخ، ابوالفضل، ( بتصحیح سر سید احمد خان ) سر سید اکادمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی2005

.5         تاریخ ہندوستان، پروفیسر وید ویاس (مترجم سید عبدالقادر) نوجیون پریس میکلیگن روڈ، لاہور

.6         ہندوستان پر مغلیہ حکومت۔مفتی شوکت علی فہمی، دین دنیا پبلشنگ کمپنی، دہلی

.7         ہندوستان شاہان مغلیہ کے عہد میں: مولانا سید محمد میاں صاحب، مکتبہ برہان، اردو بازار جامع مسجد دہلی

.8         بزم تیموریہ، جلد اوّل، سید صباح الدین عبدالرحمن۔ دارالمصنّفین شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ، یوپی، ہند،276001


 Dr. Mohd Mubarak Husain

Dept of Persian, Aligarh Muslim University

Aligarh- 202001 (UP)