بدھ، 31 جولائی، 2019

حالی کی شخصیت خودنوشت اور مکاتیب کے آئینہ میں مضمون نگار: ثنا کوثر




حالی کی شخصیت خودنوشت اور مکاتیب کے آئینہ میں


 ثنا کوثر
اٹھارویں صدی اردو ادب کی ترقی کا دور ہے۔اس صدی میں کہانی، داستان، مثنوی، شہر آشوب اور غزل وغیرہ کا چلن عام تھا۔ انیسویں صدی نے اردو ادب کو دیگر تحریکات کے ذریعے نئی نئی صنفوں سے روشناس کرایا۔ داستان سے ناول اور ناول سے افسانہ وجود میں آیا۔ اسی طرح شاعری میں غزل کے موضوعات میں بھی تبدیلی آئی۔ مصرع طرح کے بر عکس موضوع کو توجہ دی گئی 1857 کے غدر سے محض سماجی انقلاب نہیں آیا بلکہ ادب میں بھی زبردست تبدیلی آئی۔ ادب برائے زندگی کے نعرے بلند کیے جانے لگے۔ حقیقت نگاری کو ادب میں شامل کرنا ضروری سمجھا گیا۔ قوم کے رہنما جنھوں نے معاشرے کی ترقی کے لیے ادب کو اہمیت دی اور اسی کے ذریعے اصلاحی مشن شروع کیے۔ سر سیّد احمد خاں، ڈپٹی نذیر احمد، علاّمہ شبلی نعمانی،مولوی ذکاءاﷲ، وقار الملک، محسن الملک اور خواجہ الطاف حسین حالی نے اردو شعرو ادب کی بیش بہا خدمتیں انجام دیں۔ جس کے اثرات آج بھی پوری طرح اردو ادب پر نمایاں ہیں۔
خواجہ الطاف حسین حالی کا شمار انیسویں صدی کی اہم شخصیات میں کیا جاتا ہے۔ حالی اردو تنقید کے بابا آدم، پہلے سوانح نگار، جدید شاعری کے علمبردار، شاعر، تاریخ نویس اور یہی نہیں انسان دوستی کی اہمیت سے بھی بہت مشہور ہیں، اردو ادب ان کی گرانبار نعمتوں کا احسان مند ہے۔ حالی کا زمانہ 1837 سے 1914 تک ہے ایک صدی مکمل ہونے کے باوجود ان کی شخصیت کے تمام پہلو کو یکجا نہیں کیا جاسکا ہے۔ لیکن آج بھی دیگر یونیوورسٹی میں تحقیقی کا م جاری و ساری ہے۔ یہ بات ہر کسی کے لیے قابل قدر ہوگی کہ وفات کے 100 برس بعد بھی ان کی شخصیت اس ستارے کی طرح ہے جس کا وجود سورج کے طلوع ہونے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتا۔ ہزاروں شاعر، نقاد اور سوانح نگار ہوئے لیکن حالی ہی ان کی ادبی فکر کی بنیاد بنے۔ مقدمہ شعر و شاعری (1893) ہو، مسدس حالی (1879) ہو یا ان کی سوانح ہوں اردو ادب کا کوئی بھی مصنف ان سے اچھوتا نہیں رہ سکتا۔ اس مضمون میں ہم حالی کی شخصیت کا جائزہ ان کی خودنوشت (’حالی کی کہانی خود ان کی زبانی‘ جو انھوں نے 1901 میں’ نواب عماد الملک بہادر‘ کو لکھ کرحیدرآباد بھیجی تھی جسے بعد میں دیوان حالی میں اور ترجمہ حالی کے عنوان سے مقالات حالی میں شامل کیا گیا)اور’مکاتیب حالی‘ سے لیں گے ۔
حالی سر سیّد کے جانشیں تھے اور ان کے تمام ارادوں، منصوبوں اور تحریکوں میں ہمیشہ ساتھ رہتے تھے۔ ایسا نہیں کہ سر سیّد مشہور تھے تبھی ان کے ساتھ رہتے ہوں بلکہ حالی اپنا قدم سوچ سمجھ کر اٹھاتے تھے۔ کوئی بھی شخص تنہارہ کر انقلاب نہیں لا سکتا ان کے ارادوں کو سر سیّد کے خیالات نے جلا بخشی۔ مذہبی خیالات اور مغربی افکار میں حالی اور سر سیّد ایک تھے لیکن تعلیم نسواں کے سلسلے میں حالی، سر سیّد سے جدا نظر آتے ہیں۔
سر سیّد، ممتاز علی کو تعلیم نسواں کے متعلق ایک خط میں لکھتے ہیں کہ:
’’آپ کا ایک لمبا پرائیویٹ خط کئی دن سے میرے سامنے رکھا ہوا ہے میں اس کے جواب لکھنے کی فرصت ڈھونڈ رہا تھا۔ اس وقت اس کا جواب لکھتا ہوں۔ میری نہایت دلی آرزو ہے کہ عورت کو بھی نہایت عمدہ اور اعلی درجہ کی تعلیم دی جاوے۔ مگر موجودہ حالت میں کنواری عورتوں کو تعلیم دینا ان پر سخت ظلم کرنا اور ان کی تمام زندگی کو رنج و مصیبت میں مبتلا کر دینا ہے... یہ ہی باعث ہے کہ میں نے عورت کی تعلیم میں کچھ نہیں کیا۔“ 1
سر سیّد احمد خاں دوسرے خط میں، جو ممتاز علی نے ہفتہ وار اخبار’تہذیب النسواں‘کی اجازت کے لیے لکھا تھا، اس کے جواب میں لکھتے ہیں کہ:
آپ چاہیں میرا مشورہ پسند نہ کریں مگر میں یہی کہوں گا کہ آپ عورتوں کے لیے اخبار جاری نہ کریں۔ آپ یقین کریں کہ آپ اسے جاری کرکے پچھتائیں گے اور تکلیف نقصان اور سخت بدنامی کے بعد بند کرنا پڑے گا... میری رائے میں اگر کوئی اخبار مستورات کے لیے جاری کیا جائے تو اس کا نام تہذیب النسواں ہونا چاہیے۔“ 2
حالی ابتدا سے ہی تعلیم نسواں کے بہت بڑے حامی تھے۔ ایسا نہیں کہ سرسیّد تعلیم نسواں کو ضروری نہ مانتے ہیں لیکن اس وقت حالات ایسے نہیں تھے کہ عورتوں کو تعلیم یافتہ کیا جائے اور مرد ذات کا بڑا حصّہ جو قوم کے آنے والے مستقبل تھے ان کو نظر انداز کیا جائے۔ اسی لیے سر سیّد پہلے لڑکوں کے لیے تعلیم کا پختہ انتظام کرنا چاہتے تھے۔ حالی بھی سر سیّد کی اس بات کو نظر انداز نہیں کرتے لیکن تعلیم نسواں کو ضروری مانتے ہیں۔منا جات بیوہ، چپ کی داد، مجالس النسا، اور بیٹیوں کی نسبت سے قطعات بھی لکھے جن میں انھوں نے عورتوں کی بدحالی کی تصویر کھینچی ہے اور اس کی وجہ تعلیم کا نہ ہونا مانا ہے۔ ’چپ کی داد‘ میں عورت کی تعلیم سے محرومیت کی درد ناک تصویر کھینچتے ہیں:
جب تک جیو تم علم و دانش سے رہو محروم یاں
آئی ہو جیسی بے خبر ویسی ہی جا بے خبر
تم اس طرح مجہول اور گم نام دنیا میں رہو
ہو تم کو دنیا کی نہ دنیا کو تمہاری ہو خبر
1870-71 میں حالی لاہور گئے اور انجمن پنجاب کے مشاعروں میں شرکت کرکے ان میں جان ڈال دی۔ آزاد سے زیادہ حالی کی نظمیں مشہور ہوئیں۔ بہت سے نقاد نے تو حالی کو ہی نظم جدید کی تحریک کا علمبر دار مانا ہے۔ لیکن حالی اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں کہ:
لاہور ہی میں کرنل ہالرائڈ ڈائرکٹر آف پبلک انسٹرکشن پنجاب کی ایما سے مولوی محمد حسین آزاد نے اپنے پرانے ارادے کو پورا کیا۔ یعنی 1874 میں ایک مشاعرہ کی بنیاد ڈالی۔ “ 3
 محمد حسین آزاد جن کی شخصیت سے کوئی بھی ناواقف نہیں ہے ،1880 میں جب انھوں نے آب حیات مرتب کی تب حالی سے ہی غالب کے ایک شعر  :
آہ کو چاہےے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک
کے معنی پوچھے تھے حالی اس کے جواب میں لکھتے ہیں کہ:
سر ہونے کے معنی جہاں تک میں نے سمجھے ہیں، کھلنے کے ہیں۔ والعلم عنداﷲ۔ شاید شاعر کی یہ مراد ہے کہ وصل کی تیاری کے وقت جو معشوقہ کی زلفیں سر گوندھنے کے لیے کھلتی ہیں دیکھیے وہ وقت کب آتا ہے۔ ظاہر ہے اس وقت عمر ختم ہو جائے گی۔ 4
آزاد نے آب حیات میں مومن خان مومن کا مکمل حال نہیں لکھااس بات پر بھی بہت سی تنقید یں کی گئیں اس کے متعلق بھی حالی نے آزاد کو ایک خط میں لکھا ہے کہ:
آپ لوگوں کی یاوہ سرائی پر کچھ التفات نہ کیجیے... اور اپنا کام کیے جایئے۔ نکتہ چینیوں کے خوف سے مفید کام بند نہیں کیے جا سکتے۔“ 5
اسی طرح آزاد نے حالی کو قواعد کے متعلق خط لکھا تھا جس میں چند سوالات کے جواب مانگے تھے۔ حالی نے بہت ہی ہمدردی کے ساتھ ان کے جواب دیے اور لسانیات کے ماہر آزاد کو قواعد کی جانکاری فراہم کی۔
یہ حالی کی انسان دوستی کی بہترین مثالیں ہیں کہ انھوں نے اپنے زیادہ تر معاصرین کی کتابوں پر تبصرے کیے ان کی مدد اور اصلاح کی لیکن ان ہی معاصرین نے حالی کو کبھی نہیں سراہا۔ وہ کبھی کسی سے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے تھے۔مولوی عبد الحق لکھتے ہیں کہ:
ہم عصروں اور ہم چشموں کی رقابت پرانی چیز ہے... مولانا اس چیز سے بری معلوم ہوتے ہیں۔ محمد حسین آزاد اور مولانا شبلی کی کتابوں پر کیسے اچھّے تبصرے لکھے ہیں اور جو باتیں قابل تعریف تھیں ان کی دل کھول کر داد دی ہے۔مگر ان بزرگوں میں سے کسی نے مولانا کی کسی کتاب کے متعلق کچھ نہیں لکھا۔“ 6
شبلی کی تمام تصنیفات کو حالی نے سراہا اور ان کی کاپیاں دوسروں کو بھی بہم پہنچائی تاکہ لوگ ان کی تصنیف سے استفادہ کریں۔ ’ظفر علی خاں‘ اپنا رسالہ’دکن ریویو‘ نکالتے تھے ۔ اس میں بہت سے لوگوں کے پر چے شائع ہوتے، مولانا شبلی کی کتاب پر بھی تبصرہ کیا گیا تھاجس میں بہت نکتہ چینی سے کام لیا گیا۔جب حالی کی حیدرآباد میں ظفر علی خاں سے ملاقات ہوئی تب انھوں نے اس کے متعلق سنجیدگی کے ساتھ کہاکہ:
میں تنقید سے منع نہیں کرتا۔ تنقید بہت اچھی چیز ہے اور اگر آپ لوگ تنقید کریں گے تو ہماری اصلاح کیوں کر ہوگی۔ لیکن تنقید میں ذاتیات سے بحث کرنا یا ہنسی اڑانا منصب تنقید کے خلاف ہے۔‘‘
 شبلی نے حیات جاوید کو مکمل سوانح عمری نہیں مانا ہے اور اس کے متعلق ان کی رائے ہے کہ:
حیات جاوید سر سید کی ایک رخی تصویر ہے۔ انھوں نے اس کے انداز تحریر کو مدلّل مداحی قرار دیا ہے اور لکھاہے کہ حیات جاوید کو میں لائف نہیں بلکہ کتاب المناقب سمجھتا ہوں اور وہ بھی غیر مکمل۔“ 8
حالی نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا،نہ ہی کوئی بے جا تنقید کی ہے، بلکہ انھوں نے ہمیشہ ان لوگوں کو سراہا ہے جو ان پر تنقید کرتے تھے۔ حالی کے غزل کے متعلق جو خیالات ہیں اور وہ اس کو سنڈاس سے بد تر قرار دیتے ہیں لیکن وہ معیاری غز ل پر کبھی تنقید نہیں کرتے۔ 1980 کے ایک خط میں حالی، شبلی کے مجموعہ کلام ’دستہ گل‘ کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
کوئی کیونکر مان سکتا ہے کہ یہ اس شخص کا کلام ہے جس نے سیرت النعمان، الفاروق اور سوانح عمری مولانا روم جیسی مقدس کتابیں لکھی ہیں ۔ غزلیں کا ہے کو ہیں شراب دو آتشہ ہے... خیالات کے لحاظ سے تو یہ غزلیں اس سے بہت زیادہ گرم ہیں... میرا ارادہ تھا کہ اپنا فارسی کلام نظم و نثر جو کچھ ہے اس کو بھی چھپوا کر شائع کر دوں مگر دستہ گل دیکھنے کے بعدمیری غزلیں خود میری نظر سے گر گئی۔ “ 9
حالی حسّاس شخصیت کے مالک تھے اور انسان دوستی کے بہت بڑے پیکر بھی۔ وہ کبھی مشہور نہیں ہونا چاہتے تھے ۔انھوں نے ہمیشہ اپنی تصنیف کو تالیف اور مرتبہ لکھا ہے۔ ان کی بہت سی مخالفتیں ہوئیں مگر ان میں برداشت کا مادّہ بہت زیادہ تھا۔ ان کی شفقت کی ایک مثال یہ کہ حسرت موہانی نے اپنے رسالے ’اردوئے معلی‘ میں حالی کے متعلق بہت کچھ غلط لکھا تھا جسے مولوی عبدالحق نے ’چند ہم عصر‘میں نقل کیا ہے:
علی گڑھ کالج میں کوئی عظیم الشان تقریب تھی، نواب محسن الملک مرحوم کے اصرار پر مولانا حالی بھی اس میں شرکت کی غرض سے تشریف لائے... ایک صبح حسرت موہانی دو دوستوں کو ساتھ لیے ہوئے مولانا کی خدمت میں حاضر ہوئے اتنے میں سیّد صاحب (زین العابدین) موصوف نے بھی اپنے کمرے سے حسرت کو دیکھا۔ ان مرحوم میں لڑکپن کی شوخی ابھی باقی تھی، اپنے کتب خانہ میں گئے اور اردوئے معلی کے دو تین پرچے اٹھا لائے... اس کے بعد سید صاحب مصنوعی حیرت بلکہ وحشت کا اظہار کرکے بولے ارے مولانا! یہ دیکھیے آپ کی نسبت کیا لکھا ہے؟ اور کچھ اس قسم کے الفاظ پڑھنا شروع کیے، سچ تو یہ ہے کہ حالی سے بڑھ کر مخرب زبان کوئی ہو نہیں سکتا اور وہ جتنی جلدی اپنے کو اردو کی خدمت سے روکیں اتنا ہی اچھا ہے۔ فرشتہ صفت حالی مکدّر نہیں ہوئے... کئی روز بعد ایک دوست نے حسرت سے پوچھاکہ حالی کے خلاف اب بھی کچھ لکھوگے؟جواب دیا جو کچھ لکھ چکا ہوں اسی کا ملال اب تک دل پر ہے۔ “ 10
حالی کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ ان کے مرنے کے بعد کوئی بھی ان کے کلام کو صحیح طرح سے تو کیا سر سری طور پر بھی مرتب نہیں کرے گا۔ اسی لیے انھوں نے آخر وقت تک اپنا زیادہ تر کلام مرتب کرکے شائع کرا دیا تھا۔ اصول فارسی جو انھوں نے فارسی طلبا کے لیے بہت امیدوں سے لکھی تھی اسے آج تک کسی نے شائع نہیں کرایا، اور ابتدائی تصانیف بھی ایک مرتبہ کے علاوہ دوسری مرتبہ شائع نہیں ہوئیں۔ حالی نے ان کا تذکرہ اپنے خط میں کیا ہے جو انھوں نے 15 اگست 1910میں مولانا ظفر علی خاں کے نام لکھا تھا:
اپنا کلام نظم و نثر اردو و فارسی وغیرہ مرتب کرنا چاہتا ہوں مگر نہیں ہو سکتا۔ حالانکہ کسی سے امید نہیں کہ میرے بعد کوئی اس کو بوجوہ دلخواہ نہ سہی، سر سری طور پر ہی مرتب کر دے۔ “ 11
حالی کی اسی اخلاق پسندی نے ان کے تعلقات میں کبھی بھی فرق نہیں آنے دیا، انھوں نے ہر طور سے مذہب اور تہذیب میں اخلاق کو ترجیح دی۔ وہ ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے انھوں نے جس میدان میں بھی قدم رکھا اس میں اپنے نقوش قائم کیے۔ ادبی اعتبار سے حالی کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ لیکن وہ اس میدان میں بھی انسانیت کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔ اقبال بھی ا س کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
 مشہور زمانے میں ہے نام حالی
معمور مئے حق سے ہے جام حالی
حواشی اور کتابیات
.1 مکتوبات سر سیّد، مرتبہ شیخ محمد اسمٰعیل پانی پتی، مجلس ترقی اردو ادب لاہور 1969 ص380-81
.2 ایضاً ص 382
.3 مقالات حالی،ترجمہ حالی،حصّہ اوّل جامعہ پریس دہلی 1934 ص 267-68 .
4 مکاتیب حالی ،مرتبہ شیخ محمد اسمٰعیل پانی پتی، اردو مرکز لکھنو 1950 ص 17 .
5 مکاتیب حالی ،مرتبہ شیخ محمد اسمٰعیل پانی پتی، اردو مرکز لکھنو 1950 ص 18
.6 چند ہم عصر ، مولوی عبدالحق، انجمن پاکستان کراچی 1953 ص 157
.7 چند ہم عصر ، مولوی عبدالحق، انجمن پاکستان کراچی 1953 ص 159
.8 حیات جاوید تلخیص،مولانا الطاف حسین حالی، اعلی پریس دہلی 1977 ص 39
.9 مکاتیب حالی ،مرتبہ شیخ محمد اسمٰعیل پانی پتی، اردومرکز لکھنو 1950 ص 42
.10 چند ہم عصر، مولوی عبدالحق، انجمن پاکستان کراچی 1953 ص 159-60
Sana Kausar,
Research Scholar,
 Dept of Urdu,
 Aligarh Muslim University,
 Aligarh - 202002 (UP)

 ماہنامہ اردو دنیا،جنوری 2015


قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے






حالی کی تنقید کا اخلاقی پہلو مضمون نگار: آفتاب احمد آفاقی



حالی کی تنقید کا اخلاقی پہلو

آفتاب احمد آفاقی

اردو شعر و ادب کی تاریخ میں خواجہ الطاف حسین حالی اپنی مختلف الجہات شخصیت کی وجہ سے اپنے معاصرین میں ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔ انھوں نے قوم کی روحانی، ادبی اور اخلاقی اصلاح میں جو نمایاں کردار ادا کیا اس کی حیثیت ایک علاحدہ باب کی ہے۔ ادبی سطح پرحالی نے پرانی شاعری کے نقائص اور جدید شاعری کے اصول، عقل، سمجھ اور قابلیت سے سمجھائے اور شاعرانہ تنقید کاایسا دستورالعمل مرتب کیا جس کا جواب اردو تو کیادوسری ہندوستانی زبانوں میں بھی مشکل سے ملے گا۔ وہ جدید اردو شاعری کے بانی اور سب سے بڑے محسن ہیں لیکن حالی کی بڑائی یہ ہے کہ اس ضمن میں ان کی تحریریں دیکھیں تو یہی خیال ہوتا ہے کہ جدید شاعری کے بانی فقط شمس العلما محمد حسین آزاد تھے۔
اردو شاعری کی کایا پلٹ کے علاوہ مولانا نے اردو نثر میں بیش بہا اضافہ کیاہے۔ اردو زبان میں اصنافی اور عملی تنقید کی بنیاد انھوں نے ڈالی۔ سیرت نگاری کانیا رنگ سب سے پہلے انھوں نے اختیار کیا۔ حیاتِ سعدی، حیاتِ جاوید اور اردو کی مقبول ترین سوانح عمری یادگارِ غالب انھی کے قلم سے نکلیں۔ ان سب باتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اردو ادب کی حیاتِ تازہ میں جتنی کوششیں انھوں نے کی ہیں شاید ہی کسی نے کی ہو۔ لیکن بہ قول شیخ محمد اکرام” جب اردو ادب کے محسنوں کا ذکر آتا ہے تو حالی چپکے سے سرسید کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں کہ فادر آف لٹریچر تو وہ ہیں۔ قومی اصلاح کے معاملے میں، تو خیال ہوتا ہے کہ قوم کی اصلاح فقط سرسید نے کی اورقوم کی بیداری میں علی گڑھ کالج، تہذیب الاخلاق اور ایجوکیشنل کانفرنس کے علاوہ کسی اور چیز کو دخل نہیں۔
حالی کی تنقید نگاری پر اختلاف کی پوری گنجائش ہے لیکن ان کے پہلے باضابطہ نقاد ہونے میں کسی کو اعتراض نہیں۔ حالی نے پہلی بار شاعری کی حقیقت اور ماہیت کے ضمن میں اپنے خیالات منضبط طور پر پیش کیے اور شعروادب کے سماجی اورتہذیبی رشتوں کو واضح کیا، اس کے پہلو بہ پہلو ادبی تخلیق کے نفسی اور ذہنی عمل اور اس کی لسانی اور فنی بنیاد کی نشاندہی کی، جس کے بغیرادبی تنقید کے فن کا کوئی تصور قائم نہیں کیا جا سکتا۔ مقدمہ شعرو شاعری میں پہلی مرتبہ ادبی مطالعے کے ان پہلوں کی سا ئنٹفک انداز میں توضیح کی گئی اور شعرو ادب کی جانچ پرکھ کے با قاعدہ اصول وضع کیے گئے اور یہی وجہ ہے کہ اسے اردو میں تنقید کی اولین کوشش اور پہلی ’کتاب الاصول‘ قرار دجاتا ہے۔
مقدمہ شعرو شاعری میں حالی نے ادب کے افادی پہلو کو مقدم رکھا ہے اور ان کا اصل رجحان حقیقت نگاری کی طرف ہے اور وہ اس بنیادپرادبی تجربات میں اصلیت بہ الفاظ دیگر واقعیت کے اثر کو بنیادی اہمیت دیتے اور نیچرل شاعری کا تصور پیش کرکے اردو شاعری کو ایک نیا موڑ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ آلِ احمد سرور نے حالی کے مقدمے کو ان کی شاعری کے بنیادی افکار کی تشریح اور تنظیم قرار دیا ہے جو بڑی حد تک درست بھی ہے۔ ظاہر ہے کہ مقدمہ شعرو شاعری اولاً دیوانِ حالی کے مقدمے کے طور پر شائع ہوا تھا اور پھر بعد میں حالی کی ایک مستقل تصنیف کی حیثیت سے منظرِ عام پر آیا۔ اس لحاظ سے یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط نہ ہو گا کہ حالی اپنی شاعری میں جن اصولوں پر کاربند رہے اور انھوں نے جن اصلاحی اور اخلاقی محرکات کے تحت نظمیں اور غزلیں لکھیں ان کی تنقید نگاری، اس کا پرتو کہی جائے گی۔امر واقعہ یہ ہے کہ نیچرل نظموں نے اردو شاعری میں ایک نئی روایت اور رجحان کا آغاز کیا، ان کے مقدمے نے جس میں نیچرل شاعری پر بڑی فکر انگیز بحث کی گئی ہے اس جہت سے اردو تنقید میں ایک قابلِ قدر اضافہ کیا ہے۔
حالی کی تنقید نگاری کا یہ امتیازی وصف ہے کہ انھوں نے اپنے نظر یۂ تنقید کی تشکیل مشرقی ادبی روایات کے ساتھ مغربی ادبی روایات سے بھی استفادہ کیا۔ ان کا مبلغِ علم خاصا وسیع تھا۔ وہ عربی، فارسی اور اردو پر دسترس رکھتے تھے ساتھ ہی انگریزی تنقید سے بھی ایک حد تک واقف تھے جس کی بنا پر وہ زیادہ صحیح ادبی نتائج تک پہنچ سکے اور اپنی کئی غلط فہمیوں کے باوجود ان کے خیالات اور آرا کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ ان پر آج بھی بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ حالی کے فکر و شعور پر دو واضح اثرات کارفرما نظر آتے ہیں، ایک طرف سر سید کی شخصیت اور ان کی اصلاحی تحریک سے متاثر ہوئے دوسری طرف گورنمنٹ بک ڈپو پنجاب کی ملازمت کے دوران جب انھیں کرنل ہالرائیڈ اور کچھ دوسرے انگریزدوستوں کی صحبت نصیب ہوئی اور انگریزی کتابوں کے اردو ترجمے پر نظر ثانی کے کام پر مامور ہوئے۔ اس طرح انھیں انگریزی ادبیات سے کسی قدر واقفیت حاصل کرنے اور اس سے بالواسطہ طور پر اثر پذیر ہونے کا موقع ملا۔ سر سید کی قربت اور علی گڑھ تحریک ہی کا اثر ہے کہ حالی کے تصنیفی کارناموں میں اصلاحی پہلو غالب ہے اور ان کی اہم ترین تصنیف ’مقدمہ شعرو شاعری‘ میں بھی اصلاحی رجحان ہی نمایاں ہے۔
مقدمہ شعرو شاعر ی میں جن تصورات سے بحث کی گئی وہ شعر کی ماہیت ، منصب اور افادیت، شاعری اور سماج کے رشتے شعری اصناف کی اصلاح اور مطالعہ شعر میں زبان، اسلوب ِ بیان اور لفظیات کی اہمیت جیسے موضوعات پر محیط ہے۔جن پر بڑی خوبی اور صراحت کے ساتھ اظہارِ خیال کیا گیا ہے۔
حالی بنیادی طور پر شاعری اور سماج یا دوسرے لفظوں میں ادب اور زندگی کے رشتے پر روشنی ڈالتے اور اس کے اخلاقی اور اصلاحی پہلو کو اصل اہمیت دیتے ہیں۔ وہ شعری اظہار میں سادگی اور اصلیت پر بطورِ خاص توجہ دیتے ہیں اور اسے ایک با مقصد اور با معنی عمل بنانا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے تحت نیچرل شاعری کو سچّی، فطری اور صحت مند شاعری کا ماڈل بنا کر پیش کرتے اور باقاعدہ مثالیں دے کر اس کا واضح روپ متعین کرتے ہیں۔ حالی کے نیچرل شاعری کے تصور کو ان کے اخلاقی اور اصلاحی رویے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا جس پر اصلاً ان کے ادبی اور تنقیدی نظریے کی دیوار کھڑی ہے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کی حالی پہلے نقاد ہیں جنھوں نے اردو کی شعری اصناف، غزل، قصیدے اور مثنوی کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے فکری و فنی بنیادوں پر ان کا محاسبہ کیا۔نیز بعض اصلاحی باتیں بھی پیش کیں۔یہ مشورے ان کے نیچرل شاعری کے تصوّر ہی کو آگے بڑھاتے ہیں انھوں نے شاعری کو جس طرح جھوٹ اور مبالغے سے پاک رکھنے اور اس ضمن میں حقیقت اور راستی کے پہلو کو ملحوظ رکھنے پر زور دیا ہے وہ ان کے نیچرل شاعری کے تصوّر کا ہی فیضان ہے ،جسے وہ لفظاً و معناً یعنی فطرت اور عادت کے موافق ہونے سے تعبیر کرتے ہیں، ہم آہنگ ہو جاتا ہے اور اس کا اطلاق بہت کچھ اردو کی شعری اصناف پر ان کے تبصروں سے بھی ہوتا ہے جن میں ان کا اخلاقی اور اصلاحی جذبہ پوری شدت کے ساتھ نمایاں ہوا ہے۔اس طرح دیکھا جائے تو مقدمہ شعرو شاعری میں جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے ان میں ایک متعین نقطۂ نظر کی کار فرمائی اور نظم وترتیب کا احساس ہوتا ہے۔ جس کی مثال اس سے قبل نہیں ملتی اور یہی وجہ ہے کہ مقدمہ کو اردو میں فنِ تنقید پر پہلی باضابطہ کتاب تصور کیا جاتا ہے۔جس میں کلیم الدین احمد کے الفاظ میں جزئیات سے قطع نظر کر کے شعر و شاعری کے بنیادی اصول سے بحث کی گئی ہے۔ یہاں حالی کے چند خیالات قابلِ توجہ ہیں:
شاعری کوئی اکتسابی چیز نہیں ہے بلکہ بعض طبیعتوں میں اس کی استعداد خدا داد ہوتی ہے۔ پس جو شخص اس عطیۂ الٰہی کو مقتضائے فطرت کے موافق کام میں لائے گا ممکن نہیں کہ سو سائٹی کو اس سے کچھ فائدہ نہ پہنچے۔
ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں:
شعر کی تاثیر سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا۔ سامعین کو اکثر اس سے حزن یا نشاط یا جوش یا افسردگی یا کم یا زیادہ ضرور پیدا ہوتی ہے اور اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس سے کام لیا جائے تو وہ کہاں تک فائدہ پہنچا سکتا ہے... یورپ میں۔ سوانگ اور نقالی نے اصلاح پا کر قوموں کو بے انتہا اخلاقی اور تمدنی فائدے پہنچائے ہیں تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں ملتی ہیں کہ شعرا نے اپنی جادو بیانی سے لوگوں کے دلوں پر فتح نما یاں حاصل کی ہے۔۔۔ یورپ میں پولٹیکل مشکلات کے وقت قدیم پوئٹری کو قوم کی ترغیب و تحریص کا ایک زبردست آلہ سمجھتے رہے ہیں۔
شعر سے جس طرح نفسانی خوشیاں جذبات کو اشتعا لک ہوتی ہے، اس طرح روحانی خوشیاں بھی زندہ ہوتی ہیں اور انسان کی روحانی اور پاک خوشیوں کو اس کے اخلاق کے ساتھ ایسا صریح تعلق ہے جس کے بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ شعراگر چہ از روئے انصاف اس کو علمِ اخلاق کا نائب مناب اور قائم مقام کہہ سکتے ہیں۔
متذکرہ اقتباسات کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ حالی ادب کو افادیت کی میزان پر تولتے تھے اور اس باب میں ان کا نقطۂ نظر خالصتاً اصلاحی اور اخلاقی تھا۔ وہ لوگ جو ادب کو غیر ادبی معیاروں سے جانچنے کے قائل نہیں جنھیں ادب کو اخلاق کی عینک لگا کر دیکھنا گوارا نہیں حالی کے اس نقطۂ نظر پر اعتراض کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ادب میں سماج، سیا ست اور اخلاق کی بحث چھیڑ کرحالی نے اردو تنقید کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھ دی۔ اردو میں ناقدین کا ایک ایسا گروہ بھی پیدا ہوا جو ادب اور صحافت میں فرق کرنے سے قاصر ہے۔ ڈاکٹر احسن فاروقی کا ایسا ہی خیال ہے۔ کلیم الدین احمد جنھوں نے حالی کے ادبی معروضات کو غلط ثابت کرنے پر پورا زور قلم صرف کردیا ہے ادب میں اخلاق کی بحث اٹھانا بے معنی سمجھتے ہیں اور اسے شعرو ادب کی ماہیت سے حالی کی ناواقفیت تصوّر کرتے ہیں۔
اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ حالی نے جو باتیں لکھیں ہیں ان میں کوئی غلطی نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بعض مقامات پر ان سے غلطیاںسر زد ہوئی ہیں مثلاًملٹن کے حوالے سے شعر کے اساسی تصورات کی تو ضیح کے ضمن میں جو passionate sensuous, simple کاترجمہ (سادگی ،اصلیت اور جوش) کیا ہے اور اسے جن معنوں میں لیا ہے اس سے ان کی غلط فہمی عیاں ہو جاتی ہے۔اوّل توsensuousکا ترجمہ اصلیت درست نہیں۔دوم یہ کہ اس ضمن میں جس یوروپین نقاد کالرج کا حوالہ دیا ہے اس نے بھی من مانے ڈھنگ سے اس کی توضیح پیش کی ہے، جس پرحالی نے اعتبار کیا۔ بہ ا لفاظ دیگر یہاں حالی کے مغالطے کو دخل ہے ان کی نیک نیتی پر شک کی گنجائش نہیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ حالی نے ان الفاظ سے جو مفاہیم اخذ کیے ہیں وہی آج زیادہ معتبر سمجھے جاتے ہیں اور ان کے بنیادی تنقیدی افکار کا حکم رکھتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ حالی کے ضمن میں ہمارے ناقدین بڑے جارح واقع ہوئے ہیں۔ کلیم الدین احمد، احسن فاروقی، وحید قریشی وغیرہ ان میں پیش پیش رہے ہیں۔ لیکن آل احمد سرور اور وارث علوی جیسے معتبر ناقدین کی بھی کمی نہیں جنھوں نے بڑا ہی سنجیدہ، مثبت اور متوازن رویہّ اختیار کرتے ہوئے حالی کی ادبی قدرو قیمت متعین کی ہے۔آلِ احمد سرور کے نزدیک حالی کے ذہن میں اخلاق کا محدود تصوّر نہیں، مجموعی خیر کا تصور ہے اور شاعری کسی محدود، رسمی،اور وقتی اخلاق سے بلند ہے مگر بالآ خر اخلاقی ہوتی ہے جس کا احساس حالی رکھتے تھے زیادہ صحیح اور قابلِ قبول معلوم ہوتا ہے۔
وارث علوی کے نزدیک نفاست، شائستگی اور مہذب جیسے اعلی اقدار حالی کی شخصیت کا بنیادی وصف ہیں۔ علوی تنقید کو دریافت معنی، انکشاف اور جہانِ فکر کی سیاحی کا عمل تسلیم کرتے ہیں اور مقدمہ شعرو شاعری کو شائستہ متجسس ذہن کی سیاحت اور ادب کی دستاویز قرار دیتے ہیں۔میں اپنی بات وارث علوی کے ان خیالات پر ختم کرتا ہوں جن کی بنیاد پر حالی کی شخصیت اور تنقید ی اقدار مترشح ہوتے ہیں اورجن کی بنیاد پر آج بھی حالی کی اہمیت مسلّم کہی جائے گی۔
حالی کو صرف ادب اور شاعری میں ہی دلچسپی نہیں تھی۔ انھیں اپنی قوم، اپنے سماج، اپنی تاریخ اپنی روایت اور اپنی تہذیبی قدروں میں جو دلچسپی تھی اس کی آئینہ داری ان کی شاعری اور ان کی مختلف تصانیف کرتی ہیں۔یہ عرب وعجم و ہند کی صدیوں کی تہذیبی اور تمدنی روایتیں تھیں۔ جنھوں نے مل جل کر حالی کے ذہن کی تربیت کی تھی۔ تاریخی مجبوریوں کی بنا پر یہ ذہن مغرب کے تہذیبی سرچشموں سے بہت سیراب نہیں ہو سکا۔ لیکن ان کے سخت سے سخت نکتہ چیں بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مغربی ادب کے اپنے محدود علم سے حالی نے جو فائدہ اٹھایا اور اس سے جو کام نکالے اس کا عشرِ عشیر بھی ان لوگوں سے نہ بن پڑا، جو حالی سے زیادہ مغربی ادب سے واقف تھے اور جنھیں حالی سے کہیں زیادہ اس ادب سے فیض یاب ہونے کے مواقع حاصل تھے۔

Aftab Ahmad Afaqi.,
 Dept of Urdu, BHU, 
Varanasi - 221005 (UP)


ماہنامہ اردو دنیا،جنوری 2019


قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے


منگل، 30 جولائی، 2019

’جنگ نامۂ کابل‘ (قلمی) ’تاریخ افغانستان‘ (مطبوعہ) مضمون نگار: علی عباس



’جنگ نامۂ  کابل‘ (قلمی)
’تاریخ افغانستان‘ (مطبوعہ)


علی عباس



اردو ادب میں سفرنامے کی روایت اور اس کے آغاز سے متعلق زیادہ تر محققوں نے اردو کا پہلا (نثری) سفرنامہ تاریخ یوسفی/ عجائبات فرنگ (مطبوعہ 1847 عیسوی)، مصنف یوسف کمبل پوش کو قرار دیا ہے جبکہ ’عجائبات فرنگ‘ سے قبل اب تک جس (نثری) سفرنامے کا ذکر کیا گیا ہے وہ ’تاریخ افغانستان‘ از سید فدا حسین بخاری الحیدری ہے۔ اس سفرنامے پر اب تک کسی نے تفصیلی بحث نہیں کی ہے، البتہ اس کے ایک دو اقتباسات کو بنیاد بنا کر ہمارے محققوں نے اسے اردو کا پہلا سفرنامہ قرار دینے کی کوشش ضرور کی ہے۔ مرزا حامد بیگ نے اپنی کتاب ’اردو سفرنامے کی مختصر تاریخ‘ میں ’اردو کا پہلا سفرنامہ نگار کون؟‘ کے ذیل میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا:
تاریخ افغانستان، از سید فدا حسین کا زمانۂ تصنیف و طباعت 1839 عیسوی ہے اور ’تاریخ یوسفی‘ از یوسف کمبل پوش کا زمانۂ تصنیف لگ بھگ 1846 عیسوی اور سنہ طباعت 1847 عیسوی۔ یوں زمانۂ تصنیف اور سنہ طباعت کے اعتبار سے ’تاریخ افغانستان‘ کو ’تاریخ یوسفی‘ پر پانچ تا چھ برس کا زمانی تفوق اصل ہے یعنی سنین کے مطابق اردو کا پہلا سفرنامہ نگار سید فدا حسین عرف نبی بخش ہی قرار پاتا ہے اور اردو کا پہلا سفرنامہ ’تاریخ افغانستان‘ ہے نہ کہ ’تاریخ یوسفی‘ المعروف ’عجائبات فرنگ‘ 1
پروفیسر خالد محمود کے بقول:
اندرونِ ملک ’تاریخ افغانستان‘ ہی پہلا باقاعدہ سفرنامہ کہے جانے کا مستحق ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ’تاریخ یوسفی‘ کے سامنے ’تاریخ افغانستان‘ کا چراغ نہیں جلا اور وہ ایک جنگی وقائع نگار کی خام و ثقیل نثر کا نمونہ بن کر رہ گیا۔ یہ سفرنامہ ’تاریخ افغانستان‘ کے نام سے 1852 میں تحریر ہوا۔“2
مرزا حامد بیگ نے تاریخ افغانستان کی تصنیف و طباعت کا زمانہ 1839 عیسوی3 تحریر کیا ہے۔ جب کہ پروفیسر خالد محمود نے اس کی تحریر کا زمانہ 1852 عیسوی 4 لکھا ہے۔ راقم نے اس سلسلے میں ان دو بڑے محققوں یعنی پروفیسر خالد محمود اور مرزا حامد بیگ سے براہِ راست رابطہ کیا، انھوں نے اس سفرنامے سے متعلق اپنی معلومات سے آگاہ کیا اور ذکر کےے گئے سفرنامے کی عدم دستیابی پر اظہار افسوس بھی کیا۔ خیر! سعی بسیار کے بعد پنجاب یونیورسٹی، چنڈی گڑھ کی اے۔ سی (امرچند) جوشی لائبریری کے شعبۂ مخطوطات میں ایک قلمی نسخہ راقم الحروف کو دستیاب ہوا، جس کے سرور ق پر ’جنگ نامۂ کابل‘ 3 نومبر 1838 عیسوی مطابق 15 شعبان 1255 ہجری، از سید فدا حسین تحریر تھا۔ ذہن میں اب بھی ایک سوال تھا کہ کیا یہ وہی سفرنامہ ہے جس کی مجھے تلاش تھی یا کوئی اور ، کیونکہ سید فدا حسین عرف نبی بخش تو وہی ہے مگر سفرنامے کا نام وہ نہیں ہے جس کا ذکر ہمارے محققوں نے کیا ہے یعنی ’تاریخ افغانستان‘۔ مگر جب مرزا حامد بیگ کی کتاب میں درج ’تاریخ افغانستان‘ کے اقتباسات سے دستیاب شدہ نسخے کی عبارتوں کا تقابل کیا تو کافی حد تک عبارتیں ایک جیسی ملیں، جس سے اس بات کے پختہ ثبوت فراہم ہونے لگے کہ دونو ں کتابیں ایک ہی ہیں، البتہ عبارتوں میں پائے جانے والے کچھ اختلافات نے راقم الحروف کے ذہن میں یہ سوال پیدا کردیا کہ ایسا کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی نسخے سے نقل کی گئی عبارتوں میں اس قدر اختلافات پائے جائیں، ممکن ہے اس کا کوئی اور بھی قلمی یا مطبوعہ نسخہ موجود ہو، جس کا نام اور عبارتیں وہی ہوں جس کا ذکر مرزا حامد بیگ نے کیا ہے اور پھر ’تاریخ افغانستان‘ نامی سفرنامے کی تلاش شروع کی۔ ایک عرصے کی مشقت کے بعد ذکر کےے گئے کتب خانے کے ریئربک سیکشن میں اورینٹل کالج میگزین، لاہو رکی فائلوں میں دبی ایک سیاہ جلد میں لپٹی ہوئی مختصر سی کتاب نظر آئی جس کی اوپری سطح پر ایک پرچی چسپاں تھی جس پر تحریر تھا: ”تاریخ افغانستان‘ از سید فدا حسین عرف نبی بخش حیدری البخاری‘ اس کے صفحہ اول پر ذیل کی عبارت درج تھی جس سے اس کے مطابع اور سنہ طباعت کاعلم ہوتا ہے، ملاحظہ کریں:
تاریخ افغانستان، سید محمد خان بہادر کے چھاپہ خانہ کے لیتھو گرافک پریس میں شہر محرم الحرام 1259 ہجری مطابق ماہ فروری 1843 عیسوی کو سید عبدالغفو رکے اہتمام سے دلی میں چھپی، کاتب الحروف سید بو علی رضوی عفی عنہ۔“ (تاریخ افغانستان، سرورق)
اس کے بعد کے صفحوں پر وہی عبارتیں نظر آئیں جن کے اقتباسات کو مرزا حامد بیگ نے اپنی کتاب ’اردو سفرناموں کی مختصر تاریخ‘ میں نقل کیا ہے۔ ممکن ہے یہی نسخہ ان کے سامنے رہا ہو۔ مگر انھوں نے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ اس سفرنامے کو کس مطبع نے زیور طباعت سے آراستہ کیا۔ بہرحال! یہ ثابت ہوگیا کہ سفرنامہ ’تاریخ افغانستان‘ 1843 عیسوی میں شائع ہوا، نہ کہ 1839 یا 1852 عیسوی میں۔
جنگ نامہ کابل ‘ کا قلمی نسخہ چوراسی صفحات کو محیط، ہر صفحہ پندرہ سطروں اور ہر سطر تقریباً چودہ تا پندرہ الفاظ پر مشتمل ہے۔ اسی طرح اس کے مطبوعہ نسخے ’تاریخ افغانستان‘ میں کل 97 صفحات ہیں اور ہر صفحے پر پندرہ سطریں اور ہر سطر میں بارہ تا پندرہ الفاظ موجود ہیں۔
اب آتے ہیں ’جنگ نامہ کابل معروف بہ تاریخ افغانستان‘ کی جانب اور جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کا مصنف کون ہے اور اس کے سفر کا مقصد کیا تھا، تاکہ سفرنامے میں بیان کیے گئے واقعات و کوائف کو بخوبی سمجھا جاسکے اور یہ بھی معلوم کیا جاسکے کہ اس سفرنامے کے وجود میں آنے کا بنیادی سبب کیا تھا۔ ذکر کے گئے سفرنامہ سے چند باتیں سامنے آتی ہیں:
1۔        نام: سید فدا حسین، عرف نبی بخش بخاری الحیدری
2۔        وطن: شاہجہاں آباد (دہلی)، گویا یہی اس کا مولد و منشا بھی ہوگا۔
3۔        اس نے روزگار کے سبب انگریزی فوج ترک سواروں میں جمعداری کے عہدے پر ملازمت اختیار کی۔
4۔        انگریزی حکومت نے شاہ شجاع الملک کو کابل کے تخت حکومت پر بٹھانے کے لیے ایک جنگی مہم کا آغاز کیا تھا۔
5۔        سید فدا حسین کا فوجی رسالہ بھی اس مہم کے لیے میرٹھ چھانی سے کابل کے لیے روانہ ہوا۔
6۔        سفر کا آغاز: نومبرکی تیسری تاریخ 1838 عیسوی، مطابق 15 شعبان، 1255 ہجری، قلمی نسخے کے مطابق اور 3 ماہ نومبر 1839 عیسوی، مطابق 25 شعبان 1255 ہجری، مطبوعہ نسخے کے مطابق۔ آخرالذکر تاریخ ہجری اور عیسوی کلینڈر کے مطابق صحیح معلوم ہوتی ہے، کیونکہ مطبوعہ نسخے کی تاریخوں کو ایک دوسرے سے بدل کر دیکھا گیا تو دونوں مہینے کی وہی تاریخیں سامنے آتی ہیں جن کا ذکر مطبوعہ نسخے میں کیا گیا ہے۔
7۔        لارڈ آک لنڈ (گورنر جنرل، ہند) کی معیت میں رجمنٹ سولہ (16)، سات (7) لعل کرتی، تین رسالہ، بائیس پلٹن اور چھ توپخانہ اور چار رسالہ میجر سکندر برنس کی معیت میں کابل بھیجے گئے۔
8۔        فیروز پور پہنچنے پر مہاراجہ رنجیت سنگھ (والی لاہور) موت: 27 جون 1839) اور ان کے فرزند کھڑک سنگھ نے بیس ہزار فوج کے ساتھ انگریزی لشکر کا استقبال کیا اور فوج کے ہر سپاہی کو ایک ایک روپیہ بطور انعام کے دیا۔ (ص 3)
9۔        اور مہاراجہ رنجیت سنگھ راس گھوڑے مع ساز طلا اور ایک زنجیر فیل مع عماری مغرق طلائی لارڈ صاحب بہادر کو دیے(ص 3)
10۔     12 نومبر 1840 عیسوی کو کابل سے انگریزی فوجوں کی واپسی ہوئی۔
11۔     سفرنامہ لکھنے کا مقصد فدا حسین کی زبانی ملاحظہ کیجیے: ”وقتِ رخصت بڑے بھائی صاحب نے اس خاکسار کو خدائے کریم کے سپرد کرکے فرمایا کہ اگر خدا حافظ حقیقی تم کو اپنے فضل میں محفوظ رکھے اور زندگی وفا کرے، لازم ہے کہ احوال اس ملک کا جو کہ بچشم خود دیکھو اس کو لکھ کر واسطے دیکھنے میرے کے لانا۔ چنانچہ اس عاجز نے بموجب ارشاد حاجی حسین علی خان صاحب برادر ممدوح کے کچھ تھوڑا سا حال اس سفر کا لکھا ہے۔“ 5
قدیم سفرناموں کی طرز پر لکھے گئے اس سفرنامے میں بھی مختلف شہروں کے حالات و کوائف اور وہاں کے باشندوں کی بود و باش کو بیان کرنے کے علاوہ جنگی مہم جوئی سے بھی پوری طرح واقف کرایا گیا ہے۔
ظاہر ہے کہ یہ جنگ اس دور کی مشہور جنگ تھی، جس کا ذکر ہندوستان اور افغانستان کی تاریخوں میں خصوصیت سے کیا گیا ہے لیکن جن تفصیلات کا بیان زیربحث سفرنامے میں کیا گیا ہے، ان کا عشر عشیر بھی تاریخ کے اوراق میں نہیں ملتا۔ ایسا اس لیے کہا جارہا ہے کہ اسی دور کی تاریخ ’حیات افغانی‘ مطبوعہ 1867 عیسوی میں محمد حیات خان نے اس جنگی مہم کو فقط تاریخی واقعے کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ جبکہ ’جنگ نامہ کابل‘ کے مصنف نے اپنے اس سفرنامے میں نہ صرف تاریخ و جغرافیہ اور انگریزوں اور افغانوں کے درمیان معرکہ آرائیوں کا بیان کیا ہے بلکہ ان مقامات اور ان صورت حال کی منظرکشی بھی کی ہے جن مقامات سے وہ گزرا ہے یا جو حالات اس پر گزرے ہیں۔ یہاں پر ’حیاتِ افغانی اور سفرنامہ ’جنگ نامۂ کابل‘ سے ایک ہی واقعے کے اقتباس کو پیش کیا جاسکتا ہے اور سمجھا جاسکتا ہے کہ تاریخ اور سفرنامے میں کسی بھی واقعے کے بیان کی تفصیلات کس طور پر بیان کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر دیکھیں ایک منظر تاریخ کے آئینے میں:
”22 فروری 1839 عیسوی کو انیس ہزار تین سو پچاس سپاہی نے اور چھ ہزار فوج شاہ شجاع نے مقام سیوان سے براستہ درّہ بولاں قندھار کی طرف کوچ کیا اور بسبب کمی پانی بہت سی تکلیف اٹھا کر چہارم ماہ مئی 1839 عیسوی کو قندھار میں پہنچے۔“ 6
اب اسی واقعے کو ’جنگ نامہ کابل‘ کے منظرنامے پر دیکھیے:
پانی نہر کا جو مردمانِ نواب (بہاول خان) نے بند کردیا تھا اس واسطے لشکر پر بہت تکلیف شدید گزری بلکہ پانی کیچڑ کا ملا ہوا بدبو پیا اور اس میں مزبلہ جانوروں کا بھی تھا۔ دردِ شکم اٹھا دست جاری ہوئے اور دو دن ایک رات وہ بھی میسر نہ آیا تو آدمی اور جانور لشکر کے قریب ہلاکت کے پہنچے اور ماہی بے آب کی مانند تڑپنے لگے۔ اس وقت ایک بھیدی کو بہت سا انعام دے کر شام کو ایک جمعدار، دو حوالہ دار، دو نایک اور بیس سپاہی اور تیس تائیس رسالہ کے، واسطے کاٹنے بندِ آب کے بھیجے۔ قدرت خدا کی سے وہ وہاں پہنچے اور پانی کاٹ دیا۔ آدھی رات کے وقت لشکر کے پاس پانی زندگانی پہنچا، تن بے آب میں جان آگئی۔“ 7
اس سفرنامے کا ایک خاص وصف یہ بھی ہے کہ جنگی مہموں کے باوجود اس میں سید فداحسین نے جن حالات و واقعات سے قارئین کو روشناس کرانا چاہا ہے اس میں کسی قسم کا سقم نہیں آنے دیا بلکہ اس سفرنامے میں انیسویں صدی کے چوتھے دہے کے ہندوستان و افغانستان کے مختلف شہروں، قصبوں اور گاؤں کی ایسی تصویر کشی کی گئی ہے جس میں قدیم عمارتوں کے آثار و احوال، مساجد، خانقاہیں، زیارت گاہیں، مقابر، محلات، قلعوں کی تفصیلات، بازاروں اور دوکانوں کے نقشے، عجائباتِ کائنات، معجزات، وبائی امراض، باغات، نہریں، چشمے، قوموں کے خصائص اور خصائل، قوموں کے رسم و رواج، ملبوسات، دولت مندی اور افلاس، صفائی اور گندگی کی تصویریں، مختلف جگہوں کے باشندوں کے عقائد، زبان اور ان کے معاشرتی نظام وغیرہ کو بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔
یہ سچ ہے کہ اس سفرنامے کا مصنف سید فدا حسین انگریزی فوج کا ایک سپاہی تھا لیکن باوجو داس کے اس نے اپنے سفرنامہ میں انگریز حکمرانوں کی چالاکیاں اور عیاریاں بھی دبے لفظوں میں بیان کی ہیں، ساتھ ہی چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے نوابوں اور راجاؤں کی انگریز نوازیاں بھی دکھائی ہیں۔ کابل و قندھار کی طرف بڑھتی ہوئی انگریزی فوجوں کا گزر جن ریاستوں سے ہوتا، وہاں کے امرا و رؤسا جس طرح پلکیں بچھا کر ان کا استقبال کرتے وہ بھی دید کے قابل ہے۔
بہرحال آئیے دیکھتے ہیں کہ ’جنگ نامہ کابل‘ سفرنامے کے اسلوب، فن اور تکنیک کے لحاظ سے سفرنامے کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔ یوسف کمبل پوش کے سفرنامے ’عجائبات فرنگ‘ کی طرز پر ’جنگ نامہ کابل‘ کا آغاز بھی حمدِ باری تعالی سے ہوتا ہے۔ اس کے اسلوب سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ فدا حسین کو زبان پر کس قدر قدرت حاصل تھی یا ”تعلیمی استعداد کم ہونے کے باعث زبان و بیان پر اسے بہت زیادہ قابو نہیں رہتا۔“ ملاحظہ کیجیے ”جنگ نامہ کابل“ کے ابتدائیے کا یہ اقتباس:
حمدِ بے حد جناب پروردگار عالم میں واجب ہے کہ اس نے ہژدہ ہزار عالم کو اپنی قدرت کاملہ ایک حرف کن کے ساتھ پیدا کیا اور انسان کو خطاب اشرف المخلوقات عطا کیا اوراس میں سے انبیا اوراولیا کو برگزیدہ کرکے حالات آسمانی اور راز دوجہانی پر آگاہ کیا اور ہزاروں نعمت اور راحت سے بہراندوز کرایا اورانواع طرح کی مصیبت اور بلا میں بعضوں کو مبتلا کیا اور بعضوں کو عوض اس مصیبت کے توفیق صبر و شکر رفیق اس کے کی کہ درجاتِ عالیات ان کے فردوس اعلیٰ میں پہنچائے۔“ 8
مطبوعہ نسخے (مسمیٰ بہ ’تاریخ افغانستان‘) میں، ذیل کی عبارت کا اضافہ ہے:
اور ہزاروں درودِ نامحدود اوپر رسولِ مقبول علیہ الصلوٰہ والسلام اور اصحاب کرام اور ائمہ معصومین اور تابعین علیہم الرحمت والرضوان پر 
ہوا نازل جو اس کے حق میں لولاک
گیا معراج کو وہ صاحب ادراک
کہ اس نے چراغ ہدایت کو روشن کرکے گمراہانِ بادیہ ضلالت کو راہِ ایمان دکھلائی اور شفاعت ہم گنہگاروں کی اپنی شفاعت پر موقوف فرمائی۔ امابعد۔ 9
فدا حسین نے اپنے سفرنامے میں جس طرح حالات و واقعات اور مختلف کیفیات کی منظرکشی اور جزئیات نگاری کی ہے اسے دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اگرچہ وہ ایک انگریزی حکومت کا سپاہی تھا، لیکن باوجود اس کے اس کی نگاہیں ایک ماہر سیاح کی طرح پیش آنے والے واقعات و حالات کو دیکھ رہی تھیں اور ایک حساس انسان کی مانند ان واقعات و حالات سے لطف اندوز یا غمگین بھی ہوئی جاتی تھیں۔ اس نے جس خوبصورتی سے مختلف ملکوں اور شہروں کے حالات و کوائف، وہاں کے باشندوں کی رسم و رواج اور ان کی بود و باش کو بیان کیا ہے وہ دیکھنے کے قابل ہیں۔ ملاحظہ کریں چند اقتباسات:
بہاول پور کو دیکھا کہ شہر خوب اور بازار مرغوب۔ جملہ اشیا پارچہ وغیرہ میوہ تر خشک ہر وقت ارزاں موجود اور باغات کی سرسبز و شادابی کی کچھ تعریف نہیں ہوسکتی لیکن لشکر کے شتربانوں نے ہزاروں درخت میوہ دارازراہِ بدذاتی کاٹ کر تباہ کردیے۔ دو مقام بہاولپور میں کرکے روانہ احمدپور کے کہ چالیس 40 کوس بہاولپور سے ہے دیکھا کہ وہ شہر نہایت حوش اسلوب کہ تعریف اس کی درمیان احاطہ قلم نہیں سماتی اور اندر شہر کے ایک مسجد اور ایک کنواں پختہ بہت صاف اور اچھا کہ بیچ ہندوستان کے ایسی جگہ کم دیکھی۔ لائق عبادت کے جو کوئی دیکھتا ہے دل اس کا وہاں سے جدا ہونے کو نہیں چاہتا۔“ 10
شکارپور کے عوام، وہاں کے مکانات اور زبانِ ہندوستانی کا ذکر یوں کیا ہے:
وقت پہنچنے شکار پور کے دیکھا کہ شہرشکار پور نہایت خوب بااسلوب آباد، رعیت سب آسودہ اور مہاجن مال داراور قوم بہت اشراف اس میں رہتی ہیں بازار دلچسپ مکانات دل پسند اور دلکشا عوتیں حسین اور آدمی وہاں کے زبان ہندوستانی بولتے ہیں۔“ 11
شہر کابل جنت نشان کی رونقیں ملاحظہ کیجیے:
دیکھنے سے شہر کابل کے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے بہشت دوسرا اوپر زمین کے بنایا ہے۔ چار بازار پختہ بہت تحفہ چھتہ پٹا ہوا اور باغات بے نہایت اندر اور باہر شہر کے بہت آبادی، سرسبزی شادابی اور پانی کی افراط بدرجہ کمال، ایک طرف شاہ باغ بہت بڑا اور ایک طرف روضہ جناب سید الشہدا شاہ مرداں۔“ 12
قندھار کا ذکر کرتے ہوئے وہاں کے باشندوں کے عقائد اور مقامات مقدسہ کے احوال پر بھی ایک نظر ڈال لیتے ہیں:
شہر نہایت اچھا اور آبادی بہت مگر مرد و زن نہایت کثیف میلے کپڑے، رنگ کے گورے، نقشہ بدزشت، خومردم آزار، ودغاباز، مگر دومولوی صاحب فاضل اور عالم ایک کا نام مولوی محمد عبداللہ، دوسرے محمد طاہر کہ ہر جمعہ کو مجلس سید الشہدا ان کے ہاں ہوتی ہے... ایک خانقاہ احمد شاہ درانی کی بہت خوب روضة بنا ہوا موافق مقبرہ کے اور ایک مسجد اسی خانقاہ میں بہت اچھی اور چار دروازہ شہر کے ہیں اور قلعہ اوپر پہاڑ کے ہے کہ قومِ عاد نے بنایا تھا اور نیچے قلعے کے تمام زیارات ہیں اولیاءاللہ کی اور قلعے میں چار سرنگ بنی ہیں“ 13
فدا حسین نے اپنے سفرنامے میں جو کچھ بیان کیا ہے، ظاہر ہے کہ وہ سب کچھ اپنے بڑے بھائی کی فرمائش پر کیا ہے تاکہ جن شہروں اور علاقوں سے اس کا گزر ہوا ہے اس کاآنکھوں دیکھا حال اپنے بھائی کو بتا سکے، اور وہ اس میں کافی حد تک کامیاب بھی ہوا۔ کہا جاسکتا ہے کہ آج سے تقریباً دو سو سال پہلے کے جن شہروں کے حالات و واقعات کا نقشہ اس سفرنامے میں کھینچا گیا ہے ان سے اس زمانے کے مختلف شہروں، قصبوں اور گاؤں میں بسنے والی قوموں اور قبیلوں کے معاشرتی اور سماجی نظام کی صورت حال سامنے آجاتی ہے۔ فدا حسین نے ان قوموں سے تعلق رکھنے والی تمام تر ضروری معلومات اپنے قارئین تک پہنچانے کی کوشش کی ہے جن سے پڑھنے والوں کو کسی بھی نئے ملک، نئے شہر اور وہاں کے باشندوں کے احوال و کوائف سے پوری طرح واقفیت ہوجائے۔ مثال کے طور پر قوم قزلباش جو اس وقت کابل کے جوار میں بستی تھی جس کے چار محلے تھے، ہر محلے کا ایک سردار تھا، ان کے سماجی اور معاشرتی نظام سے واقف کراتے ہوئے سید فدا حسین لکھتے ہیں:
چاروں محلہ ایک صلاح اور ایک بات رکھتے ہیں طاقت کسی کی نہیں کہ اندرونِ محلہ بے اجازت جاوے۔ بازار اور سب لوازمہ ان کا جدا ہے، ان محلوں میں عمل شاہ یا انگریز کا نہیں بہت سا بندوبست ہے۔ پانچ تلنگی لشکر سے ہمارے روبرو محلہ چندول میں ازراہِ حرامزادہ گی دیکھنے کو گئے تھے، ان کو جان سے مار کر نہر میں ڈال دیا... کوئی آدمی محتاج اور فقیر نہیں اور ہر ایک گھر میں بہت تحفہ خانہ باغ اور نہر پانی کی جاری اور مکانات دلچسپ کہ نام گرمی کا اور دھوپ کا نہیں ہوتا۔ قوم قزلباش مغل کے غلام خانہ اور پارسیاں مشہور ہیں۔ بول چال ان کی فارسی اور اکثروں کی ترکی اور سبیل نیاز حضرت امام حسینؑ کا رسم اور ایک امام باڑہ بہت تحفہ اور علم حضرت عباس کا بیچ مراد خانی کے اور ایک امام باڑہ اور مسجد عالی چندول میں اور پنجشنبہ کو مجلس اور کتاب ہوتی ہے اور ماتم آٹھویں دن ایسا ہوتا ہے کہ بیاں سے باہر ہے اور زیارات بے شمار ہیں۔“ 14
اسی طرح بت بامیان کی وجہ تسمیہ اور وہاں کے جَو کی خصوصیات کے بارے میں رقم طراز ہیں:
بت بامیان کہ کابل سے سوکوس ہے وہ شہر بہت بڑا طرف بلخ کے کہ کھیتی جو کی وہاں ہوتی ہے اور جو وہاں کی گیہوں سے خوب ہے کہ خوشہ میں اس کے بھوسی نہیں ہوتی اور بت بامیان اس کو اس واسطے کہتے ہیں کہ بیچ شہر کے تین بت بلند کہ قد ہر ایک کا چار سو ہاتھ اونچا۔“ 15
چاری گار کی خوبصورتی اور وہاں کے پھلوں کے اوصاف کا ذکر یوں کرتے ہیں:
تیسرے دن داخل مقام چاری گار ہوئے۔ وہ مقام بسبب افراط آبشار و نہر خوشگوار اور میوہ گونا گوں ایک بہشت کا نمونہ ہے انگور مانند لیموں اور سب چکوترہ (ایک قسم کا درختی پھل جو خربوز سے بڑا ہوتا ہے، جس کا وزن تقریباً آدھا کیلو ہوتا ہے) کے برابر خربوزہ اور سردہ نارنج چار سیر کا اورارزاں۔ سرداس قدر کہ پھانک (قاش) کھانے کی طاقت نہیں ہوتی گویا دانت گرپڑیں گے اور زرد شفتالو اور ناشپاتی انار ترنج ہر ایک خوب۔“ 16
کہا جاسکتا ہے کہ اردو سفرناموں میں یوں تو مختلف ملکوں اور شہروں کے تاریخی، جغرافیائی اور تہذیبی حالات کی عکاسی کی جاتی ہے، جس کے سبب ہمارے سفرنامے معلومات کا ایک اہم سرچشمہ بھی قرار دیے جاتے ہیں لیکن ان قدیم سفرناموں سے لسانی ارتقا کا بھی علم ہوتا ہے۔ لسانی ارتقا کے اعتبار سے اگر جنگ نامہ کابل/ تاریخ افغانستان کا مطالعہ کیا جائے تو اس کے ذریعے انیسویں صدی کے چوتھے دہے میں اردو زبان کی بڑھتی ہوئی ترقی کو دیکھا جاسکتا ہے۔ اس زمانے تک عوام و خواص کی علمی زبان اگرچہ فارسی تھی، لیکن عام بول چال کی زبان میں اردو کا چلن کافی تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ ظاہر ہے کہ سید فدا حسین نے جسے ’ہندوستانی‘ زبان کہا ہے وہ دراصل یہی اردو ہے جو اس وقت ہندوستان کے مختلف شہروں میں بولی جانے والی عام زبان تھی۔ سفرنامہ نگار نے اپنے اس سفرنامے میں جس طرز کی انشا اور املا کا استعمال کیا ہے وہ اس دور کی انشا اور املا کے عین مطابق کہے جاسکتے ہیں۔ اس دور کی نمایاں لسانی خصوصیات کے پیش نظر مذکورہ سفرنامے کی انشا اور املا پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں:
الف:      یائے معروف اور یائے مجہول میں فرق نہ ہونا جیسے: ”دو دن اور ایک رات گزری پانی نہ ملا سپاہی گھبرا گئی وقت دوپہر کی صاحب نی توپوں کو درابیوں پر رکھااور سپاہی اور سواروں سی کھچوا کی اوپر پہاڑ کی کہ راہ میں بایل (حائل) تھا جانی کا قصد کیا۔“ 17
ب:       دو یا زیادہ الفاظ کو ملا کر لکھنا جیسے: علیخان، بھائیصاحب، جسوقت، بولچال، محمد خانکی، دیکہکر (دیکھ کر)، باغمیں باغ میں) وغیرہ۔
ج:        ہائے مخلوط کی بجائے ہائے کہنی دار کا عمومی استعمال جیسے: گہوڑے، (گھوڑے)، بہر (بھر)، کہڑی (کھڑی)، تہا (تھا)، دیکہنے (دیکھنے)، رکہنا (رکھنا)، دہوپ (دھوپ) وغیرہ۔
د:         املا کی قدیم طرز جواب متروک ہوچکی ہے۔ مثلاً : باروت (بارود)، اوس (اُس)، دیرہ (ڈیرہ)، ہایل (حائل) اور ’گ‘ کو ’ک‘ کی صورت لکھنا۔ وغیرہ۔
ہ:          جملے کی نحوی ساخت میں بھی آج کی بہ نسبت اس دور کی تحریروں میں کافی فرق ملتا ہے۔ مثال کے طور پر دیکھیں: ”اور جوڑی قاصدوں کی آئی زبانی ان کی معلوم ہوا کہ قندھار سے ایک پلٹن بادشاہی اور پانچ سو سوار کرسٹن صاحب کی ہندوستانی اور چھ ضرب توپ قلات کی طرف کہ چالیس کوس طرف کابل کے ہے آتے تھے۔“ 18
آئیے آخر میں فدا حسین کے سفرنامے سے واپسی کے حالات کو ایک نظر دیکھ لیتے ہیں:
بعد تھوڑے دن کے کرنال میں ا ٓئے اور بخوبی تمام آرام کیا داخل چھاونی کے ہوئے اور یہ عاجز وہاں سے رخصت ہوکر انگلسی لے کر بخیریت تمام شاہجہاں آباد میں آیا اور زیارات بزرگوں کی کرکے مغفرت اپنی کی دعا مانگی۔ غرض بیچ خدمت جمیع سامعانِ کتاب کے یہ ہے کہ ساٹھ ہزار فوج تیس ہزار بنگال حاطہ کی اور تیس ہزار بنبئی حاطہ کی لڑائی پر گئی تھی، سب ماری گئی۔ سات ہزار آدمی وہاں سے بچ کر زندہ آئے اور باقی وہیں مدفون ہوئے۔“ 19
واضح ہو کہ اس سفرنامے میں تقریباً ایک سو پچاس اشخاص، تیس سے زیادہ مقامات، تیس سے زائد جنگی اصطلاحات اور دس ندیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ دوست محمد خان، اس کے بھائیوں اور اس کے ساتھیوں کی جانبازی کے ساتھ افغانستان کی مختلف قومو ںاور قبیلوں کی بہادری اور ان کی جانبازی کو خصوصیت سے پیش کیا گیا ہے جو انگریزی فوجوں کے مقابلے میں سامنے آئے تھے، جن میں سے بہت سوں سے لڑتے ہوئے اپنی جان کی بازی لگائی تو کچھ مقابلے کی تاب نہ لاکر راستے سے ہٹ گئے۔ دوست محمد خان چونکہ اس وقت شاہ شجاع الملک درّانی کو تخت حکومت سے ہٹا کرخود کابل و قندھار کا بادشاہ بن بیٹھا تھا، اسی شاہ شجاع الملک جس سے مہاراجہ رنجیت سنگھ نے کوہِ نورہیرا حاصل کیا تھا، کی انگریزوں نے اپنے مفاد کے لیے حمایت کرتے ہوئے اسے کابل و قندھار کا دوبارہ بادشاہ بنانے کی خاطر اس جنگی مہم کا آغاز کیا تھا، تاکہ ان کے زیرنگیں حکومت کا دائرہ کابل و قندھار تک بڑھ جائے، جس میں وہ کامیاب بھی ہوئے۔ انھیں انگریزوں سے جنگ کرتے ہوئے دوست محمد خان نے بھی آخر میں کود کر انگریزوں کے حوالے کردیا۔ اس پورے واقعے کی تفصیل بھی ذکر کیے گئے سفرنامے ’جنگ نامہ کابل‘ (قلمی) اور ’تاریخ افغانستان‘ (مطبوعہ) میں موجود ہے۔
سفرنامہ ’جنگ نامہ کابل‘ کے اسلوب اور پیش کیے گئے جنگی، سماجی، تاریخی اور تہذیبی حالات و کوائف سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اگرچہ مصنف کو زبان اور طرزِ بیان پر اتنی قدرت نہیں جتنی کہ یوسف کمبل پوش کو ہے، پھر بھی زمانی تفوق اور لسانی ارتقا کے نقطۂ نظر اور سفرنامے کی تکنیک اور اس کے فنی لوازم کے پیش نظر اسے اردو کا پہلا نثری سفرنامہ قراردیا جاسکتا ہے۔
حوالے:
1۔        اردو سفرناموں کی مختصر تاریخ: مرزا حامد بیگ، ص 53، لاہور 1999
2۔        اردو سفرناموں کا تنقیدی مطالعہ: پروفیسر خالد محمود، ص 107، این سی پی یو ایل 2011
3۔        اردو سفرناموں کی مختصر تاریخ: مرزا حامد بیگ، ص 53، لاہور 1999
4۔        اردو سفرناموں کا تنقیدی مطالعہ، ص 107
5۔        جنگ نامۂ کابل (قلمی نسخہ): سید فدا حسین، عرف نبی بخش، ص 2، 1840 عیسوی
6۔        حیات افغان: محمد حیات خان، ص 79، مطبوعہ 1867 عیسوی۔
7۔        جنگ نامۂ کابل (قلمی نسخہ): سید فدا حسین، عرف نبی بخش، ص 16، 1840 عیسوی
8۔        ایضاً، ص 1
9۔        جنگ نامۂ کابل (قلمی نسخہ): سید فدا حسین، عرف نبی بخش، ص 3-4، 1840 عیسوی
10۔     ایضاً، ص 5
11۔     ایضاً، ص 9
12۔     ایضاً، ص 31
13۔     ایضاً، ص 19,20
14۔     ایضاً، ص 33
15۔     ایضاً، ص 34-35
16۔     ایضاً، ص 5 65
17۔     ایضاً، ص 52
18۔     ایضاً، ص 57
19۔     ایضاً، ص 83
نوٹ: یہ مقالہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے بین الاقوامی سمینار (12 تا 14 مارچ 2019) میں پڑھا جاچکا ہے۔
Dr. Ali Abbas
Asst. Prof. Dept of Urdu
Punjab University
Chandigarh - 160014
Mob.: 09988371214




ماہنامہ اردو دنیا،جولائی 2019




قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے