جمعہ، 27 ستمبر، 2019

کیفی اعظمی کی معنویت، مضمون نگار: آفاق عالم صدیقی




کیفی اعظمی کی معنویت
آفاق عالم صدیقی

کیفی اعظمی ترقی پسند تحریک کے اکابرین شعرا میں سے ایک تھے۔ ان کی شاعری پربات شروع کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ترقی پسند تحریک کے پس منظر پر تھوڑی سی روشنی ڈالی جائے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا تبدیلی کے نئے امکانات سے روشناس ہوئی اور دنیا کی کئی حکومتوں نے اشتراکی نظام کو قبول کرلیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سائنس و ٹکنالوجی کی برکت سے انسانوں کے سارے خواب سچ ہوتے نظر آنے لگے تھے۔ اس وقت ایشیا میں بھی بیداری کی لہر پیدا ہوچکی تھی۔ لیکن ہندوستان غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ گوکہ آزادی کی جدوجہد شروع ہوچکی تھی۔ لیکن اب تک کوئی واضح لائحہ عمل مرتب نہیں ہوا تھا۔ یوروپی قربت کی بدولت ہندوستان کے نوجوان دنیا میں برسر پیکار انقلابی تحریکات سے نہ صرف یہ کہ واقف ہوچکے تھے ، بلکہ ذہنی طور پر ان تحریکات سے قربت بھی محسوس کررہے تھے۔ لیکن عملی اقدام کا طریقہ کار ابھی تک متعین نہیں ہواتھا۔ اس لیے کوئی راستہ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔ ایسی صورت حال میں گاندھی جی اپنے بے پناہ قائدانہ صلاحیت کے ساتھ ہندوستان کے افق پر نمودار ہوئے اور انہوں نے اہل وطن کو قومیت کانعرہ دے کر اپنا آندولن شروع کردیا۔ گاندھی جی اور ا ن کے رفقا کار کی کوشش سے دھیرے دھیرے ہندوستان میں آزادی کی تحریک ایک مثبت سمت میں پیش رفت کرنے لگی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں عام بیداری کی لہر پیدا ہوگئی۔ ادھر 30 19 کے بعد ایک بار پھر فسطائی قوتوں نے زور پکڑ لیا اور قہرناکی کاوہ منظر پیش کیا کہ انسانیت درد سے کراہ اٹھی۔ اس وقت دنیا کے گوشے گوشے میں جہاں کہیں بھی امن، مساوات اور آزادی کے متوالے تھے ، وہ صف آرا ہوگئے اور ثقافت بچاﺅ کی مہم شروع ہوگئی۔ یہی وہ مہم تھی جس کی برکت سے دنیا کی تمام زبانوں میں ترقی پسند تحریک کا آغاز ہوا۔
جب ہندوستان میں ترقی پسند تحریک کا آغاز ہوا تو اس وقت ہندوستان آزادی کی جدوجہد میں لگاہوا تھا اور اس کی ساری قوتیں آزادی کے حصول کی کوشش میں صرف ہورہی تھی۔ ایسے حالات میں ادب وفن کا ان اثرات سے بچنا ناممکن تھا، چنانچہ اس عہد کا سارا ادب آزادی کی جدوجہد کا آئینہ بردار بن گیا۔ اس عہد کے زیادہ تر فنکار جاگیر دارانہ نظام کے پروردہ تھے ۔ اس لےے ان کی شخصیت اور مزاج میں بھی زندگی کی کیف آور رنگینی اور رومانیت رچی بسی ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی پسندی کے ابتدا ئی اعہد کے سارے فنکاروں کے یہاں رومانیت کا غلبہ پایاجاتا ہے۔ اگر ہندوستان میں ترقی پسندی کے اس جوش وخروش اور شوق واخلاص سے پروان نہیں چڑھایاجاتا تو بہت ممکن تھا کہ اس عہد کے بیشتر فنکار رومانیت کے شکار ہوکر رہ جاتے اور فکری وعملی فراریت کا ایسا نمونہ پیش کرتے کہ خوش آئند زندگی کا خواب ہی رہ جاتا۔ یہ ترقی پسند تحریک کا بہت بڑا کارنامہ ہے کہ اس نے جاگیر دارانہ نظام کے پروردہ رومانی فنکاروں کو زندگی کے حقیقی دھارے سے جوڑا اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو ارضی صداقت سے ہم آہنگ کرکے ملک اور عوام کے مسائل کا ترجمان بنایا۔
یہی رومانی فنکار جو اپنی تخلیقیت خیزی کی ساری قوتیں رومانی جذبات کی عکاسی میں صرف کررہے تھے۔ جب پلٹ کر حب الوطنی کے ساز پر انقلاب وبغاوت کے رجز گانے پر آمادہ ہوئے تو جوش عمل کا ایسا ولولہ پیدا کردیا گیا کہ انگریزی سامراجیت کے ایوان لرز اٹھے اور آخر کا ر انہیں ہندوستان چھوڑنا پڑا۔
کیفی اعظمی جدوجہد آزادی کے نغمہ سراﺅں کے آخری سرتاج تھے۔ مخدوم اور سردار جعفری کی طرح کیفی اعظمی بھی ایسے فعال، نڈر، اور باحوصلہ شاعر تھے، جنھوں نے غریب ومحنت کش انسانوں کی کسمپرسی اور جدوجہد میں نہ صرف یہ کہ عملی حصہ لیا بلکہ کئی محاذوں پر قائدانہ رول بھی ادا کیا۔ یہ اسی عملی اقدام کی حوصلہ مندی تھی جس نے انہیں تاحیات استقلال سے اپنے موقف پر جمے رہنے کی قوت عطا کی۔
کیفی اعظمی کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ کلی طور پر ایک عوام دوست شاعر تھے۔ وہ عوام سے اٹھے اور تاعمر عوام ہی کی خدمت گزاریوں میں لگے رہے۔ ان کا اپنا ایک واضح نظریہ تھا۔ وہ تخلیق شعر کے لیے اپنا ایک معیار وضع کرچکے تھے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ خود اپنی وضع کردہ کسوٹی پر’ آوارہ سجدے‘ تک پہنچنے کے بعد ہی کھرے اترے۔ ان کی تخلیقی سوچ کے سارے سوتے مادیت اور رومانیت کے چشمے سے پھوٹے ہیں۔ لیکن ہم رومانیت کو ان کی تخلیق سے الگ کرنے کے بعد بھی (جسے انھوں نے خود بھی بعد میں الگ کردیا تھا) یہ کہہ سکتے ہیں کہ تصوراتی اور رومانی افکار وخیالات سے مادی افکار وخیالات زیادہ مستحسن ہوتے ہیں۔ کیونکہ رومانیت خود تعیشی وخود فریبی اور ناآسودہ احساسات کی جھوٹی تسکین کا سبب بنتی ہے۔ وہ بھی آسودگی کی صورت میں۔ جبکہ مادی افکار سے قوم وسماج کے تمام تر سروکار کو تقویت ملتی ہے اور اس کی برکت سے سماج ومعاشرے میں اصلاح وفلاح اور خوشحالی کی نئی راہیں نکلتی ہیں اور تہذیب وثقافت کی ترقی کے نئے باب کھلتے ہیں۔ ساتھ ہی زندگی خوب سے ہے خوب تر کہاں کی جستجو میں شاد کام ہوتی ہے۔معین احسن جذبی کا ایک شعر ہے:
جب جیب میں پیسے بجتے ہیں جب پیٹ میں روٹی ہوتی ہے
اس وقت یہ ذرہ ہیرا ہے اس وقت یہ شبنم موتی ہے
اور سچ بھی یہی ہے کہ جہاں افلاس کی ستم کاری ہو،بھوک بیماری اور ماراماری ہو اور بے روزگاری ہو، فرقہ وارانہ منافرت کی آتش باری ہو، استحصالی نظام کی شاطرانہ ریاکاری ہو۔ مفاد پرستوں کی زر خرید سیاست کی کینہ پرور مکاری ہو۔ ہر سو ظلم کی چکی میں پستی عوام کی آہ وزاری ہو، یعنی موت آسان اور زندگی بھاری ہو وہاں ہم ایک صحت مند، آسودہ، پرامن اور مہذب زندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ یہی وہ صورت حال تھی جس کی وجہ سے امن، مساوات اور آزادی کے متوالے ترقی پسند فنکاروں نے داخلیت کی سطحی پکاروں پرکان دھرنے سے انکار کردیا اور اپنی ساری تخلیقی توانائی عوام اور ادب کے رشتے کو اٹوٹ بنانے میں صرف کردی۔ ادب اور عوام کا یہی وہ فطری رشتہ تھا، جس نے عوام کو حوصلہ مندی کی زمین پر لا کھڑا کردیا، جس پرچل کر ہم آج زندگی کے بہترین خواب سنجونے کے قابل ہوئے ہیں۔
کیفی اعظمی ایک زمیندار گھرانہ کے چشم وچراغ تھے۔ زمیندارانہ نظام کے پروردہ ہونے کی وجہ سے ان کے مزاج میں بھی رومانیت رچ بس گئی تھی۔ وہ اپنے ماحول اور عہد کے تناظر میں انیس ودبیر کی مرثیہ گوئی سے متاثر ہوکر جب شاعری کے میدان میں سرگرم عمل ہوئے تو ان ہی کے انداز میں خطیبانہ طنطنہ دکھانے لگے۔ اور پھر بہت جلد وہ رومانی شاعری کی نرم وگرم آغوش میں سما گئے۔ ا ن کی رومانی شاعری بڑی پرتاثیر اور دلکش ہے۔ اس میں بلاکی شعریت اور نغمگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے حسن وعشق کے لوازمات کو اس خوبی اور دلکشی سے شعر میں ڈھالا ہے کہ اس کی اثر انگیزی دوبالا ہوگئی ہے۔ اب تک ان کی شاعری کے تین مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ ’جھنکار‘، ’آخر شب‘اور ’آوارہ سجدے‘۔ ’جھنکار‘ میں جوش کا ساخطیبانہ لہجہ پایاجاتا ہے۔ جو شاعری کی نزاکت اور لطیف احساسات کی نفاست کو دباکر شوریدگی، شعلگی اور جذبات کی برانگیختگی کی عکاسی کرتی ہے۔ جبکہ ’آخر شب‘ کی شاعری روایت، رومانیت اور شعریت کا ایسا دل پذیر اور شیریں آمیزہ ہے کہ پینے والا مدہوش ہوجاتا ہے۔ اس پر ایک خاص قسم کی سرمستی وسرشاری چھاجاتی ہے۔ اس شاعری میں اتنی دلکشی، رعنائی اور غنائیت ہے کہ یہ قاری کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ اگر ایک لمحہ کے لئے ہم ترقی پسند تحریک کے مقاصد کو بھلادیں اور یہ بات ذہن سے نکال دیں کہ کیفی اعظمی کس قبیل اور کس رجحان کے شاعر ہیں تو بلا تکلف ہم ’آخر شب ‘ کی شاعری کو ان کی تخلیقی زندگی کابے بہا سرمایہ مان لیں گے اور میں سمجھتاہوں کہ اگر ترقی پسندی والی شاعری امتداد زمانہ کے سبب مٹ گئی یا ازکار رفتہ ہوگئی تو یہی شاعری کیفی اعظمی کو زندہ جاوید رکھنے کے لےے کافی ہوگی۔ کیونکہ اس قبیل کی شاعری میں ان کے یہاں بعض ایسی خوبصورت نظمیں پائی جاتی ہیںکہ ان کی مثال بھی مشکل ہی سے ملتی ہے۔ نقش ونگار، تصور، مجبوری، احتیاط ، پشیمان، بوسہ، اندیشے،ملاقات،نرسوں کی محافظ،تم،اور اسی طرح کی بعض دوسری نظمیں ان کی رومانی شاعری کی بہترین مثالیں ہیں۔ ان نظموں میں جو دلکشی، رعنائی، غنائیت، کیفیت، سراپانگاری، تازگی اور خوابناکی پائی جاتی ہے۔ وہ انہیں بہترین رومانی نظموں کے انتخاب میں شامل ہونے کا استحقاق فراہم کرتی ہے۔ کچھ نظموں کی جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں:
اے بنت مریم گنگنا اے روح نغمہ گائے جا
جیسے شگوفوں میں سماکر گنگناتی ہے ہوا
جیسے خلا میں رات کو گھونگھرو بجاتی ہے ہوا
نغمگی
حلاوتوں کی تمنا، ملاحتوں کی مراد
غرور کلیوں کا، پھولوں کا انکسار ہو تم
جسے ترنگ میں فطرت نے گنگنایا ہے
وہ بھیر ویں ہو وہ دیپک ہووہ ملہار ہو تم
تم
کلی کا روپ پھول کا نکھار لے کر آئی تھی
وہ آج کُلخزانۂ بہار لے کر آئی تھی
جبینِ تابناک میں کھلی ہوئی تھی چاندنی
چاندنی میں عکس لالہ زار لے کے آئی تھی
تمام رات جاگنے کے بعد چشم مست میں
یقیں کارس امید کا خمار لے کے آئی تھی 
گلابی انکھڑیوں کی سحر کاریوں میں خندہ زن
غرور فتح ورنگِ اعتبار لے کے آئی تھی 
وہ سادہ سادہ عارضوں کی شکریں ملاحتیں
ملاحتوں میں سرخیِ انار لے کے آئی تھی
ملاقات 
یہ کس طرح یاد آرہی ہو 
یہ خواب کیسا دکھا رہی ہو
کہ جیسے سچ مچ نگاہ کے سامنے کھڑی مسکرا رہی ہو
یہ جسم نازک، یہ نرم بانہیں، حسین گردن، سڈول بازو
شگفتہ چہرہ، سلونی رنگت، گھنیرا جوڑا، دراز پلکیں
نشیلی آنکھیں، رسیلی چتون، دراز پلکیں، مہین ابرو
تمام شوخی، تمام بجلی، تمام مستی، تمام جادو
ہزاروں جادو جگارہی ہو
یہ خواب کیسا دکھار ہی ہو
تصور
بند کمرے میں جو خط میرے جلائے ہوں گے
ایک اک حرف جبیں پہ ابھر آیا ہوگا
میز سے جب مری تصویر ہٹائی ہوگی
ہر طرف مجھ کو تڑپتاہوا پایا ہوگا
اندیشے
یہ تتلیاں جنہیں مٹھی میں بھینچ رکھا ہے
جواڑنے پائیں تو الجھیں کبھی نہ خاروں سے
تری طرح کہیں یہ بھی نہ بجھ کے رہ جائیں
تپش نچوڑ نہ اڑتے ہوئے شراروں سے
  نرسوں کی محافظ
کیفی اعظمی کی رومانی شاعری سے یہ مثالیں صرف اسی لےے پیش کرنی ضروری نہیں تھی کہ ان کی شاعری کے لحن کی تبدیلی کا انداز لگایاجاسکے، بلکہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ وہ حضرات جو انہیں محض کمیٹڈ شاعر کہہ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں بھی اس طرف متوجہ کیا جاسکے۔ بعض ناقدان ادب بڑی بے رحمی سے یہ فرمان سنا دیتے ہیں کہ کیفی اعظمی اور اس قبیل کے دوسرے ترقی پسند شاعروں کی شاعری اسی عہد اور ماحول کے لئے موزوں تھی، جس میں وہ تخلیق ہوئی تھی۔ اب وہ فضا بکسر بدل چکی ہے۔ اس لئے ان کی شاعری کا جواز بھی ختم ہوگیا۔
میں اس قسم کی فکر رکھنے والوں سے یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر آپ ادب کو روایتی جمالیاتی حسیات کی عینک کے بغیر دیکھنے کے روادار نہیں ہیں تب بھی آپ کیفی اعظمی کی شاعری کو ادب نکالا نہیں دے سکیں گے۔ کیونکہ وہ اپنی ابتدائی زندگی میں خاصی مقدار میں اس قسم کی شاعری کرچکے ہیں۔ ان کی متذکرہ بالانظموں کے ٹکڑوں کے مطالعہ سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ان کی شاعری میں صنف شاعری کی تمام خوبیاں پائی جاتی ہیں، جن کی برکت سے شاعری کے رخسار پرجمالیات کا غازہ دمکنے لگتا ہے تو اس کے ہونٹوں پر لطف وانبساط اور دلربائی کی یاقوتی سرخی لہریں لینے لگتی ہے۔ نظموں کے ان ٹکڑوں پر توجہ کیجئے اور ان کی لفظیاتی وصوتی حسن وآہنگ کو محسوس کرنے کی کوشش کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ان میں شاعرانہ الفاظ کی وہ بہتات ہے کہ اکثر شاعر اس پر رشک کرسکتے ہیں۔
روحِ نغمہ کا گائے جانا، ہواکا شگوفوں میں سماکر گنگنانا، گھٹاکا خلا میں رات کو گھونگھروں بجانا۔ حلاوتوں کی تمنا میں ملاحتوں کی مراد کا پالنا، کلیوں کے غرور کا پھولوں کے انکسار میں ظہور پانا، فطرت کا ترنگ میں آکر اس طرح نغمہ ریز ہونا کہ بھیرویں، ملہار اور دیپک کا سلگ اٹھنا، کلی کاروپ اور پھول کا نکھار لے کر کل خزانۂ بہار بن کر آنا، جبینِ تابناک میں چاندنی کا کھلنا اورپھر اس چاندنی میں عکس لالہ زار کا مسکرانا، تمام رات جاگنے کے بعد بھی چشمِ مست میں یقین کے رس اور امید کے خمار کا لہریں لینا، گلابی انکھڑیوں کی سحر کاریوں میں محبوب کا خندہ زن ہونا ، سادہ سادہ عارضوں کی ملاحتوں میں شکر کی حلاوتوں کا پایاجانا، ملاحتوں میں سرخیِ انار کا نمایاں ہونا اور پھر ایک قیامت سراپا محشر خیز حسن وانداز کی تصویر کا اس طرح مجسم ہونا کہ ایک ایک عضوکا حسن نمایاں ہوجائے اور جزیات نگاری اس طرح ابلاغ پائے کہ طبیعت شوقِ دےد میں تخیل کے جہان آباد کرلے۔ مثلاً جسم نازک، نرم باہیں، حسین گردن، سڈول بازو، شگفتہ چہرہ، سلونی رنگت، گھنیرا جوڑا، دراز گیسو، نشیلی آنکھیں، رسیلی چتون، دراز پلکیں، مہین ابرو اور ان تمام صفات وخوبی کا یکجاہوکر محبوب کی صورت میں جلوہ گر ہوکر اپنی شوخی ومستی سے جادو جگانا اور پھر انجام کار عشق ناکام کی صورت میں بند کمرے میں خط کا جلایاجانا، اک اک حرف کا جبین ناز پر ابھر آنا، میز سے محبوب کی تصویر کا ہٹایاجانا اور پھر ہر طرف کمرے میں عاشق کے تڑپنے کا منظر اور اڑتے شراروں سے تپش نچوڑنے کا عمل، یہ سب کے سب الفاظ اور ان سے تخلیق ہونے والے امیجز کسی بھی شاعر کے کلام کو معتبر بناسکتے ہیں۔
 یہ تو ہوا کیفی اعظمی کی شاعری کا وہ پہلو جو انہیں ایک کامیاب شاعر بناتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کس طرح ان کی شاعری بتدریج ارتقائی مراحل طے کرتی ہوئی ترقی پسندی کی معراج تک پہنچی۔ کیفی اعظمی جب رومانیت اورشعریت کی دنیا سے نکل کر اشتراکیت اور ارضیت کی پکاروں کی حقیقی دنیا میں داخل ہوئے تو ان کا لہجہ بالکل بدل گیا:
مرے مطرب نہ دے ﷲ مجھ کو دعوت نغمہ 
کہیں ساز غلامی پر غزل بھی گائی جاتی ہے
فکری اور نظریاتی قبولیت کا یہی وہ بدلتا ہوا زاویہ تھا جس نے کیفی کی تخلیقی حسیات سے محبوب کے جمال کی رعنائی کو رخصت کیا اور ان کی تخلیقی روح کو ملک وقوم کی حالت زار کی عکاسی کادرس دیا۔ اور پھر کیفی اعظمی پوری زندگی عوامی بیداری، اشتراکیت کی بحالی، سوشلسٹ سماج کے قیام کے لئے عوامی ذہن کی آبیاری کرنے میں اس طرح جٹ گئے کہ خود کو بھی فراموش کردیا۔ حدتو یہ ہے کہ وہ افلاس وغلامی کے خلاف بغاوت کی علم برداری کرتے ہوئے ایک شاعر سے ایک جانباز سپاہی بن گئے۔ انہوں نے ’آوارہ سجدے‘کے دبیاچے میں خود ہی لکھا ہے : 
”میری شاعری نے جو فاصلہ طے کیا ہے، اس میں وہ مسلسل بدلتی اور نئی ہوتی رہی ہے (بہت آہستہ ہی سہی) آج وہ جس موڑ پر ہے۔ اس کانیاپن بہت واضح ہے۔ یہ رومانیت سے حقیقت پسندی کی طرف کوچ کاموڑ ہے۔“ 
یہ حقیقت ہے کہ ان کی شاعری میں تبدیلی رفتہ رفتہ آئی ہے۔ ان کے شروع کے حقیقت پسندانہ کلام پر بھی رومانیت کے سائے منڈلاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جس سے وہ رفتہ رفتہ چھٹکارا پانے میں کامیاب ہوئے ہیں:
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
گوشے گوشے میں سلگتی ہے چتا تیرے لیے
فرض کا بھیس بدل لیتی ہے فضا تیرے لیے
قہر ہے تیری ہر اک نرم ادا تیرے لیے
ہاں اٹھا جلد اٹھاپائے مقدر سے جبیں
میں بھی رکنے کا نہیں میںکبھی رکنے کا نہیں
اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے
عوامی بیداری اور عورت کی زبوں حالی کے پس منظر میں لکھی گئی کیفی اعظمی کی یہ نظم جس میں عورت کو بغاوت پر اکسایاجارہا ہے، اتنی ٹھوس نہیں ہے جتنی عموماً ترقی پسند نظمیں ہوتی ہیں۔ اس نظم کے لہجہ میں شاعرانہ پن پایاجاتا ہے۔ اس نظم میں شعریت، لطافت اوربہت حد تک نزاکت بھی پائی جاتی ہے۔ مگر ان کا یہ شاعرانہ لہجہ ہر جگہ قائم نہیں رہتا ہے۔ وقت، حالات اور واقعات وحادثات کے تحت ان کے لہجے میں کرختگی، سختی اور کسی حد تک برہنہ گفتاری پیدا ہوجاتی ہے اور وہ غزلوں کے اشعار میں بھی اپنے جذبات کو نہیں روک پاتے ہیں:
بیلچے لاﺅ کھودو زمیں کی تہیں
میں کہاں دفن ہوں کچھ پتہ تو چلے
کیفی اعظمی ایک سچے اور ایماندار اشتراکی تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے اشتراکی ہونے پر تمام عمر فخر کرتے رہے۔ یہ اشتراکیت اور مارکسیت سے محبت ہی کانتیجہ تھا کہ وہ کبھی روس کی عظمت کا گیت گانے لگتے تھے تو کبھی اسٹالن کو ہیرو بنادیتے تھے۔ وہ مارکسیت واشتراکیت کے متوالوں کو اپنا آئیڈیل سمجھتے تھے اور روس وچین کو اشتراکی حکومت کو مثالی طاقت سمجھتے تھے۔ اسی زمانہ میں چین نے ہندوستان پر حملہ کردیا۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا، جس سے اشتراکیت کے متوالے ہندوستانیوں کو سخت صدمہ پہنچا۔ اس زمانہ میں کیفی فلم سے منسلک تھے۔ ان کا گیت
کرچلے ہم فدا جان وتن ساتھیو
اب تمہارے حوالے وطن ساتھیو
اسی زمانہ کی یادگار ہے۔ جب کمیونسٹ اکائی دودھروں میں بٹ گئی تو کیفی اعظمی بھی ٹوٹ گئے اور ان کے سجدے آوارہ ہوگئے۔ اسی زمانہ میں انہوں نے ’آوارہ سجدے‘ جیسی نظم لکھی :
راہ میں ٹوٹ گئے پاﺅں تو معلوم ہوا
جز مرے اور مرا راہ نماکوئی نہیں
کیفی اعظمی کمیونسٹ اور اشتراکی نظام کے حامی ایک مخلص، عوام دوست اور محب وطن انسان وشاعر تھے۔ فرقہ پرستی، تعصب زدگی، مذہبی انتہا پسندی اور منافقت کی کمینگی وکم بدبختی انہیں سخت ناپسند تھی، وہ بڑے یقین اور اعتماد سے کہا کرتے تھے کہ :
”غلام ہندوستان میں پیدا ہوا، آزاد ہندوستان میں بوڑھا ہوا اور سوشلسٹ ہندوستان میں مرجاﺅں گا۔ “
ان کو پختہ یقین تھا کہ ہندوستان میں اشتراکیت کی شجرکاری جوں جوں بڑھتی جائے گی، ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی خوشبو پھیلتی جائے گی اور ایک دن تمام اہل وطن اس خوشبو کی سرشاری سے ایسے مست ہوجائیں گے کہ اشتراکیت اور مساوات کی پربہار فضا پیدا ہوجائے گی۔
لیکن ان کا یہ خوبصورت خواب ان کی زندگی ہی میں ریزہ ریزہ ہوکر بکھر گیا۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے مفاد پرست سیاست دانوں کو اشتراکیت پر مذہبیت کوفوقیت دیتے ہوئے دیکھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اشتراکیت کا نوخیز پودا سوکھ گیا۔ اور امن وامان کے خواب سنجونے والی زمین پر فسادات کے شعلے بھڑک اٹھے۔ ان واقعات وحادثات نے انہیں بہت گہرا صدمہ پہنچایا۔ اور وہ آوارہ سجدے، بہروپنی اور موت جیسی نظمیں لکھنے پر مجبورہوئے۔ ان کی طویل نظم ’خانہ جنگی‘47 19کے فساد کی منہ بولتی تصویر ہے جو کیفی کے جذبات و احساسات کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ یہ نظم آج کے فرقہ وارانہ ماحول کو بھی خوب درشاتی ہے:
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
سوکھتی ہے پڑوسیوں سے جان
دوستوں پر ہے قاتلوں کا گمان
شہرویراں ہیں بند ہیں بازار
رینگتا ہے سڑک پہ گر م غبار
رہزنی داخلِ جہاد نہیں
فطرت ِشرع میں فساد نہیں
کہہ کے تکبیر باندھ کے نیت
ماﺅں بہنوں کی لوٹ لی عزت
گیت گاکے مہاتماجی کے
پیٹ ماﺅں کے چاک کر ڈالے
لاش علم وادب کی حکمت کی
لاش کلچر کی آدمیت کی
اے وطن اس قدر اداس نہ ہو
اس قدر غرق رنج ویاس نہ ہو
کیفی اعظمی کے یہاں قنوطیت نہیں رجائیت پائی جاتی ہے۔یہی وہ خوبی ہے جو انہیں منفعل ہونے سے بچاتی ہے۔ تخلیقی سطح پر کیفی اعظمی کا ادب میں یہ المیہ رہا ہے کہ انہیں کسی رجحان کے ناقد نے دل سے قبول نہیں کیا۔ حد تو یہ ہے کہ بعض اوقات ترقی پسندوں نے بھی ان سے عدم دلچسپی کا اظہار کیا۔ خود تنقیدی برادری کے بہت سے نقادوں نے اپنی تن آسانی کے لیے ان کی بعض ہنگامی نظموں کا سرسری جائزہ لے کر انھیں کمیٹڈکا سرٹیفکیٹ پکڑاکر جان چھڑانے کی عاجلانہ کوشش کی ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ ادبی رویہ تنقید کے کس خانے میں فٹ بیٹھتا ہے۔ ہم جان چکے ہیں کہ اگر وہ چاہتے تو اپنی ’آخر شب‘کی شاعری کے ساتھ جی لیتے اور ادب میں وہ مقام پالیتے جو کسی بھی شاعر کے لئے معیاری اور منفرد ہوتا ہے۔ لیکن انہوں نے ملک وقوم کی حالت زار کے پیش نظر اپنے تمام تر رومانی رویے کو یکسر مسترد کردیا۔ تو کیا ہمیں عوامی ہمدردی اور وقت کی پکاروں کے حامل اس رویہ کی تکذیب پوری طرح ذہن نشین ہوجانی چاہئے کہ جمالیاتی اور رومانی احساسات سے کہیں زیادہ مشکل اور مفید سماجی ذمہ داریوں کا احساس ہوتا ہے۔ میں سمجھتاہوں کہ انہوں نے سماجی شعور کو تخلیقی احساسات کی تہذیب میں حل کرکے وقت کے تقاضوں کی تکمیل کا حوصلہ مندانہ ثبوت فراہم کیا ہے جو سب کے بس کی بات نہیں تھی۔یہ درست ہے کہ ان کی شاعری میں جب مقصد یت اپنی پوری شوریدگی کے ساتھ شامل ہوگئی تو ان کے یہاں سے شعریت، لطافت اور نزاکت رخصت ہوگئی۔
شاعری خطاب اور منشور بن گئی۔ اور ان کی بعض نظمیں سیاسی تھیم کا منظوم ترجمہ محسوس ہونے لگی۔ لیکن قومی دردمندی بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے۔ اگر قومی دردمندی کی کوئی اہمیت ہے تو یقینا ان کی اس قبیل کی شاعری کی بھی اہمیت ہے۔ 
لٹنے ہی والا ہے دم بھر میں حکومت کا سہاگ
لگنے ہی والی ہے جیلوںدفتروںتھانوں میں آگ
مٹنے ہی والا ہے خوں آشام دیوزر کا راج
آنے ہی والا ہے ٹھوکر میں الٹ کر سر سے تاج
چھٹنے ہی والی ہے ظلمت پھنکنے ہی والا ہے صور
رفتہ رفتہ کیفی اعظمی نے تخلیقی سطح پر سنگلاخ زمینوں پر چلنے کی عادت ڈالی، وہ رومان پرور فضا سے باہر آگئے۔ اب انہیں ہوا کا خلا میں گھونگھرو بجانا اتنا متوجہ نہیں کرتا ہے، جتنا زمین پر بسنے والے عوام کی درد انگیز کراہ متوجہ کرتی ہے۔ اب ان کی ساری توجہ اپنے آس پاس کی جیتی جاگتی دنیا اور اس میں آباد انسانوں پر مرکوز ہوگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ان کی شاعری میں عام لوگوں کا ہجوم ہمیں دور ہی سے نظر آتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ہجوم کیفی کا دیوانہ ہے۔ جواُن کی معیت میں بڑھتا ہی چلاجاتا ہے:
الٹ کر ایک ٹھوکر میں ستم کاراج رکھ دیں گے 
اٹھاکر اپنی پستی کو سرمعراج رکھ دیں گے
وہ اک گل کی حکومت تھی کہ گلشن لٹ گیا سارا
ہم اب کے غنچے غنچے کی جبیں پر تاج رکھ دیں گے
چلو وادیو، ساحلو، دلدلو
چلو معدنو، کھیتیو، زلزلو
بغاوت کا پرچم اڑاتے چلو
نشانات ستم تھرا رہے ہیں
حکومت کے علم تھرا رہے ہیں
غلامی کے قدم تھرا رہے ہیں
غلامی اب وطن سے جارہی ہے
اٹھو دیکھو وہ آندھی آرہی ہے
آج کی رات بہت گرم ہوا چلتی ہے
آج کی رات نہ فٹ پاتھ پہ نیند آئے گی
سب اٹھیں میں بھی اٹھوں تم بھی اٹھو تم بھی اٹھو
کوئی کھڑکی اسی دیوار میں کھُل جائے گی
سماجی شعور کی یہی بالیدگی اور آزادی کے لیے بغاوت کے لحن میں گایا گیا انقلاب کا یہی رجز اور حب الوطنی کی یہی سرشاری کیفی کی شاعری کا لہو اور ان کی زندگی کا مقصود ومنہاج تھا۔ ان کی طبیعت میں چونکہ شعریت رچ بس گئی تھی۔ اس لیے یہ استثنائے چند جب وہ پارٹی لائن کے لئے خالص مقصدی شاعری کرتے ہیں تب بھی ان کے یہاں شعریت پیدا ہوہی جاتی ہے۔ دوسری اہم اور خاص بات یہ ہے کہ دوسرے فنکاروں کی طرح اشتراکیت کیفی کے لئے محض ایک نظریہ نہیں تھا۔ اشتراکیت تو ان کی زندگی کا ماحصل بن گیا تھا۔ اشتراکی نظریہ کا یہی وہ فطری انجذاب تھا جس نے ان کی شاعری کو شعری تہذیب کے دائرہ سے خارج نہیں ہونے دیا۔
کیفی اعظمی نے جس اشتراکی ہندوستان کا خواب دیکھا تھا وہ پورا نہیں ہوا۔ اس پر سے ستم یہ ہوا کہ جس فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے انہوں نے اپنا خون جگر جلایاتھا، وہ بھی بیکار ہوگیا اور اپنی زندگی کے آخری ایام میں بابری مسجد کے انہدام کی شکل میں فرقہ پرستی کا ننگاناچ بھی دیکھناپڑا۔ انہوں نے بابری مسجد کی شہادت پر جو نظم لکھی ہے وہ بھی ان کی موضوعاتی نظموں میں ایک امتیازی پہچان رکھتی ہے۔
رقص دیوانگی آنگن میں جو دیکھا ہوگا
6 دسمبر کو شری رام نے سوچا ہوگا
اتنے دیوانے کہاں سے مرے گھر میں آئے
تم نے بابر کی طرف پھینکے تھے سارے پتھر
ہے مرے سر کی خطا زخم جو سر میں آئے
رام یہ کہتے ہوئے دوار سے اٹھے ہوں گے
راجدھانی کی فضا آئی نہیں راس مجھے
6 دسمبر کو ملا دوسرا بن باس مجھے
کیفی اعظمی ایک باعمل، باکردار اور سچے فنکار وشاعر تھے۔ وہ اپنی شاعری میں جن باتوں کا اعادہ کرتے تھے، ان پر خود بھی عمل پیرا ہوتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری اور ان کی زندگی میں گہرا ربط پایاجاتا ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں حتی المقدور اپنے عہد کی روداد کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔ کیفی کے بعض ہم عصروں نے کیفی پر الزام لگایا ہے کہ کیفی بہت ہی موقع پرست اور بہت حریص انسان تھے۔ان کا کہنا ہے کہ کیفی اتنے چالاک اور ہوشیار تھے کہ انہوں نے شہرت اور اعزاز واکرام کے ساتھ ساتھ پیسے کمانے کے کسی موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ اگر ہم اس قسم کی باتوں کوسچ مان لیں تب بھی ان کی شخصیت پر کوئی حرف نہیں آتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے جو اعزازو اکرام اور شہرت حاصل کی ہے اس سے عوام ہی کو فائدہ پہنچایا۔ اگر وہ شہرت نہیں حاصل کرپاتے تو ان کا آبائی گاﺅں مجوادھول اور تاریکی سے باہر نکل کر ترقی وخوشحالی کی راہ پر نہیں آتا۔ اگر ہمارے تمام فنکار وشاعر کیفی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایک ایک گاﺅںکو گود لے لیتے تو آج ہندوستان کا ماحول بہت کچھ بدل گیا ہوتا۔ یہ کیفی کی شہرت وعظمت ہی کی برکت ہے کہ اس نے مجواگاﺅں میں سڑکیں بنوادیں، بجلی لگوادی، اسپتال اور اسکول کی تعمیر کروادی۔
رہی دولت کی بات تو کیفی شاید دنیا کے دوسرے اور ہندوستان کے پہلے شاعر ہیں، جنہوں نے ٹالسٹائی کی طرح اپنی تمام موروثی زمین غریب کسانوں میں تقسیم کردی۔ اگر واقعی کیفی ایک حریص انسان ہوتے تو وہ ممبئی کی جگمگاتی دنیا کو چھوڑ کر مجواجیسے پچھڑے گاﺅں میں نہیں آتے اور نہ اس گاﺅں کی ترقی کے لئے تکلیفیں اٹھاتے اور نہ اپنی زمین غریب کسانوں میں تقسیم کرتے۔ کیفی کا عملی اور تخلیقی کردار کم سے کم اتنا مضبوط تو ہے کہ وہ اس قسم کے اوچھے واروں کو مسترد کرکے اپنی انفرادیت کو قائم ودائم رکھ سکے۔ 

Afaque Alam Siddiqui, ....


 ماہنامہ اردو دنیا، جنوری 2014


 قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

بدھ، 25 ستمبر، 2019

نئے لفظی نظام کا شاعر: ناصر کاظمی مضمون نگار:محمد حنیف خان



نئے لفظی نظام کا شاعر: ناصر کاظمی
محمد حنیف خان

ادب کی بنیاد لفظی نظام پر ہے،یہ لفظی نظام جتنا چست اور درست ہو گا اسی اعتبار سے اعلیٰ درجہ کا ادب وجود میں آئے گا۔،جب رعایت لفظی کو ملحوظ رکھتے ہوئے لفظوں کا استعمال کیا جاتا ہے تو ادبی زبان وجود میں آتی ہے لیکن اگر ان کا محل استعمال،نشست و برخاست مناسب نہ ہوتو وہ ادب نہیں ہوگا اس کے علاوہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔یہ لفظی نظام بھی مرور زمانہ کے ساتھ بدلتا رہتا ہے جس کو ادب کی اصطلا ح میں ’اسلوب‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ولی دکنی سے لے کر قائم چاند پوری،میر تقی میر، غالب، ذوق،سودا،ناسخ، اقبال اور فراق تک کی شاعری پر اگرایک طائرانہ نظر ڈالیں تو گذران وقت کے ساتھ لفظی نظام میں ہو ئی تبدیلی کو بحسن و خوبی محسوس کیا جاسکتا ہے۔کسی بھی شاعر کا لفظی نظام اسی وقت نیا تصور کیا جائے گا جب اس نے زمانے سے الگ روش اختیار کرتے ہوئے لفظوں کا استعمال کیا ہو،ناصر کاظمی اس باب میں بالکل منفرد ہیں کیونکہ انھوں نے ایسا ہی کیا۔انھوں نے ترقی پسندی جیسے پرشور دور میں ایک نیا انداز تکلم اختیار کیا۔ ناصر کاظمی کا اپنا لفظی نظام ہے جو دوسرے ہم عصر شعرا سے مختلف ہے،انھوں نے ترقی پسند دور میں غزلیہ شاعری کو ایک نیا لفظی نظام دیاجس نے حال کے رشتے کو ماضی سے جوڑ دیا، انھوں نے اپنے محسوسات کو بڑے سیدھے سادے انداز میں پیش کیا مگر اس میں جدت تھی جو دوسروں سے بالکل مختلف تھی پروفیسر ابوالکلام قاسمی رقمطراز ہیں:
”ناصر کاظمی کے زیراثر پروان چڑھنے والی فضا کوجدیدیت کے میلان سے وابستہ سمجھا گیا تھا حقیقت یہ ہے کہ اس فضا کا رشتہ ماضی قریب میں فراق سے ہو تا ہوا ماضی بعید میں میر تقی میر سے ملتا تھا “
(کثرت تعبیرص99 پروفیسر ابوالکلام قاسمی)
پروفیسر انیس اشفاق نے بھی یہی بات کہی ہے وہ کہتے ہیں کہ:
”ناصر کاظمی نے فراق کو وسیلہ بنا کر اس لہجے کے ذریعہ میر کی روایت کی تجدید کی اور غزل کو نیا مزاج عطا کیا “
(غزل کا نیا علامتی نظام ص27انیس اشفاق)
ناصر کاظمی کی غزل میں نہ صرف خدائے سخن میر تقی میر کے لہجے اور لفظیات کی بازگشت ہے بلکہ ان کی غزلیہ شاعری کا دھیما لہجہ پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔جس طرح میر نے دھیرے دھیرے دلوں کو گرمایا اور دل کو لہو بنا کر آنکھو ں سے ٹپکا یا۔ اسی طرح ناصر نے خود کو تپایا اور دوسروں کو محسوس کرایا۔مولانا حسرت موہانی کی شاعری بلا شبہ غزل کی نشاة ثانیہ ہے اور ناصر کاظمی اسی نئی غزل کے معمار ہیں حالانکہ نئی غزل کے معماروں میں وہ تنہا نہیں ہیں بلکہ ان کے ساتھ کئی اور شعرا ہیں جن میں خلیل الرحمن اعظمی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ابتدا میں خلیل الرحمن اعظمی پر بھی میر کا بہت اثر تھا مگر بعد میں انھوں نے خود کو میر کے سحر سے آزاد کر لیا لیکن ناصر کاظمی میر کے زیراثر لہجے میں غزل کو توانائی بخشتے رہے۔ناصر کاظمی نے لفظوں کو نئے انداز میں برتا جس کی وجہ سے وہ دوسروں سے مختلف ہوگئے وہ کہتے ہیں  
گھر میں اس شعلہ رو کے آتے ہی 
روشنی شمعدان سے اتری 
اڑ گئے شاخوں سے طیور 
اس گلستاں کی ہوا میں زہر ہے 
سفر شوق کے فرسنگ نہ پوچھ 
وقت بے قید مکاں تھا پہلے 
چاند نکلا تو ہم نے وحشت میں 
جس کو دیکھا اسی کو چوم لیا 
پھر سلگنے لگا صحرائے خیال
 ابر گھر کر کہیں بر سا ہو گا
اے گلستان شب کے چشم و چراغ 
کبھی اجڑے دلوں کے بن میں آ
دل ٹپکنے لگا ہے آنکھوں سے 
اب کسے رازداں کرے کوئی 
ان تمام اشعار میں کوئی نہ کوئی ندرت ہے جس نے ناصر کو دوسروں سے مختلف کیا،جن کی حقیقت ان کے تجزےے سے کھل کرسامنے آئے گی۔ پہلے شعر میں روشنی کا اترنا لفظی اعتبار سے سب سے اہم ہے۔ گھر میں روشنی ہو جا نا،کہیں کسی روزن سے روشنی آنا تو کو ئی نئی بات نہیں لیکن روشنی کے اترنے میں ضرور نئی بات ہے،اس شعر کی فضا بندی اور روشنی کی پیکر تراشی بالکل نئی ہے ناصر کاظمی نے بڑی ہنر مندی کے ساتھ شعلہ رو کے آتے ہی روشنی کو شمعدان سے اتاری ہے در اصل جب گھر روشن ہو تا ہے تو وہ ایک دم سے ہوجاتا ہے مگر جب کو ئی چیز اترتی ہے تو تدریج پائی جاتی ہے اور وہ دھیرے دھرے اپنے وجود کو منکشف کر تی ہے۔ یہاں اترنے والی روشنی میں قدوم پایا جاتا ہے اور تدریج اس کی نشانی ہے جو دھیرے دھیرے آئی اور گھر روشن ہو گیا۔ جہاں تک بات شمعدان کی ہے تو ظاہرسی بات ہے کہ جب گھر میں روشنی کی کرن نظر آئی تو شاعر کی نگاہ سب سے پہلے وہاں رکھی شمعدان کی طرف ہی گئی ہو اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ شاعر یہاں شمعدان سے شعلہ رو کو مراد لے رہاہو۔دوسرے شعر کی فضا بندی بالکل مختلف ہے انھوں نے ان علامات اور تلازمات کو ایک دوسرے سے دور کردیا جو ایک دوسرے کے بغیر نامکمل تصور کی جاتی ہیں جن کے بغیر کسی ایک کا بھی وجود کامل نہیں مانا جا سکتا۔ اس شعر میں گلستاں علامت ہے شاخ،طیور،اور ہوا اس کے تلازمات ہیں جن میں قرب پایا جاتا ہے اور ناصرنے لفظ ”زہر “جو نفرت اور نا پسندیدگی کی علامت ہے کا استعمال کرکے ان میں بعد پیدا کر دیا ہے۔علامت اور تلازمات کے قرب میں جو بعداور تنافر پیداہواہے وہ زمانے کی دین ہے اور اس کوناصرنے محسوس کیا ہے۔ تیسرے شعر میں انھوں نے وقت لا محدود کو محدود بتایا ہے ’بے قید مکاں ‘کہہ کرانھوں نے واضح کر دیا کہ اب اس میں بھی چہار دیواری کا وجود ہو گیا ہے۔چوتھے شعر میں تو انھوں نے اور عجیب بات کہی ہے، خوشی نہیں وہ وحشت میں چومنے کا عمل انجام دے رہے ہیں،چاند خوشی کی علامت ہے مگر ناصر نے ’چاند ‘اور ’وحشت ‘ کو یکجا کر کے اس کو بھی ڈر اور خوف کی علامت بنا دیا،دراصل یہاں احساس کی کارفرمائی ہے اوریہ وحشت حقیقت میں گھبراہٹ ہے۔چاند کو جو نئے معانی ملے وہ ناصر کے نئے لفظی نظام کی وجہ سے ہی ممکن ہو سکا ہے۔پانچویں شعر میں ناصرنے ’صحرائے خیال ‘کے سلگنے اور ابر برسنے کی بات کہی ہے۔ دراصل جب کہیں ابر برستا ہے تو اس سے مس ہو کر آنے والی ہواؤں میں خنکی پائی جاتی ہے جس کا اثر محسوس کیا جاتا ہے مگرشاعرکے صحرائے خیال کو جب محسوس ہو تا ہے کہ اس کا محبوب کہیں برس کر رقیبوں کو خوشی پہنچا رہا ہے تو وہ سلگنے لگتے ہیں،اور ان کا سلگنا بھی اس بات کی علامت ہے کہ محبوب خوش باشیوں میں مصروف ہے۔ناصر نے عاشق اور معشوق کے لیے ابر اور صحرا کی علامت استعمال کی ہے۔چھٹے شعر میں ناصر نے کئی علامتیں یکجا کی ہیں ’گلستان، ’‘ شب‘، ’دل ‘،’ بن‘وغیر ہ مگر انھوں نے گلستان اور شب کو مرکب استعمال کر کے ان دوعلامتوں کواکائی میں بدل کر نئے معانی دے دیے۔ ’گلستان شب‘ گلزار ابراہیم کے مترادف ہے جو تھی تو آگ مگر ان کے لیے وہ آگ بھی گلزار تھی بعینہ یہی حال یہاں شاعر کا ہے۔ ایسی تاریک زندگی کاوہ ذکر کر رہا ہے جو بے نور ہے جس میں صرف مایوسی اور تاریکی ہے، امید کی کوئی کر ن نہیں ہے مگر چشم و چراغ کی یاد کی وجہ سے کالی رات اس کے لیے گلستان کے مانند ہے مگر کسی کی کمی کا احساس ہے جس کو چشم و چراغ سے تعبیر کر رہا ہے یہ کوئی اور نہیں بلکہ اس کا اپنا محبوب ہے جس کووہ بڑے درد و کرب کے ساتھ بلا رہا ہے اور یہ کہہ کر بلا رہا ہے کہ یہ زندگی اجڑے دلوں کاجنگل ہے، آجا تو اجڑا بن گلستاں میں تبدیل ہو جائے۔ شاعراپنی تاریک رات میں محبوب کی آمد سے حقیقی روشنی کا خواہاں ہے۔ساتویں شعر میں ناصر نے دل کو آنسوؤں کا استعارہ بنا دیا ہے،دل تو نہیں ٹپکتا مگر جب وہ کڑھتا ہے تو آنسوضرور ٹپکنے لگتے ہیں۔ ان آنسوؤں کا تعلق دل سے ہی ہے اگر دل میں ٹیس اور کسک نہ ہوتی تو یہ آنسو بھی نہ آتے اس لیے انھوں نے دل جو سبب ہے اس کو آنسوجو مسبب ہے کی جگہ استعمال کر دیا۔اس طرح انھوں نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ آنسو کی جگہ دل ٹپکا دیا۔مذکورہ بالا اشعار کے علاوہ بھی ناصر کے یہاں بہت سے اشعار ہیں جو نئے محسوسات پر دلالت کر نے کے ساتھ ہی اس بات پردلالت کرتے ہیں کہ انھوں نے قدیم لفظیات سے نئی فضا سازی کی کوشش کی ہے مثلا 
ذرا گھر سے نکل کر دیکھ ناصر
چمن میں کس قدر پتے پڑے ہیں 
ہمارے گھرکی دیواروں پہ ناصر
اداسی بال کھولے سو رہی ہے 
دل تو میرا اداس ہے ناصر 
شہر کیوں سائیں سائیں کر تا ہے 
ترے شہر کا اسٹیشن بھی 
میرے دل کی طرح سو نا تھا 
 ناصر کے محولہ بالاتمام اشعار جدیدمحسوسات سے لبریز ہیں۔چمن میں پتے پڑے ہونے کی بات کہہ کر شاعر نے واضح کردیا ہے کہ گھرمیں جانے سے قبل خزاں نے دستک نہیں دی تھی مگر اس قلیل وقفے میں اس نے اپنا منحوس ڈیرا ڈال دیا اہم بات یہ کہ شاعر نے بہت ہی سبک انداز میں اپنی بات کہہ دی ہے۔اسی طرح جس طرح انھوں نے اداسی کی پیکرسازی کی ہے وہ بھی بہت اہم ہے،کیونکہ اداسی کا بال کھول کر گھر کی دیواروں پرسونا بڑی گہری بات ہے جواس بات کی بھی علامت ہے کہ یہاں ہر طرف اداسی ہی اداسی ہے کہیں بھی خوشی کا نام و نشان تک نہیں ہے ناصر نے ”اداسی“جوغیرمرئی ہے جس کو صرف محسوس کیا جا سکتا ہے اس کو مرئی شکل دے دی ہے اور شعر کی قرأت کے ساتھ ہی ہماری نظروں کے سامنے ایک ہیولیٰ آجا تا ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور دیواروں سے لپٹی ہے چھوڑ نے کا نام نہیں لے رہی ہے۔اس شعر سے یہ پتہ بھی چلتا ہے کہ انھوں نے خواتین کی نفسیات کا بھی گہرا مطالعہ کیا ہے۔بال کھلنا اور کھولنا دونوں کے الگ الگ معنیٰ ہیں اور ناصر نے جو یہاں کہا ”اداسی بال کھولے سورہی ہے “ اس با ت کی غمازی ہے کہ اداسی خودکسی کا غم منا رہی ہے جس طرح جب گھر میں موت ہوتی ہے تو خواتین غم مناتی ہیں جس میں وہ اپنے بال کھول کر بکھرا دیتی ہیں کیونکہ بال کھول کر سوگ اور غم منانا خواتین کی نفسیات میں شامل ہے۔اس طرح انھوں نے واضح کر دیا کہ وہ اور ا ن کا گھر اداسیوں کا مسکن ہیں۔ یہ وہ پیکر ہے جس کو پیش کرنے سے قدیم شعراقاصر رہے ہیں جس کی مثال شاعری کی تاریخ میں نہیں ملتی۔اسی طرح انھوں نے اگلے شعر میں انھوں نے اپنے دل کی اداسی پر سارے شہر کو اداس محسوس کیا جس کااظہار عامی لفظ ’سائیں سائیں‘ سے کیا ہے یہ لفظ عام بول چال میں تو استعمال ہوتا رہا ہے مگر شاعری میں اس خوبصورتی کے ساتھ پہلی بار انھوں نے استعمال کیا،جس میں ایک جہان معانی ہے۔ یہ ان کے لفظوں کے نئے استعمال سے ہی ممکن ہو سکا ہے۔ناصر نے آخری شعر میں لفظ”اسٹیشن “کا بھی بڑی خوبصورتی سے استعمال کیا ہے اور اس استعمال میں اہم بات یہ رہی کہ انھوں نے اسٹیشن کی تشبیہ دل سے دی ہے دونوں میں بہت اچھی مماثلت یہ پائی جا تی ہے کہ جب دل محبوب کے قریب ہو تو بڑی تیزی سے دھڑکتا ہے اور ایک ہنگامہ سا مچا رہتا ہے مگر جب محبوب دور ہو اور اس سے ملنے کی کوئی امید نہ ہو تو بالکل بجھا بجھا سا رہتا ہے اسی طرح اسٹیشن بھی کہ جب ٹرین کی آمد کا وقت ہو تا ہے تو افرا تفری کا ماحول رہتا ہے مگر جیسے ہی مسافر گئے اس کی حالت دیدنی ہو تی ہے۔ایک بات اور اگر شاعر نے رات میںمحبوب کے شہر کا اسٹیشن دیکھاہو جو دل کی طرح سونا تھا تو ایک اچھی مماثلت اور پائی جاتی ہے جس طرح اسٹیشن پرسگنل کے لیے ایک روشنی ٹمٹماتی رہتی ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ ٹرین آئے گی اور مسافر آئیں گے جس سے ایک بار پھر یہاں ہنگا مہ بر پا ہو گا اسی طرح شاعر کا دل ہے کہ ابھی تو سونا ہے مگر امید کی ایک کرن ہے جس کی وجہ سے زندگی میں ایک وقت ضرور آئے گا جب دل کو خوشی ہو گی وہ محبوب کے پہلو پہنچ کر خوب اچھلے گااور عاشق تو ہمیشہ رجائی ہی ہوتے ہیں۔اس طرح ناصر نے غیر زبان کے لفظ کو شاعری میں خوبصورتی سے برت کر اپنی مہارت اور فنی دسترس کا مظاہرہ کیا۔ 
ناصر کی شاعری میں ایسے بھی مضامین ہیں جو نہ صرف دوسروں کے یہاں مفقود ہیں بلکہ غزلیہ شاعری میں اس کی مثال نہیں ملتی۔غزل تو محبوب سے باتیں کر نے کا نام ہے مگرناصر کے یہاں کہیں کہیں اس سے برگشتگی بھی پائی جاتی ہے میرے خیال سے ناصر نے علم بیان کی ایک اصطلاح ’تشبیہ مقلوب‘ کو غزل کا جامہ پہنا دیا ہے جس میں مشبہ بہ تشبیہ سے بالکل برعکس ہوتی ہے حالانکہ ناصرنے ان اشعار میں تشبیہ اور مشبہ بہ کا استعمال نہیں کیاہے مگر مضمون کی حد تک انھوں نے ایسا ضرور کیا ہے کیونکہ غزل کے مضمون اور ان کے اشعار کے مضمون میں تضاد پایا جاتا ہے مثال کے طور پر ان کے یہ اشعار نقل کیے جاتے ہیں  
رشتہ جاں تھا جس کا خیال
 اس کی صور ت بھی تو اب یاد نہیں 
شوق کیا کیا دکھائے جاتا ہے 
دل تو تجھے بھی بھلائے جاتا ہے
 ترے شہرطرب کی رونقوں میں
طبیعت اور بھی گھبرا رہی ہے 
یہ کیا کہ ا یک طور سے گذرے تمام عمر
جی چاہتا ہے اب کوئی تیرے سوا بھی ہو 
مذکورہ بالا اشعار میں نہ تو محبوب کے تئیں فدائیت ہے اور نہ ہی گذرے ہوئے اوقات کی کسک اور جو ساتھ میں وقت بیت رہا ہے اس کی خوشی جوغزل کا اصل مضمون ہے اس کے باوجود ان اشعار میں کوئی ایسی بات ضرور ہے جو شعر کواعلیٰ درجے کا بنا تی ہے اگر ان اشعار کا ہم گہرائی سے تجزیہ کریں تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ شاعر پس لفظ کچھ کہنا چاہتا ہے اور وہ ہے زمانے کی روش جس کا اظہار وہ کر رہاہے جہاں شو ق کسی کو بھلا رہا ہے اور وقت کی تیزو تندآندھی نے محبوب کی صورت کو کھرچ کھرچ کر اس کے ذہن سے محو کر دیا ہے اور شہرطرب کی رونقیں بھی اب اس کو اچھی نہیں لگتی۔ ناصر کا آخری شعر تو بہت اہم ہے کیونکہ جو بات ابھی تک شاعر بالواسطہ کہہ رہاتھاجس کی بہت سی وجوہات ہوسکتی تھیں وہی بات شاعر نے یہاں بلا واسطہ کہہ دی جو تلون مزاجی پر دلالت کرتا ہے لیکن اس میں اچھی بات یہ ہے کہ شاعر وقت کے اعتبار سے جس طرح دیگر باتوں میں جمود کا قائل نہیں ہے اسی طرح وہ محبوب کے معاملے میں یک رنگی نہیں پسند کرتا بلکہ وہ تغیراور جدت کا نہ صرف قائل ہے بلکہ وہ اس کا دلدادہ ہے۔جو ہرشے کی خوبصورتی تبدیلی میں تصور کر تا ہے۔در اصل ناصر نے اس شعر میں اس خیال کو نظم بند کیا ہے جو پورے سماج میں عام ہے۔
ناصر کی ایک اہم اور بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ انھوں نے چھوٹی بحروں میں بڑی چابک دستی کے ساتھ شاعری کی ہے جس طرح میر نے چھوٹی بحروں کو استعمال کرکے سہل ممتنع کی ایسی مثالیں قائم کی جس کا کوئی جواب نہیں،میر نے کہا تھا  
نازکی اس کے لب کی کیا کہےے
 پنکھڑی ایک گلاب کی سی ہے 
ناصر کے چند اشعار سے ان کی سہل نگاری کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے  
 یاد آتا ہے روز و شب کوئی 
ہم سے روٹھا ہے بے سبب کوئی
تیرا قصور نہیں، میرا تھا
میں نے تجھ کو اپنا سمجھا تھا
شوق کیا کیا دکھائے جاتا ہے
دل تجھے بھی بھلائے جاتا ہے 
وہ کوئی اپنے سواءہو تو شکوہ کروں 
جدائی اپنی ہے اور انتظار اپنا ہے
ان تمام اشعار میں شعری لوازمات یعنی تشبیہ واستعارات اور ان کے تلازمات کو بروئے کار نہیں لایا گیا جن سے شعر میں قوت اورجان پیدا ہوتی ہے اس کے باوجود یہ اعلی درجے کے اشعار ہیں دراصل مندرجہ بالاتمام اشعار کا ایسا لفظی نظام ہے جس نے ان کو اعلی درجے کا شعر بنایا ہے۔لفظی آہنگ،ان کی تراش وخراش اور لفظوں کی بنت ایسی ہے جس سے ہم شاعر کے اسیر ہوجاتے ہیں اور اسی بنت کا نام لفظی نظام ہے۔ناصر کاظمی نے پرانی علامتوں کو نئے معانی اور مفاہیم بھی دےے ہیں اور شاعری کے کارواں کو آگے بڑھایا ہے وہ دل،چراغ،زلف،جنگل وغیرہ کو نئے نئے انداز میں استعمال کیا ہے  
ایک سمے تیرا پھول سا نازک ہاتھ تھا میرے شانے پر
ایک وقت کہ میں تنہا اور دکھ کے کانٹوں کا جنگل
بہاریں لے کے آئے تھے جہاں تم
وہ گھر سنسان جنگل ہوگئے ہیں
جنگل میں ہوئی شام ہم کو
بستی سے چلے تھے منہ اندھیرے
اس شہر بے چراغ میں جائے گی تو کہاں
آ اے شب فراق تجھے گھر ہی لے چلیں
پرانی صحبت یاد آرہی ہیں
چراغوں کا دھواں دیکھا نہ جائے
کہا ں ہے تو کہ ترے انتظار میں اے دوست
تمام رات سلگتے ہیں دل کے ویرانے
ترے جلوے میں بھی دل کانپ کانپ اٹھتا ہے
مرے مزاج کو آسودگی بھی راس نہیں
ان تمام اشعار میں ناصر نے جنگل، بستی، چراغ، دھواں، گھراور دل جیسی علامتوں کو نئے نئے انداز میں برتا ہے۔
ناصر کاظمی کی اہمیت اس لیے بھی مسلم ہے کہ انھوں نے ترقی پسند تحریک اور اس کے حامیوں کے شوروغل میں جو صنف اپنا وجود کھوچکی تھی اور ہیئت بدل چکی تھی اس کو ایک امتیازی صنف کا درجہ دلایا، ترقی پسند شعرا خطابیہ لہجہ کے نہ صرف قائل تھے بلکہ جابہ جا اس کے نمونے بھی دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔پروفیسر انیس اشفاق نے درست لکھا ہے کہ:
 ”ناصر کاظمی کا اہم کارنامہ یہ بھی ہے کہ انھوں نے غزل کو ایک نئے لہجے سے متعارف کرایا یہ نیا لہجہ ترقی پسندی کے پرشور لہجے کے ردعمل کے طور پرسامنے آیا تھا چونکہ ترقی پسندوں کو دھیما اور انفعالی لہجہ مطلوب نہیں تھا اس لیے یہ لہجہ ہماری غزل سے غائب ہوگیا تھا“
وہ آگے لکھتے ہیں :
’ ’ناصر کا دوسرا بڑا اہم کارنامہ یہ ہے کہ وہ غزل کو پس منظر سے پیش منظر میں لے آئے ان سے قبل غزل دوسرے درجے کی اور منسوخ صنف سخن سمجھی جانے لگی تھی، ناصر نے پھر سے ایک سربر آوردہ صنف سخن بنادیا“۔
(غزل کا نیا علامتی نظام ص27)
ناصر اس پر شور دور میں چلے تو تنہا تھے مگر لوگ ملتے گئے اور کارواں بنتا گیا،حالانکہ جو لوگ ناصر کے کارواں میں شامل ہوئے ایسا نہیں کہ اس میں ناصر کا خون جگر شامل نہیں بلکہ یہ ناصر کا لہجہ اور اسلوب ہی تھا کہ دوسروں نے ان کے تتبع کو اپنی شاعری کی معراج تصور کیا۔ پروفیسر ابوالکلام قاسمی لکھتے ہیں:
”ناصر کاظمی کی غزل نے گویا اپنا ایک دبستان سا بنالیا چنانچہ احمد مشتاق ہوں یا شہر یار،منیر نیازی ہوں یا شہزاد احمد،سلیم احمد ہوںیاحسن نعیم اور محمد علوی ان سب کے یہاں ناصر کاظمی کی طرح کائنات کے مظاہر سے امیجری تخلیق کرنے صورتِ حال کے بجائے تاثرات کی تجسیم کاری کرنے اور معنی آفرینی کے متوازی شعری فضا سازی جیسے رجحانات امتداد وقت کے ساتھ زیادہ نمایاں ہوتے گئے۔“(کثرت تعبیر ص99پروفیسر ابو الکلام قاسمی)
اس طرح لفظی نظام کا جو پودا ناصر کاظمی نے لگایا وہ وقت گزرنے اور مرور زمانہ کے ساتھ قوی تر ہوتا گیا جس کی گونج ان کے ہمعصر اور بعد کے شعرا کے کلام میں جابہ جا نہ صرف دیکھنے کو ملتی ہے بلکہ ان کی روایت کو انھوں نے مزید آگے بڑھایا اگرچہ انھوں نے بہت زیادہ علامتوں کو نئے معانی ومفاہیم نہیں عطا کیے مگر انھوں نے ایک ایسی بناءڈالی جس پر مضبوط عمارت بنتی دکھائی دے رہی ہے ان کی روش اور نئے لفظی نظام نے ہی غزل کو ایسے دور میں داخل کردیا ہے جس میں قدیم لفظیات اور ان کے تلازمات کے نئے معانی اور مفاہیم سامنے آرہے ہیں جس کا اندازہ زیب غوری کے شعر 
تہہ بہ تہہ لے گیا گرداب نگہ عکس تمام
دیر تک ڈوبتے منظر پس منظر بولے
اور شہریار کے اشعار  
اک خواب دیکھنے کی آرزو رہی
اسی لیے تمام عمر سونہ پائے ہم
راتوں کو جاگنے کے سواءاور کیا کیا
آنکھیں اگر ملی تھیں کوئی خواب دیکھتے
زیب غوری کے شعر میں جس طرح لفظوںاور گرداب کا استعمال، اور ڈوبتے منظرو پس منظر کا بیان کیا گیاہے وہ نئی روش کا پتہ دیتے ہیں۔ اسی طرح شہر یار کے دونوں اشعار میں خواب کو آرزو اور تمنا کی علامت بناکرجس طرح کربناکی کا بیان کیا گیا ہے وہ دعوت فکر دیتے ہیں۔

Mohd Haneef Khan
Dept of Urdu, Aligarh Muslim University
Aligarh - 201001 (UP)
Mob.: 9359989581
Email: haneef5758@gmail.com




 ماہنامہ اردو دنیا، اگست2019


 قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے



منگل، 24 ستمبر، 2019

اردو افسانہ اور کشمیر مضمون نگار: مدثر رشید فیروز



اردو افسانہ اور کشمیر
مدثر رشید فیروز

کشمیر صدیوں سے تہذیبی و تمدنی رنگ بدلتا رہا ہے۔ آبی ذخیرے سے لے کر ریل کی آمد تک اس وادی نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ تاریخ دانوں کا کہناہے کہ کشمیر کبھی ستی سرتھا مگر تالاب کا پانی خارج ہوکر کب سوکھا اور بستی میں کب تبدیئل ہوا، اس پر ابھی تحقیق جاری ہے۔لوگ بستے گئے، بستیاں آباد ہوتی گئیں،قبیلے بنے، قبیلوں کے سردار مقرر ہوئے اور پھرقبیلوں کے درمیان جنگیں ہوتی رہیں، پھر بیرونی قوموں نے اس کو اپنی آماجگاہ بنایا اور اس طرح آپس میں بولیوں کا میل جول اور مخلوط زبانوں کی ترویج ممکن ہوئی۔
دور جدید تک آتے آتے کشمیر میں کئی زبانیں بول چال کے لیے اختیار کی گئیں لیکن ادب خاص طور پر چار زبانوں میں مرتب ہوتا گیا۔ سنسکرت،کشمیری، فارسی اور اردو۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ کشمیر میں جو زبان آخر میں داخل ہوئی وہ اردو تھی جس کو آج کشمیر میں سرکاری زبان کا رتبہ حاصل ہے۔ریاست جموں و کشمیر میں 1889 میں مہاراجہ پرتاب سنگھ کے دورِ اقتدار میں اردو زبان کو سرکاری زبان کا رتبہ حاصل ہوتے ہی یہ زبان یہاں کے تہذیب و تمدن، ثقافت اور ادب کے قریب آگئی۔ رفتہ رفتہ ادیب اس زبان کی وساطت سے اپنے خیالات کا اظہارشعری و نثری اصناف میں کرنے لگے۔اُدھر بر صغیر میں اِسی دور میں کئی بڑے شاعروں کے علاوہ افسانہ نگاروں نے بھی جنم لیا جن میں پریم چند، سجاد حیدر یلدرم، سعادت حسن منٹو،کرشن چندر، راجندر سنگھ بےدی، عصمت چغتائی اور قرة العین حیدر قابلِ ذکرہیں۔چنانچہ ان افسانہ نگاروں میں سعادت حسن منٹو،کرشن چندر اور قدرت اللہ شہاب کا تعلق کشمیر سے بالواسطہ طور پر رہا ہے اس لیے کشمیر کی جھلک منٹو کے افسانوں میں کہیں کہیں اور کرشن چندر کے افسانوں میں اکثر نظر آتی ہے۔ بر صغیر کے ان بڑے افسانہ نگاروں کی دیکھا دیکھی کشمیر کے افسانہ نگا ر بھی اس صنف میں قسمت آزمائی کرنے لگے جن میں پریم ناتھ پردیسی،اختر محی الدین،پریم ناتھ در،پشکر ناتھ، ڈاکٹر برج پریمی، نور شاہ، حامدی کشمیری، مخمور حسین بدخشی جیسے افسانہ نگاروں کے نام شہرت سے سرفراز ہوئے۔ بیرون ریاست کے افسانہ نگاروں نے جہاں اپنے افسانوں میں عام طور پر کشمیر کی خوشنما اور دلفریب جھلکیاں دکھائیں، وہیں کشمیر زاد افسانہ نگاروں نے خصوصاً کشمیر اور کشمر کے حالات کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا۔جس دور میں اردو افسانہ کشمیر میں پر پھیلانے لگا وہ سیاسی بحران اور تقسیم ملک کا زمانہ تھاجس کی وجہ سے کشمیر کے پسِ منظر میں لکھے گئے افسانے اپنے دور کی تباہی،مفلسی اور لاچارگی کی تاریخ بن کر ابھرے خواہ وہ بیرون ِ ریاست افسانہ نگاروں کے قلموں سے تخلیق کی گئی کہانیاں ہوں یا کشمیر زاد افسانہ نگاروں کے۔
بیرون ریاست کے افسانہ نگارسعادت حسن منٹو نے جو افسانے کشمیر کے پسِ منظر میں لکھے ان میں ’ٹیٹوال کا کتا‘ اور’آخری سلیوٹ‘ اہم ہیں۔ ’ٹےٹوال‘ کشمیر کی وادی نیلم کا علاقہ ہے جہاں سے1947 کی جنگ کے بعد سیز فائر لائن گزرتی ہے۔اس سیز فائر لائن کے ایک طرف پاکستان اور دوسری طرف بھارت کی فوج ہے۔منٹو کا افسانہ’ٹےٹوال کا کتا‘ اسی صورت حال پر لکھا گیا ہے۔ 1947 کے بعد کشمیر کی سرحدی جھڑپیں اور ایک دوسرے کی چوکیوں پر قبضہ کرنے کی کوششیں جاری رہیں، اوراسی پہلو کو منٹونے ’ٹےٹوال کا کتا ‘افسانے میں بیان کیا۔کچھ اسی طرح کا موضوع افسانہ’ آخری سلیوٹ ‘میں بھی ملتا ہے جہاں کشمیر کی سرحد اور فوجیوں کے مورچے نظر آتے ہیں۔
کشمیر کے پسِ منظر میں لکھنے والے افسانہ نگاروں میں سب سے اہم کرشن چندر ہیں۔کشمیر سے دلچسپی کے حوالے سے خود کرشن چندر نے افسانوی مجموعہ ”کشمیر کی کہانیاں“کے دیباچے میں اعتراف کیا ہے :
”میرے بچپن کی حسین ترین یادیں اور جوانی کے بیش قیمت لمحے کشمیر سے وابستہ ہیں“ (کرشن چندر، دیباچہ، کشمیر کی کہانیاں)
کرشن چندر کے کئی افسانے کشمیر کے موضوع سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں کشمیر کی منظر کشی،دیہاتی زندگی اوررومانی کیفیت کا ملا جلا سنگم ملتا ہے۔وہ اپنے افسانوی مجموعے”الجھی لڑکی کالے بال“کے دیباچے میں لکھتے ہیں:
”کشمیر کی جھیلیں اور آبشار، پہاڑ اور وادیاں، دھان کے کھیت،اور زعفران کی خوشبو، گھٹا عورت کی آنکھوں کی طرح برستی ہوئی اور برف کے گالے سفید گلاب کی پتیوں کی طرح بکھرے ہوئے لوگوں نے دھنک کے سات رنگ دیکھے ہیں۔ لیکن میں نے دھنک میں اتنے رنگ دیکھے ہیں جو میری دو زندگیوں کے لیے کافی ہیں۔“ (ایضاً، دیباچہ، الجھی لڑکی کا لے بال)
کشمیر کے پسِ منظر میں لکھا گیا افسانہ’جنت اور جہنم‘کا موضوع کشمیر کی خوبصورت وادی اور فطرت کا تخلیق کردہ حسن اور کشمیر کی غربت ہے۔افسانے کاپلاٹ وادی کا سرمائی دارالخلافہ سری نگر اور اس کے مضافات کے علاقے ہیں۔اسی طرح’بندوالی، کفارہ، سڑک کے کنارے، کشمیر کو سلام، جیل سے پہلے اور جیل کے بعد، لاہور سے بہرام گلہ تک،چاند کی رات ‘ جیسے کئی افسانے ایسے ہیں جو کشمیر کے پسِ منظر میں ےیا کشمیر کے حوالے سے لکھے گئے ہیں جن میں کشمیر اور کشمیریت کو جاننے کے لیے کافی کچھ مواد ملتاہے۔ افسانہ’بند والی‘ میں کشمیر کے مشہور جھیل ڈل کی عکاسی یوں کرتے ہیں :
”ڈل کی نیلی نیلی لہروں پر آفتاب کی آخری کرنیں لرزاں تھیں۔ہوا میں پھولوں کی بو بسی ہوئی تھی۔ہمارے ارد گرد کنول کے پھو ل تیر رہے تھے اور ان کی نازک پتیوں پر پانی کے قطرے ٹِکے ہوئے تھے۔کسی کی پلکوں پر آنسوؤں کی طرح اور شفق کی ارغوانی روشنی میں چمک رہے تھے کسی کے گلے میں سرخ منکوں کی طرح “ 
(ایضاً، افسانہ، بندوالی)
قدرت اللہ شہاب نے بھی کشمیر کے پسِ منظر میں چند افسانے تخلیق کیے ہیں جن میں محض کشمیر کی خوبصورتی سے متاثر ہونے کا پہلو ہی نہیں بلکہ یہاں کے حالات وکیفیات کا بھی مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ان افسانو ں میں ’پکے پکے آم‘ اور’پھوڑے والی ٹانگ ‘اہمیت کے حامل ہیں۔
کشمیری لال ذاکر نے کشمیر سے قلبی وابستگی کی بنا پرکئی افسانے کشمیر کے پس منظر میں لکھے۔ان کے افسانوی مجموعے ’جب کشمیر جل رہا تھا‘ اور’چنار چنار چہرے‘ میں کئی افسانے کشمیر سے وابستہ ہیں۔
آزادی سے قبل لکھنے والے آزادی کے بعد بھی فعال رہے اور انھوں نے کشمیریوں کی کسمپرسی، غربت اور بے روزگاری پر متعدد افسانے لکھے۔ ان افسانہ نگاروں میں پریم ناتھ پردیسی، پریم ناتھ در، رامانند ساگر، حامدی کشمیری، تیج بہادر بھان، نور شاہ، ڈاکٹر برج پریمی، مخمور حسین بدخشی، پشکر ناتھ، کلدیپ رعنا، شبنم قیوم وغیرہ نمایاں ہیں۔ آزادی کے بعد جو نئی نسل سامنے آئی ان میں عمر مجید، وحشی سعید ساحل، ڈی کے کنول(بعد میں دیپک کنول کا نام اختیار کیا)، ویریندر پٹواری، شمس الدین شمیم،جان محمد آزاد قابل ذکر ہیں۔ جنھوں نے کشمیر کے حالات کو جیا اور ان ستم رسیدہ واقعات کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ان میں نور شاہ، عمر مجید، دیپک بدکی، دیپک کنول، ویریندر پٹواری وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ ان میں سے چند ایک مہاجر بن کر وادی سے ہجرت کر گئے مگر ان کی کشمیر سے وابستگی بدستور جاری رہی۔
ریاست کے اول الذکر افسانہ نگار پریم ناتھ پردیسی کے افسانوں میں کشمیر اور کشمیریت نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ پردیسی نے اپنے افسانوں میں ریاست کی صحیح عکاسی کر کے کشمیر کو اصلی رنگ و روپ میں پیش کیا۔ وہ کشمیر کی خوبصورتی ہی نہیں بلکہ بد صورتی کو بھی منظر عام پر لاتے ہیں۔وہ کشمیر کی غربت، بھوک، افلاس، پسماندگی، معاشی و اقتصادی بدحالی، بے کاری، بےگار کی لعنت کو اپنے افسانوں میں حقیقی طور پر پیش کرتے ہیں۔ پردیسی کے افسانے ’ٹینکہ بٹنی‘، ’ان کوٹ‘،’اگلے سال‘ اور’ دیوتا‘ کشمیر کی حقیقی صورت حال کی خوب عکاسی کرتے ہیں۔وادی کے حالات کے بارے میں وہ خود یوں رقمطراز ہیں:
”کشمیر کا ہر باشندہ بذات خود ایک افسانہ ہے جس کی طرف آج تک کسی نے توجہ نہ دی۔ یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ غلامی ہے، افلاس ہے، شخصی راج ہے۔“ 
(پریم ناتھ پردیسی: میں اور میرے افسانے)
افسانوں کے مجموعے’بہتے چراغ‘ کی کہانیوں میں کشمیر کی اصلی روح کو منظر عام پر لانے کی کوشش کی گئی ہے اور فنکارانہ ہنر مندی کے ساتھ کشمیریوں کے مصائب اور مسائل، ان کے اصلی مزاج اور تیور، سادگی اور شرافت، عادات اور خصائل کی عکاسی کی گئی ہے۔ پردیسی نے کشمیر کے حالات کو زیر نظر رکھ کے وہاں کی معاشرت اور اخلاقی قدروں کے علاوہ ریاست کی غلامانہ ذہنیت کی ترجمانی بھی کی ہے۔بقولِ ڈاکٹر برج پریمی:
”ریاست میں اس سے پہلے اردو کا مختصر افسانہ اس قدر منجھی ہوئی صورت میں نظر نہیں آتا۔ پردیسی نے کشمیر کو اپنے افسانوں میں پہلی بار پیش کیااور ہزاروں لاکھوں کشمیریوں کوزبان بخشی۔“ 
(برج پریمی، افسانہ: خوابوں کے دریچے، مشمولہ: سپنوں کی شام)
’کشمیریت‘ پردیسی کے روم روم میں رچی بسی تھی۔ یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ ان کے افسانے کشمیر کی ایک بولتی تصویر ہیں۔ان کے افسانوں کے اکثر کردارکشمیر کے زندہ کردار ہیں جو آٹھوں پہر ان کے آس پاس زندگی بسر کر تے نظر آتے ہیں، کبھی ستم رسیدہ حالات میں بھی خاموش رہتے ہیں تو کبھی معمولی سی خوشی سے چونک اُٹھتے ہیں۔ان کرداروں کاہر عمل مصنف کے درون میں چھپی خواہشات اور درد و کرب کا آئینہ ہے۔ چاہے وہ’ کیچڑ کا دیوتا‘کا ’ممسو‘ یا ’نندی‘ ہو یا پھر ’دھول‘ کی ’مہتہ بی‘۔ وہ اپنے کرداروں کو اپنے معاشرتی پس منظر میں پورے نفسیاتی عوامل کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔چاہے وہ ’امام دین ‘ ہو یا ’جاوید‘، ’وشومبر‘ ہو یا ’گنگا دھر‘، ’ٹینکہ بٹنی‘ ہو یا ’امام صاحب‘۔ ان کے بارے میں پروفیسر حامدی کاشمیری رقمطراز ہیں:
”پردیسی نے کشمیریت کو داخلی سطح پر محسوس کر کے اس کی مصوری کی ہے۔ ان کے افسانوں کے کرداروں کے رویے، محسوسات اور عقائد پردیسی کی شخصیت کے مختلف پہلو کو روشن کرتے ہیں۔“ 
(ایضاً، جموں وکشمیر میں اردو ادب کی نشو و نما، ص 29)
ڈاکٹربرج پریمی جن کو کشمیر سے والِہانہ محبت تھی اور کشمیر کے اردو ادب سے متعلق کئی محققانہ اور ناقدانہ تصانیف شائع کیں، جن میں ’جموں و کشمیرمیں اردو ادب کی نشوونما‘اور’ کشمیر کے مضامین ‘سرفہرست ہیں،نے اپنے افسانوی مجموعے ’سپنوں کی شام‘ میں16 مختصر افسانے تحریر کیے ہیں جو اکثر کشمیر کے حوالے ہی سے لکھے گئے ہیں۔ انھوں نے کشمیر کے غریب کسانوں اور مزدوروں کی بد حالی کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔ برج پریمی کی رگ رگ میں کشمیریت کا جذبہ تھا۔ان کا ہر افسانہ اسی جذبے کی پہچان ہے۔افسانہ’خوابوں کے دریچے‘ میں وہ کشمیر کے سرد ترین موسم کی عکس بندی یوں کرتے ہیں:
”دسمبر کی ایسی ہی کالی اور بھیانک رات میری یادوں کے افق پر ابھرتی ہے روح کو منجمد کرنے والی سائیں سائیں کرتی ہوئی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں اب بھی میرے روم روم کو جھنجھوڑ دیتی ہیں اور جوتی کا جوالا مکھی کی طرح تپتا ہوا چہرہ میری نگاہوں کے سامنے جم جاتا ہے اور میرے من میں اتھل پتھل مچ جاتی ہے۔“ 
(حامدی کاشمیری، ریاست جموں وکشمیر میں اردو ادب، ص 122)
ان کا افسانہ ’میرے بچے کی سالگرہ‘ میں کشمیر کا رنگ جگہ جگہ ابھرتا ہے۔افسانہ’ سپنوں کی شام‘ میں کشمیر کے ایک ضلع بڈگام کے ایک گاؤں کا پسِ منظر ہے۔’ہنسی کی موت ‘میں کشمیری مفلسوں کا احوال ہے۔افسانہ’شرنارتھی‘ جس کا موضوع 1947 کے بعد کے حالات ہیں ایک حقیقی تاریخی واقعہ کے روپ میں ابھرتا ہے۔برج پریمی نے اس افسانے میں شیام کا المیہ کردار پیش کر کے کشمیریوں کی مظلومیت کی بھر پور ترجمانی کی ہے۔ڈاکٹر محی الدین زور لکھتے ہیں :
”انھوں نے کشمیری تہذیب تمدن و ادب کو لازوال تخلیقات سے مالا مال کیا جن میں کشمیر کی صحیح روح تھرکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے وہ حقیقی معنوں میں کشمیری عوام کے نباض تھے۔“ (محی الدین زور کشمیری، برج پریمی کے افسانے اور کشمیر، مشمولہ : برج پریمی: حیات و ادبی خدمات، مرتب: پریمی رومانی، ص 173)
پشکر ناتھ، جو کشمیر کے ایک اہم افسانہ نگار ہیں، ان کے چار افسانوی مجموعے’اندھیرے اجالے،ڈل کے باسی، عشق کا چانداندھیر اور کانچ کی دنیا‘ شائع ہوئے ہیں۔ انھوں نے کشمیر کی ثقافت اور سماجی زندگی کی جو تصویریں اپنے افسانوں میں پیش کیں ان میں کشمیر کی حقیقی زندگی کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ ان کے شاہکار افسانہ’درد کا مارا‘ کا مرکزی کردار کشمیر کا مہمان نواز، ہمدرد اور انسان دوست تاجر’ صمدجو‘ ہے جس کوجنوبی ہند کی ایک لڑکی سمجھ نہیں پاتی اور صمدجو کی شفقت اور ہمدردی کو دھوکا قرار دیتی ہے۔ یہ افسانہ ایک طرف سےاسی معنویت کا بھی حامل ہے اور کشمیر کے پورے درد کا احاطہ بھی کرتا ہے۔’جوڑا ابابیلوں کا‘ افسانے میں کشمیرکی یخ بستہ سردی کا ایک منظر بڑی چابک دستی سے پیش کیا گیا ہے۔کشمیر کے پہاڑوں پر آباد گوجر لوگوں کی دنیا سے ’ایک بوند زہر‘اور’ ٹراوٹ مچھلی‘ جیسے افسانے تخلیق کیے گئے ہیں۔ 
اگرچہ ایک طرف متذکرہ بالا افسانہ نگاروں نے کشمیر کی کسمپرسی اور معصومیت کے موضوعات کو قلم بند کیا ہے تو وہیں ان کے بعد آنے والے افسانہ نگارایک ایسے دور سے گزرے جس نے کشمیر کے ادیبوں کو دو گروہوں میں بانٹ دیا۔ ایک گروہ کشمیر کومجبوراً چھوڑ کر جموں اور ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گزر بسر کرنے لگا، دوسرا گروہ کشمیر کے دکھ سکھ کو افسانوں میں قید کرتا گیا۔
جو افسانہ نگارکشمیر کے برے دور سے گزر کے اپنے روایتی تہذیب و تمدن اور ثقافت کو یک طرفہ چھوڑ کر کشمیر سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ان کے افسانوں میں اپنے وطن سے جدائی اور ہجرت کا درد کوٹ کوٹ کربھرا ہے۔ان افسانہ نگاروں میں ویریندر پٹواری،دیپک بدکی، دیپک کنول وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔
ویریندر پٹواری، جنھیں دیگر پنڈتوں کے ساتھ کشمیر چھوڑنا پڑا، کے کئی افسانوی مجموعے (ایک ادھوری کہانی، اُفق، آفتوں کے شہر میں، دائرے، دوسری کرن، بے چین لمحوں کا تنہا سفر، آخری دن، فرشتے خاموش ہیں، آواز سرگوشیوں کی، وغیرہ) منظرِعام پر آئے ان کی کہانیوں کے پسِ منظر میں کشمیر ہر طرف نظر آتا ہے۔ انھوں نے کشمیر کے مصائب کو موضوع بنایا۔انھوں نے اس سسکتی وادی کا کرب گھول کر اپنے افسانوں میں بھر دیا ہے۔ وہ اپنے افسانوں میں عصری آگہی کے سلگتے ہوئے احساس کو پیش کرتے ہیں۔کشمیر کے حوالے سے لکھی گئی ان کی کہانیاں سلگتے ہوئے کئی تاریخی سوالات چھوڑ جاتے ہیں۔ حقانی القاسمی ان کے بارے میں لکھتے ہیں :
”ویریندر پٹواری کی کہانی میں کشمیر کا درد نظر آتا ہے۔اس زمیں کا نوحہ۔اس مٹی کا مرثیہ جو کبھی جنت تھی۔“ (حقانی القاسمی، ویریندر پٹواری، مشمولہ: عصری تحریریں، مرتب: دیپک بدکی، ص 56)
ویریندرپٹواری کے کئی افسانے کشمیر کے واقعات اور لوگوں کی علامتیں بن کر ابھرتے ہیں افسانہ ’سزا‘ جہاں کشمیری پنڈتوں کی علامت کا استعارہ بنتا ہے وہیں ’دھواں‘ توڑ پھوڑ اور تحریک کی علامت نظر آتا ہے۔ افسانہ’ریچھ‘ میں انسان کی خون ریزی کو دیکھ کر ریچھ شرمسار ہو جاتا ہے۔ افسانہ’قیدی‘ میں وہ کشمیر کے حالات کا یوں جائز ہ لیتے ہیں :
”پہلی بار احساس ہوا کہ اچھا انسان نہ ہندو ہوتا ہے نہ مسلمان ہوتا ہے۔مگر بُرا انسان ایک شیطان ہوتا ہے شیطان ایک طوفان ہوتا ہے جو بھائی کو بھائی سے جدا کر کے اپنے مقصد کی خاطر دونوں کو قربان کردیتا ہے۔“ 
(ویریندر پٹواری: قیدی افق، ص 79)
ویریندر پٹواری کے افسانوں میں کشمیر کا تہذیبی اور ثقافتی پہلو بھی نمایا ں طور پر نظر آتاہے۔جس کی مثال ’برف، دسرتھ ،لالہ رخ‘ جیسے افسانوں میں ملتی ہے ’برف‘ افسانہ میں حالات کی وجہ سے بےروزگاری کا مسئلہ اجاگر کیا گیا ہے، ’دسرتھ‘ میں برف کا موسم اور’ لالہ رخ‘میں کشمیر میں ہندو مسلم اتحاد کو ابھارا گیا ہے۔
کشمیر کے حالات پر لکھنے والے افسانہ نگار وں میں دیپک بدکی سرفہرست ہیں ان کے کئی افسانوی مجموعے منظر عام پر آئے ہیں جن کے عنوان ہی سے کشمیر کی خوشبو آتی ہے جیسے ادھورے چہرے، چنار کے پنجے، زیبرا کراسنگ پر کھڑا آدمی، ریزہ ریزہ حیات اور روح کا کرب۔ ان کے علاوہ ان کا ایک افسانچوں کا مجموعہ ’مٹھی بھر ریت ‘ بھی شائع ہوا ہے۔ ان کے افسانے نہ صرف کشمیر بلکہ پورے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی نمائندگی کرتے ہیں کیونکہ انھوں نے زندگی کا بیشتر حصہ کشمیر سے باہر گزارا ہے۔
کشمیر کے پسِ منظر میں ان کا افسانہ ’نہتے مکان کاریپ‘ میں خالی مکان کا استحصال دکھایا گیا ہے۔یہ وہ منظر نامہ ہے جو کشمیر کے جبرو استحصال کی علامت بن کر ابھرتا ہے۔افسانے میں مہاجر پنڈتوں کا کرب اور کشمیر میں ہو رہے ظلم وتشدد کو یوں تخلیقی روپ دیا گیا ہے جےسے کوئی کہانی نہیں بلکہ تاریخ کا ایک حقیقی واقعہ ہو۔ پنڈتوں کا چھوڑا ہوا مقفل گھر،دہشت گرد کا اندر گھس کر توڑ پھوڑ کرنا، پھر فوجیوں کے ہاتھوں مکان کو گولیوں سے چھلنی کرناکشمیر کے درد و الم کی بھر پور وضاحت کرتا ہے۔ دیکھا جائے تو جو منظر نامہ اس افسانے میں سامنے آتا ہے وہ دنیا کے کسی مقام سے وابستہ ہو سکتا ہے جہاں امن و امان کے بدلے انتشار پھیلا ہو۔ایسی ہی صورت حال ان کے کئی افسانوں میں نظر آتی ہے جہاں کشمیر میں ہونے والے استحصال اور زیادتی پر ردِعمل ظاہر ہوتا ہے مثلاً گھونسلا، مخبر، سفید کراس، چنار کے پنجے، وفادار کتا،زیبرا کراسنگ پر کھڑا آدمی وغیرہ۔’ریزہ ریزہ حیات‘ میں وہ کشمیر کی بد قسمتی،معاشی اور سےاسی بدحالی کے بارے میں لکھتے ہیں :
”نہ ہوا میں وہ تازگی رہی تھی اور نہ پانی میں وہ مٹھاس،ہوا میں بارود کی وہ تیز بد بوبسی ہوئی تھی جبکہ پانی میں شورے کی تیز ا بیت گھلی ہوئی تھی۔مغل باغات میں بھی وہ پہلی سی چہل پہل نہیں تھی اور نہ ہی کھیتوں میں وہ مدھر گیت گونج رہے تھے۔اگر تھا تو بس سونی سڑکیں، پولیس چوکیاں اور ڈرے سہمے لوگ۔“ 
(دیپک بدکی: ریزہ ریزہ حیات، ص 48)
 ’زیبرا کراسنگ پر کھڑ ا آدمی‘ افسانہ ایک ایسے پنڈت بزرگ کے احساسات کی عکاسی کرتا ہے جو نقل مکانی پر مجبور ہوا لیکن کشمیر کی محبت وہ کبھی ترک نہ کر سکا وہ حیران ہے کہ آخر اس کا حق ِ سکونت یکدم کیسے ختم ہو گیا۔ اس افسانے میں کشمیری مکان کی بناوٹ اور اس کی طرزِ تعمیر کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔مگر ان کے یہاں صرف اس دور کا المیہ ہی نہیں ملتا بلکہ ان دنوں کی تصویریں بھی ملتی ہیں جب کشمیر میں حالات اچھے تھے۔ اس حوالے سے ان کے افسانے ’شیر اور بکرا‘، ’اچانک‘، ’ورثے میں ملی سوغات‘، ’ویوگ‘، ’آﺅکچھ اور لکھیں‘، ’پہاڑوں کا رومانس‘، ’اداس لمحوں کا کرب‘، لمحوں نے خطا کی ہے، ٹھنڈی آگ، یومِ حساب وغیرہ افسانے کشمیر کے پس منظر میں لکھے گئے ہیں۔ اُن کے افسانوں میں کشمیر کی تہذیب اور ثقافت کا رنگ بھی نمایاں نظر آتا ہے۔افسانہ ’کبھی ہم سے سنا ہوتا‘ میں انسانی نفسیات اور استحصال کو موضوع بنایا گیا ہے۔ سیدہ نسرین نقاش، دیپک بدکی کے افسانوں کے بارے میں لکھتی ہیں :
”دیپک بدکی کی لگ بھگ سبھی کہانیاں حقیقت پر مبنی ہیں۔ وہ کچلے ہوئے اور خوف زدہ انسانوں کو اپنے افسانوں کا موضوع بناتے ہیں۔ مسخ چہروں کو اپنے قلم سے حقیقی خدوخال دینے میں مصروف ہیں،وہ ہونٹ جو جبرو استحصال کے اندھیروں میں اپنی مسکراہٹ اور دلکشی کو کھو چکے ہیں وہ ان کے لیے البیلی ہنستی گاتی زندگی کے خواہاں ہیں جہاں ہر طرف روشنی ہی روشنی ہو، محبت ہی محبت ہو۔“ (نسرین نقاش: اسباق، جولائی ستمبر 2007، ص 54)
کشمیر کے ایک اور افسانہ نگاردیپک کنول ہیں جو پہلے ڈی کے کنول کے نام سے افسانے و ڈرامے لکھتے تھے۔ انھوں نے کشمیری پنڈتوں کی دربدری اور بے گھری پر افسانے لکھے ہیں۔ ان کے افسانوی مجموعے ’برف کی آگ‘ کے سبھی افسانے کشمیرکے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں جن میں ’مخبر، تفتیش، شعلے،حیوانوں کی بستی،کراس فائرنگ اور سزا ‘وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ 
 حامدی کاشمیری اور نور شاہ نے قریباً پچاس سال پہلے لکھنا شروع کیا۔ حامدی صاحب نے اس کے بعد شاعری اور تنقید کو اپنایا مگر نور شاہ صاحب صنف افسانہ کے ساتھ ہمیشہ جڑے رہے اور ریڈیو کے لیے ڈرامے بھی لکھتے رہے۔ ان کی یادداشتوں پر مبنی چند کتابیں بھی منظر عام پر آچکی ہیں۔دونوں قلم کاروں کے زیادہ تر افسانے رومانوی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ان کے یہاں کشمیر کا پسِ منظر بنیادی ہے۔زندگی کا حسن و جمال حامدی کاشمیری کے یہاں نمایاں ہے ان کے افسانوی مجموعے ’سراب ‘اور’برف میں آگ‘ میں عشقیہ کہانیاں ہیں جو کشمیر کے قدرتی مناظر کے پسِ منظرمیں بھلی لگتی ہیں اور وادی کے نچلے طبقے کے لوگوں کی کسمپرسی بھی ہے۔ان کے افسانہ’اندھیرے کی روشنی‘ میں کشمیر کی روز مرہ زندگی اور جھیلِ ڈل میں رہنے والوں کی عکاسی کی گئی ہے۔ ’بہار آنے تک‘ افسانہ وادی کی بے روز گاری اور غریبی کی ترجمانی کرتا ہے۔ مظہر امام، حامدی کاشمیری کے افسانوں کے بارے میں لکھتے ہیں:
” حامدی کاشمیری کے افسانے کشمیری زندگی کے عکاس ہیں۔آج کم لوگوں کو احساس ہوگا کہ آج سے کئی سال پہلے کشمیر کے نچلے طبقے کی زندگی بےچارگی اور کسمپرسی کی شکار تھی۔“ (مظہرامام: بحوالہ شیرازہ (جموں کشمیر میں اردو افسانہ نمبر)، کلچر اکادمی سرینگر، ص 31 )
نور شاہ کے نو افسانوی مجموعے (بے گھاٹ کی ناو، ویرانے کے پھول، من کا آنگن اداس اداس،ایک رات کی ملکہ، گیلے پتھروں کی مہک، بے ثمر سچ، آسمان، پھول اور لہو، کشمیر کہانی) منظر عام پر آئے ہیں جن میں رومانوی افسانوں کے علاوہ کشمیر کی ثقافت،سماجی اور سیاسی کروٹوں کو بھی انھوں نے موضوع بنایا ہے۔ نور شاہ کشمیر کے حسین مناظر کا شیدائی ہے اور رومانیت،انسان دوستی، رواداری ان کے فن کا بنیادی عنصر ہے جس وجہ سے وہ اپنے افسانوی مجموعے ’بے ثمر سچ‘میں لکھتے ہیں:
”یہ وہ جگہ ہے جہاں پہاڑ، پانی اور سبزہ بیک وقت نظر آتا ہے۔ کہنا یہ ہے کہ وادی کے اس حصے میں میرے احساسِ جمال کی پرورش ہوتی ہے اور وہ جن کو میری آنکھوں نے سمیٹ لیا ہے لاشعوری طور پر میری کہانیوں میں منعکس ہوتا ہے۔“ (نورشاہ، بے ثمر سچ، ص 7)
عمر مجید جدیدیت کے علمبردار تھے۔ ان کے افسانوں میں کشمیر کی عکاسی جگہ جگہ ملتی ہے ان کا افسانہ’ شہر کا اغوا ‘ شروعا ت میں ہی کشمیر کے حالات کی تصویر کشی کرتا ہے:
”یہ کون سی جگہ ہے، کیسی خاموشی ہے،یہ ویرانی کا عالم،یہ ڈرانے والی خاموشی،یہ ان، یہ دکانیں،یہ سڑکیں خالی کیوں ہیں۔اس شہر میں رہنے والے لاکھوں لوگ کہاں چلے گئے۔“ (عمر مجید: شہر کا اغوا، مشمولہ: شیرازہ (اشاعت خصوصی بیادگار عمر مجید)، ص 112) 
عمر مجید کی کہانیاں کشمیر کے گرد گھومتی ہیں وادی کے حالات نے ان کے ذہن پر گہرا اثر ڈالا ہے ان کے موضوعات دکھ درد،غربت اور امن پسندی وغیرہ ہیں۔ان نکتوں کو ابھارتے ابھارتے ان کے یہاں کشمیری تہذیب و ثقافت کے نمونے بھی جلوہ گر ہوتے ہیں۔ ان کے بارے میں نور شاہ لکھتے ہیں :
”اسلوب کا ستھرا پن ان کی کہانیوں کی نمایاں خصوصیت ہے۔کشمیر،کشمیریت اور کشمیر کی زندگی ان کے محبوب ترین موضوعات ہیں۔“ (عمر مجید/ مرتب: سلیم سالک، عمر مجید کے بہترین افسانے، ص 27)
ترنم ریاض عصرِحاضر کی ایک نمایاں خاتون افسانہ نگار اور ناول نگار ہیں۔ ان کے افسانوں اور ناولوں میں کشمیر کی فضائےںاور ارد گرد کے حالات پوری طرح موجود ہیں۔ ان کے تین افسانوی مجموعے، جن کے عنوان ہی کشمر کے حوالے سے علامتی جہتیں واضح کرتے ہیں، منظر عام پر آئے ہیں۔ان کا افسانوی مجموعہ’یہ تنگ زمین ‘ اسی وادی کا استعارہ ہے جو اپنے مکینوں کے لیے تنگ ہو چکی ہے۔ ’ابابیلیں لوٹ آئیں گی‘ انصاف کی خواہش کا استعارہ ہے کہ آخر ایک دن ظلم کی یہ آندھی تھم جائے گی اور’یمبرزل‘ جو بہت ہی نازک پھول(نرگس) ہے اور گرمی سے برگ برگ جھڑ جاتا ہے یہ پھول گویا کشمیر کی حسین وادی کا استعارہ بنتا ہے جو لخت لخت ہو چکی ہے۔ان کے افسانہ’مجسمہ ‘میں کشمیر کے تہذیب اور تاریخی ورثے کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیریت کے مختلف پہلوؤں کو پیش کیا گیا ہے۔اس افسانے میں پھرن،ٹوپی، سماوار، پیالے،اخروٹ پکنے کا موسم، پیپر ماشی اور دستکاری وغیرہ کا ذکر ملتا ہے۔افسانہ ’یمبرزل‘ کشمیریت کے حوالے سے ان کا ایک شاہکار افسانہ ہے جس میں کشمیری تہذیب و ثقافت کی شناخت نظر آتی ہے اسی طرح افسانہ’ کشتی، حور، برف گرنے والی ہے، پھول، ماں ‘ وغیرہ کشمیر کے پسِ منظر میں ہی لکھے گئے ہیں۔ ان کے افسانوں کے بارے میں دیپک بدکی رقمطراز ہیں:
”ترنم ریاض نے اپنے انفرادی کرب کوغمِ کائنات کا حصّہ بنا لیا ہے۔ ایک جانب شہرِآشوب اور دوسری جانب بڑے شہر کی مصنوعی زندگی کا المیہ افسانہ نگار ہم عصر زندگی سے اپنے پلاٹ چنتی ہےںاور آس پاس کے ماحول سے کردار ڈھونڈ نکالتی ہیں“ 
(دیپک بدکی: عصری تحریریں، ص 91)
زاہد مختار، جو عصرِ حاضر کے ابھرتے ہوئے قلم کار ہیں شاعری اور صحافت کے علاوہ افسانوی ادب میں بھی خاصی مہارت رکھتے ہیں ان کے دو افسانوی مجموعے ’جہلم کا تیسرا کنارہ‘ اور’ تحریریں‘منظر عام پر آئے ہیں۔’جہلم کا تیسرا کنارہ‘ افسانوی مجموعے کے اکثر افسانے کشمیر کے پسِ منظر میں لکھے گئے ہیں۔ان کے کئی افسانے کشمیر کے عام انسان کا درد وکرب بےان کرتے ہیں جن میں’ سورج کا پہلا اندھیرا،سحر ہونے تک،لمحے کا سفر،پلِ صراط، پہلا چہرہ‘ وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ان کا افسانہ’جہلم کا تیسرا کنارہ‘ ایک ایسے انسان کی رو داد ہے جس کا ہاؤس بوٹ سےلاب نگل لیتا ہے پھر زندگی کی کشمکش میں انھیں ہر وقت حالات سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔پہلے ہاؤس بوٹ قہر خدا کا شکار ہوتا ہے پھر جہلم کے کنارے ان کا بنایا آشیانہ قہرِ آدم کا شکار ہوتا ہے یوں وہ بے سرو ساماں ہوتے ہیں۔ویریندر پٹواری ان کے افسانوں کے بارے میں لکھتے ہیں :
”کشمیر میں رہنے والے لوگوں کو آج بھی جسمانی، ذہنی اذیتوں کا شکار ہونا پڑتا ہے۔وہ زاہد صاحب نے اپنی کہانیوں بعنوان پلِ صراط اور سورج کا پہلا اندھیرا میں بیان کیا ہے۔“ (زاہد مختار، تحریریں (ویریندر پٹواری: جہلم کا تیسرا کنارہ...)، ص 82)
مذکورہ بالا افسانہ نگاروں کے علاوہ کئی اہم اور قابلِ ذکر افسانہ نگار ہیں جن کے یہاں کئی افسانے کشمیر کے پسِ منظر میں لکھے گئے ہیں۔

Mudassir Rashid Rather,
 Research Scholar,
 Punjabi University,
 NH 64, Urban Estate Phase II,
 Patiala District, Patiala,
 Punjab 147002 (Punjab)


ماہنامہ اردو دنیا، نومبر 2016

جمعہ، 20 ستمبر، 2019

کس کس نے حالی کی مخالفت کی؟ مضمون نگار: سید تقی عابدی



کس کس نے حالی کی مخالفت کی؟
سید تقی عابدی


حالی کے دوست بے شمار تھے لیکن دشمنوں اور مخالفوں کی کمی بھی نہ تھی۔ ان کے مخالفین میں مذہبی غیرمذہبی اور دوست نما دشمن شامل تھے۔ حالی کی مخالفت کی ایک خاص وجہ ان کی سر سید سے دوستی، علی گڑھ تحریک سے وابستگی اور سرسید کی سوانح، حیات جاوید کی تصنیف تھی۔ ہماری اس تحریر میں چند پردہ نشین مردوں کے نام بھی آئیں گے جو ظاہراً دوستی کا دم بھرتے تھے لیکن ان کے دل حالی سے صاف نہ تھے بقول میر انیس ”میں نے تو ایک دل بھی نہ دیکھا جو صاف ہو۔“ حالی کی مخالفت ادیبوں اور شاعروں کا مرغوب مشغلہ تھا۔ اگرچہ سرسید، شبلی نعمانی، ڈپٹی نذیر احمد اور علّامہ اقبال کی طرح حالی پر کفر کا فتویٰ نہیں لگایا گیا مگر حالی کی شخصیت اور فن کو مسلسل نشانہ بنایا گیا۔ حالی کے دور کے سیاہ اوراق آج بھی موجود ہیں۔ مذہبی لوگ حالی کو سرسید کی بانسری اور نیچری کہتے تھے۔ حالی نے جو اُردو شاعری کی پاکیزگی کی مہم کو اپنا شعار بنایا تھا وہ بہت سے شاعروں اور ادیبوں کو کھلتا تھا کیونکہ وہ حالی کو اہل دلّی اور لکھنو نہیں مانتے تھے وہ حالی کو پانی پت کا ایک معمولی شاعر جانتے تھے۔ ”دلّی دلّی کیسی دلّی = پانی پت کی بھیگی بلی“
حالی کی مخالفت ان کی موضوعاتی نظموں سے شروع ہو چکی تھی۔ مسدس حالی کی عوام میں پذیرائی ان کے مخالفین کے لیے خطرے کی گھنٹی محسوس ہو رہی تھی جو فن برائے فن وہ بھی بطور تفنّن کے قائل تھے۔ حالی ایسی شاعری کو عفونت میں سنڈاس سے بدتر بتارہے تھے اور ایسے شاعروں کی موجودگی یا غیر موجودگی سے متاثر نہ تھے جیسا کہ انھوں نے مسدس میں اعلانیہ کہا تھا  
یہ ہجرت جو کر جائیں شاعر ہمارے 
کہیں مِل کے خس کم جہاں پاک سارے
مقدمہ شعر و شاعری میں چوما چاٹی کی شاعری پر شدید ردعمل نے لکھنؤ اور دلّی کے رومانی شعرا کو حالی کے مقابل کردیا۔ درجنوں حالی کو دشنام اور نازیبا خطوط ملنے لگے۔ مختلف روزنامے اور رسالے مستقل طور پر حالی کے خلاف صف آرا ہو گئے جن میں حسرت موہانی کا اُردوئے معلّیٰ اور سجاد حسین لکھنوی کا اودھ پنج پیش پیش تھے۔ حالی کے خلاف سوقیانہ ہجو لکھی جانے لگیں۔ اودھ پنج کے سرورق پر کئی سال تک یہ شعر چھپتا رہے 
ابتر ہمارے حملوں سے حالی کا حال ہے
میدانِ پانی پت کی طرح پائمال ہے
حالی کو خالی، جعلی، مالی، خیالی اور ڈفالی جیسے ناموں سے یا د کیا جانے لگا۔ لکھنؤ اور دلّی کے اہل زبان کہتے تھے یہ پانی پتی شخص کس جرات سے اہل زبان کے ہم زبان ہی نہیں بلکہ مسیحائے زبان ہونے کی کوششیں کررہا ہے۔ حالی ان تمام حملات کا خاموشی سے جواب دے رہے تھے اور ہمہ تن دن رات چمنستان شعر کی پاکیزگی میں مصروف تھے۔
 اردو دنیا اور دنیائے ادب کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ہمیں معاصرین پر تخریبی تنقید نظر آتی ہے جیسے والٹیرکا حملہ شیکسپیئر پر گٹے کا حملہ ڈانٹے پر رشید وطواط کا حملہ خاقانی پر، فرخی کا حملہ فردوسی پراحراری کا حملہ سعدی پر، سودا کا حملہ میر پرشیفتہ کا حملہ نظیر پر رجب علی بیگ کا حملہ میرامن پر وغیرہ۔ چنانچہ ہر ادب اور ہر دور میں تخریبی تنقید نظر آتی ہے۔ یہاں ہم حالی کے چند معاصرین کی معاندانہ تنقید کو مستند حوالوں سے درج کرتے ہیں۔ حسرت موہانی اُردوئے  معلّیٰ میں حالی پر سخت اعتراضات کرتے تھے۔ ایک اسی قسم کا واقعہ تذکرہ حالی میں شیخ اسماعیل پانی پتی نے یوں لکھا ہے:
”علی گڑھ کالج میں کوئی عظیم الشان تقریب تھی۔ نواب محسن الملک کے اصرار پر مولاناحالی بھی اس میں شرکت کے لیے تشریف لائے اور حسبِ معمول سید زین العابدین مرحوم کے مکان پر فروکش ہوئے۔ ایک صبح حسرت موہانی دو دوستوں کے ساتھ مولانا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ چندے اِدھر اُدھر کی باتیں ہوا کیں۔ اتنے میں سید صاحب موصوف نے بھی اپنے کمرے میں سے حسرت کو دیکھا۔ اُن میں لڑکپن کی شوخی اب تک باقی تھی۔ اپنے کتب خانے میں گئے اور اُردوئے معلےٰ کے دو تین پرچے اُٹھا لائے۔ حسرت اور اُن کے دوستوں کاماتھا ٹھنکا کہ اب خیر نہیں۔ اور اُٹھ کر جانے پر آمادہ ہوئے مگر زین العابدین کب جانے دیتے تھے۔ خود پاس بیٹھ گئے۔ ایک پرچے کے ورق الٹنا شروع کیے اور مولانا حالی کو مخاطب کرکے حسرت اور اُردوئے معلےٰ کی تعریفوں کے پُل باندھ دیے کسی کسی مضمون کی دو چار سطریں پڑھتے اور واہ خوب لکھا ہے کہہ کر داد دیتے حالی بھی ہوں، ہاں سے تائید کرتے جاتے تھے اتنے میں سید صاحب مصنوعی حیرت بلکہ وحشت کا اظہار کرکے بولے:
” ارے مولانا یہ دیکھیے آپ کی نسبت کیا لکھا ہے اور کچھ اس قسم کے الفاظ پڑھنا شروع کیے۔ سچ تو یہ ہے کہ حالی سے بڑھ کرمخربِ زبان کوئی نہیں ہوسکتا اور وہ جتنی جلدی اپنے قلم کو اُردو کی خدمت سے روک لیں اُتنا ہی اچھا ہے۔ فرشتہ منش حالی ذرا مکدّر نہیں ہوئے اور مسکراکر کہا تو یہ کہا کہ نکتہ چینی اصلاحِ زبان کا بہترین ذریعہ ہے اور یہ کچھ عیب میں داخل نہیں۔“
کئی روز بعد ایک دوست نے حسرت سے پوچھا اب بھی حالی کے خلاف کچھ لکھو گے؟ جواب دیا جو کچھ لکھ چکا اُسی کا ملال اب تک دل پر ہے۔ حالی کا یہ ضبط، وقار اور عالی ظرفی بڑے بڑے مخالفوں کو شرمندہ اور نکتہ چینوں کو پشیمان کردیتی تھی۔“
جب حالی کی شاہکار کتاب ’حیات جاوید‘ شائع ہوئی تو شبلی نعمانی نے اس کی سخت مخالفت کی۔ مولوی عبدالحق ’چند ہم عصر‘ میں لکھتے ہیں۔ جب میں نے حیات جاوید کا ایک نسخہ ان کو دیا تو دیکھتے ہی فرمایا۔ ”یہ کذب وافترا کا آئینہ ہے“ یہ جملہ سن کر عبدالحق دم بخود رہ گئے کیوں کہ پڑھنے سے پہلے ایسی سخت رائے کیا معنیٰ رکھتی تھی۔
شبلی حبیب الرحمن خان شیروانی کے خط میں حیات جاوید کو کتاب المناقب لکھتے ہیں۔ ایک اور خط میں شیروانی کو لکھتے ہیں وہ محض دعوے کرتے ہیں واقعات کی شہادت پیش نہیں کرتے بہر حال میں حیات جاوید کو مدلّل مدّاحی سمجھتا ہوں۔
شبلی اپنے شاگرد عبدالسمیع کو حیات جاوید پر منفی ریویو کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔ ”میں کچھ مزید نہیں کہنا چاہتا تم مقلد نہیں مجتہد ہو پھر تقلید کیوں؟“
اب آئینہ کا دوسرا رخ حالی کا کریکٹر دیکھیے جسے عبدالحق نے اپنی کتاب چند ہم عصر میں دکھایاہے۔
”ایک روز مولوی ظفر علی خاں مولانا حالی سے ملنے آئے اس زمانے میں وہ ’دکن ریویو‘ نکالتے تھے کچھ عرصہ پہلے اِس رسالے میں ایک دو مضمون مولانا شبلی کی کسی کتاب یا رسالے پر شائع ہوئے تھے ان میں کسی قدر بے جاشوخی سے کام لیا گیا تھا۔ مولانا نے اس کے متعلق ظفر علی خاں صاحب سے ایسے شفقت آمیز پیرائے میں نصیحت کرنی شروع کی کہ ان سے کوئی جواب نہ بن پڑا اور سرجھکائے آنکھیں نیچی کیے چپ چاپ سُنا کیے۔ مولانا نے یہ بھی فرمایا کہ میں تنقید سے منع نہیں کرتا، تنقید بہت اچھی چیز ہے اور اگر آپ لوگ تنقید نہ کریں گے تو ہماری اصلاح کیوں کر ہوگی لیکن تنقید میں ذاتیات سے بحث کرنا یا ہنسی اُڑانا منصب تنقید کے خلاف ہے۔“
وحید الدین سلیم پانی پتی جنھیں حالی نے دنیائے اُردو میں معروف کیا وہ بھی حیات جاوید کے بارے میں صدریارجنگ حبیب الرحمن خاں شیروانی کو لکھتے ہیں۔ ”حالی نے دیباچہ میں جس امر کا وعدہ کیا ہے اس کو وہ ایک شمّہ بھی پورا نہیں کرسکے۔ جہاں انھوں نے سرسید کی تفسیر کی بحث کی ہے یہ کہتے ہوئے کہ بحث طولانی ہو جائے گی ادھورا چھوڑ دیا ہے۔“
بقول رشید حسن خان کہ حالی کو غالب کے بہت واقعات کا علم تھا وہ اگر اپنے طور پر ان کو لکھتے تو بعض ایسی باتیں ضرور بیان میں آجاتیں جو ان کے نزدیک وضاحت طلب نہیں تھیں۔ اس الجھن اور اس کشمکش سے چھٹکارا حاصل کرنے کا یہ طریقہ انھوں نے اختیار کیا کہ بعض اہم واقعات کے بیان میں اپنی طرف سے کچھ کہنے کے بجائے خود مرزا صاحب کے بیانات کو نقل کردیا اس طور سے سوانح نگار کی حیثیت سے ان کے کسی بیان کا جائزہ نہیں لیا اس طریقۂ کار نے کئی واقعات کی واقعی شکل و صورت کو سامنے آنے نہیں دیا۔“
سچ تویہ ہے کہ لعن وطعن، گالی وشنام، طنز و اعتراضات کے طوفان کو حالی نے ایک نرالے طریقے سے زیر کیا 
کیا پوچھتے ہو کیونکر سب نکتہ چیں ہوئے چپ 
سب کچھ کہا اُنھوں پر ہم نے دم نہ مارا
لیکن جیسا ہمیشہ ہوتا آیا ہے مخالفت کا یہ طوفان جو خس وخاشاک کی کائنات تھا، جلد ہی دب گیا اور حالی کی عظمت اور شان اپنی جگہ قائم رہی۔ ”غل توبہت یاروں نے مچایا پر گئے اکثر مان ہمیں“
اُردو تنقید پر یہ بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ اس کے ناقدین عموماً سکّے کے دورخ پیش نہیں کرتے یا تو سراسر مدح ہوگی یا پھر ہر لفظ میں ذم و قدح کا پہلو ہوگا۔ حالی کی حیات جاوید پر اعتراض کرتے ہوئے شبلی نعمانی نے کہا تھا یہ کتاب المناقب ہے مدلّل مدّاحی ہے جب کہ خود شبلی نے جب موازنہ انیس و دبیر لکھا تو انیس کی مدّاحی اور دبیر کی قداحی لکھی۔ حالی نے اپنی تینوں سوانح عمریوں میں یعنی حیات سعدی، یادگار غالب اور حیات جاوید ان تینوں بزرگوں کی مدحت آرائی کی ہے اور خود اس بات کا اقرار بھی کیا ہے کہ ابھی بر صغیر میں کریٹکل بیوگرافی کا وقت نہیں آیا ہے۔ ہم کہتے ہیں حالی سے تسامح ہوا ہے اگر وہ تذکرے دیکھ لیں تو معلوم ہوگا کہ تذکرہ نویس نے کس طرح تخلیق کار کی شخصیت اور تخلیق کا ناحق خون کیاہے۔ کیا حالی کے استاد مصطفی خان شیفتہ نے نظیراکبر آبادی کے ساتھ ظلم نہیں کیا؟ کیا گلشن بے خار خارداری کی وجہہ سے گلشن بے کار نہیں ہوا؟اصلی تخلیق کار ایک پہاڑ ہوتا ہے اگر ناقد اس سے سرٹکرائیں تو سر پھوٹتا ہے پہاڑ نہیں ٹوٹتا۔ ہم نے حالی کی شاعری اور ان کے نثری کلام پر ناقدین کے دونوں رخ پیش کرنے کی کوششیں کی ہے۔ جن نقّادوں نے رسمی طور پر ایک دو جملے تعریف کے لکھ کر منفی باقی کا دفتر کھولا ہے جس میں انصاف سے کام لینے کے بجائے ذاتی فکر و تجربہ سے اخذ کردہ تنقیص اور ذم کا پہلو دکھایا گیا ہے جو علمی عقلی اور منطقی حوالوں سے ثابت نہیں ہوسکتا ہے۔ ان ناقدین میں احسن فاروقی، وحید قریشی اور کلیم الدین احمد سرفہرست ہیں۔ ان ناقدوں نے نوک خار سے گل تخلیق کو تار تار کرنے کی ناکام کوششیں کی ہے۔
حالی کے منظوم اور نثری کلام پر کئی تبصرہ نگاروں نے کلیم الدین احمد کے تندوتیز جملے نقل کیے جنھیں بعض مقامات پر توڑ موڑ کر کچھ جوڑ کر اور کچھ چھوڑ کر اسی طرح بیان کیا کہ مسائل پر پوری روشنی نہیں پڑسکی اس لیے ہم کلیم الدین احمد کے ایک طویل مضمون حالی سے جو ان کی کتاب ’اُردو تنقید پر ایک نظر‘ میں شامل ہے، اقتباسات بغیر کسی متن کی تحریف کے یہاں لکھ کر حالی کے مقدمہ اور شعرو شاعری کے بارے میں ان کا نظریہ پیش کررہے ہیں جہاں وہ حالی کی معمولی سی مغربی شاعری اور تنقید کی سہل انگاریوں یا ان سے واقفیت کو جرم سنگین بتا کر ان کی شخصیت اور تصنیف کا بہیمانہ قتل کرتے ہیں۔ ان کی تنقید دیکھ کر یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ انھوں نے حالی کے تمامتر کلام کا مطالعہ کیا ہے۔
کلیم الدین احمد حالی کو اُردو تنقید کا بانی، اُردو کا بہترین ناقد جن کی نثر بلند پایہ ہے بتاتے ہیں۔
”اُردو تنقید کی ابتدا حالی سے ہوتی ہے۔’پرانی تنقید‘ مخدوف و مقصود کے جھگڑوں، زبان و محاورات کی صحت اسناد کی ہنگامہ آرائی تک محدود تھی۔ حالی نے سب سے پہلے جزئیات سے قطع نظر کی اور بنیادی اصول پرغور و فکر کیا۔شعر و شاعری کی ماہیت پر کچھ روشنی ڈالی اور مغربی خیالات سے استفادہ کیا۔ اپنے زمانہ، اپنے ماحول اپنے حدود میں حالی نے جو کچھ کیا وہ بہت تعریف کی بات ہے۔ وہ اُردو’تنقید‘ کے بانی بھی ہیں اور اُردو کے بہترین نقاد بھی ہیں یہاں جو کچھ لکھا جائے گا اس سے حالی کی تحقیر مقصود نہیں۔ ان کی تاریخی اہمیت اظہر من الشمس ہے۔ ان کی نثر بلند پایہ ہے، ان کا خلوص زبردست ہے۔“
پھر لکھتے ہیں:
”شعر و شاعری کی اہمیت کا صحیح اندازہ حالی کے بس کی بات نہیں وہ کہتے ہیں”شعر کی مدح و ذم میں بہت کچھ کہا گیا ہے اور جس قدر اس کی مذمت کی گئی ہے وہ بہ نسبت مدح کے زیادہ قرین قیاس ہے۔“ وہ افلاطون کے ہم خیال ہیں اور شاعری کو غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ یوں کہتے ہیں کہ شاعری کا ملکہ بے کار نہیں ہے لیکن ان کے خیال میں شاعری محض تفریح طبع کا ذریعہ ہے۔ شاعری کو ئی دلچسپ کھیل نہیں، وہ تو انسان کی بہترین دماغی تحریکات کا آئینہ ہے۔ اس سے کامل سکون، ایک ابدی سرورملتا ہے جو اور کسی چیز سے نہیں ملتا اور نہ مل سکتا ہے۔ یہ بہترین فن ہے جس کی برابری کوئی دوسرا فن نہیں کرسکتا ہے۔ اس کا مقام سائنس اور فلسفہ سے بھی بلند ہے بعض نقاد تو یہاں تک کہتے ہیں کہ مستقبل میں مذہب کی جگہ لے لے گی۔ افسوس ہے تو یہیں کہ آج بھی یہ کہنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ شاعری تفنن طبع کا ذریعہ نہیں۔ اس کے آئینہ میں مادّی اور روحانی دنیا اور اس دنیا کے بنیادی اور پائیدارقوانین کا صاف، مکمل اور پر سکون عکس ملتا ہے حقیقت اور اس کی پر اسرار کار فرمائیاں اسی آئینہ میں اپنی جھلک دکھاتی ہیں۔ اس نقطۂ نظر کی حالی کو خبر نہ تھی وہ شعر و شاعری کی اہمیت اور قدر و قیمت سے واقف نہ تھے اسی لیے دوسروں کو ان چیزوں سے آگاہ کرنا ان کے بس کی بات نہ تھی۔
جس شخص نے بھی حالی کا مقدمہ پڑھا ہے ان کے مسدس کا مطالعہ کیا ہے ان کی نظموں کا تاثیری اثر جذب کیا ہے کیا وہ کلیم الدین احمد کے ان گول مٹول جملوں سے مرعوب ہوسکتا ہے۔
شعر کی تاثیر کو ثابت کرنے کے لیے جو مثالیں حالی نے دی کیا وہ آج بھی ضرب المثل نہیں ہیں۔ یہاں کون نا سمجھ ہے ذیل کی عبارت پڑھ کر فیصلہ کیا جاسکتا ہے:
”شعر کی تاثیر کو ثابت کرنے کے لیے وہ بہت سی مثالیں بھی دیتے ہیں۔ چھ مثالوں سے ان کی ناسمجھی ظاہر ہوتی ہے لیکن اس نا سمجھی سے قطع نظر یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ جس تاثیر کا وہ ذکر کرتے ہیں وہ اہم نہیں۔ شعر کا مقصد جذبات کو بھڑکانہ نہیں ہے۔ شاعر ی جذبات کی تعلیم و تربیت کرتی۔ انھیں برانگیختہ نہیں کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاعری کا اثر ہنگامی نہیں پائدار ہوتا ہے۔ اس سے ہماری روحانی، جذباتی اور جسمانی زندگی خوشگوار ہوجاتی ہے۔ اچھے شعر جذبات کو بھڑکاتے نہیں ہیں اور جو شعر جذبات کو بھڑکاتے ہیں وہ اچھے نہیں ہوتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ حالی کا معیار مادی ہے۔ وہ شعر کو زیادہ اہم نہیں سمجھتے ہیں۔ اس غلط فہمی کا سبب یہی مادی معیار ہے وہ شعر کی تاثیر اور اس کے فائدہ کو تسلیم کرتے ہیں۔ اس خوش فہمی کا سبب بھی یہی مادی معیار ہے۔
شعر کی ماہیت سے بھی وہی بے خبری ہے جو شعر کی اہمیت سے تھی۔ حالی صرف میکولے کا قول نقل کرتے ہیں۔ میکولے کی نقاد کی حیثیت سے کوئی وقعت نہیں۔ اس کے قول کی بھی کوئی خاص اہمیت نہیں میکولے کے خیال میں ( اور یہ خیال بھی ماخوذ ہے) شاعری ایک قسم کی نقالی ہے۔ یہ نقالی فن مصوری یا نقاشی کے مقابلہ میں نامکمل ہے لیکن اس کی دنیاوسیع ہے۔ ”خصوصاً انسان کا بطون صرف شاعری ہی کی قلمرو ہے۔“ 
میکولے کا یہ قول بھی صحیح نہیں کہ ” نقالی فنی مصوری یا نقاشی کے مقابلہ میں نامکمل ہے۔“ اگر آنکھوں کی تسکین کو معیار سمجھا جائے تو اس قول میں صحت ہو سکتی ہے لیکن آنکھوں اور کانوں کی تسکین کو کامل تسکین نہیں سمجھ سکتے ہیں۔ یہ تسکین ادھوری سی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ کمی محسوس ہوتی ہے۔ ہماری دماغی اور روحانی زندگی، ہمارے جذبات اور احساسات کو جو تسکین شاعری میں ملتی ہے، وہ کسی دوسرے فن لطیف میں نہیں ملتی اور نہ مل سکتی ہے۔ میکولے کو اس حقیقت کا احساس نہ تھا اور حالی میں بھی اس احساس کی کمی نظر آتی ہے۔
شاعری کے لیے جو شرطیں حالی ضروری سمجھتے ہیں وہ بھی سطحی اورکورانہ طور پر اخذ کی گئی ہیں۔ یہ شرطیں تین ہیں۔ تخیل، کائنات کا مطالعہ اور تفحص الفاظ۔
کلیم الدین احمد کولرج کے مقلد ہیں وہ میکولے کے قائل نہیں اس لیے تمام غصّہ بچارے حالی پر نکالتے ہیں۔ مغربی ناقدوں کے نظریات میں مشرقی نقاد کی طرح اختلاف رائے موجود ہے۔ تنقید کا کھیل دو اور دو چار نہیں ہوتا۔ اگر تخیل، کائنات کا مطالعہ اور تفحص الفاظ سطحی شرطیں ہیں تو پھر اصلی شرطیں کلیم الدین احمد کیوں بیان نہیں کرتے۔
”حالی نے مغرب سے استفادہ کیا۔ اس استفادے کا نتیجہ جو ہوا ظاہر ہے شاعر فطرت کی خصوصیات اور شاعری کی اہم صفات پر حالی کی پوری بحث پر مجموعی نظر ڈالتے ہوئے ہمیں یہ نتیجہ نکالنا پڑتا ہے کہ جتنی زیادہ یہ بحث اہم ہے حالی اتنے ہی زیادہ اس پر طبع آزمائی کے لیے نااہل ہیں۔ جن علوم کی قابلیت اور جن فطری صلاحیتوں کی اس سلسلہ میں ضرورت تھی وہ ان میں نہ تھیں۔ وہ ایک بحر بیکراں میں بے خطر کود پڑے ہیں اور ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ مگر ان کا کود پڑنا اور ہاتھ پاؤں مارتے رہنا ہی اہم ہے ان کی تمام بحث کی یہ نوعیت ہے جیسے کہ کسی بڑی مکمل اور مربوط تصنیف میں سے کوئی طالب علم کوئی ادھر کی اورکوئی ادھر کی بات نوٹ کرے اور یہ سمجھے کہ وہ پوری کتاب پر حاوی ہو گیا۔ “
افسوس یہ ہے کہ یہ حالی ہی تھے جنھوں نے اُردو ادب کو مغربی قدروں اورلٹریچر سے روشناس کروایا۔ اگر آزاد حالی نہ ہوتے تو کلیم الدین احمد کا وجود نہ ہوتا جنھیں یہ غصّہ ہے کہ حالی اس مغربی دریا میں کیوں اترے اور اگر اترے تھے تو کیوں نہ پورا دریا پیراکی کی۔ حالی نے کہیں یہ بات بالواسطہ یا بلاواسطہ نہیں کہی کہ انھیں نے مغربی لٹریچر پر عبور حاصل کیا وہ تو صرف مغربی قدروں کی نشان دہی اور مختصر تعارف کرکے چلے گئے۔ کلیم الدین احمد کہتے ہیں حالی فینسی اور امیجینیشن میں امتیاز نہیں کرسکتے لیکن جو تعریف انھوں نے لکھی ہے وہ بھی نامکمل اور ادھوری ہے۔ وہ کہتے ہیں اگر مقدمے کوخضر راہ سمجھیں تو ترقی ممکن نہیں۔
”افسوس کی بات ہے کہ آج جب لکھنے والوں کا مطمح نظر حالی کی طرح محدود نہیں جب وہ بہترین مغربی ادب۔ تنقیدی ادب سے واقفیت رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود کسی نے بھی ’مقدمہ شعرو شاعری‘ سے بہتر تنقیدی کارنامہ پیش نہیں کیا۔ یہ خیال ہے کہ ’مقدمہ شعر و شاعری‘ اُردو میں بہترین تنقیدی کارنامہ ہے نہایت حوصلہ شکن ہے۔
حالی کے کلام کے تابوت پر کلیم الدین احمد نے آخری کیل یوں ماری۔
خیالات ماخوذ، واقفیت محدود، نظر سطحی، فھم وادراک معمولی غور وفکر ناکافی تمیز ادنیٰ دماغ و شخصیت اوسط یہ تھی حالی کی کائنات۔ ہم صرف یہی کہیں گے کہ تنقید نگاری کو جذباتی نہیں ہوناچاہیے ورنہ اس کی ناقدانہ رائے قبول نہیں ہوتی۔ کلیم الدین احمد کی رائے کو اکثر اس لیے پیش کرتے ہیں کہ ان تمام عیوب کے باوجود حالی عمدہ ترین تنقید نگاروں میں شمار کیے جاتے ہیں اور مقدمہ شعر و شاعری علمی تنقید کی پہلی معتبرکتاب سمجھی جاتی ہے۔ اگر مرغ یہ سمجھیں کہ اس کے ککڑکوں نہ کرنے سے سورج طلوع نہ ہوگا تو مرغ کی خوش فہمی ہے۔ اُردو تنقید کا کارواں اپنی ارتقائی منازل پر گامزن ہے۔
 وارث علوی ’حالی مقدمہ اور ہم‘میں لکھتے ہیں:”نقاد جب حوالداروں کی طرح بات کرنا شروع کرتا ہے تو اس کا طرز گفتگو بھی کتنا غیر شریفانہ بن جاتا ہے۔ جوش تنقید میں انھیں یہ تک خیال نہیں رہتا کہ حالی جیسے نقاد پر قلم اٹھاتے وقت ہمیں آداب گفتگو کی پاسداری کرنی پڑتی ہے۔ حوالداری سے میرا کیا مطلب ہے اسے سمجھنے کے لیے محمد احسن فاروقی کے یہ جملے دیکھیے جو ان کے مقدمہ پر تنقید سے جستہ جستہ انتخاب کیے گئے ہیں:
”ایسی باتیں پڑھ کر تو یہ کہنے کو جی چاہتا ہے کہ ایسا شخص کسی طرح شاعری کرنے اور شاعری پر رائے دینے کا اہل ہی نہیں ہوسکتا۔ “
”اس اخلاق کی وکالت میں انھوں نے بڑے دھوکے کھائے ہیں اور تنقید نگاری کی بہت ہی غلط مثالیں قائم کی ہیں۔ اس کی بدترین مثال مقدمہ کا وہ حصہ ہے جس میں مراثی کی اخلاقی نوعیت کو واضح کیا گیا ہے۔“
”یہاں وہ تنقید نگاری کے نقطۂ نظر سے ایسا جرم کررہے ہیں جس کی تلافی نہیں ہوسکتی۔“
”یہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ کم علم کس قدر پُر خطر ہوسکتا ہے۔“
”جتنی زیادہ یہ بحث اہم ہے، حالی اتنے ہی زیادہ اس پر طبع آزمائی کے لیے نا اہل ہیں۔“
اگر احسن فاروقی مقدمہ کو ذرا غور سے پڑھتے تو حالی کا اسلوب نگارش انھیں آداب تنقید بھی سکھاتا۔ اس طرح کا طرز بیان صرف فاروقی تک محدود نہیں بلکہ کلیم الدین احمد کہیں مقدمے کی تعریف کرتے ہوئے حالی کی نثر کے بارے میں اُسے انفرادی خصوصیتیں عطاکرتے ہیں کہ حالی نے صاف اور سادہ طرز ایجاد کی لیکن اس طرز میں بے رنگی نہیں پھسپھا پن نہیں اس میں ایک لطافت ہے ایک جاذبیت ہے ایک رنگیتی ہے اور یہ تنقیدی مسئلوں پر بحث کرنے کے لیے موزوں بھی ہے۔“
پھر حالی کی تنقید کے ہر جملے کو مغربی ترازو پر تولتے ہیں اور اس میں جو کچھ کم و کسر ہے اُسی کو سب کچھ بتا کر فتوے صادر کرتے ہیں۔ کلیم الدین کا فیصلہ سنیے” خیالات ماخوذ، واقفیت محدود، نظر سطحی، فہم وادراک معمولی غوروفکر ناکافی تمیز ادنیٰ دماغ و شخصیت اوسط یہ تھی حالی کی کل کائنات۔“
وحید قریشی لکھتے ہیں:
”ادبی مسائل میں جہاں کہیں بھی دو بزرگوں میں اختلاف کا موقع آیا حالی اپنے اعتدال کا ترازو لے کر آگئے۔ حالی کی دکان داری کا یہ انداز ان کی صلح جو طبیعت کا ترجمان اور ان کی شخصیت پرستی کا آئینہ دار ہے۔ لیکن ان ہی دوراہوں پر ان کا تنقیدی نظام متزلزل نظر آتا ہے۔ شاعری شائستگی کے زمانے میں ترقی پاتی ہے یا ناشائستگی کے زمانہ میں اس پر انھوں نے مقدمے میں طویل بحث کی ہے۔ مشکل یہ تھی کہ ہر دو آرا مغرب سے آئی تھیں۔ جس کی پیروی کی انھوں نے قسم کھا رکھی تھی۔ مرحلہ نازک تھا لیکن فیصلہ قطعی، اس لیے دونوں کو خوش کرنے کے خیال سے اور احترام کی خاطر انھوں نے درمیان کی راہ نکالی کہ پہلی بات بھی کسی قدر صحیح ہے اور دوسری بھی۔“

Dr. Syed Taqi Abedi
Toronto, Canada


ماہنامہ اردو دنیا، جولائی  2019

 قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے