13/1/26

تہذیب، ثقافت اور تمدن: ایک جائزہ،مضمون نگار: محمد ذاکر

اردو دنیا،نومبر 2025

تہذیب، ثقافت اور تمدن: بظاہر یہ تین الفاظ ہیں لیکن بباطن ہر لفظ ایک جہان معنی اور وسیع تر مفہوم کا حامل ہے۔ان الفاظ کی آفاقیت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم ابتدائے آفرینش سے تاریخ انسانی کا مطالعہ شروع کرتے ہیں۔ تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ یہ صرف تین الفاظ نہیں بلکہ تین ایسی اصطلاحات ہیں جن کا تعلق ارتقائے ذہن اور ارتفاع سماج سے ہے۔

اس تمہید کے بعد ثقافت، تہذیب اور تمدن کے لغوی اور اصطلاحی معنی کے حوالے سے بات ہوگی۔ ان کے تعبیری وتوضیحی واضح کیے جائیں گے۔

تہذیب، ثقافت اور تمدن تینوں عربی الاصل الفاظ ہیں، اپنی لفظی ساخت کے فرق کے باوجود کئی طرح کے جزوی اشتراک سے مملو اور باہم مترادف بھی ہیں۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ تہذیب کو ثقافت اور تمدن کے معنی میں بھی لیا جاتا ہے۔ معروف  عربی لغت نگار ابن منظور لکھتے ہیں:

’’التہذیب: ہذب الشیء یہذبہ أي نقاہ وأخلصہ وقیل أصلحہ، وأصل التہذیب تنقیۃ الحنظل من شحمہ و معالجۃ حبہ حتی تذہب مرارتہ ویطیب لأکلہ۔‘‘

(ابن منظور،جمال الدین محمد مکرم،لسان العرب، دار صادر بیروت،ص 63)

’’تہذیب کے معنی ہیں کسی چیز کو صاف کرنا، خالص کرنا  اور اصلاح کرنا اور اصلاً اس کے معنی ہیں حنظل (اندراین) کا گودا صاف کرنا اور اس میں ایسی تدبیر اختیار کرنا کہ اس کی ترشی دور ہوجائے اور وہ کھانے لائق ہوجائے۔‘‘

قاموس المحیط میں بھی ملتے جلتے معنی ہیں:

’’ہذب یہذب تہذیباً قطعہ، نقاہ وأخلصہ وقیل أصلحہ۔‘‘ (مجد الدین فیروز آبادی، القاموس المحیط)

’’تہذیب کے معنی کسی چیز میں تراش خراش کرنا، صاف کرنا، خالص کرنا اور اصلاح کرنا ہیں۔‘‘

ان تعریفات کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تہذیب کے اصل معنی کسی چیز کو صاف کرنا، سنوارنا، شائستگی و آراستگی کے ہیں۔ جب کہ اصطلاح میں یہ وہ معاشرتی طرز عمل ہے، جس کی پشت پر شعوری یا لاشعوری طور پر کوئی مذہبی عقیدہ کار فرماہو۔

فارسی لغت میں اس کے معنی ’’پاکیزہ کردن، خالص کردن، اصلاح کردن، شعر نثر از عیب و نقص، پاک کردن اخلاق‘‘ کے رقم ہیں۔

فیروز اللغات اردو میں اس کے لغوی معنی شائستگی وخوش اخلاقی کے دیے ہیں اور اصطلاحی معنوں میں کسی معاشرے کی بامقصد تخلیقات اور سماجی اقدار کے نظام کو تہذیب کہتے ہیں۔

علوم وآداب، فنون لطیفہ، اطوار ومعاشرت، انداز تمدن اور طرزِ سیاست تہذیب کے نتائج اور مظہر ہیں۔ جب کہ اس کے عناصر ترکیبی میں دنیوی زندگی کا تصور، زندگی کا نصب العین، عقائد و افکار، تربیت افراد کے اصول اور نظام اجتماع کے اصول وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کسی قوم کی زندگی کے خدو خال،رسم و رواج، اصول و ضوابط اور طرزِ بود و باش کو بھی تہذیب کہا جاتا ہے۔

جہاں تک تہذیب کے انگریزی مترادف کا مسئلہ ہے تو پہلے اس لفظ کے لیے Civilization کا لفظ استعمال ہوتا تھا۔ اب کلچر استعمال ہوتا ہے۔

گویا تہذیب معاشرتی، معاشی اور سیاسی اداروں کا مجموعہ ہے۔ تاریخی لحاظ سے اس کی کئی صورتیں ہیں۔ اس کی گوناگوں خصوصیات مختلف معاشرتی سطحوں سے متعلق ہیں۔ مثلاً تعمیر، تحریر وغیرہ۔

اردو زبان میں لفظ تہذیب کا استعمال بالعموم علم اخلاق سے جڑا ہوا ہے۔ جب کہ انگریزی میں اس کے معنی سماجیات سے قائم کیے گئے ہیں۔ انگریزی حوالے سے یہ لفظ اردو میں سب سے پہلے سرسید احمد خاں نے استعمال کیا۔ سبط حسن کے مطابق سرسید احمد خان غالباً پہلے دانشور ہیں جنھوں نے تہذیب کا وہ مفہوم پیش کیا جو  انیسویں صدی میں مغرب میں رائج تھا۔اپنے رسالے تہذیب الاخلاق کے اجرا کے اغراض و مقاصد کو وہ یوں بیان کرتے ہیں:

’’اس پر چہ کے اجرا سے مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو کامل درجہ کی سویلائزیشن (Civilization) یعنی تہذیب اختیار کرنے پر راغب کیا جاوے تا کہ جس حقارت سے (سویلائزڈ) مہذب قو میں ان کو دیکھتی ہیں۔ وہ دفع ہووے اوروہ بھی دنیا میں معزز و مہذب قومیں کہلائیں... سویلائزیشن انگریزی لفظ ہے جس کا تہذیب ہم نے ترجمہ کیا ہے۔‘‘

(سبط حسن پاکستان میں تہذیب کا ارتقا ص، 15)

تہذیب کے تین اہم عناصر یا عوامل ہیں۔ ایک عنصر کو مذہب/ عقیدہ/ نظر یہ کہیے۔ دوسرے کو جغرافیہ اور ماحول قرار دیجیے جس میں آب و ہوا، نسل، ملک، سیاست اور پیدواری نظام سب شامل ہیں اور تیسرے کو تاریخ، روایت،حافظہ،زمانہ سمجھئے۔بقول پروفیسر عتیق اللہ:

’’تہذیب نام ہے اس اجتماعی معاشرت کا جس میں باہمی ذہنی اور مادی شمولیتیں اور شرکتیں انسانی احتیاجات اور ضروریات کی تشکیل و تکمیل کرتی نیز انسانی اقداری ماحول کی پرورش کرتی ہیں۔ اشتراک عمل کے نتیجے میں حاصل ہونے والے وہ سارے داخلی اور خارجی ممتاز اسالیب ایک دوسرے کو مربوط کرنے والے اور ایک دوسرے کی فلاح اور آسودگی کے لیے متلازم و بنیادی اصول اور رویے جن سے نہ صرف یہ کہ آئندہ نسلیں اخذ و کسب کرتی ہیں بلکہ کبھی سہولت کبھی ضرورت کبھی شائستگی کی خاطر ان میں ترمیم و توسیع بھی کرتی ہیں۔ تہذیب ان کے اجتماعی اور تخصیصی افکار و تصورات، اقدار و ترجیحات، عقائد و رسومات کی عکس ریزی ہوتی ہے۔‘‘

(اردو شاعری میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت،پروفیسر عتیق اللہ، ص 59)

  ثقافت: یہ لفظ سننے میں بہت آسان اور عام فہم لگتا ہے، لیکن جب ہم اس لفظ کی معنوی جہات وا کرتے ہیں تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ اس لفظ کی حیات انسانی میں کیا اہمیت و افادیت ہے۔یہ لفظ لغوی معنی میں بھی استعمال ہوتا اور اصطلاحی میں بھی۔

بنیادی طور پرثقافت عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کا مادہ ث، ق، ف ہے۔ عربی لغت میں اس کے معنی  نیزہ کو سیدھا کرنا، مہذب بنانا اور تربیت دینا ہیں۔

فارسی لغت میں ثقافت کے معنی زیرک و چست و چالاک شدن،  استاد شدن،  زیر کی، چالا کی، استادی، حذاقت، بہرہ وری از علم و ادب و تربیت کے ہیں۔

جب کہ اردو لغت کے مطابق ’ثقافت‘کسی قوم یا گروہ انسانی کی تہذیب کے اعلیٰ مظاہر ہیں جو اس کے مذہب، نظام اخلاق، علم و ادب اور فنون میں نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ لفظ اردو زبان میں عقلمند، نیک، تہذیب یافتہ یا کلچرڈ ہونے کے پس منظر میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

 ہندی یا سنسکرت میں ثقافت کے لیے ’سنسکرتی‘ کا لفظ مستعمل ہے۔جس کے معنی اصلاح شدہ یا صاف کیا ہوا ہیں۔سنسکرتی کا تعلق سنسکار(عادات و اطوار) سے ہے۔جس کے معنی اصلاح کرنا، بہتر بنانا اور تزکیہ کرنا وغیرہ کے ہیں۔

انگریزی زبان میں ثقافت کے لیے کلچر کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔

کلچر یا Cultivation زراعت یا زمین کی قدرتی حیثیت کو بہتر بنانے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا زمین ہی کی مانند انسان کے رجحان اور فطری صلاحیتوں اور قوتوں کو بہتر بنانے کا دوسرا نام کلچر ہے یا پھر انسان کے فطری رجحان اور مزاج کی اصلاح کو ہم ثقافت کہہ سکتے ہیں۔

عصر حاضر میں ثقافت کی اصطلاح ترک کر کے کلچر پر اتفاق کرلیا گیا ہے۔ ثقافت دل ودماغ اور ذوق و فکر کی تربیت  و تہذیب کا نام ہے۔اب اس لفظ کا اطلاق تعلیم یافتہ آدمی کے عملی اکتساب وتحصیل پر ہونے لگا ہے۔ شائستہ اخلاق، خوش ذوقی، فنی استعداد اور کسب علوم جو تعلیم کا نتیجہ ہوتے ہیں کلچر کہلائیں گے۔زمانہ قدیم میں یہ لفظ یعنی کلچرکبھی سویلایزیشن کا ہم معنی ہوا کبھی الگ۔ پہلے یہ فرد کی داخلی تہذیب تک محدود تھا،لیکن پھر اس کا اطلاق مادی ضرورتوں اور اشیا پر بھی ہونے لگا۔اب اس میں کسی قوم یا سماج کی ساری مجلسی زندگی شامل ہے جس میں رسم ورواج، فنون لطیفہ و مفیدہ حالت امن و جنگ میں نجی اور مجلسی زندگی، مذہب، علوم اور آرٹ وغیرہ سبھی شامل ہوں۔اس لفظ کی ایک عام تعریف یہ بھی کی جاتی ہے کہ کلچر عبارت ہے انفرادی و مجلسی رویے سے جس میں افکار، علم عقائد اور اصولی اقدار وغیرہ شامل ہوتی ہیں۔

ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ کلچر ایک طرح کا رویہ ہے جو خارجی بھی ہے اور داخلی بھی۔ اس رویے کے مظاہر کلچر کہلاتے ہیں۔ یہ سمٹ کر محض ذوقی مجلسی رویے ہو سکتے ہیں اور پھیل کر کسی قوم کی پوری تہذیبی تمدنی زندگی پر حاوی ہو سکتے ہیں۔ اس کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ مادی اور غیر مادی۔مادی ثقافت میں اوزار، ہتھیار، آلات، مصنوعات، فرنیچر اور بے شمار دوسری ایجادات کو بھی اس میں شامل کیا جاتا ہے۔یہاں تک کہ اب ٹیکنالوجی بھی اس میں آجاتی ہے۔

یعنی کلچر ضرورتوں کی تکمیل کے لیے کسی سماج کی مشترکہ مساعی و تعاون سے ابھرتا ہے۔ انسان زندہ رہنے کے لیے بنیادی ضرورتوں کھانا، کپڑا، مکان، اور حفاظت جسمانی وغیرہ کے لیے کوشش کرتا ہے۔ اسی کوشش کے نتیجے میں پیشے، نظام تعلیم، نظام قانون اور نظام اخلاق وجود میں آتے ہیں جن میں مذہب بھی شامل ہے۔ اس سے ترقی کر کے اداراوں کی تشکیل ہوئی ہے۔

ان تمام تشریحات کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ثقافت یا کلچر عصر حاضر میں ایک وسیع مفہوم کا حامل ہے جو زندگی کے ہر شعبے پر حاوی ہے۔ اس میں اخلاق، عادات، معاشرت، سیاست، مصنوعات، قانون قاعدے، ملبوسات، خوراک، فنون لطیفہ، فلسفہ، مذہب اور سائنس سب شامل ہیں۔یہ وقت کے ساتھ اپنی صورت اور معیار بدلتا ہے اور ہر تبدیلی کو اپنے اندر جذب کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

