منگل، 29 نومبر، 2022

نواب یوسف علی خاں ناظم کے شعری کمالات: رضیہ پروین


نواب یوسف علی خاں ناظم ریاست رام پور کے سربراہ بھی تھے اور کہنہ مشق شاعر بھی۔ آپ کے والد نواب محمد سعید بہادر اور والدہ فتح النسا بیگم تھیں۔ آپ 5 مارچ 1816 میں پیدا ہوئے۔ آپ کی تعلیم بنارس، لکھنؤ اور دہلی میں ہوئی۔ 1840 میں والد ماجد کی مسند نشینی کے ساتھ ہی آپ بھی رام پور آگئے اور 1844 میں آپ کو گورنر جنرل کی طرف سے ولی عہد ی کا خلعت پہنایا گیا۔ مسند نشینی کے وقت آپ کی عمر 39 برس تھی۔ 10 اپریل 1855 کو مسٹر الیگزینڈر ایجنٹ ریاست و کمشنر روہیل کھنڈ نے رام پور تشریف لاکر مسند نشینی کی رسم ادا کی۔ اور اس طرح آپ باقاعدہ ریاست کا کام انجام دینے لگے۔ امتیاز علی عرشی لکھتے ہیں

’’ آپ فنون سپہ گری میں کامل دستگاہ رکھتے تھے، جسم مضبوط اور چہرہ نہایت خوش قطع تھا۔ داڑھی صاف اور مونچھیں باریک رکھتے تھے اور اس زمانے کے رواج کے مطابق اکثر رنگین وزرتار لباس زیب تن فرمایا کرتے تھے۔ ‘‘ ( مکاتیب غالب، ص2(

آپ عربی فارسی، منطق فلسفے سے خوب آگاہ تھے گفتگو بہت عمدہ کرتے تھے۔ ساتھ ہی طبیعت میں موزونیت اور سخن وری کا ذوق شروع سے ہی تھا۔ لکھنؤ میں امیر اور دہلی میں مومن، غالب اور شیفتہ جیسے بلند پایہ شعرا کی صحبت نے آپ کے ذوق شعر گوئی کو مزید جلا بخشی لیکن جب باقاعدہ شعر کہنے لگے تو مومن کی شاگردی اختیار کرلی۔ آپ صرف ایک حکمراں ہی نہیں بلکہ ایک قابل قدر اور خوش گو شاعر بھی تھے۔ اخبار الصنادید میں نجم الغنی لکھتے ہیں

’’ شعر کے نکتہ شناس تھے طبیعت موزوں تھی اردو شعر کہنے کا شوق تھا۔ مومن خاں دہلوی سے پہلے مشورۂ سخن تھا پھر مرزا نوشہ سے تلمذ ہوا اس کے بعد مرحوم منشی مظفر علی اسیر لکھنوی کو کلام دکھایا۔ سب سے آخر میںا میر مینائی سے بھی شعر و سخن میں مشورہ رہتا تھا۔ ‘‘

)ذکیہ جیلانی:کلیات ناظم، ص 22,23(

مومن کی صحبت کا اثر یہ ہوا کہ آپ نے متعدد غزلیں مومن کی زمین میں کہی مثلا ً

غیر سے دلدار خفا ہوگیا

ناوکِ بیداد خطا ہوگیا

بڑھتا گیا جو رشک تو اخلاص کم ہوا

چھینا عدو نے دوست کو یہ کیا ستم ہوا

وفا کی ہم نے اور تم نے جفا کی

تم اچھے ہم برے قدرت خدا کی

غدر کی تباہی نے عوام و خواص سبھی کومتاثر کیا شعرا کچھ بنگال، کچھ حیدر آباد، پٹیالہ اور دیگر ریاستوں کی طرف متوجہ ہونے لگے۔ نواب یوسف علی خاں نے غالب کو رام پور بلا لیا اور دو سو روپیہ ماہوار تنخواہ مقرر کردی۔ ذوق ہمیشہ شاگرد کی سنگ دلی کا رونا روتے رہے۔ نواب یوسف علی خاں ناظم کی خوش اخلاقی و قدردانی نے ملک کے ہر حصے سے شعرا اور با کمال حضرات کو رام پور آنے کی دعوت دی۔ مظفر علی اسیر، مولوی فضل الحق خیر آبادی، منیر شکوہ آبادی، امیر مینائی، داغ دہلوی، مومن وغیرہ باکمال اور فنکا راہل دانش رام پور کی شعری بزم کا حصہ بن گئے۔ نواب یوسف علی خاں مومن کے بعد غالب کی شاگردی اختیار کی اس وقت وہ یوسف تخلص رکھتے تھے مگر غالب کے رابطے میں آئے تو پتہ چلا کہ حسن اتفاق سے غالب کے بھی نوابان رام پور سے دیرینہ تعلق تھے جب نواب یوسف علی خاں نے فضل حق خیر آبادی کے مشورے سے 1857 میں غالب کے نام اپنے خط کے ساتھ ڈھائی سو روپیہ ’بہ تقریب شیرینی‘ اور کچھ کلام بہ غرض اصلاح ارسال کیا تو غالب نے اس کے جواب میں لکھا

’’میں نہیں چاہتا کہ آپ کااسم سامی اور نام نامی تخلص رہے، ناظم، عالی، انور، شوکت، نیساں ان میں سے جو پسند آئے رہنے دیجیے مگر یہ نہیں کہ خواہی مخواہی آپ ایسا ہی کریں اگر وہی تخلص منظور ہو تو بہت مبارک زیادہ حد ادب۔

تم سلامت رہو قیامت تک۔ ‘‘  (دیوان ناظم، ص نمبر  (17

اس طرح یوسف کے بجائے ناظم  تخلص پسند فرمایا۔ناظم نکتہ رس، ذہین اور شوخ طبیعت کے مالک تھے روایتی مضامین کو بھی اپنے فنکارانہ انداز بیان سے نئے نئے پہلوؤں کے ساتھ پیش کرنے کا ہنر خوب جانتے تھے سلاست و روانی اور شگفتگی ان کی شاعری کا خاص وصف ہے۔ آپ کی زبان اہل لکھنؤ اور اہل دہلی کی مشترکہ زبان ہے، جس میں گنگا جمنی تہذیب و ثقافت کا سنگم خاص طور پر دکھائی پڑتا ہے۔

کیوں کہے کوئی کہ تم نے کیا کیا

کیوں نہیں کہتے کہ ہاں اچھا کیا

چلے ہو دشت کو ناظم اگر ملے مجنوں

ذرا ہماری طرف سے بھی پیار کرلینا

ان اشعار میں ا ستاد غالب کا کچھ رنگ جھلکتا ہے۔ منشی ذو الفقار علی خاں گوہر  رام پوری لکھتے ہیں ’’ناظم نے جس قدر استاد کے رنگ کو نبھایا ہے دوسرے میں یہ مثال نہ ملے گی۔ ہمارے سامنے ذوق، داغ، مومن ، نسیم ، شیفتہ، مظفر علی اسیر، حالی، ناسخ، آتش کے شاگرد موجو دہیں مگر مومن  و نسیم  میں البتہ یک رنگی ایک حد تک ہے لیکن ایسی نہیں ہے جیسے ناظم اور غالب میں ہے۔ مومن  اور شیفتہ  میں بھی اس قدر مشابہت نہیں ہے۔ ‘‘اس طرح ناظم  کا کلام فطری اعتبار سے تو مومن کے قریب ہے مگر زبان و بیان کے لحاظ سے دیکھیں تو غالب کا رنگ نمایاں ہے۔

ہے لڑائی اب تو آؤ سامنے

صلح میں ہم سے بہت پردا کیا

میں نے جل کر بات کرنی چھوڑ دی

اس نے چپ رہنے کا بھی چرچا کیا

ناظم کی شاعری کا انفرادی رنگ اس کی شوخی و بانکپن اور معاملہ بندی ہے۔ جہاں ہجر و وصال کی تڑپ، ناز برداری کی چاہت، حسن و عشق کے معاملات لطف زبان کی مہک مکمل طور پر کلام کو پر کشش بناتی ہے۔ انھوں نے کہیں بھی اپنی انفرادیت کو مجروح نہیں ہونے دیا۔ ان کی شخصیت ہر رنگ میں اپنی جلوہ نمائی کرتی ہے۔ ناظم نے جہاں کہیں بھی رعایت لفظی سے کام لیا ہے اس کا پاس و لحاظ بھی بخوبی رکھا ہے اور یہی خصوصیت ان کے کلام کو رونق بخشتی ہے        ؎

بوسہ عارض مجھے دیتے ہوئے ڈرتا ہے کیوں

لوں گا کیا نوکِ زباں سے تیرے رخ کا، تل اٹھا

کہتے ہو سب کہ تجھ سے خفا ہوگیا ہے یار

یہ بھی کوئی بتاؤ کہ کس بات پر ہوا

رعایت الفاظ نے ان اشعار کو نہایت خوبصورت بنا دیا ہے جس سے شوخی و بانکپن اور عاشقی کی چاشنی ہمارے احساسات کو مہکا رہی ہے۔

جب گزرتی ہے شبِ ہجر، جی اٹھتا ہوں

عہدہ خورشید نے پایا ہے، مسیحائی کا

شبستاں میں رہو، باغوں میں کھیلو مجھ سے کیوں پوچھو

کہ راتیں کس طرح کٹتی ہیں دن کیسے گزرتے ہیں

ناظم کے کلام میں مومن کی طرح تمام شعری لوازمات جیسے طنزیہ انداز، نوک جھونک اور مکر شاعرانہ جیسی خصوصیات بآسانی تلاش کی جاسکتی ہیں۔ مثلاً دوست سے امید وفا پر کتنا زبردست طنز کرتے ہیں          ؎

اس سے ہے امیدِ وفا واہ واہ

خیر ہے ناظم تمھیں کیا ہوگیا

وفا کی ہم نے اور تم نے جفا کی

تم اچھے ہم برے قدرت خدا کی

ہر چند وصل غیر کا انکار جھوٹ ہے

کہنا پڑا لحاظ سے لیکن بجا مجھے

میں، اور چاہوں غیر کو، پر چاہتا ہوں یہ

پہنچے یہ چرچا کان میں ان کے کسی طرح

ناظم کے کلام میں اگرچہ فلسفیانہ تخیل، حکیمانہ انداز، محرومی سے پیدا شدہ گداز، تصوف کا رچا ہوا ذوق نہیں ملتا، بر خلاف ناظم کے یہاں رجائیت، انبساط، سرمستی اور رنگینی رچی بسی ملتی ہے۔ مگر ایسا نہیں کہ تصوف سے ان کا کلام خالی ہے۔ جب کہیں بھی فلسفیانہ مضامین باندھتے ہیں دل پر اثر کرتے ہیں۔ ان کی شاعری عشق حقیقی کے ساتھ ساتھ عشق مجازی کی ترجمان ہے            ؎

کس کس کا کروں رشک کہ اس راہِ گذر میں

ہر ذرہ مجھے دیدۂ بینا نظر آیا

آگیا دھیان میں مضمون تیری یکتائی کا

آج مطلع ہوا مصرع میری تنہائی کا

نواب یوسف علی خاں ناظم  منطق اور فلسفہ کے ماہر تھے۔ اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر پڑھتے تھے۔ شاعری عہد و ماحول میں پرورش و پروان چڑھتی ہے حالات و ماحول کی پروردہ ہوتی ہے۔ در اصل ناظم کے پاس اپنے ہر جذبہ و خواہش کا ساز و سامان میسر تھا یہی وجہ ہے کہ وہ جذبۂ محرومی سے نا آشنا تھے وہ سوز و گداز اور روح کو تڑپا دینے والا احساس نظر نہیں آتا جو اس دور کے شعرا میں شدت کے ساتھ نظر آتا ہے اس بات کا اعتراف وہ خود کرتے ہیں         ؎

فروغ اہل سخن سوزِ غم سے ہے ناظم

جلے جو نخل تو، ہیں اس کے برگ و بار چراغ

لیکن اس کے باوجود اکثر اشعار میں زبان و بیان کے اعتبار سے فکری بصیرت کی بازگشت سنائی دیتی ہے         ؎

کم سمجھتے ہیں ہم خلد سے میخانے کو

دیدۂ حور کہا چاہئے پیمانے کو

وفا شعاری ناظم یقین نہیں، نہ سہی

یہ کون شخص ہے، اس کا بھی کچھ خیال نہیں

افسانۂ مجنوں سے نہیں کم میرا قصہ

اس بات کو جانے دو کہ مشہور نہیں ہے

ناظم کے کلام میں جگہ جگہ ایسے اشعار بکھرے ہوئے ہیں جن سے نوابی شان و شوکت، حکومت اور سماجی برتری کے احساس کا اظہار ہوتا ہے۔ شاعر نے بار بار اپنی جاہ و حشم اور طاقت و مرتبے کا احساس دلایا ہے۔ باوجود اس کے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ شاعری کے لیے طبیعت کا موزوں ہونا ضروری ہے امیر و غریب کی اس میں قید نہیں         ؎

غلطی غیر کی گفتار کی دیکھی ناظم

میں جو جاتا ہوں تو کہتا ہے نواب آتے ہیں

وہ اٹھے محفل سے ناظم مجھ کو آتا دیکھ کر

اور میں سمجھا کہ اٹھتے ہیں میری تعظیم کو

کیونکہ ناظم ایک ریاست کے مالک تھے لہٰذا دولت کا نشہ، حکومت پسندی اور خود بلندی کی جھلک کلام میں پایا جانا غیرفطری نہیں۔ باوجود اس کے وہ مبتلائے ملک و مال نہیں         ؎

قاصدوں کے انعام میں بٹ جائے نہ ملک

جلد جلد میرے ناموں کے جواب آتے ہیں

ناظم یہ انتظام رعایت ہے نام کی

میں مبتلا نہیں ہوں ملک و مال کا

ناظم اپنے زمانے کی روش عام سے ہٹ کر عشق مجازی کی ڈگر پر چلے ان کا محبوب اسی دنیا کا فرد ہے جس کے ہجر میں وہ بے چین ہوجاتے ہیں لیکن جب لذت وصل کا موقع آتا ہے تاب لانا مشکل نظر آتا ہے          ؎

وصل ہے عمر فزا کاش نہ ہو شادیٔ مرگ

حشر تک زندہ ہوں بچ جاؤں اگر آج کی رات

وہی معبود ہے ناظم جو ہے محبوب اپنا

کام کچھ ہم نہ مسجد سے نہ بت خانہ سے

ناظم اپنے کلام میں نادر تشبیہات و استعارات کا استعمال بڑی نازک خیالی کے ساتھ کرتے ہیں، وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی نہایت خوش اسلوبی سے پیش کرنے کے ہنر سے واقف ہیں۔ جس کی بنا اکثر مضامین اچھوتے معلوم پڑتے ہیں جس سے کلام کی خوبی میں اضافہ ہوجاتا ہے      ؎

رشۂ شمع فروزاں ہے میری نبض طبیب

تو ہی جانے گا اگر ہاتھ لگایا تو نے

نخل وفا میں دیکھیے آتا ہے کیا ثمر

پیدا ہوئے ہیں گل کی جگہ اس شجر میں داغ

ایسی بے مثل تشبیہات و استعارات کو اگر اس طرح لطیف پیرائے میں سجایا جائے تو لذتِ کلام دوبالا ہوجاتا ہے         ؎

عیش کی ہجر میں بھی خو نہیں چھٹتی ناظم

ساغر بادۂ چراغ شبِ تنہائی ہے

شجر میں داغ، عیش کی ہجر، بادۂ چراغ شبِ تنہائی کی کیا خوبصورت تصویر کشی کی گئی ہے جو اپنے آپ میں بے حد نرالی ہے۔

اس طرح دیکھا جائے تو ناظم ایک بلند پایہ شاعر ایک کامیاب حکمراں اور علم و فن کا قدر دان نظر آتے ہیں جس کی اپنی ایک الگ شناخت ہے جن کے علم و فن اور حکمت و تدبر سے انسان دوستی کے ساتھ ساتھ شعر و ادب کا دامن بھی وسیع ہوا یہی وجہ ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کے عہد میں ’اسٹار آف انڈیا‘ کا ایک خاص آرڈر قائم ہوا تھا، جس کے تحت یکم نومبر 1861 میں الہ آباد میں ایک شاہانہ دربار منعقد کیا گیا تھا جس میںمہاراجہ گوالیار، مہاراجہ پٹیالہ، بیگم بھوپال اور نواب یوسف علی خاں بہادر ناظم کو’اسٹار آف انڈیا‘ ( ستارۂ ہند) کے تمغے سے نوازا تھا۔ رام بابو سکسینہ لکھتے ہیں

’’ نواب صاحب نے شعرائے دہلی اور لکھنؤ کو اپنے دربار میں جمع کرکے اردو شاعری کو گنگا جمنی کردیا، یعنی ان دونوں طرزوں کو ملا کر ایک نئے طرز کی بنیاد ڈالی تھی۔‘‘

) تاریخ ادب اردو، رام بابو سکسینہ، ص412(

1861میں پہلی بار ان کا دیوان شائع ہوا۔ دوسرا ایڈیشن ان کی وفات کے بعد 1869 میں شائع ہوا۔ رضا لائبریری میں ان کے دیوان کے 6 قلمی نسخے موجود ہیں۔ ان میں وہ نسخہ بھی شامل ہے جن پر غالب کے قلم کی اصلاحات ہیں۔ سب سے زیادہ اہم اور خوب صورت وہ نسخہ ہے جو خود یوسف علی خاں ناظم کی حسب ہدایت تحریر کیا گیا تھا۔ یہ مرصع نسخہ ہے، لائبریری کی انتظامیہ نے اس نسخے کو من و عن شائع کیا۔

سچ تو یہ ہے کہ ناظم کو خود اپنے شعری کمالات پر فخر تھا تبھی تو کہا ہے       ؎

جاننا نظم میں ناظم! اسے میرا پیرو

کوئی مجھ سا اگر آجائے نظر میرے بعد

وفات کے بعد آپ کا لقب فردوس مکاں ہوا۔

Razia Parveen

Assistant Professor Urdu

Govt. Grils P.G College

Rampur- 244901 (UP)

Mob.: 9457387505

 

 

 

 

 

پیر، 28 نومبر، 2022

مقدس دیوانگی کی مثال میرا بائی: حقانی القاسمی



 پریم بھکتی کے سمندر میں غرق میرا بائی بغاوت اور آزادی کا استعارہ تھی۔ نسائی احساس کی ایک حسین علامت ، عطوفت اور ایثار کا ایک رمز جس کے وجود کی ساری عبارتیں کرشن جی سے منسوب تھیں۔

میرا بائی نے کرشن کا پریم رس پی لیا تھا اس لیے ان کی شاعری میں صرف اور صرف ایک ہی آہنگ ہے اور وہ ہے کرشن کا آہنگ ۔ان کی کائنات میں صرف ایک ذات تھی اور آرزو کا ایک ہی مرکز — جس کے کئی روپ تھے کرشن ،کنہیا، کیشو، گردھر، گوپال، مرلی، مراری، ماکھن چور، من موہن، مادھو، گوبند، گوپی نندن ، گوپی ناتھ ، گوبردھن ، نند لال، شام، گھن شیام، ہری،کشن، جناردھن، دار شنئی، بنواری —میرابائی کوکرشن کے تمام روپ سے اتھاہ پریم تھا۔

میرا بائی نے عشق کے عروج کو پا لیا تھا،ان کے عشق میں تموج تھا، اضطراب تھا۔ میرا کے عشق نے اس نقطہ کو چھو لیا تھا جہاں انسانی ذہن’شونیہ‘ میں داخل ہو جاتا ہے۔ ماورائے ذہن کیفیات سے الگ ایک ایسے جزیرے میں جہاں احساس کی اضطرابی لہریں اظہار میں ڈھل کر تحیر کی سی کیفیت پیدا کرتی ہیں اور طلسم کائنات کا عقدہ و اشگاف ہو جاتا ہے۔

میرا کی محبت میں کرشن کے جذبے کی آنچ تھی اسی لیے وہ آنچ کبھی مدھم نہیں ہوئی۔ درد ہجر کے ساتھ شعلگی بڑھتی ہی گئی۔ برہ کی آگ میں وصل کی آرزو کندن کی طرح چمکتی رہی۔ اس ہجر میں سندر مدھر ملاپ تھا اور وصال میں ہجر کی آگ روشن تھی

سیاں تم بن نیند نہ آوے

پلک پلک موہے یگ سے بیتیں

چھن چھن ورہ جراوے سو

)سیاں تمھارے بغیر مجھے نیند نہیں آتی ہے۔ ایک ایک پل میرے لیے قیامت ہے اور ہر لمحہ ہجر کی آگ میں جلتی ہوں۔ —متن اور ترجمہ: پریم وانی، مرتبہ علی سردار جعفری(

رسیا بن نیند نہ آوے

نیند نہ آوے وِرہ ستائے پریم کی آنچ ڈھلاوے

بن پیا جوت مندر اندھیارا دیپک دائے نہ آوے

پیا بن میری سیج الونی

) رسیا کے بغیر نیند نہیں آتی، نیند نہ آئے برہ ستائے، پریم کی آنچ پگھلائے ،یہاں روشنی کے بغیر مندر میں اندھیرا ہے ، دیپک کام نہیں دیتا۔ پیا بغیر میری سیج سونی ہے۔— متن او رترجمہ: پریم وانی(

¡

چوڑیاں پھوروں مانگ بکھیروں

کجرا میں ڈالاروں دھوئے ری

نس باسر موہی برہ ستاوے

کل نہ پرت پل موئے ری

)میں اپنی چوڑیا ں توڑ ڈالوں گی اور مانگ مٹا ڈالوں گی اور آنکھوں سے کاجل دھو ڈالوں گی ۔ ہر پل مجھے ہجر کا درد ستا رہا ہے اور ایک لمحہ کو قرار نہیں۔— متن او رترجمہ پریم وانی(

¡

تم بن رہیو نہ جائے

جل بن کنول چند بن رجنی

ایسے تم دیکھیاں بن سجنی

آکل بنا کل دھروں رین

ورہ کلیجو کھائے

دوس نہ بھوکھ نیند نہیں رینا

)تمھارے بغیر جینا دوبھر ہے جیسے بغیر پانی کے مچھلی، بغیر چاند کے رات اداس ہوتی ہے ویسے ہی تمھارے دیدار کے بغیر سجنی کی حالت ہے۔ رات دن بے کل او رپریشان رہتی ہوں اور جدائی کلیجے کو کھائے جا رہی ہے دن کو بھوک نہیں رات کو نیند نہیں ۔— متن او رترجمہ: پریم وانی(

میرا بائی نے کرشن کی ذات میں اپنے وجود کو مدغم کر دیا تھا۔ وہ تحیر کا پیکر تھیں جن کے وجود میں تحیرات کے بحر بے کراں رواں دواں تھے۔میرا کے خارجی وجود کو اس باطنی وجود کی تلاش تھی جو کرشن سے عبارت ہے۔ میرا بائی کو اپنی شناخت کھو جانے کا نہیں بلکہ ایک نئی شناخت کے حصول کا جنون  تھا۔ کسی اور کے وجود میں اپنی شناخت کی جستجو اور اپنے وجود کو ’ذات دیگر‘ میں جذب کر دینا بہت بڑا ایثار ہے اور میرا بائی اس ایثار کی ایک مجسم تعبیر تھیں

آپ بنا موہے کچھ نہ سہاوے پر کھاں سب سنسار

)میں نے تمام دنیا دیکھ لی، تمھارے بغیر مجھے کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔— متن او رترجمہ: پریم وانی(

میرا پربھو گردھر لال بن پل چھن رہیو نہ جائے

)میرا اپنے گردھر لال کے بغیر ایک پل بھی نہیں رہ سکتی۔ — متن او رترجمہ پریم وانی (

ان بن سب جگ کھا رو لاگت اور بات سب کانچی

)ان کے بغیر ساری دنیا بے مزہ ہے اور ہر بات کچی لگتی ہے — متن او رترجمہ پریم وانی (

¡

میرا کہے پربھو برج کے باسی

تم میرے ٹھاکر میں تری داسی

(میرا کہتی ہے کہ برج کے رہنے والے میرے پربھو تم میرے مالک ہو، میں تمھاری داسی ہو۔— متن او رترجمہ پریم وانی)

¡

میرا داسی جنم جنم کی

انگ سے انگ ملا دوہو

)میرا تو جنم جنم کی داسی ہے۔ اس کے جسم سے اپنا جسم ملا دو۔ — متن او رترجمہ پریم وانی (

میرا بائی اپنے وجود میں کرشن کے ارتعاشات (Vibrations)  کو محسوس کرتی رہیں اور انہی ارتعاشات کو اظہار کی شکل عطا کی۔ میرا بائی کے نغموں میں کرشن کنہیا کی بانسری کی مقناطیسی آواز ملتی ہے ، اسی اظہار کی مقناطیسیت ہے کہ میرا بائی کے نغموں نے ابدیت حاصل کر لی کیونکہ میرا کی تخلیق میں شیرینی، سادگی اور شدت ہے جو جمالیاتی نقطۂ نظر سے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔

میرا بائی کی شخصیت میں اتنی انرجی اور توانائی تھی کہ میرا نے ہر اس زنجیر کو توڑا جس سے نسائی تشخص اور توقیر کی تحقیر ہوتی ہو۔ فرسودہ اور رجعت پسندانہ اقدار و افکار سے انکار کی بھرپورجرأت ان کے اندر تھی۔ میرا بائی کے شوہر کی وفات کے بعد جب انھیں ’ستی‘ کے لیے کہا گیا تو میرا بائی نے منع کر دیا اور صاف کہہ دیا کہ میرے شوہر تو کرشن جی ہیں۔ وہی پتی پرمیشور ہیں

میرا کے پربھو گردھر ناگر، جھک مارو سنساری

)میرے پربھو تو گردھر ہیں باقی دنیا جھک مارتی ہے (

میرا بائی نے ایک فنتاسی کو حقیقت میں بدل دیا اور پوری زندگی اسی تخیل اور تصور کے آہنگ کے ساتھ گزار دی اور بالآخر اپنے زمینی وجود کو کرشن جی کے وجود میں تحلیل کر دیا۔ اس طرح آتماکا پرماتما سے وصال مکمل ہوا۔آتماؤں کا یہ آلنگن اتنا اننت اور آنند مے تھا کہ آج تک دونوں آتمائیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔

میرا بائی کا دل صرف کرشن کے لیے دھڑکتا تھا۔ ان کی پوری شاعری میں صرف اور صرف کرشن ہیں۔ عقیدت سے بھری ہوئی شاعری جس میں منفیت کو مثبت میں تبدیل کرنے کا عمل روشن تھا۔

میرا بائی کی شاعری میں ایک سو سولہ چاند راتوں کا کیف آگیں خمار بھی ہے اور سرمستی و نشاط بھی۔ محبت کی آشفتہ سری کو میرا سے زیادہ خوبصورت زبان نہیں ملی اور نہ ہی اس سے حسین اظہار۔ محبت اپنی تمام تر کلیت کے ساتھ اور عشق اپنی تمام تر وحشت خیزی کے ساتھ میرا کی شاعری میں موجود ہے۔ میرا کی شاعری میں محبت بھی ہے، مزاحمت بھی، ساہس بھی ہے، سمرپن بھی۔ عشق کی ماورائیت اور معرفت بھی ہے۔ ان کی تخلیق کی داخلی سطح میں ایک متحرک اور توانا لہر ہے اور اس لہر کا نام ہے گردھر گوپال۔ ان کی پوری شاعری میں اسی فنتاسی کا عمل روشن ہے

بسو میرے نینن میں نند لال

میرا بائی ہمیشہ گردھر کے گیت گاتی رہیں اورکرشن کے سانولے رنگت کے لیے تڑپتی رہیں۔ بس ان کا مقدس لمس تھا جس کو پانے کی آرزو تھی، انھیں ہر چیز میں صرف کرشن جی کا جلوہ محسوس ہوتا تھا۔ درخت ہو، پہاڑ ہو، پھول ہو، آندھی ہو، نباتات ہو،جمادات ہو ہر ایک میں کرشن کا چہرہ ہی نظر آتا تھا۔ کرشن کے بغیر کائنات کا تصور ہی ممکن نہ تھا۔ کرشن جی کی مورتی کے سامنے بیٹھی ریاضت کرتیں، عبادت میں مصروف رہتیں، گیت گاتیں ہر وقت بس ایک ہی خیال کرشن جی کا اور یہی خیال یا تصور میرا بائی کے لاشعور پر اس قدر حاوی تھا کہ زندگی کے آخری لمحہ تک نکل نہ پایا۔

پہلی نگا ہ اور پہلے نقش کا معاملہ بھی عجیب ہوتا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت کا ہے جب میرا بائی چار سال کی تھیں۔ میرا بائی کے گھر کے سامنے سے شادی کا جلوس گزر رہا تھا۔ میرا نے ایک خوبصورت لباس میں ملبوس دولہا کو دیکھا اور بڑی معصومیت سے اپنی ماں سے سوال کیا۔’ پیاری ماں میرا دولہا کون ہوگا؟‘ میرا کی ماں مسکرائی اور کرشن جی کی مورتی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا’ میری ننھی منی تمھارا دولہا یہی ہوگا۔‘ میرا کی ماں کا انتقال ہو گیا تبھی سے میرا بائی کی کرشن جی کے لیے چاہت بڑھنے لگی اور میرا کو یقین ہو گیا کہ کرشن ہی ان کے شوہر ہیں۔ بچپن میں کرشن جی کی ایک مورتی کسی سادھو نے دی تھی۔ میرا بائی اسی مورتی کے ساتھ کھیلتی کودتی اور اسی کے ساتھ سوتی تھیں۔ اس طرح ایک امیج حقیقت میں بدلتی رہی اور کرشن جی ایک حقیقی وجود کی طرح میرا بائی کے حواس پر چھاتے گئے۔

میرا بائی بہت حسین تھیں۔ دور دور تک ان کے حسن کا شہرہ تھا۔ میواڑ کے مہاراجہ سنگرام سنگھ نے اپنے بیٹے بھوج راج کی شادی کی بات میرا کے دادا میڑتا ریاست کے بانی راؤ دودا کے سامنے رکھی تو دادا راضی ہو گئے مگر میرا کی مرضی اس میں شامل نہیں تھی۔ اسی وقت کرشن جی خواب میں آئے انھوں نے کہا کہ ’گوپیکائیں اپنے شوہروں اور اپنے خاندان کی  ذمہ داریاں ادا کر سکتی ہیں اور میرے ساتھ بھی رہ سکتی ہیں۔‘ میرا کی شادی چودہ سال مکمل ہونے سے قبل ہی رانا سے ہو گئی مگر میرا ہمیشہ کرشن کی عبادت میں مصروف رہتیں اور ان کی مورتی کے سامنے رقص کرتی رہتیں۔ اسے دیکھ کر محل کی خواتین میں میرا کے خلاف سرگوشیاں شروع ہو گئیں، یہ بات گشت کرنے لگی کہ میرا کا کسی اور کے ساتھ خفیہ رشتہ ہے۔ میرا کی دیورانی نے ایک بار اپنے بھائی سے کہا کہ میرا مندر میں اپنے عاشق سے بات کرتی ہے۔ اتفاق سے رانا کو اس مند ر میں لے جایا گیا تب اس نے مندر کا دروازہ کھولا تو دیکھا کہ میرا وجدانی حالت میں مورتی سے باتیں کر رہی ہے اور گیت گا رہی ہے۔ رانا چیخا کہ میرا مجھے اپنا وہ محبوب دکھاؤ جس سے تم باتیں کر رہی تھیں۔ میرا نے کہا یہ مورتی میرا محبوب ہے۔ اس طرح کرشن جی کی محبت شدت اختیار کرتی گئی۔ میرا بائی نے مارواڑ ، میواڑ اور اپنا گھر بار چھوڑا اور برنداون کی راہ لی مگر اس سے پہلے اپنے گرو تلسی داس سے پوچھا تو انھوں نے یہی کہا کہ تم اپنا گھر بار چھوڑ کر چلی جاؤ چاہے کتنے بھی قریبی رشتے دار ہوں، جیسے پرہلاد نے اپنے باپ کو چھوڑ دیا تھا، وبھیشن نے اپنے بھائی راون کو چھوڑ دیا اور بھرت نے اپنی سوتیلی ماں کو چھوڑ دیا تھا اور برج کی عورتوں نے کرشن کے لیے اپنے شوہروں کو چھوڑ دیا تھا۔

میرا بائی کی راہ میں بہت سی صعوبتیں آئیں مگر حوصلہ مند میرا نے کسی کی پرواہ نہیں کی۔ ان کے ذہن میں صرف ایک ہی جنون سوار تھا کرشن سے وصال کا۔ چنانچہ وہ برنداون پہنچیں ۔ برنداون میں ان کی روح کی دنیا بدل گئی۔ برنداون میں انھوں نے جیوگوسوامی سے درشن کی درخواست کی تو انھوں نے کہا کہ وہ کسی عورت سے ملنا پسند نہیں کرتے۔ میرا نے کہا کہ میں تو سمجھتی تھی کہ برنداون میں صرف گردھر گوپال ہی پرش ہیں۔ آج مجھے معلوم ہوا کہ برنداون میں کرشن کے علاوہ بھی کوئی پرش ہے۔ جیوگوسوامی کو شرمندگی محسوس ہوئی اور انھیں احساس ہوا کہ میرا کرشن کی پرم بھکت ہیں اور بھکتی سادھنا کی بلندی تک پہنچی ہوئی ہیں۔

میرا برنداون کے مندروں میں گیت گاتی رہیں، رقص کرتی رہیں— جب ان کی شہرت رانا تک پہنچی تو رانا بھی برندا ون آئے اور میرا سے اصرار کیا مگر میرا نے کہا رانا جی یہ جسم تمھارا ہے مگر میرا ذہن ، جذبہ اور روح کرشن کا ہے اور پھر اچانک غائب ہو گئیں اور چلانے لگیں گردھر بلا رہے ہیں میں آ رہی ہوں۔ لوگوں نے دیکھا کہ ایک روشنی سی ہوئی اور جب دروازہ دوبارہ کھلا تو میرا کی ساڑی کرشن کی مورتی سے لپٹی ہوئی تھی ۔

میرا بائی ایک شہزادی تھیں مگر اپنی ساری مسرتوں کو تیاگ دیا اور ویراگیہ کی زندگی اختیار کر لی۔ محل کو چھوڑ کر مندر میں پناہ لی۔ جوگنی کی طرح پیلے کپڑے پہننے لگیں—ہر وقت گردھر گوپال کے گیت گاتی رہتی صرف ایک نام تھا گردھر گوپال جو ہمیشہ ورد زبان رہتا ۔

مورے تو گردھر گوپال دوسرو نہ کوئی

ماتا چھوڑی، پتا چھوڑے چھوڑے سگا سوئی

ساندھا سنگ بیٹھ بیٹھ لوک لاج کھوئی

سنت دیکھ دوڑی آئی، جگت دیکھ لائی

پریم آنسو ڈار ڈار امربیل ہوئی

)گردھر گوپال کے سوا اور کون ہے جسے میں اپنا کہوں، ان کے لیے ماں باپ عزیز، اقارب سب کو چھوڑ آئی اور سادھوؤں کے ساتھ بیٹھ بیٹھ کر اپنی دنیاوی شرم و حیا بھی ترک کردی ۔ جب کوئی سنت دکھائی دیا تو دوڑ کر اس کے ساتھ ہولی اور جب دنیا سامنے آئی تو رونے لگی۔ میں نے محبت کے آنسوؤں سے عشق کی امر بیل کو سینچا ہے۔ —متن اور ترجمہ : پریم وانی(

                ¡

میں گردھر کے گھر جاؤں

گردھر مہارو سانچو پریتم

دیکھت روپ لبھاؤں

رین پڑے بن ہی اٹھ جاؤں

بھور بیٹھے آٹھ آؤں

رین دِ ناوا کے سنگ کھیلوں

جیوں توں نہ ہی مرجھاؤں

بھور بھئے اٹھ آؤں

جو پہراوے سوہی پہیروں

جو دے سوئی کھاؤں

میری ان کی پریت پرانی

ان بن پل نہ رہاؤں

جنہاں بٹھاوے تت ہی بیٹھوں

بیچے تو بک جاؤں

میرا کے پربھو گردھر ناگر

بار بار بلی جاؤں

)میں گردھر کے گھر جاتی ہوں۔ گردھر میرا سچا پریتم ہے جس کا حسن دیکھ کر میرا دل خوش ہو جاتا ہے۔ رات ہوتے ہی میں اٹھ کر چلی جاتی ہوں او ربھور ہوتے ہی اٹھ کر چلی آتی ہوں۔ رات دن اس کے ساتھ کھیلتی ہوں اور ہر ممکن طریقے سے اسے رجھاتی ہوں۔ جو وہ پہناتا ہے وہی پہنتی ہوں، جو دیتا ہے وہی کھاتی ہوں۔ میری ان کی محبت پرانی ہے۔ ان کے بغیر ایک پل نہیں رہ سکتی۔ وہ جہاں بٹھائے گا وہیں بیٹھ جاؤں گی اور اگر بیچے گا تو بک جاؤں گی۔ میرا پربھو گردھر ناگر ان پر بار بار قربان جاؤں۔ —متن اور ترجمہ پریم وانی(

میرا بائی نے بہت سے نغمے لکھے مقدس نغمے جو ہمارا روحانی ورثہ ہیں جس میں دو متضاد لہروں کا امتزاج ہے، جدائی کا درد اور مقدس ملن کی مسرت۔ ان کی پوری شاعری شرنگار رس کی شاعری ہے ۔

سولہویں صدی عیسوی میں راجستھان کے میواڑ کے گاؤں کر کھی میں پیدا ہونے والی میرا کے نصیب میں رانی بننا لکھا تھا مگر اس نے رانی بننے کے بجائے ریاضت کو ترجیح دی اور آج وہ ایک بھکتی کی شاعرہ کی حیثیت سے عالمی سطح پر جانی جاتی ہیں۔ جنھوں نے پچھلے پہر کی آہٹوں کو اظہار کا وہ حسن عطا کیا ہے جس حسن کا نہ کوئی ثانی ہے اور نہ کوئی نظیر۔ ایک لازوال روحانی نغمہ جو برندا ن کی فضاؤں سے نکل کر پوری دنیا میں پھیل رہا ہے اور اس نغمے میں اس قدر نشاط ہے کہ دنیا بھر کی عورتیں ان نغموں کے ذریعے مکتی کا راستہ تلاش کرتی ہیں کہ ان نغموں میں کرشن کی بانسری کی آواز ہے اور کرشن کی بانسری جب بجتی ہے تو ہرطرف دیوانگی چھا جاتی ہے۔ شاید دنیا اسی رقص دیوانگی سے روشن ہے اور یہی دیوانگی اور حقیقی عشق تو وجود کی کلیت کا استعارہ ہے ، عشق بیل جب کسی وجود سے لپٹتی ہے تو فنا کر دیتی ہے۔ عشق تو فنائی جذبے کا نام ہے۔ عشق وہ ہے جو میرا بائی نے گردھر ناگر سے کیا ہے۔ جس کے تصور میں کھوئی کھوئی سی ہر شئے میں انہی کا جلوہ انہی کا نور دیکھتی رہی۔ رنگین چولی اتار کر کھر دری لوئی اوڑھ لی۔ موتیوں اور مونگوں کے ہار اتار کر جنگلی پھولوں کی مالا پہن لی۔ پاؤں میں محبت کے کھنگھر و اور بدن پہ یادوں کا لباس زیب کر کے کرشن کی یاد میں ہمیشہ مگن رہی ۔ میرا بائی کو راج نہیں ریاضت سے، تاج نہیں تپسیا سے لگاؤ تھا۔ اس لیے عرفان محبت نے انھیں اس حقیقت کا ادراک کرایا کہ :

کرنا پھکیری پھر کیا دلگیری

سدا مگن میں رہنا جی

کوئی دن گاڑی کوئی دن بنگلہ

کوئی دن جنگل بسنا جی

کوئی دن ہستی نے کوئی دن گھوڑا

کوئی دن پاؤں چلنا جی

کوئی دن کھا جائے کوئی دن لاڈو

کوئی دن فاکم فاکا جی

) جب فقیری ہی کرنا ہے تو پھر رنج کیا، ہمیشہ مگن رہنا چاہیے۔ کسی دن گاڑی پر سفر میں، کسی دن جھونپڑے میں، کسی دن جنگل میں، کسی دن ہاتھی پر چلنا، کسی دن گھوڑے پر اور کسی دن پیدل ۔ کسی دن کھاجا لڈو کھانا اور کسی دن فاقہ کر لینا۔—متن اور ترجمہ پریم وانی (

 جنم جنم کی داسی میرا بائی نے کرشن کے عشق کی شراب پی لی تھی اور ہری کے رنگ میں رنگ کر بس یہی کہتی رہی

تارا گن گن رین ویھانی سکھ کی گھڑی کب آوے

)میں تارے گن گن کر رات گزارتی ہوں، آخر سکھ کی گھڑی کب آئے گی(

گھر آنگن نہ سہاوے پیا بن موہی نہ بھاوے

پیا پردیس رھاوے

سونی سیج جہر جیوں لاگے

سسک سسک جیا جاوے

نیند نندرا نہیں آوے

)گھر آنگن اچھا نہیں لگتا، پیا کے بغیر من نہیں لگتا۔ پیا پردیس میں ہے ۔ سونی سیج زہر جیسی لگتی ہے۔ سسک سسک کر جان جا رہی ہے۔ نیند بھی نہیں آتی ہے۔ (

میرا کے اسی نغمہ ، ہجر و جدائی نے پوری دنیا سے وصال کی راہ ہموار کی۔ کائنات کے ہر حساس ذہن سے میرا کے نغمہ کا رشتہ جڑ گیا ۔ اسی لیے اہل نظر کہتے ہیں کہ دنیا نے دو ایسی شاعرات دیے ہیں جن سے محبت کرنے والے ہر زبان، ہر قوم او رہر کونے میں موجود ہیں۔ ایک یونا ن کی سیفو، دوسری ہندوستان کی میرا بائی جس کے بارے میں صفدر آہ کا خیال ہے کہ ’میرا بائی سے بڑی شاعرہ ہندوستان کی سرزمین پیدا نہیں کر سکی‘ ۔

میرا کے عشق کی زبان سے اردو بھی ناآشنا نہیں ہے۔ اہل اردو نے بھی میرا سے اپنی وارفتگی اور شیفتگی کا ثبوت  دیا ہے اور ان کی تخلیقی جمالیات اور جمالیاتی تخیل کو اپنے شعور کا حصہ بھی بنایا ہے۔ ممتاز ترقی پسند ادیب و شاعر علی سردار جعفری نے جہاں ’پریم وانی‘ (مطبوعہ آج کی کتابیں، کراچی،2009) کے ذریعہ میرابائی کے نغمہ ایثار و وفا کو اردو روپ دے کر میرا بائی کو ہمارے ذہنو ںمیں زندہ و تابندہ کیا اور کلام میرا کی تفہیم کی راہیں آسان کی ہیں وہیں ڈاکٹر ثروت خاں نے میرا بائی کی دیوانگی اور جذبہ عشق کو خراج محبت پیش کرنے کے لیے ’ میرا فن اور شخصیت‘ کے عنوان سے ایک کتاب ترتیب دی جس میں میرا بائی کی حیات اور شاعری پر بہت وقیع مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ پروفیسر قمر رئیس، پروفیسر نند چترویدی کے خطبات کے علاوہ پروفیسر محمد عقیل رضوی ، پروفیسر کلیان سنگھ شیخاوت ، شاہد ماہلی، علی احمد فاطمی، نگار عظیم ، منجو چترویدی، کلثوم بانو، ثروت خاں، نرملا شاہ، شوبھا دیو پرا، رتو متھارو، چندر کانتا بنسل، تسنیم خانم، غلام آسی رشیدی، ڈاکٹر فرغانہ، محمد افضل، صفدر آہ، لطیف اللہ، سید ثاقب حسن رضوی، شمس کنول، خلیل تنویر، صادقہ نواب سحر اور افتخار امام صدیقی کی بیش قیمت تحریریں شامل ہیں۔ شاید میرا بائی پر اردو میں یہ پہلی کتاب ہے۔

ان کے علاوہ ہاشم رضا جلالپوری نے بھی میرا کے بھجنوں اور پدوں کو اردو کا منظوم روپ دیا ہے۔ یہ کتاب میرا بائی اردو شاعری میں (نغمہ عشق ووفا) کے عنوان سے 2019 میں شائع ہوئی ہے۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے فیض یافتہ ہاشم رضا جلالپوری نے میرا بائی کے جذبات و احساسات کو بہت خوبصورت شعری پیکر میں ڈھالا ہے۔

اردو کے معروف ادیب، شاعر اور صحافی فاروق ارگلی نے میرا بائی کی حیات پر بہت ہی عمدہ ڈکیوومنٹری بنائی ہے ۔ جس میں میرا بائی کے تمام آثار کے احاطے کے ساتھ ان کے بھجنو ںکی خصوصی موسیقی ترتیب دی گئی ہے۔ اردو میں میرا بائی پر اپنی نوعیت کی پہلی دستاویزی فلم ہے۔ یہ فلم امریکن شہری جناب ظفریاب ابراہیم کی کمپنیCrispus International (INC)کی جانب سے تیار کی گئی ہے اور فی الحال Amazon Prime پر امریکہ اور یورپ میں دکھائی جا رہی ہے۔

Cell:9891726444

haqqanialqasmi@gmail.com