جمعہ، 24 جون، 2022

افسانہ نگار ناقد: اختر اورینوی - مضمون نگار : محمد حسنین رضا

 



اختر اورینوی ایک ہمہ گیر اور ہمہ جہت شخصیت کا نام ہے۔ جنھوں نے ادبی کارناموں کا ایک یادگار زخیرہ چھوڑا ہے۔ اختر اورینوی شاعر، افسانہ نگار، ڈراما نگار، ناول نگار، محقق اورناقد بھی تھے۔ ادب کا کوئی ایسا گوشہ نہیں جہاں انھوں نے تصنیف و تالیف کی صورت میں خوبصورت موتی نہ بکھیرے ہوں۔ ہر صنف ادب میں انھوںنے قلم کا زور دکھایاہے۔

اختر اورینوی کا اصل نام سید اختر احمد تھا۔ اختر تخلص کرتے تھے۔عرف عام میں اختر اورینوی کے نام سے مشہور ہوئے اور ادبی دنیا میں بھی اسی نام سے شہرت ملی۔

اختر اورینوی کے والد کا نام سید وزارت حسین اور والدہ ماجدہ کا نام بی بی خدیجہ تھا۔آپ کی پیدائش 19 اگست 1910 کو ضلع گیا میں ہوئی تھی۔اختر اورینوی کی شادی مشہور ومعروف خاتون افسانہ نگار شکیلہ اختر (شکیلہ بانو) سے ہوئی۔  وہ ایک خوش حال اور ذی علم خاندان کے فرد تھے۔ ننھیال اور ددھیال دونوں جہت سے عزت دار اور پروقار۔ وہ خوب صورت تھے اور خوش خلق وخوش پوش بھی۔نرم مزاجی اور نیک دلی اختر اورینوی کی سرشت تھی اور غم گساری ومنکسرالمزاجی ان کا شعار تھا۔ وہ تعصب اور تنگ نظری سے کوسوں دور تھے۔انسانی ہمدردی سے لبریز وہ ہر کسی سے لطف و اخلاق سے پیش آتے تھے۔حتیٰ کہ اپنے مخالفین سے بھی وہ خندہ پیشانی سے ملتے تھے۔

اختر اورینوی ایک پیدائشی ادیب تھے اور تخلیق کاری ان کی وہبی استعداد تھی۔ انھوں نے لکھا اور خوب لکھا اور ہر میدان میں اپنے فن کے جوہر دکھائے۔ وہ شاعر بھی اعلیٰ مقام کے تھے اور افسانہ نگار بھی منفرد تھے۔ ناول نگار ی اور ڈراما نگاری میں بھی ان کی شخصیت قابل ستائش تھی اور بحیثیت ناقد و محقق بھی بلند پایہ تھے۔ ’انجمن آرزو‘ اور ’یک چمن گل‘ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ جہاں تک ڈراما اور ناول کا تعلق ہے ان کا ناول ’حسرت تعمیر‘ اوردو ڈرامے ’شہنشاہ حبشہ‘ اور’زوال کینٹین‘ فکری و فنی اعتبار سے کامیاب اور معیاری ہیں۔ ’ بہارمیں اردو ادب کا ارتقا‘ ان کا معرکتہ الآرا کارنامہ ہے۔ جس میں انھوں نے لسانیات سے متعلق اپنی مدلل رائے پیش کی اور تحقیق کا حق ادا کیا۔ علاوہ ازیں ان کی کئی تنقیدی تصانیف بھی منظر عام پر آکر داد وتحسین حاصل کر چکی ہیں۔ جس میں تحقیق و تنقید، نئی تنقید، سراج ومنہاج اور بہار میں اردو زبان و ادب کا ارتقا کو ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی ملی۔اختر اورینوی نے اپنے تنقیدی مضامین و تصانیف میں تنقید کے بنیادی مسائل کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرائی۔

شاعری اور کہانیوں سے اختر اورینوی کی دلچسپیوں کا سلسلہ دور طفولیت اور آغاز نوجوانی سے شروع ہو جاتا ہے۔اختر اورینوی اپنی اس دلچسپی کا اظہار یوں کرتے ہیں:

’’ بچپن میں کہانیاں سننے کا بڑا شوق تھا۔ گھر کی بڑی بوڑھیوں کی خوشامدیں کیا کرتا تھا اور خوب کہانیاں سنا کرتا۔ دادی اماں مذہبی قصے سناتی تھیں اور دوسرے لوگ دنیا بھر کی حکایتیں اور داستانیں سناتے تھے۔ بیمار بہت پڑتا تھااور کہانیوں سے میری بیماریاں بہلائی جاتی تھیں۔ مجھے میٹھی چیزوں اور کہانیوں کا بڑا شوق رہا۔آج بھی ناولوں اور داستانوں پر اور حلووں پر جان دیتا ہوں۔‘‘

(بحوالہ :ہندوستانی ادب کے معمار،اختر اورینوی، ساہتیہ اکادمی، 2004، ص68)

کہانی سننے کا یہ شوق رفتہ رفتہ سنانے کی خلش بن گیا اور وہ ایک عظیم افسانہ نگار بن گئے جنہوں نے صوبۂ بہار کانام افسانوی ادب میں روشن کیا۔ ان کا شمار بہار کے ممتاز ترین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ اختر اورینوی صوبہ بہار کے وہ لعل ہیں جن کے قلم سخن نے بیسیوں افسانے کو وجود بخشااور افسانوں کا ایک ذخیرہ تیار کیا۔

اختر اورینوی نے اپنے افسانوی سفر کا آغاز 1927 میں کیا۔ اختر اورینوی اپنے ایک مقالہ’میرا نظریۂ فن‘ میں خودلکھتے ہیں کہ:

’’ مجھے یاد ہے کہ میں نے 1927 سے چھوٹے چھوٹے ادب لطیف کے نمونے پیش کرنے شروع کر دیے تھے اور غزلیں لکھنی شروع کر دی تھیں۔ عنفوان شباب کا خاص تعلق ادب لطیف اور غزل سے بھی ہے۔ تخلیق سے ذوق وشوق کی تسکین ہوتی تھی اور بس! ادب ونظریہ کے تصور سے بھی واقف نہ تھا۔ یہ کیفیت 1936 تک رہی اور اس لمبے عرصے میں میں نے رومانی رنگ کی تخلیقات بھی کیں۔ حقیقت پسندانہ بھی اور مقصدی ادب بھی پیش کیا۔‘‘ (اختر اورینوی:فنکار وناقد، ص15)

اختراورینوی کی افسانوی تخلیقات میں ’رتنا‘جسے انھوں نے 1927 میں لکھا، ان کی اہلیہ شکیلہ اختر کے مطابق کہیں شائع نہ ہوسکی۔ان کا پہلا افسانہ جو ادبی پرچہ میں شائع ہو ا وہ’بدگمانی‘ ہے۔ اس کے بعد تو وہ مسلسل ومتواتر لکھتے رہے۔  ان کے چھ افسانوی مجموعے منظر عام پر آئے۔جس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے: منظر وپس منظر، کلیاں اور کانٹے،  انارکلی اور بھول بھلیاں،   سمینٹ اور ڈائنامیٹ، کیچلیاں اور بال جبریل،  سپنوں کے دیس میں۔  ان کے چھ افسانوی مجموعے منظر عام پر آئے جن میں  تقریباً سو افسانے شامل ہیں۔ ’ بدگمانی‘سے لے کر ’ایک درخت کا قتل‘ تک ان کا طویل افسانوی سفر ہے جو 1927 سے 1977 تک پھیلا ہوا ہے۔جو مکمل آدھی صدی پر مشتمل ہے۔ اس میں اختر اورینوی نے اپنے تجربوں اور مشاہدوں، افسانوی صلاحیتوں اور فنی بصیرتوں کو بروئے کار لا کر افسانوں کی خوبصورت دنیا آباد کی ہے، جس کا کینوس فن، ہیئت اور موضوع کے اعتبار سے وسیع اور متنوع ہے۔مظہر امام اپنی بیش قیمت رائے کا اظہار کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :

’’اورینوی کے افسانے فن اور موضوع دونوں اعتبار سے نادیدہ جہانوںکے تلاش وجستجو کا پتہ دیتے ہیں۔ ان کے افسانوں کی دنیا اپنے موضوعات کے لحاظ سے بڑی وسیع اور متنوع ہے۔ یہ افسانے کسی مقید فضا میں سانس نہیں لیتے۔ ان کا خمیر زندگی سے اٹھا ہے اور زندگی کہیں دور خلا کے اندھیروں میں پرواز نہیں کرتی۔ وہ انسان کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں ہنستی اور مایوسیوں میں آنسو بہاتی ہے۔ اورینوی کے زندگی آمیز اور زندگی آموز افسانوں پر ایک ہمہ جہت اور پروقار شخصیت کی گہری چھاپ دکھائی دیتی ہے۔ ‘‘ (ایضاً، ص26)

اختر اورینوی نے مذکورہ بالا مجموعوں کے مختلف افسانوں میں مختلف النوع موضوع، اسلوب اورتحریکات کو سمونے کی عمدہ سعی کی ہے۔ ان کے ابتدائی دور کے افسانوں میں رومانویت کا عنصر نمایاں ہے۔چنانچہ اس تعلق سے وہ خود ایک جگہ اعتراف کرتے ہیں کہ انھوں نے سب سے پہلے رومانی افسانہ نگار نیاز فتحپوری سے اثر قبول کیااور علامہ اقبال سے بھی متاثر ہوئے جو ان کی تخلیقات میں دکھائی دیتا ہے۔ گھر کے مذہبی ماحول نے ان کو حالی، اقبال، شبلی اور شرر کا گرویدہ بنا دیا۔ وہیں وہ میر، غالب، نیاز، یلدرم اور اختر شیرانی سے مستفیض ہوئے اورترقی پسندی کا بھی خاص اثر قبول کیا۔ بقول اختر اورینوی:

’’ میں نے اہل زندگی میںسب سے پہلے نیاز فتحپوری سے اثر لیا اور ساتھ ہی ساتھ یا اس کے کچھ بعد اقبال سے اثر پزیر ہوا۔ نیاز اور اقبال کے دو متضاد نظریہ ہائے فن ہیں۔ آج میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ دونوں نظریے ایک دوسرے کی تشکیل کا باعث ہیں۔ اردو ادب کی روایت میں ترقی پسندی بھی ملتی ہے اور عیش کوشی بھی۔ ان دونوں کا تصادم بھی ملتا ہے اور رجعت پسندی بھی۔ میرے گھر کی مذہبی فضا نے مجھے حالی، اقبال، شبلی اور شررکا گرویدہ بنا دیا لیکن میرے مزاج کی جذبات پروری اور رومانیت نے مجھے میر، غالب، نیاز فتحپوری، یلدرم اور اختر شیرانی کی طرف بھی مائل کیا۔ درمیانی دور میں اشتراکیت سے بھی بہت متاثرہوا ہوں۔ اسی بنا پر ترقی پسند مصنفین کی انجمن اور ترقی پسند تحریک سے گہرا اثر قبول کیا۔ اب غور کرتا ہوں تو میں کسی ایک میلان کا کبھی نہیں رہا اور ایک دھارے میں کبھی نہیں بہا۔‘‘(ایضاً، ص27)

یہی وجہ ہے کہ اختر اورینوی کے یہاں ایک میلان نہیں ملتا ہے۔ وہ اپنی کہانیوں میں مختلف النوع موضوعات کو پیش کرنے میں کامیاب ہیں۔اسی مضمون میں اختر اورینوی اپنے نظریۂ فن کو مزید وضاحت وصراحت کے ساتھ اس طرح پیش کرتے ہیں:

’’ میرا نظریہ یہ ہے کہ فن کی ساری قسمیں تجربات زندگی سے خام مواد حاصل کرتی ہیں اور ترتیب فن کی اندرونی شخصیت سے نئی ترتیب تازگی، زندگی، روح سوز وساز، تعمیر ومعنویت حاصل کرتی ہیںاور پھر پیش کش کی منزل میں فنکاری کی ہنرمندی سے ترتیب وتناسب ربط وہم آہنگی، تراش وخراش، وضع وقطع، اسلوب وادا، تنظیم وتعمیر پاتی ہیں۔ غرض یہ کہ فن، فطرت اور معاشرہ زندگی اور کائنات کی محض ترجمانی کا نام نہیں بلکہ تخلیق جدید کا نام ہے۔‘‘

(اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک ـ : خلیل الرحمٰن اعظمی، ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی 2007، ص197)

پروفیسر عبدالمغنی نے اختر اورینوی کی افسانہ نگاری کے ابتدائی مرحلے کی نشاندہی کرتے ہوئے اس دور کے حالات و کیفیات پر مفصل روشنی ڈالی ہے:

’’جس وقت اختر اورینوی نے افسانہ نگاری شروع کی، پریم چند زندہ تھے اور ان کے پیروئوں کی ایک پوری نسل بروئے کار آچکی تھی۔ سدرشن، اعظم کریوی اور علی عباس حسینی ابھر چکے تھے۔ اس کے ساتھ نیاز فتحپوری کا جمالستان اور سجاد حیدر یلدرم کا خیالستان سج چکے تھے۔ مجنوں گورکھپوری کا بیان بھی آ چکا تھا۔ حجاب امتیاز علی کا کوہِ قاف نمودار ہو رہا تھا، سعادت حسن منٹو نے ابھی لکھنا شروع کیا تھا پھر اختر اورینوی کے لکھنا شروع کرنے کے دوتین برسوں بعد کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی اور چند سال اور بعد عصمت چغتائی بھی میدان میں آ گئیں۔‘‘(نیا افسانہ، ص 175)

اختر اورینوی کے افسانے کی نمایاں خصوصیت اور انفرادیت یہ ہے کہ انھوں نے پریم چند کی طرح بہار کی دیہی زندگی اور وہاں کے مسائل کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اختر صاحب نے خود کو بہار کے دیہاتوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ ان کے موضوعات میں تنوع اور رنگارنگی ہے۔اختراورینوی کے افسانوں میں سماج کے مظالم اورسرمایہ دارانہ نظام پر طنزو تنقید بھی ہے۔ان کو سماج کے متوسط طبقے سے ہمدردی ہے۔وہ موضوعات بھی متوسط طبقے سے لیتے ہیں مثلاً جونیئر وکیل، ٹائپسٹ، بوڑھی ماما، سینی ٹوریم کا فقیر، پندرہ منٹ اور ’درخت کا قتل‘ ان کے شاہکار افسانے ہیں۔

اختر اورینوی کے تمام افسانوں میں اختر اورینوی نے اپنے عہد کی بصیرت کو بڑی احتیاط، سنجیدگی اور انسان دوستی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ انھوں نے طبقاتی کشمکش اور متوسط طبقے اور نچلے طبقے کی اقتصادی الجھنوں اور محرومیوں کو نہایت عمدگی سے بروئے کار لایا ہے۔خلیل الرحمٰن اعظمی اختر اورینوی کے افسانوں کے موضوعات پر روشنی ڈالتے ہیں:

’’ اختر اورینوی نے بعض پیچیدہ مسائل کو اپنا موضوع بنایا ہے۔ نچلے طبقے کی معاشی مشکلات، انسانی قدروں اور بھوک کا تصادم،قرض اور سود، لڑائی اور جھگڑے اورمقدمہ بازی، خاندانی مناقشات، زمیندار اور کاشتکار، قلی، نانبائی، رکشہ کھینچنے والے اور بھٹی جھونکنے والے سب کا مطالعہ اختر اورینوی نے قریب سے کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی متوسط طبقے کی ناکامیاں ونامرادیاں بھی ان کا موضوع رہی ہیں۔‘‘(ساغر نو: اختر اورینوی نمبر، 1965، ص 412)

اختر اورینوی نے سماجی بصیرت اور حقیقت کے امتزاج سے ایک ایسا اسلوب ایجاد کیاکہ اس سے زندگی کی ترجمانی میں جان پڑ گئی۔ انھوں نے دیہات کی عوامی زندگی اور ساتھ شہری زندگی کے مسائل کو واقعیت اور حقیقت شعاری کے ساتھ پیش کیا ہے۔ بقول وقار عظیم:

’’ شہری زندگی کی بھیڑ بھاڑ میں سے اختر اورینوی نے بہت سی چیزیں چنی ہیں اور انھیں بہت سی چیزوںسے ان کے افسانوں کی تشکیل ہوئی ہے۔ اسی بھیڑ بھاڑ کی دنیا میں نچلے طبقے کے لوگ ہیں جیسے یکہ والے، موٹر ڈرائیور، نانبائی، چھوٹے بڑے مختلف طرح کے مزدور جو شہر میں رہ کر بھی بے سروسامان ہیں اور بے سروسامانی کبھی ان کی قوت بازو اور جذبہ خودداری کا مضحکہ اڑاتی ہوئی انھیں بھیک کے پنجوں میں لا پھنساتی ہے۔‘‘(جادۂ اعتدال، ص 160)

اختر اورینوی کے افسانوں کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے افسانوں میں وہی خوبیاں موجود ہیں جو عام طور پر معاشرتی اور سماجی مسائل کے پیچ وخم ہیں۔ وہ ایک بالغ النظر فن کار کی طرح ہندوستان کی پوری زندگی پر چھا گئے۔ ایک طرف بہار کی مخصوص فضا اور حالات میں رہنے والے کسانوں کے مصائب، خشک سالی، بھوک، غربت، سودہیں تودوسری جانب شہر کی بے بسی اور بے حسی کے درمیان پھنسا انسانی ہجوم اور مختلف طبقات میں بٹی ہوئی ان کی زندگی۔ ان کے افسانوی مجموعوںمنظر وپس منظر، سمینٹ ڈائنا مائٹ، کیچلیاں اور’بال جبریل‘ کے افسانوں میں وہی سسکتی زندگیاں ہیں جو سماج اور زمانے کے دوپاٹوں کے درمیان پسے جا رہے ہیں۔ زمیندار اور سرمایہ دار کے ذریعہ استحصال کا شکار ہو رہے ہیں۔ اکتاہٹ، شادی کے تحفے،  کلیاں اور’کانٹے‘ جیسے افسانوں سے اختر اورینوی کا شمار اردو ادب کے ان باکمال افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جن میں بیدی، کرشن چندر، خواجہ احمد عباس اور حسن عسکری نظر آتے ہیں۔ان کے افسانوں میں سماجی زندگی، حقیقت کے ساتھ رومان سے قریب نظر آتی ہے جو قاری کے دل پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔نینی، شاکرہ اورراشدہ کا کردار بحیثیت نسوانی کردار ان کے افسانوں کے مرکزی کردار ہیں۔ یہ وہ کردار ہیں جو مسلم اور کرشچن، باعزت مڈل کلاس کے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ سادہ لوح، خاموش اور محبت کی مٹی سے گندھے ہوئے ہیں۔ اختر اورینوی کا مطالعہ و مشاہدہ اس تناظر میں بھی کم نہیں۔ان کرداروں پراختر اورینوی کی نظر موضوع سے زیادہ قریب ہوتی ہے اور وہ ان کرداروں کی گہری جذباتی ہیجان کو نہایت قریب سے پیش کرنے میں بہت ہی ماہرانہ چابکدستی سے کام لیتے ہیں۔ بحیثیت افسانہ نگار ان کا قد بلند دکھائی دیتا ہے۔ان کے افسانوں میں زندگی کا گہرا مطالعہ اور اس کے معنی خیز پہلوؤں کا احساس بھی پایاجاتاہے۔ وہ کہانی میں کردار، پلاٹ اور ہیئت کو اس سلیقہ مندی سے پیش کرتے ہیں کہ کہیں بھی تاثر کم نہیں ہوتا۔ زبان میں تاثیر اور کیفیت ہے۔ ان کے افسانے ہمیں گرد وپیش کے متعلق ایک بصیرت عطا کرتے ہیںاور ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ وہ ان افسانہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں جو زندگی کی تصویر کشی میں نفسیات کے مطالعہ سے کام لیتے ہیں۔ انھیں انسانیت کی بنیادی قدروں کا بھی عرفان ہے اور وہ زندگی کے کائناتی نظام سے بھی واقفیت ہے۔

بلا شبہ اختر اورینوی کی ادبی شخصیت ہمہ گیر تھی۔ ان کے جادو نگار قلم کی جولانیاں مختلف اصناف ادب میں نظر آتی ہیں۔ اختر اورینوی اردو ادب کے اعلیٰ ادیب وشاعر ہیں۔ شاعری ہو کہ افسانہ، ناول ہو کہ ڈراما، تاریخ ہوکہ صحافت اور تحقیق ہو یا تنقیدہر جگہ ان کی جلوہ سامانی موجود ہے اوروہ اتنی آہستگی اورشائستگی کے ساتھ یہ کارنامہ انجام دیتے ہیںکہ ہر سو ان کے فن کا ڈنکا بجنے لگتا ہے۔اختر اورینوی کی غیرمعمولی کاوشوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔

Md Hasnain Raza

D-4, Second Floor, Okhla Vihar,

Jamia Nagar, Okhla

New Delhi-110025

Mob.: 9891675442

 



بدھ، 22 جون، 2022

فخر مالوہ: عمیق حنفی - مضمون نگار : غلام حسین


 


ہندوستانی تہذیب و ثقافت میں تین شاہکار، جمالیاتی فطرت کے مظہر ہیں۔ پہلا ’صبح بنارس‘ دوسرا ’شام اودھ‘ اور تیسرا ’شب ِمالوہ‘۔ تاریخ میں ارض ِمالوہ کی عظیم الشان روایت رہی ہے۔ قابلِ فخر آرائے سلطنت کاتعلق اس سرزمین سے رہا ہے۔اس خطۂ خاص میں علم و اد ب کی ایسی لازوال اور باکمال ہستیاں عالم وجود میں آئیں جن کی آفاقیت مُسلّم ہے۔شاعرِاعظم کالیداس اور بھرتر ہری کی نسبت اسی خاک زیرک(اُجین)سے ہے۔ یہاں امیر خسرو کے قیام کا ذکر ملتا ہے۔ ان کے پیر بھائی مولانا مغیث الدین موج کامستقراُجین تھا اور یہیںوہ سپردِ خاک ہوئے۔آج بھی ان کا مزارمرجع خاص و عام ہے۔ عہد سلطنت میں شادی آباد(مانڈو) اور دورِ ریاست میں گلشن آباد(جاؤرہ) اردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج کے اہم مراکز تھے۔ دستورِ ہند کے معماروں میں کلیدی کردار ادا کرنے والی مایہ ناز ہستی ڈاکٹربھیم رائو امبیڈکر کی جائے پیدائش ہونے کا فخرمہو کو حاصل ہے۔ملک کے ایسے سپوت کی گرانقدر خدمات کے پیش نظر حکومت وقت نے اب ’مہو‘کا نام تبدیل کر ڈاکٹر امبیڈکر نگر کر دیا ہے۔

 جہاں تک اس علاقے میں اردو زبان کے ارتقائی سفر کا تعلق ہے تو ابتدائی اور تشکیلی دور  سے ہی جو صورت حال برصغیر میں تھی تقریباً انھیں عوامل کی کارفرمائی بھی یہاں نظر آتی ہے۔مغلیہ سلطنت کا شیرازہ منتشر ہونے کے بعد اس زبان کی خوشبو پورے ملک میں پھیلنے لگی۔ جنگ آزادی 1857 کے بعد اس عمل میں اور تیزی آگئی۔ نواحِ دہلی اور مغربی یوپی کے باشندے جن کی زبان اردو تھی وہ جب انگریزوں کے ظلم و جبر کا شکار ہوئے تواس کو جا ئے امن سمجھ کر یہاں آباد ہونے لگے اور اردو زبان و ادب کی شمع روشن کرنے لگے۔ یہاں کے والیان ِریاست کو بھی فارسی اور اردو زبان سے بڑا لگاؤ تھا۔ایسے سازگار ماحول میں اردو زبان کاا قبال بلند ہوا۔تدریس اوردفاتر میں اس زبان کی اہمیت کا اعتراف کیا گیا۔اعلیٰ معیار کے تعلیمی ادارے قائم ہوئے۔مہو میں تعلیم کا معیار اس قدربلندتھا کہ یہاں کے پرائمری اسکولوںکا شمار ایشیا کے نمبر ایک کی تعلیم گاہوں میں ہوتا تھا۔ جہاں موقر اساتذہ کا تقرر ہوتا تھا۔بیسویں صدی کے اوائل میں حامد حسن قادری جیسی اردو کی نامور ہستی یہاں استاذ کے عہدے پر فائز تھی۔ آج بھی اس کے آثار باقی ہیں۔

 مہو کے بارے میںیہ کہا جاتا ہے کہ اندور سے متصل ایک غیر آباد ٹکڑا تھا جو جنگلوں سے گھرا ہوا تھا۔ انگریزوں نے غالباً1812 میں ایک معاہدہ کے تحت ہو لکرسے حاصل کیااور عسکری ضروریات کے لیے استعمال کیا۔ انگریزوں کا یہ دور اندیشانہ لائحہ عمل تھا۔انگریزوں نے اس کا نام مہو(MHW) رکھاجو مخفف Military Headquarters Of War. ہے برٹش حکومت میں اسے مرکزیت حاصل تھی۔1857 میں انگریزوں نے جنگ یہاں سے لڑی تھی۔اس کی اتنی اہمیت تھی کہ ایک بار یہاں ونسٹن چرچل بھی آئے تھے جبکہ وہ محض ایک رپورٹرتھے… یہ چھائونی اردو زبان کے لیے بڑی سود مند ثابت ہوئی۔اس لحاظ سے اگر اسے دورِ جدید کا ’اردو بازار ‘کہا جا ئے تو بے جا نہ ہوگا۔ سربرآئوردہ دانشور، ادیب و شاعر عمیق حنفی کی پیدائش اسی مہو میں 3 نومبر 1939  کو ہوئی جو ان کا  ننہیال  ہے۔یہیں ان کی تعلیم و تربیت ہوئی اور تخلیقی سفر کا یہیں سے آغازہوا۔ ان کا اصل نام محمدعبدالعزیزحنفی تھاجو دنیائے ادب میں عمیق  حنفی کے نام سے مشہور ہوئے۔ان کے والد کانام عبد البصیرتھا اور ان کے ماموں محمد یعقوب اپنے زمانے کے معروف وکیل تھے۔اردو،فارسی اورانگریزی زبانوں سے انھیں بڑی انسیت تھی۔انھیں کے زیر سایہ ان کی تربیت ہوئی۔ بسلسلۂ ملازمت ان کے والد کی اقامت دیواس میں تھی حسن اتفاق وہ موسیقی کے نامی گرامی استاد ر جب علی خان کے ہمسایہ تھے۔عمیق جب اپنے والد سے ملنے جاتے تو استاد کے گھربھی آنا جانا ہوتا۔اس وقت وہ کم سِن تھے۔ مگر اس چھوٹی سی عمر میں بھی وہ موسیقی کے استاد کی ریاضت اور مباحث سے ازحدمتاثر ہوئے او ر ایک موسیقار بننے کا خواب دیکھنے لگے۔ان کی اس دیوانگی پر والد ہ سخت برہم ہوئیں چنانچہ انھیں یہ سلسلہ ترک کرنا پڑا مگر ا نھوں نے مشق سخن جاری کیا توسُر،تال اور لَے کے ادراک سے انھیں  بڑی مدد ملی۔جب وہ اظہارِ خیال کرنے لگے تو سحر آفریں نغمگی سے ان کے الفاظ میں جان سی پڑ گئی۔

لکھنے پڑھنے کا شوق انھیں بچپن ہی سے تھا۔جب وہ مڈل اسکول میں زیرِ تعلیم تھے تبھی سے وہ اپنے خیالات کو قلم بند کرنے لگے تھے۔اسکول اور کالج کے زمانے میں ہی وہ ہندی میں کویتا لکھنے لگے تھے۔اخبار ورسائل میں ان کی کویتائیں چھپنے بھی لگی تھیں۔انھوں نے دو مضامین سیاست اور تاریخ میں ایم  اے کیا اس کے بعدوہ اردو میں بھی شعر کہنے لگے۔رسائل میں کلام کی اشاعت اور نشستوں کی شرکت سے ان میں دن بہ دن اعتماد پیدا ہوتا گیا۔تکمیلِ تعلیم کے بعد مہو کے ایک مشنری اسکول میں وہ بحیثیت استاذ کام کرنے لگے۔ اس وقت ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’سانسوں کا سنگیت (ہندی رسم الخط)میں شائع ہوا۔ انھیں اردو زبان و ادب سے بہت شغف تھا۔غرضیکہ اردو میں طبع آزمائی کی شروعات کی تو خوب سے خوب تر اندازمیں وہ آگے قدم بڑھاتے گئے اور ایک دن ان کا شمار صف اول کے فنکاروں اورقلم کاروں میں ہو نے لگا۔انھوں نے تعلیم وتعلّم، تحریر و تقریر،مطالعہ و مشاہدہ اور مناظرہ کو اپنا وظیفۂ حیات بنالیا۔انھوں نے اپنی ذہانت، فطانت اور گہری بصیرت سے اہلِ علم وہنر کو متاثر کیا۔ پروفیسر صادق ان کی تبحر علمی اور ہمہ دانی کا اعتراف کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :

’’وہ شعرو ادب کے علاوہ موسیقی،مصوری،رقص اور ڈراما و غیرہ سے بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ ہندوستانی ادب، فلسفہ،تاریخ اور جمالیات پر ان کی گہری نظرتھی۔ علم ِنجوم سے شغف رکھتے تھے۔ان کے عمیق مطالعہ اور گہری بصیرت کے مظہر وہ مضامین ہیں جو انھوں نے چھٹی دہائی میں مختلف موضوعات پر لکھے تھے۔مرحوم کو ہندی زبان و ادب پر بھی عبور تھا۔‘‘ (ادب کے سروکار، ص 18)

پروفیسرقمر رئیس نے ان کی ادبی شخصیت کا تذکرہ بجا طور پر اس انداز میں کیا ہے :

’’عمیق حنفی طبعاًبڑی جو شیلی،متحرک اور پہلودار شخصیت کے مالک تھے۔ان کی ذہنی اور وجدانی دنیا میں جس طرح کا جوش اور جیسی توانائی دیکھنے میں آتی تھی۔ اس طرح کی فعالیت اور تب و تاب ان کی تخلیقی زندگی میں بھی نمایا ں رہی۔‘‘

(ترقی پسند ادب۔پچاس سالہ سفر،مرتبہ قمر رئیس،عاشور کاظمی،ص 378)

عمیق حنفی نے اردو ادب کے میدان میں جس وقت قدم رکھا تو اس وقت بڑا سازگار ماحول تھا مگر فی زمانے کے تناظر میں اس صورت حال کا اندازہ لگایا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے   ع

بھڑکتا ہے چراغ صبح جب خاموش ہو تا ہے

جب وہ اندور ریڈیو اسٹیشن پر مامورتھے تو اس وقت اردو شعرو ادب کی ایک کہکشاں جلوہ گر تھی۔فخر مالوہ کرامت علی کرامت کے شاگردچراغ سخن جلائے ہوئے تھے۔ فخر مالوہ ثانی شاداں اندوری بقید حیات تھے۔ڈاکٹر عزیز اندوری،ڈاکٹر مختار شمیم،رشید اندوری اور ڈاکٹر راحت اندوری سے بزم آراستہ تھی۔اندور سے متصل اُجین میں ا شہرگوڑ،گویا قریشی،عطا الٰہی صدیقی،کاشف ا لہاشمی،  حسرت قریشی، محمودزکی، محمود احمد سحر، پروفیسر عبد الباقی، پروفیسراظہر راہی، پروفیسر وسیم الدین، پروفیسر خلیل احمدمشیر،پروفیسر آفاق حسین صدیقی جیسی ہستیاں محفل سخن کو بارونق بنا رہی تھیں۔ اس دور کی دو اور نامور ہستیاں پروفیسر صادق،پروفیسر عتیق اللہ تعلیم وتدریس کے ساتھ تخلیق کی طرف بھی قدم بڑھا رہے تھے گویا یہ حضرات اپنے وطن میں گمنام نہیں تھے اور غربت میں جا کے خوب چمکے۔اُجین سے اورنگ آباد کا ادبی سفرایک منزل تھی۔ وہاں سے دلی بہت قریب ہو گئی۔جہاں وہ اردو ادب کے مرکز نگاہ بن گئے۔مذکورہ حضرات کے نقش قدم پر چلتے ہوئے احمد کمال پروازی،رشید امکان، پروفیسر واجد قریشی، ڈاکڑ مسیح الدین انصاری، ڈاکڑ شہناز قریشی، ڈاکٹر کشور سلطان،پروفیسر حدیث انصاری، ڈاکٹر مظہر محمود، پروفیسر فہمیدہ منصوری،ڈاکٹر ظفر محمود، ڈاکٹر عشرت ناہید وغیرہ اردو زبان کی آبیاری میں سربراہی فرما رہے ہیں۔ان میں سے کچھ حضرات اپنی ملازمت سے سبکدوش بھی ہو گئے ہیں۔

عمیق حنفی نے عملی زندگی کی شروعات تدریس سے کی مگر ان کی سیمابی اور متحرک طبیعت نے انھیں ایک جگہ ٹھہرنے نہیں دیا۔وہ زندگی بھر خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہے اور ستاروں پر کمند ڈالنے کی کاوش کرتے رہے۔ ان کے مزاج و معیار کے مطابق انھیں ریڈیو اسٹیشن کی افسری مل گئی تو ان کے خلاقانہ ذہن میں چار چاند لگ گیا۔ ا نھوں نے جدید ذرائع ترسیل سے بڑے کارآمد کام کیے۔  ان کی ذات سے اردو زبان کو بھی فائدہ پہنچاخصوصاً ریڈیائی ڈرامے کوانھوں نے ایک جہت دی۔ وہ خود بہترین ڈرامہ نامہ نگار تھے۔ ریڈیو پر ان کے پیش کردہ ڈرامے بہت مقبول ہوئے۔انھوں نے اپنی ذہانت اور بصیرت سے اپنے فرائض کو ہنر مندی اور سلیقے سے نبھایا، اس میدان میں ان کی صلاحیت خوب صیقل ہوئی اور ترقی کے منازل طے کرتے گئے۔ آل انڈیا ریڈیو بھوپال میں ایک اسکرپٹ رائٹر کی حیثیت سے اپنے کریئر کا آغاز کیا۔ پروگرام ایگزیکٹیو ہوئے، آل انڈیاریڈیو امبیکا پور اور لکھنؤ میں اسٹیشن ڈائریکٹر  کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1984 میں ا سٹاف ٹریننگ کے ڈائیریکٹر منتخب ہوئے۔وہ بڑے ہردلعزیز ڈائیریکٹر تھے اور مرنجان مرنج شخصیت کے مالک تھے۔ 30 نومبر 1987کو اپنی ملازمت سے سبک دوش ہوئے۔ دوران ملازمت انھیں دل کا عارضہ ہوا۔ بائی پاس سرجری ہوئی مگر وہ مکمل طور پر صحت یاب نہ ہو سکے اور 3 اگست 1988 کو انھوں نے دہلی میں داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ وہیں بستی حضرت نظام الدین میں فخر مالوہ پیوندِ خاک ہوئے۔

عمیق حنفی کواپنے وطن مالوف مہو سے بڑی انسیت تھی۔  عزیر و اقارب اوردوست و احباب سے انھیں والہانہ لگائو تھا۔اب تو ان کے دور کے لوگ اجل رسیدہ ہو گئے۔فقط عبد الہادی صاحب بقید حیات ہیں۔اس وقت ان کی بھی عمر 80 برس سے تجاوز کر گئی ہے مگر ہوش و ہواس درست اور یادداشت ماشا اللہ،گوکہ عمیق  حنفی اور ہادی صاحب کی عمر میں بڑا تفاوت تھا مگر ہم مشرب،ہم مسلک اور ہم ذوق ہونے کی وجہ سے دونوں صاحبان ایک روح دو قالب تھے۔ آج بھی ہادی صاحب سے ملاقات ہوجاتی ہے توعمیق حنفی سے ان کی قربت کا اندازہ ہوتا ہے اور نصف الملاقات کا گمان ہو تا ہے۔مہو سے عمیق حنفی کو جذ باتی لگاؤ تھا۔وہ اپنے حین حیات میں کہیں بھی رہے مگر وہ مہو کی یاد میں محو رہے۔ اس کا ذکر ان کی شاعری میں بھی ملتا ہے۔ایک نظم میں وہ مہو کو اس طرح یاد کرتے ہیں        ؎

پہاڑوں کے احاطے میں یہ ذرا سا شہر

حسین پیالے کے مانند جگمگاتا ہے

انڈیلتی ہے شب مالوہ یہاں مئے نور

   یہاں وہ لوگ جو اردو سکھائیں غیروں کو

یہاں وہ لوگ جو گونگوں کو بولنا سکھلائیں

عمیق  حنفی کی شخصیت کثیر الابعاد تھی۔انھیں اپنے دور کی تحریکات اور رجحانات سے غیرمشروط وابستگی تھی۔ وہ ترقی پسند بھی تھے اور’حلقہ ارباب ذوق‘کے ہمنوا بھی۔طرفہ تماشا یہ کہ وہ جدیدیت کے سرگرم رضا کار بھی تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ ایک روشن خیال دانشور تھے۔وہ اپنی راہ کے راہی بھی تھے اور رہبر بھی۔ جدیدیت کے آثار ان میں 1958 سے نمودارہونے لگے تھے۔جب ان کا پہلا شعری مجموعہ’سنگ پیرہن‘ منظرعام پر آیا تو ماہنامہ ’ادیب‘کے مدیر کو یہ خدشے لاحق ہوا کہ عمیق حنفی ترقی پسند فکر و شعور سے کہیں دور تو نہیں ہوگئے ہیں۔ اس کا ازالہ انھوں نے اپنے ایک مراسلہ میں کیا جو نومبر1958 کے ماہنامہ ادیب میں شائع ہوا اس سے ان کے زاویہ نظر کا اندازہ ہوتا ہے:

’’ میں نے ترقی پسندی کو اپنا ذہنی فکری مسئلہ اور جمالیاتی مذہب مانا ہے اگر مارکسی جمالیات کی صحیح تصویر سامنے رکھی جائے تو شاعری میں ادب کی ترقی پسندی کے درشن آپ کو ضرور ہوں گے ترقی پسند فکر میری شاعری کے رگ و ریشے میں سمائی ہوئی ہے۔‘‘

 اس  کے علاوہ یہ بھی حوالہ ملتا ہے کہ جب 1967 میں علی گڑھ یونیورسٹی نے جدیدیت کے عنوان پر ایک سیمینار منعقد کیا تو اس میں شرکت سے معذوری کا اظہارکر دیا۔اس وقت کے نامور ادیبوں نے ان کی ترقی پسندی کا اعتراف کیا ہے۔

روما نیت اور انانیت کی آمیزش سے متشکل عمیق حنفی کی تہہ دار شخصیت کی صراحت ایک مشکل امر ہے۔ ایک طرف وہ ترقی پسندی سے دست بردار نہیں تھے تو دوسری طرف اگر ہم ایک کوہ قامت ترقی پسند ادیب اور دانشور پروفیسر احتشام حسین سے ان کی محاربہ آرائی اور معرکہ آرائی کو پیش نظر رکھیں تو وہ جدیدیت کے سالار کارواں نظر آتے ہیں۔جدیدیت اور ترقی پسندی کے مابین مکالمہ کو مناقشہ بنانے میں ’سوغات ‘اور ’شب خون‘ کا بڑا ہاتھ رہا ہے، جس کی حمایت میں شمس الرحمن فاروقی اپنی کمک کے ساتھ میدان جنگ میں اتر آئے۔یہ بھی سچ ہے کہ فاروقی صاحب،عمیق  حنفی کے فکر و فلسفہ، دانشوری،علمیت اور تخلیقات کے قائل ہی نہیںبلکہ گرویدہ تھے۔ وہ توانھیں اپنا ’پیر و مرشد‘ گردانتے تھے۔لیکن 1983 میں ’شعر چیز دیگر است‘پر اردو اکیڈمی یو پی نے انھیں ڈیڑھ ہزار کا انعام دیا۔علی الرغم اس سے بڑاانعام شمس الرحمن فاروقی کو دیا گیا۔جس سے ا ن کی خود داری کو ٹھیس پہنچی اور انھوں نے وہ انعام ٹھکرا دیا۔یقینا اس وقت عمیق حنفی کا ادبی قد بہت بلند تھا مگر نہ جانے ارباب حل و عقدکس مصلحت کے شکار ہوئے۔ ان عوامل سے ان کے ادبی معیار کے شایان شان ان کی خدمات کا اعتراف نہیں کیا گیا۔ان کی جائے پیدائش کے صوبہ مدھیہ پردیش کی اردواکادمی نے انھیں ایک حقیر سا انعام دے کر ٹرخا دیا۔عمیق حنفی کا الف ہو ناحق بجانب تھا۔ممکن ہے شدید قسم کی جدیدیت سے گریز کا یہ سبب بھی ہوا ہو۔ خیر کچھ بھی ہو اس مناظرے اور مذاکرے سے اردو ادب کو بڑا فائدہ پہنچا۔ افکار اور اظہار میں جمہور یت آئی۔علاوہ ازیں دو بلند قامت ادیبوں اور دانشوروں کے تبحرعلمی اور وزن و وقار کا اندازہ ا ہل علم کو ہوا۔اس بحث کو سمجھنے کے لیے قارئین کو’شب خون‘ میں شائع شدہ خطوط کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

اردو ادب میں عمیق حنفی کی شعر گوئی کی ابتدا   1952 میں ہو ئی۔اس میدان نے انھوں نے بڑے طمطراق سے قدم رکھا۔چھ سال کی مدت میں ہی ان کا پہلا شعری مجموعہ ’سنگ پیرہن‘1958میں منظر عام پر آیا۔انھوں نے اپنی بات میں جو اظہار خیال کیا اس سے ا ن کی شاعری کی سمت ورفتار،میلانات،رجحانات اور ترجیحات کا اندازہ ہوتا ہے:

’’ میری شاعری میں آپ کو ہندستانی بالخصوص مالوے کی فضا ملے گی بعض ایسے الفاظ تشبیہات و تلمیحات ملیں گے جنھیں ہندی یا ہندوی کہاجاسکتا ہے۔میں اپنی شاعری کی آفاقیت کو برقرار رکھتے ہوئے بھی اپنے دیس کے آب وگل سے رنگ و روغن حاصل کر کے اس کی اجنبیت ختم کر نا چاہتا ہوں۔ میرے کلام میں آپ کو کہیں کلاسیکی اور کہیں رومانی کہیں ا نقلابی کہیں تجرباتی عناصر نظر آئیں گے لیکن ایک اور بات نظر آئے گی کہ میرا ذہنی مسلک ترقی پسندانہ ہے۔‘‘

 عمیق حنفی کا دوسرا شعری مجموعہ’ شب گشت‘ 1969  میں شائع ہوا۔اس میں کئی نظمیں مختلف موضوعات پر بدلے ہوئے رویے کے ساتھ ملتی ہیں۔ اس میں اشکال اور ایہام نہیں ہے۔سائنسی اور مشینی دور کے شوروشرابے سے عاجز آکروہ ماضی کی طرف لوٹ جانے کے متمنی ہیں۔چنانچہ وہ فرماتے ہیں         ؎

اپنے کھنڈر چھوڑ کر آؤچلو میدان میں

اس طرف وہ جھاڑیوں کاجھنڈ ہے حجلہ نما

آئو اس میں چل کر ہم ایک دوسرے کو دیکھ لیں

اور دیکھیں پتھروں کے یگ میں کیسا پیار تھا

 عمیق حنفی کا تیسرا مجموعہ کلام ’شجرصدا‘1975 میں شائع ہوا۔ان کے شعری مجموعوں میں نظموں کی تعداد اچھی خاصی ہے۔ طویل نظموں میں سند باد، شہرزاد، سیارگان، شب گشت، کیوپیڈیا،صورت ناقوس، ویت نام،  سبز آگ، صلصلۃالجرس ہیں۔

  صلصلۃ الجرس، عمیق حنفی کی ایک معرکتہ الآرا طویل نظم ہے۔اس نظم میں رسول ؐ کی سیرت کو مو ضوع بنایاگیا ہے۔کتابی شکل میں پہلی بار یہ نظم 1971 میں نیشنل فائن پرنٹنگ پریس چار کمان،حیدر آباد سے شائع ہوئی اور مقبول خاص و عام ہو ئی۔یہ روایت ہے کہ حارث بن ہشا م نے حضورؐ اکرم سے یہ استفسار کیا کہ وحی کیسے آتی ہے تو رسول ؐ نے فرمایا کہ مثل صلصلتہ الجرس (گھنٹی کی خوبصورت آواز) اسی عنوان کا شاعر نے انتخاب کیا ہے۔ اس میں درجنوں ذیلی نظمیں ہیں۔یہ نظم 1433مصارع پر مشتمل ہے۔ اس رعایت سے کہ 1390 ہجری میں جب یہ نظم پایۂ تکمیل کو پہنچی تو قمری حساب سے 1443میلادی چل رہا تھا۔اس نظم کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ جب چودھویں صدی کی تقریب منائی جا رہی تھی تو دارالعلوم دیوبند کے مہتمم قاری طیب صاحب نے انھیں اپنے ادارے میں مدعو اور ان کا پر تپاک خیرمقدم کیا تھا۔جس وقت وہ ’صلصلۃ الجرس‘ لکھ رہے تھے تو اس وقت انھیں تصوف سے گہرا شغف ہو گیا تھا اوران پر ایک مجذوبیت کی کیفیت طاری ہو گئی تھی۔ وہ ’’بارہویں،تیرہویں صدی کا صوفیا کاطریقۂ تبلیغ و ترسیل‘‘ پر مقالہ تحریر کر رہے تھے۔ عہد حاضر میں اس کتاب کی بڑی اہمیت ہے۔اس میں اتنی وسعت اور بصیرت ہے کہ اسے مد و جزر عالم کہا جا سکتا ہے۔

عمیق حنفی کے یہاں غزل کی حیثیت تنگ نائے ظرف کی ہے۔پھر بھی ان کے مجموعوں میں غزل کے اچھے اشعار مل جاتے ہیں مثلا             ؎

دیکھا تھا ہم نے جس کو سر شام راہ میں

چہر ہ وہ ساری رات نظر میں پھرا کیے

محفل میں اپنی بات پہ ناراض ہی سہی

تنہائی میں وہ اپنا کہا مانتے تو ہیں

عمیق چھیڑ غزل،غم کی انتہا کب ہے

یہ مالوے کی جنوں خیز چودھویں شب ہے

کبھی حرم میں ہے کا فر،تو دہر میں مومن

نہ جانے کہاں د ل دیوانہ تیرا مذہب ہے

رکھے ہیں داغ بھی اشعار کی جبینوں پر

کرم یہ کم نہ کیا اپنے نکتہ چینوں پر

 بہر کیف عمیق حنفی کا شمار عہد حاضر کے صفِ اول کے شاعروں میں ہو تا ہے۔وہ اپنی شاعری میں مقامی احساس و جذبات کی عکاسی ہنر مندی سے کر تے ہیں اور اس میں آفاقیت کا رنگ بھر دیتے ہیں۔وہ اپنے فن میں یگانہ ٔ روزگارہیں۔دانشوروں اور ناقدوں نے ان کی شاعری کو کسوٹی پر پرکھا ہے اور انھیں ایک مستحسن شاعر قرار دیا ہے۔ معروف نا قد پروفیسر شمیم حنفی ان کے ہم دم وراز داں تھے اور ان کے کلام کے مداح بھی۔انھوں نے ان کی حیات و شاعری کا مطالعہ و مشاہدہ بہت قریب سے کیا تھا۔ان کی شاعری کے متعلق انھوں نے اپنی رائے کا اظہار بڑے ہی مدلل و متوازن انداز میں کیا ہے جو ان کی شخصیت اور شاعری کا سرنامہ ہے:

ـ’’عمیق  حنفی کے یہاں ایک غیر معمولی صلاحیت خود کو گردوپیش کی دنیا میں جذب کر دینے کی تھی۔ان کی شخصیت اور شاعری کا حصار کبھی ٹوٹا نہیں۔عمیق حنفی نے زندگی کو اپنی شرطوں پر گزاری اور شاعری میں ہمیشہ ان تقاضوں کے پابند رہے جو ان کی سرشت کا حصہ تھے۔یہ شاعری زندگی کے ایک مخصوص اسلوب سے بندھی ہوئی تھی اورزندگی کااسلوب ہمیشہ فکر وجذبے کے ایک مخصوص اسلوب کی تحلیل میں رہا.... ایک وصف جو ہماشما سے الگ صرف غیر معمولی انسانوں میں پایا جاتا ہے۔ایک طرح کے درویشانہ استغراق اور جستجو کے انہماک کا عمیق اس سے بھی متصف تھے۔‘‘ (پیش لفظ، انتخاب اردو اکادمی دہلی )   

شاعری کے ساتھ ساتھ انھیں نثر نگاری میں بھی یکساں قدرت حاصل تھی۔خصوصاًتنقید کے میدان میں انھیں بڑی مہارت حاصل تھی۔ان کا شمار ممتاز ترین ناقدین میں ہوتا ہے۔مشرقی شعریات پر ان کی گرفت مضبوط تھی۔ و ہ شعرو ادب کی روایات اور رجحانات سے کما حقہ واقف تھے۔جب وہ شاعری کے موضوع پر اظہار خیال کر تے ہیں تو ابتدائے آفرینش کے تذکرے سے قاری کو مبہوت کر دیتے ہیں۔شعر کے وجودسے پہلے قدرتی مناظر آلات و حربات کی آواز سے موسیقی کیسے پیدا ہوئی ؟او ر اس سے سُر و تال کی ترتیب کس طرح ہوئی آگے چل کر الفاظ شعری قالب میں کیسے ڈھلنے لگے؟ان سب منبع و مخرج کو بڑے نکتہ رس انداز اور گہری بصیرت کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ان کے لفظ دانائی کے آب دار موتی بن جاتے ہیں اور جملوں میں تاریخ و تہذیب اور شعرو ادب کے عرفان وادراک کا دریا موجزن ہوجاتا ہے۔

1965 کے آس پاس عمیق  حنفی بڑے دھماکہ خیز انداز میں تنقید کے میدان میں وارد ہو ئے۔انھوں نے اپنے وسیع مطالعے اور تنقیدی بصیرت سے اربابِ علم و ادب کو متحیر کر دیا۔اس دوران ترقی پسندی اور جدیدیت کے مابین معرکہ آرائی شروع ہو گئی تھی اور شعرو ادب کا نیا منظر نامہ ترتیب و تشکیل پا رہا تھا۔جدید شاعری کی حمایت میں ان کے عالمانہ بصیرت افروز مباحث کی بڑی پذیرائی ہوئی۔ مگر وہ اپنی اس طرز فکر کی وجہ سے جدیدیت کی علامت پرستی کے جال سے بہت جلد نکل آئے اور صلاح الدین پرویز کی نظم ’ژاژ‘کے متعلق انھوں نے یہ فرمایہ کہ ’’یہ ہمارے معاشرہ میں کسی دوسرے سیارے سے آئی اڑن طشتری کے مانند ہے جو معاشرہ کے آدمی سے رابطہ قائم نہیں کر تی۔‘‘انھوں نے علامت پرستی کے متعلق کہا ’’میں علامت پرست نہیں میرا خیال ہے کہ علامت پرستی بت پرستی پیدا کرتی ہے۔وہ اردو تنقید کی بے راہ روی سے نا خوش نظر آتے ہیں اور تنقید کی موجودہ صورت حا ل پر وہ اس طرح طنز کر تے ہیں :

’’اردو میں بھی تنقید کے مزے آگئے۔نقاد نے کہنے اور لکھنے والے اور سننے اور پڑھنے والے کے درمیان مفاہمت کا پُل تعمیر کر تے کرتے ٹرافک کے سپاہی کا رول ادا کرنا شروع کر دیا اور اردو کا نقاد شعرو ادب کے راہ گیروں کا خضر راہ بن بیٹھا۔‘‘

عمیق حنفی نظریہ ساز نہیں بلکہ نظر ساز نقاد ہیں۔و ہ ’’اے روشنی طبع کہ برمن بلا شدی‘‘ کے  مصدا ق زندگی بھر بنے رہے۔دراصل ان کی تخلیق اور تنقید ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ان کی شاعری میں جو روایت سے بغاوت اور نئے تجربات کی جسارت ہے وہی تنقید میں بھی جلوہ گر ہے۔وہ نعرے بازی اور نقالی کے سخت مخالف ہیں۔وہ ناقدینِ اردو کے اس رویے سے نالاں ہیں کہ بات بات پر مغرب کے بڑے بڑے نقادوں کے قول کو ترپ کے پتوں کی طرح استعمال کر تے ہیں جبکہ اپنی زمین کی شاندار روایت مو جود ہے۔ان کی تنقید مشرقی شعریات پر مبنی ہے وہ شعر کی تخلیق میں مو سیقی،رقص،رس،دھون کو معاون سمجھتے ہیں۔وہ شعریات کو نئے زمانے کے تقاضے کے تحت ڈھالنے کے خواہاں ہیں۔انھیں مروجہ عروض وبحر کی تبدیلی میں بھی آر نہیں۔تنقید کے باب میں ’’شعر چیز ے دیگر است ‘‘اور ’’شعلے کی شناخت ‘‘بڑی اہمیت کی حامل ہے۔اردو کے اس شعلہ ٔ جوالہ کونا وقت مو ت نے شعلۂ مستعجل بنا دیا وگرنہ اس انقلاب آفریں شخصیت سے اردو تنقیدمیں مثبت تبدیلی متوقع تھی۔

           فی الجملہ اردو شعرو ادب میں عمیق حنفی کو امتیازی اور انفرادی حیثیت حاصل ہے۔انھوں نے اپنے زریں خیالات وسحر آفریں تخلیقات سے ادب کے اثاثے میں اہم اضافہ کیا ہے جسے اہل ہنر نے نظر استحسان سے دیکھا ہے۔وہ اپنے اعلیٰ و ارفع ادبی و شعری اکتشافات،کمالات و فتوحات کے پیش نظر نہ صرف ’فخرِ مالوہ ‘ہیں بلکہ دنیائے اردو ادب میں بھی باعث افتخارہیں۔ 


Dr. Ghulam Husain

Head, Dept. of Urdu

Govt of Madho College

Ujjain - (MP)

Mob.: 9893853183

 

 

 

 


 


جمعہ، 17 جون، 2022

مولانا مناظر احسن گیلانی کا نظریہ تعلیم اور اس کی عصری معنویت - مضمون نگار : وارث مظہری




ہندوستان کے علمی افق پرنمو دار ہونے والی جن شخصیات نے تعلیم کو فکر و قلم کا موضوع بنایا، ان میں مولانا مناظر احسن گیلانی نمایاں مقام رکھتے ہیں۔مولانا کی شخصیت اس لحاظ سے ’جامع البحرین‘ تھی کہ انھوں نے روایتی اور عصری دونوں قسم کی دانش گاہوں کی علمی وفکری فضا سے کسب فیض کیا تھا۔ وہ غیر منقسم ہندوستان کے ان چند دانشوروں میں سے ایک تھے جو مسلمانوں کی تعلیمی تاریخ پر گہری نظر اور اس کا تجزیاتی شعور رکھتے تھے۔تعلیم کے حوالے سے انھوں نے خاص طور پر برصغیر ہند میں مسلمانوں کے نظام تعلیم وتربیت کواپنی تعلیمی فکر کا موضوع بنایا تھا۔ اپنی دیدہ وری اور محققانہ جستجو کی بنا پر وہ تعلیم کے میدان میں کیے جانے والے معاصر تجربات سے بھی بہت حد تک آشنا تھے۔ان کی کتاب ’ہندوستان میں مسلمانوں کا نظام تعلیم و تربیت ‘ایک شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے۔اس موضوع پر مختلف اصحاب علم نے قلم اٹھایا ہے جن میں مولانا سیدعبدالحی حسنی (الثقافۃ الاسلامیۃ فی الہند) اور شبیر احمد خاں غوری( اسلامی ہند میں علوم عقلیہ ودیگر کتابیں) وغیرہ شامل ہیں، لیکن دو جلدوں پر مشتمل مولانا گیلانی کی مذکورہ بالا کتاب جام جمشید کی حیثیت رکھتی ہے جس میں تمام ضروری مصادر سے استفادہ کرتے ہوئے اس موضوع کا ہر پہلوسے تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا گیا ہے۔

مولانا گیلانی تعلیم سے متعلق اپنی فکر میں شبلی سے متاثر نظر آتے ہیں۔ شبلی مشرقی نظام تعلیم کے شدید حامی تھے۔ان کا واضح نقطہ نظر تھا کہ مسلمانوں کا نظام مشرقی اور مغربی دونوں اجزا پر مشتمل ہونا چاہیے۔

(خطبات شبلی، دارالمصنّفین، شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ، ص 163)

مولانا گیلانی بھی شبلی کی طرح اجتہادی بصیرت کے حامل تھے اور انھی کی طرح وہ ہر اس فکر وخیال کو، جسے وہ اپنے ذاتی مطالعہ وتحقیق کی بنا پر حق سمجھتے تھے،پوری جرأت وبے باکی کے ساتھ اہل علم اور عوام کے سامنے پیش کر دیتے تھے۔  اپنے ایک مضمون میں وہ کھل کر ترکی کی تعلیمی اصلاحات کی اس طرح ستائش کرتے نظر آتے ہیں:

’’ہم ترکوں کو ملحد کہنے کے عادی ہیں لیکن بہرحال انھوں نے اتنا پورے یقین کے ساتھ سمجھ کر طے کرلیا ہے کہ اگر ہم کو زندہ رہنا ہے تو بامقصد قوم ہوکر زندہ رہنا ہے۔ اس لیے انھوں نے اپنے سیاسی انقلاب کے ساتھ تعلیمی انقلاب کو ضروری سمجھا ہے۔‘‘ (معارف نمبر3، جلد32، 1/4)

مولانا گیلانی کے تصور تعلیم کی خوبی یہ ہے کہ وہ اس حوالے سے قدیم صالح اور جدید نافع کو ایک ساتھ جمع کرنے کے خواہاں نظر آتے ہیں۔ ایک طرف وہ جدید تعلیمی دھارے سے کٹ جانے اور قدیم روش پر جمے رہنے کو جمود وتقلید تصور کرتے ہوئے مسلمانوں کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں، تودوسری طرف قدیم نظام تعلیم کی بہت سی خوبیوں کے معترف نظرآتے ہیںاور اس بات پر زوردیتے ہیں کہ موجودہ نظام تعلیم میں قدیم نظام تعلیم کی بعض خصوصیات کو شامل کرنا ازبس ضروری ہے۔چنانچہ ان کی نظر میں جدید نظام تعلیم میں رسمیات  (Formalities) پر زیادہ زور ہے۔ قدیم نظام تعلیم میں جماعت بندی کے التزام کی موجودہ شکل نہیں پائی جاتی تھی جس کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ طالب علم اپنی خواہش کے مطابق جس کتاب سے جب چاہتا تھا استفادہ کر لیتا تھا۔ جدید تعلیمی نظام کے نقص کا ایک پہلو ان کی نگاہ میں یہ ہے کہ کم زور طلبہ اور ذہین طلبہ سب ایک ہی جماعت میں ایک ہی سبق کو جو استاد پڑھاتا ہے پڑھنے کے پابند ہوتے ہیں۔

(ہندوستان میں مسلمانوں کا نظامِ تعلیم و تربیت، ص 21)

 قدیم نظام تعلیم میں ذی استعداد اور کم زور طلبہ کو اپنی اپنی ذہنی استعداد اور محنت کے مطابق پڑھنے اور آگے بڑھنے کے مواقع حاصل رہتے تھے۔(ایضاً،ص 22)

اسی طرح وہ قدیم نظام تعلیم میں آموختہ کو ذہنی استعداد اور تعلیمی صلاحیت کے پروان چڑھانے میں بنیادی قدر کا حامل تصور کرتے ہیں۔ (ایضاً، ج1، ص 440)

ان کے تعلیمی نظریات کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے تعلیمی نظام میں جو ثنویت (Duality)  پیدا ہو گئی ہے وہ اسلامی تعلیمی وتدریسی روایت کے برعکس ہے۔ وہ ماضی کے مسلم علما ومفکرین کا یہ بڑا کارنامہ تصور کرتے ہیں کہ انہوں نے اس تعلیم کی دوعملی کو اور تقسیم کوشدت سے روکے رکھا۔ (ایضاً، ص343)

ماضی میں ایک ہی نظام تعلیم سے فلسفی بھی پیدا ہورہے تھے اور ریاضی داں، مہندس، طبیب،شاعر و ادیب اورصوفی بھی۔انھوں نے ابن رشد، رازی اور ابن سینا وغیر ہ کی مثال دی ہے کہ وہ دونوں طرح کے علوم کے جامع تھے۔اسلامی علمی روایت ایسی مثالوں سے پرہے۔ ہندستان میں انگریزی حکومت سے قبل یہ تقسیم نہیں پائی جاتی تھی۔ مسلم حکومتوں میں تعلیم گاہیں صرف ایک نوعیت کی ہوتی تھیں۔ ان میں دینی علوم بھی پڑھائے جاتے تھے اور وقت کے مروجہ علوم بھی۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ اسی ایک تعلیمی دھارے سے مختلف صلاحیتوں کے لوگ پیدا ہوتے تھے اور ان سے انسانی سماج کی نوع بہ نوع ضرورتیں پوری ہوتی تھیں۔ تعلیم کودو حصوں میں تقسیم کردینے کا مطلب تھا: مذہبی نظریے کی بنیاد پرتعلیم کی تقسیم۔جو ان کی نظر میں بجائے خود اسلام کے عالمگیریت پسندانہ (Universal)  نظریۂ تعلیم کے خلاف عمل تھا۔ تعلیمی نظام کی اس دوعملی کی طرف  مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ نے بھی توجہ دلائی ہے۔ہوسکتا ہے مولانا ندوی پرمولانا گیلانی کی فکر کا اثر ہو۔لکھتے ہیں:

’’تعلیم کی موجودہ ثنویت یا دوئی غیر اسلامی اقتدار کے عہد کی ’بدعت ‘ہے۔ پہلے ہمارا نظام تعلیم وحدانی اور سا  لمیت پر مبنی تھا۔ ہمارا قدیم نصاب تعلیم جس کی درس نظامی نمائندگی کرتا ہے، مسلمانوں کے عہد حکومت میں ملک کا واحد نظام تعلیم و ثقافت اور ذہنی تربیت کا واحد ذریعہ تھا۔ یہ جہاں محدث، فقیہ اور مدرس تیار کرتا تھا، وہاں سول سروس کے عہدہ دار اور ارکان سلطنت بھی مہیا کرتا۔ اس درس کی پیداوار جس طرح ملا محب اللہ بہاری اور ملا عبدالحکیم سیالکوٹی تھے۔ اسی طرح علامہ سعد اللہ وزیر سلطنت بھی تھے۔ یہی حال دوسرے ملکوں میں بھی تھا۔‘‘

(عابد رضا بیدار ’ برقے کہ بخود پیچد میرد بسحاب اندر‘، در’ عربی اسلامی مدارس کا نظام تعلیم ‘(ج،1)، خدابخش اورینٹل پبلک لائبریری(مرتب وناشر): پٹنہ: 1995، ص12

موجودہ تفریق کے ساتھ تعلیمی نظام کا چلن دینی حلقوں میں باضابطہ طور پر دارالعلوم دیوبندکی تاسیس (1866)  سے شروع ہوا۔ دارالعلوم دیوبند کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس اقدام اور رویے سے مسلمانوں کی تعلیم سے دلچسپی رکھنے والا ایک بڑا طبقہ مطمئن نہیں تھا۔ غالباً اس کے ذہن میں بھی وہی سوال تھا جو آج قائم کیا جارہا ہے کہ اس طرح تعلیم کی دوگانہ تقسیم اپنے دور رس فوائد ونتائج کے لحاظ سے کسی بھی طرح صحیح نہیں ہے۔اس کا جواب مولانا نانوتوی نے یہ دیا تھا کہ:

’’آج کل تعلیم علوم جدیدہ بوجہ کثرت مدارس سرکاری، ترقی پر ہے۔ ہاں علوم قدیمہ کا ایسا تنزل ہوا کہ کبھی نہ ہوا ہوگا۔ ایسے وقت میں رعایا کا مدارس علوم جدیدہ کا بنانا تحصیل حاصل نظر آیا اور صرف بجانب علوم نقلی اور نیزان علوم کی طرف جن سے استعداد علوم مروجہ واستعداد علوم جدیدہ یقینا حاصل ہوتی ہے، ضروری سمجھا گیا۔‘‘

(سید محبوب رضوی،تاریخ دارالعلوم دیوبند (ج1) ص268)

ان کا خیال تھا کہ دیوار کی جو اینٹ ابھی گری نہیں اس کی فکر بجزنادانی اور کیا ہے۔ مولانا نانوتوی کے یہ خیالات بظاہر اس وقت کے سیاسی حالات سے تاثر پذیری کا نتیجہ تھے۔ وہ اس وقت کے ماحول میں اسی نصاب اور منہج تعلیم وتدریس کے مطابق تعلیم کو زیادہ مفید اور بار آور تصور کرتے تھے لیکن دینی وعصری تعلیم کے درمیان تفریق کے موجودہ تصور سے ان کا ذہن قطعاً خالی تھا۔ اس بات کی تائید ان کے اس جملے سے ہوتی ہے کہ: ’’اس کے بعد (دارالعلوم دیوبندسے تحصیل علم کے بعد) طلبہ مدرسۂ ہذ ا مدارس سرکاری میں جاکر علوم جدیدہ کو حاصل کریں تو ان کے کمال میں یہ بات زیادہ مؤید ہوگی۔‘‘ (ایضاً، ص 208)

اس تقسیم کا نقصان مولانا کی نگاہ میںاس شکل میں سامنے آیا ہے کہ علما اور دانشوروں کے دونوں طبقوں کے درمیان ایک کشمکش کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔دونوں ہی ایک دوسرے کومطعون کرتے نظرآتے ہیں۔ (ایضاً، ج1، ص 343)

یہ صورت حال مسلم سماج کے لیے نقصان دہ ہے۔اس طرح وہ دولخت ہوکررہ جاتا ہے۔اس لیے اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اس تعلق سے سماج کومزید خراب ہونے سے بچانے کی کوشش کی جائے جس کا طریقہ ان کی نظر میں یہ ہے کہ مسلم نظام تعلیم کووحدانی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی جائے۔اس کے نظری خاکے کوانہوں نے ’نظریہ وحدت تعلیم‘ کا نام دیا ہے۔

انھوں نے اپنے نظریہ وحدت تعلیم کو تفصیل کے ساتھ اپنی مذکورہ کتاب میں پیش کیا ہے۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح پہلے مسلمانوں کی تعلیم میں دین کا عنصر ایک ضروری مضمون کی حیثیت رکھتا تھا، اس کو اس طور پر لازمی حیثیت دے دی جائے جس طرح  مدارس نظامیہ سے فارغ ہونے والے دین کا علم ان کتابوں کے معیار کے مطابق اپنے پاس رکھتے تھے۔ اس طرح بی اے کی تعلیم سے فارغ ہونے والے اس زمانے میں بھی اس حد تک مذہب کے عالم ہوکر نکلا کریں۔ اس کا نتیجہ مولانا کے لفظوں میں یہ نکلے گا کہ:

’’دینیات کے مدارس کے نام سے الگ عام مدرسوں کے قائم کرنے کی ضرورت مسلمانوں کو باقی نہ رہے گی۔ ہر عالم اس وقت گریجویٹ ہوگا اور ہر گریجویٹ عالم، ملا ہی مسٹر ہوں گے اور مسٹر ملا۔ عالم وتعلیم یافتہ کی تفریق کا قصہ ختم ہوجائے گا۔‘‘

(ہندوستان میں مسلمانوں کا نظام تعلیم و تربیت (ج2)، ص 404)

اس خاکے پروارد ہونے والے سوالات واعتراضات کا بھی انھوں نے تفصیل کے ساتھ جواب دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ درس نظامی سے متعلق غلط طور پر لوگوں کے اندر یہ خیال پیدا ہوگیا کہ وہ صرف دینی تعلیم کا نظام تھا۔ اس میں اس عہد کی دفتری زبان فارسی میں نظم ونثر وانشا کی بیسیوں کتابیں، مزید برآں حساب اور خطاطی کی بھی کتابیں شامل تھیں۔ اس سلسلے میں سب سے قابل لحاظ بات یہ ہے کہ 15-16 سالہ مدت تعلیم میں درس نظامی کے فضلا دینیات کی محض تین کتابیں پڑھا کرتے تھے یعنی جلالین، مشکواۃ اور شرح وقایہ اور ہدایہ کو ملاکر دونوں کے منتخب ابواب۔ البتہ بعض جگہوں پر تفسیر بیضاوی کے بھی ڈھائی پارے پڑھائے جاتے تھے۔ ان کے علاوہ ساری کتابیں زبان، منطق، فلسفہ، ہیئت، اقلیدس، ادب عربی، علم کلام، اصول فقہ، معانی، بیان وغیرہ میں پڑھا ئی جاتی تھیں۔ ان کتابوں کا ختم کرنا ضروری تھا۔ ان میں صرف منطق وفلسفہ کی کتابوں کی تعداد اخیر زمانے میں 40-50  سے متجاوز تھی۔مولانا گیلانی کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ہندوستان کے قدیم نظام تعلیم میں منطق وفلسفے کوزیادہ اہمیت دے دی گئی تھی اور اس وجہ سے اس نصاب میں بے اعتدالی پائی جاتی تھی۔وہ یونانی فلسفے کے خاصے ناقد نظرآتے ہیں حالانکہ عہد وسطی کے اس ماحول میں یہ کوئی حیرت کی بات نہیں تھی کہ شاہ ولی اللہ جیسی شخصیت بھی اسلامی فکر کی تشکیل وتوضیح میں اس فلسفے کی اسیر نظرآتی ہے؛تاہم جہاں تک دینی علوم کے نصاب کا معاملہ ہے وہ سمجھتے تھے کہ تعلیمی نصاب کوانہی کے لیے وقف کردینا مناسب نہیں ہے۔ان کا خیال بظاہر یہ نظرآتا ہے کہ دینی علوم کی تفصیلی تعلیم کوتخصص کی سطح پر رکھنا چاہیے۔جب کہ اس کے بنیادی اور اہم حصے کو’یونی ورسل‘ تعلیم کے ساتھ ضم کردینا چاہیے تاکہ عہد وسطی کی طرح تعلیم کا نظام دومتوازی حصوں میں منقسم نہ ہو۔

مولانا کی یہ بات سنجیدہ غور و فکر کی متقاضی ہے کہ:

 ’’دینیات کی عمومی تعلیم کے لیے جب تین یا زیادہ سے زیادہ چار کتابوں کا پڑھ لینا کافی خیال کیا گیا تھا اور زیادہ وقت’ غیر دینی علوم‘ کی تعلیم میں صرف ہوتا تھا تو آج بھی کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ غیر دینی علوم کے اس حصے کو جس کے اکثر نظریات ومسائل مسترد ہوچکے ہیں، کم از کم دنیا میں ان کی مانگ باقی نہیں رہی ہے، ان کو نکال کر عصر جدید کے مقبولہ علوم اور عہد حاضر کی دفتری زبان انگریزی کے نصاب کو قبول کرکے مذہب کی تعلیم کو انھی تین کتابوں کے معیار کے مطابق باقی رکھتے ہوئے دینی اور دنیاوی تعلیم کے مدارس کی اس تفریق کو ختم کردیا جائے‘‘ (ایضاً)

اس خاکے پرخود مولانا کی نگاہ میں یہ دو بنیادی اعتراضات پید اہوتے ہیں۔ایک یہ کہ کیا یہ عمومی دینی تعلیم حصول مقصد کے لیے کافی ہے؟ دوسرے یہ کہ عصری علوم کی تدریس کے تقاضوں کی گنجائش کس طرح اس نظام میں نکالی جاسکتی ہے؟ پہلے سوال کا جواب وہ یہ دیتے ہیںکہ آخر ماضی میںیہ کیوں کر ممکن ہوسکا؟دینی تعلیم کے اسی مختصر نصاب سے مذہبی علوم وافکار کی نمائندہ شخصیات پہلے پید اہوسکتی ہیں تواب کیوںنہیں ہوسکتیں؟ دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ قدیم نصاب تعلیم کا جوحصہ فرسودہ اور ازکاررفتہ ہوگیا ہے اس کی جگہ عصری علوم کے کارآمدمضامین کودی جائے۔ (ایضاً، ج1، ص 404)

 اگر مسلمان عمومی سطح پر اور اہل مدارس خصوصی سطح پر مولاناگیلانیؒ کے مشورے پر جزوی طور پر بھی عمل کرنے کی کوشش کرتے تو آج ہندوستان میں مسلمانوں کی تعلیمی صورت حال کا نقشہ شاید کچھ اور ہوتا۔ برصغیر اہم دینی و فکری حلقوں میں مدتوں سے یہ بحث جاری ہے۔ اگرچہ اس تعلق سے اب تک کوئی انقلابی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔البتہ بنگلہ دیش میں جدید وقدیم نظام تعلیم کے دونوں دھاروں کو ہم آمیز کرنے کے حوالے سے زیادہ ارتقائی رجحانات پائے جاتے ہیں۔ وہاں کی حکومت مدارس کے تعلیمی ڈھانچے پر کافی رقم خرچ کرتی ہے۔ سرکار سے منظور شدہ مدارس کے فارغین اہم سرکاری محکمہ جات میں پہنچ رہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ مسلم سماج کی طرف سے انھیں معتبریت بھی حاصل ہے۔ یہ ایک اچھا اور قابل قدر ماڈل ہے۔ ہندوستان میں ایسا ہی کوئی ماڈل سامنے آنا چاہیے۔ ایسا ماڈل جس کی بنیاد پر عالم و دانشور یا مولانا گیلانی کے لفظوں میں ’’ مسٹر وملّا‘‘ کی تفریق ختم کی جا سکے۔ اس تعلق سے بعض عرب ممالک کے تجربات کا بھی مطالعہ اور ان سے استفادہ کیا جانا چاہیے۔

خلاصہ کلام یہ کہ مولانا گیلانی کا نظریہ تعلیم جس کا اہم نکتہ تعلیم کی ثنویت کے خاتمے اور نظام تعلیم کی وحدت کے خاکے پر مشتمل ہے؛ کئی حیثیتوں سے منفرد اہمیت کا حامل ہے۔ضروری نہیں ہے کہ اسے من وعن منطبق کرنے کی کوشش کی جائے تاہم اس میں ضروری ترمیم واضافے کے ساتھ اس کو آزمانے کی کوشش کرنا چاہیے جس کی افادیت اور نتیجہ خیزی سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔


Waris Mazhari

Dept of Islamic Studies

Jamia Hamdard University

New Delhi - 110062

Mob.: 9990529353