جمعہ، 28 جون، 2019

عصمت کا معتوب افسانہ’لحاف مضمون نگار: جاوید احمد مغل



عصمت کا معتوب افسانہ’لحاف
جاوید احمد مغل


عصمت چغتائی نے عورت کے جنسی و نفسیاتی مسائل پر کہیں واضح اور کہیں اشاراتی اسلوب میں متعدد افسانے لکھے ہیں۔ ان افسانوں میں ان شادی شدہ عورتوں کے مسائل کو اُبھا را گیا ہے جو ازدواجی زندگی کی چکی میں پستے پستے خاموشی سے دم توڑ دیتی ہیں اور اُن شوخ و طرار لڑکیوں کی تمنا ں کا بیان بھی ملتا ہے جو جنسی و نفسیاتی خواہشوںمیں اپنی زندگیاں تباہ کر لیتی ہیں اور سماج کے لیے بھی ایک مصیبت اور مسئلہ بن جا تی ہیں۔ اس سلسلے میں لحاف اور ہم سفر اہم افسانے ہیں۔
عصمت چغتا ئی کا افسانہ لحاف کسی سبب معاشرے میں تنہا رہ جانے والی عورت کی جنسی گھٹن اور اُس کے سدباب کے لیے اختیار کردہ راستے کا بیانیہ ہے۔ لحاف افسانہ کے مرکزی کردار بیگم جان کے حوالے سے مسلم گھرانوں کی خواتین کی شرافت اور اخلاقیات پر پڑے ہوئے اُس پردے کی علامت ہے جو اپنے اندر جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے غیر فطری وسیلوں کو چھپا ئے ہوئے ہے۔ عصمت نے ’لحاف‘ 1940کے آ س پاس اُس زمانے میں لکھا جب ڈاکٹر سگمنڈ فرائڈ کے نظریات جنس اور تحلیل ِ نفسی کے اثرات اُردو ادب پر بھی اپنا اثر قائم کر چکے تھے۔ یہی وہ زما نہ ہے جب عزیز احمد (ہوس)اور سعادت حسن منٹو (بو، دھواں اورٹھنڈا گوشت)جیسے جنسی افسانے لکھ رہے تھے۔ افسانہ ’لحاف ‘میں لحاف کے اندر کی جنسی سچائیوں کو بے حد فنکارانہ مہارت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ افسانے کا مرکزی کردار بیگم جان ایک ہم جنس پرست کردار کے طور پر سامنے آ تی ہیں جو اپنی جنسی خواہشات کی عدمِ تکمیل کی وجہ سے ہم جنسیت (Lesbianism) کی عادی ہو جا تی ہیں۔ اور اس کے لیے بیگم جان اپنی ملازمہ ربو کو استعمال کر تی ہیں۔ ان دونوں نسوانی کرداروں میں فاعل کون ہے اور مفعول کون؟ عصمت چغتائی اس حقیقت کو ’لحاف‘ کے اندر ہی چھپا ئے رکھتی ہیں۔ دراصل یہاں عصمت چغتائی نے ابہام سے کام لیا ہے۔ یہاں تک کہ عصمت نے ایک بار منٹو کے پو چھنے پر بھی یہ نہیں بتایا کہ لحاف کے اندر کیا ہورہا تھا۔
عصمت چغتائی کے مطابق انھوں نے ’ لحاف‘ علی گڑھ کی ایک عورت کی زندگی کے حقیقی واقعات کو دیکھ کر تحریر کیا۔ ایک ایسی تنہا عورت جِسے دنیا کی تمام تر آسائشیں میّسر تھیں لیکن اُس کی زندگی میں کمی صرف یہ تھی کہ وہ شوہر کی قربت سے محروم تھی۔ وہ کس قسم کی ذہنی اذیت میں مبتلا تھی عصمت نے افسانہ ’لحاف ‘ کے ذریعے یہی بات بتانے کی سعی کی ہے۔
افسانے کامرکزی کردار بیگم جان ہے جب افسانہ نگار نے اُسے دیکھا تھا تواُس کی عمر تقریباً چالیس بیالیس سا ل ہو گی۔ لیکن وہ اس عمر میں بھی بے حد حسین ملکہ معلوم ہوتی تھی۔ اُس کا رنگ سفید،جلد چکنی،، بال سیاہ، آنکھیں کالی،پلکیں موٹی موٹی، ابرو کمان جیسے اور ہونٹ ہر وقت سرخی سے رنگے رہتے تھے۔ عصمت چغتائی نے بیگم جان کے خدو خال کو ایک مصور کی طرح اُبھاراہے :
” اُن کے جسم کی جلد بھی سفید اور چکنی تھی، معلوم ہوتا تھا کسی نے کس کر ٹا نکے لگا دئیے ہوں۔ عموماً وہ اپنی پنڈلیاں کھجا نے کے لیے کھولتیں تو میں چپکے چپکے ان کی چمک دیکھا کر تی۔ ان کا قد بہت لمبا تھا اور پھر گو شت ہونے کی وجہ سے وہ بہت ہی لمبی چوڑی معلوم ہوتی تھیں۔ لیکن بہت متناسب اور ڈھلا ہوا جسم تھا۔ بڑے بڑے چکنے اور سفید ہاتھ اور سڈول کمر۔“
 ربّو(نوکرانی) سے پیٹھ کھجوانا بیگم جان کے لیے ضروریات ِ زندگی بن گیا تھا۔ جب دیکھو وہ بیگم جان کے سر،پاں یا جسم وغیرہ دبا یا ہی کر تی تھی۔اور جس دن بیگم جان نہاتی اُس روز دو گھنٹے پہلے ہی تیل اور خوشبودار ابٹنوں کی مالش کروانا شروع ہو جاتی تھی۔
عصمت چغتا ئی بچپن سے ہی بیگم جان پر فدا تھیں۔ بیگم جان بھی افسانہ نگار سے بے حد پیار کرتی تھی۔ ایک دن اتفاق سے عصمت کی ماں ایک ہفتہ کے لیے آگرہ جا تی ہیں اور اُنھیں بیگم جان کے پاس چھوڑ جاتی ہیں۔عصمت کو قدرتی طور پر بیگم جان کے کمرے میں سونے کاموقعہ ملتا ہے۔ رات کو دس گیارہ بجے تک افسانہ نگار اور بیگم جان ایک دوسرے سے باتیں کر تی رہتی ہیں پھر عصمت چغتائی سونے کے لیے پلنگ پر چلی جا تی ہیں اور بیگم جان (ہر دن کی طرح) ہی ربو سے پیٹھ کھجوا تی رہتی ہیں۔مصنفہ کی رات کو اچانک آنکھ کھلتی ہے اور اُنھیں ڈر سا محسوس ہونے لگتا ہے وہ کیا دیکھتی ہیں:
” کمرے میں گھپ اندھیرا، اور اس اندھیرے میں بیگم جان کا لحاف ایسے ہل رہا تھا جیسے اس میں ہا تھی بند ہو، ” بیگم جان.... “ میں نے ڈری ہوئی آواز نکالی، ہاتھی ہلنا بند ہو گیا، لحاف نیچے دب گیا۔
” کیا ہے ....سورہو.... “بیگم جان نے کہیں سے آواز دی۔
”ڈر لگ رہا ہے .... “ میں نے چوہے کی سی آواز سے کہا۔
”سو جا .... ڈر کی کیا بات ہے .... آیت الکرسی پڑھ لو۔“
” اچھا ....“ میں نے جلدی جلدی آیة الکرسی پڑھی۔ مگر یعلمومابین....پر ہر دفعہ آ خر اٹک گئی۔ حالانکہ مجھے اس وقت پوری آیت یاد ہے۔
”تمھارے پاس آ جا ں بیگم جان....“
”نہیں....بیٹی .... سو رہو....“ ذرا سختی سے کہا گیا۔
اور پھر دو آدمیوں کے کھسر پھر کرنے کی آواز سنائی دینے لگی۔ ہائے رے یہ دوسرا کون ؟ میں اور بھی ڈری۔
”بیگم جان.... چوروور تو نہیں....“
”سوجا بیٹا .... کیسا چور.... “ربّو کی آواز آئی۔
میں جلدی سے لحاف میں منہ ڈال کر سوگئی“ 
مذکورہ با لا اقتباس سے یہ ظاہر ہو تا ہے کہ جس وقت افسانہ نگارلحاف کے اندر بیگم کی پُر اسرار سر گرمی دیکھ رہی تھی اُس وقت اُن کا شعور اتنا پختہ نہیں تھا کہ وہ لحاف کے اندر کی سر گرمی کی حقیقت کو پوری طرح سمجھ پا تی۔ لیکن جب افسا نہ نگار اُن کے لحاف کوہاتھی کی طرح ہلتا دیکھ کر بیگم جان کو پکارتی ہیں تو یہاں عصمت بڑی فنکاری سے ایک آواز بیگم جان کی سنا تی ہیں جو اُن سے کہتی ہے، سو جا ڈر کی کیا بات ہے آیت الکرسی پڑھ لو اور دوسری آواز ربّو کی آ تی ہے و ہ بھی اُ سے سو جانے کی تاکید کر تی ہیں۔ لحاف کے اندر دو کرداروں کی موجودگی کا صوتی اشارہ کرکے عصمت قاری کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔
صبح ’لحاف‘ بالکل معصوم نظر آ تا ہے یعنی اُس میں کوئی حرکت دکھائی نہیں دیتی ہے اورعصمت کے ذہن سے بھی رات کے خوف کا نظارہ غائب ہو جاتا ہے۔ کیونکہ رات کو ڈرنا، اُٹھ اُٹھ کر بھاگنا اور بڑبڑانا افسانہ نگار کے لیے عام بات تھی۔ وہ بچپن میں ایسا کیا کر تی تھی اور سب لوگ کہتے تھے کہ اسے بھوتوں کا سایہ ہے۔
ربّو ایک دن اپنے بیٹے سے ملنے کے لیے گھر چلی جا تی ہے۔ بیگم جان کی مالش کر نے والا کوئی نہیں تھا اس لیے وہ سارا دن پریشان رہی۔ اس کا جوڑ جوڑ ٹوٹتا رہا۔ بیگم جان کوکسی اور کا چھونا بھی پسند نہیں۔ اُس نے کھانا بھی نہیں کھا یا اور سارا دن اُداس رہی۔ ربو کو دوسرے دن آ نا تھا لیکن وہ دوسرے دن بھی نہیں آ ئی اور بیگم جا ن کا مزاج کافی چڑ چڑا ہو گیا۔ ربوّ کی غیر موجودگی میں عصمت کو بیگم جان کے پاس سونے کا اتفاق ہوتا ہے۔ پہلی رات کی طرح اس رات بھی دونوں کا فی دیر تک باتیں کرتی رہیں۔ پھر رفتہ رفتہ عصمت کو ڈرسا محسوس ہونے لگا۔ وہ لکھتی ہیں :
”میرا دل چاہا کسی طرح بھاگوں اور انھوں نے زور سے بھینچا۔میں مچل گئی۔ بیگم جان زور زور سے ہنسنے لگیں۔.... ان کی آنکھوں کے پپوٹے اور وزنی ہوگئے۔ اوپر کے ہونٹ پر سیاہی گھری ہوئی تھی۔باوجود سردی کے، پسینے کی ننھی بوندیں ناک پر چمک رہی تھیں.... کمرے میں اندھیرا گھٹ رہا تھا۔ مجھے ایک نا معلوم ڈر سے وحشت سی ہونے لگی۔بیگم جان کی گہری گہری آنکھیں۔ میں رونے لگی دل میں۔ وہ مجھے ایک مٹی کے کھلونے کی طرح بھینچ رہی تھیں۔ان کے گرم گرم جسم سے میرا دل بولانے لگا۔ مگر ان پر تو جیسے کوئی بھتنا سوار تھا اور میرے دماغ کایہ حال کہ نہ چیخا جائے اور نہ رو سکوں۔ تھوڑی دیر کے بعد پست ہو کر نڈھال لیٹ گئیں۔ ان کا چہرہ پھیکا اور بد رونق ہوگیا اورلمبی لمبی سانسیں لینے لگیں۔ میں سمجھی کہ اب مریں یہ، اوروہاں سے اُٹھ کر سر پٹ بھاگی باہر....!“ 
مذکورہ سطور میں عصمت چغتا ئی نے بیگم جان پر جنسی تسکین کے جذبے کے غلبے کو بیان کیا ہے۔ چونکہ اُس رات ربّو بیگم جان کے پاس مو جود نہیں تھی اس لیے بیگم جان افسانہ نگارکو ہی مفعول بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔ اور آخر کار جب کسی حد تک اُن کے جنسی جذبہ کی تسکین ہو جا تی ہے تو وہ نڈھال ہو کر لیٹ جاتی ہیں۔ دراصل جنسی معاملات کا ایسا بیان لحاف سے پہلے کسی اور افسانہ نگار کے یہاں نہیں ملتا ہے۔ منٹو اور عزیز احمد نے بھی اس حد تک جنسی حقیقت نگاری سے پرہیز ہی کیا ہے۔ اور غالباً یہی چیز عصمت پر لحاف کی بنیاد پر مقدمے کا باعث بنی۔
سعاد ت حسن منٹو ”لحاف“ کے بارے میں لکھتے ہیں:
”ایک مہینہ پہلے جب کہ میں آل انڈیا ریڈیودہلی میں ملازم تھا ’ ادبِ لطیف‘ میں عصمت کا ’لحاف‘ شائع ہوا تھا۔ اسے پڑھ کر مجھے یاد ہے میں نے کرشن چندر سے کہا ”افسانہ تو بہت اچھا ہے لیکن آخری جملہ بہت ہی غیرصناعانہ ہے۔ احمد ندیم کی جگہ اگر میں ایڈ یٹر ہو تا تو اسے یقیناً حذف کر دیتا۔ چنانچہ جب افسانوں پر با تیں شروع ہوئیں تو میں نے عصمت سے کہا ”آپ کا افسانہ ’لحاف‘ مجھے بہت پسند آ یا .... لیکن مجھے تعجب ہے کہ اس افسانے کے آخر میں آپ نے بیکار جملہ لکھ دیا کہ ایک انچ اٹھے ہوئے لحاف میں میں نے کیا دیکھا۔ کوئی مجھے لاکھ روپیہ بھی دیدے تو میں کبھی نہیں بتا ں گی۔ “
عصمت نے کہا ” کیا عیب ہے اس جملے میں ؟“
میں جواب میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ مجھے عصمت کے چہرے پر وہی سمٹا ہوا حجاب نظر آ یا جو عام گھریلو لڑکیوں کے چہرے پر نا گفتنی شے کا نام سن کر نمودار ہوا کر تا ہے۔ مجھے سخت نا امیدی ہوئی۔ اس لیے کہ میں ’لحاف‘ کے تمام تر جزئیات کے متعلق اس سے باتیں کرنا چاہتا تھا۔ جب عصمت چلی گئی تو میں نے دل میں کہا ”یہ تو کمبخت بالکل عورت نکلی۔“
 اس افسانے میں عصمت چغتا ئی نے جس فنی مہارت اورنزاکت سے شریف گھرانوں کی جنسی بے راہ روی کو پیش کیا ہے وہ کسی مرد افسانہ نگار کے بس کی بات نہیں تھی۔ کرشن چندر نے اسی افسانہ ’ لحاف‘ کو ذہن میں رکھتے ہوئے مجموعہ ’چوٹیں ‘ کے دیبا چے میں لکھا تھا :
”عصمت کا نام آ تے ہی مرد افسانہ نگاروں کو دورے پڑ نے لگتے ہیں۔ شر مندہ ہو رہے ہیں آپ ہی آپ خفیف ہو تے جا رہے ہیں“
اسی طرح فنکار کشمیری لال ذاکر پر بھی افسانہ ’لحاف‘ کے مطالعے سے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔انھوں نے اپنے ایک مضمون ’ عصمت چغتائی : کہانی بولتی ہے ‘ میں لکھا ہے:
”لحاف اگر کسی مرد افسانہ نگار نے لکھی ہو تی تو وہ کہانی شاید پڑ ھنے والے کو اس طرح نہ جھنجھوڑتی۔ کہانی چونکہ ایک خاتون نے لکھی تھی اور وہ بھی اس مخصوص اسٹائل میں اور خوبصورت الفاظ میں۔ اس لیے اس کا اثر تو زیادہ ہو نا ہی تھا۔ لیکن اس کہانی کا مجھ پر بڑا عجیب و غریب اثر ہوا۔ میں نے کئی بر سوں تک سردیوں میں لحاف استعمال کر نا چھوڑ رکھا اور کمبلوں کو ہی استعمال کر تا رہا۔ “
کُلی طور پر افسانہ ”لحاف“ میں عصمت چغتائی نے ہمارے سماج میں پنپنے والے مسلۂ ہم جنسی کو موضوع بناکر معاشرے کی ایک ایسی بد ترین برائی سے پردہ ہٹایا ہے، جہاں بیگم جان اور ربّو جیسی ہزاروں عورتیں اس دلدل میں پِس رہی ہیں اور پھر عصمت نے ظاہری و خارجی عریانی سے دامن پچاتے ہوئے اپنی ساری فنکارانہ بصیرتیں دونوں خاتون کرداروں کی داخلی کیفیات پر صرف کی ہیں۔

Javed Ahmed Mughal
 C /O Dr.Mohd Reyaz Ahmed ,
 Deptt.of urdu
 University of Jammu 
- 180006, Mob:. 09419592453
Email: sahir.00139@gmail.com
ماہنامہ اردو دنیا،فروری 2016



قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

جمعرات، 27 جون، 2019

ریاستِ جموں و کشمیر میں اردو صحافت مضمون نگار: عارفہ بشریٰ



ریاستِ جموں و کشمیر میں اردو صحافت


عارفہ بشریٰ

صحافت یا اخبار نویسی ایک قدیم فن اور پیشہ ہے۔ چھاپہ خانے کی ایجاد سے پہلے مختلف ممالک میں خبر رسانی کا کام سرکاری جاسوسوں اور کارندوں کے ذمے ہوا کرتا تھا، یا لوگ زبانی خبروں کو ایک دوسرے تک منتقل کرتے تھے۔ پریس کی ایجاد نے صحافت میں ایک زبردست انقلاب کی ابتدا کی اور اخبارنویسی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اخبار نویسی نے بہت جلد ثقافت کے اہم شعبے کا درجہ حاصل کیا، اخبارکے ذریعے آئے دن کے حالات و واقعات کی خبریں پیش ہونے لگیں۔ اس کے علاوہ اخبار کے مدیر یا ادارے کی طرف سے مختلف خبروں پر تبصرے شائع ہونے لگے، موجودہ صدی میں اخبار نویسی کو بے پناہ مقبولیت ملی۔رائے عامہ کو بنانے اور بگاڑنے ، حکومتوں کی پالیسیوں پر نکتہ چینی کرنے، سماجی اور دینی معاملات کی تعمیر میں صحافت کے رول کو تسلیم کیا گیا، اب دنیا کے کسی کونے یا کسی پس ماندہ ملک سے نکلنے والے اخبار کی بھی ایک بین الاقوامی اہمیت تسلیم کی جانے لگی ہے کیونکہ الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے دنیا بھر کے واقعات کی خبریں اخبار نویسوں تک پہنچتی ہیں اور وہ ان کو اپنے اخبار کے دامن میں سمیٹ لیتے ہیں۔ ریڈیو اور ٹی وی کے بعد اب ای میل نے خبروں کی پوری ترسیل کو ممکن بنا دیا ہے۔
کشمیر میں اردو صحافت کی تاریخ اردو زبان کی سرکاری سطح پر مروج ہونے سے پہلے سے منسلک ہے، کشمیر میں لوگ کشمیری زبان بولتے ہیں اور جموں میں لوگ ڈوگری زبان بولتے ہیں۔ ریاست میں اور بھی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ لداخ میں لداخی زبان مروّج ہے، ریاست کے تینوں خطوں اور ریاست کے مختلف علاقوں میں مختلف زبانیں بولنے والوں کے لیے اردو رابطے اور ترسیل کی زبان کا درجہ رکھتی ہے۔ اس لیے انیسویں صدی کے آخری حصے میں ریاست میں اردو کی مقبولیت کے پیش نظر ڈوگرہ حکمرانوں نے اردو کو عدالتی زبان کا درجہ دیا تو ریاست میں اردو کی مقبولیت کا راستہ ہموار ہوگیا۔ 1879 میں مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دے دیا۔ اس سے پہلے ملک کے مختلف حصوں سے اردو بولنے والے اور اردو میں شاعری کرنے والے شعرا ریاست میں آتے تھے۔ خود ریاست کے پڑھے لکھے لوگ ملک کے مختلف حصوں میں جاتے اور باہمی تہذیبی اور لسانی روابط قائم ہوتے تھے۔ یہاں کے پڑھے لکھے لوگ اردو بولتے تھے اور جہاں تک ان پڑھ لوگوں کا تعلق ہے، ان میں وہ لوگ مثلاً مانجھی وغیرہ جن کا رابطہ سیاحوں سے رہتا تھا، وہ بھی ٹوٹی پھوٹی اردو سے کام چلاتے تھے۔ سرکاری دفاتر اور عدالتوں میں ارد وکے رائج ہونے کے بعد اردو زبان تیزی سے پڑھے لکھے لوگوں میں مقبول ہونے لگی۔ اس زمانے میں کئی لوگوں نے ریاست میں اردو اخبار نکالنے کی کوششیں کیں، لیکن حکومت کی سخت گیر پالیسی کی وجہ سے وہ کوششیں بارآور ثابت نہ ہوئیں۔
1858 میں ریاست میں پریس کا آغاز ہوا۔ یہ احمدی پریس کہلاتا تھا۔ اس کے بعد سرکار نے ’وکرم ولاس‘ پریس قائم کیا لیکن کسی اردو اخبار کی اشاعت کی اجازت نہ دی گئی۔ تاہم خود مہاراجہ رنبیر سنگھ کے عہد حکومت میں ’بدیابلاس‘ کے نام سے ایک اخبار جاری کیا گیا۔ یہ اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں چھپتا تھا اور تاریخی لحاظ سے یہ ریاست کا پہلا اخبار ہے۔ اسی دور میں ایک اور اخبار ’تحفۂ کشمیر‘ کے نام سے جاری ہوا، لیکن یہ دونوں اخبارات زیادہ دنوں تک نہ چل سکے۔
اسی دور میں سالک رام سالک نے اردو اخبار نکالنے کی جدوجہد کی لیکن وہ اپنی جدوجہد میں کامیاب نہ ہوسکے۔ آخر میں وہ کشمیر سے ہجرت کرکے لاہور گئے اور وہاں سے ’خیر خواہ کشمیر‘ کے نام سے ایک ہفت روزہ جاری کیا۔ سالگ رام کے بھائی پنڈت ہرگوپال کول خستہ نے اس اخبار کی سرپرستی کی۔ مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے عہد حکومت میں بھی اخبار نویسی پر پابندی جاری رہی۔ اس دوران کشمیر کے مشہور مورخ اور ادیب محمد دین فوق نے ریاست سے اردو اخبار نکالنے کی تگ و دو کی، مہاراجہ پرتاپ سنگھ کو انھوں نے کئی عرض داشتیں دیں۔ لیکن حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی۔ آخر میں وہ بھی دوسرے صحافیوں کی طرح لاہور میں صحافتی سرگرمیوں کو جاری رکھنے پر مجبور ہوئے۔
بہرحال، اردو صحافت کے ابتدائی دور میں مندرجہ ذیل اخبارات ریاست سے شائع ہوتے رہے۔
.1        بدیابلاس 1842
.2         دھرم درپن 1873
.3         ڈوگرہ گزٹ 1911
ان کے علاوہ تحفۂ کشمیر 1876 اور جموں گزٹ 1884 میں شائع ہوئے۔ تحفۂ شمیر سری نگر سے شائع ہوتا رہا۔ لیکن یہ باقاعدہ اخبار نہ تھا، بلکہ اس میں گورنمنٹ کی کارکردگی کے بارے میں خبریں شائع ہوتی تھیں۔ جموں گزٹ بھی سری نگر سے نکلتا تھا ۔ یہ بھی سرکاری گزٹ تھا۔
ریاست میں اردو صحافت کا باقاعدہ آغاز 1944 میں ہوا۔ جب لالہ ملک راج صراف نے متواتر کوششوں کے بعد ’رنبیر‘ جاری کیا۔ ابتدا میں یہ ہفت روزہ تھا۔ اس اخبار کو حکومت نے بعض شرائط کے تحت منظرعام پر آنے کی اجازت دی۔ اسے ہدایت کی گئی کہ وہ سیاسی معاملات پر خاموش رہے گا اور صرف تعلیمی اور اقتصادی مسائل پر اظہارِ خیال کرے گا۔ ان پابندیوں کے باوجود اخبار نکلتا رہا اور عوام میں مقبولیت حاصل کرتا رہا۔ اس کے بعد جموں ہی سے ہفت روزہ ’پاسبان‘ نکلتا رہا، جسے معراج الدین احمد نکالتے تھے۔ یہ اخبار مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرتا تھا۔
بیسویں صدی کے ربع اوّل تک جن کشمیریوں نے وادی سے باہر رہ کر کشمیر کے بارے میں اخبارات شائع کیے اُن کی تفصیل درج ذیل ہیں:
.1        مراسلۂ کشمیر        1872
.2         اخبار عام 1881
.3         کشمیری پراگاش      1898
.4         پنجۂ فولاد             1911
.5         کشمیری گزٹ         1901
.6         کشمیر مخزن           1905
.7         گلشن کشمیر            1901
.8         کشمیر درپن           1898
.9         کشمیر میگزین         1906
.10      سفیر      1914
.11      صبح کشمیر   1914
.12      کشمیر      1924
یہ اخبارات ریاست کے باہر لاہور، امرتسر اور لکھنؤ سے شائع ہوتے تھے۔ زیادہ تر اخبار لاہور ہی سے چھپتے تھے۔ ان میں زیادہ تر کشمیریوں کی اقتصادی بدحالی، سیاسی بے چینی اور سماجی اونچ نیچ کے بارے میں خبریں اور تبصرے چھپتے تھے۔ چونکہ یہ اخبارات کشمیر سے ہی تعلق رکھتے تھے۔ اس لیے ریاست میں اردو صحافت کے تاریخی ارتقا میں ان کے رول کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
رنبیر‘ شائع ہونے کے بعد ریاست میں اخبارنویسی کی ضرورت کا احساس بڑھنے لگا۔ لیکن جاگیردارانہ نظام حکومت نے کسی اخبار کو نکالنے کی اجازت نہ دی۔ لالہ ملک رام صراف نے چونکہ ایک پریس بھی کھولا تھا، اس لیے وہ بچوں کے لیے ایک رسالہ ’رتن‘ بھی شائع کرتے تھے اور یہ رسالہ اردو صحافت کی مقبولیت میں اضافے کا باعث ہوا۔
1931 میں حکومت نے مڈلٹن کمیشن کی سفارش پر پریس ایکٹ میں تبدیلی کی۔ چنانچہ 1932 سے اخبارات کے اجرا سے پابندی ہٹا دی گئی اور تیزی سے اخبارات نکلنے لگے۔ یہاں تک کہ 1947 تک اخبارات کی تعداد 48 کو تجاوز کرگئی۔ سب سے پہلا اخبار پنڈت پریم ناتھ بزاز نے 1932 میں ’وتستا‘ کے نام سے جاری کیا۔ ’وتستا‘ سے پنڈت پریم ناتھ بزاز کی مدیرانہ صلاحیت کا اعتراف کیا جانے لگا۔ لوگ ذوق و شوق سے اس اخبار کو پڑھنے لگے۔ تین برسوں کے بعد پریم ناتھ بزاز نے شیخ محمد عبداللہ کی رفاقت میں ’ہمدرد‘ کے نام سری نگر سے ایک ہفت روزہ اخبار جاری کیا۔ اس کی روزافزوں مقبولیت کو دیکھ کر جولائی 1943 سے اسے روزنامہ بنایا گیا۔ ’ہمدرد‘ کے ادارۂ حریر میں مولانا مسعودی بھی شامل ہوگئے۔ ’ہمدرد‘ خبروں کی تازگی، مضامین کی رنگارنگی اور گٹ اَپ سے ریاست میں اخبار نویسی کے اچھے معیار کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس اخبار میں ریاست کے نامور لکھنے والوں کی نظم و نثر کی نگارشات بھی چھپتی رہیں۔ قلمکاروں کے تعاون سے ’ہمدرد‘ نے ادبی ایڈیشن نکالے اور ریاستی ادب اور ثقافت کے فروغ کے امکانات روشن ہوگئے۔ ساتھ ہی نئے ادیبوں اور شاعروں کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ ڈاکٹر برج پریمی لکھتے ہیں:
ادبی ایڈیشنوں سے دو فائدے ہوئے۔ اولاً یہ کہ کشمیر میں اردو کی ترویج و اشاعت میں اضافہ ہوا اور دوئم یہ کہ یہاں بھی لوگوں کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملا۔“ (جموں و کشمیر میں اردو صحافت، کشمیر کے مضامین، ص 193)
ہمدرد‘ کا یہ کارنامہ ناقابل فراموش ہے کہ اس نے ریاست میں سیاسی بیداری میں اہم حصہ ادا کیا۔ اس میں شخصی حکومت کا پردہ چاک کیا گیا۔ اپریل 1941 میں پریم ناتھ بزاز نے قانون، اسلحہ جات اور ہندی رسم الخط کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرکے شیخ محمد عبداللہ کے خیالات سے اختلاف کیا، نتیجے میں شیخ محمد عبداللہ ’ہمدرد‘ سے الگ ہوگئے۔ 1943 میں ’ہمدرد‘ نئی آب و تاب کے ساتھ چھپنے لگا، لیکن یہ بہت جلد سیاسی اختلافات کی بھینٹ چڑھ گیا اور 1950 میں ’ہمدرد‘ بند ہوگیا۔
اسی زمانے میں کشمیری پنڈتو ں کی جماعت ’یووک سبھا‘ نے اخبار ’مارتند‘ جاری کیا۔ اس کے ایڈیٹر پنڈت کشپ بندھو تھے۔ کچھ عرصے کے بعد وہ ’مارتند‘ سے الگ ہوگئے اور انھوں نے ’کیسری‘ اور ’دیش‘ کی ادارت کی۔ ’مارتند‘ کی ادارت کے فرائض پنڈت گاشہ لال کول اور پنڈت پریم ناتھ کنہ نے ادا کیے۔ یہ اخبار صحافت کے تقاضوں کی تکمیل کرتا رہا۔ اس نے کئی خاص نمبر نکا لے۔ یہ اخبار پنڈت برادری کے مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیر کی تہذیب، بھائی چارہ اور سماجی یگانگت کی آئینہ داری کرتا رہا۔ اس اخبار سے پنڈت گنگا دھر دیہاتی بھی وابستہ ہوئے اور انھوں نے اس کے معیار کو مزید بلند کیا۔ یہ اخبارات مجموعی طور پرتعلیم کی ضرورت، لوگوں کی پسماندگی، جاگیرشاہی، عورتوں کی مظلومیت، جہیز کی لعنت، نوجوانوں کی بیکاری وغیرہ کے مسائل پر مضامین، تبصرے اور شذرات شائع کرتے رہے، 1932 سے 1947 تک ریاست میں اردو صحافت کا ایک بار آور دور تسلیم کیا جاتا ہے۔ ریاست کے مختلف حصوں مثلاً سری نگر، سوپور، جموں، میر پور سے اخبارات نکلتے رہے۔ ان اخبارات کی فائلوں پر ایک نظر ڈالنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اخباروں میں خاصی دلچسپی لینے لگے تھے۔ اخبار نویس بھی اپنے فرائض تن دہی، فرض شناسی اور پیشہ ورانہ قابلیت سے انجام دیتے تھے، بعض اخبارات آزادانہ طور پر نکلتے تھے اور کئی اخبار بعض سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی ترجمانی کا کام کرتے تھے۔ چنانچہ جہاں گیر (1932) انجمن تبلیغ الاسلام، اصلاح (1935) ذوالفقار (1935)، روشنی (1943) مختلف مذہبی جماعتوں کے نظریات کے ترجمان تھے، سیاسی جماعتوں میں ’رنبیر‘ (1933) مسلم کانفرنس، کشمیر گارڈین (1933) پنڈتوں، حقیقت (1936) مسلم کانفرنس خالد (1938)، نیشنل کانفرنس، خدمت (1939) نیشنل کانفرنس کے آرگن تھے۔ سری نگر ہی کی طرح جموں میں بھی کئی اخبارات شائع ہوئے۔ ان میں امر (1932)، شہد رام گپتا، آنند (1932) گردھاری لعل آنند، وطن (1934) سردار مہندر سنگھ، جمہورہ (1935) اللہ رکھا ساغر، چاند (1939) نرسنگھ داس نرگس، کشمیر سنسار، (1941) جتیندر دیو نکالتے تھے۔ میرپور سے راجہ محمد اکبر خان ’سچ‘ 1941 چودھری گیان چند، صداقت 1942 اور ہمت (1944) عبدالوہاب شائع کرتے رہے۔
حکومت جموں و کشمیر نے اخبارات کی مقبولیت کو دیکھ کر 1940 میں ’تعلیم جدید‘ کا ماہنامہ اجرا کیا۔ اس کے مدیر پیر زادہ غلام رسول تھے۔ اس رسالے میں ریاست کی تعلیمی پس ماندگی، اساتذہ کی تربیت، تعلیمی مقاصد وغیرہ کے موضوعات پر مضامین شائع ہوتے تھے۔ اس رسالے کے علاوہ بچوں کے رسالے ’رتن‘ کو بھی خاصی اہمیت حاصل ہے۔ ان کے علاوہ ماہنامہ ’پریم‘ اور ’فردوس‘ کو بھی خاصی مقبولیت ملی۔ نرسنگھ داس نرگس نے اقبال تمنائی اور گلزار احمد فدا کے ساتھ مل کر ’پریم‘ کو جاری کیا اور قیس شروانی فردوس کی ادارت کرتے رہے۔ اس طرح سے ریاست میں ادبی صحافت کو فروغ ملنے لگا۔ ادبی صحافت کا خاص کارنامہ یہ ہے کہ ریاست میں ادبی سرگرمیوں کو بڑھاوا ملا۔ کئی شعرا اور نثر نگار سامنے آئے۔
مجموعی حیثیت سے اردو صحافت کا یہ پہلا دور تھا۔ اس کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ تسلی بخش نہیں تھا، جیسا کہ ڈاکٹر برج پریمی نے اپنے مضمون میں لکھا ہے، درست ہے۔ جن حالات میں وادی میں اردو صحافت کی ابتدا ہوئی اور پھر مالی مشکلوں، ناخواندگی، پس ماندگی اور سیاسی محکومیت کے ہوتے ہوئے جس ہمت اور استقلال سے اخبار نویسوں نے اخبار نکالے اور پڑھنے والوں نے انھیں پسند کیا، اس کی بنا پر یہ صحافت کی اچھی شروعات قرار دی جاسکتی ہے۔ خاص کر اس حقیقت کے پیش نظر کہ حکومت ہر اخبار پر کڑی نظر رکھتی تھی اور اخبار کی طرف سے حق گوئی کی بنا پر عتاب کا شکار ہونا معمول کی بات تھی، البتہ یہ صحیح ہے کہ اس دور میں اخبار کی ترتیب و تہذیب، تذکرہ نگاری، خبروں کے انتخاب، سرخیوں کے جماؤ ایڈیٹوریل، مزاحیہ و طنزیہ کالم، کالم نگاری، اشتہارات وغیرہ میں سلیقہ اور آگہی نظر نہیں آتی، جو آج کے دور صحافت کا خاصہ ہے۔
1947 کے بعد ریاست عوامی حکومت برسراقتدار آگئی، چونکہ یہ دور اقتصادی بدحالی، سیاسی عدم استحکام، رسل و رسائل کے ذرائع کے فقدان، پاور سپلائی کی عدم فراہمی، نیوز پرنٹ کی قلت اور لیتھو کی مشکلوں کا دور تھا۔ اس لیے فوری طور پر اردو صحافت آگے نہ بڑھ سکی۔ ان دشواریوں کے باوجود کئی باصلاحیت لوگوں نے اخبار نویسی کو اپنا پیشہ بنایا اور اخبارات جاری ہونے لگے۔ 1948 میں ہفت روزہ ’جیوتی‘ جاری ہوا۔ محمد عمر بٹ نے 1948 میں اخبار ’اپ لفٹ‘ نکالا، لیکن یہ زیادہ دنوں تک زندہ نہ رہ سکا۔ 1951 میں غلام رسول عرفانی اور بنسی نردوش نے سنسار جاری کیا۔ 1952 میں عزیز ہارون نے ہفت روزہ ’نئی لہر‘ جاری کیا۔ عزیز ہارون مارکسی نظریے کے حامی تھے۔ انھوں نے اپنے اخبار کو بھی کمیونسٹ خیالات کی تشہیر کا ذریعہ بنایا۔ 1951 میں کامریڈ نور محمد، عالم سرتاج اور رگھوناتھ وشنوی نے ہفت روزہ ’جمہور‘ شائع کیا۔ کمیونسٹ نظریے کا علمبردار ہفت روزہ ’مشعل‘ موتی لال مصری اور خواجہ غلام محمد صادق نے اجرا کیا۔ 1952 میں ہفت روزہ ’الحق‘ کشمیر پولیٹکل کانفرنس کا ترجمان بن گیا۔ اسے پیر عبدالاحد شائع کرتے رہے۔ 1952 ہی کو رشید تاثیر اور محمد یٰسین منظر نے ہفت روزہ ’فنکار‘ جاری کیا۔
اخبارات کے ساتھ ساتھ ان برسوں میں بعض معیاری ادبی ماہنامے بھی جاری ہوئے۔ ان میں کشمیری ماہنامہ ’گلریز‘ بدری ناتھ کوثر کا ’آزاد‘ محکمہ اطلاعات کا ’تعمیر‘ وید راہی کا ’سویرا‘ موہن یاور کا ’سنگم‘ اور محکمہ دیہات سدھار کا ’دیہات سدھار’ قابل ذکر ہیں۔ 1953 میں غلام رسول نے سری نگر سے ہفت روزہ ’ہمدرد‘ جاری کیا۔ 1971 میں یہ روزنامہ میں مبدل ہوگیا اور پوری بے باکی اور حق گوئی سے سیاسی اور سماجی مسائل پر اظہار خیال کرتا رہا۔ صوبہ جموں بھی 1947 کے بعد صحافت کے میدان میں آگے بڑھتا رہا۔ 1950 میں ایس، ایل رازدان نے ہفت روزہ ’شاردا‘ جاری کیا جو روزنامہ کی صورت میں زندہ ہے۔ ہرچرن سنگھ نے ہفت روزہ ’وقت‘ وید گپتا نے ہفت روزہ ’سویرا‘ ڈی سی دیوان نے ہفت روزہ ’شہر ڈگر‘ وید بھسین نے ہفت روزہ ’لوک راج‘ سرم دت شرما نے ہفت روزہ ’اجالا‘ 1952 میں موہن یاور نے ہفت روزہ ’رفتار‘ جاری کیا۔ ان میں کئی اخبار روزنامے بن گئے اور جموں میں خاصے مقبول ہیں۔
ریاست میں 1957 میں کلچرل اکادمی قائم ہوئی، اکادمی کے زیراہتمام ریاست کی مختلف زبانوں یعنی کشمیری، ڈوگرہ اور اردو میں رسالے جاری ہوئے۔ 1962 میں اکادمی نے اردو رسالہ ’شیرازہ‘ شائع کیا۔ جو اس وقت تک پابندی سے شائع ہورہا ہے۔ اس کے متواتر خصوصی نمبر ادبی صحافت کو بلندیوں سے ہمکنار کرچکے ہیں۔ اس میں ریاست کے ادیبوں، نقادوں اور شاعروں کے علاوہ بیرون ریاست کے نامور قلمکاروں کی نگارشات شائع ہوتی ہیں۔ ’شیرازہ‘ نے ریاست میں اردو ادب کی ترقی و ترویج میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اکادمی کی طرف سے ایک خبرنامہ اکادمی بھی گاہے گاہے شائع ہوتا رہا۔ محکمہ اطلاعات کے زیراہتمام ماہنامہ ’تعمیر‘ بھی پوری آب و تاب کے ساتھ چھپتا رہا۔ ’تعمیر‘ نے کشمیری زبان اور ثقافت کی گراں قدر خدمت انجام دی ہیں۔ کئی سربرآوردہ شعرا مثلاً آزاد، مہجور سے متعلق خاص نمبر شائع کیے گئے۔ اس محکمے سے خبرنامہ ’مکتوب‘ بھی شائع ہوتا رہا۔
جموں میں صحافت کا عمل سرگرمی سے جاری رہا۔ 1954 میں گوجر برادری کا ترجمان ’نوائے قوم‘ جاری ہوا۔ اسی سال سردار رگھبیر سنگھ مکتا نے ہفت روزہ ’لوک سندیش‘ جاری کیا۔ 1955 میں روشن لال نے ہفت روزہ ’مساوات‘ اور اقبال نرگس نے ہفت روزہ ’خورشید‘ کااجرا کیا۔ 1956 میں لالہ آنند صراف نے ہفت روزہ ’حقیقت‘ متعارف کیا۔ اس کے بعد کئی اخبارات منظر عام پر آئے۔ ان میں وجے سمن کا ’چٹان‘ سردار اجیت سنگھ کا ’کشمیر ٹرانسپورٹ‘ بابو رام گپتا کا ’عمارت‘ اور پی ٹھاکر کا ’چناب‘ اور سردار تارا سنگھ کا ’امن‘ قابل ذکر ہیں۔
دسمبر 1963 میں موئے مبارک کو اپنی مقدس جگہ سے منتقلی کے بعد خواجہ غلام محمد صادق برسراقتدار آئے۔ انھوں نے فوراً پریس اور پلیٹ فارم سے تمام پابندیاں ختم کیں۔ انھوں نے 1964 میں حکومت ہند سے استدعا کی، کہ وہ ریاست میں پریس کے قوانین لاگو کرے۔ چنانچہ 1966 میں ریاست پر مرکزی پریس ایکٹ لاگو ہوا۔ اس کے نتیجے میں ریاست میں کئی لوگ اخبار نویسی کی جانب مائل ہوئے۔ 1964 کو ہفت روزہ’ محافظ‘ ہفت روزہ ’کارواں‘ ہفت روزہ ’آئینہ‘ اور ’میزان‘ جاری ہوئے۔ ان اخبارات میں ’آئینہ‘ تیزی سے ترقی کے مراحل طے کرتا گیا۔ ’آئینہ‘ شمیم احمد شمیم کی ادارت میں نکلتا رہا۔ اس نے صحافت میں ا یک نیا معیار قائم کیا۔ شمیم احمد شمیم ایک بے باک اور حق پسند صحافی تھے۔ انھوں نے سیاسی بے ایمانیوں اور سماجی مسائل پر زور دار ایڈیٹوریل لکھے۔ ’آئینہ‘ کا ہر شمارہ سیاسی دنیا میں ہلچل پیدا کرتا تھا۔
اس کے بعد طاہر مضطر نے ہفت روزہ ’آہنگ‘ اور ’سلسبیل‘ غیاث الدین نے ’چنار‘ غلام محی الدین نے ’رہبر‘ عبدالستار رنجور نے ’ہمارا کشمیر‘ محمد فاروق رحمانی نے ہفت روزہ ’چٹان‘ قاری سیف الدین نے ’اذان‘ شفیع سمنانی نے ’زمیندار‘ صوفی غلام محمد نے ہفت روزہ ’نوائے کشمیر‘ نکالا۔ غلام نبی خیال کا ’اقبال‘ عبدالرحمن آزاد کا ’سرچشمۂ حیات‘ طاہر ہمدانی کا ’نیا دور‘ بلال نازکی کا ’الغفران‘ قابل ذکر ہیں۔
1967 میں ’سری نگر ٹائمز‘ کو صوفی غلام محمد نے جاری کیا۔ ’سری نگر ٹائمز‘ عوام میں بے حد مقبول ہے۔ اس میں بشیر احمد بشیر کا کارٹون شامل ہوتا ہے، جو سیاسی اور سماجی بے ضابطگیوں پر طنز کا کام کرتا ہے۔ 1970 کے بعد جو مشہور اخبار سامنے آئے ان میں ’انڈین ٹائمز‘، ’سری نگر ایکسپریس‘ اور مارننگ ٹائمز، کرم ویر، تقویم ، کوہستان، صداقت، انقلاب اور لالہ رخ قابل ذکر ہیں۔ جہاں تک ادبی ماہناموں کا تعلق ہے، اس میں کشمیری اور اردو میں نکلنے والا ماہنامہ گلریز، وکیل، جھرنا، کینواس، ادبیات، دھنک، العطش، ہما وغیرہ قابل ذکر ہیں، شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی سے خبرنامہ کے علاوہ رسالہ ادبیات، بازیافت اور نیا شعور شائع ہوتے رہے۔ کالجوں سے پرتاپ، لالہ رخ، زون اور پمپوش نکلتے رہے۔ اکادمی سے سال کی بہترین نگارشات کا انتخاب ہمارا ادب چھپتا رہا۔
گزشتہ تیس برسوں میں ریاست میں اردو صحافت نے حیران کن ترقی کی ہے اور متعدد روزنامے، ہفت روزہ اور ماہنامے معرض وجود میں آئے۔ اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ ریاست میں تعلیم کے پھیلاؤ نے لوگوں کو اخبار بینی کی طرف مائل کیا۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ کئی نوجوانوں نے صحافت کو روزگار کا وسیلہ بنایا۔ چنانچہ اخبارات کی ایک کثیر تعدا د سامنے آنے لگی۔ ان میں اہم اخباروں کی تفصیل درج ذیل ہیں:
ہفت روزہ            پیام کشمیر محمد فاروق بڈھو
ہفت روزہ            نقشبند     ابوالقاسم
ہفت روزہ            کشمیر سماچار           نورمحمد
ہفت روزہ            کینواس   محمد یوسف
ہفت روزہ            سری نگرنیوز         معراج الدین
ہفت روزہ            تسکین    مقبول حسین کاظمی
ہفت روزہ            کوہ ہمالیہ  مدن سنگھ
ہفت روزہ            آواز جموں           موہن لال
ہفت روزہ            صدائے کشمیر        طاہر ہمدانی
ہفت روزہ            نیا ولولہ   محمد یوسف میر
ہفت روزہ            برگِ سبز شیخ غلام نبی
ہفت روزہ            دبستان   امداد ساقی
ہفت روزہ            سلطان الاولیا        مفتی جلال الدین
1980 کے بعد اخبارات کی اشاعت کا سلسلہ زور و شور سے جاری رہا۔ چنانچہ پتامبر ناتھ درفانی نے نئی نظر، نئے زاویے، شش ناگ، آتش چنار، تجلی، غلام نبی بلدیو، اپنا پرچم، سیف الدین سوز، دادی کی آواز، غلام نبی شیدا، کشمیر نما، غلام نبی لون آفاق، محمد یوسف قادری، ہفت روزہ ’چٹان‘ منظرعام پر آئے۔ ان کے علاوہ ماہنامہ توحید، سرکتا آنچل، اولیا، ظہور اسلام جیسے رسالے سامنے آئے۔ آج کل الصفا، ندائے مشرق، عقاب، آفاق، صبح کشمیر، سری نگر نیوز جیسے اخبارات صحافتی تقاضوں کو پورا کررہے ہیں۔
بہرحال کشمیر میں اردو صحافت اپنی کم عمری کے باوجود اپنے پھیلاؤاور رنگارنگی کا احساس دلاتی ہے۔ یوں تو انیسویں صدی کے اواخر سے ہی اردو صحافت کا آغاز ہوا ہے۔ لیکن دراصل باقاعدگی سے اس کی شروعات موجودہ صدی میں ہوتی ہے اور یہ برابر ملک میں اردو صحافت کے شانہ بہ شانہ پیش قدمی کررہی ہے، اور آج اردو صحافت اپنی اہمیت منوا چکی ہے۔ یہ ضرور ہے کہ اب اردو اخبار لیتھو سے نجات پاکر آفسیٹ پرچھپ رہے ہیں اور مدیروں کو ادارتی ذمے داریوں کا احساس بڑھ رہا ہے۔ اخباروں میں اب رنگارنگ فیچرس، تبصرے، طنزیہ اور مزاحیہ کالم، نظمیں، ادب پارے نمایاں جگہ پاتے ہیں۔ اخباروں میں کارٹون بھی شامل کیے جاتے ہیں۔ طباعت کی جدید سہولیات سے فائدہ اٹھا کر مدیران اخبارات اخباروں کے گٹ اَپ، سجاوٹ اور رنگارنگی میں اضافہ کررہے ہیں اور امید کی جاسکتی ہے کہ اخبارات، ریاست میں تیزی سے ترقی کے منازل طے کریں گے۔ تاہم بعض ایسے امور بھی ہیں جو اخبارات کا معیار بلند کرنے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ ان میں ایک حد سے بڑھتی ہوئی کاروباریت بھی ہے۔ اخبار نویس زیادہ سے زیادہ اشتہارات چھاپنے کی فکر میں رہتے ہیں اور آج کل اخبار اشتہارات کا پلندہ ہوتے جارہے ہیں۔ تقریباً سارے روزنامے اشتہارات کی دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لینا چاہتے ہیں۔ اس سے اخبارات کا معیار گھٹتا جارہا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اخبارات زیادہ سے زیادہ آئے دن کے سیاسی واقعات کی رپورٹنگ پر بھی ساری توجہ مبذول کرتے ہیں اور ملک یا ریاست کی قدیم ثقافتی میراث، ادبی روایات، مذہبی خیالات، سماجی ضروریات سے چشم پوشی کرتے ہیں۔
اس طرح سے اخبارات اپنے فرائض منصبی سے کوتاہی برتنے کے مرتکب ہوجاتے ہیں۔ اس بات کی طرف بھی خاطرخواہ توجہ نہیں دی جارہی ہے کہ اخباروں کے صفحات کا ایک حصہ نئی نسلوں کے مسائل کے لیے وقف کیا جاتا۔ قوم کا سرمایہ اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ چنانچہ ماہرین تعلیم سیاست دانوں اور سماجی علوم کے ماہرین کے ساتھ ساتھ صحافیوں پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ قوم کے مستقبل یعنی نئی نسلوں کی ذہنی تربیت کی طرف توجہ دیں۔
کتابیات
.1        جموں و کشمیر میں اردو صحافت: صوفی محی الدین
.2         کشمیر میں اردو صحافت: رشید تاثیر (شیرازہ جلد 27، شمارہ5)
.3         جموں و کشمیر میں اردو صحافت: منظور احمد بابا (شیرازہ جلد 24، شمارہ 2)
.4         جموں و کشمیر میں اردو صحافت: ڈاکٹر برج پریمی (کشمیر کے مضامین)
.5         اردو صحافت اور عصری تقاضے: ڈاکٹر مصطفی کمال (فصیل)
.6         کشمیر میں اردو: ڈاکٹر عبدالقادر سروری (جلد 1، 2، 3)


Prof. Arifa Bushra 
(Dept. of Urdu)
( Kashmir University, (J&K)




ماہنامہ اردو دنیا،جنوری 2016



قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے






بدھ، 26 جون، 2019

سید احمد حسین امجد حیدرآبادی :شخصیت اور شاعری مضمون نگار: خدیجہ زبیر احمد



سید احمد حسین امجد حیدرآبادی

شخصیت اور شاعری


خدیجہ زبیر احمد 

شخصیت

رب العالمین نے اس رنگ و نور کی دنیا میں ہنستی مسکراتی خوشی اور غم کو سمیٹے ایک عظیم ہستی کا وجود رکھا ہے جس کا کوئی نعم البدل کہیں بھی نہیں ہے۔ وہ سراپا محبت اور شفقت ہے۔ بے غرض اور بے لوث ممتا کا خزانہ ہے۔ ایسی ہی ایک پیاری ماں صوفیہ بی بی تھیں جن کے شوہر کا نام صوفی سید رحیم علی یا (سید رحیم حسین) تھا۔ یہ صوفی رحیم علی کی چوتھی بیوی تھیں۔ تینوں بیویاں اور ان سے کوئی بیس اولاد ہوئی تھیں جبکہ سب کی وفات ہوگئی۔ صوفیہ بی بی کے بھی دو یا تین نومولود بچوں کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کرنے کے بعد اس ننھے وجود نے ماں کی گود میں کھل کر انھیں خوش کیا۔ قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ سید احمد حسین صرف چالیس دن کے تھے کہ فجر کی نمازسے واپسی پر فالج کے شدید حملے سے سید رحیم علی کی وفات ہوگئی۔
ماں نے غربت اورتنگ دستی کے باوجود پوری لگن اور بلند حوصلے کے ساتھ پرورش کی وہ خود پڑھی لکھی نہیں تھیں مگر ان کی شدید دلی خواہش تھی کہ وہ بیٹے کو اعلیٰ تعلیم اور تربیت دیں۔
کتاب کھول کر وہ ہر حرف پر بھرپور اعتماد کے ساتھ انگلی رکھا کرتیں کہ بیٹے کو طویل عرصے تک پتہ ہی نہ چلا کہ اماں کو تو پڑھنا لکھنا آتا ہی نہ تھا۔سید احمد حسین بے حد ذہین تھے مگر شرارت میں دل لگا رہتا۔ کبھی کتاب اِدھر اُدھر چھپا دی۔ کبھی پالتو بکری کو اوراق گھاس کے ساتھ کھلا دیے۔ کبھی بیماری کا بہانہ کرکے بستر میں گھس گئے۔ غرض یوں ہی وہ آٹھویں جماعت میں آگئے۔
بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ نئے دوست بھی بن گئے۔ ان ہی دوست احباب کے ساتھ زیادہ وقت گزرنے لگا۔ گلیوں میں گھومنا پھرنا بھی محبوب مشغلہ بن گیا۔ رات دیر ہوتی تو کسی نہ کسی دوست کے گھر سوجایا کرتے۔ اماں فکرمند رات بھر جاگ کر بیٹے کی سلامتی، بہتری کے لیے دعا گو ہوتیں۔ خدا کے حضور ہمیشہ سید احمد حسین کو اچھا اور نیک انسان بنانے کی دعا کیا کرتیں۔
پھر ایک بار یوں ہوا کہ سید احمد حسین شام سے کسی دوستوں کی محفل میں مگن تھے اور رات گئے تھک کر وہیں سو گئے، رات کے آخری پہر کوئی تین بجے گیٹ پر کوئی آہستہ دستک اور سید احمد حسین کو آواز بھی دے رہاتھا۔ خدا کا کرنا دیکھیے آواز پر احمد حسین کی آنکھ کھل گئی، پریشان ہوکر گیٹ پر آگئے۔ انھوں نے دیکھا کہ چادر میں لپٹی ان کی والدہ محترمہ کھڑی ہیں۔
تعجب سے پوچھا: اماں اس طرح آدھی رات کو تم یہاں کیوں آگئی ہو؟
ماں کی ممتا، ماں کی بے لوث محبت تو دیکھیے وہ کہنے لگیں۔ بیٹا شام کو رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا ہے۔ آج پہلی سحری ہے۔ صبح تم کو پتہ چلتا، تم تو بغیر سحری روزہ رکھ لیتے یہ میں کیسے برداشت کرتی۔ بس یہ تمھارے لیے کھانا لے کر آئی ہوں۔ سید احمد حسین شرم و غیرت سے نڈھال ہوگئے۔ اماں سے لپٹ کر خوب ہی روئے۔ اپنی نادان حرکتوں کی معافی مانگی اور پھر وعدہ کیا یوں کبھی بھی گھر سے باہر نہیں رہوں گا!!
یہ واقعہ زندگی کے راستے کو تبدیل کرنے کا بہترین موڑ تھا۔ سید احمد حسین کی پیدائش حیدرآباد دکن میں 1303ھ میں ہوئی ہے۔ والد کا نام سید رحیم علی یا سید رحیم حسین ہے جن کا تعلق اورنگ آباد یا میرٹھ سے تھا جس کا علم خود سید احمد حسین کو بھی نہیں تھا۔ والدہ حیدرآباد کی تھیں۔
قریبی رشتے دار کوئی نہ تھا۔ صوفیہ بی بی نے تنہا چالیس دن کے یتیم معصوم کی بے مثال پرورش کی ہے۔
سید احمد حسین گھر سے بستہ لے کر مدرسہ روانہ ہوئے مگر مدرسہ کے بجائے پارک میں باغوں میں اِدھر اُدھر دوستوں کے ساتھ آوارہ گردی کرکے شام کو گھر واپس آتے۔ محبت کی ماری اماں کو آخر ایک دن پتہ چل گیا۔ مارپیٹ سے بھی ہاتھ روک لیا مگر دعا کے لیے ہمیشہ ہاتھ پھیلائے رہیں۔ ایک دن پالکی میں سوار کوئی امیر گزر رہے تھے۔ پالکی کے ساتھ ایک آدمی دوڑ رہا تھا۔ ماں نے یہ نظارہ انھیں بتایا اور پوچھا بتاؤ تم کو کون پسند ہے؟؟ جھٹ سے انھوں نے جواب دیا ”پالکی سوار“ ماں نے کہا۔ ایسی زندگی تو بغیر علم کے کسی کو نصیب نہیں ہوسکتی۔ تم جو چاہو تمھارا اختیار ہے۔ اس بات سے وہ سہم گئے اور اسی وقت آوارہ گردی سے توبہ کی ۔ اس واقعے کے ساتھ یہ اشعار بھی انھوں نے تحریر کیے ہیں
دل پہ لگی جا کے ہتھوڑے کی طرح
کہنے کو ظاہر میں وہ اک بات تھی
کردیا دم بھر میں اِدھر سے اُدھر
بات تھی یا کوئی کرامات تھی
کلمۂ توحید بھی اک بات تھی
حلق کو جو زیر و زبر کرگئی
رکھ دیا سرکش نے دل بھی سجدے میں سر
بات تھی سچ دل میں اثر کرگئی
مدرسہ نظامیہ اور مدرسہ دارالعلوم میں اپنی تعلیم کی تکمیل کی۔ پھر پنجاب یونیورسٹی کے امتحان منشی فاضل میں کامیابی حاصل کی۔ پھر محترم استاد فلسفہ سید نادر الدین کے شاگرد رشید رہے۔ یوں تعلیم مکمل ہوئی۔
چودہ سال کی عمر سے سید احمد حسین نے شاعری کی ابتدا کی۔ کچھ عرصہ حبیب کستوری اور حضرت ترکی کو اپنا بتایا کرتے۔ حضرت امجد فطری شاعر تھے انھیں پھر کسی استاد کی ضرورت نہ رہی۔
شاعری
عبادت گزار، نیک اور غم زدہ ماں کی بے پناہ دعائیں اور خدا کے فضل و کرم سے سید احمد حسین امجد کو راہ سیدھی مل گئی۔ احسن طریقے سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اٹھارہ برس کی عمر میں شادی بھی ہوگئی۔ ملازمت کے لیے چند ماہ شہر بنگلور میں گزارے اور زندگی کے چند تلخ اور چند بہترین تجربے بھی حاصل ہوئے۔ پھر واپس حیدرآباد آئے تو مدرسہ دارالعلوم میں بہترین اور ہر دلعزیز استاد کا درجہ مل گیا۔
شاعری کی ابتدا پندرہ برس کی عمر سے یوں ہوئی کہ مدرسہ نظامیہ کے کتب خانہ میں دیوان ناسخ پڑھنے کو مل گیا۔ اس کو وہ بار بار پڑھتے رہے اور متاثر ہوتے رہے اور پھر پہلا شعر یہ کہہ دیا
نہیں غم گرچہ دشمن ہوگیا ہے آسماں اپنا
مگر یارب نہ ہو، نامہرباں وہ مہرباں اپنا
یوں اشعار لکھنے کی راہ مل گئی۔ انھوں نے اپنا کلام پہلے حبیب کستوری کو بتایا۔ پھر ترکی سے اصلاح بھی لی مگر خداداد صلاحیت بے پناہ تھی۔ رباعیات امجد کا حصہ اوّل طالب علمی کے دور میں شائع ہوئی اور مقبول عام کا درجہ مل گیا۔
مولانا الطاف حسین حالی نے جب ان رباعیات کا مطالعہ کیا تو بے اختیار کلام امجد کی توصیف و تعریف کی۔ علامہ اقبال نے بھی کلام امجد کو بے حد سراہا اور دل کھول کر مدح سرائی کی۔ عرض یہ کہ کلامِ امجد کی ہر طرف شہرت پھیل چکی تھی۔ جب لوگ نوعمر سید احمد حسین امجد کو دیکھتے تو حیران رہ جاتے کہ اس نوجوان کی یہ لاجواب باکمال شاعری ہے۔ تعریف بے پناہ ہونے لگی۔
زندگی پرسکون تھی کہ وہ ہولناک حادثہ پیش آیا۔ ستمبر 1908 طغیانی اود موسیٰ۔ ہزاروں جانوں کی اندوہ ناک تباہی بے شمار گھروں کے نام و نشان مٹ گئے اور حضرت امجد نے پیاری ماں، بیوی اور ننھی سی بیٹی کو شوریدہ سر دریا کی بے رحم لہروں میں غرق ہوتے ہوئے بے بسی کے ساتھ دیکھا۔
اس عظیم تباہی کی جو نثر اور نظم انھوں نے لکھی ہے اگر کوئی پڑھ لے تو قاری بھی اس سیلاب کے ساتھ ڈوبنے لگتا ہے۔ آج تو ہم TV پر ایسی بھیانک تباہی کے بے شمار دل شکستہ مناظر دیکھ کر غم زدہ ہوجاتے ہیں۔ سو برس پرانی اس اندوہناک تباہی کی داستانِ الم چاہے جتنی دفعہ اس کو پڑھیے یوں لگتا ہے کہ آپ بھی اس سیلاب کے ساتھ رواں ہیں اور جانے انجانے آنسوؤں کا سیلاب آنکھوں سے رواں ہوجاتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہم بھی وہیں موجود تھے۔ اس دردناک تباہی میں حضرت امجد کی جان بچ گئی اور اس کی تفصیل پڑھنے کے لائق ہے کہ ماں بیوی اور بیٹی کو نظروں کے سامنے ظالم لہروں میں ڈوبتے ہوئے دیکھا تو لمحے بھر کو انھیں خیال آیا کہ نہ جانے میری لاش کسی کنارے جا لگے اور جیب میں پاکٹ تھی جس میں روپے تھے انھوں نے شدید نفرت کے ساتھ دریا کی سرکش لہروں کے ساتھ اچھال دی اور کہتے ہیں کہ بچانے والے پروردگار نے اس لمحے ان خوفناک اور تیز و تند بہنے والی لہروں سے حضرت امجد کو اچھال کر کمزور اور سست رفتار بہنے والے دھار میں ڈال دیا جو کہ وکٹوریہ ہسپتال کی دیواروں سے ٹکرا کر گزر رہی تھی۔ ہسپتال کی بیمار خواتین نے وہاں کئی قیمتی جانیں بچائیں۔ ان کے الفاظ اس لمحے کے لیے یوں ہیں ”دریا نے روپیہ لے کر جان چھوڑ دی خدا کرے ملک الموت جان لے کر ایمان چھوڑ دے...!“
اس تباہی کے طویل مرثیہ کے یہ اشعار ان کے شدید دکھ درد کے ترجمان ہیں  
کس وقت دلِ غم زدہ مغموم نہیں
رونے دھونے کی کس گھڑی دھوم نہیں
قبر مادر تو خیر بن ہی نہ سکی
لیکن گور پدر بھی معلوم نہیں
شہر حیدرآباد کی ایک مشہور ہستی سید محمد صابر حسینی اور ان کے تمام افراد خاندان نے ہر طریقے سے انھیں اس غم کو برداشت کرنے کے لیے سہارا دیا۔ ان کے استاد گرامی سید نادرالدین نے ہاتھ سر پر رکھا او رپھر چند سال بعد اپنی بڑی صاحبزادی محترمہ جمال النساء(جن کی عمر تیرہ برس تھی) سے عقد کروایا۔
سید نادرالدین ایک بلند پایہ عالم و بزرگ تھے۔ انھوں نے اپنی بیٹی کی تعلیم و تربیت پر بطور خاص توجہ دی تھی اور وہ بھی ایک اعلیٰ صفات کی مالک تھیں۔ شادی کے بعد حضرت امجد نے اس نیک ہستی کو نیا نام سلمیٰ دیا۔ اس شادی کے ایک سال بعد ہی محترم سید نادرالدین کی وفات ہوگئی پھر سلمیٰ کی والدہ اور چار بہنوں کی تمام تر ذمے داری حضرت امجد کی تھی جو انھوں نے خدا کے سہارے بخوبی انجام دی۔
یوں تو حضرت امجد پندرہ سال کی عمر سے شاعری کررہے تھے اور عزت بھی حاصل ہوگئی تھی۔ سیلاب اود موسیٰ میں ابتدائی کلام دریا کی لہروں میں غرق ہوگیا مگر حضرت امجد کہتے ہیں کہ وہ کلام سارا کا سارا غزلیات پر مشتمل تھا جن کے غرق ہونے کا انھیں افسوس نہیں۔
حضرت امجد کے کلام میں صوفیانہ رنگ اور زندگی میں جو تبدیلی آئی وہ محترمہ جمال النساءسلمیٰ سے شادی کے بعد شروع ہوئی۔ محترمہ سلمیٰ ایک مکمل پارسا نیک اور خدا کی برگزیدہ ہستی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا۔
حضرت امجد اپنی بے رونق اور اداس زندگی میں یوں سوچا کرتے
اس نام کی زندگی میں کچھ جان تو ہو
گر بن نہ سکے فرشتہ انسان تو ہو
نیکی نہ ہوئی نہ ہو، بدی بھی تو نہ کر
صوفی نہ ہوا  نہ ہو، مسلمان تو ہو
اور زندگی کے دشوار اور کٹھن راستہ کا ساتھی جب خدا نے سلمیٰ کے روپ میں انھیں عطا کیا تو حضرت امجد کی زندگی میں انقلاب آگیا۔
ایک عالم بے خودی ایک انجانی کیفیت میں وہ رباعی کہنے لگے۔ یہ خدا کا بیش بہا عطیہ الہامی شاعری سے انھیں نوازا گیا۔ سب سے پہلی رباعی یہ ہے
ہر ذرّے پہ فضل کبریا ہوتا ہے
ایک چشم زدن میں کیا سے کیا ہوتا ہے
اصنام دبی زبان سے یہ کہتے ہیں
وہ چاہے تو پتھر بھی خدا ہوتا ہے
(ان ربک لذو فضل علی الناس ولکن اکثرہم لایشکرون)
وہ اپنی الہامی شاعری کو استاد محترم سید نادر علی کی دعاؤں کا اثر بتاتے ہیں اور سلمیٰ کے لیے یوں کہتے ہیں خدا اور اس کے رسول کی محبت کے آثار سلمیٰ کے ہر انداز و اطوار سے ظاہر ہونے لگے، سلمیٰ کی گفتگو ہر بات، ہر مسئلہ پر ایسی حیرت خوب ہوتی کہ وہ خود حیران رہ جاتے۔ مزید یوں کہتے ہیں ہم سلمیٰ کو اکسا اکسا کر پوچھا کرتے کہ وہ مسئلہ چاہے مادیت ہو یا روحانیت بہترین جواب دلائل کے ساتھ مل جاتا۔
جمال النساءسلمیٰ سے دو بچے اس عالم میں پیدا ہوئے مگر جلد ہی فوت ہوگئے اور جب تیسری مرتبہ حاملہ ہوئیں تو یہ دونوں کا حج و زیارت کا بلاوا آگیا۔ سفرنامہ حج بھی اور وہاں کے واقعات پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ حج سے واپسی کے تقریباً دو ماہ بعد ایک حسین و جمیل بیٹے کی پیدائش ہوئی مگر تقدیر کے رنگ بھی نرالے ہیں وہ ننھا معصوم صرف چند روز کے لیے اس دنیا کی رونق لیے آیا تھا۔ بچہ کی وفات کے صرف چند روز بعد 22 ربیع الاوّل 1347 کو نوجوان سلمیٰ بھی اپنے رب کے حضور لبیک اللہم لبیک کہتی ہوئی اس دنیا سے 33 سال کی عمرمیں رخصت ہوئیں۔ وہ حضرت امجد صاحب کہا کرتی تھیں۔ وفات سلمیٰ پر وہ کہتے ہیں 
تونے بے موت مجھ کو مارا
مرنے والے ترا بھلا ہو
دل ہو گیا خون، خون پانی
اب دیکھیے آگے اور کیا ہو
تم اور مجھے چھوڑ دو غضب ہے
ناخن اور گوشت سے جدا ہو
میری نظروں سے چھپ گئے کیوں
کب میں نے کہا کہ تم خدا ہو
اور پھر یوں بھی کہا ہے کہ ہزار داستان ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔ اس کی روح دنیوی آلائشوں سے پاک ہوکر وسیع کائنات کی ہم وسعت ہوگی۔ وہ سیاہ خاک دان سے نکل کر ایک روشن اور پرنور ستارہ بن گئی جس کے گرد نور حاصل کرنے کو سیارے چکر لگاتے ہیں۔
کافی سال بعد دوست احباب کے اصرار پر حضرت امجد نے تیسری شادی کی اور کہتے ہیں کہ عادات و اطوار نہ سہی مگر اس خاتون کی شکل و صورت جمال النساءسلمیٰ سے بے حد مشابہت رکھتی ہے۔
رباعیات امجد کے تین حصے ہیں۔ اردو اور فارسی۔ انھیں بے مثال کلام پر حکیم الشعرا، صاحب رباعیات اور شہنشاہِ رباعیات کے خطابات ملے۔ ساری کی ساری رباعیات الہامی ہیں اور قرآنی آیات کی ترجمان ہیں  
اَلَیسَ اللّٰہُ بِکاف عبدہ
ہر چیز مسبب سبب سے مانگو
منت سے خوشامد سے ادب سے مانگو
کیوں غیر کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہو
بندے ہو اگر رب کے تو رب سے مانگو
اَعطٰی کُلُّ شَیءٍخُلَقہ ثُمَّ ھُدٰی
پابند خیال میری تقریر رہی
آزادی پہ بھی پاؤں میں زنجیر رہی
تھا جتنا خدا کا حکم کوششیں کر لی
تدبیر بھی وابستہ تقدیر رہی
اَشہَدُ اَنَّ مُحَمد رسولَ اللّٰہ
طیبہ ہی کو اب کعبہ مقصد کہیے
دہلیز نبی کو سنگ اسود کہیے
گر حمد خدا کا حق ادا کرنا ہے
دل سے اک بار یا محمد کہیے
اللّٰہُ اکبر اللّٰہُ اَکبَرُ
ہر محفل سے بحالِ خستہ نکلا
ہر بزمِ طرب سے دل شکستہ نکلا
منزل ہی نہیں یہاں مسافر کے لیے
سمجھا تھا جسے مقام رستہ نکلا
مَا خَلقت ہٰذا بَاطِلا
اس جسم کی کیچلی میں اک ناگ بھی ہے
آوازِ شکستہ دل میں اک راگ بھی ہے
بے کار نہیں بنا ہے اک تنکا بھی
خاموش دیاسلائی میں آگ بھی ہے
لَا تَاسَو علی کُافاتکُم
ہر چیز کا کھونا بھی بڑی دولت ہے
بے فکری سے سونا بھی بڑی دولت ہے
افلاس نے سخت موت آساں کردی
دولت کا نہ ہونا بھی بڑی دولت ہے
ہُوَاللَّطِیف الخَبیر
کیا جانیے وہ نور تھا یا سایا تھا
شعلہ سا کسی نے دل میں بھڑکایا تھا
آیا کس وقت یہ تو معلوم نہیں
جاتے ہوئے کہتا ہے کہ میں آیا تھا
اِلٰی رَبِّک مُنتَہاہا
تقدیر سے کیا گلہ خدا کی مرضی
جو کچھ بھی ہوا، ہوا خدا کی مرضی
امجد! ہر بات میں کہاں تک کیوں کیوں
ہر کیوں کی ہے انتہا خدا کی مرضی
شاعری
ہر مرتبہ آئینۂ دل دھلتا ہے
کانٹا کانٹا نگاہ میں تُلتا ہے
میں شاعری کو مراقبہ کیوں نہ کروں
ہر فکر میں بابِ معرفت کھلتا ہے
موت
عزت مطلوب ہو تو مر جائے گا
راحت مطلوب ہو تو مرجائے گا
اس مردہ پرست دور میں اے امجد
شہرت مطلوب ہو تو مرجائے گا
دعائے امجد
لو تجھ سے لگائے میرا ملنے والا
عالم کو بھلائے میرا ملنا والا
مولا میرے ہر دوست کو اپنا کرلے
مجھ سے مل جائے میرا ملنے والا
یہ مختصراً انتخاب ’رباعیاتِ امجد‘ سے میں نے تحریر کیا ہے۔
ریاض امجد، حصہ اول اور دوم خرقہ امجد:
یہ حمد و نعت اور تصوف پر نظموں اور غزلوں کا مجموعہ ہے ہر ایک شعر اپنی مثال آپ ہے۔
خرقہ امجد بھی تصوفانہ کلام ہے جس کو علامہ اقبال نے بے حد سراہا ہے۔
رباعیات امجد کے بعد چند حمد اور نعت کے اشعار پڑھیے
یوں تو کیا کیا نظر نہیں آتا
کوئی تم سا نظر نہیں آتا
جھولیاں سب کی بھرتی جاتی ہیں
دینے والا نظر نہیں آتا
زیر سایہ ہوں ان کے میں امجد
جن کا سایہ نظر نہیں آتا

کس چیز کی کمی ہے مولا تری گلی میں
دنیا تری گلی میں عقبیٰ تری گلی میں
موت اور حیات میری دونوں ترے لیے ہیں
مرنا تری گلی میں جینا تری گلی میں
امجد کو آج تک ہم ادنیٰ سمجھ رہے تھے
لیکن مقام اس کا دیکھا تری گلی میں

دوری سے تری تھک کر جی اپنا نہ ہاروں گا
افلاک کی چوٹی سے تاروں کو اتاروں گا
بگڑی ہوئی قسمت کو رو رو کے سنواروں گا
سو مرتبہ چیخوں گا سو بار پکاروں گا
دے اے مرے مولا دے دے اے میرے داتا دے
حضرت امجد کی لاجواب الہامی شاعری پر میری یہ تحریر نہایت مختصر ہے کہ ایک وسیع دریا کو کوزے میں بند کردیا ہے۔ رباعیات اور کچھ کلام میں نے ان کی کتابوں سے دیکھ کر لکھا ہے اور کچھ اشعار میرے ذہن کے اوراق پر نقش تھے جس طرح یہ الہامی شاعری بلند پایہ و بے مثال ہے اسی طرح نثرنگاری بھی نہایت متاثر کن اور دلکش انداز تحریر کا مجموعہ ہے۔
(ماخذ: ساحل یو کے، اکتوبر 2013)

Khadija Zubair Ahmed
2 Apple Craft, Cox Green
Maidenhead, Berkshire
SL6 3HD UK



ماہنامہ اردو دنیا،مئی 2019



قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے