جمعرات، 16 دسمبر، 2021

اردو میں مکتوب نگاری: آغاز و ارتقا اور زوال - مضمون نگار: اسلم جمشیدپوری



 

خط لکھنا، خیریت کا لین دین ہے۔ اس کی ضرورت اُس وقت پڑی ہوگئی، جب انسان لکھنے پڑھنے لائق ہوا ہوگا اور اپنوں سے دور بغرضِ ملازمت، تجارت یا رہائش کہیں اور گیا ہوگا۔یہ کہنا تو ممکن نہیں کہ دنیا کا وہ پہلا شخص کون ہے جس نے پہلی بار خط لکھا ہوگا۔ اُردو میں مکتوب نگاری کی روایت تو خاصی قدیم ہے لیکن غالب نے مکتوب نگاری کو ایک نیا مقام عطا کیا بلکہ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ غالب نے مکتوب نگاری کو بطورِ صنف Establish کرنے اور اعتبار بخشنے میں اساسی کردار ادا کیا۔ غالب سے قبل کی خطوط نگاری کے بہت واضح نقوش نہیں ملتے۔ ایسا نہیں ہے کہ غالب سے قبل خط لکھے نہیں جاتے تھے، بلکہ خط بہت زیادہ ثقیل زبان اور طول طویل القابات کے ساتھ لکھے جاتے تھے۔ خط میں کام کی بات تو صرف دو ایک جملے ہی میں ہوا کرتی تھی، مگر پورا خط احترام و آداب، القابات، دعائیہ جملوں سے بھرا ہوتا تھا۔ فارسی کے جملے، مصرعے اور ضرب الامثال کا استعمال زیادہ ہوتاتھا۔ یہ تو خیر سمجھیں کہ حضرتِ غالب نے شاعری کے ساتھ ساتھ اپنے دوستوں اور عزیزوں کو باضابطہ خط لکھے اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ غالب  کے وہ خط محفوظ رہے جو بعد میں ترتیب و تدوین کے ساتھ کتابی شکل میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگئے ورنہ اردو ادب ایک صنف سے محروم ہو جاتا۔

غالب نے جس طرح خطوط تحریر کیے، اس سے جہاں ایک طرف خطوط میں در آئی ثقالت کم ہوئی تو دوسری طرف خط میں گفتگو کا انداز بھی آیا۔ غالب کی زبان کی بے ساختگی، برجستگی اور ظرافت نے خط کو انتہائی مؤثر اور دلچسپ بنادیا۔ خطوطِ غالب پڑھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے گویا دو لوگ آپس میں گفتگو کر رہے ہیں۔ سنجیدہ سے سنجیدہ مسائل بھی خط میں کچھ اس طرح بیان ہوتے ہیں کہ گویا کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔

اردو میں خطوط نگاری کی ابتدا

یہ بات آج تک تحقیق طلب ہے کہ اردو میں پہلا خط کس نے کس کو تحریر کیا۔ اس سلسلے میں ہمارے محققین اور ناقدین کرام کسی ایک بات پر متفق نہیں ہیں۔ 1981ئ میں شائع پروفیسر ثریا حسین کی کتاب گارساں د تاسی: اردو خدمات، علمی کارنامے‘ محمد طفیل کے نقوش کے خطوط نمبر 1968، داستانِ تاریخِ اردو، حامد حسن قادری 1966 اور غالب اور شاہانِ تیموریہ (ڈاکٹر خلیق انجم) میں اردو کے پہلے خط اور پہلے مکتوب نگار پر کچھ اشارے ملتے ہیں۔ جن کے مطالعے سے ایک دھندلی سی تصویر سامنے آتی ہے، جس کے مطابق افتخار الدین علی خاں شہرت (1810)، رجب علی بیگ سرور، خواجہ غلام غوث خاں بے خبر (1846)، جان طپش، راسخ عظیم آبادی (1914 سے قبل) کے خطو ط ملتے ہیں۔ ان میں ڈاکٹر ثریا حسین کی تحقیق کے مطابق شہرت کا خط تاریخی اعتبار سے اردو کا پہلا خط قرار پاتا ہے لیکن یہاں ایک مسئلہ پھر بھی قائم ہے۔ شہرت نے یہ خط کس کو لکھا، یہ واضح نہیں ہے۔ اس سلسلے میں گارساں د تاسی کے ذریعہ اس عہد کے خطوط کا مجموعہ ’ضمیمہ ہندوستانی کی مبادیات‘ جو 1833 میں شائع ہوا۔ ہماری تحقیق کا واحد Resource ہے۔ اس مجموعے میں اردو کے بیشتر خطوط   ملتے ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر انگریزی ایسٹ انڈیا کمپنی اور فرانسیسی ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازمین اور ملازمت کے خواہش مند حضرات کے خطوط ہیں۔ انھیں خطوط میں ایک خط راجہ رام موہن رائے کا بھی ہے۔ جو انھوں نے 1831 میں لندن سے دتاسی کو پیرس بھیجا تھا۔ خط ملاحظہ فرمائیں:

جناب فضیلت مآب زاد مجدہم و شرفہیم

رقعہ مبارک پہنچا و بندہ کو مسرور و معزز کیا۔ قادر علی الاطلاق آپ کو اس یاد آوری کے ساتھ سلامت رکھے۔ تین مہینے سے زیادہ انگلینڈ میں مقیم ہے۔ انشا اللہ تعالیٰ عنقریب پارس میں مشرف خدمت ہوگا اور وہ آپ کی توجہ سے جناب شیزی صاحب کی ملاقات حاصل کرے گا۔ آپ کے وعدۂ مراعات سے بندۂ کمتر ممنون ہوا و ادائے شکر تہہ دل سے کرتا ہے۔

        زیادہ حدِّ ادب

        خادمکم ممنونکم

        رام موہنو ہن

        حرّر فی التاریخ یکم اگست 1831

(بحوالہ اردومیں ادبی خط نگاری کی روایت اور غالب، ڈاکٹر بیگم نیلوفر احمد، ص70، ماڈرن پبلشنگ ہائوس، دہلی2007)

راجہ رام موہن رائے کا یہ خط اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ گارساں د تاسی کے نام ہے اور اردو خطوط کے اوّلین نمونوں میں سے ایک ہے۔ غالب سے قبل رجب علی بیگ سروراور ایک آدھ خط خواجہ غلام غوث خاں بے خبر کا ملتاہے۔ ویسے یہ بات بھی ثابت ہے کہ بے خبر، غالب کے معاصر ہیں اور خطوطِ غالب کے مجموعے ’عودِ ہندی‘ کو پہلے انھوں نے ترتیب دیا تھا۔ ہوسکتا ہے ایک آدھ خط، غالب کے خطوط سے پہلے کا ہو، یہاں ان کے ایک خط کا اقتباس نقل کر رہا ہوں۔

’’۔۔۔خدا کا شکر کرو کہ اُس نے تمہیں محبوب صورت، مرغوب سیرت، حسنِ شمائل، پسندیدہ خصائل، فہم و رسائ، ذہن و ذکا، عقل سلیم، طبیعت مستقیم، علمِ مفید، بختِ سعید، تقریر کی فصاحت، تحریر کی بلاغت۔۔۔‘‘

(انشائے بے خبر، مرتبہ سیّد مرتضیٰ حسین بلگرامی، علی گڑھ، ص10)

بے خبر کا یہ خط، مدح سرائی دوسرے لفظوں میں نثر میں تعریف کا نمونہ ہے۔ بے خبر ہوں یا رجب علی بیگ سرور، سرسیّد ہوںیا الطاف حسین حالی، سب غالب کے معاصر ہیں۔ لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ غالب سے قبل اردو میں مکتوب نگاری کی روایت نہ بہت قدیم ہے اورنہ صحت مند وتوانا۔ معاصرین غالب میں بھی بے خبر پر غالب کے اثرات نظر آتے ہیں۔ خط کو عام فہم اور نثر کورواں دواں بنانے میں جو کردار خطوطِ غالب نے ادا کیا وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔ ہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کام کو آگے بڑھاتے ہوئے غالب کے ساتھ ساتھ سرسیّد اور الطاف حسین حالی کے خطوط نے بھی ا ہم کردار ادا کیا۔ یہاں غالب کا ایک خط ضرور پیش کرنا چاہوں گا۔ مرزا ہرگوپال تفتہ کو ایک خط میں لکھتے ہیں:

از عمر و دولت برخوردار باشند۔

بدھ کا دن، تیسری تاریخ فروری کی، ڈیڑھ پہر دن باقی رہے۔ ڈاک کا ہرکارہ آیا اور خط مع رجسٹری لایا۔ خط کھولا۔ سو روپیے کی ہنڈوی، بِل، جو کچھ کہیے وہ ملا۔ ایک آدمی رسید مہری لے کر نیل کے کٹرے چلاگیا۔ سو روپیہ چہرہ شاہی لے آیا۔ آنے جانے کی دیر ہوئی اور بس۔ چوبیس روپیے داروغہ کی معرفت اُٹھے تھے۔ وہ دیے گئے۔ پچاس روپے محل میں بھیج دیے۔ چھبیس روپے باقی رہے، وہ بکس میں رکھ لیے۔ روپے کے رکھنے کے واسطے بکس کھولا تھا، سو یہ رقعہ بھی لکھ لیا۔ کلیان سودالینے بازار گیا ہوا ہے۔ اگر جلد آگیا تو آج، ورنہ کل یہ خط ڈاک میں بھیج دوں گا۔ خدا تم کو جیتا رکھے اور اجر دے۔ بھائی! بری آبنی ہے۔ انجام اچھا نظر نہیں آتا، قصہ مختصر یہ کہ قصہ تمام ہوا۔

غالب

چار شنبہ، 3 فروری 1858، وقت دوپہر

غالب کے مذکورہ خط میں جو اوصاف ہیں، وہ سب پر عیا ں ہیں۔ لفظوں کی سادگی، جذبات نگاری، چھوٹے چھوٹے جملے، بے ساختگی، حالات کا تذکرہ وغیرہ سب کچھ ایک چھوٹے سے خط میں موجود ہے۔ خطوطِ غالب میں نہ صرف غالب کی ذاتی زندگی کے عکس ملتے ہیں بلکہ عہدِ غالب، معاصرینِ غالب، دوست احباب، شاگرد اور اُن کے عہد کے علاوہ 1857 کے حالات، انگریزوں کے بدلتے تیور، پنشن کے معاملات، اصلاح و تصحیح کے معاملے وغیرہ کا بھی احوال ہمارے سامنے آجاتا ہے۔ خطوطِ غالب سے عہدِ غالب کے سیاسی، سماجی اور ادبی حالات کو بھی سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ یہی باعث ہے کہ مکتوب نگاری میں ڈیڑھ صدی کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی آج تک کوئی غالب کا ہمسر پیدا نہیں ہوا۔ جبکہ مکتوب نگاری کے ضمن میں تقریباً ایک درجن بڑے ادیبوں کے نام بہ آسانی لیے جاسکتے ہیں۔ بے خبر، سرور، الطاف حسین حالی، سرسیّد، شبلی، مہدی افادی، اقبال، منٹو، ابوالکلام آزاد، مالک رام، سجاد ظہیر، عبدالحق کے خطوط کی اہمیت سے کسے انکار ہوسکتاہے۔ مگر غالب ان سب پر غالب ہیں۔

اردو میںجب مکتوب نگاری کی ابتدا کی بات کی جاتی ہے تو ہمارے محقق اس کا سہرا بھی غالب کے ہی سر باندھتے ہیں۔لیکن ما ہر غالب مالک رام کی رائے دوسروں سے کچھ مختلف ہے۔وہ غالب سے پہلے رجب علی بیگ سرور اور دیگر اصحاب کا ذکر بھی کرتے ہیں:

’’بیش تر لوگوں کا خیال ہے کہ اردو میں خط نویسی کی ابتدا غالب سے ہوئی۔یہ درست نہیں۔غالب سے پہلے فسانۂ عجائب والے رجب علی بیگ سرور نے خطوط لکھے اور شائع کیے اور یوں اِکا ّ دُکا ّ خط کئی اور اصحاب کے بھی ملتے ہیں۔ہاں یہ درست ہے کہ غالب نے خطوں میں ایسا بدیہہ انداز اختیار کیا کہ انہیں سحرِ حلال بنادیا۔اس سے پہلے اور خودان کے زمانے میں بھی فارسی خطوں میں لمبے لمبے القاب و آداب اور عبارت آرائی کی یہ بھر مارتھی کہ سطریں پڑھ جائیے لیکن مدعاعنقا ہے اپنے عالمِ تحریر کا۔یہ تو ممکن نہیں کہ کسی کو بھی اس اسلوب تحریر کی لغویت کا خیال نہ آیاہو لیکن اس میں شک نہیں کہ اسے ترک کر دینے یا اس میں اصلاح کی جرأت نہیں ہوئی۔اس کا سہرا بھی غالب کے سر رہا۔‘‘

(’نقوش‘ خطوط نمبر، جلد اوّل،مدیر: محمد طفیل، اپریل 1968، ص39)

مالک رام نے اردو خطوط نویسی کی ابتدا کے تعلق سے رجب علی بیگ سرور اور دیگر کا ذکر ضرور کیا ہے لیکن یہ بھی ماناہے کہ وہ غالب ہی ہیں جنھوں نے فارسی خطوط کے لمبے لمبے القاب و آداب اور عبارت آرائی کو اپنی تحریر سے ترک کرنے کی جرأت کی اور بالآخر وہ غالب کی اولیت کو مان لیتے ہیں۔

مکتوب نگاری کا ارتقا

مکتوب نگاری کی روایت کو غالب کے عہد اور بعد میں سمجھنے کے لیے میںیہاں چار معروف مکتوب نگاروں سرسیّد، شبلی،اقبال، منٹو اور ابوالکلام کے خطوط کے حوالے سے گفتگو کر رہاہوں۔ سرسیّد کا شمار معاصرینِ غالب میں بھی ہوتا ہے اور بعد کے لوگوں میں بھی۔ ویسے ایماندارانہ بات تو یہی ہے کہ سرسیّد کی فکرو نظر اور تحریر میںایک موڑ 1870  سفر لندن سے واپسی کے بعدآیا۔ جس میں ’تہذیب الاخلاق‘ کی اشاعت کا بڑا ہاتھ ہے۔ جس کے بعد سرسیّد کے مضامین، مقالات اور خطوط میں بھی اردو نثر کے وہ نمونے ملتے ہیں جن سے اردو نثر کو عام بنانے کی تحریک کو تقویت ملی اور یہ سب غالب کے بعد ہوا۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ سرسیّد کی نثر پر بھی غالب کے خطوط کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ اور سرسیّد کو نثر کو عام فہم بنانے کی تحریک بھی غالب سے ہی ملی ہے۔ 1870 کو سرسیّد کی ادبی اور سماجی زندگی کا خط فاصل کہا جاسکتا ہے۔ ان کی تحریر میں امتیازات کو بخوبی دیکھا جاسکتاہے۔ یہاں سرسیّد کا ایک خط ملاحظہ فرمائیں۔ منشی شیام بہاری لال کو لکھا گیا سرسیّد کا یہ خط:

مشفقی منشی شیام بہاری لال صاحب

نجم الدین عرف ٹٹو کو یکم جنوری سے بارہ روپیہ ماہواری کے حساب سے محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس سے تنخواہ ملا کرے گی۔ آپ لالہ سری لال کے ہاں سے منجملہ مبلغان کانفرنس 20 روپیہ منگا لیجیے۔ بارہ روپیہ تو نجم الدین کو بابت ماہ جنوری دے دیجیے اور کانفرنس کے اخراجات میں لکھیے  اوریہ روپیہ بابت کرایہ ریل آمدورفت نجم الدین کانفرنس کے حساب میںلکھیے اور وہ آٹھوں روپیہ میری امانت روزنامچۂ مدرسہ میں جمع کر دیجیے۔ والسلام

        خاکسار

        2؍ فروری 1893

        سیّد احمد

(مکاتیب سرسیّد، مرتبہ مشتاق حسین، ص383، فرینڈ بک ہائوس، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، 1995)

سرسیّد کا مذکورہ بالا خط کئی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔ اس خط سے ایک تو سرسیّد کے قومی یکجہتی کے نظریے کو تقویت ملتی ہے کہ سرسیّد نے محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس میں غیر مسلم ملازمین کو بھی ملازمت پر رکھا۔ دوسرے سرسیّد کے ذاتی معاملات کی ایک جھلک بھی دکھائی دیتی ہے کہ سرسیّد کس طرح محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کا حساب کتاب شفافیت سے رکھتے تھے۔ جہاں تک خط کی زبان کا تعلق ہے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ زبان بہت سہل اور عام فہم ہے۔ خط کا سن 1893ہے یعنی عہدِ غالب کے بعد کا زمانہ خطوطِ غالب کے اثرات بھی مکاتیب سرسیّد پر صاف نظر آتے ہیں۔ سرسیّد کی تخلیقی کائنات کا یہ دوسرا دَور ہے جس میں تہذیب الاخلاق کے مضامین کے موضوعات اور زبان سے اُردو کے فروغ کا نیا دَر وا ہوا تھا۔

اردو خطوط نگاری کے ارتقا میں معاصرین سر سید میں علامہ شبلی کا نام خاصا نمایاں ہے۔انہوں نے  قسطنطنیہ سے سرسید احمد خاں کے نام متعدد خطوط لکھے،جن میںسے ایک طویل خط کا اقتباس یہاں پیش کیا جارہا ہے۔

سیدی!

 تسلیم، 22مئی کو یہاں پہنچا،لیکن ترددات کی وجہ سے خط لکھنے کی مہلت نہ مل سکی،یہ خط بھی مختصر اور پرائیویٹ ہے، کچھ میںکچھ باتیں آپ انتخاب فرما کر چھاپ دیں تو ممکن ہے، میں نے سردست ایک مختصر ساحجرہ ۱۱؍روپیے مہینہ کرایہ کا لے لیا ہے،لیکن کھانے کا صرف بہت زیادہ ہے۔

سب سے ضروری بات یہ ہے کہ آپ دو تین سویا اس سے زیادہ روپئے بھیج دیں کہ جو کتاب جس وقت ہاتھ آئے لے لی جائے،یانقل و کتابت کا انتظام کیا جا سکے، کتابیں بہاں بہت ہیں اور نادر ہیں، لیکن کہاں تک لکھوائی جاسکتی ہیں،امام غزالی کی تصنیفیں یہاں موجود ہیں اور بوعلی سینا کی توشاید کل تصنیفات مل سکتی ہیں،امام غزالی کے خطوط بھی موجود ہیں،خیر جو ممکن ہوگا کیاجائے گا،یہاں اکثرلوگوں سے ملاقات ہوسکتی ہے،لیکن مشکل زبان کی ہے،بعض بڑے کالج دیکھے مگر زبان کی اجنبیت کی وجہ سے حالات معلوم کرنے میں نہایت دقت ہوتی ہے،میں نے ترکی پڑھنی شروع کی ہے اور ان شائ اللہ کچھ نہ کچھ بقدرضرورت واپسی کے وقت تک سیکھ لوں گا،اس وقت تمام کا لجوں وغیرہ کی رپورٹ تیار کر سکوں گا۔

حالات دلچسپ ہیں اور سفر نامہ کے لیے بہت سامان مل جائے گا،لیکن اس وقت بلکہ زمانۂ قیام تک مطلق فرصت نہیں مل سکتی،ہرروز تین چار میل کا چکر کرنا پڑتا ہے،بہت بڑا شہر ہے اور تمام کتب خانے وغیرہ دوردور واقع ہیں...

        شبلی نعمانی

        25؍مئی 1882

        قسطنطنیہ مقام تختہ خان قریب محمود پاشا

(خطوط شبلی، مرتب مولوی محمد امین زبیری،تاج کمپنی لاہور، 1926 ص،41)

بیسویں صدی میں مکتوب نگاری کا جہاں تک سوال ہے تو اقبال  منٹو اورابوالکلام آزاد کے مکاتیب کو صدی کے نمائندہ خطوط کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ اقبال ہماری شاعری کی آبرو ہیں توان کی نثر کا بھی ایک اہم مقام ہے۔ مکاتیبِ اقبال خاصی تعداد میں موجود ہیں۔ جنھیں سیّد مظفر حسین برنی نے ’کلیاتِ مکاتیبِ اقبال‘ کی شکل میں پانچ ضخیم جلدوں میں مرتب کیا ہے۔ جنھیں اُردو اکادمی، دہلی نے 1993 میں شائع کیا۔ اقبال کا ایک خط دیکھیں۔ یہ انھوں نے مولانا سیّد سلیمان ندوی کے نام لکھا تھا۔

15؍ جنوری 34

 مخدومی، السلام علیکم

دنیا اس وقت عجیب کشمکش میں ہے، جمہوریت فنا ہوری ہے اور اس کی جگہ ڈکٹیٹرشپ قائم ہورہی ہے۔ جرمنی میں مادّی قوت کی پرستش کی تعلیم دی جارہی ہے۔ سرمایہ داری کے خلاف بھی ایک جہاد عظیم ہورہا ہے۔ تہذیب و تمدن (بالخصوص یورپ میں) حالتِ نزاع میں ہے۔ غرض کہ نظامِ عالم ایک نئی تشکیل کا محتاج ہے۔ ان حالات میں آپ کے خیال میں اسلام اس جدید تشکیل کا کہاں تک ممد ہوسکتا ہے۔ اس مبحث پر اپنے خیالات سے مستفیض فرمائیں۔ اور اگر کچھ کتابیں ایسی ہوں جن کا مطالعہ اس ضمن میں مفید ہو تو ان کے ناموں سے آگاہ فرمائیے۔                                   والسلام

                                        محمد اقبال

(کلیات مکاتیبِ اقبال، مرتبہ سیّد مظفر حسن برنی، ص449، جلدسوم، اردو اکادمی دہلی، 1993)

مولانا سیّد سلیمان ندوی، اقبال کے معاصرین میں تھے۔ مذہبی فکر و فلسفہ اور اسلامی وژن کے معاملے میں مولانا سیّد سلیمان ندوی یدطولیٰ رکھتے تھے۔ اقبال ان کا بہت احترام کرتے تھے اور وقتاً فوقتاً بعض اسلامی معاملات میں مولانا سے صلاح و مشورہ بھی کر لیا کرتے تھے۔ اقبال خود اسلامی فکر و فلسفے کے تعلق سے اپنا ایک مخصوص نظریہ رکھتے تھے۔ اور اپنی شاعری میں خودی کا فلسفہ ہو یا کامل مومن کی بات، اقبال نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ اور تعلیمات کو بنیاد بناکر اپنی شاعری میں استعمال کیا ہے۔ اقبال کے متعدد اشعار اسلامی نظریۂ تبلیغ و اشاعت کا بہترین ذریعہ ہیں۔

مذکورہ خط میں اقبال پورے عالم میں سیاسی ابتری اور تہذیب و تمدن کی شکست و ریخت سے فکرمند ہیں۔ جمہوریت اور سرمایہ داری کا خاتمہ ہورہا ہے۔ آمریت بڑھ رہی ہے۔  ایسے میں اقبال مولانا سے سوال کر رہے ہیں کہ کیا اسلام عالم میں جدید تشکیل میں معاون ہوسکتا ہے؟ یہ خط دراصل ہندوستان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے سیاسی نظام کے لیے ہونے والی فکرمندی کا اظہاریہ ہے۔ یعنی اس خط سے عصری حسیت کے طورپر سیاسی صورتِ حال کا بخوبی علم ہوتاہے۔ ساتھ ہی مولانا سیّد سلیمان ندوی کی سیاسی، سماجی اور مذہبی مدبر کی حیثیت کو مزید مستحکم کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ سیاسی نظامِ حیات کے تعلق سے اقبال کے فکر و نظر اور عملی اقدام سے بھی آگاہ کرتا ہے۔ یہ ایک اچھے خط کا وصف ہے کہ اچھے خطوط، ذاتی زندگی، عوامی رابطے، اپنے عہد کی سیاسی و سماجی صورتِ حال کی تفصیل نہیں بتاتے تو اشارے ضرور کرتے ہیں۔ غالب کے خطوط میں یہ عناصر بخوبی تلاش کیے جاسکتے ہیں۔

سعادت حسن منٹو

 اردو خطوط نگاری میں جب منٹو کا نام لیا جاتا ہے تو بعض لوگوں کو حیرانی ہوتی ہے۔منٹو جیسا بڑا افسانہ نگار جس نے اپنے عہد اور بعد میں بھی اپنی افسانہ نگاری کا لوہا تسلیم کروایا تھا۔جب کسی کو خط لکھتا ہے تو اس میں بھی بہت سے نئے پہلو وا ہوتے ہیں۔منٹو کے احمد ندیم قاسمی کے نام بہت سے خطوط ملتے ہیں۔جو دلچسپی سے خالی نہیں ہیں یہاں ان کا ایک خط نقل کیا جا رہا ہے:

71اڈلفی چیمبرز، کلیئر روڈ۔بمبئی 8

(جنوری 1939 )

برادرِمکرّم

وعلیکم السلام۔آپ کا محبت نامہ ملا۔ شکریہ!…میں آگے کچھ اور لکھنا چاہتا تھا معاًمیرے دماغ میں یہ خیال آیا کہ آپ اور میں، یعنی قاسمی اور منٹو،مٹی کے دو ڈھیلے ہیں جو لڑھک لڑھک کر قریب آنا چاہتے ہیں…مٹی کے دوڈھیلے…!ٹھیک ہے… انسان مٹی کا ڈھیلا ہی تو ہے۔

یہ سن کر بہت خوشی حاصل ہوئی کہ آپ کو انعام میں ایک طلائی تمغہ ملا…مجھے تمغے پسند ہیں، مگر ان پر کھدے ہوئے حروف اور شکلیںبالکل ناپسند ہیں، جو گونگی ہوتی ہیں۔آپ کاخط ڈاکیے نے اس وقت میرے ہاتھ میں دیا، جبکہ میں اپنی اسٹوریMUD کو مکمل کر رہا تھا۔ آپ کی رائے پر میں نے غور کیا،مگر جو کچھ آپ نے لکھا ہے غیر فلمی ہے۔ اس لیے مجھے اۡس سے کوئی فائدہ نہ پہنچ سکا۔ بہر حال آپ یہ سن کر خوش ہوں گے کہ میں نے’کیچڑ‘ مکمل کر لیا ہے۔ جو کچھ میں چاہتا تھا اس کا 3/4 حصہ اس میں آچکا ہے۔ بقایا آ جائے گا اس لیے کہ میں دن رات اسی کے متعلق غور و فکر کرتا رہتا ہوں۔ MUDمیں آپ کو بہت سی نئی چیزیں نظر آئیں گی۔’’ نیا قانون‘‘ کے استاد منگو کی جھلک آپ کو نتھو کے کیریکٹر میں ملے گی۔ پھر میں نے اپنے ہر کیریکٹر کو اۡس کی برائیوں اور اچھائیوں سمیت پیش کیا ہے۔ اگر یہ اسٹوری فلمائی گئی اور ڈائریکشن اۡس چیز کو بر قرار رکھ سکی جو میرے سینے میںہے تومیرا خیال ہے کہ آپ میرےMUD  میں سارا ہندوستان دیکھ لیں گے۔

خود کشی‘ میں بچپن ہے، یہ اۡس زمانے کی تحریر ہے، جب میں خود کشی کا خیال کیا کرتا تھا۔ آپ نے ضرور محسوس کیا ہوگا کہ افسانے کی عبارت ایک ایسے سینے سے نکلی ہوئی ہے، جو بہت چھوٹا ہے۔

آپ’اوپیرا‘ لکھ کر ضرور روانہ فرمائیے۔ یہاں سے آپ کو اس کا حق الخدمت روانہ کر دیا جائے گا۔ رفیق صاحب اسے کمپوز کریں گے۔

آپ کی نظمیں مل گئیں۔ بے حد شکریہ۔ مصوّر میں چھپتی رہیں گی۔ رفیق صاحب سب کی سب لے گئے ہیں۔

خلش صاحب اور نذیر صاحب آداب عرض کرتے ہیں۔

اگر ہو سکے تو ’ ساقی ‘ کے سالنامے میں ’ پھا ہا‘ اور ’ادبِ لطیف‘ کے سالنامے میں ’ٹیڑھی لکیر‘ضرور پڑھیے گا۔

کیا آپ نے مصوّر میں ’’ نیا سال‘‘ پڑھا ؟…کیا رائے ہے؟

امید ہے کہ آپ بخیریت ہوں گے۔

        آپ کا بھائی

        سعادت حسن منٹو

(آپ کا سعادت حسن منٹو(منٹو کے خطوط ,مرتب اسلم پرویز، دوسرا ایڈیشن،عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی، 2019، ص،69)

احمدندیم قاسمی کے نام منٹو کے ہر خط میں کوئی نہ کوئی نئی بات ضرور سامنے آتی ہے۔اس خط میں بھی منٹو نے انسان کی بے ثباتی کو ثابت کیا ہے۔ساتھ ہی ساتھ اپنی Mud (کیچڑ) کے تعلق سے بہت ساری باتیں لکھی ہیں یہ بھی لکھا ہے کہ نیاقانون کے استاد منگو کی جھلک مڈ کے نتھو کے کردار میں نظر آئے گی اور یہ فلم ہندوستان کا منظر نامہ پیش کرے گی۔افسانہ خودکشی کے بارے میں بھی احمد ندیم قاسمی سے ذکر کرتے ہیں۔اس طرح کی باتوں سے منٹو کا یہ خط بھرا پڑا ہے،آپ کو یہاں بھی منٹو دوسروں سے مختلف نظر آئے گا۔جس میں ساقی اور ادب لطیف کا ذکر ملے گا تو مصور کا بھی۔ممبئی کے فلمی شب وروز ملیں گے تو افسانوی دنیا بھی نظر آئے گی۔

بیسویں صدی میں مکتوب نگاری کا کوئی ذکر مولانا ابوالکلام آزاد کے مکتوب کے بغیر ادھورا ہی تسلیم کیا جائے گا۔ بیسویں صدی ہی کیا اردو میں مکتوب نگاری کا ارتقا اور روایت، مولانا آزاد کے خطوط کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ ’غبارِ خاطر‘ مولانا ابوالکلام آزاد کے ایسے خطوط کا مجموعہ ہے جو انھوں نے احمد نگر قلعہ میں نظربندی کے تقریباً تین سال کے دوران اپنے رفیق نواب صدر یار جنگ (حیدرآباد) کے نام تحریر کئے تھے۔ یہ سارے خطوط، اردو میں مکتوب نگاری کے ذیل میں عام ڈگر سے ایک انحراف کی صورت سامنے آئے۔ بظاہر یہ خطوط ایک رفیقِ خاص کے لیے تحریر ہوئے ہیں لیکن ان خطوط میں ایک عالم، مفکر، دانشور، سیاست داں کی زندگی کے ذاتی اوراق موجود ہیں۔ قیدوبند کے معاملات وحالات، ہندوستان کاسیاسی منظر نامہ، تحریکِ آزادی کی سرگرمیاں، کانگریس کا حال، انگریزوں کی منصوبہ بندی اور مقاماتِ نظربندی کے تذکرے شامل ہیں۔ یہ سارے خطوط یک طرفہ ہیں اور ایک عالم، ادیب اور دانشور کے زورِ قلم کا نتیجہ ہیں۔ بعض خط خاصے طویل ہیں اور بڑی بڑی کہانیاں اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ ان خطوط کا سب سے بڑا وصف ان کی زبان اور طرزِ تحریر ہے۔ یہاں میں قلعۂ احمد نگر سے 29؍ اگست 1942 کو لکھا گیا ایک خط پیش کرنا چاہوں گا۔ پورا خط تو طویل ہے، ایک اقتباس ملاحظہ کریں۔

قلعہ احمد نگر

29؍ اگست 1942

۔۔۔۔ لوگ لڑکپن کا زمانہ کھیل کود میں بسر کرتے ہیں، مگر بارہ تیرہ برس کی عمر میں میرا یہ حال تھا کہ کتاب لے کر کسی گوشہ میں جا بیٹھتا اور کوشش کرتا کہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہوں۔ کلکتہ میں آپ نے ڈلہوزی اسکوائر ضرور دیکھا ہوگا۔ جنرل پوسٹ آفس کے سامنے واقع ہے، اسے عام طو رپر ’لال ڈگی‘ کہا کرتے تھے۔ اس میں درختوں کا ایک جھنڈ تھا کہ باہر سے دیکھیے تو درخت ہی درخت ہیں، اندر جائیے تو اچھی خاصی جگہ ہے اور ایک بینچ بھی بچھی ہوئی ہے۔ معلوم نہیں، اب بھی یہ جھنڈ ہے کہ نہیں۔ میں جب سیر کے لیے نکلتا، تو کتاب ساتھ لے جاتا اور اس جھنڈ کے اندر بیٹھ کر مطالعہ میں غرق ہو جاتا۔ والد مرحوم کے خادمِ خاص حافظ ولی اللہ مرحوم ساتھ ہوا کرتے تھے۔ وہ باہر ٹہلتے رہتے اور جھنجھلا جھنجھلا کر کہتے، ’’اگر تجھے کتاب ہی پڑھنی تھی، تو گھر سے نکلاکیوں؟‘‘ یہ سطریں لکھ رہاہوں اوراُن کی آواز کانوںمیں گونج رہی ہے۔ دریا کے کنارے ایڈن گارڈن میں بھی اس طرح کے کئی جھنڈ تھے۔ ایک جھنڈ جو برمی پگوڈا کے پاس مصنوعی نہر کے کنارے تھا اور شاید اب بھی ہو، میں نے چن لیا تھا کیوں کہ اس طرف لوگوں کا گذر بہت کم ہوتا تھا۔ اکثر سہ پہر کے وقت کتاب لے کر نکل جاتا اور شام تک اس کے اندر گم رہتا۔ اب وہ زمانہ یاد آتا ہے تو دل کا عجب حال ہوتا ہے   ؎

عالمِ بے خبری، طرفہ بہشتے بوداست

 حیف صد حیف کہ ما دیر خبردار شدیم!

ابوالکلام

 محولہ بالا اقتباس مولانا آزاد کے ایک طویل خط جو تقریباً 11 صفحات (کتابی سائز) پر پھیلا ہوا ہے، کا ہے۔  اس چھوٹے سے اقتباس کے مطالعے کے بعدبھی یہ احساس ہو جاتا ہے کہ مولانا کا طرزِ تحریر نہ صرف اپنے معاصرین بلکہ اردو مکتوب نگاری کی روایت میں مختلف و منفرد ہے۔ اقتباس کا مطالعہ کرتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا ہم کسی افسانے یا ناول کے کسی اقتباس کا مطالعہ کر رہے ہوں۔ اقتباس کا کمال یہ ہے کہ اس میں مولانا کے بچپن کے یادگار واقعات کا ذکر ہے۔ یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ مولانا بچپن سے ہی تعلیم کے دیوانگی کی حد تک شوقین تھے۔ ورنہ کھیل کود اور سیر و تفریح کی عمر میں جھنڈ کے اندر کتاب لے کر پڑھائی کرنا، کہاں سمجھ میں آتا ہے۔ آج کل ایسے جھنڈ کا طالب علموں کے ذریعہ جو استعمال ہوتا ہے، وہ بھی ہم پر عیا ںہے۔ آج کی نسل تو پارکوں میں ایسے تنہا گوشوں کی تلاش میں سرگرداں رہتی ہے اور عاشقانہ راز ونیاز بلکہ اس کے آگے کے سفر سے بھی محظوظ ہوتے رہتے ہیں۔ خط میں کلکتہ کے بعض معروف مقامات ڈلہوزی اسکوائر اور ایڈن گارڈن کا ذکر موجود ہے۔ ویسے خط کی زبان میں ایک طرح کی سادگی ہے۔ عموماً یہ تصور کیا جاتا ہے کہ مولانا کی زبان بہت زیادہ فصیح و بلیغ ہوا کرتی ہے۔ جس کے سمجھنے کے لیے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے، ایسا نہیں ہے۔ خط میں جس طرح کی عام فہم زبان کی بنیاد غالب نے ڈالی اور پھر بعد کے لوگوں نے جس طرح سے اسے عروج بخشا، مولانا آزاد نے اپنے خطوط میں اس کو آگے بڑھایا ہے۔

اردو مکتوب نگاری کا سفر راجہ رام موہن رائے سے غالب، پھر اقبال، منٹو اور ابوالکلام آزاد تک آتے آتے عروج تک آپہنچا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اردو مکتوب نگاری کے ارتقامیں متعدد مکتوب نگار نے اپنے کارہائے نمایاں سے اسے ہر طر ح مضبوط و مستحکم کیاہے۔ لیکن جو کام غالب نے کیا وہ بے مثل ہے۔ آج بھی مکتوب نگاری کے تعلق سے جتنا کام، ترتیب و تدوین، سمینار وغیرہ کا انعقاد عمل میں آتا ہے اس میں کثرت غالب پر ہونے والے کاموں کی ہی ہے۔

مکتوب نگاری کا زوال

 اکیسویں صدی میں انفارمیشن ٹکنالوجی نے جس برق رفتاری سے ترقی کی ہے اور پوری دنیا کو اپنی مٹھی میں قید کیا ہے، اس کی مثال نہیں ملتی۔ نئی صدی، نئی تکنالوجی اور نئے موضوعات نے ہماری زندگی کے ساتھ ساتھ ادب کو بھی متاثر کیا ہے۔ ادب کی صورت تبدیل ہوئی ہے۔ نئے اور انوکھے موضوعات بعض ایسے موضوعات بھی جن کے بارے میں کبھی سوچا نہیں تھا، آج ہمارے سامنے ہیں۔ اکیسویں صدی سے قبل سائبر اسپیس، سائبر کرائم، سوشل میڈیا وغیرہ کے بارے میں ہم کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔ آج بڑے بڑے کارنامے، کرائم اورنت نئی چیزیں سوشل میڈیا اور سائبر میڈیا سے سامنے آرہی ہیں۔ رابطے کے نہ صرف ذرائع بدل گئے ہیں بلکہ انتظار کے لمحات ختم سے ہوگئے ہیں۔ اب طویل محبت ناموں اوراُن کے جوابات کا انتظار نہیں ہوتا۔اب چھوٹی بڑی باتیں، انتہائی راز دارانہ طریقے سے ایک دوسرے تک پہنچ جاتی ہیں۔ آج کے زمانے میں ای میل، وہاٹس ایپ، فیس بک وغیرہ کے ذریعہ نہ صرف خط بلکہ تصاویر اور آواز سب سکنڈوں میں ایک دوسرے تک پہنچ جاتے ہیں۔ ایسے میں جہاں ہم نے بہت ترقی کی ہے وہیں ہماری کچھ خوبصورت عادتوں، روایتوں اور محبت کے طور طریقوں کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ اب خطوط لکھنے کا سلسلہ کم ہوتے ہوتے آفس کے کام کاج تک سمٹ کر رہ گیا۔ شارٹ ہینڈ کا زمانہ تو کب کا جاچکا لیکن اختصار نویسی، مخفف اور ابتدائی حروف، اختتامی حروف، نشانات، اعداد، اشیا کی تصاویر وغیرہ ایسے اشارے کنایے بن گئے ہیں کہ اب لمبی لمبی باتیں، طویل گفتگو، لمبے جملے وغیرہ یہ سب گئے وقتوں کی باتیں ہوگئی ہیں۔ جب آج ہر آدمی گھوڑے کی پیٹھ پر سوار، اُلٹے سیدھے، قواعد کی درستگی جیسی صفات سے خالی جملے فخریہ استعمال کر رہا ہے۔ ایسے میں جہاں ہماری بہت سی اصناف میں تبدیلیاں آئی ہیں، وہیں کچھ نے بالکل دم توڑ دیا ہے۔ کچھ تغیر و تبدل کے شانوں پر سوار خود کو نئے ماحول میں ڈھالنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ کچھ خاتمے کے قریب ہیں۔ اکیسویں صدی میں تغیر و تبدل اور تکنیک کے طوفان سے خود کو محفوظ نہ کرپانے والی اصناف میں سب سے زیادہ خطرناک عہد سے گزرنے والی صنف مکتوب نگاری ہے۔ بیچارے غالب کو کیا پتہ تھا کہ وہ جس صنف کو ثقیل عبارت، فارسی زدگی، طول طویل القابات سے نکال کر بے تکلّفی، برجستگی اور مکالمے کی فصا تک لے آئے ہیں، وہ ایک-ڈیڑھ صدی کے اندر، قریب المرگ ہو جائے گی۔ اب خط لکھنے کی زحمت کون کرتا ہے اور ایسا کرے بھی کیوں؟ خط سے خیریت کا ہی تو تبادلہ ہوتا تھا۔ اب یہ سارے کام ای-میل اور فیس بُک، وہاٹس ایپ اور دوسرے میڈیا انجام دیتے ہیں۔ ہم سب نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ مکتوب نگاری کا پورا نظام ہی مفت (Free) ہو جائے گا۔ لفافے، پوسٹ کارڈ، ان لینڈ لیٹر، ایئرمیل، ٹکٹ، تار وغیرہ کی ضرورت ہی ختم ہو جائے گی۔ ایسے میں خطوط کے تعلق سے کوئی بات کرنا کیسا عجیب لگتا ہے۔ غالب، سرسیّد، شبلی،مہدی افادی، اقبال، ابوالکلام کے بعد بھی مکتوب نگاری سجاد ظہیر، منٹو، علی سردار جعفری، قمر رئیس، مجروح رشید احمد صدیقی، آل احمد سرور، رالف رسل، محمد حسن، شارب ردولوی اور  عارف نقوی کے یہاں بھی ایک مستحکم روایت کے طور پر نظر آتی ہے۔ بعد میں بیسویں صدی کے اواخر اور کچھ اکیسویں صدی کے اوائل تک خطوط کے باقیات ملتے ہیں۔ لیکن اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں اب بہت ضروری کام سے ہی خط تحریر ہوتے ہیں۔ باقی زیادہ تر کام اب موبائل سے ہونے لگے ہیں  اور سوشل میڈیا آدھے ادھورے جملوں کے ساتھ پوری تصویر ہمارے سامنے کردیتا ہے۔ زمانہ تصویر اور آواز کا ہے اوراب تحریر قصّۂ پارینہ ہوئی جاتی ہے۔

 

Prof. Aslam Jamshedpuri

Chaudhary Charan Singh University

Ramgarhi

Meerut-  250001 (UP)

Mob.: 8279907070

 

 

 

 


 

 

 

 

 


بدھ، 15 دسمبر، 2021

اردو شاعری میں تلمیحات کا لفظی اور معنوی آہنگ - مضمون نگار: محمد عارف




شاعری، مرصع سازی، لفظوں کی متناسب ہم آہنگی، محسنات ِلفظیہ و معنویہ یعنی صنائع و بدائع کاصحیح و درست اور بر وقت استعمال ہے۔شاعری جذباتی کیفیات کی عکاس اوراظہار خیال کاوسیع میدان ہے۔شاعری میں چند الفاظ یا اشاروں کا استعمال ہوتا ہے جو کسی پس منظر کی شرح کرتے ہیں۔ انھیں الفاظ کو تلمیحات کہا جاتا ہے۔یہ تلمیحات چند حرفوں یا لفظوں کا مجموعہ ہیں جو کلام میں لفظ و معنی کا ایک آہنگ پیدا کرتے ہیںجس کی وجہ سے کلام میں غنائیت اور موسیقیت پیدا ہوجا تی ہے۔ ان تلمیحات میں ہر دور کے نقوش پیوست ہوتے ہیں۔ اسی لیے ہر دور میں تلمیحات کو خاصی اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ کسی بھی شاعری میں جس طرح الفاظ کا با ہم متناسب ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح اس میں پیش کیے گئے قصے یا مضمون کا باہم مناسب ہونابھی لازمی ہے۔ تاکہ کلام کی ترسیل بلیغ انداز سے ہو سکے۔نظم ہو یا نثر دونوں کا آلۂ کارلفظ ہی ہوتا ہے لیکن یہی لفظ جب شاعری میں استعمال ہوتا ہے تواس کی اہمیت اور تاثیربہت بڑھ جاتی ہے۔ کلام میں بلاغت، شاعری کا ایک اہم عنصر ہے۔ کیوں کہ جو کلام مقتضائے حال کے مطابق ہوتا ہے وہی کلام فصاحت و بلاغت کی معراج ہوتاہے اور اردو شاعری میں تلمیح کا وجودبھی ایک ایسے ہی عنصر کی طرح ہے۔تلمیح کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی۔ کیوں کہ ہر عہد میں لوگوں کالمبے لمبے قصے سننے اور سنانے میں تضییع اوقات ہوتا تھا۔ اس سے چھٹکارہ پانے کے لیے چند الفاظ یا اشاروںکا مجموعہ وجود میں آیا تاکہ لوگ ان اشارات سے مکمل بات سمجھ سکیں اور اس طرح ان اشارات کوتلمیح کا نام دے دیا گیا۔یہ مختلف مختصر اشارات ہیں جو اپنے اندر قومی،تہذیبی اور تمدنی بازگشت لیے ہوئے ہیں۔تلمیح نثری قصوں میں بھی ہوتی ہے مگر ان تلمیحات کا اثر شاعری میں جس قدرمعانی و مفاہیم پیدا کرتا ہے۔ نثر میں اس کے مقابلے بہت کم ہے۔کیوں کہ یہ تلمیحی الفاظ ایک ہی شعر میں مختلف حیثیتوں سے لفظی،معنوی اور صوتی آہنگ پیدا کرتے ہیں۔ تلمیحات کی بنیاد ان چیزوں پر ہوتی ہے جو پہلے سے مشہور ہوں۔ کیونکہ یہ خود ساختہ نہیں ہوتیں بلکہ یہ مشہور و معروف واقعات، قصوں اور کہانیوں پر مبنی ہوتی ہیں اور شاعر بس ان سے استفادہ کرتا ہوا نظر آتا ہے۔’’افادات سلیم‘‘ میں وحید الدین سلیم نے تلمیح کے بارے میں آسبورن کی یہ بات نقل کی ہے :

’’تلمیحات کیا ہیں؟ہماری قوم کے قدموں کے نشانات ہیں جن پر پیچھے ہٹ کر ہم اپنے باپ دادا کے خیالات، مزعومات، اوہام رسم ورواج اور واقعات و حالات کے سراغ لگا سکتے ہیں۔‘‘

(وحید الدین سلیم،افادات سلیم،سید اشرف حیدرآبادی، ص 115)

شمس قیس رازی نے اپنی کتاب ’المعجم فی معائیر اشعار العجم‘ کے چھٹے باب’در محاسن شعر و طرفی از صناعات مستحسن کی در نظم و نثر بہ کار دارند‘ میں تلمیح کا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ تلمیح یہ ہے کہ چند الفاظ بہت سارے معانی پر دلالت کریںجس کے ایک نظر میںکچھ معنی نظر آئیں اور دوسری نظر میں کچھ اورجب شاعر تھوڑے الفاظ جو بہت سے معانی و مفاہیم بیان کرتے ہوں ان کا استعمال کرے،تو اس کو تلمیح کہتے ہیںاور یہ صنعت بلغا کے نزدیک اطناب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ قیس رازی کے اس خلاصے سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ تلمیح بلاغت کا اعلی درجہ ہے۔وہ کہتا ہے کہ کسی کلام میں بلاغت تین قسم کی چیزوںسے پیدا کی جاسکتی ہے۔ ’ایجاز‘، ’مسوات‘ اور ’بسط‘۔جب کلام کے تھوڑے الفاظ بہت سے معانی پر دلالت کریں،تو اس وقت کلام میں ایجاز ہوگا۔جب کلام کے لفظ و معنی میں ایک تناسب اور برابری ہو تو اس وقت کلام میں مسوات ہوگی اور جب کلام میں کسی معنی کی بہت سے الفاظ کے ذریعے وضاحت کی جائے،تو کلام میں ’بسط‘ہوگا۔یہ بلاغت کی قسمیں ہیں اور صنائع معنوی میںتلمیح ان سب کا نچوڑ ہے۔

تلمیحات کا غائر مطالعہ کرنے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ ان تلمیحات کی اپنی ایک نوعیت ہوتی ہے۔جیسے نشاطیہ،حزنیہ،قنوطیہ اورجنونیہ وغیرہ جوشاعراور اس کے کلام کی نفسیاتی کیفیت کی غمازی کرتی ہیں۔شاعر ہر طرح کی تلمیحات سے شعر میں ایک لطف یا دکھ درد والی کیفیت پیدا کرتا ہے۔جیسے لیلیٰ ومجنوںکی کہانی سے شاعر اپنے دکھ کابیان کرتا ہے۔میر کا یہ شعر دیکھیںجس میں اس نے لیلیٰ اورمجنوںکی تلمیحات سے کس طرح اپنے غم کا اظہار کیا ہے۔

عاشق و معشوق   یاں  آخر  فسانے  ہو گئے

جائے گریہ ہے جہاں،لیلیٰ کہاں،مجنوں کہاں

علم بدیع کی صنائع معنویہ کی ساری صنعتوں میں تلمیح وہ صنعت ہے جو سب سے زیادہ فصیح اور بلیغ ہے۔اس لیے اگر غزل میں تلمیح برتی جائے تویہ غزل، فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے اعلیٰ درجے کی ہوگی۔محمود نیازی لکھتے ہیں:

’’تلمیحی الفاظ کے رواج سے ادیب اور شعرائ کو آسانیاںفراہم ہو جاتی ہیں۔ وہ اپنے خیالات و افکار سے مناسب سانچوں میں ڈھالنے پر قادر ہو جاتے ہیں اور کم وقت میں زیادہ کام کر سکتے ہیں۔‘‘

(محمود نیازی، دیباچہ، تلمیحات غالب،غالب اکیڈمی، نظام الدین، نئی دہلی، 1972،ص 9)

کہا جاتا ہے کہ جس زبان میں تلمیحات کم ہیں یا بالکل ہی نہیں ہیں تو اِس زبان کی اُن زبانوں کے بالمقابل وہ معنویت نہیں رہ جاتی کہ جن زبانوںمیں تلمیحی الفاظ کی کثرت پائی جاتی ہے لیکن اردو شاعری میںتلمیحی الفاظ کی بہت کمی پائی جاتی ہے۔ لے دے کر چند تلمیحاتی الفاظ ملتے ہیں جن میں کثیر تعداد میں الفاظ غیرملکی زبانوں کے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی اس خطے میں جتنے واقعات اور قصص و کہانیاںملتی ہیں ان کے حساب سے ان کو ادا کرنے کے لیے مختصراشارات بھی نہیں ملتے جب کہ دوسری زبانوں میں ان کی کثرت پائی جاتی ہے۔محمود نیازی نے اپنی کتاب ’تلمیحات غالب‘میں لکھاہے:

’’ادبی حیثیت سے ان زبانوں کو مالدار سمجھا جاتا ہے جن میں تلمیحات کا استعمال کثرت سے ہوتا ہے۔ انگریزی زبان کی مثال موجود ہے۔اس میں ہر قوم،ہر مذہب اور ہر لٹریچر کی تلمیحات شامل ہیںاور ان میں برابر اضافہ ہو رہا ہے۔شاہنامہ فردوسی، گلستاں و بوستاں، الف لیلہ و لیلہ،لیلیٰ مجنوں،شیریں و فرہاد اور اسی قسم کی سیکڑوں مشرقی علوم کی کتابوں سے تلمیحات اخذ کرکے ادبیات یورپ میں داخل کی جا چکی ہیں۔ برخلاف اس کے ہماری ہندوستانی زبانیں اور خصوصاََاردو کا دامن تلمیحات سے خالی ہے۔اس کی یہ ظاہر وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ وقت کی بہتات اور مشاغل کی کمی سے ہم لوگ تفصیلی گفتگو کے عادی ہو چکے ہیں۔‘‘(ایضا،ص 9)

اردو شاعری میں بہت سی تلمیحات عربی سے اور بہت سی ایران سے اور کچھ خالص ہندوستانی تلمیحات اردو زبان و ادب میںشامل ہوئی ہیں۔اردو شاعری میںعربی تلمیحات کی بھرمار نظر آتی ہے اس لیے کہ اردو زبان و ادب پر عربی کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیںاور عربی الفاظ کا چلن بھی اردو زبان میں زور و شور سے ہونے لگا تھااسی وجہ سے اردو شاعری میں تلمیحات کے بیشتر الفاظ عربی زبان سے مستعار ہیں۔عربی زبان میں انبیا کی تلمیحات بہ کثرت پائی جاتی ہیں جن کو اسلامی تلمیحات بھی کہا جاتاہے اورپھر انھیں تلمیحات کو اردو شعرا نے اپنے کلام کا حصہ بنایا۔کچھ اسلامی یا قرآنی تلمیحی الفاظ ملاحظہ ہوں:

آدم،یعقوب،یونس،سلیمان،بلقیس،یوسف،ابراہیم،اسماعیل،موسیٰ،عیسیٰ ومریم،لیلیٰ و مجنوں اورقرآن کی آیات و الفاظ وغیرہ جو کسی واقعے کو بیان کرتے ہیں۔’آدم ‘کی تلمیح سے جنت کے لوازمات اورانسان کی پیدائش وغیرہ کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ ’یعقوب‘ کی تلمیح سے کلام میںگریہ و زاری اور آہ و بکا کی کیفیت پیش کی جاتی ہے اور ’یوسف ‘سے کمال حسن کی عکاسی اور پیرہن یوسفی میں شفا یابی سے تسلی بھی دی جاتی ہے۔’یونس‘ کی تلمیح سے دوسروں کے حق میں جلدبازی سے فیصلہ نہ لینے کی تلقین اور ’ابراہیم و اسماعیل‘ کی تلمیح سے صبر وعشق کے باہمی اختلاط سے عقل کی بے چارگی کو پیش کرنا مقصود ہوتا ہے۔’ سلیمان‘ کی تلمیح سے ایک لامحدود اور لا زوال طاقت و قوت کی طرف اشارہ کرناشاعر کا مقصد ہوتا ہے۔وہیں ’بلقیس‘ سے عجز کا پیغام دیا جاتا ہے۔’نوح‘ کی تلمیح سے لوگوں کو بدی و بدکاری کے کاموں سے روکنے اور کسی چیز کی کثرت بتانا اور’ موسیٰ‘ کی تلمیح سے خدا کے نور کو بے پردہ دیکھنے کی تمنااور اس سے ہم کلامی کا اظہاربھی کیا جاتا ہے۔’عیسیٰ و مریم ‘کی تلمیحات سے پاک دامنی و پاک بازی کے ساتھ نطق فصیح اور لا علاج بیماری سے شفایابی کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔تلمیحات کلام میںایک ہی وقت میں بہت سے معانی و مفاہیم پیدا کر سکتی ہیںاوراِنھیں تلمیحات کے ذریعے شاعر کے کلام کی تاثیر بھی بڑھ جاتی ہے اور ساتھ ہی کلام کے معنوی پہلوؤں پرروشنی بھی پڑ جاتی ہے۔مثال میں یہ اشعار پیش کیے جاتے ہیں:

نہ چھوڑی حضرت یوسف نے یاں بھی خانہ آرائی

سفیدی دیدۂ یعقوب  کی پھرتی ہے زنداں  پر

(غالب)

حسنِ  یوسف  پہ  کٹیں مصر  میں انگشت ِ زناں

سر  کٹاتے ہیں  ترے  نام  پہ  مردان  عرب

                                                   (احمد رضا خاں)

آگ  ہے  اولادِ  ابراہیم  ہے  نمرود  ہے

کیا کسی  کو  پھر  کسی  کا  امتحاں  مقصود  ہے

(اقبال)

ایران سے جو تلمیحات اردو زبان میں آئیں ان تلمیحی الفاظ کی ایک طویل فہرست بن سکتی ہے۔چند یہ ہیں، جیسے  ’جمشید‘کی تلمیح سے عیش و عشرت ’ضحاک‘ کی تلمیح سے کسی حکومت یا شخص کے ظلم و جبرکے عدمِ تحمل سے اس ظلم کی بیخ کنی اور ’فریدوں ‘کی تلمیح میں محنت کشی،امن پسندی اور مظلوم کی فریاد سنائی دیتی ہے۔’کیخسرو ‘ کی تلمیح سے مستقبل میںرونما ہونے والے واقعات کی معلومات کا حصول اور ’رستم ‘کی تلمیح سے بہادری،’افراسیاب ‘ کی تلمیح سے توران کا جنگجوبادشاہ، ’نوشیروان‘ سے عدل و سخا، ’جوئے شیر ‘ کی تلمیح سے شیریں کی یادمیں پہاڑ کاٹ کر بنائی گئی وہ نہر ہے جو محنت و مشقت اور پیارکی نشانی ہے اور ’فرہاد و شیریں‘ کی تلمیح سے سچے عشق کی داستان کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔اشعار ملاحظہ ہوں           ؎

اور بازار  سے  لے  آئے  اگر  ٹوٹ گیا

ساغر جم  سے  مر ا  جام  سفال  اچھا  ہے

(غالب)

لیلیٰ ہے نہ مجنوں ہے  نہ شیریں ہے  نہ فرہاد

اب رہ گئے ہیں عاشق و معشوق میں ہم آپ

                                              (نوح ناروی)

کاوِ  کاوِ  سخت جانی ہائے  تنہائی نہ پوچھ

صبح کرنا  شام  کا لانا ہے  جوئے شیر  کا

(غالب)

خالص ہندوستانی رنگ میں ملبوس تلمیحات بھی اردو شاعری میں دیکھی جا سکتی ہیں جن کو شعرا نے اپنے کلام کا حصہ بنایا ہے۔جیسے ’رام‘،’سیتا‘اور ’راون‘ کی تلمیحات اگرچہ ایک ہی پس منظر کو پیش کرتی ہیں مگر ان کے ذریعے شاعرالگ الگ احساسات و جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔ کبھی ’رام‘ اور ’سیتا‘ کے سچے پریم کی کہانی سناکر ’راون‘ کو اس پیار کا دشمن بنا کر پیش کیا جاتا ہے اورکبھی تلمیحاََ انھیں الفاظ سے انسانوں کی نفسیاتی کیفیت کی عکاسی بھی کی جاتی ہے۔ یعنی انسان کی ذات میں ایسی خوبی و خامی بیان کرنا مقصود ہوتا ہے۔ ’گوتم بدھ‘ کی تلمیح سے پران و گیان کی تلاش و جستجواور’گنگا‘و’جمنا‘ کی تلمیح سے ہندوستانی تہذیب و تمدن اور گہرے معنوی رشتوں کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی ہندوستانی تلمیحات اردو شاعری کا حصہ ہیں            ؎

رام و گوتم کی زمیں  حرمتِ انساں  کی امیں

بانجھ ہو جائے گی کیا خون کی برسات کے بعد

(علی سردار جعفری)

اے  آب رود گنگا  اف  ری  تری  صفائی

یہ  تیرا  حسن  دل کش  یہ  طر زِ  دلربائی

(سرور جہاں آبادی)

ڈاکٹرمصاحب علی صدیقی نے تلمیحات کے موضوع پر اپنی پی ایچ ڈی کے مقالے ’اردو ادب میں تلمیحات‘ میں گہرائی اور گیرائی کے ساتھ تلمیحات کی افادیت ومقصدیت پر روشنی ڈالی ہے۔انھوں نے تلمیح کو کلام کا ایسا جزو بتایا ہے جس کی وجہ سے کلام کا حسن اپنی مکمل رعنائی کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔یہ تلمیحات کلام کو حسن بخشتی ہیں،  کلام میں ایجاز پیدا کرتی ہیں اور کلام کو بلاغت کا مرقع بنا دیتی ہیں۔ساتھ ہی یہ تلمیحات ہمیں اپنے ماضی سے بھی ہمکنار کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔وہ لکھتے ہیں:

’’تلمیح در اصل ایک فطری تقاضا ہے، وہ سماج کی ضرورت کا ایک سرچشمہ ہے۔وہ تمدن کا سنگِ میل ہے،وہ ایجاز و اختصار کی ایک اہم کڑی ہے،وہ حسن ِ کلام کا مرقع ہے،عروج ِکمال کی کسوٹی ہے جو نہ صرف ایک قدیم صنعت ہے بلکہ دیگر صنائع کے مقابل میں یہ صنعت نہایت دلچسپ،لطیف اور جامع ہے۔‘‘

(مصاحب علی صدیقی، اردو ادب میں تلمیحات،فخر الدین علی احمد میموریل کمیٹی، یوپی،1990،ص10)

تلمیحات میں شاعر کی جدت طرازی کا سراغ تلمیح کو استعارہ بنا کرپیش کرنے میں ملتا ہے۔اس لیے کلام میںظاہری اور معنوی حسن کے لیے استعارہ سازی نہایت ضروری ہے۔تلمیح بھی چند حرفوں کا ایک استعارہ ہی ہوتی ہے جس میں زمانے اور تاریخ کے گہرے نقوش پیوست ہوتے ہیں۔علم بدیع محسنات ِلفظیہ و معنویہ سے بحث کرتا ہے اور صنائع معنویہ کی اعلی مثال میں تلمیح کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ اب رہی یہ بات کہ تلمیح کو اشعار میں کس طرح برتا جائے تو اس کا کوئی باضابطہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے۔  پھر بھی اس کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں۔

پہلا طریقہ تو یہ ہے کہ تلمیحی الفاظ جس پس منظر میں لائے گئے ہیں وہ واضح ہوناضروری ہے ورنہ قاری پر اس کا اثر نہیں ہوگا اور اس کا ذہن اس واقعے تک بہ آسانی نہ پہنچنے کی وجہ سے کلام کی معنویت ختم ہو جائے گی جس کے لیے کلام کو پیش کیا گیا ہے۔اس کی مثال میں غالب کا وہ شعر ہے جس میں انھوں نے ایرانی تہذیب کی طرف اشارہ کیا ہے    ؎

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا

کاغذی  ہے  پیرہن ہر پیکر تصویر کا

اگر اس شعر کی وضاحت خود غالب نہ کرتے تو اس شعر میں پیش کی گئی تلمیح بے سود رہ جاتی۔ اس سے بس اتنا سمجھ آتا کہ یہ دنیا اور اس کے اسباب و علل کو حقیقی ثبات نہیں ہے بلکہ سب فانی ہے۔جب کہ اس شعر کو اس طرح سمجھنا بھی تلمیحی کسر پوری کر دیتا ہے مگر پھراس کی معنویت کیا رہ جاتی۔اس طرح کا خیال تو میر تقی میرکے یہاں بھی ہے اور بہت واضح انداز میں ہے۔اس لیے کلام کی معنویت ان تلمیحی الفاظ سے بہتر ہوتی ہے جن کا پس منظر بہت واضح ہوتا ہے     ؎

کہا میں نے گل کا ہے کتناثبات

کلی نے  یہ  سن کر  تبسم  کیا

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اگر ایک ہی شعر میں متعدد تلمیحات کا استعمال کیا گیاہے تواب پہلے مصرعے میں تلمیحی لفظ ہو یا دوسرے مصرعے میں یاپھر دونوں مصرعوں میں۔اس وقت رعایت الفاظ بہت ضروری ہوتی ہے ورنہ اس صورت میں بھی کلام کی معنویت باقی نہیں رہے گی۔مثال کے طور پر ولی کا یہ شعر ملاحظہ ہو       ؎

اے سکندر نہ ڈھونڈ آبِ حیات

چشمۂ خضر  خوش   بیانی   ہے

اس شعر میں سکندر،آب حیات،چشمۂ خضر تلمیحی الفاظ ہیں مگران میں ایک طرح کی رعایت برتی گئی ہے۔شاعر نے ذوالقرنین ’سکندر‘ کی تلمیح سے لوگوںکو یہ تلقین کی ہے کہ آب حیات کی تلاش بے سود ہے۔ کیونکہ خضر بھی اپنی طویل عمر سے عاجز آ چکا ہے۔اس لیے کم عمر میں نیک کام کرکے مر جانا ہی بہتر ہے۔اس طرح کے اشعار اس انسان کو بھی اپنی توجہ کا مرکز بناتے ہیں جوبے جا حرص و طمع کی خواہش رکھتا ہے۔ کیوں کہ آخر میں تو موت ہی مقدر بنتی ہے۔اس طرح شاعر نے تلمیح میںمراعات النظیرکی صنعت سے ایک معنوی اور لفظی ربط پیدا کیاہے۔

تیسرا طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک ہی شعر میں مختلف تلمیحی الفاظ کا استعمال کیا جائے جو الگ الگ قصوں یا واقعات سے تعلق رکھتے ہوں اورساتھ ہی ان کا پس منظر بھی الگ الگ ہو۔ لیکن ان کے درمیان ایک مشترکہ خصوصیت ہو۔اس طرح کے اشعار بھی اردو شاعری میں دیکھنے کوملتے ہیں۔جیسے مومن کا یہ شعر اس کی واضح مثال بن سکتا ہے       ؎

وہی مذہب ہے  اپنا بھی جو قیس و کوہ کن کا تھا

نئی راہ افترا ہے کب بھلا مومن نے بدعت کی

قیس ‘و’کوہ کن ‘یہ الفاظ اپنے اندرعشق و عاشقی کی پوری تہذیب لیے ہوئے ہیں۔مومن نے اس شعر میں’ قیس‘ اور ’کوہ کن‘ کا ذکر کیا ہے۔جب کہ یہ تلمیحی کردار الگ الگ قصے سے تعلق رکھتے ہیں۔ مگر ان میں قدر مشترک ’عشق‘ ہے۔ کیونکہ’ قیس ‘و’کوہ کن‘ دونوں اپنے عشق میںثابت قدم رہے اور اس طرح دونوں سچے عشق کا مظہر بن گئے۔ مومن نے بھی ان الفاظ کو شعر میںجمع کرکے اپنے روایتی عشقی رویے کی داستان بیان کر دی ہے۔یہی توشاعر کا کمال ہوتا ہے کہ وہ کن الفاظ سے مضمون کی ادائیگی میں بہتر معانی پیدا کر سکتا ہے۔شرف الدین مضمون کا یہ شعر بھی کچھ اسی طرز پر ہے       ؎

ہم نے کیا کیا نہ ترے عشق میں محبوب کیا

 صبرایوب    کیا، گریہ ٔ یعقوب   کیا

اس شعر میں’صبر ایوب‘سے ایک الگ کہانی مراد ہے اور ’گریۂ یعقوب‘ سے فراق ِیوسف مراد ہے۔ مگر ان میں قدر مشترک ’عشق‘ ہے جس میں عاشق کا مقدر،قوت برداشت اور صبر و تحمل کی تلقین کی جاتی ہے کہ عشق میں جو صبر ہے۔اس میں تو مرتبہ ٔ ایوب تک پہنچ جا اور اس کے فراق میں مرتبہ ٔ یعقوب حاصل کرلے۔ کیوں کہ ایک سچا عاشق اپنے محبوب کے سچے عشق میں سب کچھ کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔شاعر اپنے کلام کے ایک ہی شعر میں مختلف تلمیحات سے مختلف معانی و مفاہیم اخذکر سکتا ہے۔ بقول الطاف حسین حالی : کہیں آہوئے مادہ سے آفتاب مراد لی ہے اور کہیں اشک زلیخا سے کواکب اور کہیں آب خشک سے پیالہ،کہیں پنج دریا سے پانچ انگلیاں۔ تلمیحی الفاظ بھی کچھ اسی نہج پر مبنی ہوتے ہیں کہ شاعر ایک ہی تلمیحی لفظ سے کبھی گل و گلشن مراد لیتا ہے تو کبھی اسی لفظ سے محبوب کے رخسار مراد لیتا ہے۔

تلمیح کا اصل کمال غزلیات میں رمزیاتی کیفیت، لفظی حسن اورکلام میں پہلو در پہلو معنویت پیدا کرناہوتا ہے اور شاعر ان تلمیحات کے ذریعے اپنے سامع یا قاری کو تخیل کی ایسی پر اثر وادی میں لے جاتا ہے کہ جس میں اس کی عقل حیرت زدہ رہ جاتی ہے۔ شاعر ہزاروں نت نئے اسالیب اختیار کرکے قاری کو مسحورکرتا ہوا نظر آتا ہے۔ شاعری ہی وہ میدان ہے جس میںصنائع و بدائع کا استعمال کرکے ایک لفظ کے متعدد متناسب اور متضادمعانی پیدا کیے جاسکتے ہیں اور یہ شاعر کا کمال ہوتا ہے کہ وہ ایک لفظ کو شاعری میں برتنے کے لیے کتنے جتن کرسکتا ہے۔ شاعری،شاعر کے موضوعات کے محور میں گھومتی ہے اور موضوعات الفاظ سے پیدا کیے جاتے ہیں۔موضوع کی مناسبت سے شاعر کے لیے جتنا ہو سکتا ہے۔ وہ انوکھے اور عمدہ مضامین تلاش کرکے ان میں اپنی تخلیقی قوت صرف کرکے قاری کے سامنے پیش کر دیتا ہے اور قاری کا ذوق جمال بھی شعر پڑھتے ہی اس میں پیش کیے گئے مضمون کی معنویت،انوکھاپن،حسن کی کرشمہ سازی اور الفاظ کی مرصع سازی کو جان لیتا ہے۔اس لیے شاعری کے لیے سنجیدگی اور شاعر کے لیے تخلیقی صلاحیت نہایت ضروری ہے۔

تلمیحات ادب کی جان ہیں اور اس ادب کی پہچان بھی ہیں جو بیک وقت قوم کے احوال و آثار،ان کی تہذیب و ثقافت،سماجی ضروریات،معاشی ہم آہنگی اور معاشرتی رہن سہن کو پیش کرتا ہے۔یہ انسانی زندگی کی عکاس ہیں کہ جب انسان کا رہن سہن اور آپسی ملن ہواتو یہی تلمیحات ان کو آپس میں کلام کرنے اور ایک دوسرے کی بات کا مفہوم سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتی تھیں۔

 

 

Mohammad Arif

Room No.: 258, Tapti Hostel, JNU

New Delhi - 110067

Mob.: 9027564028