جمعہ، 29 مارچ، 2019

موسیقی اور ہماری زندگی مضمون نگار:۔ اختر آزاد



موسیقی اور ہماری زندگی
اختر آزاد

انسان ارتقائی دور میں جیسے جیسے تہذیب کی منزلوں سے آگے بڑھتارہا، سنگ تراشی، رقص، مصوری، موسیقی اور دوسرے فنون لطیفہ بھی ساتھ ساتھ سفر کرتے رہے۔ آج ’فنون لطیفہ ‘ہماری زندگی کا ایک حصہ ہے اور اس کا ایک اہم جْز ’موسیقی ‘ہے،جسے اپنی زندگی سے اگر الگ کر دیں تو سماجی توازن بگڑ جائے گا۔
سُر کی پُر مغز زبان’ موسیقی‘ ہے۔ یعنی ایک ایسی زبان جو ساز کی سنگت میں آ کر کائنات کو اپنے حصار میں محصور کر لے اورفطری طور پر اس کا مثبت یا منفی اثر اس طرح پڑے کہ زندگی کے نگار خانے میں ہلچل مچ جائے... سُر تال سے سجے الفاظ جب نغموں میں ڈھل کرہماری سماعت سے ٹکراتے ہیں اور دماغ کے تار وں پر انگلی پھیرتے ہوئے روح سے ہم کلام ہوتے ہیں تواس کیفیت سے گزرتے ہوئے کبھی ہماری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں اورکبھی خوشیوں کی قوس وقزح چہرے پہ اپنا نقش چھوڑ جاتی ہے۔
موسیقی کی بنیاد جہاں’ ترنُّم ‘ہے وہیں شاعری کی روح’ علم عروض ‘ہے۔ ایک بہترین موسیقی کے لیے دونوں کے درمیان آہنگ کا ہونا ضروری ہے۔جسے نہایت ہی فنکاری کے ساتھ ایک دوسرے میں اس طرح پرو یا جائے کہ دونوں کا حُسن دوبالا ہو جائے۔ کبھی کبھی کمزور شاعری کو بہترین موسیقی اپنے دم پر سامع کے لیے ایسی صدا بند کرتی ہے کہ وہ اس کے سحر میں ڈوب جاتا ہے۔
مولانارومی جیسے عظیم شاعرنے ہی اپنی مثنوی کا آغاز کسی حمد، نعت سے نہ کر کے ایک ایسے شعر سے کیا ہے جس میں بانسری کی گونج سُنائی دیتی ہے۔ شعر دیکھیے:
بشو از نے چون حکایت میکند
وز جدائی ہا شکایت میکند
(بانسری کو سنو جب وہ اپنی کہانی سناتی ہے، اور جدائیوں کا رونا روتی ہے)
آئیے اب اصل موضوع کی طرف چلتے ہیں۔ موسیقی انسانی گلے سے پیدا ہونے والا وہ سُر تال ہے جوہماری روز مرہ کی زندگی کے تقریباً تمام شعبہ جات میں اپنا اثر رکھتی ہے۔ لیکن یہ انسان کی اپنی ذہنیت پر منحصر ہے۔وقت، موسم، واقعہ،حادثہ، خوشی، غم یہ ساری چیزیں انسانی ذہن کو مہمیز کرتی ہیں۔ حالات کے پیش نظر موسیقی انسان کی پسند کا حصہ بنتی ہے۔
جہاں بچے کی پیدائش پر خوشیاں منائی جاتی ہیں، وہیں موت کے بعد گاجے باجے کے ساتھ ارتھی لے جانے کی روایت ہمارے ہندوستانی سماج میں موجود ہے۔ پیدائش اور موت کے درمیان بے شمار ایسے لمحات خوشیوں کے آتے ہیں جسے ہم رقص و سرود سے مناتے ہیں۔ اگر موسیقی کا تڑکا نہ ہو تو گویا ہم نے خوشیاں منائی ہی نہیں۔ بڑے بڑے لاؤڈِسپیکر کا استعمال دور دراز تک اپنی خوشیاں پہنچانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ 
بیش ترلوگ تہوار کے موقع پر موسیقی سے لطف اندوز ہونا پسند کرتے ہیں۔کچھ لوگ ہلکی موسیقی سے تو کچھ تیزآواز کو ترجیح دیتے ہیں۔ شادی میں ہلدی کے گیت گا کرعورتیں ماحول کو خوشگوار بناتی ہیں۔ بارات میں ڈسکو پر نوجوانوں کے پاؤں تھرکتے ہیں۔ دلہن کے گھر پہنچتے ہی ’دل والے دُلہنیا لے جائیں گے‘ جیسے گیت اپنا جادو بکھیرتے ہیں،وہیں ’بابل کی دعائیں لیتی جا، جا تجھ کوسکھی سنسار ملے‘ جیسے نغموں کے بغیر ہندوستانی دُلہن کی رخصتی ہی ممکن نہیں۔
سر فروشی کی تمنّا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
پندرہ اگست اورچھبّیس جنوری جیسے قومی تہواروں پرجب ایسے نغمے اور ترانے فضاؤں میں رقص کرتے ہیں تو لوگ حبّ الوطنی کے جذبے سے سرشار شہیدوں کی قربانیوں کو یاد کرتے ہیں۔آنکھیں نم ہوتی ہیں اور ساتھ ساتھ آزادی کا جشن بھی جاری رہتا ہے:
اے میرے وطن کے لوگو! ذرا آنکھ میں بھر لو پانی 
جو شہید ہوئے ہیں ان کی ذرا یاد کرو قربانی 
جوانوں کے اندر جوش وولولہ پیدا کرنے کے لیے علامہ اقبال کا قومی گیت ’ترانۂ ہندی‘ ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘کی دھُن چاروں طرف گونجتی ہے۔ مقبولیت میںآج تک کوئی گیت اس کی برابری نہیں کرسکا۔یہاں تک کہ جب خلا میں پہلی بار ہندوستان کی نمائندگی کرنے والے راکیش شرما سوویت راکٹ Soyuz T-11 سے 02 اپریل 1984 کو پہنچے اور سات دن تک رہے تواس وقت کی وزیر اعظم آنجہانی اندرا گاندھی نے پوچھا تھا۔’’تمھیں بھارت ورش کیسا لگ رہا ہے۔‘‘ خلا سے بے ساختہ ان کی زبان سے یہی نکلا تھا۔ ’’سارے جہاں سے اچھاّ......‘‘اس واقعہ کا جب بھی ذکر آتا ہے اردو والوں کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے..... قومی اوربین الاقوامی سطح پر جو بھی پروگرام ہوتے ہیں اس میں قومی ترانہ ’جن گن من‘ہماری شان میں اضافہ کرتا ہے۔ 
دوران سفر موسیقی سے لطف اندوز ہونا لوگوں کی فطرت میں شامل ہے تاکہ پریشانی موسیقی میں تحلیل ہو کر کافور ہو جائے اور ان کا سفر آسان سے آسان تر ہوجائے۔ لیکن یہ منحصر ہے کہ سفر کیسا ہے؟ اس کی مناسبت سے لوگ ویسی ہی تیّاریاں کرتے ہیں۔ آج تو موبائل اور پین ڈرائیوکا زمانہ ہے۔ لوگ اپنی پسند کے اتنے سارے نغمے محفوظ کر لیتے ہیں کہ سفر جیسا بھی ہو،موسیقی ان کی تھکان کو زائل کر کے تازگی بخشتی رہتی ہے۔ کچھ لوگ موسیقی کے اتنے عادی ہوتے ہیں کہ صبح سویرے ضروریات سے فارغ ہوتے ہی میوزک آن کر دیتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جن کی سماعت میں میٹھے بول کے رس جب تک ٹپ ٹپ ٹپ نہ ٹپکے، نیند کی دیوی مہربان ہی نہیں ہوتی۔ 
اس نفسیات سے جڑے لوگوں کے لیے جب تک میوزک چلتا رہتا ہے۔ طمانیت سے بھر پور نظر آتے ہیں۔ لطف اندوز بھی ہوتے ہیں اور دوسرے کام کو نپٹاتے بھی رہتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی بجلی گئی، رفتار میں کمی آ جاتی ہے۔ کام میں دل نہیں لگتا۔ جیسے کوئی اہم شے اس کے وجود سے کٹ کر الگ ہوگئی ہو۔ حرکات وسکنات میں بھی تبدیلیاں رونُما ہو نے لگتی ہیں۔ لیکن بجلی واپس آتے ہی ایک بار پھر موسیقی کمرے میں جادو بکھیرنا شروع کر دیتی ہے۔ جسم میں توانائی لوٹ آتی ہے اور کام کرنے کی رفتار پہلے کی طرح تیز ہو جاتی ہے..... ایسا کچھ طالب علموں کے ساتھ بھی دیکھا گیاہے کہ جب تک میوزک سسٹم آن ہے تب تک وہ دلجمعی کے ساتھ اپنے نوٹس بناتے ہیں لیکن جیسے ہی موسیقی کا رشتہ ٹوٹا ایک بے چینی سی دکھائی دینے لگتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ تعلیم کے دوران موسیقی طالب علموں کے لیے مضر ہے لیکن کچھ کے لیے یہی مدھر سُر دلچسپی کا سبب بھی بنتا ہے۔ 
موسیقی سے قوت حافظہ پر بھی اثر پڑتا ہے۔ اوائل عمری میں طالب علموں کے ادراک و وجدان کو موسیقی جِلا بخشتی ہے۔آج پوری دنیا کمپیوٹر ایج میں داخل ہو چکی ہے۔لوگ کمپیوٹر پر کام بھی کرتے ہیں اور ہلکی موسیقی بھی سنتے ہیں۔ دیر تک کام کرنے والوں کے لیے موسیقی ایک طرح سے توانائی کے حصول کا کام کرتی ہے۔
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب انسان تنہا ہوتا ہے تو موسیقی کا سہارا لیتا ہے۔ جب سنسان راہوں پر چلتا ہے اور ڈر رہا ہوتا ہے تو وہ ہم سفر کے طور پر موسیقی سے دوستی کرلیتا ہے، گنگنانا شروع کر دیتا ہے تاکہ خوف پر غالب ہوسکے۔ کھانے کے درمیان بھی لوگ مدھم سرمیں موسیقی سننا پسند کرتے ہیں۔ غمگین اور ذہنی طور پر پریشان شخص خود کو باہر نکالنے کے لیے موسیقی کا سہارا لیتا ہے۔
کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی ’چک دے انڈیا‘ جیسے گیت توانائی کا کام کرتے ہیں۔ انسانیت کا درس دینے کے لیے بھی ’ ہندو بنے گا نا مسلمان بنے گا، انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا‘ جیسے گیتوں نے قومی بھائی چارے کے پیغام کو عام کیاہے۔بڑے بڑے مفکر، دانشور، سیاست داں اپنی تقاریر میں جان ڈالنے کے لیے کچھ ایسے اشعار کا استعمال کرتے ہیں جو سننے والے پر فوری طور پر اثر انگیز ہوتے ہیں۔زندگی کے اسیج پر کھیلا جانے والا کوئی بھی ڈرامہ ہو اس کی کامیابی کی ایک ضمانت موسیقی بھی ہے۔ 
میوزک انٹلی جنس (جارجیاٹیک) کے ڈائرکٹر پراگ کورڈیا ان دنوں ایک ایسی چیز کی تلاش میں سرگرداں ہیں کہ’’سائنسی مسائل اور ریاضی کو حل کرنے کے لیے موسیقی کس طرح معاون ثابت ہو سکتی ہے‘‘۔ ان کا یہ بھی سوچنا ہے کہ جب موسیقی غنائی تجربات، قلب و ذہن کو جلا بخش رہی ہیں تو پھر سائنس اور ٹیکنالوجی پر بھی اس کے مثبت اثرات پڑیں گے۔
ایک دلچسپ بات جو مجھے یہاں گوش گذار کرنی ہے کہ بہت سارے ڈاکٹر علاج کے لیے موسیقی کا سہارا لیتے ہیں۔ 
موسیقی ابتدائی دور سے معاشرے میں روشن فکر پیدا کرنے میں معاون رہی ہے، یہ آرٹ اور ادب کی طرح ہمارے کلچر کا حصہ بھی ہے۔ یہ کلچراپنے سینے میں کائنات کی طرح پھیلاؤ رکھتا ہے۔ اس سے معاشرتی اقدار کو سنوارنے کا کام بھی لیاجا تا ہے۔موسیقی کا نہ کوئی وطن ہوتا ہے اور نہ ہی سرحد:
پنچھی، ندیاں، پون کے جھونکے
کوئی سرحد نہ انھیں روکے
موسیقی سرحدوں کی بندشوں کو نہیں مانتی۔ہواؤں کے دوش پر سفرکرتی ہے۔ ایسے وقت میں بھی جب ملکوں کے درمیان ماحول کشیدہ ہو۔ لیکن فن کے پرستاروں کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔(یہ الگ بات ہے کہ کبھی کبھی کوئی نازیبا حرکت وقتی طور پر کسی فنکار کے پیروں میں بیڑیاں باندھ دیتی ہے) جنگ کے میدان میں حریف اپنے پسندیدہ فنکاروں کے نغمے سنتے ہیں۔اس لیے یہ کہا جاتا ہے کہ فن کار کبھی ایک ملک کا نہیں ہوتا۔
آج لَے اور سُر کے بغیرہم زندگی کا تصور ہی نہیں کر سکتے۔یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں موسیقی ایک انڈسٹری کا درجہ رکھتی ہے۔ بے شمار لوگ اس فن کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔کوئی لکھتا ہے۔کوئی ساز تیار کرتا ہے اور اس کے بعدکوئی اسے اپنی آواز کے جادو میں ڈھال کر لوگوں کی روح میں اُتارنے کی کوشش کرتا ہے۔ موسیقی نے آج کتنے گھروں میں زندگی کا چراغ روشن کر رکھا ہے۔کتنے لوگوں کو روزی روٹی سے جوڑ رکھا ہے۔ اس کا اندازہ آپ کو تب ہو گا جب آپ اس کے متعلق ریسرچ کرنے بیٹھیں گے۔
لوری موسیقی ہے۔ رونا موسیقی کا ہی ایک حصہ ہے۔ نیند کے خراٹے میں بھی موسیقی ہے۔پہاڑوں سے گرتے ہوئے پانی میں موسیقی۔ بارش کی رِم جھِم میں موسیقی۔ہوا کی سرسراہٹ میں موسیقی۔بادل کی گڑگڑہٹ میں موسیقی۔سوکھے پتّوں کی چرچراہٹ میں موسیقی۔ پرندوں کی پھڑپھڑاہٹ میں موسیقی۔ چڑیوں کی چہچہاہٹ میں موسیقی۔ہونٹوں کی تھرتھراہٹ میں موسیقی۔چوڑیوں کی کھنک میں موسیقی۔پائل کی چھم چھم میں موسیقی۔سمندر کی لہروں میں موسیقی۔آنکھوں کی جھیل سی گہرائی میں موسیقی۔ کتابوں کے اوراق میں موسیقی۔ پنکھے کی رفتار میں موسیقی۔جلتی آگ سے اُٹھتی چنگاریوں میں موسیقی۔ ٹرین کی چھُک چھُک میں موسیقی۔ گھڑی کی ٹِک ٹِک میں موسیقی۔ہوائی جہاز کی اُڑان میں موسیقی۔پھولوں پر منڈلاتے بھنوروں کی گنگُناہٹ میں موسیقی۔کمپیوٹر کے کی بورڈ پر رقص کرتی انگلیوں میں موسیقی۔قلم کی صر صر میں موسیقی۔کبوتر کی غٹرغوں میں موسیقی۔ کوئل کی کوک میں موسیقی۔شیر کی دہاڑ میں موسیقی۔سائل کی فریاد میں موسیقی۔ گھائل کی آہ میں موسیقی۔حسن کی انگڑائی میں موسیقی۔موسیقی کہاں نہیں ہے... ؟ یہاں تک کہ دو نفوس کے درمیان سانسوں کی بے ہنگم آمدو رفت میں بھی موسیقی اپنا جلوہ دکھاتی ہے جس کے نتیجے میں افزائش نسل کا کاروبار پروان چڑھتا ہے۔یعنی زندگی کے ہر رنگ میں موسیقی ہے۔ کائنات کے ذرّے ذرّے میں موسیقی ہے۔اگر یہ نہ ہو تو ہماری زندگی بے لطف اوربے کیف ہو کر رہ جائے گی۔


Dr. Akhtar Azad, 
House No-38, Road No.:1
Azad Nagar Mango, Jamshedpur - 832110
Mob.: 9572683122, dr.akhtarazad@gmail.com 




ماہنامہ اردو دنیا، جون2016


قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

ہندوستان اور ازبکستان کے درمیان سماجی اور تہذیبی روابط مضمون نگار: ابوسعد اعجاز



ہندوستان اور ازبکستان کے درمیان سماجی اور تہذیبی روابط
ابوسعد اعجاز

بیسوی صدی کی آخری دہائی کے اوا ئل میں سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد وسط ایشیائی ممالک ایک عجیب و غریب آزمائش کے دورسے گزر رہے تھے۔ جدید دور کی نئی سرحدوں کے بیچ مختلف لسانی اور تہذیبی وراثت کے حامل ممالک کا وجودعمل میں آیا۔ان ممالک کی اہمیت مختلف وجوہ کی بنا پر مسلم تھی جو اپنے وجود کو منوانے کی صلاحیت کی تمام ترخوبیوں سے آراستہ تھے۔ وسط ایشیائی ممالک، خاص کر قزکستان، ازبکستان اور کرغستان میں بہت سی قدرتی معدنیات کا ذخیرہ موجود ہے۔
وسط ایشیا دنیا کی قدیم لسانی، تہذیبی آماجگاہ ہے۔ یہاں کی تہذیب نے دنیا پر اپنے نقوش چھوڑنے کے ساتھ ساتھ اپنے رنگ میں رنگنے کی کامیاب کوشش بھی کی ہے۔ اس خطے سے نہ جانے کتنے تاریخی قصے کہانیاں وابستہ ہیں۔ اسی سرزمین سے سگدینا تہذیب کا عروج ہوا، اسی سرزمین سے البیرونی (1048ھ۔1973) جیسا عالم، امام بخاری (810-870) جیسا مستند محدث، امام ابو حنیفہ جیسا جید فقیہ، ابن سینا)(980-1037)جیسا جدید میڈیکل سائنس کا موجد، موسیٰ الخوارزمی (780-850) جیسا ماہر حساب داں، الغ بیگ (1344-1449)جیسا ہئیت داں اور علی شیر نوائے (1441-1501)جیسا شاعر پیدا ہوا۔ البیرونی نے نہ صرف اپنے پڑوسی ممالک کی سیر وسیاحت کی،بلکہ وہاں کے مذہبی، سماجی، ثقافتی، تاریخی اور روایتی علوم پر تحقیق بھی کی اور ’ کتاب الہند‘ جیسی شہرۂ آفاق کتاب لکھ کر وسطی ایشیا میں ہندوستان کو متعارف کرایا۔
ازبکستان وسط ایشیائی ممالک سے چاروں طر ف سے گھرے ہونے کے ساتھ ساتھ ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ امو اور سیر دریا کے بیچ واقع یہ ملک تقریبا447 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط ہے۔ اس خطے میں بہت سے مشہور شہر آباد ہیں جیسے بخارا، سمرقند، فرغنہ، خیوہ اور خوارزم وغیرہ۔ قدیم ریشمی شاہراہ اسی خطے سے ہوکر گزرتی ہے جس پر تجارتی قافلوں کے ساتھ ساتھ تہذیب و ثقافت کا سفر رواں دواں رہا۔ آج کا ازبکستان جس کے کرشمائی اور دلفریب مناظر کو سیاح کی نگاہیں دیکھ کر لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ ازبک پلاؤ اور سبز چائے سے خود کو محظوظ کرتی ہیں ۔
انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے شروعاتی دور میں ہندوستانیوں کی ایک بڑی تعداد وسط ایشیائی ممالک میں سکونت پذیر رہی ہے۔ایک اندازے کے مطابق سات سے آٹھ ہزار کے درمیان ہندوستانی وہاں آباد تھے جس میں غالب اکثریت سندھ، پنجاب اور ملتان کی تھی ان میں ہر مذہب کے لوگ پائے جاتے تھے۔
ہندوستان اور ازبکستان کے بیچ تہذیبی اور ثقافتی روایت صدیوں پرانی ہے۔ صدیاں گزرنے کے بعد بھی اس رشتے کا رنگ مدہم نہیں ہوا۔ سیاسی، تجارتی اور عصری دانشوری کی روایت کے آثار ہر جگہ ہمیں نظر آتے ہیں۔ ہندوستان اور وسط ایشیا میں نمایاں طور پر مذہب کو اولیت حاصل ہے جن میں بدھ مذہب اور صوفی ازم زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ بدھ مذہب جو انسانی قدروں کا پاسدار ہے، ہندوستان میں پیدا ہوا لیکن ہندوستان کے باہر پروان چڑھا۔ یہ مذہب اپنے پیروؤں کے ذریعہ مذہبی اصولوں اور اخلاقی قدروں کے ساتھ ساتھ ہندوستانی تہذیب وثقافت کے علاوہ یہاں کی زبانوں کو بھی اپنے ساتھ دنیا کے مختلف حصوں میں لے گیا۔ اس ضمن میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بدھ مذہب کی تعلیمات نے ہندوستانی زبانوں، رسم الخط اور فلسفہ کو پروان چڑھانے میں اہم کردار اداکیا ہے۔
روایتی رشتوں کی بنیادیں آٹھویں صدی کے نصف اول میں عباسی خلافت کے وجود میں آنے کے ساتھ ساتھ شروع ہوئی ہیں۔ اس زمانے میں تجارتی اور تہذیبی رشتوں کو جلا ملی۔ دہلی سلطنت اور مغل شہنشاہ خاص کر التمش، محمد بن تغلق اور جلال الدین محمد اکبر نے اپنے زمانے میں علوم و فنون کے ماہر لوگوں کو اپنے دربار میں اعلیٰ مقام پر فائز کیا۔ انہیں زمانوں میں فارسی، سنسکرت اور ترکی زبانوں کے بہت سے کاموں کا ترجمہ ہوا۔ 
مغل فرمانروا اپنی سرحدوں کو مسلسل وسعت دینے کے ساتھ ساتھ اپنے عہد کے علوم و فنون کی ترقی سے کبھی غافل نہیں رہے۔ انہوں نے جہاں دنیا بھر کے علماء و دانشوروں سے استفادہ کیا وہیں وسط ایشیا کے علما ء و دانشوروں سے چشم پوشی نہیں کی،بلکہ ان کے علم سے بھی فائدہ اٹھایا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان حکمرانوں کا نسبی تعلق بھی انہیں خطوں سے تھا۔ 
صوفی ازم زندگی گزارنے کا ایک روحانی تصور پیش کرتا ہے جس کے توسط سے ہم خدا تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ چشتیہ، سہروردیہ، قادریہ اور نقشبندیہ سلسلے صوفی ازم کے اہم سلسلے گردانے جاتے ہیں۔ ان تمام کا وجود کہیں نہ کہیں وسط ایشیائی ممالک میں ملتا ہے اور ہندوستان میں اس کو خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کیا جا تا ہے۔ صوفی ازم مذاہب اور تہذیبوں کے بیچ ربط کا کام سرانجام دینے کے علاوہ امن اور بھائی چارگی کو فروغ دینے میں ایک امتیازی حیثیت کا حامل ہے۔ تمام صوفی امن کے پیغامبر ہونے کے ساتھ ساتھ روحانی اور اخلاقی قدروں کو پروان چڑھانے میں یقین رکھتے تھے۔ ان کی خانقاہیں تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے یکساں طور پر کھلی رہتی ہیں۔ ہندوستان میں صوفی ازم کے ابتدائی نقوش وسط ایشیائی ممالک سے ملتے ہیں۔ خواجہ سید جلال الدین، حمیدالدین ناگوری، بختیار کاکی، فرید الدین گنج شکر، حضرت نظام الدین اولیا، بابا حاجی علی بخاری اور امیر خسرو کے اجداد کا تعلق ان ہی ممالک سے رہا ہے۔
ہندوستان میں بہت سی دستاویزی اصطلاحات بھی وسط ایشیائی زبانوں سے مستعار لی گئی ہیں۔ جیسے فرمان، فتح نامہ،مثال، تمغہ، حکم، منشور، نشان، مہراور ایلچی کے علاوہ بہت سے ہتھیاروں کے نام بھی ہم استعمال کرتے ہیں، جیسے توپ، توپچی، بندوق وغیرہ۔ مغلئی کھانے اپنے آپ میں ایک الگ قسم کا ذائقہ رکھتے ہیں جو ہندوستان میں مغل حکمرانوں کے مرہون منت ہیں۔ یہ طرز طباخی وسط ایشیا میں ترکو ں نے متعارف کرایااور اس کے بعد ہندوستانی سرحد میں داخل ہوئی۔ یہاں تک کہ ہندوستان نے ذائقہ کے ساتھ ساتھ ناموں تک کو اپنے یہاں رائج کر لیا، جیسے قورمہ، پلاؤ،قلفی، باقر خانی، حلوا، قیمہ، چائے، سموسہ وغیرہ۔ کھانوں کے علاوہ ہم مختلف سماجی ناموں کو بھی استعمال کرنے لگے جیسے دادا، بابا، باجی، آقا، آپا، خاتون وغیرہ۔
وسط ایشیا میں ہندوستان کے نامور شعرا اور مصنفوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اورآج بھی نئے ناموں کو وہاں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔بہت ساری نظموں اور کہانیوں کو ازبک میں اور وسط ایشیائی زبانوں کے ادب کا اردو میں ترجمہ کیا گیا۔ ہندوستانی مصنف جن کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ان میں مہاتما گاندھی،رابندرناتھ ٹیگور،جواہر لال نہرو،علی سردار جعفری،سجاد ظہیراور خواجہ احمد عباس قابل ذکر ہیں۔ ان کو وہا ں پسند کرنے کی کئی وجوہات تھیں ایک تو وہ دور اشتراکی نظام کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھے مزید یہ کہ ان میں سے بیشتر اشتراکی نظام کے پروردہ تھے۔اس فکر کے مفکر دنیا میں کہیں بھی ہوں اشتراکی نظام حکومت میں ان کی اہمیت تسلیم کی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ 1947 میں ہندوستان آزاد ہونے کے ساتھ ہی ہندوستان کا جھکاؤ سوویت یونین کی طرف زیادہ تھا۔ 
ہندوستانی فلمیں صرف ہندوستان ہی میں ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے باہر بھی اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہی ہیں۔ وسطی ایشیائی ممالک بھی اس کے سحر سے اچھوتے نہیں رہے۔ وسط ایشیائی ممالک خاص کر ازبکستان میں ہندوستانی فلموں اور نغموں کو بڑے شوق سے دیکھا اور سنا جاتاہے۔جس طرح سے ہندوستانی عوام اپنے محبوب سپر اسٹارز کو دل کے قریب رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے انداز کو اپناتے ہیں اسی طرح ازبکستان کی عوام بھی ان کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ہماری فلموں کے بہت سے ایسے نام ہیں جن کی قدر ومنزلت دونوں ملکوں میں ایک جیسی ہے راج کپور، نرگس دت، سنیل دت، دلیپ کمار،سلمان خان، شاہ رخ خان،امیتابھ بچن، رانی مکھرجی اور عامر خان کے نام قابل ذکر ہیں۔ ازبکستان میں فلمی نغمہ ’ میرا جوتا ہے جاپانی‘ ہر خاص و عام کی زبان پر اپنی نغمگی کا احساس دلاتا ہے۔ آج بھی ازبکستان میں ہندوستانی فلموں کی نمائش بڑے پیمانے پر کی جاتی ہے اور وہاں کے سرکاری نیشنل چینل پر ہفتے میں کم از کم دو فلموں کی نمائش کا اہتمام کیا جاتاہے۔
ہر دور میں تہذ یبی و ثقافتی روابط کو ایک مضبوط ستون کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تہذیب و ثقافت کے میدان خود اپنے آپ میں وسیع ا لنظری، رواداری، اخوت اور محبت کی شکل میں اجاگر ہو کر لوگوں کے سامنے مثال بنتے ہیں۔اس ضمن میں انسٹی ٹیوشن اور اکیڈمیاں ایک اہم کڑی سمجھی جاتی ہیں۔ 1955 میں ہندوستان نے ازبکستان میں اپنے کلچرل سنٹر کا افتتاح کیا جس کے تحت ازبکستان میں ہندوستان کی رنگا رنگی کو بروئے کار لانے یا ازبکستان میں ہندوستان کی لسانی، تہذیبی، ثقافتی اور تاریخی جہتوں کو پروان چڑھانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس سنٹر نے ازبکستان میں مختلف تنظیموں کے ساتھ مل کر کام شروع کیا۔ اسی سنٹر کے تحت موسیقی اور رقص کے ساتھ ساتھ یوگا کی کلاسوں کا بھی اہتمام کیا گیا۔
ہندوستان کی آزادی کے بعد وسط ایشیائی ممالک کی جامعات میں ہندی اور اردو کی تعلیم کا مناسب انتظام تھا۔تاشقند یونیورسٹی اس لحاظ سے ایک منفرد مقام کی حامل ہے۔ اس کے علاوہ تاشقند یونیورسٹی میں شعبہ برائے انڈیا لوجی بھی قائم ہے۔ اس شعبے میں نہ صرف زبانوں کی تدریس بلکہ وہاں پر ہندوستانی تاریخ وثقافت کی بھی تعلیم دی جاتی ہے۔اس ضمن میں 1962 میں پہلی بار ڈاکٹر قمر رئیس کو اردو اور ڈاکٹر بھولے ناتھ تیواری کو ہندی کے ماہر کے طور پر تقرر کیا گیا تھا۔ آج شعبہ برائے مطالعات شمالی ایشیا تاشقند یونیورسٹی میں ہندوستانی زبانوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے، ساتھ ہی ہندوستان میں مختلف جامعات میں مطالعات برائے وسطی ایشیا کے شعبے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ان میں خاص کر جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ برائے بین الاقوامی مطالعات، جواہر لال نہرویونیورسٹی میں اسکول برائے بین الاقوامی مطالعہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، ممبئی یونیورسٹی،جموں یونیورسٹی، کشمیر یونیورسٹی کے علاوہ بہت سارے سنٹر اپنے فرائض کو انجام دے رہے ہیں جس میں تاریخ وثقافت، سیاسی، معاشی،غرض شعبہ ہائے زندگی کے ہر پہلو پر تحقیق وتدریس کا کام انجام دیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ازبک زبان میں سر ٹیفکیٹ اور ڈپلوما کا کورس بھی کرایا جاتا ہے۔ 
1965 کی ہندوستان اور پاکستان کی جنگ کے دوران سوویت یونین کی مداخلت کی وجہ سے موجودہ ازبکستان کے دارالخلافہ تاشقند میں ایک امن معاہدہ کے لیے دونوں ممالک کے رہنما تیار ہوئے جس میں ہندوستان کی جانب سے ا س وقت کے وزیر اعظم جناب لال بہادر شاستری اور پاکستان کی جانب سے جنرل یحییٰ نے امن معاہدہ پر دستخط کئے۔ اس امن معاہدہ کی وجہ سے تاشقند کوامن کا شہر اور بھائی چارگی کی علامت کے طور پہ دیکھا جانے لگا۔تاشقند سمجھوتے کے بعد ہندوستان اور ازبکستان کے بہت سے شعرا نے منظوم خراج عقیدت بھی پیش کیا جس کو ’ارمغان تاشقند ‘ کے نام سے شائع کیا گیا۔ 
سوویت یونین کے بکھراؤ کے بعد وسط ایشیائی ممالک میں لسانی،تہذیبی ا ور نسلی بنیاد پر الگ الگ ملک کا وجود عمل میں آیا۔ پوری دنیا نے اس خطے کو اپنی خارجہ پالیسی کے تحت اپنے سماجی، ثقافتی، سیاسی، معاشی رشتوں کو عملی جامہ پہنا نے کی کوشش کی۔ ہندوستان نے بھی اس عمل کو بروئے کار لانے کی کوشش کی اسی کی وجہ سے ازبکستان کے صدر کا پہلا بیرون ملک سفر ہندوستان کا تھا جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفا ر تی، سیاسی، معاشی، ثقافتی، تہذیبی رشتوں کو جلا ملی اور آج بھی یہ رشتے اپنی کامیابی کی طرف گامزن ہیں۔ اسی کڑی میں انڈین کونسل فار کلچرل رلیشن کے تحت ہر سال ازبکستان کے طلبہ کو ہندوستان میں تعلیم حا صل کرنے کے لئے وظیفہ دیا جا تا ہے جس سے وہ طلبہ ہندوستانی جامعا ت میں اعلیٰ تعلیم حا صل کرنے کا سنہرا موقع پاتے ہیں۔2013-14 کے سیشن میں 14 طلبہ کو وظیفہ دیا گیا۔ ساتھ ہی ساتھICET کے تحت ٹکنیکل تعلیم کے لیے بھی وظیفہ کا انتظام ہے۔ ICET نے وظیفہ کی تعداد کو بڑھا کر 150 تک کردیا ہے۔ جس کا فائدہ وہاں کے طلبہ کو براہ راست مل رہا ہے۔
2003 میں ہندوستان اور ازبکستان کے ثقافتی رشتوں کو مضبوط کرنے کے مقصد کے تحت ایک دو طرفہ پرگرام کا انعقاد کیا گیااسی ضمن میں تاشقند میں ایک نمائش کا انعقاد کیا گیاجس میں ہندوستانی موسیقی اور اس کے ساز وساما ن کے علاوہ ہندوستان کی مشہور مدھوبنی پینٹنگ کی نمائش کی گئی جس کی وہاں کی عوام نے دل کھول کر پذیرائی کی۔ 2005 میں ہندوستانی موسیقی گروپ نے وہاں کے مشہور کلچرل میلے ’شرق‘ میں شرکت کی۔ ساتھ ہی ساتھ ازبکستان کی تہذیبی و ثقافتی وراثت کو پروان چڑھانے میں اہم کڑی اور عوامی اسٹیج کی نئی پہچان ’سگدینا‘ آرکیسٹرا کے ایک گروپ نے ہندوستان کے مختلف شہروں میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ 2013 میں ازبکستان کا ایک ڈانس گروپ، ہندوستان کے صوبہ ہریانہ کے سورج کنڈ میلے میں اپنے فن سے لوگوں کے دلوں میں اپنی چھاپ چھوڑنے میں کامیاب رہا۔
غرض وسط ایشیائی ممالک با لخصوص ازبکستان کی تہذیب و ثقافت،عادت واطوار وغیرہ ہندوستان کی تہذیب و ثقافت اور عادت و اطوار میں ایک حد تک یکسانیت پائی جاتی ہے اور یہی وہ چیزیں ہیں جو دونوں ملکوں کو ایک دوسرے سے قریب تو کرتی ہی ہیں اور ساتھ ہی ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد گار بھی ثابت ہوتی ہیں۔ اس کا اثر دونوں ملکوں کے درمیان بخوبی دیکھنے کو ملتا ہے اور آئندہ بھی اس کی مثالیں ملتی رہیں گی۔ 


Abu Sad Aijaz, 
Research Scholar, 
Academy of International Studies, 
Jamia Millia Islamia, New Delhi - 110025
Mob.: 9968401636, Email.:sad1984@gmail.com



ماہنامہ اردو دنیا، جون2016


قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

جوگندرپال کا تخلیقی کمال مضمون نگار: اسلم جمشید پوری




جوگندرپال کا تخلیقی کمال
اسلم جمشید پوری

جوگندر پال کا شمار ان افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جو آزادی کے آس پاس سے لکھ رہے ہیں اور جنھوں نے اُردو افسانے کے سفر میں بہت زیادہ نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ کبھی اس نشیب و فراز کا حصّہ بنے اور کبھی خاموش تماشائی بنے رہے۔ ترقی پسند تحریک کا عروج، پال کے بھی شباب کا عہد تھا۔ لیکن ترقی پسند تحریک کے متوازی کچھ افسانہ نگار بالکل منفرد انداز میں افسانے تخلیق کررہے تھے اور اچھے افسانے لکھ رہے تھے، افسانہ نگاروں کے اسی گروہ میں جوگندر پال بھی شامل ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ترقی پسند تحریک، برائے تحریک اور تشہیر ہوکر رہ گئی۔ ایسے میں وقت کے بطن سے جدیدیت کی تخلیق ہوئی۔ ایک لہر آئی اور سب کچھ بدل گیا۔ اُردو افسانے میں خارجیت سے داخلیت اور اجتماعیت سے انفرادیت کا سفر شروع ہوا۔ افسانے کی ساخت بھی متاثر ہوئی۔ بہت سے افسانہ نگاروں نے اثرات قبول کیے۔ جوگندر پال بھی اس سے متاثر ہوئے لیکن انھوں نے اسے کلی طور پر نہیں اپنایا۔ کچھ افسانوں میں یہ اثر نمایاں ہوا لیکن اپنا مخصوص انداز پھر بھی حاوی رہا۔ یہ عہد بھی گزر گیا۔ افسانے نے نئی کروٹ لی۔ جسے کچھ لوگ مابعد جدید افسانہ کہتے ہیں، کچھ ۷۰ء کے بعد کا افسانہ وغیرہ۔ پال یہاں بھی نئی نسل کی مناسب رہنمائی کے لیے آگے آئے اور جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے مابین پل کا کام انجام دیا۔
جوگندر پال کا پہلا افسانوی مجموعہ ’دھرتی کے لال‘ 1961 میں منظرِ عام پر آیا۔ پھر ’میں کیوں سوچوں؟‘ 1962 میں، ’رسائی‘ 1963 میں، ’مٹّی کے ادراک‘ 1971 میں ’لیکن‘ 1977 میں ’بے محاورہ‘ 1978 میں ’بے ارادہ‘ 1981 میں اور منی کہانیوں کے مجموعے ’سلوٹیں‘ اور ’کتھا نگر‘ بالترتیب 1975 اور 1986 میں شائع ہوئے۔
جوگندر پال نے اپنی ابتدائی زندگی کا بڑا حصّہ افریقہ میں گزارا۔ ان کے پہلے افسانوی مجموعے ’دھرتی کے لال‘ میں افریقہ کی زندگی اور وہاں کے لوگوں کے مسائل کو موضوع بناکر لکھے گئے کئی افسانے شامل ہیں۔ ’دھرتی کے لال‘ اور ’ملٹی ریشیل‘ اس ضمن کے نمائندے افسانے ہیں، اس میں افریقی زندگی کے نشیب و فراز کی بہترین عکاسی موجود ہے۔
’میں کیوں سوچوں‘ کے بیشتر افسانے آزادی کے بعدکے ماحول، انسانی اقدار کی شکست و ریخت، جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کے اثرات اور فرد کی داخلی کیفیت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ 1963 میں ’رسائی‘ کی اشاعت ہوئی۔ بعض افسانوں میں جدیدیت کی بوموجود تھی۔ تجرید، علامت اور ابہام جیسے اوصاف بھی در آئے تھے۔ ایسے افسانوں میں رسائی، بھوں بھاں، دوسری کایا کو شامل کیا جاسکتا ہے۔
جوگندر پال کا گہرا مشاہدہ اور عمیق مطالعہ انہیں جلد ہی جدیدیت کے اس سیلاب سے باہر نکال لایا۔ہجرت اور فسادات کے دیرپا اثرات، سماج میں ہونے والے معاشی، سیاسی اور سماجی تغیر اور وقت کے ساتھ ساتھ، پامال ہوتی اخلاقی قدروں نے انہیں متوجہ کیا۔ 1965 کی جنگ اور اس کے اثرات، زوال پذیر معاشرے کے شب و روز کا مشاہدہ انھوں نے کھلی آنکھوں سے کیا۔ پال کے عمیق مطالعے اور گہرے مشاہدے نے انہیں فکری سطح پر مفکّر بنا دیا۔ ایسا مفکر جو ظہور پذیر ہونے والے واقعات کو صرف سوچتا نہیں بلکہ ان میں ڈوب جاتا ہے۔ پال بھی زندگی کی اعلیٰ قدروں کی پامالی کا صرف نوحہ تحریر نہیں کرتے بلکہ اسے اپنے اندر شدت سے محسوس کرکے الفاظ کا پیکر عطا کرتے ہیں۔ ان کے بیشتر افسانے اس کرب کے مظہر ہیں۔ بازیافت، پھول، بابا، بستیاں اور ایک طویل کہانی کو مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔
جیسے جیسے زندگی کی ترجیحات بدلتی گئیں، پال کے فکری رجحان میں بھی تبدیلی واقع ہوئی۔ نئی تہذیب، فلیٹ کلچر کے نام پر روایتی اقدار سے یکسر انحراف، خود کو خود مختار سمجھنا، برائیوں کو بُرا نہ سمجھنا، انسانیت کا دم توڑنا، یہ سب پال کو متاثر کرتا ہے اور ان کی کئی کہانیوں میں اس کا اظہار بھی ملتا ہے۔ وہ روایت اور اقدار کی پامالی پر آواز بلند تو کرتے ہیں لیکن نئی تہذیب کے مثبت پہلوؤں کو نظر انداز نہیں کرتے۔ اس زمرے میں ان کے افسانے بیک لین، خدارا، جوگن، تہیں وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔
’رامائن‘ جوگندر پال کا ایک مشہور افسانہ ہے۔ اس میں پال نے اساطیر کو موضوع بنایا ہے۔ ’رامائن‘ کے واقعات کو ہم عصر زندگی سے ملاتے ہوئے ہم عصر زندگی کے کرداروں کی نقاب کشائی کی ہے۔ دسہرہ کے موقع پر راون، میگھ ناد اورکنبھ کرن کے پتلے جلائے جاتے ہیں اور اس عمل کے پیچھے صرف ایک ہی ذہنیت کام کرتی ہے کہ ایسا کرکے ہم برائی کا خاتمہ کررہے ہیں اور اس میں وہ لوگ آگے آگے ہوتے ہیں جو خود برائی میں ملوث ہوتے ہیں۔ راون کا خاتمہ، رام نے اس وقت کیا تھا جب راون کے بھائی و بھیشن نے راون کی موت کا راز اسے بتادیا تھا۔ پال نے اپنی کہانی میں ان واقعات کے پس منظر میں دسہرہ کے موقع پر ہونے والی رام لیلاؤں میں سیتا اور رام کے کردار نبھانے والوں کی سچی تصویر کشی کی ہے۔ یہ رام بابو نام کے کلرک کی کہانی ہے۔ جو اپنی ذاتی زندگی میں شیطان صفت ہے اور ہر سال رام لیلا میں رام کا کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی بیوی اس کی دوہری زندگی سے دکھی ہے، وہ اسے بُرا سمجھتی ہے اور اس حد تک بُرا خیال کرتی ہے کہ یہ بھی خواہش کرتی ہے۔
’’کاش میں کسی راکشس کے پلّے بندھی ہوتی۔ اس کے پلّے بندھنے پر تو میرے بھاگ ہی پھوٹ گئے۔‘‘ (رامائن)
دراصل پال نے کہانی کے ذریعہ یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ آج کی سیتا، رامائن والی سیتا نہیں۔ آج ان چھوٹی، بھولی بھالی، معصوم اور پاکیزہ سیتا جیسی لڑکی کا تصور ناممکن نہیں تو مضحکہ خیز ضرور ہے۔ آج کے رام بھی ان اوصاف سے خالی ہیں بلکہ آج کے رام اور سیتا اعمال کے لحاظ سے راون، کنبھ کرن اور و بھیشن سے کسی طرح کم نہیں ہیں۔ جوگندر پال کی کہانی، ’رامائن‘ الفاظ کی سطح پر انتہائی سادہ اور عام ہے لیکن کہانی اپنی تہوں میں مختلف معانی کے جواہر پارے رکھتی ہے۔ عصری سماج کی بہترین عکاسی کا نمونہ ہے۔
پال کے فکری رجحان نے عصری تہذیب کی روح کو قریب سے محسوس کرنے کے بعد اس سے تاثر لیا ہے۔ شہروں کی زندگی، خاص کر فلیٹ کلچر میں مہذب زندگی کی آڑ میں کیا کیا گل کھلتے ہیں، یہ وہ اپنی کہانی ’بیک لین‘ میں بڑی چابکدستی سے بیان کرتے ہیں۔ یہ کہانی دراصل سماج کی حقیقتوں کی آئینہ دار ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار صیغۂ واحد متکلّم ہے جو کوڑا کرکٹ بیننے کا کام کرتا ہے، وہ روزانہ پاش کالونی کی پچھلی گلیوں میں رکھے کوڑے کے ڈبوں میں سے اپنے کام کی چیزیں چنتا ہے اور شام کو لاکر منّو کباڑیے کو دے دیتا ہے، جو اسے کچھ پیسے تھمادیتا ہے۔ کوڑے میں اسے سگریٹ کے ادھ جلے ٹکڑے، شراب کی بوتلیں، کھانا، پلاسٹک کا سامان وغیرہ مل جاتا ہے اور وہ اس سے اپنی زندگی بسر کررہا ہے۔ کہانی کار نے اپنے کردار کے ذریعہ اس بڑی کالونی کے گھروں میں جھانکنے کا کام کیا ہے اور ان گھروں کی زندگی کو پیش کیا ہے۔ ایک گھر میں دو بھائی ہیں۔ ایک ذرا پاگل سا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی بیویوں کا استعمال کرتے رہتے ہیں۔ ماں بیچاری مکان کے سب سے اوپری حصّے میں پڑی کھانے کی خاص کر کھیر کی رٹ لگائے ترستی رہتی ہے اور ان کے نوکر، کوڑے دان میں اتنا کھانا ڈال دیتے ہیں جس سے کئی آدمیوں کے پیٹ کی آگ بجھائی جاسکتی ہے لیکن دونوں بھائیوں کو اس کی فکر نہیں اور وہ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہیں۔ ایک اور گھر کا حال یہ ہے کہ شوہر ادیب ہے، راتوں کو جاگ جاگ کر کاغذ سیاہ کرتا رہتا ہے اور عین اسی وقت اس کی بیوی اپنے نوکر کا بستر گرم کرتی ہے۔ ایک اور گھر کا حال کچھ اس طرح ہے کہ بیوی ہوٹلوں میں دھندہ کرتی ہے اور شوہر اس کے گھر آنے کا بے صبری سے انتظار کرتا ہے اور آنے پر اس کے بیگ پر جھپٹتا ہے، اسے صرف پیسے سے مطلب ہے۔
جوگندر پال نے اپنی فنکارانہ آنکھ سے سماج کے اعلیٰ طبقے کے سفید پوش لوگوں کے گھروں میں ہونے والے شرمناک افعال کی تصویر کشی کی ہے۔ طنز کے تیر کہانی کو گہرائی بخشتے ہیں:
’’تم بدمعاشوں کو خوب جانتا ہوں۔ خالی جھولا لٹکائے موقع کی تاک میں گھومتے پھرتے ہو۔‘‘ یہ بات اس کی جھوٹی بھی نہیں مگر سبھی لوگ یہی تو کرتے ہیں۔ ہر ایک اپنے دل میں جھولا لٹکائے اسی تاک میں مارے مارے پھرتارہتا ہے کیا معلوم، کیا کیا ہاتھ آجائے۔‘‘
’’بھاگ جاؤ، ورنہ خون پی جاؤں گا۔‘‘
’’میں یہ سوچتے ہوئے آگے ہولیا ہوں کہ ہزار غصّے کے باوجود جنگلی جانور بھی پئیں تو پانی ہی پیتے ہیں، پھر آدمی کیوں اپنا پارہ چڑھتے ہوئے آدمی کے لہو کا پیاسا ہوجاتا ہے؟‘‘
’’بابو (کتاّ) کو اس کا نام میرا ہی دیا ہوا ہے اور کچھ دینے کو میرے پاس ہے کیا؟ یہاں کے نوکروں اور کتّوں کو بابو کہہ کر بلاتا ہوں تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔‘‘ (بیک لین)
پال کا یہ افسانہ سماجی حقیقت نگاری کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ کہانی میں کردار نگاری بھی خوب ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار پال کے فن کا زندہ جاوید ثبوت ہے۔ پال نے ’بیک لین‘ کے ذریعہ سماج کی بیماریوں کو آئینہ دکھایا ہے۔
جوگندر پال کے یہاں فنّی تغیر بھی ملتا ہے۔ انھوں نے منٹو کے ’سیاہ حاشیے‘ کے انداز پر مِنی کہانیوں (افسانچوں) کے دو مجموعے ’سلوٹیں‘اور ’کتھا نگر‘ دیے۔ ان چھوٹی چھوٹی کہانیوں میں کہانی پن کے علاوہ اسلوب کی ندرت بھی ہے اور کہیں کہیں طنز کا استعمال ان افسانچوں کو پر اثر بنا دیتا ہے۔ ایک افسانچہ’ بھوت‘ ملاحظہ ہو:
بھوت
’’چند بھوت حسبِ معمول اپنی اپنی قبر سے نکل کر چاندنی رات میں گپیں ہانکنے کے لیے کھلے میدان میں اکٹھا ہوکر بیٹھ گئے اور بحث کرنے لگے کہ کیا واقعی بھوت ہوتے ہیں۔
’’نہیں!‘‘ ایک نے ہنس کر کہا ’’سب من گھڑت باتیں ہیں‘‘ ایک اور بولا ’’کسی بھی بھوت کو علم نہیں ہوتا کہ وہی بھوت ہے۔‘‘
اسی اثنا میں ایک اور نے ایک جھاڑی کی طرف اشارہ کرکے خوف زدہ لہجے میں بولا ’’وہ دیکھو!‘‘ جھاڑی کے پیچھے ایک غریب آدمی بڑے انہماک سے لکڑیاں کاٹ رہا تھا۔
’’ہاں وہی۔۔۔‘‘
سارے بھوت بے اختیار چیخیں مارتے ہوئے اپنی اپنی قبر کی طرف دوڑے۔‘‘
اس چھوٹی سی کہانی میں قصّہ پن، حیرت و استعجاب Suspence، اختتام اور وحدت تاثر، سبھی کچھ موجود ہے۔ ساتھ ہی گہرا طنز بھی کہ انسان جس شے کو بھوت تصور کرتا ہے، وہ خود انسان کو بھوت سمجھتی ہے۔
جو گندر پال اردو کے کہنہ مشق ناول نگار اور افسا نہ نگار ہیں۔انھوں نے افسا نچے کو نہ صرف نام عطا کیا بلکہ اپنی کا وشوں سے مضبوط بنیاد یں بھی فراہم کیں۔جو گندر پال جب ادب میں دا خل ہو ئے تو نئی رو شنی سے معمور تھے۔ انگریزی کے استاد ہونے کے ساتھ ساتھ آپ نے غیر ممالک خصوصاً جنوبی افریقہ میں
خا صا وقت گذا را۔ ان کے افسا نے، ناول اور افسانچے ان کی با لیدہ نظر، نئی فکر اور فن پر مضبوط دسترس کے غماز ہیں۔۔انھوں نے’’ نہیں رحمن بابو‘‘ کے عنوان سے سینکڑوں افسانچے قلم بند کیے۔انہیں اردو افسا نچے کا سعادت حسن منٹو کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ان کے دو افسانچے ملا حظہ کریں:
کچا پن
’’ بابا، تم بڑے میٹھے ہو‘‘
’’ یہی تو میری مشکل ہے بیٹا۔ ابھی ذرا کچا اور کھٹا ہو تا تو جھاڑ سے جڑا رہتا‘‘
یہ دو سطر کا افسا نچہ اپنے اندر مکمل کہانی لیے ہو ئے ہے۔ یہ علا متی افسا نچہ ہے۔ میٹھا ہونا، کئی طرف اشا رے کررہا ہے ۔یعنی پھل بہت میٹھا ہے اور جب کوئی پھل زیا دہ میٹھا ہو تا ہے تو وہ یا تو خود بخود ٹوٹ کر شاخ سے الگ ہو جاتا ہے یا پھر زمانے کے ذریعہ توڑ لیا جاتا ہے۔ اس کے بر عکس کچے اور کھٹے پھل مضبوطی سے پیڑ سے جڑے ہو تے ہیں۔ اسے نہ صرف پیڑ کے اندرون سے غذا حاصل ہوتی رہتی ہے بلکہ پیڑ کے مالک اور محافظ اس کی خاطر مدارت بھی کرتے رہے ہیں۔ اس کا ہر طرح کا خیال رکھا جاتا ہے۔یہی معاملہ بزرگوں کا بھی ہے۔آج کل اولا دیں اپنے والدین کو گھر سے نکال دیتی ہیں۔ پو را افسا نچہ سماج پر ایک گہرا طنز ہے۔
بے درد
’’آخر اس کا درد تھم گیا،
اور درد تھمتے ہی اسے چین آ گیا،
لیکن نہ تھمتا تو بے چا رہ مرنے سے بچ جاتا۔‘‘
’بے درد‘ نام کا یہ افسا نچہ جو گندر پال کے عمیق ذہن کی فکری غو طہ زنی ہے۔ افسا نچے میں کون بے درد ہے۔ بے درد یعنی ظالم، وہ جس نے اس کے درد کا علاج کردیا۔ یعنی اسے مار ڈا لا،لیکن بظا ہر تو وہ اس کا ہمدرد ہے کہ اس سے اس کا درد، دیکھا نہ گیا اور اس نے اسے مار کر ہمیشہ کے لیے درد سے نجات دلا دی۔ قاری یہ طے نہیں کر پاتا ہے کہ اسے درد سے نجات دینے والا اس کا ہمدرد ہے یا بے درد ۔ اس میں ایک پہلو اور ہے۔بے درد، یعنی ایسا شخص جس کے پاس درد نہ ہو۔ یعنی وہ صا حب درد، اب بے درد ہو گیا۔اسے ہمیشگی کا سکون عطا ہو گیا ہے۔ آپ کسی ایسے مریض کا تصور کریں جو بری طرح زخمی ہو، جس کی سانسیں اکھڑ رہی ہوں۔دوا کا اثر نہ ہو رہا ہو اور اس کی یہ حالت طوا لت اختیار کر گئی ہو۔ پھر کیا ہو تا ہے۔ پھر ہر کوئی اس کے دکھ درد کو دیکھ کر اس کی موت کی تمنا کرتا ہے۔ بے درد ایسے ہی کسی مریض کی حا لت کا بہترین ترجمان ہے۔
جوگندر پال نے شعور کی رو تکنیک کا بھی استعمال کیا ہے۔ بلکہ یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ ان کے زیادہ تر افسانوں میں اس تکنیک کی ہلکی سی چھاپ ضرور ملتی ہے۔ پال اس تکنیک میں آزادانہ تلازمۂ خیال سے کام لیتے ہیں۔ اس زمرے میں ان کے افسانے دریاؤں پیاس، بے محاورہ، باز دید اور سواریاں آتے ہیں۔ دریاؤں پیاس ان کا اس زمرے کا بہترین افسانہ ہے جس میں انھوں نے دو نسلوں کے درمیان فرق کو واضح کیا ہے۔ نئی پرانی نسلوں کے بیچ جو Generation Gap ہوتا ہے، اس کی بہترین عکاسی اس کہانی میں موجود ہے۔ دراصل پال نے اس کہانی میں دکھایا ہے کہ نسلوں کے مابین اسی Gap سے سماج انتشار کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔
پال کے یہاں فکری اور فنّی تغیر آہستہ آہستہ آیا ہے اور کئی ایک کہانیوں میں یہ تغیر بلند آواز اختیار کرلیتا ہے۔ ان کے افسانوں کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے سے اندر اندر وابستہ نظر آتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے گویا ان کی تمام کہانیوں میں درد و کسک کی ایک لہر ہے جو کبھی اندر کبھی باہر اٹھتی، بیٹھتی رہتی ہے۔ وہ خود اپنی کہانیوں کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’میری مراد یہ نہیں کہ کہانی کار کے ارادے کو اپنی کہانی میں یکسر دخل نہیں ہوتا، ظاہر ہے کہ ساری بات تو وہی بناتا ہے مگر بات بنتی اُسی دم ہے جب وہ ارادے کو میک اپ کی طرح برتنے کی بجائے اسے کہانی کے تار و پود کا باطنی وسیلہ بنالے اور کہانی اپنے ہی عمل کی ٹوٹ پھوٹ سے بن بن کر اپنی فطری پہچان کے خطوط اختیار کرے۔‘‘ (پس لفظ۔ بے ارادہ)
پال کے گہرے مطالعے اور مشاہدے نے انہیں نہ صرف انسانیت کے درد وکرب کو محسوس کرنا سکھایا ہے بلکہ پال اسے کہانی میں ڈھالنے سے قبل اسے اوڑھتے، بچھاتے ہیں، اسے اپنے اندر اُتارتے ہیں پھر وہ خود کہانی بن جاتے ہیں۔ کسی کہانی کا ایک کردار بن جاتے ہیں اور اس طرح جو کہانی وجود میں آتی ہے وہ کہنے کو کہانی ہوتی ہے لیکن حقیقت ہوتی ہے، یہ پال کا کمال ہے۔
بیسویں صدی کے ساتھ ساتھ اُردو افسانے نے بھی ایک صدی پوری کرلی ہے۔ اس صدی کا جائزہ افسانے کے پس منظر میں لیا جائے تو میں کہنا چاہوں گا کہ بیسویں صدی نے ہمیں تحفہ میں جو چند افسانہ نگار عطا کیے ہیں ان میں جوگندر پال کا نام بھی شامل ہے۔پال صاحب اب ہمارے درمیان نہیں رہے،لیکن وہ اپنی تخلیقات کی شکل میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

Aslam Jamshedpuri, 
Head, Dept of Urdu, 
Choudhary Charan Singh University,
 Main Road, Meerut - 200005 (UP)


ماہنامہ اردو دنیا، جون2016


قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

راشد کی فکری اور فنی جہات اور نوآبادیاتی مضمرات مضمون نگار: ابو الکلام قاسمی



راشد کی فکری اور فنی جہات اور نوآبادیاتی مضمرات
ابو الکلام قاسمی

گذشتہ نصف صدی میں اردو شاعری کی ہیئتی تنقید کی افراط کے باوجود نئی یا پرانی شاعری کے بارے میں گفتگو، ڈکشن یا اسلوب سے شروع کی جائے یا پھر موضوع اور مضمون کا سرا پکڑکر شعری ڈکشن کے اسرار کی دریافت کی کوشش کی جائے، بات گھوم پھرکر پہنچتی ہے بہرحال موضوع کے انتخاب اور فکری مضمرات تک۔ ن.م.راشد اس اعتبار سے خوش نصیب شاعروں میں ہیں کہ ان کو ہیئت اور اسلوب کے مجدد کے طورپر بھی قبول کیا گیا اور جنسیت زدگی اور فراریت کے ابتدائی الزامات کے باوجود فکری اور موضوعاتی اعتبار سے انھیں ایک بالغ نظر بلکہ دانش ور شاعر کا مقام بھی دیا گیا۔ جس نے اپنی ذات اور نفسیات کی کامیاب عقدہ کشائی کے ساتھ گردوپیش کے معاشرتی اور بسااوقات عالمی سطح کے آفاقی مسائل سے بھی گہرا سروکار رکھا۔ انھوں نے بالعموم معاشرتی اور نیم سیاسی نوعیت کے مسائل تک کو جذبے اور احساس کی سطح پر لاکر اس حدتک غیرذاتی بنانے کی کوشش کی کہ ان میں ایک تعمیم کی کیفیت بھی پیدا ہوئی اور خود ان کے سیاسی اور معاشرتی موقف کی نشان دہی کوئی مشکل بات بھی نہ رہی۔
راشد کی شاعری کا دورِ عروج ترقی پسند تحریک کا بھی دورِ عروج تھا۔ اس لیے اس دور میں اگر اظہار کے نئے اسالیب کی تلاش اور قدرے ابہام آمیز لہجے کو تنقید کا ہدف بنایا گیا تو یہ کوئی حیرت کی بات نہ تھی۔ اس وقت بھی اگر وقتی رجحان کی تقلیدکے بجائے راشد کی نظموں کی ہمدردانہ تفہیم کی کوشش کی جاتی تو ان کی شاعری کی سماجی اور معاشرتی قدر وقیمت کی کماحقہ داد دی جاسکتی تھی۔ چوں کہ محض خطیبانہ لب و لہجہ، لفظوں کا اسرافِ بے جا اور اکہرا اسلوب بیان، راشد کے مزاج سے میل نہیں کھاتا تھا اس لیے ان کے بعض معاصر نقادوں نے بھی ان کے موضوعات کو جنسی رویے اور فراریت کا نام دینے کی کوشش کی اور ان کے ڈکشن کو ابہام زدہ قرار دے کر سنجیدہ مطالعے کا موضوع نہیں بنایا۔ بعد کے زمانے میں راشد سے متعلق دوسری نثری تحریروں کے سامنے آنے اور خود ان کے خطوط کی اشاعت کے نتیجے میں یہ حقیقت لوگوں سے مخفی نہیں رہی کہ راشد اپنی شروع کی نظموں میں ابہام کے غیرشعوری عمل دخل سے خود بھی عرصے تک اُلجھتے رہے اور اس وقت تک ان کی اُلجھن دور نہیں ہوئی جب تک ان کے نہایت باخبر اور دانش ور دوست آغاعبدالحمید کے خط سے یہ اطلاع نہ مل گئی کہ مغرب میں ایمپسن کے کتابچے ’ابہام کی سات قسمیں‘ کی اشاعت کے بعد اب ابہام کو علی العموم معتوب قرار نہیں دیا جاتا اور یہ کہ اگر ابہام ناگزیر طورپر تخلیقی عمل کی سریت کا زائیدہ ہے تو اس نوع کی شاعری کے معنوی امکانات میں مزید اضافہ ہوجاتاہے۔
اس ضمن میں شاید اس وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں کہ راشد کے لیے اپنی افتادطبع اور فکری سطح کے باعث اپنے ذاتی احساس اور تجربے کو تعمیمی بنانا اور اسے عام تجربے سے ہم آہنگ کرنا ایک بڑا مسئلہ تھا۔ اس پر مستزاد یہ کہ فارسی میں گہرا درک رکھنے کے باعث فارسی تراکیب کا استعمال اور اس کے ساتھ ہی ہنداسلامی تلمیحات اور کبھی کبھی دیومالا اور اساطیر کو اپنے بہتر اور بھرپور اظہار کا وسیلہ بنانے میں راشد یک گونہ اطمینان محسوس کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض نقادوں نے انھیں لسانی اور فکری اعتبار سے خواص پسند شاعر کا نام بھی دیا۔ ڈاکٹر آفتاب احمد نے ان کی اس صفت کا ذکر لسانی نقطۂ نظر سے کیا ہے جب کہ خلیل الرحمن اعظمی نے ان کو دانش ورانہ زاویۂ نظر کے باعث خواص پسند بتایاہے۔ ڈاکٹر آفتاب احمد نے لکھا کہ:
’’زبان کی دنیا میں وہ خواص پسند واقع ہواہے۔ لہٰذا اس کے انتخاب الفاظ کا دائرہ محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ اسے فقط وہی الفاظ خوش آتے ہیں جن کے رنگوں میں شوخی اور چمک دمک اور جن کی آوازوں میں گہرائی اور گونج پائی جاتی ہے۔‘‘
جب کہ خلیل الرحمن اعظمی کا خیال تھاکہ:
’’راشد اِن معنوں میں عوام کا نہیں بلکہ خواص کا شاعر ہے اور اس کی شاعری سے لطف اندوزی کے لیے بھی ایک دانش ورانہ مزاج کی ضرورت ہے۔‘‘
ظاہرہے کہ ان دونوں رایوں میں راشد کی حدود کا ذکر تو ضرور ملتاہے مگر ان کے سہارے راشد کی اسلوبیاتی اور موضوعاتی تفہیم کا سلسلہ بھی آگے بڑھایا جاسکتاہے۔ تاہم دیکھنے کی بات یہ ہے کہ موضوع اور ہیئت میں اس امتیازی طریق کار کے باعث راشد کی نظم گوئی نے اردو نظم کے اس وقت تک رائج لہجے کو کن تبدیلیوں سے آشنا کیا۔ اردو نظم کے صنفی ارتقا پر نظر رکھنے والوں سے یہ بات مخفی نہیں کہ اس وقت تک حالی اور آزاد کی تحریک نظم کے باوجود مغربی انداز کی نظم نگاری کے اسالیب اردو کو میسّر نہیں آسکے تھے۔ آزادنظم یا تو نظم کی ضمنی اصناف مثلاً رومانی، مدحیہ، مثنویانہ یا قطعاتی خانوں میں تقسیم کی جاسکتی تھی یا پھر موضوعاتی ارتقا کے طورپر جن نظموں کا چلن عام ہوسکا تھا وہ ماسوا اقبال کی نظم کے، غزل کے اسالیب اور لب ولہجے کی توسیع کے علاوہ اور کچھ نہ تھی۔ پھر یہ کہ جب نظم کی ہیئت کی مغربی معیاربندی اقبال تک کی نظموں میں پوری طرح روبہ عمل نہیں آسکی تھی تو دوسرے کسی شاعر سے اور کیا توقع وابستہ کی جاسکتی تھی۔ اس پوری صورت حال میں کفایت لفظی، تہہ داری اور خیال کے ارتقا کے صنفی شعور کے ساتھ سامنے آنے والی راشد کی نظمیں نہ صرف یہ کہ عام اردو نظموں سے مختلف تھیں، خود حلقۂ اربابِ ذوق کے نظم نگاروں سے بھی ممتازتھیں۔ راشد کی اس انفرادیت میں ان کی زبان کا آہنگ اور فارسی تراکیب کا دبدبہ بھی، جیساکہ ذکر کیا گیا، کوئی کم اہم رول ادا نہیں کرتا، جس کے باعث ان کے لہجے میں بلندآہنگی اور کسی حدتک اسلوبیاتی شکوہ کو بہ خوبی محسوس کیا جاسکتا تھا۔ تاہم اس حقیقت سے بھی انکار مشکل ہے کہ محض زبان اور اسلوب کے خارجی ڈھانچے نے ان کا آہنگ بلند نہیں کیا تھا۔ ان کی بلندآہنگی اور لہجے کی تہہ داری میں ان کی فکری سطح اور دانش ورانہ طمطراق کا کردار بھی کسی طرح کم نظر نہیں آتا۔
راشد کی شاعری کے وہ موضوعات، جو ان کے دانش ورانہ اندازِفکر کی تشکیل کرتے ہیں ان میں ممتاز حیثیت ان کی مشرقیت کو حاصل ہے۔ یوں تو بعض نقادوں نے ان کی مشرقیت کو علامہ اقبال کے تصور مشرق کے تسلسل کے طورپر دیکھنے کی کوشش کی ہے جس سے پوری طرح انکار تو نہیں کیا جاسکتا، مگر راشد کی فکر کے سیاق و سباق میں ان کی مشرقیت کے مضمرات اقبال کے ملّی اور تہذیبی حوالوں سے کہیں زیادہ دوررَس معلوم ہوتے ہیں۔ مشرقی قوموں پر مغرب کی سیاسی بالادستی اور اس نوآبادیاتی تناظر میں اگر اردو شاعروں کے فکری رویوں کا تعین کرنے کی کوشش کی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ بعض شرائط کے ساتھ اکبرالٰہ آبادی اور علامہ اقبال کے بعد ن.م.راشد کے علاوہ اردو کا کوئی اور نمائندہ شاعر ایسا نظر نہیں آتا جو نوآبادیاتی تسلط اور اس کے زیراثر پروان چڑھنے والی منفی فکر پر اپنے ردّعمل کا واضح اور غیرمبہم اظہار کا حوصلہ رکھتا ہو۔ اکبرالٰہ آبادی چوں کہ خطِ مستقیم کے شاعر ہیں اس لیے ان کے مابعد نوآبادیاتی نقطۂ نظر میں کوئی بڑی گہرائی نہیں تلاش کی جاسکتی۔ جب کہ اقبال کی مشرق پسندی زیادہ تر مذہبی، ملّی اور تہذیبی اعتبار سے اپنی معنویت قائم کرتی ہے۔ راشد چوں کہ ایک غیرمشروط ذہن کے بیدارمغز شاعر ہیں، اس لیے ان کی مشرقیت نہ تو محض تہذیب پسندی کا شاخسانہ ہے اور نہ مشرق کے حوالے سے اخلاقی روایت اور اقدار پرستی کا۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بیسویں صدی کے شعری افق پر روایت شکنی اور غیررجعت پسندانہ رویہ اختیار کرنے کے معاملے میں راشد اس حدتک آزاد ، روشن خیال اور خودکفیل ہیں کہ وہ اپنے پیروں سے دقیانوسیت کی ہرزنجیر کو کاٹ پھینکنے کے در پے رہتے ہیں... تو سوال یہ ہے کہ راشد کی مشرقیت کیاہے؟ اور ان کے یہاں کس مشرق کی بازیافت کی کوشش ملتی ہے؟ اس سوال کا جواب نہ تو تہذیبی حوالے سے دیا جاسکتا ہے نہ روایتی حوالے سے اور نہ مذہبی یا اخلاقی حوالے سے۔ ان کی ساری مشرق پسندی محکومیت کے شدیداحساس اور سیاسی یا معاشرتی کے ساتھ ذاتی آزادی کی زائیدہ ہے۔ اس نقطۂ نظر کے اظہار میں انھوں نے اپنی بیش تر نظموں میں کہیں مرکزی طورپر اور کہیں ضمنی انداز میں مشرق کی محکومی اور غلامی کو بالواسطہ اور بلاواسطہ انداز میں زیرِبحث لانے کی کوشش کی ہے۔ ایران میں اجنبی، میں شامل متعدد نظموں میں تو انھوں نے اس کرب کو نہایت موثر انداز میں اس طرح پیش کیاہے کہ عالمی سطح پر برتی جانے والی تفریق اور مغربی طاقتوں سے سراسیمہ مشرق کی پوری تصویر اُبھرکر سامنے آجاتی ہے۔ اس سلسلے میں پہلے ان کی مختلف نظموں کے بعض مصرعوں کو سامنے رکھا جائے تو ان کے رویے سے شناسائی ہوجاتی ہے:
عمرگزری ہے غلامی میں مری/ اس سے اب تک مری پرواز میں کوتاہی ہے/ (سپاہی)
شکر کر، اے جاں کہ میں/ ہوں درِافرنگ کا ادنیٰ غلام/ صدرِاعظم یعنی دریوزہ گر اعظم نہیں/ (شرابی)
بندگی سے اس درودیوار کی/ ہوچکی ہیں خواہشیں بے سوزورنگ و ناتواں/ (رقص)
اس روحِ شب گرد کا/ اک کنایہ ہے شاید/ یہ ہجرت گزینوں کا بکھرا ہوا قافلہ بھی/
جو دست ستمگر سے مغرب کی، مشرق کی پنہائیوں میں/ بھٹکتا ہوا پھررہا ہے/ (دست ستم گر)
تیرے بستر پہ مری جان کبھی/ آرزوئیں ترے سینے کے کہستانوں میں/ ظلم سہتے ہوئے حبشی کی طرح رینگتی ہیں/ (بیکراں رات کے سناٹے میں)
ان مثالوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ابتدا کی تین مثالوں کی طرح نوآبادیاتی حکمرانوں پر ان کے طنز کی کاٹ کتنی گہری ہوجاتی ہے جب کہ موخر الذکر دو نظموں کے مصرعوں میں ان کا لہجہ بہت سدھا سدھایا، تہہ دار اور علامتی طنز کی مثال پیش کرتاہے۔ تاہم راشد کی نظموں میں جو مابعد نوآبادیاتی رویہ دیکھنے کو ملتاہے اس کی منطق ایسی سیدھی سادی بھی نہیں کہ اسے تنقید کے کسی ایک فارمولے کا مصداق قرار دے دیا جائے۔ اس لیے کہ ان کی نظموں میں مشرق کا نمایاں ترین حوالہ تو یقیناًنوآبادیاتی ردّعمل کو سامنے لاتاہے مگر اس کے ساتھ ہی راشد کو مشرق میں جس نوع کا تہذیبی اضمحلال نظر آتاہے اسے وہ محض محکومی کا ہی نتیجہ نہیں قرار دیتے۔ وہ مشرقی لوگوں کے توہم پرستانہ ذہن، خوش عقیدگی اور فکری تجدد پسندی سے انکار کو بھی اس اضمحلال اور زوال کے اسباب میں شمار کرتے ہیں۔
راشد کے پہلے مجموعے ’ماورا‘ میں شامل نظم ’شاعر درماندہ‘ کو اس اعتبار سے اہمیت حاصل ہے مشرق و مغرب کی آویزش کے ابتدائی نشانات اسی نظم میں ملتے ہیں۔ جن میں محبوب کی عافیت کوشی کے مقابلے میں نظم کے واحدمتکلم کا سارا المیہ افرنگ کی دریوزہ گری اور محکومی کے لفظوں میں سمٹ آیاہے۔ اس نظم سے راشد کی اس ہنرمندی کا بھی پتہ چلتاہے کہ انھوں نے اپنے احساس اور تجربے کی تہہ داری اور پیچیدگی کو خودساختہ لفظی تراکیب کے وسیلے سے منتقل کرنے میں کیسی ریاضت کا ثبوت دیاہے۔ وہ اس نظم میں مشرق کی محکومیت کا سارا الزام محض افرنگ کی دریوزہ گری پر عائد کرکے کسی اکہرے یا مطلق فیصلے تک پہنچنے کے بجائے اپنے آباواجداد کی عافیت پسندی کو بھی نکبت و ادبار کا سبب قرار دیتے ہیں:
زندگی تیرے لیے بستر سنجاب و سمور/ اورمیرے لیے افرنگ کی دریوزہ گری/ عافیت کوشیِ آبا کے طفیل/ میں ہوں درماندہ و بے چارہ ادیب/ خستۂ فکر معاش/ پارۂ نان جویں کے لیے محتاج ہیں ہم/ میں، مرے دوست، مرے سیکڑوں اربابِ وطن/ یعنی افرنگ کے گلزاروں کے پھول/ 
ان مصرعوں میں تقابلی انداز کے ساتھ خود احتسابی اور طنز کی آمیزش نے راشد کے لہجے کو ان کے موقف سے پوری طرح ہم آہنگ کردیاہے۔ شاعر کی درماندگی کیوں کر اس کے وطن اور ارباب وطن کے ساتھ مربوط ہوکر نوآبادیاتی جبر کا ردّعمل بنی ہے اور کس طرح محبت ایک ایسی رفاقت کا مثالی تصور بن جاتی ہے جو دو اناؤں کے اتصال کے وسیلے سے جہاں سوزی اور صورت حال کی تبدیلی کی خواہش پر منتج ہوتی ہے۔ اس کا نہایت اثرانگیز اور فنی اظہار اس نقطۂ عروج کے ساتھ ہوتاہے:
تو مسرت ہے مری، تو مری بیداری ہے/ مجھے آغوش میں لے/ دو انا، مل کے جہاں سوز بنیں/ اور جس عہد کی ہے تجھ کو دعاؤں میں تلاش/ آپ ہی آپ ہویدا ہوجائے/
شاعر درماندہ، کے برخلاف راشد کی نظم ’انتقام‘ زیادہ شدت کے ساتھ غلامی کے احساس پر مرکوز ہے۔ اس سبب سے اس کے بعد مصرعوں میں راشد کا سا رکھ رکھاؤ برقرار نہیں رہ پاتا، تاہم نظم کے تمام مصرعے نظم کے بنیادی تصور کو آگے بڑھانے میں ناگزیر رول ادا کرتے ہیں۔ اس نظم میں یاد اور نسیان کو گڈمڈ کرکے تاریخی بتوں اور مجسّموں کے حوالے سے انتقام کی شدت کو نمایاں کیا گیاہے:
اجلی اجلی اونچی اونچی دیواروں پہ عکس/ ان فرنگی حاکموں کی یادگار/ جن کی تلواروں نے رکھا تھا یہاں/ سنگ بنیاد فرنگ/ (انتقام)
یوں تو قدرے برہنہ گفتاری کے باعث ’انتقام‘ کا مثبت اور منفی حوالہ کثرت سے آتا رہاہے۔ مگر موضوع کی مماثلت کے باوجود راشد کی نظم ’اجنبی عورت‘ زیادہ قرار واقعی نقطۂ نظر کو ظاہر کرتی ہے۔ ظاہر ہے کہ موقف کی غیرضروری وضاحت نے اس نظم میں اکہراپن ضرور پیدا کیا ہے مگر شاعر کے سماجی زاویۂ نظر کا اظہار ’اجنبی عورت‘ میں خاصے غیرمبہم انداز میں ہواہے۔ تاہم جو چیز اس نظم کو اظہار کی راست تکنیک کے باوجود ہمہ گیر بناتی ہے وہ اس نظم کا وہ دائرۂ کار ہے جو زیادہ وسیع ہے اور اس سے مترشح ہونے والا انسانی سروکار نسبتاً زیادہ ہمہ جہت اور پھیلا ہواہے:
ایشیا کے دورافتادہ شبستانوں میں بھی/ میرے خوابوں کا کوئی رومان نہیں/ کاش اک دیوار ظلم/ میرے، ان کے درمیان حائل نہ ہو.... ارض مشرق! ایک مبہم خوف سے لرزاں ہوں میں/ آج ہم کو جن تمناؤں کی حرمت کے سبب/ دشمنوں کا سامنا مغرب کے میدانوں میں ہے/ ان کا مشرق میں نشاں تک بھی نہیں/ (اجنبی عورت)
نوآبادیاتی پس منظر میں مشرق و مغرب کی آویزش کا معاملہ راشد کی نظموں میں محض تسلط یا محکوم قوموں کے لیے اپنے ماضیِ قریب کی نفی کے طورپر زیرِبحث نہیں آتا بلکہ اس سے بڑا یا ایک نوع کا آفاقی پس منظر تیار کرتا ہے۔ جس میں انسانوں کے مابین رنگ، نسل یا قومیت کی بنیاد پر تفریق قائم کرنے کی ذمے داری بھی نوآبادیاتی طریق کار پر عائد ہوتی ہے۔ اسی لیے ان کو یہ کہنے میں کوئی تکلف نہیں ہوتاکہ مشرقی اقوام کے درمیان تفریق تک کا احساس بھی مغرب کا ہی پیداکردہ ہے، اس طرح مغرب ہی اس تفریق کا بنیاد گزار ہے۔
اس ضمن میں اگر ’ایران میں اجنبی‘ میں بعض نظموں کو سامنے رکھا جائے تو پتہ چلتاہے کہ ایران کے حوالے سے مشرق و مغرب کی آویزش کے احساس میں شدت اور اس کا فن کارانہ اظہار نسبتاً زیادہ موثر طریقے پر ہواہے۔ ’زنجیر‘ اسی نوع کی ایک نظم ہے جس میں زنجیر کی علامت دراصل زنجیر کی جنبش، یا پابہ زنجیر آدمی کے عدم اطمینان یا باغیانہ ارتعاش کو نشان زد کرتی ہے:
گوشۂ زنجیر میں/ اک نئی جنبش ہویدا ہوچلی/ سنگ خارا ہی سہی، خار مغیلاں ہی سہی/ دشمن جاں دشمن جاں ہی سہی/ ...ہرجگہ پھر سینۂ نخچیر میں/ اک نیا ارماں، نئی امید پیدا ہوچلی/
راشد کی تکنیک کی یہ خصوصیت ان کی متعدد نظموں میں نشان زد کی جاسکتی ہے کہ اگر وہ بعض الفاظ یا علامات کو نظم کے آغاز میں ابہام زدہ انداز میں سامنے لاتے ہیں تو اس کی کمک یا تفہیم کی خاطر کوئی نہ کوئی معاون لفظ یا فقرہ نظم کے آخری مصرعوں تک کہیں نہ کہیں ضرور سامنے آجاتاہے۔ اس نظم میں بھی گوشۂ زنجیر کی جنبش لازمی طورپر زنجیر کے توڑنے کا اشارہ تو نہیں معلوم ہوتا مگر آخری مصرعوں میں جب زنجیر کی گرہ کھلتی ہے تو یہ فقرے پوری نظم کو زیادہ بلندپایہ اور روشن بنا دیتے ہیں:
شکر ہے دنبالۂ زنجیر میں/ ایک نئی جنبش، نئی لرز ش ہویدا ہوچلی/ پردۂ شب گیر میں اپنے سلاسل توڑکر/ چار سو پھیلے ہوئے ظلمات کو اب چیر جاؤ/ اور اس ہنگام بادآور کو/ حیلۂ شب خوں بناؤ۔
اس نظم کے مرکزی موضوع کو زیادہ مستحکم اور فنی طورپر اثرانگیز بنانے کی خاطر راشد نے ریشم کے کیڑے کی علامت کا استعمال بھی کیاہے۔ اس کیڑے کا حبس، اس کا اپنے بنائے ہوئے خول میں محبوس ہوجانا، اس کے لعاب سے ریشم کے تارہائے سیم وزر کا بنایا جانا اور اس کے استعمال سے خود مشرق اور اقوام مشرق کا محروم رہنا، ساری چیزیں اس مرکب علامت کے دائرۂ کار میں شامل ہوجاتی ہیں اور محکومی، حبس اور استحصال کے احساس کو زنجیر کی علامت کے متوازی کے طورپر شدت سے دوچار کردیتی ہیں:
حجلۂ سیمیں سے تو بھی پیلۂ ریشم نکل/ وہ حسیں اور دورافتادہ فرنگی عورتیں/ تو نے جن کے حسن روزافزوں کی زینت کے لیے/ سالہا بے دست و پا ہوکر بُنے ہیں تارہائے سیم و زر/ ان کے مردوں کے لیے بھی، آج اک سنگین جال/ ہوسکے تو اپنے پیکر سے نکال۔ (زنجیر)
اس موضوع کے اظہار کی مزید فن کارانہ اور واضح صورت ’ایران میں اجنبی‘ میں ہی شامل نظم ’من و سلویٰ‘ سے سامنے آتی ہے جو ایران کے المیے سے شروع ہوکر بالآخر نوآبادیاتی جبر و تسلط کے حوالے سے ہندوستان سمیت علی الاطلاق سارے مشرق کو اپنا موضوع بنالیتی ہے۔ یہ طویل نظم جس کے ابتدائی مصرعے ہی موضوع کی عالم گیریت کا احساس دلا دیتے ہیں کچھ اس طرح ہیں:
خدائے برتر/ یہ دارپوشِ بزرگ کی سرز میں/ یہ نوشیروانِ عادل کی دادگاہیں/ تصوف و حکمت و ادب کے نگارخانے/ یہ کیوں سیہ پوش دشمنوں کے وجود سے/ آج پھر اُبلتے ہوئے سے ناسور بن رہے ہیں/ یہ شہر اپنا وطن نہیں ہے/ مگر فرنگی کی رہزنی نے/ اسی سے ناچار ہم کو وابستہ کردیا ہے/ ہم اس کی تہذیب کی بلندی کی چھپکلی بن کے رہ گئے ہیں/ 
ان مصرعوں میں دشمنوں کی سیہ پوشی، ابلتے ہوئے ناسور اور تہذیب کی بلندی کی چھپکلی، جیسے طنزیہ اور علامتی پیکر تہذیب اور روایت کی پامالی کے حوالے سے بھی نوآبادیاتی صورت حال کا نقشہ کھینچتے ہیں اور پورے ارض مشرق کے عمومی اور یکساں مسائل کا کرب ناک اظہار بھی بن جاتے ہیں جن کا سبب راشد کے مابعدنوآبادیاتی ردّعمل کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اس نظم میں محکوم قوموں اور افراد میں نوآبادیاتی حکمرانوں کی لَے میں لَے ملانے والوں کو بھی زیرِبحث لایا گیاہے (مرے بہت سے رفیق/ اپنی اداس، بیکار زندگی کے/ دراز و تاریک فاصلوں میں/ کبھی کبھی بھیڑیوں کی مانند/ آنکلتے ہیں) اور حکمرانوں کی بخشش کے طفیل ان کے غالب نقطۂ نظر کو پیش کرنے میں یہ تک محسوس نہیں کرتے کہ وہ کیوں کر اپنے ماضی اپنے وطن اور اپنی تہذیب کی نفی کا ارتکاب کررہے ہیں (اس آرزو میں/ کہ ان کی بخشش سے/ پارۂ نان، من و سلویٰ کا روپ بھرلے/
یہ نظم اپنے اختتام تک پہنچتے پہنچتے ایک مکمل المیہ بن جاتی ہے جو ظاہر ہے کہ راشد کے قائم کردہ بڑے سیاق و سباق کے طفیل پورے مشرق کا المیہ ہے جس میں دنیا کی کثیر محکوم آبادی کو شامل محسوس کیا جاسکتا ہے:
یہ سنگدل اپنی بزدلی سے/ فرنگیوں کی محبت ناروا کی زنجیر میں بندھے ہیں/ انہی کے دم سے یہ شہر اُبلتا ہوا سا ناسور بن رہاہے/ محبت ناروا نہیں ہے، بس ایک زنجیر/ ایک ہی آ ہنی کمند عظیم/ پھیلی ہوئی ہے/ مشرق کے اک کنارے سے دوسرے تک/ مرے وطن سے ترے وطن تک/ بس ایک ہی تار عنکبوت کاجال ہے کہ جس میں/ ہم ایشیائی اسیر ہوکر تڑپ رہے ہیں/بس ایک ہی درد لا دوا میں/ اور اپنے آلام جاں گزا کے/ اس اشتراکِ گراں بہانے بھی/ ہم کو ایک دوسرے سے/ قریب ہونے نہیں دیاہے۔ (من و سلویٰ)
کم و بیش اسی شدت اور تواتر کے ساتھ راشد کی نظموں ’تیل کے سوداگر‘ اور ’طلسم ازل‘ میں راشد نے نوآبادیاتی طریق کار اور طرزفکر پر اپنے ردّعمل کا شاعرانہ، اکثر تہہ دار اور کبھی کبھی شدید طنزیہ انداز میں اظہار کیاہے اور اس طرح اپنی شاعری کے غالب حصے میں نوآبادیاتی مضمرات کی نقاب کشائی کی ہے۔

Abul Kalam Qasmi, Professor, Dept. of Urdu, 
Aligarh Muslim University
Aligarh - 202002 (UP)




ماہنامہ اردو دنیا، جون2016




قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

امیر خسرو کی موسیقی اور شاعری مضمون نگار: جعفر دانش


امیر خسرو کی موسیقی اور شاعری
جعفر دانش


انسانی تہذیب و تمدن کی تاریخ میں سیکڑوں نام ایسے افراد کے ملیں گے جنھوں نے اپنی ذاتی قابلیت کی مدد سے اپنا نام ہمیشہ کے لیے جریدۂ عالم پر ثبت کردیا۔ ایسے لوگوں کی مقبولیت کے اسباب کا تجزیہ کوئی آسان کام نہیں۔ یہ لوگ اپنے جذبۂ ایجاد کے بل پر اپنے ہم عصر انسانوں پر ہی نہیں بلکہ ہر زمانے کے آدمیوں پر فوقیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ انگریزی کی ایک مثال ہے 
"Jack of All trades master of none" یعنی تنوع کمال کا منافی ہے‘‘۔لیکن یہ مثال اوسط درجے کی قابلیت رکھنے والوں پر صادق آتی ہے۔ صدیوں میں افلاک کی گردشِ دوام سے کوئی نہ کوئی جامع شخصیت پیدا ہوہی جاتی ہے جو اس عام قاعدے سے بالا تر ہوتی ہے۔ ایسے ہی خوش قسمت لوگوں میں سے ایک حضرت امیر خسرو بھی ہیں۔
حضرت امیر خسرو کے قبیلے کا نام ’ہزارۂ لاچیں‘ تھا۔ یہ قبیلہ ہنگامہ چنگیزی کے زمانے میں ’ماوراء النہر‘ سے ہجرت کرکے تیرھویں صدی عیسوی میں ہندوستان میں آکر مقیم ہوگیا۔ حضرت امیر خسرو کے والد کا نام ’امیر سیف الدین محمود‘ تھا جو بہت بڑے جنگجو تھے۔ اُس زمانے میں دہلی کے تخت پر شمس الدین التمش متمکن تھا جسے بہادر سپاہیوں کی ضرورت تھی۔تو امیر سیف الدین نے مع اپنے ساتھیوں کے بادشاہ کی ملازمت اختیار کرلی اور دہلی کے قریب ہی اک مقام پٹیالی میں مقیم ہوگئے۔ ہندوستان میں آنے کے بعد امیر سیف الدین نے عماد الملک کی بیٹی سے شادی کرلی اور اس شادی سے امیر خسرو پٹیالی میں پیدا ہوئے۔ ابھی اس ہونہار لڑکے کی عمر آٹھ سال ہی تھی کہ والد کا سایہ سر سے اُٹھ گیا۔ نانا عماد الملک ان کے سرپرست بنے۔ نانا کی نگرانی میں خسرو نے اُس زمانے کے تمام علوم و فنون میں دسترس حاصل کی۔
خسرو کا شمار عام طورپر شعرا کی صف میں ہوتا ہے۔ لیکن صرف وہ شاعر نہ تھے بلکہ کئی علوم و فنون میں یکتائے روزگار تھے۔ ایسے ہی فنِ موسیقی میں انھیں اس قدر مہارت حاصل تھی کہ اُس زمانے کے اُستاد بھی انھیں اپنا استاد مانتے تھے۔ موسیقی اور شاعری کا ہمیشہ ساتھ رہا ہے تاہم یہ ضروری نہیں کہ ہر شاعر موسیقی داں بھی ہو۔
میں اپنے اس مضمون میں خسرو کی شاعری اور موسیقی پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔ خسرو اپنے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’اس کمسنی میں بھی جب میرے دودھ کے دانت ٹوٹ رہے تھے اشعار میرے منہ سے موتیوں کی طرح جھڑتے تھے۔‘‘ شاعری میں خسرو کا کوئی استاد نہیں تھا۔ انھوں نے استادی شاگردی کے قدیم سلسلے کا خود کو پابند نہیں کیا۔ برخلاف اس کے فنِ شعر میں مہارت حاصل کرنے کے لیے مشہور اساتذہ کے کلام کا ہمیشہ مطالعہ کرتے تھے۔ انہی استادوں کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کے سبب امیر خسرو کے کلام میں ان سب کا رنگ نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔ امیر خسرو کا زیادہ تر کلام فارسی زبان میں ہے لیکن انھیں ترکی ، عربی، ہندی، سنسکرت اور ہندوستان کی اور کئی زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا۔ سوائے شیخ سعدی کے (جو فارسی کے بہت بڑے شاعر تھے) اور کوئی فارسی شاعر ایسا نہیں گزرا جو خسرو کی طرح عوام میں مقبول ہو۔ ایران کے بڑے بڑے شعرا جوہندوستان کے کسی بھی شاعر کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ یہاں تک کہ غالب کو بھی جنھیں اپنے فارسی کلام پر بہت ناز تھا۔ خسر و کی منفرد ذات ہے جن کے شاعرانہ کمالات کا لوہا ایران کے ہر دور کے شاعروں نے مانا ہے۔ اور انھیں’ طوطئ ہند‘کے خطاب سے بھی نوازا ہے۔ خسروخود اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ’’ میرے منہ سے اشعار اتنی جلدی نکلتے تھے کہ قلم میرا ساتھ نہیں دے سکتاتھا‘‘ خسرو کی غزلوں میں سوزو گداز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خسرو کا زمانے سے اب تک قوالی کی محفلوں میں قوال زیادہ تر خسرو کے کلام گاتے ہیں۔ جہانگیر بادشاہ نے اپنے روز نامچہ میں لکھا ہے کہ اس کے عہد کے مشہور ملاعلی احمد نے ایک دفعہ قوالوں کو خسرو کا یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا:
ہر قوم راست راہی دینی و قبلہ گاہی
ما قبلہ راست کردیم برطرف کج کلا ہی
اور اُن پر ایسا اثر ہوا کہ وہ فوراً گرکر مرگئے۔ خسرو چونکہ خود موسیقی دان بھی تھے اس لیے وہ اپنی غزلوں کی بحریں اور الفاظ ایسے تلاش کرتے تھے جن کا تعلق موسیقی سے ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلوں میں ایک خاص روانی اور ترنم ہے۔
عوام الناس میں جو شہرت انھیں حاصل ہے وہ یاتو حضرت نظام الدین کے شاگرد کی حیثیت سے یا پھر ان کے ہندی کلام کی وجہ سے۔ اُس دور میں فارسی ہندوستان کی سرکاری زبان تھی اور ہندی ابھی ابتدائی دور سے گزر رہی تھی۔ اسی وجہ سے امیر خسرو نے اپنے ہندی کلام کو کبھی جمع نہیں کیا بلکہ دوستوں میں تقسیم کردیا۔ ان کے ہندی کلام سے جو کچھ ہم تک پہنچا ہے وہ یا تو بعض شوقیون کی بیاضوں کی بدولت یا زبانی روایت کے ذریعے ۔ ان کے کلام میں دو زبانوں یعنی فارسی اور ہندی کی آمیزش بھی پائی جاتی ہے۔ جیسے:
اری اری ہمہ بیاری اری
ماری ماری برہ کہ ماری اری
امیر خسرو کے دو ایسے دوھے جو عوام الناس میں انھیں مقبول کیے ہوئے ہیں وہ درجِ ذیل ہیں
خسرو رین سہاگ کی جاگی پی کے سنگ
تن میرومن پیو کو دودھؤ اک رنگ
گوری سوئے سیج پر اور مکھ پر ڈارے کیس
چل خسرو گھر آپنے رین بھی چودیس 
خسرو کی علمِ موسیقی میں مہارت کے متعلق کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ کیوں کہ اپنی تصانیف میں خود خسرو نے اس کا ذکر نمایاں طور پر کیا ہے۔خسرو نے علمِ موسیقی میں ایسا کمال حاصل کیا تھا کہ انھیں ’نائک‘ کا لقب بھی ملا تھا۔ ایک قدیم سنسکرت کتاب ’مانک سوہل‘ جس کا فارسی میں ترجمہ اورنگ زیب کے زمانے میں ایک ’امیر فقیر اللہ‘ نامی شخص نے کیا تھا اور اس کا نام راگ درپن رکھا تھا۔ اس کتاب میں لکھا ہے کہ خسرو کے زمانے میں ایک جگت استاد نائک گوپال تھا جن کو نیچا دکھا کر خسرو نے نائک کا لقب حاصل کیا تھا۔ اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ خسرو اپنے ساتھیوں کے ساتھ بادشاہ کے تخت کے نیچے چھپ کے بیٹھ کر گانا سنا کرتے تھے۔ جب خسرو کو گانے کی فرمائش ہوتی وہ وہی گانے جو نائک گوپال سے سنا کرتے تھے گادیتے تھے۔ راگ درپن کی یہ روایت زیادہ قابلِ اعتماد نہیں ہوسکتی بلکہ کسی کی من گھڑت معلوم ہوتی ہے۔ بادشاہ کے تخت کے نیچے چھپ کر بیٹھنا اور وہ بھی تنہا نہیں بلکہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک عجیب مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں خسرو کے زمانے کے کسی مورخ نے یا خود انھوں نے اس واقعہ کا ذکر نہیں کیا نہ ان کے زمانے کے کسی موسیقی داں کا نام نائک گوپال کہیں مذکور ہے۔ برخلاف اس کے اکبر کے عہد میں اس نام کے ایک استاد کا پتہ چلتا ہے۔ کچھ عجب نہیں کہ ’مانک سوہل‘ یا راگ درپن میں غلطی سے اسی ناٹک گوپال کو خسرو کا ہم عصر فرض کرلیا گیا ہو۔
خسرو کو موسیقی میں ایرانی اور ہندوستانی دونوں اصولوں میں مہارت حاصل تھی۔ فارسی راگ راگنیوں کے نام بکثرت اُن کی تصانیف میں موجود ہیں اور متعد جگہ ہندی راگوں کے بھی نام پائے جاتے ہیں۔ اب سوال پید اہوتاہے کہ خسرو نے ہندوستانی موسیقی میں کس حد تک تصرف کیا اور کیا نئی چیزیں پیدا کیں۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ مشہور ہندوستانی ساز ستار کے موجد وہی تھے۔ یہ روایت اس لحاظ سے قرین قیاس بھی معلوم ہوتی ہے کہ خسرو کا زمانہ ہندوستانی اور ایرانی تہذیب کے باہمی اختلاط کا زمانہ تھا۔ ’ستار‘ وینا اور طنبور کے اصول اور ساخت کی ترکیب سے بنا ہے۔ وینا جو ہندوستانی ساز اور طنبور ایرانی ساز ہے تو اسی وجہ سے ستار کی ایجاد کا سہرا امیر خسرو کے سربندھا۔ لیکن اس کے ساتھ یہ روایت اس بنا پر کمزور بھی سمجھی جاسکتی ہے کہ امیر خسرو نے اس نام کے ساز کا ذکر کہیں نہیں کیا۔ جبکہ موسیقی کے دوسرے آلات کے نام اور اپنی تصنیف میں بیان کیے ہیں۔ 
ہندوستانی موسیقی میں امیر خسرو نے ایک ایسا انقلاب پید اکردیا تھا کہ وہ ایک نئے مسلک کے بانی سمجھے جاتے تھے۔ واجد علی شاہ اپنی کتاب صورت المبارک میں فرماتے ہیں خسرو نے ہندوستانی موسیقی میں ایک بڑا تغیر پیدا کرکے ایک نئے اسکول کی بنا قائم کی تھی۔ موسیقی کے ہزاروں سال کے پرانے اصول میں ترمیم و اصلاح کرکے اسے جدت بخشی تھی۔ صورت المبارک میں خسرو کی کچھ ایجادوں کی تفصیل دی گئی ہے۔ اسی تفصیل کو میں بھی یہاں درج کرتا ہوں۔ ترانہ، چھند، قول، پربند، گیت قلبانہ، نقش اور نگار خسرو کی ایجاد کردہ ہیں۔ کہتے ہیں چھوٹا خیال کے بھی وہی موجد تھے۔ راگ درپن کی روسے انھوں نے کچھ نئے راگوں اور تالوں کے بھی موجد تھے جو ذیل میں درج ہیں۔
راگوں میں
مجیر : یہ راگ غارا اور فارسی راگ سے مرکب ہے۔
ساز گوری :پوربی، گورا، کنگلی اور ایک فارسی راگ سے مرکب ہے۔
ایمن:ہنڈول اور بنیٹر میز سے مل کر بنا ہے۔
موافق:توڑی ، مالوی، دودگاہ وحسینی
عشاق :سارنگ اور بسنت اور نوا
زیلف:کھٹ راگ میں شہناز کو ملایا ہے
سرپردہ :سارنگ، بلاول، اور راست سے مرکب ہے
فرودست :کانہڑا، گوری، پوربی اور ایک فارسی راگ
فرغنہ :کنگلی اور گورا میں فرغانہ ملایا ہے
باخرز :دیسکار میں ایک فارسی راگ ملایا ہے۔
تالوں میں جھمرا، تریتال ، آڑا چار تا ل،پستو، سول فانک امیر خسرو کی ایجاد کردہ ہیں۔
امیر خسرو کی بات جہاں آتی ہے وہیں ان کے پیر و مرشد حضرت نظام الدین اولیاء کا ذکر ناگزیر ہوجاتا ہے۔ اس زمانے کے مشہور مورخ برنی کے بیان کے مطابق حضرت نظام الدین کا روحانی اثر بہت وسیع تھا۔ سبھی طبقے کے لوگ آپ کے ارادت مند تھے۔ یہاں تک بادشاہ بھی اپنی پریشانیوں کے وقت آپ کی خانقاہ میں حاضری دیتے تھے۔ خسرو بھی ان خوش قسمت لوگوں میں سے تھے ۔ جو حضرت نظام الدین کی بزرگی کے معترف اور ان کے فیضِ صحبت سے بہرہ مند تھے۔ حضرت نظام الدین خسرو کو بے حد عزیز رکھتے تھے۔ ایک روایت کے مطابق آپ فرماتے ہیں کہ ایک قبر میں دو آدمیوں کو دفن کی اجازت ہوتی تو میں چاہتا خسرو کو میرے ساتھ دفن کیا جائے۔ حضرت نظام الدین اولیا کے اقوال کو جمع کرکے خسرو نے ایک رسالہ ترتیب دیا تھا جس کا نام افضل الفواید ہے۔حضرت نظام الدین اولیاء کا جب انتقال ہوا اس وقت خسرو شاہی لشکر کے ساتھ جنگی مہم پر گئے تھے۔ جب دہلی میں آئے تو یہ اندوہناک خبر سن کر رنج و غم سے وارفتہ ہوگئے، کپڑے پھاڑ ڈالے اور منہ پر کالک مل کر ان کی قبر کی زیارت کو پہنچے وہاں آپ نے یہ دوھاپڑھا اور بے ہوش ہوکر گرگئے کہ
گوری سوئے سیج پر اور مکھ پر ڈارے کیس
چل خسرو گھر آپنے رین بھئی چودیس
اپنے پیر و مرشد کے انتقال کے بعد خسرو زیادہ عرصے تک زندہ نہیں رہے۔طبیعت افسردہ ہوچکی تھی۔ چنانچہ 18 شوال 725ھ کو وہ بھی اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوگئے۔ خسرو کو حضرت نظام الدین اولیا کی قبر کی پائنتی میں دفن کیا گیا۔


Jafar Danish,
 Hosain Nagar, Via: Madhab Nagar
, Post: Haldidihi, Distt.: Bhadrak, Odissa - 756181
 (Odissa) Mob.: 9438320786
Email.jafardanish.jd@gmail.com


ماہنامہ اردو دنیا، جون2016




قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے