جمعرات، 28 اکتوبر، 2021

اردو افسانے میں تقسیم ہند کے مسائل اور کرب - مضمون نگار: ساجد علی قادری

 



بر صغیر ہمیشہ سے دنیا کی نگاہ میں پرکشش اور پراسرار رہاہے۔ اس کشش نے کئی قوموں اور نسلوں کو یہاں بسنے پر نہ صرف مجبور کیا بلکہ انھوں نے اسے وطنِ ثانی بنالیا لیکن سترھویں صدی میں ایک ایسی قوم نے سرزمین ہند پر قدم رکھا۔ جو تجارتی حدود کو پار کر کے دیکھتے ہی دیکھتے یہاں کے سیا ہ و سفید کی مالک بن گئی۔ اور 1857  کے ناکام انقلاب کے بعد پوری طرح سے اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئی اوراس طرح برطانوی حکومت کا دور شروع ہوگیا۔ 1857 کے خونی انقلاب کے بعد ہندوستان کی سیاسی، سماجی، معاشی، تہذیبی، اور اخلاقی و مذہبی زندگی دگر گوں ہو گئی۔ دوسرے لفظوں میں کہا جائے کہ بساط ِ ہند پر اماوس کی کالی رات کی تاریکی چھا گئی۔ جسے ہر ہندوستانی اپنا لہو دے کر آزاد کرانا چاہتا تھا۔ یعنی ملک کو انگریزوں کی غلامی کی زنجیر سے آزاد کرانے کے لیے ہندومسلم نے یکجا ہوکر اپنے سر پر کفن باندھ لیا۔ اہل ہند کی حب الوطنی اور اتحاد و اتفاق نے برٹش حکومت کی نیند حرام کر رکھی تھی۔ یہی سبب ہے کہ انگریزوں نے ایک نہایت گھٹیا پالیسی۔ ’پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو‘ اپنائی جس کا مکروہ چہرہ 1947 میں نظر آیا اور وہ مکروہ چہرہ ہندوستان کی تقسیم اور اس کے بعد رونما ہونے والے فساد ات تھے۔ ایک چہرے کا نام تھا ہندوستان اور دوسرے کا پاکستان۔ بر صغیر کے اس خط ِ فاصل نے جغرافیائی سطح پر کوئی لائن نہیں کھینچا تھا بلکہ انسانی رشتے، ناطے، محبتیں اور یادیں، اخلاقیات، تہذیب و ثقافت، جذبات، انسانیت گویا سب کچھ کا بٹوارہ کردیا۔ اس خطِ تنسیخ کے اثرات نے دونوں ملکوں کی سیاسی، سماجی، و اقتصادی زندگی کو تبا ہ و بر باد کر دیا۔ آزادی کے نام پر ہو نے والی تقسیم کی تاریخ بے حد دل سوز واقعات وحادثات سے پر ہے۔ انسان کے ہاتھوں انسان کے قتل نے ہماری بر سوں کی مشتر کہ تہذیب پر سوالیہ نشان لگا دیا اور انسا نیت سرچھکاے سسکتی رہ گئی۔سینہ ہندپر ایک ایسی آگ جل رہی تھی جو ہر چیز کو خاکستر کر دینے پر آمادہ تھی۔ جان، مال عفت و نا موس اور اقدار غرض سب کچھ اس کی زد میں تھا۔ تقسیم کے بعد ہجرت کے دوران بچے، بوڑھے، جوان، مرد، عورتوں کا بے دریغ قتل عام روز کا معمول بن گیا تھا۔ سرسبز و شاداب کھیت کھلیان اجڑ کر شہر خمو شا ں میں تبدیل ہوگئے۔    

تقسیم ہند کے بعد فسادات کے سیلاب نے اپنی تمام تر تباہیوں اور بربادیوں کے ساتھ اخلاق و اقدار اور باہمی اخوت کا ایسا جنازہ نکالا کہ دہائیوں تک کے لیے پنجاب کی گلیا ں ہیر اور رانجھا کے عشقیہ گیت سے محروم ہوگئیں۔ وحشیانہ قتل عام کے اتنے دلدوز مناظر سامنے آئے کہ آج بھی ان کے خیال سے لزرہ طاری ہو جاتا ہے۔  اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا بر صغیر میں قتل و غارت گری یا جنگ و جدل کے واقعات اس سے قبل وقوع پذیر نہیں ہوئے تھے؟دراصل بات یہ ہے کہ اس سے قبل خانہ جنگی نے زندگی کو اس وسیع پیمانے پر نیست و نابود نہیں کیا تھا، دیکھا جائے تو دوسری عالمی جنگ میں ایٹم بم کا استعمال ایک مخصوص خطے میں کیا گیا تھا۔ بیشک ایٹم بم نے لاکھوںانسانوں کی زندگی کو صفحہ ہستی سے مٹادیا۔ لیکن 47 کے بعد ہجرت کے نام پر قسطوں میں انسانی زندگی کو تباہ کیا گیا۔ایسے پر آشوب ماحول میں اردو کے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں نے، ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ جن افسانہ نگاروں نے فسادات اور ہجرت کے مسائل اور اس کے کرب کو اپنے فن کے کینوس پر بکھیرا ان میںکرشن چندر،سعادت حسن منٹو، مہندرناتھ، بلونت سنگھ، احمد ندیم قاسمی، خواجہ احمد عباس، عصمت چغتائی، راجندر سنگھ بیدی،قرۃ العین حیدر، حیات اللہ انصاری، انتظار حسین وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان افسانہ نگاروں نے فسادات کے مختلف مسائل بالخصوص قتل و غارت گری، عورتوںکی بے حرمتی، بے گناہ و معصوم افرادکا قتل، لاپتا افراد، نفسیاتی کشمکش، وغیرہ کو اپنے افسانے کا موضوع بنایا۔ کرشن چندر کا افسانہ ’پشاور ایکسپریس‘ تقسیم ہند کے بعد نقل مکانی کے حالات کے دردو کرب کا مر قع ہے۔ وہ محض ایک ایکسپریس ٹرین نہیں تھی جو لاہور سے چلی تھی ہندوستان کے لیے، اور ہندوستان سے پاکستان جانے کے لیے۔ دراصل یہ ٹرین لاشیں ڈھونے والی ایک ارتھی تھی۔ ہزاروں بے گناہ انسانوںکی لاشیں جیسے پشاور ایکسپریس اپنے کندھے میں لاد کر چل رہی تھی۔ آزادی کے نام پر ملنے والی تقسیم نے انسانی زندگی اور انسانیت دونوں کو تہس نہس کردیا تھا۔ فرقہ وارانہ فسادات نے جن جن علاقوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ان میں خصوصاً پنجاب، دلی، لاہور، بنگال، حیدر آباد ہیں۔ ان ریاستوں میں قتل و غارت، جنگ و جدال اور درندگی کی تمام حدیں پار کردی تھیں۔ بقول فرمان فتح پوری :

’’ آزادی کا دیاپوری طرح روشن بھی نہ ہونے پایا تھا کہ فسادات کے نام سے برق و باد نے گھیر لیا۔ گائوں کے گائوں اور شہر کے شہر قتل و غارت کی آندھیوں میں تنکے کی طرح اُڑگئے۔ بادلوں سے پانی کے بجائے خون برسنے لگا۔ گلی کوچے اور بستیاں ڈوب گئیں۔ آدمی کے روپ میں درندے نکل پڑے۔ برسوں کی یاری اور ہمسائیگی کچھ کام نہ آئی۔سارے رشتے آن کی آن میںمنقطع ہوگئے۔‘‘   (اردو افسانہ اور افسانہ نگار، ص 91)

کرشن چندر نے اپنے افسانے ’امرت سر آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعدـ‘ میں اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ اور انسانی زندگی کے اس کرب کو واضح کیا ہے جہاں انسانی زندگی کی کوئی قدروقیمت نہیں تھی۔ انسان کا خون بہانا جیسے Fundamental Rightsہو۔ ہر کوئی حیوانیت کا سردار بن گیا تھا۔ بچوں بوڑھوں، جوان اور عورتوں کا بے دریغ قتل کیا جا رہا تھا۔ افسانہ ’لالہ باغ‘ میں انسانی زندگی کی قیمت طے کی گئی۔ ایک انسان کو مارنے کی قیمت پچاس روپئے، چاہے وہ ہندو ہو یا مسلم یا سکھ۔ جبکہ ایک گلاس پانی کی قیمت ایک سوروپیہ تھی۔ بقول کرشن چند ر :

’’پانی ہندوستان میں بھی تھا اور پانی پاکستان میں بھی تھا۔ لیکن پانی کہیں نہیں تھا، کیونکہ آنکھوں کا پانی مرگیا تھا اور یہ دونوںملک نفرت کے صحرا بن گئے تھے۔۔۔ جس دیس میں لسی اور دودھ پانی کی طرح بہتے تھے وہاں آج پانی نہیں تھا۔ اس کے بیٹے پیاس سے بلک بلک کر مررہے تھے۔‘‘(ہم وحشی ہیں، ص95)

انتقام کی آگ نے صرف تباہی وبربادی کو جنم دیا۔ اشفاق احمد کا افسانہ ’گڈریا‘ میں فرقہ وارانہ جھگڑے کے واقعات کی سچی تصویر کشی کی گئی ہے۔ نفرت کی آگ نیک انسان کو شیطان بنادیتی ہے اور دوست کو دشمن۔ خواجہ احمد عباس نے اپنے افسانے ’’اجنتا‘‘ میں اس پہلو کو بطور خاص اجاگر کیا ہے کہ انسانی عقل کس قدر نا قص ہے۔ مذہب کے نام پر تعصب کا ایک ایسا کھیل کھیلا کہ انسانیت ایک بے معنی سی چیز بن گئی۔ اس افسانے کا ہیرو نر مل ایک صحافی ہے۔ جو فسادات کی بر بریت اور حیو انیت کے زد میں آئے افراد کی مدد کے لیے امن کمیٹی کی تشکیل میں بڑ ھ چڑ ھ کر حصہ لیتا ہے۔ لیکن اس کو اس بات کا شدید صدمہ ہو تا ہے کہ امن کے پر چار کر نے والوں میں در ندے بھی مو جود ہیں تو وہ مایو سی اور ذہنی تنائو کا شکا ر ہو جاتا ہے۔ خواجہ احمد عباس نے ’اجنتا ‘ میں نر مل کی ذہنی کیفیت کی تصویر کشی یو ں کی ہے:

’’ اس دبلے پتلے نو جوان کی صورت اب بھی میری آنکھوں کے سامنے پھرتی ہے۔ بھارتی ــ!اس کی آخری چیخ اب بھی میرے کا نو ں میں گونج رہی ہے اور اس نے میری نیند  اڑا دی ہے۔ رات کو سوتا بھی ہوں تو خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں ایک خون کے سمندر میں ڈوب رہا ہوں اور کو ئی میری  مدد کو نہیں آتا۔‘‘                                          

( اجنتا مجموعہ زعفران کے پھول ص نمبر37)

عزیز احمد کا افسانہ ’ کا لی رات ‘ میں بر بریت اور حیو انیت اپنے بام عروج پرنظر آتی ہے، اس رات کی تا ریکی میں انسانیت آخری دم تک درند گی سے مقابلہ کر تی ہے۔ بلوائی ریل کے ڈبے کو توڑکر نئی نویلی د لہن کو اس کے شوہر کے سامنے قتل کردیتے ہیں۔حیات اﷲ انصاری کے افسانے ’شکر گزار آنکھیں‘ میں بھی بربریت کے سامنے عز ت بچانے کی خاطر جان دینے کا دل سوز واقعہ ہے۔ قرۃالعین حیدر نے اپنے افسانے ’جلاوطن‘ میں لکھنؤ کی مشترکہ تہذیب کے بکھرنے کے درد و کرب کو کہانی کا روپ بخشا ہے۔ بٹوارہ صرف ایک زمین کا نہیں ہوا تھا بلکہ ایک تہذیب کا تھا، جس کا ماتم ہر ہندوستانی نے کیا تھا۔ تقسیم ہند کے بعد سب سے بڑا المیہ یہ ہوا کہ ہر انسان کو اپنی قوم پر ستی کا ثبوت دینا پڑ رہا تھا۔ افسانہ جلا وطن کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

’’پولیس ہر لمحے  ان کو تنگ کرتی۔ آپ کے بیٹے کا پاکستان سے آپ کے پاس کب خط آیا تھا۔ آپ نے کراچی میں کتنی جائیداد خرید لی ہے۔ آپ خود کب جارہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔  اور یہ جو بابا کی ساری قوم پرستی تھی سارا جون پور عمر بھر سے واقف ہے کہ بابا کتنے بڑے نیشنلسٹ تھے۔ تب بھی پولیس پیچھا نہیں چھوڑتی۔‘‘          (افسانہ جلا وطن، ص129,30)

فسادات کی آگ نے انسانی زندگی کو تہس نہس کر دیا تھا۔ اس آگ کے شعلے نے انسان کی نفسیات کو چکنا چور کیا۔ افسانہ’ٹو بہ ٹیک سنگھ‘ میں بشن سنگھ کی دما غی کیفیت کی منٹو نے جو تصویر کشی کی ہے بے حد درد ناک ہے۔ تقسیم ہند کے دو سال کے بعد دو نوں ملکوں کے سیا سی لیڈروں کو مذہبی نقطہ نگاہ کی بنا پر یہ فیصلہ لینا پڑتا ہے کہ جو ہندو پا گل ہیں وہ ہندوستان میں بھیج دیے جا ئیں اور مسلما ن پاگل پا کستان میں رہیں گے۔شاید حکومت کا یہ فیصلہ دونوں ملکوں کے مذہبی لیڈروں کو اپنا قد اونچا کر نے کا سنہرامو قع مل گیا تھا۔ منٹو کے نزدیک یہ فیصلہ مذہب کے نام پر نہیں کیا گیا بلکہ انسان کو اپنی زمین اور اپنی شناخت سے جدا کر نے کی ایک گھناونی سازش تھی جو  47 کے بعد کامیا ب ہوئی۔ 

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ تقسیم ہند کے بعد فسادات کی آگ نے معاشرے کے ہر فرد کو نقصان پہنچایا۔ جانی و مالی نقصانات سے لے کر روحانی تک، لیکن تقسیم ہند کے بعد ہجرت کے نام پر فسادات کی سب سے بھاری قیمت خواتین نے اپنی جان وآبرو کی قربانی دے کر ادا کی۔ ان قیامت خیز حالات میں مردوں نے اپنی جنسی تسکین کے لیے عورتوں کی آبرو کو تا ر تار کیا اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔انھیں اغوا کیا گیا اور قحبہ خانوں کی زینت بننے پر مجبور کیا گیا۔ یہاں تک کہ سربازار عورتوں کی بولی بھی لگائی گئی۔ تقسیم ہند کے بعد سب سے بڑا کرب عورتوں کی حرمت کا المیہ ہے۔ خواتین نے مردوں کی زیادتی اور استحصال کے ساتھ ساتھ درندگی اور حیوانیت کے بے شمار ستم برداشت کیے اس موضوع پر منٹو کے افسانے کھول دو، ٹھنڈا گوشت، شریفن قابل ذکر ہیں۔ افسانہ شریفن میں بملا اور شریفن کی عصمت کی بے حرمتی کی جامع تصویر ملتی ہے۔ افسانہ کھول دو میں ایک ایسی لڑکی سکینہ کی کہانی ہے جو مشرقی پنجاب میں سکھ مردوں کی درندگی کا نشانہ بنتی ہے تو پاکستان میں رضاکار بھائیوں کی دل بستگی کرتی ہے۔ رضاکاروں کے کردار میں منٹو نے اس شیطانی چہرے کو ظاہر کیا ہے جو فرشتہ صفت بن کر عورتوں کی عصمت کو داغدار کرتے ہیں۔ اسی طرح ’ٹھنڈا گوشت‘ میں ایشر سنگھ کی حیوانیت بامِ عروج پر نظر آتی ہے۔فسادکے دوران ایک گھر کے تمام افراد کو قتل کردیاجاتاہے ایک درندہ صفت ایک لڑکی کو اُٹھا کر لے جاتا ہے مگر جب اپنی حیوانی خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ لڑکی پہلے ہی مرچکی ہے۔ اس طرح کے کردار کے ذریعے افسانہ نگاروں نے عورتوں کی بے بسی اور لاچاری کے کرب کو واضح کیا ہے۔

مہندر ناتھ کا افسانہ ’پاکستان سے ہندوستان تک‘ میں ایک بازیافتہ عورت کو اپنے گھر والوں کی نفرت اور حقارت کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے۔ افسانے کی ہیروئن پشپا اور صفدر ایک ہی گائوں میں رہتے ہیں اور ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔ لیکن گھر والوں کی خوشی کی خاطر پشپا سوہن لال سے شادی کرلیتی ہے۔ کچھ عرصے بعد فرقہ وارانہ فساد شروع ہوجاتا ہے۔ سوہن لال اپنی بیوی کو چھوڑ کر اپنی ماں اور اپنے بچوں کو لے کر دلّی چلا آتا ہے۔ پشپا کو تنہا دیکھ کر حملہ آوراس کے گھر پر حملہ کرتے ہیں۔

’’پھر پشپا کی باری آئی۔ لوٹنے والوں نے اسے بھی مال غنیمت سمجھا۔۔۔۔۔۔ عورت کی حیثیت ہمارے معاشرے میں ایک تہائی کی سی ہے۔۔۔۔۔ یوں تو ہمارے گرنتی صاحب میں، وید میں قرآن مجید میں عورت کو بہت اونچا مقام دیا گیا ہے لیکن موقع ملنے پر ہم لوگ سب کچھ بھول جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ مسلمان نوجوانوںنے پشپاکو ایک کوٹھری میں بندکردیااوراس کی تنہائی اور بے بسی کا فائدہ اُٹھایا۔‘‘  (افسانہ پاکستان سے ہندوستان تک، ص184)

راجندر سنگھ بیدی کا افسانہ ’لاجونتی‘ ایک بد قسمت عورت کی کہانی ہے۔ جسے فساد میں اغوا کرلیا جاتا ہے۔ اور وہ اپنے شوہر سندر لال سے بچھڑ جاتی ہے۔ کچھ دِنوں کے بعد لاجونتی کی ملاقات سندرلال سے ہوتی ہے، لیکن اس ملاقات میںلاجو ایک پتنی کے روپ میں اپنے پتی سے نہیں ملتی بلکہ ایک ناپاک جسم کے طور پر، یہاں پر بیدی نے سندرلال اور لاجو کے اس ذہنی کرب اور نفسیاتی کشمکش کو اجاگر کیا ہے جو عورتیں بازیاب ہوکر اپنے گھروں میں واپس آتیں ہیں۔ ان کے اپنے انہیں اپنانے سے انکار کردیتے ہیں۔ جبکہ ان خواتین کی بے گناہی کے چشم دید گواہ ان کے بھائی، رشتے دار خود ہیں۔  دراصل تقسیم ہند کے بعد قیامت خیزحالات نے خواتین کی زندگی کو جہنم زار بنادیا تھا۔ ایک مصیبت سے نکلتی تو فوراً دوسرے مصائب کا شکار ہوجاتی تھی۔

قدرت اﷲشہاب کا افسانہ ’ یا خدا ‘ میں عورت کی ٹریجڈی بڑی درد ناک نظر آتی ہے۔ دلشاد پا کستان کی سر زمین کو مقدس سمجھ کر آتی ہے جہاں اس کے زخموں پر مر ہم رکھنے والے بھا ئی ہو ں گے مگر بھا ئی کے روپ میں در ند ے ملتے ہیں۔ اس طر ح ممتاز مفتی کا افسانہ ’گوبر کے ڈھیر پر‘ اور سید انور کا ’ ظلمت ‘ اور شکیلہ اختر کا  ’آ خر ی سہارا ‘ میں عورتوں کی ٹریجیڈی کی منہ بولتی تصویریں ہے۔عورت اپنے ہی وطن میں اپنے ہی رشتے داروں کے ہا تھوں ظلم و ستم سہنے وا لی کٹھ پتلی بن جا تی ہے افسانہ نگاروں نے اپنی کہانیوںمیں عورتوں کے اپنے ہی وطن میں ان کے خوابوں کو ٹو ٹتے اور بکھرتے دکھا یا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جائے کہ تقسیم ہند کا سب سے بڑا درد اور کرب کسی نے اگر جھیلا ہے تو وہ خواتین ہیں۔ عورتوں کا سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ معاشرے میں مقام اور عزت کا مسئلہ تھا۔ کہ اس کی حیثیت کیا تھی؟ وہ ایک ناپاک جسم تھا یاد ل شکستہ آئینہ تھا۔‘‘ جسے سماج سنبھال کر رکھنا نہیں چاہتا تھا۔ جس خاموشی اور جواں مردی کے ساتھ عورتوں نے تقسیم ہند کے کرب کو سہا ہے شاید ہی اس آگ میں کوئی اور جھلسا ہو۔

رام لعل نے اپنے افسانے ’نئی دھرتی پرانے گیت‘ میں ان افراد کی سماجی اقتصادی زندگی کے درد و کرب کو واضح کیا ہے جو اپنے وطن کو چھوڑ کر دوسرے ملک میں جا بستے ہیں اور مہاجر کے نام سے پکار ے جاتے ہیں۔ اس افسانے میں رام لعل نے نئی بستیوں میں بسنے والوں کی شناخت کے کرب کو پیش کیاہے۔ سیاست کے مفاد پرست اماموں نے برصغیر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے صرف غیر دانشورانہ عمل کا ثبوت ہی نہیں پیش کیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ کتاب ِ زیست میں بر بر یت اور درندگی کا ایک ایسا باب بھی رقم کیا۔ جس کی قیمت آج تک ہم اپنے لہو سے ادا کر رہے ہیں۔

الغرض تقسیم ہند کے عنوان پر لکھے جانے والے افسانے فنی اعتبار سے اپنے فن کی معراج سے تعبیر کیے جا سکتے ہیں اور یہی افسانے موضوعاتی اعتبار سے اپنے دور کی وہ تصویر یں پیش کرتے ہیں جہاں انسان اور انسانیت کی قبائیں تار تار ہوجاتی ہیں وہ خوبصورت ملک ہندستان جنت نشان جہاں ہر ہندستانی نے اپنے ملک عزیز کی آزادی کے لیے انقلاب اور ولولہ انگیز جذبوں کے درمیان اپنے جانوں کی قربانی پیش کرکے ملک کی نئی صبح کی امید کی تھی وہ صبح تو آئی ضرور لیکن اس قیامت کے ساتھ ٓائی کہ آسمان امید پر شفق کی لالی کی جگہ انسانی جذبوں اور جسموں کا خون چڑھاہوا تھا۔ ایسے دور کے میں لکھے گئے افسانے ا ٓج بھی ان خون آشام دن اور رات کی قیامت خیز کہانیاں اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں       ؎

لہو میں ڈوب کے پہنچے ہیں جو کنارے تک

وہ جانتے  ہیں کہ یہ  راہ کس قدر تھی کٹھن

 

Dr. Sajid Ali Qadri

Ho.D, Urdu & Research Guide (KBC NMU)

S.P.D.M. College

Shirpur, Dist: Dhulia - 425405 (MS)

Mob.: 9423288786

 

ماہنامہ اردو دنیا، ستمبر 2021

بدھ، 27 اکتوبر، 2021

اردو لوک گیتوں کے امتیازات - مضمون نگار: عبداللہ امتیاز احمد

 



 

لوک گیت لوک ادب کی اہم شاخ ہے جس میں زندگی کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کی جاتی ہے۔ اس میں انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک کے تمام موضوعات بیان کیے جاتے ہیں۔ لوک گیت میں عوام کے جذبات کا فطری اور براہ راست اظہار ہوتا ہے یہ عوام کے ذہنوں میں محفوظ رہنے والا وہ ادبی سرمایہ ہے جو کبھی ضبط تحریر میں نہیں آیا اس لیے آج تک لوک گیتوں کی کوئی تحریری شکل دستیاب نہیں ہوئی۔ اس میں انسان کے دلوں کی آوازیں واضح طور پر سنی جا سکتی ہیں جس میں انسان کے سادہ جذبات بیدار نظر آتے ہیں اور اجتماعی خوشیوں اور غموں کا اظہار ہوتا ہے۔ انسان اپنی خوشیوں کا جسمانی اظہار رقص کے ذریعے اور زبانی اظہار گیت کے ذریعے کرتا ہے۔ در اصل جب انسان بے انتہا خوش ہوتا ہے تو کچھ نا کچھ گنگناتا ہے اور جب کبھی خوشی کی انتہا ہوتی ہے تو اپنے جسمانی اعضا کو بھی حرکت دینے لگتا ہے۔ یہیں سے رقص کا آغاز ہوتا ہے اور جب ان جذبات کوگیت کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے تو اسے لوک گیت کہتے ہیں۔

لوک گیت زمانی اعتبار سے اتنے ہی قدیم ہیں جتنی خود انسانی تہذیب۔ قدیم عہد میں لوگ اپنی خوشیوں کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتے تھے اور ان کی اس خوشی میں معاشرے کا ہر فرد شامل رہتا تھا۔ اس موقع پر سارے لوگ ناچ گا کر اپنی خوشیوں کا اظہار کرتے اور غموں میں بین کرتے تھے۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو جب انسان کا وجود عمل میں آیا تو سب سے پہلے اس نے اپنی بات سمجھانے کے لیے اشاروں کا استعمال کیابعد میں زبان وجود میں آئی جب زبانی شکل میں اس نے اپنی بات کو پیش کیاتو سب سے پہلے اس نے نظم کو اپنا وسیلۂ اظہار بنایا۔ یعنی شعری زبان کا استعمال کیا جب یہی وسیلۂ اظہار شعری پیکر میں ڈھلنے لگے تو لوک گیت کا وجود عمل میں آیا۔ لوک گیت کے ابتدائی نمونے ہمیں قدیم مذہبی مقدس کتابوں میں دیکھنے کوملتے ہیں۔ وید، پران اور اپنشد میں لوک گیت کے ابتدائی نمونے موجود ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ لوک گیتوں کی روایت بہت قدیم ہے۔ ویدوں میں سب سے پہلے گاتھا اور گاتھن لفظ استعمال ہوا ہے جس سے یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ لوک گیتوں کی روایت دور قدیم سے چلی آرہی ہے۔ پراکرت اور اپ بھرنش زبانوں میں بھی لوک گیت کے نمونے دستیاب ہیں۔

سب سے پہلے لوک گیت کب وجود میں آیا؟ اس کا پختہ ثبوت ہمارے پاس موجود نہیں ہے کیوں کہ لوک گیتوں کا کوئی قلمی نسخہ ابھی تک دستیاب نہیں ہوا ہے جس کی بنیاد پر لوک گیت کی ابتدا اور ارتقا کی کہانی بیان کی جاسکے۔ ہاں اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ویدوں سے لوک گیت کی روایت کی ابتدا ہوتی ہے۔ اس کے بعد مختلف مذاہب کی مقدس کتابوں میں اس کے ا بتدائی نمونے دیکھنے کو ملتے ہیںالبتہ ان گیتوں میں پیش کردہ معاشرے اور نظام سیاست کو دیکھتے ہوئے یہ ضرور اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان گیتوں کا تعلق کس عہد سے رہا ہوگا۔ یہ لوک گیت نہ نئے ہوتے ہیں نہ پرانے بلکہ اس کی جڑیں ماضی میں پیوست ہوتی ہیں۔ لوک گیت ہمارا قومی سرمایہ ہے جس کا نمونہ مختلف مواقع پر اکثر و بیشترہمارے گھروں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوک گیتوں کی زبان ضرور بدلی ہوئی معلوم ہوتی ہے مگر ان سب کا بنیادی جذبہ ایک ہی ہے کیوں کہ لسانی تفریق کی وجہ سے ایک ہی لوک گیت مختلف مقامات پر مختلف طریقے سے گایا جاتا ہے جس کی وجہ سے الفاظ اور آوازوں میں واضح طور پر فرق دکھائی دیتا ہے مگر ان کے جذبات و خیالات میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ عام طور پر لوک گیت مندرجہ ذیل مو ضوعات پر مشتمل ہوتے ہیں:

.i       بچے کی پیدائش کے موقعے پر گائے جانے والے مختلف اقسام کے گیت

.ii      شادی بیاہ کے موقعے پر گائے جانے والے گیت

.iii     موسموں اور تہواروں سے مناسبت رکھنے والے گیت

iv.     پیشہ ورانہ افراد کے گیت

مذکورہ بالا امور پر بحث کرنے سے قبل یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ لوک گیت کے لفظ، ہیئت اور تعریف پر ایک نظر ڈالی جائے۔

انگریزی ادب میں لوک گیت اور لوگ کتھاؤں کے لیے Ballad لفظ استعمال ہوا ہے، Ballad کا مادہ در اصل لاطینی زبان کا لفظ (بے لارے) ہے رابرٹس گریبس نے لکھا ہے کہ اس کا تعلق Balle لفظ سے ہے اس کا مطلب اس گیت سے تھا جو گیت رقص کرتے وقت گایاجائے مگر بعد میں اس کا استعمال ہر طرح کے گیتوں کے لیے ہونے لگا۔

لوک گیت کی تعریف:

Understanding Poetry کے مصنف جیمس ریوس لوک گیت کی تعریف اس طرح بیان کرتے ہیں:

’’لوک گیت عوام کے جذبات کا براہ راست اور فطری اظہار ہوتے ہیں، یہ عوام کے ذہن میں محفوظ رہنے والا وہ ادبی سرمایہ ہے جو ضبط تحریر میں نہیں آتا ہے۔‘‘(ص ۲۱)

پنڈت رام نریش ترپاٹھی لوک گیت کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں:

’’ان پڑھ دیہاتیوں کے دلوں سے نکلے ہوئے وہ جذباتی بول جو شعری اور لسانی پابندیوں سے آزاد ہوں پھربھی ان میں لحن اور ایک قسم کامیٹھا سرہے۔‘‘

( پنڈت رام نریش ترپاٹھی،گرام گیت، کویتا کومدی،  ص4)

اڑیسہ کے مشہورلو ک ادیبK. B. Das لوک گیت کی تعریف اس طرح بیان کرتے ہیں:

’’عوام کے دلوں سے نکلے ہوئے بول جو غیر اختیاری طور پر اضطراری حالت میں کسی المناک یا طربناک جذبے سے تاثر کے بعد نکل جاتے ہیں۔‘‘

(بحوالہ اظہر علی فاروقی: اترپردیش کے لوک گیت، ص18)

ڈاکٹرمجیب الاسلام لوک گیت کی تعریف ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

’’لوک گیت عوامی ادب کی وہ مشہور صنف سخن ہے جو انسانی پیدائش سے ظہور میں آئی۔ اس کی جغرافیائی حد بندیاں تو ضروری ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ عوام کے ذہنوں میں محفوظ رہنے والا وہ قیمتی سرمایہ ہے جسے ضبط تحریر میں نہیں لایا جا تاتھا۔ یہ ان عوام کے داخلی جذبات کا فطری اظہار ہے۔ اس کا خاص کام خواتین کے جذبات کا بے اختیار اور ان کے بھر پور احساسات کا بیان ہوتا تھا۔‘‘

( مرتبہ: پروفیسر قمررئیس، اردو میں لوک ادب، ص284)

اس طرح لوک گیتوں کی بیان کردہ تعریفوں کی بنیاد پر لوک گیتوں کے واضح نقوش ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ ان تعریفوں کو پڑھنے کے بعد ان کی تاریخ کا عکس بھی واضح طور پرہمارے سامنے آتا ہے۔ لوک گیت ہمارے ماضی کی زندگی کے عکاس ہیں جس میں عوام کے جذبات، خیالات و نظریات کا گہراعکس نظر آتا ہے۔ اس میں عوام کی سادگی اور معصومیت واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ چونکہ اس کا ماخذ انسان کا دل ہوتا ہے اس لیے ایک دل کی بات دوسرے دل پر گہرا ثر ڈالتی ہے۔ لوک گیت کے چند الفاظ ہماری زندگی کے تاریک پہلوؤں کو روشن تر بنا دیتے ہیں۔ اس میں پوری قوم کی تہذیب و تمدن کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ عموماً لوک گیتوں میں سنجیدگی، سادگی اور بے ساختگی پائی جاتی ہے۔ لیکن کبھی کبھی گیتوں میں گہرا طنز بھی دیکھنے کو مل جاتا ہے۔ لوک گیتوں کی کوئی تحریری شکل دستیاب نہیں ہے۔ یہ زیادہ تر سینہ بہ سینہ ایک شخص سے دوسرے شخص تک پہونچتا رہتاہے۔ لوک گیت اور ہماری تہذیب و تمدن کے درمیان ایک گہرا رشتہ پایا جاتا ہے۔ اسی لیے لوک گیتوں میں ایک مخصوص سماج کا عکس واضح طور پر دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان لوک گیتوں میں سماج اور انسانی زندگی کے بے شمار پہلوؤں کی عکاسی کی جاتی ہے۔ لوک گیتوں کی نوعیت انفرادی کے ساتھ اجتماعی بھی ہے۔ کیونکہ اس میں مشترکہ طور پر پورے سماج کے رسم و رواج، عقائد و توہمات اور عادات و اطوار کا بیان ہوتا ہے اور ان لوک گیتوں کی تخلیق میں پورے معاشرے کے لوگ شامل رہتے ہیں۔ اس میں چھوٹے بڑے، اعلیٰ و ادنیٰ، امیر و غریب اور رؤسا و امرا سبھی کا ذکر ملتا ہے۔ عام طور پر دیہاتی زندگی کے ہر پہلو کا گیتوں میں ذکر ملتا ہے۔ اگر ہم لوک گیتوں کو دیہاتی لوگوں کا منظوم تذکرہ کہیں تو غلط نہ ہوگا۔ جیسا کہ اظہر علی فاروقی نے لکھا ہے:

’’یہی وجہ ہے کہ لوک گیت کہنے پر عام طور پر وہ گیت سمجھے جاتے ہیں جو دیہاتیوں کی زندگی کے ترجمان ہوں۔ اور دیہاتی سماج کی نمائندگی کریں اور جس پر شہری زندگی اور تمدن کی چھاپ نہ ہو اور شاید اسی لیے لوک گیت کی اصطلاح سے پہلے ان کے لیے گرام گیت لفظ مستعمل رہا ہے۔‘‘ (اترپردیش کے لوک گیت، ص17)

لوک گیت کی تاریخ:

لوک گیت کی تاریخ پر نظر ثانی کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوک گیت کی روایت بہت قدیم ہے۔ یہاں تک کہ علما کا خیال ہے کہ یہ لوک گیت رگ وید سے قبل بھی گائے جاتے تھے۔ کیوں کہ رگ وید میں لوک گیت کا ذکر کئی مقام پر ملتا ہے۔ رگ وید کب تصنیف ہوا اس کی تاریخ آج تک طے نہیں کی جا سکی، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوک گیت کی روایت بہت قدیم ہے۔ رگ وید کے بعد مختلف مذہبی مقدس کتابوں مثلاًارڑیک برہمن، پران، مہابھارت اور رامائن وغیرہ میں بھی مختلف موقعوں پر گیت گانے کا ذکر ملتا ہے۔ کسی راجا کی ستائش اور یگیہ کے موقع پر بھی گیت گانے کا رواج عام تھا۔ جس کا ذکر کرتے ہوئے اظہر علی فاروقی لکھتے ہیں:

’’عہد قدیم میں کسی فرماں روا کی کار گزاریاں، اس کے فلاح وبہبود کے کارناموں کی ستائشی گاتھا بہت کچھ تبدیل ہو کر عوام کے زباں زد ہوجاتے تھے اور پیڑھی در پیڑھی اور سینہ بہ سینہ چلتے رہتے تھے۔ جو بعد میں جن گاتھا یا لوک گیت کے نام سے مشہور ہوئے۔‘‘(ایضاًص 19)

قدیم عہد میں یہ گیت ان ستائشی گاتھاؤں کے علاوہ شادی بیاہ کے مو قعوں پر بھی گائے جاتے تھے۔ اس میں خصوصیت کے ساتھ دیوتاؤں کا ذکر کیا جاتا تھا۔ پارسیوں کی مذہبی کتاب ’اویستا‘  میں بھی پارسی مذہب کے بنیادی اصولوں کو گیتوں کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ گوتم بدھ کی پیدائش کے متعلق‘ جاتک کتھاؤں ’میںبھی خوبصورت گیت دیکھنے کو ملتے ہیں۔ مطالعہ کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وکر م سنوت کی تیسری صدی میں جس وقت پراکرت زبان اپنے عروج پر تھی اس زبان میں بے شمار لوک گیت تخلیق کیے گئے۔ راجا شالی واہن کے عہد میں لوک گیت تخلیق کرنے اور گانے کا ذکر کئی مورخوں نے کیا ہے۔ یہاں تک کہ اس راجا نے تقریباً سات سو گیتوں کو محفوظ بھی کیا تھا۔

بالمیکی رامائن میں پروشوتم رام کی پیدائش کے وقت عورتوں کے ذریعے گیت گانے کا ذکر ملتا ہے۔ اس موقع پر گیت گانے اور رقص کرنے کا بیان تاریخ میں موجود ہے۔ کالی داس نے راجا دلیپ کے دربار میں گیت گانے اور طوائفوں کے ذریعے رقص کیے جانے کا بھی ذکر کیا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں محنت مزدوری کرتے وقت ایک ساتھ جمع ہوکر گیت گانے کا رواج عام تھا۔ سنسکرت کے مشہورشاعر وجکا نے ایک عورت کے ذریعے موسل سے دھان کوٹتے وقت خوبصورت گیت گانے کا ذکر کیا ہے۔ بلکہ ایک عورت کھانا بنا رہی ہے مگر لکڑی کے دھوئیں سے اس کی آنکھوں سے آنسو بہ رہا ہے۔ اس معمولی سے موقع پر بھی گیت گانے کا ذکر تاریخ میں ملتا ہے۔ اس طرح اگر ہم دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ گیت گانے کا رواج زمانہ قدیم سے ا ٓج تک جاری و ساری ہے۔

ان گیتوں کا سلسلہ مختلف ادوار سے ہوتے ہوئے مسلمانوں کے ہندوستان آنے تک جاری و ساری رہا۔ مسلمانوں کی آمد کے بعد یہاں ایک نئی زبان وجود میں آنے لگی جسے بہت بعد میں اردو کے نام سے موسوم کیا گیا لیکن اس دوران بھی مقامی بولیوں میںلوک گیتوں کا چلن تھا کیونکہ فاتح اپنے ساتھ کوئی زبان لے کر نہیں آتا بلکہ وہ  بہت حد تک مفتوح ہی کی زبان اور رسم و رواج میں گھلنے ملنے کی کوشش کرتا ہے۔اس طرح غیرملکیوں اور مقامی افراد کے میل جول سے ایک مخلوط زبان وجود میں آئی مگر یہاں کے مقا می اثرات کی بنیاد پر ترکی اور فارسی زبان میں بھی گیتوں کا چلن ہوا یہاں تک کہ امیر خسرو کے عہد میں یہ اثرات واضح طور پر ہمارے سامنے آتے ہیں۔ اس نئی زبان میں انھوں نے ایسے گیت تخلیق کیے جسے ہم لوگ گیت کہہ سکتے ہیں۔ جیسے قوالی، رنگ شریف، خیال اور قال وغیرہ راگوں کی ایجاد کی۔ نمونے کے لیے ان کا یہ مکھڑا دیکھیے         ؎

دھیرے بہو ندیا مورے پیا ہیں اترت پار

گھی کے دئ نا بارو نندیا ہمرے گھر آئے محمدؐ بانرا

امیر خسرو سے یہ سلسلہ چلتا ہوا مغلیہ عہد تک پہونچا اور شہزادہ سلیم کی شادی کی تقریب میں دیسی بولیوں میں راجپوتوں کے ذریعے گیت گانے کا ذکر ملتا ہے جو اس طرح ہے          ؎

تم شاہنشاہ ہم آپ کے داس

رہے کرم شاہ کا ٹوٹ نہ جائے آس

یہ سن کر اکبر نے جذباتی انداز میں کہا          ؎

ہم شاہنشاہ سہی پھر بھی آپ کے بھائی

اور راجکماری محل کی آبرو اور چوکھٹ کی لاج

اس طرح اندازہ ہوتا ہے کہ مغلیہ عہد میں ترکی اور فارسی گیتوں کے علاوہ مقامی گیت بھی مختلف موقعوں پر گائے جاتے تھے۔ مثلا شادی بیاہ، سنسکاروں اور دوسری تقریبات کے موقعوں پر ان گیتوں کا چلن عام تھا۔ گیتوں کے رشتے کو انسانی تہذیب و تمدن سے جوڑتے ہوئے اظہر علی فاروقی نے لکھا ہے :

’’بہر کیف گاتھا کا وجود بالکل نظر آتا ہے اور انسان میں جذبہ قدیم عہد سے پایا جاتا ہے اگر بنی نوع انسان اور شاعری دونوں ہم عمر کہے جا سکتے ہیں تو لوک گیتوں اور بنی نوع انسان کی ہم عمری میں بھی کوئی شبہ پیدا نہ ہونا چاہیے۔‘‘(ایضاًص21)

لوک گیتوں کے امتیازات:

لوک گیتوں کی کئی ایسی خصوصیات ہیں جو انھیں مروجہ شاعری سے الگ مقام عطا کرتے ہیں جیسے ان لوک گیتوں میں ردیف اور قافیہ کی قید و بند نہیں ہوتی بلکہ دیہاتی لوگوں کے جذبات کا بر ملا اظہار ہوتا ہے۔ اس میں وزن کی کوئی قید نہیں ہے۔ بلکہ گیت پڑھتے وقت حسب ضرورت گیت کی لَے کو کھینچ تان کر پڑھنے سے وزن برابر ہو جاتا ہے۔ چونکہ لوک گیتوں کا عوام کے دلوں سے گہرا رشتہ ہوتا ہے اس لیے ان گیتوں میں پیچیدگی نہیں پائی جاتی بلکہ جیسی ان کی سیدھی سادی زندگی ہوتی ہے ویسے ہی وہ سیدھے سادے الفاظ میںاپنے جذبات کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ اسی لیے لوک گیت کی ایک تعریف یہ بھی ملتی ہے کہ ’’لوک گیت سیدھے سادے عوام کے دلوں سے نکلے ہوئے وہ احساسات و جذبات ہیں جو شعری اور لسانی پابندیوں سے آزاد ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اس میں بلا کی تاثیر ہوتی ہے۔‘‘

لوک گیتوں کا سب سے اہم وصف یہ ہے کہ اس کا تخلیق کار گمنام ہوتا ہے کیونکہ عام طور پر ان گیتوں کی تخلیق پورا معاشرہ مل کر کرتا ہے اس لیے اس کو کسی ایک شخص سے منسوب کرنا قطعی مناسب نہ ہوگا اور گیتوں میں چوں کہ تخلص کا بھی التزام نہیں ہوتا اس لیے ان گیتوں کے تخلیق کار کا علم نہیں ہو پاتا۔ کیونکہ لوک گیت غیر شخصی اور گم نام ہوتے ہیں یہ انفرادی نہیں بلکہ ایک اجتماعی صنف ہے اور نہ کبھی اسے ضبط تحریر میں لایا گیا۔ یہ صنف سینہ بہ سینہ رواں دواں ہے اور انسان کے دل و دماغ میں محفوظ رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر بہت سی چیزیں ایسے لوگوں سے منسوب کر دی گئی ہیں جس کا تعلق اس سے دور کا بھی نہیں ہے۔ اس کی بہترین مثال امیر خسرو کے بہت سے گیت، غزل، قوالی اور لاونیاں ہیں جنھیں اکثر و بیشتر امیر خسرو سے منسوب کر دیا گیا ہے لیکن تحقیق سے معلوم ہوا کہ ان چیزوں کا امیر خسرو سے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

رابرٹ گریبس نے لکھا ہے :

’’موجودہ سماجی حالات میں کسی ادیب و شاعر کا گم نام ہونا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ اسے اپنی تخلیق کو لوگوں کے سامنے پیش کرنے میں شرم آتی ہے، یا پھر ڈر لگتا ہے، لیکن قدیم سماج میں یہ صرف تخلیق کار کے نام کی بے توجہی کے سبب ہوتی تھی۔‘‘

(The Old English Ballads P.12)

لیکن گیتوں کے متعلق بہت سے علما نے اس بات کو بھی تسلیم کیا ہے کہ ان لوک گیتوں کا کوئی خالق ضرور رہا ہوگا۔ کچھ مغربی مفکرین بھی لوک گیتوں کا خالق کسی ایک شخص کو تسلیم نہیں کرتے ہیں لیکن جب تک ہمارے پاس مکمل شواہد موجود نہ ہوں ہم کوئی بات وثوق سے نہیں کہ سکتے کی گیتوں کا خالق کوئی ایک شخص ہے یا پورا معاشرہ۔ بہر حال آج تک کسی گیت کے تخلیق کار کا علم نہ ہو سکا۔ مگر کچھ اصناف جیسے خیال، لاونی، دادر اور برہاوغیرہ کے سلسلے میں کسی حد تک یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ کسی شاعر کی اپنی تخلیق ہیں۔

اکثر و بیشتر لوک گیتوں کے اصل متن کا علم بھی علما کو نہیں ہوتا چونکہ گیت کا وجود مشترکہ طور پر عمل میں آیا ہے اس لیے اس کے بنیادی متن کی تصدیق کرنا بہت مشکل ہے۔ تخلیق چاہے جو بھی ہو وہ گیت تخلیق کر کے جدا ہوجاتا ہے اب ایسی حالت میں یہ لوک گیت پورے معاشرے کی امانت ہوتا ہے اس میں وقت اور ضرورت کے لحاظ سے ردوبدل ہوتا رہتا ہے۔اب ایک ہی گیت لسانی تفریق کی وجہ سے مختلف شکلیں اختیار کر لیتا ہے۔ اصل گیت میں جب مقامی الفاظ خلط ملط ہو جاتے ہیں تو گیت کا پورا خاکہ ہی بدلا ہوا معلوم ہوتا ہے جس کی وجہ سے گیتوں میں رد وبدل ہوتا رہتا ہے۔ جیسا کی رابرٹ گریبس نے لکھا ہے کہ:

’’کسی لوک گیت کا کوئی Original Version  نہیں ہوتا گو عوام اپنی مرضی کے مطابق اس میں پھیر بدل کرتے رہتے ہیں اس لیے کسی ایک Version  کو ہی اصل نہیں مانا جا سکتا۔‘‘

The Old English Bellads, P.12))

مثلا’الہا‘کا اصل مصنف جگنک کو تسلیم کیا جاتا ہے جو بندیل کھنڈ کی بولی میں تخلیق کی گئی۔ مگر الہا جو آج گایا جاتا ہے اس کو دیکھ کر ضرور کہا جا سکتا ہے اس میں اصل متن اتنا طویل نہیں رہا ہوگا جتنا آج گایا جا رہا ہے۔ اس طرح الہا کی طوالت اس کے اصل متن سے کہیں زیادہ ہے۔ بھوجپوری اور میتھلی میں گائے جانے کی وجہ سے اس کے الفاظ میں بہت سی تبدیلیاں واقع ہو گئی ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان لوک گیتوں کا کوئی بنیادی متن نہیں ہوتا اور نہ ہی آخری شکل ہوتی ہے۔

لوک گیتوں کا پورا سرمایہ زبان زد روایت پر منحصر ہے جو سینہ بہ سینہ نسل در نسل ایک شخص سے دوسرے شخص تک منتقل ہوتا رہتا ہے جو کہ ہمارے زبانی ادب کا اہم حصہ ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب تک رسم الخط ایجاد نہیں ہوئی تھی تب تک تمام چیزیں سینہ بہ سینہ ہی چلتی رہی ہیں یہاں تک کہ ہماری مذہبی کتاب قرآن مجید خود زبانی روایت کی دلیل ہے کیوں کہ جب جبرئیل علیہ السلام وحی لے کر آتے اور محمدؐ انھیں زبانی یاد کر لیا کرتے تھے، یہ وحی بعد میں قرآن مجید کی شکل میں ہمارے سامنے آئی جس کوبہت بعد میں تحریری شکل میں پیش کیا گیا۔ اس طرح زبانی ادب کی اہمیت بھی کم نہیں ہے۔ جو ایک شخص سے دوسرے شخص تک منتقل ہوتی رہی۔ جیسا کہ گومر نے لکھا ہے کہ’’ زبانی روایت کسی گیت کی اہم خصوصیات ہوتی ہیں۔‘‘ اظہر علی فاروقی کا بھی یہی ماننا ہے کہ جو گیت تحریری شکل اختیار کر لیتے ہیں وہ ڈائمنشن سے محروم ہوجاتے ہیں کیونکہ لوک گیت کا تعلق پڑھنے سے زیادہ گانے سے ہے۔

لوک گیتوں میں سادہ اسلوب اور فطری اثر انگیزی ہوتی ہے کیونکہ لوک گیت شاعری سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ یہ عروضی نظام کی قید سے پوری طرح آزاد ہے۔ یہ وزن، بحر، ردیف، قافیہ اور دیگر شعری لوازمات سے بالکل پاک ہیں۔ یہ دیہی عوام کے دلوں کا فطری اور براہ راست اظہار ہوتا ہے،  جس میں ان کے سیدھے سادے اور فطری جذبات و احساسات کا گہرا عکس ہوتا ہے۔ کیوں کہ دیہاتی عوام سادگی پسند ہوتے تھے ایسی صورت میں فنی لوازمات کی پابندی کی ان سے امید بھی نہیں کی جا سکتی تھی کیوںکہ زیادہ تر دیہاتی ناخواندہ تھے اس لیے ان کی اصناف بھی اس طرح کی پیچیدگیوں سے آزاد ہوتی تھیں۔

ان سے الفاظ کے ساتھ لہجے و تلفظ کی صحیح ادئیگی کی امید کرنا بے سود ہے۔ اس لیے لوک گیتوں کی زبان پرمقامی الفاظ کا اثر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گیتوں کی زبان دیگر شعری اصناف کی بہ نسبت مختلف نظر آتی ہے۔ گیتوں کی زبان کا امتیاز خاص ہے کہ ان گیتوں میں جو الفاظ آگئے اور ان کے خیالات و جذبات سے مناسبت رکھتے ہیں تو ایسے الفاظ کو انھوں نے قبول کر لیا چاہے بنیادی طور پر وہ لفظ کسی بھی زبان سے تعلق رکھتا ہو۔ وہ نہ تو متروکات کے قائل ہیں اور نہ وضع اصطلاحات کے حامی اور نہ ماخذات کا تصور ان کے یہاں کوئی اہمیت رکھتا ہے۔ مختصر طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ گیتوں کی زبان لوچدار Flexibleہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ الفاظ کو توڑ مروڑ کر اپنے اعتبار سے ڈھال لیتے ہیں۔

لوک گیتوں پر مقامی اثرات کا گہرا عکس ہوتا ہے اور معاشرے سے لوک گیت کا تعلق ہوتا ہے اس معاشرے کے خط وخال کو پوری طرح اجاگر کر دیتا ہے چاہے اس میں کسی طرح کے مضمون کیوں نہ بیان کیے جائیں۔ مقامی اثرات کی نمائندگی واضح طور پر نظر آئے گی یہی وجہ ہے کہ جس قوم، نسل، یا ملک میں جو لوک گیت رائج ہوتا ہے وہاں اس میں عوام کے تمام متعلقات کا ذکر خوبصورت طریقے سے ہوتا ہے۔ کبھی کبھی ان گیتوں میں مقامی تاریخی واقعات کا بھی ذکر ہوتا ہے۔ ان گیتوں کا موسیقی اور رقص سے چولی دامن کا رشتہ ہے کیوںکہ لوک گیت کے لیے Ballad  لفظ استعمال کیا جاتا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے وہ گیت یا گانا جو رقص کے ساتھ پیش کیا جائے، جیسا کہ‘‘بے لارے’’ کے معنی ’’ناچنا‘‘ ہے اس طرح Ballad گیت کو عام لوگ کورس میں گاتے تھے Exciting and respective music کے بغیر بنایا گیا گیت ادھورا ہے کیوں کہ موسیقی اس کی روح ہے۔

ڈھولک گیت، چہار بیت، قوالی اور لاونی وغیرہ میں مو سیقی کو اہمیت حاصل ہے۔ اسے اکثر گاجے باجے کے ساتھ ہی گاتے ہیں۔ اس دوران ایک شخص کے ذریعے گائے جانے والے گیت کو کورس میں لوگ دہراتے ہیں۔ گیت اور موسیقی کا رشتہ اتنا گہرا ہے کہ جہاں کہیں موسیقی کے آلات دستیاب نہیں ہوتے،لوگ ان کی جگہ دوسری چیزوں سے آلات موسیقی کا کام لیتے ہیں۔

لوک گیتوں میں حزن و یاس کی بھی خوبصورت تصویر دیکھنے کو ملتی ہے۔ جس میں ہمارے معاشرے کے دردناک پہلوؤں کی عکاسی کی جاتی ہے۔ کیوں کہ دیہاتی لوگوں کا غموں اور مصیبتوں سے گہرا رشتہ ہے جس کی وجہ سے وہ اکثر مفلسی اور درد کا شکار رہے،یہی وجہ ہے کہ ان کے گیتوں میں بھی اس پہلو پر اچھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ عام طور پر گیتوں میں عوام کے غم بھی مشترک نظر آتے ہیں۔ جیسے خانگی زندگی میں ساس نند کا سلوک، بیٹی کی رخصتی، شوہر سے جدائی اور بانجھ عورت کا درد وغیرہ سے متعلق گیت دیہاتی لوگوں کے غموں کی عکاسی کرتے ہیں۔


Dr. Abdullah Imteyaz Ahmad

Head, Dept of Urdu

B-Wing, 1st Floor, Ranade Bhavan

University of Mumbai

Kalina Campus, Santa Cruz (E)

Mumbai - 400098 (MS)

Mob.: 9869198168, 9839194123




منگل، 26 اکتوبر، 2021

الیاس احمد گدی کی سفرنامہ نگاری : لکشمن ریکھا کے پار ’ کے حوالے سے - مضمون نگار: فیروز عالم




 الیاس احمد گدی نے 1968میں بغیر پاسپورٹ اور ویزا کے غیر قانونی طور پر بنگلہ دیش(اس وقت کا مشرقی پاکستان) کا سفر کیا تھا۔ اس  حیرت انگیز لیکن پُر خطر سفر کی روداد انھوں نے دلچسپ انداز میں بیان کی ہے۔اس زمانے میں کچھ ایجنٹ تھے جو معقول معاوضہ لے کر لوگوں کو سرحد پار کرایا کرتے تھے۔ اس طرح سرحد پار کرنے کے طریقے کو ’گَردَنیا پاسپورٹ‘کہا جاتا تھا۔ایجنٹ پولیس والوں سے ملے ہوتے تھے۔ پولیس والے آنے جانے والوں کو اس انداز میں گردن پکڑ کر سرحد کے اُس طرف دھکیل دیتے تھے جیسے وہ اُدھر سے ہی اِدھر آنے کی کوشش کر رہے ہوں۔عام طور سے یہ سفر پدما ندی کے چیک پوسٹ سے ہوتا تھا جس کے ایک طرف ہندوستان تھا اور دوسری طرف مشرقی پاکستان(موجودہ بنگلہ دیش)۔ سرحد کے دونوں طرف دیہات میں رہنے والوں کے درمیان آپس میں رشتے داریاں تھیں۔ تقسیم کی فرضی لکیر خون کے رشتوں اور دلوں کی محبت کو ختم نہیں کر سکی تھی اور دونوں طرف کے لوگوں کا آنے جانے کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ نیا ملک بننے کے باوجود آپس میں شادی بیاہ کا سلسلہ بھی تھا۔ مشرقی پاکستان سے لڑکو ں کی ٹولیاں کولکاتہ آتیں اور فلم دیکھ کر واپس چلی جاتیں۔ دونوں طرف کے بارڈر والوں کو اس کے بارے میں معلوم تھا اس لیے کوئی تعرض نہ کرتا۔لوگ آرام سے اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر آتے جاتے رہتے تھے۔ اس موقع کا فائدہ الیاس احمد گدی اور ان کے دو دوستوں انعام اور صادق نے اٹھایا۔ جھریا میں الطاف نام کا ایک نوجوان آیا ہوا تھا جو اجرت لے کر لوگوں کو سرحد پار کراتا تھا۔الیاس احمد گدی کے دوستوں کو معلوم ہوا تو انھوںنے فوراً یہ ایڈونچر بھرا پروگرام بنا لیا اور انھیں بھی اس میں شامل کر لیا۔ الیاس احمد گدی کو بھی ڈھاکہ جانے کا شوق تھا کیونکہ ان کے سگے ماموں وہاں جاکر بس گئے تھے اور ان سے ملے زمانہ گزر گیا تھا۔ ڈھاکہ جانے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ وہ اس سرزمین کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے تھے جس کی حسن و دلکشی کے ذکر سے شعروادب کی کتابیں بھری پڑی تھیں۔

’’میں دراصل ’افکار ‘کے ایڈیٹر صہبا لکھنوی کی ’میرے خوابوں کی سرزمین ‘ کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا تھا۔ میں قرۃ العین حیدر کے اس ابوالمنصور سے ملناچاہتا تھا، نائو کھیتے ہوئے جس کی پیٹھ پر بید سے ٹھوکا دے کر اس کا انگریز آقا نائو تیز چلانے کے لیے کہتا ہے تو وہ اس کو دیکھ کر سرجھکا لیتا ہے۔ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ ابوالمنصور کیاآج بھی ویسا ہی ہے۔ کیا اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اور میں دیکھنا چاہتا تھا ستیہ پیر کے بھکتی گیتوں میں رچا بسا، مرشدی نغموں میں نہایا بنگال… بنگال جس کے اَن گنت تالابوں میں سبز پتوں کے آسن پرسرخ کنول سر اٹھائے جھومتے رہتے ہیں۔ جس کی ندیوں میں چاندی جیسی مچھلیاں جل پری کی طرح تیرتی رہتی ہیں۔ جس کے سبز درختوں کے جھنڈ میں بے شمار پرندے الٰہیاتی نغمے الاپتے رہتے ہیں۔جہاں سبز میدانوں اور روپہلی ندیوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ اور جہاں حسن بخشتے وقت فطرت بڑی فیاض ہوگئی تھی۔‘‘ (لکشمن ریکھا کے پار، ص 12-13)

بہرطور پروگرام بن گیا اور آناً فاناً تینوں دوست الطاف کی قیادت میں مشرقی پاکستان کے سفر پر نکل پڑے۔  آگے چل کر الطاف کا دوست اماج الدین بھی ان کے ساتھ ہو گیا جو اصل ایجنٹ تھا۔ اگرچہ یہ سفر بے حد مشکل تھا لیکن اماج الدین کی سوجھ بوجھ اور مختلف مقامات پر اس کے تعلقات کی وجہ سے کسی طرح بہ خیرو عافیت تینوں دوست ڈھاکہ پہنچ گئے۔ ڈھاکہ پہنچ کر انھوںنے اپنے مختلف رشتے داروں، دوستوں، جاننے والوں اور ادیبوں اور شاعروں سے ملاقاتیں کیں۔ان تمام کا ذکر الیاس احمد گدی نے دلکش انداز میں کیا ہے۔

اس سفرنامے کا عنوان ’لکشمن ریکھا کے پار‘ بے حد معنی خیز ہے۔ خدا کی بنائی زمین پر ایک ایسی لکیر کھینچ دی گئی جو نظر نہیں آتی لیکن اسے پار نہیں کیا جاسکتا۔ وہ لوگ جو صدہا سال سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے تھے،انھیں مذہب کے نام پر دوملکوں کے باشندوںمیں بانٹ دیا گیا۔ایک ہی خاندان کے کچھ لوگ ہندوستان میں رہ گئے اور کچھ لوگ پاکستانی قرار پائے۔ اس غیر منطقی تقسیم نے نہ جانے کتنے خاندانوں کو اجاڑ دیا اور کتنی بستیاں ویران کردیں۔الیاس احمد گدی لکھتے ہیں:

’’ٹرین کی کھڑکی سے باہر ہماری آنکھوں کے سامنے ایک نیا ملک پھیلا ہوا تھا۔ مشرقی پاکستان، وہی خوبصورت، زندہ، پرسکون بنگال جس کے بیچ میں ایک سیکڑوں میل لمبی لکشمن ریکھا کھینچ دی گئی۔ تم مشرق ہو۔ ہم مغرب ہیں۔ مگر تہذیب جو کسی غیر جغرافیائی تقسیم کو کبھی تسلیم نہیں کرتی اس لکیر کو بھی نہیں مانتی۔ سیکڑوں لوگ ادھر سے ادھر ہوتے ہیں۔ کتابوں کے حروف ہواؤں کے دوش پر کہاں سے کہاں پہنچتے ہیں۔‘‘ (ایضاً،  ص50-51)

لکشمن ریکھا کے پار‘ میں بنگال کی تہذیب و ثقافت، اس کی سنہری تاریخ، شاندار ماضی اور بدتر حال، عوام کی غربت، شناخت کا مسئلہ، اردو اور بنگلہ کی کش مکش، مغربی پاکستان کے ذریعے مشرقی پاکستان کے عوام کا استحصال، ان پر زبردستی اپنی تہذیب و ثقافت اور زبان تھوپنے کی کوشش، بنگالیوں کا اس پر شدید احتجاج،بنگالیوں اور بہاریوں (تمام مہاجرین کو وہاں بہاری کہا جاتا ہے)میں بڑھتی غلط فہمیاں، ایک دوسرے کے تئیں شک،عداوت اور نفرت اور اس کے اسباب، بنگالیوں میں اپنے آپ کو ٹھگے جانے کا احساس،ہند و پاک جنگ، بنگلہ دیش کے قیام کا پس منظروغیرہ سے بہ خوبی واقف کرایا گیا ہے۔سفرنامہ نگار نے اس میں چوری چھپے سرحد پارکرنے والوں کو راستے میں درپیش خطرات،ان کی خوف زدگی اور احتیاط، رکشے والوں کی مکاری اور طے شدہ سے زیادہ رقم کا مطالبہ، پولیس والوں کی عیاری اور قدم قدم پر رقم اینٹھنے کی کوشش، مقامی غنڈوں اور داداؤں اورسرحد کے آس پاس کے گاؤوں کے لوگوں کے ذریعے آنے جانے والے مسافروں کو لوٹنے کی کوششوں سے بھی پوری طرح واقف کرایا ہے۔ اس سفرنامے میں اپنی مٹی، اپنی زبان اور تہذیب سے محبت، اپنے لوگوں سے ملنے کی خوشی اور ان سے بچھڑنے کے غم کا اظہار بھی الیاس احمد گدی نے بے حد جذباتی انداز میں کیا ہے۔ڈھاکہ پہنچنے کے بعد جس والہانہ انداز میں الیاس احمد گدی اور ان کے دوستوں کا ہر جگہ استقبال کیا گیا اور جھریا کے پرانے باشندوںنے جس طرح  انھیں ڈھاکہ میں بس جانے کی دعوت دی اس سے ان کے خلوص اور محبت کا اندازہ ہوتا ہے۔الیاس احمد گدی جب لالہ چچا سے ملے جو ڈھاکہ کے بڑے کاروباری بن گئے تھے تو انھوں نے بھی یہ پیش کش کی۔ اقتباس ملاحظہ کیجیے:

’’سامنے ایک بڑا آفس ٹیبل جس پر آٹھ دس ٹیلی فون قرینے سے رکھے تھے۔ ایک نوجوان ٹیبل پر کچھ لکھنے میں مصروف تھا۔ ہر دو ایک منٹ پر کسی نہ کسی فون کی گھنٹی بج اٹھتی۔ نوجوان کبھی دا ہنی طرف سے اور کبھی بائیں طرف سے فون اٹھا کر ایک آدھ جملہ کہتا پھر رکھ دیتا۔یہ سارا منظر فلموں جیسا تھا۔ لالہ چچا کہہ رہے تھے:

’’بیٹا۔ہم لوگ یہاں آکے بہت پیسہ کمایا۔کاروبار اتنا پھیل گیا ہے کہ خود ہمیں نہیں معلوم کہ ہمارا کاروبار کہاں کہاں چلتا ہے۔یہ سارا کاروبار تمھارا یہ بھائی دیکھتا ہے۔اس نے ٹیبل والے نوجوان کی طرف اشارہ کیا۔تم لوگ وہاں کیاکر رہے ہو؟میری بات مانو تویہاں آجاؤ۔ پورے سید پور کے سول ایجنٹ بن جاؤ۔جتنا مال چاہو اٹھا لو اور بیچ کر پیسہ دو۔ تم لوگوں کے لیے رقم لگانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لمبا کام ہے۔ ٹھیک سے کر وگے تو سال چھ مہینے میں بڑے آدمی بن جائو گے۔‘‘  (ایضاً، ص 115)

اس سفرنامے میں مغربی اور مشرقی پاکستان میں جاکر بسے افراد کی اس ذہنیت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ وہ عموماً ہندوستانی مسلمانوں کو ترحم کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور وہ یہ سوچتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمان باکل غیر محفوظ ہیں۔ہندوستان میں ان کا مذہبی تشخص اور ان کی تہذیب و ثقافت خطرے میں ہیں۔

بنگال کی روشن تاریخ اور یہاں کی عظیم تہذیب و ثقافت کا ذکر مصنف نے مختلف مقامات پر کیا ہے۔پوری دنیا میں جس کی دھوم تھی۔جس کی حسینائوں، ندیوں، آبشاروں،گیتوں اور قصے کہانیوں کے ذکر سے کتابیں بھری پڑی تھیں۔الیاس احمد گدی نے جب اس خوابوں کی سرزمین کا سفر کیا اور وہ مقامات تلاش کرنے کی کوشش کی اور وہ سب کچھ دیکھنا چاہا جس کا اتنا ذکر سنا تھا تو انھیں شدید مایوسی ہوئی۔لکھتے ہیں:

’’یہ ایک ایسی دنیا تھی جس کے متعلق انگنت قصے اور کہانیاں، واقعات اور حادثات سنے تھے۔جس کے متعلق ڈھیروں کتابیں پڑھی تھیں۔جو ’سونار‘ بنگلہ تھا۔ جو سین اور پال راجائوں کا دیس تھا۔ جو راگ راگنیوں کا ملک تھا۔ جس کی ہوائوں میں مرشدی اور چنڈی نغمے رچے تھے۔جس کے گلی کوچوں میں، دیہاتوں میں، بنوں میں اور ندیوں پرنغموں کی پھوہار گر رہی تھی۔ اکتارے پر باول گانے والے جوگیوں کی ٹولیاںاس گائوں سے اس گائوں، اس شہر سے اس شہر، اس گھاٹ سے اس گھاٹ چلاکرتی تھیں۔اور بغیر بلائوز صرف ساڑی میں لپٹی بڑی بڑی آنکھوں اور لمبے بالوں والی لڑکیاں پیتل کی گاگریں اٹھائے تالابوں کے منڈیروں پر اترتی چڑھتی دکھائی دیتی تھیں۔مگر یہ سب کہاں تھا؟ کہاں تھا یہ سب…!‘‘ 

(ایضاً،  ص:120)

مشرقی پاکستان(موجودہ بنگلہ دیش) کی بدحالی کی تصویریں ’’لکشمن ریکھا کے پار میں جا بجا ملتی ہیں۔ پہلے انگریزوں نے اسے لوٹا، یہاں کی بہترین صنعت کو برباد کردیا اور اسے معاشی اعتبار سے کھوکھلا کردیا۔

’’یہ وہی ملک تھا جہاں کی مصنوعات خاص طور پر کپڑے دور دراز کے ملکوں کی منڈیوں میں ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے تھے۔ بُنکروں نے ہاتھ کرگھے سے وہ کمال دکھلایا تھا کہ دنیا حیرا ن تھی۔ڈھاکے کی ململ کی کتنی ہی کہانیاں مشہور ہیں۔مگر بھلا ہو …ایسٹ انڈیا کمپنی کے بدھاتائوں کا کہ جنھوں نے تمام خام مال پر کنٹرول عائد کرکے سارا مال بازار سے غائب کر دیا۔…بنکروں اور صنعت کاروں کو مال ملنا بند ہوگیا۔ وہ بھوکوں مرنے لگے اور کاشت کاری کی طرف دوڑے اور ادھر خام مال بڑی بڑی نائووں پر لدا چاٹگام کی بندرگاہ سے بڑے بڑے جہازوں میں بھر کر یورپ کی منڈیوں میں پہنچنے لگا۔‘‘ (ایضاً، ص 67)

انگریزوں سے نجات ملی تو اپنے لوگوں نے بھی منافقانہ رویہ اختیار کیا اور مشرقی پاکستان پر مغربی پاکستان کے سیاست دانوں کی اجارہ داری قائم رہی۔بنگالیوں کو ہمیشہ نیچی نگاہ سے دیکھا گیا۔ ان کی زبان اوران کی تہذیب و ثقافت کو کبھی وہ مقام نہیں دیا گیا جس کے وہ حق دار تھے:

’’پہچان بچانے، زندہ رہنے اور اس کڑے امتحان سے گزر جانے کی جدوجہد میں مصروف۔جس کا اکتارہ چھین لیا گیا تھا اور جو اپنے نغموں، اپنے گیتوں،اپنے ادب، اپنے فلسفے اور اپنے کلچر پر ہوئی یلغار سے پریشان تھا۔جو لاتعداد اجنبی انجانے لوگوں میں اپنے آپ کو گم ہونے سے بچا رہا ہے۔ یہ اجنبی انجان لوگ، یہ نامعلوم ملکوں کے لوگ جو سیکڑوں میل لمبی سرحد سے درآئے تھے اور آہستہ آہستہ چھائے جا رہے تھے۔‘‘ (ایضاً، ص 121)

یہ وہی بنگالی ہیں جنھوں نے تقسیمِ ملک کے وقت ہجرت کرکے آنے والوں کے لیے اپنے گھروں کے ساتھ دلوں کے دروازے بھی کھول دیے تھے۔ ان لٹے پٹے لوگوں کو اپنی زمینیں دی تھیں، ان سے اپنی بیٹیوں کی شادیاں کردی تھیں،انھیں اپنے کاروبار میں حصہ دار بنایا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان احسانات کے بدلے انھیں دھوکہ کھانا پڑا۔

’’وہ ایک عجیب عالم تھا، بٹوارے کے فوراً بعد کا۔ ہندوستان سے جوق در جوق مہاجرچلے آرہے ہیں۔ لٹے ہوئے، برباد، تباہ حال،فسادات کے کچلے ہوئے اور ادھر مشرقی پاکستان کی سرحد پر ہزارہا لوگ ان کے استقبال کو کھڑے ہیں۔آشو آشو آمادیر بھائی بھائیآشچے۔ گاؤں گاؤں کھانا بن رہا ہے۔ گھر گھر بچوں اور عورتوں کے لیے بستر لگایا جا رہا ہے۔بینا پل سے ڈھاکہ اور چاٹگام تک مہاجروں کا قافلہ گزر رہا ہے۔لوگ گلے مل رہے ہیں رو رہے ہیں۔ چھلکتی آنکھوں سے خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ آیشو آیشو تو می امار بھائی آچھو، آمار خون آچھو،امادیر مسلمان بھائی۔ کی چائی ؟ زومین؟ کی چائی چاکری، کی چائی بھات.....

انھوں نے مہاجرین کو زمینیں دین اور ان کوآباد کرنے میں ہر ممکن تعاون بہم پہنچایا۔یہاں تک کہ اپنی لڑکیاں بھی دھڑا دھڑ بیاہ دیں۔شہروں میں سیکڑوں کیمپ لگے اور ہزارہا نوجوان بازوؤں پر والنٹیئر کے پٹے باندھے ان کی خدمت گزاری میں لگ گئے۔اور بنگال کا وہ معصوم جولاہا جو پہلے بھی سیاسی بساط پر پٹ چکا تھا ایک بار اور مات کھا گیا کہ جب یہ مہاجر اور یہ مسلمان بھائی ان کی زمینیں ہڑپنے لگے اور پہلے کسان اور پھر چھوٹے چھوٹے زمیندار بننا شروع ہوئے اور ادھر شہروں میں جب انھیں اپنی لیاقت سے تین گنی اونچی نوکریاں دی گئیں۔ تمام سرکاری ٹھیکوں اور کاروبار پر، تمام اونچی اور اہم نوکریوں پر تمام عیش و عشرت پر جب بہاریوں کا قبضہ ہوگیاتو اقتدار کا نشہ ان پر ایسا چڑھا کہ غریب بنگالی انھیں کم تر درجہ کے انسان نظر آنے لگے۔ انھوں نے ہندوستان  سے اپنی منکوحہ اور چھوڑی ہوئی عورتوں کو بلوا لیا اور جس تیزی سے انھوں نے بنگالی لڑکیوں سے شادی کی تھی اسی تیزی سے انھیں طلاقیں دینی شروع کیںاور وہ غریب مسلمان بھائی جس نے اپنی عزت تک ان کے قدموں میں ڈال دی تھی، اب ڈبڈبائی آنکھوںسے، غم و غصہ سے اور نفرت سے انھیں دیکھتا ہے۔‘‘ (ایضاً، ص 78-79)

دراصل یہی وہ پس منظر ہے جس نے مہاجرین اور مقامی لوگوں میں نفرت کی دیوار کھڑی کی۔ اقتدار مغربی پاکستان کے لوگوں کے ہاتھوں میں تھا جو اپنے لوگوں اور مہاجرین کو ہر ممکن فائدہ پہنچا رہے تھے۔بنگالیوں کو کمتر سمجھا جاتا تھا اور انھیں حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ملازمتوں میں بھی ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا تھا اور ان کی جگہ غیر بنگالیوں کو ترجیح دی جاتی تھی۔اس صورتِ حال میں بنگالیوں نے اپنے آپ کو ٹھگا ہوا محسوس کیا اور ایک وقت آیا کہ انھوں نے مغربی پاکستان سے نجات حاصل کر نے کے لیے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا اور بنگلہ دیش ایک آزاد اور خود مختار ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔

ڈھاکہ کے مختلف علاقوں مثلاًمحمد پور، میر پور، سید پور، نیو مارکیٹ، نیو کیپٹل، بیت المکرم وغیرہ کی سیرکا احوال بھی بیان کیا ہے۔اس ضمن میں ڈھاکہ یو نی ورسٹی بھی زیر بحث آئی ہے اور اس کی علمی  حیثیت کے ساتھ ساتھ ظلم و نا انصافی کے خلاف اس کے احتجاجی رویے سے بھی مصنف نے واقف کرایا ہے:

’’ڈھاکہ یونی ورسٹی جو ایک درس گاہ ہی نہیں ایک اہم سیاسی مرکز بھی ہے۔ ایک ایسا مرکز جس نے ہر دور میں سیاسی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ پون صدی سے جس کے طالب علموںکا نام ہر احتجاج میں شامل رہا ہے اور آج بھی لال ہوتے سیاسی افق پر انھیں کے نام جگمگارہے ہیں۔‘‘   (ایضاً، ص 100)

اس سفرنامے میں اس عہد کے سماج اور معاشرے کی مختلف جھلکیاں بھی ملتی ہیں۔ پیڑ کے نیچے لالٹین کی روشنی میں پڑھتے ہوئے بچے، بیل گاڑی کا سفر،رکشے کی سواری، رکشے والوں کے ذریعے اجنبی مسافروں کو ٹھگنے کی کوشش، بھاپ کے انجن والی ٹرین کا سفر، لہلہاتے کھیت، کچی سڑکیں اور اس طرح کے بہت سارے نظارے مصنف نے اس میں دکھائے ہیں۔مہمان نوازی،  اپنے وطن کے لوگوں سے لگاو، اپنی زبان بولنے والوں سے محبت، انسانی جذبات و احساسات وغیرہ کی بھی عکاسی بڑی خوبی سے کی گئی ہے۔ مختلف مقامات کی منظر نگاری بھی الیاس احمد گدی نے دلکش انداز میں کی ہے۔ منظر نگاری کی ایک مثال دیکھیے:

’’اب پَو پھٹ رہی تھی اور آہستہ آہستہ سفید دودھیا روشنی تمام چیزوں کو اجالتی جا رہی تھی۔اندھیرے میں جو سیاہ دھبے نظر آتے تھے وہ اب درختوں اور جھاڑیوں کی شکل میں دکھائی دینے لگے تھے۔جگہ جگہ گڈھوں میں چمکیلے پانی کی جھلک بھی ملنے لگی تھی۔کبھی کبھی پرندوں کے بولنے کی آواز بھی سنائی دے جاتی۔‘‘   (ایضاً، ص 100)

اپنی زبان بولنے والوں سے اپنائیت اور اپنی پسند کا کھانا ملنے پر جو طمانیت حاصل ہوتی ہے اس کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’یہ لوگ آپس میں اردو میں بات چیت کر رہے تھے۔ انھیں دیکھ کر عجیب طرح کی اپنائیت کا احساس ہوا۔ ساتھ ہی اس بات کا بھی اطمینان ہوا کہ ہم لوگ گھور بنگالی علاقوں سے نکل آئے تھے۔ہم لوگوں نے وہیں ریلوے کینٹین میں کھانا کھایا۔

کینٹین چونکہ بہاری کا تھا اس لیے مرغ اور پراٹھے مل گئے۔ خدا کا شکر ہے۔ چاول اور مچھلی کھاتے کھاتے ہم اوب چکے تھے۔‘‘ (ایضاً، ص 51)

اردو سے محبت کی ایک اور مثال ملاحظہ کیجیے کہ کس طرح ایک بنگالی سیٹھ کو جب یہ معلوم ہوا کہ اس علاقے میں تین لوگ آئے ہیں جن کی زبان اردو ہے تو اس نے انھیں اپنے یہاں بلوایا اور خوب آؤ بھگت کی۔جب مصنف نے پوچھا کہ آپ نے اردو کہاں سیکھی تو ان کا جواب تھا:

’’لاہور  میں میری ایک مرشدآبادی سلک کی دکان ہے۔ میں وہاں کافی عرصہ رہا ہوں۔وہیں مجھے اس زبان کی چاٹ لگی۔… یہاں کا یہ عالم ہے کہ برسوں اردو کا جملہ نہ سننے کو ملتا ہے اور نہ کہنے کی نوبت آتی ہے۔ اسی وجہ سے آج جب یہ معلوم ہو ا کہ تین بہاری یہاں آکر پھنسے ہیں تو میں اپنے آپ کو روک نہ سکا۔‘‘  (ایضاً، ص47)

انھوں نے نہ صرف انھیں رات میں اپنے یہاں ٹھہرایااور ان کی خوب خاطر مدارات کی بلکہ چلتے وقت اپنے لڑکے کو ان کے ساتھ اسٹیشن بھی بھیجا تاکہ کوئی بدمعاش انھیں تنگ نہ کر سکے۔ 

سفرنامے میں ادیبوں اور شاعروں سے ملاقات کا حال بھی دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے اور ایک ایک لفظ سے خلوص ٹپکتا ہے۔ الیاس احمد گدی جب نظیر صدیقی سے ملنے ان کے گھر پہنچے تو وہ اس وقت وہاں موجود نہ تھے۔ وہ اپنا نام پتہ بتا کر چلے آئے۔ صبح جب یہ لوگ ناشتہ کر رہے تھے اسی وقت نظیر صدیقی ان سے ملنے آگئے۔ان کے علاوہ شہزاد منظرسے ان لوگوں نے ملاقات کی۔  احمد سعید جنھوں نے بمل مترا کے شہرہ آفاق ناول ’کوری دیے کِنلام‘ (جس پر گرودت نے مشہور فلم ’’صاحب، بی بی اور غلام‘‘ بنائی)  کا اردو ترجمہ کیا تھااور جو اس وقت ’نقوش‘ لاہور میں قسط وار چھپ رہی تھیں سے ملاقات کی تفصیلات بھی درج کی ہیں۔

’’لکشمن ریکھا کے پار‘‘درجنوں دلچسپ واقعات سے بھرا ہوا ہے۔ ہر واقعے کا بیان الیاس احمد گدی نے اس قدر دل نشیں انداز میں کیا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم بھی ان کے ساتھ اس سفر میں شریک ہیں۔اس کی زبان بالکل آسان اور سادہ ہے اور کہیں بھی کسی قسم کی پیچیدگی کا احساس نہیں ہوتا۔ کوئی بھی واقعہ غیر فطری یا مبالغہ آمیز نہیں ہے۔ بالکل فطری انداز میں وہ سفر کا حال بیان کرتے چلے گئے ہیں۔ کہیں کہیں وہ حال کی بدحالی دیکھ کر ماضی میں کھو جاتے ہیں اور پھر ان کے اندر کا افسانہ نگار بیدار ہوجاتا ہے۔اس سفرنامے کی ایک اہم خوبی یہ بھی ہے کہ شروع سے آخر تک کہیں بھی قاری کی دلچسپی میں کمی نہیں آتی بلکہ تجسس میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور اس پر کسی مہماتی ناول کا گمان ہوتا ہے۔ آخری حصے میں جب الیاس احمد گدی اپنے دوستوں اور ایجنٹ کے ہمراہ ہندوستان واپس آرہے تھے تو پولیس کی چیکنگ سے بچنے کے لیے انھیں ایک جنگل سے گزرنا پڑا۔وہ اس وقت کے احساسات یوں بیان کرتے ہیں:

’’اس گھنے اور خوف ناک جنگل میں ہم چلے جارہے تھے۔ یہ کتنی مضحکہ خیز بات تھی کہ ہمیں جنگلی درندوں کا ڈر نہیں تھا۔ سیکڑوں قسم کے حشرات الارض، کیڑوں، مکوڑوں، سانپوں، بچھوئوں،سے ہم خائف نہیں تھے بلکہ ہمیں ڈر تھا تو صرف انسانوں سے۔ ہم دعا کر رہے تھے کہ ہمیں کوئی آدمی نہ ملے۔‘‘ (ایضاً، ص 51)

واقعی خدا کی بنائی اس دنیا میں انسانوں نے ہی انسانوں کا جینا دوبھر کردیا ہے۔اور یہی وجہ تھی کہ مصنف اور ان کے ساتھی راست بھر یہ دعا کرتے رہے کہ انھیں کوئی آدمی نہ ملے۔ 

تحیر آمیز فضابندی، دلکش منظر نگاری، دلچسپ واقعات، بہترین اندازِ بیان اورافسانوی طرز کی وجہ سے ’لکشمن ریکھا کے پار‘ اردو کے سفرناموں میں نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔ مصنف کے پرخلوص لہجے اور تمام بنی نوع انسان سے یکساں محبت کا احساس ہمیں اس سفرنامے کے مطالعے کے درمیان قدم قدم پر ہوتا ہے۔ان کا بنیادی سروکار انسان اور انسانی رشتے سے ہے اور وہ انسانوں کو غیر فطری سرحدوں میں بانٹنے کے سخت مخالف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مشرقی پاکستان کے باشندوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں سے حد درجہ دکھی نظر آتے ہیں۔

 

Dr. Firoz Alam

Asst. Professor, Dept of Urdu

Maulana Azad National Urdu University

Gachibowli

Hyderabad - 500032 (Telangana)

Email.: firozdde@gmail.com

 

 ماہنامہ اردو دنیا، ستمبر 2021