جمعہ، 27 نومبر، 2020

اردو رسم الخط - مضمون نگار: ریاض احمد

 



اردو ایک جدید ہند آریائی زبان ہے۔ اس کو ہندوستانی زبان بھی کہا جاتا ہے۔ یہ اسی ملک میں پیدا ہوئی او ریہیں پھلی پھولی ہے۔ لفظ ـ’اردو‘ ترکی زبا ن کاا لفظ ہے جس کے معنی لشکر کے ہیں۔ اس کا ڈھانچہ تیار کرنے میں کھڑی بولی نے سب سے اہم رول ادا کیا ہے۔ اُردو کو ضبطِ تحریر میں لانے کے لیے عربی فارسی حروف کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اُردو کا رسمِ خط عربی اور فارسی ہے بلکہ عربی فارسی کی توسیع شدہ شکل ہے۔ اردو جنوبی ایشیا کی وہ زبان ہے جسے لکھنے پڑھنے کے لیے عربی نظامِ ہجا استعمال میں لایا جاتا ہے۔ جو خط نسخ اور تعلیق سے وجود پذیر ہوا ہے۔ خط تعلیق کا جہاں تک سوال ہے اس کو حسن بن حسین علی فارسی نے فروغ دیا۔اس نے خط رقاع اور خط توقیع سے ایک نیا خط بنایا۔ یہ سرکاری مراسلت کے لیے استعمال ہونے لگا۔خط تعلیق اور خط نسخ کے ملاپ سے ایک تیسرا رنگ ابھر آیا جسے نستعلیق کہا گیا۔اس نے کافی مقبولیت حاصل کی۔خواجہ ابوالمعالی بک نے خط تعلیق میں انقلابی اصلاحات کی۔ انھوں نے فارسی کی مخصوص آواز( پ، چ،گ) کے لیے حروف ایجاد کیے اور اس مقصد کے لیے تین تین نقطے وضع کیے۔ابتدا میں گ پر بھی دو لکیروں کے بجائے تین نقطے لگائے جاتے تھے۔لیکن لسانی اور جمالیاتی ذوق سے ہم آہنگ نہ ہونے کے باعث اسے ترک کردیا گیا اور اس کی جگہ دو لکیروں کا استعمال شروع ہوا۔ حافظ یوسف سدیدی نے یاقوت ( پورا نام یاقوت بن عبداللہ الرومی المعتصمی) کو خط تعلیق کا موجد قرار دیا، محمد سجاد مرزا نے خط تعلیق کا اجرا چوتھی صدی ہجری (1000) اور پروفیسر شیخ عنایت اللہ نے ایم ایس ڈیمنڈ کے حوالے سے تیرہویں صدی عیسوی قرار دیا ہے۔محتاط تحقیق سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا اجرا پانچویں صدی ہجری (1107)   میں ہوا۔  

خط نستعلیق نے امیر تیمور کے دور میں ترقی کی۔ مشہور خطاط سید میر علی تبریزی نے خط نسخ اور تعلیق کی آمیزش سے خط نستعلیق ایجاد کیا۔اس خط کے اساتذہ میں میر فریدالدین،جعفر تبریزی،سلطان علی مشہدی، میر علی ہروی، میر عمادالحسنی، حافط نورانہ، صوفی خورشید عالم اقبال،  ابن پروین اور میر پنجہ کش رقم مشہور ہیں۔ شیخ ممتاز حسین جونپوری، ڈاکٹر شیرین بیانی کے نزدیک نستعلیق کے رواج پانے کا زمانہ ساتویں صدی ہجری ہے۔ محمد سجاد مرزا کے نزدیک اس کا زمانہ آٹھویں صدی ہجری کا ابتدائی دور ہے۔ڈاکٹر محمد عبداللہ چغتائی اور محمد اسحق صدیقی نے آٹھویں صدی، قیصرانی نے تیرھویں اور چودھویں صدی عیسوی اور پروفیسر شیخ عنایت اللہ نے پندرھویں صدی عیسوی کو ابتدائی دور قرار دیا ہے۔خط نستعلیق میں حروف کے دائرے گول ہوتے ہیں۔جس سے تحریر میں حسن اور دلکشی پیدا ہوتی ہے۔بارھویں صدی کے اوائل میں مرتضی خان شاملو نے خط نستعلیق سے ایک اور خط اخذکیا جسے خط شکستہ کا نام دیا گیا۔ 

 اردو میںفارسی،عربی، ہندی، ترکی اور دیگر زبانوں کے الفاظ شامل ہیں۔ فارسی حروف میں ٹ، ڈ، اور ڑ کے اضافے سے یہ تعداد 36بن گئی ہے۔ ہمزہ کو شامل کرنے سے 37 ہو جاتی ہے۔ انشاء اللہ خان نے اُردو حروفِ تہجی کی تعداد 85 بتائی ہے۔ پنڈت برج موہن دتاتریاکیفی کے نزدیک حروفِ تہجی کی تعداد47ہے۔ مولوی عبدالحق نے قواعد اُردومیں حروف کی تعداد 36 کے بجائے 50  بتائی ہے کیونکہ انھوں نے ہکاری آوازوں کو بھی حروف گردانا ہے۔ان میں ث، ح، ص،ط،ظ، ع، ق عربی زبان کے حروف ہیں۔ خ، ذ عربی اور فارسی دونوں زبانوں میں ہیں۔ اردو میں نسخ اور نستعلیق میں مقامی مزاج داخل ہونے کی وجہ سے ان کا اسلوب فارسی سے مختلف ہو گیا۔  درحقیقت یہی وہ اسلوب ہے جسے ہم اردو رسم الخط کہتے ہیں۔ اردو کے املا کے مسائل میں اہم مسئلہ یہ گردانا جاتاہے کہ دس مصوتوںکے لیے صرف تین علا متیں یعنی الف‘،’واو ‘اور ’ی ‘ہے۔جو کہ اس طرح سے ہیں:اَ،اِ،اُ،آ،اے،ای،ا و،اوٗ،اَے،اَو۔مصلحینِ زبان اس بارے میں کہتے ہیں کہ زیر،زبر،پیش چونکہ عملاََ استعمال نہیں کیے جاتے ہیں،  اس لیے زبان سیکھنے والے نئے قارئین کے لیے دقت کھڑی ہو جاتی ہے۔چنانچہ حروف کے اوپر نیچے لگنے والی علامتوں کو ختم کرکے ہر مصوتے کو ایک الگ حرف کی شکل دے دی جائے جیسا کہ انگریزی یا رومن حروف میں لکھی جانے والی دیگر زبانوں میں ہوتا ہے۔اس پر اب زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اردو کے حروف کی شکلیں بدلتی رہتی ہیں۔کبھی پورا یا آدھا حرف لکھا جاتا ہے تو کبھی اس کا چہرہ۔اس طرح الفاظ کی لکھائی سیکھنا، سکھانا مشکل ہے۔ اس مسئلے پر اگر غور کیا جائے تو یہ بذاتِ خود ایک علمی غلطی ہے جو کہ زبان کا نہیں بلکہ قاری کا معاملہ ہے۔اردوکا دائیں سے بائیں لکھنا بھی کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہوتا ہے یعنی کہ وہ دیوناگری رسم الخط کی وکالت کرتے رہتے ہیں جو کہ اردو کی شبیہ بگاڑنے کے لیے ایک سازش سے کم نہیں۔بعض حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ’مہینہ ‘یا ’تھانہ ‘جیسے الفاظ کے آخر میں’ ہ‘ نہیں بلکہ’ الف‘ آنا چاہیے کیونکہ یہ ہندی میں الف سے لکھے جاتے ہیں۔ یہ اعتراض نیا نہیں ہے بلکہ صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔ مغل شہنشاہ جہانگیر نے بھی اس پراعتراض جتایا تھا لیکن کسی نے کان نہ دھرا اور وہ الفاظ صدیوں سے ویسے ہی لکھے جاتے ہیں۔اس حوالے سے یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ ہر زندہ زبان روایت،چلن اور رواج پر چلا کرتی ہے،نہ کہ چند افراد کے ایک کمرے میں بیٹھ کر احکامات صادر کرنے سے۔

جب مسلمانوں کی آمد ہندوستان میں ہوئی تو وہ اپنے ساتھ فارسی لائے۔ہندوستان کی سرکاری زبان فارسی ہو گئی۔ہندی کی مخصوص آوازیں مثلاً ( ٹ، ڈ، ڑ، بھ، پھ، تھ، ٹھ، جھ، چھ، دھ، ڈھ،کھ، گھ وغیرہ ) کو ادا کرنے کے لیے حروف موجود نہیں تھے۔اردو چونکہ ان تینوں زبانوں کے مرکب سے پیدا ہوئی لہٰذا ضروری تھا کہ ان تینوں زبانوں کی آوازیں ادا کرنے کے لیے علامتیں موجود ہوں۔ فارسی حروف میں شکلوں کی قبیلہ وار تقسیم سے فائدہ اٹھا کر دو نئے نشانات وضع کیے گئے جن کے ذریعے ہندی مخصوص آوازوں کے ادا کرنے کے لیے نئے حرف بنانا ممکن ہو گیا۔ 1857 تک کی تحریروں میں (ٹ ) اور (ڈ) اس طرح لکھتے تھے کہ ان کے اوپر چار نقطے ڈال دیتے تھے۔بعد میں (ط) کی علامت کو بطور نقطہ استعمال کرنے لگے۔ھ کی علامت سے بھ، پھ، تھ، ٹھ، جھ، چھ،دھ، ڈھ، ڑھ،کھ، گھ، لھ بنالیے گئے۔ فارسی، اردو، پنجابی، بلوچی،سرائیکی اور براہوی نے نستعلیق اپنایا۔ کمپیوٹر کی ایجاد نے اس کو چار چاند لگائے۔جب کہ نستعلیق میں  پنجابی، بلوچی، سرائیکی، بروہی اور اردو لکھی جاتی ہے۔

ہائیہ آوازوں والی تحریری شکلوں مثلاً پھ، بھ، تھ، دھ، کھ،گھ وغیرہ کو مفرد حروف کا درجہ نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ یہ حروف کی تعریف پر پوری نہیں اترتیں۔ لسانیات کی رو سے’’  حرفــ‘‘سب سے چھوٹی تحریری اکائی ہوتی ہے جس کے مزید ٹکڑے نہیں کیے جاسکتے۔اب اس تحریری اکائی کو لسانیاتی اصطلاح میں ـ’ ترسیمیہ‘ کہتے ہیں۔ مثلاً ب ت پ ج گ وغیرہ۔مخلوط حروف مثلاََ پھ، بھ، تھ، جھ، دھ، کھ وغیرہ کو حروف یا سب سے چھوٹی تحریری اکائی ترسیمیہ کا درجہ اس لیے نہیں دیا جاسکتا کہ ان کی تشکیل دو تحریری عناصر  پ +  ھ=پھ یا۔  د+ھ=دھ کی ترکیب سے عمل میںآتی ہے،  اس لیے انھیں حروف تہجی میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ ہمزہ بھی اُردو میں حروفِ تہجی نہیں ہے بلکہ محض ایک تحریری علامت ہے جس کا استعمال مصوتی تسلسل کے لیے کیا جاتا ہے بہ استثنائے ہمزہ اُردو حروف تہجی کی کل تعداد  36ہے بعض لوگوں نے ہمزہ کو بھی حرف جانا ہے۔ ان کے نزدیک 37حروف تہجی ہیں۔ عربی حروف تہجی کی کل تعداد 28 ہے۔ اُردو کے حروف تہجی میں 28 عربی کے، چار فارسی کے اور چار نئے حروف جو خود اُردو میں وضع کیے گئے ہیں یعنی کل 36 حروف وضع کیے گئے ہیں۔اُردو میں جو چار حروف وضع کیے گئے ہیں وہ یہ ہیں: ٹ، ڈ، ڑ، ے۔ اُر دو رسم الخط نے اعراب وعلامات جیسے زیر، زبر، پیش، مد،اُلٹا پیش، ہمزہ، تشدید اور جزم وغیرہ عربی و فارسی سے مستعار لیے ہیں۔ اور تحریری نظام میں تنوین جیسے مثلاً، فور اورالف مقصورہ جیسے عیسیٰ الف وصل جیسے دارالحکومت، کسرائِ اضافت مثلاً محفل اور واوِ معدولہ جیسے خوش وغیرہ عربی فارسی رسم الخط سے مستعار لے گئے ہیں۔ اُردو کا طرز تحریر اور اندازِ کتابت نستعلیق کہلاتا ہے۔ اس خطِ نستعلیق کا ارتقا ایران میں ہوا تھا۔ خواجہ میر علی تبریزی نے ایران میںعربی کے دو رسومِ خط نسخ اور تعلیق کو ملا کر ایک نیا رسمِ خط ایجاد کیا جو نستعلیق کہلایا۔اُردو کے لیے آج یہی رسمِ خط مشہور ہے اور آج یہ اُردو کا اپنا رسمِ خط بن گیا ہے۔ اُردو کا صوتی نظام مختلف زبانوں سے آئی ہوئی آوازوں کا مجموعہ ہے۔اُردو ایک ہند آریائی زبان ہے اسی وجہ سے اس میں صرف ہندی نژاد آوازوںکی تعداد زیادہ ہے۔ مثلاََ ٹ، ڈ، ڑ،بھ، تھ،دھ وغیرہ۔اُردو میں خالص ہند آریائی یا ہندی الاصل آوازیں خالص عربی آوازیں خالص فارسی آوازیں اور دو یا تین زبانوں کی مشترک آوازیں موجود ہیں۔ اُردو میں ہندی نژاد آوازوں کے علاوہ عربی و فارسی کی چھ آوازیں بھی ہیں جو یہ ہیں ف،ز،ژ، خ، غ،ق۔ اُردو رسم الخط میں ذ،ض، ظ کے لیے ز اور ث،ص کے لیے س اور ح کے لیے ہ اور ط کے لیے ت کی آوازیں مقرر کی گیٔ ہیں۔

 مسعود حسین خان ز، ض، ظ، ث،ص، ح اورط کو زائد حروف کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صوتی نقطہ نظر سے یہ سب مردہ لاشیں ہیں جن کو اُردو رسم الخط نے اُٹھا رکھا ہے۔ ان کو اُٹھانے کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا تعلق عربی و فارسی سے ثابت رہے۔ اُردو میں عربی الفاظ براہِ راست عربی زبان سے داخل نہیں ہوئے بلکہ فارسی کے ذریعے اُردو میں آئے ہیں۔اُردو نے ان کو اپنے صوتی آہنگ کے مطابق استعمال کیا ہے۔ اردو  میں استعمال ہونے والی تمام ضمیریں سنسکرت اورپراکرت سے لی گئی ہیں۔اُردو کے تمام افعال بھی ہندی الاصل ہیں ضمائر کی طرح۔ اُردو کے بنیادی حروف کی تعداد ایک جگہ18 قرار دی گئی ہے۔ اُردو رسم خط میں ایک حرف جب دوسرے حرف کے ساتھ جوڑ کر لکھا جاتا ہے، تو اس کی شکل قدرے تبدیل ہوجاتی ہے۔ اس حرف کی اس تبدیل شدہ شکل کو ترکیبی شکل کہتے ہیں۔لسانیاتی اصطلاح میں حروف کی تبدیل ہوئی شکل کو  ’زہلی ترسیمیہ ‘ کہا جاتا ہے۔ اُردو کے تقریباً سارے حروف ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر لکھے جاتے ہیں اور اپنی ترکیبی شکلیں یعنی بدلی ہوئی شکلیں وضع کر سکتے ہیں۔ لیکن صرف 9 حروف ایسے ہیں جو اپنے بعد کسی دوسرے کے ساتھ  ملا کر لکھے نہیں جاتے۔ وہ 9 حروف یہ ہیں   ا  د  ڈ  ذ  ر  ڑ  ز  ژ  و۔ اُردو رسم الخط میں اعراب و علامات کی حیثیت ثانوی ہے۔ اعراب و علامات ایک قسم کے مختصر تحریری نشانات ہوتے ہیں۔اُردو رسم الخط میں اعراب و علامات مصوتی، مصمتی، غنائی اور قواعدی کردار ادا کرتے ہیں اور اعراب و علامات کی گروہ بندی  1  مصوتی  2  مصمتی 3  غنائی اور  4 اضافی علامات کے طور پر کی گیٔ ہے۔ اُردو رسم الخط میں بنیادی حیثیت حروف اور ان کی ترکیبی شکلوں یا ذیلی حروف کو حاصل ہے۔

الف:  مصوتی علامات  :  مصوتی علامات مصوتی خصوصیات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کا استعمال مصوتوں اور مصمتوں کی نمائندگی کرنے والے حروف کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ مصوتی علامات کی تعداد 9 ہے  1  زیر  2  زبر  3 پیش  4   مد5 کھڑا زیر  6  اُلٹا پیش  7کھڑا زبر 8 اُلٹا جزم  اور  9   ہمزہ۔

ب: مصمتی علامات:مصمتی علامات مصمتی خصوصیات کی نمائندگی کرتی ہیں جن کا استعمال مصمتوں کی نمائندگی کرنے والے حروف کے ساتھ ہوتا ہے۔ مصمتی علامات چار ہوتے ہیں۔  1  تشدید  2  دوچشمی  3  جزم 4  تنوین۔

 ج: غنائی علامات:  غنائی علامات وہ علامات ہیں جو غنہ کو ظاہر کرتی ہیں۔ اُردو رسم الخط میں غنہ کو ظاہر کرنے کے لیے دو علامتیں رائج ہیں:  1۔نون غنہ 2۔  اُلٹا قوس۔

 د :  اضافی علامات :   اضافی علامات سے  کا،  کی،  کے  کے معنی پیدا ہوتے ہیں۔ اضافی علامات تین ہیں:

1  زیر 2  ہمزہ  3  بڑی ے (یاے مجہول)

مولانا سید احمد دہلوی کے مطابق اُردو کے ساڑھے پانچ لاکھ الفاظ میں تین چوتھائی الفاظ سنسکرت الاصل ہیں۔  دوسری زبانوں کے الفاظ کو اپنانے کی وجہ سے اُردو کے تلفظ  اور املا میں کچھ مسائل بھی ضرور پیدا ہوئے ہیں جن کی بنا پر بعض دانشوروں نے اُردو کے رومن یا دیو ناگری رسم الخط میں منتقل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ راہی معصوم رضا نے بہت پہلے کہا تھا کہ ’’  اُردو آئندہ پچاس برسوں کی مہمان ہے لہٰذا اُردو  والوں کو چاہیے کہ جتنی جلد ممکن ہو وہ اُردو کے سرمائے کو دیو ناگری رسم الخط میں منتقل کر دیں۔ ’’ علی سردار جعفری اور عصمت چغتائی نے بھی اُردو کے لیے دیوناگری رسم الخط کا مشورہ دیا ہے۔ان دانشوروں  نے کہا کہ اس رسم الخط کو اپنانا چاہیے جس سے روزی روٹی کا مسئلہ بھی حل ہو سکے۔ حاصل کلام یہ کہ اُردو زبان میں  کچھ کمیاں ضرور ہو سکتی ہیں لیکن ان کی وجہ سے اُردو سرمائے رومن یا دیو نگری رسم الخط میں منتقل کرنا کسی طرح ممکن نہیں۔

ہندوستان کی دوسری زبانوں کی طرح اُردو کی بھی ایک تاریخ ہے۔ اپنا لسانی عمل ہے، اپنے ارتقائی مدارج ہیں اور اپنے قواعد اور اپنا رسم الخط بھی ہے، لغت ہے، صوتی نظام ہے۔ہیئت و تشکیل  کے اپنے اصول ہیں۔ یہ ایسے حقائق ہیں جنھوں نے مل کر  اُردو کی انفرادیت کو سنوارا اور نکھارا ہے۔ق  ف  ز  خ  غ حروف صحیح اُردو کے علاوہ کسی دوسری زبان میں بنیادی حیثیت نہیں رکھتے۔ حاضر ضمیر کی واحد شکل میں اُردو میں تین ذیلی ضمیریں استعمال ہوتی ہیں جو دوسری کسی زبان میں نہیں ہیں۔ اُردو رسم الخط میں لفظوں کے انتخاب میں بڑی گنجائش ہے مثلاً مہہ ،  مہتاب ،   قمر ،  چاند ،  بازار،  دولت ،  روپیہ ،  پیسہ وغیرہ۔ اردو رسم الخط یا اُردو زبان میں (اَت) کا  لاحقہ بھی استعمال ہوتا ہے  جس کا رواج کسی دوسری زبان یا رسم الخط میں نہیں ملتا۔ مثلاً جذبہ سے جذبات،  مشکل سے مشکلات وغیرہ۔ اُردو رسم الخط اور اُردو زبان میں ایسے محاوروں کی تعداد بکثرت ہے جو صفت کو ملا کر بنائے گئے ہیں۔ مثلاََ منہ بنانا، منہ مارنا وغیرہ۔ اُردو رسم الخط میں نسبت کا لاحقہ (ای) ہے۔ اگر لفظ حروف علت پر ختم ہوتا ہو تو (ای) کے بجاے (وی) لا حقہ استعمال ہوتا ہے۔ مثلاًلکھنؤ سے لکھنوی،  دہلی سے دہلوی وغیرہ۔ اُردو رسم الخط نے فرہنگ کی سطح پر عربی و فارسی سے جتنا استفادہ کیا ہے، اتنا اور کسی نے نہیں کیا۔ ایک اندازے کے مطابق 35 فیصد الفاظ اُردو رسم الخط میں عربی فارسی انگریزی وپشتو زبانوں کے ہیں۔دوسری زبانوں کے مقابلے میں یہ ایک ریکارڈ بھی ہے۔ اُردو اپنے اسالیب، لب و لہجہ، انتخاب الفاظ اور مختلف لسانی و ادبی اقدار کے لحاظ سے تین رجحان میں بٹی ہوئی ہے۔ پہلے رجحان میں عربی و فارسی الفاظ اور تراکیب و تلمیحات میں آتی ہیں۔ دوسرے رجحان میں دیسی سادگی اور سلاست ہے۔ تیسرے رجحان کو انگریزی رجحان کہا جاسکتا ہے۔ جہاں حقیقت پسندی ہے۔

اُردو زبان کی موجودہ خامیوں کے باوجود اُردو رسم الخط کے بدلنے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ کیونکہ رسم خط کے بدلنے کے معنی ہیں اپنے ماضی اور اس کی روایتوں سے بے تعلق ہوجانا۔ رسم خط زبان کا نہ صرف خوبصورت لباس ہے بلکہ یہ زبان کی روح بھی ہے۔ راجندر سنگھ بیدی کے مطابق کوئی زبان بغیر رسم خط کے زندہ نہیں رہ سکتی۔ اُردو بھی اُس وقت تک زندہ رہے گی جب تک اُس کا رسم خط زندہ رہے گا۔ تمدن کی تاریخ دنیا کے ہر رسم الخط کے پیچھے ہوتی ہے۔ یا اس طرح کہیں کہ ہر رسم الخط کے پیچھے اُس کے تمدن کی تاریخ ہوتی ہے۔


Reyaz Ahmad

Research Scholar, Dept of Urdu

O.P.J.S University

Churu - 331303 (Rajasthan)

 

 


ساحر لدھیانوی - جی ایم پٹیل

 



عبدالحئی گھر کے تمام بچوں میں اپنی منفرد سوچ، مزاج میں افسردگی اور اپنے برتاؤ کی مناسبت سے کافی نرالے تھے۔ عبد الحئی کی ’ تلخ یادوں کی پرچھائیاں ‘ ان کی ذاتی زندگی پر غالب رہیں اور عبدالحئی کی حسا س طبیعت اور وقت سے پہلے ہی زندگی کی کڑواہٹ نے انھیں کچھ سخت، تلخ اورانقلابی مزاج بنا دیا۔ والد چودھری فضل محمد جاگیردار، فرنگیوں کے طفیل میں ملیں جاگیریں،نہ محنت نہ مشقت، بس فرنگیوں کی خوشامد، عاجزی اورچاپلوسی یہی ان کا مشغلہ رہا۔ جاگیردارانہ رویہ، دولت کا گھمنڈ، عیاشی کے  نت نئے سامان، کبھی میخانوں کے رقص نے انھیں معاشرتی، سماجی اور وایتی زندگی سے کوسوں دور رکھا اور اسی خمار میں وہ ’گیارہ  سو تنیں ‘لے آئے۔ عبدالحئی اور ان کی والدہ نے جب اپنی ناراضگی، نفرت اور غصہ کا اظہار کیا تو فضل محمد نے ان دونوں کو اذیت پہنچانی شروع کردی اور جب ظلم وستم برداشت سے باہر ہوا تو عبدالحئی کی والدہ نے انصاف پانے کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹ کھٹایا۔ عبدالحئی نے عمر کے 12 سال ہی میں والدہ کو انصاف دلانے کے لیے فضل محمدکے خلاف عدالت میں گواہی دے دی۔ فضل محمد بے قابو اور اس قدر غصہ میں تھے کہ انھوں نے عبدالحئی کو جان سے مارنے کی دھمکی دے دی اور جب انھوں نے ماں کی ممتا کو للکارا تو ماں نے اپنے سارے زیورات اور رہی سہی پونجی داؤ پہ لگا دی اور عبدالحئی کی حفاظت کے لیے گارڈ تعینات کردیے۔فضل محمد کی بے رخی، ظالمانہ برتاؤ،  نہ ہی عبدالحئی اور نہ ہی والدہ کے جذبات و احساسات کی کوئی قدر و قیمت۔ بالآخرعبدالحئی نے اس جاگیردارانا روایت کو ٹھکرا دیا اور صرف اس روایت کو قبول کیا کہ ماں کے پاؤں تلے جنت ہوتی ہے اور آخری دم تک اسے نبھاتے رہے۔عبدالحئی اور اس کی ماں ان کے چچا جان کے پاس رہنے لگے اور عبد ا لحئی نے اپنی تعلیم جاری رکھی        ؎

ایک   یخ  بستہ  اداسی  ہے  دل  و  جاں  پہ  محیط

اب  مری  روح  میں  باقی  نہ  امید  نہ  جوش

رہ  گیا  دب  کے گراں  بار  سلاسل  کے  تلے    

میری  درماندہ  جوانی  کی  اُمیدوں  کا  خروش   

 عبد ا لحئی کی ابتدائی بنیادی تعلیم ما لوِ یا خالصہ اسکول میں ہوئی۔ امرتا بھی اسی اسکول میں زیر تعلیم تھیں۔ عبدالحئی نے جب امرتاکو دیکھا تو امرتا کی خوبصورتی نے انھیں پاگل کردیا۔عشق کی چنگاری ان کے دل و دماغ میں سلگ گئی جس سے آہستہ آہستہ عشق و محبت کے شعلے لپکنے لگے۔ کالج کی نشاط خیز فضا،گلہائے رنگ و بو اور حسین محبوبہ کے کارواں اور عشق کے راگ الاپتے وادیٔ عشق میں پرواز کا آغاز شروع ہوا۔عبدالحئی نے ا مرتا کا پتہ ڈھونڈ لیا وہاں پہنچ گئے اور امرتا کی چاہت،اس جنون میں امرتا کی ایک جھلک کے لیے وہ بے تاب رہتے۔ جس کے لیے قریبی چائے کی دُکان میں چائے کی چسکیوں کے ساتھ اپنی نظروں کو امرتا کے دیدار کے لیے متحرک رکھتے۔ بالآخر امرتا نے عبدالحئی کی محبت کے جنون اور نظروں سے جھلکتی عشق کی عبارت کو پڑھ لیا اور اب دونوں میں سُلگ گئیں عشق کی چنگاریاں۔ نزدیکیاں بڑھیں اور دونوں بے تکلف ہوئے، ملاقاتوں کے سلسلے بڑھتے ہی چلے گئے۔ ان دونوں کی داستانِ عشق جب اسکول کی دیواروں پر پھلانگنے لگیںتو اس کی خبر امرتا کے والد کرتار سنگھ تک پہنچی۔ انھوں نے اسکول کے پرنسپل کی بد نظامی کے لیے انھیں خوب بھلا برا کہا اور پرنسپل سے فوراً  ایکشن لینے کو کہا اور پرنسپل نے عبدالحئی کو اسکول سے بے دخل کر دیا۔اس خطرناک حادثہ نے امرتا اور عبدالحئی کے دل و دماغ پر ایک گہری ضرب، گہری چوٹ اور گہرے عشقیہ زخم لگائے۔ عبدالحئی اور امرتا  دونوں میں عشق گہرا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ امرتا نے قسم کھائی کہ وہ اپنی زندگی میں عبدالحئی کو حاصل کر کے ہی دم لے گی اور حقیقی طور سے امرتا اپنی ضد اور اپنی قسم پہ زندگی کی آخری سانس تک قائم رہیں۔ ان کے ٹوٹے، بکھرے ، مجروح جذبات نے عبدا لحئی  میں ایک نئی روح پھونک دی اور عبدالحئی اسی دور طالب علمی میں اپنی معیاری اور پختہ شاعری کا آغاز کیا۔

عبدالحئی نے کالج میں اپنا تخلص ’ ساحر‘  اختیار کر لیا ۔ ان کی تمثیل کاری، منظوم ڈرامہ نگاری، منظر کشی، فنی  مصوری، احساسات اور جذبات کی عکاسی بے مثال تھی ’پرچھائیاں ‘ یہ طویل نظم ان کی زندہ جیتی جاگتی مثال سارے عالم کے سامنے موجود ہے جو ساحر کی طالب علمی کے زمانے کی عشقیہ تخلیق کا ایک سنگِ میل ہے۔ ایک شاہکار ہے۔ پرچھائیاں مشاعروں کی جان بن گئی اور تقریبا ہر مشاعرے میں اس کی فرمائش ضرور ہوتی۔ساحر کی اسی طویل منظوم تمثیل کاری،اس داستان عشق نے اردو ادب میں ایک اعلیٰ ترین مقام پا لیا جو آج بھی برقرار ہے۔ اس طرح ساحر نے کم عمر ہی میں اپنا لوہا منوالیا اور اپنی عشق کی داستان کو امر بنادیا۔ یہ مبالغہ ہر گز نہیں۔  پرچھائیاں کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ساحر نے پرچھائیاںامرتا سے اپنی محبت اپنے عشق کے نیک جذبے اور نفیس احساس کی بہترین عکاسی کی ہے       ؎

وہ   پیڑ  جن   کے  تلے  ہم   پناہ  لیتے   تھے

کھڑے  ہیں آج  بھی  ساکت کسی  امیں کی  طرح

انھیں کے سائے  میں  پھر آج  دو  دھڑکتے  دل       

خموش  ہونٹوں  سے کچھ کہنے  سننے  آئے  ہیں

 نہ  جانے کتنی کشاکش   سے کتنی  کا وِش  سے

یہ سوتے   جاگتے  لمحے    چُرا   کے   لائے   ہیں  

 یہی   فضا  تھی ،  یہی  رُت،  یہی  زمانہ   تھا

یہیں   سے  ہم  نے  محبت  کی   ابتدا  کی  تھی         دھڑکتے  دل  سے،  لرزتی   ہوئی  نگاہوں  سے   

 حضورِ   غیب    میں ننھی   سی   ا لتجا  کی تھی

 کہ آرزو  کے کنول کھل  کے  پھول  ہو جائیں    

 د ل   و   نظر کی  دعائیں  قبول   ہو جائیں 

 تصّورات  کی    پرچھائیاں    اُبھرتی    ہیں

کبھی گمان کی  صورت کبھی  یقیں کی  طرح

ساحر سے امرتا کا آغازِ عشق بھی کچھ اسی انداز سے ہوا تھا۔ دونوں ملتے رہے، روحوں میں سماتے گئے۔ جب دونوں کی داستانِ عشق مقامی لوگ گنگنانے لگے، کالج کی دیواروں پر ان کی محبت کی داستاں پھلانگنے لگی۔

 ساحر کے د ل کا سوز، خلش، چبھن اور تکلیف کا احساس ’تلخیاں‘ کے مطالعے سے ہوتا ہے کہ ساحر کس قدر حساس تھا۔ ایک معمولی سا حادثہ، معمولی چوٹ، نا انصافی اسے ہرگز برداشت نہ ہو تی اور وہ فوراََ  اپناردِ عمل ظاہر کرتا اسے کاغذ پر اتارتا اور پڑھنے والوں کو تڑپا دیتا، انھیں رلا دیتا، ان کے ضمیر کو جگادیتا۔ یہی اس کی زندگی کی تلخیاں ہیں۔اس کی تلخ یادوں کا پہلا مجموعہ ’ تلخیاں‘ شائع ہوا  جس میں تقریباً 52نظمیں شامل ہیں۔ چاہنے والوں نے، پرستاروں نے ساحر کے  مجموعۂ کلام و تلخیاں کو ہاتھوں ہاتھ لے لیا اور جاگیر دار عبد الحئی  اب عوامی ساحر ’ساحر لد ھیانوی ‘  کا مظہر بن گئے۔تلخیاں کے کئی شمارے چھپ چکے ہیں۔ ساحر درد  و غم اور کسک کی آماجگاہ تھا جس میں مزدوروں، کسانوں اور ہر مظلوم کا درد بھرا ہوا تھا جو اسے کسی پل چین نہ دیتا           ؎

ہر ایک جسم گھائل، ہر ایک روح پیاسی

نگاہوں میں الجھن دلوں میں اداسی، یہ دنیا ہے یا عالمِ بدحواسی

یہاں ایک کھلونا ہے انساں کی ہستی

یہ بستی ہے مردہ پرستوں کی بستی، یہاں پر تو جیون سے ہے موت سستی

ساحر ہی تو تھا جو دوسروں کے چوٹ لگنے سے خود مجروح بے چین ہو کر ان کی دھڑکنوں سے ہم آہنگ ہو کر ظلم کے خلاف آواز بلند کرتا        ؎

خون پھر خون ہے سو شکل بدل سکتا ہے

ایسی شکلیں کہ مٹاؤ تو مٹائے نہ بنے

ایسے شعلے کہ بجھاؤ تو بجھائے نہ بنے

ایسے نعرے کہ دباؤ تو دبائے نہ بنے

یہ کوچے یہ نیلام گھر دل کشی کے

یہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کے

کہاں ہیں، کہاں ہیں محافظ خودی کے

ثنا خوانِ تقدیسِ مشرق کہاں ہیں

ذرا ملک کے رہبروں کو بلاؤ

یہ کوچے، یہ گلیاں یہ منظر دکھاؤ

 دہلی میں ساحر کو نہ  ہی دلی سکون حاصل تھا اور نہ ہی اپنے کامیاب مستقبل کی کوئی امید انھیں نظر آ رہی تھی! اسی کشمکش، اضطراب و بے چینی کے عالم میں ساحر نے اچانک ہی دہلی چھوڑ دینے کا  فیصلہ کیا۔ اپنی امی کو وہیں دہلی میں  پرکاش پنڈت کے پاس چھوڑ کر اور خود ’بمبئی ‘  پہنچ گئے اور بمبئی میں چار بنگلہ میں کرشن  چندر کے پاس رہنے لگے۔ اب ان کا رجحان بمبئی میں فلمی نغمے لکھنے کی طرف راغب ہوا اور اپنی خواہش کے مطابق اسی جدو جہد میں رہے اور  بالآخر کافی کوششوں کے بعد 1948میں ساحرکو  ’آزادی کی راہ‘ اس فلم کے لیے پہلا گیت لکھنے کا موقعہ ملا۔  نغمے کے اشعار کچھ یوں تھے          ؎

یہ اجڑی اجڑی بستیاں، یہ لوٹ کی نشانیاں

وہ اجنبی پہ اجنبی کہ ظلم کی کہانیاں

اب دکھوں کے باہر، نکل رہی ہے زندگی

بدل رہی ہے زندگی

 فلم کامیاب تو نہیں ہوئی البتہ ساحر نے جادؤئی نگری بمبئی پردستک دے دی۔دو سال بعد 1951 میں فلم ’ نوجوان ‘ کے نغمے لکھے۔ جس کے موسیقار  تھے ’برمن دادا‘۔ ساحر کے لکھے ان فلمی نغموں نے دھوم مچائی۔ نغموں کو فلمی شائقین نے بے حد پسند کیا          ؎

ٹھنڈی ہوائیں، لہرا کے آئیں

رت ہے جواں، ان کو یاہاں، کیسے بلائیں

چاند اور تارے، ہنستے نظارے

مل کے سبھی، دل میں سکھی، جادو جگائیں… ٹھنڈی ہوائیں

 ہدایت کار گرودت  اور  موسیقار  برمن  دادا کی  ’بازی‘ اور  اس کے بعد ’پیاسا‘  ان  فلموں  کے نغموں  نے  مقبولیت  کے سارے  ریکارڈ  تو ڑ  ڈالے  اور ساحراب  فلمستان بمبئی  کے  افق  کا  جگمگاتا  روشن  ستارہ  بن گیا         ؎

تدبیر سے بگڑی ہوئی تقدیر بنالے، تقدیر بنا لے

اپنے پہ بھروسہ ہے تو یہ داؤ لگادے، یہ داؤ لگا دے

یہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کے،

کہاں ہیں کہاں ہیں محافظ خودی کے

جنھیں ناز ہے ہند پر وہ کہاں ہیں؟

یہ محلوں، یہ تختوں، یہ تاجوں کی دنیا

یہ انساں کے دشمن، سماجوں کی دنیا

یہ دولت کے بھوکے، رواجوں کی دنیا

یہ دنیا اگر، مل بھی جائے توکیا ہے

 ساحر میں تکبر نہیں تھا، اپنی  ذہانت، قلم کی جادو گری اور خود اعتمادی اس قدر کہ چشم ِ زدن میں ساحر نے فلمی دنیا پر اپنا سکہ جمالیا اور آگے آگے زمانے نے وہ دن بھی اجاگر کردیے جہاںفلمی دنیا کی ہر فلم ساحر کے حوالے سے جانی جانے لگی۔ اب  پروڈیوسر کا خواب ہوتا کہ ان کے فلم کے نغمے ساحر کے لکھے ہوئے ہوں۔ ساحر میں یہ خدا داد چیز تھی کہ محبت کے گیت لکھتا تو پیار کرنے والے دو دل دھڑک جاتے، ساتھ ساتھ چرند پر ند بھی تھرکنے لگتے۔ دکھ بھرے گیت میں فنکا ر کے ساتھ ساتھ دھرتی کا سینا کا بھی کانپ جاتا۔ اس طرح ساحر نے اپنے سینہ کی جلن اپنے دکھ دررد،اپنے احساسات کی عکاّسی کی اور ناظرین کو  مقبول ترین نغموں کی سوغات کا  نذرانہ  پیش کیا۔ ہر فلم پرستار بخوبی واقف ہے کہ معرو ف ہدایت کار اور اداکار ’راج کپور جی ‘ کی تقریباً ہر فلم کے موسیقار ’ شنکر جے کشن ‘  ہوا کرتے ہیں۔ لیکن فلم ’ پھر صبح ہوگی ‘ کے لیے محض ساحر کے اصرار پر ’موسیقار  خیام ‘ کو ترجیح دی گئی۔ محض اس لیے کہ ’موسیقار خیام ‘ نے ’ کرائیم اور پنیش منٹ ‘  ناول کو بخوبی سمجھ کر پڑھ لیا تھا  اور اسی ناول پر مبنی فلم ـ ’پھر صبح ہوگی ‘ کی کہانی تھی۔

ہندوستانی فلمیں اکثر فلمی نغموں کے وجہ سے ہی کامیاب ہوتی ہیں مگر فلموں میں صرف موسیقار کا نام ہی نمایاں ہوتا ہے، پردوں پر ظاہر ہوتا ہے۔ خوددار اور انصاف پسند ساحر نے بڑی ہمت، اور دلیری سے پروڈیوسر  سے تکرار کی کہ’’ جتنی رائیلٹی کی رقم موسیقار کو ملتی ہے اس سے ایک روپیہ زیادہ نغمہ نگار کو  ملنا چاہیے ‘‘۔ سارے  پروڈیوسر  پہلے تو کافی  پریشان ہوئے، پر جب  انھوں نے غور کیا اور ان کی فلموں کی کامیابی کا  جائزہ لیا تو وہ  جان گئے کہ ان کی فلموں کی کامیابی کے روح رواں تو فلمی نغمے ہی ہیں۔ تب انھوں نے ساحر کی شرط مان لی اور یہ بھی  تسلیم کر لیا کہ  ہر فلم کے ’موسیقار‘ کے  نام کے ساتھ ساتھ  ’نغمہ نگار ‘  کا  نام  بھی  نشر  ہوگا اور چھپے گا۔ 

 بچپن میں ساحر کے ذہن پر لگی ضرب نے انھیں تلخ مزاج، افسردہ، اداس بنا دیا، ان کی  خواہشات،  ان کے ارمانوں کو مانوس کردیا۔ احسا سِ کمتری اس قدر کہ ہر  مثبت سوچ میں منفی کو  ترجیح دینا ان کی فطرت میں شامل ہوا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ مارے خوف کے وہ ٹرین یا ہوائی جہاز سے سفر کرنا ٹالتے اور صرف  کار  ہی سے سفر کرنا پسند کرتے اور اپنے ساتھ ایک دوسری کار بھی رکھ  لیتے  تاکہ ایک کار میں بگاڑ آجائے تو اس  اضافی کار سے  ان کا سفر مسلسل جاری   رہے۔ ساحرشراب کے عادی بالکل بھی نہیں تھے۔ لیکن جب انھیں ’  لو  بلڈ پریشر ‘کی شکایت ہوئی تو خود  ڈاکٹر نے کچھ الکحل لینے کی اجازت انہیں دے دی۔ انھوں نے بطور  دوا  الکحل پینا شروع کیا۔ لیکن کچھ عرصہ بعد ساحر الکحل کے اس قدر عادی ہوئے کہ بعد ازاں  شراب نے ساحر کو پینا شروع کردیا۔ ساحر کو کی نایاب تخلیق  ’کبھی کبھی‘  نے سارے عالم میں  اور کم عرصہ میں اپنی  مقبولیت کی تمام  بلندیوں کو چھو لیا          ؎

کبھی کبھی مرے دل میں خیال آیا ہے

کہ زندگی تری زلفوں کی نرم چھاؤں میں

گزرنے پاتی تو، شاداب ہو بھی سکتی تھی

یہ تیرگی، جو مری زیست کا مقدر ہے

تری نظر کی شعاعوں میں، کھو بھی سکتی تھی

عجب نہ تھا کہ میں بیگانۂ الم ہوکر

ترے جمال کی رعنائیوں میں کھو رہتا

ترا گداز بدن، تیری نیم باز آنکھیں

انہی حسین فسانوں میں محو ہو رہتا

پکارتیں مجھے جب تلخیاں زمانے کی

ترے لبوں سے حلاوت کے گھونٹ پی لیتا

حیات چیختی پھرتی برہنہ سر اور میں

گھنیری زلفوں کے سائے میں چھپ کے جی لیتا

مگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے

کہ تو نہیں ترا غم نہیں، تیری جستجو بھی نہیں

گزر رہی ہے کچھ اس طرح زندگی جیسے

اسے کسی سہارے کی آرزو بھی نہیں

نہ کوئی جادہ، نہ منزل نہ روشنی کا سراغ

بھٹک رہی ہے خلاؤں میں زندگی میری

انھیں خلاؤں میں رہ جاؤں گا کبھی کھوکر

میں جانتا ہوں مری ہم نفس، مگر یوں ہی

کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے

 ساحر بمبئی میں اور امرتا پریتم دہلی میں مقیم تھیں۔ ساحر امرتا کی ملاقات کے لیے کئی دفعہ دہلی پہنچ کر دونوںکی طالبِ علمی میں ہوئی پہلی محبت کی یادوں کو آباد  و  شاداب رکھتے اور اپنی طویل نظم ’پرچھائیاں‘ میں اس کا اظہار بھی کیا ہے۔ امرتا پریتم  ایک پنجابی خاتون نے بڑی بے باکی و دلیری سے ساحر سے اپنے بے لوث، لافانی اور روحانی عشق کو سارے زمانے  کے سامنے اپنی نظم  سنہڑے ‘  اور ’رسیدی ٹکٹ ‘  میں عام کر دیا۔ امرتا کی  داستان ِ عشق میں  ’دہرہ دون کے ایک مشاعرے کے کچھ طربیہ لمحات کا ذکر کافی رومانی ہے۔ جب پریتم کو پتہ چلا کہ اس کے دل کی دھڑکن ساحر بھی اس میں مدعو ہے تو بس وہ مخبوط الحواس ہوئیں۔ موسم کی پرواہ کیے بغیر اس گاؤں پہنچ گئیں اور مشاعرے میں جب ساحرکو اپنے روبرو دیکھا تو بس دیکھتی ہی رہ گئیں۔ مشاعرے کے بعد امرتا اور ساحر دونوں نے قریب 5 کلو میٹر کا فاصلہ ایک ساتھ پیدل طے کیا۔ امرتا نے ساحر کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیااور رب سے فریاد کرتی رہی کہ یوں ہی ساحر کا ساتھ رہے اور اسی چہل قدمی میں ساری عمر بیت جائے۔اب خود امرتا کی زبانی بھی عشقیہ کلام حاضر ہے جو ساحر کی سوانح کا اہم جزو بھی ہے۔   ’’جب کبھی ساحر ، مجھ سے ملنے گھر آتا تو جیسے میری ہی خاموشی سے نکلا خاموشی کا ایک ٹکڑا میرے سامنے کرسی پر بیٹھ کر چپ چاپ سگریٹ کے کش پہ کش لگاتا، آدھی سگریٹ کو بجھا کر راکھ دانی میں رکھ دیتا اور جب میں تنہا ہوتی اور عشق کی آگ سینے میں سلگتی تو سگریٹ کے ان ٹکڑوں کو الماری سے نکال کر اپنی انگلیوں سے چھو لیتی تو بس ساحر کی انگلیوں کا لمس مجھ میں روحانی مسرت کا احساس ہوجاتا۔ یہیں سے میں سگریٹ نوشی کی عادی ہوگئی۔ ’’ ایک دن ساحر تھکا تھکایا  میرے گھر دہلی پہنچ گیا۔ میں نے جب اس کے ماتھے کو چھوا تو اسے تیز بخار تھا۔ اس کے گلے میں خشکی، سانسوں میں کھنچاؤ کی کیفیت۔  اس روز میں پیروں پر کھڑی،  پوروں سے،  انگلیوں اور، ہتھیلیوں سے اس کے چھاتی اور گلے پر  وِکس  ملتی رہی اور رب سے فریاد کرتی رہی۔   ’اسی کیف میں گُم، اسی حالت میں میری زندگی تمام ہو جائے ‘‘   ’’ 1946  میں جب میرا بیٹا میرے جسم کی آس بنا تھا۔تب میں نے اپنے خیالات اور اپنے تصّور میں ساحر کے چہرے کو بسا ئے رکھا، جسے زندگی میں نہ پاسکی۔ اسے خوابوں میں پالینے کی ایک کرشمہ ساز کوشش،جسم کا ایک آزادانہ عمل صرف روایت ہی سے نہیں خون اور نسل کی گرفت سے بھی رہائی۔ جب3 جولائی 1947 میں بچے کا جنم ہوا اور جب پہلی بار میں نے اس کی شکل دیکھی تو اپنی خلاقی پر یقین ہوا اور بچے کے واضح ہوتے ہوئے خد و خال کے ساتھ اپنا تصور واقعی ساحر کا متشکل ہوتا نظر پڑا  اور میرے بیٹے کی کی صورت سچ مچ ساحر سے ملتی تھی ‘‘

 ’’  جب مجھے  پتہ چلا کہ ساحردہلی آیا ہے۔ ساحر سے ملاقات کے لیے میں امروز کے ہمراہ  اس ہوٹل پہنچ گئی جہاں ساحررکا ہوا تھا۔گپ شپ بحث کے بعد ٹیبل پر تین گلاس میں شراب چھلک گئی، نہ میں نے اور نہ ہی امروزنے،بس ساحر اکیلا ہی پیتا رہا۔ کچھ دیر بعد ہم دونوں وہاں واپس گھر نکل گئے۔ آدھی رات قریب 12 بجے ساحر نے مجھے فون کیا۔ساحر نے اپنی اس تنہائی  میں لکھی نظم مجھے سنائی         ؎

محفل  سے اُٹھ جانے والو، تم لوگوں پر کیا  الزام  

  تم آبا د گھروں کے باسی،  میں  آوارہ اور  بد نام                                 

   تم  دنیا کو  بہتر سمجھے،  میں  پاگل  تھا  خوار  ہوا

تم کو  اپنانے  نکلا  تھا،  خود  سے بھی  بیزا ر  ہوا 

دیکھ لیا گھر پھونک تماشہ، دیکھ لیا اپنا انجام

میرے ساتھی، خالی جام

فلم فیئر ایوارڈ  یافتہ نظم ’تاج محل‘  کو ساحر نے ایک تحفے کی صورت  مجھے عطا کیا۔میں نے انمول تحفہ کو ہمیشہ اپنے  سینے سے لگا ئے محفوظ رکھا         ؎

اَن گنت  لو گوں  نے  دُنیا  میں  محبت کی  ہے

کون کہتا  ہے کہ  صادق  نہ تھے  جذبے  ان  کے  

لیکن  ان  کے   لیے تشہیر کا  سامان  نہیں

کیونکہ وہ  لوگ بھی  میری  ہی  طرح مفلس    تھے

یہ چمن زار، یہ جمنا کا کنارہ یہ محل

یہ منقش در و دیوار، یہ محراب یہ تاک

ایک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر

ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

اعزازات :  1970 گولڈ میڈل گورنمنٹ کاجج لدھیانہ، 1970 میں مہاراشٹر اسٹیٹ لٹریری ایوارڈ، 1071 میں پدم شری، 1972 سویت لینڈ نہرو ایوارڈ

 فلمی ایوارڈس   :1959تاج محل، 1964،سادھنا (عورت نے جنم دیا مردوں کو)،1977 کبھی کبھی ۔

 ہند و پاک جنگ کے بعد 1972میں ہمارے نوجوانوں نے کچھ فوجی چوکیوں کے نام ساحر کے نام پر رکھے۔  ساحر کی  ’ پنڈت نہرو ‘  پر لکھی نظم کو سِٹی پارک کرنال میں نصب کے لیے پنڈت جواہر لال نہرو کے مجسمہ کے نیچے ان کی وصیت کے ساتھ کندہ کیا گیا۔ سینا سیوا کورپس کے لیے  ’ترانہ ‘  ساحر لدھیانوی  نے لکھا۔  سول لائن لدھیانہ میں ایک سڑک کا نام  1975میں ’ساحر روڈ ‘ رکھا گیا۔

تصانیف: تلخیاں، پرچھائیاں، گاتا جائے بنجارا (گیتوں کا مجموعہ) آؤ کہ خواب بنیں، نظموں کا مجموعہ

25؍ اکتوبر کا وہ دن بھی آگیا جب  ان کی بہن انور سلطانہ ساحر کو ڈاکٹر کپور کے یہاں لے گئیں۔ اس وقت ساحر اچھے خاصے تھے۔

 ڈاکٹر سے باتیں کر رہے تھے کہ اچانک ان کا سر ڈھلک گیا اور وہ خاموش  ہوگئے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ اس طرح  چشمِ زدن میں ایک ادبی  روشن ستارہ  ٹوٹ گیا آسماں سے۔ ساحر کے لاکھوں پرستاروں، شیدائیوں اور اس کے چاہنے والوں نے نم آلود آنکھوں سے ساحر کو  الوداع کہا۔

سارے ماحول میں ساحر کا مقبول ترین نغمہ گونج اُٹھا    ؎

میں پل دو پل کا شاعر ہوں پل دو پل مری کہانی ہے

پل دو پل میری ہستی ہے پل دو پل مری جوانی ہے

مجھ سے پہلے کتنے شاعر آئے اور آکر چلے گئے

کچھ آہیں بھر کر لوٹ گئے کچھ نغمے گا کر چلے گئے

وہ بھی اک پل کا قصہ تھے میں بھی اک پل کا قصہ ہوں

کل تم سے جدا ہو جاؤں گا گو آج تمہارا حصہ ہوں

کل اور آئیں گے نغموں کی کھلتی کلیاں چننے والے

مجھ سے بہتر کہنے والے تم سے بہتر سننے والے

Dr. G M Patel

B5/402,  Bramha Majestic, NIBM Road

Kondhwa Khurd

Pune - 4110048 (MS)

Mob.: 9822 031 031