13/1/26

مغربی گھاٹوں میں بھارت کی عظیم کہانی کا ظہور،مضمون نگار: دھرمیندر پردھان، ترجمہ: نایاب حسن

 اردو دنیا،نومبر 2025

دنیا کی تاریخ میں ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب  مسلمات بھی  دھندلا کرکمزور مفروضوں میں بدل جاتے ہیں۔ پیہم اتار چڑھاؤ حقیقت ووضاحت تک رسائی کو مشکل بنادیتا ہے اور ابہام و تذبذب کا غلبہ ہوجاتا ہے۔ ایسے حوصلہ شکن اور ہمت کو پست کرنے  والے حالات میں عموما لوگ حیران و سرگرداں رہ جاتے ہیں؛ لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ انسانی محنت و اختراع پسندی  نے ہمیشہ ایسے چینلجوں کا بخوبی مقابلہ کیا  ہے اوران پر  قابو پایا  ہے۔

چنانچہ دوسری جنگ عظیم کے بعد انسانی تاریخ کے کسی بھی دوسرے عہد  کے مقابلے میں  زیادہ لوگ غربت اور بدحالی سے باہر نکلے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انتہائی سنگین حالات میں بھی رجائیت پسندی  کے اسباب و عوامل موجود ہوتے ہیں؛ لیکن  اس کے لیے ایک ایسے مقصد اور نصب العین کے تئیں پختہ وابستگی اور لگن کی ضرورت ہوتی ہے جوذاتی مفاد پرستی کے محدود دائرے  سے بالاتر ہو۔

جب جامع خوشحالی کو دنیا میں ذاتی عروج کی راہ  کے طور پر دیکھا جاتا ہے، تو نئے راستے کھلتے ہیں، بھلے روایتی راستے بند کیوں نہ کردیے جائیں؛کیونکہ کچھ ایسے  لوگ بھی ہوتے  ہیں جو ہمیشہ روایت وتقلید کی پر امن راہوں کے بجائے دشوار گزار اور غیر روایتی راستوں پر چلنا پسند کرتے  ہیں۔

تینکاسی(Tenkasi)، ایک ایسا چھوٹا سا شہر ہے جو خاموشی کے ساتھ  توقعات سے بھی بڑھ کر ترقی کی منزلوں کی طرف  بڑھ رہا ہے۔اس  کے ایک حالیہ دورے کے دوران  میں قدیم وراثت اور جدیدیت کے درمیان ہم آہنگی کے بارے میں سوچتا رہا۔ تینکاسی، تمل ناڈو میں مغربی گھاٹوں کے دامن میں واقع ایک خوبصورت شہر ہے، جس کا کاشی سے گہرا ثقافتی و روحانی تعلق ہے۔ اس کا نام، جس کا مطلب  ہے ’جنوبی کاشی‘، اس تعلق کی عکاسی کرتا ہے،اسی طرح اس کے قلب میں کاشی وشوناتھ کا بڑا سا مندر ہے،جہاں   کاشی جیسی شکل کی ہی شیو کی مورتی ہے،جس کی مقامی لوگ پوجا کرتے ہیں۔

لیکن میری دلچسپی کی وجہ تینکاسی کا  مذہبی ورثہ نہیں تھا؛ بلکہ  اس شہر سے تعلق رکھنے والے سریدھر ویمبو  (Sridhar Vembu) اور ان کی کمپنی’زوہو (Zoho) سے میں متاثر ہوا، جنھوں نے شہری ہندوستان سے ٹیکنالوجی کا ارتکاز ختم کرنے کے جرات مندانہ وژن کے حصے کے طور پر یہاں کے گاؤں متھالمپارائی (Mathalamparai) میں ایک بیس قائم کیا۔ وہاں مجھے معلوم ہوا کہ تینکاسی  ایک کاروباری مرکز سے بڑھ کربھی بہت کچھ ہے۔ یہ قدیم و جدید  کا ایک متوازن سنگم ہے۔ یہ غیر متوقع امتزاج جدید زندگی کے روایتی تصورات کو چیلنج کرتا ہے اور ہمیں بڑے شہروں کی حدود سے بالاتر ہوکر مقصدیت و ترقی کے نئے تصور کی دعوت دیتا ہے۔

تینکاسی کے مضافاتی علاقے تھروائی (Tharuvai)  میں ’زوہو‘ کا نیا کیمپس اسمارٹ ٹیکنالوجی کا حل پیش کرنے والے   مرکز سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اس میں ’زوہو‘ لرننگ اسکولز بھی ہیں، جو ہنر مندی اور باتنخواہ انٹرنشپ کے ماڈل پر عمل کرتے ہیں، جہاں آس پاس کے دیہی علاقوں کے نوجوان طلبہ و طالبات ٹیکنالوجی کی تربیت حاصل کرتے ہیں اور سیکھنے کے ساتھ ساتھ پیسہ بھی  کماتے ہیں۔

ایک اور اختراع گووندا پیری (Govindaperi) گاؤں میں ’کالیوانی کالوی مَیَم اسکول‘ ہے، جو ویمبو کا موجودہ پتہ بھی  ہے۔ یہ ایک عدیم النظیر اسکول ہے۔ یہاں قرب و جوار کے گاؤں کے بچے مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں؛لیکن جو چیز واقعی متاثر کن ہے، وہ ان کی نگرانی و تربیت کا وہ نظام ہے جس میں یہ امور شامل ہیں: مائیں وہیں رہ کر باغات کی دیکھ بھال کرتی ہیں، صحت بخش کھانا پکاتی ہیں اور اپنے بچوں کو کھلاتی ہیں،وہاں وہ تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں اور اچھی نشوو نما بھی پاتے  ہیں۔ انھیں کوئی فیس نہیں دینی پڑتی، کوئی ٹیپ ٹاپ  نہیں،صرف شرافت، وقار اور بے پناہ محبت کا ماحول ہوتا ہے۔ کارووی(Karuvi) کے میکاٹرونکس اسٹارٹ اپ میں  نوجوان انجینئر صنعتی برقی آلات بناتے ہیں، جو دیہی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہورہے ہیں۔ یہ صرف مینوفیکچرنگ کا معاملہ  نہیں ہے؛ بلکہ یہ مقامی نوجوانوں کو ہنر، خود اعتمادی اور حقیقی زندگی جینے کا گر سکھاتا ہے اور ہر آلے کو غربت اور مہاجرت سے دور لے جانے والے ایک قدم میں تبدیل کرتا ہے۔

پدم شری سے نوازے جانے  والے ویمبو نے بنگلورو یا سان فرانسسکو کے چمچماتے  ٹاورز سے بہت دور تینکاسی میں سادہ طریقۂ کار کے ساتھ اپنے اس وژن کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ اس سے یہ  ثابت ہوتا ہے کہ دیہی ہندوستان میں بھی عالمی سطح کی اختراعات   پھول پھول سکتی ہیں۔ جو چیز اسے الگ کرتی ہے وہ ٹائر II اور ٹائر  III کے شہروں میں غیر استعمال شدہ ٹیلنٹ کی شناخت کرنے کی صلاحیت ہے؛کیونکہ ان علاقوں کے نوجوانوں کو اکثر مرکزی دھارے کی آئی ٹی انڈسٹری نظر انداز کردیتی ہے، حالانکہ وہ غیر معمولی صلاحیتوں اور امکانات  کے حامل  ہوتے ہیں۔

ویمبو کا مشن وزیر اعظم کے ’آتم نربھر‘ (خودکفیل) اور’وکست بھارت‘ کے وژن سے بہت  زیادہ ہم آہنگ ہے، ایک ایسے خود کفیل، ترقی یافتہ ہندوستان کا وژن  جوسودیسی اختراعات اور غیر مرتکز  ترقیات  سے لیس ہو۔ دیہی علاقوں میں ٹیلنٹ کو پروان چڑھا کر اور شہری مراکز سے باہر نالج ہب بنا کر ویمبو اس وژن کو حقیقت میں بدل رہے ہیں، دیہاتوں کو ان کے روشن دماغوں سے خالی کرنے کی بجائے ان میں نشاط و انتعاش پیدا کر رہے ہیں۔ ان کی آرزوؤں کی حد تعمیرِقوم  سے بھی آگے  ہے، ان کا مقصد عالمی آئی ٹی کمپنیوں کو چیلنج کرنا اور ’زوہو‘ کو حقیقی معنوں میں ایک ایسی مقامی ملٹی نیشنل کمپنی  میں تبدیل کرنا ہے، جس کی جڑیں ہندوستانی سرزمین میں پیوست ہوں۔

غیر معمولی بازاری قدر و قیمت کی حامل کمپنیوں کے معیارات کے پیچھے روایتی انداز میں بھاگنے کی بجاے’زوہو‘ ایک نایاب ہدف کو پانے کے لیے کوشاں ہے، یعنی مستحکم اور آمدنی پر مبنی ترقی جو لاکھوں لوگوں کو افلاس کے پنجے سے چھٹکارا دلائے۔ یہ نظریہ ظاہری چکاچوند کو مسترد کرنے کے جرأت مندانہ قدم اور پائیدار قومی تعمیر کے تئیں عہد بستگی کو ظاہر کرتا ہے۔ تینکاسی میں قیام کے دوران تمل شاعر سبرامنیا بھارتی (Subramania Bharathiyar) کی یاد آتی ہے، جنھوں نے اپنی تخلیقات میں ایک ایسے خود کفیل بھارت کا تصور پیش کیا ہے، جہاں گاؤں بھی اپنے لوگوں کے علم و عمل کی بدولت صنعت اور سماجی  وقار دونوں سطحوں پر  پھل پھول رہے ہوں۔ ’زوہو‘ کا دیہی انقلاب اس خواب کو تعبیر بخش رہا ہے اور ٹیکنالوجی گاؤں کی ترقی کا ذریعہ بن رہی ہے، ان کی تباہی کا نہیں۔ یہاں، مغربی گھاٹوں  کے سلسلہ ہائے  کوہ  کے دامن میں، سبرامنیا بھارتی کا وژن مودی کے وژن ’آتم نربھر بھارت‘ سے ہم آغوش ہورہا  ہے اور اس خطے میں بہ تدریج بھارت کی ایک عظیم کہانی جنم لے رہی ہے۔

(بہ شکریہ ’ٹائمز آف انڈیا‘، 30 ستمبر 2025)

ترجمہ: نایاب حسن

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...