جمعہ، 31 جنوری، 2020

شفیع جاوید: اوراقِ زندگی مضمون نگار: سید مسعود حسن



شفیع جاوید: اوراقِ زندگی

 سید مسعود حسن



شفیع جاوید صاحب سے میری ملاقات کب ہوئی یہ تو یاد نہیں لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ ملاقات کا ذریعہ کتاب بنی تھی۔غالباًپندرہ سال قبل کی بات ہے میں ان دنوں اکیوزیشن سیکشن کا انچارج تھا۔شفیع صاحب کسی کتاب کی تلاش میں پہنچے  تھے۔میں نے وہ کتاب انھیں مہیا کرادی اور اس طرح انھیں اپنی کتاب اور مجھے ایک سنجیدہ قاری مل گیا۔شفیع صاحب کے مطالعے کا دائرہ بہت وسیع تھا۔وہ اردو ادب کے ساتھ ساتھ انگریزی ادب کے بھی قاری تھے۔عربی فکشن کے  تراجم کی تلاش میں رہتے اور میں انھیں لائبریری کے ذخائر سے مطلوبہ کتابیں مہیا کردیتا۔ کتاب کی تلاش کے دوران میں نے فلسطینی مصنف Mourid Barghouti کی کتابI Saw Ramallah جب انھیں پڑھنے کو دی تو اس کتاب نے انھیں بہت متاثر کیا جس کا ذکر وہ اکثر کرتے تھے۔وہ اکثر مجھے نئی نئی کتابوں کے بارے میں بتاتے اپنی پسند اور ناپسند کا اظہار کرتے۔Nautej Sarna،Orhan Pamuk کی کتابوں کی طرف انھوں نے ہی توجہ دلائی تھی۔ہماری لائبریری میں ایسی کتابوں کے قاری خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ایسی صورت میں شفیع جاوید صاحب ہماری لائبریری کے  بہت اہم ممبرتھے۔یہاں ایک نام اور لینا چاہوں گا  اور وہ ہے معصوم عزیز کاظمی صاحب کا۔ کاظمی صاحب پٹنہ میں ہوں،گیا میں  یا پھر بنگلور میں، نئے کتب و رسائل کے بارے میں ضرور دریافت کرتے ہیں اور ساتھ ہی نئی کتابو ں کی طرف توجہ بھی دلاتے ہیں۔ ان کا مطالعہ بہت وسیع ہے۔ایسے لوگوں کو یقینا کتابیں دعائیں دیتی ہوں گی۔ لائبریری میں اگر آپ کی انتخاب کی ہوئی کتاب کو ایسے قاری مل جاتے ہیں  تو یہ بڑی خوشی کی بات ہوتی ہے۔ میں نے اسے محسوس کیاہے۔
جب تک شفیع صاحب کی صحت ٹھیک رہی تب تک وہ خود لائبریری آتے اور اپنی پسند کی کتابیں لے جاتے۔جب پیر کی تکلیف زیادہ بڑھی تو آنا کم ہوگیا۔ ایسے میں جاوید اختر ان کے مدد گار ثابت ہوئے اور  مطالعے کا سلسلہ جاری رہا۔
شفیع جاوید صاحب جہاں لائبریری کے لیے ایک معتبر قاری تھے وہیں میرے لیے ایک سر پرست کی حیثیت رکھتے تھے۔میری اور گھر والوں کی خیریت دریافت کرتے۔حسب ضرورت مفید مشورے دیتے  خاص کر اگر بیماری کی خبر ملتی تو طبی مشورے دیتے۔ ہومیوپیتھک دواؤں کی  انھیں اچھی معلومات تھی اور مرض کے لحاظ سے ہومیو دوا بھی تجویز کرتے۔
شفیع صاحب کو مطالعے کا ہی صرف شوق نہیں تھا بلکہ وہ  مطالعے کے بعداپنی نوٹ بک میں کثرت سے نوٹس تیا ر کرتے تھے۔ہارون نگر جب ملنے جاتا تو اکثر مجھے سناتے تھے اور پڑھنے کے لیے بھی دیتے تھے۔ان ڈائریوں میں شفیع جاوید صاحب کی الگ ہی دنیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالواحد ندوی  صاحب نے اپنے مضمون ’شفیع جاوید:افسانہ اور حقیقت‘ میں لکھا ہے کہ”اسی ڈائری میں اصلی شفیع جاوید ہے جو اپنے مختلف افسانے میں کبھی ظاہر ہوتا ہے اورکبھی خود کو چھپاتا ہے۔بغیر اس ڈائری کے دنیا نے ایک نامکمل شفیع جاوید کو جاناہے۔
(روزنامہ پندار(پٹنہ) 23دسمبر 2019)
 اکثر وہ اپنی گذری زندگی کے واقعات بتاتے اور کہتے میرے مرنے کے بعد یہ سب لکھیے گا۔ایک ذمے داری انھوں یہ  دے رکھی تھی کہ ان تحریروں کی نقل محفوظ رکھوں۔ ان پر قلم اٹھانے والا جب ان سے رجوع کرتا تو وہ میرا نمبر دے دیتے۔اور میں مطلوبہ چیزیں مہیا کر دیتا۔ اس کی خبر ملتے ہی ڈھیر ساری دعائیں دیتے۔
نوجوانی کے زمانے میں موسیقی کا شوق تھا۔ایک دن بتانے لگے کہ بسم اللہ خاں کی شہنائی اور کلاسکی گانا سننے ڈمراؤں جایا کرتے تھے۔بعد میں یہ شوق ریڈیو اور ٹی وی تک محدود ہوگیا اور بعد میں وہ بھی ختم ہوگیا۔ایک جگہ ڈائری میں لکھا ہے کہ ”وہاب اشرفی کے انتقال سے کچھ ہی دنوں قبل گانوں کے کسیٹ خریدنے کے سوال پر میں نے ان کے سوال پر کہا تھا۔ ”میں گانا کہاں میں تو وقت کو سنتا ہوں
شفیع صاحب بڑے اصول پسند اور مذہبی انسان تھے۔ ایک ملاقات میں انھوں نے بتایا تھا کی پچھلے جالیس سالوں سے آیۃ الکرسی  روزانہ رات کو پڑھنے کا معمول ہے۔صحت کی خرابی کے باوجودنہ صرف نماز کے پابند تھے بلکہ تہجد گزاری بھی کرتے تھے۔
حکومت بہار میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔گورنر کے پریس سکریٹری سے لے کر ڈائرکٹر محکمہ اطلاعات و تعلقات تک۔مگر اپنے اصولوں سے کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔ اکثر ملاقات میں کہتے”تنگ دست نہ رہا لیکن دست تہہ سنگ رہا۔
شفیع صاحب کی نوٹ بک میں ادبی، سیاسی، مذہبی ساری چیزیں ہوتی تھیں۔ کتاب کے مطالعے کے دوران  وہ طویل نوٹس لیتے تھے۔شفیع صاحب اپنی خود نوشت بھی لکھ رہے تھے۔ مشتاق احمد نوری صاحب نے اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”وہ اپنی جیون گاتھا”بھیگا ہوا شیشہ“ کے نام سے لکھ رہے تھے جس کا کچھ حصہ انھوں نے مجھے سنایا بھی تھا“(روزنامہ پندار(پٹنہ) 13 دسمبر 2019)۔مگروہ مکمل نہ کرسکے۔شفیع صاحب کے اب تک  پانچ افسانوی مجموعے”دائرے سے باہر(1979)،”کھلی جو آنکھ(1982)،”تعریف اس خدا کی (1984)، ’]وقت کے اسیر(1991) اور رات شہر اور میں (2004) شائع ہو چکے ہیں۔ اب جلد ہی ڈاکٹر صفدر امام قادری صاحب اسے کلیا ت کی شکل میں شائع کرنے والے ہیں۔ شفیع صاحب اپنے مضامیں بھی جمع کروارہے تھے۔ مجھے مجموعے کا عنوان  تجویز کرنے کے لیے کہا تھا۔ میں نے کچھ عنوان تجویز کیے جن میں ’]متاع لوح و قلم“انھیں پسند آیا تھا۔مضامین کا یہ مجموعہ بھی صفدر امام قادری صاحب مرتب کر رہے ہیں۔
 یہاں ان کی نوٹ بک کی اس تحریر کا ذکر مقصود ہے جو ان کی زندگی اور شخصیت سے متعلق ہے۔  ان کے گذر جانے کے بعد اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔بغیر کسی ترمیم و اضافہ کے  یہ خود نوشت درج ذیل ہے:
والد کا نام: ایس ایم رفیع الدین (مرحوم) ولد امیر الدین امیر گیاوی ولد جناب محمد بندہ علی، ایڈوکیٹ، گیا۔ والدہ کا نام:بی بی سعیدہ خاتون(مرحومہ) بنت خواجہ محمد عبدالجلیل مرحوم، موضع سونائی، ضلع جموئی(سابق مونگیر)
جو کچھ میں نے سنا ہے گھر میں بزرگوں سے وہ یوں ہے کہ میرے پڑ دادا محمد بندہ علی صاحب، شکراواں ضلع نالندہ سے گیا اپنے پیشے یعنی وکالت کی وجہ سے منتقل ہو گئے تھے، ان کی رہائش محلہ Delhaگیا میں اس مشہور زمانہ کوٹھی میں تھی جو ڈیلہا کوٹھی کے نام سے آج بھی مشہور ہے اور ان کی قبر آج بھی اس میں موجود ہے۔زمانے کی تبدیلیوں کے ساتھ یہ دوسروں کے قبضے میں چلی گئی۔مجھے میری اس آبائی کوٹھی کے واپس ملنے کے دو موقعے ملے لیکن میری بدقسمتی کہ دونوں بار ہم نے یہ موقع کھو دیا۔ میرے دادا،ضلع جج گیا کے دفتر میں Judgement writer  تھے۔یہ عہدہ انھیں کے لیے تھا جو بعد میں ختم ہوگیا۔ میرے دادا کے چھوٹے بھائی تھے جناب ضمیر الدین عرش گیاوی جو مومن کے شاگرد اور اردو کے سرکردہ شاعر تھے۔کلیات عرش 1922 میں کلکتہ سے شائع ہوئی تھی۔رام بابو سکسینہ نے اپنی تاریخ اردو ادب میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔میرے دادا کے ایک چھوٹے بھائی جناب نصیر الدین،جو ریلوے کے بڑے عہدے پر ان دنوں فائز تھے۔سنتے ہیں کہ ان کی تنزلی کی وجہ خواجہ غریب نواز کی شان میں گستاخی تھی۔واللہ عالم بالصواب۔میرے دادا بڑے مذہبی تھے۔میرے دادا کی شادی موضع ارول، جو پہلے گیا ضلع میں تھا،کے شاہ خاندان میں ہوئی تھی۔ میری دادی شرف النساء بیگم شاہ محمد عزالدین صاحب کی بیٹی تھیں اور اکلوتی تھیں اور پانچ بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔ ان کے بھائیوں میں بڑے تھے شاہ فرید الدین، دوسرے تھے شاہ مجید الدین، تیسرے تھے ڈاکٹر شاہ رشید الدین، چوتھے شاہ سعید الدین اور سب سے چھوٹے تھے شاہ توحید الدین جو شکیلہ اختر کے والد اور اختر اورینوی کے خسر تھے۔
میرے والد بہار کے محکمہ پولس میں داروغہ تھے اور جب وہ گیا کہ مفصل تھانہ کے انچارج بناکر پوسٹ کیے گئے تو وہیں ان کا انتقال ہوا،اس وقت ان کی عمر صرف 55 سال تھی،وہ گیا ہی میں کریم گنج کے قبرستان میں مدفون ہیں۔میری والدہ پٹنہ کے جنت القبور میں آسودہ خاک ہیں
میری صرف دو اولاد ہے ایک بیٹی رعنا تبسم اور بیٹا طارق احمد
میرا نام شفیع جاوید یوں ہوا کہ میرے ایک چچا زاد بھائی تھے صغیر جاوید۔بڑا بلند اور بے حد ستھرا ذوق ان کا تھا اور اردو ادب سے انھیں بڑی محبت تھی۔عین عالم جوانی  میں جب وہ بی اے کے فائنل ائیر میں تھے،ان کا انتقال ہوگیا۔ہم ان کے چہیتے تھے۔میرے ادبی ذوق کو انھوں نے ہی جنم دیا تھا اور سنوارا تھا۔اس لیے جب ان کا انتقال ہوگیا،اور ہم نے خود کو بالکل اکیلا محسوس کیا تو ہم نے ان کا نام جاوید اپنا لیا۔میرے والدین نے اس کی سخت مخالفت کی لیکن ہم نے جو طے کرلیا تھا وہ آج بھی قائم  اور میرے نام میں صغیر بھائی آج بھی زندہ ہیں
ہم اسکول میں کبھی نہ پڑھ سکے۔ابّا کا خیال تھا کہ اسکول جانے سے صحبت خراب ہو جاتی ہے۔ اس لیے ہماری تعلیم پرائیویٹ طور پر ہوئی اور بے حد سخت ہوئی۔ تقریباً چار پانچ ماسٹر آیا کرتے تھے۔ان میں ایک مولوی صاحب بھی ہوا کرتے تھے۔اس طرح کی میری تعلیم مظفرپور، سمستی پور،ناتھ نگر اور گیا میں ہوئی۔گیا ہی کے ضلع اسکول سے ہم نے پرائیویٹ طور پر1950میں میٹریکولیشن کا امتحان سکنڈ ڈیویزن میں پاس کیا۔اس سے قبل مجھے امتحان دینے کا کوئی تجربہ نہ تھا“۔
اس کے بعد ابّا کا تبادلہ مظفرپور ہوگیا اور پروفیسر عبدالماجد صاحب جو ابّا کے بہت گہرے دوست تھے، ان کے کہنے سننے پر ابّا نے میرا داخلہ ایل ایس کالج مظفرپور میں کروایا۔وہاں ہم نے 1955 میں بی۔اے کیا۔ایک سال یعنی 1954 یوں ضائع ہوا کہ ہم Meningitis کے بہت خطرناک طور پر شکار ہو گئے تھے۔حیات تھی جو بچ گئے لیکن لگ بھگ ایک سال تک صحت بیحد خراب رہی۔ مظفر پورمیں کئی. Casesہوتے تھےMeningitis  کے، ہم واحد Survival بتائے جاتے ہیں۔شاید یہ میرے والد کی گریہ وزاری کا اثر تھا جو کچی سرائے  مظفرپورکی مسجد میں دوران نماز یا دعاؤں میں وہ کیا کرتے تھے۔لوگوں نے مجھے بتایا تھا کہ کچی سرائے کی مین روڈ تک ان کے رونے کی آواز جایا کرتے تھی“۔
ہم اپنے والد کی واحد اولاد ہیں نہ کوئی بھائی نہ کوئی بہن۔اس لیے ابا  Apprehensive بہت رہتے تھے۔ ایک سپاہی ہمیشہ میرے ساتھ خفیہ طور پر چلا کرتا تھا۔ چونکہ ہم اس بات پر خاصے بدکتے تھے اس لیے ابّا اس بات کو ہم سے پوشیدہ رکھتے تھے لیکن اتنی محبت کے باوجود سخت بہت تھے۔یوں کہیں کہ Strict disciplinarian تھے۔ میرے ادبی رجحان یا ذوق پر سخت برہم رہا کرتے تھے۔یہاں تک کہ ادبی چیز ہم ان سے چھپ کے پڑھا کرتے تھے۔ اگر دیکھ لیتے تو بہت ناراض ہوتے اور کہتے ”تمھارا حال بھی تمہارے دادا کی طرح ہو جائے گا کہ ہر وقت تخیلات میں گم رہا کروگے اور عملی طور پر صفر ہوجاؤ گے۔ جانتے ہو اس ادب اور شاعری کے چکر میں ہم لوگوں نے ڈیلہا کی کوٹھی کھو دیا۔زمین جائداد کی بربادی بھی اس مشاعرے،محفلیں اور ادب کے چکر میں ہوئی“۔ اور کبھی کہتے”اس لڑکے کا حال بھی اختر اورینوی والا ہوگا کہ خون تھوکنے لگے گا۔ایسے کڑے لمحات میں اماں میری مدافعت کرتیں اور ابّا پستول چلاتے چلاتے رہ جاتے“۔
”1955کے اواخر میں ہم ابّا کے ساتھ نرکٹیا گنج چلے گئے۔ 14 مارچ 1955 کو میری شادی ہوچکی تھی۔ میری بیوی بھی نرکٹیا گنج ساتھ گئیں۔میری بیوی ابّا کی اپنی ماموں زاد بہن شمسی بیگم کی بیٹی ہیں۔ نرکٹیا گنج کی کھلی دھلی فضا مجھے بہت راس آئی۔وہاں ایک چینی کا کارخانہ تھا۔ ابّا ایک دن ہم لوگوں کو وہ کارخانہ دکھانے کے لیے لے گئے۔ اس سے پہلے ہم نے کسی چینی کا کارخانہ دیکھا نہ تھا۔ اس کے جنرل مینیجر تھے مسٹر فتح لال واڈیا۔انھوں نے چائے کے دوران مجھ سے میری تفصیلات پوچھیں اور کچھ دیر خاموش رہ کر بولے تھے۔Why don’t you join us young man? میں نے حیرت سے پوچھا”کس طرح“؟ تو انھوں نے Yard officer کا آفر دے دیا۔ ہم بھی فارغ تھے،اس عہدہ پر جوائن کر لیا۔ڈیوٹی سخت تھی لیکن لطف آتا تھا۔تنخواہ اچھی خاصی تھی پھر ابّا کے ساتھ رہنا۔ اس لیے کوئی فکر ہی نہ تھی۔تقریباً 4 یا 5 مہینوں کے بعد ایک دن واڈیا صاحب سے میرے ادبی ذوق کی باتیں ہونے لگیں،اس کے بعد میں نے کہا کہ میں آگے پڑھنا چاہتا ہوں لیکن ابّا تیار نہیں ہوتے۔ان کا کہنا تھا کہ گریجویٹ ہوگئے کافی ہے۔،اب چلو تم کو پولس میں سرجنٹ کے عہدے پر بحال کروادیتے ہیں۔اماں نے زندگی بھر پولس محکمہ کی پریشانیاں دیکھی تھیں اور جھیلی بھی تھیں۔اس لیے وہ اور ہم اس کے سخت مخالف تھے۔
واڈیا صاحب نے کہا کہ آگے تو ضرور تم کو پڑھنا چاہیے اور اگر تم Labour  یاSociology  میں ایم۔اے کرلو تو ہم بہت کم وقت میں تم کو Labour officer بنالیں گے۔انھوں نے ابّا کو بہت سمجھایا،ابّا کسی طرح مان گئے۔اس سمجھانے اور منانے کے دوران کافی وقت نکل گیا۔ہم جب پٹنہ یونیورسٹی میں داخلہ کے لیے پہنچے تو Labour میں کوئی جگہ نہ تھی۔مجبوراً Sociology میں داخلہ لینا پڑا۔لیکن یہ بھی اللہ کا ہی انتظام تھا کہ Sociology نے میرے ادبی ذاوق کو نکھارنے میں بڑی مدد کی۔اس طرح ہم58۔ 1956کے Session میں ایم۔اے سوشیولوجی کے لیکچر مکمل کیے لیکن پھر ابّا اور کچھ دوستوں نے کہا کہ بھائی تم کمیشن کا امتحان دے ڈالو تو ہم 1958 میں BPSC کے امتحان  میں بیٹھ گئے اور ایم اے کا امتحان چھوٹ گیا۔ 1959 سے ہم بہار سرکار کی نوکری میں آگئے اور ابا مطمئن ہوگئے کہ ہم سرکاری کرسی پر بیٹھ گئے۔ اس کے کافی دنوں کے بعد میری بیوی نے ایم۔اے کی یاد دلائی،اس وقت ہم دربھنگہ میں محکمہ ماپ تول (Weights & Measures)  میں تھے۔ بڑی مشکل سے فرصت ملی کیونکہ محکمہ نیا نیا قائم ہوا تھا اور کمیشن سے بہت کم لوگ آپاتے تھے اور پھر weights & Measures کو Sociology سے کیا مناسبت لیکن خدا وندکریم کے معجزات کا کیا کہنا؟ امتحان کی اجازت بھی ایک معجزہ ہی سمجھیے۔1963 میں ایم اے سوشیولوجی اس طرح گرتے پڑتے سکنڈ کلاس سے کیا اور پھر1971 سے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ میں بہ حیثیت ڈپٹی ڈائرکٹر BPSC کے ذریعے آئے اور 1993 میں ڈائرکٹر Information & Public Relations Deptt., Bihar کے عہدے سے سبکدوش ہوئے اور اس کے بعد بھی Indian Red Cross کے Bihar Chapter کے Administrator ایک سال تک رہے اور 1994 سے پوری طرح سبکدوش ہوگئے“۔
”1953 میں پہلا افسانہ’آرٹ اور تمباکو‘ کے عنوان سے ماہنامہ ’اُفق‘دربھنگہ میں شائع ہوا جسے شمیم سیفی (مرحوم)  نکالتے تھے۔اس کے بعد سے مندرجہ ذیل رسالوں میں شائع ہوئے اور ہوتے رہے“۔  
(1) بیسویں صدی(دہلی)(2) چندن(دہلی)(3) تحریک(دہلی)(4) آزاد ایشیاء(دہلی) (5) پروین(الہ آباد) (6) نکہت(الہ آباد) (7) کتاب(لکھنؤ) (8) آہنگ(گیا) (9) ہفتہ وار آدرش(گیا)(10) شب خوں (الہ آباد) (11) صنم(پٹنہ)(12) الفاظ(علی گڑھ (13) مباحثہ(پٹنہ)(14) خرمن(پٹنہ)(15) مصور (پٹنہ)(16) پاکستان کے آئندہ/ بادبان/ صریر/ روشنائی/ خیال/سیپ/اوراق/فنون  اور ادب لطیف۔
شفیع صاحب نے حالات زندگی کے علاوہ اپنی افسانہ نگاری پر بھی روشنی ڈالی ہے۔یہ ان کی  افسانہ نگاری  اور ان کے افکارکی تفہیم کے لیے اہم مآخذہے۔
میں مواد کے اعتبار سے مختلف افسانوں میں مختلف ہو سکتا ہوں لیکن انداز بیان جسے آپ لوگ اسٹائل بھی کہتے ہیں، وہ تو بہر حال وہی ہوگا جو میرا ہے
میرے Creative process کے کچھ اجزائے خاص ہیں۔جن میں از خود یادنگاری اولین ترجیح پا جاتی ہے۔عصری گرد و پیش بھی آتا ہے لیکن یادیں   ہمیشہ ہمیشہ بھاری پڑ جاتی ہیں اور وہی اداسی کا باعث بھی ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے یادیں تو کھوئے ہوؤں کی جستجو ہے۔اس لیے شخصی طورپرDepressed رہتا ہوں اور فنی طور پر افسردہ۔اس میں میرےd Disillusioned کا بھی ہاتھ ہے۔
طویل کشاکش بھری زندگی گذارنے کے بعد یوں بھی بشاشت گم ہوجاتی ہے۔میرے پاس اب سوائے دل غمخوار کے کچھ اور نہیں ہے۔یہ Sense of Loss میری ہر چیز پر چھا یا ہوا ہے۔زندگی نے،زمانے نے،وقت نے، مقامات نے، لوگوں  نے ہمیں جو کچھ دیا ہے وہی تو ہم اپنے فن میں لپیٹ کر اپنے قارئین کو واپس لوٹا رہے ہیں۔
میرے یہاں کہانی کی تعمیر اور کلائمکس وغیرہ قسم کی چیز نہیں ہوا کرتی ہے۔نہ ہی میں قاری کو کسی موڑ پر اچانک چھوڑ کر اچنبھے میں ڈالتا ہوں، میرے یہاں تو فکر کا قوام ہے اور تفکر کی گہرائی ہے۔واقعات اور پلاٹ اور کردار وغیرہ کی حیثیت ثانوی ہے۔
ہر تخلیق کار کا اپنا طریقہ کار  ہوتا ہے۔مشاہدے اور تجربات کے اپنے زاویے ہوتے ہیں۔ Perceptions  کی اپنی سطح ہوتی ہے۔تخیل کا اپنا دائرہ اور اپنی وسعت ہوتی ہے۔اگر میرے قاری کے پاس فہم کی ثروت مندی نہیں  ہے تو وہ نہیں سمجھ سکتا کیونکہ میں وقت گذاری  والی نہیں بلکہ رات کے پچھلے پہر کو پڑھنے والی چیزیں لکھتا ہوں۔
زندگی سپاٹ شے نہیں ہے۔یہ متحرک بھی ہے اور ہشت پہلو بھی ہے۔کسی پہلو پر روشنی ہے،کوئی حصہ تاریکی میں ہے  اور کہیں سرمئی اُجالا بھی ہے۔زندگی کو اس طرح مختلف Shades میں دیکھتا ہوں،اگر ایسا نہ ہوگا تو میری تحریر اکہری ہو جائے گی۔اس کی تہہ داری مفقود ہو جائے گی۔ادب اور screenplay میں یہی فرق ہے کہ تخلیقی معنویت Transparent نہیں ہوتی۔
میرے یہاں Fusion کی تکنیک ہے جسے آپ Symphony کی تکنیک بھی کہہ سکتے ہیں۔ پروفیسر نرمدیشور پرساد نے میری تکنیک کو Thought processکی Mosaicتکنیک کہا تھا
”My message is always clear but veiled کیونکہ میں ”برہنہ حرف نہ گفتن“ کا قائل ہوں اسی لیے میری تحریر Tangent ہوتی ہے اور جو کچھ ہے وہ Strait from the heart ہے
پٹنہ نے مجھے موہ لیا اور یہاں کئی اعلی پائے کے دانشوروں کی صحبت نے میرے تخلیقی سفر میں بڑا مثبت رول ادا کیا۔میں شاید تادم آخر عبدالقیوم قائد،ڈاکٹر نرمدیشور پرساد اور ’شب خوں‘ کے اجراء کے بعد شمس الرحمن فاروقی سے جو تعلقات ہوئے انھیں کبھی بھول نہ پاؤں گا۔یہ تینوں میری ادبی زندگی کے اہم ستون رہے
ہر تاریخ ماضی ہے اور ہر ماضی تاریخ ہے جو وقت کی راکھ میں دب کر خاک ہو جاتا ہے اور کبھی میری طرح کوئی اس راکھ کو کرید کر، کسی بجھی ہوئی چنگاری کو اپنی یادوں کی ہوا دے کر تازہ کردیتا ہے اور رات کے سنّاٹے میں تاریخ بننے کے لیے بیٹھ جاتا ہے
ایسی ہی بے کراں تنہائی میں اور ایسے بے داغ سنّاٹے میں وہ آنکھ چاہیے جو اندر کھلتی ہے اور وہ کان چاہیے جو بازگشت سنتا ہے اور یادوں کی تاریخ کا تانا بانااپنا کام کرنے لگتا ہے،یہاں تک کہ صبح ہوجاتی ہے اور دل کے دروازے بند ہوجاتے ہیں۔ایک اور رات تاریخ بن جاتی ہے۔،وقت کی راکھ میں دب کر رہ جاتی ہے اور پھر کبھی میری طرح کا کوئی  اسے ہوا دینے کو پچھلی رات کو اٹھ کر بیٹھتا ہے اور داخل کو دیکھتا ہے اور بازگشتوں کو سنتا ہے اور تاریخ کو بُنتاہے۔اور خود آخر کار موت کے اُس دریچے سے زندگی کی دوسری طرف چلا جاتاہے۔جس سے اب تک کوئی واپس نہیں لوٹا
12 دسمبرکو شفیع صاحب بھی موت کے دریچے سے زندگی کی دوسری طرف چلے گئے۔کیا پتہ تھا کہ اس خاموشی سے چلے جائیں گے       ؎
ملو جو ہم سے تو مل لو کہ ہم بہ نوک گیاہ
مثال قطرہ شبنم رہے رہے نہ رہے
(نظیر اکبر آبادی)
Dr. Syed Masood Hasan
Khuda Bakhsh O.P.Library
Ashok Rajpath
Patna-800004
mailme.masoodhasan@rediffmail.com

ماہنامہ اردو دنیا، فروری 2020

ترکی میں اردوزبان و ادب مضمون نگار: امتیاز رومی


ترکی میں اردوزبان و ادب



 امتیاز رومی

اردو زبان کی انفرادیت یہ ہے کہ متعدد لسانی عوامل کی شمولیت اور مختلف تہذیبی عناصر کی یکجائیت نے اس کے تانے بانے بنے۔ عربی، فارسی، ترکی، ہندی اور انگریزی الفاظ کی مشارکت نے قوت گویائی بخشی اور ’ریختہ‘ بولی کی سطح سے بلند ہو کر زبان اور پھر ادبی زبان بن گئی۔ ایک ایسی زبان جس کی خوشبو عالمی افق کو مہکا رہی ہے۔ اپنی جائے پیدائش سے ہزاروں میل کے فاصلے پر بھی اپنا وجود نہ صرف قائم کر چکی ہے بلکہ مستحکم بھی، جو بر صغیر سے نکل کر دنیا کے مختلف براعظموں میں اپنی لسانی اور تہذیبی شناخت رکھتی ہے۔ چونکہ اردو زبان محض ایک زبان نہیں بلکہ ایک تہذیبی سنگم ہے جس کی بنیاد رواداری اور ہم آہنگی پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی دنیا کے مختلف ملکوں اور تہذیبوں کے لیے اردو باعث کشش ہے۔
عالمی منظرنامے پر ترکی ایک ایسا ملک ہے جس سے اردو زبان و تہذیب کے قدیم ترین مراسم ہیں۔ جس کا آغاز ہندوستان میں ترکوں کی آمد سے ہوتا ہے۔ انھوں نے ہندوستان کے تہذیبی و ثقافتی اور لسانی دھارے میں خود کو شامل کرکے ایک نیا رنگ دیا۔ اردو زبان کی لفظیات میں ترکی الفاظ کا اضافہ کیا۔ نیز حدود سلطنت کی وسعت کے ساتھ ساتھ اردو زبان کا دائرہ بھی وسیع کیا۔ دوسری طرف ہندوستانی مسلمان جب ترکی گئے تو اپنے ساتھ یہ زبان بھی لے گئے۔ 1453 میں سلطان محمدفاتح نے جب قسطنطنیہ (استنبول) فتح کیا تو اس سلسلے میں اور تیزی آئی۔ بہت سے ہندوستانی مسلمان استنبول میں آبادہوگئے۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی آتے آتے اس تعداد میں کافی اضافہ ہوا اور یہ تعداد اتنی ہوگئی کہ انیسویں صدی کے آواخر میں استنبول سے اردو اخبارات نکلنے لگے۔ ظاہر ہے کوئی بھی اخبار نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے قارئین کی خاطر خواہ تعداد موجود ہو۔ خلیل طوقار کی تحقیق کے مطابق 1880 میں اردو کا پہلا اخبار ’پیک اسلام‘ کے نام سے نکلا۔ اس کے بعد دو اور اخبارات نکلے۔ اس حوالے سے خلیل طوقار رقم طراز ہیں:
استنبول میں نکلنے والے اردو اخبارات کے سلسلے میں ہمارا تین ناموں سے سابقہ پڑتاہے: ’پیک اسلام‘، ’جہان اسلام‘ اور ’الدستور‘ علاوہ بریں ان اخباروں میں ’اخوت‘ کے نام کا بھی اضافہ کیا جا سکتاہے۔ جو فارسی زبان میں شائع ہونے کے باوجود ہندوستانی صحافیوں کی جانب سے نکلنے کے اعتبار سے قابل ذکر ہے۔ ہماری تحقیقات کے دوران یہ دیکھنے میں آیاہے کہ استنبول کی لائبریریوں میں ان چاروں میں سے صرف تین اخبارات کے نسخے موجود ہیں اور وہ اخبارات ہیں: ’جہان اسلام‘، ’الدستور‘ اور ’اخوت‘، لیکن اب تک ’پیک اسلام‘ کا کوئی نسخہ نہیں ملا۔
اردو اخبارات میں پہلے نمبر پر ہونے کا شرف پیک اسلام کو حاصل ہے۔ 1880 میں نکلنے والے اس اخبار کے ساتھ استنبول میں اردو صحافت کا آغاز ہوتا ہے۔ ’پیک اسلام‘ اردو اور ترکی دونوں زبانوں میں شائع ہورہا تھا۔ اس کے مدیر مسؤل نصرت علی خان تھے جو انگریزوں کے خلاف سرگرمیوں میں شرکت کرنے کی وجہ سے ہندوستان سے جلا وطن کردیے گئے تھے۔ مئی1880 میں ’پیک اسلام‘ کا اولین شمارہ منظر عام پر آیا۔
(ڈاکٹر خلیل طوقار، جہان اسلام، مغربی پاکستان اردو اکادمی لاہور، 2011 ص 36)
اس تحقیق کی رو سے معلوم ہوتا ہے کہ 1880 میں ہی استنبول میں اردو صحافت کا آغاز ہوگیا اور پے در پے تین اخبارات نکلے۔ ترکی میں اردو کا یہی نقطہ آغاز ہے۔ اس سے یہ ظاہرہوتا ہے کہ اس زمانے میں استنبول اور اس کے گرد و نواح میں اردو بولنے اور پڑھنے والوں کی تعداد اس قابل ہوگئی تھی کہ اخبار نکالنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ تاہم پہلی جنگ عظیم کے ساتھ ہی اردو کے اولین دور کا خاتمہ ہوگیا۔
تعلیم و تدریس
ترکی میں اردو تدریس کا آغاز تو 1915 میں ہی خیری برادران کی کوششوں سے ہوچکا تھا۔ عبدالجبار خیری اور عبدالستار خیری 1904 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے۔ وہاں سے قاہرہ، بیروت اور پھر حجازکے راستے استنبول پہنچے اور یہاں ان دونوں نے مختلف تعلیمی اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کردیا۔ خیری برادران نے عثمانی سلطنت میں اردو کی اہمیت و ضرورت محسوس کرتے ہوئے دارالفنون استنبول میں اردو تعلیم کا آغاز کیا۔ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے خلیل طوقار لکھتے ہیں:
ان کی سیاسی سرگرمیاں بے شک تاریخی لحاظ سے بہت اہم ہیں مگر ان کے علاوہ ان کا ایک اور بڑا اور ناقابل فراموش کارنامہ ترکی میں یونیورسٹی کی سطح پر اردو زبان کی تعلیم کا افتتاح ہے۔ انھوں نے دارالفنون میں کس تاریخ میں اردو کی تعلیم شروع کرائی اس کے بارے میں ہمارے پاس قطعی معلومات موجود نہیں لیکن اگر ان کی استنبول آمد کو 1914 کے اواخر اور 1915 کی شرعات ٹھہرائیں گے (کیونکہ انھوں نے اگست1915میں ’ہنداخوت اسلام انجمنی مرکزعمومیسی‘ (انجمن ہنداخوت اسلام کا مرکزی ادارہ) کے قیام میں حصہ لیا اور 1915 میں اخوت نامی اخبار کی اشاعت میں اول اول تھے) اور دارالفنون کی حیثیت سے ایک کمیشن میں ان کی پیش کردہ تجویز کی تاریخ جو کہ فروری 1917 ہے، کو دیکھیں گے تو ہم بلا جھجھک یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کا دارالفنون میں اردو کے پروفیسر کی حیثیت سے تقرر فروری 1917 سے پہلے 1915 میں یا 1916 میں ہوا ہوگا لیکن یونیورسٹی کی مجلسوں میں شرکت کرکے تجاویز دینے اور ان تجاویزات کو منوانے کی حد تک دارالفنون کے اراکین پر ان کے اثر و رسوخ کو دیکھیں گے (کیونکہ بالخصوص یونیورسٹی کے اساتذہ پر اثر و رسوخ مرتب کرنے میں بھی کچھ وقت لگتا ہے) تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ استنبول یونیورسٹی میں اردو کی درس و تدریس کا سلسلہ 1916 سے بھی پہلے1915 میں شروع ہوا تھا۔
(ڈاکٹر خلیل طوقار، ترکی میں اردو تعلیم و تدریس کی صدی اور آئندہ امکانات، مشمولہ ترکی میں اردو زبان و ادب کا صدسالہ سفر، ص 26)
اس طرح ترکی میں اردو تعلیم کا آغاز تو 1915 میں ہی خیری برادران کی کوششوں سے ہوگیا تھا اور اردو اخبارات بھی نکلنے لگے تھے۔ تاہم باقاعدہ طورپر ترکی میں اردو کے دوسرے دور کا آغاز 1950 کے بعد پاکستان اور ترکی کی دوستی سے ہوتاہے۔ 1956 میں انقرہ یونیورسٹی میں اردو تدریس کا آغاز ہوا اور حکومت پاکستان نے ڈاکٹر داؤد رہبر کو ”اردو اور مطالعہ پاکستان“ چیئر کے لیے منتخب کیا۔ انھوں نے ترکی میں اپنے تین سالہ قیام کے دوران یہاں کی مختلف جامعات میں اردو زبان کے آغاز و ارتقا اور اس کی تہذیبی و لسانی اور تاریخی پس منظرپر لیکچرز دیے۔ ان کے بعد طارق فاروقی، حنیف فوق، عبادت بریلوی، احمدبختیاراشرف، انواراحمد اور سعادت سعید جیسے اسکالرس کا تقرر ی کے بعد دیگرے انقرہ یونیورسٹی میں ہوا۔ ان اساتذہ نے ترکی میں اردو کی بنیاد کو استحکام بخشا۔ ڈاکٹر سعادت سعید لکھتے ہیں:
ان اساتذہ کی شبانہ روز محنتوں کا ثمر یہ ہے کہ آج تک ہزاروں ترک طالب علم اردو شاعری کی مشہور ہستیوں ملاوجہی، ولی گجراتی، خان آرزو، میرتقی میر، محمدرفیع سودا، خواجہ میردرد، نظیر اکبرآبادی، غلام ہمدانی مصحفی، انشاء اللہ انشا، سعادت یار خان رنگین، استاد ابراہیم ذوق، اسداللہ خان غالب، مومن خان مومن، بہادر شاہ ظفر، داغ دہلوی، مولانا الطاف حسین حالی، اکبر الہ آبادی، حسرت موہانی، جوش ملیح آبادی، فیض احمدفیض، ن م راشد، صوفی غلام مصطفی تبسم، ابن انشا، حفیظ جالندھری، مجیدامجد، احمدندیم قاسمی، ناصرکاظمی، جمیل الدین عالی، احمدفراز، پروین شاکر، منصورہ احمد، جیلانی کامران، افتخارجالب، ظفراقبال، افتخارعارف وغیرہ کے ناموں اور کارناموں سے روشناس ہوچکے ہیں۔ ان شاعروں میں سے بیشتر کے کلام کو ترک محققوں اور مترجموں نے وسیع تر ترک قارئین کے لیے ترکی زبان میں خوش اسلوبی سے منتقل کیا ہے۔ علاوہ ازیں عظیم اردو نثر نگاروں کی تحریروں کے ترکی ترجموں سے شعبہ اردو انقرہ یونیورسٹی انقرہ، سلجوق یونیورسٹی قونیہ اورشعبہ اردو استنبول یونیورسٹی کے کتب خانے بھرے پڑے ہیں۔
(پروفیسر سعادت سعید، ترکی میں اردو ایک مختصرجائزہ، مشمولہ ترکی میں اردو زبان و ادب کا صدسالہ سفر، مرتبین ڈاکٹر خلیل طوقار و علی معین، اردو گھربہاول پور، 2015، ص 36-37)
انقرہ یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے پہلے ترک استاذ کے طور پر ڈاکٹر شوکت بولو کا تقرر ہوا۔ انھوں نے پانچ سال پاکستان میں رہ کر اردو کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے علاوہ عربی اور انگریزی پر بھی انھیں قدرت حاصل تھی۔ انھوں نے تقریباچار دہائی تک اردو زبان و ادب کی خدمات انجام دیں۔
ڈاکٹر شوکت بولو نے اردو کی بہت سی کتابوں کے ترجمے ترکی زبان میں کیے۔ ان میں علامہ اقبال کامجموعہ کلام بال جبریل، رام بابو سکسینہ کی تاریخ ادب اردو، حامد حسن قادری کی داستان نثر اردو اور ڈاکٹر ابواللیث صدیقی کی کتاب آج کا اردو ادب خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ نیز ترکی میں اقبالیات کے حوالے سے بھی شوکت بولو نے نمایاں کارنامہ انجام دیا۔ ڈاکٹر شوکت بولو کے ریٹائر منٹ کے بعد ڈاکٹر سلمی بینلی نے انقرہ یونیورسٹی میں صدر شعبہ اردو کا عہدہ سنبھالا۔ سلمی بینلی کو ادبی تحقیق اور اردو قواعد میں مہارت حاصل تھی۔ ’جدید اردو شاعری 1850-1900‘ کے موضوع پر انھوں نے پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا۔ اردو غزل کا مجتہد حالی، منصورہ احمدکی شاعری، سعادت حسن منٹو اور حسرت موہانی اور ان کی غزل جیسے موضوعات پر ان کے مضامین شائع ہوکر داد تحسین حاصل کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی تحقیقی کام ان کی نگرانی میں انجام پاچکے ہیں۔
ڈاکٹر گلسرین ہالی جی اوز کان انقرہ یونیورسٹی شعبہ اردو کے استاذ ہیں۔ انھوں نے جنوبی ایشیامیں مغلوں کے علمی و ثقافتی ورثے پر اپنا تحقیقی مقالہ اور تزک جہاں گیری پر ایم اے کا مقالہ لکھا۔ اس کے علاوہ انھوں نے کئی تحقیقی مقالوں کی نگرانی بھی کی ہے۔ فیض احمدفیض، سجاد حیدر یلدرم اور منصورہ احمد پر بھی تحقیقی مضامین لکھ چکے ہیں۔ ڈاکٹر آسمان بیلن اوز جان بھی انقرہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے وابستہ ہیں۔ انھوں نے پروین شاکر کی شاعری پر اپنا تحقیقی مقالہ لکھا۔ اورینٹل کالج لاہور میں بھی زیر تعلیم رہی۔ انھوں نے آغاحشر کاشمیری اور حسینہ معین کے ڈرامے اور اقبال اور پروین شاکر کی نظموں کا ترجمہ ترکی زبان میں کیاہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے راماینا کا ہندی سے ترکی میں ترجمہ کیاہے۔ ان کے علاوہ ایمیل سیلیم، آئے قوت کشمر اور داؤد شہباز ریسرچ اسسٹنٹ کے طورپر انقرہ یونیورسٹی میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
سلجوق یونیورسٹی
انقرہ یونیورسٹی کے بعدسلجوق یونیورسٹی قونیہ میں 1985 میں ڈاکٹر ایرکن ترکمان کی کوششوں سے شعبہ اردو کا قیام عمل میں آیا۔ اس کوشش میں پروفیسر غلام حسین ذوالفقار بھی ان کے ساتھ ساتھ تھے۔ ایرکن ترکمان کی ولادت پاکستان میں ہوئی۔ وہیں سے تعلیم حاصل کی پھر ترکی آکر استنبول یونیورسٹی شعبہ فارسی سے انھوں نے پی ایچ ڈی کی۔ انھوں نے ترکی میں اردو زبان و ادب کے فروغ میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ مختلف یونیورسٹیوں میں درس و تدریس کے بعد انھوں نے سلجوق یونیورسٹی میں شعبہ اردو کی بنیاد ڈالی۔ یہاں کا شعبہ اردو زبان و ادب کے ساتھ ساتھ تاریخ تمدن ہند و پاک کے سلسلے میں بھی کافی اہمیت کا حامل ہے۔ اس شعبے سے متعلق محقق اور دانشور اردو زبان کو جتنا برصغیر کا اثاثہ سمجھتے ہیں اتنا ہی خود ترکوں کا بھی سمجھتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ برصغیر ہند و پاک کی اردو زبان ترک و راثت کا ہی حصہ اور ترک تمدن کا اس میں بہت کچھ عمل دخل ہے۔ چوں کہ برصغیر میں غزنویوں، غوریوں اور مغلوں کی قائم کردہ حکومتیں ترک تاریخ و ثقافت کو اپنے جلو میں لیے ہوئے تھیں اور فنون تعمیر، فنون حرب اور فنون لطیفہ سے مالا مال تھیں، اس لیے ترک انھیں دل و جان سے عزیز رکھتے ہیں۔ اردو زبان بھی انھیں میں سے ایک ہے جس میں مغلوں کے خون پسینے کے ساتھ ساتھ ان کی زبان کے الفاظ بھی شامل ہیں۔(ایضاً، ص 42)
سلجوق یونیورسٹی کی صدر شعبہ اردو ڈاکٹر نوریے بلک ہیں۔ انھوں نے ایم اے اور پی ایچ ڈی انقرہ یونیورسٹی سے کرنے کے بعد پاکستان کا علمی و ادبی دورہ بھی کیا۔ نوریے بلک نے سجاد حیدر یلدرم حیات اور کارنامے کے عنوان سے اپنا تحقیقی مقالہ لکھا۔ اس کے علاوہ اردو اور ترک گرامر کی مشابہتیں، سجاد حیدر یلدرم  کے ترکی ادب سے تراجم، اردو کے اولین اخبار اور اردو زبان کی تاریخ اور ترکیات وغیرہ ان کے تحقیقی مضامین ہیں۔
ڈاکٹر درمش بلغور بھی سلجوق یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے وابستہ ہیں۔ انھوں نے انقرہ یونیورسٹی سے ایم اے اور پی ایچ ڈی کی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف موڈرن لینگویجزاسلام آباد سے اردو ڈپلوما کیا۔مولانا الطاف حسین حالی حیات و تصنیفات، اقبال اور بانگ درا، 1850 سے 1900 کے دوران ہنداسلامی فکری تحریکات اور شاہ ولی اللہ اردو اور ترکیات وغیرہ ان کے تحقیقی موضوعات ہیں۔ ڈاکٹر خاقان قیومجو اس شعبے کے ایک اور ترک استاذ ہیں۔  انھوں نے اردو ناول نگاری کے موضوع پرپی ایچ ڈی کی۔ اس کے علاوہ اردو ڈرامے کا ارتقا اور آغاحشر اور غالب کی شاعری پر مضامین بھی لکھے ہیں۔ ڈاکٹر رجب درگن، نورائی اوز ترک اور نورائی اوزنچ بھی اس شعبے سے وابستہ استاذہیں۔ ان کے علاوہ ایک پاکستانی استاذ احمد نواز نے بھی اس شعبے میں اپنی خدمات انجام دی ہیں۔
استنبول یونیورسٹی
ترکی میں اردو کا تیسرا اور سب سے بڑا شعبہ استنبول یونیورسٹی میں قائم ہے۔ 1974 سے شعبہ اردوکے قیام کے لیے مسلسل کوششیں ہوتی رہیں۔ اس دوران انقرہ یونیورسٹی سے پاکستانی پروفیسر یہاں آتے رہے۔ اکتوبر 1985 میں پروفیسر غلام حسین ذوالفقار کا تقرر استنبول یونیورسٹی کے اردو چیئر پر ہوا۔ اس وقت یہاں شعبہ اردو کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ انھوں نے بڑی جد و جہد کرکے اردو کو اختیاری مضمون کا درجہ دلایا اور طلبامیں دل چسپی پیدا کرکے اردوسیکھنے کی طرف مائل کیا۔ تاہم 1990 میں انھیں پاکستان واپس بلا لیا گیا۔ اس دوران پروفیسر غلام حسین ذوالفقار نے خلیل طوقار کو دریافت کرلیا تھا۔ چناں چہ ان کے جانے کے بعدشعبے کی تمام تر ذمے داری خلیل طوقار کے سر آگئی۔ 1994 سے اس شعبے میں باقاعدہ داخلہ شروع ہوگیا۔ اس وقت وہ اردوکے اکیلے استاذتھے۔ اسی درمیان پاکستان سے سید بخاری کو بھیجا گیا مگر انھوں نے اس چیئر کو فضول سمجھ کر پاکستانی وزارت تعلیم کو خط لکھا اور اسے بند کردینے کا مشورہ دیا۔ اس طرح پاکستانی حکومت نے استاذ بھیجنے کا سلسلہ بندکردیا 1996 میں ایک اور ترک استاذ احمد ایریوکسل کا تقرر ہوا۔ 1997 میں پاکستانی حکومت نے منصور اکبر کنڈی کو بطور استاذ بھیجا۔ تاہم تین سال بعدوہ بھی پاکستان لوٹ گئے اور پاکستانی حکومت نے یہ چیئربند کردیا۔ اس کے باوجود استنبول یونیورسٹی کا شعبہ اردو برقرار رہا۔ بلکہ آج ترکی میں اردو کا سب سے بڑا شعبہ استنبول یونیورسٹی کا ہے۔ خلیل طوقار کی سربراہی میں یہ شعبہ اردو زبان و ادب اور ہند و پاک اور ترکی دوستی کے فروغ میں کوشاں ہے۔
جلال سوئیدان استنبول یونیورسٹی کے شعبہ اردوسے وابستہ استاذ ہیں۔ انھوں نے ایم اے کی تعلیم پنجاب یونیورسٹی لاہورسے حاصل کی۔ غالب اور اقبال کے حوالے سے انھوں نے کئی مضامین لکھے۔اس کے علاوہ اردو کے شاہ کار افسانے، سفرنامے اور مزاحیہ تخلیقات کو ترکی زبان میں انھوں نے منتقل کیا۔ نیز اردو ادبیات پر ترکی زبان میں ان کی کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ ان کے علاوہ زکائی قارداش، آرزو چفت سورین، محمد راشد، خدیجہ گورگون اور اونور قلیچ ایرر اسی شعبے سے وابستہ اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یونیورسٹیوں کے علاوہ انقرہ میں پاکستانی اسکول بھی قائم ہے جہاں اردو کی تعلیم ہوتی ہے۔ تاہم ان میں صرف پاکستانی طلباہوتے ہیں۔
خلیل طوقار کے مطابق ترکی میں اردو زبان و ادب کی تعلیم کا مقصداہل اردو اور ترکی کے مابین قدیم ترین اخوت و محبت اور تہذیبی و لسانی یکسانیت کو نئی سمت پر گامزن کرنا اور ریسرچ اسکالرز کی علمی و ادبی سطح پر تربیت کرنا ہے تاکہ وہ اپنی قدیم ترین وراثت سے بخوبی آشناہوسکیں۔ ترک طالب علموں میں اردو سیکھنے کی کئی وجوہات ہیں جن میں سب سے اہم برصغیرکی زبان و تہذیب سے ترکوں کی قلبی وابستگی ہے۔ اس کے پس منظر میں ترک اور اہل ہندکی صدیوں پر محیط داستان محبت و عقیدت ہے۔ پہلے پہل ترکوں نے اپنے عہد حکومت میں ہندوستان کو خوب سینچا اور فن تعمیر کا اعلی نمونہ بنادیا۔ انھوں نے یہاں کی زبان و تہذیب میں خود کو ضم کرکے مشترکہ تہذیب کو فروغ دیا۔ پھرجب خلافت کے زمانے میں ترکوں پر مصیبت آن پڑی تو ہندوستانی مسلمانوں نے خلافت تحریک کے ذریعے اپنا تن من دھن سب کچھ نچھاور کردیا۔ اسی ایثار کا نتیجہ ہے کہ ترک اردو زبان و تہذیب کو دل و جان سے عزیزسمجھتے ہیں اور اسے سیکھنا چاہتے ہیں۔ ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ ترکی کی یونیورسٹیز میں اردو میں داخلے کے لیے دوسرے سبجیکٹ کی بہ نسبت کم نمبر در کار ہے۔ چناں چہ بعض طلبا اسی بنیاد پر اردو میں داخلہ لے لیتے ہیں۔بعض طلبا ہندوستانی فلموں سے متاثرہوکر یہاں کی زبان سیکھنا چاہتے ہیں۔ بہرحال جو بھی وجہ ہو یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ تینوں یونیورسٹیز کے شعبہ اردو میں طلبا کی کمی نہیں ہے۔
ترکی میں بی اے کی تعلیم چار سال پر مشتمل ہے۔ پھر ایم اے دو سال جس میں کسی خاص موضوع پر مقالہ لکھنا ہوتاہے۔ پھر پی ایچ ڈی کے لیے تحقیقی مقالہ لکھنا ہوتا۔ اس طرح ایم اے اور پی ایچ ڈی ملا کر ترکی میں اب تک اردو کے تقریبا پچاس مقالے مختلف موضوعات پر لکھے جاچکے ہیں۔ سودا، غالب، اقبال، فیض، پروین شاکر، جدید اردو شاعری، نذیراحمد، سجاد حیدر یلدرم، پریم چند، منٹو، محمدحسین آزاد، ابوالکلام آزاد، اردو افسانہ، اردو ناول، اردوسفرنامے، تزک جہانگیری، دربار اکبری، تزک بابری اور برصغیر پاک و ہند اور ترکی کی تہذیبی و لسانی مماثلتیں وغیرہ موضوعات پر کام ہوچکے ہیں۔ بیشتر موضوعات میں کسی نہ کسی نہج سے ہند و ترک تہذیب کی ہم آہنگی اور جذبہ دوستی کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مثلا ’ہندوستان میں ترک تہذیب کے نشان‘، ’سجاد حیدر یلدرم کی افسانہ نگاری‘، ’1850-1900 میں برصغیر میں رونماہونے والی فکری تحریکیں‘، ’مولانا ابوالکلام آزاد اور الہلال کے تناظر میں ترکی اور ترک‘اور ’برصغیر پاک و ہند کی اردو فارسی شاعری میں ترکی اور ترک‘ وغیرہ۔
مذکورہ موضوعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ترکی میں اردو کی جملہ اصناف پر تحقیقی کام ہورہے ہیں۔
غرض کہ ترکی میں اردو زبان و ادب کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ سو سال سے زائد عرصے سے اردو کی تعلیم و تدریسی ترکی کی یونیورسٹیوں میں دی جارہی ہے اور اخبارات بھی نکالے گئے۔ ترکی میں اردو کی تعلیم محض ایک زبان کی حیثیت سے نہیں دی جاتی بلکہ اس کے پس منظرمیں قدیم ترین دوستی اور جذبہ ایثار کی پوری تاریخ ہے جسے ترک کبھی فراموش نہیں کرنا چاہتے۔ چوں کہ تاریخی، تہذیبی و ثقافتی لحاظ سے ترک اور اہل ہند و پاک ایک دوسرے کے بے حد قریب ہیں اور لسانی اعتبار سے اردو اور ترکی زبانیں ایک دوسرے کے مماثل، نیز رسم الخط کی تبدیلی کے باوجود بے شمار الفاظ، ضرب الامثال اور محاورے مشترک ہیں۔ اسی لیے ترک برصغیر کو اپنا وطن ثانی اور اردو زبان کو اپنا قدیم اور قیمتی اثاثہ مانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی میں اردوزبان و ادب کے فروغ و امکان میں ترک دانشور کوشاں ہیں۔


Imteyaz Roomi
Room No: 17, Mahi Hostel, JNU
New Delhi - 110025
Mob.: 9810945177
Email: imteyazrumi@gmail.com


ماہنامہ اردو دنیا، فروری 2020

جمعرات، 30 جنوری، 2020

اردو میں غیرمنقوط کتابیں: ایک تعارف مضمون نگار: محمد جمیل اختر جلیلی ندوی



اردو میں غیرمنقوط کتابیں: ایک تعارف


 محمد جمیل اختر جلیلی ندوی


اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے انسان ایک ایسی مخلوق ہے، جس کوبہت ساری ایسی خصوصیات سے نوازا گیاہے، جن سے دوسری مخلوقات یکسرمحروم ہیں، جیسے غوروفکر کی خصوصیت، سوچنے سمجھنے کی خصوصیت اوربولنے کی خصوصیت وغیرہ، انہی خصوصیات میں سے ایک اہم مافی الضمیرکولفظوں کی شکل میں ڈھالنے(لکھنے اور تحریر کرنے) کی خصوصیت بھی ہے، اس کی اس خصوصیت کی بنا پرانسان کے بولنے کی خصوصیت نے جاودانی حاصل کرلی ہے، سیداحتشام حسین لکھتے ہیں:
تحریرزبان کاایک منقش علامتی جسم ہے، جسے پاکر وہ جاوداں اورمتحرک ہوگئی، خاموشی سے ارتقائی منزلیں طے کرنے لگی اورآہستہ آہستہ حیاتِ انسانی کے رازہائے سربستہ کے انکشاف کاذریعہ بن گئی، مذہبی تصورات، فلسفیانہ خیالات، شاعرانہ جذبات اورتاریخی معلومات نے انھیں علامتوں سے پرپرواز پایا اور تہذیبی زندگی استوار ہونے لگی، فن تحریرکی انھیں خصوصیات کو پیش نگاہ رکھ کرمشہور اطالوی عالم ڈاکٹرڈرنگرنے اسے تہذیب انسان کی کلیدسے تعبیرکیاہے، قفل ابجد کے طلسم کی طرح تحریروں کے پُرسحر نقوش نے انسانی دلوں کے رازکھولنے شروع کردیے، معبدوں کے نقوش گیت گانے لگے اورانسان کاماضی اپنے خول سے باہرآگیا۔“1
اللہ تعالیٰ کی طرف سے لکھنے کی جو صلاحیت انسانوں کو ودیعت کی گئی ہے، وہ ترقی کے مدارج طے کرتے ہوئے اب یہاں تک جاپہنچی ہے کہ انسان ایسی تحاریرلکھنے پرقادرہوگیاہے، جونقطوں کے بغیرہو؛ لیکن پڑھنے میں کسی قسم کی کوئی دشواری نہ ہو، ایسی تحریروں کو اصطلاح میں ’صنعت مہملہ‘یا ’صنعت عاطلہ‘ کہا جاتا ہے۔
یہ ادب کی ایک سنگلاخ وادی ہے، جس میں بہت کم ادباء آبلہ پاہوئے بغیرمنزل مقصودتک پہنچ پاتے ہیں، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس صنف میں صرف اٹھارہ حروف(ا ٹ ح د ڈ ر ڑ س ص ط ع ک گ ل م و ہ ی) کے ذریعے سے لکھناہوتاہے اوروہ بھی ایسے اندازمیں کہ مفہوم بالکل واضح ہو، راہ نوردان شوق نے اس مشکل راستے کوبھی سرکیاہے اورعجیب بات ہے کہ عربی، فارسی اوراردوزبانوں میں نہ صرف یہ کہ نظم اورایک آدھ مضامین پراکتفاکیاگیا؛ بلکہ پوری پوری غیرمنقوط کتابیں لکھی گئی ہیں، آیئے یہاں غیرمنقوط اردوکتابوں کے بارے میں جانتے چلیں، ان کتابوں کو دو خانوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
(1)   نثر(2)  نظم
نثری غیرمنقوط کتابیں:
نثر،نظم کے مقابلے میں دشوار ہونے کے باوجود آسان ہے، تلاش وجستجوکے بعدجوکتابیں ملیں، پہلے ہم انھیں نثری کتابوں سے ابتداکرتے ہیں۔
.1 سلک گوہر: یہ کتاب انشاء اللہ خاں انشاء (پ: دسمبر 1752ھ، و: 19/مئی 1817) کی ہے، تاریخ تصنیف 1805 بتائی گئی ہے، اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے   تو یہ ایک صدی قبل کی اردوکی غیرمنقوط پہلی کتاب کہی جاسکتی ہے۔
سلک گوہرکاایک مخطوطہ کتب خانۂ  عالیہ رامپور میں محفوظ ہے، اس نسخے کورامپورلائبریری کے ناظم امتیاز علی عرشی نے 1948 میں اپنے مقدمہ کے ساتھ شائع کیا، یہ پی ڈی ایف شکل میں rekhta.orgمیں موجودہے،اس کے اندرایک عشقی داستان ہے، روس کاشہزادہ، جس کانام ماہ ساطع ہے، شکارکھیلتاہواہرن کا پیچھا کرتے ہوئے ایک دوسرے ملک حصارطلاکارمیں داخل ہوجاتاہے، جہاں وہ ملکہ گوہرآراکودیکھ کرعاشق ہوجاتاہے اورملکہ کے دل میں بھی اس کی تاثیرپہنچ جاتی ہے،رات کوملکہ اپنی کنیز ماہ روکے واسطہ سے ا سے بلابھیجتی ہے اور کہتی ہے کہ اپنے والدین کے ذریعے سے شادی کاپیغام بھجواؤ، اگروہ منظور کرلیں توخیر، ورنہ وصل محال ہے، یہ سن کرشہزادہ غم زدہ ہوجاتاہے اورالوداعی رخصت سوچ کرتن بہ تقدیرکوہ صحرا میں دو برس تک صحرانوردی کرتے ہوئے کوہ طلا پر پہنچتا ہے، جہاں اس کی ملاقات ایک سوسالہ شخص طاؤوس مراد سے ہوتی ہے، جس کی ساحرہ پوتی گل رو، جواپنے سحرکی وجہ سے ہدہدبھی بن جاتی ہے، ملکہ گوہرآراکے والدین تک پیغام پہنچاتی ہے، ملکہ کے والدین شادی پرراضی ہوجاتے ہیں اوربڑی دھوم دھام سے شادی ہوتی ہے۔2
انشا نے اس کی ابتداحمد وثناسے اس طرح کی ہے:
عالم عالم حمد، صحراصحرادرود، اللہ صمدودود، اور رسول کردگار، سرگروہ رُسل، محمدمحمود، اورآلہ الاطہار کو اور سو لاکھ سلام ہرسحرومسااس ماہ مصراسلام، مدارالمہام سرکار ملک علام، امام ہمام،اسداللہ کو، کہ مع عساکرواعلام مدام معرکہ آراء رہا، اس حدکوعلم کس کا اورکس کاحوصلہ کہ مرحلہ گرداس راہ کاہو! اللہم صلی علامحمدوآلہ، وعدوہ وکمالہ۔3
.2 ہادی عالم:  سیرت طیبہ پریہ پہلی غیرمنقوط کتاب ہے، جس کے مصنف مشہورمفتی اور مفسرقرآن محمدشفیع دیوبندی کے فرزنداورمعروف فقیہ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی مدظلہ کے برادرمعظم جناب محمدولی رازی صاحب ہیں،  تصنیف کاسال 1982 ہے، اس کتاب کے آغاز میں ایک غیرمنقوط نعت بھی ہے، جس کے خالق مؤلف کتاب ہی ہیں، حضوراکرمؐ کی پوری سیرت 414 صفحات پر پھیلی ہوئی ہے، 1983 میں پاکستان میں کتب سیرت النبیؐ کے قومی مقابلہ برائے سال 1402-03ھ میں اول انعام کامستحق بھی قراردیاگیااورمؤلف کتاب کودس ہزار روپے بطورانعام دیے گئے، راقم کے سامنے اس کاچوتھا ایڈیشن مطبوعہ دارالعلم کراچی1987 ہے، ’مولودمسعود‘ کے ذیلی عنوان کاایک پیراگراف بطورنمونہ پیش ہے:
اللہ اللہ! وہ رسول امم مولودہواکہ اس کے لیے صدہاسال لوگ دعاگورہے، اہل عالم کی مرادوں کی سحرہوئی، دلوں کی کلی کھل اٹھی، گمراہوں کوہادی ملا، گلے کوراعی ملا، ٹوٹے دلوں کوسہاراملا، اہل دردکودرماں ملا، گمراہ حاکموں کے محل گرے، سالہاسال کی دہکی ہوئی وہ آگ مٹ کے رہی کہ لاکھوں لوگ اس کوالٰہ کرکے اس کے آگے سرٹکائے رہے اوررودساوہ ماء رواں سے محروم ہوا۔4
.3  سروں کے سودے:  امت مسلمہ کے مصائب، زوال کے اسباب، جہاد، مغازی اورسیرپردنیا کی یہ پہلی غیرمنقوط کتاب ہے، جس کے مصنف ابوسلمان مولانا ڈاکٹر شمس الہدیٰ ربانی ہیں، اس کی تالیف 2004 اور 2005 کے درمیان مکمل ہوگئی تھی؛ لیکن 2008 میں پہلی باریہ زیورطباعت سے آراستہ ہوئی، یہ360صفحات کی کتاب ہے، میرے سامنے اس کاپہلاایڈیشن ہے، جس کا ناشرالہلال ٹرسٹ ہے، اس کتاب میں ایک ذیلی عنوان ہے: ’ولداسود‘، اس کی ابتدائی سطریں بہ طورنمونہ پیش ہیں:
ہمدم مکرم ولداسود(مقدادبن اسود)اٹھ کھڑے ہوئے اورکہاکہ: ”اے رسول اللہ! وہ کام کر کہ اللہ کے ہاں سے اس کاحکم ہواہے، ہم سارے کے سارے ہم رہ ہوں گے، اللہ گواہ ہے اسرائلی گروہ کے اس کلام کی طرح کے کلام سے ہم دورہوں گے کہ موسی علی روحہ السلام سے ہواکہ اے موسیٰ! اللہ کوہم راہ لے کرمعرکہ کی راہ لے کرلڑ، ہم اِدھرہی رہیں گے؛ مگراس کے علی العکس ہماراکلام ہے کہ اے اللہ کے رسول! اللہ کولے کرہردولڑو، ہم ہم راہ ہوں گے۔“5
.4 دوسسردوداماد:  خلفائے راشدین کی سیرت پر غیرمنقوط پہلی کتاب ہے، اس کے مصنف ابو محمد محمدعظیم رائی ہیں، اس کی تالیف کاآغاز اگست دوہزارسات میں ہوا اور دس مئی دو ہزار دس کویہ کام پایہئ تکمیل کو پہنچا اور اشاعت دو ہزار گیارہ میں ہوئی، یہ کتاب 288صفحات پرمشتمل ہے، میرے سامنے ادارہ اساس العلم کراچی 2011 کاایڈیشن ہے، حضرت ابوبکرصدیقؓ کی سیرت اس انداز میں شروع ہے       ؎
سسررسول، مسلم اول، والداسماء، ہمدم مکرم، اسلام کاحاکم اول، سرداردارالسلام، وارداورل دارالسلام، ماہ عالم، مہرعالم، سمع رسول، رسول اللہ کے دکھ دردکاحصہ دار، اساس علم، ہمدم رسول، ہم راہی کھوہ، حامیِ رسول، ارحم عالم، صالح عالم، دلارائے رسول، ہم راہی ماء اعلیٰ، امام ملائک، حردارالآلام، مملوک اللہ، ولدولدعامر، صلاح کار رسول، محمودرسول، مددگاررسول، دل دادۂ  رسول، داعی اول، رسول اللہ کاہم عمر(اللہ اس سے مسرورہو)“6
.5  محمدرسول اللہؐ:  یہ سیرت نبی پرایک غیرمنقوط کتاب ہے، جس کے مصنف محمدیٰسین سروہی ہیں، 2007 میں مشتاق بک کارنرلاہورسے یہ کتاب شائع ہوئی ہے، یہ 544/صفحات پرپھیلی ہوئی ایک مبسوط کتاب ہے، بسم اللہ کاترجمہ یوں کیاگیاہے:
اللہ مالک کے اسم سے کہ وہ رحم والااورکمال رحم والاہے۔“7
.6  درس کلام اللہ:  یہ قرآن مجیدکامکمل پہلا اردو غیر منقوط ترجمہ ہے،  اس ترجمہ نگار کا نام ڈاکٹرمحمدطاہرمصطفی ہے، جویونیورسٹی آف مینیجمنٹ اینڈٹیکنالوجی، جوہرٹاؤن، لاہورمیں شعبہ اسلامی فکروتہذیب کے استادہیں اوراسماء النبی میں پی ایچ ڈی کرچکے ہیں، انھوں نے اس ترجمہ کودوسال میں مکمل کیاہے، 14مئی 2011 میں اس کا آغاز کیا اور13مئی 2013 کواس کام سے فارغ ہوئے، جناب محمدریاض صاحب (موضع ٹوبہ ٹیک، سندھ، پنجاب، پاکستان)کے بہ قول یہ ابھی مخطوطہ کی شکل میں موجودہے اورزیورطباعت سے آراستہ ہونے کامنتظر، سورہئ اخلاص کاترجمہ بطورنمونہ پیش خدمت ہے:
کہہ دوکہ اللہ احدہے*اللہ(ارحام کے سارے واسطوں سے)ماوراہے* سوال ہی معدوم کہ اس کی کوئی اولادہواوروہ کسی کی اولادہوٌسوال ہی معدوم کہ کوئی اس کے مساوی ہو“8
منظوم غیرمنقوط کتابیں
جس طرح غیرمنقوط کتابیں نثرمیں لکھی گئی ہیں، اسی طرح نظم میں بھی کوشش کی گئی ہے اورپرلطف بات یہ ہے کہ جس طرح نثرمیں انشاء اللہ خاں انشاء کواولیت حاصل ہے، اسی طرح نظم میں انھیں کو سقیت حاصل ہے، آیئے اس سلسلے میں تصنیف شدہ کتابوں کوجانتے چلیں:
.1 دیوان انشا:  انشاء اللہ خاں انشا نے پوراایک دیوان(مختصر) بغیرنقطہ کے لکھی ہے، جوان کی کلیات میں شامل ہے، اس میں ایک حمد، ایک مخمس اورچوبیس غزلیات شامل ہیں، یہ پورادیوان فارسی کی ایک غزل کو چھوڑ کر اردو میں ہے، جس میں 1332شعار ہیں، کلام انشا میں ایک جگہ غیرمنقوط 43/اشعار پر مشتمل ایک منقبت ہے، جس کے دوشعرحاضرہے:
ہلاؤ مروحہئ آہ سرد کو ہر گام
کہ دل کو آگ لگا کر ہَو اہُوا آرام
درِ وصال دل آرام دور، ورہ مسدود
مرد مرحلہ گرد وساوس واوہام9
غیرمنقوط دیوان کے کچھ اوراشعار، جوکلام انشاء میں اختصار کے ساتھ تقریباً دس صفحات (333-343) میں ہے، پیش خدمت ہے       ؎
اور کس کا آسرا ہو سر گروہ اِس راہ کا
آسرا اللہ اور آل رسول اللہ کا
اہل عالم کا سہارا آسرا کس کام رکھ
ہر سحر گہہ آسرا واللہ اُس درگاہ کا
اور       
دل کم حوصلہ کو گو کہ سدا درد رہا
ہم دم اس کا گلہ آلودہ دم سرد رہا
المدد والمدد اُو معرکہ آرا کہ مدام
مرداس معرکہ کادادرسِ مرد رہا10
.2 ماہ کامل:  یہ مشہورمرثیہ نگارمرزاسلامت علی دبیرکا بغیرنقطوں والامرثیہ ہے، جو34/صفحات پرپھیلاہواہے، اس کوحضرت مہذب لکھنوی نے مرتب کیاہے، اس کے ناشرسیدحسین میرزامقرب لکھنوی ہیں، جنھوں نے سرفراز قومی پریس لکھنؤسے جنوری 1961 میں شائع کیاہے، اس میں آٹھ رباعیات، ایک سلام اور69/بندکامرثیہ ہے، رباعیات کی ابتدااس سے ہوئی:
آرام دل حرم کا معدوم ہوا
کم عمر کا حال مرگ معلوم ہوا
دودھ اگلا، لہو ڈالا، درا کھا کر سم
اور سر ددہ معصوم کا معصوم ہوا11
.3 طالع مہر:  یہ مرزادبیرکے غیرمنقوط کلام کامجموعہ ہے، جسے ڈاکٹرسیدتقی عابدی نے اپنی تحقیق، تدوین اور تشریح کے ساتھ 2004 میں اظہارسنزپرنٹرز، لاہورسے شائع کروایاہے،یہ مرزا دبیر کے گیارہ11 رباعیات، ایک قطعہ منقبتی(بندمسدس)، دوسلام، ایک قطعہئ تاریخ مرثیہ: مہرعلم سرورِاکرم ہواطالع، دومراثی پرمشتمل ہے، پہلے مرثیہ کی ابتدا، جو68بندکاہے،اس طرح ہے:
مہر علم سرورِ اکرم ہوا طالع
ہر ماہِ مرادِ عالم ہوا طالع
ہر گام علم دار کا ہم دم ہوا طالع
اور حاسد کم حوصلہ کا کم ہوا طالع
دوسرے مرثیہ کاآغاز، جس میں 101 بندہیں، یوں ہوا ہے       ؎
ہم طالع ہما مرو ہم رسا ہوا
طاؤس کلک مدح اڑا اور ہما ہوا
مطلع ہمارا مطلع مہر سما ہوا
اور دوحہئ کلام سراسر ہرا ہوا12
اس دوسرے مرثیہ کونواب محمدتقی خاں اختر کی طرف بھی منسوب کیاگیاہے؛ چنانچہ حضرت مہذب لکھنوی ’ماہ کامل‘کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:
نواب محمدتقی خاں اختر نے 106/بند کاایک مرثیہ اسی صنعت(غیرمنقوطہ)میں کہا، جس کامطلع ہے: ’ہم طالع ہمامرادہم رسا ہوا‘؛ چونکہ اس مرثیہ میں عطارد تخلص رکھا ہے، اس وجہ سے بعض لوگ اسے حضرت دبیرکاکلام سمجھتے ہیں؛ کیوں کہ ایسے ہی محل پر انھوں نے بھی یہی تخلص اپنے لیے پسندکیاتھا۔“13
لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مرثیہ مرزادبیرہی کاہے؛ چنانچہ شمس العلما مولاناحسین احمدآزادلکھتے ہیں:
مرزاصاحب نے 29/محرم 1292ھ ک 72/ سال کی عمرمیں انتقال کیا، اس مدت میں کم سے کم تین ہزارمرثیہ لکھاہوگا، سلاموں، نوحوں اوررباعیوں کاکچھ شمار نہیں، ایک مرثیہ بے نقط لکھا ہے، جس کامطلع ہے: ”ہم طالع ہما مراد ہم رساہوا“، اس میں اپنا تخلص بجائے دبیر کے عطاردلکھاہے۔“14
اس سلسلے میں اگرمزیدتحقیق درکار ہو تو ڈاکٹرسیدتقی عابدی کی مرتب کردہ کتاب ’طالع مہر‘ میں دیکھ سکتے ہیں، جہاں انھوں نے ماہرین کی تحریریں بھی نقل کی ہیں اور خود کاتجزیہ بھی۔
.4  قاری یعقوب علی خاں نصرت کی رباعیات، سلام اورمرثیہ:  ڈاکٹرسیدتقی عابدی نے قاری یعقوب علی خاں نصرت(مدد) شاگرد مرزادبیرکے بے نقط کلام کوبھی ’طالع مہر‘کی زینت بنایاہے، یہ وہی قاری یعقوب علی خاں نصرت ہیں، جن کی طرف ’ہم طالع ہمامرادہم رسا ہوا‘ مرثیہ منسوب ہے، قاری صاحب کے اس مرثیہ کاآغاز، جو50/بندپرمشتمل ہے، اس طرح ہے          ؎
مداح ہوا کلک امام دوسرا کا
مسرور ہو دل لکھ کلمہ صل علا کا
مطلع ہوکہ عالم ہو مہ ومہرسماکا
مداح ہو مورد کرم و مہر و عطا کا15
.5 مصدرالہام: یہ مشہور شاعر و ادیب صبامتھراوی کا غیرمنقوط مجموعۂ کلام ہے، جن کانام رفیع احمدہے، ان کی پیدائش متھرا(یوپی، انڈیا) میں ہونے کی وجہ سے متھراوی کہلائے، ان کا یہ غیرمنقوط مجموعۂ  کلام حمد، مدح رسولؐ  اور مختلف عناوین کی رباعیات پر 96 صفحات پرمشتمل ہے، اس مجموعے کی اشاعت 1981 میں مکتبۂ اردوادب، کراچی سے ہوئی، کچھ نمونے پیش خدمت ہیں:
مسلسل درود اورمسلسل سلام
مدام و مدام و دوام دوام
حرم ہو ارم ہو محمد کا گھر
دو عالم محمد کا ملک دوام
ہواؤ دکھاؤ محمد کا در
معطر معطر وہ دار السلام16
.6مدح رسول: یہ نعتیہ مجموعۂ  کلام ہے، جومشہور شاعر راغب مرادآبادی کے کاوش قلم کاعمدہ نمونہ ہے، 176 صفحات پرمشتمل ہے، جس میں چالیس غیرمنقوط نعتیں اور تیس  رباعیات ہیں، ان تمام میں بجزتخلص راغب کے کسی اور حرف میں نقطہ نہیں نظرآتا،کتاب کے آخرمیں فرہنگ بھی ہے، جوصفحہ:168سے صفحہ: 176تک ہے، ’الحمدللہ‘ کے نام سے ایک بے نقط مضمون بھی صفحہ: 47 تاصفحہ: 51تک شامل ہے،تصنیف کاسنہ 1979 ہے؛ لیکن اس کی اشاعت 1983 میں ایجوکیشنل پریس کراچی سے ہوئی، کچھ نمونے پیش خدمت ہیں:
رسول ہدیٰ کا کرم اللہ اللہ
ہوا دور اک اک الم اللہ اللہ
سواد حدود حرم اللہ اللہ
حدود حرم اور ہم اللہ اللہ
رہا اللہ اللہ کرم اس کا ہر دم
ہوا سہل کار عدم اللہ اللہ17
ایک دوسری نعت میں کہتے ہیں:
ورد کر او دل! سدا اسم رسول اللہ کا
دور ہر لمحہ ہراس و ہول ہوگا راہ کا
کاکل سرور کا سودا، سر کو ہو مولا عطا
دل کو حاصل ہو، سرور سرمد اس درگاہ کا18
.7 محمدہی محمد: یہ بھی غیرمنقوط منظوم کتاب ہے، جس کے مؤلف سید محمد امین شاہ نقوی ہیں، یہ240 صفحات پرمشتمل ہے، جس میں حمد، نعت اور مناقب پر 113 نظمیں اور ’گلہائے معطر‘کے عنوان کے تحت19 نعتیہ قطعات ہیں،یہ کتاب پہلی بار1985میں باب الہدی فیض آباد، فیصل آباد(پاکستان)سے شائع ہوئی، اس میں پنجابی، اردو، فارسی اورعربی چاروں زبانوں میں کلام ہے، 1989میں اس کے مؤلف نے ایک عربی غیرمنقوط نعتیہ مجموعہ بھی لکھاہے، جس کانام ’محمدرسول اللہ‘ ہے، اس میں 33 منظومات، 313/ اشعار،12/ حمد اور 21/ نعتیں ہیں، اس کتاب کاایک شعریہ ہے:
وہی ہے سارے مکارم کا مصدر ومحور
صدائے روح مہاں لاالٰہ الااللہ19
.8 داعی اسلام: یہ ایک منظوم غیرمنقوط سیرت کامجموعہ ہے، جو 200صفحات پرپھیلاہواہے، اس کے خالق مولانا صادق علی انصاری قاسمی دریابادی صادق ہیں، ان کی پیدائش 15اپریل 1936 اور وفات 15دسمبر2018 میں ہوئی، غیرمنقوط منظوم سیرت لکھنے کا داعیہ مولانامحمدولی رازی کی غیرمنقوط نثری سیرت ’ہادی عالم‘ دیکھ کر ہوا 20  ناشر: خالدکمال اشاعت گھر، لہرولی بازار، ہٹوا، بستی یوپی ہے، یہ کتاب 1985-86 کی تصنیف ہے۔اس کاسنہ اشاعت 1993 ہے، ’مہم اورمعرکے کی اصطلاح‘کے عنوان سے لکھتے ہیں        ؎
مسلسل ٹوہ گمراہوں کی، ہٹ دھرموں کی محصوری
حسدکاروں کی رکھ والی کوہم دردوں کی معموری
مدگاروں کی گرماگرم اصلاحی عمل کاری
گروہوں کی عدوکے اطلاع، اُسروں کی دل داری
مہم کے اسم سے سارا عمل موسوم ہے لوگو
ہمارے ہسٹری داں کو اگر معلوم ہے لوگو
اگر حاصل رہی سرکردگی سرکار عالی کی
مہم اسلام کی وہ اصطلاحاً ’معرکہ‘ ہوگی21
معاہدہئ صلح کے رہ گئے عمرہ کی ادائے گی‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں      ؎
رہاطے کارواں اسلام والوں کااِدھرلوٹے
رہاطے آکے اگلے سال عمرے کواداکرلے
رہے سہ دارکوئی اسلحہ ہوگھرکورکھ آئے
کرے عمرہ، رہے صم گم، کیے عہدوں کا ڈر کھائے
اسی کی روسے ہم دردوں مدگاروں کی اک ٹولی
گئی مکہ اداعمرے کوکرکے گھرلوآلوٹی22
.9محامد وراء المعراء: یہ میاں چنوں (پاکستان) کے رہنے والے سید مختار گیلانی کاچھ زبانوں (سرائیکی، پنجابی، اردو، فارسی، عربی اورانگریزی) پرمشتمل صنعت عاطلہ میں مجموعہئ کلام ہے، یہ 304/صفحات پر پھیلا ہوا ہے، اس کی اشاعت 1993میں ہوئی، اس کتاب میں شاعرنے اردوزبان کے 19 غیرمنقوط حروف ہجائی (ٹ، ح، د، ڈ، ر، ڑ، س، ص، ط، ع، ک، گ، ل، م،و، ہ،ء، ی، ے) کے لحاظ سے انیس باب بنائے ہیں اورہرباب کو ایک غیرمنقوط حرف سے خالی رکھاہے، مثلاً: پہلے باب کے اشعار ’الف‘سے اور دوسرے باب کے اشعار ’ٹ‘سے خالی رکھا، ’س‘سے خالی کی مثال ایک شعر میں ہے   ؎
والی و مولا وہی عالم کا آمر ہے وہی
ماہ و مہر و لعل و گہر کا مصور ہے وہی23
.10 سرکاردوعالم: یہ کتاب بھی منظوم صنعت عاطلہ کی عمدہ کاوش ہے، جوسیدتابش الوری کی تصنیف ہے، اپریل 2004 میں مجلس ثقافت پاکستان، بہاولپورسے شائع ہوئی ہے، یہ کتاب حمداورمدح رسول پرمشتمل 106 صفحات پرپھیلی ہوئی ہے، 2005میں حکومت پنجاب کی طرف سے اسے کتب سیرت کے مقابلے میں انعام اول کامستحق بھی قراردیاگیا،تابش الوری کااصلی نام سید سردار علی   ہے، ان کی کتاب سے کچھ نمونے پیش خدمت ہیں     ؎
سرورسے دل لہک رہاہے، درودسے روح کھل اٹھی ہے
کسی کی آمدکاسلسلہ ہے، ہوامسلسل مہک رہی ہے
ہوااسی کی مکاں مکاں ہے، صدااسی کی گلی گلی ہے
اسی سے دم دم کاواسطہ ہے، اسی سے دلڑی لگی ہوئی ہے24
(سرکادوعالم،ص63)
ایک دوسری نعت میں ہے            ؎
ہمارے ہمارے محمد محمد
کہو مل کے سارے محمد محمد
کسی کا سہارا گوارا کہاں ہے
ہمارے سہارے محمد محمد
ارادوں کے حاصل، مرادوں کے ساحل
دعاؤں کے دھارے، محمد محمد25
.11 ارحم عالم: یہ منظرپھلوری کی غیرمنقوط نعتوں کامجموعہ ہے، اس میں 52 نعتیں ہیں، اس کاپہلاایڈیشن جنوری 2013میں شائع ہوا، 2014 میں عیدمیلاد النبی کے موقعے پرمنعقدقومی سیرت کانفرس میں صدرپاکستان ممنون حسین نے صدارتی ایوارڈ سے نوازا، 11فروری 2014میں اس کادوسراایڈیشن احسن پبلی کیشنز فیصل آباد (پاکستان)نے شائع کیا، منظرپھلوری کا اصل نام عبدالمجید افضل ہے، قلمی نام منظرپھلوری ہے اورغیرمنقوط میں تخلص ’سائل‘ استعمال کرتے ہیں، یہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ (پاکستان)  کے ’اڈہ پھلور‘ میں 10جنوری 1973 میں پیدا ہوئے، اس کی غیرمنقوط شاعری کے کچھ نمونے حاضر خدمت  ہیں         ؎
کرم کی راد لے کر سرکار آئے
وہ سرور، وہ ہاری، وہ سردار آئے
وہ سرور، وہ اکرم، وہ سردار عالم
وہ علم و فض ل کے کرم کار آئے26
ایک دوسری نعت اس طرح ہے            ؎             
حد ادراک سے ما ورائے گماں
وہ وری الوری، کوئی اس ساکہاں
وہ عطائے الٰہ، سائر لا مکاں
ہادی کل، وہی مرسل مرسلاں 27
.12والی لولاک:یہ بھی منظرپھلوری ہی کی غیرمنقوط مجموعہئ کلام ہے،جو حرمین، فیصل آبادسے 2016 میں شائع ہوئی،اس کے صفحات: 136ہیں۔
.13ماہ حرا:یہ بھی منظرپھلوری ہی کا غیرمنقوط مجموعہئ کلام ہے۔
.14 اساس ادلہ:  یہ بھی منظرپھلوری کا غیرمنقوط مجموعہئ کلام ہے۔
.15معلم عالم:  یہ جناب عبدالرحیم ارحم قریشی کا پہلا غیرمنقوط نعتیہ مجموعہ ہے، جو 2014   میں محض تین ماہ کی محنت سے وجودمیں آیا، اس سے پہلے جوغیرمنقوط کتابیں وجودمیں آئیں 28ش، ان میں ’ط‘  والے حروف (ڈ، ٹ، ڑ)  سے مددلی گئی تھی؛ لیکن ارحم قریشی کے اس مجموعے کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں ان حروف سے بھی احتراز کیا گیا ہے، اس مجموعے میں نعتوں کے علاوہ حمدودعابھی ہے، جس کے اشعارمندرجہ ذیل ہیں              ؎
میرے اللہ، میرے مالک، میرے مولالکھ دے
سر ارحم کو محمدؐ کا ہو سودا لکھ دے
سر میرا مس در اطہرسے ہوا ہو، اس دم
مرگ ارحم کاالٰہی وہی لمحہ لکھ دے
ہر کوئی اس کو محمدؐ ہی کا مداح کہے
مدح سرورؐ ہی رہے، اس کاحوالہ لکھ دے
بارگاہ رسالت میں ’نذرانہئ درودوسلام‘ کی روانی ملاحظہ کریں:
سرور دوسرا، وہ رسول ہدی
اس کے مملوک ہم، وہ ہمارا امام
اس کو لاکھوں درود، اس کو لاکھوں سلام
ہے مسلسل وہی، ہے مکمل وہی
اس اعلی عمل، اس کا اعلی کلام
اس کو لاکھوں درود، اس کو لاکھوں سلام
درکلام ہدی، ہم کوصلوا کہا
اورکہا سلموا، حکم ہے حکم عام
اس کو لاکھوں درود، اس کو لاکھوں سلام29
.16 اسرارالسلوک:یہ گوجرخان کے خط پوٹھوہارکے معروف شاعر فاضل شائق کاغیرمنقوط شعری مجموعہ ہے، جس کی تقریب رونمائی10 جنوری 2019میں ہوئی۔30
.17روح عالم: یہ یوسف طاہرقریشی کا غیرمنقوط مجموعۂ  کلام ہے، جو184صفحات پرمشتمل ہے،اس کی اشاعت نعت اکادمی، فیصل آبادسے 1998 میں ہوئی، نعتیہ اشعار کا ایک نمونہ ملاحظہ ہو:
سہل ہو راہ مدح محمد
مرے الٰہی مری دعا ہے
مدح طاہر الہامی ہے
مدح رسول کا ملا صلہ ہے31
.18مدح رسول: یہ کامران اعظم سوہدری کا غیرمنقوط مجموعہئ کلام ہے، یہ104صفحات پرمشتمل ہے، یہ کتاب علم وعرفان پبلشرز، لاہور سے 2099 میں شائع ہوئی، کامران اعظم سوہدری 20دسمبر1976 میں سوہدرہ تحصیل وزیرآباد، ضلع گوجرنوالہ میں پیداہوئے، یہ ایک پاکستانی مصنف ہیں، جن کی قرآن وحدیث، تاریخ وسیرت، کتب شاعری اورمختلف علوم وفنون پرسوسے زائدکتابیں شائع ہوچکی ہیں، ’مدح رسول‘   کی ابتدا ان اشعارسے کی ہے:
ہر سو اس کا عکس ہدی
ہر سو وہ آس عہد روا32
یہ اردوکی غیرمنقوط کتابوں کاایک مختصرتعارف تھا، جس سے یہ معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے اندرکتنی صلاحیتیں رکھی ہیں، اگرانسان ان کا استعمال کرے توروز ایک نیاتحقیق کا باب دریافت ہوتارہے گا۔
حوالہ جات
(1)      فن تحریرکی تاریخ، تعارف، ص: ب، مطبوعہ: انجمن ترقی اردو ہند، علی گڑھ1962
(2)      انشاء اللہ خاں انشا، از: عابد پشاوری، ص:513-30، ط: اترپردیش اردواکادمی 1985، انشاء اللہ خاں انشا، از: سیدتقی عابدی، ص:83-84، ط:القمرانٹرپرائزرز، رحمان  مارکٹ، اردوبازار، لاہور
(3)        سلک گوہر،ص13
(4)        ہادی عالم،ص43
(5)      سروں کے سودے، ص250
(6)      دوسسردوداماد،ص: 42-3
(7)       محمدرسول اللہؐ،ص33
(8) معارف نومبر2018، ص:347، urduweb.org/ mehfil/ threads/ 65679
(9)      کلام انشاء،ص269
(10) کلام انشاء،ص:333-343، مرتبہ: مرزامحمدعسکری ومحمدرفیع فاضل دیوبند،مطبوعہ:ہندوستانی اکیڈمی، الٰہ باد، اترپردیش 1952
(11)    ماہ کامل،ص5
(12)    طالع مہر،ص156
(13)    مقدمہ ماہ کامل،ص3
(14)    آب حیات، ص278
(15)    طالع مہر،ص215
(16)    punjnud.comاحمدسہیل کامضمون: صبامتھراوی: ادیب، شاعر، ادبی تاریخ گواوراستاد، نیز دیکھیے: ci.nii.ac.jp
(17)    مدح رسول،ص:75-76
(18)    مدح رسول،ص133
(19)    محمدہی محمد،ص26
(20)    داعی اسلام،ص6
(21)    داعی اسلام،ص145
(22)    داعی اسلام،ص182
(23)     معارف، نومبر2018
(25)     سرکاردوعالم،ص41
(26)    ارحم عالم،ص45
(27)    ارحم عالم،ص27
(28)     معلم عالم،ص12
(29)    hamariweb.com/article/113083
(30)  urdupoint.com/daily/livenews/2019 -01-10/news-1802034.html 
(31)      معارف نومبر2018
(32)  ur.wikipedia.org،مدح رسول،ص1 بحوالہ: معارف، نومبر2018
Md. Jamil Akhtar Jameeli
Vill + P.O: Pochari
Distt: Dhanbad - 828306 (Jharkhand)
Mob.: 8292017888


ماہنامہ اردو دنیا، جنوری 2020