تمدن‘بھی عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کا مادہ م، د،ن ہے۔ اس کے معنی عربی لغت میں اقامت کرنا، آباد کرنا، شائستہ و مہذب ہونا اور آسودہ حال ہونا ہیں اور فارسی لغت کے مطابق اس کے معنی ’’شہر نشین شدن،  خوی شہری گزیدن و با خلاق مردم شہر آشنا شدن، زندگانی اجتماعی، ہم کاری مردم با یکدیگر در امور زندگانی و فراہم ساختن اسباب ترقی و آسائش خود‘‘ کے ہیں۔ اردو لغت میں اس کے معنی  شہری بود و باش۔ (کسی ایک جگہ) مل جل کر رہنا، سماجی زندگی، شائستگی، تہذیب، رہنے سہنے کے خاص طریقے، طرز معاشرت وغیرہ بیان کیے گئے ہیں۔

تمدن درحقیقت ضروریات زندگی کی پیداوار ہے۔ انسان کی زندگی کی ضروریات اور اعلیٰ تصور حیات تمدن کو جنم دیتے ہیں۔تہذیب کا تعلق نظریات سے ہے اور تمدن کا اعمال سے۔ بقول سبط حسن:

’’ہر تہذیب اپنے تمدن کی پیش رو ہوتی ہے۔ تہذیب کے لیے شہر، دیہات صحرا اور کوہستان کی کوئی قید نہیں کیونکہ تہذیب معاشرے کی اجتماعی تخلیقات اور اقدار کا نچوڑ ہوتی ہے۔ اسی لیے تہذیب کے آثار ہر معاشرے میں ملتے ہیں، لیکن تمدن کی بنیادی شرط شہری زندگی ہے۔ تمدن اسی وقت وجود میں آتا ہے جب شہر آباد ہوتے ہیں۔ دراصل تمدن نام ہی ان رشتوں کی تنظیم کا ہے جو شہری زندگی اپنے ساتھ لاتی ہے۔‘‘

(تہذیب کا ارتقا:سبط حسن، ص13)

تہذیب‘سے مراد وہ نظریات وتصورات ہیں، جن کے مطابق کوئی جماعت یا قوم زندگی گزارے  اور اس کو اپنا مقصد بنائے۔ یہ نظریات اتنے واضح ہوتے ہیں کہ ہر قوم دوسری قوم سے مختلف ومنفرد نظر آتی ہے چنانچہ تہذیب کسی بھی قوم کی پہچان اور شناخت ہوتی ہے۔  ہمارا ہر عمل اور فعل کسی نظریے اور عقیدے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پہلے ہم کسی کام کے بارے میں سوچتے ہیں اور پھر اس سوچ کے مطابق عمل کرتے ہیں۔  اس طرح ’تہذیب‘ خیالات، تصورات اور افکار وعقائد کا نام ہے اور ان تصورات وافکار کے تحت جو افعال واعمال ظاہر ہوتے ہیں اور جو سیرت وکردار تشکیل  پاتے ہیں، انھیں ’تمدن‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تہذیب وتمدن لازم وملزوم ہیں۔تمدن اصل میں کسی خاص تہذیب کی عملی صورت کا نام ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ تہذیب اصل ہے اور تمدن اس سے پھوٹنے والی شاخ ہے۔ تمدن ان مادی اشیا کے مجموعے کو بھی کہتے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ یا تو بہتر ہوتی رہتی ہیں یا مکمل طور پر حالات کے تقاضوں میں ڈھل جاتی ہیں۔ جیساکہ مواصلات اور دیگر مادی سہولیات۔ لہٰذا  زندگی گزارنے کے  مختلف نظریے رکھنے کے باوجود دو مختلف تہذیب کے لوگوں میں تمدنی حوالے سے یکسانیت ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پراگرچہ ذات، ملکیت، مذہب اور رائے کی آزادی کے نظریے پر کھڑی سرمایہ دارانہ تہذیب اور زندگی کے تمام معاملات میں خالص مذہبی بنیادوں پر استوار تہذیب کے درمیان تصادم جاری ہے۔ لیکن تمدن کے معاملے میں بہت سے چیزیں دونوں میں مشترک بھی ہیں جیسا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی وغیرہ، کیونکہ یہ اشیا کسی بھی لحاظ سے ایک مخصوص تہذیب سے وابستہ نہیں ہوتیں اور نہ ہی کسی طرح سے عقائد پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

 

Dr. Mohd Zakir

Dept. of Urdu

Kashmir University

Kashmir- 190006  (J&K)

Mob.: 8825021138

drmohdzakir88@gmail.com

 



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...