یاس یگانہ چنگیزی کی تخلیقی انانیت: ابو شہیم خان


 بیسویں صدی کے اوائل میں یہ تصور عام ہو رہا تھا کہ اردو شاعری کی آ برو یعنی غزل پر قدامت کا غلبہ ہے۔ یہ کسی قدر ہیئت اور موضوع کے مخصوص دائروں میں محبوس ہے۔ اس لیے اسے نئے ذائقے،نئے اظہار و انداز سے آشنا  ہونے کی ضرورت ہے۔ گرچہ اس تصور نے بعد میں تضحیک و استہزا  اور اینٹی غزل کی صورت بھی اختیار کر لی اور غزل کے بنیادی اوصاف اور شناخت نامے پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا۔لیکن جن شعرا نے اس غیر ترجیحی ماحول میں بھی شاعری میں نئے تجربے کیے، شاعری کو تصنع سے آزاد کرنے اور فطرت سے ہم آہنگ کرنے کی کوششیں کیں۔ فکر کو رفعت ووسعت ا ور زبان و بیان کو سلاست عطا کی۔ گیسو ئے غزل کو مزیدتابدار کیا اورآخر کارغزل کی نئی کروٹ  یا بعض کے لفظوں میں نشاۃ الثانیہ کا سبب بنے ان میں علامہ اقبال،شاد عظیم آبادی،عزیزلکھنوی، صفی لکھنوی، نوبت رائے نظر، ریاض خیر آبادی، جلیل مانک پوری، فانی بدایونی، آرزو لکھنوی، حسرت موہانی، جگر مرادآبادی، سیماب اکبر آبادی اور فراق گورکھپوری وغیرہ کے ساتھ مرزا واجد حسین یاس یگانہ چنگیزی  (1884تا  1956 )کا نام نا می بھی شامل ہے۔

 یاس یگانہ چنگیزی نے مختلف حوالوں سے پٹنہ،کلکتہ، لکھنؤ، لاہور، علی گڑھ، حیدر آباد، عثمان آباد، لاتور جیسے شہروں میں قیام کیا لیکن ان کی بیگانہ روی اور بیگانہ خوئی کو کہیں بھی قرار نہیں ملا۔ وہ پوری زندگی انانیت بنام انفرادیت کی،خود پرستی بنام حق پرستی کی، اصول پسندی بنام کلبیت پسندی کی جنگ لڑتے رہے۔ لوگوں کو میر و غالب سے اپنی ہمسری باور کراتے رہے اور خود ابو المعانی اور امام الغزل ہونے کا اعلان کر کے کہتے رہے کہ ع

جلوہ فرما حق ہوا باطل گیا

اور         ؎

شہرہ ہے یگانہ تیری بیگانہ روی کا

اللہ یہ بیگانہ روی یاد رہے گی

 کون ہوں کیا ہوںمجھے دیکھ لیں اہل نظر  

آبروئے لکھنؤ خاک عظیم آباد ہوں

لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ یگانہ کی شخصیت اور فن کے معدودے چند ہی قائل تھے۔ کلام میں تنوع، تغزل اور پابستگی رسم و رہ عام سے بے نیازی، آزادی،بانکپن اور پر زوری کے باوجود عام ناقدین فن کو ان کی ذات سے اور ان کی شاعری سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اعلی ترین مذہبی شخصیات پر اعتراض، مرزا غالب،علامہ اقبال،جوش ملیح آبادی اور اصغر گونڈوی،  حسرت موہانی اور اپنے اکثر معاصرین شعرا سے بداطمینانی یا شدید مخالفت اور غالب شکن وشہرت کاذبہ کے ماننددیگر ہنگامے اس پر مستزاد۔ حقیقت یہ ہے کہ یگانہ جب 5 190میں اکیس سال کی عمر میں عظیم آباد (پٹنہ) سے لکھنؤ آئے تواس وقت لکھنؤ میں صفی لکھنوی، ثاقب لکھنوی اور عزیز لکھنوی، محشر، آرزو وغیرہ  جیسے غالب ممدوحین کا اور نیاز فتح پوری، شاہد دہلوی، ماہر القادری اور عبد الماجد دریابادی وغیرہ  جیسے صاحب علم ادیبوں کا دور دورہ تھا۔ اس لیے بھی ان کی پذیرائی اس طرح نہیں ہوسکی جس کے وہ متمنی یا کسی حد تک مستحق تھے۔ حالانکہ ان کے ادبی کارنامے خصوصاً شعری طرز فکر، لہجے کی انفرادیت، بلند خیالی اور نئی غزل کے لیے راہ ہموار کرنے کی کوششیں اور مختلف کتابیں  جیسے نشتر یاس (دیوان)، چراغ سخن (رسالۂ عروض و قوافی)، شہرت کاذبہ المعروف بہ خرافات عزیز،آیات وجدانی، ترانہ (مجموعہ رباعیات)، غالب شکن  (مکتوب  بنام سید حسن رضوی) اور گنجینہ وغیرہ ایسے کارنامے تھے کہ ان کا شمار اردو کے قابل ذکر شعرا میں کیا جانا چاہیے، لیکن ان کا معرکانہ اور معاندانہ تیور، ادبی معرکے کو مذہبی معرکے میں بدل دینا اور اس میں حد درجہ تجاوز کرجانا اورانانیت و تعلی کی ساری حدیں پار کرجانا (شہرت کاذبہ المعروف بہ خرافات عزیز اورغالب شکن جیسی کتابیں) ایسے اسباب ہوئے جو کسی بھی عقل سلیم رکھنے والے شاعر یا عام شخص سے متوقع نہیں تھے۔ یاس یگانہ چنگیزی کا تعلیانہ دعوی ملاحظہ کریں: 

’’ سچ تو یہ ہے کہ اس صدی میں یگانہ کے سوا اور کسی کو شاعر سمجھنا محض خود فریبی ہے۔‘‘

’’ اس دور نے میرا کوئی حریف پیدا نہیں کیا۔ موجودہ دور کی لاشوں سے ٹکرانامجھے پسند نہیں۔‘‘

( آیات وجدانی:  یاس یگانہ چنگیزی،  ناشر مبارک علی تاجرکتب  لاہور ص 11)

4 191 میں جب یگانہ نے اپنا دیوان ’نشتر یاس ‘ شائع کیا تو اس کے مقدمے میں تعلی سے کام لیتے ہوئے لکھا تھا کہ لکھنؤ کے معاصرین ِحال اور آئندہ نسلوں پر فرض ہے کہ یاس یگانہ چنگیزی کی زبان اور اجتہادی تصرفات سے سند لیں۔اس طرح انھوں نے ثاقب،صفی، عزیز اور دوسرے معاصرین سے مطالبہ کیا کہ وہ انھیں استاد فن تسلیم کرکے ان کی پیروی کریں۔ اس طرح کی تعلیوں اور ثاقب، صفی، عزیز کی ضد میں  اسدا للہ خاں غالب کے خلاف نازیبا اور نا شائستہ باتیں (رباعیاں)، علامہ اقبال (اکبال )سے نفرت،نبی کریمؐ  کی شان میں گستاخی، قرآن مجید پر اختلافی نوٹ نے یاس یگانہ چنگیزی کی زندگی کو اجیرن بنادیا تھا۔ بہرکیف چند صاحب نظر تھے جنھوں نے یاس یگانہ چنگیزی کے ساتھ ہمدردانہ اور معتدل رویہ اپنایا اوربڑے سلیقے اور مستند حوالوں کے ساتھ جدید اردو شاعری میں ان کے مقام کا تعین کیا۔ جب شہر لکھنؤ یاس یگانہ چنگیزی کے خلاف تھا تب پروفیسرمجنوں گورکھپوری نے ان کے کلا م کا ہمدردانہ تجزیہ کیا اور ان کے کلام کی داد دی۔ وہ پہلے ناقد تھے جنھوں نے یاس یگانہ چنگیزی کی شاعری کی قیمت کا تعین کیا۔ پروفیسرمجنوں گورکھپوری مشہور رسالہ ’نگار‘ جنوری 942 1 کے شمارے میں یگانہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

’’یگانہ پہلے شاعر ہیں جو ہم کو زندگی کا جبروتی رخ دکھاتے ہیں اور ہمارے اندر سعی و پیکار کا ولولہ پیدا کرتے ہیں۔ غزل کو جو اب تک صرف حسن و عشق کی شاعری سمجھی جاتی رہی ہے یگانہ نے زندگی کی شاعری بنا دیااور انسان اور کائنات کی ہستی کے رموز و اشارت کو اپنی غزلوں کا موضوع قرار دیا... یگانہ اس کشاکش اور تصادم کا احساس ہمارے اندر بڑی سہولت اور کامیابی کے ساتھ پیدا کردیتے ہیں جو زندگی کا اصل راز ہے اور جس کا احساس عصر جدید کا سب سے بڑا اکتساب ہے... ان کی غزلوں کی سب سے نمایاں خصوصیت مردانہ عزم و اعتماد ہے۔ انھوں نے غزل میں واقعی بت شکنی کی ہے۔روایتی موضوعات اور اسالیب دونوں سے انحراف کرکے ہم کو غزل کی امکانی وسعتوں سے آگاہ کر دیا ہے... یگانہ کی شاعری ہمارے اندر یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ زندگی اک جدلیاتی حقیقت ہے اور تصادم و پیکار اس کی نمو اور بالیدگی کے لیے ضروری ہے۔‘‘

(نگار]معاصر غزل گویوں پر تنقید نمبر[  مدیر :نیاز فتح پوری جنوری 1942)

پرو فیسرمجنوں گورکھپوری کے علاوہ اردو مرثیہ اور ڈراما کے بڑے محقق اور لکھنوی تہذیب  کے نمائندہ سید مسعود حسن رضوی ادیب بھی یگانہ کے فن کے قائل ہیں اور انھیں یگانہ کی ذات سے پوری ہمدردی ہے۔مسعود حسن رضوی ادیب نے اپنی مایہ ناز کتاب ’ ہماری شاعری‘ جسے مقدمہ شعر وشاعری(حالی) کا جواب اور تتمہ بھی کہا جاتا ہے، میںاردو غزل کے دفاع اور اعلی اردو شاعری کی مثالوں کے لیے مختلف مقامات پر یگانہ کے اشعار نقل کیے ہیں۔ مسعود حسن رضوی ادیب اور یاس یگانہ چنگیزی کے مابین دوستانہ مراسم  تھے۔دونوںایک دوسرے کا ہر سطح پر مکمل خیال رکھتے تھے۔حتی کہ لکھنؤ میںدونوں کی قبریں بھی ایک ہی قبرستان کربلائے منشی فضل حسین میں ہیں۔ یگانہ بھی خلاف فطرت مسعود حسن رضوی ادیب کی بڑی قدر کرتے تھے۔ 1930 میں ’ہماری شاعری ‘ پر صابر علی خاں نے اعتراضات کیے تو اس کے جواب میں یگانہ لکھتے ہیں کہ:

’’ وہ کون صاحب ہیں جنھوں نے ’ ادبی دنیا‘ میں سید مسعود حسن رضوی ادیب کی معرکۃ الآرا کتاب ’ہماری شاعری ‘ پرحاسدانہ حملے کیے ہیں۔ یہ تو وہ کتاب ہے جو یورپ زدہ اصحاب کی غلامانہ ذہنیت میں انقلاب پیدا کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتی ہے۔‘‘

سید مسعود حسن رضوی ادیب کے صاحبزادے اردو کے ممتاز ترین جدید افسانہ نگار اور ناقد نیر مسعود بھی یاس یگانہ چنگیزی کے فن کے قائل اور ہمدرد تھے۔انھوں نے انجمن ترقی اردو ہند کے لیے ایک کتاب ’یگانہ احوال و آثار ‘ لکھ کر بہترین خراج عقیدت پیش کیا ہے۔منفی ردعمل، تنقید سے تنویر فن کے بجائے آمریت کے اظہار اور تعجیلی فیصلوں کے لیے مشہور باقر مہدی اپنے مضامین کے مجموعے ’آگہی و بے باکی‘ میں لکھتے ہیں کہ میر و غالب کے بعد تیسرا نام جو سب سے زیادہ احترام اور اہمیت کا مالک ہے وہ یگانہ کا ہے اور یگانہ کے بعد ان جیسا اب کوئی نہیں ہوگا۔اس کے علاوہ وسیم فرحت علیگ نے بھی یاس یگانہ چنگیزی کے خطوط کو یکجا کرکے، ان پر تنقیدی و تحقیقی کتاب اور مونو گراف لکھ کر دنیائے ادب کے سامنے ان کی شخصیت کو کامیابی سے پیش کیاہے۔ راہی معصوم رضا نے بھی اپنے تحقیقی مقالے ’یاس یگانہ چنگیزی‘  میں ان کی شخصیت، اس کے منظر پس منظر،یاس عظیم آبادی سے یگانہ چنگیزی بننے کے سفر،حالات و کوائف اور جدید غزل میں ان کی اہمیت اور مقام ومرتبے کا تعین کرنے کی غیر جانب دارانہ کوشش کی ہے۔ راہی معصوم رضا  اس تحقیقی مقالے کی ضرورت کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

’ ’یگانہ ایک بحث طلب شخصیت ہیں۔ان کے بارے میں نہ تو ان کی زندگی میں غیر جانب داری اور ناقدانہ ہمدردی سے سوچا گیا  اور نہ ان کے مرنے کے بعد۔ ’غالب شکن ‘ اور ’شہرت کاذبہ‘کے ہنگاموں میں یہ بات تقریباً نظر انداز کر دی گئی کہ یگانہ شاعربھی تھے۔ اس کتاب کا مقصد یہی ہے کہ یگانہ اور ان کی شاعری کو سمجھنے اور پرکھنے کی کوشش کی جائے۔ ان کی خوبیوں اورخامیوں کا تجزیہ کیا  جائے اور جدید اردو شاعری میں ان کے مقام کا تعین کیا جائے۔ میں نے غیر جانب دار رہنے کی کوشش کی ہے لیکن یگانہ سے اتنی ہمدردی ضرور کی ہے  جتنی ہمدردی کا تقاضا فریضۂ نقد کرتا ہے... میں نے کوشش کی ہے کہ بزم شعر میں یگانہ کو وہ جگہ مل جائے جس پر ان کا حق ہے۔‘‘

(یاس یگانہ چنگیزی : راہی معصوم رضا، شاہین پبلشر الہ آباد  1967ص 8)

اس تحقیقی مقالے میں پہلے یاس یگانہ چنگیزی کی شخصیت اور ان کے حالات کا ذکر کیا ہے جنھوں نے یاس عظیم آبادی کو یگانہ چنگیزی او ر میر و انیس کے دلدادہ اور ’خاک پائے آتش ‘ کو امام الغزل،ابو المعانی اور یگانہ علیہ السلام بنا دیا اور خود کے لیے The Arch Artist- Poet of India کا فرمان جاری کرنا پڑا۔اور ’غالب شکن ‘ کا انتساب ان الفاظ میں کرنا پڑا۔

    ’تحفہ غالب شکن'

بجناب ہیبت مآب،دیو تائے جلال و عتاب،پیغمبر قہر و عذاب،دشمن تہذیب پر فن،حق شناس باطل شکن مرد میدان بگیردبزن۔

شہشاہ نبی آدم،سرتاج سکندر وجم،حضرت چنگیز خاں، اعظم قہر اللہ‘‘۔اور ترانہ کی ایک جلد پر یہ عبارت لکھنی پڑی

"Omer Khyam challenged (as for as poetic Art is concerned )"

ان عبارتوں سے صرف ان کے مخاصمانہ اور معرکانہ رویے کا ہی اندازہ نہیں ہوتا ہے بلکہ ان کی ضد، اکھڑپن، بے خوفی،انانیت پسندی اور خود پرستی کے ساتھ احسا س کمتری اور احساس شکست کا بھی بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے،لیکن یہ بھی صحیح ہے کہ ان کے اندر منفی رویوں کو پروان چڑھانے میں صرف ان کی کج فہمیوں کو دخل نہیں تھا بلکہ وہ حضرات بھی اس کے ذمے دار تھے جنھوں نے ان کے ساتھ ہمیشہ مخاصمانہ،معاندانہ اور معرکانہ رویہ روا رکھا اور ان کے ساتھ علمی اورسماجی سطح پر نبرد آزما رہے اور ان کے ساتھ معتدل اور ہمدردانہ رویہ نہیں اپنایا۔

 یگانہ کوچنگیزی،خاک پائے میر و آتش کو امام الغزل، ابو المعانی اور یگانہ علیہ السلام بنا نے والے عوامل و عواقب کا تجزیہ کرتے ہوئے راہی لکھتے ہیں کہ’’ یگانہ کی شخصیت میں بڑے بل تھے۔لکھنؤ والوں کی مخالفت،غیر ذمے دار نقادوں کی ناوک زنی،اور ذمے دار نقادوں کے تغافل نے ان بلوں کو اور سخت کردیا۔چنانچہ اپنی انا کے خلا میں ’ پر پھڑ پھڑانے والایہ فرشتہ‘ اسی خلا میں کھو گیا۔یگانہ اردو غزل کا المیہ ہے۔اس المیے میں ایک خاص طوالت بھی ہے، ابتدا، وسط اور انجام بھی ہے۔جلال بھی ہے اور تزکیہ بھی۔ارسطو نے بھی ا لمیہ سے اس کے علاوہ کوئی اور مطالبہ نہیں کیا۔‘‘

(یاس یگانہ چنگیزی : راہی معصوم رضا، شاہین پبلشر الہ آباد  1967، ص32)

ناقدین فن یاس یگانہ چنگیزی کی شخصیت اور شاعری کے ’منظر و پس منظر ‘ کا محاکمہ کرتے ہیںاوراس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ کسی تخلیق یا صنف کا مطالعہ اس کے گردو پیش اور سیاسی، سماجی ومعاشی سیاق میں ہی کیا جانا چاہیے۔ یاس یگانہ چنگیزی بھی دوسرے شعرا کی طرح اپنے گردو پیش سے باخبر تھے گرچہ حالات، نقادوں کی ناوک زنی، اور تغافل، قومی تحریکوں سے علاحدگی، احساسِ تنہائی و کمتری اور حد درجہ انانیت و خود پسندی نے ان کی شاعری کو ’جبروتی رخ ‘دے دیا تھا لیکن ایک معروضیت پسند اور غیر جانب دار نقاد کو ان سیاق اور حالات پر بھی نظر رکھنی ہوگی جن حالات میں وہ شاعری کر رہے تھے۔ یاس یگانہ چنگیزی نے اپنی شاعری کے بارے میں فراق گو رکھپوری کو لکھا تھا کہ ’’ہر جنس کا آرٹ خود اپنے معیار پر پرکھا جاتا ہے۔ پرانے معیار پر نہیں‘‘۔ مشہور شاعر و نثر نگار باقر مہدی بھی دوسرے ناقدین کی آرا کی تائید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ’’ شاعری فقط سپاٹ حقیقت نگاری کا نام نہیں بلکہ حقیقت کو شاعرانہ انداز کے ساتھ پیش کرنے کا نام ہے۔‘‘  

  (آگہی وبے باکی: باقر مہدی،گوشۂ ادب ارکیڈیا بلڈنگ بمبئی ، ص 102)

چتونوں سے ملتا ہے کچھ سراغ باطن کا

چال سے تو ظالم پر سادگی برستی ہے

 ہنوز زندگی تلخ کا مزہ نہ ملا

کمال صبر ملا صبر آزما نہ ملا

 حسن بے تحاشہ کی دھوم کیا معمہ ہے

کان بھی ہیں نا محرم آنکھ بھی ترستی ہے

خدا معلوم کیسا سحر تھا اس بت کی چتون میں

چلی آتی ہیں اب تک کشمکشیں شیخ و برہمن میں   

یاس یگانہ چنگیزی کے بہت سے اشعار اردو کی کلاسیکی شعری روایت اور عصری آگہی کا بہترین نمونہ ہیں۔ان اشعار کو کسی بھی کلاسکی یا جدید پیمانہ نقد پر جانچیںپرکھیں یاس یگانہ چنگیزی کے کمال فن کا اعتراف کرنا پڑے گا۔ ان کی شاعری لکھنؤ کی عام حرماں نصیبی،زندگی سے فرار اور بے زاری کے احساس کے برعکس پامردی، عزم و حوصلہ اور سعی و پیکار یا بقول مجنوں گورکھپوری ’مردانگی‘ کی نمائندہ ہے۔ یگانہ جس زمانے میں شاعری کر رہے تھے اس وقت اردو غزل نئی کروٹ لے کر ایک نئے سمت میں سفر کر رہی تھی اور معشوق، رقیب، شیخ، محتسب،کعبہ و بت خانہ جیسی غزل کی علامتیں جدید معنوں میں استعمال ہو رہی تھیں۔ غزل کی فارسی نژادیت ختم ہو رہی تھی اور ہندوستانی عناصر کا تناسب بڑھتا جا رہا تھا اور غزل خالص ہندوستانی صنف سخن بنتی جارہی تھی۔اسی سیاق میں یاس یگانہ چنگیزی، حسرت موہانی، علامہ اقبال، اصغر گونڈوی، جگر مراد آبادی وغیرہ کی شخصیتیں بنی بگڑی ہیں اور اسی سیاسی، سماجی ومعاشی اور ادبی پس منظر میں یاس یگانہ چنگیزی کی شاعری کا بھی مطالعہ کیا جانا چاہیے۔

 مجنوںگو رکھپوری، مسعود حسن رضوی ادیب، راہی معصوم رضا، باقر مہدی اور نیر مسعود وغیرہ  یگانہ چنگیزی کے مختلف اشعار کے توسط سے ان کی نظریاتی کشمکش اور اہل لکھنؤ سے معرکہ آرائی کا جواز تلاش کرتے ہیںاور مختلف حوالوں سے ان کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یگانہ چنگیزی کی طرح اسی انداز کی شاعری اور نثر دوسرے ادیبوں نے بھی تخلیق کی لیکن انھیںوہ اذیتیں اور رسوائیاں نہیں جھیلنی پڑیں جو یگانہ چنگیزی کے حصے میں آئیں۔ بہر کیف مندرجہ بالا ناقدین مختلف شعری حوالوں سے یگانہ چنگیزی کی فوقیت اور برتری ثابت کرتے ہیںاور یہ ثابت کرنے کی کامیاب کوشش کرتے ہیں کہ یگانہ چنگیزی ایک حساس،بے باک اور قادر الکلام شاعر ہیں۔ اہل لکھنؤ کی طرح ان کے یہاں لفظی بازیگری نہیں ہے اور ان کی شاعری لفظوں اور سندوں کی محتاج نہیں ہے۔ وہ اور ان کی شاعری زمانے کے سردو گرم سے بے نیاز ہیں۔ وہ بت پرستی نہیںبت شکنی کے دلدادہ ہیں۔ اسی لیے قدیم سے قدیم اورمسلمہ شعری و فکری روایت سے انحراف میں انھیں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی ہے۔ یگانہ چنگیزی کی اپنی صلاحیتوں پر حد سے زیادہ اعتماد،بے جا خود داری و خود اعتمادی نے انھیں خود پرست اور انا پرست اورناقدین کی نظر میں ’کجرو‘ بنا دیاتھا۔یگانہ کے مخلص ناقدین ان کی نفسیاتی بوالعجبیوں کو،ان کے مزاج کی انفرادیت اور تیکھاپن کوجبروتی انداز اور مردانگی سے یا یگانہ آرٹ سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان حالات و کوائف کا اور ان عوامل اور عواقب کا تجزیہ کرتے ہیں جنھوں نے یاس کو یگانہ،خود پرست،انا پرست اور کلبیت پسند بنایا اور اعلی تخلیقی صلاحیتوں کا مالک ہونے کے باوجود یگانہ چنگیزی کو احسا س کمتری اور احساس شکست جیسی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا کردیا۔انفرادیت اور انانیت کی بھول بھلیوں میں بھٹکا کر شاعرانہ منصب اور منہج سے بہت دور تاریکی میں پہنچا دیا جہاں مثبت تنقید بے کیف اور تنقیص حرزِ جاں ہو گئی اوریگانہ کوہر اس شخص کو اپنا حریف بنانے میں مزہ آنے لگا جو ان کے مزاج سے میل نہیں کھاتا تھا۔اور بقول آل احمد سرور آخر کاریگانہ اپنے پہلے ہی شعر          ؎

خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا

خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا  

کا بہترین تبصرہ بن کر رہ گئے۔ اسی طرح راہی معصوم رضا بھی یاس یگانہ چنگیزی کے معرکانہ اور مخاصمانہ تیور کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

’’یگانہ تنقید سے زیادہ تنقیص پر تلے ہوئے ہیں اور بیشتر مقامات پر ان کا لہجہ غیر مہذب ہے اور ان کے الفاظ غیر شائستہ ہیں۔وہ جگر اور جوش کا ذکر’اشخاص‘ کہہ کر کرتے ہیں اور عزیز کو ’ میاں عزیز ‘ اور ’فضلتہ الشعرا‘ اور ’قصاب المعانی‘کہتے ہیں اور یہیں چپ نہیں رہتے بلکہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ ڈھاڑی نہیں نخاس کے کشمیری(یعنی بھانڈ) ہیں اور پھر خطابات دینے کے بعدوہ عزیز کے قصیدوں پر پچھتر ’وضوشکن‘ اعتراضات کرتے ہیں۔مولانا حسرت کو اوسط درجے کا شاعر کہتے ہیں اور مولانا بے خود کو ’ غالب کا دلچٹا مولوی ٹھینگا موہانی‘ کے خطاب سے یاد کرتے ہیں۔جوش کے ساتھ ’خان‘ لگاتے ہیں۔ترقی پسندشعرا کو ’غدار‘ کہتے ہیں اور انھیں گدھا جانتے ہیں...‘‘

(یاس یگانہ چنگیزی: راہی معصوم رضا، شاہین پبلشر الہ آباد  1967، ص191)

ہم عصروں میں چند ہی لوگ تھے جن کی یگانہ چنگیزی تھوڑی بہت عزت کرتے تھے ورنہ ہر کس و ناکس سے ان کی معرکہ آرائی تھی۔ ان اعتراضات میں تنقیدی شعور کی کارفرمائی دور دور تک نظرنہیں آرہی ہے بلکہ تنقید کی جگہ معاندانہ آرا اور تنقیص نے لے لی ہے اور یہ اعتراضات کسی بانکے شاعر کی آواز نہیں بلکہ احساس شکست سے دوچار درماندہ رہرو کی صدائے بازگشت معلوم ہوتے ہیں۔

بہر کیف جدید اردو غزل میںیگانہ چنگیزی کے صحیح مقام و مرتبے کے حوالے سے ان کے مخلص ناقدین کا ماننا ہے کہ یگانہ کی شخصیت، ان کے فن اور نظریہ فن کو ان کے زمانے اوران کے زمانے کی ادبی روایتوں کے پس منظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔یگانہ کی شخصیت کے داخلی اور خارجی حالات کا تجزیہ کرنے کے بعد ہی ان کے بارے میں رائے قائم کرنی چاہیے کیوں کہ یگانہ کا سارا شعری سرمایہ صرف ’پیترے بازی‘ نہیں ہے یا صرف انفرادیت سے انانیت کا گمراہ کن سفر نہیںہے بلکہ رعنائی، توانائی، مردانگی جیسی قدروں پر مشتمل ایک تہہ دار اور قوت ایجادکے حامل شاعر کا تخلیقی سرمایہ ہے،  جس نے غزل اور رباعی جیسی مشکل صنف میں اپنے ہم عصروں بشمول جوش و فراق کو متاثر کیا۔اور لکھنؤ کی غزل کو سطحی جذباتیت اور لفظی بازی گری کے طلسم سے نکال کر اصل زندگی کا ترجمان بنایا اور جدید اردو غزل کوایک نیا لب و لہجہ عطا کیا۔ یگانہ ایک سچے کھرے،حق پرست اورخود پرست تھے۔انھیں، ان کی شاعری، ان کے فن اور نظریہ فن کوسمجھنے کے لیے ضروری  ہے کہ غالب شکن اور شہرت کاذبہ کے شان نزول کوسمجھا جائے اور ان کے لہجے کی جھلاہٹ اور کھردرے پن کے اندرجھانکا جائے۔عبرت اور بصیرت دونوں کو بروے کار لاکر ان کا ادبی مرتبہ متعین کیا جائے۔ جن ناقدین نے یگانہ چنگیزی کے کلام کا Total Criticism کے اصولوں کے تحت مطالعہ کیا ہے ان میں مجنوںگو رکھپوری، مسعود حسن رضوی ادیب، راہی معصوم رضا، باقر مہدی اور نیر مسعود،پروفیسر شمیم حنفی،سلیم احمد غیرہ کے ساتھ مشہور مورخ و ناقدڈاکٹرانور سدید اور پروفیسر سیدہ جعفر بھی شامل ہیں۔ڈاکٹرانور سدید نے یگانہ چنگیزی کی غزلوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ:

’’ یگانہ کی غزل ان کے ترکی مزاج کی آئینہ دار اور منفرد کیفیات کی مظہر ہے۔’آیات وجدانی ‘ میں وہ خیال کے ساتھ حسن مجسم کو بھی اڑا لے جاتے ہیں۔ان کی گہری اور کٹیلی طنز نا آسودہ حسرتوں کو جگاتی ہے۔وہ دکھی اور افسردہ دل تھے لیکن اپنی انا کو جھکنے نہیں دیا۔‘‘

(اردو ادب کی مختصر تاریخ: ڈاکٹر انور سدید۔ایم آر پبلی کیشنز نئی دہلی  ص  354)

مجھے اے ناخدا آخر کسی کو منہ دکھانا ہے

بہانہ کر کے تنہا پار اتر جانا نہیں آتا ظ

 موت مانگی تھی خدائی تو نہیں مانگی تھی

لے دعا کر چلے،اب ترک دعا کرتے ہیں

مندرجہ بالا اشعار کے علاوہ ’آیات وجدانی ‘ میں بہت سے اشعار ہیں جو ڈاکٹر انور سدید اور ان کے ہم خیالوں کے دعوے کی دلیل میں پیش کیے جاسکتے ہیں۔واقعہ یہ ہے کہ یگانہ چنگیزی کو نظم و نثر پر یکساں قدرت حاصل تھی۔ وہ نثر میں ایک خاص اسلوب نگارش طنز ملیح اور طنز قبیح کے موجد و خاتم تھے۔ اسی طرح انھوں نے اردو غزل کو بھی ایک منفرد آواز عطا کی تھی۔ انھوں نے لفظی بازیگری اور شعری صنعتوں سے احتراز کرکے علامتوں کی ایک دنیا آباد کرنے کی کوشش کی۔ اردو شاعری کو اپنے منفرد مزاج اور عصری زندگی کا آئینہ دار اور مظہر بنایا۔کہا جاتا ہے یگانہ کے مزاج کا تیکھا پن اور زندگی سے بھر پور لہجہ خواجہ حیدر علی آتش کی یاد دلاتا ہے۔ جن ناقدین نے یاس عظیم آبادی کو یگانہ چنگیزی،خاک پائے میر وآتش کو امام الغزل، ابوالمعانی اور یگانہ علیہ السلام بنا نے والے عوامل و عواقب کا اور ان کے کلام کا معروضی تجزیہ کیا اور ان کی شعری خدمات اور انفرادیت کو تسلیم بھی کیا  ان میںپروفیسر سیدہ جعفر بھی شامل ہیں۔وہ یگانہ کی پوری شخصیت اور شعری انفرادیت کا معروضی تجزیہ کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ:

’’یگانہ تنہا تھے اور مخالفین کی ایک بڑی جمعیت کا سامنا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ میدان سے ان کے قدم اکھڑنے لگے۔یگانہ کو اپنی عظمت اور انفرادیت کا شدید احساس تھا۔حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے غزل کے لب و لہجے اور مزاج کو بدل دیا۔ روایت سے انحراف  کرکے مصنوعی آرائش و زیبائش، لفظ پرستی اور سطحیت کو تفکر،جدت طرازی اور تازگی خیال سے بدل دیا...زبان و بیان کے اعتبار سے یگانہ کا کلام اپنے کسی ہم عصر سے کمتر نہیں۔روز مرہ اور محاوروں کا استعمال،بے ساختگی،طرزادا کی سادگی اور روانی یگانہ کے انداز ترسیل کے پہچان بن گئے ہیں... رباعی کے فن پر یگانہ کو دسترس حاصل ہے...افکار و تصورات کی جدت اور زبان کی سادگی نے رباعیات یگانہ ( ترانہ) کو قابل توجہ بنا دیا ہے۔‘‘

(تاریخ ادب اردو: عہد میر سے ترقی پسند تحریک تک  جلد چہارم ،  سیدہ جعفر  وی جی  پرنٹرس دلسکھ نگر حیدر آباد   ص  250   )


حوالہ جات

  1.       آیات وجدانی: یاس یگانہ چنگیزی، مبارک علی تاجرکتب لاہور، 1927
  2.               یگانہ احوال و آثار:نیر مسعود  انجمن ترقی اردو ہند دہلی 1991
  3.       نگار(معاصر غزل گویوں پر تنقید نمبر)  مدیر: نیاز فتح پوری  جنوری 1942
  4.               یاس یگانہ چنگیزی : راہی معصوم رضا : شاہین پبلشر الہ آباد  1967
  5.               آگہی وبے باکی:    باقر مہدی، گوشۂ ادب ارکیڈیا بلڈنگ بمبئی 1965  
  6.       اردو ادب کی مختصر تاریخ: ڈاکٹر انور سدید۔ایم آر پبلی کیشنز نئی دہلی  2013
  7.      ہماری شاعری:  سید مسعود حسن رضوی، نظامی پریس لکھنؤ اترپردیش 1926
  8.       تاریخ ادب اردو: عہد میر سے ترقی پسند تحریک تک  جلد چہارم:  سیدہ جعفر  وی جی  پرنٹرس دلسکھ نگر حیدر آباد 2002


Dr. Abu Shaheem Khan

Associate Professor, Dept of Urdu

Maulana Azad National Urdu University

Gachibowli

Hyderabad- 500032 (Telangana)

Mob.: 7354966719

اردو میں تحشیہ و تعلیق:مسائل اور حل: شاداب شمیم

 


لغت میں تحشیہ کے کئی معنی ملتے ہیں جیسے حاشیہ چڑھانا، کسی کتاب وغیرہ کا حاشیہ لکھنا،کنارہ یا حاشیہ بنانا وغیرہ اورادبی اصطلاح میں کسی شعر، شہر، لفظ،کتاب اوراشخاص وغیرہ کے مختصربیان یا وضاحت کو کہاجاتاہے، عام طور پر حاشیہ میں وہی چیزیں تحریرکی جاتی ہیں جنھیںمتن کا حصہ نہیں بنایاجاسکتا۔ اس کامادہ ح و ش ہے۔قدیم زمانے سے اس کاچلن رہاہے۔ خاص طورپر عربی کی درسی کتابوں میں اس کا رواج تو عام ہے۔اس کے ذریعے اصل ماخذ کی نشاندہی اورمختلف نکات کی تو ضیح بھی کی جاتی ہے۔ حاشیہ کومتنی حواشی،غیرمتنی حواشی،ترتیبی حواشی میں تقسیم کیاگیا ہے اوران کی کئی ذیلی اقسام بھی ہیں۔ اسی طرح تعلیق کا استعمال بھی حاشیہ کی طرح ہی ہوتاہے۔ اس کے لغوی معنی لٹکانا،کسی چیز کو دوسری چیز سے متعلق کرنا، حاشیہ، فٹ نوٹ، وضاحت وغیرہ ہیں۔ اس کے تحت متن سے متعلق اضافی معلومات تحریرکی جاتی ہیں۔ اس کی بھی کئی قسمیں ہیں۔ استشہادی تعلیق، ارتباطی تعلیق، اضافیاتی تعلیق اور افادیاتی تعلیق وغیرہ ۔بعض محققین تحشیہ اورتعلیق کو الگ الگ استعمال کرتے ہیں اور بعض نے ان دونوں کو مترادف بتایا ہے۔  ڈاکٹر نذیر احمد تصحیح و تحقیق متن میں لکھتے ہیں

 ’’فرہنگ نامہ دہخدا سے معلوم ہواکہ حاشیہ اور تعلیقہ بہ اعتبار معنی ومفہوم یکساں ہیں،لیکن استعمال کے لحاظ سے ان میں کچھ فرق ہے،تعلیقہ معقولات اورفلسفہ کی کتابوں کے حاشیہ کو کہتے ہیں اوردوسرے فنون کی کتابوں میں تعلیقہ یا تعلیقات، حواشی یا حاشیہ کہلاتے ہیں۔‘‘

(تصحیح و تحقیق متنص53)

حواشی و تعلیقات کے استعمال کے متعلق خلیق انجم لکھتے ہیں

’’اب تک تعلیقات اور حواشی کا جو مفہوم بیان کیاگیاہے اس سے حواشی اورتعلیقات کے مفاہیم میں فرق کرنا مشکل ہوجاتاہے،اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم لغوی،فرہنگی اورادبی امو ر کی وضاحتوں کے سلسلے میں کچھ لکھیں تو ہماری تحریریں حواشی کے دائرے میں آئیں گی اوراگر متن کے تاریخی،سماجی یا ادبی واقعات کی تفصیل بیان کی جائے یا ان افراد کے حالات بیان کیے جائیں جن کا ذکر متن میں آیاہے تو وہ تعلیقات کہلائے جائیں گیــ۔‘‘(متنی تنقید ص103.104 )

ادبی تحقیق میں تحشیہ ا ور تعلیق کی بہت اہمیت ہے۔ اس کے بغیر اچھی اور معیاری تحقیق کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ آج  تحقیق کے نام پر تبصرہ، تنقید اور تجزیہ کو پیش کیا جا رہا ہے۔ اس لیے کہ جب ہم آج کی تحقیق کو ادبی تحقیق کے معیار پر جانچتے اورپرکھتے ہیں اور یونیورسٹیز میں پی ایچ ڈی کے موضوعات کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوجاتا ہے کہ واقعی اچھی اور معیاری تحقیق نہیں ہورہی ہے۔ہم خود نہیں چاہتے کہ عمدہ اور معیاری تحقیق سامنے آئے۔اسی لیے ہم ایسے موضوعات کا انتخاب کرتے ہیں جن پر یا تو پہلے سے موادبکثرت موجود ہوتا ہے یا پھر چبے چبائے لقموں کو نئے الفاظ و انداز میں پیش کردیتے ہیں، اگر آج ریسرچ کا معیار گرا ہے اور دن بہ دن ادبی ریسرچ اپنا وقار کھوتی جا رہی ہے تواس کے ذمے دارجس طرح ریسرچ اسکالرز ہیں اسی طرح اساتذہ اور نگراں حضرات بھی ہیں۔ وجہ ظاہر ہے کہ آج ہر کوئی سہل پسند ہوگیا ہے، کتابوں کے مطالعے اور نئی نئی چیزوں کو اخذ کر نے کا ان کے پاس نہ تو جذبہ ہے اور نہ ہی وقت،اگریہی حال رہاتو وہ وقت دور نہیں جب ہماری تحقیق و ریسرچ کی کوئی وقعت و اہمیت نہیں رہے گی اوراسے ردی کے حوالے کردیاجائے گا۔اس لیے ضروری ہے کہ ہر وہ طریقہ اورراستہ اختیار کیاجائے جس سے معیاری اور عمدہ تحقیق ہمارے سامنے آسکے۔

آج کے اسکالر ز حواشی وتعلیقا ت کی طرف اس لیے بھی متوجہ نہیں ہوتے کہ حواشی وتعلیقات انہی کتابوں پر لکھنے کی ضرورت ہوتی ہے جوکلاسک کادرجہ رکھتی ہیں اور آج سے دوتین سوسال پہلے تصنیف یا تحریر کی گئی ہیں۔ اس وقت اردو زبان و ادب پر فارسی و عربی زبان کا غلبہ تھا، اس لیے اس وقت کی کتابوں اور تحریروں میں بھی ان زبانوں کا بکثرت استعمال ہواہے، یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آج کے زیادہ تر اردو اسکالرز فارسی و عربی زبان سے ناواقف ہیں اور اگر واقف ہیں تومحض کچھ لفظوں اور جملوں سے، اور ظاہر ہے کہ ان سے تو فارسی و عربی عبارت کو سمجھ پانا کافی مشکل ہے۔مثال کے طور پر مکاتیب سر سید،غبارخاطر اوراس طرح کی دوسری کتابوں کا مطالعہ کرتے وقت یہ احساس ہواکہ ان میں بکثرت فارسی و عربی الفاظ و جملوں کا استعمال کیا گیاہے اور سرسیدکے کچھ خطوط تو ایسے ہیں جو اردو سے شروع ہوتے ہیں اور پھر بیچ میں ایک طویل پیراگراف فارسی زبان میں ہے اور پھر آخر کا پیراگراف اردو میں ہے،)خط بنام محسن الملک،مکاتیب سرسیدجلد1،ص155)تو اس سے اندازہ لگا یاجاسکتا ہے کہ جو اسکالر فارسی زبان سے ناواقف ہوگا وہ تو سر سید کے خط کو بھی کما حقہ نہیں سمجھ سکتا،اس لیے یونیورسٹیز میں حواشی وتعلیقات پر زیادہ سے زیادہ توجہ دی جانی چاہیے تاکہ ہم اپنی کلاسیکی اور پرانی کتابوں سے خاطر خواہ استفادہ کر سکیں اورانھیں عوام کے لیے مفید اور قابل استفادہ بناسکیں۔

 ہاں یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ حواشی و تعلیقات تحریر کرنا ایک مشکل امر ہے لیکن ناممکن نہیں،حواشی و تعلیقات تحریر کرتے وقت بہت سے مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے سب سے پہلے تو یہی سمجھنے میں کافی پریشانی ہوتی ہے کہ حواشی و تعلیقات ہم معنی لفظ ہیں یا مترادف، اگر ہم معنی ہیں تو ان کا طریقہ ٔکار اور استعمال کہاں،کیسے اور کس طرح ہوتا ہے اور اگر مترادف ہیں تو پھر اس کا طریقۂ استعمال کیا ہے یا کیا ہونا چاہیے،کہاں پر اور کیسے اس کو پیش کیا جا سکتا ہے وغیرہ۔اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے یوجی سی کے ذمے داران نے کورس ورک میں حواشی وتعلیقات کو شامل کیا ہے۔طلبہ واساتذہ کو اسے بہتر طریقے سے پڑھنا اور پڑھانا چاہیے،جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اسکالرز اس موضوع سے مانوس ہوجائیں گے اوربہتر طریقے سے اس کا حق اداکرسکیں گے۔

حواشی و تعلیقات پر کام کرنا دشوار گزار اس لیے بھی ہے کہ متعلقہ موضوع پر مواد مختلف انسا ئیکلوپیڈیاز اور علوم وفنون کی کتب کے اوراق پلٹ کر جمع کرنا ہوتا ہے،اور آج اسکالرز کی سہل پسندی اس چیز کی عادی ہے کہ مواد دوچار کتابوں میں زیادہ سے زیادہ مل جائے اور تحقیق کا کام آسانی سے کم وقت میںپورا ہوجائے۔حالانکہ مختلف علوم وفنون کی کتابوں کی ورق گردانی ریسرچ اسکالر ز کے لیے بہت مفید ہے،نئی نئی چیزوں سے واقفیت ہوتی ہے، مختلف علوم و فنون کی اصطلاحات اور معلومات سے آشنائی ہوتی ہے اورریسرچ اسکالرز کی معلومات میں گراں قدر اضافہ ہوتا ہے۔

حواشی و تعلیقات تحریرکرنے کے لیے رسوم ورواج اور الفاظ و محاورات کی معلومات بھی بہت ضروری ہے، اس لیے کہ وہ کتابیں جو کلاسک کا درجہ رکھتی ہیں ان میں اردو کے ساتھ عربی و فارسی الفاظ و محاورات کا بکثرت استعمال ہواہے،محقق کے لیے ضروری ہے کہ اس کی نگاہ ان تمام چیزوں پرہو،جس سے کہ ان کے متعلق لکھنے میں اسے کوئی دشواری نہ ہو،اسی طرح پرانے زمانے میں جو علوم اور رسم ورواج رائج تھے اور اس وقت کی تہذیب اور طرز معاشرت کیا تھی اس پر بھی خاطر خواہ نگاہ ہونی چاہیے، اس لیے کہ بہت سے ایسے طریقے اور رسوم و رواج ہیں جو اس وقت تو رائج تھے لیکن آج ان کا چلن نہیں ہے،اس وقت وہ انسانی تہذیب و کلچر کا حصہ تھے آج نہیں ہیں۔ اس لیے حواشی و تعلیقات تحریرکرنے لیے مختلف علوم وفنون سے واقفیت ضروری ہے۔

اسی طرح پہلے کی کتابوں میں جو نام مندر ج ہوتے ہیں ان میں سے کچھ تو بہت مشہور و معروف ہوتے ہیں جن کی تفاصیل حاصل کرنا چنداں مشکل نہیں۔لیکن کچھ ایسے اسما بھی ہوتے ہیں جن تک رسائی بہت دشوار ہوتی ہے۔مثال کے طور پر مکاتیب سر سید کے مکتوب الیہم کچھ تو بہت مشہور ومعروف ہیں اور کچھ حضرات غیر معروف ہیں اسی طرح خط کے درمیان کچھ ایسے اصحاب کا نام آگیا ہے جو اس وقت مکتوب نگار اور مکتوب الیہم کے لیے معروف تھے لیکن آج ان کے سلسلے میں معلومات ملنا بہت مشکل ہے،اس لیے کہ امتداد زمانہ کی وجہ سے وہ لوگ پردئہ خفا میں چلے گئے،اس عدم واقفیت کی بناپر ایسی تحریروں کو پڑھتے وقت قاری متفکر رہتا ہے کہ یہ لوگ کون ہیں اور ان سے مکتوب نگار کا رشتہ یا تعلق کیا تھا۔اسی طرح کبھی کبھی صرف تخلص تحریر کیا جاتاہے اس سے بھی پریشانی ہوتی ہے کہ اگر صاحب تخلص مشہور ومعروف ہے تب تو اس کے متعلق معلومات آسانی سے مل سکتی ہیں لیکن غیر معروف ہونے کی صورت میں اس کی معلومات بہم پہنچانا کافی مشکل ہوجاتا ہے،اگر آج بھی ان شخصیات کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی گئیں تو جو چیز معلوم کرنا آج مشکل ہے آنے والے دنوں میں وہی ناممکن ہوجائے گا اور پھر کسی بھی صورت ان اشخاص کی شناخت ممکن نہ ہوگی، اس سے اردو ادب کا بڑا خسارہ ہوجائے گا اورپتا نہیں حوادث زمانے کا شکار ہوکر کتنے علوم و فنون،اشخاص و مقامات ضائع ہوجائیں گے۔

حواشی و تعلیقات کا تعلق پرانی کتب اور اخبارات و رسائل سے بھی ہے۔ بہت سی کتابوں کا ذکر پرانی کتابوں میں تو ملتا ہے لیکن آج وہ ناپید ہیں۔ اسی طرح مختلف اخبارات و رسائل جو اس وقت موجود تھے اور جن میں ادبا و شعراکی تخلیقات وغیرہ شائع ہوتی تھیں ان میں سے کچھ کے حالات و واقعات تو موجود ہیں اور کچھ کا ذکر صرف اس وقت کی کتابوں اور رسائل میں ہے،اگر ان کے سلسلے میں مزید معلومات حاصل کرناچاہیں تو پھر دوچار قدم چل کر ہی قلم خاموش ہوجاتا ہے۔ اس لیے کہ زیادہ تفصیل نہیں ملتی۔بہت سی اہم کتابوں کاعلم تو تذکرہ اورخطوط وغیرہ جیسی کتابوںکے مطالعے سے ہی ہوتا ہے۔

اس وقت کی تحریروں میں بہت سے حادثات، واقعات اورتحریکات کا ذکر ملتا ہے،اور ان کے متعلق بہت سے واقعات بھی مذکو ر ہیں، لیکن جب اس طرح کے واقعات وحادثات کی تحقیق کی جاتی ہے تو پھر راستے مسدود ہوجاتے ہیں اور چند قدم چل کر ہی محقق ہانپنے لگتا ہے۔ اس لیے کہ واقعات کا ذکر تو کتابوں میں ہے لیکن ان کی اصل تفصیل نہیں ملتی کہ یہ واقعہ کب، کہاں اورکیسے رونماہوا،اوراس کے اسباب وعلل کیاتھے۔اس لیے کہ جس طرح جستہ جستہ اردو زبان و ادب ترقی اور عروج کے منازل طے کر رہی تھی اسی طرح مغل حکمراں اورمغل حکومت اپنی زندگی کی آخری سانسیں گن رہی تھی۔ انگریزوں اور مغلوں میں بہت سی ایسی جھڑپیں ہوئی ہیں جن کا تذکرہ جابہ جا ملتا ہے اسی طرح 1857 کا واقعہ بھی بہت مشہور ہے اور اس کے چشم دید تو غالب اور سر سید بھی ہیں لیکن پھر بھی ان کے مکاتیب میں کہیں کہیں کچھ ایسے اشارے ملتے ہیں جن کی تفصیل جانے بغیر مطلوب تک رسائی مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔

ریسرچ اسکالر کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ وسائل کا بھی ہوتا ہے اس لیے کہ بغیر وسائل کے تحقیقی کام کیا جانا ناممکن امر ہے اور حواشی و تعلیقات ایسا موضوع ہے جس کے وسائل تک پہنچنے کے لیے تحقیق کے طالب علم کو بہت زیادہ تگ و دو اور محنت و مشقت کرنی پڑتی ہے۔ ان وسائل میں سب سے پہلے ذہن مواد کی فراہمی کی طرف منتقل ہوتا ہے چاہے وہ کسی بھی نوعیت کا ہو، مواد کتابی شکل میں بھی ہوسکتا ہے اور رسائل و جرائد،اخبارات،قدیم مخطوطات،کتبے اور دیگر اشکال میں بھی۔اس لیے کہ کسی بھی کتاب پر تعلیقات یا حواشی لکھنے کے لیے بنیادی ضرورت یہ ہوتی ہے کہ اس کے اصل مراجع و مصادر تک پہنچا جائے اور ان تک پہنچنے کا واحد ذریعہ مواد ہوتا ہے۔ یہاں طالب علم کو دو طرح کی دشواری ہوتی ہے پہلی تو مواد کی طرف نشاندہی کے سلسلے میں ہوتی ہے کہ ریسرچ اسکالر جس موضوع پر کام کر رہا ہے اس سے متعلق مواد تک کیسے پہنچے ؟ اور دوسری دشواری مواد تک پہنچنے کے بعدکی ہوتی ہے کہ اس مواد سے استفادہ کیسے کیا جائے ؟ کبھی تو وہ تحقیقی مواد اپنی زبان میں صاف و شفاف حالت میں مل جاتا ہے اور کبھی اس کی زبان کچھ اور ہوتی ہے یا اس کا خط کچھ اور ہوتا ہے جو اس زمانے میں رائج نہیں، اس وقت تحقیق کاطالب علم بہت سی پریشانیوں سے دوچار ہوتا ہے۔

اسی طرح وسائل میں کتابیں بھی شامل ہیں اس لیے کہ تحشیہ اور تعلیق کے لیے بہت سی کتابوں کی ضرورت ہوتی ہے اور پرانی کتابوں میں ہمیں کئی زبانوں کی اصطلاحات، رسوم و رواج اور واقعات ملتے ہیں، ان کی توضیح و تشریح اس زبان کی کتابوں کو پڑھ کر ہی ممکن ہے اس لیے کتابیں بہ سہولت فراہم ہونی چاہیئیں،تحقیق میں مواد کی فراہمی ہر جگہ ضروری ہوتی ہے مگر حواشی و تعلیقات میں بغیر مواد کے ایک قدم بھی نہیں چلاجا سکتا،جس شخصیت،کتاب یاواقعے کے بارے میں لکھاجارہا ہے اس کے مستند ہونے کے لیے حوالہ و مآخذ کی اشد ضرورت ہے۔

عصر حاضر میں جب کہ کتابوں کے پڑھنے کا رواج کم ہو رہاہے،ہر چیز ڈیجیٹلائز کی جارہی ہے ایسے میں حواشی و تعلیقات کی ضرورت و اہمیت دو چند ہو گئی ہے۔ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اساتذہ کو اس بات کی طرف دھیان دیناچاہیے کہ عربی و فارسی سے واقف طلبہ کے سامنے حواشی و تعلیقات کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کریں اور انھیں اس سلسلے میںکام کر نے پر رغبت دلائیں۔ایم فل،پی ایچ ڈی کے انٹرویو میں طالب علم سے عربی و فارسی کی واقفیت دریافت کر کے کلاسیکی ادب کے حواشی و تعلیقات پر کام کرنے کا موقع فراہم کریں اورایسے اساتذہ جو عربی و فارسی سے واقف ہوں یا جنہوں نے قدیم متون پر کام کیا ہے وہ ایسے طلبہ کی رہنمائی کریں تاکہ ہمارے شعبوں کی تحقیق افسانہ و ناول تک محدود رہ کر آنے والے وقت میں خود افسانہ نہ بن جائے اور اس میں ان متون اور کلاسیکی ادب کی کوئی جگہ نہ رہے،جو اردو زبان و ادب کا گراںقدر اور اصل سرمایہ ہے۔

حواشی وتعلیقات پر کام کرنے والے ریسرچ اسکالرز  اور محققین کے لیے مختلف اداروں کے ذریعے تیار کی جانے والی انسائیکلوپیڈیاز جیسے اردو دائر ہ معارف اسلامیہ 25 جلدیں، تاریخ ادبیات مسلمانان پاکستان و ہند، اردو جامع انسائیکلو پیڈیا، ارد و انسائیکلو پیڈیا، جغرافیائی معلومات انسائیکلوپیڈیااوراسلامی انسائیکلوپیڈیا وغیرہ بڑی کارآمد ہوتی ہیں، لغات، تذکرے، تاریخ ادب اردو کی کتب وغیرہ بھی اس سلسلے میں اہم وسیلے ہیں،اس کے علاوہ قاموس المشاہیراورماہنامہ نقوش کا شخصیات نمبر، الاعلام للزرکلی (خیرالدین زرکلی)، اردو محاورے، اردو میں مستعمل محاورے اوردہلی میں محاورے وغیرہ اہم کتابیں ہیں جن کے ذریعے محقق حواشی وتعلیقات میں بھرپور استفادہ کر سکتا ہے،مختلف علوم و فنون کی اصطلاحات و الفاظ کے سلسلے میں اس شعبے کے اساتذہ اورماہرفن سے ضرور استفادہ کرنا چاہیے، آج ہر یونیورسٹی میں مختلف شعبہ جات موجودہیں ہماری کوتاہی یہ ہے کہ ہم جس شعبے میں تحقیق کر رہے ہوتے ہیں دوسرے شعبے کے اساتذہ وماہرین کو اپنے موضوع سے غیر متعلق خیال کرتے ہیں مگر حواشی و تعلیقات میں ان سے اہم اور مفید معلومات فراہم ہو سکتی ہیں، لہٰذااس سلسلے میں ہمیں فراخدلی اور سیر چشمی سے کا م لینا چاہیے۔

مواد اور کتابوں کی دستیابی کے بعد ریسرچ اسکالر کا مرحلہ آسان ضرورہو جاتا ہے مگرمنزل ابھی بھی دور ہوتی ہے، مواد کی فراہمی کے بعد ضرورت ہوتی ہے تجربہ کار اور عالم و فاضل رہنماکی،حواشی و تعلیقات تحریرکرتے وقت ہرقدم پر نگراں کے مشورے اوران کی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لیے کہ مواد کی تراش خراش اوراس کے انتخاب میں باریک بینی اوردقت نظری بہت اہم چیزہے۔ ان مراحل سے گزرنے کے بعد شرط ہے کہ ریسرچ اسکالر محنت اور جانفشانی سے کام کرے اور زیادہ سے زیادہ و قت تحقیقی کام کو دے،یہ ایسا موضوع ہے جسے جتنا بھی وقت دیا جائے کم ہے،عام طورپر تحقیق کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ بہت خشک ہوتاہے،اوراس کے لیے یکسوئی کی اشدضرورت ہوتی ہے۔اس کے بغیر عمدہ تحقیق کاتصور بھی نہیں کیاجاسکتا۔

حواشی و تعلیقات بہت ہی قدیم فن ہے،چونکہ اردو زبان کا تعلق عربی اورفارسی سے بہت گہراہے،یہی وجہ ہے کہ اردو نے عربی اورفارسی کے بہت سے اثرات قبول کیے ہیں،الفاظ و محاورات کے علاوہ بہت سی اصناف میں اردو نے ان زبانوں کی پیروی کی ہے۔عربی اور فارسی میں اس کا رواج بہت پہلے سے رہاہے۔خاص طورپر عربی کی درسی کتابوں کے حواشی بہت مقبول ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ حدیث کی تقریباً تمام کتابوں کے حواشی تحریرکیے گئے ہیں،اوربہت سے محشی صرف حواشی تحریرکرنے کی وجہ سے علمی و ادبی دنیامیں کافی مقبول و معروف ہوئے ہیں، علم حدیث میں امام ابن حجر عسقلانی نے تحفۃ الباری،نووی نے المنہاج فی شرح صحیح مسلم،علامہ قسطلانی نے ارشاد الساری فی شرح صحیح بخاری اوربدرالدین عینی نے عمدۃ القاری اورطبقات الشعرا وغیرہ کتابیں تصنیف کی ہیں، اسماء الرجال اورسوانح میں جمال الدین مزی نے تہذیب الکمال اورامام شمس الدین ذہبی نے سیراعلام النبلاء وغیرہ جیسی اہم کتابیںیادگارچھوڑی ہیں،اورعربی ادب میں ثعالبی نے یتیمہ الدھرفی محاسن اھل العصر اوراصمعی نے الاصمعیات اورفحول الشعرا وغیرہ کے نام سے حواشی تحریرکی ہے۔اسی طرح فارسی کی بہت سی کتابوں پر بھی اس کے محققین نے بہت ہی قیمتی اورنادر حواشی تحریرکیے ہیں، محمدمعین الدین نے حاشیہ چہار مقالہ،فتح اللہ مجتبائی نے حاشیہ طوطی نامہ،قاضی سجاد حسین نے حاشیہ دیوان حافظ اورمثنوی معنوی اورمحمدعلی فروغی نے حاشیہ گلستان سعدی وغیرہ تحریرکیاہے۔ان لوگوں نے بہت ہی محنت اورتحقیق کے بعد حواشی وتعلیقات تحریرکیے ہیں،اوربہت سی ایسی معلومات کو حواشی و تعلیقات کے ذیل میں یکجا کردیاہے جسے حوادث زمانہ نے بھلادیاتھا یا پھر اس پر گذرتے وقت کی دھول جم گئی تھی۔

اردو میں کئی محقق اورمتنی نقاد گذرے ہیں جنہوں نے بہت ہی اہم اورمعلوماتی حواشی و تعلیقات تحریرکیے ہیں، امتیازعلی خاں عرشی نے دیوان غالب اورمکاتیب غالب، مالک رام نے غبار خاطر، تذکرہ، رشیدحسن خاں نے باغ وبہار، سحرالبیان، گلزارنسیم، زہرعشق، پروفیسر نذیر احمدنے دیوان سراجی خراسانی اورخلیق انجم نے مکاتیب غالب کے حواشی وتعلیقات لکھے ہیں،ان لوگوں نے قابل تقلید نمونے ہمارے سامنے پیش کیے ہیں،جس سے کہ ہم دیگر کلاسک کتابوں کے حواشی لکھ سکتے ہیں،مثال کے طورپر مکاتیب غالب( نسخہ عرشی) میں صفحہ نمبر61 پر ’’میاں انجو،جامع فرہنگ جہانگیری،شیخ رشید راقم فرہنگ رشیدی عظماء عجم میں سے نہیں‘‘لکھاہواہے،لیکن اس وقت کے قاری کے لیے انجو اوررشید نامعلوم ہیں،صرف انجو اوررشید سے شاید ہی کوئی ان کو پہچان سکے اوران کے کارنامے کو جان سکے،اس لیے ان کی تفصیل ضروری ہے، تاکہ قاری کو اندازہ ہوکہ یہ کون ہیں اور ان کی شناخت کیا ہے،اس لیے ان کے متعلق تعلیقے کے طور پر امتیاز علی خاں عرشی لکھتے ہیں

’’انجو کا نام جمال الدین حسین بن شاہ حسن انجوی شیرازی اورلقب عضدالدولہ ہے،ان کے آباو اجدادفارس کے شہرۂ آفاق شہر شیراز کے باشندے تھے، یہ وہیں پیدا ہوئے، بعد ازاںتلاش روزگار ہندوستان آئے اوربقول محمد حارثی بدخشی 1626 میں آگرے میں انتقال کیا، فرہنگ جہانگیر ی اکبر کے عہد میں شروع ہوکر نورالدین جہانگیر کی حکومت میں انجام کو پہنچی،اس لیے اس کے نام معنون کی گئی،انجو کو ازراہ تحقیر میاں لکھاہے،جیسے ایک جگہ فیضی کو لکھتے ہیں اہل ہندمیں سواخسرو دہلوی کے کوئی مسلم الثبوت نہیں، میاں فیضی کی بھی کہیں کہیں ٹھیک نکل جاتی ہے‘‘

’’رشید کانام عبدالرشید حسنی ہے،ان کے آباو اجداد مدینہ منورہ کے رہنے والے تھے،یہ خود شہر ٹھٹھ میں پیدا ہوئے، منتخب اللغۃ اورفرہنگ رشیدی ان کی مصنفہ ہیں، شاعر بھی تھے اوررشیدی تخلص کرتے تھے،انھوں نے تحفۂ رشیدی کے نام سے شعراء فارسی کا ایک تذکرہ بھی لکھا ہے، اس کا ایک نسخہ ایشیاٹک سوسائٹی بنگال کے کرزن کلکشن میںمحفوظ ہے،مرزاامیر بیگ بنارسی کے تذکرہ حدائق الشعرا  کا یہ ماخذہے،خزانۂ عامرہ نولکشور پریس میں ان کا سال وفات 1866 لکھاہے،غالب نے انھیں حقارت کی راہ سے شیخ لکھاہے،ورنہ وہ جانتے تھے کہ عبدالرحمن حسنی سید ہیں۔ (مکاتیب غالب،امتیاز علی خاں عرشی،ص174,175)

مالک رام کا شمار ممتاز محقق اوراہم متنی نقاد میں ہوتا ہے، انھوں نے غبار خاطر پر حاشیہ لگایاہے،غبار خاطر کے خط نمبر پانچ میں ایک جملہ ہے’’تھکاماندہ قیام گاہ پر پہنچا، توصاحب مکان کو منتظر اورکسی قدرمتفکر پایا، یہ صاحب کچھ عرصہ سے بیمار ہیں،اورایک طرح کی دماغی الجھن میں مبتلارہتے ہیں‘‘صاحب مکان کے متعلق مالک رام لکھتے ہیں

’’صاحب مکان سے مراد شری بھولا بھائی ڈیسائی ہیں،جن کے ساتھ مولاناٹھہرا کرتے تھے،ان کا 6 مئی 1946 کو دل کی حرکت بندہوجانے سے انتقال ہوا، آخری عمر میں وہ کچھ دماغی پریشانیوں کا شکار رہنے لگے تھے۔‘‘(غبارخاطر،مالک رام،ص295)

ان محققین کاذکراور ان کی کتابوں سے مثا ل دینے کا اصل مقصد یہ ہے کہ نئے لوگ جو اس موضوع پرکام کرناچاہتے ہیں وہ دیکھیں کہ کس طرح حواشی و تعلیقات تحریرکیے جاتے ہیں،اورکن چیزوں کا ذکر کرنااس میں ضروری ہوتاہے، عہدحاضر میں حواشی و تعلیقات کی اہمیت و افادیت پہلے سے کہیں زیادہ ہو گئی ہے،کیوں کہ جب ہم کلاسک کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں مصنف کے معاصرین اوران کے خاندان کے دیگرافرادکا ذکر ملتا  ہے ،قدیم زمانے کی تحریروں میں بڑی تعداد میں ایسے الفاظ، محاورات، اشخاص و مقامات، قرآنی آیات، عربی و فارسی کے الفاظ و محاورات، فقہی اصطلاحات اور عقلی و منطقی دلائل و براہین کا استعمال ہو ا ہے جن کو بہ آسانی ہر طالب علم نہیں سمجھ سکتا،نیز ان کتابوں میں استعمال شدہ بہت سے الفاظ و اصطلاحات اب متروک قرار پاچکے ہیں ایسے میں حواشی وتعلیقات کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے، ورنہ خدشہ ہے کہ یہ پرانی اور کلاسیکی کتابیں خود اردو والوں کے لیے ہی قصۂ پارینہ نہ بن جائیں۔نیزان کتابوں میں اس زمانے میں مستعمل کتب و رسائل، اشیا اور دیگر چیزوں کے نام ملتے ہیں جو بعد میں حوادث زمانہ کا شکار ہو کر ناپید ہو گئی ہیں۔ اسی طرح اس زمانے کے بہت سے محاورات بھی آج کے لیے ناقابل فہم ہیں، تاریخی نقطہ ٔ نظر سے ان کی تفصیل و معلومات کو حاصل کرکے حواشی و تعلیقات میں جمع کرنے سے ہم تاریخی، فنی اور معروـضی اعتبار سے مضبوط و مالامال ہو جاتے ہیں، آج جب ہم مکاتیب غالب و سرسید اوراس جیسی دیگر کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان میں موجود اسما،اماکن،کتب و حوادث کی از سر نو تفہیم کی ضرورت پڑتی ہے، کیوں کہ فی زماننا اس کی زیادہ ترچیزیںپردئہ خفامیں ہیں، جن کی عدم تفہیم کی وجہ سے ہم غالب وسرسید کی تحریروں سے خاطرخواہ استفادہ نہیں کرسکتے،ا س لیے ضرورت ہے کہ حواشی وتعلیقات کے ذریعے نسل نو کے لیے ان کی تفہیم کو آسان بنائیں۔

n

Md Shadab  Shamim

D-35, Fourth Floor

Shaheen Bagh, Jamia Nagar

New Delhi- 110025

Mob.: 9643885605

ہندوستان میں اردوزبان کا مستقبل: درخشاں تاجور


 اردو زبان و ادب کے متعلق پروفیسر آل احمد سرور کا یہ بیان حیاتِ جاوداں کی حیثیت رکھتا ہے کہ:

’’اردو ادب کا لہلہاتا ہوا باغ تنہا ایک باغبان کی محنت کا ثمرہ نہیں اس کی آبیاری مختلف جماعتوں، مذاہب اور ممالک نے مل کر کی ہے اس کی تعمیر میں بہتوں نے اپنا خون پسینہ ایک کیا ہے۔ فقیروں اور درویشوں نے اس پر برکت کا ہاتھ رکھا ہے۔ بادشاہوں نے اسے منھ لگایا ہے۔ سپاہیوں نے زبانِ تیغ اور تیغ زبان دونوں کے جوہر دکھائے ہیں پھر بھی یہ جمہورکی زبان اور جمہور کا ادب ہے۔‘‘ 

(بحوالہ’ اُردوزبان و قواعد ‘(حصہ دوم) از شفیع صدیقی مکتبہ جامعہ نئی دہلی، 2008،ص 1

ان کا یہ مقولہ جس وقت میں نے پڑھا تھا وہ میری طالب علمی کا زمانہ تھا اس وقت نہ تو مجھے جمہوریت کا مطلب معلوم تھا اور نہ ہی میں اردو زبان و ادب کی تاریخ سے پوری طرح واقف تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ جیسے جیسے اس زبان سے میری رغبت بڑھی مجھے پروفیسر آل احمد سرور کے اس بیان کی معنویت کا احساس بھی ہوا اور اردو زبان کی اہمیت اور قدرو قیمت معلوم ہوئی۔ رفتہ رفتہ میں بھی اس خوبصورت زبان کی زلفِ گرہ گیر کی اسیر ہوگئی اور اب میں بھی آنند نرائن ملاکے لفظوں میں دعوے کے ساتھ یہ کہہ سکتی ہوں کہ           ؎

بزمِ ادب ہند کے ہر گل میں ہے خوشبو

ملا گل اردو کی مہک اور ہی کچھ ہے

یہ وہ زبان ہے کہ جو ہمیں تہذیب یافتہ بھی بناتی ہے اور شائستگی کا ہنر بھی سکھاتی ہے فراق گورکھپوری جو اس زبان کے عاشقوں میں سے تھے اکثر کہا کرتے تھے کہ ’’ اردو اس لیے بھی پڑھو کہ افسر بننے کے بعد افسر دکھائی دو ‘‘ 

(ماہنامہ اردو دنیا، اگست 2004، ص 5)

اردو کا اپنا ایک شاندار ماضی بھی ہے یہی وہ زبان ہے جس نے ہندوستان کی پوری جنگ آزادی کی تاریخ اپنے آپ میں سمو کر رکھا ہے۔ یہ زبان تحریکِ آزادی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلی ہے ملک کے سیاسی افق پر ابھرنے والی ہر تحریک کی موا فقت میں نظمیںکہہ کر اسے کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اپنا تعاون دیا ہے۔ آزادی کے متوالوں کو ’انقلاب زندہ باد‘ کا ولولہ انگیز نعرہ اسی زبان نے دیا ہے           ؎

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

(بسمل عظیم آبادی)

نہیں پالا پڑا قاتل تجھے ہم سخت جانوں سے

ذرا ہم بھی تو دیکھیں تیری جلاّدی کہاں تک ہے

(محمد علی جوہر)

جیسے اشعار سے سرفروشانِ وطن کے حوصلوں کو توانائی اسی زبان نے بخشی ہے۔ عباس بیگ بریلوی عباس اسی زبان کے شاعر تھے جن کے شعر        ؎

اختر جھپک گئے ترے خالوں کے سامنے

گوروں کے پاؤں اٹھ گئے کالوں کے سامنے

کو انگریزوں نے بغاوت پر محمول کیا تھا اور انھیں پھانسی دے دی تھی۔

(1857 کے مجاہد شعرا از مولانا امداد صابری، مکتبہ شاہراہ دہلی، لکھنؤ 1959، ص 304)

بدرالاسلام بدایونی مشہور بھی اسی زبان کا شاعر تھا جسے ایک نظم کے کہنے پر سزائے موت دے دی گئی جس کا ایک مصرعہ تھا  ع

سر کمپنی کا کٹ کے پکاؤ آنے آنے میں

انھیں انگریزوں نے گولی مار کر شہید کیا تھا۔

(1857کے مجاہد شعرا از مولانا امداد صابری ص 337)

اسی زبان کے صحافی مولوی محمد باقر بھی تھے، جنھیں 1857 کی جنگِ آزادی میں انگریزوں کی مخالفت میں خبریں شائع کرنے کے جرم میں جامِ شہادت نوش کرنا پڑا تھا اور اپنی ساری جائداد سے ہاتھ دھونا پڑاتھا۔

(تحریکِ آزادی میں اردو کا حصہ از ڈاکٹر معین الدین عقیل ترقی اُردو کراچی 1976، ص 80)

بہادری پریس قائم کرنے والے سید قطب شاہ بریلوی بھی اسی زبان کے صحافی تھے جن کے پریس سے ہندوستا ن کی پہلی جنگ آزادی کو فروغ دینے کے لیے بڑی تعداد میں لٹریچر شائع ہوتا تھا انگریزوں نے ان کی بھی ساری جائداد ضبط کر لی تھی اور انھیں بہ عبور دریائے شور کی سزا دی تھی۔

(’اوراقِ زرّیں از ڈاکٹر درخشاں تاجور ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی 2017، ص75 تا 80)

یہ تو فقط چند ادبا و شعرا تھے جنھوں نے ہندوستانیوں کے ذہن ودل میں انگریزوں کے خلاف نفرت و عداوت کی چنگاریاں بھڑکا کر انھیں غیر ملکی غاصبوں کے خلاف سینہ سپر کرنے میں نہ صرف اپنا تعاون دیا بلکہ اپنا تن من دھن سب کچھ اس ملک پر خندہ پیشانی سے نچھاور کردیا۔۔ انگریز اردو کے قلمکاروں سے جو ملک میں ان کے خلاف بے اطمینانی کے جذبات بھڑکا رہے تھے حد درجہ خائف تھے اور سراسیمگی کی حالت میں انھوں نے اس زبان کا بہت سا شعری و ادبی سرمایہ ضبط بھی کیا آج بھی بہت سا مواد نیشنل اوراسٹیٹ آرکائیوز میں محفوظ ہے اور جو ہندوستان کی جنگِ آزادی میں دیے گئے اردو کے شاندار اور مثالی کردار کی گواہی دے رہا ہے۔

یہ زبان ہمارے ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی امین ہے سیکولر زم اس زبان کی خمیر میں ہے۔ یہ زبان صوفیوں اور درویشوں کی گود میں کھیلی ہے۔ خانقاہوں میں اس نے پرورش پائی ہے لہٰذا مذہبی رواداری تو اس کی روح میں سرایت کی ہوئی ہے۔ اس زبان نے ہر دور میں دلوں میں محبت کے دیپ اور اتحاد و یکجہتی کی قندیلیں جلانے کا مقدس فریضہ بھی بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیا ہے۔ غلام ہندوستا ن رہا ہو یا آزاد ہندوستان اس زبان نے اقبال کے لفظوں میں اہل وطن کو یہی پیغام دیا ہے کہ         ؎

وا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زبان

چھپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامۂ محشر یہاں

وصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سے

دیکھ کوئی دل نہ دُکھ جائے تری تحریر سے

ہندو مسلم اتحاد کے جذبات کو توانائی بخشنے کے لیے اردو میں دیے گئے سرسید احمد خاں کے اس بیان کا کیا کوئی مول ہے جس میں انھوں نے اہل وطن کو مخاطب کر کے یہ کہا تھا کہ

’’اے میرے دوستو! میں نے بار بار کہا ہے اور پھر کہتا ہوں کہ ہندوستان ایک دولہن کی مانند ہے اگر وہ دونوں آپس میں نفاق رکھیں گے تو وہ پیاری دولہن بھینگی ہو جاوے گی اور ایک دوسرے کو برباد کردیں گے تو وہ کانڑ ی ہو جاوے گی... اب تم کو اختیار ہے کہ اس دولہن کو بھینگا بناؤ کہ کانڑا۔‘‘ 

(مکمل مجموعہ لکچرو اسپیچنر ، مرتبہ جناب مولانا محمد امام الدین گجراتی مصطفائی پریس لاہور 1900، ص270)

لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہماری مشترکہ تہذیب کی علامت اس زبان کو صرف مسلمانوں سے جوڑ کر اس کی توہین کی جاتی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں نے اسے اپناکر اسے سیکولر سانچے میں ڈھالنے میں معاونت کی ہے۔ فراخ حوصلگی اس زبان کی پہچان ہے تو دوسرے مذاہب کے عقائد کا احترام اس کا سرمایۂ افتخار۔ مذہبی رواداری کی جو مثالیں اس زبان نے پیش کی ہیں اس کی نظیر شاید ہی دنیا کی کوئی دوسری زبان پیش کر سکے اس کے ہندو شعرانے اگر عید، محرم، پیغمبرانِ اسلام اور شہیدانِ کربلا پر عقید ت مندانہ نظمیں کہی ہیں تو اس کے مسلم شعرا نے ہولی، دیوالی مذہبی کتابوں اور دیوی دیوتاؤں پر نظمیں کہہ کر اپنی وسیع المشربی کا ثبوت پیش کیا ہے۔ اس کے گیسوئے سخن کو سنوارنے میں جتنا حصّہ مسلمانوں نے لیا ہے اس سے کہیں زیادہ حصہ دوسرے مذاہب کے پیروکاروں نے لیاہے۔ رام نرائن موزوں، دیا شنکر نسیم، رتن ناتھ سرشار، درگاسہائے سرورجہاں آبادی،برج نرائن چکبست، تلوک چند محروم‘  پنڈت دتا تریہ کیفی بالمکند عرش ملسیانی، لبھورام جوش ملسیانی، آنند نرائن ملاّ، فراق گورکھپوری، منشی پریم چند، جگن ناتھ آزاد، نریش کمار شاد، کرشن چندر، راجندرسنگھ بیدی، پروفیسر گوپی چند نارنگ، مہندر پرتاپ چاند جیسی قدآور شخصیات نے اردو زبان و ادب کے لیے جو خدمات انجام دی ہیں وہ اس زبان کا ایسا روشن باب ہے جسے اردو زبان کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔

یہ اس زبان کی خوش نصیبی ہے کہ اردو کو صرف ایک طبقے سے جوڑنے کے خلاف غیر مسلم ادبا اورشعرا نے زبردست احتجاج کیا ہے آنند نرائن ملاّ نے اپنے کرب کو اپنے ایک شعر میں ان الفاظ میں ڈھالا           ؎

لب مادر نے ملاّ لوریاں جس میں سنائی تھیں

وہ دن آیا اب اس کو بھی غیروں کی زباں سمجھ

پروفیسر کنہیا لال کپور نے اردو کو صرف مسلمانوں کی زبان کہنے والوں کی مذمت کچھ اس انداز میں کی ہے

’’ ایک وہ زمانہ تھا کہ اردو کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا تھا۔ پھر نہ جانے کس کی نظر کھا گئی کہ اس سے نظر بچا کر نکل جانے میں ہی خیریت سمجھی جانے لگی۔ ان دنوں ارباب وطن اس سے یو ں بدکتے ہیں جیسے یہ کوئی خطرناک چیز ہو۔ ہندوستان میں اردو کی یہ حالت اس لیے ہوئی کہ اردو کے دشمنوں اور نادان دوستوں نے اسے مسلمانوں کی زبان بنا دیا۔یہ خوبصورت زبان ہندوستانی اور اسلامی تہذیب کے امتزاج سے وجود میں آئی یہ مشترکہ تہذیب کی نشانی تھی اس کی سرپرستی ہر مذہب کے لوگوں نے کی آزادی کے بعد یہ فرقہ پرستوں کی بھینٹ چڑھ گئی۔‘‘

(ماہنامہ ’’اردو دنیا‘‘ نئی دہلی، اگست 2004 ،ص 16)

اقبال اشہر نے اپنے اشعار میں ایسے لوگوں کو کچھ اس انداز میں مخاطب کیا کہ          ؎

کیوں مجھ کو بناتے ہو تعصب کا نشانہ

میں نے تو کبھی خود کو مسلماں نہیں مانا

دیکھا تھا کبھی میں نے بھی خوشیوں کا زمانہ

اپنے ہی وطن میں ہوں مگر آج اکیلی

خوش آئند بات یہ ہے کہ اب لوگوں کو یہ احساس ہونے بھی لگا ہے کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان نہیں ہے۔ 14 فروری 2004 کو قومی اردو کونسل کے سنگ بنیاد کی تقریب میں مرلی منوہر جوشی کے اس بیان کی پذیرائی اردو داں حلقے میں خوب ہوئی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ

’’اردو مسلمانوں کی نہیں ہندوستان کی زبان ہے۔ کوئی بھی زبان کسی خاص مذہبی فرقے کی نہیں ہو سکتی۔ اردو زبان ہندوستانی تہذیب اور اس کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔‘‘  (بحوالہ ماہنامہ اردو دنیا، نئی دہلی اپریل 2004، ص7)

یہ سوچ ہی غلط ہے کہ زبان کسی مذہب یا فرقے کی ہوتی ہے زبان اس کی ہوتی ہے جو اسے سیکھتا ہے۔ نازش پرتاپ گڈھی نے کیا خوب کہا ہے          ؎

ہر اک زبان کو یارو سلام کرتے چلو

گروہ کی ہے نہ فرقے کی اور نہ مذہب کی

اس صداقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ اردو کے غیر مسلم شعرا و ادبا نے نہ صرف اس زبان پر ناز کیا ہے بلکہ انھوں نے اس زبان کی محبت میں اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کیا ہے۔ گوپال متل نے اگر یہ دعویٰ کیا کہ           ؎

ہم بھی اردو پہ ناز کرتے ہیں

یہ ہماری زبان ہے پیارے

تو پنڈت نرائن پانڈے اور جے بہادر سنگھ نے اس زبان کی محبت میں اپنی جانیں قربان کردیں۔ پنڈت نرائن پانڈے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دلانے کے لیے بھوک ہڑتال پر کانپور کے کلکٹر کے روبرو بیٹھے تھے جہاں 20 مارچ 1967 کو ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ اس کے کچھ ہی دن بعد اردو کا ایک اور عاشق جے بہادر سنگھ 31مارچ کو لکھنؤ میں قانون ساز اسمبلی کے سامنے جاں بحق ہو گیا۔ اردو کے ان بے لوث عاشقوں نے اردو زبان کے لیے جو قربانی دی اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔

ناانصافیوں کے باوجود اردو مٹنے کے آثار نہیں۔ اس کا مستقبل تاریک نہیں بلکہ روشن ہے۔ انٹرنیٹ اور ٹکنالوجی نے اس زبان کی ترویج و اشاعت میں اہم رول ادا کیا ہے۔ اردو کی نئی بستیاں بھی ا ٓباد ہورہی ہیں بیرونِ ممالک میں بھی بڑے پیمانے پر اردو اخبار اور رسالے نکل رہے ہیں اور کالجوں یونیورسٹیوں میں اردو بہ حیثیت مضمون پڑھائی بھی جارہی ہے۔ سمینار اور مشاعرے کا انعقاد بھی ہورہا ہے جو زبان کے فروغ میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ مختلف اکادمیاں اور این سی یوپی ایل بھی اردو کے فروغ کے لیے کام کررہی ہیں اردو سیکھنے کے لیے کتابیں شائع ہورہی ہیں۔کسی شاعر نے کہا ہے          ؎

سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں

فضاؤں کو اردو کی خوشبو سے معطر کرنے کے لیے اردو کے چاہنے والوں کو آگے آنا ہوگا۔انھیں انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی اس کی بقا کے لیے کوشش کرنی ہوگی جس سے تہذیب و ثقافت کی یہ زبان رہ سکے اور ہمارے اسلاف کی یہ امانت نئی نسلوں تک پہنچ سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سمینار اور مذاکرے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بچوں کو اردو سے قریب لانے کے لیے ان کے لیے تحریری اور تقریری مقابلوں کا انعقاد کرنا بھی اردو کے فروغ کی سمت میں ایک مثبت قدم ہوگا۔ اردو کو سادہ اور عام فہم بنا کر بھی اسے مقبولِ عام بنایا جا سکتا ہے۔ ابتدائی اور ثانوی اسکولوں میں اردو کی تعلیم کا انتظام کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔ مختلف بورڈ میں اردو ایک مضمون کی حیثیت سے تو شامل ہے لیکن اردو پڑھانے کا انتظام کہیں نہیں ہے۔ ابتدائی درجات میں اس زبان کی تعلیم کا نظم نہ ہونے کی وجہ سے ایک پوری نسل اردو رسم الخط کی شناخت سے محروم ہو چکی ہے۔ اس سلسلے میں بھی کارگر اقدامات کیے جانے کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم امید کی شمع روشن رکھیں اور آشا کے دیے کو بجھنے نہ دیں۔ مسلسل کوشش اور جدو جہد ہی اس زبان کو پھلنے اور پھولنے کے مواقع فراہم کر سکتی ہے بقول منظور ہاشمی          ؎

یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے

ہوا کی اوٹ بھی لے کر چراغ جلتا ہے

اردو کے چراغ کی لومدھم ضرور ہوئی ہے لیکن ابھی بجھی نہیں ہے۔ اس تھرتھراتی ہوئی لو کو جلا بخشنا ہماری اور آپ کی ذمے داری ہے۔ شکیل اعظمی کے اس شعر کے ساتھ اپنی بات ختم کرنا چاہوں گی             ؎

ہار ہو جاتی ہے جب مان لیا جاتا ہے

جیت تب ہوتی ہے جب ٹھان لیا جاتا ہے

n

Dr. Darakhshan Tajwar

Kainat, B/34, Tewari Pur

Aawas Vikas Colony

Gorakhpur- 273001 (UP)

Mob.: 7007281376