جمعرات، 31 جنوری، 2019

نئی آزاد نظم کے فنی تقاضے مضمون نگار:۔ شائستہ یوسف




نئی آزاد نظم کے فنی تقاضے


شائستہ یوسف
اس سے پہلے کہ ہم نئی آزاد نظم او راس کے فنی اور تجربی تقاضوں پر غور وفکر کریں اور صوری اور مضمونی اعتبار سے نظم و غزل میں تمیز کریں یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ ہم انسانی تاریخ میں شاعری کے اوصاف اوران اوصاف کی تخلیق میں مدد گار پہلوؤں کو سمجھیں۔
عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ شاعری انسانی سماج میں لوک گیتوں ہی سے ابھر کر سامنے آنے والی ایک لسانی حقیقت ہے ۔ لوک گیتوں کا اہم عنصر اساطیر اور عنائیت ہے۔ غنایت اور اساطیر کے بغیر لوک گیتوں کا تصور ممکن نہیں ۔ لیکن آج بھی دنیا میں ایسے قبائلی طبقات کا وجود ہے جن کے یہاں اپنے حقیقی عہد کی تہذیب کے ساتھ ساتھ ان کے لوک گیتوں کا سرمایہ بھی زندہ ہے ۔ یہ بات تہذیب یافتہ سماجوں پر بھی صادق آتی ہے ۔ مثلاً ہمارے ملک میں یوپی، گجرات، راجستھان، کشمیر یا دیگر کسی بھی علاقے کو لے لیجیے ، ان تمام علاقوں میں شاعری کے عروج کے باوجود ان علاقوں کے لوک گیت اب بھی زند ہ ہیں اور انھیں تقریبات میں گایا اور سنا جاتا ہے ۔ لہذا یہ تمام تصور کہ شاعری کی بنیاد لوک گیت ہیں کلیتاً صحیح نہیں معلوم ہوتا۔ کیونکہ شاعری دیگر فنونِ لطیفہ کے مقابلے لسان کا وہ تفاو تی عمل ہے جو لسانی تہذیب کے عروج پر آنے کے بعدہی وجود میں آتا ہے۔
اردو میں شاعری کے تعلق سے ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ اردو میں غزل فارسی سے آئی او رفارسی کی غزل عربی قصائد کے نسیب یعنی تشیبی حصے سے ابھری۔ یہ بات عجیب ہے کہ ایامِ جاہلیہ میں بھی عربوں کی لسانی تہذیب بہت اعلیٰ اور ارفع تھی ۔ لہذا ان کے قصائد کا معیار بھی شاعری کی بلندیوں کو چھوتا تھا ۔ عربی زبان عملاً ایک ایجاز پسند اور اختصار پسند زبان ہے کہ جہاں اعراب کی تھوڑی سی کمی بیشی سے معانی کا پورا نظام بدل جاتا ہے ۔
ایک اور چیز جو عربوں میں بہت عام او رمشہور تھی وہ تھی خطابت۔ عربی زبان میں خطابت کااثر عربی قصائد پر میں بھی پڑا ہے ۔ اسی لیے غزل نے قصائد کے ایجاز واختصار کے ساتھ خطابت کے عنصر کو بھی قبول کر لیا ہے لیکن قدرے کم ہے اور فارسی کی غزل میں معنی آفرینی اور حسنِ اظہار پر زیادہ زور دیا جانے لگا۔ فارسی کی غزل میں حسن وعشق میں مکالماتی طرز کو بھی فروغ ملا۔ اس ورثے کی بنیاد پر اردو غزل کی تعمیر عمل میں آئی کہ جہاں بیانیہ پر کم اور حسنِ اظہار پر زیادہ زور دیا گیا ۔ مزید برآں اردو میں تشبیہات واستعارات ، تمثیلات وغیرہ کا پورا سرمایہ منتقل ہوگیا جس کی وجہ سے برصغیر کی ارضیت کم سے کم موجود ہے لہذا اردو غزل اور اردو کی بیشتر شاعری میں عربی اور فارسی تہذیب کی وجہ سے خارجی اثرات وعناصر کا زیادہ عمل دخل رہا ہے۔
سرسید کی تحریک کے بعد اردو میں مغرب کے زیر اثر بیانیہ شاعری کی کوششیں تو کی گئیں لیکن اردو کا بنیادی سرمایہ غزل او رفارسی ہی تھا اسی لیے نئی نظم کی آزادانہ تشکیل میں کوئی بہت بڑا کارنامہ عمل میں نہیں آیا ۔ یہ صحیح ہے کہ اس زمانے میں بھی غزل سے ہٹ کر بہت ساری مثنویاں تخلیق ہوئیں لیکن مثنویوں میں بھی حسن وعشق او رغزل کے اشعار کا رنگ غالب رہا ۔ مثنوی میں انیس ودبیر بڑی حد تک اس سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ ان کی مثنویوں میں مقامی تہذیب وتمدن کا رنگ غالب ہے ۔ ہماری شاعری کو نئی نظم کے عناصر سے ہمکنار کرانے میں اقبال کا بڑا ہاتھ ہے گوکہ انھوں نے پابند نظمیں کہی ہیں ان کے بعد میراجی نے جو مشرق ومغرب کا سرمایہ ہمارے سامنے رکھا اس سے بھی اردو میں نئی نظم کی ترویج میں بہت مدد ملی۔
ہم نے بات لوک گیتوں او رشاعری کے تعلق سے شروع کی تھی اور یہ سمجھنے کی کوشش کی تھی کہ آیا لوک گیت ہی شاعری کی بنیاد ہیں ۔ او ریہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ شاعری کا وجود صرف تہذیب وتمدن کے عروج ہی سے عمل میں آتا ہے اور یہ بھی کہ شاعری لسانی تہذیب کے عروج کا نتیجہ ہے ۔ مندرجہ بالا مفروضے کے آئینے میں ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا بحور واوزان کی پابندی عنایت اور تمثیل، تشبیہ، استعارے وغیرہ کی آزاد نظم کو اس طرح ضرورت ہے جتنی پابند نظم کو ہوتی ہے او ریہ بھی دیکھنا ہوگا کہ شاعری او رموسیقی شاعری اور مجسمہ سازی، شاعری اور داستان گوئی وغیرہ کا رشتہ کیا ہے ؟ اور شاعری اور ڈرامے کون سے عناصر ہیں کہ جن سے شاعری وجود میں آتی ہے۔
ہمارے اپنے ملک ہندوستان میں ہندی شاعری کی تاریخ میں پرگتی واد، چھایا واد وغیرہ کاردعمل بھی آیا تھا ۔ لیکن اردو میں ۔۔۔ ترقی پسند تحریک او رنوزائیدہ جدیدیت کے علاوہ کچھ بھی وجودمیں نہیں آیا۔ اس اعتبار سے اردوزبان وادب بہت غریب ہیں ۔ نئی نظم کا یہ تقاضا ہے کہ وہ ہئیتی سطح پر ایسے نئے آہنگ کی تلاش کرے جو اردو کی مروجہ بحور سے آزاد ہو ۔ یہ آہنگ ظاہری بھی ہوسکتا ہے اور باطنی بھی ۔ اس سے نظم کو غزل کے اثرات سے آزاد کرانے میں مددمل سکتی ہے ۔ اس کی بنیاد ہر نئی نظم ، نئی دنیاؤں او رنئے امکانات میں سانس بھی لے سکتی ہے۔
ایک اوراہم بات جواس تناظر میں بہت ضروری ہے ، وہ یہ کہ زبان میں موجود لفظ صرف ترسیل کا ذریعہ نہیں ہوتے ان کے اپنے منطقی وجود ، منطقی جمالیات اورمعانی ہوتے ہیں اس کے علاوہ شاعری صرف تجربی حقائق کی ترسیل کا ذریعہ نہیں ۔ہر اچھے شاعر اور بالخصوص آزاد نظم کے شاعر کو اس حقیقت کو سمجھنا اور اس حقیقت کی ایسی شعری صداقت تلاش کرنا بہت ہی ضروری ہے کہ جس کا انسانی زندگی اورانسانی تہذیب پر اطلاق ممکن ہوسکے۔
اردو کی نئی نظم کے فنی تقاضوں میں نئے آہنگ کی تلاش ،نئی شعری صداقت کی کھوج ، لفظ کی نئی کائنات ، لفظ کے نئے امکانات او رنئے معانی ومفاہیم کی تخلیق بنیادی اہمیت کے حامل ہیں ۔ جب تک کہ نئے لکھنے والے ان پہلوؤں کا احاطہ نہیں کریں گے اس وقت تک وہ نئی نظم کے فنی امکانات کی توضیح نہیں کرسکتے ۔یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ تمام باتیں زبان کے کلی نظام، موجودہ کائناتی، سماجی اور انسانی حقائق کے آئینے ہی میں کی جانی چاہیے ، ورنہ شعری عمل لفظی بازیگری اورخیالی کرتب بازی کا شکار ہوجائے گا۔شعر کا عمل کیا ہے اورنظم کے فن کو سمجھنے کے لیے دواقتباسات پیش کرتی ہوں۔
’’ اردو نظم کے تجربی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے کہ جدید اردو نظم کے اکثرشاعروں کے جمالیاتی وفنی تجربات بہت محدودہیں ۔ لہذا ان کے اظہار کی قوت بھی محدود ہے ۔ حقیقت میں ہر تخلیق کامخرج کوئی نہ کوئی تجربہ ہوتاہے ، وہ خیالی ہو کہ عملی ، اس تجربے اورشاعرکی ذات موجودشاعری کے لسانی نظام کے تصادم ہی سے کوئی اچھی نظم تخلیق پاسکتی ہے۔ نئے تجربوں سے تصادم کے لیے وایس کے مضمون جدیدفرانسیسی شاعری سے جس کا ترجمہ منہاج برنانے کیا ہے ۔‘‘
نظم اظہار اور معنی کے باہمی انسلاک کا دوسرا نام ہے ۔ ایک نظم کہنے کے لیے شاعر کو ہر چیز کا ازسرنو جائزہ لیناہوتا ہے کیونکہ ایک کامیاب نظم کہنے کے معنی یہ ہیں کہ ایک مانوس چیز کو نئے انداز سے دیکھا اور سمجھا جائے ۔ یہی ملارے کا سب سے بڑا اورسب سے معنی خیز سبق ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسے ہم عصرشعری شعور کا جزو بنالیا گیا ہے ۔ شاعر کے لیے اس صلاحیت کا مالک ہونا کہ وہ کائنات کی ہر چیزکااز سرنو جائزہ لے انتہائی ضروری ہے ۔ اس کی یہ صلاحیت کہ وہ ہر چیز پرمتحیر ہو جیسے وہ دیکھتا ہے اس کا مابہ الامتیاز ہے ۔ اس کے بغیر اس کی نظم وہ انکشاف نہ بن سکے گی جو اسے ہونا چاہیے۔ یہ انکشاف خود اس پر بھی ہوتا ہے اور اس کے قارئین پر بھی کہ اس نے ایک چیزکا کس طرح از سرنو جائزہ لیا ۔ کس طرح اسے نئے سرے سے زندہ کیا ہے ۔ متحیرہونے کے لیے ایک شاعر کو غیر معمولی آزادی سے کام لینا ہوتا ہے کیونکہ اس کا تعلق طبیعی عالم ، اخلاق ، دیومالا اورخدا ہرچیز سے ہے ۔ اس آزادی کے ساتھ اس چیز کی ضمانت ہوجاتی ہے جسے ہم دنیا اور اس سے متعلق ہر چیز کے بارے میں شاعرانہ تاثر کا نام دیتے ہیں ۔ اسے چوکنا پن، کمالِ توجہ اور وضاحت کے ناموں سے بھی یاد کیا جاسکتا ہے ۔ کیونکہ وہ تمام ضابطے ہیں جن کی تعریف تو قریب قریب ناممکن ہے لیکن ایک شاعر کو تکمیل فن کے لیے جن کی ضرورت ہوتی ہے۔
اور آل احمد سرور کا فن کے تعلق سے یہ بیان۔ ایک فن پارہ اسی نسبت سے آفاقی ہوتا ہے جس نسبت سے اس میں خصوصی تجربہ ہوتا ہے۔ تجربہ فیشن یا فارمولے یا گروہ کے خیالات کی پاسداری کی وجہ سے نہیں ۔ اس کے اپنے دل گداختہ سے پگھل کر نکلتا ہے۔ اس کے لیے بنیادی شرط فن کار کے خلوص اور اس کی نظر اور اس کی نظر میں قطرے ہیں ، دجلے کے امکانات دیکھنے کی صلاحیت کی ہے ۔ فن کار سے محض شدید جذبات یا مانگے ہوئے اجالے سے چراغاں کرنے کی توقع غلط ہے ۔ یہاں اصل سوال فن کار کی بصیرت اوربصیرت کی گہرائی کا ہے۔
نظم کے بارے میں کہا گیا ہے کہ نظم عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی لڑی سلک یا ہار کے ہیں چونکہ نظم خیالات کا ایک تسلسل ہوتا ہے اورایک ہی موضوع پر کہی جاتی ہے اس لیے نظم کو مخصوص عنوان سے بھی آراستہ کیا گیا ہے ۔ نظم کے فنی تجربے کی ابتدا اردو میں بہت پرانی ہے او رتہذیب سے جڑی ہوئی ہے ۔ دکنی کے ابتدائی دور کے پہلے نظم نگار حضرت خواجہ بندہ نوازگیسو دراز ہیں ، جنھوں نے مذہب اسلام کی تعلیم وتبلیغ کے لیے دکنی میں درس وتدریس کے پہلو بہ پہلو تصنیف وتالیف کاکام بھی انجام دیا ۔ پروفیسر محمد علی اثر نے اپنے مضمون میں ڈاکٹر زور کے اقتباسات پیش کیے ہیں ۔ جہاں اس کا ذکر ’ نظم ‘ کے فنی تجربات کے تقاضوں کی بنیاد کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔
(1) ’’ خواجہ صاحب نے متعدد چھوٹی بڑی صوفیانہ نظموں اور گیتوں کے علاوہ ایک ’ چکی نامہ ‘ بھی لکھا جس کابنیادی مقصد عورتوں کی تعلیم او رمذہبی امور سے واقفیت تھا ۔ بہمنی دور کے دو صوفی شعرا اہم ہیں ۔ حضرت میراں جی شمس العشاق ہیں جن کی منظومات میں خوش نامہ ، خوش نغز اور مغز مرغوب اہمیت کے حامل ہیں ۔ خوش نامہ شمس العشاق کی دیگر نظموں کے مقابلے میں ایک طویل نظم ہے ۔ جس میں ایک نیک سیرت لڑکی کو موضوعِ سخن بنایا گیا ہے ، جس کا نام’ خوش‘ ہے۔ اس نام کی مناسبت سے اس نظم کا عنوان ’خوش نامہ ‘ رکھا گیا ہے ۔ یہ ایک عبادت گذار او رپاک دوشیزہ ہے جو ہمہ وقت ذکر الہٰی میں مصروف رہتی ہے ، اسے آرائش وزیبائش سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ یہ نیک سیرت لڑکی 17سال کی عمرمیں اس جہان فانی سے کوچ کرجاتی ہے ۔ اس کی مختصر سی زندگی سے شمس العشاق اخلاقی اورروحانی نتائج اخذ کرتے ہیں۔ سادگی اورروانی ’ خوش نامہ ‘ رکھا گیا ہے۔ یہ ایک عبادت گزار اورپاک بازدوشیزہ ہے ۔ آخر میں لکھا ہے ’ قطب شاہی‘۔
جہاں تک محمدقلی کی نظم نگاری کا تعلق ہے اس میں حمد ومناجات ، نعت ومنقبت اورمدح بی بی فاطمہ جیسی مذہبی نظمیں بھی شامل ہیں ۔ اور اس نے عیدوں اورموسموں جیسے عیدمیلاد النبی ، بقر عید ، مرگ، (آمد برسات)بسنت اورموسم سرما (ٹھنڈ کالا) محلاتِ شاہی جیسے خدادادمحل، کوہ نور کا محل ، حیدر محل وغیرہ پر بھی طبع آزمائی کی ہے ۔ اس کے علاوہ ان کے یہاں مختلف کھیلوں جیسے چوگان، گھمنڈی،کوکانت پچوکڑی ، پھوٹانک ہر اور اس کی متعدد محبوباؤں جیسے سانولی ،کنول، گوری وغیرہ بھی نظمیں ملتی ہیں ۔ ان منظومات کے مطالعے سے محمد قلی کی ایک طرف وسعت فکر ونظر،پرگوئی اور قادراللسانی کااندازہ ہوتا ہے تو دوسری طرف شاعرانہ صناعی اور فن کاری کا پتہ چلتا ہے۔
اس کے بعدیہ اقتباس دیکھیے
’’ بسنت خالص ہندوستانی تہوارہے جوموسم بہار کے موقع پر منایاجاتا ہے ۔ اس موضوع پر محمد قلی کی کلیات میں سات نظمیں موجودہیں ۔ بسنت کا تہوار قطب شاہی دور میں نہایت شان وشوکت اورخاص اہتمام سے منایا جاتا تھا ۔ بسنت کا موسم آتے ہی ہرطرف ہرے بھرے درخت اورچمن ہی چمن دکھائی دیتے ۔ شگوفے مسکراتے او ربہار انگڑائی لے کر ساری فضا کو رنگ ونکہت میں ڈبودیتی ہے ۔ اس تہوار کو ہندومسلمان دونوں مل کر مناتے تھے ۔ بسنت کے موضوع پر محمدقلی کی کہی ہوئی نظموں میں اتحاد پسند روح پوری طرح رچی بسی نظر آتی ہے ۔ اس کے کلام سے اندازہ ہوتا ہے کہ محمد قلی کو ہندوستانی تہذیب وتمدن اوریہاں کی فضا، یہاں کی رسومات اورطور طریقوں سے خاص لگاؤ تھا۔
یہاں اگر ہم دیکھیں تو نظم کی ابتدا ہی سے مناظر ، ماحول کو سمیٹے ہوئے تاریخ کے اوراق کا احاطہ کرتی ہے۔ اب نظم کے فن کو آگے بڑھانے کامطلب یہ ہے کہ نظم میں وسعت گہرائی میں اضافہ ہونا چاہیے۔
تجربہ نیا ہوتا ہے تو اظہار کا پیرایہ بھی نیا ہوتا ہے لیکن ہر نئی بات کے ساتھ مسائل بھی درپیش ہوتے ہیں ۔ کسی بھی زمانے میں نئی چیز کو بہت آسانی سے قبول نہیں کیا جاتا ہے ۔ قبل اس کے کہ ذہن ونظر اورسماج قبول کریں نئے تجربے کو بہت سارے امتحانات سے گزر نا پڑتا ہے ۔ جب پہلی بار نظم کو نیا پیراہن دیا گیا تو کئی اعتراضات اٹھے لیکن طباطبائی جیسے لوگوں نے اردوں میں جدید نظم کی ابتدا کی۔ ایک نظم جس کا عنوان ’ بلینک ورس کی حقیقت ‘ ہے ، اس نظم کی خاصیت یہ ہے کہ بلینک ورس نظم اس میں قافیے ردیف کی پابندیوں کا مذاق اڑایا گیا ہے اور غیر مقفیٰ شاعری کو فطری شاعری کہا ہے ۔ اس نظم کے بند دیکھیے :
فطری ان کا ہے رقص اور سب طبعی
ان کی ہی گیتیں بساں رقص طاؤس
سہمے ان کے ہیں راگ سارے اصل
ان کی ہیں دھنیں بساں صورت بلبل
قدرت کے کرشموں سے وہ لیتے تعلیم
ہیں ان کو نہیں تال کی حاجت جیسے
بادل کے گرجنے پر ہے موروں کا رقص
کلیوں کے چٹکنے پر عنادل کا سرور
ہے ویسا ہی رقص جس طرح کا ہے نشاط
ویسا ہی مسرور بھی ہے جس نوع کا وجد
یہ بات نہیں ہے کہ ہے ارادہ کچھ اور
اور قافیہ لے چلا کسی اور طرف 
خیالات کی انھی نئی دھاروں نے آہستہ آہستہ ایک شکل اوراب ہم کہہ سکتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔
یہ بہت ضروری ہے کہ لکھنے والا ہمیشہ تلاش وکھوج میں مبتلا رہے اور اس تلاش وکھوج کے تجربے کو اپنی شاعری کی لسانی میں پرکھے ، اس طرز کے تجربوں کے بغیر شعری تاریخ میں کوئی ندرت ، کوئی نیا پن او رکوئی استعجابی پہلووجود میں نہیں آسکتا۔ لہذا ہماری نئی نظم کو ایسے انسانوں کی تلاش ہے جو اول تو زندگی کے اچھے او ربرے تجربات سے گذر سکیں اورپھر اپنے لسانی نظام کی نئی ہیئت میں ڈھال سکیں۔ ہر نیا تجربہ اظہار کا نیا پیرایہ لاتا ہے لہذا روایتی طور پر مستعمل ہیئت کا معاملہ یہاں معنی ثابت ہوتا ہے۔ اگر تجربہ نیا ہوگا تو اظہار کا پیرایہ نیا ہوگا اس کا ظاہری او رباطنی آہنگ نیا ہوگا ۔ اس کی تمثیلیں اوراستعارے نئے ہوں گے ، جب یہ ممکن نہیں ہوتا تو شاعری بالخصوص نظم روایتی اظہار کا شکار ہوجاتی ہے جیسا کہ ہماری اکثرنئی نظموں کے ساتھ ہوا ہے۔
اردو نظم کی تاریخ میں ایک نیا اضافہ نثری نظم کا ہے ۔ یوں تو لفظی ومعنوی آہنگ کو برقرار رکھتے ہوئے اورروایتی اوزان وبحور کو رد کرتے ہوئے کئی ایک شاعروں نے نظمیں لکھیں لیکن اس میں کامیابی بہت ہی کم شاعروں کو ملی ہے۔ نثری نظم نے کیسے اپنی جگہ لی اور کن نئے تجربوں سے گزری۔عنبر بہرانچی کے مضمون کا یہ اقتباس نئے تجربات اورفنی جستجو کے سفر پرایک روشنی ڈالتا ہے:
مکعبیت (Cubism)۔ یہ فن مصوری کا وہ اسٹال ہے جس میں اشیا اس طرح جمع کردی جاتی ہیں کہ وہ ہندی اشکال کا ایک گڈ مڈ مجموعہ دکھائی دیتی ہیں ۔ سریالزم(Susrrealism) بیسویں صدی کے فن وادب کی وہ تحریک جس میں شاعر یا فن کاراپنے تحت الشعور کو خیالی اورذہنی تصاویر کے ذریعے پیش کرتا ہے ۔ ایسے فن پارے کے نقوش بالکل ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے کہ خواب میں نظر آتے ہیں جو بظاہر بے ربط ہوتے ہیں لیکن ماہرین نفسیات کے نزدیک ان میں ارتباط ہوتا ہے۔ وجودیت (Eistentialism) او راس کے بعد جو رجحان آیا وہ لیٹرزم(Lettrism)کہلایا ۔ فرانس کے مفکرین ادلال ڈی رینوپل، تھری مالنی ، ژان پالیہان ، جولس منرو، روجر کلائی اور ملارس پلاشو نے اپنے کلام کا بڑاحصہ شاعری کے مفہوم اور اس کی وسعت کی تحقیق پر صرف کیا ہے ۔ شعری تجربات اور فنی جستجو کی یہ آواز دنیا میں مختلف اندازمیں گونجی۔ شاعری کے مطالعے سے ایک بنیادی بات ہمارے یہاں اس آہنگ کا مفہوم عام طور پر غز ل کے آہنگ میں لیا گیا ہے کہ جس کو چھوڑ کر اردو میں کسی دوسرے آہنگ کا وجود نہیں ہے ۔ ہماری تمام نظمیں مروجہ بحور اور اوزان ہی میں لکھی گئی ہیں ۔ یہ بات محض نظم کی ظاہری ہئیت او رظاہری آہنگ پر صادق آتی ہے ۔ نظم کا باطنی آہنگ کہ جس کا تانا بانا الفاظ کے دور و بست او رمختلف خیالات کے ہم آہنگ ہونے کے مصداق ہے ۔ اس کو اکثر نظر انداز کیا گیا ہے ۔ اردو کے بحور واوزان کے علاوہ دنیا کی مختلف زبانوں میں اور مختلف تہذیبوں میں شاعری کے مختلف آہنگ کا وجود ہے۔ اسی طرح سے دنیا میں مختلف طرح کے غنائی اصول وجود رکھتے ہیں ، اس کے علاوہ نیا عہد اپنی تہذیب کے مختلف پہلوؤں میں مختلف طرح کا آہنگ رکھتا ہے ، مثلاً موجودہ عہد میں کمپیوٹر سے کام کرنے کا آہنگ الگ ہے ۔ ہوائی جہاز کے اڑنے کا آہنگ الگ ہے ریل گاڑی کے چلنے کاانداز الگ ہے ۔ اسی طرح سے اگر آپ ندی کے بہاؤ ،ہوائی سرسراہٹ او رپتھروں کے لڑھکنے کی آواز مختلف طرز کی چڑیوں کی چہچہاہٹ وغیرہ کا مطالعہ کریں تو ان کاآہنگ اور اس آہنگ کا تنوع الگ ہوگا۔
موسیقی میں مغربی موسیقی او ررقص میں نئے نئے طرز کے پہلو عمل میں آئے ہیں ۔ مثلاً آپ ٹپ ہاپTip Hop کو لیجیے ۔ ہوٹ ٹیپHoot tapڈانس کو لیجیے ، اسی طرح سے مصوری میں ماڈرن آرٹ کے کئی تجربے۔
جس طرح ادب کی کوئی طے شدہ تعریف اور قوانین ممکن نہیں ۔ تمام لسانی معاشرے اپنے دور میں تہذیبی او رفکری تقاضوں کی مناسبت سے ادب کی تشکیل کرتے ہیں اس میں فن کار جس نظریے سے اپنی دنیا کا مشاہدہ کرتا ہے اور جس زبان کو اپنے شعوری عمل میں لاشعور سے ڈھالتا ہے اس کی اپنی استطاعت اور تجربے کا نتیجہ ہوتا ہے۔
انسانی فطرت یہی ہے کہ وہ انفرادیت کو پسند کرتی ہے لیکن جب تک کوئی سوچ اجتماعی فکر کا حصہ نہیں بن جاتی اسے مقبولیت ملنا آسان نہیں ۔اردو شاعری میں غزل کی صنف کو اس قدر مقبولیت ملی کہ دوسری اصناف کو اپنی جگہ بنانا مشکل تھا ۔ لیکن ارتقا کے سفر میں نئی اشیا کی شمولیت ہی نئے معاشرے کی تشکیل ہے ۔شاعری میں بھی نئے تجربے کچھ مغرب کچھ مشرق سے متاثر ہوکر کیے گئے ، جیسے ترائیلے، آزادغزل ، ہائیکو، غزل نما ، غزلیہ ، نثری غزل ، ماہیا، تروینی ،کہہ مکرنی، کندیلیاں ، دوہکا، دوپدے ، کتونی، تنکا اور ربنکا ، چوبولے، چھلے وغیرہ۔
لیکن آج کے دور کاتقاضا کیا ہے ؟ اگر غزل ، ادب میں ایک فنکار اور قاری کے عصری تقاضوں کے ساتھ تسکین کا باعث بنتی ہے تو کسی دوسری صنف کے کیا معنی!
لیکن ارتقا کے معنی ہی تلاش وجستجو ہیں اور ایک تخلیق کار ہمیشہ تلاش میں مگن رہتا ہے جو انفرادی اور آفاقی بھی دونوں ہیں۔یہاں آفاقی کے معنی وہ خیال جو لاشعور میں ایسی آگ لگادے کہ وہ اسے جامۂ تحریر پہنانے کے لیے بے چین ہوجائے اور یہی وسیل�ۂاظہار ایک تخلیق کار کی صلاحیت ، قوت ، جمالیات ، تجربات کا آئینہ ہوتا ہے وہی اسے ایک تخلیق کار کی کسوٹی پر صحیح یا غلط ثابت کرتا ہے۔ ایک معاشرے میں قدریں متعین کرتا ہے اور معیار کا تجزیہ بھی ۔ لیکن کبھی کبھی حالات ان تمام باتوں کو بے معنی کرکے اپنا رخ اختیار کرتے ہیں اور ایک اجتماعی شکل عصری تقاضوں میں محدود شکل بھی اختیار کرلیتی ہے جس کی مثال ترقی پسند تحریک سے دی جاسکتی ہے ۔ یا پھر جیسے محمد حسن عسکری نے لکھا ہے ’’ عالم گیر مسائل نے ادیبوں کو ادب سے باہر نکال کر دوسری چیزوں کی طرف متوجہ ہونے پر مجبور کیا ۔ چنانچہ یورپ کے بہت سے ادیبوں نے اسپین جاکر جنگ میں حصہ لیا ۔ ان حالات میں ادب کا ایک نیا نظریہ پیدا ہوا۔
لیکن ہم چاہے جو نام دے لیں ، جدیدیت، مابعد جدیدیت یہ تحریک سے بڑھ کر بدلتے ہوئے منظر نامے کی تصویریں ہیں۔
نظم کی مقبولیت اور عصری ضرورت اسے نئے آہنگ او رنئے طور طریقے ایجاد کرنے کی طرف راغب کررہی ہے۔ آج ہم جس دور سے گزررہے ہیں او رمستقبل میں جس تیزی سے تغیرات کے دھماکوں کی آوازیں پر تول رہی ہیں نظم کی نئی شکل بھی تقاضا کرتی ہے کہ اس کی طرف مکمل توجہ کی جائے ۔ نیاآہنگ، نئے استعارات ، نئی زبان کوئی بنی بنائی لغت میں تحریر شدہ وسائل نہیں ۔ وقت کا تقاضا فکر وسوچ کی نئی منزلیں بدلتے منظر میں اپنے زاویے خود چنتے ہیں ، کبھی اپنے اظہار میں کامیاب ہوتے ہیں کبھی ادھورے سفر میں تھک کر گرجاتے ہیں ۔ ادبی نظریات ، رجحانات میں جاری تبدیلیاں ، زبان، زندگی ، ادب ، آرٹ ، آئیڈیالوجی، تہذیب وثقافت پر فی زمانہ سائنس کی تخلیقات او رکمپیوٹر کے برقی اذہان قبضہ کررہے ہیں اور انسانی فکر متاثر ہورہی ہے ۔لیکن یہ کائنات کے منظر نامے میں گزرنے والا پہلا حادثہ تو نہیں ۔یہ وقت ایک درمیان یعنی قدیم اور جدید کے درمیان حائل ہونے والا ایک پردہ ہے جو نئی سوچ وفکر کا متلاشی ہے ۔ دراصل ہماری سوچ محدود ہے اور وقت تیز رفتاری سے نکل جاتا ہے جب تک کہ ہم اس گزرنے والے لمحوں کو مقید کرسکیں۔ نئی نظم ، نیا آہنگ بھی اپنی منزل کی طرف دوڑ رہا ہے ۔ اب اردو زبان اس چوچھی جہت کی تلاش میں کتنی کامیاب رہے گی اور عالمی سطح پر اپنا کتنا ورثہ چھوڑجائے گی اس کا جواب وقت ہی دے سکتا ہے۔
مغرب و مشرق میں، ابن عربی، کندی، بیرونی، حافظ، جامی عراقی عمرخیام اور افلاطون، ارسطو، نیوٹن، ڈارون، اسپنسر، برگساں، مارکس اور برناڈ جیسے اذہان کے خیالات ایک عہد میں سماجی، سیاسی اور معاشرتی حالات سے متاثر ہوئے۔ اردو زبان پر بھی ان حالات، خیالات اور واقعات کا گہراثرپڑا۔ تخلیق ایک مخصوص نہج کی طرف مڑگئی لیکن کسی بھی زبان میں جمودگی ممکن نہیں۔ جو زندہ زبانیں ہیں وہ روایتی اقدار کو روندتی ہوئی نئی شاہ راہ پر اپناقدم جمالیتی ہیں۔ وہ لوگ جو اہل زبان تھے خصوصاً اس دور میں جیسے فراق اور جوش نظم کی طرف متوجہ ہوئے جس فنکار کا تخیل الفاظ میں سماکر اظہار کی تنگی سے بے چین ہوتا ہے اس کی شاعری کسی معاشرے کسی صنف کی داسی بن کر حکم نہیں بجالاتی وہ ہروقت اپنے دامن کو وسیع کرتی رہتی ہے منفرد اور اچھوتے خیالات میں جان پھونکنے پر مصررہتی ہے۔ تخلیق اور زبان کے ارتقا سے آشنائی کے لیے الفاظ ہی ذریعہ اظہار ہیں۔ بقول جوش ’الفاظ ذی حیات ہیں،الفاظ بھی آدمیوں کی طرح پیداہوتے اور مرتے ہیں۔ بیمار پڑتے ہیں اور تندرست ہوتے ہیں۔ گوشہ نشین رہتے اورسفر کرتے ہیں۔ الفاظ مزاج، عادات رسومات، روایات اور تاریخی واقعات رکھتے ہیں الفاظ کی دنیا میں بھی ذات پات مذہب و معاشرہ کا رواج ہے۔ الفاظ بھی انجمنیں اور سوسائٹیاں بناکر رہتے ہیں۔ الفاظ میں بھی مختلف نسلیں، خاندان اور شجرے ہوتے ہیں۔ الفاظ پر لڑکپن جوانی اور بڑھاپے کی فضائیں آتی ہیں۔ ان میں بھی بعض تو ہم انسانوں کی طرح نیک نام اور بدنام۔ بعض عبائیں پہنے ہوئے دیوتاؤں کے مندروں میں رہتے ہیں۔ بعض دستاریں زیب تن کیے درباروں اور بعض ننگے پاؤں بازاروں میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ بعض الفاظ کے ہاتھ چومے جاتے ہیں اور بعض دروازے پر آتے ہی دھکاردیے جاتے ہیں۔ یہ بھی بتاتے ہیں کہ انسانوں کے بے شمار طبقوں میں صرف ادیبوں اور شاعروں کے دوایسے طبقے ہیں جن سے ان کی بے تکلفانہ رسم و راہ اور مخلصانہ دوستی ہے ادیبوں میں اگرچہ الفاظ کی ملاقات دوستانہ اور مخلصانہ ہے لیکن الفاظ ان سے زیادہ دوستانہ رویہ نہیں رکھتے اس کے برخلاف شاعروں کو انھوں نے یہاں تک اختیار دے رکھا ہے کہ وہ جب چاہیں ان کے لباس تبدیل کردیں۔
الفاظ سے متعلق اس اقتباس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی بھی زبان کی اہمیت اس کی وسیع القلبی اور وسیع الذہنی سے علاقہ رکھتی ہے۔ جوزبان مضامین کے دریاؤ ں سے خیال و فکر کو اپنے سمندر میں کھینچ کر جتناموجوں میں اچھالناجانتی ہو وہ عالمی سطح پر اتنی ہی گہری چھاپ چھوڑ سکتی ہے۔ غزل میں موضوعات کی کمی نہیں لیکن ذہن کی محدود استطاعت کچھ مخصوص الفاظ کو ردیف، قافیہ میں قید کرتی ہے اور بیان کی وسعت نثر اور غزل کی درمیانی راہ تلاش کرنے پر قاصر ہے۔ یہ ذریعہ ترسیل ایک عہد کا تقاضا ہے۔ اور یہی تقاضے نظم کو نئی ہیئت اور نئے اطوار نئے فنون کی طرف مائل کرتے ہیں۔
شاعری کا آغاز زبان و مذہب کی پہچان اور ضرورت نے کیا۔ نغمہ، سنگیت اور الفاظ انسانی سرشت کا ایک حصہ ہیں۔ نظم جب ترقی پسندوں کے اذہان سے جنم لے رہی تھی، سماجی سیاسی، اقتدار، آزادی، قیدوبند مفلسی، مجبوری کو احاطہ کیے ہوئے تھی۔ لیکن زندگی کا ارتقا کسی بھی تخلیق کار کو کہیں ٹھہراؤ نہیں دیتا اور اگر وہ وقت کے دھارے میں بہہ کرنئی منزلیں تلاش نہ کرے تو اس کی موت یقینی ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس بات کو بھی تخلیق زندگی اس وقت دیتی ہے جب تخلیق کار اپنی پوری دیانت داری کے ساتھ اپنے علم اور فعل کو تخیل سے کاغذ پر مظاہرے کی قوت رکھتا ہو۔ یہاں مشاہدہ، مطالعہ، سماج اور حالات سے اپنے نظریات کو اخذکرنے کی استطاعت رکھتا ہو نہ کہ کسی اور نظریے کی تحت خودکو ڈھال دے یا نقالی کی نذر ہوجائے۔
نظم کی ہیئت اور فنی تبدیلیوں پر ڈاکٹرمحمود شیخ کے مضمون ہیئت وفن کے شعوری محرکات میں ادبی دنیا پر وقوع پذیر اثرات کے اسباب و علل کے حقائق بیان کیے ہیں۔
’’اختراعی ہیئت فن کی مثال لباس جیسی ہے جو انسانی مزاج اور ماحول کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ قومی مزاج کی خصوصیتیں اور جذبہ اظہار کی نفسانی خواہشیں بھی ہیت فن کی تبدیلی کا باعث ہوتی ہیں۔ سیاسی اور معاشرتی تبدیلیاں بھی تغیروتبدل پیدا کرتی ہیں۔ کولونیلزم اور صنعتی انقلاب نے یوروپی اقوام کے لیے جو تمدنی ڈھانچہ تیار کیا تھا اسے دوسری جنگ عظیم نے مسمار کردیا۔ ترقی یافتہ ملکوں کے لاکھوں افراد مارے گئے ملک برباد ہوگئے اور معیشت تباہ ہوگئی مغربی اقوام نے ایک دوسرے پرلعن طعن کی بجائے ضبط و تحمل سے کام لیا۔ اور اپنے اپنے ملک و معیشت کی تعمیرنو میں لگ گئے۔ تجربات گذشتہ سے استفادہ کرتے ہوئے انھوں نے ایک ایسا صنعتی نظام معیشت تشکیل دیا جس نے افریقی اور ایشیائی ملکوں کے معدنیاتی وسائل پر ان کا تصرف قائم کردیا۔ وہ قومیں جو کل تک ان کے زیردست تھیں۔ انھیں فلسفہ وسائنس و ٹکنالوجی کے معاشیاتی شعور کے ذریعے غلام بنالیاگیا۔ یہیں سے پوسٹ ماڈرن ازم (Post-modernism) کے مختلف ادوار کی شروعات ہوتی ہے۔ مغرب کی تشکیل نونے بعض دانشوروں کو وجودیت اور نوتاریخیت کا تصور دے دیا۔ بعض تجریدیت کی تلاش میں سرگرداں اور پریشان ہوگئے۔ تحریک وجودیت کے نظریات فکر حالانکہ مابعد جدیدیت سے باہر کی چیز سمجھے جاتے ہیں لیکن سارترنے فنی آزادی کے جس تصور ادب کی حمایت کی ہے اس کی خصوصیتیں مابعد جدیدیت سے رشتہ استوار کرتی ہیں۔ ادبی گلوبلائزیشن 'Golobalisation' کا تصور اگر کنزیومریزم 'consumerism' سے وابستہ ہے تو یقیناًمابعد جدیدیت کے تصورات ادب صنعتی نظام معیشت کے ہراول دستے کے طور پر دیکھے جائیں گے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے قوت و طاقت کا توازن ہی تہذیبی اور تمدنی کامیابی اور فروغ کا ضامن ہوتا ہے۔ ’خیال‘ کی مرکزیت کے بغیر ہیئت اسلوب و بیان قائم نہیں ہوسکتی اور پوسٹ ماڈرن ازم کے تصورات کسی بھی متعین کردہ حیطۂ اظہار کو قبول کرنے کی بجائے اکثریت پسند ہیں۔ ہیئت فن کا مشاہدہ اور تجزیہ اس کی اہمیت و افادیت انفرادیت و ضرورت فنی وابستگی کے ساتھ ہی متعین کی جاسکتی ہے۔‘‘
نظم کی دنیا میں جوش کے علاوہ دو اہم نام ہمیں نظر آتے ہیں اقبال اور انیس کے، لیکن اتفاق کہ دونوں ہی اپنی شناخت اسلام کے توسط سے بناتے ہیں۔ شاعری کا لباس جو صرف فلسفہ، علوم سیاسی معاشرتی حالات کا متمنی نہیں وہ بے چین ہو کر اس عنصر کو تلاش کرتا ہے جہاں جمالیات، حسن، فطرت لاشعور زماں، مکاں سے پرے نکلنے کو بے چین ہوجاتے ہیں۔ نظم نے جب چولہ پہنا اور فیض احمد فیض سے گذر کر میراجی اور راشد کے قلم میں سماگئی۔ یہاں نثر کے غلبے نے نظموں کے پھیلاؤ کواس کی ہیئت کو انفرادیت دی۔ اور راشد کی نظم حسن کوزہ گر نے کہانی کی شکل اختیار کی۔ اس کے بعد آپ اخترالایمان کی نظم بازگشت میں بھی اس بات کو محسوس کرسکتے ہیں۔ علامتیں، استعارے، تشبیہات جوروایت کی مستحکم دیوار اور ادب کی تاریخ ساز اصناف ہیں۔ اس کے بغیر زبان کا لطف، بیان کا انداز، تصورکی تسکین اور قاری اور تخلیق کار کی تڑپ کے درمیان وسیلۂ اظہار ناممکن ہے۔ یہیں سے جدیدیت کا آغاز اور نظم کا تنوع کہہ سکتے ہیں۔ گو کہ غزل میں ایک موضوع کو سورنگ میں باندھاگیا اور فنی کمال کا اظہار کیاگیا۔ ایک استعارہ کئی رنگوں میں ڈھل کر کئی اذہان میں اپنی شکل کو اجاگر کرتا ہے۔ استعارہ ایک ایساتصور یا ایسی ذہنی تصویر ہے جو فن کے مظاہرے کو قوت دیتی ہے۔ دو لوگوں کے درمیان فکر و سوچ کا ایک انوکھا رشتہ استوار ہوتا ہے۔ اگر یہی استعارہ عام یا اجتماعی مفہوم کی تصویر اختیار کرلے تو دیومالائی حیثیت اختیار کرسکتا ہے۔ 
رچٹرڈزکہتا ہے: 
From the tecnical point of view indeed the poets task is constantly that of finding ways and means of controlling feeling through metaphor. 
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک عام استعارہ شاعری کے ذیل میں ایک الگ مفہوم رکھتا ہے اور وہ استعارہ اگر قاری کے خیالات کو شاعر سے ہم خیال کرنے کی قوت رکھتا ہو تو یہ شاعری کی فتح ہے۔ اور نظم اپنے اندر اس فن کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ملارمے کے سانیٹ میں Swan کا استعارہ صرف ذات کے کرب کا اظہار نہیں بنتا بلکہ اجتماعی مفہوم کا تصور ہوتا ہے۔ دراصل شاعری انسان کی ذہانت اور تخیل کا رابطہ ہے۔ جہان انسان اپنی ذات سے مطلق کون، کیوں، کیسے جیسے سوالات سے دوچار ہوتا ہے۔ اس فکر کا آغاز ڈیکارٹس کے I think ther fore I exist سے ہو لیکن اپنے وجود کا اقرار اپنی ذات کی کھوج کے بغیربے چین رہتا ہے۔ اس تشنگی کی تسکین اجتماعی شعور میں پوشیدہ ہے اسی تلاش کا نتیجہ یا وسیلۂ اظہار نظم کاوجود ہے۔ نظم اپنے اندر ایک نوع کی شکست عالم زماں مکاں پر نظر گہرے تفکر کے ساتھ ساتھ باہمی رشتوں اور سماج کے لوازمات کو جوڑ کر نئی توانائی بخشتی ہے۔
یہ نثر کی طرح بیان یا اس کی شرح کرنے کی کوشش نہیں کرتی، یہ کام نثر نگاروں کے لیے موزوں ہے۔ اسی لیے آج کی نظم ایک ایسے دور سے گذررہی ہے جہاں زبان، سماج، اقدار سیاست، معاشرت ایک بہت بڑا مسئلہ اپنے آپ میں ہیں۔ اگر اسے زبان یا آرٹ اور شاعری کا زوال کہہ دیا جائے تو جلد بازی ہوگی۔ کائنات کے ازلی اور ابدی سفر کے دوران انسان ہی ایک معمہ اور ہرلحظہ ارتقاء یا زوال کا شکار ہے۔ کئی زمانے ایسے گذرے ہیں جب فناکے بعد بقا کی منزلیں سامنے آتی ہیں۔ جس کی سب سے بڑی مثال موہن جودارد کی تہذیب ہے۔ اسی طرح شاعری بھی اپنے بچپن یا لڑکپن سے گذررہی ہے وہ کسی بھی زبان کی محتاج نہیں۔ لوگ گمراہ ہوجاتے ہیں اکثرنئی شاعری کرنے والے اپنے تخیل اپنے فن کو رہبربنانے کی بجائے اس بہتے دریا میں چھلانگ لگاتے ہیں۔ کچے پکے اظہارات، تنقیدی جملوں سے گھبراکر کسی بھی قافلے میں چل پڑتے ہیں انھیں خود اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ کہاں جارہے ہیں۔ ایک مبہم سی لکیر ہوتی ہے جیسے نثری نظم اور نثر کے درمیان، جہاں ہیئت اظہار کو نئی شکل دینے کو آمادہ ہوتی ہے۔ اگر وہ حقیقتاً جمال، خیال اور تجربے کو الفاظ میں ڈھالنے کی قوت رکھتی ہے تو انفرادی شکل کے نتیجے میں قاری سے متعارف ہوتی ہے اور ادب میں اپنا مقام پاتی ہے۔ ورنہ صرف me too ’میں بھی‘ کی طرح ایک قافلے میں قلمکار اپنے نام کے ساتھ شاعر کا لیبل لگا کر چل دیتے ہیں کبھی تعلقات کے زور پر کبھی جاہلوں کے گروہ میں اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔
ایک نظم تمثال: ذہنی تصور(imagery) محاکات(visualisation) ارکان (pepiction) بحور(metre) اسلوب (style) لہجہ (tone) آہنگ (rhythm) اور اب اس عہد میں ڈرامہ، مکالمہ، کے لوازمات سے مل کر جنم لیتی ہے۔
گوپی چندنارنگ نے صحیح نشاندہی کی۔ ’معنیاتی نظام انتہائی مبہم اور گرفت میں نہ آنے والی چیز ہے۔ بحث و مباحثہ کی سہولت کے لیے چندالفاظ میں مقید تو کیا جاسکتا ہے۔ لیکن تمام معنیاتی کیفیات کا احاطہ نہیں کیاجاسکتا۔ اس بحث میں الفاظ کو محض اشاریہ سمجھناچاہیے اس کلی نظام کا جوان گنت استعاراتی اور ایمائی رشتوں سے عبارت ہے اور لامحدود امکانات رکھتا ہے جنھیں تخلیقی طور پر محسوس تو کیاجاسکتا ہے لیکن منطقی طور پر دو اور دو چار کی زبان میں بیان نہیں کیاجاسکتا۔‘ ہرزبان کی مجبوری یہ ہوتی ہے کہ وہ پہلے اپنے خیال کو مناسب الفاظ میں ڈھالے اور پھر ایسے قاری کو بھی جنم دے جو شاعری کی نبض سے دھڑکنیں گن سکے۔
نثری نظم میں نثر شاعری کے ان دروازوں کو کھولتی ہے جو شاعر اور ہیئت کا معاملہ ہو کہ آہنگ کو اپنانے کایاتجربات کو امیجری اشکال سے الفاظ تک کھینچ لانے کا ہر عہد میں تخلیق کار واقعہ، ماحولِ خواہش ضرورت کے مطابق کائنات کے ہیئت وعمل سے اپنے افکار و نظریات پر شعوری اور لاشعوری طور پر متاثر ہوتا ہے۔ یہی وسیلہ ایک تخلیق کار کو اختراعی عمل سے ارتقا کی جانب لے جاتا ہے۔ فنی اظہار بصیرت کو اپنے ڈھنگ سے قاری کے قلب کو بینائی دیتی ہے اور شاعری کا یہی کمال ہے۔ ہیئت ایک فن کی صورت میں اہم نہیں ہوتی لیکن اظہار کے وسیلے کو ہیئت ہی بیساکھیاں دیتی ہے۔
اردو شاعری اور غم و یاس کا موضوع بدن اور روح کی طرح ہے اکثر ہماری شاعری میں ان شاعروں کو کامیاب تصور کیا گیا جنھوں نے زندگی کی رنگینیوں پر موت کی تلخ حقیقتوں کو ترجیح دی۔ یہی وجہ تھی کہ بار بار عشق مجازی سے عشق حقیقی پر آکر تان ٹوٹتی ہے۔ غزل نے اس پیرہن کو پہن کر کئی محفلیں آباد کیں لیکن آج کے عہد کی نظم کچھ اور مانگتی ہے۔ دراصل انوکھا واقعہ انوکھی بات، چونکادینے والی اثرانگیزباتیں، گوکہ اس کا منبع غزل ہے۔ اگر دوسرا مصرعہ پہلے مصرعے کے برعکس نئی بات یا اس جہت کی طرف اشارہ کرے جہاں قاری کی سوچ نہ پہنچ سکی ہو تو قاری لطف اندوز ہوتا ہے اور غور و فکر کے دوازے بھی کھلتے ہیں۔ ادب کا صحیح مفہوم ہی شعور بیداری ہے جس پر نے کئی طرح چادریں ڈال رکھی ہیں اور فیشن کی طرح عجیب و غریب لوازمات میں الجھے ہیں۔ نظم کی آسان نظرآنے والی مشکل شکل نثری نظم ہے، جو آسانی سے گرفت میں نہیں آتی اور قاری کے لیے جس کا ذہن مخصوص بحراور آہنگ کا عادی ہے اسے اس جانب متوجہ کرنا مشکل عمل ہے۔ چونکہ شاعری کو نثر کی بہ نسبت یادرکھنا آسان ہے ہزاروں برس پہلے عربی اور سنسکرت میں یہ طریقے رائج رہے۔ اور ایک دور ایسا بھی تھا کہ نثر بھی شاعری کی طرح لکھی جانے لگی۔ ان الفاظ کو تلاش کیا گیا جو شاعری کے لیے موزوں رہے۔ اور سنسکرت کے آچاریوں نے نثر کو شاعری سے الگ نہیں ماناتھا نثر کی شعریت اور شعرکی شعریت میں اگر کوئی فرق ماناجاتا تھا وہ تھا نثری شاعری میں بحر کی غیرموجودگی۔ آج جو دنیا کی کئی زبانوں میں اور اردو زبان میں بھی عام ہورہی ہے۔ اسی طرح اسلوب بھی، طویل یا مختصر ساخت کے ساتھ ساتھ اوصاف جس میں تشبیہات ،استعارے، تلمیحات، احتجاج نثری نظم کا حصہ بنتے چلے گئے اور جیسا کہ اوپر بیان کیا جاچکا ہے کہانی کہا نی کے ساتھ ڈرامہ مکالمے بھی اس صنف کا حصہ بن گئے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی وسعت لامحدود فکری اور فنی دروازوں کو روشن کرتی ہے۔ جیسے اوپر غزل میں چونکادینے والے عمل کا ذکر کیا گیا اسی طرح آج نئی نسل اور نئی نظموں کی طرف اگر نظرڈالی جائے تو مغرب و مشرق کی بھی دوسری زبانوں کے ترجمے ہمیں کئی حیران کن جملوں یا مصرعوں سے متعارف کرواتے ہیں جس کا آغاز بہت پہلے ہی ہوچکا۔ حقیقت میں شاعری ایک فطری تقاضے کی تحت لفظوں میں تشکیل پاسکے تو انفرادیت اور جدت کے ساتھ ان موضوعات کو بھی فطرتاً اپنے دامن میں سمیٹتی ہے جو شاعر کی زندگی میں روز مرہ کی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں۔ اور پھر انھیں موضوعات کو اٹھاکر تخیل کی بازیگری انوکھی اچھوتی پرتوں کو کھولتی ہے۔ جیسے ستارے اڑتے خوف زدہ، وہ برق جو تجھے ریزہ ریزہ کردے۔ اٹھا و نظریں پتھر کے ابوالہول، سیاہ رقص۔ وغیرہ اس موضوع کا مفصل جائزہ طوالت کا متقاضی ہے۔ 
یہاں اس بات کی خوشی ہے کہ اس نئے رنگ کی بدولت ان روایتی بندھے ٹکے لکیروں کو مٹانے کی دھن میں تخلیق کار اپنی ذات میں اتر کر تخیل کے آسمان میں پرواز کرتا ہے بصیرت کے نور میں نہاتا ہے اور ان نئی تصویروں کو الفاظ میں ڈھالنے کے عمل سے گذرتا ہے جو اسے مستقبل میں ایک نئی شناخت دے سکتا ہے۔ جہاں تک نثری شاعری اور نسائی ادب کا تعلق ہے۔ نسائی سوچ میں ایک انفرادی پہلو ہے اسی لیے لازمی اور فطری طور پر الفاظ، خیالات جذبات اظہار اپنے جنم کے ساتھ ہی تازگی، نوخیزی اور ندرت ساتھ لاتے ہیں۔ لیکن اس میں گمراہ کن ایک ہی بات ہے کہ اکثر شاعرات اپنے آپ کو ادب میں اپنی شناخت بنانے کی بجائے خواتین کی صف کو علیحدہ زمرے میں دیکھنا چاہتی ہیں جو خواتین کے مستقبل کے لیے کوئی تابناک شاہ راہ نہیں ہے۔ جذبات احساسات، نفسیات اور تجربات خود بخود اظہار کی صورت اختیار کرکے اپنی شناخت بنالیں گے لیکن صرف اور صرف ایک عورت کے مسائل کو پیش نظر رکھنا خواتین کی فہم اور تخیل کو محدود دائرے میں مقید کرتا ہے۔ سیاسی سماجی معاشری، موضوعات فلسفہ، سائنس، تاریخ تصوف وغیرہ آج اتناہی ایک خاتون کے ذہن اور تجربے کا حصہ ہیں جتناایک مرد کی زندگی میں ادب میں شاعری ہوکہ نثر قدرت کانہایت ہی خوبصورت عطیہ ہے وہ کسی صنف، کسی قوم، کسی مذہب کسی تحریک کسی نظریے کا محتاج نہیں۔ بلکہ خودساختہ، انسانی زندگی کا رہبر، ارتقاء کا زینہ ہے۔ عہد کی شناخت ہے اسے اپنے انفرادی رنگ اور فطری فضامیں سانس لینے کا موقع دے کر تخلیق کار کونئی منزلوں کی طرف گامزن ہونا ہے۔ 

Mrs. Shaista Yousuf 
Flat. 201, Fordham House, Harris Road
Benson Town, Bengalore - 560046
(Karnataka), Mob: 09243083204








قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

جدید نظم سمت، رفتار و آہنگ مضمون نگار:۔ راشد انور راشد




جدید نظم سمت، رفتار و آہنگ

راشد انور راشد
آزاد اور حالی نے اپنی اجتہادی کاوشوں کے ذریعے نظم جدید کے جس تصور کو فروغ دیا تھا، اسی سلسلے کو شبلی، اکبر، سرور اور چکبست نے اپنی نظمیہ شاعری کی بدولت وسعت بخشی اور بیسویں صدی میں اقبال نے اس تصور کو عروج بخشا۔ اقبال کے بعد جوش، مخدوم، جمیل، فراق ، فیض، اختر الایمان، میراجی اور راشد وغیرہ نے اردو نظم کے کاروان کو ارتقا کی نئی منزلوں سے ہمکنار کیا۔ اس سلسلے میں سردار جعفری، منیر نیازی،مجاز، جذبی، اختر انصاری، ابن انشا، خلیل الرحمن اعظمی، شہریار ، ساقی فاروقی، ندا فاضلی اور دوسرے شاعروں کا بھی ذکر کیا جا سکتا ہے، جنھوں نے نئی نظم کو مختلف جہات سے روشناس کرادیا۔ ادبی سطح پر نظم کو مقبول بنانے میں رسائل و جرائد کے خصوصی شماروں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ سوغات، شاعر، آجکل، اوراق، کتاب نما اور ذہن جدید نے بھی نظم سے متعلق خصوصی شمارے شائع کیے جن میں نظم کی ہیئت، فن اور اس کے ارتقائی تسلسل پر سیر حاصل گفتگو کے ساتھ نمائندہ نظموں کا قابل قدر انتخاب بھی شائع کیا گیا۔ بعض لوگوں نے انفرادی سطح پر بھی نظموں کے انتخاب شائع کیے جن کے ذریعے اردو نظم کی سمت و رفتار اور مختلف جہات کا اندازہ ہوتا ہے۔ ایسے تمام انتخابات میں خلیل الرحمن اعظمی کا انتخاب ادبی حلقوں میں زیادہ موضوع بحث رہا۔ دراصل یہ وہی انتخاب ہے جسے ’کتاب نما ‘نے خصوصی شمارے کے طور پر شائع کیا تھا۔ بعد میں علاحدہ طور پر اسے کتابی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔ خلیل الرحمن اعظمی نے اپنے مقدمے میں منتخب نظموں اور مخصوص شعرا کے حوالے سے جو گفتگو کی ہے وہ آج بھی نئی نظم کے سلسلے میں بنیادی حوالے کا درجہ رکھتی ہے۔ بیسویں صدی کی چوتھی پانچویں دہائی میں ہندی میں ’نئی کہانی‘ اور ’نئی کویتا‘ کی اصطلاح شروع ہوئی تھی۔ ممکن ہے اسی طرز کو پیش نگاہ رکھتے ہوئے خلیل صاحب نے ’جدید نظم‘ کے بجائے ’نئی نظم‘ کی اصطلاح استعمال کی ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ’جدید نظم‘ کہنے سے قاری کا ذہن محض جدیدیت کے زیر اثر پروان چڑھنے والی نظم کی جانب ملتفت ہوتا ہو، جبکہ ’نئی نظم‘ کے ذریعے انھوں نے جدیدیت سے دو تین دہائیوں قبل کی نظموں کو بھی اپنے انتخاب میں جگہ دی ہے۔ بہر حال اس مقالے میں ’نئی نظم ‘ کے حوالے سے ہی گفتگو کی جائے گی۔ 
بیسویں صدی میں بہت سے سائنسی انکشافات ہوئے۔ نئے نئے نظریات سامنے آئے اور نت نئی فلسفیانہ تعبیروں نے غوروفکر کے پیمانے ہی تبدیل کر دیے۔ ترقی پسندتحریک کے تحت اردو نظم میں موضوع، ہیئت اور پیشکش کی سطح پر بے پناہ تبدیلیاں آئیں۔ 1947میں تقسیم ہند کا واقعہ رونما ہوا۔ خون کی ندیاں بہائی گئیں، لاکھوں لوگوں کو ہجرت کے کرب سے دو چار ہونا پڑا۔ اردو نظم نے ان موضوعات کو پوری شدت کے ساتھ اپنے دامن میں سمیٹا۔ بیسویں صدی کے نصف دوم میں جدیت کا رجحان سامنے آیا۔ فرد اپنی ذات کے خول میں سمٹ کر رہ گیا۔ تنہائی، مایوسی اور بے چارگی نے نظموں میں جگہ پائی۔ جدیدیت کے تحت اسی تصور کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ اجتماعیت کے بجائے انفرادیت پر زور دیا گیا اور اس طرح نظم کے موضوعات تیزی کے ساتھ تبدیل ہوتے چلے گئے۔ حیات و کائنات کے مختلف مسائل کا اظہار نظم میں ہونے لگا۔ ترقی پسند نظم نے بحیثیت مجموعی انسانیت کے مشترکہ درد کو اپنا موضوع بنایا تو درد سے کراہتی زندگی کو تقسیم کے بعد نظم میں اہم موضوع کے طور پر پیش کیا۔ جدیدیت کے تحت فرد کی ذاتی الجھنوں کو موضوع بنایا گیا تو فرائڈ کے نظریات کا اثر قبول کر کے جنسی گھٹن اور نفسیات کے پیچیدہ پہلوؤں کو غزل میں نمایاں کیا جانے لگا۔ فرائڈ کے ہی منفرد نظریے کی بنا پر خواب کی الجھنوں کا تصور سامنے آیا۔ اس نے مختلف مثالوں کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ خواب انسان کی ناکام حسرتوں اور خواہشوں کی تکمیل ہے۔ خواب میں انسان وہی دیکھتا اور دیکھنے کی کوشش کرتا ہے جو حقیقت میں ممکن نہیں ہو پاتا۔ اس بنا پر اردو نظم میں خواب اور زندگی کی ناکام حسرتوں کو اہم موضوع کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔ اس نہج پر جہاں انسانی نفسیات کے پیچیدہ پہلوؤں کو اردو نظم میں جگہ ملی وہیں حیات و کائنات کے مختلف مسائل کامیابی کے ساتھ نظم میں نمایاں ہونے لگے۔ ان تبدیلیوں نے نظم میں انقلاب برپا کر دیا۔ نظم کے موضوعات میں ایسا تنوع پیدا ہوا کہ زندگی کا ہر موضوع اس کے دائرے میں شامل ہو گیا۔ خلیل الرحمن اعظمی نے ’نئی شاعری ‘ یا ’نئی نظم‘ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے 151
’نئی نظم اور نئی شاعری کے اس تصور نے جس رجحان کو تقویت دی ہے وہ تحریک حلقے، گروہ یا جماعت کی نفی کرتی ہے اور اس کے وسیلے سے پہچانی جانے والی شاعری سے مختلف ہے۔ یعنی نئی شاعری یا نئی نظم لکھنے والوں کا کوئی ایسا حلقہ یا جماعت نہیں جس سے وابستگی یا جس کی رکنیت کسی شاعر کو نیا کہلانے کا موجب بن سکے یا اس حلقے میں ایک بار داخل ہو کر شاعر کو یہ اطمینان ہو جائے کہ اب اسے نئے شاعر ہونے کی سند مل چکی ہے اور یہ اعزاز اس سے کبھی چھینا نہ جا سکے گا ۔۔۔۔۔۔
نئی شاعری کی نمایا ں خصوصیت تنوع ، رنگا رنگی اور پہلو داری ہے۔ نئی شاعری اب آزاد نظم کے مترادف نہیں سجھی جاتی۔ اس کی متعین اور سکہ بند ہیئت ہے اور اس کا بندھا ٹکا اسلوب، پابند، نیم پابند، معریٰ، آزاد ہر طرح کے اسالیب میں نئی جہتیں پیدا ہوئی ہیں اور نئی حسیت نے ان میں تازگی پیدا کی ہے۔ نئی پابند نظم۔پرانی پابند نظم کے درمیان اپنے ذائقے، اپنی خوشبو اور اپنے لہجے سے پہچانی جا سکتی ہے۔ یہی حال دوسری طرح کی نظموں کا ہے۔ سب سے اہم تبدیلی یہ ہوئی کہ اب نئی نظم نے غزل، قصیدہ، مرثیہ اور خطابیہ شاعری کی گھسی پٹی لفظیات سے چھٹکارا حاصل کر لیا ہے۔ نئی علامتیں، الفاظ کے نئے تلازمے، نئی امیج، نیا منظر نامہ اور نئی فضا کا ہر جگہ احساس ہوتا ہے۔ نئی نظموں نے اس دور میں خاص طور سے اپنے معنی خیز امکانات کو ابھارا ہے اور بعض شعرا نے اس پیرایۂ اظہار میں بڑی نوک اور دھار پیدار کی ہے۔‘‘
خلیل الرحمن اعظمی نے نئی نظموں کے حوالے سے جو معروضات پیش کیے ہیں، انھیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بلاشبہ 1936کے بعد لکھی گئی نمائندہ نظموں کا اگر ہم جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ سیدھے سادے انداز میں شعرا نے بلیغ اور فکر انگیز پہلوؤں کو پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ پیچیدہ موضوعات کو بھی نسبتاً واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ الفاظ کے غیر ضروری استعمال سے بھی پرہیز کیا گیا ہے اور کم سے کم الفاظ میں گہرے تجربات کو نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہیئت اور پیشکش کی سطح پر نئی نظم کے شاعروں میں دو متوازی میلانات ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ بعض شعرا نے پابند، نیم پابند اور نظم معریٰ کی ہیئت میں ہی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور آزاد نظم کے فارم کو اپنانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ ایسے شعرا میں فراق ، فیض، جذبی، مجاز، اختر انصاری، ابن انشا اور دوسرے شاعروں کا ذکر کیا جا سکتا ہے، جنھوں نے دانستہ طور پر پابند، نیم پابند اور نظم معریٰ کی ہیئت کو سامنے رکھ کر نظمیں کہیں۔ یہ تمام شعرا بدلتے ہوئے وقت کے زیر اثر رونما ہونے والی تبدیلیوں کا خاطر خواہ اثر قبول تو کر رہے تھے لیکن شعری اظہار کی سطح پر شاعری کی مستحکم و مروج ہیئتیں ہی ان کے مزاج سے زیادہ میل کھاتی تھیں۔ انھوں نے جذبات کی سطح پر نئی تبدیلیوں کا خیر مقدم تو کیا لیکن ان تبدیلیوں کو جب شعری سطح پر برتنے کی باری آئی تو نظم کے کلاسیکی فارم کو ہی اپنے لیے قابل اعتنا جانا اور پرانے سانچوں میں نئے جذبات پیش کرنے کی جانب خصوصی توجہ مرکوز کی۔ فراق ، فیض، جذبی، مجاز، اختر انصاری اور ابن انشا وغیرہ کی منتخب نظموں کے مخصوص ٹکڑے ملاحظہ ہوں، جن میں پابند، نیم پابند اور نظم معریٰ کی ہیئت کو بہ طور خاص برتا گیا ہے۔ ان مثالوں میں مثلث ، مربع اور قطع بند اشعار کی مختلف نوعتیں بھی دیکھی جا سکتی ہیں : 
الم نصیبوں ، جگر فگاروں کی / صبح افلاک پر نہیں ہے
جہاں پہ ہم تم کھڑے ہیں دونوں / سحر کا روشن افق یہیں ہے
یہیں پہ غم کے شرار کھل کر / شفق کا گلزار بن گئے ہیں
یہیں پہ قاتل دکھوں کے تیشے / قطار اندر قطار کرنوں
کے آتشیں ہار بن گئے ہیں / یہ غم جو اس رات نے دیا ہے
یہ غم سحر کا یقیں بنا ہے یقیں جو غم سے کریم تر ہے
سحر جو سب سے عظیم تر ہے۔
(ملاقات151 فیض)
ٹمٹماتا ہے فلک پر اس بھیانک رات میں /اک ستارہ ہائے ہائے
ایک ننھا سا شرارہ ہائے ہائے /ایک نازک برق پارہ ہائے ہائے
جھلملاتا ہے فلک پر اس بھیانک رات میں 
دیکھنا یارو یہ گرتوں کا سہارا تو نہیں /یہ ستارہ اپنی قسمت کا ستارہ تو نہیں۔
(ایک ستارہ 150 اختر انصاری )
جی میں آتا ہے یہ مردہ چاند تارے نوچ لوں /اس کنارے نوچ لوں اور اس کنارے نوچ لوں
ایک دو کا ذکر کیا سارے سارے کے نوچ لوں /اے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
بڑھ کے اس اندر سبھا کا سازو ساماں پھونک دوں /اس کا گلشن پھونک دوں، اس کا شبستاں پھونک دوں
تختِ سلطاں کیا میں سارا قصرِ سلطاں پھونک دوں /اے غم دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں
(’آوارہ ‘ 150مجاز)
ہائے جلتی ہوئی حسرت یہ تری آنکھوں میں /کہیں مل جائے محبت کا سہارا تجھ کو
اپنی پستی کا یہ احساس ، پھر اتنا احساس /کہ نہیں میری محبت بھی گوارا تجھ کو
اور یہ زرد سے رخسار، یہ اشکوں کی قطار /مجھ سے بیزار ، مری عرضِ وفا سے بیزار۔
(’طوائف‘150 جذبی)
ہمیں گرد بن کرپسِ کارواں دھندلے دھندلے سے قدموں پہ جمتے رہیں گے
ہمیں راستے کے ہر اک موڑ پر اک نہ اک عذر پر یوں ہی تھمتے رہیں گے
مگر دور کی منزلوں کی یہ راہیں تو ویران اب تک ہوئی ہیں نہ ہوں گی
جری شہسواروں کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے انجان اب تک ہوئی ہیں نہ ہوں گی
سمجھتے ہیں ہم آنے والا زمانہ تمھارا ہے لوگو، ہمارا نہیں ہے
مگر اپنے پانو کہ تھک سے گئے ان میں اورآگے بڑھنے کا یارا نہیں ہے
یہی راستہ ہے رکے تو گئے، رات لمبی ہو یا بات لمبی ہو جاؤ
وہ پورب میں ممیاتی بھیروں کے گلے کے باڑے کے پہلو میں دہکا الاؤ۔
(’افتاد‘150 ابن انشا)
ان نظموں میں انقلاب کی گونج واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے، لیکن اس گونج میں بھی لہجے کی غنائیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نظموں کے یہ نمونے ہمارے جذبات کو برا نگیختہ نہیں کرتے بلکہ ہمارے سوئے ہوئے خمیر کو بیدار کرتے ہیں اور بڑے سلیقے سے ہمارے عزم، جوش اور ولولے کو ایک خاص نہج پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔ جن شاعروں کی منتخب نظمیں اوپر مثال کے طور پر پیش کی گئی ہیں، وہ تمام اپنی شاعری میں اس بات کی شعوری کوشش کرتے ہیں کہ آنکھوں میں پلنے والے سنہرے خواب کسی بھی طرح خوبصورت تعبیروں سے ہمکنار ہو پائیں۔ ان شاعروں نے بنیادی طور پر خارجی حقیقتوں اور ان کے سماجی تجزیوں کو پیش کرنے پر بہ طور خاص توجہ دی۔ ایک خاص طرح کی نغمگی ان کی نظموں میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ ان شعرا نے شعوری طو رپر گھن گرج اور بلند آہنگی کو دوسرے شعرا کی مانند فیشن کی طرح نہیں اپنایا۔ لہجے کا دھیما پن اور اظہار کی شائستگی ان کی نظموں کے حسن میں اضافہ کرتی ہیں۔ نظموں کے سلسلے میں انھوں نے سادہ اور سلیس انداز اختیار کرنے کی کوشش کی۔ ان شعرا نے پیشکش کی سطح پر ہیئتی تجربوں کو اہمیت نہیں دی، جس عہد میں فراق، جذبی، مجاز، اخترانصاری، ابن انشا اور دوسرے لوگ نظمیں کہہ رہے تھے۔ اس عہد میں آزاد نظم کا فارم بڑے پیمانے پر استعمال کیا جانے لگا تھا اور بیشتر شاعروں نے اس ہیئت کو اپناتے ہوئے نظمیں کہیں، لیکن شعری پیشکش کا ایک مخصوص معیار رکھنے کی بنا پر ان شعرا نے اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر ہیئت کی اس تبدیلی کو لائق اعتنا نہیں گردانا اور معریٰ نظموں کے ذریعے اپنے جذبات و محسوسات کو پیش کرتے رہے۔ بعض شاعروں نے آزاد نظم کی ہیئت بھی اختیار کی، لیکن معریٰ نظموں کی ہیئت میں بھی نظمیں لکھتے رہے۔ ایسے شاعروں میں سردار جعفری اور اختر الایمان کا ذکر خصوصی طور پر کیا جا سکتا ہے۔ ان دونوں شاعروں نے اپنی ذاتی زندگی اور اس کی بے شمار یادوں کو اپنی نظموں میں بنیادی موضوع بنا کر پیش کیا ہے، لیکن ان کی نظموں کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ اپنی ذات کے حوالے سے دنیا کو دیکھنے، سمجھنے اور پرکھنے کی کوشش بیشتر نظموں میں موجود ہے۔ ان معنوں میں بالکل ذاتی نوعیت کی نظمیں بھی ہمعصر معاشرے کی چیرہ دستیوں کو نمایاں کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ سردار جعفری اور اختر الایمان کی نظموں کا جائزہ لینے پر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا عہد سیاسی اعتبار سے ہنگامہ خیز تھا۔ سماجی ، تہذیبی، معاشی اورثقافتی سطح پر پورا معاشرہ شدید بحران سے دو چار تھا۔ اخلاقی قدریں پامال ہو رہی تھیں۔ قصباتی زندگی کی معنویت کو شہر کی پر تصنع زندگی نے نگلنا شروع کر دیا تھا۔ مفاد پرستی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے ضمیر پرستوں کو بھی بے حسی کا لبادہ اوڑھنے کے لیے مجبور کر دیا تھا۔ سردار جعفری اور اختر الایمان کی نظموں میں یہ کرب پوری شدت کے ساتھ نظم ہوا ہے جس کے بیان میں درد مند دل شاعر ہر لمحہ خون کے آنسو روتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نظمیں پڑھنے کے دوران زندگی کی بیان کی گئی اذیتوں میں ہم خود بھی شریک ہو جاتے ہیں۔ 
سردار جعفری اور اختر الایمان کی شاعری بندھے ٹکے نظریات سے ماورا ہے۔ اپنے عہد میں فروغ پانے والے نظریات سے وہ قطعی انجان نہ تھے، اس کے باوجود انھوں نے اپنے آپ کو مخصوص حصار میں مقید کر لینا مناسب نہ جانا اور دل کی آواز پر لبیک کہتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ بدلتے ہوئے عہد کے باوجود ان دونوں کی شاعری اپنے اندر غضب کی کشش رکھتی ہے۔ ان کی نظموں میں ماضی ایک طاقت و رجحان کی حیثیت سے ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ زندگی کی خوشگوار قدروں کی دلفریب یادیں کسی نہ کسی شکل میں ان کی نظموں کو قوت بخشتی ہیں۔ بمبئی جیسے بڑے اور تیز رفتار شہر کا حصہ ہوتے ہوئے بھی وہ تصور میں اسی قصبے میں جیتے رہے جہاں ان کے بچپن کے یادگار لمحے گزرے تھے، لیکن اس بنا پر انھیں ماضی پر ست ہرگز نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ان کی نظموں میں بیان کی گئی یادیں کہیں نہ کہیں اپنا رشتہ حال اور مستقبل سے بھی قائم کرتی ہیں۔
میں ایک گریزاں لمحہ ہوں / ایام کے افسوں خانے میں
میں ایک تڑپتا قطرہ ہوں /مصروفِ سفر جو رہتا ہے
ماضی کی صراحی کے دل سے /مستقبل کے پیمانے میں 
میں سوتا ہوں اور جاگتا ہوں/اور جاگ کے پھر سو جاتا ہوں
صدیوں کا پرانا کھیل ہوں میں /میں مر کے امر ہو جاتا ہوں 
(’میرا سفر‘150 سردار جعفری )
اس بھرے شہر میں ایسا کوئی نہیں /جو مجھے راہ چلتے کو پہچان لے
اور آواز دے ’اوبے او سر پھرتے /دونوں اک دوسرے سے لپٹ کر وہیں
گردو پیش اور ماحول کو بھول کر /گالیاں دیں، نہیں، ہاتھا پائی کریں
پاس کے پیڑ کی چھاؤں میں بیٹھ کر /گھنٹوں اک دوسرے کی سنیں اور کہیں
اور اس نیک روحوں کے بازار میں /میری یہ قیمتی بے بہا زندگی
ایک دن کے لیے اپنا رخ موڑ لے ۔
(’تبدیلی‘ 150 اختر الایمان)
نئی نظم کے سفر میں زیادہ تر شعرا ایسے ہیں جنھوں نے آزاد نظم کے فارم کو اپنے شعری اظہار کے لیے کامیابی کے ساتھ برتنے کی کوشش کی ۔ ایسے شعرا میں ن م راشد ، میرا جی، مخدوم،، خلیل الرحمن اعظمی، شہریار، محمد علوی، ندا فاضلی، مظہر امام، زبیر رضوی وغیرہ کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ ان شاعروں کی نظموں کا مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ یہ شعرا کسی ایک نظریے سے اتفاق نہیں کرتے بلکہ ان کے یہاں مختلف نظریات کی کارفرمائی دیکھنے کو ملتی ہے۔ موضوعات کو برتنے کے دوران ان شعرا نے کہیں بھی توازن اور اعتدال کا دامن نہیں چھوڑا ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری میں باطن اور خارج کے درمیان بھی غضب کا توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے باطنی محسوسات، خارجی محسوسات سے پوری طرح ہم آہنگ ہو گئے ہوں۔ اپنی نظموں میں ان شعرا نے اس زندگی کے نشیب و فراز کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے جو زندگی ان کے آس پاس اپنی تمام تر خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ جلوہ گر رہی ہے۔ ان کی نظمیں انسانی نفسیات کے کلیدی پہلوؤں سے وابستہ دکھائی دیتی ہیں۔ ایک حساس فنکار کی مانند ان شعرا نے زندگی کے تمام تر پہلوؤں کا جائزہ لینے میں دلچسپی دکھائی ہے۔ ان کی نظموں میں جہاں معاشی ابتری کا احساس ہوتا ہے وہیں دولت کی غیر مساوی تقسیم کے خلاف قدم قدم پر صدائے احتجاج بھی بلند ہوتی ہے۔ زندگی کا چھوٹے سے چھوٹا واقعہ ان کی نگاہوں سے اوجھل نہیں رہتا۔ معاشرے کے ایک حساس فرد کی مانند ان کا ذاتی وجود بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ مختلف کیفیات سے دو چار دکھائی دیتا ہے۔ زندگی کے اتار چڑھاؤ کی طرح ان کی ذہنی سطح پر بھی ہر پل تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ 
ایک بوڑھا سا تھکا ماندہ سا رہوار ہوں میں /بھوک کا شاہوار
سخت گیر اور تنو مند بھی ہے /میں بھی اس شہر کے لوگوں کی طرح
ہر شب عیش گزر جانے پر /بہر جمع خس و خاشاک نکل جاتا ہوں
چرخ گرداں ہے جہاں / شام کو پھر اسی کا شانے میں لوٹ آتا ہوں
بے بسی میری ذرا دیکھ کہ میں /مسجد شہر کے میناروں کو 
اس دریچے سے میں پھر جھانکتا ہوں /جب انھیں عالمِ رخصت میں شفق چومتی ہے۔
(’دریچے کے قریب‘ 150 ن م راشد)
سمٹ کر کس لیے نقطہ نہیں بنتی زمیں ؟ کہہ دو
یہ کیسا پھیر ہے، تقدیر کا یہ پھیر تو شاید نہیں، لیکن یہ پھیلا آسمان اس وقت کیوں دل کو لبھاتا تھا ۔
حیات مختصر سب کی بہی جاتی ہے اور میں بھی 
ہر اک کو دیکھتا ہوں، مسکراتا ہے کہ ہنستا ہے
کوئی ہنستا نظر آئے، کوئی روتا نظر آئے
میں سب کو دیکھتا ہوں، دیکھ کر خاموش رہتا ہوں
مجھے ساحل نہیں ملتا ۔ 
(’مجھے گھر یاد آتا ہے‘150 میراجی‘
شاعر کو اظہار پر اگر قدرت حاصل ہوتو وہ ان دیکھی دنیاؤں کی تصویر کشی بھی اتنے سلیقے سے کرتا ہے کہ پڑھنے والا شعوری طور پر اپنے آپ کو اس منظر میں شامل پاتا ہے۔ راشد کو بھی یہ کمال حاصل ہے۔ انھوں نے اپنی نظموں کا خاکہ ہندوستانی تہذیب کے بجائے عربی اور ایرانی تہذیب کے اشتراک سے تیار کیا اور ان کی پیش کش میں بھی مخصوص علائم اور اساطیر کو بہ طور خاص اہمیت دی۔ انھوں نے اسلامی اساطیر اور نیم تاریخی واقعات سے اپنی نظموں کا مواد حاصل کیا لیکن انھیں سرسری طور پر ہو بہو بیان کرنے کے بجائے انھوں نے اپنے تخلیقی ذہن کا استعمال کرتے ہوئے واقعات کی بالکل نئی توجیہہ پیش کرنے میں دلچسپی دکھائی۔ اس بنا پر ان کی نظموں میں تلمیحی اشارے توضرورموجود ہوتے ہیں لیکن تخلیقی ہنر مندی کے سبب بیان کیے گئے واقعات میں غضب کا تنوع دکھائی دینے لگتا ہے۔ حقیقی زندگی میں میراجی قدم قدم پر نفسیاتی الجھنوں کا شکاررہے۔ یہی الجھنیں ان کی نظموں میں بھی موجود ہیں جو ان کے ذہنی انتشار کا ثبوت ہیں۔ میرا جی کی شخصیت پر اسرار تھی۔ ان کے مزاج میں افسردگی کا دخل تھا۔ زندگی کے تئیں ان کا رویہ قدرے مبہم تھا جس کی بنا پر خود ان کی شخصیت اور شاعری کی تفہیم میں دشواریاں پیش آتی ہیں۔ ان کی نظموں میں جنسی خواہشات کا غلبہ ہے لیکن انھیں خواہشات میں ناتکمیلیت کا احساس بھی پوشیدہ ہے جو ان کی شخصیت اور شاعری کی نفسیاتی الجھنوں کو نمایاں کرتا ہے۔ 
نئی نظم میں رفتہ رفتہ جدید نظم کا بھی غلبہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ جدیدیت چوں کہ صنعتی تہذیب کی پیداوار تھی۔ لہٰذا مادیت کا رجحان فروغ پاتا گیا۔ مادیت نے اجتماعی شعور کے بجائے انفرادی شعور کو فروغ دیا۔ فرد کے سوچنے سمجھنے کے رویے میں انقلابی تبدیلی آئی۔ پہلے وہی سماج اور معاشرے کی فلاح و بہبودی سے متعلق غور کیا کرتا تھا۔اب اسے اپنی زندگی اور اس زندگی کے متعدد مسائل ہی زیادہ اہم محسوس ہونے لگے اور وہ انھیں کے حصار میں الجھتا چلا گیا۔ رفتہ رفتہ اس کے انفرادی ذہن نے معاشرے کے متعلق سوچنا چھوڑ دیا اور وہ اپنی ذات کے خول میں بند ہوتا چلا گیا۔ جب اس نے اپنی ذات کے نہاں خانوں میں جھانکنے کی کوشش کی تو اسے ایک ایسی دنیا نظر آئی جس سے اب تک وہ ناواقف تھا۔ فرد نے اپنے اندر کی دنیا کی از سر نو بازیافت میں دلچسپی دکھائی اور رفتہ رفتہ سماج سے کٹتا چلا گیا۔ جدید معاشرے کا عام فرد بھی مشینی زندگی کا حصہ بن گیا اور اپنے علاوہ سماج میں اسے کسی سے بھی کوئی مطلب نہیں رہ گیا۔ لیکن اس عمل میں وہ مزید تنہائی کا شکار ہو گیا۔ تنہائی کے شدید احساس نے انسان کو مایوسی اور محرومی کی مختلف کیفیتوں میں مبتلا کیا اور جدید شعرا نے ان کیفیتوں کو نظموں میں کامیابی کے ساتھ نمایاں کیا۔ جدید نظموں میں زندگی کی خوش گوار قدروں سے محرومی بھی قدم قدم پر اجاگر ہوتی ہے۔ آدرش کا فقدان ذہنی انتشار کو نشان زد کرتا ہے۔ تہذیبی زوال جہاں انسانی زندگی کے کھوکھلے پن کو نمایاں کرتا ہے وہیں انتشار ذات کی مختلف کیفیات بھی جدید نظم میں پوری شدت کے ساتھ ظاہر ہوتی ہیں۔ جدید نظموں میں تحفظ ذات کا مسئلہ، ایک اہم مسئلے کے طور پر رونما ہوتا ہے۔ فرد ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہا ہے جہاں اس کا وجود کسی طرح محفوظ نہیں رہ گیا ہے۔ اگر وجود کسی طرح باقی بھی ہے تو اس کی اندرونی ذات شکست و ریخت کے عمل سے دو چار ہو رہی ہے151
ہر اک سایہ /چلتی ہوا کا پر اسرار جھونکا ہے /جو دور کی بات ہے
دل کو بے چین کر کے چلا جائے گا /ہر کوئی جانتا ہے
ہواؤں کی باتیں کبھی دیر تک رہنے والی نہیں ہیں
کسی آنکھ کا سحر دائم نہیں ہے /کسی سایے کا نقش گہرا نہیں ہے۔
(’سایے ‘ 150 منیر نیازی)
میں گوتم نہیں ہوں/مگر میں بھی جب گھر سے نکلا تھا / یہ سوچتا تھا
کہ میں اپنے آپ کو ڈھونڈنے جا رہا ہوں /کسی پیڑ کی چھاؤں میں
میں بھی بیٹھوں گا / اک دن مجھے بھی کوئی گیان ہوگا/مگر جسم کی آگ
جو گھر سے لے کر چلا تھا / سلگتی رہی / گھر کے باہر ہوا تیز تھی
اور بھی یہ بھڑکتی رہی / ایک اک پیڑ جل کر ہوا راکھ
میں ایسے صحرا میں اب پھر رہا ہوں / جہاں میں ہی میں ہوں / جہاں میرا سایہ ہے 
سایے کا سایہ ہے /اور دور تک /بس خلا ہی خلا ہے ۔
(’میں گوتم نہیں ہوں‘ 150 خلیل الرحمن اعظمی )
یہ کیسی سازش ہے جو ہواؤں میں بہہ رہی ہے / میں تیری یادوں کی ساری شمعیں
بجھا کے خوابوں میں چل رہا ہوں /تری محبت مجھے ندامت سے دیکھتی ہے
وہ آبگینہ ہوں خواہشوں کا /کہ دھیرے دھیرے پگھل رہا ہوں / یہ میری آنکھوں میں
کیسا صحرا ابھر رہا ہے / میں بال روموں میں بجھ رہا ہوں/شراب خانوں میں جل رہا ہوں
جو میرے اندر دھڑک رہا تھا /وہ مر رہا ہے ۔
(’نوحہ‘ 150 ساقی فاروقی)
نہ فرد ہی کا مکاں سلامت / نہ اجتماعی وجود ہی زیر سائباں ہے
کوئی خدا تھا تو وہ کہاں ہے ؟ /کوئی خدا تو ہے وہ کہاں ہے ؟
مہیب طوفاں مہیب تر ہے /پہاڑ تک ریت کی طرح اڑ رہے ہیں
بس ایک آواز گونجتی ہے /مجھے بچاؤ، مجھے بچاؤ /مگر کہیں بھی اماں نہیں ہے
جو اپنی کشتی پہ بچ رہے گا / وہی علیہ السلام ہوگا ۔
(’اکھڑتے خیموں کا درد‘ 150 مظہر امام)
دواؤں کی الماریوں سے سجی اک دکاں میں / مریضوں کے انبوہ میں مضمحل سا
اک انسان کھڑا ہے / جو اک نیلی کبڑی سی شیشی کے سینے پہ لکھے ہوئے
ایک اک حرف کو غور سے پڑھ رہا ہے / مگر اس پہ تو ’زہر‘ لکھا ہوا ہے
اس انسان کو کیا مرض ہے / یہ کیسی دوا ہے ؟۔
(’نیا امرت‘ 150 شہریار)
ان نظموں کے ذریعے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ زندگی اور کائنات کی پیچیدہ گتھیاں ہر لمحہ جدید شاعروں کو ذہنی اذیتوں میں مبتلا رکھتی ہیں۔ انسانیت کی بقا اور وجود انسانی کی تعظیم کو انھوں نے بنیادی موضوع کے طور پر اپنی نظموں میں پیش کیا ہے۔ ان شعرا نے اپنی نظموں کے ذریعے جبرو استبداد ، عدم مساوات، استحصال اور نام نہاد تہذیب انسانی کی فتنہ انگریزیوں پر سخت چوٹ کی ہے۔ یہ شعرا اپنی نظموں کے ذریعے موہوم ثقافت کی مذمت اور بے رحم صداقت کی شدت کو نمایاں کرتے ہیں۔ 
بیسویں صدی کے نصف دوم میں منظر عام پر آنے والی نظمیہ شاعری کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ صارفی عہد کا انتشار مشترکہ طور پر جدید نظموں میں اجاگر ہوا ہے۔ اس فضا میں سانس لینے والا انسان ہر قدم پر شکست و ریخت کے عمل سے دو چار ہے، لیکن نظم کے چنندہ شاعروں نے اپنی شاعری کے ذریعے آنکھوں کے بجھتے ہوئے دیوں میں ہر لمحہ زندگی کی چمک برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ان شعرا کے نزدیک اس کی ٹمٹماتی لو کا تحفظ زندگی کا ایک اہم فریضہ ہے، کیوں کہ اس ضمن میں ذرا سی کوتاہی اپنے آپ کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہے۔ نئی نظم کے شاعروں نے اپنی نظموں میں مخصوص کیفیات کی تصویر کشی کے لیے جو صلاحیتیں استعمال کی ہیں، جن استعاروں کا سہارا لیا ہے اور ذہن میں پوشیدہ منظر کی ہو بہو عکاسی کے لیے لفظیات کا تانہ بانہ جس طرح بُنا ہے، اس سے کائنات کا ایک وسیع منظر نامہ پوری طرح روشن ہوجاتا ہے۔ بعض نظمیں مختصر ہونے کے باوجود ذہن و دل پر خاص تاثر مرتب کرتی ہیں، کیوں کہ ان نظموں میں برتے گئے اشارے، خیال کی وسعتوں کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔

Mr. Rashid Anwar Rashid
Department of Urdu
Aligarh Muslim University
Aligarh - 200002
Mob:- 09358257137







قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

بدھ، 30 جنوری، 2019

نثری نظم : ہیئت اور تکنیک کی میزان مضمون نگار:۔ حنیف کیفی





نثری نظم : ہیئت اور تکنیک کی میزان

حنیف کیفی
پچھلی کئی دہائیوں سے اردو میں نثری نظم موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ میرے علم کے مطابق اس بحث کا آغاز 1974 میں ڈاکٹر وزیرآغا کے رسالے ’اوراق‘ میں ’سوال یہ ہے‘ عنوان کے تحت ایک مذاکرے کی شکل میں ہوا تھا۔ اس کے بعد نہ صرف یہ کہ اس موضوع کے دروازے کھل گئے، بلکہ اچھی بری بہت سی نثری نظمیں بھی وجود میں آنے لگیں۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ شعر و ادب کی دنیا میں جب بھی کوئی نیا تجربہ وجود میں آتا ہے تو فطری طور پر اس کی حمایت اور مخالفت دونوں میں خاصی گرم جوشی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ پرانی نسل کے بزرگ، جو اپنی روایات کو جزوِ ایمان سمجھتے ہیں، کسی بھی ’بدعت‘ کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے، اور نئی نسل کے جوان تقلید اور فیشن پرستی کی رو میں ہر نئی چیز کو اپنانے کی دوڑ میں اندھا دھند شامل ہوجاتے ہیں۔ نثری نظم کے سلسلے میں بھی یہ دونوں شدت پسند رویے، جن میں ہوش سے زیادہ جوش اور سخن فہمی کے بجائے طرف داری یا بے تعلقی کی کارفرمائی ہوتی ہے، ایک فطری اور لازمی امر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان انتہاپسندانہ رویوں سے قطع نظر، اس ضمن میں کئی ایسے بھرپور مقالے بھی منظرعام پر آئے جن کو علمی دلائل پر استوار کیا گیا تھا، اور جن سے اتفاق یا اختلاف کے باوصف، اس نئے تجربے کے خد و خال کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، نیز مزید بحث کی راہیں کھلتی ہیں۔ متشاعروں اور تیسرے درجے کے شاعروں کی بے ہنگم تحریروں کے ساتھ ساتھ متعدد جینوئن شعرا نے بھی ان نثر پاروں میں، جنھیں ’نثری نظم‘ کا نام دیا گیا ہے، عمدہ شاعری کے نمونے پیش کیے ہیں۔ بات سے بات نکالتے ہوئے یہ واضح کرتا چلو ں کہ میں شاعری اور نظم کو الگ الگ خانوں میں رکھتا ہوں۔ نثری نظم کے موضوع پر اپنے معروضات پیش کرنے سے پہلے اس بات کی وضاحت بھی نامناسب نہ ہوگی کہ مجھے شروع ہی سے اس اصطلاح سے اختلاف رہا ہے، اور یہ اختلاف کسی اور وجہ سے نہیں بلکہ لغوی اعتبار سے ہے۔ لفظ ’نثری‘ کو اگر یاے نسبتی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اس کے معنی ’نثر سے متعلق‘ یا ’از اقسامِ نثر‘ ہوں گے۔ نثری نظم کو ان معنی کے ساتھ Identify کرنے کے لیے نہ تو نثری نظم لکھنے والے اور نہ اس کی حمایت کرنے والے تیار ہوں گے، جو اسے از قسمِ نظم منوانے پر مصر ہیں۔ اگر ’نثری‘ کو یاے توصیفی کے تعلق سے بیان کیا جائے تو اس کے معنی ’شعری‘ کے نقیض کی حیثیت سے ’نثر کے انداز کی‘، ’ناثرانہ‘ یا ’نثریت کی حامل‘ قرار پائیں گے، اور اس طرح نثری نظم کا رشتہ Prosaic سے جاملتا ہے، اور کوئی بھی شاعر اپنی شاعری کو Prosaic کہلانا پسند نہیں کرے گا۔ اگرچہ بجا طور پر یہاں یہ اعتراض کیا جاسکتا ہے کہ Prosaicکا فیصلہ سیا ق کے حوالے سے ہوتا ہے، لیکن اصطلاح وضع کرنے میں یہ احتیاط ضروری ہے کہ صرف مطلوبہ مفہوم برآمد ہو اور قریب یا بعید کسی بھی دوسرے مفہوم کی گنجائش یا شائبہ نہ رہے۔
بہرحال نثری نظم کی اصطلاح دوسری متعدد غلط اصطلاحات کی طرح غلط العام کا درجہ پاکر رائج ہوچکی ہے۔ اس لیے اب اس سے مفر بھی نہیں۔ اسی مجبوری کی وجہ سے مجھے اپنے اس مضمون کے عنوان میں اس اصطلاح کو استعمال کرنا پڑا، حالانکہ میں نے اپنی کتاب ’اردو میں نظمِ معرا اور آزاد نظم‘ (مطبوعہ 1982) میں ضمناً اس موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے دوسرے کئی حضرات کی طرح ’نظمِ منثور‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی، یعنی ایسی نظم جو نثر کی ہیئت میں لکھی جائے۔ نام یا پہچان کے لیے ’نظمِ منثور‘ کی اصطلاح مناسب ہونے کے باوجود اس کا اختیار بھی میرے لیے ایک طرح کے جبر کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ اصل مسئلہ یہی لفظ ’نظم‘ ہے۔ سارے سوالات اس ایک لفظ سے اٹھتے ہیں اور میرے اس مختصر مضمون میں بھی بحث کامرکز و محور یہی لفظ ’نظم‘ ہے جو نثری یا منثور کوئی بھی صفت اس کے ساتھ استعمال کی جائے، بہرحال نثر سے جڑا ہوا ہے۔ اس طرح بنیادی سوال یہ ہے، اور جو پہلے سے بھی اٹھایا جاتا رہا ہے، کہ نثری نظم کو نثر تصور کیا جائے یا نظم قرار دیا جائے یا پھر اسے نثری نظم کہنے کی بجائے ’نثر میں شاعری‘ کہا جائے، جیسا کہ شمس الرحمن فاروقی کے مقالہ ’نثری نظم یا نثر میں شاعری‘ کے دوسرے ٹکڑے سے مترشح ہے۔ خود فاروقی صاحب کے مقالے کے اس عنوان سے ظاہر ہے کہ نظم اور شاعری میں فرق و امتیاز ہے۔ معاصر اردو نثری نظم کا رشتہ مغربی اثرات سے جوڑا جاتا ہے لیکن خود مغرب میں Prose Poem کو ’نثر میں شاعری‘ ہی کہا گیا ہے۔ انگریزی لغات میں Prose Poem کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:
"A Piece of imaginative poetic writing in prose."
بودلیئر، جسے عام طور پر اس پیرایۂ اظہار کا موجد کہا جاتا ہے، اس نے بھی اپنی نظموں کو "Poemes En Prose" کہا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اس نے اور اس کے بعد دوسرے فرانسیسی شعرا نے اپنی اس طرح کی شعری کاوشوں کو نثر کی طرح پیراگرافوں میں تحریر کیا ہے۔ جہاں تک انگریزی نظم کا تعلق ہے، اس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہاں نثری نظم روایت نہ پاسکی۔ اصل بات یہ ہے کہ وہاں اس کی علاحدہ سے کوئی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی، کیونکہ وہاں آزاد نظم کی فارم ہی میں اس کی گنجائش موجود تھی۔ انگریزی میں فری ورس کی جو تعریف کی گئی ہے اس کے مطابق وہ ایسی نظم ہے جس کی تشکیل مختلف اوزان و بحور کے امتزاج سے بھی اور وزن کو یکسر نظرانداز کرکے بھی کی جاسکتی ہے۔ اس تعریف کی مثال کے طور پر ہلڈا ڈو لِٹل اور والٹ وٹمین جیسے شعرا کی فری ورس کو پیش کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو انگریزی کی آزاد نظم ’نظمِ منثور‘ کو بھی محیط ہے۔ 
اب رہا سوال اردو کا تو ذرا گردشِ ایام کو پیچھے کی طرف لوٹا کر دیکھیے اور نثر میں شاعری کے اس انداز کو ملاحظہ فرمائیے جسے ’شعرِ منثور‘ کے نام سے پیش کیا گیا تھا اور جس کا آغاز اور رواج بیسویں صدی کی تیسری دہائی کے ابتدائی برسوں ہی میں چینی اور جاپانی نظموں کے ترجموں اور ٹیگور کی شاعری کے زیراثر ہوگیا تھا۔ گو آج کی نثری نظم کی انفرادی اہمیت منوانے کے لیے اس کا اعتراف نہیں کیا جاتا، لیکن دراصل یہ شعرِ منثور جسے ایک ادیب نے ’نثرِ شاعری‘ کے نام سے بھی موسوم کیا ہے (ملاحظہ ہو مضمون ’ادبیاتِ اردو‘ از سالک بٹالوی مطبوعہ ہمایوں اکتوبر 1923، ذیلی عنوان ’ادب کی نئی بیماری‘) معاصر نثری نظم کی پیش رو ہے۔ میں نے ’اردو میں نظم معرّا اور آزاد نظم‘ میں اس ضمن میں بحث کرتے ہوئے دس سال کی مدت پر پھیلے ہوئے مختلف رسالوں سے شعرِ منثور کی چند مثالیں پیش کی ہیں اور یہ واضح کیا ہے کہ مختلف زمانوں کے مزاج اور اظہاری رویوں سے قطعِ نظر اس ’نثرِ شاعری‘ کے پاروں میں آج کی نثری نظم کی تقریباً تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ بے محل نہ ہوگا اگر یہاں ان میں سے دو مثالیں پیش کردی جائیں۔ 
شرابی کا گیت:
151شاعر رائنر میر یارِلکے (Rainer Maria Rilke)
مترجم: ڈاکٹر سلیم الز ماں)
میرے اندر نہ تھا، جاتا تھا، آتا تھا۔
میں نے روکنا چاہا۔
شراب نے روکا
(اب کچھ یاد نہیں کہ کیا تھا)
پھر اس نے میرے لیے کبھی یہ چیز روکی کبھی وہ۔
پھر میں نے اپنے تئیں بالکل اس کے حوالے کردیا۔
میں سڑی
اور اب میں اس کا کھیل ہوں
مجھے جدھر چاہے پھینکے، میری اوقات پہ تھوکے،
چاہے ابھی اس جانور کے ہاتھ بیچ دے
جس کا نام موت ہے۔
اور جب اس نے مجھ میلے کچیلے پتے کو جیت لیا
تو مجھ سے اپنی کھوپڑی کی پپڑیاں کھجائیں
اور مجھے لید کے ڈھیر پر پھینک دیا
(’جامعہ‘ اگست 1929، ص ۔123-124)
بلا عنوان از گلچیں: 
میں نے دیکھا دیکھتی آنکھوں
چہکنے والی چڑیاں پیاری پیاری
دوکانوں میں بکتی
لوگوں کے کھانے کو
بکتی، دوکانوں میں
حماقت بازار کی!
میں نے دیکھا خواب میں
گیہوں میں کیڑا
اور دو کانوں میں کچھ نہیں
لوگوں کے کھانے کو
دوکانیں خالی
حماقت بازار کی!
(’ہمایوں‘ ستمبر 1934، ص 73)
دوسری مثال میں بیشتر فقر ے موزوں ہیں۔ عجزِ کلام کی یہ صورت آج کی نثری نظموں میں بھی پائی جاتی ہے۔ اب دیکھیے کہ ’’شعرِ منثور‘‘ کو رواج دینے والے ادیبوں نے بھی، جو اس اصطلاح کے وضع کرنے میں محتاط تھے بلکہ دیکھا جائے تو آج کی بہ نسبت زیادہ باشعور بھی تھے، اپنی کاوشوں کو نظم کہنے کے بجائے نثر میں شاعری ہی کہا ہے، یعنی جو بنیادی طور پر نثر ہے مگر اسے شاعرانہ انداز میں پیش کردیا گیا ہے۔ اس میں بھی یہی نکتہ پوشیدہ ہے کہ نظم کے ایک صنفِ شعر ہونے کے باوجود، شاعری اپنے اظہار کے لیے نظم کے پیرایے کی محتاج نہیں۔ اس کا ثبوت اردو نثر کے سب سے بڑے شاعر محمد حسین آزاد سے لے کر آج تک اردو شعر و ادب کی تاریخ سے فراہم ہوتا ہے۔ ان تخلیقی یا شاعرانہ نثر لکھنے والوں کی تحریروں کو نثری پیراگراف میں لکھنے کے بجائے جملوں اور فقروں کو الگ الگ سطروں میں لکھ دیا جائے، جیسا کہ شمس الرحمان فاروقی اور دیگر حضرات نے کیا بھی ہے، تو شکل و صورت کے اعتبارسے بھی اور شعری طرز اظہار کے اعتبار سے بھی ان میں اور آج کی نثری نظم اور پچھلے زمانے کے شعرِ منثور میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آئے گا۔ آج سے آٹھ نو دہائی پہلے شعرِ منثور یا نثری شاعری کی موجودگی اس خیال کی تردیدکے لیے کافی ہے کہ نثری نظم آزاد نظم کی توسیع یا اس کے بعد کی چیز ہے۔
شاعری کی حیثیت روح کی ہے اور جس پیرایۂ اظہار کو وہ اختیار کرتی ہے اس کی حیثیت قالب کی ہے اور یہ قالب نثر بھی ہوسکتا ہے اور بہ شمول نظم کوئی شعری صنف یا ہیئت بھی ہوسکتی ہے۔ شاعری کی یہ روح جسے شعریت کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے اپنے اظہار کے لیے، جیسا کہ پہلے کہا گیا، نظم کے قالب کی محتاج نہیں۔ اسی چیز کوڈاکٹر وزیرآغا نے ’شعری مواد‘ کا نام دیا ہے۔ بنیادی طور پر مجھے ان کے خیال سے اتفاق کے باوجود شعری مواد کی ترکیب سے اختلاف ہے۔ کوئی بھی مواد اپنی اصل کے اعتبار سے نہ شعری ہوتا ہے نہ نثری۔ ادیب یا شاعر کا احساس، اس کا تخلیقی رویہ، اس کا فنی برتاؤ اسے شعری یا نثری بناتا ہے۔ اس شعریت کی کارفرمائی نثری نظموں میں بھی پائی جاتی ہے اس کی بنیاد پر نثری نظم کو نظم کی ایک صنف یا ہیئت قرار دینا کس حد تک درست ہے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ نثری نظم کے جوازکے طور پر اس کی حمایت میں عام طور پر جتنی بھی بحثیں کی گئی ہیں اور ان کے ذریعے نظم کی جتنی بھی تعریفیں کی گئی ہیں یا اس کی جتنی بھی خصوصیات بیان کی گئی ہیں جیسے شدتِ احساس، ارتکازِ خیال، الفاظ کا تخلیقی استعمال وغیرہ سب کی سب شاعری سے متعلق ہیں نہ کہ نظم سے۔ نظم ایک شعری صنف ہے لیکن ایک ایسی ڈھیلی ڈھالی صنف جس کے نہ تو موضوعات متعین ہیں اور نہ اس کے لیے کسی ہیئت کی تخصیص و تعیین ہے۔ اس کے باوصف اس کی مختلف اقسام اپنی ہیئت یا مخصوص پیرایۂ اظہار کی بدولت اپنی واضح اور منفرد شناخت رکھتی ہیں۔ یہ بات نثری نظم کے ساتھ نہیں۔ ہیئت اور شعری پیرایۂ اظہار کی حیثیت سے اس کی انفرادی اور بے میل شناخت ممکن نہیں۔ اس کی ہیئت نثر کی ہیئت ہے جسے جملوں اور فقروں کو الگ الگ سطروں میں لکھنے کی تکنیک کے ذریعے نظم کی شکل دینے کی سعیِ نامشکور کی جاتی ہے۔ ہیئت اصل کے خلاف، تکنیک اکثر وبیش تر ہنر سے عاری۔ لے دے کر بات صرف آہنگ کی رہ جاتی ہے، تو اس کا آہنگ بھی شعری آہنگ نہیں ہے۔ یہاں آہنگ سے میری مراد خارجی آہنگ ہے، ایسا خارجی آہنگ جو نہ صرف موجود ہو بلکہ محسوس بھی ہو، کیونکہ داخلی آہنگ تو شاعری یا شعریت کے ذیل میں آتا ہے۔ نثری نظم میں داخلی آہنگ تو ہے لیکن محسوس خارجی آہنگ نہیں جو نظمیہ پیرایۂ اظہار کے لیے ضروری ہے۔
انگریزی زبان کو بنیاد بنا کر نثر میں آہنگ کی موجودگی کی بات کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں میں نے تفصیل کے ساتھ بحث ’اردو میں نظم معرّا اور آزاد نظم‘ میں آزاد نظم کے ذیل میں کی ہے، جسے دہرانا نہ تو ضروری ہے اور نہ مناسب۔ مختصراً یہ کہنا بے محل نہ ہوگا کہ اردو اور انگریزی دو الگ الگ زبانیں ہیں اور ان کی اپنی اپنی لسانی خصوصیات ہیں۔ انگریزی ایک تاکید اساس (Stress-Based)زبان ہے، جس کا ہر لفظ، اور ہر عروضی رکن بھی، مستثنیات سے قطعِ نظر، ایک تاکیدی جزو (Stressed Syllable) اور باقی اجزا غیرتاکیدی (Unstressed) ہوتے ہیں۔ تاکیدی جزو کو لہجے پر زور دے کر ادا کیا جاتا ہے، جبکہ غیرتاکیدی جزو کے ساتھ یہ صورت نہیں ہوتی۔ اب انگریزی کو انگریزی کے صحیح لب و لہجے اور اندازکے ساتھ پڑھایا بولا جائے تو تاکید کی بدولت اور تاکیدی اور غیرتاکیدی اجزا کے اپنی اپنی باری سے ادا ہونے پر نثر میں بھی زیر و بم یا اتارچڑھاؤ کی ایک کیفیت پیدا ہوجاتی ہے جو محسوس کی جاسکتی ہے۔ 
اس طرح نثر کا یہ محسوس خارجی آہنگ شعری آہنگ یا عروضی آہنگ نہ ہوتے ہوئے بھی آزاد یا منثور نظم کی ضروریات کے تحت شعری آہنگ کا بدل یا قائم مقام بن جاتا ہے، اور انگریزی زبان کا عروضی نظام سخت اور جامد نہ ہونے کے باعث نظم کے لیے بھی قابلِ قبول ہوتا ہے، نیز ایک عام قاری بھی اس کی ادائیگی پر قادر ہوتا ہے۔ اردو میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ نثر میں بھی ایک آہنگ ہوتا ہے، اردو نثر میں وہ قابلِ شناخت اور محسوس خارجی آہنگ نہیں ہوتا جس کا ذکر کیا گیا۔
ماہرینِ لسانیات چاہے اپنے علمی دلائل سے اردو زبان میں Stress کی موجودگی کو ثابت بھی کردیں لیکن ان کی علمی بصیرتوں کے تمام تر احترام کے باوجود، جہاں تک اردو کی عام بول چال اور لہجہ نیز فطری قرأت کا تعلق ہے، تو مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ، کچھ علاقائی اثرات اور مخصوص لسانی صورتوں جیسے جملوں اور فقروں کے استعجابیہ یا استفہامیہ انداز کے استثنا کے ساتھ، بنیادی طور پر اردو تاکید اساس زبان نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو بولنے یا اس کی نثر پڑھنے میں وہ محسوس خارجی آہنگ نہیں پیدا ہوپاتا جو شعری آہنگ کی جگہ لے سکے۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ نثری نظم بلکہ آزاد نظم بھی سنائی جانے کے لیے نہیں پڑھی جانے کے لیے ہوتی ہے۔ ادب کا ذوق رکھنے والے ایک عام قاری سے (اور اس میں اعلیٰ تعلیم یافتہ قاری بھی شامل ہیں)یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ ایک ایسی نظم کو، جس کی بنیاد نثری آہنگ پر رکھی گئی ہو، جس طرح ساقی فاروقی یا کوئی اور شاعر اپنی تربیت یافتہ ادائیگی اور ڈرامائی انداز کے ساتھ پڑھتا ہو، اسی انداز سے پڑھ سکے گا۔ ان معروضا ت کی روشنی میں مجھ جیسے کم علم کے حلق سے یہ بات نہیں اترتی کہ نثری نظم کی بنیاد نثر کے فطری آہنگ پر رکھی گئی ہے، اس کے باوجود وہ نظم ہے۔ میرے نزدیک نثر کا فطری آہنگ، کم ازکم اردو کی حد تک، نظم کا آہنگ ہو ہی نہیں سکتا۔ نظمیہ پیرایۂ اظہار کے لیے شعری آہنگ لازمی ہے، جو عروضی ارکان کے کسی نہ کسی شکل میں ترتیب پانے ہی سے ظہو رمیں آتا ہے۔ اس میں آزادیاں بھی انھیں حدود میں اختیار کی جاسکتی ہیں جو عروض کی رو سے ممکن یا جائز ہیں۔ اب اسے چاہے جبر کہیے یا کچھ اور اس سے مفر نہیں۔ایسی صورت میں یہ بات سوچنے کی ہے کہ منثور شاعری کو شعری نثر کہنا مناسب ہوگا یا نثری شاعری اور منثور نظمو ں کو نثری نظم کہنا مناسب ہوگا یا شعری نثر پارہ۔
نثری نظم کے کچھ’طرف دار‘ حضرات اس کے جواز کے حق میں اس خیال کا اظہار کرتے ہیں کہ چونکہ شاعر نے خود اسے نظم کہا ہے، اس لیے ہمیں بھی اسے نظم ماننا چاہیے۔ یہ تاویل یا دلیل وکالتِ محض کا درجہ رکھتی ہے اور سخن فہمی کے بجائے طرف داری پر مبنی ہے، نیز یہ غلط فہمی و غلط روی کی راہیں ہموار کرتی ہے۔ اوّل تو یہ کہ شاعر کی بات پر آمنا صدقنا کہہ کر اسے کھیل کھیلنے کی چھوٹ دے دی جائے تو بے چاری تنقید کا گوشۂ عافیت کہاں رہے گا۔ دوسرے یہ کہ شاعر کبھی کچھ مصلحتوں کے تحت، کبھی لاعلمی یا خوش فہمی اور کبھی خود تشہیری کے طور پر اپنی ذات اور کلام کے ان پہلوؤں کو نمایاں کرنے کے لیے، جو فطرتاً اور عموماً قابلِ توجہ نہیں سمجھے جاتے، اس طرح کے اعلانات و بیانات کرتا ہے۔ کیا ہم ان تمام دعاوی کو بے چون و چرا تسلیم کرلیں! تنقید نے تو اقبال جیسے عظیم الشان شاعر کو نہیں بخشا اور انھوں نے جن چہار مصرعی قطعات کو رباعی کا نام دیا تھا، رباعی ماننے سے انکار کردیا اور اس طرح ان کے نظریے کو سرے سے مسترد کردیا، حالانکہ ان قطعات میں سوائے رباعی کی بحر کے رباعی کے باقی تمام لوازم موجود ہیں۔ لہٰذا چاہے وہ نثری نظم ہو یا کچھ اور اس طرح کی وکالت سے احتیاط لازم ہے۔
اپنے معروضات کا اختتام اس وضاحت کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں کہ ادبی شریعت میں تجربہ گناہ نہیں ہے۔ تجربہ مستحسن ہے کیونکہ یہ زندہ ادب کی پہچان اور ادب کی زندگی اور رفتار کی علامت ہے۔ لیکن کسی بھی تجربے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ قبولِ عام کی منزل سے گزر کر خود اپنی جگہ ایک مستحکم روایت بن جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا نثری نظم کا تجربہ قبولِ عام حاصل کرکے روایت کا درجہ پاچکا ہے؟ اور کیا نثری نظم نے ایک غالب یا حاوی پیرایۂ اظہار کی حیثیت حاصل کرکے شعری اظہار کے دوسرے پیرایوں کی بالادستی ختم کردی ہے، جس طرح سے آزاد نظم نے پابند نظم کی بالادستی اور اجارہ داری ختم کردی ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو اس خوش گمانی کا کیا جواز ہے کہ اردو میں مستقبل کی نظم نثری نظم ہی ہوگی؟

Prof. Haneef Kaifi
A-47, Zakir Bagh, Okhla Road, New Delhi - 25, Mob:09717011742







قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے