منگل، 26 جون، 2018

میرا جی کی تنقید۔ مضمون نگار ابو ذر ہاشمی





میرا جی کی تنقید
ابو ذر ہاشمی
میراجی کی ادبی شخصیت دو نیم رہی ہے ۔وہ ایک ایسے عہد کا زائیدہ و پروردہ تھا، جو سیاسی، معاشی اور معاشرتی جبرسے جوجھ رہا تھا۔اس معاشرتی اور سیاسی جبر نے اردو ادب کی دنیا کو بھی اتھل پتھل کرڈالا تھا۔تغیر و تبدل ہی وقت کا مزاج ٹھہرا تھا۔مغلوں کے زوال اور انگریزوں کے اقبال نے ہندوستانیوں پرگہرا اثر ڈالاتھا ۔شکست خوردہ قوم کی اپنی نفسیات ہوا کرتی ہے۔ اس نفسیات نے اپنا کام کیا ۔ ان میں یہ احساس جاگزیں ہوگیا کہ مغرب کی یا باہر کی ہر شے افضل و برتر ہے ۔ یہ شکست خوردہ قوم کا احساسِ کم تری تھا ، جو خود اپنی ذات کی نفی کرنے پر آمادہ تھا۔ انیسویں صدی کے آخر نصف میں اس احساسِ کم تری نے شدت اختیا ر کر لی۔ سر سیدمغرب کے پرستاروں میں تھے۔ان کے زیر سایہ اردو ادب میں تغیر و تبدل کی آندھی ایسی چلی کہ ہماری ادبیات کی مستحسن روایتیں بھی دھند میں کھو کر رہ گئیں۔دھند میں کیا کھوئیں ، نظیر کے مصرعے کی تعبیر بن گئیں، ’سب ٹھاٹ پڑا رہ جائے نگا جب لاد چلے گا بنجارہ‘ ۔
سر سید کے زیرِ اثر آزاد اور حالی نے بھی شاعری کے معیار کو انگریزوں کے صندوقوں میں بنددیکھا تھا۔اردو ادب کے بعض دانشوروں نے اس صندوق میں تاک جھانک بھی کی تھی۔امداد امام اثر نے مغرب کے ادب گزاروں کا جائزہ بھی لیا تھا۔اردو تنقید غالب کی شرح وتفہیم کے وسیلے سے اپنے انفرادی وجود کا اشارہ بھی دینے لگی تھی۔ نئی ملوکیت نے ذہن و فکر پر یلغار کی تھی۔ استعماریت نے نو آبادیاتی مزاج کی تشکیل اس طرح کی کہ بہت سے قلم کار مغرب کے ثنا خواں بن کر سامنے آئے۔ مخزن میں ایسے مضامین کا سلسلہ شروع ہوا۔ مقصودمغرب کے اصول شعر و نقد کو اردو قاری سے آشنا کروا رہا تھا۔ بجنوری ، عبدالطیف، مجنوں وغیرہ اپنی تنقیدی کاوشوں میں اردو ادب کو مغرب کے تناظر میں دیکھنے لگے تھے۔ 
میراجی بھی تغیر و تبدل کا طرف دار تھا۔ اردو شاعری کے نقطہ انحراف کے طور پر اس کی حیثیت مسلم بھی ہے ۔ مگر یہ انحراف ادبی مزاج کی سائکی میں گھل مل جانے اور جذب ہوجانے سے آج بھی گریزاں ٹھہرا۔ انجذاب سے گذرتا توشاید مدغم ہوکر اپنی انفرادیت کھو دیتا۔اس طرح اس کاذہن و فکر کشمکش سے نبرد آزما رہا۔یہی کشمکش اس کا اختصاص بھی ہے، اس کا انفراد بھی ۔اس کشمکش نے اس کی ادبی حیثیت کو دو نیم بھی رکھا ہے ۔اس کی ایک حیثیت تنقید گزار کی بھی ہے۔میراجی نے 1936 سے 1941 تک ادبی دنیا میں تواتر کے ساتھ مغرب اور مشرق کے شاعروں پر مضامین لکھے ۔ حالی و آزادکی تلاش کی ہوئی میراجی تک اس صندوق کی چابی آئی تو اس نے ایک حریص کی طرح اس صندوق کی تمام اشیا کو بکھیر کر رکھا، نہ ہی اسے اپنی دولت جانا۔ہاں ایسی چیزوں پر ضرور نظر جمائی جن میں انوکھا پن تھا اور جو ہماری آنکھوں کو خیرہ کر سکتی تھیں۔اس نے مختلف زبانوں کے ان شاعروں پر قلم اٹھایا، جو مشرق و مغرب کی دنیا میں اپنا الگ انفراد رکھتے تھے ۔ایسے مضامین جب یکجا کردیے گئے تو’ مشرق و مغرب کے نغمے‘ کی شکل میں ہمارے سامنے آئے اور اسی کے تتمے کے طور پرمضامین کا دوسرا مجموعہ ’ اس نظم میں‘ سامنے آیا۔ 
مشرق و مغرب کے نغمے میراجی کی ادب شناسی کی کلید بھی ہے اور مشرق ومغرب کے ادب کے مزاج کا نقیب بھی ۔ساتھ ہی اردو شاعری کی دنیا میں نظم نگاری کے فروغ کی سعی مشکور بھی۔یعنی مضمون نگار کا معہودِ ذہنی بھی۔میراجی نے ان مضامین میںیونانی،فرانسیسی،جرمنی، انگریزی، امریکی، جاپانی ، چینی ،رومانی وروسی زبانوں کے اہم شاعروں کے منتخب کلام کے ترجمے بھی پیش کیے ۔ مترجم شاہکاروں کے حسن و قبح کی توضیح کے لیے ان شاعروں پر مضامین بھی لکھے۔مغرب کے شاعروں میں یونان کی شاعرہ سیفو کم و بیش پانچ سو سال قبل مسیح کی شاعرہ ہے ۔افلاطون اورارسطو بھی اس کے قائل ہیں۔ پرانے ہندوستان کے شاعر امارو سے بھی میراجی نے ہی ہمیں متعارف کرا یا ۔اس نے صرف شاعروں پر ہی مضامین نہیں لکھے، بلکہ جہاں گرد طلبا کے گیت ، کوریا کی قدیم شاعری، گیشاؤ ں کے گیت، او رس کے نظریے سے اردو فضا کو روشناس کرایا۔
شخصیت کا انوکھا پن ، کلام کی ندرت اور اس کی موضوعیت میراجی کے انتخاب کی ترجیحات میں شامل تھیں۔ شیکسپئر، ملٹن ، برنارڈ شا، ورڈس ورتھ وغیرہ جیسے شاعروں سے اردو دنیا واقف تھی، سو میراجی ؔ ان سے در گزرے ۔انتخاب کا مسئلہ میراجی کی ذہنیت کی تفہیم میں بھی مددگار ہے۔اس بات کی تفہیم کے لیے ایک چھوٹا سا نکتہ پیشِ نظر رہے کہ نوبل انعام کے سبب ہندوستانی ادبیات میں ٹیگور پر لکھنے لکھانے یا ترجمہ کرنے کا سلسلہ 1914 سے ہی جاری ہو چکا تھا۔ ٹیگور صدی کے موقع پر اردو میں بہت سے لوگوں نے مضامین لکھے یا ترجمے کیے۔لیکن میراجی نے کم و بیش اسی زمانے میں ٹیگور کی بجائے پہلے بنگالی شاعر چنڈی داس پر لکھنا پسند کیا، کہ وہ اردو ادب میں غیر معروف تھا۔پھر یہ کہ منتخب شعرا کی شخصیت کے انوکھے پن کے رنگارپردے میں کوئی ایسی طاقت بھی چھپی بیٹھی تھی جو میراجی کواپنے انتخاب پر اکساتی تھی۔ انتخاب کے عمل میں انتخاب کرنے والے کی پسند و ناپسند کا عمل بھی ہوا کرتا ہے۔ اس عمل سے انتخاب کرنے والے کی شخصیت کے میلان کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔ مثلاً طامس مور مختصر سے عرصے کے لیے کسی غیر جگہ گیا ، کسی خاتون سے دوچار ہوا، اور زندگی بھر آہیں بھرتا رہا۔ہائنے نے اس خاتون کا نام اپنی زبان پر نہیں آنے دیا، جس سے اسے شغف تھا۔بودلےئر ، پو، ملارمے، فرانسا ولاں ، میسی فیلڈ ، لی پو، پشکن، سب کی زندگی میں ایسا انوکھا پن شامل رہا۔بلا شبہ اس انوکھے پن میں ندرت کلام بھی شامل تھی ۔ایسے شعرا میراجی کی ترجیحات میں شامل ہوتے رہے۔ وٹمن کی ندرت پر میراجی لکھتا ہے :
’’وٹمن نے جو کچھ بھی دیکھااورسنا اسے نغموں میں سنا دیااوراس طبقۂ عوام کو جن کا نمائندہ اورمعترف وٹمن بنتا تھا، یہ غم اس لیے عجیب معلوم ہوئے کہ وہ اس سے قابل نہ تھا کہ اپنی عامیانہ اوراوسط قابلیت سے خیالات اوراعتقادات کے روایتی بندھنوں سے آزاد ہوکراپنی حقیقت کو کسی دوسرے کے منھ سے سن کرسمجھ سکے۔‘‘ 
(مشرق و مغرب کے نغمے صفحہ)
خیالات اور اعتقادات کے روایتی بندھنوں سے آزادی اور عجوبیت میراجی کی شخصیت کا بھی نمایاں پہلو تھا ۔سومنتخب شخصیتیں اس کی اپنے ذہن و فکر سے لاگ کھاتی تھیں۔
مشرق ومغرب کے نغمے میں شامل شاعروں پر میراجی کے تجزیے کی تفصیل پیش کی جائے تو اس کے لیے ایک دفتر چاہیے مختصراًیہ کہ میراجی نے جس زمانے میں یہ تنقیدی مضامین لکھے وہ ہندوستانیوں کے نفسی ابتلاکازمانہ تھا۔استعماریت اور نوآبادیاتی مزاج نے اس طرح اردو دنیا پر اپنا سکہ جمایا تھا کہ اپنی ذات کی نفی اور مغرب کی فکری اور ذہنی غلامی اردو ادیبوں اور قلم کاروں کا مزاج بن گیا تھا۔اردو اور فارسی شاعری انہیں فرسودہ اور غیر مہذب نظرآنے لگی تھی۔نئی فضا اور مزاج نے مغربی ادبیات کے ترجمے میں پناہ ڈھونڈھی تھی۔حالی یہ اعلان کر چکے تھے : 
’’حالی چلو کہ پیرویِ مغربی کریں۔‘‘
حالی تو اس تلقین سے آگے بڑھ کر استعماری حکومت کی مدح سرائی بھی اپنی نظموں میں کرنے لگے تھے۔ 
حکومت نے آزادیاں دی ہیں تم کو
ترقی کی راہیں سراسر کھلی ہیں
میراجی کے عہد تک اردو شعرو ادب کی دنیا میں یہ روش چمکنے لگی تھی۔ میراجی تو اربابِ ذوق کے بنیاد گزار تھے۔سو نئی نظم کی شانہ کشی کے جتن میں لگے ہوئے تھے۔اسی شانہ کشی نے انھیں ترجموں کی طرف مائل کیا۔اور ترجموں کے ساتھ مضامین بھی لکھنے لگے۔نظریاتی ادعائیت گروہی تنظیم کے دائرے کو وسیع کر رہی تھی۔لیکن یہ ایک عجیب بات ہے کہ جب میراجی نے مغرب کے شاعروں پر مضامین لکھے تو اردو شاعری کے معیار پر نکتہ چینی سے گریزا ں رہا۔اس کا لہجہ کہیں بھی معاندانہ یا مدافعانہ نہیں ہوا۔اس کے برخلاف ان مضامین میں مشرق اور بالخصوص اردو شاعری کی روایت پورے وقار اور جمال کے ساتھ تقابل کے طور پر سامنے آتی ہے۔ہاں وہ بالواسطہ طور پر روایت کی توسیع ضرور چاہتا ہے۔وہ توطامس مور پر لکھتے ہوئے مشرق کو مغرب کی شاعری کا ایک معیار قرار دینے سے بھی نہیں چوکا۔لکھتا ہے : 
جس طرح ہمارے لیے آج مغرب دورِ جدید کی تمام ارتقائی برکتوں کا تصور لیے ہوئے ہے اسی طرح آج سے ڈیرھ سو سال پیشتر ایک مغربی کے لیے مشرق کا لفظ ہی چند محدود معانی کی رنگین جمعیت کا مظہر تھا۔مشرق کا لفظ ہی سن کر اس کی نگاہِ تصور ایک ایسی خوابگوں سرزمین کا نظارہ کرتی تھی جہاں الف لیلیٰ کی شہزادیاں ہیں، پریاں ہیں ۔۔۔ اور بے شمار ایسی اشیا جن کی درخشانی جن کا شکوہ آنکھوں کو خیرہ کردیتا ہے۔ 
( طامس مور ، مشرق و مغرب کے نغمے صفحہ ۔ 105 ) 
طامس مورکو مشرق کے شاعر کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔اس نے مشرق کی داستانوں کا منظوم ترجمہ کیا۔مشرقی شاعری اور داستانیں تودنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں۔ایسی ہزاروں مثالوں میں سے بس ایک کا ذکر اس لیے بھی اہم ہے کہ اس سے میراجی بھی جڑا ہے۔ سنسکرت کے ایک منظوم بیانیہ کُٹّا نَتم یا میراجی کے مطابق کُٹا مَتَم کا ترجمہ فرانسیسی زبان میں کسی نے کیا۔ فرنسیسی زبان سےE.Powes Mathers نے انگریزی میں اس کا ترجمہ Eastern Art of Love: The Lessons of a Bawd کے عنوان سے کیا ۔لندن سے 1927میں شائع ہوا۔اسی انگریزی ترجمے سے میراجی نے اسے اردو میں نگار خانہ کے عنوان سے منتقل کیا ۔ ترجمہ منثور ہے ۔لیکن یہ نہ مشرق و مغرب کے نغمے میں شامل ہے نہ ہی کلیاتِ میراجی میں ۔اس میں منٹو کا دیباچہ شامل ہے ۔حسن اتفاق سے اس کا فرانسیسی، انگریزی اور اردو ترجمہ بھی نیشنل لائبریری ، کلکتہ ،کے ذخیرے میں موجود ہے ۔ منٹونے ہمیں خبر دی ہے کہ اس میں تاجر پیشہ عورتوں کے کاروبار کے طریقے اور گُر کو تفصیل سے بیان کیا گیا۔ 
آمدم بر سرِ موضوع، مشرق کے ادب کی اہمیت میراجی کی نظروں میں کم تر نہیں ۔بلکہ یہ مشرق آج مغرب کی آنکھوں کو خیرہ نہ کرے ،لیکن مغرب کی بالادستی کو غذا فراہم کرنے کا وسیلہ ضروربنا ہوا ہے۔البتہ اردو تنقید کی نام نہاد دانشوری مغرب کے اگلے ہوئے نوالوں پر زندگی کرنے میں افتخار محسوس کرتی رہی ہے۔میراجی کے عہد میں تو یہ ذہنی کیفیت کچھ اور سوا تھی ۔اس کے باوجود میراجی اردوادب کو بہ نظرِ تحقیر نہیں دیکھتا۔کُٹّا نَتم کا ترجمہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی نگاہیں دھند کا پردہ چاک کرکے اصل حقیقت کو چھو سکتی تھیں۔
مشرق و مغرب کے نغمے میں میراجی کا طریق کار یہ رہا ہے کہ مغرب کے شاعروں پر گفتگو کرتے ہوئے اکثر اردو شاعروں کے حوالے پیش کرجاتا ہے۔اردو ادب چونکہ میراجی اور اس کے قاری کے لیے معروف ہے اور دوسری زبانوں کے شاعر اور ان کا کلام اردو قاری کے لیے غیر معروف، اس لیے اپنی بات کی بہتر تفہیم اور ترسیل کے لیے وہ معروف کا سہارا لیتا ہے۔اس طریقۂ کار سے انجانے اور غیر معروف ماحول کی شاعری کی تفہیم کے لیے قاری کا ذہن تیار ہوجاتا ہے ۔وہ اجنبی شاعری کو بھی اپنی شاعری کے تناظر میں دیکھنے لگتا ہے۔ پوری کتاب پڑھ جائیے کہیں بھی بوجھل پن کااحساس ہوگا نہ ہی اجنبیت کا۔میراجی کا تنقیدی ہنر ایسا مستحسن ہے جو اردو تنقیدکو ایک راہ دکھا سکتا تھا۔ یہ راہ تھی غیر معروف کے تجزیے اور تحلیل کے دوران معروف سے تقابل کی ۔افہام و تفہیم کے لیے مشرق ومغرب کے نغمے میں بار بار اردو شاعروں کے حوالے در آتے ہیں۔میر و اقبال، سودا، انشا، مومن، جان صاحب اور چرکیں نیز بہت سے دوسرے شعرا کے حوالے بھی ملتے ہیں۔بلکہ اس عصر کے بعض دیگرشعرا کے بھی۔مثلاً عظمت اللہ خاں یا اختر شیرانی کی سلمیٰ کا ذکر وغیرہ۔یہاں اس کی ایک مثال دیکھیے ۔ذکر فرانس کے شاعر بودلےئر کا ہے ۔یعنی اس بغاوت کا جس نے قدیم سے کٹ کر شاعری کے ایک نئے اسلوب کی راہ نکالی۔لیکن میراجی اس بغاوت اور نئے پن کوہمارے ذہنو ں کی قبولیت کے لیے اردو شاعری کے تاریخی تسلسل کی تمثیل بنا کر پیش کرتا ہے ۔کہتا ہے : 
شعرو ادب زندگی کے ترجمان ہیں۔اس لیے ان کا بھی یہی حال ہے۔جب کبھی علمِ ادب کی باقاعدگی اور یکسانی بے مزہ اور بے رنگ ہوجاتی ہے تو اچانک کوئی بغاوت پسند شاعر نمودار ہوتا ہے اور اپنی ذہانت اور طباعی سے پہلے مروجہ طور طریقے کی کایا پلٹ دیتا ہے۔جب اردو شاعری میں لکھنوی تصنع ، روزمرہ کا جنون، رعایتِ لفظی اور اسی قبیل کی اور باتیں روحِ شعرو ادب کو بے جان کردیتی ہیں توافق پر غالب کا تخیل نمودار ہوتا ہے اور نئی باتوں کی طرف اشارے کرجاتا ہے۔اپنے زمانے میں اس کی نئی باتوں کا رواج نہیں ہوتا ۔لیکن وہ ایک پتے کی بات کہتے ہوئے چلا جاتا ہے ۔ بقدر ذوق نہیں ظرفِ تنگنائے غزل۔اور پھر حالی اورر آزاد کی آمد سے بیان کے لیے نظم کی وسعت کا رواج ہوجاتا ہے۔نیچرل شاعری اورنظم نگاری رائج تو ہوجاتی ہے۔ لیکن اس کا ابتدائی زمانہ گزرنے پرخدشہ ہوتا ہے کہ کہیں یہ نئی وسعت بھی جلد ہی محدود ہوکر نہ رہ جائے، اس خدشے کو دور کرنے کے لیے اقبال ایسی شخصیت اس دنیا میں آتی ہے۔وہ اپنی بانگِ دراسے یہ بھید بتا جاتی ہے کہ قافلے کے مسافروں کو چاہیے کہ سستانے والی منزلوں میں سے ہی کسی ایک کو آخری منزل نہ سمجھ لیں۔‘‘ 
( مشرق و مغرب کے نغمے صفحہ 164 -65 ) 
دیکھا آپ نے ذکر تو میرو غالب اور اقبال کا ہے۔لیکن مقصد تو بودلیئر کی بغاوت کو قبول کرنے کے لیے ذہنوں کو تیارکر نا ہے ۔اپنی نثر میں میراجی ایک ظالم قلم کار بن کر سامنے آتا ہے۔اس کی نثرکا اسلوب بھی ایسا نہیں کہ ہمیں الجھا لے۔ہندی الفاظ کی آمیزش کے ساتھ ایک عام بیانیہ اسلوب ،لیکن نکتے اتنے منطقی،مدلل اورپُر اثر کہ قاری بھاگ نہ سکے۔ڈھائی ہزار برسوں کو محیط، دنیا کی مختلف زبانوں کے منتخب شاعروں کا مطالعہ، بلکہ نفسی مطالعہ، لیکن کسی آؤ بھاؤ اور تبحرِ علمی کا احساس جگائے بغیر ذہن و دل میں اتر تا چلا جاتا ہے۔میراجی ہمیں ہمارے ہی حربے سے زیر کرتا ہے۔بودلےئر ، میلارمے، ہائنے اور مغرب کے دوسرے شاعروں کی بغاوت کو اردو شاعری کی راہ پر ایک مشعل کے طور پر رکھ جاتا ہے۔ مشرق کے دلدادگان نے سماج کو مغرب کے اثراتِ بد سے بچائے رکھنے کے لیے بڑے واویلے مچائے۔میراجی نے اپنی شعری تخلیقات میں مغرب کے ابہام کی پیروی پر ذہن کو جھنجھوڑا ،مگر دل کو زحمت نہ دی ۔سو اجنبیت برقرار رہی ۔مگر اس کی تنقیدی تحریریں مغرب کے بدلے ہوئے مزاج کو سمجھنے سمجھانے کی احسن کاوشیں ہیں ۔میراجی نے اپنی تنقید میں شاعروں کے زمانی حالات ، مختصر خاندانی کوائف اور اس کی زندگی کے اسلوب کے تناظر میں شاعر کو اس طرح پیش کیا ہے کہ جاننے اور پرکھنے کی طرف ذہن ہی نہیں دل بھی راغب ہو رہتا ہے۔مگر ایسے مقامات کی بہتر تفہیم کے لیے جا بہ جا اردو شاعروں کی زندگی کو بھی وسیلہ بنایا ہے۔کہتے ہیں کہ ایڈگر ایلن پو کسی کی زلفوں کا اسیرہوا اور تمام عمر ہائے ہائے کرتا رہا۔میراجی پو کی زندگی کے اس رخ کو پیش کرتا ہے کہ میر عورت کے ذکر کے بغیر، خواہ وہ عورت ہر طرح سے بے ضرر ہی کیوں نہ ہو ، قلم کو روشنائی کی زحمت نہیں دے سکتا۔میراجی کا اصل منشأ تو’ پو‘ کی عورت نوازی کی چھُپی داستان کو پیش کرنا ہے ، لیکن نام وہ میر کا لیتا ہے کہ میر کی بے دماغی بلکہ بد دماغی کا سبب بھی کوئی معشوق در غیاب تھا ، جس کا نام کبھی میر کی زبان پر نہیں آیا۔میراجی کامطمح نظر اور الفاظ دونوں پیشِ نظر رہیں ۔کہتا ہے : 
’’اردو ادب کی تاریخ میں میر تقی میر کی شخصیت اور ان کا فسانۂ حیات (جس کی پنہاں گہرائیاں کم ہی لوگوں کو معلوم ہیں) اپنی المناک دل کشی کو لیے ہوئے آج بھی ہمارے دلوں کو موہ رہا ہے۔اور اگر ہم ان کی حیاتِ عاشقانہ کے کم روشن پہلو پر غور کریں تو ان کی بد دماغی کے وجہ ظاہر ہوجاتی ہے۔امریکی ادب میں بھی ایک شاعر اور ادیب کی زندگی اس افسانے سے مماثلت رکھتی ہے، لیکن یہ مشابہت محض بنیادی ہے۔امریکی ادیب میر تقی میر سے کہیں مختلف ہے۔۔۔ میر تقی میر کا فسانہ بھی ہے۔‘ (مشرق و مغرب کے نغمے صفحہ )
ایسے فسانے میر کے ہوں یا پو کے یا میلارمے اور ہائنے یا کسی اور شاعر کے ، کہ بہت سے شاعر معشوق در غیاب کے چوٹ کھائے ہوئے ہیں، سے قطعِ نظر ایک بنیادی مبحث یہاںیہ سامنے آتاہے کہ ادب گزار کی زندگی کا مطالعہ اگر اس کی ادبی کاوشوں کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے، تو اس جدید تنقیدی نظریے کا کیا بنے گا جس نے مصنف کو تو مار رکھا ہے، مگر اس کے متن کو مرکز و محور جاناہے۔تحریر اساس تنقید یا قاری اساس تنقید متن کو مصنف سے ماورأ مانتی ہے ۔ متن کے لغات بلا شبہہ اپنی توقیر چاہتے ہیں۔ ان کی تفہیم میں قاری کا علم و خبر اور اس کی نفسیات اور مزاج کی شمولیت کی وکالت بھی بجا ۔مگر ان متون کے لغات کی ترتیب اور اس ترتیب میں معنی کا تفاعل تو متن خلق کرنے والے کی نفسی کیفیات اور علم و خبر کی ہی رہین ہے ۔منشائے مصنف کو سرے سے خارج کردیا جائے تو ایسی نراجیت پیدا ہوگی کہ ہر قاری معنیٰ کا خالق ہوگا۔کسی بھی پابندی سے آزاد۔ یعنی متن کی مرکزیت بھی زد میں آئے گی۔ اس رویے کے پسِ پشت غیر شعوری طور ناقدکایہ جذبہ بھی کارفرما ہے کہ تنقید متن خلق نہیں کرسکتی ، لیکن معنی توپہنا سکتی ہے۔اس لیے وہ بھی تخلیق کی طرح اضافی حیثیت رکھنے کی بجائے بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ حالانکہ معنیٰ کے استنباط کے لیے ضروری ہے کہ متن کے متعلقات اوراس کے سباق پر بھی نظر رکھی جائے۔یعنی باخبریا صاحبِ ذوق قاری کی یہ بنیادی ذمے داری ہے کہ وہ سیاق و سباق کے تناظر متن کے توسط سے منشائے مصنف تک پہنچے اور متن کو اپنی آزاد خیالی یا علمی تبحر اور وکالت کا تابع محض نہ بنائے۔
متن اساس تنقیدمصنف سے قاری کی آزاد روی اور متن کے خالق پر حاکمیت کی ایسی خواہش ہے جو نراجیت کی طرف لے جاتی ہے اور تنقید کو تخلیق پر حاوی کردیتی ہے۔بلکہ ایسی کاوشیں اگر حدود سے تجاوز کرجائیں توقاری کوادب بیزار تو بناتی ہی ہیں، اس سے بھی آگے جاکر ادب کی موت کا اعلانیہ جاری کرنے پر مجبورکرتی ہیں ۔اس روش نے اپنی برتری کے اثبات کے لیے اردوتنقید کو درآمد کردہ نظریات کا ایساپشتارہ بنا دیا ہے کہ ادب کی پوری فضا ادھار کی دولت کی جگمگاہٹ کی اسیر ہوگئی ہے۔مگر مانگی ہوئی دولت جتنی بھی وقیع ہو قلب کی طمانیت کا سامان تو نہیں بنتی۔
متن سے معنی کے استخراج کے سلسلے میں میراجی نے بعض اہم نکتے پیش کیے ہیں۔ مصنف یا شاعر کی ذات ، اس کے حالات بلکہ اس کے عہد کے مطالعے کی ضرورت پر بلیغ اشارے ملتے ہیں ۔ وہ اس ضمن میں لکھتا ہے کہ ’کسی شاعر کی سوانح حیات اس کے کلام کے مطالعے میں اسی حد تک معاون ہوسکتے ہیں جس حد تک وہ اس کی ذہنی نشو و نما کو سمجھنے میں مدد دیں۔ذاتی حالات میں دلچسپی سے یہ نقصان دہ پہلو نکل سکتا ہے کہ ہم افسانہ پرست بن کر رفتہ رفتہ اس کے کلام کی حقیقت سے دور ہوتے جائیں گے اور پھر کلام کی صحیح جانچ میں الجھن ہوگی ‘ ۔وضعِ احتیاط تو ضروری ہے۔اس ضمن میں میراجیؔ ایک ایسا نکتہ بھی دے گیا ہے جو تنقید کے اصول میں آبِ زر سے لکھے جانے کے لائق ہے۔طامس مور کی شاعری پر رائے دیتے ہوئے لکھتا ہے :
’’میر تقی میر، غالب اوراقبال ایسے عظیم شعرا کے مطالعے کے لیے اس بات کی قطعی ضرورت نہیں ہے کہ ہم ان شاعروں کے سوانح سے واقف ہوں اور ان کے حالاتِ زندگی سے ان کی شخصیت کے بارے میں تصور قائم کرسکیں۔کیونکہ ان کا کلام ہی ان کی شخصیت اور انفرادیت کا آئینہ دار ہوتا ہے ۔لیکن انشا، داغ اور ایسے دوسرے شعرا کے کلام سے لطف اندوز ہونے کے لیے نہایت ضروری ہے کہ ہم ان کے واقعاتِ حیات کو پہلے سے جان لیں۔نہ صرف ان کے ذاتی حالات بلکہ ان کے زمانے کے حالات جاننا بھی ہمارے لیے ضروری ہوجاتا ہے۔کیونکہ ان کا کلام ان کے ماحول اور ان کے حالاتِ زندگی کا آئینہ دار ہوتا ہے۔( مشرق و مغرب کے نغمے صفحہ 106 ) 
زمان و مکاں سے ماورا شاعر وقت اورحالات کے جبر سے اپنی شاعری کو آزاد کرالیتے ہیں۔ان کے کلام میں آفاقیت ہوتی ہے۔اس لیے وہ زماں اور مکاں کے پابند نہیں رہ جاتے ۔لیکن میراجی اسے استثنائی قرار دیتا ہے۔متن زماں کا پابند ہو تو مصنف کا بھی پابند ہوگا اور استخراجِ معنیٰ میں قاری کے علم و فہم کی شمولیت کے باوجود بنیادی طور پرشاعر کے منشاتک پہنچانا ہی تنقید کی اصل ذمے داری ہے۔میراجی نے شاعروں کو دو گرہوں میں تقسیم کرکے اس مسئلے کا حل بھی پیش کردیا ہے ۔جدید تنقید بھی اس اصول سے رہنمائی حاصل کرسکتی ہے ۔ میراجی کے پیش کردہ ایک اور نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے۔ وہ ہائنے پر گفتگو کرتے ہوئے ایک نکتہ پیش کرتا ہے ،جس کا تعلق اردو شاعری سے بھی ہے۔لکھتا ہے : 
چونکہ محبت اور جنس اس کی نظروں میں دومختلف چیزیں تھیں اس لیے اس ( ہائنے) کے کلام میں وہ صحت اور لذتِ نفس نہ آسکی جو عرب کی ایامِ جہالت کی شاعری میں تھی، امرأ لقیس میں تھی، سنسکرت کی قدیم عشرت پرستانہ شاعری میں تھی، امارو ، میور اور دوسرے شعرا میں تھی، نواب مرزا شوق کی زہرِ عشق میں تھی۔شعرو ادب میں یہ رنگ اسی صورت میں پیدا ہوسکتا ہے جب کہ فنکار کی نظر میں جنسیت اورمحبت ایک ہی بات کے دو نام ہوں۔‘‘ ( مشرق و مغرب کے نغمے صفحہ 625 )
میراجی جب محبت اور جنس کے نفسی ادغام کی بات کرتا ہے تو در اصل وہ مشرق کے نظرےۂ حسن و عشق کو موضوع بناتا ہے۔عاشق جنس محض کا تابع ہو تو بوالہوس اور حسن کا اسیر ہو تو عاشقِ صادق۔ اگرچہ میراجی کے بیان کی تہہ میں فرائیڈین نقطہ نظر کارفرما نظر آتا ہے۔لیکن وہ بوالہوسی اور عشق کی اصطلاحوں کی بجائے محبت اور جنس کا نکتہ اٹھا کر جنس اور اس کے احساس کو محبت کا تابع کرنے پر اصرار کرتا ہے ۔ اسی وصف کی بنا پر مثنوی زہرِ عشق اور امارو وغیرہ کی عشقیہ شاعری کی اثر آفرینی کو سامنے لاتا ہے اور مشرق کی شاعری کے اس رویے کی وکالت کرتا ہے، جہاں عشق ارفع اوربوالہوسی ارزل قرارپاتی رہی ہے۔مشرق و مغرب کے نغمے میں مختلف مقامات پر ایسے نکتے بھرے پڑے ہیں۔ وہ حسنِ محض کواہمیت دینے والے شعرأ اور زندگی کے تمام مظاہر میں حسن تلاش کرنے والے شعرا میں تفریق کرتا ہے اور دونوں میں خوبی اور خامی کی طرف اشارے کرتے ہوئے کہتا ہے : 
’’شاعری کے محل میں کئی ایوان ہیں ۔لیکن آسانی کے لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایوان دو ہیں۔ ایک ایوان کے شاعر بنفسہ حسنِ محض کو تلاش کرتے ہیں اور دوسرے ایوان کی رونق بڑھانے والے روزمرہ کی عام زندگی میں حسن کی جستجو کرتے ہیں۔ پہلے ایوان کے حامی یہ کہتے ہیں کہ وہی باتیں شعرأ کا موضوع سخن ہوسکتی ہیں جن میں اندرونی طور پر کلیتاً حسن موجود ہو۔ دوسرے ایوان والے کہتے ہیں کہ ذرا ذرا سی معمولی باتوں میں بھی حسن موجود ہوسکتا ہے۔ ان دونوں نظریوں کے متعلق قطعی فیصلہ نہ آج تک دیا جاسکا ہے نہ دیا جاسلے گا۔ یہ تنازع ابدی ہی رہے گا ۔ 
حسن پرست شعرأ کا کمال ہمارے لیے تکمیلِ فن کی ایک بلندی مہیا کرسکتا ۔ لیکن اگر وہ راستے سے ذرا بھی بھٹک جائیں تو ان کا کمالِ فن محض تکلف ہوکر رہ جائے گا۔۔۔ایک خطرہ لاحق ہوتا ہے کہ حسن محض کا نظریہ تصورو تخیل کو انسان کی دوسری قابلیتوں سے یکسر علاحدہ کردیتا ہے۔اور یوں یہ پرستش انسان کی گہری ذہنی حرکات اور مقاصد سے دور ہوجاتی ہے۔ لیکن حقیقت پرست شعرأ ان جگہوں پر بھی حسن تلاش کر لیتے ہیں جہاں کسی کو حسن کی موجودگی کا گمان بھی نہیں ہوسکتا ۔ ۔۔۔ اس طبقے کے لیے سخت مقام وہ ہے جب تصور کی باگ ذرا سی بھی ڈھیلی ہوجائے اورتخیل اور شاعری کی جگہ صنعت و حرفت لے لے۔‘‘ 
(میسی فیلڈ انگلستان کا ملک الشعرا، مشرق و مغرب کے نغمے صفحہ140-141) 
یہ وہ سنہرے اصول ہیں جن پر تنقید نے اپنی عمارت کھڑی کی ہے۔ اس طرح میراجی تنقید کے اصول کی طرف بھی اشارے کرتا ہے۔ تنقید کی ماہیت پر گفتگو کرتا ہے۔ حالی نے ان نکتوں کی طرف اشارے ضرور کیے تھے۔ لیکن میراجی ان اولین نقادوں میں شمار ہوں گے جو تنقید کو اصول فراہم کرنے کی کاوش کرتا نظر آتا ہے۔ اس طرح یہ مضامین نظری اور عملی تنقید کے امتزاج کے قابلِ قدر نمونے ٹھہرتے ہیں۔ اس تنقید میں مشرق و مغرب کی شاعری کے ترجمے دلیل بھی فراہم کرتے ہیں ۔ 
تاہم یہ بڑی عجیب بات ہے کہ باریک اور وقیع نکتے پیش کرنے کے باوجود میراجی کو عام طور پر ایک نقاد کے طورپر شمار نہیں کیا جاتا۔ مشرق ومغرب کے نغمے کے یہ شذرات، جو ادبی دنیا میں شائع ہوتے رہے ،یا دوسرے مضامین ناقد کے منصب پر فائز ہونے لیے لکھے بھی نہیں گئے۔مقصد تو بس یہ تھا کہ’ زوال کی پستی ‘کی شدت کو کم کیا جائے، نئی شاعری کو بنیاد فراہم کیا جائے اور ادب کے فنی پہلو میں شعر کے متعین دائروں کو مٹا ڈالا جائے۔
میراجی نے ان متعین دائروں کے مٹانے کے لیے اردو نظموں کی تشریح و تعبیر کی ذمے داری بھی قبول کی۔ایسے مضامین پر مشتمل مضامین کا مجموعہ’اس نظم میں‘ ہے۔نظموں کے انتخاب کے بارے میں تو دیباچے میں خود میراجی نے لکھ دیاہے کہ انتخاب کے لیے معروف شاعر کی قید نہیں۔موضوع کا اچھوتا پن میراجی کا واحد معیار ہے۔اس اچھوتے پن میں سسرال میں سالے کا سلیکشن بھی اہم ٹھہرا ہے۔یعنی تشریح کی جانے والی ایک نظم کا عنوان’ برادرِ نسبتی‘ بھی ہے۔اچھوتے پن کی تلاش میں ایسی نظمیں بھی شامل کرلی گئی ہیں کہ شاعری شرمائے۔نئے موضوعات کی تلاش و ترویج کے لیے اس وقت شاید یہ ضروری رہا ہو۔البتہ یہ ضرور ہے کہ میراجی کی پارکھ نظریں جہاں کہیں بھی شاعر کی کمزوریوں تک پہنچتی ہیں ،اس کا اظہارضرور کر جاتی ہیں ۔مثلاً ان مضامین سے چند چھوٹے چھوٹے اقتباسات دیکھیں : 
’’زندگی کا شاعر وہی یوسف ظفر ہے جو کبھی یونہی نظم لکھ دیتا ہے ،کبھی کسی اور طرح ، موجودہ نظم کسی اور طرح لکھی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔‘‘ 
’’راشد کے متعلق میں ایک اور جگہ کہہ چکا ہوں کہ اس کے سوچنے کا اندازمغربی ہے۔ شاید اسی لیے اس کی نظموں کا انداز بھی مغربی ہوتاہے ۔۔۔۔۔۔ راشد کے اس ٹکڑے سے آزاد نظم کے فنی فوائد کا اظہار بھی ہوتا ہے ۔ 
( مشرق و مغرب کے نغمے صفحہ187-88) 
ہلکے پھلکے ایسے اعتراضات کے باوجودمیراجی کو نظم نگاروں سے ایک نوع کی ہمدردی بھی ہے۔یہ ہمدردی جدید نظم کے فروغ کی ادعائیت کی تابع ہے۔نظم کے فروغ کی ادعائیت نے کہیں کہیں میراجی سے اپنا خراج بھی و صول کیا ہے۔غزل کے کئی بلیغ اشعار کومعمولی کردکھانا اسی ادعائیت کا نتیجہ ہے۔مثلاً ایک نظم’ رس بھرے ہونٹ‘ کی تشریح کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے : 
’ اردو کے شاعروں نے عورت کے اعضا کی خوبیوں کو جتایا ہے تو عموماً سراپا بیان کیا ہے اور اگر کبھی کسی حصۂ جسم کی تعریف کی ہے تو کسی نفسی کیفیت کو بیان کرنے کی کوشش نہیں کی ہے‘ اس تعریف میں ناظر کے احساساتی ردِ عمل کو کم ہی دخل رہا ہے۔ میر تقی میر نے لکھا ہے :
میر ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے
لیکن یہ نہیں لکھا کہ اس مستی کا میر تقی میر کے ذہن پر کیا اثر ہوا۔دوسرے لفظوں میں یہ کہیے کہ شاعر کا ذہن نیم باز آنکھوں سے ماورا نہیں جا سکا۔اور یوں شعر محض بیانیہ ہو کررہ گیا۔اسی طرح کیفیت اس کے لب کی کیا کہیے، پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے‘ یہاں بھی وہی عالم ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہوکہ تشبیہ اور استعارے کے تصورات سے جو کام مغربی خصوصاً فرانسیسی اور جرمنی شعرا نے لیا، اس سے ہمارے شاعر واقف نہ تھے۔ دوسرے ان اشعار سے شاید بالواسطہ اثر پیدا کرنا مقصود ہے۔‘‘ 
(اس نظم میں صفحہ) 
’بالواسطہ اثر پیدا کرنا مقصود ہے‘ کہہ کر میراجی نے اپنے شعور کی پردہ داری کی کوشش کی ہے، کہ اسے شعر کی خوبی کااحساس تو ہے ، لیکن اسے کم کرکے نہ دکھا یا جائے تونظم گوئی کی وکالت کس طرح کی جائے ۔ اول تو یہاں میراجی کا یہ بیان ہی محل نظر ہے کہ’ شاعر کا ذہن نیم باز آنکھوں سے ماورأ نہیں جا سکا ا ور یوں شعر محض بیانیہ ہو کر رہ گیا‘۔ یا یہ کہ’ میر کے شعر کامقصود آنکھ کی خوبی بیان کرنا ہے۔‘ غور کرنے کا نکتہ یہ ہے کہ آنکھوں کی نیم بازی کا مشاہدہ دور سے ممکن نہیں۔قرب یا وصل کا بیانیہ شعر میں غیر ملفوظی طور پر شامل ہے۔قرب ہے، وصل ہے اور اس کے نتیجے میں آنکھیں ’نیم باز‘ ہوئی ہیں۔نیم باز آنکھیں معشوق کی آنکھوں کے حسن کا خارجی بیان نہیں ۔اس کے پیچھے جذبے اور احساس کا سمندر موجزن ہے۔یہ تو تشنگی کے جذبے کی تسکین اور قرب کے نشے کی کیفیت کا استعارہ ہے ۔یہ ’حصۂ جسم کی تعریف نہیں،خالص نفسی کیفیت کا’ استعاراتی بیان‘ ہے ۔اس تعریف میں ناظر کا احساساتی ردِ عمل بھر پور طور پر شامل ہے۔میرؔ کے یہاں آنکھوں کی نیم بازی اور شراب کی سی مستی جس فسانے تک لے جاتی ہے وہ وصل کا استعاراتی بیانیہ ہے ۔یہ وصل دو جسموں کا ملاپ نہیں زندگی کی کامیابی اور کامرانی کی آرزو مندی کا اظہاریہ بھی ہے ۔قرب و وصل آرزو کی تکمیل ہے، وجود کی تکمیل ہے۔اور ایجاز بیانی دیکھیے کہ پورا بیانیہ بس بارہ الفاظ میں سما گیا۔غزل کے اعجازِ سخن کے اسی کمال نے اس شعر کوتشنگی کی تکمیل کی زنبیل بنا رکھا ہے ۔اب اس شعر کا تقابل رس بھر ے ہونٹ سے کیجیے ۔یہ تقابل تو ممکن ہی نہیں ۔رس بھرے ہونٹ ، کی تشبیہ کے لیے ’پھول سے ہلکے‘ ، ’بلورکی صراحی‘ ، ’بادۂ آتشیں‘ ، ’نرگس کے پھول‘ ، ’شبنم کا ارغواں قطرہ‘ تک شاعرکا ذہن گیا۔اس کے لیے سات مصرعے صَرف کیے گئے۔ پھریہ بھی دیکھیے کہ پھول اور صراحی ،بادۂ آتشیں اور شبنم جیسے متضادتصورات کے حامل ہیں۔ان سات مصرعوں میں نہ تو لفظوں کی رعایت کا خیال رکھا جا سکا نہ ہی تصورات کی وحدت قائم ہوسکی ۔ ایسے میں کیفیت کیا خلق ہوگی۔ میراجی کی نظر ان متناقضات پر نہیں ٹھہری ۔ بلکہ اسے شاعرکی ذہنی کیفیت تسلیم کرلیا ، لیکن شراب کی مستی میں انھیں شاعر کی ذہنی کیفیت کی بجائے محض آنکھ کا بیان نظر آتا ہے۔نظم میں اس کے بعد کے چھ مصرعوں کو ’ کار آمد‘ نہیں مانتے۔ان کی توجہ نظم کے دوسرے تلازمے پرجاتی ہے جہاں رات دن کا تھکا ہوا راہی ان حالتوں کو دیکھ رہا ہے۔اس تھکے ہوئے راہی کی قلب کی آرزو نگاہی میں دھوکہ اور سراب لپک اٹھتے ہیں اور وہ رس بھرے ہونٹ دیکھ کر ’ یوں ترستے اور یوں لرزتے ہیں ‘ کہ اس لرزش اور ترسنے کو میراجی راہی کی کیفیت مانتاہے۔حالانکہ یہ تو نارسائی کے معمول کا بیان ہے ۔پھر یہ تحدید بھی دیکھیے کہ رس بھرے ہونٹ میں اگر کوئی کیفیت ہے بھی تو وہ صرف تھکے ہوئے راہی کے لیے ہے، جبکہ میر کی شراب کی سی مستی میں ہر وہ شخص شامل ہورہتا ہے ، جسے وصل کا تجربہ ہے اور اگر تجربہ نہیں بھی ہے تو اس کی آرزو مندی ہے ۔
میراجی کا یہ بیان بھی اصولی طور پر محلِ نظر ہے کہ ’تشبیہ اور استعارے کے تصورات سے جو کام مغربی، خصوصاً فرانسیسی اور جرمنی شعرا نے لیا، اس سے ہمارے شاعر واقف نہ تھے۔‘ یہاں ایک بڑا سوال یہ آن کھڑا ہوتا ہے کہ کیا واقعی تشبیہ اور استعارے کے تصورات کا تفاعل واقفیتِ محض کا پابند ہوا کرتا ہے، یا اس میں شعوروا درا ک کا کوئی خود کارعمل بھی شامل ہوتا ہے۔استعارہ سازی کا عمل عمارت سازی کے مماثل ہوتا تو واقفیت اور جانکاری کا عمل اس کا بنیادی جوہر ٹھہرتا۔لیکن شاعری تو ظاہر کے پسِ پردہ غیاب میں موجود اصل جوہر تک رسائی اور اس کے اظہار کا ایک وسیلہ ہے۔غیاب تک رسائی صرف علم و خبر کی رہین نہیں،یہ تو تہذیبی و معاشرتی عوامل سے مملو حالات اور وجدانی و روحانی تصرفات کی پابندہوا کرتی ہے۔تہذیبی اور معاشرتی عوامل کے نتیجے میں وقوع پذیر ہونے والی کشمکش اظہار کے سانچوں کو متاثر بھی کرتی ہے اور تشبیہات و استعارات اور علامتوں کا نظام بھی تیار کرتی ہے۔اس لیے ایک مخصوص خطۂ ارض اور الگ الگ زبانوں کے تشبیہات و استعارات اور ان کے وضع کرنے کا سلیقہ بھی الگ ہوگا۔یہی سبب ہے کہ ہر زبان کی تخلیقی چٹائی اپنے مخصوص نہج اور مخصوص جواہر کی اسیررہا کرتی ہے۔ہاں یہ بھی ہے کہ وہ کسی بیرونی چٹائی سے کسی قدر متاثربھی ہو ، لیکن مستعارہرگز نہیں ہوسکتی۔ہاں یہ لفظ اور اس کے مزاج پر حاوی ہونے کا عمل استعارہ سازی میں مدد گار ضرور ہو سکتا ہے ۔عرضِ مدعا یہ کہ استعارے اور علامتیں ایک خود کار تحت ا لشعوری نظام کے تحت وجود پذیر ہوتی ہیں ۔اسے کسی میکانکی عمل کا پابند نہیں کیا جاسکتا ۔یہی سبب ہے کہ ہماری معتبر اور قائم بالذات شاعری کے استعارات اور تشبیہات کی معنوی تہداریاں آج بھی متاثر کرتی ہیں۔وہ مانگے کی ہوتیں تو یہ کشش کھوبیٹھتیں۔میراجی کا یہ بیان بس sub altern فکر کا زائیدہ ہے۔
’اس نظم میں‘ فیض کی ایک نظم’ انتباہ‘ کا تجزیہ بھی شامل ہے ۔اس میں شامل مصرعے ’آہن گر کی دکاں میں ‘ کو میراجی ایک حقیقی آہن گر کی دکان سمجھ کر اپنی تشریح میں لکھتا ہے : 
’ شاعر دکان پر بنتی ہوئی زنجیروں کودیکھتا ہے۔ایک نہایت معمولی سا واقعہ۔لیکن شاعر محبِ وطن بھی ہے ان بنتی ہوئی زنجیروں کو دیکھ کراس کا تخیل اس سے کہتا کہ یہ پابند کرنے والی چیزیں وطن کے کسی مجاہد کے لیے تیارہورہی ہیں اورتصورمیں اس کے سامنے وہ مجاہد آجاتا ہے اور وہ مجاہد کو للکارتا ہے کہ جب تک تو آزاد ہے سچ زندہ ہے تیری گرفتاری تیری ن۔‘‘ (اس نظم میں ،صفحہ۔33 ) 
یہاں بھی دیکھیے کہ پچھلے مضمون میں اپنے مفروضہ’نفسی کیفیت‘ کے اطلاق کی بجائے اس نظم کی لفظیات کو ایک بیانیہ کا پابند کرنے پر آمادہ نظر آتا ہے۔یہاں میراجی کو ترقی پسند تنقید کے افادیت پسند نقطۂ نظر کا حامی شمار کیا جا سکتاہے۔نظم کی لفظیات میں شامل فنی درو بست اورکیفیت آفرینی کی ماہیت پر کوئی گفتگو نہیں کرتا۔ایسا اس لیے ہے کہ اس کا بنیادی منشأ نظم کی ہیئت کو فروغ دینے کا ہے۔ شاعری کے حسن و قبح سے گفتگو بنیادی موضوع نہیں۔ 
’اس نظم میں‘ کے دیگر مضامین بھی اسی انداز کے ہیں ۔ نئی نظموں کی شرح و تعبیر پیش کرنے والے یہ مضامین غیر معمولی تو نہیں، لیکن اپنی طرح کے اولین مضامین ہیں۔اپنے وقت میں کمزور اور ناکام شاعروں کو بھی اس سے حوصلہ ملا ہوگا۔مقصد بھی یہی تھا، نظم گوئی کو فروغ دینا۔ میرا جی تو وہ قلم کار تھا جس نے بحیثیت مدیر حسن عسکری کی کہانی اشاعت کے لیے منتخب کرلی تو عسکری برسوں سرشار رہے ۔ سو اگر میراجی نے کسی کی نظم کی تشریح کردی تو اس سے نظم گوئی کو فروغ ملنا ضروری تھا، اور ملا بھی۔لیکن ان مضامین کو اپنے عہد میں جو کام کرنا تھے وہ کر چکے۔آج ساٹھ پیسٹھ برسوں بعداس نظم کے مضامین کی حیثیت بس تاریخی حوالے کی ہے، یا نظم کی تشریح و تعبیر یا تجزیے کے اولین نقوش کی ۔ہاں مشرق و مغرب کے نغمے کے مضامین آج بھی مقتدر ہیں ۔معلومات کی فراہمی کے اعتبار سے بھی،تنقید و تشریح کے معیار کے اعتبار سے بھی۔ساتھ ہی مغرب کی شاعری کے تراجم کے اعتبار سے بھی اوراردو ادب میں تعینِ قدر کے معیار کے اعتبار سے بھی ۔ 
میراجی کی تنقید کی ایک اور اہمیت ہے۔مشرق و مغرب کے نغمے کے مضامین شاعر میراجی کا شناس نامہ بھی ہیں۔میراجی کی ذہنی اور فکری تربیت بلکہ طرزِ زندگی اورشعری اسلوب کی تشکیل میں مطالعات کے یہ پہلوشعوری یا غیر شعوری طور پرپسِ پشت کار فرما رہے ہیں ۔مثلا دو ایک چھوٹے چھوٹے نکتوں پر نظر کریں ۔میراجی کا کہنا ہے کہ پو کی شخصیت دوہری رہی ہے۔وٹمن نے کسی دور دیش میں ایک خاتون سے شادی کرلی اور زندگی بھر اس کے تصور سے تکلیف دہ حد تک وابستہ رہا۔یا پھر پو اپنی بیوی کا عاشق توتھا، لیکن جسمانی ملاپ کی آرزو مندی سے خالی۔’وہ شعر میں کنایتی فضا اور دھندلکے کا حامی تھا۔ہائنے اور میلارمے کی شاعری کا حسن اس کا ابہام ہے ۔اب ان نکات کو میراجی کی زندگی کے کوائف اور اس کے خلقی رجحانات پر منطبق کریں ۔نتیجہ شاید وہی نکلے گا جو میراجی نے ان شاعروں کے مطالعے کے بعد نکالا ہے ۔مثلا یہ کہ میراجی کے نفس کا ’جاتری‘ اپنی ہتھیلیوں پہ امرت کی بوندوں کو ٹمٹماتا دیا بناتا رہا اور میراجی امرت کی مشت بندی میں مصروف رہا۔اس طرح ایک نکتہ یہ سامنے آتا ہے کہ میراجی کی تنقید اردو ادبیات کی روحانیت کی تفسیر و تعبیر کی بجائے ، انسان کی نفسی بلکہ جنسی خواہش کے کیف و سرورکی دنیا کو اپنی جولان گاہ بناتی ہے۔ 
لکھنے کو میراجی نے یہ بھی لکھ دیا کہ’ محرکات اور غماز اشارات اس قسم کے ہونے چاہئیں جو ہمارے ذہنی دائرۂ گرفت میں آسکیں۔‘لیکن تنقید میں دوسرے شاعروں کے افکارو خیالات کی پردہ دری کرنے والے اس قلم کار نے اپنے تخلیقی محرکات اور غماز اشاروں پر دبیز چادر ڈال دی ۔اس کے تنقیدی رویے اور اس کی شاعری کے فکر ی اور حسی رویے میں بنیادی فرق نظر آتاہے۔اس کی کلید بھی میراجی کی تنقید میں چھپی ہے۔ میراجی نے ایک جگہ لکھاہے کہ’پو شعر میں کنایتی فضا اور دھندلکے کا حامی تھا۔وہ شاعر ی کو دواوردو چار قسم کی چیز نہیں سمجھتا تھا۔‘ نیز یہ کہ ’پو کی شخصیت دوہری رہی ہے‘۔شاعری دو اور دو چار قسم کی چیز تو ہے بھی نہیں ۔یہ کوئی ایسی در یافت بھی نہیں، جس کے لیے میراجی یا پو کو شاباشی دی جائے۔لیکن یہ ضرور ہے کہ پو کی شخصیت کا مطالعہ میراجی کواپنے دام میں اسیر رکھتا ہے۔ 
میراجی کی تنقید اور شاعری میں دو الگ شخصیتیں نظر آتی ہیں۔جب وہ تنقیدلکھتا ہے تو ارضِ مشرق کے قدیم شعری رویے کا وکیل اور شارح بھی نظر آتا ہے۔وہاں وہ کسی مرعوبیت کا شکار نہیں ٹھہرتا، لیکن اپنی شاعری میں وہ زندگی اوراس کی معاشرت کے انعکاس کی بجائے مغرب کے شعری رویوں اور طرزِ اظہار کا گرویدہ اور مطیع ٹھہرتا ہے۔اس طرح شعور کی سطح پر وہ اپنے ارض کا گرویدہ نظرآتا ہے، لیکن لاشعورکی سطح پر ادب کی راہ کا ایک مطیع اور ہارے ہوئے راہی کے طور پر سامنے آتا ہے ۔ہمیں یہ کہتے ہوئے اس بات کا اچھی طرح احساس ہے کہ بعض جید نقاد اسے ہماری نادانی ، بلکہ قدرنا شناسی مانیں گے۔ لیکن ان کی قدر دانی اور بھر پور ستائش کے باوجود میراجی کی شاعری اب تک ہماری شعری روایت میں گڑ نہیں سکی ۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنی تنقید میں وہ جتنا واضح اور دو ٹوک ہے اپنی شاعری میں اتنا ہی مبہم اوران رعایات وخصوصیات سے عاری بھی جن کی وکالت اس نے اپنے مضامین میں کی ہے۔ اس کی شاعری اور تنقید میں دوئی ہے۔ یہ وقت کے اس دوراہے کا اعلامیہ بھی ہے ،جس پر میراجی کھڑا تھا۔ایک ایسا دوراہا جہاں اردوتنقید کے اکثر مفکروں نے ارض کی فطرت اور اس کی نمو کی خصوصیت کو دیکھنے سے اجتناب برتا تھا ۔یا پھر اس سے قاصر رہے تھے کہ ملوکیت کا قصیدہ پڑھنا وقت کی ضرورت تھی۔اس طرح انھوں نے اپنے قومی اختصاص اوراپنی اجتماعی شخصیت بھی ہار دی تھی۔نئے زمانے (ملوکیت اور حکومت) کو خراج اس طرح ادا کیا تھا کہ اپنی خودی کی بھی نفی کردی تھی ۔ لیکن میراجی اس دوراہے پرکھڑے ہوکر ہمیں ہمارے ہونے کا احساس بھی دلاتاہے ۔ اس ارض کا، اس کے ماضی کا ، اس کے ادب کا وکیل بھی نظر آتا ہے۔تاہم وہی میراجی اپنے تخلیقی لمحوں میں مغرب کی ابہام پرستی کا اسیر بلکہ شکار بھی ٹھہرتا ہے۔ اس کی ادبی شخصیت کشمکش اور تضاد کا واضح شکار نظر آتی ہے۔یہ تضاد اس لیے بھی ہے کہ میراجی کی شخصیت ہندوستانی قومیت کے دو نیم تشخص کا استعارہ ہے۔اس کی تفہیم کے لیے بھی میراجی کی تنقید کا مطالعہ ضروری ہے۔اس طرح میراجی کی تنقیداس کی تخلیقی کاوشوں کی تشریح و تعبیر کا ایک وسیلہ بھی ٹھہرتی ہے اور اس ضرورت کو سوا کرتی ہے کہ اردو کے مقتدر ادارے میں سے کوئی مشرق و مغرب کے نغمیکو قاری کے سامنے پھر سے لائے ۔قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کو اس کا پہلا استحقاق بھی ہے اور یہ اس کی ذمے داری بھی ہے۔
v

Abuzar Hashmi
2nd Floor, 8B, Ekbalpur Lane, 
Kokata-700 023
Mob. 9330057962

اگر آپ رسالے کا آن لائن مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے لنک پر کلک کیجیے:۔



قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

منگل، 12 جون، 2018

مسعود حسین خاں کی خاکہ نگاری ۔ مضمون نگار: مرزا خلیل احمد بیگ







مسعود حسین خاں کی خاکہ نگاری
مرزا خلیل احمد بیگ
خاکہ نگاری اردو ادب کی ایک مقبول صنف ہے۔ اسے اردو اصنافِ نثر میں ایک منفرد مقام حاصل ہے،کیوں کہ مرزا فرحت اللہ بیگ 1 (1883-1947)سے لے کر مرزا اکبر علی بیگ 2(1942-2005)تک اردو کے تقریباً ہر چھوٹے بڑے ادیب نے خاکے لکھے ہیں اور اس صنفِ ادب کو استحکام بخشا ہے۔ ہر چند کہ خاکہ نگاری کے ابتدائی نقوش ہمیں محمد حسین آزاد (1830-1910) کے تذکرے ’آبِ حیات‘ (1880)میں دیکھنے کو ملتے ہیں، لیکن اس کا باقاعدہ طور پر ارتقا مرزا فرحت اللہ بیگ کی ادبی تحریروں سے ہوتا ہے جنھوں نے ڈپٹی نذیر احمد (1830-1912)کا نہایت دلکش اور دلچسپ خاکہ لکھا۔ اس کے بعد اردو خاکہ نگاروں کی ایک کہکشاں نظر آتی ہے جس میں مسعود حسین خاں کے علاوہ مولوی عبدالحق، خواجہ حسن نظامی، شاہد احمد دہلوی، رشید احمد صدیقی ، سید عابد حسین، مالک رام، محمد حسن، صالحہ عابد حسین، چراغ حسن حسرت، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، یوسف ناظم، مجتبیٰ حسین، عابد سہیل اور عوض سعید کے نام خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
خاکہ نگاری کو بالعموم اسکیچ (Sketch)کہا جاتا ہے، لیکن یہ اس کا صحیح انگریزی ترجمہ یا متبادل نہیں ہے۔ اسکیچ کسی شے یا شخص کا محض بیرونی یا بالائی ڈھانچا (Surface Structure)ہوتا ہے جس کے صرف ظاہری نقوش اور خد و خال ہی دیکھے جاسکتے ہیں۔ خاکہ اسکیچ سے بڑی اورآگے کی چیز ہے۔ اس میں خاکہ نگار کسی شخص کے ظاہری نقوش، خد و خال، چہرے اور حلیے کے مشاہدے کے ساتھ ساتھ اس کی شخصیت کی باطنی پرتیں بھی ٹٹولتا ہے، اور اپنے ذاتی تاثرات بھی پیش کرتا ہے۔ کسی شخصیت کا خاکہ بیان کرتے وقت اس کی ہوبہو تصویر کشی کی جاتی ہے اور معروضی انداز سے کام لیا جاتا ہے، نیز اس کی خوبیوں کے ذکر کے ساتھ ساتھ اس کی خامیوں کو بھی اجاگر کیا جاتا ہے۔ ایک اچھا خاکہ وہی سمجھا جاتا ہے جس میں صاحبِ خاکہ کی شخصیت جیسی کہ وہ ہے، ابھر کر سامنے آجائے خواہ وہ اس کا حلیہ اور لباس ہو یا وضع قطع، عادات و اطوار ہوں یا طرزِ بود و ماند، اندازِ گفتگو اور مزاج ہو یا افتادِ طبع۔ اس شخصیت کے ساتھ پیش آنے والے بعض حالات و واقعات بھی خاکہ نگار کی دلچسپی کا باعث ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض خاکے سوانح نگاری اور سیرت نگاری کی حدوں کو چھو لیتے ہیں۔
مسعود حسین خاں (1919-2010)ایک ماہرِ لسانیات تھے، اور لسانی مسائل و مباحث سے انھیں پیشہ ورانہ دلچسپی تھی، لیکن وہ ناقد، شاعر، محقق، مدون اور خاکہ نگار بھی تھے۔ انھوں نے ’ورودِ مسعود‘ کے نام سے اپنی خود نوشت سوانح حیات بھی لکھی جس میں بہترین شخصی مرقعے پائے جاتے ہیں۔ مسعود حسین خاں کے چار مقتدر شخصیات پر لکھے ہوئے خاکے یہ ہیں: رشید احمد صدیقی ،ڈاکٹر ذاکر حسین، جسٹس محمد ہدایت اللہ، عبدالقادر سروری۔
رشید احمد صدیقی :
مسعود حسین خاں کا سب سے دلچسپ خاکہ ان کے استاد رشید احمد صدیقی (1894-1977)پر ہے جو ان کے انتقال کے بعد لکھا گیا اور ’رشید صاحب: چند یادیں‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ رشید احمد صدیقی، مسعود حسین خاں کے نہ صرف شفیق و محترم استاد تھے بلکہ مربی بھی تھے، چنانچہ انھوں نے ہمیشہ اس رشتے کا پاس رکھا۔ وہ جب بھی ان سے ملتے حفظِ مراتب کا ضرور خیال رکھتے۔ رشید احمد صدیقی بھی انھیں اپنے تمام شاگردوں میں سب سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔ رشید احمد صدیقی سے ان کی پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ ذاکر حسین کالج(سابق اینگلو عربک کالج)، دہلی سے بی اے کرنے کے بعد ایم اے میں داخلے کی غرض سے جولائی 1939میں علی گڑھ پہنچے تھے۔ رشید احمد صدیقی اس وقت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں استاد تھے۔ مسعود حسین خاں نے پہلے ایم اے (تاریخ) میں داخلہ لیا تھا، لیکن ہفتے عشرے کے اندر تبدیلیِ مضمون کی درخواست دے کر ایم اے (اردو) میں منتقل ہوگئے تھے۔ مسعود حسین خاں اپنے متذکرہ خاکے کی ابتدا ان الفاظ سے کرتے ہیں :
’’میں شاگردِ رشید ہوں۔ یہ کلمۂ توصیفی نہیں، کلمۂ اضافی ہے۔ اس کو کلمۂ توصیفی کہنا میرے اختیار کی بات نہیں۔ یہ اختیار تو رشید صاحب کو تھا۔‘‘
مسعود حسین خاں نے اپنے استاد سے پہلی ملاقات کی جو تصویر کشی کی ہے وہ لاجواب ہے۔اس سے ان کی شگفتگیِ مزاج اور افتادِ طبع کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ جاننے میں ذرا بھی دیر نہیں لگتی کہ مسعود حسین خاں کی ملاقات ایک ایسی شخصیت سے ہورہی ہے جو منفرد ہے اور جس کا طنز و مزاح کی دنیا میں کوئی ثانی نہیں ہے۔ اس سے یہ بھی مترشح ہوتا ہے کہ رشید احمد صدیقی کی یونیورسٹی برادری میں کتنی عزت و توقیر تھی، اور لوگ ان کا کس قدر ادب و احترام کرتے تھے۔ مسعود حسین خاں لکھتے ہیں :
’’جولائی 1939 میں جب میں سابق اینگلو عربک کالج، دہلی سے بی اے پاس کرنے کے بعد ایم اے میں داخلے کے لیے علی گڑھ پہنچا تو رشید صاحب سے پہلی مڈبھیڑ ہوئی۔ یہ ان کے نئے تعمیر شدہ مکان کے مردانہ حصے میں، کمرے سے باہر، پھوس کے چھپر کے نیچے، بے کمر اور باکمر سرکنڈوں3کے مونڈھوں پر میرا ان کا پہلا سامنا غالب کے مشہور شعر ’روکے‘ اور ’کھینچے‘ سے بخوبی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔4عرضِ حال سن لی اور بولے، ’کل شعبۂ اردو میں تشریف لائیے،‘ اور اس کے ساتھ ملاقات یک لخت ختم کردی۔ لوٹتے وقت ایسا محسوس ہوا نہ تماشا کامیاب آیا نہ تمنا بے قرار۔ داخلے کی حاجت مندی سوار تھی اس لیے دوسرے دن شعبۂ اردو میں جا دھمکا۔ بغیر توجہ کے انھوں نے میرے ہاتھ سے داخلے کا فارم لیا اور ’آئیے حضرت‘ کہہ کر میرے ساتھ ساتھ جا نکلے۔ اسٹریچی ہال میں، جہاں ان دنوں داخلے کا بازار لگتا تھا، کلرکوں سے لے کر پرووسٹ اور دیگر اربابِ داخلہ تک، بے شمار میزیں: یہاں اندراج کرائیے، یہاں ہال اور ہوسٹل کا انتخاب کیجئے، یہاں فیس داخلہ جمع کیجئے، ہر میز پر ٹھٹ کے ٹھٹ لگے ہوئے تھے۔ پیروکار عام طور پر سینیر طلبہ اور رشید صاحب جیسے بعض اساتذہ تھے۔ میں نے دیکھا کہ رشید صاحب کا جس میز کی طرف رخ ہوتا ہے، پرے کا پرا ہٹ جاتا ہے۔ کلرک ہو کہ اسسٹنٹ رجسٹرار ا یک ہلکی سی اٹھک بیٹھک لگاتا ہے اور ان کے فقرے کی تاب نہ لا کر جھٹ ان سے فراغت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اس دن رشید صاحب کے وار بھرپور پڑ رہے تھے اور شاید ہی کوئی مردہ دل ہو جو اس سودا اور ان کے غنچے کے کام سے پہلو تہی کرنے کی ہمت کرتا ہو،لیجیے جو کام گھنٹوں میں ہونا تھا وہ منٹوں میں ہوگیا۔ اس درمیان میری طرف سے مسلسل تجاہلِ عارفانہ رہا۔ ایک دھچکا اور لگا جب آخر میں مجھے داخلے کا فارم تھماتے ہوئے انھوں نے کہا ’لیجیے حضرت! باقی کام آپ کا ہے، فیس وغیرہ داخل کیجیے اور شعبۂ تاریخ... کا رخ کیجیے۔‘‘5
شعبۂ تاریخ سے شعبۂ اردو میں منتقل ہونے کا حال مسعود حسین خاں یوں بیان کرتے ہیں، یہاں بھی ان کا سابقہ رشید احمد صدیقی اور ان کی حسِ مزاح سے پڑتا ہے :
’’ابھی میرے قدم شعبۂ تاریخ میں جمنے بھی نہ پائے تھے کہ ایک مؤرخ ہی کے ورغلانے پر (میری مراد پروفیسر مجیب سے ہے جو ان دنوں علی گڑھ آنکلے تھے) اکھڑ گئے اور ہفتہ عشرے کے اندر ہی تبدیلیِ مضمون کی درخواست لے کر سہما سمٹا شعبۂ اردو میں صورتِ سوال کھڑا ہوا تھا۔ جب رشید صاحب سے میں نے اپنی اس نیت کا تذکرہ کیا تو بولے، ’خوب! یہ میں نے کب کہا تھا کہ آپ مجھ پر نازل ہوں۔‘ پھر ٹھوک بجا کر پوچھا، ’کیا بالکل طے کرلیا ہے؟‘ میں نے کہا، ’جی ہاں، ایک مؤرخ ہی کے کہنے پر‘۔ کہا، ’اچھا تو لائیے درخواست۔‘ اور ایک شانِ بے نیازی سے دستخط کردیے۔ لیجیے، اب میں شعبۂ اردو کا طالب علم بن گیا، یعنی شاگردِ رشید!‘‘6
رشید احمد صدیقی طبعاً کم آمیز واقع ہوئے تھے۔ وہ محفلوں اور مجمعوں سے گھبراتے تھے۔ انھیں خلوت ہی میں سکون ملتا تھا۔ ان کے مزاج کی دوسری خصوصیت یہ تھی کہ وہ عام لوگوں سے بہت کم ربط ضبط رکھنا پسند کرتے تھے۔ ان کا دیرینہ ملازم سکندر ان کے اس مزاج سے بخوبی واقف تھا، چنانچہ جب کوئی ان سے ملنے جاتا اور درِدولت پر دستک دیتا تو سکندر ہی وارد ہوتا اور وہ اگر گھر میں موجود بھی ہوتے تو سکندر نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ ان کے درونِ خانہ وجود کی نفی کردیتا اور ملنے والا نامراد واپس لوٹ جاتا۔ مسعود حسین خاں نے رشید احمد صدیقی کا خاکہ لکھتے وقت ان کی اس سماجی کمزوری کو نظر انداز نہیں کیا اور جیسا دیکھا اور محسوس کیا ویسا بیان کردیا۔ وہ لکھتے ہیں :
’’رشید صاحب ابتدا سے خواص پسند تھے۔ طالب علموں سے وہ اپنا رشتہ یا تو درس تک محدود رکھتے تھے یا چلتے چلاتے ایک آدھ فقرے تک۔ ان کی اس خواص اور خلوت پسندی کی وجہ سے اکثر حضرات کو شاکی پایا۔ ان کا مکان ان کا حصار تھا۔ اس کا احاطہ کچھ اس قسم کا تھا کہ ملنے والا یا تو مردانے دروازے سے ٹکریں مار کر رہ جاتا یا زنانے دروازے پر پہنچ کر چلا جاتا۔ ان کی رہائش کا کمرہ دونوں دروازوں سے اس قدر محفوظ فاصلے پر تھا کہ ان کے وفادار ملازم سکندر کے توسط کے بغیرآپ کی کوئی صدا یا پیغام ان تک نہیں پہنچ سکتا تھا، اور سکندر نہ صرف وفادار تھا، تربیت یافتہ اور مردم شناس بھی تھا۔ وہ نہایت خوش اسلوبی سے حاضر کو غائب اور غائب کو حاضر کردیتا تھا۔ بس یہیں سے سماجی رشتوں کی نزاکتیں پیدا ہوتی تھیں۔ جمیع خلائق کو معلوم تھا کہ رشید صاحب ہمہ وقت علی گڑھ اور اپنے مکان میں موجود رہتے ہیں اور یہ صرف سکندر کی سکندری ہے جو اس خضرِ ادب کو غائب اور حاضر بنائے رکھتی ہے۔‘‘7
رشید احمد صدیقی کو پھولوں سے بہت رغبت تھی، بالخصوص گلاب کے پھولوں سے۔ یہ ان کا پسندیدہ پھول تھا۔ انھوں نے اپنے مکان کے وسیع اور کشادہ صحن میں گلاب کی کاشت کر رکھی تھی اور ہمہ وقت اس کی دیکھ بھال میں لگے رہتے تھے، کھرپی ان کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔ مسعود حسین خاں، رشید احمد صدیقی کے اس ’شوقِ فضول‘ کا تذکرہ اپنے خاکے میں یوں کرتے ہیں :
’’رشید صاحب معاشرتی و جمالیاتی دونوں اعتبار سے بیرونِ خانہ سے زیادہ اندرونِ خانہ کی زیبائش کے قائل تھے۔ چنانچہ جب کہ مکان کے باہری حصے میں خاک دھول اڑتی تھی اندر ایک لہلہاتا چمن اور سبزہ زار تھا اور پھولوں کی وہ بھرمار کہ پریاں قطار اندر قطار۔ قلم کے بعد صرف کھرپی کو یہ شرف حاصل تھا کہ ان کے دستِ مبارک میں دیکھی جاتی جس سے وہ کیاریوں میں قلم کاری کرتے۔‘‘8
پھولوں کی نسبت سے وہ رشید احمد صدیقی کے بارے میں مزید لکھتے ہیں :
’’پھولوں ہی کی نسبت سے انھیں جانوروں سے چڑ تھی۔ میں نے کبھی ان کے مکان پر کوئی کتا پلا ہوا نہیں دیکھا۔ انھیں سالانہ چوریاں گوارا تھیں، لیکن کتا پالنا منظور نہیں تھا۔ اکثر کہتے کہ انسان سے بہتر جانور ہوتا ہے، لیکن سب سے بہتر یہ خاموش پھول پودے ہوتے ہیں۔ ان کا سب سے قیمتی تحفہ گلاب کا پھول ہوتا اور سب سے بڑی مرحمت گلاب کی پود جسے وہ دوسروں پر اعتبار نہ کرتے ہوئے اپنے خاص مالی سے آپ کے مکان میں لگوادیتے۔‘‘ 9
خاکے کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ خاکہ نگار صاحبِ خاکہ کے بارے میں اپنے تاثرات بیا ن کرتا ہے۔ مسعود حسین خاں نے 1941میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کا امتحان پاس کیا تھا۔ وہ دو سال تک رشید احمد صدیقی کے باقاعدہ طور پر شاگرد رہے تھے، چنانچہ مسعود حسین خاں کے ادبی ذوق کو پروان چڑھانے میں ان کا زبردست رول رہا ہے۔ وہ بھی اپنے استاد کے طریقۂ درس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے تھے۔ وہ رشید احمد صدیقی کے بارے میں اپنے تاثرات اس انداز سے بیان کرتے ہیں کہ ان کے طریقۂ تدریس کی تمام خوبیاں قاری کے سامنے آجاتی ہیں، ملاحظہ ہو یہ اقتباس:
’’رشید صاحب کا طریقۂ درس منفرد اور نرالا تھا۔ مطالعہ کی طرح درس کے میدان بھی مخصوص اور محدود تھے، یعنی بیشتر غالب یا اقبال یا جدید شعرا میں حسرت، فانی، اصغر اور جگر۔ انھوں نے تمام شعرا کے بارے میں اپنے انداز میں سوچا تھا۔ ان کی یہ سوچ ان کے بلیغ فقروں کی شکل اختیار کرلیتی تھی جن میں ندرت اور اپج ہوتی اور صاف معلوم ہوتا تھا کہ کسی اور کی ٹکسال سے ڈھل کر نہیں نکلے ہیں۔ ہم لوگ اکثر آپس میں مختلف اساتذہ کے طریقۂ تدریس اور علمیت کا موازنہ کرتے اور عام طور پر یہ رائے قرار پاتی کہ علمِ کتابی رشید صاحب کا میدان نہ تھا۔ لیکن ایک تو رچے ہوئے ذوقِ ادب اور دوسرے خداداد طباعی کی وجہ سے ان کی تحسین شناسی دوسروں سے بالکل مختلف انداز کی ہوتی۔ سونے پر سہاگہ ان کا منفرد اندازِ بیان جو صرف تحریر تک محدود نہ تھا، بلکہ ایک ایک فقرے سے جھلکتا تھا۔ جب کہ دوسرے اساتذہ کی تقریر یاد رہ جاتی، ان کی یادگار بن جاتی!‘‘10
مسعود حسین خاں نے اپنے مشاہدے کی بنیاد پر رشید احمد صدیقی کی بعض ادبی شخصیات سے غیرمعمولی دلچسپی اور قربت کا تذکرہ کیا ہے۔ ان کے الفاظ میں :
’’غالب رشید صاحب کے محبوب شاعر تھے۔ اقبال سے وہ مرعوب تھے، لیکن ان کے ادبی ذوق کی تربیت غالب کے زیر سایہ ہوئی تھی جس کا کلام ان کے منفرد اسلوب کا سب سے بڑا ماخذ تھا۔ اصغر اور جگر سے ان کا ذاتی تعلق تھا، لیکن اصغر کی تراشیدہ شاعری کے وہ زیادہ قائل تھے۔‘‘ 11
اس خاکے میں مسعود حسین خاں نے رشید احمد صدیقی کی خامیوں اور کمزوریوں کا بھی برملا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
’’شعر سے شغف کے باوجود یہ عجیب و غریب بات تھی کہ انھیں شعر بالکل یاد نہیں رہتے تھے۔ وزن کا احساس بہت کمزور تھا۔ کبھی آدھے مصرعے سے آگے نہیں بڑھ پاتے، اور ہر بار اہلِ حلقہ میں سے کسی کو شعر اٹھانا پڑتا، یا بڑھ جاتے تو ’بحرِ ہزج میں ڈال کر بحرِ رمل چلے، کی سی صورت پیدا ہوجاتی، لیکن شعر کا مفہوم حیرت ناک طریقے پر ان کے ذہن میں محفوظ ہوتا تھا جس سے وہ انتہائی محظوظ ہوتے اور بے ساختہ اس شعر کے کچھ الفاظ ان کی نوکِ زبان پر آجاتے۔‘‘12
مسعود حسین خاں نے ایم اے (اردو) کرنے کے بعد آل انڈیا ریڈیو، دہلی میں ملازمت اختیار کرلی تھی جہاں ان کی ملاقات اردو ادب کی تین ممتاز شخصیات پطرس بخاری، ن.م. راشد اور میرا جی سے ہوئی، لیکن چھ ماہ کے اندر ہی ان کی طبیعت ریڈیو کی ملازمت سے اچاٹ ہوگئی، اوروہ وہاں سے مستعفی ہو کر علی گڑھ آگئے اور رشید احمد صدیقی سے ملے اور ریسرچ میں داخلے کی خواہش ظاہر کی۔ مسعود حسین خاں لکھتے ہیں کہ رشید صاحب اس بار خنداں نہیں، انگشت بدنداں تھے، کہنے لگے، ’آپ کو کیا پڑی ہے کہ اچھی خاصی ملازمت چھوڑ کر پچاس روپے کے ریسرچ وظیفے پر آنا چاہتے ہیں۔‘ مسعود حسین خاں نے کہا، ’بس یہی اب ٹھانا ہے۔‘ اس پر رشید احمد صدیقی بولے، ’آجائیے، اور کوئی دن یہ زندگانی بھی کرلیجیے۔‘ کچھ ہی عرصے کے بعد مسعود حسین خاں کو شعبۂ اردو میں عارضی جگہ پر بہ حیثیت لکچرر کام کرنے کا موقع مل گیا۔ مسعود حسین خاں لکھتے ہیں کہ’اب رشید صاحب کا اور میرا ہمہ وقت کا ساتھ تھا۔‘ ان دونوں شخصیات کا ساتھ اور ملنا جلنا 1976 تک قائم رہا، تا آنکہ جنوری 1977میں رشید احمد صدیقی کا علی گڑھ میں انتقال ہوگیا۔
بہترین خاکہ نگار وہ ہوتا ہے جس کی صاحبِ خاکہ سے نہ صرف معاصرت ہو، بلکہ ملاقات اور قربت بھی ہو۔ مسعود حسین خاں کی رشید احمد صدیقی سے نہ صرف معاصرت تھی، بلکہ گہری ملاقات اور قربت بھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نوکِ قلم سے رشید احمد صدیقی کا بہترین خاکہ نکلا۔ مسعود حسین خاں نے انھیں بہت قریب سے دیکھا تھا۔ ان کی شخصیت کے عام پہلوؤں پر ان کی گہری نظر تھی جن میں سے بعض کا ذکر انھوں نے اپنے اس خاکے میں کیا ہے۔ انھیں میں سے ایک پہلو مذہب کے متعلق ان کا رویہ تھا۔ بقول مسعود حسین خاں’رشید صاحب طبعاً ایک مذہبی ذہن کے مالک تھے۔ خاص طور پر اسلام کی عظمت اور فوقیت کے مقر اور قائل، لیکن طاعت و زہد کی جانب عملی رجحان بہت کم تھا۔ اس لیے انھوں نے مذہبی مباحث اور فرائض سے بیشتر خود کو دور رکھا، لیکن ہندی مسلمانوں کی تاریخ، تہذیب اور معاشرت سے انھیں گہری دلچسپی تھی جو ان کی تحریر و تقریر دونوں سے ظاہر ہوتی ہے۔ سرسید کو وہ مسلمانوں کا مسیحا سمجھتے تھے اور علی گڑھ تحریک کو ان کی نشاۃِ ثانیہ۔‘13 مسعود حسین خاں ان کے بارے میں مزید لکھتے ہیں کہ ’بنیادی طور پر وہ انسان اور قوم پرست تھے۔ اس لیے گاندھی، نہرو، محمد علی، اقبال اور ذاکر حسین جیسی شخصیتیں ان کے تخیل کو گرماتی تھیں۔‘‘ 14
رشید احمد صدیقی اور مسعود حسین خاں کا علی گڑھ میں تقریباً 37سال تک ساتھ رہا تھا۔ رشید احمد صدیقی، مسعود حسین خاں کے سب سے پہلے شفیق استاد اور مربی بنے، پھر شعبۂ اردو میں دونوں ایک دوسرے کے رفیقِ کار ہوگئے۔ اس کے بعد تادمِ آخر رشید احمد صدیقی، مسعود حسین خاں کے ہمدرد اور بہی خواہ بنے رہے۔ اس طویل عرصے کے دوران دونوں کے درمیان نہایت مخلصانہ اور خوشگوار تعلقات قائم رہے۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا رشید احمد صدیقی کی گوناگوں شخصیت کی پرتیں کھلتی گئیں جس کا ’مجموعی تاثر‘ مسعود حسین خاں نے ان کا خاکہ لکھتے ہوئے یوں پیش کیا :
’’ میرا رشید صاحب کی شخصیت کا مجموعی تاثر ایک شدید انفرادیت، داخلیت پسند اور حساس طبیعت رکھنے والے فن کار کا ہے۔ وہ غیر معمولی، غیر تعقلی ذہانت اور بصیرت کے مالک تھے۔ ایک مخصوص طبقے ا ور عہد کی اقدار اور وضع داریوں کو عزیز رکھتے تھے، اور انھیں پیمانوں سے ان سب کو ناپتے جو ان کی رہ گذرِ حیات پر آنکلتے۔ وہ بت شکن سے زیادہ خدا ساز تھے ...اپنی ستائش سے گھبراتے، لیکن دوسروں کی ستائش جی کھول کر کرتے...انسانی ہمدردی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ جہاں تک ممکن ہوتا ہر ایک کی حاجت روائی کرتے۔ سیکڑوں پران کے خاموش احسان ہیں، بعض احسان فراموش ہیں۔‘‘ 15
ڈاکٹر ذاکر حسین :
مسعود حسین خاں کا ڈاکٹر ذاکر حسین (1897-1969)پر خاکہ اولاً تقریری صورت میں معرضِ وجود میں آیا، پھر اسے تحریر کا جامہ پہنایا گیا جو ’ذاکر صاحب: ذاتی یادیں‘ کے عنوان سے اشاعت پذیر ہوا۔ ذاکر حسین، مسعود حسین خاں کے حقیقی چچا تھے۔ ان کی پرورش و پرداخت اور تعلیم و تربیت میں ذاکر حسین کا اہم رول رہا ہے، کیوں کہ ان کے (مسعود حسین خاں کے) والد کا انتقال جب وہ صرف دو سال اور دو مہینے کے تھے تبھی ہوگیا تھا۔ مسعود حسین خاں کی ذاکر حسین سے قرابت تو تھی ہی، انھیں ان کا قرب بھی حاصل تھا، چنانچہ انھیں اپنے چچا کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ اس خاکے میں مسعود حسین خاں نے ذاکر حسین کی شخصیت کی نمایاں خوبیوں کو بیان کرنے میں کوئی کسرباقی نہیں چھوڑی۔
ذاکر حسین جب جرمنی سے 1926میں پی ایچ .ڈی کی ڈگری لے کر اپنے وطن قائم گنج (ضلع فرخ آباد) لوٹے تو اس وقت مسعود حسین خاں کی عمر غالباً چھ سات برس کی تھی۔ وہ ان کا حلیہ یوں بیان کرتے ہیں :
’’ان کے چہرے پر کالی داڑھی تھی۔ معلوم نہیں انھوں نے بمبئی یا کہاں سے ایک سفید شیروانی حاصل کرلی تھی، وہ پہنے ہوئے تھے۔اسی شیروانی کے کپڑے کی ٹوپی بھی تھی، ان کے سر پر۔‘‘ 16
مسعود حسین خاں کی اپنے چچا سے یہ پہلی ملاقات تھی اور پہلا تاثر بھی، کیوں کہ تین چار سال قبل جب وہ جرمنی گئے تھے تو مسعود حسین خاں بہت چھوٹے تھے اور انھیں اس وقت کا کچھ یاد نہ تھا۔ جرمنی سے واپسی پر ذاکر حسین کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کا شیخ الجامعہ (وائس چانسلر) بنادیا گیا تھا اور وہ دہلی چلے گئے تھے۔ چوں کہ قائم گنج میں تعلیم کا معقول انتظام نہ تھا، اس لیے ذاکر حسین نے اگلے سال (1927) مسعود حسین کو جامعہ ملیہ اسلامیہ بلالیا اور درجہ دوم میں داخلہ دلوا کر بورڈنگ ہاؤس میں رہنے کا انتظام کروادیا۔ جامعہ ملیہ اس زمانے میں قرول باغ میں واقع تھی، اور وہیں شیخ الجامعہ کی رہائش گاہ بھی تھی، لہٰذا ذاکر حسین کے گھر ان کا برابر آنا جانا رہتا تھا جس سے چچا اور بھتیجے میں قربت بڑھتی گئی۔ خاکہ نگاری کے لیے ضروری ہے کہ خاکہ نگار اور صاحبِ خاکہ میں معاصرت کے علاوہ قربت بھی ہو۔ مسعود حسین خاں کی ذاکر حسین سے نہ صرف قرابت تھی، بلکہ انھیں ذاکر حسین کا قرب بھی حاصل تھا۔ اسی لیے اس خاکے میں انھوں نے ذاکر حسین کی شخصیت کے بعض ایسے ذاتی نقوش کو اجاگر کیا ہے جن کا کسی کو بھی علم نہیں۔
جس زمانے میں ذاکر حسین نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شیخ الجامعہ کا عہدہ سنبھالا تھا وہ نہایت آزمائش کا زمانہ تھا۔ جامعہ بری طرح ’افلاس‘ کا شکار ہوگئی تھی۔ اخراجات کافی حد تک بڑھ گئے تھے اور ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ وہ اب بند ہوجائے گی، لیکن ذاکر حسین کو قوم کے نونہالوں کی تعلیم عزیز تھی۔ انھوں نے حالات کا مقابلہ کیا، دکھ جھیلے، اور کم مشاہروں پر کام کیا، لیکن جامعہ کو بند ہونے نہ دیا۔ یہ ان کے کردار کی ایک نمایاں خوبی اور ان کے عزم و عمل کا روشن پہلو ہے۔ مسعود حسین خاں لکھتے ہیں:
’’اس وقت ذاکر صاحب کی تحریک پر پندرہ بیس جاں بازوں کے ایک قافلے، ایک ٹولی نے عزم کیا کہ جامعہ کو بند نہیں ہونے دیں گے، اور اس عزم کے ساتھ وہ جتنے جامعہ کے مربی تھے ان سے ملا ... کہا کہ ہم اپنی تنخواہیں بند کرلیں گے، لیکن جامعہ کو بند نہیں ہونے دیں گے... بہرحال جامعہ بند نہ ہوئی اور ہم لوگ مکانوں اور گھروں کوواپس نہ کیے گئے۔‘‘ 17
ایک عمدہ خاکہ نگار کی نظر صاحبِ خاکہ کی ایک ایک چیز پر مرتکز ہوتی ہے جس کی وہ دلکش قلمی تصویر بنا کر قاری کے سامنے پیش کرتا ہے۔ علاوہ ازیں وہ صاحبِ خاکہ کی بعض ایسی باتوں کا بھی ذکر کرتا ہے جس سے اس کی شخصیت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، مثلاً اپنے مشاہدے کی بنیاد پر مسعود حسین خاں، ذاکر حسین کی حسِ مزاح اور انداز گفتگو کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’میں نے دیکھا کہ ان کے ہاں مزاح اور ٹھٹھول، بہت ہی شائستہ قسم کا مزاح بات بات سے ٹپکتا تھا۔ وہ اچھے کنورسیشنلسٹ (Conversationalist) تھے، مقرر تو تھے ہی ...لیکن ان کی ٹیبل ٹاکس (Table Talks)اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہوتی تھیں، اور وہ اپنے مخصوص حلقوں میں جب کھلتے تھے تو واقعی ان کی زبان سے پھول جھڑتے تھے۔‘‘18
ذاکر حسین کی سرشت میں فیاضی کی صفت بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ دوسروں کی مدد کرنے اور مالی امداد بہم پہنچانے میں پیش پیش رہتے تھے۔ مسعود حسین خاں نے ان کے حوالے سے ایک واقعے کا ذکر کیا ہے جس سے ان کی شخصیت کے اس پہلو پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’اس زمانے میں یہ اکثر ہوا ہے کہ کئی برس کے انتظار کے بعد نیا لحاف یا نیا گدّا، جڑاول بنائی گئی اور بعد کو معلوم ہوا کہ ایک دن وہ جڑاول، ابھی سردیاں آ بھی نہیں پائی تھیں، اس کا استعمال بھی نہیں شروع ہوا تھا کہ گھر سے غائب ہوگئی۔ تمام شورمچ رہا ہے، کون لے گیا، کہاں لے گیا، تو معلوم ہوا کہ انھوں نے کسی غریب طالب علم کو جو سردی میں اکڑ رہا تھا یا کسی اور غریب ساتھی کو اڑھادی 151 اور خود اپنے پرانے لحاف میں، گدے میں پڑے رہتے تھے۔‘‘19
ذاکر حسین کی شخصیت کئی صفات سے متصف تھی جن میں سے ایک تحمل اور قوتِ برداشت ہے۔ مسعود حسین خاں نے اسے ان کی ’اخلاقی صفت‘ قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
’’سب سے بڑی ان کی اخلاقی صفت جو تھی وہ تحمل تھا، برداشت تھی۔ وہ خود اپنی جان پر عذاب لیتے تھے، لیکن دوسروں کے لیے عذاب نہیں بنتے تھے۔‘‘20
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا وائس چانسلر بننے کے بعد بھی ان کے اندر وہی تحمل تھا۔ مسعود حسین خاں کے الفاظ میں :
’’علی گڑھ میں انھیں دیکھنے سے مجھے اندازہ ہوا کہ جتنا ضبط و تحمل ان کے پاس تھا وہ واقعی کم لوگوں کے پاس ہوگا۔‘‘21
مسعود حسین خاں نے ذاکر حسین کو خلوت اور جلوت، نیز گھر کے اندر اور باہر، ہر جگہ دیکھا تھا۔ انھوں نے ان کی سیرت و شخصیت کا نہایت گہرائی سے مشاہدہ کیا تھااور اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ وہ بنیادی طور پر ایک ’اخلاقی آدمی‘ تھے اور اخلاقی اقدار کی پابندی کرتے تھے۔ مذہب کی جانب بھی ان کارجحان تھا، چنانچہ وہ لکھتے ہیں :
’’آخری عمر میں ان کا رُجحان مذہب کی طرف ہوگیا تھا۔ ویسے وہ مذہب کے خلاف کبھی بھی نہیں رہے، اور اسلام کی جو بھی عبادات ہیں ان میں حسبِ توفیق حصہ بھی لیتے رہے، لیکن بنیادی طور پر وہ اخلاقی آدمی تھے...انھوں نے اپنی زندگی چند اخلاقی قدروں کے گرد بنائی تھی۔ وہ اخلاقی قدریں کچھ تو انھیں خود مذہبِ اسلام میں ہی مل گئی تھیں، کچھ انسانیت دوستی کی تحریک میں مل گئی تھیں جس سے یورپ کی فضا معمور تھی۔‘‘22
انگریزی کا ایک مقولہ ہے: A picture on the wall is the picture of the mind of the man who hangs it.اس کا سیدھا سا مفہوم یہ ہے کہ کسی شخص کی پسند و ناپسند اس کے ذہن کی غمازی کرتی ہے۔ مسعود حسین خاں نے ذاکر حسین کی تین سب سے زیادہ پسندیدہ شخصیتوں کا ذکر کیا ہے جس سے ان کی ذہنی قربت تھی اور اسی سے ان کی شخصیت کے خمیر کا پتا چلتا ہے۔ یہ شخصیتیں ہیں : گاندھی جی، علامہ اقبال اور حکیم اجمل خاں۔ گاندھی جی سے ذاکر حسین کا جو ذہنی ربط رہا ہے اس کے بارے میں ساری دنیا جانتی ہے، لیکن اقبال سے ذاکر حسین کے قلبی لگاؤ کے بارے میں بہت کم لوگوں کو علم ہے۔چوں کہ، جیسا کہ پہلے بھی کہا جاچکا ہے، مسعود حسین خاں کی ذاکر حسین سے نہ صرف قرابت تھی بلکہ قربت بھی تھی، اس لیے وہ ان کے گھر کے ’بھیدی‘ کے مانند تھے۔وہ بتاتے ہیں کہ گاندھی جی کے بعد ’’دوسری بڑی شخصیت جس سے کہ وہ [ذاکر حسین] متاثر تھے اور جو ان کی ذہنی ساخت کے بہت قریب تھی وہ اقبال کی شخصیت تھی۔ اقبال کا جادو سر پر بہت پہلے چڑھ گیا تھا ...انھیں اقبال کے اشعار بے شمار یاد تھے۔‘‘ 23
اقبال سے ذاکر حسین کی ذہنی قربت اور ہم آہنگی کے بارے میں وہ مزید لکھتے ہیں :
’’اقبال کے کلام کا وہ حصہ جو کہ عمل کی آواز دیتا ہے، انسان کی خودی کو بیدار کرتا ہے، جو نفس کو مارتا ہے، اوپر لے جاتا ہے اور انسان کو خدا صفت اور خدا نما بنانے کی کوشش کرتا ہے، یہ تمام چیزیں یقیناًان کے مزاج سے ہم آہنگ تھیں۔‘‘ 24
مسعود حسین خاں نے اپنے خاکے میں اس بات کا انکشاف کیا کہ ذاکر حسین کو اقبال کی نظم ’مسجدِ قرطبہ‘ بہت پسند تھی اور اس کا حسبِ ذیل بند انھیں بے حد ’محبوب‘ تھا :
ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں، کار کشا، کار ساز
مسعود حسین خاں کا بیان ہے کہ ذاکر حسین آخری دور میں جب وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے’شام کو کھانے کے بعد‘اس بند کو’گنگنا کر‘ پڑھا کرتے تھے۔ اقبال نے متذکرہ بند میں ’بندۂ مومن‘ کی تعریف یوں کی ہے :
اس کی امیدیں قلیل اس کے مقاصد جلیل
رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک باز
مسعود حسین خاں لکھتے ہیں کہ ’ذاکر صاحب کی شخصیت بھی اسی سے عبارت تھی، جو رزم اور بزم میں دلِ پاکبازکے ساتھ رہے۔‘‘ 25
ایسا نہیں ہے کہ مسعود حسین خاں نے ذاکر حسین کی صرف خوبیاں ہی بیان کی ہوں، انھوں نے ان کی کمزوریوں کو بھی اجاگر کیا ہے، خاص طور پر اس زمانے میں جب وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر (شیخ الجامعہ تھے)۔ جامعہ کے ملازمین کے ساتھ ان کا رویہ نہایت نرم تھا، خواہ وہ استاد ہو یا کلرک یا چپراسی۔ وہ کسی پر سختی کرنا جانتے ہی نہ تھے۔اگر کبھی کوئی کسی بات پر خفا ہوجاتا تو اس کے مکان پر جا کر تاسف کا اظہار کرتے اور اسے منالیتے۔ ہر شخص کو برابری کا درجہ حاصل تھا، کوئی بھی شخص کسی کو بھی خواہ وہ عہدیدار ہی کیوں نہ ہو ٹوک دیتا تھا۔ یہاں تک کہ ’’جب مجلسِ شوریٰ ہوتی تھی تو ہر شخص شیخ الجامعہ سے یا دوسرے کسی عہدیدار سے، خازن سے برابری کی گفتگو کرتا تھا، اور اپنی تجاویز پر اٹھ کر واک آؤٹ (Walkout)بھی کرجاتا تھا۔‘ 26جب وہ 1948میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر بن کر آئے تو مسعود حسین خاں وہاں شعبۂ اردو میں لکچرر تھے۔ انھوں نے ذاکر حسین سے کہا، ’علی گڑھ کو آپ اس انداز سے نہ چلائیے جس انداز سے کہ جامعہ ملیہ چلائی ہے۔‘ وہ ان سے کہتے تھے یہ بڑا ادارہ ہے، یہاں آپ کو’ایڈمنسٹریٹر‘ بننا ہے۔27
ذاکرحسین پر مسعود حسین خاں کے اس خاکے کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں نہ تو تعلیمی میدان میں ان کی خدمات سے بحث کی گئی ہے اور نہ ہی ان کے سیاسی کارنامے بیان کیے گئے ہیں، بلکہ اسے صرف ذاتی باتوں تک ہی محدود رکھا گیا ہے اور ان کی شخصیت کے وہ نقوش پیش کیے گئے ہیں جو عام نظروں سے اوجھل تھے۔
محمد ہدایت اللہ :
مسعود حسین خاں نے جسٹس محمد ہدایت اللہ (1905-1992)کا بھی خاکہ لکھا ہے جن سے ان کے تقریباً پانچ سال تک 1973)تا1978) مراسم رہے تھے۔ ہدایت اللہ سے مسعود حسین خاں کی پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب انھوں نے جامعۂ ملیہ اسلامیہ (نئی دہلی) کے شیخ الجامعہ (وائس چانسلر) کا عہدہ سنبھالا۔ ہدایت اللہ جامعہ ملیہ اسلامیہ (جو اس وقت ’ڈیمڈ‘ یونیورسٹی تھی)کے امیرِ جامعہ (چانسلر) تھے۔ انھوں نے ہی، بحیثیتِ امیرِ جامعہ، مسعود حسین خاں کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر شپ کے لیے تین اشخاص کے ایک پینل میں سے منتخب کیا تھا۔28
مسعود حسین خاں کی ہدایت اللہ سے جب پہلی ملاقات ہوئی تو ان کے ذہن پر ہدایت اللہ کی شخصیت کا بہت اچھا تاثر قائم ہوا۔ وہ اپنے خاکے ’امیرِجامعہ جسٹس ہدایت اللہ‘ میں لکھتے ہیں :
’’15 منٹ کی گفتگو کے بعد میرے ذہن میں جو ان کا تاثر قائم ہوا وہ یہ تھا کہ اعلیٰ مناصب پر فائز رہنے کے باوجود ان کی باتوں میں ایک خاص قسم کی سادگی اور بے تکلفی تھی۔یہ معلوم ہی نہیں ہوتاتھا کہ وہ مدھیہ پردیش کے چیف جسٹس یا چیف جسٹس آف انڈیا کے اعلیٰ مناصب پر فائز رہ چکے ہیں، جن کے قانونی فیصلے تاریخ ساز رہے، اور جو اپنی دیانت اور حق گوئی کے باعث اعلیٰ ترین سرکاری حلقوں میں عزت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔‘‘29
مسعود حسین خاں کا خیال یہ تھا کہ چوں کہ ہدایت اللہ ملک کے اعلیٰ مناصب پر فائز رہ چکے تھے، اس لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی چانسلری ان کے لیے ایک ’معمولی منصب‘ تھا۔ مسعودحسین خاں نے اپنے متذکرہ خاکے میں ہدایت اللہ کی شخصیت کے حقیقی خد و خال بلا تکلف بیان کردیے ہیں۔ ان کی شخصیت کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے جو ایک قومی و ملی طرز کا ادارہ تھا، ان کی دلچسپی، امیرِ جامعہ ہونے کے باوجود ’برائے بیت‘ تھی۔ مسعود حسین خاں کے الفاظ میں :
’’ان کا تعلق ان قوم پرست سرفروشوں کے گروہ سے نہیں رہا تھا جنھوں نے اس ادارے کی بنیاد ڈالی تھی، اور پھر اپنے بے پناہ جذبۂ ایثار و قربانی سے اسے پروان چڑھایا۔ در اصل ان کی شخصیت مولانا محمد علی، حکیم اجمل خاں یا ڈاکٹر ذاکر حسین کے کینڈے سے بالکل مختلف تھی۔‘‘30
ہدایت اللہ کی شخصیت کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے، اور غالباً اسی میں ان کی شخصیت کی جیتی جاگتی اور چلتی پھرتی تصویر ابھرتی ہوئی نظر آتی ہے، ملاحظہ کیجیے :
’’عوام سے دور، خواص میں مقبول، گولف اور برج کے شائق، مگر اپنے فن میں طاق!‘‘31
مسعود حسین خاں نے اس ایک بھرپور جملے میں ان کی شخصیت کی پوری عکاسی کردی ہے۔ یہ ان کی خاکہ نگاری کا کمال ہے۔
چونکہ امیرِ جامعہ ہدایت اللہ کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے معاملات سے دلچسپی برائے نام تھی، اس لیے جامعہ کو چلانے کی پوری ذمے داری مسعود حسین خاں کے کندھوں پر آن پڑی، جن کا بنیادی رشتہ اور گہرا تعلق علمی دنیا سے تھا اور انتظامی امور کا انھیں نہ تو کوئی تجربہ تھا اور نہ اس سے کوئی دلچسپی تھی۔ انھوں نے (بقولِ خود) صرف جامعہ کی محبت میں ’اوکھلے میں سر‘ دیا تھا۔32 وہ طبعاً سرکار کی دہلیز سے دور ہی رہنا پسند کرتے تھے۔ وہ بحیثیتِ شیخ الجامعہ گورنمنٹ آف انڈیا کے کسی جوائنٹ سکریٹری یا ڈپٹی سکریٹری سے ملنے میں بھی اپنی ’سبکی‘ محسوس کرتے تھے۔ ایسی صورت میں جامعہ کی ترقی یا Expansionکا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مسعود حسین خاں لکھتے ہیں کہ’جب جسٹس صاحب سے میں نے اپنی کمزوری کا ذکر کیا تو معلوم ہوا کہ اس معاملے میں وہ مجھ سے بھی زیادہ خستہ تر نکلے۔‘‘33
ہدایت اللہ کی عوام سے دوری اور خواص میں مقبولیت کا ذکر آچکا ہے، چنانچہ جامعہ کے سلسلے میں جب بھی کسی صاحبِ معاملہ سے ملنے ملانے کا ذکر آتا تو بقولِ مسعود حسین خاں :
’’ان کا ٹکا سا جواب ہمیشہ یہ ہوتا کہ مَیں وزیر اعظم سے مل سکتا ہوں، صدرِ جمہوریۂ ہند کے یہاں حاضری دے سکتا ہوں، لیکن ان سے کم درجہ عہدہ داروں سے ملنا میرے لیے کسرِشان ہے۔‘‘ 34
یہ ہدایت اللہ کا خواص پسند مزاج تھا کہ وہ وزیر اعظم کا ذکر بار بار مسعود حسین خاں سے کرتے تھے، چنانچہ انھی کے مشورے سے یہ طے پایا تھا کہ سال 1976کے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کانووکیشن ایڈریس کے لیے وزیرِ اعظم مسزاندراگاندھی (1917-1984)کو مدعو کیا جائے۔ مدعو کرنے کی ذمے داری بھی انھوں نے ہی لے لی، چنانچہ اندرا گاندھی جامعہ ملیہ تشریف لائیں اور کانووکیشن بحسن و خوبی انجام پذیر ہوا۔
مسعود حسین خاں نے ہدایت اللہ کی خواص پسند افتادِ طبع کی ایک اور مثال بھی پیش کی ہے۔ اگلے سال جب جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کانووکیشن کا زمانہ آیا تو ملک کا سیاسی منظرنامہ بدل چکا تھا، اور اب مرکز میں جنتا پارٹی کی حکومت قائم تھی اور اس کے قائد کی حیثیت سے شری مرارجی ڈیسائی (1896-1995) ملک کے وزیر اعظم تھے۔ چنانچہ ہدایت اللہ کے مشورے سے مرارجی ڈیسائی کو کانووکیشن ایڈریس کے لیے مدعو کیا جانا طے پایا۔ اس بار بھی انھوں نے وزیر اعظم کو جامعہ میں لانے کی ذمے داری قبول کی اور وہ اس ادارے میں بخوشی تشریف لائے۔ مسعود حسین خاں ہدایت اللہ کے اس عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’معلوم ہوا کہ ان کی رسائی نئے وزیر اعظم کے در تک اسی طرح ہے جیسی کہ سابق وزیرِ اعظم کے در تک تھی۔‘‘35
مسعود حسین خاں نے ا پنے خاکے میں ہدایت اللہ کی شخصیت کی بھرپور عکاسی کی ہے، اور ان کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ ان کی خامیوں اور کمزوریوں کو بھی اُجاگر کیا ہے۔ ان میں سے بعض باتوں کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ اس خاکے میں مسعود حسین خاں نے صاحبِ خاکہ سے متعلق اپنے مشاہدات اور قیاسات بھی بیان کیے ہیں جس کا ایک خاکہ نگار کی حیثیت سے انھیں پورا حق حاصل ہے،مثلاً151
.1 ’جسٹس ہدایت اللہ پر امیرِ جامعہ کا منصب ایک طریقے سے تھوپا گیا تھا۔‘
.2 ’ہدایت اللہ صاحب اپنی قانونی مہارت، حلم اور دیانت داری کاشہرہ رکھتے تھے۔‘
.3 ’جن کے قانونی فیصلے تاریخ ساز رہے۔‘
.4 ’جسٹس ہدایت اللہ وزیرِ اعظم سے کم درجہ کے عہدے دار سے کسی قسم کی بات کرنے کو ...اپنی کسرِ شان سمجھتے تھے۔‘
.5 ’وہ مجمع کے نہیں مجلس کے انسان تھے۔‘36
اس خاکے سے ہدایت اللہ سے متعلق بعض ذاتی نوعیت کی باتوں کا بھی انکشاف ہوتا ہے جن کا ان کی شخصیت سے بھی گہرا تعلق ہے، مثلاً 151
.1 وہ چیف جسٹس آف انڈیا کے عہدے پر فائز رہ چکے تھے۔
.2 ان کی اہلیہ کا نام پشپا تھا جنھیں رفاہی کاموں سے دلچسپی تھی۔
.3 وہ جب دہلی آتے تھے تو اشوکا ہوٹل ان کا مسکن ہوتا تھا۔
.4 ان کے کپڑے کناٹ پلیس (نئی دہلی) میں واقع Laffon Tailorsکے یہاں سلتے تھے۔
.5 وہ گولف اور برج کے شائق تھے۔ 37
ہدایت اللہ کی شخصیت میں جو اَنا تھی اس کی عکاسی مسعود حسین خاں ان کے اس خاکے میں کرچکے ہیں۔ اب وہ ان کی شخصیت کے ایک اور رُخ کو پیش کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اپنے سے کم رتبے والے بالخصوص اعلیٰ تعلیم کی دانش گاہ کے باعزت اساتذہ کے تئیں ان کا غیر اخلاقی، غیر مہذب اور آمرانہ رویہ تھا۔ مسعود حسین خاں کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلرشپ کے دوران میں وہاں کے اساتذہ نے اپنی بات منوانے کے لیے دھرنے اور اسٹرائک کا سہارا لیا تھا۔ اساتذہ کی یہ ’شورش‘ وہاں کے شعبۂ اردو کے ایک معروف پروفیسر کے خلاف اور نتیجتاً مسعود حسین خاں (وائس چانسلر) کے خلاف تھی۔ مسعود حسین خاں نے جب اس بات کا تذکرہ ہدایت اللہ (چانسلر) سے کیا تو انھوں نے ’مٹھی باندھ کر اور ہاتھ اٹھا کر‘ غصے کے لہجے میں کہا :
’’مسعود صاحب! ان کا علاج ڈنڈا، بس ڈنڈا ہے۔‘‘
مسعود حسین خاں نے جو خود ایک استاد رہ چکے تھے اس غیر ذمہ دارانہ بیان پر یوں تبصرہ کیا :
’’بحیثیت ایک پیشہ ور استاد کے مجھے ان کے اس فقرے پر تعجب ہوا اور کسی قدر تکلیف بھی، لیکن بعد کو جب معلوم ہوا کہ جسٹس کی حیثیت سے وہ مجرموں کی سزائے موت اور جسمانی سزا دونو ں کی تائید میں تھے،تو زیادہ تعجب نہیں ہوا۔‘‘ 38
عبدالقادر سروری :
عبدالقادر سروری (1906-1971)پرمسعود حسین خاں کاخاکہ اس جملے سے شروع ہوتا ہے :
’’مرنے والے کی خوبیاں اور نیکیاں یاد رہ جاتی ہیں۔‘‘39
اس میں کوئی شک نہیں کہ عبدالقادر سروری کی شخصیت بے شمار خوبیوں کا مرقع تھی جن کا ذکر مسعود حسین خاں نے اپنے خاکے ’پروفیسر عبدالقادر سروری مرحوم‘ میں بڑی محبت سے کیا ہے، لیکن اسی کے ساتھ ان کی شخصیت کی بعض کمزوریاں بھی نوکِ قلم پر آگئی ہیں اور بعض ایسی باتیں بھی جو چونکادینے والی ہیں۔ عبدالقادر سروری سے مسعود حسین خاں کے نہایت دیرینہ مراسم تھے۔ عبدالقادر سروری کا تعلق دکن سے تھا، اور مسعود حسین خاں نے بھی چھے سال (1962تا 1968) حیدرآباد (دکن) میں گزارے تھے جب وہ عثمانیہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں پروفیسر و صدر تھے، لہٰذا ان دونوں اکابرین میں معاصرت کے علاوہ قربت بھی تھی۔ اسی لیے مسعود حسین خاں نے ان کی شخصیت کا نہایت گہرا مطالعہ کیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں :
’’میں نے انھیں قریب و دور، ہر فاصلے اور ہر رنگ میں دیکھا ہے۔‘‘40
عبدالقادر سروری علمی میدان میں شروع ہی سے سرگرم رہے تھے۔ ان کی سب سے پہلی کتاب ’دنیائے افسانہ‘ اس وقت شائع ہوئی تھی جب وہ محض بیس سال کے تھے۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد ان کا تقرر جامعہ عثمانیہ (حیدرآباد) کے شعبۂ اردو میں ’’مددگار پروفیسر‘‘ کی حیثیت سے ہوگیا تھا۔ ’دنیائے افسانہ‘ کے بعد ان کی کئی اور کتابیں شا ئع ہوئیں، مثلاً ’کردار اور افسانہ‘، ’جدید اردو شاعری‘، ’اردو مثنوی کا ارتقا‘، وغیرہ۔ عثمانیہ یونیورٹی کے بعد انھوں نے میسور یونیورسٹی کے شعبۂ اردو و فارسی میں پروفیسر اور صدرِ شعبہ کی خدمات انجام دیں، چنانچہ وہاں بھی ان کی علمی سرگرمیاں جاری رہیں اور وہاں کے دورانِ قیام بھی انھوں نے کچھ نہ کچھ لکھا ۔ آخرِ عمر میں وہ کشمیر یونیورسٹی (سری نگر) کے شعبۂ اردو میں پروفیسر و صدر کے عہدے پر فائز ہوگئے تھے، اور وہیں 11مارچ 1971کو ان کا انتقال ہوگیا۔ سری نگر (کشمیر) کے دورانِ قیام بھی انھوں نے دو کتابیں بعنوان ’کشمیر میں اردو‘اور ’کشمیر کے دو ادیب، دو بھائی‘ تصنیف کیں۔ غرض کہ وہ جہاں کہیں بھی رہے، ان کی علمی سرگرمیاں جاری رہیں۔
عبدالقادر سروری نے پونا کے دکن کالج میں 1956میں منعقدہ لسانیات (Linguistics)کے سَمراسکول میں بھی شرکت کی اور وہاں سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ’زبان اور علمِ زبان‘کے نام سے ایک کتاب تصنیف کی جس سے طلبہ آج بھی استفادہ کرتے ہیں۔ یہ بات نہایت دلچسپ ہے کہ جب انھوں نے دکن کالج (پونا) کے سَمر اسکول میں داخلہ لیا تھا تو وہ سن رسیدہ تھے۔ وہ مسعود حسین خاں (جو اس سَمر اسکول میں ا ستاد کی حیثیت سے پہنچے تھے) سے بھی عمر میں کافی بڑے تھے۔ یہ عبدالقادر سروری کا علمی ذوق و شوق ہی تھا جو انھیں کشاں کشاں پونا( دکن کالج) لے گیا تھا۔ مسعود حسین خاں عبدالقادر سروری کی شخصیت کے اس پہلو کو اپنے خاکے میں اُجاگر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’علمی مشاغل میں ان کی بے پناہ لگن، تحصیلِ علم کے لیے ان کی سن و سال سے بالا تر ہو کر مسلسل تگ و دو ... اپنے کم عمروں سے علمی استفادہ کرنے میں ان کی بے تکلفی ...بے شمار واقعات ہیں جو اس سلسلے میں یاد آرہے ہیں۔‘‘ 41
پونا کے لسانیات کے سَمر اسکول میں عبدالقادر سروری کی شرکت کاذکر مسعود حسین خاں ذرا تفصیل سے کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں :
’’جب 1955 میں پونا میں لسانیات کے اسکولوں کا آغاز ہوا تو دوسرے ہی اسکول میں ایک طالب علم کی حیثیت سے [عبدالقادر سروری نے] اپنا نام درج کرایا اور ڈیڑھ ماہ تک طالب علم کی حیثیت سے دیگر طالب علموں کے ساتھ ہاسٹل میں مقیم رہے۔ مَیں ان اسکولوں میں استاد کی حیثیت سے پڑھانے جاتا تھا، جب بھی ان کی اس ریاضت کے ذکر پر تعجب کا ذکر کرتا، ہنس کر کہتے، اکتسابِ علم کے لیے یہ بھی ضروری ہے۔‘‘42
مسعود حسین خاں نے عبدالقادر سروری کا خاکہ لکھتے ہوئے ان کی شخصیت کی تین خصوصیات کا بطورِ خاص ذکر کیا ہے 151 سادگی، توانائیِ مجسم اور نئے دوست بنانا۔ ان کے الفاظ میں :
’’سروری صاحب کی شخصیت کی سب سے پرکار خصوصیت ان کی سادگی تھی۔ کیا لباس، کیا خوراک اور کیا سفرو حضر، ہمیشہ موٹر نشین رہے، لیکن اسے ہمیشہ اپنامرکب سمجھا، اپنے لیے باعثِ افتخار نہیں بنایا ...سروری صاحب توانائیِ مجسم تھے، مسلسل حرکت ان کے لیے ناگزیر تھی۔ جہاں جاتے نئی دوستیاں... بآسانی پیدا کرلیتے۔‘‘43
عبدالقادر سروری کی شخصیت کی ایک خامی یا کمزوری یہ تھی، بلکہ ان کی شخصیت کا تضاد تھا کہ جہاں وہ لوگوں سے ’دوستیاں‘ پیدا کرتے تھے وہیں’مخالفتیں‘ بھی مول لے لیتے تھے، اور اس پر اظہار تاسف نہیں کرتے تھے، بلکہ اس کے جواز میں مولوی عبدالحق (1870- 1961)کا ایک قول دہراتے تھے جو انھیں بے حد پسند تھا، وہ یہ کہ 151 ’انسان کی مخالفت درختوں یا جڑوں سے نہیں پیدا ہوتی، انسانوں ہی سے ہوتی ہے۔‘ مسعود حسین لکھتے ہیں :
’’میں ہمیشہ اس قول پر ان کو داد ان الفاظ میں دیتا، سروری صاحب آپ میں مخالفت پیدا کرنے اور پھر اس کو سر کرنے کی غیر معمولی صلاحیت ہے۔‘‘ 44
اس کے جواب میں وہ مسکرادیتے۔ مسعود حسین خاں اس کی منظر کشی ایک فارسی مصرع کے ذریعے یوں کرتے ہیں، ع
تبسمے بہ لبِ او رسید و ہیچ نہ گفت
عبدالقادر سروری کا تعلق اگرچہ خطۂ دکن سے تھا، لیکن انھوں نے کبھی دکنی، غیر دکنی یا ملکی، غیر ملکی (شمالی) کی تفریق کے بارے میں نہیں سوچا۔ وہ علاقائیت سے بالاتر ہو کر اردو زبان و ادب کی بے لوث خدمت انجام دیتے رہے۔ وہ حیدرآباد میں بھی رہے اور میسور میں بھی، اور آخری زمانے میں ان کا قیام سری نگر (کشمیر) میں بھی رہا۔ وہ جہاں کہیں بھی رہے، اردو کی خدمت کرتے رہے اور اس کی ترویج و اشاعت میں مقدور بھر حصہ لیتے رہے۔ اردو کی خدمت کا جذبہ ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔مسعود حسین خاں نے ان کے اس جذبے کو جو ان کی شخصیت کے خمیر میں شامل تھا خوب سراہا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
’’سروری صاحب کی وفاداری ایک عالم کی حیثیت سے مقام سے نہیں زبان سے تھی۔ اردو کو جہاں جہاں جس روپ میں پایا اس کے تحفظ و بقا کے لیے اپنی علمی صلاحیتوں کو وقف کردیا۔ اس زبان کے لیے ان میں ایک لگن تھی...ہمہ وقت وہ اس کی تعلیم اور تنظیم میں منہمک رہے۔ اسی کا کھایا، اسی کا گایا، اسی کو اپنی میراث جانا، اسی کو اپنی نجات مانا۔‘‘45
ان کے سانحۂ ارتحال سے اردو پر کیا گذری، مسعود حسین خاں کے الفاظ میں :
’’آج جو وہ ہم میں نہیں تو اردو کے قافلے کا ایک اہم شہسوار نابود ہوگیا ہے، آج جو وہ دور چلے گئے ہیں تو اردو کا افق کچھ اور غبار آلود ہوگیا ہے۔‘‘46
حواشی:
.1 مرزا فرحت اللہ بیگ دہلی کے رہنے والے تھے، لیکن ان کی عمر کا بیشتر حصہ حیدرآباد (دکن) میں گذرا اور وہیں انھوں نے وفات پائی۔ وہ اردو کے مایۂ ناز خاکہ نگار تھے۔ ’ڈاکٹر نذیر احمد کی کہانی، کچھ میری اور کچھ ان کی زبانی‘ ان کا بہترین خاکہ ہے جس کی وجہ سے ان کا شمار اردو کے صفِ اول کے خاکہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ اسے اردو کا پہلا کامیاب ترین طویل خاکہ کہا گیا ہے۔ یہ خاکہ سب سے پہلے انجمن ترقی اردو کے سہ ماہی مجلے ’اردو‘، بابت جولائی 1927 (ساتویں جلد) میں شائع ہوا۔
.2 مرزا اکبر علی بیگ کا تعلق بھی حیدرآباد (دکن) سے تھا۔ وہ عثمانیہ یونیورسٹی (حیدرآباد) میں اردو کے استاد تھے۔ خاکہ نگاری سے انھیں بے حد دلچسپی تھی۔ ان کے خاکوں کے دو مجموعے، ’خوش نفساں‘ (1983)اور ’نفوسِ گرامی‘ (2003)شائع ہوچکے ،ہیں۔
.3 ایک مونڈھے میں Backنہیں تھی اور دوسرا مونڈھا Backکے ساتھ تھا، جیسے کہ Back Chairہوتی ہے۔ (م خ ا ب)
.4 غالب کا وہ شعر یہ ہے :
ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
(م خ ا ب)
.5 مسعود حسین خاں، ’رشید صاحب: چند یادیں‘، مشمولہ ’مضامینِ مسعود‘ از مسعود حسین خاں
(علی گڑھ: ایجوکیشنل بک ہاؤس، 1997)، ص209-10
.6 ایضاً، ص 210، .7 ایضاً، ص 211، .8 ایضاً ،ص211
.9 ایضاً ،ص212، .10 ایضاً ،ص212، .11 ایضاً ،ص212
.12 ایضاً ،ص212-13، .13 ایضاً ،ص215-16، .14 ایضاً ،ص216، .15 ایضاً ،ص215
.16 مسعودحسین خاں، ’’ذاکر صاحب: ذاتی یادیں‘‘، مشمولہ ’مضامینِ مسعود‘ از مسعود حسین خاں
(علی گڑھ: ایجوکیشنل بک ہاؤس، 1997)، ص192
.17 ایضاً ،ص194، .18 ایضاً ،ص195، .19 ایضاً ،ص196، .20 ایضاً ،ص200، .21 ایضاً ،ص203
.22 ایضاً ،ص204-205، .23 ایضاً ،ص205،.24 ایضاً ،ص206،.25 ایضاً ،ص208،
.26 ایضاً ،ص198-99، .27 ایضاً ،ص201
.28 وہ تین اشخاص یہ تھے: (1) پروفیسر مسعود حسین خاں، (2) پروفیسرمحمد شفیع (علی گڑھ)
(3) ڈاکٹر سلامت اللہ (جامعہ ملیہ اسلامیہ)
.29 مسعود حسین خاں، ’امیرِ جامعہ جسٹس ہدایت اللہ‘، مشمولہ ’مضامینِ مسعود‘
از: مسعود حسین خاں (علی گڑھ:ایجوکیشنل بک ہاؤس، 1997)، ص218-19
.30 ایضاً ،ص219، .31 ایضاً ،ص219
.32 یہ فقرہ مسعود حسین خاں کا ہے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے جس علاقے میں واقع ہے اسے ’اوکھلا‘ کہتے ہیں۔ ’اوکھلی میں سر دینا‘ اردو کا ایک عام محاورہ ہے۔ اوکھلی میں سر دینے کا کیا انجام ہوتا ہے یہ سبھی کو معلوم ہے۔ اوکھلی از روئے قواعد اسمِ تصغیر ہے۔ (اور اسمِ مونث بھی)۔اوکھلا اسمِ مذکر ہے اور اوکھلی سے بڑا بھی ہے، چنانچہ اس میں اگر سر دیا جائے تو کیا انجام ہوگا، یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ مسعود حسین خاں نے اوکھلی (جو یہاں مضمر ہے) اور اوکھلا میں لغوی مناسبت پیدا کی ہے اور لفظ ’اوکھلا‘ میں ذو معنیت جس سے مزاح کی چاشنی پیدا ہوگئی ہے۔ (دیکھیے ’مضامینِ مسعود‘، ص 219)
.33 ایضاً ،ص219، .34 ایضاً ،ص219، .35 ایضاً ،ص221
.36 دیکھیے مسعود حسین خاں کا مضمون ’امیرِ جامعہ جسٹس ہدایت اللہ‘، مشمولہ ’مضامینِ مسعود‘، ص 218-24
.37 ایضاً ،ص218-24، .38 ایضاً ،ص223
.39 مسعود حسین خاں، ’پروفیسر عبدالقادر سروری مرحوم‘، مشمولہ ’اردو کا المیہ‘ از مسعود حسین خاں،
مرتبہ :مرزا خلیل احمد بیگ (علی گڑھ: شعبۂ لسانیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، 1973)،ص 189
.40 ایضاً ،ص190، .41 ایضاً ،ص190، .42 ایضاً ،ص190، .43 ایضاً ،ص191
.44 ایضاً ،ص191، .45 ایضاً ،ص192-93، .46 ایضاً ،ص193
v
Mirza Khalil Ahmed Beg
Brookfield, CT, USA

سہ ماہی فکر و تحقیق
اپریل تا جون 2018