اردو دنیا،نومبر 2025
الطاف
حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات
پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو کی، جس میں انھوں نے شعر کی ضرورت، ماہیت،تاثیر،عظمت،شرائط،خوبیوں
اور شعر کے دیگر امور پر مفصل اور مدلل روشنی ڈالی۔ میرے اس مضمون میںتنقید کے تین
اہم اور لازمی شرائط تخیل، مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی
گئی ہے۔ حالی کے نزدیک یہ تینوں شرطیں شاعر کو غیرشاعر سے ممتاز کرتی ہیں۔
تخیل
حالی
نے تخیل کو شاعری کی سب سے اہم اور بنیادی شرط قرار دیا ہے۔ تخیل کا ملکہ وہبی اور
عطائی ہے، اسے مشق سے حاصل نہیںکیا جاسکتا۔یہ ملکہ جس قدر اعلی درجے کا ہوگا،شاعری
بھی اسی مرتبے کی ہوگی۔ یہ ملکہ اگرکسی شخص میں نہ ہو، تو وہ حقیقی شاعر نہیں بن
سکتا۔حالی کے نزدیک تخیل ایسی طاقت ہے جوشاعر کو وقت اور زمانے کی قید سے آزاد
کرتی ہے اور ماضی و استقبال کو زمانۂ حال میں کھینچ لاتی ہے۔نیز تخیل کے
زورپرشاعرجنت،دوزخ اورحشرونشر کو ایسے اسلوب میں بیان کرتاہے،گویا اس نے اپنی
آنکھوں سے دیکھا ہے۔یا فرضی اور معدوم چیزوںکوجیسے جن،پری،عنقا اور آب حیواںکو ایسے
صفات سے متصف کر کے بیان کرتا ہے کہ ان کی تصویر آنکھوں کے سامنے پھر جاتی ہے۔
حالی تخیل کی ماہیت کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وہ
ایک ایسی قوت ہے کہ معلومات کا ذخیرہ جو تجربے یا مشاہدے کے ذریعے ذہن میں پہلے سے
مہیا ہوتا ہے، یہ اس کو مکرر ترتیب دے کرایک نئی صورت بخشتی ہے اورپھر اس کوالفاظ
کے ایسے دلکش پیرایے میںجلوہ گر کر تی ہے،جو معمولی پیرایے سے بالکل یا کسی قدر
الگ ہوتا ہے۔1
حالی
نے تخیل کی جو تشریح کی ہے، وہ کولرج کے خیالات سے ماخوذ ہے،لیکن حالی کی تشریح میں
’تخیل‘ اور ’فینسی‘ آپس میں گڈ مڈ ہوگئے۔ حالی سے تخیل کی تشریح میں سہو،در اصل
کولرج کے نظریات سے براہ راست واقفیت نہ ہونے کے سبب ہواہے۔فینسی ’’وہ طاقت ہے جو
شاعر کو وقت اور زمانے کی قید سے آزاد کرتی ہے‘‘ اور تخیل ’’وہ قوت ہے جو معلومات
کے ذخیرے کو مکرر ترتیب دے کر اسے ایک نئی صورت بخشتی ہے‘‘ حالی دونوں کے مابین
فرق کو واضح نہ کر سکے، یا جن انگریزی دانوں نے انھیں کولرج کے نظریات سے متعارف
کرایا تھا۔وہ خود سمجھ نہ سکے،یاحالی کوسمجھانہ سکے۔ فینسی اور تخیل کے حوالے سے
ممتاز حسین لکھتے ہیں:
اس
میں شبہ نہیںکہ فینسی بڑے بڑے کرتب دکھاتی ہے۔حشر و نشر کا نقشہ کھینچ دیتی ہے۔قبر
کی کہانی سناتی ہے۔طرح طرح کے غل غپاڑے کرتی ہے۔ لفظوں کے رشتے سے شعر کہتی ہے۔لب
و لہجے کی نقل اتارتی ہے۔ضلع جگت پھبتی کستی ہے۔لیکن جس حد تک کہ وہ قوتِ ارادہ
اور شعور سے متعین نہیں ہوتی ہے،وہ قوتِ ارادہ اور شعور پر اثر انداز بھی نہیں ہو
سکتی ہے۔ فینسی کی شاعری تفریح طبع کا بہت سا سامان مہیا کرتی ہے۔ لیکن اخلاق کو
بدلنے یا مذاق سخن کے بدلنے میں کوئی کردار ادا نہیں کرتی ہے۔یہ کام تخییلی شاعری
انجام دیتی ہے،جو شعور اور ارادے سے متعین ہوکر شعور اور ارادے پر اثر انداز ہوتی
ہے۔2
فینسی
اور تخیل کے مابین فرق کو نہ سمجھنے کے سبب ہی حالی سے تخیل کی تشریح میں
تضادہواہے۔ایک جگہ لکھتے ہیںکہ تخیل ایسی قوت ہے جو جن،پر ی،عنقا اورآب حیوان جیسی
فرضی اور معدوم چیزوں کو بھی ایسے طریقے سے پیش کر دیتی ہے کہ اس کی تصویر آنکھوں
کے سامنے پھر جاتی ہے۔ دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ تخیل وہ قوت ہے جو تجربے اور مشاہدے
کے ذریعے ذہن میںپہلے سے موجود چیزوں کو مکرر ترتیب دے کر ایک نئی صورت بخشتی
ہے۔جب کہ جِن،پری،عنقااور آب حیواں اور انسانی تجربہ آپس میں ایک دوسرے کے مخالف
ہیں۔پھر کیسے دونوں ایک ہی چیز کی تعریف پر صادق آئیں گی؟ اسی طرح حالی تخیل کی
تعریف میں ایک دوسرے جزو کا اضافہ کرتے ہیں۔ تخیل ایسی قوت ہے جو تجربے اور مشاہدے
کو الفاظ کے ایسے دلکش پیرائے میں جلوہ گر کرتی ہے،جو معمولی پیرایوں سے بالکل یا
کسی قدر مختلف ہوتی ہے۔اس سے حالی نے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا ہے کہ تخیل کی کارفرمائی
خیال اور لفظ دونوں میں ہوتی ہے۔یہاں پر حالی تخیل کے تحت فینسی کے دونوں پہلوؤں
کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔فینسی جہاں خیالات میں تصرف کرتی ہے،وہیں الفاظ میں بھی
تصرف کرتی ہے۔جس سے بیان میں ایک قسم کا نرالا اور انوکھا پن پیدا ہوتا ہے۔ اوریہ
نرالاپن لفظوں کے لغوی اور استعاراتی معنوں میں الٹ پھیر سے ہوتا ہے۔
حالی
نے تخیل کے ذیل میں جن مثالوں کو پیش کیا ہے۔ اس کے پیش نظر ان کے نقادوں کا ماننا
ہے کہ حالی سے تخیل اور فینسی میں جس طرح فرق نہ کرنے کے باعث سہو ہوا ہے اسی طرح
ان سے حقیقی اور جھوٹی وٹ (Wit) کے مابین
تفریق نہ کر نے کے باعث ایسا خلط مبحث ہوا ہے جس سے شعر کے صحیح مذاق کی ترسیل نہیںہو
سکی ہے:
’’حالی
اگر ایک طرف تخیل اور فینسی کے فرق کو سمجھنے سے قاصر رہے اور تخیل کا نام لے کرفینسی
کی تعرف کرتے رہے، اسی طرح وہ سچی وٹ اور جھوٹی وٹ کے فرق کو بھی نہ سمجھ سکے۔اور
جھوٹی وٹ کے شعری طریق استدراک کی تشریح علمی طریقہ استدراک کے انداز میں کی۔ اس
سے ایسا خلط مبحث ان کے مقالے میں پیدا ہواکہ اس کی وجہ سے صحیح مذاق شعر کی
رہنمائی نہ ہوسکی۔3
جھوٹی
وِٹ اور حقیقی وِٹ کی بحث ایڈیسن (Addison) کے یہاں
ملتی ہے۔جس کے نظریات و خیالات سے سرسید اور ان کے رفقائے کار متاثر تھے۔اس نے
جھوٹی وٹ اور حقیقی وٹ کی تشریح اپنی تحریروں میں کی ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ جھوٹی
وٹ الفاظ کے صوری اورشکلی مشابہت سے کام لینے کو کہتے ہیں،جب کہ حقیقی اور سچی وٹ
خیالات کی مشابہت اور قوت ممیزہ کی صوابدید سے ایسے دو خیالات کو ایک دوسرے سے جدا
کر دیتی ہے، جو آپس میں کم مشابہت رکھتے ہوں۔ جیسے غالب کا وہ شعر جسے حالی نے تخیل
کی مثال میں پیش کیا ہے ؎
اور
بازار سے لے آئے، اگر ٹوٹ گیا
ساغرِ
جم سے مرا جامِ سفال اچھا ہے
مقدمہ
شعر وشاعری میں دوسرا مصرع اس طرح ہیــ ؎
جام
جم سے یہ مرا جام سفال اچھا ہے4
لیکن
یہ مصرع دیوان غالب میں ’ساغر جم سے مرا ‘ درج ہے۔5 اس شعر میں جام سفال کو جو نہایت
کم قیمت اور ارزاں ہے ساغر جم سے سے بہتر قرار دیا گیاہے،جو انمول اور بے بدل
ہے۔اور یہ حسن تعلیل کی بہترین مثال ہے۔ اوربقول حالی اس سے زبان متلذذ،کان محظوظ
اوردل متاثر ہوتا ہے۔ اوریہ شعرباوجود کمال سادگی اور بے ساختگی کے نہایت بلند اور
تعجب انگیز ہے۔ واضح ہو کہ مذکورہ بالا خاصیت کاشعر میںہونا جھوٹی وٹ کا مظہر
ہے،نہ کہ تخیل کا۔نیز اس شعر میںجس طرح جام سفال کو ساغر جم سے بہتر قرار دینے کی
کوشش کی گئی ہے،وہ بھی قابل غور ہے،اس لیے کہ کسی چیز کے بہ آسانی حصول سے اس کی
قدر نہیں بڑھتی،بلکہ ضرورت مند کے لیے اس کا حصول آسان ہوتا جاتا ہے، لیکن جو چیزصرف
نادر و نایاب نہیں،بلکہ انمول اور بے بدل ہو، تب بھی اس کی قدر و قیمت کم نہیں ہوگی۔
البتہ دل کو خوش رکھنے کے لیے یہ خیال اچھا ہے۔اس شعر سے اگرچہ حسن تعلیل کی وجہ
سے تلذذ اور انبساط حاصل ہوا ہے، لیکن کوئی ایسی نئی صورت خلق نہیں ہوئی، جوحقیقی
علم عطا کرے یا شعور کو متاثر کر ے،جو کہ تخیل کا کارنامہ ہے۔
مطالعۂ
کائنات
شاعری
کی دوسری شرط’ مطالعہ کائنات‘ ہے۔ بقول حالی اگر چہ تخیل اپنے محدود اور تنگ دائرے
میں رہتے ہوئے بھی کچھ نہ کچھ نتیجہ نکال سکتا ہے۔لیکن شاعری میں کمال حاصل کرنے
کے لیے نسخۂ کائنات اور خاص کر نسخۂ فطرت انسانی کا مطالعہ ضروری ہے۔حالی کی اس
تشریح سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مطالعۂ کائنات شاعری کی شرط نہ ہو کر تخیل کی
پختگی اور اس کے کمال کی شرط ہے۔اس لیے کہ مطالعۂ کائنات اگرشاعری کی شرط ہے،تواس
کے بغیر شاعری ممکن نہیں۔حالی نے سر والٹراسکاٹ کے حوالے سے مطالعۂ کائنات کی اہمیت
و افادیت کی مثال دی ہے کہ وہ کس طرح چھوٹے چھوٹے خودروپھول،پتے اورمیوے کے نام
نوٹ کر رہاتھا،جو وہاں اُگ رہے تھے،تاکہ تخیل کی پرواز کو بلند کرسکے۔ اس سے بھی
معلوم ہوتا ہے کہ مطالعۂ کائنات تخیل کی بلندی کے لیے ضروری ہے، نہ کہ شاعری کے لیے
شرط ہے۔یہ بھی قابل غور ہے کہ جس شخص میں تخیل کا ملکہ فطری ہوگا،اس کی فطرت خود
بخود نسخۂ فطرت انسانی اور نسخۂ کائنات کے مشاہدے سے اپنی ضرورت کی چیزوں کو اخذ
کرتی رہے گی۔ اور جوجذبات و خیالات اس کے دل و دماغ میںآتے ہیں، وہ اس کے ذہن پر
نقش ہوتے رہتے ہیں،جیسے وہ نئی نئی ترکیب و ترتیب سے نئے نئے نقوش بناتا رہتا
ہے،وہ ایک اخباری رپورٹر کی طرح کاغذ پر چھوٹی چھوٹی چیزوں کو لکھتا نہیں پھرا
کرتا۔جب کہ حالی کو خود ا س کا اعتراف ہے کہ ’’جتنے بڑے بڑے شاعر دنیا میں گزرے ہیں،وہ
کائنات اور فطرت انسانی کے مطالعے میں ضرور مستغرق رہے ہیں۔ جب رفتہ رفتہ اس
مطالعے کی عادت ہوجاتی ہے، تو ہر ایک چیز کو غور سے دیکھنے کا ملکہ ہو جاتا ہے اور
مشاہدوں کے خزانے گنجینۂ خیال میں خود بخود جمع ہونے لگتے ہیں‘‘۔بظاہر ایسا لگتا
ہے کہ حالی سر والٹر اسکاٹ کے حوالے سے اپنی کہی ہوئی بات کی تردید کر رہے ہیں۔ شاید
ایک یوروپین کے حوالے سے اپنے نظریے کو موثر بنانا چاہ رہے ہیں،لیکن اس سے تو انھیں
کے قول کی نفی ہورہی ہے۔
حالی
نے سر والٹر اسکاٹ کی شاعری کے حوالے سے دو باتوں کی موجودگی کا ذکر کیا ہے۔ایک
اصلیت سے تجاوز نہ کرنا،دوسرے ایک ایک مطلب کونئے نئے اسلوب سے ادا کرنا۔اسی طرح
حالی نے ایک جگہ گولڈ اسمتھ کا بھی حوالہ دیا ہے۔ممتاز حسین دونوں کے بارے میںایک
جگہ لکھتے ہیں :
گولڈ
اسمتھ اور اسکاٹ دونوں آگسٹن
(Augustan) دور(یہ دور یورپ میں سترہویں صدی کے اواخر سے اٹھارہویں صدی کے ربع ثانی
تک مانا جاتا ہے )کے شاعر تھے۔ اس دور میں کلاسیکی ماڈل کی نقالی کو اہمیت دی جاتی
اور شاعری میں تعقل اور اخلاقی تعلیم کو اصول شاعری کی حیثیت سے تسلیم کیا
جاتا۔چنانچہ اس کے اثرات ان دونوں کی شاعری میں بھی ملتے ہیں۔لیکن چونکہ یہ زمانہ
رومانیت کی آمدآمد کا تھااور یہ بات روز بروز ابھر رہی تھی کہ اولاًشعری مضمون
کے پیچھے کوئی ٹھوس حقیقت ہونی چاہیے یعنی اس کی بنیاد صرف واہمے پر نہ ہو،دوسرے یہ
کہ پُر آرائش اسلوب کے بجائے سادہ، فطری اسلوب ہونا چاہیے۔6
سر
والٹر اسکاٹ اور گولڈ اسمتھ دونوں دوئم درجے کے شاعر ہیں۔ان کی شاعری اور خیالات
کو کوئی خاص اہمیت یوروپین شاعری میں نہیں دی گئی، جتنا کہ چوسر، اسپنسر اور شیکسپیئر
کے کلام کو دی گئی۔لیکن سر والٹر اسکاٹ اور گولڈ اسمتھ کے خیالات، اصلاحی اور مقصدی
نظریات کے عین مطابق تھے،جنھیں حالی کے مشیروں نے شاید حالی تک پہنچا دیا اور حالی
نے ان کے نظریات کو اردو ادب میں اصلاح کے
مدنظرپیش کردیا۔
حالی
نے مطالعۂ کائنات کی تشریح کرتے ہوئے اس کے دائرے کو بہت وسیع کردیاہے، تخیل اور
حافظہ دونوں اس کے دائرۂ کار میں آگئے ہیں۔ حالی کا یہ کہنا ’’اس سرمایے کو اپنی
یاد کے خزانے میں محفوظ رکھے‘‘ حافظے کا کام ہے اوران کا یہ کہنا ’’فکر میں میں
مشق و مہارت سے یہ طاقت پیدا کرنی کہ وہ مختلف چیزوں سے متحد اور متحد چیزوں سے
مختلف خاصیتیں فوراً اخذ کر سکے‘‘ یہ تخیل کا خاصہ ہے۔لیکن تخیل کی بحث میں حالی
نے اس قوت کووہبی کہاہے،جب کہ مطالعۂ کائنات میں اسی قوت کو کسبی قرار دیا ہے۔حالی
نے تخیل کی بحث میں جس خاصیت کا ذکر کیا تھا،مطالعۂ کائنات کے تحت اسی خاصیت کا
اعادہ کیاہے،بس فرق یہ ہے کہ تخیل میں ’نئی صورت‘ کا اضافہ ہے، اور مطالعۂ کائنات
میں نہیں ہے۔
تفحص
الفاظ
شاعری
کی تیسری شرط ’تفحص الفاظ‘ ہے۔ حالی کے نزدیک تفحص الفاظ کے ذریعے ہی تخلیق کار کسی
خیال کو مناسب اور موزوں ترین الفاظ کاجامہ پہناتا ہے، جس سے اس خیال کی تصویر ہو
بہ ہو آنکھوں کے سامنے پھر جاتی ہے۔یعنی تفحص الفاظ کے ذریعے ہی شاعر اپنے خیال
کوہوبہ ہو مخاطب کے رو بہ رو پیش کرنے پر قادر ہوتاہے۔تفحص الفاظ سے ہی شعر میں ایسی
کیفیت پیدا ہوتی ہے، جومخاطب کو مسخر کر لیتی ہے۔ اگر کوئی شاعر ایسا کرنے پر قدرت
نہ رکھتا ہو تو اس کا شعرکہنے سے نہ کہنا ہی بہتر ہے۔حالی لکھتے ہیں:
اگر
چہ شاعر کے متخیلہ کو الفاظ کی ترتیب میںبھی ویسا ہی دخل ہے،جیساکہ خیالات کی ترتیب
میں،لیکن شاعر اگر زبان کے ضروری حصے پر حاوی نہیں ہے اور ترتیب شعر کے وقت صبر
واستقلال کے ساتھ الفاظ کا تتبع اور تفحص نہیںکرتا تو محض قوت متخیلہ کچھ کام نہیں
آسکتی۔7
حالی
کے اس بیان سے بظاہرایسا محسوس ہوتا ہے کہ الفاظ و خیالات دو الگ شے ہیں،جو بیک
وقت ذہنِ انسانی میں نہیں آتے۔یعنی خیالات و الفاظ الگ الگ وقت میں انسانی ذہن میں
آتے ہیں۔ اسی لیے کلیم الدین احمد لکھتے ہیں:
کیاآپ
خیالات کا نقشہ ذہن ہی میں سہی، لفظوں کی مدد کے بغیر کھینچ سکتے ہیں؟خیالات اور
الفاظ بیک وقت اس کے ذہن میں آتے ہیں۔خیالات اور الفاظ کا انتخاب، خیالات اور
الفاظ کی جانچ، خیالات اور الفاظ کی ترتیب یہ سب چیزیں ساتھ ساتھ عمل میں آتی ہیں۔8
کلیم
الدین احمد کا یہ اعتراض بجا ہے،کہ خیالات اور الفاظ دونوں ذہن میں ایک ساتھ آتے
ہیں، لیکن بظاہر حالی کا مقصدخیالات اور الفاظ کی علیحدگی کا نہیں،بلکہ خیالات جن
الفاظ کے ساتھ ذہن میں آئے تھے، وہ الفاظ ان خیالات کے لیے مناسب اور موزوں بھی ہیں،
یا نہیں۔ حالی نے اسی لیے شاعر کو غورو فکر کی ضرورت پر ابھار ا ہے۔ ان کا مقصد
الفاظ اور خیالات میں تفاوت بیان کرنا نہیں۔دنیائے ادب میںاستادی اور شاگردی کی جو
مضبوط روایت رہی ہے اس کا مقصد ہی شاگردوں کے اشعار پراصلاح دینا ہوتا
تھا۔بسااوقات اساتذہ کے ایک دو لفظ کے حذف و اضافے یا ردو بدل سے شعر کی معنویت
اور تاثیرمیں جو اضافہ ہوتا تھا،وہ آج ادب سے آگہی رکھنے والوں سے پوشیدہ نہیں۔
اور اساتذہ کی اصلاحوں سے شعر کی معنویت اور تاثیر میں اضافہ اس لیے ہوتا تھاکہ
شاگرد یا نوآموز شاعروں سے خیال کو الفاظ کاجامہ پہناتے وقت جو کمیاں اور خامیاں
در آتی تھیں،اساتذہ ان کمیوں اور خامیوں کومناسب اور موزوں ترین الفاظ سے رفع
کرتے تھے۔میر تقی میر نے اپنے تذکرے ’نکات الشعرا‘ میں مصطفی خان یک رنگ کے ایک
شعر پر اپنی صلاح کچھ یوں دی ہے ؎
سچ
کہے جو کوئی سو مارا جائے
راستی
ہے گی دار کی صورت
باعتقاد
فقیر بجائے ’سچ‘ حرف ’حق ‘ اولیٰ است9
میر نے شعر کے پہلے
لفظ ’سچ ‘ کو’ حق‘ سے بدلنے کا مشورہ دیا ہے۔اور اپنے خیال میں سچ کی بہ نسبت حق
کو بہتر اور اولیٰ قرار دیا ہے۔لفظ ’’سچ کی جگہ لفظ ’حق‘ رکھنے سے شعر میں تلمیح،
مناسبت اورمعنویت کی جو کیفیت پیدا ہوئی ہے، وہ اہل نظر سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اسی لیے
حالی نے خیالات کو صبر و تحمل کے ساتھ الفاظ کا جامہ پہنانے کا مشورہ دیا ہے۔حالی
الفاظ کی اہمیت و افادیت کو محسوس کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
نظمِ
الفاظ میں اگربال برابر بھی کمی رہ جاتی ہے تو وہ(ماہرینِ فن) فوراً سمجھ جاتے ہیںکہ
ہمارے شعر میں کون سی بات کی کسر ہے۔10
حالی
خیالات کو صبر و تحمل کے ساتھ الفاظ کا جامہ پہنانے کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی
زور دیتے ہیں کہ’ الفاظ کو ایسی صورت سے منتظم کرنا چاہیے کہ وہ صورۃً نثر سے متمیز
ہو،لیکن معنی اسی قدر پورے ادا کرے جیسے نثر میں ہو تے ہیں‘۔حالی اس بات کی وضاحت
نہیں کرتے کہ شعر نثر سے صورۃً کس طرح علیحدہ ہو۔ کیونکہ حالی نے پہلے ہی وزن کو
شعر سے خارج کردیاہے اورکسی دوسرے معیار یا پیمانے کا ذکر بھی نہیںکیاہے،جو شعرکو
صورۃً نثرسے علیحدہ کر دے۔حالی نے صورۃًمتمیز ہونے کی بات کہی ہے، معلوم نہیںوزن
کے علاوہ وہ کون سی صورت ہوگی،جو شعرکو صورۃً نثر سے متمیز کر ے گی۔حالی شعر سے اس
بات کا بھی تقاضا کرتے ہیں کہ وہ نثر کی طرح ہی معنی دے۔ بظاہرنثر کی طرح معنی دینے
سے حالی کی مراد یہی ہو سکتی ہے کہ جس طرح نثرمیںابلاغ وترسیل بالکل واضح اور دو
ٹوک ہوتی ہے،اس طرح شعر میں بھی ہونا چاہیے،یعنی شعر کے معانی اور مفاہیم میں کوئی
پیچیدگی نہ ہواور مقصدِ شعر واضح ہو۔لیکن اگر حالی کا مقصد نثر کی طرح معنی دینے
سے یہ ہے کہ جس طرح نثر میں وضاحت اورقطعیت ہوتی ہے اورنثر اجمال وابہام کی حامل
نہیں ہوتی۔شعر کوبھی اسی طرح کا ہونا چاہیے۔ظاہرہے شعر سے ان باتوں کا تقاضا
کرنا،شعر کو شعریت سے خارج کرنا ہے۔ اس موضوع سے متعلق مزید آگہی کے لیے شمس
الرحمن فاروقی کا مضمون ’شعر، غیر شعر اور نثر‘کا مطالعہ فائدے سے خالی نہیں۔
حالی
کی تربیت مشرقی طرز پرہوئی تھی۔وہ کلاسیکی شعریات کے اصول و ضوابط سے نہ صرف پوری
طرح واقف تھے،بلکہ انھوں نے ان شعریات و رسومیات کو اپنی ابتدائی تخلیقات میں برتا
بھی ہے۔ حالی ظاہری اور خارجی دباؤ کے باوجودغیر شعوری طورپر کلاسیکی شعریات و
رسومیات کی طرف جھک ہی جاتے ہیں۔ سید عبد اللہ نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے
ہیں:
’’شاعری
اور ادب کے متعلق مولاناحالی کا ذہن قدیم بلاغت کے تصورات سے اس قدر متاثر ہے کہ
ظاہری تبدیلی کے باوجود غیر شعوری طور پر ادھر جھک ہی جاتے ہیں۔چنانچہ بیان و انشا
کو داخلی سے زیادہ خارجی اور محض صناعتی چیز سمجھنے کے معاملہ میںوہ ہمیشہ جدید خیال
کے مقابلہ میںقدیم خیال کی طرف میلان ظاہر کرتے ہیں۔‘‘11
حالی
اپنے عہد کے تقاضے اور ماحول کی تبدیلی، نیز سرسید تحریک کے زیرِاثرمقصدی اور افادی
ادب کے پُرجوش داعی تھے۔ اسی لیے انھوں نے ایسے نظریات کو پیش کیا جو ان کے مقصدی
اور افادی ادب کے مطابق ہوں،لیکن غیر شعوری طور پر قدیم تصورات بلاغت کی طرف وہ
جھک جاتے ہیں۔اور ان سے کہیںنہ کہیں کلاسیکی شعریات و رسومیات کا اظہار ہو جاتا
ہے۔
تخیل،مطالعۂ
کائنات اور تفحص الفاظ کو حالی نے شاعری کی شرط قرار دیا ہے۔تخیل شاعری کی شرط اول
ہے،اس پر بحث ارسطو کے زمانے سے ہی چلی آرہی ہے۔ لیکن مطالعۂ کائنات اور تفحص
الفاظ کوشاعری کی شرط قراردینا کہاں سے ماخوذ ہے ؟ حالی نے اپنے اس نظریے کی بنیاد
کس کے نقطۂ نظر پر رکھی ہے ؟آیا یہ نقطۂ نظر یورپ کے کسی نقاد یا محقق کے قول
پرہے، یاحالی کے غور و فکر کا نتیجہ ہے؟اس حوالے سے حالی کے کسی نقاد نے کوئی بحث
نہیں کی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ حالی کا یہ نقطۂ نظران کی مشرقی افتاد طبع اور کلاسیکی
شعریات سے آگہی کا نتیجہ ہے۔
حالی
انگریزی ادب سے واقف نہ تھے۔ وہ جس سماج میں پروان چڑھے تھے،اس میں انگریزی سیکھنے
اور انگریزی کالجوںمیںداخلہ لینے کو نہ صرف معیوب سمجھا جا تا تھا،بلکہ انگریزی
کالجوں کو ’مجہلے‘ کہا جاتا تھا۔ اس کے
باوجود انھوں نے نہ صرف بالواسطہ انگریزی ادب کے نظریات و خیالات سے واقفیت بہم
پہنچائی،بلکہ اسے اردو داں طبقے تک پہنچا نے کی بھی کوشش کی۔ اگرچہ حالی ان نظریات
و خیالات کو بخوبی نہ سمجھ سکے ہوںاورمکمل طور پر صحیح مذاق شعر کی رہنمائی بھی نہ
کر سکے ہوں،لیکن حالی نے شعر وشاعری کے حوالے سے اردو داں طبقے میںجو ایک نظریاتی
بحث چھیڑی تھی،غور و فکر کا جو ایک ماحول بنایا تھااوربعد میں آنے والے ناقدین و
مفکرین کو شعر و ادب پر گفتگو کرنے کی جو راہ دکھائی تھی، اس میں وہ نہ صرف پوری
طرح کامیاب و کامران ہیں،بلکہ اس میں کوئی ان کا ثانی نہیں۔
حواشی
1 مقدمہ شعر وشاعری،الطاف
حسین حالی،مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،نئی دہلی،2018،ص52
2 حالی کے شعری
نظریات :ایک تنقیدی مطالعہ،ممتاز حسین،سعد پبلی کیشنز،1988،ص116-117
3 ایضاً،ص 188
4 مقدمہ شعر وشاعری،ص
52
5 کلیات غالب،غالب
انسٹی ٹیوٹ،نئی دہلی، 2003، ص154
6 حالی کے شعری
نظریات: ایک تنقیدی مطالعہ، ص 35
7 مقدمہ شعر و
شاعری، ص 58
9 اردو تنقید پر ایک
نظر،کلیم الدین احمد، بک امپوریم، پٹنہ، 2018،ص82
9 نکا ت الشعرا،میر
تقی میر،مرتبہ مولوی عبدالحق،انجمن ترقی اردو،دکن، 1935،ص20
10 مقدمہ شعر و شاعری،
ص 58
8 سر سید اور ان
کے نامور رفقا، سید عبداللہ، ایجوکیشنل بک ہاؤس،2011،ص:310
Mohd Shahnawaz Khan
Research Scholar,Dept of Urdu,
Jamia Millia Islamia
New Delhi- 110025
Mob: 9536673993
shahnawazrazi73@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں