13/1/26

سہل ممتنع: تعریف و تفہیم،مضمون نگار:محمد نہال افروز

اردو دنیا،نومبر 2025

سہل ممتنع ایک شعری اصطلاح ہے۔اس کے لیے انگریزی میں'Deceptive Simplicity'کالفظ استعمال ہو تا ہے،جس کا مطلب ہے ایسی سادگی جس کے اندر فریب چھپا ہو،یعنی ادبی ا صطلاح میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایسی سادگی جس میں کوئی گہری بات(فلسفہ) پوشیدہ ہو۔سہل ممتنع عربی زبان کے دو الفاظ’سہل‘ اور ’ممتنع‘ کا مرکب ہے۔’سہل ‘ کے معنی’’ آسان،سادہ‘‘ اور’ممتنع ‘ کے معنی ’’جس سے روکا جائے، جو ممنوع ہو،جس کا وجود ناممکن ہو،محال، دشوار‘‘کے ہیں۔اس طرح دونوں الفاظ کے معنی پر غور کریں تو ایسے اشعار سہل ممتنع کہلائیں گے، جو آسان، سادہ اور سلیس ہوں،لیکن ان اشعار کو کہنا ہر کس و ناکس کے لیے نا ممکن،محال اور دشوار ہو۔لہٰذاسہل ممتنع اشعار کہنے کے لیے کہنہ مشق شاعر ہونا ضروری ہے، جو آسان سے آسان تر الفاظ کا استعمال کر کے سادہ اور سلیس زبان میں عمدہ اور معنی خیز اشعار کہہ جائے۔ پروفیسر انور جمال سہل ممتنع کی تعریف بیان کرتے ہوئے اپنی کتاب ’ادبی اصطلاحات‘ میں لکھتے ہیں:

’’ایسا شعر جو اس قدر آسان لفظوں میں اداہو جائے کہ ا س کے آگے مزید سلاست کی گنجائش نہ ہو’سہل ممتنع ‘کہلاتا ہے... سہل ممتنع کی خاصیت رکھنے والی شاعری تاثیر کی قوت اور تادیر زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

سہل ممتنع شعری اظہار کا سادہ ترین پیرایہ ہے۔‘‘1

پروفیسر انورجمال کی یہ تعریف بہت حد تک درست ہے،لیکن اسے سہل ممتنع کی مکمل یا بہترین تعریف نہیں کہا جا سکتا۔انھوں نے اس میں سہل ممتنع کی ایک خوبی تو بتائی ہے کہ شعر آسان لفظوں میں ادا کیا جائے،لیکن دوسری اور اہم خوبی کا ذکر نہیں کیا ہے کہ اس میں گہری معنویت اور فلسفیانہ موضوع کو بھی بیان کیا گیا ہو۔یہ صحیح ہے کہ سہل ممتنع کے اشعار میں تاثیر کی قوت ہوتی ہے اور ان میں تادیر زندہ رہنے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے،لیکن یہ خصوصیات آسان الفاظ اور سادہ بیانی کی وجہ ہی سے نہیں بلکہ مضمون آفرینی اور خیال کی گہرائی وگیرائی اور فلسفیانہ کلام کی وجہ سے بھی ہوتی ہے۔واضح رہے کہ آسان الفاظ اور سلیس اسلوب میں کہا گیا ہر شعر سہل ممتنع کے زمرے میں آئے، یہ ضروری نہیں ہے۔ نیر مسعود اپنے ایک مضمون ’اردو شعریات کی چند اصطلاحیں‘ میں سہل ممتنع کی مختلف جہتوں سے تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

(i)      ہر سہل کام سہل ممتنع نہیں

(ii)     آسان زبان یا نثری ترتیب وغیرہ جزئی طور پر سہل ممتنع ہیں،لیکن ان شرطوں کے ساتھ کہے ہوئے شعر سہل ممتنع کے برخلاف دقیق، پیچیدہ اور مشکل بھی ہو سکتے ہیں، یعنی

(iii)    سہل ممتنع کا انحصارصرف استعمال الفاظ پر نہیں ہوتا بلکہ اس کا تعلق شعر کے معنی مفہوم سے بھی ہوتا ہے۔‘‘2

نیر مسعود نے اس اقتباس میںجن امور پر استدلالی بحث کی ہے وہ یہ ہے کہ ہر سہل کام یا شعر کو سہل ممتنع کے زمرے میں نہیںرکھا جا سکتا۔ ان کا ماننا ہے کہ آسان الفاظ اور سلیس زبان میں کہے گئے اشعار جزوی طور پر سہل ممتنع ہو سکتے ہیں،لیکن کلی طور پر سہل ممتنع وہی ہو گا جس میں  ان شرائط کے ساتھ کوئی دقیق یا پیچیدہ مسئلہ بیان کیا گیا ہو یا پھر کوئی فلسفیانہ موضوع پیش کیا گیا ہو۔سہل ممتنع کا تعلق صرف الفاظ کے استعمال ہی سے نہیں ہوتابلکہ شعر کے معنی و مفہوم سے بھی ہوتا ہے۔مثال کے طور پر ولی دکنی کا یہ شعر ملاحظہ ہو        ؎

خوب رو خوب کام کرتے ہیں

یک نگہ میں غلام کرتے ہیں

ولی  دکنی کا یہ شعر بلا شبہ آسان الفاظ اور سلیس زبان میں ہے،لیکن اس میں کوئی گہری بات نہیں کہی گئی ہے یا کوئی فلسفہ بیان نہیں ہوا ہے۔یہ شعر دیکھنے میں جتنا آسان نظر آرہا ہے،اس کامعنی اور مطلب بھی اتنا ہی آسان ہے۔ولی نے اس شعر میں یہ کہا ہے کہ خوب رویعنی خوب صورت لوگ یہ کمال کرتے ہیں کہ اپنے عاشق کو ایک ہی نظر میں اپنا غلام بنا لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس شعرمیں کوئی اور خاص بات یا کوئی فلسفہ پوشیدہ نہیں ہے بلکہ بالکل سامنے کی بات ہے۔

اسی طرح امیر مینائی کا یہ شعر بھی ملاحظہ ہو        ؎

وہی رہ جاتے ہیں زبانوں پر

شعر جو انتخاب ہوتے ہیں

امیر مینائی کے اس شعر میں بھی کوئی گہری بات یا فلسفیانہ پہلو نہیں ہے،جس کی بنیاد پر اس شعر کو سہل ممتنع کے زمرے میں رکھا جاسکے۔ اس شعر میں صرف اتنا ہی کہا گیا ہے کہ ہمارے اپنے ہزاروں اشعار میں سے وہی شعر زبان پررہ جاتے ہیں،جس کا ہم انتخاب کر لیتے ہیں، باقی سب معدوم ہوجاتے ہیں یاپھر بھول جاتے ہیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ اس شعر میں سادگی اپنی انتہا پر ہے اور اس شعر میں جن الفاظ کا انتخاب کیا گیا ہے وہ بے حد آسان ہیں۔محض اس وجہ سے اس شعر کو سہل ممتنع کا شعر نہیں کہا جا سکتاکہ اس میں سادگی ہے۔ سہل ممتنع کے لیے یہ ضروری ہے کہ بظاہر سادہ دکھنے والا شعر حقیقت میں اپنے اندر بہت کچھ سمیٹے ہوئے ہو، جس کی تشریح کی جائے تواس کی معنوی پرتیں کھلتی جائیں یعنی معانی کے کئی جہاں کھل جائیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ایسا عمدہ شعر کہنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ حسرت موہانی اس تعلق سے اپنی کتاب’محاسن سخن‘ میں رقم طراز ہیں:

’’سہل ممتنع سادگی و حسن بیان کی اس صنف کا نام ہے،جس کو دیکھ کر ہر شخص بظاہر یہ سمجھے کہ یہ بات میرے دل میں بھی تھی اور ایسا کہنا ہر شاعر کے لیے آسان ہے، مگر جب خودکوشش کر کے ویسا لکھنا چاہے تو نہ لکھ سکے۔‘‘3

حسرت موہانی کی یہ تعریف سہل ممتنع کے لیے بالکل مناسب اور واضح ہے۔ حسرت موہانی کا یہ کہنا کہ’’ہر شخص بظاہر یہ سمجھے کہ یہ بات میرے دل میں بھی تھی اور ایسا کہنا ہر شاعر کے لیے آسان ہے، مگر جب خودکوشش کر کے ویسا لکھنا چاہے تو نہ لکھ سکے۔‘‘یہی اس فن کی اصل تعریف ہے،جواس کو فلسفے کے قریب لے جاتا ہے اور یہی سہل ممتنع کی فلاسفی بھی ہے۔

حسر ت موہانی کے اس تعریف سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ سہل ممتنع کا شعر ایسا ہو نا چاہیے،جس میں سادے الفاظ استعمال ہوئے ہوں،شعرکہنے کا انداز آسان ہو،شعرپڑھ کر قاری ایسا محسوس کرے کہ وہ ایک شعر نہیں بلکہ ایک بات ہے، جو سیدھے دل میں اتر گئی،لیکن اس کے مضمون یا خیال میں اتنی وسعت وبلندی اور اتنی گہرائی و گیرائی ہونی چاہیے کہ وہ کسی فلسفے سے کم نہ ہو، جس شعر میں یہ تمام خصوصیات موجود ہوںگی،وہی سہل ممتنع کا اچھا شعر ہوگا۔احمد رضا خان بریلوی کا یہ سادہ، سلیس، خوبصورت، عمدہ اور معنی خیز شعر ملاحظہ ہو، جو سہل ممتنع کی بہترین مثال ہے        ؎

سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی

اپنے مولا کا پیارا ہمارا نبی

اس شعر میں احمد رضا خان بریلوی نے اس کائنات کی سب سے برگزیدہ شخصیت حضرت محمدؐ کی شان اقدس کو نہایت ہی آسان اور سادہ الفاظ میں بیان کیا ہے،جب کہ آپؐ کی شخصیت و سیرت کو بیان کرنے اوران کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے ایک دو ورق نہیں بلکہ پوری ایک سفینہ بھی کم پڑ جائے گی،لیکن احمد رضا خان بریلوی نے اس شعر میں آپؐ کی شان مبارک کو بہت ہی خوبصورتی اور عمدگی سے بیان کیا ہے۔لہٰذا یہ شعر سہل ممتنع کی بہترین مثال ہے۔

صنعت سہل ممتنع کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس کے اشعاربظاہراتنے سادہ اورآسان ہوتے ہیں کہ اس کو اگر ہم نثر میں تبدیل کرنا چاہیں تو نہ کر سکیں،یعنی سہل ممتنع کے اشعار نثر کے بہت قریب ہوتے ہیں۔سہل ممتنع کے لیے ایک اور بات کہی جاتی ہے کہ ایسے اشعار چھوٹی بحر میں ہی کہے جا سکتے ہیں،جب کہ ایسا نہیں ہے۔ سہل ممتنع کے لیے بحر کی کوئی قید نہیں ہے،یہ کسی بھی بحر میں کہے جا سکتے ہیں۔ بشرط یہ کہ اشعار میں سہل ممتنع کی دوسری تمام خصوصیات موجود ہوں۔ یہ صحیح ہے کہ چھوٹی بحرمیں کہے گئے سہل ممتنع کے اشعار زیادہ مشہور و مقبول ہیں،لیکن اس کا یہ قطعی مطلب نہیں ہے کہ بڑی بحر میں سہل ممتنع کے اشعار نہیں کہے جا سکتے۔مثال کے طور پر میر تقی میر کا یہ شعر ملاحظہ ہو        ؎

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

اسی طرح مرزا غالب کا بھی ایک شعر ملاحظہ ہو       ؎

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

سہل ممتنع ایک مشکل فن ہے۔ اس میں مشکل سے مشکل تر ین بات کو آسان ترین زبان میں پیش کیا جاتا ہے۔اردو شاعری میں ابتدائی دور ہی سے اس کی مثالیں ملنے لگتی ہیں۔اس میں کلاسیکی اور نو کلاسیکی شعرا سے لے کر ترقی پسند،جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے عہد کے شعرا نے طبع آزمائی کی ہے۔اس فن میں ولی دکنی، میر تقی میر، خواجہ میر درد،مرزاغالب،اکبر الہ آبادی، غلام ہمدانی مصحفی،امام بخش ناسخ، مولانا حالی، داغ دہلوی، مومن خاںمومن،فانی بدایونی،اصغر گونڈوی، حسرت موہانی،یاس یگانہ چنگیزی،جگر مرادآبادی،فراق گورکھپوری، فیض احمدفیض،مخدوم محی الدین، ناصر کاظمی،شہر یار،عرفان صدیقی، جون ایلیا، پروین شاکر وغیرہ نے اپنے فن کا مظاہر ہ کیا ہے۔اس کے باجود اردو شاعری میں سہل ممتنع کے اشعار کی تعداد بہت کم ہے،اس کی وجہ اس کی مشکل پسندی ہے۔مضمون کی طوالت کے پیش نظریہاں پر صرف اہم کلاسیکی اور نو کلاسیکی شعرا کے کلام سے سہل ممتنع کی مثالیں پیش کی جارہی ہیں۔

ولی دکنی کا شمار اردو شاعری کے ابتدائی دور کے شعرا میں ہوتا ہے بلکہ انھیں اردو شاعری کا بابا آدم بھی کہا جاتا ہے۔ولی نے اردو غزل کو ایک نئی پہچان اور بلندی عطا کی ہے۔ان کی غزلوں میں خیال کی ندرت اور بیان کی لطافت پائی جاتی ہے۔انھوں نے اپنی غزلوں میں عشق ومحبت کے ساتھ ساتھ تصوف اور معرفت کو بھی موضوع سخن بنایا ہے۔اس کے علاوہ ان کے یہاں انسانی زندگی کے حقائق پر مبنی اشعار بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔سہل ممتنع میں کہے گئے ان کے اشعار کسی فلسفے سے کم اہمیت نہیں رکھتے۔ ولی کے چند اشعار ملاحظہ ہوں،جس میں وہ بہت آسان الفاظ اور سلیس زبان میں بہت ہی گہری باتیں کہہ گئے ہیں         ؎

.1

مفلسی سب بہار کھوتی ہے

مرد کا اعتبار کھوتی ہے

.2

شغل بہتر ہے عشق بازی کا

کیا حقیقی و کیا مجازی کا

.3

جسے عشق کا تیر کاری لگے

اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے

مذکورہ بالا اشعارالفاظ اور اسلوب کی سطح پر بالکل آسان لگ رہے ہیں،لیکن یہ اشعار اتنے آسان ہیں نہیں،جتنے کہ بظاہر نظر آرہے ہیں۔ ان میں زندگی کے بڑے بڑے فلسفے پوشیدہ ہیں۔

پہلے شعر میں ولی نے مفلسی اور تنگ د ستی کو انسانی زندگی کے لیے عذاب تصور کیا ہے۔مفلسی اور ناداری انسانی زندگی کی خوبصورتی اور خوشیوں کے لیے زہر قاتل ثابت ہوتی ہے۔مفلس اور غریب انسان کی زندگی اس کی غربت کی وجہ سے ہر طرح کی خوشی اور بہار سے محروم ہو جاتی ہے۔ مفلسی ایسی چیز ہے،جس کی وجہ سے ایک مرد سماج ہی میں نہیں بلکہ اپنی بیوی بچوں کے درمیان بھی اپنا اعتبار کھو دیتا ہے۔اس شعر میں مرد کا اعتبار کھونے سے شاعر کی مراد ہے کہ مفلسی یا غریبی ایک ایسی بری چیز ہے جس کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے پر بھروسہ بھی نہیں کرتے۔ یہ انسانی زندگی کی ناقابل یقین حقیقت ہے۔

دوسرا شعر عشق حقیقی پر مبنی ہے۔اس میں صوفیانہ خیالات کا اظہار ہے۔شغل یعنی کہ کام۔شاعر کہتا ہے کہ انسان کے نزدیک عشق و محبت کا کام دراصل سب سے اچھا کام ہے،چاہے وہ حقیقی عشق یعنی اللہ سے محبت ہو یا پھر عشق مجازی یعنی اللہ کے بندوں سے ہو، دونوں ہی اللہ تک پہنچنے کے راستے ہیں۔ اس لیے انسان کو صرف اور صرف محبت کرنا چاہیے،نفرت نہیں۔

تیسرے شعر کا موضوع بھی عشق و محبت ہی ہے۔ اس شعر میں شاعر نے بالکل واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ انسان کی کامیابی کا راز عشق  میں پوشیدہ ہے۔شاعر کہتا ہے کہ جس کسی کو بھی عشق کا کام مشکل یا بھاری لگتا ہے اسے زندگی بھی بھاری لگے گی۔ عشق کا فلسفہ یہ ہے کہ جسے عشق کرنا مشکل لگتا ہے اسے زندگی گزارنا بھی دشوار لگے گا۔کیوں کہ جسے ایک بار عشق ہو جاتا ہے پھر وہ مشکلوں اور مصیبتوں کا سامنا بہت آسانی سے کر لیتا ہے۔

میر تقی میر کو اردو غزل کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ انھوں نے اردو غزل کو ایک نئی بلندی عطا کی ہے۔ میر کی غزلوں میں ہمیں فکر کی گہرائی ملتی ہے، ہمہ گیریت اور سوز و گداز بھی ملتا ہے۔میر تقی میر جیسے استاد سخن شاعر نے سہل ممتنع کی شاعری میں طبع آزمائی کی ہے اور انتہائی شاندار اشعار کہے ہیں۔ میر کی سہل ممتنع کی شاعری میں کئی معنوی پرتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ان کے اشعار کی تشریح کرنے پر معانی کی کئی جہتیں کھل کر سامنے آتی ہیں۔ اس حوالے سے میر کے چند اشعار ملا حظہ ہوں      ؎

.1

نازکی اس کے لب کی کیا کہیے

پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

.2

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

.3

آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم

اب جو ہیں خاک، انتہا ہے یہ

مذکورہ بالا پہلے شعر میں میر تقی میر نے تشبیہ سے کام لیا ہے۔ بظاہر بالکل آسان سا دکھنے والا یہ شعر اپنے اندر بہت کچھ سمیٹے ہوئے ہے۔ اس شعر میں شاعر نے اپنے محبوب کے ہونٹ کی تعریف کی ہے، جس میں شاعر نے اپنے محبوب کے ہونٹ کی تشبیہ گلاب کی ایک پنکھڑی سے دی ہے۔چونکہ ہونٹ کا رنگ گلابی ہوتا ہے،نرم ہوتا ہے، نازک ہوتاہے،اس کی بناوٹ چاند کے مانند ہوتی ہے،یہ تمام خوبیاں گلاب کی ایک پنکھڑی میں بھی ہوتی ہیں، اسی لیے شاعر کہتا ہے کہ میرے محبوب کے ہونٹ اتنے خوبصورت ہیں کہ ان کا بیان مشکل ہے۔ان کی خوبیاں گنانے سے بہتر ہے کہ انھیں گلاب کی پنکھڑی سے مشابہت دے دی جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔

دوسرے شعر میں شاعر نے عشق و محبت کی بات کی ہے۔ عشق کا راستہ بڑا پر خطر ہوتا ہے۔اس پر چلنے والے کو قدم قدم پر صبر آزما امتحانوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس امتحان میں کامیابی بھی ملتی ہے اور کبھی کبھی جان سے ہاتھ بھی دھونے پڑتے ہیں۔ جان دینے کے لیے بڑی ہمت ہونی چاہیے۔لہٰذا جو کوئی اس میدان میں قدم رکھے اس کے دل میں خوف اور ڈربالکل نہیں ہونا چاہیے،بلکہ اس کا حوصلہ بلند ہونا چاہیے۔ عشق کی ابتدا ہی میں اگر عاشق انجام سے ڈر جائے توعشق کی انتہا تک کبھی نہیں پہنچ سکتا۔ اس طرح میر کہتے ہیں کہ یہ تو ابھی عشق کی ابتدا ہے ابھی سے کیوں روتا ہے،آگے تو بڑھ،تب پتہ چلے گا کہ تجھے کامیابی ملے گی یا پھر تو رسوا ہوگا۔

تیسرے شعر میں شاعر کہتا ہے کہ عشق کی ابتدا میں ہم آگ کی مانند تھے۔ مطلب یہ کہ ہمارے اندر ایک جوش تھا، ولولہ تھایعنی ہم بہت خوش تھے،لیکن جب عشق کا بھوت سر سے اتر ا تو پتہ چلا کہ یہ خوشی نہیں بلکہ فریب تھا، دھوکا تھا۔سچ تو یہ ہے کہ عشق کی انتہا خاک پر ہوتی ہے، لہٰذا اب میں خاک کے مانند ہوں یعنی عشق میں تباہ و برباد ہو چکا ہوں۔

 میر تقی میر کے اس طرح کے بہت سے اشعار پیش کیے جا سکتے ہیں، جو دیکھنے میں بہت آسان معلوم پڑتے ہیں،لیکن ان کے اندر بہت ہی باریک اور گہری باتیں پوشیدہ ہوتی ہیں، جن کی تشریح کرنے پر معانی کے کئی جہاں کھلتے چلے جاتے ہیں۔

میر دردکا شمار صوفی شاعروں میں ہوتا ہے۔ان کی زندگی اور شاعری دونوں تصوف کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے۔انھوں نے اپنی غزلوں میں دنیاوی (عارضی) زندگی سے زیادہ ابدی اور دائمی زندگی کو موضوع سخن بنایا ہے۔ ان کے اشعار میں سلاست اور غضب کی روانی ہوتی ہے،جو ان کے کلام کو نہایت ہی پر اثر بناتا ہے۔میردرد اپنے احساسات و جذبات کی ترجمانی نہایت ہی سہل،شستہ اور عام فہم زبان میں کرتے ہیں،جس کی وجہ سے ان کے اشعار سہل ممتنع کے زمرے میں آجاتے ہیں۔وہ دقیق سے دقیق بات کو بہت ہی آسان الفاظ اور سلیس زبان میں کہہ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کے چند اشعار ملاحظہ ہوں       ؎

.1

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے!

ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

.2

جگ میں آکر اِدھر اُدھر دیکھا

تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا

.3

دشمنی نے سنا نہ ہو وے گا

جو ہمیں دوستی نے دکھلایا

میر درد کے یہ اشعار بظاہر تو آسان معلوم پڑ رہے ہیں،لیکن ان میں بہت باریک اور گہری باتیں پوشیدہ ہیں۔ ان اشعار میں عشق حقیقی اورعشق مجازی کا رنگ اس طرح ہم آہنگ ہے کہ ان میں امتیاز کرنا دشوار ہے۔ ان اشعار کے مطالعے کے بعد قاری کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ حقیقی محبوب کے لیے کہے گئے اشعارہیں یا پھر مجازی محبوب کے لیے۔چونکہ میر درد کا محبوب معبودِ الٰہی ہے اس لیے کائنات کے ہر ذرے میں انھیں اللہ تعالیٰ ہی نظر آتا ہے۔ گویا دنیا کا ہر ذرہ  ان کے نزدیک د یوتا ہے۔اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ ’’جگ میں آکر اِ دھر اُدھر دیکھا، تو ہی آیا نظرجدھر دیکھا۔‘‘

مرزا غالب نے بھی سہلِ ممتنع میں انتہائی باکمال شاعری کی ہے۔ ان کے اشعار میں سادگی کے پردے میں پیچیدگی اور گہرائی چھپی ہوئی ہے۔ وہ ایسے عام فہم الفاظ اور تراکیب استعمال کرتے ہیں جو ہر قاری کو فوری طور پر سمجھ میں آ جاتے ہیں، لیکن جب ان کی معنوی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی جائے تو فکر و نظر کی نئی جہات کھلتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غالب کے سہلِ ممتنع اشعار ایک طرف زبان کی سلاست اور روانی کا مظہر ہیں اور دوسری طرف فکر و خیال کی بلندی اور معنویت کی گہرائی کو بھی آشکار کرتے ہیں۔ مرزا غالب سہل ممتنع کی تعریف بیان کرتے ہوئے خواجہ غلام غوث بے خبرکو لکھتے ہیں:

’’پیر و مرشد۔سہل ممتنع میں کسرۂ توصیفی ہے۔سہل موصوف اور ممتنع صفت۔ اگر چہ بحسب ضرورت وزن کسرۂ لام مشبع ہو سکتا ہے،لیکن مخل فصاحت ہے۔اور لام موقوف تو خود سراسر قباحت ہے۔سہل ممتنع اس نظم و نثر کو کہتے ہیں کہ دیکھنے میں آسان نظر آئے اور اس کا جواب نہ ہو سکے۔بالجملہ سہل ممتنع کمال حسن ہے اور بلاغت کی نہایت ہے۔ممتنع در حقیقت ممتنع النظیرہے... سخن فہم اگر غور کرے گا تو فقیر کی نظم و نثر میں سہل ممتنع اکثر پائے گا۔‘‘4

غالب کی اس تعریف کی روشنی میں ان کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

.1

موت کا ایک دن معین ہے

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

.2

آگے آتی تھی حال دل پر ہنسی

اب کسی بات پر نہیں آتی

.3

ہم کو ان سے وفا کی ہے امید

جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

.4

جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی

حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا

سہل ممتنع ایک مشکل فن ضرور ہے،لیکن ہر عہد اور مزاج کے شعرا نے اس فن میں طبع آزمائی کی ہے۔ کلاسیکی شعرا کے بعد نو کلاسیکی شعرا کے یہاں بھی سہل ممتنع کے اشعار بڑی تعداد میں ملتے ہیں۔ اس عہد میں امام بخش ناسخ،اکبرالہ آبادی،داغ دہلوی،امیر مینائی، مومن خاں مومن وغیرہ کے یہاں اس فن میں باکمال اشعار دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔مثال کے طور پر ان شعرا کے سہل ممتنع میں کہے گئے چند اشعار ملاحظہ کریں، جو کسی نہ کسی فلسفے پر مبنی ہیں          ؎

1.

زندگی زندہ دلی کا ہے نام

مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں

2.

وہ نہیں بھولتا جہاں جاؤں

ہائے میں کیا کروں کہاں جاؤں

3.

بھولتا ہی نہیں وہ دل سے اسے

ہم نے اسے سو سو طرح بھلا دیکھا

 (امام بخش ناسخ)

1.

آئی ہو گی کسی کو ہجر میں موت

مجھ کو تو نیند بھی نہیں آتی

2.

آہ جو دل سے نکالی جائے گی

کیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گی

3.

عشق نازک مزاج ہے بے حد

عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا

 (اکبر الہ آبادی)

1.

گر مرض ہو دوا کرے کوئی

مرنے والے کا کیا کرے کوئی

2.

اس نہیں کا کوئی علاج نہیں

روز کہتے ہیں آپ آج نہیں

3.

وہ زمانہ نظر نہیں آتا

کچھ ٹھکانا نظر نہیں آتا

 (داغ دہلوی)

1.

تم کو آتا ہے پیار پر غصہ

مجھ کو غصے پہ پیار آتا ہے

2.

ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے 

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

3.

ساری دنیا کے ہیں وہ میرے سوا

میں نے دنیا چھوڑ دی جن کے لیے

 (امیر مینائی)

صنعت سہلِ ممتنع میں امام بخش ناسخ، اکبر الہ آبادی، داغ دہلوی، امیر مینائی، مومن خاں مومن وغیرہ نے اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق گرانقدر کارنامے انجام دیے، لیکن ان میں سب سے زیادہ اہمیت مومن کو حاصل ہے۔ مومن کا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے سہل ممتنع کو محض سادہ اور رواں بیان تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے جذباتِ عشق، نازک خیالی اور لطیف احساسات کے ساتھ اس درجہ ہم آہنگ کیا کہ ان کے اشعار پڑھنے والے کے دل میں براہِ راست اتر جاتے ہیں۔ ان کے یہاں نہ صرف سادگی اور روانی ہے بلکہ شوخی، نزاکت اور دلکشی بھی ہے جو سہل ممتنع کو ایک نیا حسن عطا کرتی ہے۔

مومن کے کلام میں زبان کی سلاست اور محاوروں کی روانی اس طرح جلوہ گر ہوتی ہے کہ ہر مصرع عام بول چال کا سا دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے اندر چھپی معنوی گہرائی اور جذباتی شدت قاری کو مسحور کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بہت سے اشعار آج بھی ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں اور سہل ممتنع کے اعلیٰ نمونے سمجھے جاتے ہیں۔ مومن نے سہل ممتنع کو محض ایک فنی صنعت کے طور پر نہیں برتا بلکہ اسے اردو غزل کے جذبہ آفریں اور دلنشیں اسلوب میں ڈھال کر اپنی شاعری کا نمایاں حوالہ بنا دیا۔مثال کے طور پر مومن کے چند اشعار دیکھیے       ؎

.1

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

.2

تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے

ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

.3

نہ کرو اب نباہ کی باتیں

تم کو اے مہربان دیکھ لیا

مولانا حالی  کے یہاں بھی سہل ممتنع کے اشعار بڑی تعداد میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ وہ زندگی کے مسائل اور عشق کے فلسفے کو نہایت ہی سادگی اور عام فہم انداز میں بیان کرتے ہیں۔یعنی کہ حالی انتہائی سنجیدہ اور پیچیدہ مسائل کو بھی سہل ممتنع بنا کر پیش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر حالی کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں       ؎

.1

رنج کیا کیا ہیں ایک جان کے ساتھ

زندگی موت ہے حیات نہیں

.2

وہ امید کیا جس کی ہو انتہا

وہ وعدہ نہیں جو وفا ہو گیا

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ سہلِ ممتنع اردو شاعری کی ایک اہم اور نازک صنعت ہے جس میں شاعر اپنی بات نہایت سادہ اور عام فہم انداز میں اس طرح بیان کرتا ہے کہ وہ ہر قاری کو بالکل آسان اور روزمرّہ کی زبان لگے، لیکن حقیقت میں وہی سادگی گہری سوچ، وسیع معنویت اور بلند فنی کمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس اسلوب کی بنیادی خوبی یہ ہے کہ شعر پڑھنے والا یہ خیال کرتا ہے کہ ایسا کہنا تو بہت سہل ہے، مگر جب کہنے کی کوشش کرے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دراصل نہایت دشوار مرحلہ ہے، اسی لیے اسے ’آسان مگر مشکل‘کہا گیا ہے۔ سہلِ ممتنع کی نمایاں خصوصیات میں سادہ الفاظ کا استعمال، قدرتی روانی، تصنّع اور بناوٹ سے پاک اسلوب اور معانی کی تہہ داری شامل ہے۔ اردو کے بڑے شعرا خصوصاً ولی دکنی،میر تقی میر،میر درد، مرزا غالب، ناسخ، مومن، اکبر الہ آبادی، امیر مینائی،مولاناحالی وغیرہ نے اس شعری صنعت کو کمال تک پہنچایا اور ایسے اشعار تخلیق کیے، جو بظاہر بالکل سہل ہیں مگر معنوی طور پر نہایت دقیق اور گہرے ہیں۔ اس طرح سہلِ ممتنع اردو شاعری کا وہ انداز ہے، جس میں سادگی اور عظمتِ فن ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر جمالیاتی اثر پیدا کرتے ہیں۔

حوالہ جات

  1.  پرفیسر انور جمال، ادبی اصطلاحات،نیشنل بک فاؤنڈیشن،2012،ص 122-121
  2.         بحوالہ:نیر مسعود،اصطلاحات نقد و ادب،ڈاکٹر عمر فاروق،بھارت آفسیٹ، دہلی، 2004،ص172  
  3.  حسرت موہانی، محاسن سخن،رئیس ا لطابع،کانپور،1934،ص61
  4.  مرزا محمد عسکری(مرتب)، ادبی خطوط غالب،نظامی پریس،لکھنؤ،1929،ص59-58

 

Dr. Md Nehal Afroz

Assistant Professor (Urdu)

Centre for Distance and Online Education

Maulana Azad National Urdu University

Gachibowli, Hyderabad, India- Pin : 500032

Mob :   9032815440

Email:  nehalmd6788@gmail.com





کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...