جمعہ، 26 فروری، 2021

ناول ’قبض زماں‘ ایک ماحولیاتی قرأت - مضمون نگار: توصیف بریلوی


 


شمس الرحمن فاروقی ناول نگار سے زیادہ نقاد کی حیثیت سے معروف ہیں لیکن ان کی ناول نگاری کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ان کا ناول ’کئی چاند تھے سر آسماں‘ زوال پذیر مغلیہ عہد کی داستان سناتا ہے۔ اس وقت کے رہن سہن، کھان پان،  پہناوے اور زیورات پر خاصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔موصوف کا دوسرا ناول ’قبض زماں‘ 2012 میں پہلی بار پاکستان میں منظر عام پر آیا اور اب 2020 تک اس کے متعدد ایڈیشن آ چکے ہیں۔’قبض زماں‘ کے متعلق ایک سوال ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ اسے ناول کی صف میں رکھیں یا داستان کی صف میں یا پھر طویل افسانے کی؟ کیوں کہ اس میں ناول اور افسانے والے تمام اجزا تو ہیں لیکن Time Travel بھی اس کا خاص وصف ہے جس کی وجہ سے داستان کا شائبہ  گزرتا ہے۔ حالانکہ دنیا کے بیشتر مذاہب کی کتابوں میں اس طرح کے واقعات درج ہیں پھر بھی ایسی باتوں پر یقین کرنا آسان نہیں۔ مذکورہ ناول ’قبض زماں‘سے مراد بھی یہی بات ہے کہ وقت کو قبضے میں کر لینا یا یوں سمجھیں کہ وقت کی قید سے آزاد ہو جانا۔ ’قبض زماں‘ کی کہانی یہ ہے کہ ایک سپاہی جو سکندر سلطان لودی کی حکومت کے آخری سال یعنی 1517  سے مغلیہ حکومت کے زوال کے وقت یعنی اورنگ زیب عالمگیر کے عہد میں پہنچ جاتا ہے۔ ہوا یوں کہ سکندر سلطان لودی کا ایک سپاہی ڈاکوؤں سے لٹ جانے کے بعد اپنی بیٹی کے بیاہ کے لیے ایک طوائف سے قرض لیتا ہے اور اپنی بیٹی کی شادی کر دیتا ہے۔کچھ سال کے بعد جب وہ قرض واپس کرنے جاتا ہے تو اس طوائف کا انتقال ہو چکا تھا۔ وہ اس کی قبر پر فاتحہ پڑھنے جاتا ہے تو اسی قبر سے ہوتے ہوئے ایک ایسی دہلی میں پہنچ جاتا ہے کہ جس کا زمانہ اورنگ زیب کے بعد کا ہے۔جو رقم وہ اپنا قرض اتارنے کے لیے لایا تھا وہ تو اس زمانے میں رائج ہی نہ تھی جس کی وجہ سے وہ بہت حیران و پریشان بھی ہوتا ہے۔اُس موقعے پر اصحاب کہف کا واقعہ بے ساختہ یاد آ جاتا ہے۔ جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سیکڑوں برس گزار آیا ہے تو اس کی کیفیت مجنونانہ ہو جاتی ہے اور ذہن کچھ سوچنے کے لائق بھی نہیں رہتاہے۔

راقم کو ناول کی کہانی بیان کرنا مقصود نہیں تھا پھر بھی ناول کے تعارف میں اختصار سے کام لیتے ہوئے اب اصل موقف کی طرف بڑھا جائے۔ شمس الرحمن فاروقی صاحب نے ناول میں جو زبان(بلکہ املا بھی) استعمال کی ہے وہ واقعی قدیم اردو کی یاد دلاتی ہے اور تاریخی نقطہ نظر سے بھی ناول اہمیت کا حامل ہے۔ ادبی ماحول کا جو تانا بانا مغلیہ حکومت کے آخری وقتوں میں اردو ادب کے عظیم شاعروں پر مبنی ہے مثلاً میر تقی میر، سودا، درد اور ان کے معاصرین کا تذکرہ، ان کی صحبتیں اور ان کی ادبی محفلیں ان سب کا تفصیلی تذکرہ ایک عہد آنکھوں کے سامنے Visualize کر دینے کی قوت رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں مغل حکومت سے بھی پہلے دہلی اور اطراف دہلی میں آب و ہوا کیسی تھی؟ کون کون سے جانور، چرند اور پرند انسانی بستیوں اور جنگلوں میں پھرتے تھے۔ ان کے بارے میں بہت سی معلومات ناول میں مہیا کی گئی ہیں۔جس سے اس وقت کے ماحولیات کا اندازہ ہوتا ہے۔ آگرہ جب بسایا جا رہا تھااس وقت سے لے کر روہیل کھنڈ میں دھام پور کے نزدیک مغل اور روہیلوں کی جنگ تک تکنیکی اسلحوں کا ارتقا، ایسی بہت سی باتیں ناول کو معنی خیزبناتی ہیں اورقاری کو پرانے عہد میں لے جاتی ہیں۔

ماحولیات اپنے آپ میں زندگی کی علامت ہے۔ اگر ماحولیاتی نظام ہی درہم برہم ہو جائے تو زندگی اجیرن ہو جائے۔ مختلف قسم کی آلودگی، جانوروں اور پرندوں کا حد سے زیادہ شکار اور جنگلوں کا بے تحاشا کاٹا جانا ماحولیات کے لیے سم قاتل ہے۔ ماحولیات کو بچائے رکھنے  کے لیے چھوٹے سے چھوٹے جرثومے سے لے کر بڑے بڑے جانوروں تک کا زندہ رہنا بہت ضروری ہے لیکن انسان نے اپنی ضرورت کے مطابق نہ صرف جانوروں کا شکار کیا بلکہ جنگلوں کو کاٹ کر کھیت اور اب ان کھیتوں کو ختم کرکے بستیاں بسانے اور فیکٹریاں لگانے میں منہمک ہے۔یہ سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے جس سے جانوروں اور پیڑوں کا تناسب روز بہ روز کم ہوتا جا رہا ہے اور یہ سیارہ ہمہ وقت ایک عجیب و غریب خطرے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ چونکہ ناول کی قرأت ماحولیات کے حوالے سے کی گئی ہے تو اس میں ان اقتباسات پر گفتگو کی جائے گی کہ جہاں پر ماحولیات سے متعلق کوئی پہلو سامنے آتا ہوگا۔

راوی جب رات کو اپنے گاؤں کے گھر میں رات کو سونا چاہتا ہے اور اسے پرانی باتیں یاد آتی ہیں جو اس کے بچپن کی یادوں میں سے ہیں، اس میں سے ایک جگہ تالاب اور اس میں رہنے والے چیونٹوں اور دیگر کیڑے مکوڑوں کا تذکرہ بڑی باریکی سے کیا گیا ہے۔ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں: 

’’بہر حال ہماری گڑھی میں مچھلیاں نہیں، لیکن جونکیں، گھونگے اور پانی کے چیونٹے بے شمار تھے۔ یہ پانی کے چیونٹے بھی خوب تھے، نہایت دبلے پتلے،بالکل جیسے وہ تنگ اور پتلی اور لمبی ہلکی بادبانی کشتیاں جنھیں Pinnace کہتے ہیں، یا جیسے کشمیری شکارے، بے حد ہلکے پھلکے۔ سیاہ بھورا رنگ، جسے Steel Grey کہیے، اور اس قدر لمبی لمبی ٹانگیں جیسے وہ سرکس کے جوکروں کی طرح پاؤں میں بانس باندھے ہوئے ہوں۔وہ پانی کی سطح پر اس قدر تیز دوڑتے جیسے دوڑ کے میدان میں گرے ہاؤنڈ کتے دوڑتے ہیں۔ مجھے اب یہ تو نہیں یاد کہ وہ کتنی دور تک دوڑتے نکل جاتے تھے(گڑھی خاصی چوڑی تھی، یا مجھے وہ چوڑی لگتی تھی۔) مجھے یاد نہیں کہ کوئی چیونٹا کبھی اس پار سے اس پار پہنچتا ہوا دکھائی دیا ہو۔ لیکن وہ جانور بالکل ننھے منے اور ہلکے پھلکے تھے اور گڑھی کا پانی بھی کچھ بہت روشن نہ تھا، اس لیے اگر وہ اس پار نکل بھی گئے ہوتے تو مجھے نظر نہ آ سکتا تھا کہ وہ اس کنارے پر پہنچ ہی گئے ہیں۔ لیکن جہاں تک مجھے یاد آتا ہے ان کی دوڑ یہی کوئی دو ڈھائی فٹ کی ہوتی تھی اور مجھے ایک چھوٹے سے آبی منطقے میں دوڑتے بھاگتے نظر آتے تھے،اپنے تئیں ایک عجب اہمیت کا احساس اور خودنگری کا رنگ لیے ہوئے، گویا وہ سارا پانی انھیں کے لیے بنایا گیا تھا۔ اکثر میں دیکھتا کہ وہ ایک طرف دوڑتے ہوئے گئے، پھر دفعتاً کنی کاٹ کر کسی اور طرف نکل گئے۔چراگاہوں میں کلیلیاں کرتے ہوئے آہو بچوں اور الل بچھیروں کی طرح انھیں ایک دم قرار نہ تھا۔‘‘ 

(شمس الرحمن فاروقی، قبض زماں، عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی2020(چھٹا ایڈیشن) ص35-36)

مندرجہ بالا اقتباس میں فاروقی صاحب نے گاؤں کے چھوٹے سے تالاب جسے گڑھی کہا جاتا تھا اس میں چیونٹوں جیسے کیڑوں کا ذکر نیز ان کی جسمانی ساخت اور ان کی دوڑ بھاگ کے متعلق تفصیلی ذکر کیا ہے۔ تالاب کے کیڑے مکوڑوں اور جانوروں کا اپنا ایک نظام ہوتا ہے۔ یہ چیونٹے نما کیڑے اسی نظام کا حصہ ہوتے ہیں جو اپنے اپنے طور پر ماحولیات کو بنائے رکھنے میں اپنا تعاون پیش کرتے ہیں۔ یہاں اختصار کی وجہ سے یہ اقتباس مختصر کرنا پڑا ورنہ آگے چل کر گھونگوں اور جونکوں کا ذکر بھی مصنف نے دلچسپ انداز میں قلم بند کیا ہے۔

راوی جب سونے کی کوشش میں ناکام ہو جاتا ہے تو اپنے گاؤں کے وہ دن بھی یاد کرتا ہے جب اس کے دادا کے دروازے پر نیم کا پیڑ تھا۔ اصل میں درخت ہندوستانی تہذیب کا بہت اٹوٹ حصہ رہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ درخت انسانی تاریخ اور زندگی کا اہم حصہ ابھی بھی ہیں۔ درختوں نے ہی انسان کو شروع میں سر چھپانے کو اور جنگلی جانوروں سے بچنے کے لیے اپنی شاخوں کو آغوش کی طرح پھیلا دیا تھا۔ بہر کیف آج درختوں کی کٹائی جس بے حسی کی ساتھ ہو رہی ہے اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ نقصانات کے طور پر پوری دنیا میں آکسیجن کو صاف رکھنے کے لیے پیڑ پودے دن بہ دن کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اپنے اسی طرح کے ایک عزیز نیم کے درخت کے نہ ہونے پر مصنف جن لفظوں میں افسوس کرتا ہے ملاحظہ فرمائیں:

’’دادا کے دروازے پر نیم کا پیڑ، جس کے نیچے خاندان کے لوگوں کے ساتھ گاؤں کا ہر اجنبی مسافر کھانا کھاتا تھا، اب نہیں ہے۔ جس درخت کے سائے میں اس وقت میں لیٹا ہوا سونے کی کوشش کر رہا ہوں، اس کی عمر بمشکل تیس چالیس برس ہوگی۔ وہ گڑھی اور وہ پیپل تو اس طرح صفحۂ وجود سے محو ہو چکے ہیں گویا کبھی تھے ہی نہیں         ؎

ہم تو جیسے یہاں کے تھے ہی نہیں

خاک تھے آسماں کے تھے ہی نہیں

جو ن ایلیا نے ہجرت کے پس منظر میں کہا تھا۔ ان بچاروں کو کیا معلوم کہ ہم لوگ جو یہیں کے تھے اور کہیں نہ گئے، ہم لوگوں کا سارا بچپن، سارا لڑکپن، تمام اٹھتی ہوئی جوانیاں، تمام دوستیاں اور رقابتیں ان اشجار کے ساتھ گئیں جو کٹ گئے، ان تال تلیوں کے ساتھ ڈوب گئیں جو سوکھ گئے، ان راہوں سے اٹھا لی گئیں جن پر گھر بن گئے۔‘‘(ایضاً، ص39) 

محولہ بالا عبارت سے اُس افسوس کا انکشاف ہو جاتا ہے جو ایک طویل عرصے بعد مصنف کو اس کے ماضی کی یاد ہی نہیں دلاتا بلکہ بچپن، جوانیاں، دوستیاں اور رقابتوں سے متعلق بہت سے واقعات تازہ کر دیتا ہے جن کا تعلق گاؤں کے متعدد اشجار کے ساتھ تھا اور وہ اشجار ان کے گواہ تھے۔

راوی اپنے گاؤں میں رات کے وقت نیند سے عاری ہے اور اپنے بچپن کے قصے یاد کرتا ہے پھر اسے بھوت، چڑیل، جنات وغیرہ سبھی کے واقعات یاد آتے چلے جاتے ہیں۔ پیپل کے درخت کا برم بھی اسے یاد آتا ہے اور پھر اسے ایسا لگتا ہے کہ کوئی روح اس کے قریب آکر اپنا واقعہ سنانا چاہتی ہے۔ اسی واقعے پر اصل ناول مبنی ہے۔ سکندر سلطان لودی کی حکومت میں ایک سپاہی جب جنگل میں لٹ جاتا ہے اور وہ لٹیرے اسے باندھ کر ڈال جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں اسے خیال آتا ہے کہ کہیں جنگلی جانور اسے اپنا نوالہ نہ بنا لیں۔ اس موقعے پر اس کے ذہن میں نقصان پہچانے والے جانوروں اور ان کے مناسب ماحولیات کی باتیں گردش کرتی ہیں۔اس ذیل میں ناول سے ایک عبارت یہاں رقم کی جاتی ہے:

’’کیا بہت دیر ہو گئی تھی؟ کیا اب کوئی آنے والا نہیں ہے؟ ابھی ابھی میں نے شیر کی دہاڑ سنی تھی کیا؟ شیر تو اس علاقے میں تھے نہیں، ہاں گلدار بہت تھے۔ گلدار تو جمنا کے کنار ے کی کچھاروں میں دہلی سے کرنال تک چھوٹے ہوئے سانڈوں کی طرح بے روک ٹوک گھومتے تھے اور بھیڑیے بھی۔گلداروں کی تو ہمتیں اس قدر کھلی ہوئی تھیں کہ دہلی کے مضافات میں جو آبادیاں بوجہ نقل مکانی کے ذرا چھدری ہو جاتیں، ان کے خالی گھروں میں گلدار آباد ہو جایا کرتے تھے۔ یہاں تو میں جمنا کے کنارے سے دور تھا۔ سلطان فیروز شاہ خلد مکانی نے یہ نہر بنوائی ہی اسی لیے تھی کہ جمنا کا پانی جن علاقوں میں پہنچتا نہیں ہے وہاں بذریعہ اس نہر کے پہنچ جائے۔ لیکن یہاں بھی اب درختوں کے گھنے اور نہر کی رطوبت نے کچھار جیسا سماں پیدا کر دیا تھا۔ سلطان فیروز کو اللہ نے جنت میں اونچا مقام ضرور دیا ہوگا۔‘‘  (ایضاً، ص53)

مذکورہ بالا اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سپاہی جسے ڈاکو باندھ کر چلے جاتے ہیں وہ دل ہی دل سوچتا ہے کہ اس علاقے میں شیر تو ہیں نہیں ہاں گلدار بہت ہیں بلکہ ان کی اتنی بہتات ہے کہ وہ جمنا کے کنارے کنارے کچھاروں میں دہلی سے کرنال تک پھیلے ہوئے ہیں یہاں تک کہ یہ گلدار دہلی کے مضافات میں بسی بستیوں کے خالی گھروں میں بھی رہنے لگتے تھے۔علاوہ ازیں اس اقتباس میں ایک نہر کا بھی ذکر ہے جو اپنی رطوبت سے کچھار جیسا ماحول بناتی ہے۔ اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف نے قدیم زمانے کی دہلی کی ماحولیات میں پائے جانے والے جانوروں کا بھی خاصا مطالعہ کیا ہوگا۔

سپاہی جب اپنے گاؤں میں بیٹی کی شادی کے بعد کچھ برس گزارتا ہے تو سردیوں کی آمد پر جانوروں اور پرندوں کی بہتات گاؤں کے آس پاس اور باغ میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس ضمن میں ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

’’چیل کوے گوریاں درختوں اور آسمانوں میں شور مچاتے پھرتے کہ سردیاں اب واپس آنے والی ہیں۔ باغوں میں موروں کی کثرت تھی۔ کالے تیتر اپنے اپنے بھٹ سے نکل کر اتراتے پھر رہے تھے۔ تنو مند، بلند و بالا نیل گائیں، بارہ سنگھے، چھریرے چیتل، کانکر، لمبی پیچ دار سینگوں والے کالے، ٹھگنے چو سنگھے، سبھی طرح کے ہرن ہر موڑ پر اور ہر کھلی جگہ پر دکھائی دیتے اور آنکھوںکو ٹھنڈک پہنچاتے۔‘‘ ایضاً، ص72)

مندرجہ بالا اقتباس میں ناول نگار نے موسم کا ذکر کیا ہے اور اسی کی مناسبت سے مختلف جانوروں اور پرندوں کا بھی ذکر آیا ہے۔ جانور انسانوں سے بھی زیادہ حساس ہوتے ہیں انھیں موسم کی تبدیلیوں کا اندازہ ہم انسانوں سے پیشتر ہی ہو جاتا ہے۔ اقتباس کے شروع ہی میں بتا دیا گیا ہے کہ سردیوں کا موسم آنے کو تھا اس لیے سپاہی کے گاؤں کے آس پاس کے علاقے میں پائے جانے والے مختلف قسم کے جانوروں اور پرندوں کے جھنڈ اور غول دیکھنے میں آنے لگے تھے جو کہ آنکھوں کو سکون بخشتے تھے۔ یہ جس زمانے کی کہانی ہے اس زمانے میں مور، نیل گائے، مختلف قسم کے ہرن، چیتل اور کانکر جیسے جانوروں کی بہتات تھی جو ماحولیات کو بنائے رکھنے میں ظاہر ہے اپنا تعاون پیش کرتے رہے ہوں گے۔اب ان میں سے کچھ جانور ناپید ہیں اور کچھ اختتام کی دہلیز پر ہیں۔آج جب جنگل ہی ختم ہو رہے ہیں تو ان جانوروں کے لیے کوئی جائے رہائش ہی کہاں ہے۔ یہ آج کے وقت کا بہت ہی سنجیدہ مسئلہ ہے۔

سپاہی جب امیر جان نامی طوائف کا قرض ادا کرنے جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ فوت ہو چکی ہے اور اس کی محل نما حویلی بھی اب کھنڈر ہوئی جاتی ہے تو اس نے سوچا کہ اب امیر جان کی قبر پر فاتحہ پڑھنا اس کا فرض ہے۔ اسی غرض سے وہ قبرستان کا رخ کرتا ہے اور اس موقعے پر قبرستان میں کھلے پھولوں، پرند اور جانوروں کی وجہ سے وہاں کا ماحول خاصا پر فضا دکھائی دیتا ہے۔ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

’’پھولوں اور پیڑوں کے باعث قبرستان خاصا پر فضا تھا۔ قمریاں اور کبوتروں اور فاختائیں غول کے غول ہر طرف یاہو اور غٹر غوں کرتے دانہ چنتے نظر آتے تھے۔ مور بھی کثرت سے تھے۔ کبھی کبھی تیتر، لومڑیاں اور خرگوش بھی دکھائی دے جاتے۔ ‘‘ (ایضاً، ص75)

مذکورہ بالا اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پھول، پیڑ، پرندے اور دیگر جانور اپنے طور پر ماحولیات میں توازن برقرار رکھتے ہی ہیں ساتھ ہی ان کے دم سے فضا میں بہار محسوس کی جاتی ہے۔ تصور ہی نہیںکیا جا سکتا کہ کوئی بھی چمن صرف پیڑ پودوں کی وجہ سے مکمل ہو، تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کہ مختلف قسم کے جانور بغیر جنگل اور پیڑ پودوں کی شوخیوں کے ساتھ گھومیں پھریں۔ان سب سے مل کر ہی ماحولیات تیار ہوتا ہے جو سب کے لیے مفید ہے۔ ناول نگار نے مذکورہ بالا حصے میں قبرستان کے پر فضا ہونے کی بات کہی ہے جب کہ قبرستان میں جاکر اداسی چھا سکتی ہے، لواحقین کی یاد تازہ ہو سکتی ہے لیکن مختلف قسم کے خوبصورت پرندے مثلاً مور، فاختائیں اور کبوتر اور جانور مثلاً خرگوش یہ سب مل کر اس اداس ماحول کو بھی تر و تازہ بنانے کی قوت رکھتے ہیں۔ یہیں ماحولیات کی اہمیت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اُس کا صحت مند ہونا انسانوں کے لیے بھی کتنا ناگزیر ہے۔

سپاہی جب امیر جان کی قبر میں راستہ دیکھتا ہے تو پس و پیش کے بعد اس میں اتر جاتا ہے اور ایک الگ ہی دنیا میں پہنچ جاتا ہے جہاں اس کی آنکھوں کو خیرہ کرنے کے سامان بہت تھے۔ امیر جان نے اس سے وہ رقم تو واپس لی نہیں اور منہ پھیرتے ہوئے اسے باہر نکل جانے کو کہا بلکہ اپنی اردابیگنی( محافظ لڑکی) سے کہہ کر اسے باہر کا راستہ دکھا دیا۔ باغ سے باہر آکر سامنے ہی ایک بازار تھا جو مختلف قسم کی جنس، میوہ جات اوردیگر سامان سے بھرا پڑا تھا۔حسینوں کا جمال بھی بازار میں جا بجا نظر آتا تھا۔ بیچ بازار کے ایک نہر تھی، آئینے کی طرح شفاف جس کے دونوں طرف پھل پھول والے درخت تھے۔ اس نہر کو کوئی بھی شخص گندا نہیں کر سکتا تھا۔ شاہی ملازمین اس کام پر بھی مامور تھے اور جو نہر کو گندا کرتا تو اسے لہو لہان کر دیا جاتا۔اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

’’بیچ میں بازار کے ایک نہر، تازہ خوش گوار پانی کی رواں، اس کے دو رویہ درخت پھولوں اور پھلوں سے لدے ہوئے۔ مگر کسی کو یاراے گل چینی نہیں۔ ثمر ہائے شیرین و پختہ کو ملازمان شاہی چن چن کر توڑتے اور مونج کی سبد میں اکٹھا کرتے ہوئے۔ نہر کا پانی خس وخاشاک سے پاک آئینے کی مانند۔ باغبانیاں، گری ہوئی پتیوں اور پنکھڑیوں کو جال سے سمیٹتی ہوئی۔کیا مجال جو کوئی بے خیالی میں بھی کوئی تنکا، کوئی خاش، کوئی دھجی، نہر میں ڈال دے۔ محتسبان بازار کا یہ بھی ایک کام ہے۔ سونٹے لیے ہوئے پھرتے ہیں۔ جہاں کسی نے ایک دھج بھی گرائی، سونٹا لہرا کے اس سے کہا کہ اٹھا، ورنہ پیٹھ لہو لہان کر دوں گا۔ ‘‘

(ایضاً، ص87)

مندرجہ بالا اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت کے شاہی انتظامات نہر کے لیے بھی کتنے سخت تھے۔ نہروں کو صاف رکھنے کے پیچھے وجہ یہ بھی تھی کہ انھیں نہروں سے کارو بار زمانہ چلتا تھا۔ ان نہروں کی صفائی اور خوبصورتی کاذکر پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ صاف و شفاف نہریں اس وقت ماحولیاتی نظام میں بڑی معاون ثابت ہوئی ہوں گی۔ ہاں بے شک اس زمانے میں فیکٹریوں سے نکلنے والی گندگی کا رخ نہروں کی طرف نہیں موڑا جاتا ہوگا، نہ ہی برسات میںکھیتوں سے بہہ کر مہلک کیمکل نہروں میں شامل ہوتے ہوں گے۔ پھر بھی ان کی صفائی کا کیسا خیال رکھا جاتا تھا۔ مندرجہ بالا اقتباس میں نہر کی صفائی کا جو نظام پیش کیا گیا ہے وہ متاثر کن ہے۔

وہ سپاہی جب خواب جیسی زندگی سے نکل کر اپنے گاؤں کا تصور کرتا ہے تو اسے اپنے بیوی بچوں کے پیکر تو نظر آتے ہی ہیںساتھ ہی اپنے باغ اور وہاں کے چرند پرند بھی یاد آتے ہیں۔ باغ کے ختم ہونے کا افسوس بھی وہ کرتا ہے اور پھر یہ بھی سوچتا ہے کہ نیا باغ کسی نے لگا لیا ہوگا۔

’’کچھ نہ ہوگا تو میرا گاؤں تو ہوگا۔ کوئی تو میری زمینوں کو کاشت کر رہا ہوگا۔ میرا اپنا باغ سوکھ گیا ہوگا، دیمک کھا گئے ہوں گے لیکن اس کی جگہ نیا باغ تو کسی نے لگا لیا ہوگا۔ اس میں پپیہے اور کوئلیں تو کوکتی ہوں گی۔ اس پر بارش کی پہلی پھوار سے گرد آلود آم کا منھ تو اب بھی دھل جاتا ہوگا؟‘‘(ایضاً، ص142)

محولہ بالا اقتباس میں مصنف نے بتانے کی کوشش کی ہے کہ وہ سپاہی اپنے گاؤں کو اور اپنے کنبے کو یاد کرتا ہے ساتھ ہی اپنے کھیت کھلیان، باغ اور اس میں رہنے والے پپیہے اور کویلوں کوبھی یاد کرتا ہے۔ پیڑ پودے روز اول ہی سے انسان کو سہارا دئے ہوئے ہیں۔ اس کی یادوں کے مسکن اور زندگی میں اہم ستون کی اہمیت رکھتے ہیں۔وہ سپاہی ایک الگ ہی دنیا میں پہنچنے کے بعد بھی اپنے کنبے کے ساتھ ساتھ اپنے کھیت کھلیان اور باغ کو بھلا نہ سکا۔اس حصے سے انسان کا قدرت کے ساتھ اہم رشتے کی وضاحت ہوتی ہے۔

زیر نظر مضمون میں حتی المقدور ان عبارتوں اور اقتباسات کو پیش کرنے کی سعی کی گئی ہے جن میں ماحولیات یا ماحولیات کو بنائے رکھنے میں معاون چرند، پرند، موسم، ندی نہر، فصلیں، پھل پھول، باغات اور کھیت کھلیان کا تذکرہ کیا گیاہے۔ ناول کا مطالعہ کرنے پر مصنف کی باریک نظر، عمیق فکر اور ماحولیاتی حسیات کا قائل ہونا پڑتا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی نے ’قبض زماں‘ میں ایسے کئی مواقع پر ماحولیاتی مسائل کو بڑی حسیت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ سب سے زیادہ باریکی سے ص 35 سے 38 تک مختلف قسم کے آبی کیڑے مکوروں کا ذکر ہی نہیں کیا بلکہ ان کی عادات و اطوار کو بھی پیش کیا ہے جس سے ان کا مشاہدہ اور مطالعہ صاف جھلکتا ہے۔ضرور موصوف نے Animal Behaviour اور Entomology کا بڑی دلچسپی سے اور تادیر مطالعہ کیا ہوگا۔ اس ضمن میں طوالت سے بچنے کے لیے ص 35 تا 36 تک ہی اقتباس دیا جا سکا ہے۔

علاوہ ازیں ناول میں کئی جگہوں پر پیڑوں کے کٹنے یا وقت کی آندھیوں میں کھو جانے پرشدید اظہار افسوس ملتا ہے۔بہت سے جانوروںاور پرندوں کا ذکر پر فضا ماحول اور زندگی کی علامت کے طور پر کیا گیا ہے۔  مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ناول ’’قبض زماں‘‘ میں تاریخی، جغرافیائی اور Time Travel جیسے نکات سموئے ہوئے ہے لیکن اس کا ماحولیاتی پہلو بھی قابل غور و فکر ہے۔

 

Tauseef  Barelvi

Research Scholar, Dept of Urdu

Aligarh Muslim University

Aligarh - 202001 (UP)

Mob.: 7302702087

Email.: venuseefvi@gmail.com

 


 


 


جمعرات، 25 فروری، 2021

شمس الرحمن فاروقی کا نظریہ ’ناول کی شعریات کے تناظر میں‘ - مضمون نگار: محمد اقبال لون

 



ناول ادب کی ایک مقبول عام صنف ہے۔ اردو ادب میں اس کی تاریخ تقریباََ ڈیڑھ سوسال سے ذیادہ عرصے کو محیط ہے اورمغرب میں ناول کی تاریخ کم و بیش تین سو سال پر مشتمل ہے۔ چنانچہ جب اٹھارہویں صدی کے وسط میں یورپ میں سائنس اور تکنالوجی نے ترقی کی اور نتیجتاََ صنعتی انقلاب آیا، بہت سارے عقائد و توہمات باطل قرار پائے تو ایسے وقت میںناول نے جنم لیا۔بقول فاروقی ’’اٹھا رہویں صدی ہی ہے جس میں ناول پیدا ہوا اور پروان چڑھا...ناول دراصل ڈرامے کا ایک محدود اور نسبتاً بے جان بدل ہی ـ۔1 صنعتی انقلاب نے نوآبادیاتی ہندوستان پر گہرے اثرات مرتسم کیے ہیں اور غدر کے ناخوشگوار اور دوررس نتائج نے کولونیل ہندوستان میں زندگی کے دیگر شعبہ جات کی طرح ادب کو بھی متاثر کیا ہے۔اسی دوران میں اردو ناول معرض وجود میں آیا اور بہت کم عرصے میں ناول نے اردو ادب میں اپنا ایک مقام بنالیا۔ جب ہم ادب کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ادب کی جتنی بھی اصناف ہیں سب میں عہد بہ عہد،مسائل اور فکر وفن کے اعتبارسے تبدیلی ہوتی رہی ہے۔سماجی اور ثقافتی رجحانات نے ادب وفن میں بھی خارجی اور داخلی سطحوں پر تبدیلی کا عمل شروع کیا جن کے نتیجے میں نظم و نثرمیں موضوعاتی اور ہیئتی تبدیلی واقع ہوئی جس کا ایک مظہر ناول ہے۔ناول کی ساخت اور ہیئت پر اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر عتیق اللہ لکھتے ہیں:

’ ’ہر صنف دوسری بہت سی روایتی اصناف کے آثار کامجموعہ ہوتی ہے اور ناول بھی ایک ایسی ہی نئی صنف،نئی ساخت،نئی ہیئت ہے جس کی نہ کوئی معین ساخت ہے نہ معین ہیئت اور نہ کوئی معین خاکہ۔یہی وجہ ہے کہ ہر ناول کا خاکہ دوسرے ناول سے مختلف ہوتا ہے۔.........ناول کو ایک صنف کا درجہ دینے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ اس کی ساخت و ہیئت کے ایسے قاعدے تشکیل دیے جائیں جیسے مسلمہ اصناف (Canonic genres) کے ساتھ مختص ہیں۔اسی لیے ناول کا فن بہت سی آزادیاں فراہم کرتا ہے جن سے عہدہ برآہونے کے لیے اپنے اوپر بہت سی پابندیاں عائد کرنی پڑتی ہیں۔بے اصولے پن میں بھی کسی نہ کسی اصول کی تلاش کو اپنا منصب بنانا پڑتا ہے۔یہ ایک وسیع کھیل کا میدان ہے جہاں کھلنڈرے پن،تفریح،دل بہلاوے،دماغ سوزی،ٹہوکہ لگانے اور چھیڑ چھاڑ کرنے کی کافی گنجائش ہے۔ناول نگار کوایک وسیع تر دنیا آباد کرنی پڑتی ہے۔‘‘2

ناول ادب کی واحد صنف ہے جو ایک مکمل کتاب کی صورت و ہیئت میں ہوتی ہے۔دراصل ناول وہ صنف ہے جس میں حقیقی زندگی کے گوناگوں جذبات کو کبھی اسرار کے قالب میں کبھی تاریخ کے قالب میں کبھی رزم کے قالب میں کبھی سیاحت یا پھر نفسیات کے قالب میں ڈھالا جاتا رہا۔اس میں پوری زندگی پر لکھا جاتا ہے  یعنی ناول زندگی کی مکمل تصویر ہے جس میں زندگی کے مختلف واقعات و حادثات کو دلچسپ پیرائے میں پیش کیا جاتا ہے۔اگر غور کیا جائے تو جس طرح زندگی مختلف نشیب و فراز اور وسیع سے وسیع ترین تجربات و مشاہدات سے عبارت ہے اور اس کی کلی اور جامع تعریف قلم و قرطاس کے دائرے سے باہر ہے، اسی طرح ناول کا فن یا اس کی شعریات کی تعریف و توضیح کے بارے میں کوئی حتمی حکم لگانا بہت دشوار ہے۔ناول کی شعریات کے بارے میں معروف نقاد علی احمد فاطمی لکھتے ہیں:

 ’’ ناول کے فن یا اس کی شعریات کی حتمی شکل پیش کرنا بھی مشکل بلکہ ناممکن ہے،جس طرح زندگی کی ٹھوس تعریف نہیں کی جاسکتی۔لیکن زندگی کی تعریف نہ کیا جانا ہی زندگی کی تعریف ہے۔اسی طرح ناول کی عدم شعریات ہی ناول کی شعریات ہے کیونکہ زندگی ناہموار ہے،اس لیے ادب بھی ناہموار اور فکشن اس سے بھی زیادہ نا ہموار۔‘‘3

ناول ایک ایسا آئینہ خانہ ہے جس میں انفرادی و اجتماعی زندگی کے اندرونی و بیرونی سارے روپ دیکھے جاسکتے ہیں۔زندگی کی تفسیر،فطرت کی عکاسی وترجمانی اور حقائق کی تصویر کشی وغیرہ ناول کی بنیادی شعریات قرار پائے۔ علی عباس حسینی،وقار عظیم،یوسف سرمست،احسن فاروقی اور پروفیسر حسن جیسے ناول کے ناقدین نے انھیں روایتی پیمانوںا ور اصولوں پر اردو ناول کی تعیین قدر کی۔ اس دوران عالمی ادب میں ناول تنقید کے ماہرین نے زبان،بیانیہ،تھیم،آئیڈیو لوجی وغیرہ کو ناول کی شعریات قرار دیا جس میں نارتھرو پ فرائی،رومن جیکب سن، کلاڈ لیوی اسٹراس،اے جے گریما،زیر ار زینت،زویتاں تودرف وغیرہ کے نظریات و خیالات نے مزید وضاحت و صراحت کی۔اردو ادب میں بھی ان نظریات و افکار کی گونج سنائی دی اور1980 کے بعد ناول کو ان نظریات و افکار کے پیمانوں پر بھی پرکھا جانے لگا اور یہ نئے اصول پرانے اصولوں کی توسیع کے بطور ابھرے۔لہذا نئے ناولوں کا تعین قدر توسیع شدہ اصولوں پر ہونے لگا جس سے فنکار اور فن پارے کی قدر شناسی اور قدر سنجی کے معیار و منہاج مضبوط ترہوگئے۔گویا اب موضوع، پلاٹ، واقعات، کردار، زندگی اور زمانے سے متعلق نظریات زبان کا برتاو، اسلوب،حقیقت کی نقاب کشائی، معاصر یا مابعد جدید تہذیب کی عقدہ کشائی،بیانیہ،تھیم،آئیڈ یولوجی وغیرہ ناول کی شعریات قرار پائے۔

      زیر نظر مقالے میں ناول کی شعریات کے بارے میں اردو کے قدآور نقاد شمس الرحمن فاروقی کے نظریات و خیالات کو جاننے کی کوشش کی جائے گی۔یہاں پر اس بات کی وضا حت ضروری ہے کہ فاروقی نے اردو کی تقریبا ہر صنف کی ہیئت،تکنیک اور تعریف و توضیح اور اس کے حدود اربعہ کے بارے خوب صراحت کی۔لیکن ناول واحد صنف ہے جس کی نظری اور عملی تنقیدکے حوالے سے انھوں نے حیرت انگیز طور پر بہت کم لکھا ہے۔

فاروقی نے سب سے پہلے اس موضوع  (آج کا مغربی ناول) پر ہنری جیمس کے مضمون ’ناول کا مستقبل ‘ کا ذکر کیا ہے۔ہنری جیمس ناول کو انعکاس کا بہترین ذریعہ سمجھتا ہے۔اس کا یہ بھی خیال ہے کہ جب تک موضوعات باقی ہیں ناول برقراررہے گا لیکن فاروقی یہ دیکھتے ہیں کہ بیسویں صدی میں ناول کی جدید تنقید اس نظرے سے انکار کرتی ہے۔ فاروقی نے ناول پر بحث کرتے ہوئے مغربی مفکرین اور ناول نگاروں کو موضوع بنایا ہے اور مغربی ناول کا منظر نامہ اردو دنیا کے سامنے غالباً پہلی بار پیش کیا ہے۔ اس مضمون میں موصوف نے ناول کی شعریات کے حوالے سے کئی مفید اور بنیادی باتیں کیں۔ بحوالہ کامیو، فاروقی  ناول کے متعلق یوں فرماتے ہیں:

’’ناول دراصل کیا ہے ؟ یہ ایک کا ئنات ہے جس میں واقعہ یا عمل کو  ہیئت بخش دی گئی ہو،جہاں آخری الفاظ کہے جائیں،جہاں لوگ ایک دوسرے کو پوری طرح اپنا لیں،اورجہاں زندگی تقدیر کی شکل اختیار کرلے۔ناول کی دنیا اس دنیا کی محض تطہیر ہے۔جس میں ہم انسان کی عمیق ترین خواہشات کی تکمیل کے لیے جیتے ہیں۔کیونکہ دنیا بلاشبہ وہی ہے جسے ہم دنیا سمجھتے ہیں۔وہ دکھ،وہ فریب،وہ محبت،سب وہی ہیں۔ناول کے ہیرووہی زبان بولتے ہیں جو ہم بولتے ہیں۔ان کی کمزوریاں ہماری کمزوریاں ہیں... ان کی قوت ہماری قوت ہے‘‘4

شمس الرحمن فاروقی کا خیال ہے کہ ناول کے بارے میں کوئی ایک تھیوری قائم نہیں ہوسکتی ہے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ ناول عہد انقلاب کی پیداوار ہے اور عہد انقلاب میں پورے یورپ میں تبدیلیاں پیدا ہورہی تھیں جس کے نتیجے میں روشن فکری کا زمانہ آیا اور روشن فکری کی بنیاد ہی ان باتوں پر قائم ہوتی ہے کہ ہر چیز کو سوال میں لایا جائے۔ایسے وقت میں ناول نے جنم لیا لہذا ناول میںاس وقت کی تبدیلیوں کا احاطہ کیا گیا۔اسی لیے ہم زمانے کے زمینی حقائق اور دنیا و مافیھا کے حالات کا عکس ناول میں دیکھتے ہیں۔ ناول زندگی اور اس سے منسلک تمام پہلووں کااحاطہ کرتا ہے یعنی انسانی زندگی کے مختلف نشیب و فراز،پیچ و خم اور طرح طرح کے واقعات و حوادث سے عبارت ہے اور زندگی وقت کے کٹہرے میں قید ہے۔ جب ناول کو زندگی کی عکاسی و ترجمانی پر محمول کیا جاتاہے تو اس میں ان عوامل کا در آنا ایک فطری امر ہے۔ اس تناظرمیں فاروقی مغربی مفکرین کے حوالے سے ناول میں واقعیت اور وقت کے تعلق سے کچھ اہم نکتوں کی طرف ہماری توجہ مبذول کرتے ہیں۔ ان کے بقول ـ’’ناول زندگی کا احاطہ کس طرح  اور کس حد تک کرتا ہے۔لہذا ناول کے اخلاقی اور فنی مسائل کو الگ نہیں کیا جاسکتا۔بنیادی مسئلہ واقعیت کا ہے۔۔۔چونکہ واقعیت کا انعکاس وقت کے دائرے ہی میں ممکن ہے،اس لیے ناول اپنا فنی اظہار کس طرح کرے ؟اس سوال کا جواب بیک وقت واقعیت اور فنکارانہ اسالیب کا احاطہ کرتا ہے۔‘‘5

ناول سے متعلق شمس الرحمن فاروقی ان لوگوں کے نظریات کو غلط ٹھہراتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ناول ترقی یافتہ صنف ہے اور داستان غیرترقی یافتہ۔اس سلسلے میں فاروقی نے جو کچھ کہا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اب تک جو روایت ہے وہ قصہ کہنے کی ہے اور جو ناول کی روایت ہے قصہ لکھنے کی ہے۔قصہ لکھنے اور کہنے میں فرق ہوتا ہے۔دونوں کی حرکیات الگ الگ ہوتی ہیں۔لہذا دونوں کو الگ الگ رکھا جائے اور یہ گمان ہرگز نہ کیا جائے کہ داستان غیر ترقی یافتہ اور ناول ترقی یافتہ صنف ہے۔ناول کی شعریات کے بارے میں فاروقی بنیادی بات یہ کہتے ہیں کہ جب ناول روشن فکری کے زمانے کی پیداوار ہے اور روشن فکری کی اساس کئی سولات پر قائم ہے۔مثلاًیہ کہ انسان کی ضرورت اندر سے کیا ہے ؟ نفسیات کسے کہتے ہیں کردار کسی چیز سے محبت یا نفرت کیوں کرتا ہے ؟تو ناول کے لیے یہ بات ضروری ٹھہری کہ ناول کے جو کردار ہیں ان کو صرف اوپر سے نہ بیان کیا جائے بلکہ اس کے اندر جو کچھ ہورہا ہے اس کو پڑھا جائے اور پڑ ھ کر لوگوں کو بتایا جائے۔اس لیے ناول نگار سے یہ توقع رہتی ہے کہ وہ زندگی کے بارے میں کچھ بتائے۔چنانچہ پریم چند کا ناول اس لیے نہیں پڑھتے ہیں کہ کسانوں اور غریبوں کے حالات معلوم ہوں بلکہ یہ چیزیں تو ہمیں تاریخ میں مل جاتی ہیں۔اس لیے پڑھتے ہیں کہ اس زمانے کے لوگ اندر سے کیسے تھے ان کے احساسات کیسے تھے اور وہ زندگی میں کیسے لگتے رہے ہوں گے۔ان تمام پہلوؤں کے لیے ہم پریم چند کا ناول یا کسی اور ناول نگار کوپڑھتے ہیں۔

شمس الرحمن فاروقی کا خیال ہے کہ مغربی ناول نگار اور ناقد کو کئی مسائل درپیش ہیں۔ جیسا کہ پہلے ہی کہا گیا ہے کہ فاروقی زیادہ ترمغربی ناول نگاروں اور ناقد ین کے حوالے سے اپنی بات رکھتے ہیں۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ناول مغرب کی دین ہے۔اس لیے اردوناول کی شعریات پر وہی اصول و قوانین اور قواعد و ضوابط منطبق ہوں گے جو اس کی اصل شعریا ت کا خاصہ ہے۔ مغربی ناول نگاراور نقاد ناول کے تناظر میں جن مسائل سے دوچار ہیں۔موصوف اس طرح بیان کرتے ہیں : 

  ’’ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے زمانے کا مغربی ناول نگاراور ناول کا نقاد جن مسائل سے دوچار ہے ان کو تین عنوانات کے تحت رکھا جاسکتا ہے :(1)اخلاقی،یعنی ناول میں کیا کہاجائے ؟ناول فرد کا اظہار ہے کہ سماج کا؟ کیا ناول خیر و شر کے مسئلے سے بحث کرتا ہے یا محض زندگی سے،یعنی کیا ناول مسائل سے عبارت ہے یا زندگی کی مکمل معنویت یا بے معنویت سے ؟(2) فلسفیانہ،یعنی کیا ناول نگار وابستگی میں یقین رکھتا ہے؟ اگر ہاں تو کس حد تک ؟ اور(3) فنی،یعنی ناول کس طرح اپنے قیود سے آزاد ہوسکتا ہے ؟ اور وہ قیود کیا ہیں؟ موجودہ مغربی ناول (…) اور اس کی تنقید گھوم پھر کر انھیں باتوں پر مراجعت کرتی ہے‘‘6

  ناول سے متعلق شمس الرحمن فاروقی کا ایک تصور یہ ہے کہ جہاں ناول نے کچھ چیزیں حاصل کی ہیں تو  وہیں پر کچھ چیزیں کھوئی بھی ہیں۔بڑی چیز تو یہ کھوئی ہے کہ ناول نگار اور اس کے قاری کے درمیان کوئی ربط نہیں،پتہ نہیں وہ قاری کہاں ہے لندن میں ہے یا دہلی میں۔اس بنا پر جو وہ قصہ لکھتا ہے اس کو احساس ہوتا ہے کہ میں اپنے لیے قصہ لکھتا ہوں۔اس وجہ سے ناول نگار کی ذمہ داریاں کچھ اور ہوجاتی ہیں۔ وہ اپنے قاری کو اپنے ناول سے ہم آہنگ کرنے کے لیے قصے کو اتنا وثوق انگیز بناتا ہے یعنی ایسا قصہ بناتا ہے گویا ممکنات سے تعلق رکھتا ہے،وہ اپنے قصے میں غیر امکانی بات بیان کرنے سے پرہیزکرتا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کی نظر میں ناول کی شعریات اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ناول کسی نہ کسی صورت سے داخلی یا خارجی دنیا کی حقیقت سے روشناس کرے۔ جدید ناول تو فرد کی داخلی یا خارجی دنیا کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر پوری زندگی کامفہوم و ماحصل کا تقاضا کرتا ہے۔اس تناظر میں فاروقی  بہ حوالہ سول بیلو Sual Bellow لکھتے ہیں۔’’کہ جدید ناول نے فرد کی داخلی کشمکش کا اخراج کردیا ہے،کیونکہ یہ داخلی کشمکش محض ایک نقطہ ہے،جب کہ میں ساری زندگی کا خلاصہ اور نچوڑ مانگتا ہوں... ناول میں شکایت،احتجاج،عدمیت سے بھرپور غصہ،واقعیت اور  ماحول کی شدیداحساس کی کارفرمائی ہے‘‘7 یعنی جدید زندگی میں ناول سے ہم یہ توقع کریں جس کی توقع میر کو اپنے دل سے تھی          ؎

دل ہم نے کو مثال آئینہ

ایک عالم روشناس کیا

   شمس الرحمن فاروقی کا واضح موقف ہے کہ ناول نگار اس بات کا پابند نہیں ہے کہ وہ وہی کہے جو اس سے متوقع ہو بلکہ اسے وہی بات کہنی ہے جووہ خود کہنا چاہتا ہے۔ یعنی ناول نگار کسی بھی طرح اپنے خیالات و احساسات یا اپنا تجربہ یا vision کو بیان کرنے میں خود مختاراور آزاد ہے جو چیز اسے جیسی نظرآئے اس کو وہ ویسی ہی پیش کرنے کا مجاز ہے۔مگر انسانی نفسیات اور کرداروں کے مزاج کو ملحوظ رکھنا بہرحال اس کی مہارت اور ہنر مندی پر دال ہے۔ مزیدناولاتی بیان کے تعلق سے فاروقی یوں رقمطراز ہیں:

’’ناولاتی بیانیہ میں کردار کے ذریعے واقعات کو Focalise کرتے ہیں یعنی واقعات کے اندر معنویت کردار کے نقطہ نظر پر منحصر ہوتی ہے یا اس نقطہ نظر پر جسے بیانیہ نگار بیانیہ پر حاوی کرتا ہے۔‘‘8

شمس الرحمن فاروقی کے مطابق ناول کے ارتقا میں داستان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔سہیل بخاری کی رائے میں بھی ناول داستان کی ارتقائی شکل نہیں ہے۔یہ بات اردو فکشن کی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے قابل قبول نہیں لگتی۔کیونکہ ہمارے اردو ادب میں 1869میں جب مولوی نذیر احمد کے ہاتھوں ناول کا آغاز ہوا تو اس سے پہلے داستان کا ہر طرف چرچا تھا۔میر امن کی باغ و بہار منظر عام پر آچکی تھی اور اس کے جواب میں رجب علی بیگ سرور فسانۂ عجائب نامی ایک داستان پیش کرچکے تھے۔لوگ داستان پڑھتے اور سناتے تھے۔ایسے میں مولوی نذیر احمد اور ان کے بعد ناول نگاروںنے ضرور ان داستانوں کو پڑھاہوگا  اور ان سے متاثر ہوکر ناول لکھنے کا قصد کیا ہوگا۔ہمارا دعویٰ اس طرح مدلل ہوجاتا ہے کہ جیسے داستان میں پلاٹ اور کردار وغیرہ ہوتے ہیں،اسی طرح ناول میں بھی پائے جاتے ہیں۔اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ناول کے ارتقا میں داستانوں کا بھی کم و بیش اور کم سے کم بالواسطہ حصہ ضرور رہا ہے۔ ناول ہمارے ہاں براہ راست مغرب سے آیا،جبکہ مغرب میںیہ رومان کی ارتقا یافتہ صورت ہے۔لہذا ناول داستان کے زوال کا سبب اور وجہ نہیں ہے بلکہ اس کے وجوہ الگ ہیں۔ فاروقی اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہتے ہیں:

’’ناول یا ناول نماتحریریں جو اس وقت بازار میں آرہی تھیں وہ داستان کی جگہ نہیں لے رہی تھیں۔ان کے پڑھنے والے عام طور پر کچھ اور طرح کے لوگ تھے۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ انیسویں صدی کے اواخر میں داستا ن پڑھنے والے لوگ ناول پڑھنے والوں سے زیادہ تھے،اور ان میں کم لوگ ایسے رہے ہوں گے جو نئے زمانے کا ناول بھی پڑھتے ہوں۔لہذا ناول کی مقبولیت کو داستان کے زوال کا سبب قرار دینا درست نہ ہوگا۔‘‘9

ناول کی جدیدنظری تنقید کے تعلق سے شمس الرحمن فاروقی کا یہ تصورہے کہ ناول کی جدید نظری تنقید سے ہم اردو والوں کی ملاقات بس واجبی سی ہے۔ناول کے اصولوں سے ہماری ملاقات ان کتابوں کی بنا پر جو آج سے ساٹھ ستر برس پہلے لکھی گئی تھیں۔بلکہ ہنری جیمس کے مضامین،جن پر ناول کی زیادہ تر تنقید ہمارے یہاں تکیہ کرتی رہی ہے، اب سو برس سے بھی اوپر کی عمر پہنچ چکی ہیں، ای ایم فارسٹر کی چھوٹی سی کتاب جس کے بغیر ہمارے اکثر نقاد لقمہ نہیں توڑتے ہیں۔یہ کتاب ’ناول کا فن‘ 1927 کی ہے۔اس کتاب میںکردار اور پلاٹ کے بارے میں جو کچھ کہہ دیا گیا ہے۔ دشت تنقید میں ہمارا زاد سفر اب بھی وہی ہے۔ہنری جیمس کے پہلے ناول کی نظری تنقید میں کیا مسائل تھے اور تیس پنتیس برس میں جو باتیں ہوئی ہیں ہمیں ان دونوں سے کوئی سروکا ر نہیں۔جیمس کے بعدناول کی تکنیک بہت جلد بدلی اور بیانیہ کے ایسے اسلوب کی جگہ جس میں ناول نگار ایک ایسے شخص کے روپ میںسامنے آتا ہے جسے تمام کرداروں پر گزرنے والے تمام واقعات کا علم ہے۔اس کے بعد کچھ ناول نگاروں کے یہاں بیانیے کا وہ اسلوب نظر آتا ہے جس میں ناول نگار صرف ایک یا چند کرداروں کے شعور و لاشعور میں غرق ہو کر کائنات یا خود ان کرداروں کو اپنے تخیل کی گرفت میں لاتا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی اپنے ایک فکر انگیز مضمون بعنوان ’’آج کا مغربی ناول... نظریات و تصورات ‘‘ میں ناول کے فن کے تغیر وتبدل کے حوالے سے یوں رقمطراز ہیں:

’’آج سے تیس چالیس برس پہلے تک ناول ایک روایتی قسم کی صنف سخن تھا،جس میں پیچیدہ ادبی اور فنی مسائل کو گھسیٹ لانے کی ضرورت نہ تھی،لیکن جدید ناول نگاروں کے ہاتھ میں ناول ایک مخصوص،کم انتخاب Exclusive اور پیچیدہ صنف کی شکل میں سامنے آیا۔اس کی توجیہہ اور پچھلے ناول سے انکار کا کام لامحالہ نئے ناول نگاروں نے ہی کیا۔‘‘10

شمس الرحمن فاروقی جہاں مغرب میں ناول نگاری میں شاندارادبی روایت اور سرمایے کا تذکرہ کرتے ہیں اوراس کی ترتیب و تشکیل اور ارتقائی مراحل کو   مدلل اور مفصل انداز میں پیش کرتے ہیں۔وہیں موصوف آ ج مغربی ناول کی صورت حال پریہ تاثر پیش کرتے ہیںکہ آج کا ناول نگار Idenitity crisis کے دور سے گزر رہا ہے۔ و ہ لکھتے ہیں:

    ’’آج کا ناول تاثر کے اعتبار سے اتنا متنوع ہے کہ اس پر کوئی ایک حکم لگانا مشکل ہے۔صرف یہ کہا جاسکتا ہے کہ شاعری کی طرح آج کا ناول نگار بھی  Identity Crisis سے گزررہا ہے اور اس کی تحر یروں پر بے چینی کی فضا حاوی ہے‘‘11

  شمس الرحمن فاروقی کا خیال ہے کہ جد ید ناول عصری حقیقت کو گرفت میں لانے کا عمل مشکل سے ہی انجام دے پا تا ہے  یا یوں کہیں کہ عصری مسائل اور تقاضوں کا مکمل احاطہ اورموثر  ابلاغ  وترسیل  ناول سے نہیںہوپاتا ہے۔ اس کے کئی وجوہات ہوسکتے ہیں اور ناول کے وجود کا مستقبل دراصل قومی نہیں بلکہ عالمی ناولوں سے وابستہ  ہے۔  فاروقی معروف مغربی ناول نگار میری مک کارتھی  کے حوالے سے یوں گویا ہیں۔’’موجودہ ناول نگار کی مشکل یہ ہے کہ وہ مستقبل کی تعمیر نہیں کرپاتا  بلکہ یہ ہے کہ وہ حال کی تشکیل و تعمیر سے مجبور ہے۔‘‘12

شمس الرحمن فاروقی داستان اور ناول پر بحث کرتے ہوئے ایک اہم بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ہمارے یہاں ناول کی کوئی مستقل روایت نہیںہے جس کی بنا پر ایک ناول نگار کے فن کو دوسرے کے مقابلے میں رکھاجائے اب اگر کوئی کہے کہ ناول کو داستان کی روایت سے جوڑ کر آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔کیونکہ دونوں بیانیہ کے اقسام میں سے ہیں۔اس تعلق سے فاروقی کا خیال ہے کہ ناول کو داستان کی روایت سے نہیں جوڑ سکتے۔کیونکہ داستان کی جو طرز وجود ہے وہ فکشن کے طرز وجو د سے بالکل مختلف ہے،مثال کے طور پر داستان میں داستان گو اور سامعین کے درمیان ایسا ربط ہوتا ہے کہ دونوں فوری طور پر آمنے سامنے ہوتے ہیں اور ناول میں ایسا نہیں ہوتا۔باختن کے لفظوں میں ناول نگار سے زیادہ دنیا میں کوئی تنہا آدمی نہیں ہے وہ اکیلا بیٹھالکھ رہا ہے۔ اس کے پڑھنے والے کہاںہوںگے اور اس کو کس طرح پڑھیں گے ؟یا ردعمل ہوگا۔پڑھیں گے کہ نہیں یا پھاڑ کے پھینک دیں گے اس کوکچھ نہیںمعلوم۔وہ تو صحیح معنوںمیں اپنے دل کو اتارکرکاغذ پررکھ دے رہا ہے،اس کے بعد چُپ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ داستان سنائی جاتی ہے اور ناول لکھا جاتا ہے۔زبانی سنانے کی حرکیات الگ ہوتی ہے اور لکھی جانے کی حرکیات الگ ہوتی ہے،تو فاروقی اس ضمن میں لکھتے ہیں:

’’ان دونوں کے درمیاں وہی رشتہ ہے جو نارنگی اور آم میں ہے کہ دونوں میٹھے ہیں۔دونوں ایک رنگ کے ہوتے ہیں۔پھر بھی دونوں الگ الگ ہیں۔ان اسباب کی بنیاد پر آپ ناول کی روایت کو آگے بڑھانے کے لیے داستان سے نہیں جوڑ سکتے ‘13

بعض نقادوں کا کہنا ہے کہ ناول جدید عہد کی پیدوار ہے لہٰذا ناول کے تعلق سے بات جدید خیالات کی روشنی میں ہی کرنی چاہیے۔شمس الرحمن فاروقی اس بات کی تردید کرتے ہیں اوراپنے نقطۂ نظر کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں:

   ’’یہ کہنا غلط ہے کہ ناول چونکہ جدید صنف ہے اس لیے اس پر جدید خیالات کی ہی روشنی میں بات ہوگی۔ناول تو ہنری جیمس سے پہلے بھی موجود تھا بلکہ دنیا کے سب سے بڑے ناول نگاروں میں سے کم سے کم تین یعنی ڈکنس،بالزاک اور فلوبئیرتینوں ہی ہنری جیمس سے پہلے تھے اور دو یعنی دستوفسکی اور ٹالسٹائی بھی جیمس کے بزرگ ہم عصر تھے۔لہذا ہنری جیمس ( ٹالسٹائی) دستوفسکی اور ڈکنس ان تینوں میں سے کسی کو پسند نہیں کرتا تھاکہاں کا ارسطو ہے کہ ہم ناول کے بارے میں اس کی بات مان لیں‘‘14

 ناول کی ایک تکنیک یہ بھی ہے کہ اس میں واقعات و حقائق کو بیانیہ کے انداز میں پیش کیاجائے۔یہاں یہ سوال ہے کہ اگر بیانیہ کا کوئی راوی ایسا ہو جو زمانۂ قدیم سے تعلق رکھتا ہے تو اس صورت میں وہ اس عہد کی زبان استعمال کرے گا یا اس عہد کی جس میں بیانیہ استعمال ہورہا ہے۔شمس الرحمن فاروقی کا اس سلسلے میں نظریہ یہ ہے کہ راوی اس عہد کی زبان استعمال کرے جس عہد سے اس کا تعلق ہے۔یہاں پر اس بات کا تذکرہ لازمی ہے کہ فاروقی کا نظریہ ان کے ناول ’کئی چاند تھے سر آسماں‘کو سامنے رکھ کر اخذ کرنے کی کوشش کی گئی۔چنانچہ انھوں نے اپنے ناول میں ا س بات کا پورا اہتمام کیاہے،ناول کے اخیر صفحات میں خود فاروقی لکھتے ہیں:

’’میں نے اس بات کا خیال رکھا ہے کہ مکالموں میں، اور اگر بیانیہ کسی قدیم کردار کی،زبانی،یا کسی کردار کے نقطہ نظر سے بیان کیا جارہا ہے تو بیانیہ میں بھی کوئی ایسا لفظ نہ آنے پائے جو اس زمانے میں مستعمل نہ تھا۔‘‘15

ادب کی ہر صنف میں کچھ نہ کچھ مشترک چیزیں ہیں یعنی شاعری اور نثر کی اصناف میں بھی مشترک عناصر ہوں گے،خواہ وہ بیانیہ زبانی ہو یا تحریری۔لیکن مشترک عناصر کے باوجود ہر صنف کی شعریات  اور حرکیات جدا ہے اور ایک صنف کا مطالعہ اس کی شعریات،حرکیات اور روایت کی روشنی میں ہی کیا جاسکتا ہے۔اسی طرح زبانی اور تحریری روایت کے تقاضے مختلف ہیں جن کو مدنظر رکھا جانا نہایت ضروری ہے۔یہ ایسا ہی ہے جیسے جمادات،نباتات اور حیوانات کی دنیا میں کچھ نہ کچھ ضرور مشترک ہے کیونکہ ایک سطح پر سب مخلوق ایک درجے میں ہیں،لیکن جوں جوں اوپر اٹھا جائے اختلاف کی شدت میں اضافہ ناگزیر امر ہوجاتا ہے۔یہاں تک کہ ہر اکائی اپنے ہی کل سے مختلف ہوجاتی ہے۔کل کا حصہ ہوتے ہوئے بھی اس پر کل کے ہر اصول کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔بعینہ بڑی تخلیق اپنی صنف کی روایت کا حصہ ہونے کے باوجود بھی اپنا الگ وجود رکھتی ہے۔اس لیے تخلیق کو محض چند تنقیدی اصولوں کی روشنی میں پوری طرح گرفت میںنہیںلیا جاسکتا۔

چونکہ اردو ناول کے ظہور میںآنے کے بعد ناول کی رسومیات اور شعریات مثلاً واقعیت،کردار،پلاٹ وغیرہ کا اطلاق داستان پر کیا جانے لگا۔موازنے کی حد تک تو یہ بات گوارا ہے مگر ناول کو حسن وعیب کا پیمانہ قرار دینا غلط ہے ذیل میں داستان اور ناول کی رسومیات و شعریات سے متعلق فاروقی کے موقف کو ’ساحری شاہی صاحب قرانی‘ کی جلد اول سے کشید کرکے پیش کیا جارہا ہے:

1          ناول کے بیانیہ میں کردار کے ذریعے واقعات کو ظاہر کیا جاتا ہے یعنی واقعات کی معنویت کردار یا بیانیہ نگار کی نظر پر منحصرہوتی ہے،اس کے برعکس داستان میں واقعہ براہ راست اہمیت رکھتا ہے،وہ کردار پر منحصر نہیں ہوتا۔

2          داستان کی دنیا کے قاعدے قانون ہیں، جنھیں جاناجاسکتا ہے۔کائنات کے اٹل اصول ہیں۔دوسرا بنیادی تصور یہ ہے کہ بظاہر دکھائی دینے والی دنیا اور نہ دکھائی دینے والی دنیا،یعنی طلسم کی دنیا، Inter-penetrate  کرتی ہیں۔ناول کی دنیا پیچیدہ ہوتی ہے۔اصول و ضوابط کو سمجھا نہیں جاسکتا۔بلکہ بعض اوقات ان کا سر ے سے وجود ہی نہیںہوتا۔

3          داستان کی تصنیف کا مقصد سماجی معلومات فراہم کرنا نہیں ہوتا،جبکہ ناول کسی نہ کسی درجے میں ہمیں خارجی دنیا کی حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔

4          داستان اور ناول کی شعریات میں ایک لطیف فرق انسان اورانسان کے علم کی حد اور نوعیت کے بارے میں ہے۔داستان میں علم دو طرح ظاہر ہوتا ہے۔ایک خدا کی ہدایت ہے،جو لوح ،خواب،بشارت وغیرہ کے ذریعے ہوتاہے اور دوسری طرح کا علم کہانت کے علوم کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے۔مثلاًرمل،جعفر،نجوم،ارواح وغیرہ۔ علم ِکہانت کے ذریعے سے تو معلوم کرسکتے ہیں کہ مثلاًکسی بات کا انجام کس طرح ہوگا،مگر یہ معلوم نہیں کیا جاسکتا کہ یہ انجام کس طرح عمل میں آئے گا۔خدائی کا دعویٰ رکھنے والوں اور ساحروں وغیرہ پر خدائی ہدایت کے ذریعے نصیب ہونے والے علم کے دروازے بند ہوتے ہیں۔علم کی ان دونوں صورتوں میں یہ قدرِمشترک ہے کہ انسان جو کچھ جانتا ہے یا جان سکتا ہے اس کے لیے کسی قسم کی امداد ضروری  ہوتی ہے،یعنی ہمیں داستان میں انسانی علم کے محدود اور ناقص ہونے کا تصور ملتا ہے اسی لیے داستان میں ذہنی وقوعے بیان نہیں ہوتے۔کسی کے دل پر کیا گزررہی ہے۔یہ ہمیں معلوم نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ شخص ہمیں خود نہ بتائے۔جبکہ ناول اپنے کرداروں کے ذہنی کوائف جاننے اور بیان کرنے کا دعویٰ رکھتا ہے۔ ناول نگار تو ’عالم الغیب‘ ہوتا ہے،اس طرح ناول نگار/ راوی کو بہت بڑا منصب دیا گیا ہے کہ وہ ہر ڈھکی چھپی بات جانتا ہے۔ایک طرح سے ہم اپنی قوت فیصلہ اس کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ناول سے ہمیں یہ توقع ہے کہ وہ انسانی صورت حال کے بارے میں ہمارے علم میں اضافہ کرے گا۔ناول کو دعویٰ ہے کہ وہ اپنے کرداروں کی اصل شخصیت کو شکار کرے گا۔داستان کے راوی کو مکمل عالم الغیب ہونے کی غلط فہمی نہیں ہوتی۔داستان میں انسانی علم صرف صورت ( (Appearance کو جان سکتا ہے، معنی ((Reality کو نہیں جبکہ ناول معنی تک پہنچنے کا دعویٰ کرتا ہے۔

5          داستان اور ناول کی تشکیل کی نوعیت میں بنیادی فرق ہے۔داستان ناول کی طرح ’تصنیف‘ نہیں ہے۔ ناول کی تصنیف غور و خوض کرنے اور آہستہ آہستہ لکھنے اور لکھے ہوئے پر نظر ثانی کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔داستان کے ساتھ فوری پن کا تصور وابستہ ہے۔ناول نگار کے پاس ایک معقول وقت ہوتا ہے اور اس کے قاری یہ بات بخوبی جانتے ہیں۔داستان گو داستان کا غلام بن جاتا ہے۔اسے طے شدہ وقت،ہر روز یامقر رہ وقفہ،پر داستان سناناہی پڑتی ہے۔اس طرح جتنی بارداستان سنائی جاتی ہے گویا اسے ہر مرتبہ ’تصنیف‘کرنا پڑتا ہے۔اگر چہ داستان گو کے پاس ایک بنیادی قصہ موجود ہوتا ہے،لیکن وہ اس میں کمی بیشی اور رنگ آمیزی کرتا رہتا ہے اور داستان کا سلسلہ دراز ہوتا رہتا ہے۔

6          رتن ناتھ سرشار کہتے ہیں کہ ناول کے ساتھ انسان ذاتی تعلق قائم کرسکتا ہے،جب چاہا اٹھاکر پڑھ لیا،جبکہ داستان کو اس وقت سننا پڑتا ہے جب داستان گو سنارہاہو۔ لیکن فاروقی ا س کی بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ داستان کی فطرت ہی ایسی ہے کہ اس میں کہیں سے بھی داخل ہوا جاسکتا ہے۔کتاب کے معاملے میں مصنف کو کچھ اختیار نہیں،جبکہ داستان گو اور اس کے سامعین میں ہم آہنگی کا رشتہ ہوتا ہے۔

7          اسطور اورداستان ’تصنیف بے مصنف‘ ہوتی ہیں۔ یہ اجتماعی حافظے کی پیداوار اور اس کا اظہار ہوتی ہیں۔ ناول اپنے مصنف اور عصر کے شعور کا اظہار کرتا ہے۔جبکہ داستان بھی بطور زبانی بیانیہ اپنی تہذیب میں رائج تصورات حیات و موت،قضا و قدر وغیرہ کو زبان دیتی ہے اور تہذیب میں جاری تصورات کو ہم تک پہنچاتی ہے۔

8          واقعیت پر مبنی بیانیہ مثلاًناول،بیانیہ کاایک اسلوب ہے۔ اسی طرح فوق الفطرت باتوں پر بیانیہ بھی بیانیہ کا اسلوب ہے۔دونوں اسلوب اپنی اپنی جگہ معتبر اور مکمل ہیں۔کسی ایک کا اطلاق دوسرے پر کرنا غلط تصور ہے۔

9          ناول کی ایک بڑی خوبی واقعات اور مناظرکی ندرت ہے۔نئی صورت حال اور نیا منظر دکھانے کے لیے ناول نگار مجبور ہے جبکہ زبانی بیانیہ کی ضرورت واقعات اورمناظر کی ندرت نہیںبلکہ ان کے بیان کی ندرت ہے ایک ہی طرح کے واقعات میں تنوع پیدا کرنا کما ل ہے۔

مختصراً ناول کی شعریات کے متعلق یہ معروضات اور خیالات و نظریات شمس الرحمن فاروقی نے وقتاً فوقتاً پیش کیے ہیں جن کو راقم نے فاروقی کی تصانیف (ساحری،  شاہی اور صاحب قرانی اور افسانے کی حمایت میں)  اور دیگر ذرائع (مضامین،مکالمے اور انٹرویوز) سے کشیدکرکے حتی الوسع مربوط پیرایہ میںترتیب دینے کی کوشش کی ہے تاکہ ناول کی شعریات کے حوالے سے ان کا موقف سامنے آئے اور ساتھ ہی ناول اور داستان کی شعریات کے فرق وامتیاز کو فاروقی کے نقطہ  ٔ نظر سے پیش کرنے کی سعی کی گئی ہے۔آخر میں شمس الرحمن فاروقی  کے اس قول سے (جو انھوں نے بہ حوالہ روب گریے لکھا ہے ) اس بحث کو سمیٹتا ہوں:

’’ شعور کی داخلی حقیقت صرف ان اشیا کے سیاق و سباق میں وجود رکھتی ہے جن سے کہ شعور ٹکر اتا ہے یا جن کا وہ سامنا کرتا ہے۔لہٰذا شعور ولاشعور کی پیچ در پیچ جگر کاوی کی اصل اس ماحول کے ذریعے ظاہر ہوسکتی ہے جس میں کوئی شخص یا وجود خود کو موجود پاتا ہے... کسی ناول کے مواد یا موضوع کا ذکر کرنا ناول کو اصناف فن کی فہرست سے خارج کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔کیونکہ فن نہ کسی چیز کا اظہار کرتا ہے،نہ کسی چیز کا مظروف ہوتا ہے۔فن اپنا توازن اور مفہوم آپ پیدا کرتا ہے۔‘‘ 16

حوالے

1          شمس الرحمن فاروقی،شعر،غیر شعراور نثر،ص 260

2            سید علی کریم(مدیر)۔فکر وتحقیق(سہ ماہی ناول نمبر )قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،نئی دہلی2-16،صفحہ 9-10

3          علی احمد فاطمی، ناول کی شعریات، ص18،عرشیہ پبلی کیشنز،نئی دہلی

4          شعر،غیر شعراور نثر۔ص263

5          ایضاً، ص265

6          ایضاً، ص 263

7          ایضاً، ص266

8          شمس الرحمن فاروقی،ساحری،شاہی،صاحب قرانی،داستان امیر حمزہ کا مطالعہ،جلد اول،ص85

9          شمس الرحمن فاروقی،ساحری،شاہی،صاحب قرانی،داستان امیر حمزہ کا مطالعہ،جلد اول،ص21-22

10       ایضاً، ص264

11       ایضاً، ص282

12       ایضاً، ص261

13       ساحری،شاہی،صاحب قرانی جلد اول،ص87

14       شمس الرحمن فاروقی،افسانے کی حمایت میں،ص 165

15       شمس الرحمن فاروقی،کئی چاند تھے سر آسماں،ص853

16       شعر،غیر شعراور نثر،ص 270

 

n

Mohd Iqbal Lone

Urdu Section, Jammun & Kashmir Cultural

Academy, Lalmandi

Srinagar- 190008 (J&K)

Mob.: 7006538941

 

 


منگل، 23 فروری، 2021

سید اکبر علی ترمذی کی غالب پسندی - مضمون نگار: صغیر افراہیم

 



ممتاز مؤرخ اور معروف آرکایولوجسٹ پروفیسر سید اکبرعلی ترمذی 8؍جون 1924 کو ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 1948 میں بمبئی یونیورسٹی سے فارسی، اردو اور انگریزی کے ساتھ بی اے کیا۔ 1950 بمبئی ہی سے فارسی میں ایم اے کرنے کے بعد سرکاری ملازم ہوگئے۔ 1962میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تاریخ میں ایم اے کیا۔ رحم علی الہاشمی نے اپنی کتاب’یادیں‘ مطبوعہ اکتوبر 1976 (کتاب کار علی گڑھ) میں لکھا ہے:

’’... نیشنل آرکائیوز میں ترمذی صاحب کا میرا بہت دن ساتھ رہا۔ اور وہ ہمیشہ مجھ سے خلوص اور محبت کا برتاؤ کرتے تھے۔ وہ آرکائیوز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر تھے۔ اور پبلک سروس کمیشن نے ان کا انتخاب کیا تھا۔ اس کے پیشتر یہ اجمیر کالج میں تاریخ کے اُستاد تھے۔ تاریخی معلومات اور تاریخی مواد سے کافی واقفیت رکھتے ہیں اور تاریخی تحقیق کے شائق ہیں...‘‘

موصوف جون 1982 کونیشنل آرکائیوز آف انڈیا سے بحیثیت ڈائریکٹر ریٹائر ہوئے۔ ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی میں تاریخ کے وزیٹنگ پروفیسر مقرر ہوئے۔سرینگر سے نکلنے والے مجلہ ’گزیٹیر‘ کے چیف ایڈیٹر رہے۔ اس سے قبل ہمدرد انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل ریسرچ کے اعزازی ڈائریکٹر ہوئے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ ڈولپمنٹ اسٹڈیز میں مشیر رہے۔ قدیم وجدید تاریخ اور ثقافت وتمدن سے خصوصی دلچسپی کی بنا پر تقریباً آٹھ برس یونیسکو میں ایشین اسٹڈیز کے شعبے سے بھی تعلق رہا۔ موصوف نے حکومتِ ہند کے نمائندے کی حیثیت سے امریکہ، افریقہ اوریورپ کے ملکوں بشمول اسپین کے علاوہ مختلف ایشیائی ممالک میں محکمۂ آثار قدیمہ کے تعلق سے منعقد ہونے والے سمیناروںمیں شرکت کی، اُن کا معرکۃ الآرا مضمون ’ہندوستانی دفتر خانوں میں فارسی دستاویزیں‘ عِلمی مجلسِ دلّی کے سہ ماہی رسالہ ’تحریر‘ میں جولائی تا ستمبر 1971 میں شائع ہوا، جس کے مرتب مالک رام تھے۔

تاریخ، تحقیق اور تدوین سے انھیں خصوصی شغف تھا اور انگریزی، فارسی اور اردو کے ادیب کی حیثیت سے وہ اپنی ایک پہچان رکھتے تھے۔ ساٹھ سے زیادہ تحقیقی مضامین دنیا کے مختلف رسائل وجرائد کی زینت بنے ہیں۔ ان موضوعات پر ان کی تقریباً دو درجن کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ یہ کتابیں ہندوستانی تاریخ کے ماخذ، مغل دستاویز کے علاوہ مولانا ابوالکلام آزاد اور جدید ہندوستان، نیز یونیسکو گائڈ ادبی حلقوںمیں اعتبارکا درجہ رکھتی ہیں۔

نامہ ہائے فارسی غالب‘ (Persian Letters of Ghalib) ان کی زبردست دریافت ہے۔ دو سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب فروری 1969 میں غالب اکیڈمی سے شائع ہوئی ہے۔ کتاب پر پچاس صفحات پر مبنی انگریزی میں ان کا تعارف نامہ بیحد وقیع ہے۔ اس میں مسودہ میں شامل تمام فارسی خطوط کا احاطہ کیا گیاہے۔ مدلل اور موثر مقدمہ قائم کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے:

’’غالب کے فارسی خطوط کا ایک بے یارومددگار مسودہ محفوظ رہ گیا ہے جسے شائع کیا جارہا ہے۔ یہ خطوط بہت اہم ریکارڈ فراہم کرتے ہیں۔ شاعر کے سفرِ کلکتہ کے بارے میں یہ تفصیلات اب تک سامنے نہیں آئی تھیں۔‘‘

سید اکبر علی ترمذی تفہیمِ غالب میں اِن مکاتیب کی حوالہ جاتی حیثیت اور افادیت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ان خطوط سے شاعر کی زندگی اور فن کے بارے میں نئے حقائق پر روشنی پڑتی ہے۔ نیزان خطوط اور ضمیموں سے جو اس مجموعے میں پیش کیے جارہے ہیں، ایک ایسا مرقع تشکیل پاتا ہے، جس سے شاعر کی دہلی سے غیر حاضری اور کلکتہ کے عارضی قیام کی تصویریں سامنے آتی ہیں۔‘‘

اِس مجموعۂ مکاتیب کی نیرنگی اور انفرادیت کے تعلق سے وہ ’دیباچہ‘ میں رقم طراز ہیں:

’’1960 میں میرے اِیما پر نیشنل آرکائیوز آف انڈیا سے یہ مجموعہ حاصل کیاگیا اور چونکہ اس کا موضوع میرا میدان نہیں تھا، میں نے اپنے دوست قاضی عبدالودود صاحب سے،جو ایک مسلمہ غالب شناس ہیں، درخواست کی کہ ان خطوط کو مرتب فرمائیں۔ انھوں نے میری درخواست کو قبول فرمایا اور 1961 میں چھ خطوط علمی رسالہ ’تحقیق‘ میں شائع فرمائے۔ لیکن بعض اور کاموں میں مصروفیت کی وجہ سے اُنھیں اس کام کے لیے وقت نہ ملا اور گزشتہ اکتوبر میں انھوں نے رائے دی کہ میں خود اس کام کو سرانجام دوں۔‘‘1

ترمذی صاحب اُس وقت شعبۂ آثارِ قدیمہ میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے اہم کاغذات کی ترتیب وتدوین میں بے حد مصروف چل رہے تھے لیکن قاضی عبدالودود صاحب کے مشوروں اور حوصلہ افزائی سے وہ اس جانب یکسوئی سے متوجہ ہوئے۔ لکھتے ہیں:

’’جب میں نے اس مجموعہ کو باریک بینی سے پرکھا تو اس کام کو بے شمار مشکلات سے پُر پایا... اول یہ کہ میرے پاس صرف ایک مسودہ تھا جس سے مجھے تدوین کا کام کرنا تھا۔دوسرے، یہ قلم برداشتہ غیر دوستانہ اُسلوب میں لکھا ہوا تھا۔تیسرے، اسے کئی مقامات پر کیڑوں نے کھالیا تھا...  مگر ان سب مشکلات کے باوجود میں نے انتہائی کوشش کی ہے کہ متن کو برقرار رکھوں تاہم جو چند خلا رہ گئے ہیں، ان کی جانب فنِ طباعت کی مختلف اِختراعات سے اشارہ کردیا گیا ہے‘‘۔ (مکتوباتِ غالب، ص10)

غالب صدی (1969) کے موقع پر شائع ہونے والی کتابوں میں شاید سیداکبر علی ترمذی کی یہ کتاب سب سے اہم ہے جو مزید تحقیق کے در وا کرتی ہے۔ لطیف الزماں خان اِس کی خوبیوں کو گنواتے ہوئے ’مکتوباتِ غالب‘ (مطبوعہ دسمبر1995)میںلکھتے ہیں:

(i)       تعارف، دیباچہ اور مقدمہ انگریزی میں ہے جو ہر اعتبار سے معتبر اور مستند ہے۔ مذکورہ کتاب اُس توجہ سے محروم رہی جس کی یہ مستحق تھی۔

(ii)      غالب نے چار سال کے عرصہ میں اپنے احباب خصوصاًمحمدعلی، صدر امین باندہ کو جو خطوط لکھے، وہ انتہائی اہم ہیں۔ یہ خطوط نہ صرف سفرِ کلکتہ کے تعلق سے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں بلکہ اُس پورے عہد کو سمجھنے میں معاون ہیں۔

(iii)     یہ مکتوبات اس اعتبار سے بھی نہایت قیمتی ہیں کہ سیداکبرعلی ترمذی نے مسودہ کی خستگی کو باریک بینی سے دیکھتے ہوئے بعض مقامات پر جو اشعار، مصرعے وغیرہ غائب ہورہے تھے اُنھیں دیگر کلیات سے نقل کرتے ہوئے ماہرین غالب کی مدد لی ہے۔

خوبیوں کے اعتراف کے ساتھ ساتھ دانشورانِ ادب سے یہ شکوہ بھی کرتے ہیں کہ مذکورہ کتاب اُس توجہ سے محروم رہی جس کی یہ مستحق تھی۔

قاضی عبدالودودنے لطیف الزماں کی کتاب ’مکتوباتِ غالب‘ کے پیش لفظ میں لکھا ہے:

’’جنابِ سید اکبر علی ترمذی نے غالب کے فارسی خطوط دریافت کیے ہیں جو غالب کے سفر کلکتہ کے بارے میں ہمارے علم میں اہم اور حقیقی اضافہ کرتے ہیں۔ انھوں نے ایک جامع تعارف کے ساتھ ان خطوط کو مرتب کیا ہے اور بڑی محنت سے شاعر کے بیانات کا تقابلی مطالعہ اُس خارجی شہادت سے کیا ہے جو حکومتِ ہند کے سرکاری رکارڈ میں موجود ہے۔ اُن کی یہ کوشش قابل تعریف ہے کہ مختلف اثرات جو شاعر کے ذہن پر مرتب ہورہے تھے اُن پر تحقیق کی ہے۔۔۔ اِن خطوط کوتاریخی ترتیب دینے میں بڑی باریک بینی سے کام لیا ہے۔ اصل عبارت کے استقرار، اشخاص اور مقامات کے نام جو اُن خطوط میں آئے ہیں ان کے تعین کے سلسلہ میں بڑی ژرف نگاہی سے کام لیا ہے...‘‘

نامہ ہائے فارسی غالب یعنی Persian Letters of Ghalib کا مسودہ کس طرح محفوظ رہ گیا، اس پر سید اکبر علی ترمذی بھرپور روشنی ڈالتے ہوئے رقم طراز ہیں:

’’... مجموعہ کا مسودہ نیشنل آرکائیوز آف انڈیا نے 1960 کے لگ بھگ سید محمدرفیع نقوی سے حاصل کیا جو کاراکے رہنے والے ہیں۔ کارا اُترپردیش ضلع الٰہ آباد کا ایک تاریخی قصبہ ہے، سید علی حسن خاں اسی قصبہ کے رہنے والے تھے جنھوں نے ان خطوط کو نقل کیا تھا۔ مسودہ کے اختتام پر بہ زبانِ انگریزی یہی لکھا گیا ہے۔ بہر کیف اس بات کا علم قطعیت کے ساتھ نہیں ہوسکا کہ یہ مجموعہ کب مرتّب ہوا اور کب نقل کیا گیا لیکن اس کا امکان ہے کہ یہ 1839میں لکھا گیا۔ یہ بات ضلع باندہ پرگنہ بادوس اورکالنجر کے تحصیل دار سید افضل علی کے ایک خط سے معلوم ہوتی ہے جو 5؍اگست 1839 کو منشی سید علی حسن خاں کو ان کے باندہ کے پتہ پر لکھا گیا (خط نمبر33)۔ منشی سید علی حسن خاں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا لیکن بادؤسا2 اورکالنجر3 کے تحصیل دار نے جس عزّت وتکریم کے ساتھ اُنھیں مخاطب کیا ہے، ا س سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ باندہ کی انتظامیہ کے تحت خاصے بڑے عہدے پر فائز رہے ہوں گے۔ امکان ہے کہ ان خطوط کو وہیں نقل کیا گیا۔ اس مفروضہ کی اضافی تصدیق اِس حقیقت سے ہوتی ہے کہ اس مجموعہ میں غالب کے خطوط کی بڑی تعداد باندا کے صدر امین یا سول جج مولوی محمد علی صاحب کو لکھے گئے ہیں۔‘‘

نامہ ہائے فارسی غالب ‘ کی اشاعت کے بعد ہی سفرِ کلکتہ کی مکمل تصویر اُبھرتی ہے اور اِس تصویر کے کینوس پر جو منظر نامہ چھاتا ہے وہ محمدعلی صدر امین باندہ کاہے۔ یہ بیش قیمت مسودہ 33؍ اوراق پر مشتمل ہے۔ ہر صفحے پر اٹھارہ سطور ہیں جن کی پیمائش7'x10' ہے۔ چونتیس خطوںمیں سے بتیس خط غالب کے ہاتھ سے لکھے ہوئے ہیں باقی دو خط منشی سید علی حسن کو اُن کے احباب نے لکھے ہیں۔ ان بتیس خطوط کے علاوہ جن میں خط نمبر 5، خط نمبر 2 کی نقل ہے۔ مسوّدہ میں دونثر پارے، کلکتہ میں غالب کی ادبی محاذ آ رائی کے بارے میں ہیں۔ یہ نثر پارے اس کتاب کے ضمیمے 1-2 کی شکل میں پیش کیے گئے ہیں۔ مسوّدہ خطِ شکست میں ہاتھ سے بنے ہوئے کاغذ پر سیاہ کاربن روشنائی سے لکھا گیا ہے۔ بہت سے مقامات پر اسے کیڑوں نے کھالیا ہے، جگہ جگہ سوراخ ہوگئے ہیں جن میں سے اکثر کو میں نے کلیاتِ نثر غالب4 یا کلیات5 غالب کی مدد سے پُر کرنے کی کوشش کی ہے۔ جہاں ان دو کتابوں سے مجھے مدد نہیں ملی، وہاںمیں نے قوسین میں اپنی قیاسی عبارت لکھی ہے۔ بہ صورتِ دیگر ان مقامات کو جنھیں کیڑوں نے چاٹ لیا ہے، نقطوں کے ذریعہ ظاہر کیا گیا ہے۔ مسوّدہ میں کرم خوردگی کے علاوہ ایک ستم یہ ہے کہ اس میںتاریخ درج نہیں کی گئی ہے۔ جن خطوط میں تاریخ لکھی ہے وہاں سال نہیں دیا گیا ہے۔ نہ ہی خطوط کو کسی خاص تسلسل سے ترتیب دیا گیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ اِن کے مطالعہ سے انتشار،ابتری اور بے ترتیبی کا احساس ہوتاہے۔ دنوں اور تاریخوں کو مقابلہ اور اندرونی شہادت کی مدد سے میں نے تاریخی اعتبار سے ترتیب دیا ہے۔ ہر خط کے اوپری سرے پر شمار کنندہ تاریخی ترتیب کا تعین کرتاہے اور نسب نما مسودہ میں پائے جانے والے خط کے مقام کو ظاہر کرتاہے۔

اوّل تو اِن خطوط کی تاریخی ترتیب غلط ہے دوسرے یہ کہ مکتوب الیہ حضرات کے نام نہیں ہیں۔ سوائے خط نمبر 31 ؍کے جہاں مکتوب الیہ کا نام ہگلی کے نواب اکبر علی خاں دیا گیا ہے۔ یہ خط ذرا سی تبدیلی کے ساتھ پنج آہنگ کی ابتدا6میں ملتا ہے۔ اس مجموعہ میں سات خطوط اور ہیں جو پنج آہنگ میں موجود ہیں۔اگرچہ کہ ان سات خطوط کی عبارت ذرا مختلف ہے لیکن پنج آہنگ میں ان کے مکتوب الیہ کا نام مولوی محمد علی خاں باندہ دیا گیا ہے۔7

     اس مشابہت سے مجھے ہمّت ملی۔ میں نے عبارت کا غور سے مطالعہ کیا اور قوی باطنی شہادت کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچا کہ باقی ماندہ 31؍خطوط میں سے 27؍خط باندہ کے مولوی محمد علی خاں کو لکھے گئے ہیں۔ ایک خط ہُگلی کے نواب سید علی اکبر خاں طباطبائی کو لکھا گیا ہے۔ دو خطوط کے مکتوب الیہ اور ان کے پتوں کی شناخت نہیں ہوسکی۔‘‘

سید اکبر علی ترمذی کے اِس طویل اقتباس کی کئی باتیں مرتب کے لیے پریشان کن تھیں۔ مثلاً مسودہ کے اُن حصوں کو جنھیں کیڑوں نے کھالیا تھا، اُس سے پیدا ہونے والے خلا کو انھوں نے مستند اور معتبر حوالوں سے پُرکرنے کی امکانی کوشش کی۔ مکتوب الیہ سے قاری کو ممکن حد تک متعارف کرایا۔ ابتری اور بے ترتیبی کو دُرست کیا۔ تاریخی ترتیب کو بھی ماہ وسال کے ساتھ واضح کرنے کی کوشش کی۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

نمبر1- ’’ان خطوط کے مکتوب الیہ مولوی محمد علی خاں، اُترپردیش ضلع اُناؤ کے قصبہ موہان کے رہنے والے تھے اور کلکتہ کی صدر عدالت کے قاضی القضاۃ یا قاضی اعظم سراج الدین علی خاں کے چھوٹے بھائی تھے۔ محمدعلی خاں، برطانوی انتظامیہ کے زیرِ انصرام بندیل کھنڈ میں مفتی کے بڑے عہدے پر فائز تھے۔ ان کا کام اسلامی قوانین کی تفسیر وتشریح کرنا تھا، بعد  میں وہ ترقی پاکر باندہ میں صدر امین یا سول جج ہوگئے۔ یہ بڑا اہم عہدہ تھا۔ یہ منصب اس وقت بھی ان کے پاس تھا جب غالب 1234ھ/1827 میں باندہ سے گزر کر کلکتہ جارہے تھے۔ یہ عہدہ انتقال تک ان کے پاس رہا۔ اُن کا انتقال 1247ھ/1831-32 میں ہوا۔ وہ مختلف اصناف میں شعر کہتے تھے اور فارسی میں بھی بغیر کسی تخلص کے شاعری کرتے تھے‘‘۔

(بحوالہ علی حسن خاں، صبح گلشن ص379، کلیات نثر، ص164، قاضی عبدالودود، مآثر غالب، ص39)

نمبر2-’’علی اکبر خاں سے ملنے کے فوراً بعد باندہ کے مولوی محمد علی خاں کی ہدایت کے مطابق غالب قاضی القضاۃ کی قبر پر پہنچے۔ 20؍رمضان 1243ھ مطابق اتوار 6؍اپریل 1828 کو مرحوم قاضی صاحب کی بیوہ کے ہاں اُن کی رہائش اینٹلی میں مولوی محمدعلی خاں کا تعارفی خط لے کر پہنچے۔ مولوی غلام علی نے بیگم صاحب سے غالب کا تعارف کرایا۔ انھوں نے پس پردہ رہ کر نہایت لطف اور گرم جوشی سے گفتگو کی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ شملہ بازار شہر سے بہت دور ہے۔ اپنے بھانجے ولایت حسین کے سفر سے آنے کے بعد غالب کو اپنے گھر میں قیام گاہ فراہم کریں گی‘‘۔ (خط6-7)

(کچھ محققین نے لکھا ہے کہ غالب کلکتہ پہنچنے کے تیسرے دن یعنی 22؍فروری کو مذکورہ خط لے کر علی اکبر خاں کے گھر گئے تھے اور دو ڈھائی گھنٹہ قیام کرکے واپس آگئے تھے۔ دو دن بعد دوبارہ گئے اور رات قیام بھی کیا۔ تیسری بار دہلی روانگی سے قبل وہاں گئے اور پانچ دن قیام کیا۔)

نمبر3-’’20؍جون 1828 کو غالب نے باندہ کے مولوی محمدعلی خاں کو خط بھیجا اور یہ درخواست کی کہ ان کے لیے مزید ایک ہزار روپے قرض حاصل کیے جائیں...‘‘  (خط نمبر9)

نمبر4-’’... 9؍اکتوبر 1828 کو غالب کے پاس سو روپے رہ گئے تھے کہ باندہ کے مولوی محمدعلی خاں کی جانب سے مولوی ولایت حسین کے توسط سے ایک ہنڈوی ملی۔ غالب خوشی سے پھولے نہ سمائے اور خود بازار گئے تاکہ مالک اور ہنڈوی کی رقم کے بارے میں معلومات حاصل کرسکیں‘‘۔ (خط نمبر11)

نمبر5-’’10؍مارچ 1829 کو انھوں نے باندہ کے مولوی محمدعلی خاں کو خط بھیجا کہ وہ نواب ذوالفقار علی خاں سے درخواست کریں کہ باندہ کے امین (امی) کرن سے مزید ایک ہزار روپیہ قرض حاصل کریں۔ مرزا مغل کے چھوٹے بھائی مرزا ازبک جان کے لیے انھوں نے ایک خط لفافہ میں رکھ دیا۔ لکھا تھا کہ نواب صاحب کو ترغیب دلایئے کہ اُن کی درخواست مان لی جائے‘‘۔ (خط نمبر18)

نمبر6- ’’... اِن گزارشات کے نتیجے میں شوال 1244ھ مطابق 2؍مئی 1829 کے آخر میں باندہ کے مولوی محمدعلی نے انھیں ایک شاہ جوگ ہنڈوی بھیجی۔ غالب نے ہنڈوی مولوی ولایت حسین کو دی اور وہ اُس کے عوض دوسو روپے لے آئے‘‘۔ (خط نمبر20)

نمبر7- ’’غالب نے باندہ کے مولوی محمدعلی کو 8؍محرم 1245ھ مطابق 10؍جولائی 1829 کولکھا کہ دلّی میں منشی محمد محسن کو تاکید کریں کہ ان کے کاغذات جس قدر جلد ممکن ہو روانہ کردیں۔ اسی خط میں اُنھوں نے دو مادّہ ہائے تاریخ بھی لکھے‘‘۔ (خط نمبر22)

نمبر8- ’’13؍صفر 1245ھ مطابق 4؍اگست 1829 کو انھوں نے اپنا سامان کشتی کے ذریعے باندہ روانہ کردیا اور خود پنج شنبہ یا جمعہ 19؍یا 20؍صفر 1245ھ مطابق 20؍ 21؍اگست 1829 کوروانہ ہوئے…  30؍ اکتوبر 1829 کو باندہ پہنچے… ہفتہ یکم جمادی الاول 1245ھ مطابق 7؍نومبر 1829 کو باندہ سے دہلی کے لیے روانہ ہوئے… اتوار 29؍نومبر 1829 کو دہلی واپس پہنچے‘‘۔ (خطوط 24-28)

 نہایت دیانت دارانہ ترتیب وتنظیم اور ممکن وضاحتوں کے باوجود مسوّدہ کی خستگی سے پیدا ہونے والی قباحتیں، اور خطوط کی صحیح تعداد کے تعین میں جو ضمنی کمیاں رہ گئیں، انھیں پہلے لطیف الزماں خاں نے دُور کرنے کا جتن کیا پھر نہایت یکسوئی اور دلجمعی سے پرتوروہیلہ نے اِسے سرانجام دیا۔ انھوں نے غالب کے منتخب فارسی مکتوبات (اردو ترجمہ 2006، دوسرے ایڈیشن 2009 اور ’کلیاتِ مکتوباتِ فارسی غالب‘ مطبوعہ 2010 کے پیش لفظ میں جووضاحت درج کی ہے اس سے قاری بڑی حد تک مطمئن ہوجاتاہے۔ پہلا اقتباس:

’’نامہ ہائے فارسی غالب کے ترجمے کے لیے میرے پیش نظر سید اکبر علی ترمذی کا وہ مرتبہ نسخہ تھا جو پہلی بار غالب اکیڈمی نظام الدین-نئی دہلی 13، انڈیا سے 1969 میں طبع ہوا۔ اس نسخہ کی اہم چیز مرتب کا وہ انگریزی کا 54 صفحے کا دیباچہ ہے جو اس کی اہمیت کو بڑھاتا اور متن کے سیکڑوں حقائق کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ لیکن اصل متن میں کاتب کی بدخطی اور حیران وپریشان کن تحریفات کے علاوہ سب سے بڑی قباحت اس مخطوطہ کی کرم خوردگی تھی جس کے سبب نثر کے اس شاہکار میں قدم قدم پر شدید بدمزگی اور بے لطفی درآتی تھی۔ مرتب کے لیے اس مشکل سے گلو خاصی بہت آسان تھی کہ کرم خوردہ جگہوں پر نقطے ڈالے اور آگے بڑھ گئے لیکن مترجم کو جملے اور عبارت کے سیاق وسباق کو نظر میں رکھتے ہوئے یہ بھی متعین کرنا تھا کہ نقطہ زدہ جگہ سے ایک لفظ غائب ہے یا ایک جملہ یا کئی سطریں کہ ترجمے کی روانی قائم رکھنے کے لیے اس کو اپنے طور پر قیاسی الفاظ سے خالی جگہ کو پُرکرنا بھی ہوتا تھا۔ اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے میں نے اُس وقت کے ڈائریکٹر جنرل نیشنل آرکایوز (Archaives) اسلام آباد سے رابطہ کیا اور گزارش کی کہ وہ اپنے ہندوستانی ہم منصب سے اگر اس مخطوطے کی مائیکرو فلم منگواسکیں تو ہماری مشکل قدرے کم ہوجائے گی لیکن یہ نہ ہوسکا۔ نتیجتاً یہ ساری خالی جگہیں اس طرح رہ گئیں اور ہماری زندگی کے سیکڑوں توجہ طلب شعبوں کی طرح اس منصوبے پر بھی بدنما داغ کی طرح باقی ہیں۔ مترجم نے البتہ حتی المقدور اپنے قیاسی الفاظ سے ان جگہوں کو پُرکیا ہے اور بریکٹ میں لفظ قیاسی لکھ بھی دیا ہے۔ لیکن جہاں ترتیب ٹوٹ جاتی ہے اور مفہوم بھی ساتھ نہیں دیتا اور ظاہر ہوتا ہے کہ خلا وسیع ہے وہاں نثر کے متعلقہ ٹکڑے کا اسی طرح ترجمہ کرکے بریکٹ میں لفظ ’نامکمل‘ لکھ دیا گیا ہے‘‘۔

پرتوروہیلہ کا یہ دوسرا اقتباس بھی ملاحظہ ہو:

’’نامہ ہائے فارسی غالب میں نمبر شمار کے مطابق 31؍خطوط ہیں ترمذی صاحب کے دیباچہ کے مطابق اس میں 27؍خطوط باندے کے محمدعلی خان کے نام ہیں۔ ایک خط نواب سید علی اکبر خان طباطبائی کے نام ہے اور دو خطوط کے مکتوبہ الیہ ’مردمان معین‘ ہیں۔ اس صورت حال کے پیش نظر شروع میں فہرست کے آخر میں ’مردمان نامعین‘ کا ایک علیحدہ عنوان دے کر خطوط نمبر28، 29 اور 30 کو اسی میں ڈالا گیا تھا لیکن فاضل محقق وغالب شناس ڈاکٹر حنیف احمد نقوی سابق پروفیسر اردو ڈپارٹمنٹ بنارس ہندو یونیورسٹی وارانسی ہندوستان کی تحریری ہدایت پر کہ اس مجموعہ میں صرف دو خط 28-29 ص:90 اور 13-32، ص:100 نواب علی اکبر خاں طباطبائی کے نام جب کہ باقی تمام خطوط محمد علی خان صدر امین باندہ کے نام ہیں۔ فہرست مکتوبہ الیہم میں ضروری تبدیلی کرلی گئی ہے اور اب ’مردمانِ نامعین‘ کو فہرستِ مکتوب الیہم سے خارج کردیا گیا ہے۔ میرے لیے یہ سعادت ہے کہ مجھے موصوف کی اس مستند رائے سے بروقت آگاہی مل گئی اور نتیجتاً ترتیب کا ایک بڑا سقم دور ہوگیا‘‘۔

سید اکبرعلی ترمذی کے دریافت شدہ مسودے کی بدولت یہ بات بھی اُبھر کر سامنے آتی ہے کہ کلکتہ میں غالب کو جو مخلص اور قابل اعتبار دوست مثلاً مولوی سراج الدین احمد، مولوی عبدالکریم، منشی عاشق علی خاں، آغا محمدحسین، مرزا احمد بیگ تپاں میسر آئے، وہ باندہ اور وہاں کے لائق صد احترام دوست محمدعلی صاحب کی بدولت ملے۔ اِس گراں قدر کام کی وجہ سے پرتوروہیلہ، لطیف الزماں، قاضی عبدالودود ہی نہیں عصرِ حاضر کے غالب کے شیدائی ادیب  بھی سید اکبر علی ترمذی کو غالبیات کے مطالعات کی فہرست میں بخوشی شامل کرتے ہیں۔ بلاشبہ انھوں نے نہایت توجہ، محنت اور لگن سے دیوان محمدعلی کے نام لکھے گئے غالب کے خطوط دریافت کیے ہیں۔ اور مکتوب الیہ پر جس طرح روشنی ڈالی ہے وہ لائقِ تحسین وستائش ہے۔

حواشی

1          نامہ ہائے فارسی غالب‘ کے فارسی متن اور طویل انگریزی مقدمہ کا اردو ترجمہ لطیف الزماں خاں نے ’مکتوباتِ غالب‘ کے نام سے دسمبر 1995 میں شائع کیا۔

2          ضع باندہ میں تحصیل اور پرگنہ ڈی۔ایل ڈریک بروخ مین، باندہ اے گزیٹر(الٰہ آباد 1909) صفحات، 7-203

3          مشہور پہاڑی قلعہ اور قصبہ تحصیل گردان باندہ ایضاً،ص: 234-47

4          کانپور ایڈیشن 1875

5          مرتبہ امیر حسن نورانی، لکھنؤ، 1968

6          کلیاتِ نثر غالب، ص96

7          کلیاتِ نثر غالب، ص71-164

 

Sagheer Afrahim

Ex. Head: Dept of Urdu

Aligarh Muslim University

Aligarh - 202001 (UP)

Email.: s.afraheim@yahoo.in