پیر، 29 فروری، 2016

اردو ادب وسط انیسویں صدی تک/سید احتشام حسین

تیرہویں صدی کے اختتام تک بابا فرید گنج شکر اور ہمہ گیر شاعر امیر خسرو کی نظمیں اردو ادب کی داغ بیل ڈال چکی تھیں۔ امیر خسرو کی زبان دہلی کے قرب و جوار کی بولی کا ایک نیا روپ تھی۔ انھوں نے اس بولی کو دہلوی کا نام دیا۔ لیکن بعد میں اس کا نام کھڑی بولی پڑگیا۔یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ جنوبی ہند کے دہلی راج کے تحت چلے جانے سے دہلی کے راج دربار سے فوجی، صوفی، فقیر، تاجر اور آفیسر وہاں گئے اور شمالی ہندوستان کی بول چال کی زبان بھی اپنے ساتھ لیتے گئے۔ کئی تاریخی قوتوں نے دہلی کے علاقے میں بولی جانے والی زبان کا مرکز جنوبی ہند کو بنا دیا۔ آہستہ آہستہ یہ دکن اور گجرات میں پھیل گئی۔ شمال میں یہ صرف بول چال کی زبان رہی لیکن جنوب میں اس کا ادبی روپ نکھرنے لگا اور اسے مختلف نام مثلاً ہندی، ہندوی، دکھنی اور گجری وغیرہ دیے گئے۔ بہمنی سلطنت اور بعد میں گول کنڈہ اور بیجا پور کی ریاستوں میں اس کی خوب نشوونما ہوئی۔ صوفی امن و عبادت کا پیغام عام فہم زبان میں دیتے تھے۔ بادشاہ اس کی سرپرستی کرتے تھے اور اس زبان میں نظمیں کہتے تھے۔ اس لیے ظاہر ہے کہ قدیم اردو دکن میں بہت مقبول ہوئی اور دہلی کے مشہورصوفی بزرگ خواجہ گیسو دراز نے، جو گلبرگہ چلے گئے تھے 1420 سے قبل، تصوف پر اپنا مشہور رسالہ ’’معراج العاشقین‘‘ لکھا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بیجا پور، گول کنڈہ اور احمد نگر میں صوفیوں نے پندرہویں اور سولہویں صدی میں صوفیانہ نظمیں اور کتابیں لکھیں۔ یہ سب کچھ شمال میں اردو کی جاے پیدائش سے بہت دور مقامات پر ہورہا تھا۔
دکھنی اردو نے 1600 کے قریب بیجا پور اور گول کنڈہ میں خوب ترقی کی۔ بیجا پور کے ابراہیم عادل شاہ نے 1599کے لگ بھگ اپنا مجموعۂ کلام ’’نورس‘‘ تیار کیا۔ انھیں نہ صرف قدیم اردو بلکہ برج بھاشا پر بھی دسترس تھی۔ یہ کتاب ہندوستانی موسیقی کی بہترین روایات سے خوشہ چینی کرتی ہے۔ ان کے دور میں فارسی زبان کے عالموں اور شاعروں کے علاوہ اردو کے شاعروں مثلاً مقیمی اور امین نے خوب ترقی کی۔ بعد میں بیجا پور میںبہت سے اردو شاعر ہوئے جن میں ہاشمی، رستمی اور نصرتی کے نام اہم ہیں۔ گول کنڈہ میں بھی حالات اس سے مختلف نہ تھے۔ وہاں محمد قلی قطب شاہ نے، جنھوں نے 1611 تک حکومت کی، ایک لاکھ سے زیادہ شعر کہے جن میں انھوں نے اپنے مذہبی اور روحانی حالات کا اظہار کیا۔ ان کی نظموں میں ہمیں ایک حقیقی ہندوستانی بادشاہ کے دل کی دھڑکنوں کی آواز سنائی دیتی ہے۔انھیں ہندوستان کے موسم، پھول پھل اور تیوہار جیسے بسنت، ہولی اور دیوالی بہت پسند تھے۔ ان کے دربار میں اردو کے کئی اچھے شاعر موجود تھے۔ جن میں ملا وجہی کا نام، جنھیں نظم اور نثر دونوں پر عبور حاصل تھا، درخشاں ہے۔ ان کی نثر کی کتاب ’’سب رس‘‘ اور نظم ’’قطب مشتری‘‘ کے مقابلے میں کتابیں آج بھی نہیں ملتیں۔ محمدقلی قطب شاہ کے بھتیجے عبداللہ، ان کے پوتے محمد اور محمد کے صاحبزادے ابوالحسن اچھے شاعر تھے اور شاہی خاندان کے باہر غواصی اور ابن نشاطی جیسے اعلیٰ شاعر ہوئے۔
سنہ1687 میں اورنگ زیب نے دکن کی سلطنتوں کو ختم کردیا۔ لیکن ادبی ترقی کا سلسلہ جاری رہا۔ اس وقت تک اردو میں نہ صرف اعلیٰ درجے کی صوفیانہ اور مذہبی شاعری تھی بلکہ ’’نورس‘‘، محمد قلی قطب شاہ کی تصانیف ، ’’سب رس‘‘،’’ قطب مشتری‘‘، ’’پھول بن‘‘، ’’سیف الملوک‘‘،’’ طوطی نامہ‘‘،’’ علی نامہ‘‘،’’ گلشن عشق‘‘ اور’’ یوسف زلیخا‘‘ جیسی بلند پایہ غیر مذہبی کتابیں بھی لکھی جاچکی تھیں۔
اٹھارویں صدی کے آغاز میں جب کہ ولی دکنی کا طوطی بول رہا تھا، شمالی ہند میں بھی اس زبان میں شعر و شاعری ہونے لگی جو کہ پانچ سوسال سے وہاں نشو و نما پارہی تھی۔ فارسی کا طلسم ٹوٹ رہا تھا اور ایسا وقت آنے لگا تھا جب کہ شاعر محسوس کرنے لگے کہ انھیں عام بول چال کی زبان میں اپنے ادبی خیالات کا اظہار کرنا چاہیے۔ دکن کے شاعروں کی مثال اردو میں شعر کہنے کے لیے ان کا حوصلہ بڑھا رہی تھی۔ اردو شاعری کا مرکز جنوبی ہند کے بجاے شمالی ہندوستان بن گیا۔ لیکن یہ بات یاد رہے کہ جس وقت دہلی کی اہمیت بڑھ رہی تھی، اس وقت بھی دکن میں ولی، بحری اور سراج جیسے عظیم شاعر موجود تھے اور صوفیانہ اور عشقیہ اور بیانیہ شاعری میں ان کی کامیابیوں کا شمالی ہندوستان میں اردو شاعری پر گہرا اثر پڑا۔
دہلی کے ابتدائی دور میں جان جاناں، خان آرزو، فائز، آبرو، ناجی، مظہر، یک رنگ، انجام اور مضمون کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان میں آرزو، مظہر اور فائز نئے مکتب خیال کے روح و رواں تھے۔ نادر شاہ کے ہاتھوں دہلی کی لوٹ کھسوٹ کے باجود شاعروں کی پوری نسل وہاں مقیم رہی اور انھوں نے ہندوستان میں پھیلتی ہوئی زبان کو مالا مال کیا۔ جاگیردارانہ دور ختم ہورہا تھا اور مغلوں کی عظیم سلطنت چھوٹی چھوٹی نیم آزاد ریاستوں میں بٹ رہی تھی۔ اس صورت حال نے ان شاعروں کو ، جنھیں تاریخ کے دھارے کا علم نہیں تھا، الجھن میں ڈال دیا۔ اس لیے اس دور کی تخلیقی نگارشات میں الم ناک خلوص جھلکتا ہے۔ دہلی کے مکتب خیال کے ابتدائی دور میں یہ شاعر اہم تھے لیکن اسی دور میں اردو کے عظیم ترین شاعر پیدا ہوئے جنھوں نے کئی ادبی اصناف کی نشو ونما کرکے اردو ادب کے دامن کو وسیع کیا۔ وہ ہیں خواجہ میر درد، مرزا محمد رفیع سودا اور میر تقی میر۔
اردو کے صوفی شعرا میں سب سے زیادہ اہم شاعر خواجہ میر درد نے زیادہ تر غزلیں کہیں۔ انھیں زبان پر کامل عبور حاصل تھا۔ سودا کو کئی اصناف پر عبور حاصل تھا۔ وہ اردو کے ہمہ گیر شاعر سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا شمار اب بھی بہترین طنز نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ افراد، سماجی افراتفری، اور اخلاقی بے راہ روی پربھرپور طنز کرتے ہیں۔ انھوں نے مرثیے کو بھی ادب کا ایک حصہ بنا دیا۔ اس طرح سودا کا مقابلہ فارسی کے بڑے شاعروں سے بہ آسانی کیا جاسکتا ہے جنھوں نے کچھ اصناف میں مشعل راہ کا کام کیا۔
میر تقی میر کا تعلق اکبر آباد کے ایک عالم صوفی خاندان سے تھا۔ بچپن سے ہی ان پر صوفیوں کی انسان دوستی اور عقیدے کی پابندیوں سے آزاد رہنے کی روایات کا گہرا اثر تھا۔ ابھی وہ گیارہ سال کے ہی تھے کہ ان کے والد وفات پاگئے اور انھیں سوتیلے بھائیوں اور رشتے داروں سے ٹھوکریں کھانے کے لیے تنہا چھوڑ گئے۔ اس لیے انھوں نے مشکلات کی گود ہی میں تعلیم و تربیت پائی۔ جو کوئی بھی تنقیدی نگاہ سے ان کی شاعری پڑھے گا وہ اس میں انسان کی مشکلات کو سر کرنے کے لیے جدو جہد اور ناکامی کے جذبات کو بھانپ لے گا۔ میر نے اپنی نظموں میں انسان کے ظلم اور قدرت کی زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔ ان کی شاعری کا بہترین حصہ غزلیں ہیں جن میں مٹھاس، خلوص، فن، اور تاثیر کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ فارسی تصانیف کے علاوہ ان کے خود نوشت سوانح حیات اور اردو کلام کے چھ دیوان ہیں۔
اس وقت تک دہلی کی سلطنت کا شیرازہ بھی بکھر گیا تھا اور بہت سی چھوٹی چھوٹی ریاستیں بن گئی تھیں جن کے والیان عالموں، شاعروں اور فن کاروں کی سرپرستی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں رہتے تھے۔ ان ریاستوں میں فرخ آباد، ٹانڈہ(ضلع بریلی)، اودھ، عظیم آباد( پٹنہ)، حیدرآباد اور بعد میں رام پور کے نام قابل ذکر ہیں۔
دہلی میں حالات خراب ہوجانے کی وجہ سے کچھ شاعروں نے دوسرے مقامات کا رخ کیا۔ فغاں، میر ضاحک، سودا، میر سوز، میر اور چند سال بعد مصحفی، جرأت اور انشا لکھنؤ گئے اور وہاں انھیںبہت عزت ملی۔ ان شاعروں کے لکھنؤ چلے جانے سے وہاں علم و ادب کا ایک نیا مرکز بن گیا۔ انشا (جنھیں زبانوں اور ادبی روایات کا علم تھا) کی شاعری میں نادر نمونے ملتے ہیں۔ مصحفی بھی بہت بڑے عالم تھے اور انھوں نے تنگ دستی اور غربت کے باجود آٹھ شعری مجموعے لکھے۔ انشا پہلے عالم تھے جنھوں نے اردو زبان کی لسانی خوبیوں اور ادائیگی کی خصوصیتوں پر فارسی زبان میں’’ دریاے لطافت‘‘ نام کی کتاب لکھی۔ اسی زمانے میں میر ضاحک کے بیٹے میر حسن کا خوب بول بالا تھا۔ انھوں نے بیانیہ نظموں اور غزلوں کے مجموعوں کے علاوہ بہترین اردو مثنوی ’’سحرالبیان‘‘ لکھی۔
لکھنؤ کے مکتبۂ خیال کے نئے شاعروں کے تذکرے سے پیشتر عوام کے عظیم شاعر نظیر اکبر آبادی کا ذکر ضروری ہے، جن کی شاعری میں ہندوستان کی روزمرہ کی زندگی کی جھلکیاں دکھائی اور دھڑکنیں سنائی دیتی ہیں۔ حیدر آباد، بھرت پور اور اودھ کے شاہی درباروں کے دعوت ناموں کو ٹھکرا کر نظیر نے ایک معمولی معلم کی حیثیت سے آگرے کے لوگوں کے درمیان رہنا ہی گوارا کیا۔ نظیر آدرش وادی نہیں تھے۔ ہمیشہ ان کی نظر زندگی کی حقیقتوں پر رہتی تھی۔ انھوں نے عام لوگوں کے مسائل بھوک، عشق، اور اقتصادی ضروریات وغیرہ کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ وہ ہندوؤں، مسلمانوں اور سکھوں کے تیوہاروں میں دل کھول کر حصہ لیتے تھے۔ انھوں نے کرشن جی، مہادیو جی، نرسی بھگت اور گرونانک پر درجنوں نظمیں کہی ہیں۔ ان کی زبان لکھنؤ اور دہلی کے شاعروں کی زبان کی طرح شستہ نہیں ہوتی تھی۔ لیکن ان کے موضوعات اور زبان میں مطابقت ضرور تھی۔ ان کی زبان عوام کے ذوق کی کسوٹی پر پوری اترتی تھی۔
اب تک لکھنؤ، ادب کا اہم مرکز بن چکا تھا اور ناسخ و آتش لکھنؤ کے اس دور کے مشہور ترین شاعر تھے۔ زبان اور علم عروض پر عبور حاصل ہونے سے ناسخ کی ادب کے میدان میں ڈکٹیٹر کی سی حیثیت تھی اور انھوں نے دہلی کے شاعروں پر بھی اثر ڈالا۔ اس دور کی بہترین تخلیقات میں سے آتش کے شاگرد پنڈت دیا شنکر نسیم کی ’’مثنوی گلزار نسیم‘‘ ہے۔ جنھوں نے لکھنؤ کے طرز بیان اور محاورے کو فنکارانہ چابک دستی سے استعمال کیا۔
لکھنؤ کی کامیابیوں کا بیان نامکمل رہ جائے گا اگر انیسویں صدی کے وسط کے دوعظیم مرثیہ گو شاعروں میر انیس اور مرزا دبیر کا ذکر نہ کیا جائے۔ میر انیس نے زبان پر عبور، تخیل کی بلند پروازی اور وسیع علم کو مرثیہ نگاری میں خوب استعمال کیا اور ان کے مرثیوں میں رزمیہ اور المیہ کا عجیب امتزاج ملتا ہے۔ مرزا دبیر جو کہ اتنے ہی مشہور تھے، ان کی بلندیوں کو نہ چھو سکے۔
امانت کی ’’اندر سبھا‘‘ نے اوپیرا کی صورت میں شاعری میں اضافے کیے۔اگرچہ لکھنؤ کی شان و شوکت نے کچھ عرصے کے لیے دہلی کو پس پشت ڈال دیا تھا لیکن 1857 کے انقلاب میں تباہ و برباد ہونے سے پہلے دہلی نے اردو کے عظیم ترین شاعروں میں چند کو جنم دیا۔ ذوق، مومن، بہادر شاہ ظفر، شیفتہ اور غالب تمام اسی دور کے ہیں۔ یہاں ان تمام شعرا کی کامیابیوں پر تفصیل سے بحث کرنا ممکن نہیں، لیکن پھر بھی اردو شاعری کے سب سے بیش بہا اور تاب ناک موتی مرزا غالب کا ذکر ضروری ہے۔ انسان کے دل کی گہرائیوں پر نظر، اس کے مسائل کے متعلق فلسفیانہ رویے، زندگی اور موت کے اسرار کے علم اور خیالات کو چابکدستی سے فن کا جامہ پہنانے کی صلاحیت کی وجہ سے وہ اردو ادب کے عظیم ترین شاعر ہیں۔
انیسویں صدی کے وسط میں اردو ادب کا جدید دور شروع ہونے سے پیشتر اردو شاعری میں غزل، مثنوی، قصیدہ اور مرثیہ جیسے کلاسیکی اصناف میں کمال حاصل کیا جاچکا تھا۔
جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے اردو نثر کی پہلی کتاب پندرہویں صدی میں خواجہ گیسو دراز کی تصنیف ’’معراج العاشقین‘‘ تھی۔ بعد میں دکن میں اردو نثر کی اور کئی کتابیں لکھی گئیں جن میں ملا وجہی کی تصنیف اعلیٰ ترین مانی جاتی ہے۔ قدرتی طور پر ابتدا کی زیادہ تر تصانیف مذہبی تھیں لیکن 1775کے آس پاس اٹاوہ کے میر حسین عطا تحسین نے’’ نوطرز مرصع‘‘ نام کی کتاب لکھی۔ اس کتاب میں فارسی کی کتاب سے ماخوذ چہار درویش کا قصہ بیان کیا گیا تھا۔ اسی اثنا میں عیسائی مشنریوں، یورپی تاجروں اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازموں نے اردو کی گرامر پڑھ لی تھی۔  انھوں نے اس زبان کو انڈک، انڈوستانی یا ہندوستانی کا نام دیا اور وہ اسے ہندوستان کی عوامی زبان سمجھتے تھے۔ انھوں نے اس زبان کے متعلق کچھ کتابیں لکھیں اور اسے مقبول بنانے کی کوشش کی۔
انگریزوں نے سمجھ لیا تھا کہ اس وسیع ملک کی زبان سیکھے بغیر گذارہ کرنا مشکل ہے اور اپنے افسروں کو اردو پڑھانے کے لیے انھوں نے 1800 میں فورٹ ولیم کالج قائم کیا۔ اس کالج نے اپنے قیام کے پہلے دس سال میں اردو کی کچھ اہم کتابیں شائع کیں۔ اگر چہ اس کالج سے عام لوگوں کا کوئی تعلق نہ تھا لیکن پھر بھی اس کے اثرات اورزبان میں اضافے کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ میر امن کی ’’باغ و بہار‘‘، شیر علی افسوس کی ’’آرائش محفل‘‘، حیدربخش حیدری کی’’ حاتم طائی‘‘، کاظم علی جو ان کی ’’سنگھاسن بتیسی ‘‘اور’’ شکنتلا ‘‘اور نہال چند کی’’ مذہب عشق‘‘ وغیرہ آج بھی اردو ادب کے خزانے میں بیش بہا موتی ہیں۔
انشا نے، جن کا ذکر پہلے بطور شاعر کیا جاچکا ہے، ہندوستانی نثر میں ایک کتاب’’ رانی کیتکی کی کہانی‘‘ لکھی، جس میں عربی اور فارسی الفاظ کا استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ اس کتاب پر ہندی اور اردو دونوں زبانیں اپنا حق جتاتی ہیں۔ انیسویں صدی کے پہلے تیس سال میں چھاپے خانے قائم ہوجانے کی وجہ سے اردو نثر نے کافی ترقی کی۔ 1824 میں رجب علی بیگ سرور نے اردو نثر کی مشہور ترین کتابوں میں سے ایک کتاب ’’فسانۂ عجائب‘‘ مرصع طرز پر لکھی۔ اسے اردو نثر میں لکھنؤ کا پہلا قابل قدر اضافہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے پس منظر میں لکھنؤ کے اس دور کی زندگی نمایاں ہے اور اس کتاب کی سماجی افادیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
مرزا غالب نے وفات پانے سے قبل بیس سال تک شستہ اور خوبصورت نثر لکھی۔ دوستوں، شاگردوں ، مداحوں اور سرپرستوں کو لکھے ہوئے ان کے خطوط میں مختلف ادبی، فلسفیانہ، مذہبی، سماجی اور تاریخی مسائل پر بحث کی گئی ہے۔ کچھ نقاد انھیں جدید اردو نثر کا پیش رو مانتے ہیں۔
اس مختصر بیان سے ظاہر ہے کہ قدیم اردو نثر میں مغربی ٹکنیک کے مطابق لکھے ہوئے ڈرامے، ناول اور افسانے کے علاوہ ادب اور علم کے ہر شعبہ پر تصانیف موجود ہیں۔ جہاں تک سائنٹفک نثر کا تعلق ہے، 1844 میں قائم شدہ دہلی کالج کی ورناکیولر ٹرانسلیشن(Vernacular Translation Society) سوسائٹی نے سائنس، علم ریاضی، قانون، تاریخ اور جغرافیہ پر ایک سو پچاس سے زیادہ کتابیں شائع کیں۔ اردو ادب کے جدید دور کے آغاز سے قبل اردو ادب تاریخ کے دھارے کے زیر اثر ترقی پذیر رہا۔ اس دور کے اردو ادب میں انسان کی اخلاقی اصلاح، انسانیت کی وحدت اور علم کی ترویج پر زور دیا گیا۔