جمعرات، 12 جنوری، 2017

اتساہتِ بیکل : امتیاز رومی


اتساہتِ بیکل

اتساہ سے لبریز بیکل نے جب ’نغمہ و ترنم‘ کا راگ الاپا اورکومل مکھڑے نے بیکل گیت سنائے تب گاؤں کے باسیوں کو یقین ہوگیا کہ ”اپنی دھرتی چاند کا درپن“ ہے۔ ’لہکے بگیا مہکے گیت‘کے ذریعے انھوں نے ہندی میں ’وجے بگل‘ بجایا۔ ”مٹی، ریت اور چٹان‘ سے اپنی شاعری کا خمیر تیار کرنے والے بیکل نے ’رنگ ہزاروں خوشبو ایک ‘سے اردو شاعری کو معطر کردیا۔ جب ’پروائیاں‘ چلیں تو اس کی سوندھی سوندھی خوشبوکھیتوں اورکھلیانوں میں تحلیل ہوکر ’موتی اگے دھان کے کھیت‘کی صورت میں دیہات کو نایاب تحفہ دے گئی۔توشۂ عقبیٰ، تحفۂ بطحا،      نغمۂ بیکل، موجِ تسنیم، جام ِگل، نشاط ِزندگی اور نور کی برکھا وغیرہ ان کے اخروی سرمائے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ بیکل نے دین و دنیا میں بیک وقت سرخروئی حاصل کی۔ تاہم ان کی بدنصیبی یہ رہی کہ ان کے جیتے جی ناقدین نے ان پر توجہ نہ دی۔ نیز وہ اس کے خواہاں بھی نہیں رہے۔  نام ونمود اور ادبی سیاست سے کوسوں دور رہے۔ ”میں توایک کسان ہوں۔ محنت اور لگن سے ادب کی دھرتی پر کشت قلم سے شعری فصل اگاتارہاہوں، یہ کبھی بھی نہیں سوچاکہ بازار ِنقد وتبصرہ میں کس بھاؤ میری گاڑھی کمائی جائے گی“1 خیر غالب جیسا عظیم شاعر بھی اپنی زندگی میں اس سے محروم رہا۔  لمبے عرصے تک نظیر اکبرآبادی کو تو قابل التفات ہی نہیں گرداناگیالیکن جب وقت کا غبار ہٹا تو یہ دونوں شاعری کی دنیا  میں موضوعاتی واسلوبیاتی سرخیل ٹھہرے۔

لودھی محمد شفیع خان 1928 کو  رمواپور، اترولہ تحصیل ضلع بلرام پورکے ایک زمین دار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام لودھی محمد جعفرخان اوروالدہ کابسم اللہ بی بی تھا۔ بچپن سے ہی شعر وشاعری سے شغف تھا۔ سوشلسٹ تحریک سے جڑنے کی پاداش میں انھیں جیل بھی جانا پڑا۔ محمد شفیع خان 1945 میں جب وارث پیا کی درگاہ  دیوا  گئے توشاہ حافظ پیارے میاں نے کہا ”بیدم گیا، بیکل آیا“ اسی وقت سے انھوں نے خود کو بیکل وارثی سے موسوم کرلیا۔  1952کوگونڈہ میں ایک انتخابی پروگرام ہوا جس میں جواہر لعل نہرونے شرکت کی تھی۔ اس موقع پر بیکل وارثی نے اپنی نظم ’کسان بھارت کا‘ پیش کی تو نہرو جی نے کہا ”یہ ہمارا اُتساہی شاعر ہے“۔ اس کے بعد سے ہی وہ بیکل ’اتساہی‘ ہوگئے۔ نہروجی کا کہاصد فی صدصحیح نکلا۔ ملک و ملت کے تئیں جو ان کا اتساہ اور جذبہ تھا ،وہ مرتے دم تک قائم رہا۔ 1976 میں بیکل اتساہی پدم شری ہوگئے۔  1986 میں کانگریس نے ان کی خدمات کودیکھتے ہوئے انھیں راجیہ سبھا کی رکنیت دی۔  2015 میں انھیں یوپی کے سب سے بڑےایوارڈ ’یش بھارتی‘سے نوازاگیا۔ 3؍دسمبر 2016 کو بیکل اتساہی نے سب کو بیکل چھوڑدیا۔

بیکل ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔گنگاجمنی تہذیب کے روشن مینار تھے۔ وضع قطع میں صوفی مشرب اور حافظ ملت کے مرید خاص تھے۔ مذہب ومسلک کی سرحد سے بے نیاز ہندستانی تہذیب وثقافت اور ہم آہنگی کے حسین سنگم تھے۔ ان کا مزاج قلندرانہ تھا۔ دوستی سب سے تھی مگر بیر کسی سے نہ تھا۔ زمین دار گھرانے سے تعلق ہونے کے باوجود مزدوروں اورکسانوں سے حد درجہ لگاؤ تھا۔ درد مند دل سوز وگداز سے پُر تھا۔ اردو کے دو عظیم شاعر اصغر گونڈوی اور جگر مرادآبادی سے گہری وابستگی تھی۔ ان کی صحبت نے ان کے فکر وفن کو جلا ضرور بخشی تاہم وہ ان کی تقلید سے محفوظ رہے۔ آٹھویں جماعت سے  ہی جگر اور اصغرکی صحبت میسر تھی۔ 1944 میں انھوں نے اپنا پہلا کلام اصغر گونڈوی کو سنایا جس کا مطلع تھا:
نظاروں کے لیے ویرانہ جب آباد ہوتاہے                       جنوں میں اشتیاق دید بے بنیاد ہوتا ہے

بیکل اتساہی قدیم روایات کے امین اورجدید اقدار کے حامل تھے۔ تقریباً سات دہائی تک آسمانِ شعر وسخن پر جلوہ فگن رہے۔  اس دوران بے شمار غزلیں، نظمیں، نعتیں، دوہے اور گیتیں کہیں۔ ایک درجن سے زائد ان کے شعری مجموعے شائع ہوئے۔ انھوں نے اپنی طویل عمر میں اردو کی تین بڑی تحریکات ورجحانات کے وجودو عدم کو دیکھا۔ ان کے سامنے بہت سی تحریکیں عدم کو سدھار گئیں لیکن اس کے باوجود انھوں نے خود کو ان سے وابستہ کیا اور نہ ہی متاثر ہوئے۔ البتہ استفادہ ضرور کیا۔ بیکل کے ذہن وفکر نے ہمیشہ اردو کا راگ الاپا۔ اپنی شاعری کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں اس کی عظمت رفتہ بحال کرنے کی کوشش کی۔ جنگ آزادی اور قومی یک جہتی میں اردو کی شراکت کوواضح کیا:

گھرا طوفان میں جب بھی وطن، آوازدی میں نے                            ہوئی انسانیت جب بے کفن، آواز دی میں نے
میں اردو ہوں، مجھی سے عظمت فصل بہاراں ہے                             خزاں نے رخ کیا سوئے چمن، آوازدی میں نے

بیکل کے شعری سفر کے ہونٹوں پربے پناہ تجربوں کاتبسم اور کڑواہٹ نظر آتی ہے۔ چونکہ انھوں نے غلامی کی زندگی، آزادی کی جد وجہد اورپھر آزاد ہندستان کوبہت قریب سے دیکھا تھا۔ انگریزوں، زمین داروں اور ساہوکاروں کا ظلم بھی محسوس کیا تھا۔ اس لیے ان کی شاعری کسانوں، مظلوموں اور مزدوروں کا نقیب بن کر ان میں ہمت وحوصلے کا دیپ جلاتی رہی۔ جب وہ ایوان بالا میں پہنچے تو وہاں بھی ان کی فریاد رسی کی۔ بیکل نے بلاتفریق مذہب وملت کسانوں اوربے کسوں کی مسیحائی کی۔ ان کی بے جان آواز میں روح پھونک دی۔ ان کی ٹوٹی پھوٹی اوربے ہنگم آواز کو سر تال دے کرنغمۂ سرمدی بنادیا۔ اس طرح ان کی شاعری میں پورا ہندستان جاگزیں ہوگیا۔ بیکل کی شاعری میں تخیل وتفکر کے مابین ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ فن امیجری بھی منتہائے کمال پر ہے۔ اردوکے ساتھ ہندی کے سبک الفاظ اس طرح مدغم ہیں کہ ان میں ایک طرح کی شیرینی پیدا ہوگئی ہے۔ فراق گورکھپوری رقم طراز ہیں:

بیکل کے وہاں جن الفاظ کا تصرف ہے اس میں علامات کی بہتات کم اورخیال کا بہاؤ زیادہ ہے۔ ان کے فکر وفن میں کچھ اس طرح کی وابستگی ہے کہ کلام میں ہندی اور اردو کے حسین سنگم سے یکجہتی کا رنگ پھوٹ نکلا ہے۔ بیکل کی غزلوں میں بھی زندگی اور کائنات کے تمام محرکات موجود ہیں۔زندگی اورسماج کے نازک رشتوں کے بنیادی اورافادی پہلوؤں کی تفسیر ہے۔فن کے نئے معیار کی جمالیاتی اورفکری قدروں کے احساس میں جذباتی اور ذہنی عناصر کی رنگ آمیزی ہے۔ نئے عنوان، ندرت اور ہیئت کے حسین تجربوں کی فنی حیثیت کا تعین ہے۔ روایتی قدروں کے صالح عناصر کو اس رنگ سے استعمال کیا ہے کہ شعری شعور میں افادی پہلو اورتفہیم کی جلوہ گری معلوم ہوتی ہے۔ رومان اورفکر کے دونوں پہلوؤں کوآئینہ بنا کر زندگی کے خوش رنگ خاکے بنائے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ پہلے شاعر ہیں کہ جس نے فن امیجری کو صحیح طورپر معنی صرف کیا ہے۔ ابہام کو ایک نئی جہت سے روشناس کیا۔ فرسودہ طلسم کو توڑ دیا۔ تمثیلی اعجاز کا حسین راستہ تراشا، موسیقیت اورجمالیاتی پہلوؤں پر توجہ دی۔ اگر ان کا کلام رہ گزار شاداب کہاجائے تو ان کے گیت اور غزلیں رہ گزار حیات میں منزل نو کے امین بن سکتے ہیں۔“2

بیکل نے شاعری کی تمام اصناف پر طبع آزمائی کی۔ تاہم وہ بنیادی طور پر نظموں اور گیتوں کے شاعر ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان کی غزلیں بھی بہت دل کش ہیں۔ انھوں نے غزل کے حسن وعشق اور تقاضے کا لحاظ رکھتے ہوئے عصر حاضر کے مطالبات کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ زمانے کی نیرنگیوں اور نت نئے مسائل نے غزل میں حسن وعشق کے ساتھ ساتھ ان مسائل کو بھی سمونے کی کوشش کی جن سے غزل کا دائرہ وسیع ہوا۔ بیکل نے اردو غزل کی رائج لفظیات سے انحراف کرکے ایک نیا رنگ وآہنگ بخشا۔ غزل کی نازکی اور شائستگی کو برقرار رکھتے ہوئے انھوں نے زبان کی سطح پر بھی تجربہ کیا۔ عربی وفارسی الفاظ کی جگہ خالص ہندی کے سبک وشیریں الفاظ کو شعوری طور پر استعمال کیا اور انھیں ہندی تہذیب سے ہم آہنگ کرکے دوآتشہ بنادیا۔ ”بیکل صاحب نے اپنی غزلوں اورگیتوںمیں صنف غزل کی رائج لفظیات کے بجائے عوامی کہاوتوں اور لوک روایت سے لفظیات اور ترکیب کشید کی ہیں، ان کو بیکل صاحب کی انفرادیت کے طور پر دیکھاجاسکتا ہے اورخود غزل کے نئے لہجے کی پہچان کے طور پر بھی“۔3 بیکل نے غزل کو گیت کا رنگ وروپ دے کر اسے ایک دیہی حسن بخشا ہے۔ انھوں نے ہندی الفاظ کے استعمال سے اشعار میں حسن اور نغمگی دونوں پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان دونوں کو دوقالب اور ایک جان قرار دیا ہے اور اردوکے ساتھ ہورہی نا انصافی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ذیل کے اشعار دیکھیں:

ان دونوں کی ایک ہی ماں ہے دو قالب ہیں ایک ہی جاں ہے                         پھر بھی اردوکو ہندی کی   لوگ کہیں سوتیلی ہے
میری  زباں  ہر دل  کی   زباں  ہے،  کومل  کومل  حسن   بیاں  ہے                       برسوں  تک  یہ خسرو  کی     انگنائی   میں کھیلی  ہے
   اس  کا  لہجہ  چنچل  چنچل   روپ   کا  درپن   جیوت کی جھل جھل                          میری غزل کی بحر نہ دیکھو، یہ تو میر کی چیلی ہے
   آگئیں  یاد کٹھور کی بتیاں  برسے   نین   دھڑک  گئیں  چھتیاں                            پردیسی اب بھیج دے پتیاں برہن آج اکیلی ہے
                                                                            طنز  کی  تیغ  مجھی  پر سبھی  کھینچے  ہوں  گے
آپ  جب اورمرے  اور نگیچے ہوں گے

بیکل اتساہی چوں کہ گاؤں کےاس ماحول کے پروردہ ہیں جہاں کبیر، تلسی، جائسی اورنظیر اکبرآبادی کی نظمیں لوگوں کی زبان زد تھیں۔ اٹھتے بیٹھے سوتے جاگتے ان کی شاعری کانوں میں رس گھول جاتی۔ چناں چہ ان کی نظمیں، دوہے اور کویتائیں بیکل کی سائیکی کا حصہ بن گئیں، جو لاشعوری طورپر شعری سفر میں ان کے لیے مشعل راہ ثابت ہوئیں اور وہ ان ہی کی ڈگر پر چل نکلے۔ نظیر نے اردو شاعری کے موضوعات میں جو سیندھ لگائی تھی بیکل بھی اسی راہ سے اندر داخل ہوگئے۔ نظیر کے تعلق سے احتشام حسین کا یہ جملہ’’نظیر درحقیقت ایک اہم قومی شاعراورمبلغ انسانیت کے پیامبر ہیں“۔4 بیکل پر بھی ہوبہو صادق آتا ہے۔ ان دونوں نے حب الوطنی، قومی یک جہتی، ہندستانی دیومالائی اور اساطیری عناصر کو کثرت سے موضوع سخن بنایا اور اردو شاعری کو تصویر گنگ وجمن کا آئینہ دار بنایا۔ مناظر فطرت، قومی ہم آہنگی، ہولی، دیوالی، رام، کرشن، نانک وغیرہ پر ان دونوں نے خوب نظمیں کہیں۔ بیکل کی ایک نظم ’دلی‘ہے جس میں دلی کی پوری تاریخ وتہذیب سمٹ آئی ہے۔ اس کے علاوہ ہریانہ اوراترپردیش کو بھی انھوں نے اپنی نظموں میں بسادیاہے۔

ہندستان کی تہذیبی وثقافتی، سماجی اور لسانی روح تو گاؤں میں بستی ہے۔ جہاں کی صبح وشام میں مسجد کی اذانیں اور مندروں کے گھنٹے صاف سنائی دیتے ہیں۔ مختلف قسم کے رسم ورواج، گیت اور راگ راگنیا دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں۔ کھیتوں میں لہلہاتی فصلیں، باغیچوں میں تناور درخت اور ندی تالاب فطرت کی چغلی کھاتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود بہت سے شعراکو ان میں حسن نظر نہیں آتا۔ وہ ان سے نظریں چراکر نکل جاتے ہیں۔ اس کی وجہ شاید نقادوں کی سرد مہری رہی ہے۔ چوں کہ اس طرح کے موضوعات برتنے والے شعرا کو عوامی یا بازاری کہہ کر انھیں ادب میں کوئی مقام نہیں دیاجاتا۔ اس لیے شعوری طور پر وہ ان موضوعات سے صرف نظر کر لیتے ہیں۔ تاہم بیکل کی حساس طبیعت نے نام ونمودکی پرواہ کیے بغیر ان بے جان موضوعات کو از سرِ نو زندہ کرنے کا بیڑااُٹھایا۔اس کے لیے انھوں نے غزل کے علاوہ نظموں اور گیتوں کا سہارا لیا اور اردو زبان کو کسانوں، کھیتوں، کھلیانوں اور جھوپڑیوں میں بسادیا:

یہ  شہر کے باسی کیا جانیں ، کیا روپ ہے گاؤں کے پنگھٹ کا  
 کیا عشق  ہے  لاج  کی الہڑ کا، کیا حسن ہے موہ کے نٹ کھٹ کا
شرمائی   سی   ماتھے   کی   بندیا،    اٹھلائی    سی  پاؤں   کی   پائیلیا    
 السائی سی آنکھوں   میں   نیندیا، بے  سدھ  وہ  سرکنا  گھونگٹ  کا

بیکل دیہی جمالیات کے شاعر ہیں۔ جو کھیت کھلیان، رسم ورواج اور لوک کہاوتوں کو شعری پیکر میں ڈھالتے چلے جاتے ہیں۔ ان کے یہاں گاؤں کا تصور اتنا گہراہے کہ ان کی شاعری میں یہ لفظ ایک الگ حسن پیدا کردیتا ہے۔گاؤں کی کہاوتیں جیسے داہنی آنکھ کا پھڑکنا نیک شگون مانا جاتاہے، اس کو کتنی خوبصورتی سے باندھاہے:

رات بھر گاؤں دل کا سلگتا رہا، زندگی آسروں میں دہکتی رہی
 چاند  بیٹھا  منڈیروں  پہ  گلتا  رہا  چاندنی  چھپروں  سے  ٹپکتی   رہی
راہ   میں   آنے   والے    کی بیٹھی  ہوئی  عمر  کا  لمحہ  لمحہ  پگھلتا  رہا
ڈاکیہ   تار   پڑھ   کر   سناتا  رہا،  دا ہنی آنکھ بیکل پھڑکتی رہی

حد تویہ ہے کہ کھیتوں، کھلیانوں اور کسانوں کے اس شاعر پر ترقی پسند نقادوں نے بھی توجہ نہیں کی۔ حالاں کہ بقول سجاد ظہیر اور علی سردار جعفری ”ترقی پسندی کے جوکا م ترقی پسندوں کوکرنا چاہیے، وہ بیکل اتساہی نے بہت پہلے کر دکھایا۔ جس میں مزدوروں کسانوں کی آواز اردو زبان کے پرچم تلے اٹھائی ہے“5۔  ان کا منشور ہی دبے کچلے لوگوں، مزدوروں اور کسانوں کی آواز بننا تھا۔ یہ اشعار دیکھیں:
اب تو گیہوں نہ دھان بوتے  ہیں                اپنی قسمت کسان بوتے   ہیں
گاؤں  کی  کھیتیاں   اجاڑ کے ہم                    شہر   جاکر  مکان   بوتے   ہیں
فصل    تحصیل    کاٹ   لیتی  ہے                    ہم مسلسل   لگان   بوتے  ہیں

بلاشبہہ مشاعرہ اردو زبان کی توسیع کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ بستی بستی قریہ قریہ ناخواندہ عوام تک اردو زبان کی شیرینی پھیلانے میں اس کا اہم رول ہے۔ بیکل نے بھی مشاعروں کے ذریعے عوام کے دلوں میں اس کی شیرینی اور حلاوت کو رچانے بسانے کا کام کیا۔  بدلے میں انھیں مشاعرے کا شاعر قراردے کر نقادوں نے صرفِ نظر کرلیا۔ ”ان حضرات نے یہ نہیں سوچاکہ اردوزبان کی توسیع واشاعت کی ارتقائی منزلوں میں مشاعروں کوذریعہ بنا کرغیراردوداں حلقوں تک اردو کو پہنچانے میں اوراردوکا دل دادہ بنانے میں جو محنت اورمشقت کی ہے کیا کلاسیکل، جدیدیت مابعد جدیدیت، تجریدیت، ساختیات و ترقی پسند لوگوں نے یہ کام کیاہے؟“۔ 6 تاہم ان کی یہ بدنصیبی کہیے یا خوش نصیبی کہ انھوں نے خود کوادبی سیاست سے دور رکھا اورنقادوں کی خوشامد نہیں کی۔ جس کے سبب ادب میں انھیں وہ مقام نہ ملا جس کے وہ حق دار تھے۔ انھوں نے اخلاص کے ساتھ اردو زبان گاؤں کی روح میں بسایا۔ اردو شاعری کی لفظیات میں ہندی، اودھی اور برج الفاظ کا اضافہ کیا۔ ہندستانی لوک روایت سے استفادہ کرکے گیتوں کو جدید رنگ وآہنگ بخشا۔ چناں چہ یہ کہنا بجا ہے کہ انھوں نے گیتوں کے دم توڑتے ہوئے سامراج کو استحکام بخشا۔ اس حوالے سے ڈاکٹر ظ ۔انصاری لکھتے ہیں:

بیکل کی زنبیل میں اودھی اوربرج کے گیتوں کا، دوہوں اور چوپائیوں کا، بھوجپوری، پدو، کبیتاؤں کا ایسا رنگ برنگا خزانہ ہے کہ اللہ دے اوربندہ لے۔ وہ ان کی طلب میں گاؤں گاؤں نہیں پھرے، اسے پیشہ نہیں بنایا، پبلسٹی نہیں کی، یہ گیت ان کی طلب صادق دیکھ کر خود ہی آئے، زنبیل بھرتے گئے۔ بیکل غزلوں کو لوک گیتوں کی، گیت کو غزلوں کی چاشنی دے کر ایساآمیزہ تیار کرتے ہیں جوزود ہضم بھی ہواورپرکیف بھی۔7

بیکل نے اپنے مجموعے ’موتی اُگے دھان کے کھیت‘ میں اربابِ نقدونظر کے سامنے یہ سوال قائم کیاہے کہ اردو شاعری کے نصاب میں تمام اصناف سخن شامل ہیں تاہم نعت اور گیت کو اس میں شامل کیوں نہیں کیا گیا۔  حالاں کہ یہ بھی اردو شاعری کی اہم اصناف ہیں۔ چناں چہ اربابِ ادب کو اس پرغور کرنے کی ضرورت ہے۔

بیکل نے اپنی پوری زندگی اردو شاعری کی آبیاری میں گزاردی اورکسانوں کے سُر میں تال ملاکران کے اندر اتساہ پیدا کیا۔ غزل کے شہر میں گیتوں کا گاؤں بسانے، گاؤں والوں کے من میں غزل کا رس گھولنے، کھیتوں، کھلیانوں اور پگڈنڈیوں سے اردو شاعری کو آشنا کرانے اور انجمن انجمن گنگنانے والا ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا۔
بیکل  ترا   پگ پگ نام یہاں، اتساہی  ترے  سب  کام  یہاں
تری بھور یہاں تری شام یہاں پھر کاہے پھرے بھٹکا بھٹکا



حواشی
(1) بیکل اتساہی۔ مٹی، ریت، چٹان، ص 17 ہریانہ اردو اکادمی، 1992
(2)فراق گورکھپوری، مٹی ریت چٹان، ص 11,12 ہریانہ اردو اکادمی 1992
(3)پروفیسر ابوالکلام قاسمی۔مقدمہ ’موتی اُگے دھان کے کھیت‘،بیکل اتساہی، ص 10،کاک آفسیٹ پرنٹرس دہلی،2002
(4)سید احتشام حسین۔ ذوق ادب اور شعور،ص144، اترپردیش اردو اکادمی لکھنو،2014
(5) بیکل اتساہی، موتی اگے دھان کے کھیت، ص8 کاک آفسیٹ پریس دہلی 2002
(6) ایضاص7-8
(7) بیکل اتساہی، رنگ ہزاروںخوشبوایک،ص 11-12، اردواکادمی دہلی، 1989

Imteyaz Rumi, 
Room No.: 34, Mahi Hostel, JNU, 
New Delhi - 110067
Mob.: 9810945177


جمعرات، 5 جنوری، 2017

ادبی تحقیق کے تقاضے : شمس الرحمن فاروقی




     میرا  ہرگز یہ منصب نہیں کہ میں ادبی تحقیق کے موضوع پر لب کشائی کروں، اور وہ بھی محققین کے مجمعے میں، جو اس کام میں مصروف ہیں اور شاید پہلے بھی تحقیقی مقالے لکھ چکے ہیں۔  بیشک اہم اور بزرگ محققین کی کمی کے باعث قرعۂ فال مجھ دیوانے کے نام پڑ گیا ہے۔لہٰذا چند باتیں اپنی محدود استعداد کے مطابق عرض کرتا ہوں۔

            پہلی بات تو یہ کہ اردو میں جو تحقیق آج کل ہورہی ہے، یا تحقیق کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، میں اس سے مطمئن نہیں ہوں۔ میں جس زمانے میں یونیورسٹی کا طالب علم تھا، ادبیات اور دیگر انسانیاتی علوم (Humanities) کے شعبوں میں تحقیقی مقالہ نگاروں پر جو شرطیں پی ایچ ڈی کے لیے(یا الٰہ آباد یونیورسٹی میں، جہاں کا طالب علم میں تھا) ڈی فل کے لیے عائد کی جاتی تھیں،انھیں چند الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے:

1.       اپنے موضوع کے اعتبار سے نئے حقائق کی دریافت
2.       یا پھر اس موضوع کے بارے میں پہلے سے معلوم حقائق کی نئی تعبیر

         میرا خیال ہے یہ باتیں اتنی واضح ہیں کہ ان کی تفصیل بیان کرنا ضروری نہیں۔ لیکن مزید وضاحت کے لیے یہ کہنا غیر مناسب نہ ہو گا کہ ’نئے حقائق‘ سے مراد وہ حقائق ہیں جو مطبوعہ مآخذ میں نہ ملتے ہوں۔ وہ بات جو کسی مطبوعہ ماخذ میں ملتی ہو، خواہ وہ مطبوعہ ماخذ کتنا ہی کمیاب کیوں نہ ہو، اسے ڈھونڈ کر اس میں سے کوئی بات نکال لانا موجب تحسین تو ہو سکتا ہے لیکن اسے’نئے حقائق کی دریافت‘ کا درجہ نہیں دے سکتے۔اسی طرح،’پہلے سے معلوم حقائق کی نئی تعبیر‘کا مطلب یہ نہیں کہ کسی موضوع پر مختلف اقوال جمع کر دیے جائیں اور آخر میں خلاصۂ کلام کے طور کچھ اپنی بھی رائے دے دی جائے۔ ’نئی تعبیر‘کی کم سے کم شرط یہ ہے کہ وہ قابل قبول ہو، موجودہ تعبیروں کے مقابلے میں اقلیتی رائے کی حیثیت رکھتی ہو، یا پھر وہ موجود تعبیروں پر کوئی ایسا اضافہ کرتی ہو جس کی روشنی میں ان تعبیروں کی وقعت یا معنویت میں اضافہ ہو، یا پھر ان حقائق پر نئے طور سے سوچنے کی تحریک پیدا ہو۔

            واضح رہے کہ ’تعبیر‘ سے مراد ایسی تعبیر ہے جو ان حقائق کا پورا احاطہ کرتی ہو جن کی تعبیر پیش کی جارہی ہے۔ اس کی سب سے مشہور اور بالکل سامنے کی مثال غالب کی غزل ہے۔ 
نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیے
رہی    نہ  طرز   ستم  کوئی آسماں   کے لیے
اس غزل کا آٹھواں شعر ہے  ؎   
بقدر   شوق   نہیں ظرف   تنگناے   غزل
کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے

            اس شعر کی یہ تعبیر ایک زمانے میں عام تھی اور اب بھی کچھ لوگ اس کے قائل نظر آتے ہیں کہ غالب نے اس شعر میں غزل کی تنگ دامانی کی شکایت کی ہے۔ یعنی غالب جیسے شخص کو بھی شکوہ ہے کہ غزل بہت تنگ اور محدود صنف سخن ہے یا یہ کہ اس میں کوئی خرابی ہے، کوئی کمی ہے جس کی بنا پر غزل میں شاعر کو اپنی بات پوری طرح پھیلا کر کہنے کی گنجائش نہیں ملتی۔

            اس تعبیر کو درست ہونے کے لیے اولاً یہ ضروری ہے کہ یہ ان حقائق کا پورا احاطہ کرتی ہو جن کی تعبیر پیش کی گئی ہے۔ غزل کے اس شعر کی حد تک ’حقائق‘ کا پورا احاطہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ شعر کے تمام الفاظ کو مناسب اہمیت دی جائے اور ہر لفظ پر پورا غور کیا جائے اور اس کے ممکن معنی دریافت کیے جائیں۔ لہٰذا جس تعبیرکا ذکر میں نے ابھی کیا، یعنی یہ کہ اس شعر میں غالب نے غزل کی تنگ دامانی کا شکوہ کیا ہے، اس کی بنیاد اس بات پر ہونی چاہیے کہ شعر میں ’ظرف تنگناے غزل‘ کے لفظ آئے ہیں، اور یہ بھی ہے کہ اس ظرف کو شاعر یا متکلم کے ’شوق’ کے مقابلے میں کم لکھا گیا ہے۔ پھر دوسرے مصرعے میں شاعر یا متکلم تقاضا کرتا ہے کہ مجھے اپنے ’بیان‘ کے لیے ’کچھ اور وسعت‘ درکار ہے۔ ’شوق‘ سے مراد ہے، غزل کہنے یا غزل میں مضامین باندھنے کا شوق، اور ’بیان‘ سے مراد ہے مضامین غزل کا بیان، اور ’وسعت‘ سے مراد ہے کوئی ایسی صنف سخن جس میں اتنی وسعت ہو کہ شاعر یا متکلم اس میں اپنے ’شوق‘ کے مطابق خوب تفصیل سے اپنے مضامین بیان کر سکے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ اس شعر میں شاعر یا متکلم غزل کی تنگ دامانی کا شکوہ کر رہا ہے۔

            یہ سب کہہ کر ہم اپنے طور پرمطمئن ہو گئے کہ ہم نے شعر میں بیان کیے ہوئے حقائق کا مکمل احاطہ کر لیا ہے اوراس لیے ہماری تعبیر بالکل درست ہے۔ یہاں کوئی کہہ سکتا ہے کہ غالب نے کہیں اور اس طرح کی بات کہی ہو کہ میں غزل کی تنگ دامانی کا شاکی ہوں، تو ہم مانیں کہ اس شعر میں غالب کا شکوہ عمومی شکوہ ہے، کسی مخصوص موقعے پر یہ مخصوص نکتہ غالب نے نہیں بیان کیا ہے۔اس کے جواب میں ہم کلامِ غالب سے مزید ثبوت کے طور پر یہ شعر لاتے ہیں ؎
 نہ  بندھے تشنگیِ شوق   کے   مضموں   غالب
گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا

            غالب کے کلام سے یہ سند لا کر ہم نے اپنا دوسرا ثبوت بھی بیان کر دیا کہ غالب کوغزل کی تنگ دامانی کا شکوہ تھا۔ شعر میں صاف کہا جا رہا ہے کہ تشنگیِ شوق کے مضمون نہ بندھ سکے، اگرچہ ہم نے مبالغے کی انتہا کر دی۔ لیکن اگر توجہ سے شعر کو پڑھیں تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اول تو یہ کہ شعر میں ’تشنگی شوق‘ کا ذکر ہے، محض شوق کا نہیں اور دوئم یہ کہ شعر میں غزل کے دامن کی تنگی کا کوئی ذکر نہیں۔ یہاں تو یہ کہا گیا ہے کہ ہماری’تشنگیِ شوق‘اس قدر بے حد و بے نہایت ہے کہ اغراق اور غلو کی تمام حدیں پار کرکے بھی ہم اسے بیان نہ کر سکے۔

            یہ خیال رہے کہ ’شوق‘ عمومی لفظ ہے۔اس سے کوئی بھی شوق مراد لے سکتے ہیں: جان دینے کا شوق، معشوق سے ملاقات کا شوق، وصل کا شوق، کہیں جانے کا شوق، کوئی بات کہنے کا شوق، وغیرہ۔ اگرچہ لفظ ’شوق‘ کو اکثر عشقیہ ماحول یا سیاق و سباق میں برتا جاتا ہے، خاص کر شعر میں، لیکن ایسا نہیں ہے کہ یہ لفظ صرف عشق کے معاملات تک محدود ہو۔ لہٰذا ’تشنگی شوق‘ اور شے ہے اور صرف’شوق‘ اور شے۔ ’بقدر شوق نہیں‘ اور ’کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے‘ سے بالکل ظاہر ہے کہ ’بیان‘ کے شوق کی بات ہو رہی ہے۔ یعنی ایک تو یہ کہ کچھ بیان کرنے کا شوق بہت ہے اور دوسری بات یہ کہ اس بیان کے لیے وسعت بہت درکار ہے۔غزل کے مضامین کا یہاں کوئی ذکر نہیں۔ صرف ‘بیان’ سے یہ مراد لینا غلط ہوگا کہ غزل کے مضامین کا بیان مقصود ہے۔’مضمون‘ سے ’بیان‘ مراد لینے کا کوئی قرینہ شعر میں نہیں۔ تشنگیِ شوق والے شعر میں صاف صاف’مضمون‘ کا ذکر ہے اور معنی یہ ہیں کہ مجھ سے اور کوئی مضمون تو شاید، یا غالباً، بندھ سکتا ہو، لیکن تشنگیِ شوق کے مضامین بیان کرنے کی قوت مجھ میں نہیں ہے۔
            اب شعرِ زیر بحث کو پھر دیکھیں؎ 
بقدر   شوق   نہیں   ظرف   تنگناے   غزل
کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے

         اب یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ شاعر یا متکلم کو کچھ کہنا مقصود ہے، یا یوں کہیں کہ اسے کسی بات کو کہنے کا شوق بہت ہے، لیکن وہ بات غزل میں بیان نہیں ہو سکتی۔ یعنی بات کسی خاص مضمون یا موضوع کی ہے کہ اس کے لیے یہ غزل کافی نہیں۔ یہاں غزل کی عمومی تنگی کی بات نہیں ہے، ایک مخصوص موقعے کی بات ہے۔

            مندرجہ بالا بحث کی روشنی میں ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم دیکھیں کہ اس شعر(’بقدر ظرف نہیں‘)کا ماحول کیا ہے۔ یعنی اگرچہ یہ بالکل لازم نہیں کہ غزل کے شعر باہم مربوط ہوں لیکن چوں کہ شعر میں جو بات کہی گئی ہے وہ کچھ معمّائی سی ہے، اس لیے ہمیں دیکھنا چاہیے کہ اس شعر کے پہلے کیا ہے اور بعد میں کیا ہے۔ چناں چہ جب ہم زیر بحث شعر کے پہلے جو شعرگزرا ہے اس کو دیکھتے ہیں   ؎
گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری جو شامت آئے
اٹھا  اور اٹھ کے قدم میں  نے  پاسباں  کے  لیے

            ظاہر ہے کہ یہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جسے ’ظرف تنگناے غزل‘ سے متعلق کیا جا سکے۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ جو مضمون بیان کیا گیا ہے وہ اردو کیا، فارسی شاعری میں بھی نہیں باندھا گیا۔ غزل کے مخالفین کچھ بھی کہیں اور غزل میں انسان کی کم وقعتی پر کتنا ہی ماتم کریں، لیکن یہ مضمون اپنی جگہ پر بالکل نیا ہے اور ایسا کہ پہلے تو کبھی بندھا ہی نہ تھا، بعد میں بھی کسی سے نہ بندھ سکا۔

            منقولہ بالا شعر کے بعد وسعتِ بیاں اور تنگناے غزل کا مضمون ہے جس کی تعبیر میں منقولہ بالا شعر سے ہمیں کوئی مدد نہیں ملتی۔اس لیے اس سے اگلا شعر دیکھتے ہیں   ؎ 
دیا ہے خلق کو بھی تا اسے نظر نہ لگے
بنا  ہے  عیش  تجمل  حسین   خاں  کے  لیے

            اب بات فوراًآئینہ ہو جاتی ہے۔ پچھلا شعر اس بات کی تمہید تھا کہ میں تجمل حسین خان کی مدح کا شوق بے حد رکھتا ہوں لیکن غزل کا دامن قصیدے کی طرح وسیع نہیں کہ اس میں مختلف طور اور قرینے سے مدح کے مضامین بیان ہو سکیں۔ یعنی یہاں غزل کے دامن کی تنگی کی بات نہیں ہو رہی ہے، غزل اورقصیدے کا فرق بیان ہو رہا ہے۔ غزل بنیادی طور پر عشقیہ مضامین کی شاعری ہے اوراس کی زبان بھی قصیدے کے پر شکوہ اور مغلق الفاظ سے بالعموم ابا کرتی ہے۔قصیدہ ہوتا تو میں طبیعت کی جولانی دکھاتا، غزل میں کہاں تک اور کس طرح بیان کروں۔ پھر بھی شوق سے مجبور ہو کر چند شعر موزوں کررہا ہوں۔

            یہ بات خیال میں رکھنے کی ہے کہ غالب نے غزل کو تنگ یا قصیدہ یا مثنوی کو اس کے مقابلے میں فراخ نہیں کہا ہے۔ بات یہاں کمیت کی ہے، کیفیت کی نہیں۔ بات قصیدے میں کثرتِ اشعار اور غزل میں نسبةً قلت اشعار کی ہے۔ اس غزل میں بھی مدح کو ختم کرتے وقت غالب نے یہی کہا ہے کہ لکھنے کے لیے مزید جگہ نہیں مل رہی ہے، ورق ختم ہو گیا    ؎
ورق   تمام   ہوا   اور   مدح   باقی    ہے
سفینہ چاہیے اس بحرِ بے کراں کے لیے

            لفظ ‘سفینہ’ بھی یہاں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ‘بحر بےکراں’ سےصرف مناسبت ہی نہیں رکھتا،  بلکہ اس کے ایک معنی ’مجموعہ‘ یا ’بیاض‘ بھی ہوتے ہیں۔’بہارِعجم‘ میں ہے کہ ’سفینہ‘ عرف عام میں اس بیاض کو کہتے ہیں جو لمبائی کی طرف سے کھلتی ہے اور جس کی شکل کشتی کی طرح ہوتی ہے۔ یہی معنی ’آنند راج‘ میں بھی درج ہیں، اس تفصیل کے ساتھ کہ عربی میں لفظ ’سفینہ‘کی بہت سی جمعیں ہیں اور لغت نگار نے وہ سب درج کر دی ہیں۔
        غزل زیر بحث کا مقطع دیکھیے تو ہماری تعبیر بالکل مکمل ہوجاتی ہے  ؎ 
اداے خاص سے غالب ہوا ہے نکتہ سرا
صلاے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے
   
         یہاں اگرچہ لفظ ‘نکتہ’ کی تکرار کچھ گراں گزرتی ہے، لیکن معنی بالکل واضح ہیں: غالب نے اس غزل میں کچھ نئے انداز سے نغمہ سنجی کی ہے، یعنی غزل میں قصیدے کے شعر ڈال دیے ہیں۔ اب جو لوگ نکتہ شناس ہیں وہ اس کی داد دیں اور اس طرح کہنے کی کوشش کریں۔

            تو جب ایک شعر کی تعبیر میں اس قدر الجھن ہو سکتی ہے تو کسی وسیع الذیل حقیقت یا حقائق کی تعبیر میں کس قدر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں،اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔مزید وضاحت کے لیے تاریخِ ادب سے ایک مثال لیتے ہیں۔

            جب تک میر اور قائم کے تذکرے چھپ کرعام نہیں ہوئے تھے، ولی کے بارے میں عام لوگوں کی معلومات کا ماخذ مولانا محمد حسین آزاد کی تصنیف’آبِ حیات‘ تک محدود تھا۔ مثلاً یہ بات مصدقہ طور پر معلوم نہ تھی کہ ولی کتنی بار دہلی آئے اور پہلی بار کب آئے۔ مولانا محمد حسین آزاد ’آبِ حیات‘ میں لکھتے ہیں:
        ’’ ولی احمدآباد گجرات کے رہنے والے تھے اور شاہ وجیہ الدین کے مشہور خاندان سے تھے۔ یہ اپنے وطن سے ابوالمعالی کے ساتھ دہلی میں آئے۔ یہاں شاہ سعد اللہ گلشن کے مرید ہوئے۔ شاید ان سے شعر میں اصلاح لی ہو۔مگر دیوان کی ترتیب فارسی کے طور پر یقیناً ان کے اشارے سے کی۔‘‘

       اس آخری جملے پر آزاد کا حاشیہ ہے:’دیکھو تذکرۂ فائق کہ خاص شعراے دکن کے حال میں ہے اور وہیں تصنیف ہوا ہے۔‘لیکن مشکل یہ ہے تذکرۂ فائق نامی کسی کتاب سے کوئی واقف نہیں ہے۔ نگار پاکستان کے ’تذکروں کا تذکرہ‘ نمبرمطبوعہ 1964 میں فرمان فتح پوری نے تمام معلوم تذکروں کی فہرست دی ہے اور پھر ان کا حال لکھا ہے۔ صفحہ 4 پر کسی ’مخزنِ شعرا‘ مرقومہ 1297ھ بہ مطابق 1880کا ذکر ہے اور مصنف کا نام نورالدین خان فائق بتایا ہے۔ لیکن کتاب کے متن میں اس تذکرے کا کوئی حال نہیں۔ فہرست میں ’مخزن شعرا‘ کا اندراج بھی اپنی مناسب جگہ پر نہیں ہے، کیوں کہ اس کے بعد بھی کئی تذکرے ایسے درج ہیں جو 1880کے بہت پہلے لکھے گئے۔ 1880میں تحریر کردہ (یا شایع شدہ) تین تذکروں کے نام فہرست میں درج ہیں:’طورِ کلیم‘؛ ’بزمِ سخن‘ اور خود ’آبِ حیات‘۔ فائق کے تذکرے کا نام یہیں آنا چاہیے تھا لیکن وہ اپنی جگہ سے بہت پہلے آگیا ہے اور اس کے آگے کوئی صفحہ نمبر بھی نہیں ہے، صرف 20 لکھا ہے۔

            محمد حسین آزاد پراسلم فرخی مرحوم کی مبسوط دو جلدی کتاب میں بھی نور الدین خان فائق یا ’مخزنِ شعرا‘ کا کوئی ذکر نہیں۔ نہ ہی مسعود حسن رضوی ادیب کی کتاب ’آبِ حیات کا تنقیدی مطالعہ‘ یا قاضی عبدالودود کی ’محمد حسین آزاد بحیثیت محقق‘ میں فائق کا کوئی ذکر ملتا ہے۔ ہمارے یہاں جن لوگوں نے ولی پرتحقیقی نظر ڈالی ہے، انھوں نے اس معاملے پر کوئی توجہ نہیں کی۔ ورنہ یہ تذکرہ (اگر واقعی ایسا کوئی تذکرہ ہے اور بقول آزاد وہ ’خاص شعراے دکن کے حال میں ہے‘) حاصل ہو سکتا توولی اور شاہ گلشن کی مبینہ ملاقات اور شاہ صاحب کے اس مشورے کے بارے میں کہ ولی اپنا دیوان ’فارسی کے طور پر‘ ترتیب دیں، کچھ زیادہ تفصیلی اور زیادہ معتبر بات معلوم ہو سکتی تھی۔

            جیسا کہ میں نے ابھی عرض کیا،اس وقت تو ولی کی دہلی (پہلی اور اغلباً واحد) آمد کے بارے میں ہمارے پاس ‘آبِ حیات’ کے بعد جو دو اطلاعات ہیں وہ میر اور قائم کے تذکروں پر مبنی ہیں۔ میرکا بیان درج ذیل ہے۔ اس کے بعد میں قائم کا بیان نقل کروں گا:
            ’’ولی (محمد، ملک الشعرا) شاعر ریختہ (زبردست) (صاحب دیوان) از خاک اورنگ آباد است۔ می گویند کہ در شاہجہان آباد نیز آمدہ بود۔ بخدمت میاں(شاہ) گلشن صاحب رفت و از اشعار خود پارۂ خواند۔ میاں صاحب فرمود(ند کہ)ایں ہمہ مضامین فارسی کہ بیکار افتادہ اند، در ریختہ(ہاے)خود بکار ببر۔ از تو کہ محاسبہ خواہد گرفت۔‘‘(’نکات الشعرا‘ از میر محمد تقی میر، مرتبہ و مدونہ پروفیسر محمود الٰہی، ادارۂ تصنیف، دہلی 6، 1972، ص 91)      

            ’’شاہ ولی اللہ، ولی تخلص، شاعرےست مشہور، مولدش گجرات است۔ گویند بہ نسبت فرزندی شاہ وجیہ الدین گجراتی، کہ از اولیاے مشاہیر است، افتخار ہاداشت۔ درسنہ چہل و چہار ازجلوس عالمگیر بادشاہ، ہمراہ میر ابوالمعالی، نام سید پسرے کہ دلش فریفتۂ او بود، بہ جہان آباد آمد۔ گاہ گاہ بزبان فارسی دو سہ بیت در وصف خط و خالش می گفت۔ چوں درآنجا ملازمت حضرت شیخ سعد اللہ گلشن قدس سرہٗ مستعد گردید، بگفتن شعر بزبان ریختہ امر فرمودند و ایں مطلع تعلیماً موزوں کردہ حوالۂ او نمودند
خوبی اعجاز حسن یار گر انشا کروں
بے تکلف صفحۂ کاغذ یدِبیضا کروں
(’مخزن نکات‘ از قائم چاندپوری، مرتبہ و مدوّنہ اقتدا حسن، لاہور، مجلس ترقیِ ادب، 1966، متن صفحہ 21 تا 22)
    ان دو عبارتوں میں کئی تضاد اور کئی اختلافات ہیں۔ ان کو مختصراً یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
      1.    میر کا کہنا یہ ہے کہ ولی جب دلی آئے تو شاعر تھے۔ لیکن شاہ صاحب نے ان کے اشعار سن کر مشورہ دیا کہ فارسی میں مضامین بھرے پڑے ہیں، انھیں کیوں نہ استعمال کرو۔ میر کو یہ نہیں معلوم کہ ولی اور گلشن کی ملاقات دلی میں کب ہوئی۔

2.  قائم کہتے ہیں کہ ولی جب دہلی پہنچے تو وہ ریختہ کے شاعر ہی نہیں تھے، نہ ہی وہ باقاعدہ فارسی گو تھے۔ ہاں کبھی کبھی ایک دو بیت فارسی میں شاہ ابوالمعالی کی ثنا و صفت میں کہہ لیتے تھے۔ شاہ گلشن نے ’مضامین فارسی‘ کو بکار لانے کے باب میں ولی کوکچھ مشورہ نہ دیا، البتہ ایک مطلع بطورتعلیم موزوں کرکے ان کو عطا کیا۔

3.  ولی کے دہلی آنے کی تاریخ کے بارے میں میر کو کچھ نہیں معلوم۔ ان کا بیان ہے کہ ’لوگ کہتے ہیں‘ کہ وہ شاہجہان آباد دہلی بھی آئے تھے۔ اس کے برخلاف قائم نے پورے وثوق سے کہا ہے کہ ولی اورنگ زیب عالمگیر کے چوالیسویں سالہ جلوس میں دہلی آئے۔ معمولی گنتی کرنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ سال 1112 ہجری اور 1700 حالی تھا۔چوں کہ ولی کے ورودِ دہلی کے بارے میں ہمیں کوئی اور قطعی اطلاع نہیں، اس لیے سب اسی تاریخ کو مانتے ہیں۔

            لیکن مشکل یہ ہے کہ ان تضادات کا کیا ہو؟ میر کہتے ہیں شاہ صاحب نے ولی سے کہا کہ فارسی کے مضامین کیوں نہیں لکھتے ہو؟ قائم کہتے ہیں کہ ولی اس وقت تک ریختہ گو تھے ہی نہیں، چہ جاے کہ شاہ صاحب ان کا کلام سنیں اور کوئی مشورہ دیں۔ لیکن یہ انھوں نے ضرور کہا کہ ریختہ کہو اوران کو تعلیماًایک مطلع بھی کہہ کر دیا۔

             اس بات کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ دہلی والوں نے میر اور قائم کے بیانات کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا(اور یہ فیصلہ اب تک رائج ہے) کہ ولی کچھ نہ تھے اور کچھ نہ ہوتے اگر وہ دہلی نہ آئے ہوتے اور انھوں نے شاہ سعد اللہ گلشن سے فیض نہ حاصل کیا ہوتا۔
             مجھے نہیں معلوم کہ ہمارے کسی محقق نے میر اور قائم کے تضادات اور اختلافات پر غور کیا ہو۔ محمد اکرام چغتائی، جو مورخ ہیں اور ادبی محقق کے زمرے میں نہیں آتے، انھوں نے ضرور لکھا ہے کہ 1112ھ میں شاہ گلشن صاحب دہلی میں تھے ہی نہیں، وہ دکن کی سیاحت کر رہے تھے۔ لہٰذا دہلی میں شاہ صاحب اور ولی کی 1112 میں ملاقات ممکن ہی نہیں ہے۔ اقتدا حسن نے چغتائی کے مضمون مطبوعہ ’اردو نامہ‘ بابت مارچ 1966 کا حوالہ اسی صفحے پر حاشیے میں دیا ہے جہاں سے میں نے قائم کا بیان نقل کیا۔دوسرے صاحب ڈاکٹر محمدصادق ہیں جنھیں ہم ان کی تاریخ ادب اردو بزبان انگریزی کے حوالے سے جانتے ہیں۔ محقق انھیں کوئی نہیں مانتا۔ یوں بھی، وہ انگریزی کے پروفیسر تھے، اردو والے انھیں اپنا آدمی بھلا کب مان کے دیتے؟ لیکن ’تاریخ ادبیات مسلمانان پاکستان و ہند‘ جلد ششم، مطبوعہ پنجاب یونیورسٹی،لاہور کے صفحہ530 اور پھر صفحہ 532پر صادق صاحب لکھتے ہیں:
      ’’تذکرہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ ولی کا سفرِ دہلی، نہ صرف اس کی شاعری میں بلکہ اردو شاعری کی تاریخ میں بھی ایک حد فاصل کی حیثیت رکھتا ہےمیری رائے میں [شاہ گلشن کی]یہ مفروضہ ہدایات اہالیان دہلی کی اختراعات ہیں۔ان کا منشا (غیر شعوری طور پر ہی سہی)یہ ہے کہ اردو شاعری کی اولیت کا سہرا دہلی ہی کے سر رہے۔‘‘

       میں چودھری محمد نعیم کا ممنون ہوں(اگرچہ مستعمل معنی میں محقق وہ بھی نہیں ہیں) کہ انھوں نے ڈاکٹر صادق کی عبارت کی خبر مجھے دی۔ لیکن میں اردو کے محققین سے پوچھتا ہوں کہ انھوں نے ’آب حیات‘ اور ’نکات الشعرا‘ اور ’مخزن نکات‘ کے بیانات پر آنکھ بند کر کے کیوں یقین کر لیا؟ آزاد کا تعصب تو اس بات سے ظاہر ہے کہ ایک طرف تو وہ یہ کہتے ہیں کہ ولی نے ’دیوان کی ترتیب فارسی کے طور پر یقیناًان [شاہ سعد اللہ گلشن]کے اشارے سے کی‘ اور دوسری طرف وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ولی نے یہ تو لکھا ہے کہ میں شاہ سعد اللہ گلشن کا شاگرد ہوں’ مگر یہ نہیں لکھا کہ کس امر میں۔‘اس صورت میں اس بات کا امکان کتنا رہ جاتا ہے کہ کوئی شخص، جو فن شعر میں کسی کا استاد نہ ہو، وہ اسے اتنا مہتم بالشان مشورہ دے ڈالے کہ فارسی میں مضامین پڑے ہیں انھیں بے تکلف لوٹو اور اپنا گلشن شاعری آراستہ کرو۔
             قائم نے تو کہہ دیا کہ شاہ گلشن سے ملاقات کے پہلے ولی ریختہ کے شاعر ہی نہ تھے، لیکن آزاد خود کہہ رہے ہیں کہ ولی نے ایک شعر میں ناصر علی سرہندی کو کھل کر چنوتی دی ہے 


اچھل کر جا پڑے جوں مصرع برق
اگر  مصرع   لکھوں  ناصر علی   کوں

     ’کلیات ولی‘مرتبہ نورالحسن ہاشمی مطبوعہ لاہور، 1996، صفحہ195 پر یہ شعر یوں درج ہے   ؎


پڑے سن کر اچھل جیوں مصرع برق
اگر   مصرع   لکھوں   ناصر علی   کوں

      بے شک یہ شعر آزاد کے روایت کردہ شعر سے بہتر ہے، لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ ایسا شعر ناصر علی کے زمانۂ حیات ہی میں کہا گیا ہوگا۔ ناصر علی سرہندی کا سال وفات1696 ہے۔ اس طرح یہ بات بالکل صاف ہے کہ 1696تک (یعنی دہلی آنے سے کم از کم چار سال پہلے)ولی شعر گوئی میں اتنے مشاق اورمستحکم ہو چکے تھے کہ اپنے زمانے کے ایک بہت بڑے فارسی استاد کو اس طرح للکار سکتے۔


             مندرجہ بالا بحث سے ثابت ہوتا ہے کہ نئے حقائق کی دریافت‘ ہو، یا ’پہلے سے معلوم حقائق کی نئی تعبیر‘، ولی کے بارے میں ان دونوں شرائط کا حق ’آب حیات‘ اور ’نکات‘ اور ’مخزن‘میں درج کردہ بیانات کی تحقیق کی حد تک ہم سے ادا نہیں ہو سکا ہے۔ ڈاکٹر محمد صادق نے کھلے طور پر دہلی والوں کے تعصب کو اس کا ذمہ دار بتایا ہے۔ لیکن اس کو کیا کیا جائے کہ جو دہلی والے نہیں بھی ہیں  وہ بھی میر اور قائم کے اختراع کردہ افسانوں سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ چناں چہ تبسم کاشمیری اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں:
         ’’شمال کے اس سفر کی داستان خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو،یہ بات ظاہر ہے کہ شمالی ہند کے ادبی ماحول، تہذیبی فضا اور شعری اسالیب سے ولی نے بہت کچھ سیکھا ہوگا۔‘‘

        یعنی اب بات ’تھا‘ سے ’ہوگا‘ تک آگئی، لیکن بات رہی وہی پہلے سی۔ لطف یہ ہے کہ اسی صفحے پر تبسم کاشمیری نے یہ بات کہی ہے کہ ’یہ ولی کا کمال تھا کہ اس نے شمالی ہند میں فارسی روایت کے مغرور علما اور شعرا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔‘

        بھلا بہت کچھ سیکھنے‘ میں ’جھنجھوڑ کر رکھ دینے‘ کا عنصر کہاں رہا ہوگا؟ لیکن ظاہر ہے ولی رہے پھر بھی دہلی کے ممنون احسان کہ بقول ناصر نذیر فراق، ورود دہلی کے پہلے ولی شاعر ہی نہیں تھے، وہ جو کچھ ہیں انھیں دہلی نے بنایا۔ جمیل جالبی نے اپنی تاریخ میں اس بات کو ثابت کرنے کے لیے بہت زور لگایا ہے کہ ولی کا انتقال 1707/1708 کے بہت بعد ہوا ہوگا، کیونکہ اگر وہ دہلی پہنچنے کے کچھ ہی عرصہ بعد راہی ملک عدم ہوئے تو بھلا انھوں نے وہ سارا کلام کب کہا ہو گا جو کمیت میں خاصا ہے اور جس پر بقول جالبی صاحب، دہلی کا اثر صاف نظر آتا ہے؟ لیکن حقیقت بہ ہر حال یہی ہے کہ ولی کا مکمل ترین کلام جس مخطوطے میں ملتا ہے اس کی تاریخ کتابت 1709 ہے۔اس کے بعد اگر وہ جئے ہوتے اور انھوں نے کچھ کہا ہوتا تو وہ کہیں تو ملتا۔
            فن تحقیق پر ہمارے یہاں کئی کتابیں اور کئی مضامین ہیں۔ تقریباً سب میں دیانت داری پر زور دیا گیا ہے لیکن مجرد دیانت داری کسی کام کی نہیں۔دیانت داری کی سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ پوری اور سخت چھان بین کے بغیر کسی ایسی بات کو، یا کسی ایسے نتیجے کو نہ قبول کر لیا جائے جو ہمارے دل کو بھاتا ہو بلکہ ایسے نتیجے کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے جو ہمارے حسب دلخواہ ہو۔ ہماری ادبی تحقیق کی تاریخ میں ایسی مثالیں بہت ہیں کہ محقق نے پوری ایمان داری کے ساتھ کسی نتیجے کو اس لیے قبول کیا کہ وہ اس کے معتقدات کے موافق تھا، یعنی اس کا خیال تھا کہ اس چیز کو ایساہی ہونا چاہیے۔

             داغ پر ہم لوگوں کی خامہ فرسائیاں اس کی مثال ہیں۔ انگریزی تاریخیں یا انگریزوں سے متاثر تاریخیں پڑھ پڑھ کرہم لوگوں نے یقین کر لیا کہ بہادر شاہ ظفر کے زمانے میں لال قلعہ ہر طرح کی بداطواری اور تعیش پسندی اور ذہنی انحطاط کا صدر مقام تھا۔ پھر ہم لوگوں نے پڑھا کہ داغ کی ماں نے ایک شہزادے سے شادی کر لی اور قلعہ میں جا رہیں اور داغ بھی ان کے ساتھ تھے۔لہٰذا داغ کی نشوو نما لال قلعے میں ہوئی۔ داغ کے بارے میں یہ کہا گیا:
     ’’مغلیہ حکومت کا یہ آخری دور تھا۔ شمشیر و سناں سے گزر کر طاس و رباب میں شاہی خاندان مصروف تھا۔ رقص و سرود کی محفلیں، قلعے کی بیگمات،خواصیں، چونچلے، رنگ رلیاں،اس ماحول میں شہزادوں کے ساتھ داغ نے بھی بارہ سال گزارے۔‘‘

           ہم لوگوں کے خیال میں اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ قلعے والوں کی تمام بری باتیں داغ کی طینت میں پیوست ہو جائیں۔ مندرجہ بالا رائے کا بلاواسطہ یا بالواسطہ پرتوداغ کے بارے میں ہرتحریر میں ملتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اقتباس کی سب باتیں غلط ہیں سوا اس کے کہ داغ نے قلعے میں بارہ سال گزارے۔اگر ذرا سی بھی کاوش کی جاتی تو داغ کے بارے میں ہمارے نتائج بالکل مختلف ہو سکتے تھے۔ لیکن جو نتیجہ ہم نے نکالا وہ جذباتی طور پر ہمارے لیے قابل قبول تھا کہ داغ تو ہنسی ٹھٹھول کے شاعر تھے، ان کے کلام میں مضامین بلند نہیں ہیں۔ اسی لیے وہ ارباب نشاط میں بہت مقبول تھے۔ مزید کاوش کی ضرورت نہ سمجھی گئی۔داغ کا دیوان کھولنے کی زحمت کون کرتا۔

              یہیں سے محقق کے منصب کے بارے میں دوسری اہم بات بھی سامنے آتی ہے: جو نتیجے اور فیصلے پہلے سے موجود ہیں یا ہم نے ورثے میں پائے ہیں،ان پر آنکھ بند کرکے یقین نہ کر لینا چاہیے۔ کوئی روایت، خواہ وہ بظاہر کتنی ہی دلکش یا کتنی ہی مستند کیوں نہ ہو،اسے اسی وقت قبول کرنا چاہیے جب اپنی ذاتی تحقیق اس کی تصدیق کر دے۔ ہمارے یہاں کتاب پر اعتماد کی رسم بہت مستحکم ہے۔ کسی مبتدی طالب علم کے لیے تویہ طریق عمل بہت مناسب ہے، لیکن محقق کا یہ منصب نہیں۔ یہ بھی ہے کہ ادبی تہذیب میں بعض باتیں غیر معمولی شہرت حاصل کر لیتی ہیں، خواہ وہ کسی کتاب میں نہ ہوں۔انسان کا مزاج ایسا ہے کہ وہ مشہور باتوں پر،یا لکھی ہوئی باتوں پریقین کر لینے پر بہت مائل رہتا ہے، خاص کر اگر ایسی باتیں دلکش یا ڈرامائی انداز میں بیان کی گئی ہوں۔ محقق کواس کمزوری سے مبرا ہونا چاہیے۔

             ہمارے جدید شعرا میں میراجی ایک ایسے ہیں جن کی شخصیت کی بارے میں خاکے کے نام پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور وہ کم و بیش سب کا سب حقیقت کے طور پر قبول کر لیا گیا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ میراجی کا افسانہ پہلے بنا، خاکے بعد میں لکھے گئے۔ یعنی ان کی شخصیت میں کچھ ایسی بات تھی، اسے اسرار کہیے، کشش کہیے، یا توجہ انگیزی کہیے، لیکن کچھ ایسا ضرور تھا کہ لوگوں کو ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں مشہور کرنے میں مزہ آتا تھا۔ لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ہر خاکہ ان کی زندگی کی کسی منزل پرلکھا گیا ہوگا، وہ ان کی پوری زندگی کو محیط نہیں ہو سکتا۔ لیکن اکثر لوگوں نے ہر خاکے کو میراجی کی پوری شخصیت کی تصویر سمجھ لیا ہے۔ ہر چند کہ میراجی کی تخلیقی شخصیت تو دور رہی، ان خاکوں سے ان کی پوری زندگی کی بھی فہم نہیں حاصل ہو سکتی۔ مثلاً کہا گیا کہ میراجی اپنی پتلون کی جیبیں کٹوا دیا کرتے تھے۔ممکن ہے ایسا ہو، لیکن کون سے میراجی؟ بمبئی کے میرا جی، یا دہلی کے میرا جی، یا حلقۂ ارباب ذوق کے میراجی، یا ’ادب لطیف‘ کے مدیر میراجی؟ بعض لوگوں نے کہا کہ ان کی نظمیں مبہم ہوتی تھیں اور انھیں ابہام بہت پسند تھا۔وہ اپنی بات کو گھماپھرا کر کہنا پسند کرتے تھے۔لیکن مشرق و مغرب کے نغمے‘ میں جو میراجی ہیں وہ تو انتہائی شفاف نثر لکھتے ہیں۔ ایک صاحب نے ان کی کتاب ’اس نظم میں‘ کا صرف نام سن لیا، اور چوں کہ یہ مفروضہ بہت مشہور تھا کہ میراجی کا کلام مشکل اور مبہم ہوتا تھا، لہٰذا انھوں نے کتاب پڑھنے کی زحمت کیے بغیر لکھ دیا کہ میراجی کا کلام اس قدر مشکل تھا کہ انھوں نے مجبوراً خود ہی ’اس نظم میں‘ نامی ایک کتاب لکھی اور اس میں اپنی نظموں کے معنی بیان کیے۔

             ہمارے یہاں پہلے زمانے کی ادبی تاریخ کے بارے میں اس طرح کی حکایتیں بہت مشہور ہیں کہ مثلاً انشا آخری عمر میں بالکل بدحال اور مجنون ہو گئے تھے، یا غالب نے آخیر آخیر میں طرز میر اختیار کیا، یا اردو ’لشکری زبان‘ ہے کیونکہ ’اردو‘کے معنی’لشکر‘ ہیں۔ محقق کو یہ اصول ہمیشہ مدِّنظر رکھنا چاہیے کہ جو بات جتنی ہی مشہور ہوگی، اتنا ہی قوی امکان اس بات کا ہوگا کہ وہ غلط ہوگی لیکن ہمارےمحققین نے اس اصول کو اکثر نظر انداز کر دیا ہے۔

            آج ہماری زبان پر کڑا وقت پڑا ہے۔اور اس کی وجہ سیاسی یا سماجی نہیں بلکہ خود ہم لوگوں کی سہل انگاری اور ہم میں غور و تحقیق کی کمی ہے۔ آج اردو پڑھنے والے کم نہیں ہیں اور ان کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔اور یہ بھی غلط ہے کہ اردو پڑھے ہوئے شخص کو معاش نہیں ملتی۔ ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس اچھے پڑھانے والے نہیں ہیں۔ہم میں سے ہر ایک کو جیسی بھی ہو، ٹوٹی پھوٹی ڈگری حاصل کر لینے اور پھر تلاش معاش کے لیے جوڑ توڑمیں لگ جانے کی جلدی ہے۔ آج کل ہماری یونیورسٹیوں میں جن موضوعات پر تحقیق ہو رہی ہے اور جس طرح کی تحقیق ہورہی اس میں بھاری اکثریت ’فلاں کی حیات اور کارنامے‘ قسم کی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر اب کم حقیقت اور زندہ لوگوں کے ’کارناموں‘کے الگ الگ پہلوں پر تحقیقی مقالے لکھے جارہے ہیں۔مثلاً ’فلاں کی افسانہ نگاری‘،پھر اسی شخص کی شاعری، پھر اسی شخص کی تحقیق، وغیرہ الگ الگ موضوع بن گئے ہیں۔ زندوں بچاروں پر یوں لکھا جارہا ہے گویا اب انھوں نے اپنا کام پورا کر لیا اور اب ہم ان کے ’ کارناموں‘ کا مکمل احاطہ کر سکتے ہیں۔

            دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ایک ہی موضوع پرایک ہی یونیورسٹی میں، یا مختلف یونیورسٹیوں میں تحقیق کی داد دی جارہی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں تحقیقی مقالوں میں نئی بات کیا، تنوع بھی نہ ہوگا۔’چبائے ہوئے نوالے‘، ’چچوڑی ہوئی ہڈیاں‘جیسے فقرے ایک زمانے میں ہماری شاعری کے بارے میں استعمال ہوتے تھے۔ اب یہی فقرے ہمارے تحقیقی مقالوں پر صادق آتے ہیں۔

            ’فکر و تحقیق‘ کا تازہ نمبر ناول کے بارے میں ہے۔ اس میں ایک حصہ ان تحقیقی مقالوں کی فہرست  پر مشتمل ہے جو ناول سےمتعلق کسی موضوع پر مختلف یونیورسٹیوں میں لکھے گئے ہیں۔اس فہرست کو دیکھ کر عجب بے چارگی اور مایوسی کا احساس ہوتا ہے۔ شروع کے صرف تین صفحوں میں مندرج موضوعات کا نمونہ ملاحظہ ہو:
  • اردو میں خواتین ناول نگار،ان کے ادبی اورفنی کارنامے
  • جدید اردو ناول میں سماجی افکار کا تنقیدی جائزہ
  • اردو ناولوں میں گھریلو زندگی
  • اردو ناول میں نسوانی کردار
  • نذیر احمد کے ناولوں میں نسوانی کردار
  • اردو ناولوں میں نسوانی کرداروں کا نفسیاتی اور سماجی جائزہ، نذیر احمد سے 1975تک
  • ڈپٹی نذیر احمد کے ناولوں میں تمثیلی کردار
  • اردو ناول کا سیاسی و سماجی پس منظر،ابتدا سے 1947تک
  • نذیر احمد کے ناولوں میں سماجی بصیرت
  • اردوناولوں میں ہندوستانی زندگی کا عکس
  • نذیر احمد کے ناولوں کے نسوانی کردار
  • نذیر احمد بحیثیت اخلاقی ناول نگار
  • نذیر احمد کے ناولوں میں سماجی اقدار
  • اردو ناولوں پر مغربی اثرات، 1935 سے 1980تک
  • قرة العین حیدر کے ناولوں میں نسوانی کرداروں کا جائزہ
  • اردو ناول میں انگریزی ناول کے اثرات
  • اردو ناول میں ترقی پسندانہ عناصر
  • اردو ناول پر ترقی پسندانہ عناصر(موضوع بظاہر ایک ہے، نگراں بھی ایک ہے، سال بھی ایک ہے، صرف ’محقق‘ صاحب کا نام مختلف ہے۔)
  • اردو ناول کا سماجی پس منظر آزادی کے بعد
              اس فہرست کے بعد کچھ مزید کہنے کی ضرورت شاید نہ ہو۔جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں،ان موضوعات میں بے حد یکسانی ہے اور ان کو دو یا زیادہ سے زیادہ تین عنوانات کے تحت تقسیم کیا جاسکتا ہے:سماجی مطالعہ؛کرداروں کا مطالعہ؛اوراردو ناول پر بیرونی اثرات۔آپ یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ یہ سب موضوعات نہایت سطحی ہیں اور یہ بھی کہ اکثر میں ایک ہی شخص (یعنی نذیر احمد)کو بار بار معرض گفتگو میں لایا گیا ہے۔ایسے تحقیقی مقالوں میں نئی دریافت،یا پرانی دریافتوں کی نئی تعبیر کا امکان دور دور تک نہیں۔بے خوف تردید کہا جاسکتا ہے کہ ان مقالوں میں اگر کوئی بہت اعلا درجے کے ہیں، ان میں کچھ معلومات تو شاید ملتی ہوں، لیکن علم نام کی کوئی شے ان میں سے کسی بھی مقالے میں دستیاب نہیں ہو سکتی۔

            کوئی بھی شخص کہہ سکتا ہے کہ ہماری یونیورسٹیوں میں تحقیق کی یہ صورت حال ہمیں بہت سنجیدگی سے دروں بینی اور خود احتسابی کا تقاضا کرتی ہے۔لیکن مجھے خوف ہے کہ ہمارے اساتذہ اور ارباب حل و عقد ان اصطلاحوں سے واقف نہیں ہیں۔

Mr. Shamsur Rahman Farooqui
10 Hasting Road
Allahabad, UP - 211001