اردو دنیا،نومبر 2025
قصہ گوئی کو انگریزی میں Story Tellingکہتے ہیں جب کہ قصہ عربی زبان کا لفظ ہے،اور اس کے لغت میں متعدد معانی ملتے ہیں۔ جیسے کہانی، داستان، بیان، تذکرہ، سرگزشت وغیرہ۔ عربی قاعدے کے مطابق یہ لفظ واحد ہے،اس کی جمع قصص ہے،قرآن پاک میں حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے کو ’احسن القصص‘ کہا گیا ہے۔
قصہ
سننا اور سنانا انسانوں کی جبلت میں داخل ہے۔ بنی نوع انسان کی محبوب اور مرغوب
عادتوں میں قصہ گوئی کو نمایاں مقام حاصل ہے۔قصہ کہانی بنی آدم کی ہمیشہ سے خاص
دلچسپیوں کا سامان رہی ہے۔قدیم زمانے سے حیرت انگیز واقعات اور طلسماتی بیانات
سننے سنانے کا سماج میں رواج رہا ہے۔ اس حوالے سے پروفیسر گیان چند جین نے لکھا ہے
کہ :
’’حکمائے
یونان کے بقول قصہ گوئی شاعری اور موسیقی کی دیویوں سے بھی قدیم تر ہے۔ابتدائی
نقوش موجود نہیں ہیں۔کون جانے ہماری بعض لوک کہانیاں دس پانچ ہزار سال پیشتر وجود
میں آچکی ہوں۔‘‘
(گیان چند جین،اردو کی نثری داستانیں، اتر پردیش اردو اکادمی،
لکھنؤ،1987،ص23)
درج
بالا بیان سے واضح ہوتا ہے کہ قصہ گوئی کی روایت بڑی قدیم اور پرانی ہے،انسانی
سماج کو اس صنف سے ہمیشہ واسطہ رہا ہے۔قصہ کہانی کی وادی میں سیر کرنا پہلے سے
انسانوں کی سرشت میں شامل تھا۔ پتھروں کے زمانے سے لے کر دور جدید تک کہانیاں الگ
الگ شکلوں میں تبدیل ہو کر آج بھی زندہ ہیں۔
انسانی
حیات کے ابتدائی ایام میں بچوں کی ذہنی ترقی کے لیے گھر کی دادی ، نانی قصے سناسنا
کر اپنی اولاد میں انسانی تہذیب وثقافت کی روایت کوآگے بڑھانے میں مدد فراہم کیا
کرتی تھیں۔
بچوں
کی جسمانی ترقی اور بالیدگی میں غذا اور خوراک کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں،ان کی
اچھی صحت اچھی غذا پہ موقوف ہوتی ہے،جسمانی نشو ونمامیں اچھے کھان پان کا بڑا دخل
ہے،لیکن بچوں کے ذہنی ارتقا اور ان کی دماغی ترقی میں کہانیاں اہم کردار ادا کرتی
ہیں۔ قصے کہانیاں بچے کی ذہنی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہیں۔ بچہ جب نئے واقعے اور حیرت
انگیز قصے سنتا ہے تو اس میں تجسس کا مادہ
پیداہوتا ہے،اس کا ذہن کہانیوں کے دامن سے گہرائی کے ساتھ وابستہ ہو جاتا
ہے، قصے، کہانیاں،اور حکایات کے سننے سے بچے کا دماغ ترقی اور تربیت پاتا ہے،بچوں
کی دماغی ترقی اور تربیت میں کہانیوں کا اہم حصہ ہوتا ہے۔
اردو
کے مشہور نقاد کلیم الدین احمد لکھتے ہیں کہـ:
’’بچہ
کی جسمانی نشو ونما کے ساتھ اس کے دماغ کی بھی ترقی اور تربیت ہوتی ہے۔اور اس ترقی
اور تربیت میں کہانیاں ایک اہم حصہ لیتی ہیں۔انسان کی دماغی ترقی کا ایک بڑا سبب
تجسس کا مادہ ہے جو مختلف صورتوں میں کار فرما ہے۔جو ہمیں نئی نئی چیزوں کی تلا ش
وجستجو پر آمادہ کرتا ہے،جو ہمیں ہر شے کی ماہیت اور اس کے اسباب پر سے پردہ
اٹھانے پرمجبور کرتا ہے اور جو ہمیں دماغی کاہلی سے بچاتا ہے اور کسی چیز کو بھی
بغیر جانچ پڑتال کے قبول کرنے نہیں دیتا۔بچپن میں بھی اس مادہ کی ترقی نہایت اہم
ہے اور یہ ترقی کہانیوں کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔‘‘
(کلیم الدین احمد،اردو زبان اور فن داستان گوئی،(ناشر)دائرہ
ٔادب،بانکی پور،پٹنہ،ص2 )
قصہ
کہانی کا تعلق دنیا کی ہر زبان سے ہے، کہانیوں کا رواج ہر عہد میں ہونے کے سبب سبھی
زبانوں میں اس کا چلن ہے،دنیا کہانیوں سے بھری ہوئی ہے اور تقریبا سبھی کہانیوں میں
جزئی طورپر یکسانیت پائی جاتی ہے۔زبانیں الگ الگ
ضرورہیں۔تاہم قصوں کے موضوعات اور کرداروں میں کافی حد تک مماثلت ہوتی ہے۔
اردو
زبان وادب کی سبھی اصناف میں داستان گوئی کو تقدم اور اولیت حاصل ہے۔داستان میں
کہانی ہوتی ہے،حیرت انگیز واقعات کا بیان ہوتا ہے، دیو، جن پری کے علاوہ،
بادشاہوں، شہزادوں، شہزادیوں، امیروں، وزیروں اور رعایا کا تذکرہ ہوتا ہے۔بنی نوع
انسان کے اہم ترین کارناموں میں داستان گوئی کا بھی شمار ہوتا ہے۔داستان کا موضوع
بہت وسیع اور کشادہ ہوتا ہے، اسی لیے اس میں مکمل آزادی اور کشادہ قلبی سے دلچسپ
قصے بیان کیے جاتے ہیں۔
داستانوں
میں ایک ہی عہد کی سرگرمیاں نہیں ہوتیں بلکہ زمانے بھر کی ہلچل،تحرک،عمل پیہم،مہم
جوئی کا سلسلہ ملتا ہے۔ایک ہی فرد یا چند افراد کے بجائے اس میں پورے سماج کے لوگ
اور ان کے کارنامے دکھائی دیتے ہیں۔
اردوادب
میں داستان نویسی کی روایت کا آغاز دکن کے ملا وجہی کی داستان ـ’سب
رس ‘سے ہوتا ہے۔ملا وجہی نے اس داستان کو 1635 میں لکھا،انھوں نے اس کتاب کو قطب
شاہی سلطنت کے فرماں رواں عبد اللہ قطب شاہ کی فرمائش پر تصنیف کیا تھا۔ان کی تصنیف
کو نثری داستانوں میںاولیت حاصل ہے۔وجہی کی یہ مایہ ناز تصنیف دکنی ادب میں نہ صرف
مقبولیت اور شہرت کے بام عروج پہ فائز ہے
بلکہ اسے اردو ادب میں انفراد وامتیاز کا رتبہ حاصل ہے۔
شمالی
ہند کی داستانوں میں نو طرز مرصع،کربل کتھا، عجائب القصص، داستان امیر حمزہ،طلسم
ہوش ربا، باغ وبہار،فسانہ عجائب،سروش سخن وغیرہ معروف و مشہور ہیں۔ فورٹ ولیم کالج
میں لکھی جانے والی کتابوں میں جو شہرت میر امن دہلو ی کی کتاب ’باغ وبہار ‘کو نصیب
ہوئی، وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی۔باغ وبہار کی سادگی اور سلاست نے اسے مقبول
عام و خاص بنادیا۔ اس میں بیان کیے گئے قصے دلچسپ اور متاثر کن ہیں۔ باغ و بہار میں
دہلوی تہذیب وثقافت کی عکاسی ہے۔ ایک زمانے میں اس میں بیان کیے گئے قصے لوگ آپس
میں ایک دوسرے کوزبانی سنایا کرتے تھے۔زبانی قصہ گوئی کی روایت اس طرح مستحکم ہوتی
گئی۔
داستان
گو دہلی، اودھ، رامپور، بنارس اور حیدر آباد کے درباروں سے وابستہ ہواکرتے اور
درباروں میں قصہ سناکر داد و تحسین وصول کرتے تھے۔اس کے علاوہ شہروں کی مجلسوں میں
قصہ گو قصے سناتے تھے۔ قصے کتاب دیکھ کر بھی سنائے جاتے تھے اور زبانی سنانے کے طریقے بھی رائج
تھے۔ہندوستان پر انگریزوں کا تسلط قائم ہونے سے قبل اور بعد دونوں زمانوں میں زبانی
قصہ گوئی کی روایت کا پتہ چلتا ہے۔
سید
وقار عظیم کہتے ہیں کہ :
’’اردو
کے اکثر اچھے داستان گو غدر سے پہلے اور غدر کے بعد تک دہلی،اودھ،رامپور،بنارس،اور
حیدر آباد کے درباروں اور امیروں سے وابستہ رہے ہیں اور اس تعلق اور وابستگی کے
علاوہ شہروں میں داستان گوئی کی مجلسوں کا عام دستور رہا ہے جس میں داستا ن گو کبھی
لکھ کر اور کبھی زبانی داستانیں سنا کر سننے والوں کو مسرور کرتے اور ان سے ہدیۂ
تحسین وخراج عقیدت ومحبت وصول کرتے رہے ہیں۔دلی اورلکھنؤ نے اپنے زوال اور انحطاط
کے زمانے میں بھی اپنی مجلسوں کو اس شمع سے روشن رکھا ہے۔‘‘
(سید وقار عظیم،ہماری داستانیں،ادارۂ فروغ اردو،لاہور،ص17-18)
ْْْْٓقصے،کہانیاںاور
داستانوں کے سننے وسنانے کا اہتمام ادبی اور علمی گھرانوں میں ہمیشہ رہا ہے،ادبی
شخصیات اس حوالے سے اپنے بچوں کی تربیت بھی کرتی تھیں۔ گھر کے ادبی ماحول میں جب
بچے قصے کہانیاں سنتے ہیں تو ان کے اندر علمی اور فکری بلندیاں پیدا ہونے لگتی ہیں،
بچپن میں ہی بچے لکھنے، پڑھنے کے شوقین ہوجاتے ہیںاور تہذیب وتمدن کے وارث بن جاتے
ہیں۔ عصر حاضر کے ممتاز اردو فکشن نگار مشرف عالم ذوقی اپنے گھر کا ماحول بیان
کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’گرمیوں
کے موسم میں چھت پر چارپائیاں بچھی ہوتی تھیں۔آسمان پر تاروں کی بارات ۔۔۔۔۔ٹھنڈی
ٹھنڈی بہتی ہوئی ہوا۔ہم بھائی بہن چھت پر ابا کے آنے کا انتظار کرتے۔ابا کے آتے
ہی ہم انھیں گھیر کر بیٹھ جاتے۔ ابا پھر داستانوں کو لے کر بیٹھ جاتے۔ داستان امیر
حمزہ،طلسم ہوشربا ۔۔۔۔۔عمروعیار کی ٹوپی۔ یہاں تک کہ سراج انور کے ناول بھی ابا سے
ہی سننے کا موقع ملا۔مطالعہ میں نے بعد میں کیا۔ابا کے سنانے کا مخصوص اندازتھا۔وہ
ڈرامائی انداز میں ان کہانیوں کو بیان کیا کرتے تھے۔آج محفلوں میں کہانیاں سناتے
ہوئے میں کسی حد تک اس انداز کو اپنانے کی کوشش کرتا ہوں۔ مگر وہ ہنر کہاں سے
لاؤںجو ابا مرحوم کے پاس تھا ‘‘
(مشرف عالم ذوقی،سلسلۂ روزوشب، 2013، ص176-77)
ْقصہ
گوئی کا فن بنیادی طور پر سننے سنانے کا ہی فن ہے،عہد ماضی میں سنانے کا اہتمام
ہوتا تھا اور لوگ حلقہ بناکر قصوں سے لطف اندوز ہوا کرتے۔
بہت
بعد میں انھیں تحریری جامہ پہنایا گیا۔ موجودہ عہد میں قصہ گوئی کاسلسلہ کمزور
ہوتا جارہا ہے،بلکہ مفقود ہورہا ہے۔داستانوں کا حسین سرمایہ صرف تحریری شکل میں
ملتا ہے۔ زبانی قصہ بیان کرنے کا رواج تقریبا
ختم ہو چکا ہے۔جب سے جدید ٹیکنالوجی کا دور آیا ہے،اس نے سماجی،سیاسی اور تہذیبی
حیات وروایات میں بڑی تبدیلیاں پیدا کردی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی نے قصہ گوئی کے چلن
کو سخت نقصان پہچایا ہے۔ ایک دور تھا جب گھروں میں نانی،دادی بچوں کی تربیت کی
خاطر اخلاقی اور تربیتی کہانیاں سنایا کرتی تھیں اور ان کہانیوں میں سچائی،بہادری،نیک
نیتی اور خوش اخلاقی کے عناصر وافر مقدار میں موجود ہوتے اور بچے ان کہانیوں کے ذریعے
اپنی زندگیوں میں تبدیلیاں لانے میں کوشاں رہتے تھے۔لیکن اب حالات یکسر بدل چکے ہیں،موبائل
اور انٹر نیٹ کے ذریعہ لوگوں کے گھر کا ماحول بھی مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ لوگوں کی مصروفیات اتنی بڑھ گئی ہیں کہ کسی کو
فرصت ہی نہیں کہ وہ اپنے بچوں کو کہانیاں سنائیں۔
حالانکہ
زبانی کہانیاں سنانے کی سماج ومعاشرہ میں بڑی اہمیت ہے۔بگڑے ہوئے معاشرے کے سدھار
میں اخلاقی اور ادبی قصے،کہانیاں آج بھی
اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔
کہانیاں
آج بھی ہمارے بچوں پر مثبت اور مؤثر اثر ڈال سکتی ہیں، ان کی سماجی اہمیت سے بھی
کوئی انکار نہیں کر سکتا،قصوں سے ہم اپنی زبان سے متعلق بھی سیکھ سکتے ہیں۔اچھے
اخلاق،بہترین افکار،مثبت نظریات اور ہمدرد انسان بننے کی راہیں اچھی کہانیوں اور
قصوں سے ہموار ہوسکتی ہیں۔
بچوں
میں مطالعہ کا شوق دلانے کی خاطر بھی انھیں ترغیبی کہانیاں سنانی چاہئیں۔کیونکہ
بچپن میں بچوں کے کان جس طرح کی باتیں سنتے ہیں ان سے وہ رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔اخلاقی
کہانی بچوں کے اخلاق پہ مثبت اثر ڈالتی ہے اور اس طرح کی کہانی سن کر بچہ ایک اچھا
شہری بننے کا خواب بچپن میں ہی دیکھنے لگتا ہے اور اس کے اندر برائیوں سے لڑنے کی
قوت ہوتی ہے۔ اس لیے زبانی قصہ گوئی اور کہانی سنانے کی عوامی اولیت کا احیا کیا
جانا ضروری ہے۔
Gulam Gaus
Research Scholar, Department of Urdu
Indera Gandhi National open University
New Delhi- 110068
Mob.: 7289849371
ggbarabanki@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں