پیر، 19 جون، 2017

مونوگراف شفیق جونپوری



کتاب کا نام:  شفیق جونپوری(پیپر بیک)
مبصر:   ڈاکٹر جسیم الدین

شفیق جونپوری کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے، جنھوں نے اردو شاعری کی آبرو بڑھائی ہے، وہ اپنے کلام کی خوبیوں کے لیے مشہور ہیں، جس نے بھی ان کا کلام ایک بار پڑھ لیا، اس کے دل میں آپ کے لیے جگہ پیدا ہوگئی۔ شفیق جونپوری غزل ونظم پر یکساں قدرت رکھتے تھے۔ ان کےتغزل میں جہاں گدگدی ہے، وہیں ان کی نظموں میں جوش وجذبہ، اخلاق ومروّت، ملت کا درد اور وطن کی محبت موجزن ہے۔ الفاظ کے برمحل استعمال اور مصرعوں کے دروبست کا توازن آپ کی شاعری کی خصوصیات ہیں۔ وہ خیال کو اس خوبی سے پیش کرتے ہیں کہ لفظ ومعنیٰ کا باہمی ربط شیر وشکر ہوجاتا ہے۔ شفیق جونپوری کی شاعری میں غمِ محبت ضرور ہے، لیکن یاس وناامیدی نہیں ہے، طلب اورمسلسل طلب وجستجو ان کی شاعری کے بنیادی عناصر ہیں۔ آپ کی شاعری جہاں سوئے ہوئے لوگوں کو جگاتی ہے، وہیں تھکے ہارے لوگوں کو نشاط وآسودگی بھی فراہم کرتی ہے۔ ظاہر ہے کہ شاعری میں جس شخص کا قد وقامت اتنا بلند ہو، ان سے آنے والی نسلوں کو روشناس کرانا بھی ازحد ضروری ہے۔
 اردوزبان وادب کی ترویج واشاعت میں سرگرم قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے اہم مقاصد میں شامل ہے کہ نابغٔہ زمانہ ادبا، شعرا اورقدآور شخصیات کے مونوگراف تیار کرائے جائیں تاکہ آنے والی نسل اپنے بزرگ شعرا وقابل قدر شخصیات سے آشنا رہے، مونوگراف چوں کہ اختصار کے ساتھ جامعیت بھی رکھتا ہے، اس لیے مصنف کے لیے یہ کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتا، محدود صفحات میں اس طرح کوائف بیان کیے جائیں کہ شخصیت اور کارنامے دونوں سے بھرپور آگہی حاصل ہو مونوگراف کا مقصد ہوتا ہے۔ کونسل کے معزز ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم اس کام کے لیے قابل مبارکباد ہیں کہ انھوں نے شفیق جونپوری کا مونوگراف تیار کرنے کے لیے ایسی شخصیت کا انتخاب کیا جو کہ حسن انتخاب کا پرتو ہے۔ بلاشبہ ڈاکٹر تابش مہدی خود ہی قادرالکلام شاعر ہونے کے ساتھ عمدہ نثر نگار بھی ہیں، ان کی شاعری جہاں مقبول عام ہے، وہیں ان کی نثر نگاری بھی سحر انگیز ہے۔ آپ نے مقدمہ میں لکھا ہے:

’’شفیق جونپوری سے ہمیشہ عقیدت ومحبت رہی، میں نے شفیق جونپوری سے بہت کچھ سیکھا ہے، آج بھی ان کی شاعری کا بڑا حصہ میرے حافظے کی زینت ہے۔ شفیق جونپوری ہماری اردو تاریخ کے ان عظیم لوگوں میں ہیں جنھوں نے پرورشِ لوح وقلم بھی کی ہے اور نئی نسل کی ذہنی وفکری تربیت میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، ایسے شعرا کے حالاتِ زندگی اور افکار وخیالات سے نئی نسل کو متعارف کرانا قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان جیسے عظیم ادارے کا قومی ولسانی فریضہ ہےیہ خوش آئند بات ہے کہ کونسل اس فریضہ کو بہ حسن وخوبی ادا کررہی ہے۔‘‘

 ڈاکٹر تابش مہدی نے نہایت جامعیت کے ساتھ اختصار کو ملحوظ رکھتے ہوئے شفیق جونپوری کی شخصیت اور شاعری جوکہ ایک بحر بے کراں ہے، اس کو کوزے میں بند کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

مونوگراف میں مقدمہ کے بعد شفیق جونپوری کی شخصیت وسوانح، شفیق جونپوری کا نظریۂ شعر وادب، آج کا شعری وتنقیدی رویہ اور شفیق جونپوری اور اخیر میں ان کے نمونۂ کلام کو پیش کیا ہے۔ یقینا یہ مونوگراف ایک قابل قدر کاوش ہے، جس کے لیے جہاں کونسل کے سرگرم وفعال ڈائرکٹر پروفیسر ارتضیٰ کریم قابل مبارکباد ہیں، وہیں اس کے مصنف ڈاکٹر تابش مہدی بھی شکریہ کے مستحق ہیں کہ انھوں نے جامعیت کے ساتھ شفیق جونپوری کی شخصیت اور ان کی شاعری سے آشنائی کے لیے قارئین کو گراں قدر ادبی سرمایہ پیش کیا ہے۔ توقع ہے کہ اس ادبی شہ پارے کی علمی وادبی حلقوں میں پذیرائی ہوگی۔


بدھ، 7 جون، 2017

اردو صحافت کے دو سو سال (حصّہ اوّل و دوم)

























اردو صحافت کے دو سو سال (حصّہ اوّل و دوم)

مبصر: حقانی القاسمی

موجودہ دور میں ابلاغیات کو موضوعی مرکزیت کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ پہلے سماجی نظام کی ترتیب و تشکیل میں ابلاغیات کا ایک اہم کردار ہوا کرتا تھا۔ اب اقتداری نظام کے استحکام میں اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ماضی میں صحافت/ابلاغیات کی زریں تاریخ رہی ہے۔ برطانوی استعماریت کے خلاف صحافت نے جو جدوجہد کی وہ ہماری تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔عمل اور ردعمل کی صحافت کے بہت سے نقوش ہمارے ذہنی نقشے پر محفوظ ہیں۔ قومی اردو کونسل نے صحافت کے تاریخی تسلسل کو ذہن میں نقش کرنے اور صحافت کے وسیع تر کردار سے روشنا س کرانے کے لیے مختلف شہروں میں جشن صحافت کا انعقاد کیا۔اس کے علاوہ ’اردو صحافت کے دو سو سال‘ کے عنوان سے 5تا 7 فروری 2016عالمی سمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں صحافت سے جڑے ہوئے دانشوروں نے پرمغز اور خیال افروز مقالے پیش کیے۔ یہ کتاب انھی مقالات کا مجموعہ ہے۔

دو جلدوں پر محیط اور گیارہ ابواب میں منقسم یہ اردو صحافت کی مکمل کتاب نہیں ہے مگر صحافت کی بیشتر جہتوں کے احاطے میں کامیاب ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا گوشہ ہو جو تشنہ رہ گیا ہو۔ اس اعتبار سے اردو صحافت کے باب میں اس کتاب کی حیثیت دستاویزی ہوجاتی ہے۔ یہ ماضی میں صحافت پر کی گئی تحقیق کی صرف توسیع نہیں بلکہ اردو صحافت کو نئے موضوعات اور عنوانات سے بھی روشناس کرانے والی کتاب ہے کیوں کہ اس میں جدید عہد کے بہت سے ایسے مسائل پر گفتگو کی گئی ہے جن پر ماضی میں گفتگو ممکن نہیں تھی۔ پہلا باب ’اردو صحافت: آغاز و ارتقا‘ ہے جس میں ڈاکٹر محمد نصیرالدین، شیخ منظور احمد، ملک محمد کامران یونس، عبدالسلام عاصم، تاشیانہ شامتالی، ڈاکٹر محی الدین زور کاشمیری کے مقالے شامل ہیں۔

 ان تمام مضامین میں اردو صحافت کے آغاز و ارتقا اور انیسویں اور بیسویں صدی کے اخبارات اور رسائل کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے اور جنگ آزادی میں اردو صحافت کے مزاحمتی کردار و باغیانہ مزاج پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

دوسرے باب میں عالمی تناظر میں اردوصحافت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس میں نصرملک، ڈاکٹر محمد غلام ربانی، ڈاکٹر علی عادل علی محمد کی تحریریں شامل ہیں۔ نصر ملک نے پاکستان میں اردو صحافت کا سرسری جائزہ لیتے ہوئے وہاں کی صحافت کی بدلتی ترجیحات اور منفی رخ کو نشانہ بنایا ہے۔ ڈاکٹر محمد غلام ربانی نے بنگلہ دیش کی اردو صحافت کے ماضی اور حال پر روشنی ڈالی ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ بنگلہ دیش سے انیسویں صدی تک اردو کا کوئی اخبار شائع نہیں ہوا تھا۔ ڈھاکہ سے پہلا شائع ہونے والا ماہنامہ ’المشرق ‘ ہے، جس کے مدیر حکیم حبیب الرحمن تھے۔ انہی کا دوسرا اخبار ’جادو‘ تھا۔ اس کے علاوہ انھوں نے ماہنامہ :اختر، سہ روزہ :مشرقی پاکستان، روزنامہ :پاسبان‘ ماہنامہ :خاور، ندیم، ستارہ اور موجودہ دور میں خیال، پیغام، ادب وغیرہ کا ذکر کیا ہے۔ اس مضمون سے پتہ چلتا ہے کہ بنگلہ دیش میں بھی اردو صحافت کا افق تابناک رہا ہے۔ علی عادل علی محمد نے ماریشس میں اردو صحافت کا جائزہ لیتے ہوئے اردو منظرنامے پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ ان کے مطابق ماریشس سے نکلنے والا پہلا اردو مذہبی اخبار ’روشنی‘ تھا جس کے مدیر طیب ایوب تھے۔ دوسرا اخبار ’البدر‘ اور ’الہلال‘ تھا۔ ان کے علاوہ علی عادل محمد نے رسالہ ’ماہتاب‘، ’صدائے اردو‘ کا ذکر کیا ہے۔

تیسرا باب خاصا بسیط ہے۔ اس میں علاقائی تناظر میں اردو صحافت کا مجموعی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس ذیل میں جن علاقوں کی صحافت پر مربوط گفتگو کی گئی ہے ان میں مغربی بنگال، بہار، مہاراشٹر، تمل ناڈو، آندھرا، کشمیر، پنجاب، اترپردیش، کرناٹک، مدھیہ پردیش، ہریانہ، راجستھان جیسی ریاستیں شامل ہیں۔ ان تمام علاقوں میں اردو صحافت کا جو منظرنامہ رہا ہے ان سے یہ تمام مضامین انصاف کرتے نظر آتے ہیں۔

مغربی بنگال کے ذیل میں امان اللہ محمد، ابوذر ہاشمی، محمد وسیم الحق، کریم رضا مونگیری، ڈاکٹر امام اعظم، عاصم شہنواز شبلی کے مقالے شامل ہیں۔ امان اللہ محمد نے اپنے مضمون میں بنگال کو اردو صحافت کی جنم بھومی قرار دیتے ہوئے لکھا ہے۔ جامِ جہاں نما، اردو کا پہلا اخبار ہے جو مرکزی کلکتہ کے کولوٹولہ سے شائع ہوا تھا۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس پہلے اردو اخبار کے مالک مسلمان نہیں بلکہ دو غیرمسلم بنگالی بھائی ہری ہردت اور منشی سدا سکھ دیو تھے۔ ابوذر ہاشمی نے 1858 سے 1900 تک ارض بنگالہ کی اردو صحافت کا جائزہ لیا ہے۔ وسیم الحق نے 1900 سے 1947 تک کی صحافت کا جائزہ لیتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد کے’الہلال‘، مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی کے روزنامہ ’آزاد ہند‘ اور مولانا شائق احمد عثمانی کے ’عصر جدید‘ کا بطورِ خاص ذکر کیا ہے۔ کریم رضا مونگیری کا مضمون 1948 سے 2015 تک کی بنگال کی اردو صحافت پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان کی تقسیم کے بعد سے 1992 تک بنگال سے تقریباً 30 روزنامے شائع ہوتے تھے۔ انھوں نے عصر جدید، انگارہ، الحق، امروز، اخوت، غازی، سنگم، ہاؤڑہ ٹائمز، شانِ ملت، اقرا کا قدرے تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ ان کے علاوہ آزادی کے بعد سے 2015 کے درمیان شائع ہونے والے اہم اور مقبول اخبارات میں روزنامہ ہند، آزاد ہند، آبشار، عکاس، اخبارِ مشرق اور راشٹریہ سہارا کا تذکرہ کیا ہے۔ ڈاکٹر امام اعظم نے کولکاتا میں اردو صحافت کے عنوان سے بہت پرمغز مضمون تحریر کیا ہے جس میں انھوں نے کلکتہ اور اس کے مضافات سے شائع ہونے والے تمام اردو روزناموں، ہفت روزہ اخباروں، پندرہ روزہ جریدوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے اور اس بات کو ثابت کرنے میں کامیاب رہے ہیں کہ اردو صحافت میں اہل بنگالہ کا رول بہت اہم رہا ہے۔ عاصم شہنواز شبلی نے ’تحریک آزادی میں صحافت اوربنگال‘ کے عنوان سے مضمون تحریر کرتے ہوئے ’گلشن نو بہار‘اور ’دوربین‘  جیسے دو اخبار کا ذکر کیا ہے جن کا آزادی کی جدوجہد میں بہت اہم کردار رہا ہے۔ انھوں نے ’الہلال‘، اور ’البلاغ‘ اور دیگر اخبارات کے بارے میں بھی اپنے مضمون میں لکھا ہے۔

بہار کی اردوصحافت کے حوالے سے ڈاکٹر سید احمد قادری، صفدر امام قادری، اعجاز علی ارشد، ریحان غنی، حسن نواب حسن، شمیم قاسمی، ڈاکٹر مشتاق احمد کے مقالے شامل ہیں۔ ان تمام مضامین سے بہار کی اردو صحافت کا منظرنامہ سامنے آتا ہے۔ سید احمد قادری نے 1900 سے 1947 تک بہار کی اردو صحافت کا جائزہ لیا ہے۔ ان کے مطابق ’نور الانوار‘ نے اردو صحافت کی بنیاد ڈالی۔ انھوں نے 1901 سے 1947 تک اردو کے جو اخبارات و رسائل شائع ہوئے ہیں ان تمام رسائل کا مبسوط ذکر کیا ہے۔خاص طور پر اتحاد، صدائے عام، پٹنہ اخبار، پیغام وغیرہ کا۔ جن اخبارات نے انگریزوں کے خلاف بغاوت کی اور ہندو مسلم اتحاد کو فروغ دیا، ان اخبارات کے حوالے سے بھی انھوں نے گفتگو کی ہے۔ صفدر امام قادری نے ’بہار میں اردو صحافت‘ کے عنوان سے اپنے مضمون میں یہ واضح کیا ہے کہ صوبۂ بہار میں انگریزی اور ہندی صحافت سے قبل اردو صحافت کی داغ بیل پڑچکی تھی۔ انھوں نے اس ضمن میں شہرآرا سے شائع ہونے والے اردو کے پہلے اخبار ’نورالانوار‘ کا ذکر کیا ہے جس کے ایڈیٹر سید خورشید احمد اور مالک سید احمد ہاشم بلگرامی تھے۔ انھوں نے پٹنہ ہرکارہ، ویکلی رپورٹ گیا، عظیم الاخبار، اخبارِ بہار، اخبارالاخیار مظفرپور، انڈین کرونیکل، رسالہ معاصر، اردو انڈین کرانیکل، الپنچ، دیہات، روشنی، صدائے عام، سنگم، قومی تنظیم، عظیم آباد ایکسپریس، پندار، انقلابِ جدید، ایثار، جیسے اخبارات کا ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ ندیم، معیار، معاصر، صبحِ نو، اشارہ، آہنگ، اقدار، مریخ، زبان و ادب، علم و ادب، مباحثہ کا بھی تذکرہ کیا ہے جن کا بہار کی ادبی صحافت کے استحکام میں بہت اہم رول ہے۔ اعجاز علی ارشد نے بہار میں اردو صحافت کے خد و خال پر نظر ڈالتے ہوئے تبدیلی کے تناظر میں صدائے عام، ساتھی، سنگم، اشارہ، صبح نو، آہنگ، ہفت روزہ مورچہ، ندیم، سیکولر محاذ، کوہسار بھاگلپور وغیرہ کا ذکر کیا ہے۔ روزناموں کے علاوہ انھوں نے ادبی رسائل کے حوالے سے صدف اور ابجد ارریا کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ ریحان غنی کا مضمون ’بہار میں اردو صحافت کا آغاز و ارتقا‘ 1858 تا 1900ہے۔ اس میں انھوں نے بہار کے مختلف شہروں سے شائع ہونے والے کچھ اہم اخبارات کے نام درج کیے ہیں جن میں خورشید عالم، پٹنہ، نیرالفوائد، آرا، چشمہ علم، پٹنہ، گلدستہ نظائر، گیا، نادرالاخبار مونگیر، نسیم، سارن چھپرہ، صبح وطن، پورنیہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ حسن نواب حسن نے بہار میں اردو صحافت کے نشیب و فراز پر روشنی ڈالتے ہوئے کچھ اہم اخبارات کا ذکر کیا ہے۔ انھوں نے گیا، مظفرپور، جمشیدپور، رانچی، پھلواری شریف، دربھنگہ، سہسرام، پورنیہ، کشن گنج اور دیگر علاقوں سے نکلنے والے اخبارات کی بنیاد پر یہ رائے قائم کی ہے کہ انیسویں صدی سے بیسویں صدی کے وسط تک تقریباً 438 رسائل و اخبارات نکلتے رہے ہیں۔ شمیم قاسمی نے’اردو صحافت اور بہار‘ کے عنوان سے اپنے مضمون میں سرزمین بہار میں ’دینی بہار‘ کو اردو کا پہلا اخبار قرار دیا ہے۔ انھوں نے ندیم گیا، ماہنامہ سہیل، اشارہ، تہذیب، صنم، صبح نو، انتخاب، مریخ، مباحثہ، کسوٹی جدید، آمد، زبان و ادب جیسے ادبی رسالوں کے علاوہ اتحاد، صدائے عام، راہ رو، عظیم آباد اکسپریس، امروز ہند وغیرہ کا ذکر کیا ہے۔ مشتاق احمد نے ’دربھنگہ میں اردو صحافت‘ کا جائزہ لیتے ہوئے’مسیحا‘ کو دربھنگہ کا پہلا اردو ہفت روزہ قرار دیا ہے جس کے مدیر حکیم ابوالحسنات ناصر دہلوی تھے۔ اس کے علاوہ ندائے قوم، پروانہ، البدر، بشریٰ، آفتاب، سلفیہ، ہمالہ وغیرہ کا ذکر کیا ہے۔ ان اخبارات کے علاوہ ادبی رسائل میں جہانِ اردو، تمثیل نو اور دربھنگہ ٹائمز کا ذکر بھی شامل ہے۔

مہاراشٹر کی اردو صحافت کے حوالے سے جاوید جمال الدین، احمد عثمانی، نذیر فتح پوری نے لکھا ہے۔ جاوید جمال الدین نے میمونہ دلوی کے حوالے سے ’کشف الاخبار‘ کو ممبئی کا سب سے قدیم اخبار قرار دیا ہے۔اس کے علاوہ ارمغان، خادم ہند، سرپنچ، ابوالظرفا، سراج خلوت اور خیرخواہ اسلام کو قدیم اخبارات میں شامل کیا ہے۔ انھوں نے مہاراشٹر کے اخبارا ت آفتاب، جمہوریت، اقبال، ہندوستان، اجمل، ہلال، الہلال اور انقلاب کے حوالے سے لکھا ہے ۔ انھوں نے یہ بھی تحریر کیا ہے کہ اردو کا پہلا خالص ادبی رسالہ مہاراشٹر کے شہر اورنگ آباد سے شائع ہوا جس کے مدیر مولوی عبدالحق تھے۔ انھوں نے اورنگ آباد کی صحافت کا بھی جائزہ لیتے ہوئے اثر فاروقی مرحوم کے ’قومی محاذ‘ کو پہلا ہفت روزہ اخبار ہے۔ ان کے علاوہ ہفت روزہ اورنگ آباد ٹائمز، روزنامہ آج اور دیگر اخبارات کا بھی ذکر کیا ہے۔ احمد عثمانی نے مہاراشٹرکے اردو اخبارات کا جائزہ لیتے ہوئے ممبئی، مالیگاؤں اور اورنگ آباد کو اردو صحافت کے بڑے مراکز میں شمار کیا ہے۔ انھوں نے کامٹی سے ہفتہ وار اخوت، رقیب او ر تاج، مالیگاؤں سے خیالات نامی رسالے کا ذکر کیا ہے۔ نذیر فتح پوری نے مہاراشٹر میں اردو صحافت اور اشتہارات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے آئین سکندر کو کالی داس گپتا رضا کے حوالے سے مہاراشٹر کا پہلا اردو اخبار قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے یہاں کے اخبارات کے تجارتی اشتہارات پر بھی روشنی ڈالی ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ اشتہارات کے معاملے میں یہاں کے اخبارات کامیاب ہیں۔

تمل ناڈو میں اردو صحافت کے تعلق سے ڈاکٹر سید سجاد حسین کا مضمون بھی شامل ہے جس میں انھوں نے شہر مدراس سے شائع ہونے والے اخبارات اور رسائل کا جائزہ لیا ہے۔ انھوں نے اعظم الاخبار، شمس الاخبار، نیراعظم، عمدة الاخبار اور تمل ناڈو کے مختلف علاقوں سے نکلنے والے مختلف اخبارات اور رسائل کا ذکر کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ صرف روزنامہ ’مسلمان‘ وہ واحد اخبار ہے جو پورے تمل ناڈو میں اردو صحافت کی نمائندگی کررہا ہے۔ رؤف خیر نے ’آندھرا و تلنگانہ میں اردو صحافت‘ کا جائزہ لیا ہے اور وہاں سے نکلنے والے تمام اہم اخبارات خاص طور پر رہنمائے دکن اور سیاست کا ذکر کیا ہے۔ کچھ ہفت روزہ اور پندرہ روزہ اخبارات بھی ان کے تذکرے میں شامل ہیں۔ انھوں نے سب رس، صبا، ماہنامہ پیکر، قلم کار، شگوفہ، فنکارِ نو، قومی زبان، خوشبو کا سفر، شعر و حکمت، الانصار اور دیگر رسائل کا بھی ذکر کیا ہے۔

کشمیر کی صحافت کے ضمن میں غلام نبی خیال، بلراج بخشی، الطاف حسین، ہارون رِشی، کاچواسفندیار خان کے مضامین شائع کیے گئے ہیں۔ یہ تمام مضامین کشمیر کی صحافت کے مسائل اور امکانات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ان مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ کشمیر میں اردو صحافت بہت سی مشکلات کے باوجود بھی نہ صرف زندہ و تابندہ ہے بلکہ مضبوط اور توانا بھی ہے۔

پنجاب میں اردو صحافت‘ پرنصر ملک کی تحریر بہت جامع ہے۔ اس میں انھوں نے متحدہ پنجاب کی اردو صحافت کا مکمل جائزہ لیا ہے۔ خاص طور پر وہ اخبارات جن کا اردو کی صحافتی تاریخ میں ذکر ہوتا رہا ہے اور جس کے بغیر اردو صحافت کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔ ان میں پیسہ، زمیندار، کوہ نور، مولانا عبدالمجید سالک، اور مولانا غلام رسول مہر کی ادارت میں شائع ہونے والا روزنامہ انقلاب، روزنامہ پرتاپ، جے ہند، سہ روزہ ’وکیل‘ جیسے اخبارات شامل ہیں۔ انھوں نے اس بات پر افسوس بھی ظاہر کیا ہے کہ وہ اخبارات جن کا کبھی پنجاب اور لاہور ہی نہیں پورے برصغیر میں طوطی بولتا تھا آج ان کا نام محض تاریخ کے اوراق میں ملتا ہے۔

اترپردیش کی اردو صحافت کے عصری منظرنامے کے حوالے سے شکیل احمد صبرحدی اور محمد وصی اللہ حسینی کی نگارشات شامل ہیں۔ شکیل احمدصبرحدی نے بیشتر ان اخبارات کا ذکر کیا ہے جن کا تعلق اترپردیش کی سرزمین سے ہے۔ انھوں نے قومی آواز، آگ، عزائم، انقلاب، جیسے اخبارات کے حوالے سے لکھا ہے اور عصری منظرنامے پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ جس سرزمین نے بڑے بڑے صحافی پیدا کیے آج وہ سرزمین قحط الرجال کا شکا رہے۔ محمد وصی اللہ حسینی نے مرزا پور سے شائع ہونے والے ’خیرخواہ ہند‘ کو اترپردیش کا اردو کا سب سے پہلا اخبار قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اترپردیش کا دوسرا اخبار اورینٹل اخبار تھا۔ آگرہ اخبار، مخزن الخواتین اور دیگر اخباروں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے صحافت کے باب میں بھی لکھنؤکو دبستانی حیثیت دیتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ شہر صحافت میں بھی امتیاز کا حامل ہے کہ اسی شہر سے اودھ اخبار، اودھ پنچ، سچ، صدق جدید، مسلم گزٹ اور ہمدم جیسے اخبارات شائع ہوئے۔ انھوں نے لکھنؤ سے شائع ہونے والے دلگداز، خیرخواہِ اطفال، خدنگ نظر، الندوہ ، اور الناظر، ہفت روزہ ہندوستان ، روزنامہ قومی آواز، نیا دور، ماہنامہ کتاب، روزنامہ قائد، ہفت روزہ عزائم اور کارپوریٹ گھرانے سے نکلنے والے اخبار روزنامہ سہارا کے علاوہ انھوں نے روزنامہ آگ، انقلاب، اودھ نامہ وغیرہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہ ایک اہم مضمون ہے کہ اترپردیش کے مختلف علاقوں سے نکلنے والے تمام اہم رسائل و اخبارات کا ذکر اس میں شامل ہوگیا ہے۔ مدینہ بجنور کا بھی انھوں نے تفصیلی ذکر کیا ہے اور شب خون الہ آباد اور رامپور سے نکلنے والے اہم اخبارات و رسائل کا بھی۔

’کرناٹک میں اردو صحافت کا جائزہ‘ ڈاکٹر انیس صدیقی نے پیش کیا ہے۔ انھوں نے وہاں کے اولین اخبار ’قاسم الاخبار‘ پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ ان کے علاوہ ہفت روزہ نشیمن، سالار، ایقان اور دیگر رسائل کا جائزہ لیا ہے اور اس طرح کرناٹک کا پورا صحافتی منظرنامہ نگاہوں کے سامنے آجاتا ہے۔

مدھیہ پردیش میں اردو صحافت کے حوالے سے عارف عزیز نے بہت معلوماتی مضمون تحریر کیا ہے۔ انھوں نے آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد مدھیہ پردیش میں اردو صحافت کا جائزہ لیتے ہوئے قدیم اخبارات و رسائل میں رتن پرکاش، محتشم جاورہ، انتخاب اور افتخار کا ذکر کیا ہے اور آزادی کے بعد بھوپال سے شائع ہونے والے روزنامہ افکار، آفتاب جدید، بھوپال ٹائمز، روزنامہ ایکشن، سہ ماہی انتساب اور دیگر اخبارات و رسائل کا ذکر کیا ہے۔ ہریانہ میں اردو صحافت پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر محمد مستمر نے ان علاقوں کا ذکر کیا ہے جہاں سے پہلے اردو اخبارات شائع ہوتے تھے۔ مگر اب وہاں اردو صحافت کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ انبالہ، پانی پت، حصار، سرسہ، سونی پت، فرید آباد، کروکشیتر، گوڑگاؤں سے شائع ہونے والے اخبارات کا جائزہ پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر زیبا زینت نے راجستھان کی اردو صحافت کا عمدہ جائزہ پیش کیا ہے۔ ان کے مضمون کے مطابق راجستھان کا پہلا اردو اخبار ’مظہرالسرور‘ تھا۔ انھوں نے جے پور، ٹونک، بھرت پور، الور وغیرہ کا بھی ذکر کیا ہے جہاں سے کبھی اردو اخبارات شائع ہوا کرتے تھے۔

تیسرے باب میں ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں اردو صحافت کی صورتِ حال کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے مگر اس باب میں کچھ اہم ریاستیں چھوٹ گئی ہیں جن میں گجرات، چھتیس گڑھ ، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ وغیرہ شامل ہیں۔ ان ریاستوں کے بھی صحافتی منظرنامے پر گفتگو ہوتی تو کتاب کی افادیت اور بڑھ جاتی۔

کتاب کے چوتھے باب میں ’اردو صحافت کے عصری منظرنامے‘ کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے۔ ضامن جعفری، احمد اشفاق، مختار احمد فردین نے دورِ حاضر کی اردو صحافت کا جائزہ پیش کیا ہے۔ تینوں مضامین موجودہ عہد میں اردو صحافت کی سمت اور رفتار کی تفہیم میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

پانچویں باب میں اردو کے اہم اخبارات اور رسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس کے تحت جامِ جہاں نما، اردو اخبار غدر، الہلال، نورافشاں، ادب لطیف، شاعر، مدینہ اور روزنامہ ’ہمدرد‘ کے حوالے سے پروفیسر یوسف تقی، جاوید دانش، ایلن ڈیسرولزس، ندیم احمد، سہیل عباس، احمد سہیل، فرزانہ خلیل، محمد قمر تبریز کے نہایت وقیع مقالے شامل ہیں۔ یوسف تقی نے جام جہاں نما کے امتیازات اور خصوصیات پر روشنی ڈالی ہے تو وہیں جاوید دانش نے شمالی امریکہ کے پہلے اردو اخبار ’غدر‘ کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ انھوں نے غدر اخبار کی آئیڈیالوجی اور اس کے مشمولات کے حوالے سے بہت ہی اہم گفتگو کی ہے۔ غدر کے حوالے سے شاید یہ پہلا مبسوط مضمون ہے جو اردو میں شائع ہوا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اس مضمون کی معنویت بڑھ جاتی ہے۔ ایلن ڈیسرولزس نے ابوالکلام آزاد کے شہرہ آفاق ہفت روزہ الہلال پر بہت ہی مربوط گفتگو کی ہے۔ ندیم احمد نے الہلال اور البلاغ کی روشنی میں مولانا آزاد کی جادوئی نثر کا جائزہ پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر سہیل عباس نے عیسائیت کی تبلیغ کرنے والے اخبار ’نور افشاں‘ پر بہت ہی عمدہ اور تحقیقی مضمون تحریر کیا ہے اور اس کے موضوعات اور امتیازات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ احمد سہیل نے ادب لطیف لاہور اور شاعر ممبئی جیسے دو تاریخ ساز ادبی جرائد پر گفتگو کی ہے اور ان دونوں ادبی رسائل کے امتیازات واضح کیے ہیں۔ فرزانہ خلیل نے بجنور سے شائع ہونے والے مدینہ اخبار اور تحریک آزادی کے حوالے سے لکھا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ اس اخبارنے اردو صحافت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا ہے۔ یہ اخبار بہت ہی مقبول اور اہم اخبار تھا جس پر حکومت کی نظر تھی۔ یہ عوام و خواص میں نہایت ہی مقبول اخبار تھا۔ قمر تبریز نے محمد علی جوہر کے مشہور اخبار روزنامہ ’ہمدرد‘ کا نہایت معروضی اور منطقی جائزہ لیا ہے اور اس کے امتیازات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ اس باب میں کچھ اہم اخبارات کی شمولیت ناگزیر تھی جن میں قومی آواز جیسا اخبار بھی شامل ہے جس نے اردو صحافت کونیا طرز اور نیا اسلوب دیا اور اس اخبار نے واقعتاً اردو صحافت کو ایک وقار اور معیارعطا کیا۔ ’قومی آواز‘ کے ذکر کے بغیر معاصر اردو صحافت کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی کہ اس کے صحافتی امتیازات سے عوام و خواص دونوں ہی واقف ہیں۔

کتاب کے حصہ دوم کا آغاز خواتین اطفال اور اردو صحافت کے عنوان سے ہوا ہے۔ اس میں ناصر مرزا، جمیل اختر، قمر جہاں، مہرین قادر حسین اور خیال انصاری کی تحریریں شامل ہیں۔ ناصر مرزا نے روزنامہ آفتاب کشمیر کے حوالے سے مضمون تحریر کیا ہے جس کے بانی مدیر خواجہ ثناءاللہ بٹ تھے۔ جنھیں کشمیر میں بابائے صحافت کہا جاتا تھا۔ اس مضمون میں آفتاب کے امتیازات کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے۔ اس باب میں اس مضمون کی شمولیت کا کوئی جواز نہیں تھا کیوں کہ روزنامہ آفتاب کا خواتین کا یا اطفال سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔ شاید سہواً یہ مضمون اس باب میں شامل کردیا گیا ہے۔ جمیل اختر نے ’اردو صحافت اور صحافت نسواں‘ کے حوالے سے بہت ہی معلوماتی گفتگو کی ہے اور صحافت نسواں کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے رفیق نسواں، اخبارالنسائ، شریف بی بی، تہذیب نسواں، معلم نسواں، پردۂ  عصمت، شمس النہار اور رسالہ خاتون کا ذکر کیا ہے۔ انھوں نے خواتین کے مجلات پر تفصیلی روشنی بھی ڈالی ہے اور ان کے مشمولات ومحتویات کے حوالے سے پرمغز گفتگو بھی کی ہے۔ جرائد نسواں کے حوالے سے یہ نہایت اہم اور وقیع مضمون ہے۔ قمر جہاں نے بھی ’اردو صحافت میں خواتین کا حصہ‘ کے عنوان سے ان بیشتر خواتین کا ذکر کیا ہے جن کی کسی نہ کسی طور پر پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا سے وابستگی رہی ہے۔ انھوں نے دور جدید کی کچھ خواتین صحافیوں کے نام بھی لکھے ہیں۔ مہرین قادر حسین نے ’ادبی رسائل اور خواتین‘ کے حوالے سے خواتین مدیران کا ذکر کیا ہے جن میں صغریٰ ہمایوں مرزا کا رسالہ النسائ، صالحہ الطاف کا خاتون دکن، احمدی بیگم کا قلم کار، ہاجرہ بیگم کا روشنی قابل ذکر ہیں۔ خیال انصاری نے ’خواتین اور اطفال کی صحافت‘ کے حوالے سے خاتون مشرق، بانو، پاکیزہ آنچل، مشرقی آنچل، زرّیں شعاعیں وغیرہ کاذکر کیا ہے اور خواتین اور اطفال کے لیے اخبارات میں شائع ہونے والے کالم اور کالم نگاروں کا بھی ذکر کیا ہے۔

ساتویں باب میں ’سائنس قانون کی صحافت‘ کے حوالے سے مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ اس میں خواجہ عبدالمنتقم، رفیع الدین ناصر، انیس رفیع، ابرار رحمانی، قطب الدین شاہد، ریحان انصاری، شیخ الماس حسین کے مضامین ہیں۔ خواجہ عبدالمنتقم نے ’ملکی و عالمی تناظر میں قانونی صحافت کی پیچیدگیوں کے حوالے سے‘ بہت مربوط اور مفید گفتگو کی ہے۔ رفیع الدین ناصر نے ’سائنس اور صحافت‘ پر اپنے مضمون کو مرکوز رکھا ہے۔ انیس رفیع نے ’اردو صحافت اور الیکٹرانک میڈیا‘ کے تعلق سے بہت ہی اچھا مضمون تحریر کیا ہے۔ ابرار رحمانی نے ’اردو کے سرکاری رسائل و جرائد‘ کے حوالے سے مضمون لکھا ہے جس میں حکومتِ ہند کے اداروں سے شائع ہونے والے رسائل اردو دنیا، بچوں کی دنیا، فکر و تحقیق، آجکل، یوجنا، روزگار سماچار، سینک سماچار کے بارے میں بہت اہم معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ قطب الدین شاہد نے ’جدید ٹیکنالوجی‘ کے حوالے سے یہ واضح کیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے اردو صحافت کا قد و قامت بلند ہوا ہے اور اس میں کشش اور ظاہری حسن بھی پیدا ہوا ہے۔ لیکن باطنی حسن کو نقصان بھی پہنچا ہے۔ ریحان انصاری نے نئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے اردو صحافت اور عصری چیلنجز پر بہت عمدہ اور مفید مضمون لکھا ہے۔ انھوں نے ان تمام چیلنجز کا جائزہ لیا ہے جو اردو صحافت کو درپیش ہیں۔ ویب سائٹس اور الیکٹرانک چیلنلز پر بھی انھوں نے نظر ڈالی ہے۔ شیخ الماس حسین نے ’انفوٹین مینٹ اور اردوصحافت‘ کے حوالے سے مضمون تحریر کیا ہے۔ یہ مضمون ایک نیا زاویہ عطا کرتا ہے۔ انفوٹین مینٹ کی تمام تر شکلوں کا احاطہ کرتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ اردو صحافت میں انفوٹین مینٹ کے لیے کوئی انفراسٹرکچر نہیں ہے۔

آٹھواں باب ’علمائے کرام اور اردو صحافت‘ سے مختص ہے۔ اس میں قدوس جاوید، سہیل انجم، ڈاکٹر رشید احمد کے نہایت وقیع مضامین شامل ہیں۔ قدوس جاوید نے ’اردو صحافت اور مذہبی اتحاد‘ کے حوالے سے بہت ہی فکرانگیز گفتگو کی ہے اور اردو صحافت کے امتیازات کی نشان دہی کرتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ اردوصحافت کی بنیاد حب الوطنی، انقلاب اور مذہبی اتحاد پر ہے۔ سہیل انجم نے ’ماضی کی اردو صحافت میں علما کا حصہ‘ کے عنوان سے مضمون تحریر کیا ہے اور علما کی صحافتی خدمات پر مبسوط روشنی ڈالی ہے۔ دیکھا جائے تو ماضی کی اردو صحافت کے فروغ میں علمائے کرام کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ بیشتر اہم اخبارات کے مدیران اور مالکان اسی طبقۂ علما سے تعلق رکھتے ہیں۔ دہلی کا پہلا اردو اخبار بھی مولانا محمدباقر نے نکالا تھا۔ ان کے علاوہ مولانا ظفر علی خان، مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی، مولوی مجید حسن، مولانا حامد الانصاری غازی، مولانا نصراللہ خاں عزیز، مولانا عبدالوحید صدیقی اور مولانا عبدالباقی جیسے نام قابل ذکر ہیں۔ انھوں نے اس ضمن میں علامہ شبلی نعمانی، ثناءاللہ امرتسری، علامہ نیاز فتح پوری، علامہ تاجور نجیب آبادی، مولانا عبدالحلیم شرر، علامہ راشدالخیری، مولانا عبدالماجد دریابادی، ماہرالقادری اور عامر عثمانی کا بھی ذکر کیا ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ اردو کا پہلا روزنامہ ’اردو گائیڈ‘ جو کلکتہ سے 1857 میں جاری ہوا اس کے مدیر بھی مولوی کبیرالدین احمد تھے۔ ڈاکٹر رشید احمد نے بھی اردو صحافت سے تعلق رکھنے والے برِصغیر کے علمائے کرام کا ذکر کیا ہے۔ انھوں نے ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے ان مشاہیر صحافیوں کی خدمات پر روشنی ڈالی ہے جن کا تعلق طبقہ علما سے ہے۔

نواں باب ادبی صحافت سے متعلق ہے۔ پروفیسر ابوالکلام قاسمی اور عزیز نبیل نے ادبی صحافت کے مسائل اور تدریجی ارتقا پر بہت ہی وقیع گفتگو کی ہے۔ ابوالکلام قاسمی نے ان اہم ادبی رسائل کا ذکر کیا ہے جن کا ادبی مباحث کو زندہ رکھنے میں اہم اور موثر کردار رہا ہے۔ عزیز نبیل نے اہم ادبی رسائل پر بہت مربوط گفتگو کی ہے۔ خاص طور پر اہم ادبی رسائل کے خصوصی شماروں پر انھوں نے خاص نظر ڈالی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ماضی میں بہت سے رسائل نے بہت ہی اہم شمارے شائع کیے تھے۔ ان شماروں کی اہمیت و معنویت ہمیشہ قائم رہے گی۔ انھوں نے بےشتر ادبی رسائل کو اپنے اس مضمون میں سمیٹ لیا ہے۔

کاروانِ صحافت کے عنوان سے کتاب کے دسویں باب میں پروفیسر شاہد حسین، پروفیسر تحسین فراقی، ڈاکٹر منظراعجاز، عبدالعزیز، ایاز رسول نازکی کی تحریریں ہیں۔ شاہد حسین نے ان تمام صحافیوں کا ذکر کیا ہے جو دار و رسن کی آزمائش سے گزرے اور جنوں کی حکایت خوں چکاں لکھتے رہے۔ تحسین فراقی نے عبدالماجد دریابادی کی صحافتی زندگی کے حوالے سے نہایت معلوماتی اور وقیع مضمون تحریر کیا ہے۔ مولانا کے اخبارسچ اور صدق جدید کے مشمولات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے آخر میں یہ تحریر کیا ہے کہ آج کی اردو صحافت مولانا عبدالماجددریابادی جیسے بہار آفریں اور عبرت انگیز قلم سے محروم ہے۔ منظر اعجاز نے بہار کے چند گمنام صحافی کے حوالے سے اپنے مضمون میں ان صحافیوں کا ذکر کیا ہے جو گمنام ہیں۔ ایسے صحافیوں میں اخبار بہار کے ایڈیٹر لالہ بندا پرشاد متخلص بہ حسرتی ، اخبار الاخیار کے منشی اجودھیا پرشاد منیری جیسے صحافیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ عبدالعزیز نے مولانا علی میاں ندوی اور ریسرچ کانفرنس کے حوالے سے اخبار نویسوں کے سامنے دارالعلوم ندوہ لکھنؤ میں مولانا کے خطاب کو مرکز بنایا ہے۔ ایاز رسول نازکی نے ایک ایسی شخصیت پر روشنی ڈالی ہے جنھیں اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ وہ شخصیت مولانا عبدالسلام رفیقی کی ہے۔

گیارھواں باب ’اردو صحافت مسائل و امکانات‘ کے عنوان سے ہے۔ ا س میں شافع قدوائی، شاہد لطیف، زین شمسی، شجاعت بخاری،نوشاد مومن، جوہر قدوسی، شہاب عنایت ملک، رضوان اللہ آروی، مشتاق احمد نوری، عظمت جمیل صدیقی، احمد جاوید، محمدشبیب عالم، سید فیروز اشرف، جہانگیر فاطمی، اشرف استھانوی، مصطفی حسین، شکیل رشید کے مضامین شامل ہیں۔ ان تمام مضامین میں اردو صحافت کے مختلف مسائل خاص طور پر اقتصادی مسائل ،روزگار، معاشیات، اشتہارات، مالی مشکلات، زبان، معیار، ترجمہ ادارت، قارئین کی قوت خرید اور مالی بحران کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے۔ عصر جدید میں صحافت کے مختلف مسائل کو سمجھنے میں یہ تمام مضامین معاون ہوسکتے ہیں۔ ان کے علاوہ کتابیاتِ صحافت کے عنوان سے حیدر علی کا مرتب کردہ ایک اشاریہ شامل ہے۔ یہ دراصل اس کتاب کا ماحصل ہے کہ اس میں اردو صحافت سے متعلق اہم کتابوں کے علاوہ رسائل میں صحافت پر چھپنے والے مضامین، کتابوں میں مشمولہ مضامین اور صحافت پر لکھے گئے جامعات کے تحقیقی مقالوں کا اندراج کیا گیا ہے۔ یہ مضمون اردو صحافت پر تحقیق کرنے والے اساتذہ اور طلبا کے لیے سمت نما کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ سب سے زیادہ جامع اشاریہ ہے جو اب تک کی صحافتی تاریخ میں تیار کیا گیا ہے۔

دو حصوں پر محیط ’اردوصحافت کے دو سَوسال‘ بہت سے اعتبارات سے اہمیت اور امتیاز کی حامل ہے۔ یہ صحافت پر لکھی گئی دیگر کتابوں سے بے نیاز تو نہیں کرتی مگر جن لوگوں کی رسائی صحافت کی کتابوں تک ممکن نہیں ہے ان کے لیے یہ ایک نشانِ منزل کی حیثیت ضرور رکھتی ہے۔کتاب کے مرتب پروفیسر ارتضیٰ کریم مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اردو صحافت کی جملہ جہتوں کو سمیٹنے کی بہت عمدہ کوشش کی ہے۔