نواب یوسف علی خاں ناظم کے شعری کمالات: رضیہ پروین


نواب یوسف علی خاں ناظم ریاست رام پور کے سربراہ بھی تھے اور کہنہ مشق شاعر بھی۔ آپ کے والد نواب محمد سعید بہادر اور والدہ فتح النسا بیگم تھیں۔ آپ 5 مارچ 1816 میں پیدا ہوئے۔ آپ کی تعلیم بنارس، لکھنؤ اور دہلی میں ہوئی۔ 1840 میں والد ماجد کی مسند نشینی کے ساتھ ہی آپ بھی رام پور آگئے اور 1844 میں آپ کو گورنر جنرل کی طرف سے ولی عہد ی کا خلعت پہنایا گیا۔ مسند نشینی کے وقت آپ کی عمر 39 برس تھی۔ 10 اپریل 1855 کو مسٹر الیگزینڈر ایجنٹ ریاست و کمشنر روہیل کھنڈ نے رام پور تشریف لاکر مسند نشینی کی رسم ادا کی۔ اور اس طرح آپ باقاعدہ ریاست کا کام انجام دینے لگے۔ امتیاز علی عرشی لکھتے ہیں

’’ آپ فنون سپہ گری میں کامل دستگاہ رکھتے تھے، جسم مضبوط اور چہرہ نہایت خوش قطع تھا۔ داڑھی صاف اور مونچھیں باریک رکھتے تھے اور اس زمانے کے رواج کے مطابق اکثر رنگین وزرتار لباس زیب تن فرمایا کرتے تھے۔ ‘‘ ( مکاتیب غالب، ص2(

آپ عربی فارسی، منطق فلسفے سے خوب آگاہ تھے گفتگو بہت عمدہ کرتے تھے۔ ساتھ ہی طبیعت میں موزونیت اور سخن وری کا ذوق شروع سے ہی تھا۔ لکھنؤ میں امیر اور دہلی میں مومن، غالب اور شیفتہ جیسے بلند پایہ شعرا کی صحبت نے آپ کے ذوق شعر گوئی کو مزید جلا بخشی لیکن جب باقاعدہ شعر کہنے لگے تو مومن کی شاگردی اختیار کرلی۔ آپ صرف ایک حکمراں ہی نہیں بلکہ ایک قابل قدر اور خوش گو شاعر بھی تھے۔ اخبار الصنادید میں نجم الغنی لکھتے ہیں

’’ شعر کے نکتہ شناس تھے طبیعت موزوں تھی اردو شعر کہنے کا شوق تھا۔ مومن خاں دہلوی سے پہلے مشورۂ سخن تھا پھر مرزا نوشہ سے تلمذ ہوا اس کے بعد مرحوم منشی مظفر علی اسیر لکھنوی کو کلام دکھایا۔ سب سے آخر میںا میر مینائی سے بھی شعر و سخن میں مشورہ رہتا تھا۔ ‘‘

)ذکیہ جیلانی:کلیات ناظم، ص 22,23(

مومن کی صحبت کا اثر یہ ہوا کہ آپ نے متعدد غزلیں مومن کی زمین میں کہی مثلا ً

غیر سے دلدار خفا ہوگیا

ناوکِ بیداد خطا ہوگیا

بڑھتا گیا جو رشک تو اخلاص کم ہوا

چھینا عدو نے دوست کو یہ کیا ستم ہوا

وفا کی ہم نے اور تم نے جفا کی

تم اچھے ہم برے قدرت خدا کی

غدر کی تباہی نے عوام و خواص سبھی کومتاثر کیا شعرا کچھ بنگال، کچھ حیدر آباد، پٹیالہ اور دیگر ریاستوں کی طرف متوجہ ہونے لگے۔ نواب یوسف علی خاں نے غالب کو رام پور بلا لیا اور دو سو روپیہ ماہوار تنخواہ مقرر کردی۔ ذوق ہمیشہ شاگرد کی سنگ دلی کا رونا روتے رہے۔ نواب یوسف علی خاں ناظم کی خوش اخلاقی و قدردانی نے ملک کے ہر حصے سے شعرا اور با کمال حضرات کو رام پور آنے کی دعوت دی۔ مظفر علی اسیر، مولوی فضل الحق خیر آبادی، منیر شکوہ آبادی، امیر مینائی، داغ دہلوی، مومن وغیرہ باکمال اور فنکا راہل دانش رام پور کی شعری بزم کا حصہ بن گئے۔ نواب یوسف علی خاں مومن کے بعد غالب کی شاگردی اختیار کی اس وقت وہ یوسف تخلص رکھتے تھے مگر غالب کے رابطے میں آئے تو پتہ چلا کہ حسن اتفاق سے غالب کے بھی نوابان رام پور سے دیرینہ تعلق تھے جب نواب یوسف علی خاں نے فضل حق خیر آبادی کے مشورے سے 1857 میں غالب کے نام اپنے خط کے ساتھ ڈھائی سو روپیہ ’بہ تقریب شیرینی‘ اور کچھ کلام بہ غرض اصلاح ارسال کیا تو غالب نے اس کے جواب میں لکھا

’’میں نہیں چاہتا کہ آپ کااسم سامی اور نام نامی تخلص رہے، ناظم، عالی، انور، شوکت، نیساں ان میں سے جو پسند آئے رہنے دیجیے مگر یہ نہیں کہ خواہی مخواہی آپ ایسا ہی کریں اگر وہی تخلص منظور ہو تو بہت مبارک زیادہ حد ادب۔

تم سلامت رہو قیامت تک۔ ‘‘  (دیوان ناظم، ص نمبر  (17

اس طرح یوسف کے بجائے ناظم  تخلص پسند فرمایا۔ناظم نکتہ رس، ذہین اور شوخ طبیعت کے مالک تھے روایتی مضامین کو بھی اپنے فنکارانہ انداز بیان سے نئے نئے پہلوؤں کے ساتھ پیش کرنے کا ہنر خوب جانتے تھے سلاست و روانی اور شگفتگی ان کی شاعری کا خاص وصف ہے۔ آپ کی زبان اہل لکھنؤ اور اہل دہلی کی مشترکہ زبان ہے، جس میں گنگا جمنی تہذیب و ثقافت کا سنگم خاص طور پر دکھائی پڑتا ہے۔

کیوں کہے کوئی کہ تم نے کیا کیا

کیوں نہیں کہتے کہ ہاں اچھا کیا

چلے ہو دشت کو ناظم اگر ملے مجنوں

ذرا ہماری طرف سے بھی پیار کرلینا

ان اشعار میں ا ستاد غالب کا کچھ رنگ جھلکتا ہے۔ منشی ذو الفقار علی خاں گوہر  رام پوری لکھتے ہیں ’’ناظم نے جس قدر استاد کے رنگ کو نبھایا ہے دوسرے میں یہ مثال نہ ملے گی۔ ہمارے سامنے ذوق، داغ، مومن ، نسیم ، شیفتہ، مظفر علی اسیر، حالی، ناسخ، آتش کے شاگرد موجو دہیں مگر مومن  و نسیم  میں البتہ یک رنگی ایک حد تک ہے لیکن ایسی نہیں ہے جیسے ناظم اور غالب میں ہے۔ مومن  اور شیفتہ  میں بھی اس قدر مشابہت نہیں ہے۔ ‘‘اس طرح ناظم  کا کلام فطری اعتبار سے تو مومن کے قریب ہے مگر زبان و بیان کے لحاظ سے دیکھیں تو غالب کا رنگ نمایاں ہے۔

ہے لڑائی اب تو آؤ سامنے

صلح میں ہم سے بہت پردا کیا

میں نے جل کر بات کرنی چھوڑ دی

اس نے چپ رہنے کا بھی چرچا کیا

ناظم کی شاعری کا انفرادی رنگ اس کی شوخی و بانکپن اور معاملہ بندی ہے۔ جہاں ہجر و وصال کی تڑپ، ناز برداری کی چاہت، حسن و عشق کے معاملات لطف زبان کی مہک مکمل طور پر کلام کو پر کشش بناتی ہے۔ انھوں نے کہیں بھی اپنی انفرادیت کو مجروح نہیں ہونے دیا۔ ان کی شخصیت ہر رنگ میں اپنی جلوہ نمائی کرتی ہے۔ ناظم نے جہاں کہیں بھی رعایت لفظی سے کام لیا ہے اس کا پاس و لحاظ بھی بخوبی رکھا ہے اور یہی خصوصیت ان کے کلام کو رونق بخشتی ہے        ؎

بوسہ عارض مجھے دیتے ہوئے ڈرتا ہے کیوں

لوں گا کیا نوکِ زباں سے تیرے رخ کا، تل اٹھا

کہتے ہو سب کہ تجھ سے خفا ہوگیا ہے یار

یہ بھی کوئی بتاؤ کہ کس بات پر ہوا

رعایت الفاظ نے ان اشعار کو نہایت خوبصورت بنا دیا ہے جس سے شوخی و بانکپن اور عاشقی کی چاشنی ہمارے احساسات کو مہکا رہی ہے۔

جب گزرتی ہے شبِ ہجر، جی اٹھتا ہوں

عہدہ خورشید نے پایا ہے، مسیحائی کا

شبستاں میں رہو، باغوں میں کھیلو مجھ سے کیوں پوچھو

کہ راتیں کس طرح کٹتی ہیں دن کیسے گزرتے ہیں

ناظم کے کلام میں مومن کی طرح تمام شعری لوازمات جیسے طنزیہ انداز، نوک جھونک اور مکر شاعرانہ جیسی خصوصیات بآسانی تلاش کی جاسکتی ہیں۔ مثلاً دوست سے امید وفا پر کتنا زبردست طنز کرتے ہیں          ؎

اس سے ہے امیدِ وفا واہ واہ

خیر ہے ناظم تمھیں کیا ہوگیا

وفا کی ہم نے اور تم نے جفا کی

تم اچھے ہم برے قدرت خدا کی

ہر چند وصل غیر کا انکار جھوٹ ہے

کہنا پڑا لحاظ سے لیکن بجا مجھے

میں، اور چاہوں غیر کو، پر چاہتا ہوں یہ

پہنچے یہ چرچا کان میں ان کے کسی طرح

ناظم کے کلام میں اگرچہ فلسفیانہ تخیل، حکیمانہ انداز، محرومی سے پیدا شدہ گداز، تصوف کا رچا ہوا ذوق نہیں ملتا، بر خلاف ناظم کے یہاں رجائیت، انبساط، سرمستی اور رنگینی رچی بسی ملتی ہے۔ مگر ایسا نہیں کہ تصوف سے ان کا کلام خالی ہے۔ جب کہیں بھی فلسفیانہ مضامین باندھتے ہیں دل پر اثر کرتے ہیں۔ ان کی شاعری عشق حقیقی کے ساتھ ساتھ عشق مجازی کی ترجمان ہے            ؎

کس کس کا کروں رشک کہ اس راہِ گذر میں

ہر ذرہ مجھے دیدۂ بینا نظر آیا

آگیا دھیان میں مضمون تیری یکتائی کا

آج مطلع ہوا مصرع میری تنہائی کا

نواب یوسف علی خاں ناظم  منطق اور فلسفہ کے ماہر تھے۔ اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر پڑھتے تھے۔ شاعری عہد و ماحول میں پرورش و پروان چڑھتی ہے حالات و ماحول کی پروردہ ہوتی ہے۔ در اصل ناظم کے پاس اپنے ہر جذبہ و خواہش کا ساز و سامان میسر تھا یہی وجہ ہے کہ وہ جذبۂ محرومی سے نا آشنا تھے وہ سوز و گداز اور روح کو تڑپا دینے والا احساس نظر نہیں آتا جو اس دور کے شعرا میں شدت کے ساتھ نظر آتا ہے اس بات کا اعتراف وہ خود کرتے ہیں         ؎

فروغ اہل سخن سوزِ غم سے ہے ناظم

جلے جو نخل تو، ہیں اس کے برگ و بار چراغ

لیکن اس کے باوجود اکثر اشعار میں زبان و بیان کے اعتبار سے فکری بصیرت کی بازگشت سنائی دیتی ہے         ؎

کم سمجھتے ہیں ہم خلد سے میخانے کو

دیدۂ حور کہا چاہئے پیمانے کو

وفا شعاری ناظم یقین نہیں، نہ سہی

یہ کون شخص ہے، اس کا بھی کچھ خیال نہیں

افسانۂ مجنوں سے نہیں کم میرا قصہ

اس بات کو جانے دو کہ مشہور نہیں ہے

ناظم کے کلام میں جگہ جگہ ایسے اشعار بکھرے ہوئے ہیں جن سے نوابی شان و شوکت، حکومت اور سماجی برتری کے احساس کا اظہار ہوتا ہے۔ شاعر نے بار بار اپنی جاہ و حشم اور طاقت و مرتبے کا احساس دلایا ہے۔ باوجود اس کے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ شاعری کے لیے طبیعت کا موزوں ہونا ضروری ہے امیر و غریب کی اس میں قید نہیں         ؎

غلطی غیر کی گفتار کی دیکھی ناظم

میں جو جاتا ہوں تو کہتا ہے نواب آتے ہیں

وہ اٹھے محفل سے ناظم مجھ کو آتا دیکھ کر

اور میں سمجھا کہ اٹھتے ہیں میری تعظیم کو

کیونکہ ناظم ایک ریاست کے مالک تھے لہٰذا دولت کا نشہ، حکومت پسندی اور خود بلندی کی جھلک کلام میں پایا جانا غیرفطری نہیں۔ باوجود اس کے وہ مبتلائے ملک و مال نہیں         ؎

قاصدوں کے انعام میں بٹ جائے نہ ملک

جلد جلد میرے ناموں کے جواب آتے ہیں

ناظم یہ انتظام رعایت ہے نام کی

میں مبتلا نہیں ہوں ملک و مال کا

ناظم اپنے زمانے کی روش عام سے ہٹ کر عشق مجازی کی ڈگر پر چلے ان کا محبوب اسی دنیا کا فرد ہے جس کے ہجر میں وہ بے چین ہوجاتے ہیں لیکن جب لذت وصل کا موقع آتا ہے تاب لانا مشکل نظر آتا ہے          ؎

وصل ہے عمر فزا کاش نہ ہو شادیٔ مرگ

حشر تک زندہ ہوں بچ جاؤں اگر آج کی رات

وہی معبود ہے ناظم جو ہے محبوب اپنا

کام کچھ ہم نہ مسجد سے نہ بت خانہ سے

ناظم اپنے کلام میں نادر تشبیہات و استعارات کا استعمال بڑی نازک خیالی کے ساتھ کرتے ہیں، وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی نہایت خوش اسلوبی سے پیش کرنے کے ہنر سے واقف ہیں۔ جس کی بنا اکثر مضامین اچھوتے معلوم پڑتے ہیں جس سے کلام کی خوبی میں اضافہ ہوجاتا ہے      ؎

رشۂ شمع فروزاں ہے میری نبض طبیب

تو ہی جانے گا اگر ہاتھ لگایا تو نے

نخل وفا میں دیکھیے آتا ہے کیا ثمر

پیدا ہوئے ہیں گل کی جگہ اس شجر میں داغ

ایسی بے مثل تشبیہات و استعارات کو اگر اس طرح لطیف پیرائے میں سجایا جائے تو لذتِ کلام دوبالا ہوجاتا ہے         ؎

عیش کی ہجر میں بھی خو نہیں چھٹتی ناظم

ساغر بادۂ چراغ شبِ تنہائی ہے

شجر میں داغ، عیش کی ہجر، بادۂ چراغ شبِ تنہائی کی کیا خوبصورت تصویر کشی کی گئی ہے جو اپنے آپ میں بے حد نرالی ہے۔

اس طرح دیکھا جائے تو ناظم ایک بلند پایہ شاعر ایک کامیاب حکمراں اور علم و فن کا قدر دان نظر آتے ہیں جس کی اپنی ایک الگ شناخت ہے جن کے علم و فن اور حکمت و تدبر سے انسان دوستی کے ساتھ ساتھ شعر و ادب کا دامن بھی وسیع ہوا یہی وجہ ہے کہ ملکہ وکٹوریہ کے عہد میں ’اسٹار آف انڈیا‘ کا ایک خاص آرڈر قائم ہوا تھا، جس کے تحت یکم نومبر 1861 میں الہ آباد میں ایک شاہانہ دربار منعقد کیا گیا تھا جس میںمہاراجہ گوالیار، مہاراجہ پٹیالہ، بیگم بھوپال اور نواب یوسف علی خاں بہادر ناظم کو’اسٹار آف انڈیا‘ ( ستارۂ ہند) کے تمغے سے نوازا تھا۔ رام بابو سکسینہ لکھتے ہیں

’’ نواب صاحب نے شعرائے دہلی اور لکھنؤ کو اپنے دربار میں جمع کرکے اردو شاعری کو گنگا جمنی کردیا، یعنی ان دونوں طرزوں کو ملا کر ایک نئے طرز کی بنیاد ڈالی تھی۔‘‘

) تاریخ ادب اردو، رام بابو سکسینہ، ص412(

1861میں پہلی بار ان کا دیوان شائع ہوا۔ دوسرا ایڈیشن ان کی وفات کے بعد 1869 میں شائع ہوا۔ رضا لائبریری میں ان کے دیوان کے 6 قلمی نسخے موجود ہیں۔ ان میں وہ نسخہ بھی شامل ہے جن پر غالب کے قلم کی اصلاحات ہیں۔ سب سے زیادہ اہم اور خوب صورت وہ نسخہ ہے جو خود یوسف علی خاں ناظم کی حسب ہدایت تحریر کیا گیا تھا۔ یہ مرصع نسخہ ہے، لائبریری کی انتظامیہ نے اس نسخے کو من و عن شائع کیا۔

سچ تو یہ ہے کہ ناظم کو خود اپنے شعری کمالات پر فخر تھا تبھی تو کہا ہے       ؎

جاننا نظم میں ناظم! اسے میرا پیرو

کوئی مجھ سا اگر آجائے نظر میرے بعد

وفات کے بعد آپ کا لقب فردوس مکاں ہوا۔

Razia Parveen

Assistant Professor Urdu

Govt. Grils P.G College

Rampur- 244901 (UP)

Mob.: 9457387505

 

 

 

 

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں