اردو دنیا،اکتوبر 2025
ابن کنول کا شمار اردو ادب کے ان اہم قلم کاروں میں ہوتا ہے
جنھوں نے کلاسیکی ادب کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ تخلیقی
ادب پیش کیا۔ وہ ترقی پسند فکر سے متاثر ہونے کے باوجود بھی کسی مخصوص نظریے یا
اصول کو اپنی تخلیقات پر حاوی نہیں ہونے دیتے تھے۔ ان کی تحریریں ایک منفرد
داستانوی اسلوب کی حامل ہیں، جس نے انھیں اردو ادب کی دنیا میں ایک منفرد مقام عطا
کیا۔ابنِ کنول کی شخصیت ہمہ جہت تھی۔ وہ تخلیقی ذہن کے مالک کثیر الجہات ادیب
تھے۔وہ بیک وقت افسانہ نگار، ڈراما نویس، خاکہ نگا ر، سفرنامہ نگار، انشائیہ نگار،
نقاد، محقق اور شاعر تھے۔ ان کا اصل نام ناصر محمود کمال تھا، لیکن ادبی دنیا میں
وہ ابنِ کنول کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ان کی تخلیقات میں گہرائی، شگفتگی اور جدت
کا حسین امتزاج ملتا ہے، جو انھیں دیگر قلم کاروں سے ممتاز بناتا ہے۔ ما بعد جدید
اردو ادیبوں میں ابن کنول کو ایک اہم مقام حاصل ہے۔ ان کی انفرادیت اس بات میں ہے
کہ وہ نہ صرف ایک ممتاز داستان شناس اور کامیاب افسانہ نگار تھے بلکہ ایک اعلیٰ
درجے کے محقق، نقاد، اور منفرد خاکہ،انشائیہ اور سفرنامہ نگار بھی تھے۔ ان کی تخلیقیت
میں خارجی عوامل کے ساتھ ساتھ شعوری اور داخلی احساسات کا بھی گہرا عمل دخل تھا،
جو انھیں تخلیقی میدان میں اعلیٰ مقام پر فائز کرتا ہے۔ ابن کنول کی اہمیت اس بات سے واضح ہوتی ہے
کہ انھوں نے اردو نثر کو لفظیات، ترکیب سازی، کردار نگاری، اور پیکر تراشی کے نئے
انداز سے متعارف کرایا۔ انھوں نے روایتی ڈگر سے ہٹ کر اور تقلید کی راہ چھوڑ کر
اردو نثر کو ایک ایسا منفرد اسلوب اور لب و لہجہ عطا کیا جو بالکل جداگانہ اور
منفرد ہے، اور یہی خوبی ایک بڑے فنکار کی پہچان ہے۔ابن کنول ایک تجربہ پسند اور
تجربہ کار تخلیق کار تھے۔ ان کے ہاں عصری مسائل، خواہ وہ سیاسی ہوں، سماجی ہوں یا
تہذیبی، سب کے بارے میں ان کی فکر مندی اور فنی مہارت گہرے اور متوازن انداز میں
جھلکتی ہے۔ڈاکٹر افضل مصباحی اپنے مضمون ’پروفیسر ابن کنول:کچھ یادیں،کچھ باتیں‘ میں
لکھتے ہیں:
’’پروفیسرابن
کنول میں وہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم پائی جاتی تھی جوایک اچھے استاد، ماہر ادیب، دیدہ
ور قلم کار، دوربیں ناقد، کہنہ مشق تخلیق کار، تجربہ کار اسکالر اور ایک اچھے
انسان میں ہونی چاہئیں۔خواہ وہ تحریر ہو یا تقریر؛ خوبصورت اوردلکش پیرائے میں
باتوںکوپیش کرتے اور موضوع کی مناسبت سے معرکۃ الآرابحث کرنے کاوہ ہنرجانتے تھے۔
خاکہ ہویاافسانہ، تحقیق ہو تنقید، تمام اصناف میں فنکارانہ مہارت کاثبوت دیتے
اور’شگفتگی وسنجیدگی‘ کوبرقراررکھتے تھے۔‘‘ 1
ابن کنول کے تمام ادبی کارناموں کی تفصیلات اس طرح مرتب کی
جا سکتی ہیں کہ انھوں نے تقریبا تین درجن کتابیں تصنیف و ترتیب دی ہیں۔ان کی تخلیقی کاوشوں میں شاہکار افسانے، خاکے،
انشائیے، ڈرامے اور سفرنامے شامل ہیں۔ تنقید کے میدان میں بھی وہ اپنی نظیر آپ
تھے۔ ان کی رہنمائی میں بے شمار طلبا و طالبات نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں
حاصل کیں۔آپ تقریباً پانچ دہائیوں تک اردو زبان و ادب کے فروغ میں مسلسل مصروف
رہے۔ ان کے قلم سے مختلف اصناف میں متعدد تحقیقی، تنقیدی، علمی اور ادبی مضامین
وجود میں آئے۔ ابن کنول کی کتابیں روسی زبان میں بھی ماسکو سے شائع ہو چکی ہیں،
اس کے علاوہ نیشنل بک ٹرسٹ نے آپ کی کتابیں اردو اور ہندی میں بھی شائع کی ہیں۔
ان کی اہم تصانیف میں افسانوی مجموعے، تیسری دنیا کے لوگ (1984)،بند
راستے(2000)،پچاس افسانے (کلیات2014)، اہل الکہف (2018)، الحلم (2020)۔ (ڈرامے)
پہلے آپ(2008)،بزم داغ (2020)،کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی (خاکے) 2020،بساطِ نشاط دل
(انشائیے 2021)، تبریک (تقاریظ2022)، چار کھونٹ (سفرنامے 2022)، ہندوستانی تہذیب
بوستانِ خیال کے تناظر میں (تحقیق 1988)، ریاض دلربا(تحقیق 1990)، آؤ اردو سیکھیں
(قاعدہ 1993)، داستان سے ناول تک (تنقید 2001)، بوستان خیال: ایک مطالعہ (تحقیق 2005)، تنقید و تحسین (تنقید مضامین کا
مجموعہ 2006)، میر امن (مونوگراف 2007)، اردو افسانہ (تنقید 2011)، اردو شاعری
(تنقید 2019)، داستان کی جمالیات (تنقید 2020)، داغ دہلوی (مونوگراف 2022)، وغیرہ ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری
کتابوں کو ترتیب دیا ہے۔ پروفیسر ابن کنول کی یہ تصانیف ان کے علم و فن، محنت اور
اردو ادب سے لگاؤ کا واضح ثبوت ہیں، جو اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
ابن کنول کی پہچان اردو ادب میں ایک نمایاں افسانہ نگار کی
ہے۔ بلا مبالغہ ابن کنول اردو فکشن کی مقبول ترین آواز ہیں۔ انھوں نے نہ صرف فکشن
بلکہ غیرافسانوی ادب میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔ تجزیاتی مضامین، تحقیقی کاوشات
اور مرتبین کی حیثیت سے بھی ابن کنول اردو ادب میں مشہور ہیں۔ آپ ایک بہت اچھے
افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ ایک اعلی پائے کے خاکہ نگار، ایک بہترین انشائیہ نگار،
اور اچھے سفرنامہ نگار بھی ہیں، ابن کنول نے جس بھی صنف میں طبع آزمائی کی اس کے
فنی و تخلیقی مطالبات کو ہمیشہ مدنظر رکھا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی تخلیقات ادبی دنیا
میں اپنا ایک الگ ہی مقام رکھتی ہیں۔
موجودہ صدی میں
خاکہ نگاری کی روایت کافی حد تک ماند پڑ چکی ہے۔ اب عموماً خاکہ نگار تنقید یا تنقیص
پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ تاہم، ابن کنول اس رجحان سے ہٹ کر خاکہ نگاری کی کلاسیکی
روایت اور فن کی پیروی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ
انھوں نے خاکہ نگاری میں نئی روح پھونک دی ہے۔کورونا جیسی مہلک بیماری کے باعث دنیا
کے بیشتر ممالک کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں بھی لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا۔ اس دوران
لوگوں کو کہیں آنے جانے یا کسی سے ملنے کی اجازت نہیں تھی۔ اسی عالمی وبا کورونا
وائرس اور ملک گیر لاک ڈاؤن کے دوران ابن کنول نے پچیس بیش قیمتی خاکے قلم بند
کرکے انھیں ’کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی‘ کے نام سے 2020 میں لاک ڈاؤن کے دوران شائع
کرایا۔ اس کتاب کی ادبی حلقوں میں کافی پذیرائی ہوئی۔ ابن کنول نے اس مجموعے میں
ان سبھی اشخاص کا خاکہ قلمبند کیا ہے جن سے ان کے دلی مراسم تھے۔ان خاکوں کے حوالے
سے ابن کنول لکھتے ہیں:
’’اس
نظر بندی میںمجھے میرے اپنے یاد آئے، جن سے میرا خون کا رشتہ نہیں لیکن دل کا
رشتہ تھا اور دل کا رشتہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔میں نے انھیں قلم کے ذریعہ یاد کرنے
کا فیصلہ کرلیا۔ 12اپریل کو ’داستان کی
جمالیات‘ کا پیش لفظ لکھ کر کتاب مکمل کی اور14 اپریل سے خاکے لکھنا شروع کر دیئے۔
سب سے پہلے اپنے پرائمری اسکول کے استاد کو یاد کیا، پھر اسکول کے ہم جماعت کی یادآئی،
پھر علی گڑھ اور دہلی کے اساتذہ اور دوستوں کو یاد کیا۔‘‘2
اس مجموعے میں منشی چھٹن، منٹو سرکل، قاضی عبدالستار، قمر
رئیس، تنویر احمد علوی، گوپی چند نارگ، عنوان چشتی، حیات اللہ انصاری، عصمت چغتائی،
محمد عقیق صدیق، عینی آپا، محمد زما ں آزردہ، ایڈوکیٹ اے رحمان، علی احمد فاطمی،
پیغام آفاقی، اسلم حنیف، جلال انجم، فاروق بخشی، ارتضیٰ کریم، شمس تبریزی، خواجہ
محمد اکرام الدین، محمد کاظم، عظیم صدیقی، نعیم انیس اور محمد اشرف کے خاکے شامل ہیں۔
ابن کنول نے اپنے اساتذہ کے خاکے بڑی ہی عقیدت مندی سے تحریر کیے ہیں۔ مصنف نے اس
مجموعے کا پہلا خاکہ آرٹ اور ریاضی کے استاد’منشی چھٹنــــ‘
پر تحریر کیا ہے۔ اس خاکے میں انھوں نے قصبہ گنور، اردو میڈیم اسلامیہ اسکول اور دیگر
اساتذہ کی دلچسپ یادیں قارئین کے سامنے پیش کی ہیں۔ اس خاکے میں انھوں نے بچپن کی
بہت سی یادوں کو قلم بند کیا ہے۔ ماضی کی یادوں کے اوراق پلٹتے ہوئے ابن کنول قارئین
کو اس زمانے میں لے جاتے ہیں جہاں صداقت اور سچائی کا غلبہ تھا۔ انھوں نے اپنے
استاد کی شخصیت کو ایک خوبصورت رنگ دے کر ابھارا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے اپنے ایک
اور استاد قاضی عبدالستار کابھی خاکہ قلم بند کیا ہے۔ جس میں ان کا سراپا اس قدر پیش
کیا ہے جیسے کسی بادشاہ کی آمد ہو۔ اس خاکے میں ابن کنول نے نہایت دلکش انداز میں
اپنے افسانہ نگار بننے کی کہانی بیان کی ہے۔ اس خاکے کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات
واضح ہو جاتی ہے کہ ابن کنول نے باقاعدہ قاضی عبدالستار سے افسانے لکھنے کا ہنر سیکھا
ہے۔ اس کے بعد انھوں نے ایک اور استاد قمر رئیس کا خاکہ لکھا جو اس مجموعے کا سب
سے طویل خاکہ ہے۔ یہ خاکہ19 صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ سوانحی نوعیت کا خاکہ ہے۔ جس میں
ابن کنول نے اپنے استاد سے متعلق بیشتر واقعات کو قلم بند کیا ہے۔ اس خاکے میں
مصنف نے اپنے استاد کی اس عام شخصیت سے قاری کو روبرو قرار دیا جو ایک بڑے انسان میں
چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ اس خاکے کا مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت بھی اشکار ہوتی ہے کہ دہلی
یونیورسٹی میں پروفیسر ابن کنول کی شخصیت کی تعمیر، ذہنی تربیت، اور روزمرہ زندگی
کے انتظامات جیسے، دال روٹی اور گوشت بوٹی کے بندوبست میں قمر رئیس کا نمایاں
کردار رہا ہے۔ابن کنول نے قمر رئیس کے خاکے میں ان کے کئی یادگار واقعات قلم بند کیے
ہیں، جن سے ان کی طلبہ سے محبت اور ان کے لیے خلوص کا اندازہ ہوتا ہے۔ قمر رئیس،
کمیونسٹ نظریات کے حامی ہونے کے باوجود دین اور یادِ الٰہی سے کبھی دور نہیں رہے۔
1986 میں ترقی پسند تحریک کی گولڈن جوبلی تقریبات کو کامیاب بنانے میں قمر رئیس کا
مرکزی کردار تھا۔بن کنول نے قمر رئیس کی باوقار شخصیت کو قلم کے ذریعے یوں اجاگر کیا
ہے کہ قاری ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو نہایت قریب سے محسوس کر سکتا ہے۔ مصنف
قمر رئیس کی شخصیت کو یوں بیان کرتے ہیں:
’’قمر
صاحب کی شخصیت بہت پر کشش تھی۔ دلیپ کمار کی طرح خوب صورت پٹھان تھے، دراز قد،
نکھرتا رنگ، چمک دار مسکراتی آنکھیں، پیشانی پر لہراتے سیاہ بال، جنھیں تھوڑی
تھوڑی دیر میں انگلیوں سے اوپر کرتے،خاموش رہتے تو صوفیانہ استغراق، بولتے تو بلبل
کی سی چہچہاٹ۔علی گڑھ میں مجھے قاضی صاحب کی سر پرستی حاصل تھی،دہلی میں قمر رئیس
جیسا شفیق انسان مل گیا۔‘‘3
اپنے دوسرے اساتذہ میں گوپی چند نارگ کا خاکہ بھی انھوں نے
پیش کیا، مصنف نے اس خاکے میں اپنے قلم سے مختلف رنگ ابھارنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے بعد عصمت چغتائی کا خاکہ ایک مختصر انداز
لیے ہوئے ہے۔ جس میں عصمت چغتائی سے چند ملاقاتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر
تنویر احمد علوی کے خاکے میں ان کی ذہانت اور دانش و بینش کو اپنے شاندار انداز میں
پیش کیا ہے۔ اس مجموعے کا ایک اور اہم خاکہ اردو ادب کی مشہور و معروف فکشن نگار
قرۃ العین حیدر کا ہے۔ جو بہ عنوان’ عینی آپا‘ کے نام سے درج ہے۔ عینی آپا بہت کم لوگوں سے ملنا پسند کرتی تھیں
کچھ مزاج ہی ایسا تھا اور علم و ادب کے مطالعہ میں محو رہتی تھیں۔ عینی آپا دو
ٹوک بات کرنے والی خاتون تھی۔ اس خاکہ میں قرۃ العین حیدر کی پوری شخصیت کھل کر
سامنے آجاتی ہے۔ اس میں مصنف نے نہ صرف ان کی خوبیاں بلکہ خامیوں کی طرف بھی
اشارہ کیا ہے۔ اس خاکہ میں ابن کنول نے نہ صرف قرۃ العین حیدر کی شخصیت کے پہلوؤں
کو اجاگر کیا ہے بلکہ ان کے مزاج کے پہلوؤں کو بھی پیش کیا۔ مصنف اس حوالے سے لکھتے ہیںـ:
’’عینی
آپا وہ نہیں تھی جولوگ سوچتے تھے۔ وہ ایک سچی فنکار تھیں۔ ’شیشے کے گھر‘ میں بیٹھ
کر’ دلربا‘ انداز میں ’چائے کے باغ‘سے لائی
ہوئی چائے پیتیں اور ’پت جھڑ کی آواز‘ کو نظر انداز کرتے ہوئے ’ستاروں سے آگے‘،
’روشنی کی رفتار‘ دیکھ کریہ کہتی ہوئی رخصت ہو گئیں ’اگلے جنم موہے بیاڑنہ کچیو‘۔عینی
آپا مغرور عورت نہیں تھیں، جب کہ ان کے پاس وہ سب کچھ تھا جوکسی کے اندر غرور پیدا
کر سکتا ہے۔‘‘4
ابن کنول نے اس مجموعے میں اپنے کئی دوست و احباب کے خاکے
بھی قلم بند کیے ہیں جن میں فاروق بخشی، علی احمد فاطمی، پیغام آفاقی، ارتضیٰ کریم
وغیرہ کے خاکے اہم ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ نئے دور کی ادبی شخصیات بھی اس مجموعے میں
نظر آتی ہیں جن میں خواجہ اکرام الدین، محمد کاظم، عظیم صدیقی، نعیم انیس اور
محمد اشرف قابل ذکر ہیں۔ ابن کنول بخوبی جانتے ہیں کہ کہاں کس طرح سے کیسے قاری سے
مخاطب کروانا ہے اسی لیے اپنے دوستوں کا بیان اس خوبی اور لطف اندوز طریقے سے کرتے
ہیں کہ ایک خوشنما ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔ ’کچھ شگفتگی کچھ سنجیدگی‘ میں ابن کنول
نے جن بھی اشخاص کا خاکہ لکھا ہے ان کے ساتھ انصاف کیا ہے۔ جہاں ان کی خوبیوں کو
قلم بند کیا وہیں ان کی خامیوں کو بھی قلم بند کرنے سے خود کو نہیں روکا۔ الغرض یہ
خاکوں کا مجموعہ ایک معلومات کا خزانہ ہے۔ جس میں مصنف نے عام فہم زبان استعمال کرتے
ہوئے اپنی بات نہایت دلکش انداز میں پیش کی ہے۔جگہ جگہ محاورات اور ضرب المثال کا
برجستہ استعمال تحریر کو مزید پر اثر بناتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کے ذریعے خاکوں
میں رنگا رنگی اور تنوع پیدا کیا گیا ہے جو قاری کی دلچسپی کو برقرار رکھتا ہے۔
واقعات و منظر نگاری میں جزئیات نگاری کا خوبصورت استعمال کیا گیا ہے جواس تحریرکو
حقیقت کے قریب اور دلکش بنا دیتا ہے
سفر کرنا انسانی جبلت کا ایک اہم پہلو ہے۔ تاریخ کے آغاز
سے ہی انسان فطرتاً متجسس رہا ہے اور نئی جگہوں کو دیکھنے، دریافت کرنے اور مختلف
تجربات حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ یہ جبلت نہ صرف انسان کی بقا کے لیے ضروری تھی،
بلکہ اس نے تہذیبوں کے ارتقا اور دنیا کے مختلف حصوں کو آپس میں جوڑنے میں بھی
اہم کردار ادا کیا۔سفرنامہ ایک ادبی صنف ہے جس میں مصنف اپنے سفر کے دوران دیکھے
گئے مناظر، پیش آنے والے واقعات، اور محسوس کیے گئے تجربات کو تفصیل سے قلمبند
کرتا ہے۔ یہ صرف ذاتی مشاہدات اور تاثرات کا بیان ہی نہیں ہوتا بلکہ قارئین کے لیے
معلوماتی اور دلچسپ انداز میں سفر کی روداد پیش کرتا ہے۔ ایک کامیاب سفرنامہ پڑھنے
والے کو یوں محسوس کراتا ہے جیسے وہ خود مصنف کے ساتھ اس سفر میں شریک ہو اور تمام
مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو۔
ابن کنول اردو ادب کے مشہور اور منفرد سفرنامہ نگاروں میں
شمار ہوتے ہیں۔ ان کا اندازِ تحریر منفرد، دلچسپ، اور فکری گہرائی سے بھرپور ہے۔
ابن کنول کے سفرنامے محض مقامات کی تفصیلات فراہم کرنے تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان
میں سماجی، ثقافتی، اور تاریخی پہلوؤں کا بھرپور تذکرہ ملتا ہے۔ابن کنول اپنے
سفرناموں میں جن معاشرتوں اور ثقافتوں کو دیکھتے ہیں، ان کا باریک بینی سے مشاہدہ
کرتے ہیں اور ان کی تفصیلات کو قاری کے سامنے ایک کہانی کی طرح پیش کرتے ہیں۔ ان کی
زبان رواں، ادبی اور دلکش ہے، جو قاری کو ابتدا سے لے کر آخر تک باندھے رکھتی ہے۔
ان کے جملے نہایت سادہ لیکن اثر انگیز ہوتے ہیں۔ان کے سفرنامے قاری کو نہ صرف مقام
کی سیر کراتے ہیں بلکہ سوچنے پر مجبور بھی کرتے ہیں۔ وہ مقامات کی تاریخ، وہاں کے
لوگوں کی زندگی اور ان کے رویے پر بھی گہری روشنی ڈالتے ہیں۔ابن کنول کے سفرناموں
میں ہلکا پھلکا مزاح اور دلچسپ کہانیاں موجود ہیں، جو ان کی تحریر کو مزید پرکشش
بناتی ہیں۔ابن کنول کے سفرنامے محض سیاحت کی داستانیں نہیں بلکہ وہ ایک ادیب کے
فکری تجربات، مشاہدات، اور تاثرات کے عکاس ہیں۔ ان کے سفرنامے قاری کو ایک نئی دنیا
سے روشناس کراتے ہیں اور ادب کے ذریعے دنیا کو دیکھنے کا نیا زاویہ فراہم کرتے ہیں۔’’چار
کھونٹ‘‘ ابن کنول کا ایک مشہور سفرنامہ ہے جو ان کی تخلیقی مہارت، مشاہداتی گہرائی،
اور ادبی طرزِ تحریر کا شاندار نمونہ ہے۔ اس سفرنامے کا عنوان خود اشارہ کرتا ہے
کہ یہ محض ایک جغرافیائی سفر نہیں بلکہ زندگی کے مختلف پہلوؤں، انسانوں کی تہذیب و
ثقافت، اور دنیا کے متنوع رنگوں کی کھوج پر مبنی ہے۔’چار کھونٹ‘ میں ابن کنول نے
اپنے مختلف اسفار کو قلمبند کرتے ہوئے دنیا کے کئی خطوں کی سیر کو ایک کتاب میں یکجا
کیا ہے۔ کتاب کا آغاز حج بیت اللہ کے مقدس سفر سے ہوتا ہے، جس میں ان کے روحانی
تجربات اور تاثرات شامل ہیں۔ اس کے بعد آٹھ مختلف ممالک کے اسفار کا ذکر ہے، جن میں
سعودی عرب، امریکہ، ماریشس، پاکستان، متحدہ عرب امارات، ماسکو، اور ازبکستان شامل
ہیں۔ پاکستان کے سفر کو انھوں نے خاص اہمیت دی ہے اور اس ملک کا دو مرتبہ سفر کیا۔
پہلی بار انھوں نے فیصل آباد کا دورہ کیا، جبکہ دوسری بار تاریخی شہر پشاور کا
سفر کیا، جو اپنی منفرد ثقافت اور تاریخ کے لیے مشہور ہے۔کتاب کے آخری باب میں
ہندوستان کے مختلف علاقوں کے سفر کا حال پیش کیا گیا ہے، جس میں ان کی نظر ان خطوں
کی ثقافت، تاریخ اور لوگوں کے طرزِ زندگی پر مرکوز رہی ہے۔ ’چار کھونٹ‘ محض ایک
جغرافیائی سفر کی داستان نہیں بلکہ مختلف ممالک اور علاقوں کے سماجی، ثقافتی اور
روحانی پہلوؤں کی عکاسی بھی ہے۔پروفیسر محمد زماں آزردہ اس سفرنامے کے بارے میں
لکھتے ہیں:
’’چار کھونٹ
ابن کنول کے اس سفرنامہ پرمشتمل ہے جو انھوں نے سفرحج کے علاوہ محض اد بی اجتماعات
میں شمولیت کرنے اور اپنے اہل خانہ کو مختلف جگہوں کی سیر و تفریح کرانے کے سلسلے
میں کیے ہیں، لیکن اپنے ان سفرناموں کے ذریعے ہمیں یعنی قارئین کو شریک کر کے نہ
صرف ہماری معلومات میں اضافہ کیا ہے بلکہ ان کی اپنی شخصیت کے مختلف گوشے اس طرح
واضح ہوئے ہیں کہ سامنے نظر آنے والا ابن کنول آنکھوں سے او جھل ہو کے ایک قد
آور، دور دور تک اپنا سایہ پھیلانے والا اور مختلف رنگوں کی روشنیوں کو اپنے اندر
جذب کرنے والا ایک محیرالعقل ذی روح کا سامنا کرا دیتا ہے۔‘‘5
’چار
کھونٹ‘ کا دوسرا سفرنامہ امریکہ کے سفر کی روداد پر مبنی ہے اور پروفیسر ابن کنول
کا یہ پہلا سفرنامہ ہے جو مکمل طور پر سیاحتی نقطہ نظر سے اہمیت رکھتا ہے۔ اردو
انسٹی ٹیوٹ آف کیلیفورنیا کی خصوصی دعوت پر پروفیسر ابن کنول 22 مئی 2001 سے 18
جون 2001 تک امریکہ میں مقیم رہے اس سفرنامے میں ابن کنول نے سفر کی ابتدا سے لے
کر واپسی تک کے تمام پہلوؤں کو بڑی خوش اسلوبی سے پیش کیا ہے۔ ان کی نگاہ امریکی
معاشرت، سماجی زندگی، اور تاریخی پس منظر پر گہری رہی، جس سے قاری کو امریکہ کی
تہذیب و تمدن کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ انھوں نے کھانے کی اقسام، بازاروں کی
رونق، اور امریکی گھروں کی سجاوٹ جیسے چھوٹے لیکن دلچسپ موضوعات کو بھی اپنی تحریر
کا حصہ بنایا۔انھوں نے امریکی طرز معاشرت اور ہندوستانی طرز زندگی کا تقابل کرتے
ہوئے دونوں کی نمایاں خصوصیات کو اجاگر کیا ہے۔ خاص طور پر انھوں نے امریکی زندگی
میں تکلف کی عدم موجودگی، گھروں کی سادگی، کھانے کے اوقات میں عجلت پسندی، اور
اقدار پر سختی سے عمل کرنے کی روایات کا ذکر کیا ہے۔
ابن کنول کے تیسرے سفر کا عنوان خوبصورت اور رنگین ملک ماریشس
ہے،ماریشس کا پہلا سفرانھوں نے ۱ اگست 2003 تا8 اگست
2003 میں کیا۔ اس کے بعد 2010،2011،2012میں پھر سے وہاں کا رخ کیا۔ انھوں نے اس
سفر میں ماریشس کی تہذیب و ثقافت، اسلام اور ہندومت کے امتزاج، مقامی طرزِ زندگی،
مہمان نوازی، گنے کی کاشت، شوگر کی بیماری کے پھیلاؤ، انگریزی کے بجائے فرانسیسی
زبان کی مقبولیت، لباس و خوراک، اور مقامی جغرافیہ پر روشنی ڈالی۔اس کے علاوہ، ابن
کنول نے ماریشس کی جامعات، میوزیم، اسلامی طرزِ تعمیر، اندرا گاندھی سینٹر،
ہندوستانی مہاجرین اور ہندوستانی مطالعات کے مرکز کا ذکر بھی اپنے سفرنامے میں کیا
ہے۔ انھوں نے موسمی تغیرات اور اس خطے کے حسن کو نہایت منفرد انداز میں بیان کیا۔ان
کے اس سفرنامے میں نہ صرف قدرتی مناظر کی عکاسی ہوتی ہے بلکہ تاریخ اور تحقیق کی
جھلک بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ ماریشس کے اس سفر میں انھوں نے ایک سیاح کی نظر سے
اس ملک کو دیکھا اور اس کی تاریخ و سماجی زندگی کو بھی بیان کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان
کا یہ سفرنامہ نہ صرف معلوماتی ہے بلکہ تاریخی نوعیت کے اعتبار سے بھی اہم بن جاتا
ہے۔ابن کنول ماریشس کی خوبصورتی کو یوں بیان کرتے ہیں:
’’کہتے
ہیں ماریشس زمین کا سب سے خوبصورت جزیرہ ہے۔ مشہور مصنف مارک ٹوئن نے کہا کہ’’ خدا
نے پہلے ماریشس کو تخلیق کیا اور پھر ماریشس کی شکل میں جنت تخلیق کی۔‘‘ لازم ہے ایک
مصنف کی بات پر دوسرا مصنف اخلاقاًیقین کرے، چاہے مبالغہ ہی ہو، بس ہم نے اس کے
دعوے پر نہیں ماریشس کی خوبصورتی پر یقین کر لیا کہ واقعی خوبصورت قدرتی نظاروں سے
ماریشس بھرا ہوا ہے۔‘‘6
’چارکھونٹ‘کے
اہم سفرناموں میں انگلینڈ کا سفرنامہ ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔یہ سفر انھوں4
اکتوبر سے 14 اکتوبر 2003 تک لندن اردو اکاڈمی کی طرف سے ملے دعوت نامے پر کیا۔
لندن کا یہ سفر ایک ادبی نوعیت کا تھا، جس میں ملک کے کئی دیگر اردو ادب کے ماہرین
بھی ان کے ہمراہ تھے اس سفر میں پروفیسر ابن کنول نے ایک ادیب اور سیاح دونوں کی حیثیت
سے اپنے تجربات و مشاہدات پیش کیے ہیں۔ انھوں نے انگلینڈ کو نہ صرف علمی و ادبی
نظریے سے دیکھا بلکہ اس کی ترقیات کو بھی قریب سے سمجھنے کی کوشش کی۔ اس سفرنامے میں
ان کے مشاہدات دوسرے سفرناموں سے مختلف اور نمایاں نظر آتے ہیں۔اس سفر میں انھوں
نے انگریزوں کے ہندوستان میں قیام اور لندن کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا۔
لندن کا حال بھی کچھ امریکہ جیسا ہی نظر آیا۔ وہاں کی ترقی، جدید طرز زندگی، اور
اردو زبان کے حالات کا ذکر کیا۔ خاص طور پر، وہاں کے اردو کے شیدائیوں کا حال، جو
پردیس میں رہ کر اردو زبان و ادب کی خدمت کر رہے ہیں، بڑی خوبصورتی سے بیان کیا گیا۔لندن
کے طرزِ زندگی، عمارتوں کے حسن، اور پنجاب و دہلی جیسی جھلکوں کا ذکر ان کے تحریری
اسلوب میں نمایاں ہے۔ برٹش میوزیم کی تاریخ، ٹاور برج اور لندن ٹاور کے مناظر،
انسانی محنت کے عظیم شاہکار، سینٹ پال گرجا کے بدلتے رنگ، اور لندن کی مصروف زندگی
کو انھوں نے اپنے منفرد ادبی انداز میں اجاگر کیا ہے۔
پروفیسر ابن کنول نے اپنے آخری بیرون ملک سفر کا بیان
ازبکستان کے حوالے سے کیا ہے۔یہ سفر انھوں نے مئی 2019 میں کیا ہے۔ یہ سفر بھی ادبی
نوعیت کا تھا، اور پروفیسر ابن کنول نے اس پر تفصیل سے لکھا ہے۔ ان کے اس سفرنامے
کو پڑھ کر قاری ازبکستان کی حسین وادیوں، دیومالائی کہانیوں اور اس کی اسلامی تاریخ
سے واقفیت حاصل کر سکتا ہے۔ پروفیسر ابن کنول نے ازبکستان کی فطری خوبصورتی اور اس
کے تاریخی ورثے کو ایک ادبی اسلوب میں اس طرح پیش کیا کہ قاری ایک نیا تجربہ اور
گہری بصیرت حاصل کرتا ہے۔ آخر میں پروفیسر ابن کنول نے ’سارے جہاں سے اچھا
ہندوستان ہمارا‘ کے نام سے اپنے ملک کے مختلف شہروں اور مشہور مقامات کا ذکر کیا
ہے، جو عام طور پر لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ ان مقامات کا تذکرہ کرتے
ہوئے، پروفیسر ابن کنول نے دکھایا کہ ہمارے اپنے ملک میں بھی ایسے کئی عجیب و غریب
اور دلکش مقامات ہیں جن کے بارے میں عام لوگ بے خبر ہیں۔
مجموعی طور پر ’چارکھونٹ‘کے حوالے سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ
اس میں شامل سفرنامے مختلف ممالک کی سماجی، سیاسی، تہذیبی، علمی و ادبی زندگی سے
قاری کو روشناس کراتے ہیں۔ پروفیسر ابن کنول نے ان سفرناموں میں نہ صرف مختلف
ممالک کے ثقافتی اور سماجی پہلوؤں کو بیان کیا ہے، بلکہ ان کی تاریخ، ترقی اور
وہاں کی اہم شخصیات کی جیتی جاگتی تصاویر بھی پیش کی ہیں۔ پروفیسر ابن کنول کا
سفرنامہ قاری کو ایک ایسی دنیا میں لے جاتا ہے جہاں سے واپسی بہت تکلیف دہ محسوس
ہوتی ہے۔ ان کا اندازِ بیان اتنا دلچسپ ہے کہ کتاب کے آخری صفحات تک پہنچتے
پہنچتے قاری کو یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ یہ سفر شاید کبھی ختم نہ ہوگا۔ یہ
سفرنامے دورِ حاضر میں تو اپنی اہمیت رکھتے ہی ہیں لیکن آنے والے زمانے میں بھی
ان کی دستاویزی حیثیت بھی مسلم رہے گی، کیونکہ ان میں نہ صرف ایک سیاح کے تجربات ہیں
بلکہ عالمی سطح پر مختلف ممالک کے حالات و واقعات کی گہری بصیرت بھی موجود ہے، جو
مستقبل کے لیے ایک قیمتی ورثہ ثابت ہوگی۔
حواشی
1 اردو رسیرچ
جنرل،ابن کنول نمبر، مارچ، 2023،ص70
2 کچھ شگفتگی کچھ
سنجیدگی،ابن کنول،کتابی دنیا، دہلی، 2021، ص9
3 ایضاً، ص42
4 ایضاً،ص215
5 چار کھونٹ، ابن
کنول،کتابی دنیا، دہلی،2022،ص10
6 ایضاً،ص93
Amir Abbas
Research Scholar, Dept of Urdu
Kashmir University- 190006 (J
& K)
Mob.: 7006737397
aamirabasslone621@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں