جمعہ، 30 اگست، 2019

بیکل اتساہی: ایک درویش صفت سخن ور مضمون نگار: تابش مہدی


بیکل اتساہی: ایک درویش صفت سخن ور

 تابش مہدی


  
3دسمبر2016کو صبح چار بج کر چالیس منٹ پر دلّی کے رام منوہر لوہیا ہسپتال میں ہم سب کے شفیق و محبوب اور ہندی و اردو کے ہر دل عزیز شاعر بھائی بیکل اتساہی (1928-2016) محبت و اخوت اور انسانیت و وطن دوستی کا گیت گاکر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اِنا للّٰہ وَاِنَّا الیہ رَاجِعُون۔ اس سانحے کو کئی برس ہوگئے۔ لیکن ہمیں ایسا لگتا ہے کہ وہ اب بھی ہم سب کے درمیان موجود ہیں۔ ان کی محبت و شفقت میں ڈوبی ہوئی آواز اب بھی ہمارے کانوں میں رس گھولتی رہتی ہے۔اُن کے ہندی اردو آمیزلفظوں سے ہمارے کان اب بھی لذت حاصل کرتے رہتے ہیں۔ مخصوص وضع ، قطع اور حلیہ و لباس میں ان کی شخصیت اب بھی ہم سب کی نگاہوں میں گھومتی رہتی ہے۔ حضرتِ بیکل اتساہی تھے بھی ایسے کہ انھیں برسوں نہ بھلایا جاسکے۔ اِن شاءاللہ وہ تا دیر اردو زبان و ادب اور ہندستان کی مشرقی تہذیب وثقافت کو روشن کرتے رہیں گے۔
جناب بیکل اتساہی کا اصل نام محمد شفیع خاں لودی تھا۔ لیکن پوری اردو دنیا میں وہ صرف بیکل اتساہی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ یہ بات بہت کم لوگوں کے علم میں ہوگی کہ ان کا اصل نام محمد شفیع خاں لودی تھا۔وہ کچھ عرصے رہبر بلرام پوری کے نام سے جانے جاتے رہے، پھر بیکل بلرام پوری لکھنے لگے، کچھ دنوں بیکل وارثی بھی رہے لیکن پنڈت جواہر لعل نہرو نے اُنھیں بیکل اتساہی کردیا۔ وہ 1928 میں ضلع گونڈہ کی تحصیل اُترولہ کے ایک چھوٹے سے گاں رمواپور میں پیدا ہوئے تھے۔ ضلع گونڈہ کا یہ حصہ اب ضلع بلرام پور میں شامل ہوگیا ہے۔ ان کے والد محترم جناب محمد جعفر خاں اپنے علاقے کے بڑے زمین داروں میں تھے۔ اپنے زمانے میں پورے علاقے میں ان کا طوطی بولتا تھا۔
بیکل صاحب نے ابتدائی تعلیم اپنے گاں میں حاصل کی۔ اس کے بعد اپنے قریبی شہر بلرام پور کے ایم پی پی انٹر کالج سے اُنھوں نے انٹر میڈیٹ کیا۔ چونکہ انھیں شعر گوئی کا ذوق فطری طور پر حاصل تھا اور اللہ نے طبیعت کو موزونی بھی عطا کی تھی، اس لیے بہت کم عمری میں انھوں نے وادیِ سخن میں قدم رکھ دیا تھا۔وہ ایک قادر الکلام شاعر تھے۔ الفاظ و تراکیب کے استعمال پر انھیں کامل دست رس حاصل تھی۔ سلاست و سادگی سے ان کو خصوصی مناسبت تھی۔ تکلف و تصنع سے وہ اجتناب کرتے تھے۔ ان کی شاعری میں ہندی و اردو کا بہترین امتزاج ملتا ہے۔ سماج اور زندگی سے اٹوٹ رشتہ اور محبت ، خیرخواہی اور قومی و ملّی یک جہتی ان کی شاعری کی پہچان ہے۔
بیکل اتساہی شاعری میں کلاسیکی قدروں کے پاسدار تھے۔ ان کا شعری خمیر کلاسیکی ادب سے اٹھا تھا۔ انھوں نے اپنی شاعری سے تلسی، کبیر، ملک محمد جائسی اور نظیر اکبر آبادی کی شعری روایت کو ارتقابخشاہے۔ہم ان کی غزلیں پڑھیں یا نظمیں یا گیت ہر جگہ ہمیں مذکورہ بالا چاروں بزرگ شعرا کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔
 بیکل اتساہی ایک انسان دوست شاعر تھے۔ انھوں نے جس دھرتی پر جنم لیا تھا، اس سے انھیں بے پناہ محبت تھی۔ گاں کی صبح و شام کووہ دل سے عزیز رکھتے تھے۔ وہ خالص ہندستانی شاعر تھے۔ بعض لوگوں نے انھیں شاعری کا سَنت اور درویش بھی کہا ہے۔
بیکل اتساہی نے ترقی پسند ادبی تحریک کا عروج بھی دیکھا تھا اور اس کا زوال بھی ان کی نگاہوں میں تھا، انھوں نے جدیدیت کے چمک دار نعروں کو بھی سنا اور اُس کی ذلّت و رسوائی بھی ان کے سامنے تھی۔ ان سب کے علاوہ بھی انھوں نے بہت کچھ دیکھا، لیکن وہ کبھی کسی مصنوعی چمک یا نعرے سے متاثر نہیں ہوئے۔انھوں نے ہمیشہ اپنی روایت کو سامنے رکھا اور اسی کو اپنی شاعری کا محور قرار دیا۔ شگفتہ و شائستہ اور سادہ و دل کش انداز میں اپنی غزلوں، نظموں اور گیتوں کے وسیلے سے عصری رجحانات و تغیرات کو پیش کرنا ان کا خاص ہنر تھا۔ ان کے کلام کا قاری ےہ محسوس کیے بغیر نہیں رہے گا کہ انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے سے عظمتِ رفتہ کا سراغ لگانے کی بھی کوشش کی ہے اور حالات حاضرہ پر مہذب و باوقار تبصرے بھی کیے ہیں۔ انھوں نے انسانیت اور باہمی میل ملاپ کے نغمے بھی سنائے ہیں اور فرقہ واریت اور باہمی تنگ دلی و منافرت پر کھل کر تنقید بھی کی ہے۔
1975میں بیکل صاحب کا ایک شعری مجموعہ ’پروائیاں‘ کے نام سے شائع ہوا تھا۔ اس میں انھوں نے لکھا تھا :
میں بنیادی طور پر نظموں اور گیتوں کا شاعر ہوں۔ نظمیں تفصیل و توضیح کی متقاضی رہتی ہیں۔ مگر میرے گیتوں سے یہ فائدہ ضرور ہوا کہ مجھے سبک، شیریں اور نرم لہجے میں گفتگو کرنے کا انداز حاصل ہوا۔ یہی شیرینی اور شگفتگی میری غزلوں کے تخلیقی عمل کے لیے مشعلِ راہ بنی۔ میری تشکیل فکر اس ہندستان میں ہوئی، جو غلامی کی بیڑیوں کو کاٹ چکا تھا، مگر غلامی کی لعنتوں سے مکمل طور سے آزاد نہیں ہوا تھا۔ میرے سامنے حسن و عشق کے بنیادی جذبات کے ساتھ ساتھ وہ مسائل تھے، جن سے ہماری انسانیت مجموعی طور پر اس دور میں دو چار رہی ہے۔
درج ذیل اشعار سے بیکل اتساہی کے شعری رویے کی تصویب ہوتی ہے:
بیچ سڑک پر لاش پڑی تھی اور یہ لکھا تھا
بھوک میں زہریلی روٹی بھی میٹھی لگتی ہے
لباس قیمتی رکھ کر بھی شہر ننگا ہے
ہمارے گاں میں موٹا، مہین کچھ تو ہے
لیے کائنات کی وسعتیں، ہے دیار دل میں بسی ہوئی
ہے عجیب رنگ کی ےہ غزل، نہ لکھی ہوئی، نہ پڑھی ہوئی
قلم سے نور تو کاغذ سے نکہتیں پھوٹیں
یہ حرف و لفظ ےہ حسنِ کلام آپ کے نام
جناب بیکل اتساہی طویل مدت تک شاعری کے افق پر ستاروں کے مانند رخشندہ و تابندہ رہے۔ وہ شاعری کی اُس روایت کے بانی و موجد تھے، جو اُن سے پہلے اچھوتی تھی۔کسی نے نہ اس کی ہمت کی اور نہ کسی کو سوجھی۔
جناب بیکل اتساہی نعت کے راستے سے وادیِ شاعری میں داخل ہوئے تھے۔ محافلِ میلاد اور سیرت النبی کے جلسوں میں انھیں بڑے اہتمام سے مدعو کیا جاتا تھا اور جہاں اور جس جلسے میں وہ شریک ہوتے تھے، عوام کی بڑی تعداد محض ان کی وجہ سے شریک جلسہ ہوتی تھی۔ یہ عجیب اتفاق بلکہ حسن اتفاق کہےے کہ وہ نعت گوئی کے ذریعے سے شاعری میں آئے اور ان کی زندگی کا آخری مشاعرہ بھی نعت ہی کا تھا۔ انھوں نے اجمیر کے ایک نعتیہ مشاعرے میں شرکت کی۔ اس کے بعد کسی مشاعرے یا محفل میں شرکت کی نوبت نہیں آئی۔ اللہ کی طرف سے طلبی آگئی۔گویا ان کا خاتمہ بالخیر نعت ہی پہ ہوا۔
 ایں سعادت بہ زورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
بھائی بیکل اتساہی نے ایک بار بتایا تھا کہ جب وہ شاعری کی دنیا میں آئے، ہر طرف ان کے چرچے ہونے لگے اور جلسوں اور مشاعروں میں ان کی مانگ ہونے لگی تو یہ بات ان کے والد محترم جعفر خاں لودی مرحوم کے لیے سخت تکلیف دہ تھی۔ انھیں یہ بات بالکل پسند نہیں تھی کہ ان کا بیٹا ایک شاعر کی حیثیت سے شہرت و نام وری حاصل کرے۔ شاعری کی وجہ سے وہ اپنے بیٹے سے اس قدر ناراض تھے کہ بیکل صاحب کے قول کے مطابق وہ وقت قریب تھا کہ وہ انھیں عاق کرکے اُنھیں زمین جائداد سے بے دخل کردیتے۔ اِسی دوران میں خوش قسمتی سے جعفر خان کو سفرِ حج کی سعادت نصیب ہوئی۔ وہاں انھوں نے مکہ و مدینہ کی مختلف جگہوں پر زائرین حرمین کی زبانی نعتِ رسول سنی۔ انھیں وہاں کی نورانی فضا میں حمد و نعت کے نغمے بہت اچھے لگے۔ اِسی دوران میں کسی نے انھیں بتایا کہ یہ نعتیں ہندستان کے ایک شاعربیکل بلرام پوری کی ہیں۔ یہ سنتے ہی ان کا دل فخر و مسرت سے لبریز ہوگیا۔ انھوں نے وہیں سے اپنے لائق بیٹے کو خط لکھ کر مبارک باد دی۔ اس کے بعد ان کی محبتوں اور شفقتوں کے سب سے زیادہ مستحق، ان کی اولاد میں محمد شفیع خاں لودی عرف بیکل اتساہی بلرام پوری ٹھہرے۔
اللہ تعالیٰ نے جناب بیکل اتساہی کو بے پناہ مقبولیت و محبوبیت سے سرفراز کیا تھا۔ میرے علم کی حد تک بیکل اتساہی وہ پہلے شاعر تھے، جنھیں ہندستان سے باہر شہرت و ناموری حاصل تھی اور متعدد ممالک میں انھیں اعزاز کے ساتھ بلایا گیا۔ دوسرے شعرا نے ان کے بعد ہی سرحد کے پار قدم رکھا۔انھیں ہندستان کے پدم شری، پدم بھوشن جیسے اعزازات سے نوازا گیاتھا۔ راجیہ سبھا کے ممبر بھی نام زد ہوئے تھے۔ حکومتِ اُترپردیش اور ملک کی دوسری اردو اکادمیوں کی طرف سے بھی انھیں اعزاز و اکرام سے سرفراز کیا گیا۔ ہندستان کے بے شمار علمی ، ادبی اور تعلیمی اداروں کے وہ سرپرست و سربراہ بھی تھے۔
بیکل صاحب مقبولیت کی حدوں کو پار کرچکے تھے۔ بڑے بڑے مشاعروں میں ان کی شرکت ناگزیر تصور کی جاتی تھی۔ اللہ نے کلام کے ساتھ آواز کچھ ایسی دی تھی کہ جو سنتا تھا دیوانہ ہوجاتا تھا۔سنا ہے کہ کسی نعتیہ مشاعرے میں بیکل صاحب شریک تھے۔ کچھ خواتین چھتوں پر بیٹھ کر ان کا کلام سن رہی تھیں۔ ان میں ایک عورت ان کے نغمہ و ترنم سے اس قدر متاثر ہوئی کہ وہ چھت سے کود پڑی۔ان کی آواز اور ترنم کی دل کشی کی یہ کیفیت ان کی زندگی کے آخری دم تک رہی۔ ان تمام مقبولیتوں اور ہر دل عزیزیوں کے باوجود میں نے کئی بار یہ بھی دیکھا ہے کہ بڑے سے بڑے مہنگے سے مہنگے مشاعروں پر وہ چھوٹے اور نہایت کم معاوضے والے نعتیہ مشاعروں کو ترجیح دیتے تھے۔ یہ محض ان کی محبت رسول کی بات تھی۔ اس کے علاوہ اس کی کوئی تاویل نہیں کی جاسکتی۔
جناب بیکل اتساہی کے نام اور کلام سے میرے کان کب آشنا ہوے، قطعیت کے ساتھ یہ بتانا مشکل ہے۔ میرا خیال ہے کہ نوشت و خواند کی معمولی صلاحیت پیدا ہوجانے کے بعد ہی سے میں نے مختلف حوالوں سے ان کے چرچے سن لیے تھے۔ ان کی نعتیں اکثر وقفے وقفے سے سننے کو ملتی رہتی تھیں۔ میں خود بھی لحن و ترنم کے ساتھ ان کا مشہور نعتیہ گیت:
ڈولے سنن سنن ، پروائی پون ہائے کتنی سہانی ہے رات
کملی والے پیا، تمرے لاگوں چرن آمنہ کے للن، شاہِ دیں سرورِ کائنات
گا گا کر جلسوں اور نجی محفلوں میں سنایا کرتا تھا۔ وہ نعت بھی میری زبان پہ رہتی تھی،جس کا مطلع غالباً اس طرح تھا:
ہر نظر کانپ اٹھے گی محشر کے دن خوف سے ہر کلیجا دہل جائے گا
کملی والے کا ہوگا عجب مرتبہ حشر کا سارا نقشہ بدل جائے گا
اُس وقت میں کم سنی کی وجہ سے اس کے علاوہ کچھ نہیں جانتا تھاکہ یہ بیکل کون صاحب ہیں؟ یا کس مذہب و مسلک سے ان کا تعلق ہے؟ بس مجھے ان کے اشعار اچھے لگتے تھے، ان کی دھن بھی مست کردینے والی ہوتی تھیں، اِس لیے میں بھی مست اور مگن ہوکر اُنھیں چھوٹی بڑی محفلوں میں سنایا کرتا تھا۔ بریلوی دیوبندی کے جھگڑوں سے مجھے بہت بعد میں واقفیت ہوئی۔ اس وقت ہوئی جب میں نے تعلیم کے سلسلے میں اپنے وطن پرتاب گڑھ سے باہر قدم رکھا اور الٰہ آباد کے مدرسہ سبحانیہ میں داخلہ لیا۔ لیکن اپنی خواہش بسیار کے باوجود بیکل اتساہی کو دیکھنے اور ان سے ملاقات کا موقع نہیں مل سکا تھا۔ اُنھیں میں نے سب سے پہلے1972 کے اوائل میں اس وقت دیکھا، جب وہ’ جشنِ نازش پرتاب گڑھی‘کے مشاعرے میں پرتاب گڑھ تشریف لائے ہوے تھے۔ یہ جشن بھی بڑی حد تک بیکل صاحب ہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا۔ اِس مشاعرے کی نظامت بھی بیکل صاحب نے کی تھی۔ جب کہ صدارت بیگم حامدہ حبیب اللہ نے فرمائی تھی۔اِسی مشاعرے میں میں نے سب سے پہلے حضرت شمیم کرہانی، انور مرزا پوری اور خمار بارہ بنکوی کو قریب سے دیکھا تھا۔ مشاعرے کے آغاز میں بیکل صاحب نے حضرت نازش پرتاب گڑھی کے سلسلے میں جو جامع تقریر کی اور اُن کی شخصیت اور شاعری پر تفصیلی روشنی ڈالی، اس سے ان کی ادبی و تنقیدی بصیرت کا بھی اندازہ ہوا اور نازش پرتاب گڑھی سے ان کی بے غرض گہری محبت و تعلق خاطر کا بھی۔ اِس ملاقات کے بعد ان سے میری کتنی ملاقاتیں رہیں، کہاں کہاں کی ہم سفری و معیت کا شرف حاصل رہااور مجھ پر ان کی کیا کیا عنایتیں رہیں،ان سب کا احاطہ ممکن نہیں ہے۔ اُن کی فکری بصیرت، شعری ندرت اور خرد نوازی کا میں ہمیشہ قائل رہا ہوں۔وہ عمر میں مجھ سے بہت بڑے تھے۔ میرے والدِ محترم کے ہم عمر تھے، لیکن وہ مجھے ہمیشہ تابش بھائی کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔
میری کتاب شفیق جون پوری: ایک مطالعہ چھپ کر آئی تو میں نے ایک نسخہ ان کی خدمت میں پیش کیا۔ پھر جب استاذِ محترم علامہ شہباز صدیقی امروہوی سے متعلق میری کتاب ’عرفانِ شہباز‘ شائع ہوئی تو میں نے ایک عزیز کے ذریعے سے اُسے بھی ان تک پہنچایا۔ ممبئی کی ایک ملاقات میں تپاک سے ملے۔ بے پناہ خوشی کا اظہار کیا۔ فرمایا: تابش بھائی! آپ نے شفیق جون پوری- ایک مطالعہ لکھ کر میرے استاذ کو دوبارہ زندہ کردیا تھا اور عرفانِ شہباز لکھ کر اپنے محترم استاذ کو حیات دوام بخش دیا۔ آپ کتنے اچھے ہیں پیارے بھائی! اپنا کام بھی کرتے ہیں اوردوسروں کا بھی۔
 گرچہ بیکل اتساہی خالص عوامی شاعر تھے۔ ان کی مقبولیت و محبوبیت زیادہ تر عوام میں تھی۔ لیکن خواص میں بھی ان کی قدرو منزلت کچھ کم نہیں تھی۔
فراق گورکھ پوری نے کسی موقعے پر کہا تھا:
بیکل اتساہی کے ہاں جن الفاظ کا تصرف ہے، ان میں علامات کی بہتات کم اور خیالات کا بہاؤ زیادہ ہے۔ان کے فکر و فن میں کچھ اس طرح کی وابستگی ہے کہ کلام میں ہندی اور اردو کے حسین سنگم سے یک جہتی کا رنگ پھوٹ نکلا ہے اور ان کی غزلوں میں بھی زندگی اور کائنات کے تمام محرکات موجود ہیں اور گیتوں میں بھی۔ ان کے ہاں زندگی اور سماج کے افادی پہلوکی بڑی حسین و دل کش تفسیر ملتی ہے۔
فراق گورکھ پوری شاعر یا ناقد جیسے بھی رہے ہوں، لیکن ان کے مزاج میں کچھ ایسی تنگی تھی کہ وہ کسی معاصر کو بہت کم گردانتے تھے ۔ بیکل صاحب کی شاعری کے سلسلے میں ان کے منقولِ بالا تاثرات غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ بیکل صاحب کے اِس قسم کے اشعار سے ان کی بلندی فکر، گہرائیِ خیال اور ندرتِ کلام کا اندازہ ہوتا ہے۔ 
میں جب بھی کوئی اچھوتا کلام لکھتا ہوں
تو پہلے ایک غزل تیرے نام لکھتا ہوں
بدن کی آنچ سے سنولا گئے ہیں پیراہن
میں پھر بھی صبح کے چہرے پہ شام لکھتا ہوں
زمین پیاسی ہے، بوڑھا لگن بھی بھوکا ہے
میں اپنے عہد کے قصے تمام لکھتا ہوں
چمن کو اوروں نے لکھا ہے مے کدہ بردوش
میں پھول پھول کو آتش بہ جام لکھتا ہوں
دماغ عرش پہ ہے خود زمیں پہ چلتے ہیں
سفر گمان پہ ہے اور یقیں پہ چلتے ہیں
نہ جانے کون سا نشّہ ہے ان پہ چھایا ہوا
قدم کہیں پہ ہیں پڑتے کہیں پہ چلتے ہیں

مری تباہی کا باعث جو ہے زمانے میں
اُسی کو اب مرا کاہے خیال ہونے لگا
ہوائے عشق نے بھی گل کھلائے ہیں کیا کیا
جو میرا حال تھا وہ تیرا حال ہونے لگا
تمھارے قد سے اگر بڑھ رہی ہو پرچھائیں
سمجھ لو دھوپ کا وقتِ زوال آنے لگا

فرش تا عرش کوئی نام و نشاں مل نہ سکا
میں جسے ڈھونڈ رہا تھا، مرے اندر نکلا
بیکل اتساہی کی شاعری ایک سمندر ہے۔ اس میں غوطہ زنی کرنے والے کو طرح طرح کے قیمتی ہیرے جواہر ملیں گے۔ ان کی شاعری کا احاطہ کسی ایک مضمون یا مقالے میں نہیں کیا جاسکتا۔ وہ 3دسمبر2016 کو اِس جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے۔ اب وہ ہم سے اتنے دور ہوچکے ہیں کہ ان سے ملاقات مشکل نہیں ناممکن ہے۔ لیکن انھوں نے اپنے فکر و فن کا جوسمندر دنیا کے حوالے کیا ہے۔اس کی غوطہ زنی تا دیر ہوتی رہے گی اور ناقدین فن اُس میں حسب توفیق و بصیرت لعل و جواہر دریافت کرکے علم و ادب کے شائقین کو مالا مال کرتے رہیں گے۔
مرنے والے مر کے بھی مرتے نہیں
اور جیتے جی بھی مرجاتے ہیں لوگ

Dr. Tabish Mehdi
G5/A - Abul Fazl Enclave
Jamia Nagar, New Delhi - 110025 (INDIA)
Ph: 26970736 Cell: 9818327947
E-mail: drtabishmehdi@gmail.com



 ماہنامہ اردو دنیا، ستمبر 2019

 قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے










نظیراکبرآبادی اور ہندوستانی تیوہار مضمون نگار: اسما


نظیراکبرآبادی اور ہندوستانی تیوہار

 اسما

پوری اردو شاعری میں زبان و بیان پر بھرپور دسترس،الفاظ کے استعمال پر قدرت اور تہذیبی عناصر کی پیشکش کی جادوگری میں نظیر اکبر آبادی، میر، سودا،ذوق، غالب،آتش،ناسخ، انیس اور جوش ملیح آبادی کی صف میں شامل ہیں۔معمولی موضوعات کو غیر معمولی انداز میں پیش کرنے کا ہنر ان کی انفرادیت کی روشن مثال ہے۔انہوں نے اپنی خداداد صلاحیت اور فکری وفنی امتیازات کی بنا پر شہرت دوام حاصل کی اور اپنے آپ میں ایک نابغہ روزگار کہلانے میں حق بجانب ٹھہرے۔
نظیر اکبر آبادی کی بنیادی حیثیت ایک شاعر کی ہے۔ انھوں نے انسانی زندگی کے تمام شعبۂ حیات کا نہ صرف گہرائی وگیرائی اور باریک بینی سے مطالعہ ومشاہدہ کیا بلکہ انسان کو کامیاب اور خوشگوار زندگی جینے کا سلیقہ و ہنر بھی سکھایا۔ان کی شاعری گل و بلبل،عشق و محبت کے فسانے سے بہت آگے انسانی زندگی کی مکمل تصویر کشی سے عبارت ہے۔جس میں ہر مکتبۂ فکر، طبقے اور مذہب کے ادنیٰ و اعلیٰ، امیر و غریب سبھی لوگ اپنے خدوخال کو بآسا نی دیکھ سکتے ہیں۔
 نظیر نے غزلیں بھی لکھیں اور نظمیں بھی،لیکن جس چیز نے نظیر کو لافانی اور بے نظیرگردانا وہ ان کی نظمیں ہیں۔جس کا اعتراف مختلف نقادوں اور دانشوروں نے بھی کیا۔اس سلسلے میں پروفیسر مجنوں گورکھپو ری نظیرکو ان کی تظموں کے بل پر زندہ تسلیم کرتے ہو ئے لکھتے ہیں: ”سب سے پہلی بات جو پہلی ہی نظر میں معلوم ہو جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر قصائد و مثنویات کو نظم میں شمار نہ کیا جائے اور نظم کی اصطلاح کو جدید معنوں میں استعمال کیا جائے تو نظیر اکبر آبادی اردو کے پہلے نظم نگار ہیں۔
 درج بالا اقتباس اس بات کا غمازہے کہ نظیر کی نظمیں انھیں اردو شاعری میں ایک مستقل دور کا بانی قرار دینے میں معاون ومددگار ہیں۔ نظیر کو اپنے وطن سے والہانہ لگاؤ اور اس کی مٹی سے بے لوث محبت تھی۔جس کی بنا پر اگر انھیں خالص ہندوستانی شاعر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ہندوستان کی زندگی، تہذیب و ثقافت،رسم و رواج، تیوہاراور مقامی رنگ و آہنگ وغیرہ ان کی شاعری کے لازمی جز ہیں۔
نظیراردو کے پہلے ایسے شاعر ہیں جن کا کلام پڑھ کر ہندوستان کے حالات،طرززندگی،رسم و رواج اور تیوہار کے متعلق تمام معلومات حاصل ہو جاتی ہیں۔ ہندوستان مختلف تہذیبوں کا گہوارہ کہا جاتا ہے۔جہا ں مخصوص کرداروں پر مشتمل مختلف طبقات اور جماعتیں ہیں جن کے مابین اتحادو اتفاق،بھائی چارگی،آپسی رواداری اور قومی یکجہتی کی بہترین مثال تیوہاروں،تقریبوں جلسوں اور میلوں ٹھیلوں کی شکل میں نمودار ہوتی ہے۔جو عوام کی تفریح طبع اور مسرت کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی آئینہ دار بھی ہے۔جس کے ذریعہ انسانی جذبات و احساسات،رسم و رواج،رہن سہن اور طرز معاشرت سے مکمل آگاہی ہو جاتی ہے۔اردو شعرا نے کثرت سے ان موضوعات پر طبع آزمائی کی ہے مگر اکثریت ایسے شاعروں کی ہے جن کے یہاں یہ عناصر کلی طور پر ناپید ہیں۔اس معنیٰ میں نظیر اکبر آباد ی کی شاعری کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ان کے یہاں ہندوستانیت کے اجزا صرف ملے جلے ہی نہیں بلکہ پوری طرح رچے بسے نظر آتے ہیں۔
جس دور میں نظیر نے شاعری کی ابتدا کی وہ عہد ہندو مسلم اتحاد کی بہترین تصویر پیش کرتا ہے۔ ہندو، مسلمان اور دیگر مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے تیوہاروں، رسم و رواج اور میلوں ٹھیلوں میں شریک ہوتے، ایسے ہی ماحول میں نظیر کی شاعری پھلی پھولی اور پروان چڑھی جس کا رنگ و آہنگ تا عمر نظیر کی شاعری پر چھایا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم نظیر کی شاعری کا غائر مطالعہ کرتے ہیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کی شاعری یک رخی نہیں بلکہ کثیر الجہات اور ہمہ گیر ہے۔
تیوہار خواہ کسی بھی مذہب و ملت سے متعلق ہو ہر شخص بلا امتیاز مذہب و ملت نہ صرف اس میں شریک ہو سکتا ہے بلکہ اپنی خوشی کا اظہار بھی کر سکتا ہے۔یہ تیوہار انسانی زندگی میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔نظیر کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنی نظموں کے ذریعہ عوام کو مذہبی کٹر پن کے محدود دائرے سے نکال کر انسانیت کے بلند مرتبے پر گامزن کیا۔نتیجتاً ہندوستانی نہ صرف سماجی نوعیت کے میلوں ٹھیلوں، صوفیوں کی عام محفلوں،عرسوں اور مزاروں کی زیارت میں شرکت کرنے لگے۔بلکہ بلا امتیازو مذہب و ملت ایک دوسرے کے مذہبی تیوہاروں میں شریک ہو کر باہمی اتحاد اور رواداری کا ثبوت دینے لگے۔اسی جذبے کے تحت اردو کے مسلمان شعرا نے ہولی، دیوالی، راکھی، جنماشٹمی،شیو راتری جیسے تیوہاروں اور شری رام چندر اور گرو نانک جیسی شخصیات کی شان میں نظمیں لکھیں۔
نظیر کی سب سے اہم خوبی ان کی بے تعصبی، رواداری اور وسیع المشربی ہے۔جس نے تفریق کی تمام دیواریں ڈھا دیں۔ہندو،مسلم،سکھ،عیسائی سب ان کی نظر میں یکساں ہیں۔انہوں نے جہاں عید،شب برات، بقر عید، حضرت سلیم چشتی پر جوش و ولولہ خیز نظمیں لکھیں وہیں ہولی،دیوالی،بسنت، نانک،اور کنھیا جی وغیرہ کی توصیف میں بھی ایسی ایسی نظمیں لکھیں جن کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کسی مذہبی ہندوکے دل سے نکلے ہوئے وہ نغمے ہیں جو بے پناہ عقیدت و ارادت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انھوں نے جن تیوہاروں، میلوں،ٹھیلوں،عرسوں اور تقریبوں پر نظمیں کہی ہیں وہ پر اثر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ میں بے مثال ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے یہاں عید، بقرعید،شب برات پر لکھی گئی نظموں سے کہیں زیادہ ہولی،دیوالی،بسنت، مہادیوجی، اور شری کرشن پر لکھی نظمیں ان کے جذبہ عقیدت کی مظہر ہیں۔
عید‘سے متعلق نظیر اکبر آبادی نے تقریباً4 نظمیں لکھیں جس میں اس تیوہار کی مذہبی حیثیت پر تو کوئی خاص توجہ نہیں ملتی البتہ اس پہلو سے قطع نظر صرف امیدو رجا، وصل و ملاقات اور میل ملاپ کا پہلو نظر آتا ہے۔نظیر نے تیوہاروں پر نظم لکھتے وقت انسانی نفسیات کا بھی گہرا مطالعہ و مشاہدہ کیاہے اور جس نقطہ نظر کی عکاسی کی اس میں سب برابر کے شریک رہے۔یعنی ہر شخص اپنے مقام و مرتبے اور اپنی ذہنی سطح سے اس تیوہار کو اپنے مقصد کی  تکمیل کا ذریعہ سمجھتا ہے۔کسی کو تیوہار کے بہانے شراب و کباب وافر مقدار میں میسر ہوتی ہے تو کسی کو محبوب سے وصال،وہیں زاہدوعابد کے لیے یہ دن بھی ریاضت و عبادت کا دن ہے۔ اس بات کو نظیر نے بڑے حسین انداز میں پیش کیا ہے
ہے عابدوں کو طاعت و تجرید کی خوشی
اور زاہدوں کو زہد کی تمہید کی خوشی
رند عاشقوں کو ہے کئی امید کی خوشی
کچھ دلبروں کو وصل کی کچھ دید کی خوشی
 ایسی ہے شب برات نہ بقر عید کی خوشی
 جیسی ہر ایک دل میں ہے اس عید کی خوشی
نظیر چونکہ ایک عاشق مزاج اور خوش طبع شاعر بھی ہیں لہٰذا ان کی پوری توجہ محبوب سے ملاقات اور اس کے حسن کی خوبصورتی بیان کرنے میں صرف ہوتی ہے۔عید پر لکھی گئی نظموں میں ایک نظم محبوب سے کیے گئے شکوے شکایت سے پر ہے۔یعنی عید کے دن بھی نظیر    ٓ محبوب کے دیدار سے محروم ہیں۔اس موقع پرایک عاشق کے دل میں جو خیالات اس محرومی کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں اس کی پوری عکاسی ’نظم عید‘ میں ابتدا تا آخر بیان کی گئی ہے۔ ایک بند دیکھیے:
یوں لب سے اپنے نکلے ہے اب بار بار آہ
کرتا ہے جس طرح کہ دل بے قرار،آہ
عالم نے کیا ہی عیش کی لوٹی بہار آہ
ہم سے تو آج بھی نہ ملا وہ نگار آہ
ہم عید کے دن بھی رہے امید وار،آہ
اس طرح پوری نظم شکایتوں کا پلندہ ہے۔یہ نظم تیوہاروں سے متعلق نظیر کے نقطۂ نظر کی وضاحت کے حوالے سے بے حد اہم ہے۔نظیر نے نظمیں لکھتے وقت اس کو مزید دلچسپ بنانے کے لیے جہاں نادر تشبیہوں اور استعاروں کا استعمال کیا ہے وہیں جگہ جگہ مزاح و ظرافت کا بھی سہارا لیا ہے۔جس سے قاری کی دلچسپی برابر قائم رہتی ہے اور بعض اشعار اور بند تو ایسے دلچسپ ہیں کہ ان کو پڑھ کر نہ صرف بے ساختہ لب مسکرا اٹھتے ہیں بلکہ شاعر کی خوش مزاجی پر داد دینے کو جی چاہتا ہے:
کوئی مست پھرتا ہے جام ِ شراب سے
کوئی پکارتا ہے کہ چھوٹے عذاب سے
کلاّکسی کا پھولا ہے لڈوکی چاٹ سے
چٹکاریں جی میں بھرتے ہیں نان و کباب سے
ایسی نہ شب برات نہ بقر عید کی خوشی
جیسی ہر ایک دل میں ہے اس عید کی خوشی
عید‘ کی طرح ’شب ِبرات‘ بھی مسلمانوں کا ایک اہم تیوہار ہے۔جس پر نظیر نے 4 نظمیں قلم بند کیں۔جو عقیدت کے جذبات سے سرشار ہیں۔اس کے مختلف پہلوؤں  پر نظیر نے اپنے منفرد اور دلکش انداز میں روشنی ڈالی ہے۔وہ اپنے مقصد اور نقطہ نظر کی وضاحت نہایت سیدھی سادی مگر پر زور اور ناقابل تردید دلائل و براہین کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔نظیر نے شب برات کو ’مردوں کے روح کی مددگاری ‘کا سبب قرار دیا ہے۔مردوں کے ساتھ ساتھ زندہ لوگوں کے لیے بھی یہ تیوہار سود مند ہے۔ کیونکہ انھیں بھی مختلف قسم کے عمدہ و لذیذ حلوے کھانے کو مل جاتے ہیں۔نظم شب برات کے پہلے بند میں اس تیوہار کی مقصدیت پر اس طرح روشنی ڈالی گئی ہے:
کیوں کر کرے نہ اپنی نموداری شب برات
چلیک،چپاتی،حلوے سے ہے بھاری شب برات
زندوں کی ہے زباں کی مزے داری شب برات
 مردوں کی روح کی ہے مددگاری شب برات
لگتی ہے سب کے دل کو غرض پیاری شب برات
نظیرالہ آبادی نے اپنی نظموں میں امیرو غریب کی تفریق کو بھی موضوع گفتگوبنایا ہے۔دونو ں کی تصویریں نظم ’شب برات‘ میں اس موثر انداز میں پیش کی ہیں کہ ایک حساسّ دل تڑپ اٹھتا ہے اور یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر سماج میں یہ طبقاتی کشمکش کیوں ہے؟آج کے دن بھی ان کو غربت و افلاس سے نجات نہیں مل پاتی۔اس حقیقت کو نظیرنے یوں عیاں کیا ہے:
اور مفلسوں کی ہے یہ تمناّکی فاتحہ
دریا پہ جا کے دیتے ہیں بابا کی فا تحہ
بھٹیاری کے تنور پہ نانا کی فاتحہ
حلوائی کی دکان پہ دادا کی فاتحہ
یاں تک تو ان پہ لاتی ہے ناچاری شب برات
اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ نظیر نے اپنی نظموں میں امیرو غریب، ادنیٰ و اعلیٰ اورمفلس و کنگال سب ہی کی حقیقت پر مبنی مرقعے پیش کیے۔یہاں یہ بات خاص طور سے قابل ذکر ہے کہ اس موقع پر انہوں نے اس تفریق کو ختم کرنے کے لیے کوئی حل نہیں دیا بلکہ انسانیت کے دونوں پہلوؤں کو اس طور پر پیش کیا کہ قاری خود نتیجہ نکالنے پر مجبور ہو جائے۔ تلقین و تنبیہ کا یہ رویہ پر اثر بھی ہے اور لائق داد بھی۔
نظیرنے تیوہاروں کے باب میں جہاں مختلف رنگ رلیوں کا ذکر کےا ساتھ ہی اس سے ہونے والے نقصانات کی بھی نشاندہی کی۔یعنی تیوہاروں کے مثبت پہلوؤں کے ساتھ ساتھ منفی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی۔ساتھ ہی اس موقع پر ایک دوسرے کو ایذا پہنچانے اور دشمنی نکالنے کے مسئلے کی طرف بھی توجہ دلائی۔اس طرح کی نظموں میں انسانی ہمدردی کا بھرپور جذبہ نظر آتا ہے۔
نظیرنے اپنی نظموں کا دائرہ کسی خاص طبقے یا فرد تک محدود نہیں رکھا۔بلکہ تمام مذاہب کو یکساں اہمیت دی اور مسلمان ہوتے ہوئے بھی ہندؤں کے رسم و رواج کی طرف زیادہ توجہ صرف کی۔حمدو نعت،معجزہ، حضرت علی، عباس، عےد اور شب برات کے ساتھ ساتھ ہولی، دےوالی، راکھی، بسنت،کنھیا جی کے جنم اور مہادیو جی وغیرہ عنوانات پر مبنی عقیدت سے پر نظمیں قلم بند کیں۔ انھوں نے ہندوں کی عوامی تقریبات پر بہت کچھ لکھا جن کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ نظیر ان تقریبات میں پورے وجود کے ساتھ شریک کار رہے۔اس سلسلے میں محمد محمود ر ضوی مخمور اکبر آبادی نظیر کی شخصیت اور ان کی شاعری کے حوالے سے بڑی اہم بات لکھتے ہیں کہ:”وہ (نظیر) ہندووں کی معاشرت کے بھی اتنے ہی بڑے ماہر ہیں جتنے مسلمانوں کے،بلکہ یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ ہندو شعراءمیں ایسے بہت کم نکلیں گے جو ہندو معاشرت دانی میں نظیر کا مقابلہ کرسکیں۔ان کی نگاہ کی وسعت انھیں ہر طبقے کی حالت سے بخوبی واقف رکھتی ہے کچھ ہندو مسلمانوں ہی پر منحصر نہیں ہندوستان کی ہر قوم کی معاشرت کا ان کو یکساں علم و تجربہ ہے۔ “ (روح نظیر،محمود اکبر آبادی،اتر پردیس اردو اکادمی،لکھنو،دوسرا ایڈیشن2003،ص17)
ہولی کا تیوہار خاص ہندوستانی سرزمین اور آب و ہوا سے وابستہ ہے جس پر نظیر کی 13 نظمیں ملتی ہیں۔یہ نظمیں عید و شب برات پر لکھی گئی نظموں سے کہیں زیادہ فنکاری کی آئنہ دار اور حیات کے جوش و خروش سے مملو ہیں۔ان نظموں میں عوامی زندگی کے ولولے اور جذبات اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔ایسی ہولی جہاں رنگ و پچکاری بھی ہے اور رقص و موسیقی بھی،راگ راگنیوں کا اہتمام بھی ہے اور بھانگ کھیلنے والوں کا ازدہام بھی۔
ہوا جو آکے نشہ آشکار ہولی کا
بخار باب سے مل کر ستار ہولی کا
سرور رقص ہوا بے شمار ہولی کا
ہنسی خوشی میں بڑھا کاروبار ہولی کا
زباں پہ نام ہوا بار بار ہولی کا
دراصل جن تیوہاروں میں امیدو آرزووں کے پورے ہونے کے امکان زیادہ ہیں ان کا ذکر کثرت سے ملتا ہے یہی وجہ ہے کہ دوسرے تیوہاروں کے مقابلے ہولی پر کئی گنا نظمیں اور غزلیں دستیاب ہیں۔ہولی کی ہر نظم میں جزئیات کا عمیق مطالعہ و مشاہدہ کار فرما ہے۔یہ نظمیں رجائیت سے پر نظیر کے شاعرانہ مزاج اور افتاد طبع پر دال ہیں۔
نظیر کی دیوالی پر لکھی گئی نظموں میں دیوالی کے مختلف پہلوؤں مثلاًدیوی لکشمی کی پوجا،گھروں کی سجاوٹ،میلوں ٹھیلوں،جواڑوں کی جوئے کا
 اور اس کے نتیجہ میں درپیش ہونے والے واقعات و حالات کا نقشہ اس خوبی سے اتارا ہے کہ تمام جزئیات سے آگاہی ہو جاتی ہے اور اس دور کی تصویریں ہو بہو آنکھوں کے سامنے رقص کرتی نظر آتی ہیں۔چند اشعار دیکھے:
ہر اک مکاں میں جلا پھر دیا دوالی کا
ہر اک طرف کو اجالا ہوا دوالی کا
سبھی کے جی کو سماں بھا گیا دوالی کا
کسی کے دل کو مزا خوش لگا دوالی کا
عجب بہار کا ہے دن بنا دوالی کا
دیوالی کے حوالے سے نظیر کی تقرےیاً تمام نظمیں رجائیت سے پر ہیں۔جس میں معاشرتی پہلو کی جانب توجہ زیادہ ہے۔
نظیر کا تعلق چونکہ ہر مذہب اور ہر طبقے سے یکساں طور پر تھا۔یہی وجہ ہے کہ محض قدرت  بیان یا پر گوئی کے سبب انھوں نے مذہب کے مختلف پیشواں، تیوہاروں، رسموں اور کھیلوں کا تذکرہ نہیں کیا بلکہ ان میں عقیدت و محبت کا سبب کا بیان کیا اور خود بھی اس میں عملی طور پر شریک رہے۔ ان کے یہاں اگر ایک طرف الٰہی نامہ اور مختلف اولیا اکرام پر نظمیں ملتی ہیں تو دوسری جانب بلد یوجی کا میلہ،جنم کنھیا جی اور گرو نانک کا بیان بھی ملتا ہے۔ انھوں نے بلدیوجی کے میلے پر ایک طویل نظم لکھی جس کا ہر بند ان کے قلندرانہ مسلک و مشرب کا بیش بہا نمونہ ہے۔ یہ نظم ان کی بیانیہ نظموں میں ایک شاہکار کا درجہ رکھتی ہے۔جس میں نظیر کی شاعرانہ صلاحیت اپنی پوری قوت، سادگی اور تنوع کے ساتھ نمایاں ہے۔اس نظم میں سچی بے رنگ تصویریں بھی واقعاتی صحت اور شاعرانہ نزاکت و لطافت کے پس منظر میں رنگی نظر آتی ہیں۔
اتنے لوگوں کے ٹھٹھ لگے ہیں آہ
 جو کہ تل دھرنے کی نہیں ہے جگہ
لے کے مندر سے دو دو کوس لگا۔
باغ و بن بھر رہے ہیں سب ہر جا
 بھیڑ،انبوہ اور دھرم دھکا
جس طرف دیکھیے !ہا ہا ہا
رنگ ہے روپ ہے جھمیلا ہے
اور بلدیوجی کا میلا ہے۔
نظم ’بلدیوجی کا میلا‘حیات و مشاغل حیات سے نظیر کی الفت و محبت کو عیاں کرتی ہے۔جہاں زندگی کے شباب کے ساتھ ساتھ فلسفیانہ نقطہ نظر کی بھی وضاحت ہے۔ ساتھ ہی ہندو مذہب کی تلمیحات کا ذکر بھی کثرت سے ملتا ہے۔اور الفاظ بھی اسی مناسبت سے در آئے ہیں۔اس کے علاوہ حضرت سلیم چشتی کے مزار پر ہونے والے عرس کے موقع پر بعنوان ”عرس حضرت سلیم چشتی“لکھی۔جس کا ایک ایک لفظ شاعر کی عقیدت و محبت کا گواہ ہے۔
ہیں دو جہاں کے سلطان حضرت سلیم چشتی
عالم کے دین و ایمان حضرت سلیم چشتی
سر دفتر مسلمان حضرت سلیم چشتی۔
مقبول خاص یزداں حضرت سلیم چشتی
 سردار ملک عرفاں حضرت سلیم چشتی
غرض یہ کہ تیوہاروں پر لکھی گئی جتنی بھی نظمیں ہماری نگاہوں سے گزرتی ہیں ان کے مطالعہ سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ مسلم تیوہاروں پر لکھی گئی نظمیں فکر و فن،واقعہ نگاری اور منظر کشی کے اعتبار سے نہایت ولولہ خیز اور زندگی سے پر ہیں۔البتہ ےہ بات بھی اپنی جگہ قابل تسلیم ہے کہ نظیر  کے زور بیان اور جذبات  نگاری کا پر زور مظاہرہ ہندومذہب پر لکھی گئی نظموں میں زیادہ عیاں ہے۔ بالخصوص ہولی پر لکھی گئی نظموں میں بعض تومحاکاتی رنگ لیے ہوئے نظر آتی ہیں۔ اس سلسلے میں سےدطلعت حسین نقوی کا قول بڑی اہمیت کا حامل ہے۔
نظیر کی نظمیں جو ہندووں کے تیوہاروں یا غیر مسلم عظیم کرداروں کے موضوع پر ہیں۔ان میں نظیر کا فن انتہائی نقظہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ان کے کلام میں مذہبی بے تعصبی کا انداز پایا جاتا ہے وہ قابل تعریف ہے۔
 تمام نظمیں انسانی دوستی،درد مندی،حقیقت کی آگہی اور غائر بینی کی عمدہ مثالیں ہیں یہ نظمیں موضوع ومواد کی ہم آہنگی سے منظر کشی کا اعلیٰ نمونہ پیش کرتی ہیں۔ جس میں جزئیات نگاری بھی ہے اورجذبات نگاری بھی ہے،مثنوی کا رنگ بھی ہے اور ڈرامائی کیفیت بھی،واقعہ نگاری بھی ہے اور رسوم و رواج کی حقیقی و معاشرتی تصویر یں بھی۔یہ تمام نظمیں پر اثر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ میں بے نظیر بھی ہیں۔جس میں ہندوستانی زندگی اور معاشر ہ سانس لے رہا ہے۔ نظیر کی نظموں کی یہی وہ خوبیاں ہیں جس کی وجہ سے دوسرے شعرا بھی ان سے متاثر نظر آتے ہیں۔اور ان کی لیاقت و صلاحیت کے اور معترف بھی ہیں۔ان کی شاعری انسانی مساوات کا بہترین مرقع ہے۔جس میں زندگی،شاعری،مذہب اور اخلاق غرض ہر شعبہ حیات کو بآسانی دیکھا اور محسوس کیا جا سکتا ہے۔ بقول رام بابو سکسینہ ”ان کے مزاج میں چونکہ مذہبی تعصب اور ناروا داری نہ تھی بلکہ کٹر پن کو نہایت نفرت و حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اسی وجہ سے وہ ہندوں سے بہت خلط ملط رہتے تھے اور ان کے رسم و رواج ان کی زبان،ان کے خیالات،ان کے تیوہار اور معتقدات تک کو ایسے دلچسپ طریقے سے اس قدر صحت کے ساتھ بیا ن کر گئے کہ ہم کو ان کی ہمہ دانی پر تعجب ہوتا ہے“(ہسٹری آف اردو لٹریچر۔رام بابو سکسینہ، مطبع منشی نول کشور لکھنؤ ص343)
 بحیثیت مجموعی نظیر نے اپنی شاعری اور نظموں کے ذریعے عملی طور پر قومی یکجہتی کی تعمیر و تشکیل کا جو نمونہ پیش کیا ہے اس کی مثال اردو شاعری میں ناپید ہے۔نظیر کی نظموں کے تاریخ وار جائزے سے یہ بھی آگاہی ہوتی ہے کہ ان کے زمانے نے تو انہیں قابل اعتنا نہیں گردانا لیکن ما بعد کے انصاف پسند ذہنوں نے جب ان کا مطالعہ کیا تو انہیں ان کا صحیح مقام بھی دلوایا۔
زبان و بیان کے سلسلے میں نظیر کی انفرادیت اس طرح قائم ہے کہ انھوں نے کسی قسم کے اصول و ضوابط کا پاس و لحاظ نہیں رکھا بلکہ اپنی زبان خود وضع کی۔لفظ ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے نظر آتے ہیں۔نظیر جس طرح چاہتے ہیں لفظوں کو استعمال کرتے ہیں۔نظیرکا کمال ہی یہ ہے کہ لفظوں کے لیے انہیں کنوئیں جھانکنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ انھوں نے اپنے لیے ایک نیا طرز ایجاد کیا۔
Asma
R-49 A, Frist Floor, Sir Syed Road
Jogabai Extn. Batla House, Jamia Nagar
New Delhi - 110025


 ماہنامہ اردو دنیا، اگست 2019


 قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے




بدھ، 28 اگست، 2019

پختہ اور ناپختہ ناولوں میں فرق مضمون نگار: پیغام آفاقی




پختہ اور ناپختہ ناولوں میں فرق
پیغام آفاقی
 آپ ناولوں میں کیا ڈھونڈتے ہیں ؟ دانشوری کی روشنی یا محض نئے خیال کی سنسنی۔ کچھ ناول اور افسانے دنیا میں پیدا ہونے والی نئی سوچ اور نئی تبدیلیوں کو افسانوی سانچے میں ڈھال کر پیش کرتے ہیں۔ ان میں پڑھنے والے کو ایک تازگی کا احساس ہوتا ہے۔ اپنے ماحول سے اکتائے ہوئے ناپختہ ذہنوں کو ان میں آزادی کی راہیں بھی نظر آتی ہیں۔ اور ان کے لیے ایسے ناول اور افسانے نئے فلسفوں اور دنیا کے نئے انکشافات سے آشنا ہونے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ لیکن ایسی تخلیقات کے حدود یہ ہیں کہ وہ صرف نئے آئیڈیاز کو اپنا محور بناتے ہیں۔ ایسے ناول نگار اور ان کے ناقد ایسے ناولوں کو دنیا کو نئے انداز میں دیکھنے کا نتیجہ بھی بتاتے ہیں ۔
دانشوری اور خیال آفرینی دو مختلف چیزیں ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تخلیق کار کو صرف نئے آئیڈیاز کو پیش کرنے تک محدود رہنا چاہیے یا ان نئے آئیڈیاز کو دانشوری کے ترازو میں تولنا اور دیکھنا چاہیے۔ دراصل تولنے کے عمل میں ہی ناول کی دانشوری کا پہلو پنہاں ہوتا ہے۔ ناول کے اندر تولنے کا عمل ناول کے عمل میں دکھائی دیتا ہے نہ کہ لفظی موازنے میں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی چیز دوسرے کے مقابلے میں کمزور ہے تو اس کا اظہار عملی طور پر مضبوط کے مقابلے میں کمزور کو ہارتے ہوئے دکھاکر کیا جائے گا اور یہ ہار حقیقت پر مبنی ہوگی نہ کہ راوی کی مرضی پر۔ دانشوری کا تقاضا یہ ہے کہ ہر نئے خیال کو دنیا اور زندگی کی مکمل ساخت کی روشنی میں جانچا جائے۔ ناول کی عظمت دانشوری میں پنہاں ہوتی ہے نا کہ محض خیال آفرینی میں۔ زندگی کی مجموعی صورت حال میں تبدیلی کے جائزے میں پنہاں ہوتی ہے نا کہ محض زندگی اور دنیا میں ہونے والے نئے نئے تجربات کی عکاسی اور پیشکش میں ۔
لہٰذا محض آئیڈیاز کی بنیاد پر لکھے گئے ایسے ناولوں کی حیثیت صحافت سے زیادہ نہیں جو مجموعی زندگی میں سچے اور دیر پا اضافے کے عکاس نہیں بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحافیانہ تحریروں یا ناولوں کے مقابلے میں سچے اور فنکارانہ ناول دیر سے وجود میں آتے ہیں۔ نئے خیالات اور نئے واقعات اپنے آپ میں پرکشش اور معنی خیز تو ہوتے ہیں لیکن وہ ناول کا مواد تب بنتے ہیں جب ان کو دنیا کی مجموعی حقیقت کے تناظر میں رکھ کر تول لیا جاتا ہے۔ اس کے لیے ایک تو اس آئیڈیا یا واقعے کے پورے سیاق و سباق کا سامنے آنا ضروری ہوتا ہے دوسرے خود ناول نگار کا اس واقعے سے اتنی دوری پر پہنچنا ضروری ہوتا ہے جہاں سے وہ اس آئیڈ یا واقعے کو معروضی طور پر بھی دیکھ سکے – اس سے ناول نگار کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اس واقعے کو خوردبینی اور دوربینی دونوں طریقے سے دیکھ سکے۔
دانشوری سے مالامال ہر ناول دراصل زندگی کی زمین سے کہیں نا کہیں اسی طرح جڑا ہوتا ہے جیسے کسی پیڑ کی جڑیں ہوتی ہیں جو کہیں نا کہیں زمین میں پیوست ہوتی ہیں۔ دانشوری جذباتیت کو باقاعدہ اپنا حصہ بناتی ہے، تحیر کو ٹھہر کر اس وقت تک دیکھتی ہے جب تک حیرت کا عنصر ختم نہ ہوجائے، رفتار کو اپنے بڑے کینوس پر دیکھتی ہے کہ اس کی ہلچل کسی دور کی سڑک پر جاتی گاڑی کی طرح خراماں خراماں آگے بڑھتی ہوئی شے میں تبدیل ہوجاتی ہے - کردار اپنے سفر میں ان گلیوں سے بھی گزرتے ہیں جہاں وہ دندنانے کے بجائے پورے ہوش و حواس میں آکر چلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، چیخیں غالب کے اشعار کی طرح کتاب کی تحریر بن جاتی ہیں ۔
اسی طرح اگر کسی ناول نگار کو کسی معاشرے کا تجربہ و مشاہدہ نہیں ہے اور وہ کسی معاشرے کے پس منظر کا سہارا لیے بغیر کسی اجنبی ملک، معاشرہ اور زبان سے کچھ ایسے خیالات کو اٹھا لائے جو اس کے اپنے معاشرے کی آب و ہوا کے لیے اجنبی ہو تو ایسے خیالات بظاہر تو انقلابی، تازہ، روشن، خیال انگیز اور دلچسپ محسوس ہوسکتے ہیں لیکن ان کی حیثیت گلدان میں رکھے ہوئے کسی اجنبی پھول کی شاخ سے مختلف نہیں ہوگی۔ ایسی تحریر بھی دانشوری سے خالی ہوگی کیونکہ دانشوری ایک ایسی صفت کا نام ہے جس کا چراغ حقیقت کے تیل سے ہی جلتا ہے - حقیقی دنیا اور زندگی سے کٹی ہوئی دانشوری کا کوئی تصور کیا ہی نہیں جاسکتا کیونکہ یہ ایک عملی صفت ہے ۔
لب لباب یہ کہ ادبی فہم کا تقاضا ہے کہ ناولوں میں سنسنی پیدا کرنے والے اور انتہائی تیز رفتار سے بدلتے وقت کی طرف بڑھتے دکھائی دینے والے ناولوں اور ان عظیم ناولوں میں فرق کو سامنے رکھا جائے جو نئی تبدیلیوں اور سنسنی خیز خیالات کی حقیقت کو تولنے اور جانچنے کے بعد لکھے جاتے ہیں اور جو اپنی زمین میں اس طرح مضبوطی سے گڑے ہوتے ہیں کہ پڑھتے وقت وہ زمین انھیں ایک پس منظر مہیا کرتی ہے - ایک ایسا پس منظر جو اس ناول کے ایک نامیاتی حصے کی حیثیت رکھتا ہے۔
دانشوری کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ایک عام پڑھے لکھے آدمی کے لیے کچھ ناولوں کو پڑھنا ناگزیر ہے۔ اسی طرح کچھ عظیم ناولوں کا لکھا جانا معاشرے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ ایسے ناولوں کے علاوہ کچھ ناول اضافی حیثیت رکھتے ہیں اور کچھ کی حیثیت محض تفریحی ہوتی ہے۔
معاشرے کی جزئیات کی عملی اہمیت اور خصائص پر روشنی ڈالنے والے تمام شعبہ ہائے علوم جن میں فلسفہ، مذہب، سماجیات، سائنس، معاشیات، نفسیات اور ادب شامل ہیں سب سے زیادہ بڑے کینوس اور متحد وڑن کی ذہنی تربیت دینے والا ذریعہ صرف ناول ہی ہے کیونکہ یہ وہ ذریعہ ہے جو زندگی کو عمل و حرکت کی شکل میں اس کے پورے کل کے ساتھ دیکھتا ہے اور اس میں بیک وقت سارے دوسرے علوم کی عملی قدر و قیمت اور اعتبار کی جانچ ہوتی رہتی ہے۔ مزید یہ کہ اس میں علوم کے علاوہ براہ راست سماج میں پیدا ہونے اور سماج کی تشکیل میں شامل ہونے والے کرداروں کی عملی شکل اور ذہنیت کی تصویر نظر آتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ناول واقعات کا دنیا کے مجموعی کل کے ترازو اور پس منظر میں تجزیہ بھی ناول ہی میں ہوتا ہے کیونکہ اس میں چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے واقعات کی آغاز سے انجام تک کی پوری تصویر نظر آتی ہے۔ اس طرح اس کے اندر وہ مجموعی تصویر نظر آتی ہے جس کو واقعات کے دوران یا ان کے اثرات کے پوری طرح سامنے آنے سے پہلے لکھے گئے صحافتی مضامین میں پیش نہیں کیا جاسکتا – یہ ممکن ہے کہ کوئی محتاط تخلیقی ذہن واقعات کے دھارے کے درمیان بھی بیٹھ کر اس واقعے کی حقیقت کو اپنے فن کی گرفت میں لے لے، اس لیے اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا لیکن اس میں کامیاب ہونا شرط ہے - اس اعتبار سے دیکھا جائے توحقیقت پرست ناول معاصر صورت حال کے علاوہ تاریخی صورت حال کو پیش کرنے میں بھی خود تاریخ سے زیادہ وسیع کینوس رکھتے ہیں کیونکہ وہ ماضی بعید میں گزرے واقعات کو صرف دستاویزوں کی روشنی میں نہیں دیکھتے بلکہ انسانی نفسیات کی روشنی میں بھی ان واقعات کو پرکھتے ہیں جبکہ تاریخ یہ کام نہیں کرتی۔ اپنے معاشرے کے بارے میں اس طرح کے ناولوں کو پڑھنا دانشوری کے مقام تک پہنچنے کے لیے ناگزیر ہے ۔
ناول کے اندر معاشرے سے متعلق اجزا کو حقیقی تناسب میں دیکھنا ضروری ہے۔ کسی معاشرے کی مجموعی ساخت میں چند پہلو عام طور سے ہوتے ہیں۔ مثلاً : ہر معاشرے میں کوئی نہ کوئی حکومت موجود ہوتی ہے جس کے ہاتھ میں معاشرے کی باگ ڈور ہوتی ہے۔ کسی معاشرے کی شکل و صورت کو طے کرنے میں ان کا رول کم ہوتا ہے اور کسی میں زیادہ ہوتا ہے لیکن اس کا رول ہوتا ضرور ہے۔ کہیں حکومتیں نسبتاً ایماندار ہوتی ہیں اور کہیں نسبتاً زیادہ کرپٹ ہوتی ہیں۔ کہیں وہ معاشرے میں افراد کی زندگی کے فلاح کی کافی پابند ہوتی ہیں اور کہیں وہ تمام مظالم کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ یہ حکومتیں حکمرانوں اور بیوروکریسی کے افراد کے ذریعہ چلائی جاتی ہیں اور یہ افراد کچھ فیصلے کھلے میں اور کچھ فیصلے بند کمروں اور قلع نما دیواروں کے پیچھے لیتے ہیں ۔ ان افراد کی سوچ، ان کی نیت، ان کے مفاد اور ان کے مجموعی کردار کو سمجھے بغیر کوئی قابل اعتبار ناول نہیں لکھا جاسکتا ، جو افراد معاشرے کے سبھی طبقات کے بارے میں حقیقی تجربہ نہ ہونے کے باوجود ناول لکھتے ہیں وہ دراصل گمراہ کن خیالی باتوں کو ناول کی شکل میں پیش کرتے ہیں جو دلچسپ تو ہو سکتے ہیں لیکن قابل اعتبار نہیں ۔
جو بات اوپر حکومتوں کے بارے میں کہی گئی ہے وہی بات تاجروں اور سرمایہ داروں کے طبقے پر بھی صادق آتی ہے ۔ حکومتوں کی طرح تاجروں کا بھی ایک بڑا طبقہ معاشرے کا حصہ ہے جس کے فیصلے عام لوگوں کی زندگی اور معاشرے کے سفر کو براہ راست متاثر کرتے ہیں ۔ یہ تاجر جہاں دکانوں میں سامان بیچ رہے ہوتے ہیں وہاں تو بڑے پر امن نظر آتے ہیں لیکن ان دکانوں کے پیچھے یہ سامانوں کی ذخیرہ اندوزی سے لے کر ان کی قیمتیں طے کرنے کے لیے جو طریقے اختیار کرتے ہیں ان طریقوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ انسانوں کی بھوک اور ان کے خون تک کی تجارت کرتے ہیں اور اس کے لیے وہ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں ۔ ان تاجروں کے پیچھے بیٹھے سرمایہ دار ان ساری قوتوں پر حاوی ہوتے ہیں جو قوتیں زندگی اور معاشرے کی شکلوں کو بناتی اور بگاڑتی ہیں۔ لہذا کسی بھی حقیقی ناول کی تشکیل میں اس پورے نظام کی آگاہی ہونی چاہیے ۔ اگر ناول نگار ان حقیقتوں کو گہرائی سے نہیں جانتا اور پھر بھی اپنے ناول کو حقیقی ناولوں کے طور پر پیش کر رہا ہے تو دراصل وہ معاشرے کو گمراہی میں مبتلا کرنے کے عمل میں لگا ہوا ہے ۔
اوپر کے ان دو طبقات کے علاوہ ایک اور طبقہ ہے جس کی حقیقت سے کم ہی لوگ آگاہ ہوتے ہیں اور وہ طبقہ میڈیا اور دانشوروں کا طبقہ ہوتا ہے۔ یہ طبقہ عموما ً عوام کو جاہل سمجھتا ہے اور اپنی گرفت اور چمک دمک اور عوام کے اعتبار کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اکثر حکومتوں اور تاجروں کی حمایت کرتا ہے اور ان کی برائیوں کو پیش کرنے کے بجائے اسے چھپاتا ہے اور عوامی زندگی کی حقیقت کو یعنی عوام کی حالت اور ان کی سوچ کو کوڑے کباڑ کی طرح نظر انداز کرتا ہے ۔
ان آسمانوں کے نیچے عوام کی وہ کثیر تعداد زندگی گزارتی ہے جسے ہم شہروں اور گاں میں گھومتے پھرتے اور زندگی کی بھاگ دوڑ میں لگے ہوئے ہنستے بولتے دیکھتے ہیں۔ دنیا کے ان پہلوں کے علاوہ ہم دنیا کو ایک اور طریقے سے بانٹ کر دیکھ سکتے ہیں۔ دنیا کا ایک حصہ وہ ہے جہاں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے گوکہ اس دنیا میں بھی قانون بڑے پیمانے پر توڑے جاتے ہیں اور ایک حصہ وہ ہوتا ہے جہاں جرائم کی حکومت ہوتی ہے ۔ یہ دونوں دنیائیں اکثر ایک دوسرے میں پیوست رہتی ہیں مثلاً عام آبادی حکومت کے ذریعے نافذ کیے گئے قوانین کے دائرے میں جیتی دکھائی دیتی ہے لیکن وہیں گھروں کے اندر مردوں کی بے لگام حکومت چلتی ہے جہاں مردوں کی مرضی ہی قانون کا درجہ رکھتی ہے ۔
ان کے علاوہ دنیا کے مختلف ادارے جیسے پولس، عدالت، ہسپتال، تعلیمی درسگاہیں، عبادت گاہیں اور مذہبی ادارے جن کو عام آدمی اپنی زندگی کے تحفظ کا ذریعہ سمجھتا ہے ان کے سامنے کے چہرے کچھ اور ہوتے ہیں اور اندر کا چہرہ کچھ اور ہوتا ہے۔ مثلا عدالت سے ہر آدمی انصاف کی توقع رکھتا ہے لیکن عدالتوں کے برسوں تک چکر لگانے کے بعد وہاں انسان کو کچھ اور ہی دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہی حال دوسرے اداروں کا ہے ۔
لہذا ایک حقیقی ناول لکھنے کے لیے ناول نگار کا معاشرے کے ان تمام پہلوں کا گہرا علم ہونا ضروری ہے۔ بہت سے ناول نگارتو ایسی دنیا میں رہتے اور جیتے ہیں کہ معاشرے کے ان پہلوں کی گہرائی میں پہنچنا ان کے بس کی بات ہی نہیں۔
مکمل طور پر حقیقت پسند ناولوں کے علاوہ کچھ ناولوں کے پڑھنے کو ہم اختیاری/اضافی قرار دے سکتے ہیں۔ ان میں وہ ناول شامل ہوں گے جو پوری زندگی کے کل کی روشنی میں اپنے کرداروں اور واقعات کو نہیں دیکھتے لیکن زندگی کے کسی ایک اور جس پہلو پر روشنی ڈالتے ہیں وہاں وہ مقامی حقیقت کا گہرا تجزیہ کرتے ہیں۔ اس طرح کے ناول پڑھنے والے کے اپنے معاشرے کے کسی ایک پہلو سے متعلق بھی ہو سکتے ہیں اور کسی دیگر معاشرے کے بارے میں بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ کسی بھی انسانی معاشرے کی حقیقی تصویر کسی دوسرے معاشرے کو سمجھنے میں کافی حد تک معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح کچھ ناول زندگی کے بارے میں کوئی نیا نظریہ اور فلسفہ پیش کرتے ہیں ۔ ایسے ناولوں سے بھی ذہن اس طرح روشن ہوتا ہے کہ خود اپنا معاشرہ زیادہ روشن ہوکر سامنے آتا ہے۔ اس کے علاوہ جن لوگوں کا سابقہ دوسرے معاشروں سے پڑتا ہے یہ ناول ان کی مدد کرتے ہیں۔ ایسے ناولوں کو زندگی کو سمجھنے کے لیے اختیاری اس لیے کہا گیا کہ ان کو پڑھنے سے زندگی کے بارے میں قاری کی جانکاری کا کینوس وسیع تر ہوتا ہے اور زندگی کے جس پہلو سے قاری کا تعلق ہوتا ہے اس پر خصوصی طور پر لکھے گئے ناول اس مخصوص قاری کو زندگی کی بصیرت سے مالامال کرتے ہیں ۔
ناولوں کی تیسری قسم تفریحی ناولوں کی ہوتی ہے ۔ یہاں تفریحی ناولوں سے مراد سامان تفریح سے بھرے ہوئے ناول نہیں ہیں۔ یہاں مراد ناولوں کے بغرض تفریح مطالعے سے ہے ۔ کوئی ناول چاہے دنیا کے کسی بھی حصے کی زندگی کے بارے میں لکھا گیا ہو اس کا مطالعہ اپنے آپ میں ایک نئی طرح کی زندگی جینے کا مزہ دے جاتا ہے – اس خانے میں دنیا کے تمام حقیقی ناولوں کو رکھا جاسکتا ہے۔ عموما ًپختہ ذہن قاری بہت سستے تفریحی ناولوں سے حظ نہیں اٹھا سکتے۔ وہ جذباتی ناولوں سے بھی حظ نہیں اٹھا سکتے۔ لیکن ایک حقیقی ناول چاہے وہ دنیا کے کسی بھی حصے کے بارے میں ہو پختہ ذہنوں کے لیے اپنے اندر ایک سحر رکھتا ہے ۔
جہاں تک انسانی کرداروں کا تعلق ہے دنیا کے سارے کردار قاری کے اپنے معاشرے کے لیے بامعنی ہوسکتے ہیں کیونکہ دنیا کے سارے انسان فطرتاً ایک جیسے ہیں۔ لیکن چونکہ دنیا کے مختلف معاشرے ایک دوسرے سے اپنی نوعیت میں الگ ہوتے ہیں اس لیے دوسرے معاشروں کا عکس قاری کے اپنے معاشرے کو سمجھنے میں محض اضافی حیثیت ہی رکھتا ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ کسی دوسرے معاشرے کی چند خوبیوں اور اوصاف کی بنا پر وہ معاشرے قاری کے لیے اچھی مثال بنیں اور اس کے اندر اپنے معاشرے کو بہتر بنانے کی خواہش اور جذبہ پیدا کریں۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ کسی اور معاشرے کی خوبیاں اسی معاشرے کی مجموعی صورت حال اور حقیقت کی پیداوار ہوتی ہیں ہر چند کہ ان سے سبق لیا جاسکتا ہے اور ممکنات دیکھے جاسکتے ہیں ۔
 ناولوں کے دانشوری والے خاصے کا ایک اور پہلو بھی ہے ۔ ہر ناول میں ان معنوں میں ایک نئی دنیا ہوتی ہے جن معنوں میں ہر انسان کو دنیا الگ شکل میں نظر آتی ہے۔ یعنی ہر ناول میں دنیا کا ایک نیا تجربہ ہوتا ہے جو بنیادی طور پر ناول نگار کا تجربہ اور مشاہدہ ہوتا ہے۔ اس طرح ناول دنیا کو ایک مختلف نقطہ نظر سے دیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے اور اس عمل میں قاری کو دنیا کی فطرت کو بہتر طریقے سے سمجھنے کا موقع ملتا ہے اور اس کی دانشوری میں اضافہ ہوتا ہے ۔
ایک حقیقی ناول دنیا اور اس کے نظام، اس کے افراد اور اداروں کے مطالعے کو اپنا موضوع بناتا ہے اور کرداروں اور اداروں کے تجزیہ کے ذریعے اپنے قاری کواس میں ہورہے واقعات کا تجزیہ کرنے کے قابل بناتا ہے۔ ناولوں کو اس طرح بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ کسی زندگی کے کل کے ناول ہیں یا جس کے ناول ہیں ۔ عظیم ناول اپنے ماحول کے کل کو اپنا موضوع بناتے ہیں اور فارم، فلسفہ اور حقیقت کے عرفان میں اسی کل کو پیش کرتے ہیں ۔ عظیم ناولوں کا تجربہ زندگی کے جز کا تجربہ نہیں بلکہ کل کا تجربہ ہوتا ہے۔ ایک عظیم ناول اس کے آگے تک جاتا ہے۔ وہ موجود دنیا کے کل کو اس کے مکمل امکانی دائرے میں رکھ کر اس کی بہتر شکل کو دریافت کرتا ہے اور اسے قاری کے ذہن میں ایک ایسے خواب کی شکل میں قائم کردیتا ہے کہ اس خواب کی قوت موجود دنیا کی تبدیلی کے عمل کو اپنی تعبیر کی طرف کھینچنے لگتی ہے ۔
ایسے ناولوں کے بر عکس کچھ ایسے ناول بھی ہوتے ہیں جن کی دنیا دراصل مکمل حقیقی دنیا کے محض ایک جییا حصہ یا پہلو کا احاطہ کرتی ہے۔ ایسے ناول قاری کو اس کی اپنی زندگی اور دنیا سے نکال کرکسی اور دنیا کی سیر کراتے ہیں لیکن اس سے کشید کیا ہوا تجربہ اس کی اپنی دنیا کے کل کا تجربہ نہیں ہوتا۔ ایسے تجربات دلکش، پرلطف اور ریفریشنگ تو ہوتے ہیں لیکن ان کی اہمیت سیر سپاٹے جیسی ہوتی ہے جس سے قاری کے علم میں اضافہ تو ہوتا ہے لیکن اس کا درجہ دانش کا نہیں ہوتا۔ ایسے ناولوں میں ایک تخلیقی سرشاری کا بھی احساس ہوتا ہے جو عظیم ناولوں کا خاصہ ہے لیکن ایسے تجربات کی اہمیت حاشیائی ہوتی ہے۔ انسان کی دانشوری کے محور تک پہنچنے کے عمل میں ان کی اہمیت جزوی ہوتی ہے۔ ایسے ناول زندگی کی سرحدوں کو پھیلاتے ہوئے نئے آفاق کی تلاش بھی کرتے ہیں ، لیکن ان کی اہمیت بہر حال حاشیائی ہوتی ہے ۔
زیادہ تر مشہور و مقبول ناول حاشیائی خاصے کے ہوتے ہیں ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ رومانی ناولوں کی طرح کلی حقیقت کی گرفت سے قاری کو نکال کر باہر لے جاتے ہیں۔ ایک ان دیکھی دنیا کی سیر یقینا ایک ناپختہ ذہن کے لیے اپنی حقیقی دنیا کی دریافت نو سے زیادہ آسان اور دلچسپ ہوتی ہے۔ ایسے ناول نئے نئے خیالات اور موضوعات کو اپنے حصار میں لیتے ہیں ۔ اس ماحول میں قاری کو اپنی حقیقت کے قید و بند سے آزاد تجربات و خیالات کا لطف لینے کا موقع بھی ملتا ہے ۔
لیکن دانشوری پر مبنی عظیم ناولوں کی نظر قاری کی زندگی کی ان گانٹھوں کو کھولنے پر ہوتی ہے جن سے فرار کا راستہ ان گانٹھوں کی نوعیت کو سمجھنے اور کھولنے کے علاوہ اور کوئی نہیں ہوتا ۔ اس لیے یہ عظیم ناول زندگی کے مرکز سے شروع ہوکر دنیا کے ہر طرح کے پھیلا اور نئے خیالات اور نئے موضوعات کو اپنے اندر سمیٹتے ہیں۔ ان میں مرکز بھی ہوتا ہے اور ان میں حاشیے بھی شامل ہوتے ہیں۔
دنیا میں عظیم ناول بہت کم وجود میں آتے ہیں اور ان کی مقبولیت بھی کافی وقت لیتی ہے کیونکہ ان میں گہری سنجیدگی ہوتی ہے ۔ اس کے برعکس ایسے ناول اور ناول نگار جلد مشہور ہوجاتے ہیں جو حاشیائی ناول لکھتے ہیں لیکن حاشیائی ناول بیشتر وقتی رحجانات، وقتی مسائل اور جذباتی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ اس ضمن کے کچھ ناول محض زندگی کو ایک نئے انداز میں دیکھنے کی وجہ سے مقبول ہوتے ہیں لیکن اس نئے پن کی نوعیت بھی ایک خاص طرح کی رومانیت لیے ہوتی ہے یعنی یہ ایک مخصوص خیال کی سنسنی خیزی سے اپنے اندر رنگ بھرتے ہیں ۔
کئی ناول ایسے ہوتے ہیں جن میں آپ کسی ایک کردار کی زندگی کے کسی ایک بڑے واقعے کا تفصیلی بیان پڑھتے ہیں۔ ناول کے واقعات کے اتار چڑھا کے دوران آپ کا زندگی کے مختلف حقائق سے کردار کے ذریعے ایک نئے انداز میں نبٹنے کا طریقہ سامنے آتا ہے جس کی آپ توقع نہیں کرتے ۔ ایسے ناول بھی حقیقت کا انکشاف کرتے ہیں لیکن یہ محض مثال پیش کرتے ہیں اور امکانات کو روشن کرتے ہیں۔ اگر یہ مجموعی زندگی کا تجزیہ نہیں پیش کرتے تو ان کی حیثیت بھی محض ایک منفرد اور تنہا تجربے کی ہوتی ہیں۔ ایسے واقعات آپ کے ذہن کو سوچنے پر اکساتے ہیں اور زندگی کو نئے انداز سے دیکھنے کا حوصلہ دیتے ہیں ۔ ان کی اپنی ادبی و بصری اہمیت مسلم ہے۔
ناول اور ناول نگاری کی سب سے اعلی قسم وہ ہے جس میں ناول نگار کا ذہن پورے معاشرے کے تناظر میں ہر چھوٹے سے چھوٹے واقعے اور کردار کی سوچ و حرکت کو دیکھتا ہے۔ ایسی صورت میں کردار کے ہر فیصلے اور واقعات کے ہر موڑ کا تعلق مکمل معاشرتی پس منظر سے قائم رہتا ہے۔ اور ان فیصلوں اور حرکات کی سمت و توازن کا تعین معاشرے کی ساخت اور کردار کی اپنی سوچ و پیش قدمی کے درمیان کی ہم آہنگی یا بصورت دیگر انحراف سے قائم ہوتا ہے۔ اگر کردار اپنے پس منظر کی حقیقت سے بغاوت کرتا ہے تو بھی اس کو اپنی بغاوت کو کامیاب بنانے کے لیے معاشرے کی حقیقتوں کو سامنے رکھنا پڑتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے اور محض جذبات اور خوابوں کی رو میں بہے تو اس کا یہ عمل رومانی قرار پائے گا۔ ایک حقیقت پرست ناول اور رومانی یا نیم رومانی ناول کا فرق یہیں سے واضح ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔ اور ناول جس قدر حقیقت سے دور ہوتا جائے گا اسی قدراس کی دانشوری کے خاصے میں نقص پیدا ہوتا جائے گا۔
ایسے ناول جو کسی ایک بڑے واقعے یا ایک اہم معاشرتی تبدیلی کو مرکز بنا کر لکھے جاتے ہیں ان میں اکثر جذباتی اور رومانی عناصر در آتے ہیں۔ اس کی وجہ عموماً ناول کے لیے منتخب واقعات سے عوام کی جذباتی یا رومان پرورتصوراتی لگا ہے۔ ناول نگار عوام کو قاری کی حیثیت سے اپنی گرفت میں رکھنے کے لیے اکثر اسی جذباتی یا رومانی لگا کو اپنے ناول کی ساخت کی ریڑھ کی ہڈی بنا لیتے ہیں – نتیجتاً پورا ناول حقیقی ہونے کے بجائے جذباتی اور رومانی رنگ اختیار کرجاتا ہے۔ کچھ ایسی ہی صورت حال ایسے جاسوسی ناولوں کی بھی ہوتی ہے، جن کا تانا بانا حقیقت سے نہیں بلکہ ایک مصنوعی تجسس سے بنا جاتا ہے۔ ایسے ناول دلچسپ، رواں، اور زبان و بیان کی شیرینی سے تو لبریز ہوسکتے ہیں لیکن یہ قاری کو حقیقت پسند بننے میں معاون نہیں ہوتے بلکہ اکثر ان کے ذہن کو سطحی سوچ کا حامل بنا دیتے ہیں۔ ایسے ناولوں کو پڑھتے وقت اس بات کا دھیان رکھنا بے حد ضروری ہے کہ انھیں محض تفریح کے لیے پڑھا جائے اور ان کو حقیقی ناولوں کا درجہ نہ دیا جائے۔ اس کے برعکس ایسے ناولوں کو جو حقیقت پسند ہوتے ہیں اور ایسے ناول نگاروں کے ذریعے لکھے گئے ہوتے ہیں جنھیں دنیا کی ہر سطح کی حقیقی زندگی اور ان کی پیچیدگی کا بھر پور اور قابل بھروسہ تجربہ ہوتا ہے ان کے ناولوں پر اسی طرح اعتبار کیا جاسکتا ہے جیسے سائنس کی کتابوں پر کیا جاتا ہے ۔
اسی لیے اردو میں تقسیم ہند اور اس سے متعلق قتل و غارتگری اور اس کے بعد سے اب تک ملک میں ہونے والے فسادات یا فرقہ پرستی اور طبقاتی کشمکش پر لکھے جانے والے ناولوں کو بھی بہت احتیاط سے پڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ وقت بہ وقت عوامی سطح پر مقبول ہونے والی سیاسی تحریکوں سے تعلق رکھنے والے ناولوں کو بھی احتیاط سے پڑھنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ اگر ناول نگار کا رشتہ توازن مکمل حقیقت سے ٹوٹ گیا اور وہ واقعات یا تحریکوں کی جذباتی رو میں بہہ گیا تو اس کے ناول میں حقیقت کے عناصر کم ہوتے چلے جائیں گے۔ حقیقت صرف کسی واقعے یا شے کا نام نہیں ہے بلکہ اس واقعے یا شے کے اس وزن کا بھی نام ہے جو اس سے اسی طرح وابستہ رہتا ہے جیسے زمین کی کشش ہر ایک شے کے وزن کو طے کرتی ہے۔ یعنی جس طرح ہر چیز کا وزن بھی اس کی حقیقت کی ایک جہت ہے اسی طرح ہر واقعہ یا شے کا وہ وزن اور اس کی اہمیت بھی اس کی حقیقت کی ایک اہم جہت ہے جو وہ واقعہ یا شے مکمل معاشرے کے تناظر میں رکھتی ہے۔ محض ناول نگار کی نظر میں اس واقعے یا شے کے بہت اہم یا غیر اہم ہوجانے سے وہ شے اہم نہیں ہوجاتی اور اگر ناول نگار اس کو ذاتی پسند و ناپسند یا جذباتی لگا کی وجہ سے اہمیت دیتا ہے تو یہ ناول کی حقیقت پسندی کو مجروح کرے گا۔
اس لیے ہر ناول میں یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ خود ناول نگار کی جذباتی پختگی کس درجے کی ہے اور وہ اپنے معاشرے، فرقے، طبقے اور زمین کے تئیں کتنا غیر متعصب اور معروضی نقطہ نظر رکھتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ جس زندگی کے بارے میں وہ لکھ رہا ہے اس کا عملی تجربہ اس کو کتنا ہے اور اس کی لکھی ہوئی باتوں کی چولیں ایک دوسرے میں محض تخیل میں ملتی ہیں یا وہ حقیقی ہیں ۔
 ناول اسٹرکچر کے لحاظ سے روپ رنگ میں اسی طرح ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے ہیں جیسے انسان ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے ہیں۔ اصل فرق ذہن اور بصیرت سے شروع ہوتا ہے جو مختلف ناولوں میں مختلف قسم کے ہوتے ہیں۔ کسی مقرر کی فصاحت اور گفتگو کی دلچسپی قطعی اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ عالم یا دانشور ہے۔ اس فیصلے تک پہنچنے کے لیے اس مقرر کے پس منظر کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ اس کی گفتگو کی جذباتی سطح اور رنگ سے بھی اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی باتوں اور سوچ میں کتنی پختگی ہے – ٹھیک اسی طرح ناولوں کی بصیرت کا اندازہ بھی انتہائی سنجیدگی سے کیا جانا چاہیے ۔

Paigham Aafaqui
Flat No. 1
Police Station
Rajouri Garden
Delhi-27



سہ ماہی فکر و تحقیق، اپریل تا جون 2016


قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے