اردو دنیا،اکتوبر 2025
بیگم انیس قدوائی (1906-1982) ایک ایسی غیرمعمولی خاتون تھیں
جنھوں نے زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنی ہمہ گیر شخصیت کے انمٹ نقوش ثبت کیے۔ وہ ایک
مجاہد آزادی، پارلیمنٹرین، سماجی کارکن اور ممتاز ادیبہ تھیں۔ ان کی پیدائش 1906 میں بارہ بنکی میں ہوئی تھی۔
انھوں نے جس دور میں آنکھیں کھولیں وہ ملک کی تاریخ کا ایک نہایت ہنگامی اور
پرآشوب زمانہ تھا۔ ان کے ہم وطن مہاتما گاندھی کی قیادت میں برطانوی سامراج سے
ملک کو آزاد کرانے کی جدوجہد میں مشغول تھے۔ نئی نئی سیاسی، جماعتیں اور تحریکیں
جنم لے رہی تھیں۔ سیاست کے افق پر نئے نئے چہرے ابھر کر سامنے آرہے تھے۔ تحریک
خلافت، سول نافرمانی، نمک ستیہ گرہ، سودیشی تحریک اور بھارت چھوڑو کے نعروں سے
فضائیں گونج رہی تھیں۔ غیرملکی حکمرانوں کے خلاف نفرت کا لاوا ابھر رہا تھا۔ خود
ان کا قدوائی خاندان جنگ آزادی میں پیش پیش تھا۔ ان کے والد ولایت علی بمبوق محمد
علی جوہر کے نزدیک ساتھی ہونے کی حیثیت سے تحریک خلافت کے ذریعہ جنگ آزادی میں
سرگرمی سے حصہ لے رہے تھے۔ ان کے چچا زاد بھائی رفیع احمد قدوائی پنڈت موتی لعل
نہرو کے سکریٹری کی حیثیت سے تحریک آزادی کے ہیڈ کوارٹر آنند بھون میں مقیم تھے اور
قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے تھے۔ ایک حساس خاتون ہونے کی حیثیت سے انھیں
قدوائی اپنے گرد و پیش کے ماحول سے نہ تو بے خبر رہ سکتی تھیں اور نہ ہی ان واقعاتی
اور حالات کو نظرانداز کرسکتی تھیں۔ اس پس منظر کو سامنے رکھنا قدوائی کی فعال شخصیت
اور کردار کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ نتیجے کے طور پر وہ بچپن سے ہی تحریک آزادی
میں سرگرم ہوگئیں اور نمک ستیہ گرہ، سودیشی اور بھارت چھوڑو تحریک میں بڑھ چڑھ کر
حصہ لینے لگیں۔ جن دو ہستیوں نے انھیں سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ان کے والد ولایت
علی بمبوق اور رفیع احمد قدوائی تھے۔ وہ ان دونوں کے زیرتربیت رہیں اور ان سے بہت
کچھ سیکھا۔ ان کے علاوہ وہ مہاتما گاندھی کی مقناطیسی شخصیت سے بھی بہت متاثر ہوئیں۔
سچائی، عدم تشدد، مذہبی رواداری اور انسانیت کے بارے میں گاندھی جی کے نظریات اور
تعلیمات ان کے لیے مستقل مشعل راہ کا کام دیتے رہے۔
انیس قدوائی کی شادی ان کے چچا زاد بھائی شفیع احمد قدوائی
سے (جورفیع احمد قدوائی کے چھوٹے بھائی تھے) سے ہوئی تھی۔ وہ حکومت اترپردیش میں اونچے عہدے پر فائز تھے۔
ملک کی آزادی اپنے جلو میں برصغیر کی تقسیم بھی لے کر آئی اور ملک دو حصوں میں
بٹ گیا۔ یہ تاریخ کا ایسا المیہ تھا جس نے برصغیر میں قتل و غارت کا بازار گرم کردیا۔
بے شمار جانیں گئیں اور ان گنت لوگ گھر سے بے گھر ہوگئے۔ تقسیم کے نتیجے میں جو
خونریزی ہوئی اس کا نشانہ بننے والوں میں شفیع احمد قدوائی بھی شامل تھے۔ اس وقت
ان کی پوسٹنگ دہرہ دون میں تھی۔ حالات خراب ہونے کے باوجود وہ اپنے فرائض کی انجام
دہی کے لیے ڈٹے رہے اور ان کو بے رحمی سے شہید کردیا گیا۔ انیس قدوائی کا سہاگ اجڑ
گیا۔ اس سانحہ نے ان کے دل و دماغ کو بری طرح متاثر کیا۔ رنج و غم میں ڈوبی ہوئی
وہ مہاتما گاندھی کے پاس پہنچیں۔ گاندھی جی نے ان کی ڈھارس بندھائی اور ان کی حالت
کے پیش نظر ان کو ایسا کام سونپا جس کو انجام دینے میں وہ اپناغم فراموش کربیٹھیں۔
گاندھی جی نے ان کو ہدایت کی کہ وہ پرانی دلی کے علاقوں میں ریلیف کا کام کریں۔ وہ
جب ان فساد زدہ علاقوں اور کیمپوں میں گئیں تو ان کو پتہ چلا کہ ان کی طرح بے شمار
عورتوں کا سہاگ اجڑا ہے، اپنی آنکھوں سے پورے خاندان کو قتل ہوتے دیکھا ہے اور
گھر سے بے گھر ہوئی ہیں۔ انھوں نے اپنے ذاتی غم کو بھلا کر اپنی پوری توانائی،
مظلوموں اور فساد سے متاثر افراد کی زندگی میں رنگ بھرنے میں لگا دی۔ اپنی جان کو
خطرہ میں ڈال کر وہ فساد زدہ علاقوں میں گئیں لوگوں کی جانیں بچائیں، رفیوجی کیمپوں
میں جاکر بھوکوں کو کھانا پہنچایا، زخمیوں کی مرہم پٹی کی اور اسپتال پہنچایا۔
سبھدرا جوشی اور مردولا سارا بائی کے ساتھ مل کر انھوں نے برصغیر کی بہت سی
ہندومسلم خواتین اور لڑکیوں کا پتہ لگایا، جن کو اغوا کرلیا گیا تھا اور ان کے
وارثوں تک پہنچانے کا عظیم کام انجام دیا۔ آزادی کے بعد وہ مستقل خدمت خلق میں
مصروف رہیں۔ ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر کانگریس پارٹی نے ان کو پارلیمنٹ کے
ایوان بالا (راجیہ سبھا) کا ممبر منتخب کیا اور وہ دو ٹَرم یعنی 1956 سے 1968 تک
پارلیمنٹ کی ممبر رہیں۔ بحیثیت رکن پارلیمنٹ وہ بہت فعال رہیں۔ ایوان کی کاروائی میں
سرگرم حصہ لیا۔ سوالات کے ذریعہ حکومت کی توجہ مختلف مسائل پر مبذول کرائی۔ اس مدت
کے دوران ونٹر سریلیس پر واقع ان کی سرکاری
رہائش گاہ کے دروازے خاص و عام کے لیے کھلے رہے اور وہ بلا تفریق مذہب و
ملت مظلوموں اور ضرورت مندوں کی ہر ممکن مدد کرتی رہیں۔ وہ ہمیشہ کمزور طبقات کو
انصاف دلانے کے لیے کوشاں رہیں۔ ساٹھ کی دہائی میں جب ملک کے مختلف مقامات پر فرقہ
وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تو وہ سبھدرا جوشی اور دوسرے لوگوں کے ساتھ فوراً وہاں
پہنچیں اور متاثرین کو راحت رسانی اور ان کی بازآبادکاری میں مشغول رہیں۔ اس
سلسلے میں جواہر لعل نہرو پر اپنے مضمون میں انھوں نے لکھا ہے:
’’جبل
پور کے ہنگامے کو سن کر وہاں جاتے ہوئے ہم نے ان کو (پنڈت نہرو) کو خط لکھ دیا کہ
ہم دونوں (سبھدرا جوشی) سے وہاں کے خوفناک حالات سن کر جارہے ہیں۔ آپ کی اخلاقی
مدد کی ضرورت ہے۔ ہم ضرورت پڑنے پر آپ کا نام استعمال کریں گے۔ انکار نہ کردیجیے
گا۔ آپ کے نمائندے اور ایلچی کی حیثیت ہم کو حاصل ہونا چاہیے اور پنڈت جی نے ہماری
لاج رکھ لی۔‘‘ (اب جن کے دیکھنے کو...)۔
پارلیمنٹ کی ممبری ختم ہونے کے بعد بھی وہ خدمت خلق میں
آخری دم تک مصروف رہیں۔
سیاست اور سماجی خدمت کے علاوہ قدوائی نے ادب کے میدان میں
بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے اور ایک مستند ادیبہ کے طور پر بھی اپنا مقام
بنایا ہے۔ ان کے گھر کا ماحول ادبی تھا۔ ان کے والد ولایت علی بمبوق ایک ممتاز ادیب
تھے۔ ان کو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں پر عبور حاصل تھا اور والدہ بھی اسی
زمانے کے لحاظ سے پڑھی لکھی خاتون تھیں اور اپنے ساتھ کتابوں کے کئی سیٹ جہیز میں
لائی تھیں۔ بدقسمتی سے اس زمانے کے اصول کے مطابق ان کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا
موقع نہیں ملا لیکن انھوں نے اپنی دلچسپی شوق اور مطالعہ سے اردو زبان پر عبور
حاصل کرلیا اور اس میں گھریلو ماحول نے بھی مدد کی کیونکہ ان کے خالو کے پاس کثرت
سے رسالے آیا کرتے تھے اور ذاتی لائبریری میں کتابیں بھی خاص تھیں۔ پڑھنے کے ساتھ
ساتھ قدوائی کو لکھنے کا بھی شوق تھا۔ ان کی مضمون نگاری کا سلسلہ 1928 سے شروع
ہوا جب ان کا پہلا مضمون عصمت دہلی میں شائع ہوا۔ مضامین کے علاوہ انھوں نے افسانے
بھی لکھے، انشائیے بھی لکھے، ڈرامے اور خاکے بھی لکھے۔ ان کی تصنیفات میں چار کتابیں
شامل ہیں۔ پہلی کتاب ’آزادی کی چھاؤں میں‘ ہے جو 1974 میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب ان
کے ذاتی مشاہدات اور تجربات پر مبنی ہے جو تقسیم ہند کے پس منظر میں لکھی گئی ہے۔ یہ
ایک دستاویزی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر اس کو نیشنل بک ٹرسٹ
نے شائع کیا۔ اس کتاب کا انگریزی اور ہندی میں ترجمہ بھی شائع ہوچکا ہے۔ تقسیم ہند
کے موضوع پر اس کتاب کی اپنی اہمیت ہے اور اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے اور ریسرچ
کرنے والے اس کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔ دوسری کتاب انشائیوں کا مجموعہ ’نظرے خوش
گزرے‘ جو 1976 میں شائع ہوا۔ اس مجموعے کے کچھ مضامین آل انڈیا ریڈیو کے دیے ہوئے
عنوانات پر نشر ہوئے، کچھ ادبی محفلوں میں پڑھے گئے، کچھ مضامین محض خیالی ہیں۔ ان
میں چند شخصیات پر بھی مضامین شامل ہیں۔ اس مجموعہ کے تمام مضامین انشائیہ کے زمرے
میں نہیں آتے۔ تیسری کتاب ان کے خاکوںکا
مجموعہ ’اب جن کے دیکھنے کو‘ ہے۔ اس مجموعہ میں 13 خاکے ہیں جن میں والد کے علاوہ
معروف شخصیتیں مثلاً جواہر لعل نہرو، مولانا آزاد، رفیع احمد قدوائی، محمد علی
جوہر، شفیق الرحمن قدوائی، مردد لاسارابائی، ڈاکٹر کچلو ، چودھری محمد علی ردولوی،
ڈاکٹر سید عابد، قدسیہ زیدی شامل ہیں۔ وہیں دوسری طرف کچھ غیرمعروف ہستیوں مثلاً
حافظ جمن، مرزا ابوالفضل اور اجتماع ضدین بھی شامل ہیں۔ یہ تمام خاکے نہایت دلچسپ
اندازمیں لکھے گئے ہیں۔ یہ تمام ہستیاں ان کو محبوب تھیں۔ ان خاکوں سے ان شخصیات
کے وہ پہلو ابھر کر سامنے آتے ہیں جن کی وجہ سے وہ انھیں قدوائی کے لیے آئیڈیل کی
حیثیت رکھتے تھے۔ چوتھی کتاب ان کی نامکمل خودنوشت ’غبارِ کارواں‘ ہے جس کو پروفیسر
انور صدیقی نے مرتب کرکے 1983 میں مع اپنے پیش لفظ کے ساتھ شائع کیا تھا۔ بدقسمتی
سے وہ اپنی زندگی کی کہانی کو 1926 تک ہی لکھ سکی تھیں کہ خرابیٔ صحت کی وجہ سے وہ
اس کو مکمل کرنے سے قاصر رہیں۔ بقول انور صدیقی:
’’غبارکارواں
صرف انیس آپا کی زندگی کی کہانی نہیں ہے، اس میں ہماری معاشرتی، تہذیبی اور سیاسی
زندگی کے بہت سے ایسے نقوش ہیں جنھیں ان کے قلم نے بڑی خوبی اور خوبصورتی سے
ابھارا اور محفوظ کیا ہے... یہ ایک ادھورا رزمیہ ہے، مسلم متوسط گھرانے کی ایک
عورت کا جو اپنی شناخت کے سفر پر نکلتی ہے اور طرح طرح کی مشکلات و مواقع کے
باوجود کامیاب و کامران ہوتی ہے۔‘‘ (پیش لفظ غبارکارواں)
’نظرے
خوش گزرے‘ کے پیش لفظ میں وہ خود اپنی تحریروں پر یوں اظہار خیال کرتی ہیں:
’’میری
زبان قصباتی ہے، اودھ کے قصبات میں ہندی اور فاسی الفاظ کاایک خوبصورت ملا جلا،
لغت و ڈکشنری سے مستثنیٰ تلفظ رائج تھا۔ مضامین میں اہل زبان کو چند لفظ غیرمانوس
سے نظر آئیں گے اگر
معنی ومفہوم اور سلاست اور روانی میں فرق نہیں آتا تو ڈکشنری نہیں عوام کے منھ سے
ان الفاظ کی تصدیق کرکے ان کی جامعیت اور لطافت کا اندازہ کرلیجیے۔‘‘
ان کتابوں کے علاوہ انھوں نے مختلف رسائل و جرائد میں کثرت
سے لکھا اور ادبی دنیا میں اپنی شناخت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ ان کے زور
قلم کا اعتراف کرتے ہوئے نامور ادیب اور انشاپرداز مولانا عبدالماجد دریابادی نے
اپنے ایک خط میں لکھا:
’’کئی
دن ہوئے آں عزیزہ کا ایک مضمون جبل پور کے خونیں واقعہ پر سیکولر ڈیموکریسی
(اردو) کے پرچے میں دیکھا اور ادبی حیثیت سے بہت پسند آیا۔ یہ گمان نہ تھا کہ ولایت
زادی (ان کے والد کانام ولایت علی تھا)(اگنی صحیح، سلیس، بے تکلف اور شگفتہ اردو
پر قادر ہوگی۔‘ (مکتوبات ماجدی، جلد ششم، ص 171)
بیگم انیس قدوائی ملک کی تحریک آزادی میں جس جذبۂ صادق سے
شامل ہوئی تھیں اس پر زندگی کے آخری لمحہ تک قائم رہیں اور عمل کرتی رہیں۔ اپنی
زندگی کے بدترین سانحہ کے بعد گاندھی جی سے ان کی ملاقات ان کی زندگی کا اہم سنگ میل
ثابت ہوئی اور ان کی زندگی کا مقصد ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو زندہ اور
پائندہ رکھنا بن گیا۔ انسانیت اور بھائی چارے کے لیے انھوں نے زندگی وقف کردی۔
انھوں نے جو سوچا قوم کے لیے سوچا، جو قدم اٹھائے، انسانیت کی بھلائی کے لیے
اٹھائے، انسان کی عزت و آبرو کو اپنی ذات سے زیادہ مقدس سمجھا۔ وہ ٹھیٹھ ہندوستانی
تھیں لیکن ان کا دماغ بیسویں صدی کا سائنٹفک دماغ تھا۔ مذہب کی اصل روح کو انھوں
نے اپنے افعال و اعمال میں سمو لیا تھا۔ جس سے کسی نہ کسی طرح کا ان کا تعلق قائم
ہوجاتا۔ اس سے ذاتی تعلقات اپنی لطافت سے قائم رکھتیں کہ حیرت ہوتی۔ ان کی سادگی،
خوش اخلاقی اور خوش مذاقی اور تہذیب مسحور کن تھی۔
میری خوش قسمتی تھی کہ خاندانی تعلق ہونے کے علاوہ مجھے ان
سے ملنے کے مواقع کثرت سے ملے اور خصوصی تعلق قائم ہوا۔ ہماری پہلی ملاقات بچپن میں
اس وقت ہوئی جب میں اپنے رشتے کے چچا انصر قدوائی کی بارات میں مسولی گیا تھا۔ ان
کی شادی بیگم انیس قدوائی کی بھتیجی سے ہوئی۔ پہلی ملاقات کا نہایت خوشگوار تاثر
لے کر لوٹا تھا اور اس دن سے انھیں قدوائی کا شمار میری پسندیدہ ہستیوں میں ہونے
لگا تھا۔ اس کے بعد مختلف موقعوں پر خاص طور سے تقریبوں میں لکھنؤ، علی گڑھ اور
دہلی میں ان سے ملنا ہوتا رہا، لیکن ہمارا اصل اور گہرا تعلق 1975 میں ہوا جب میں
سروس کے سلسلے میں دہلی آیا جہاں بیگم انیس قدوائی کا مستقل قیام تھا۔ اس زمانے میں
السٹریٹڈ ویکلی (Illustrated
weekly) کے ایڈیٹر خوشونت سنگھ نے مجھے قدوائی خاندان کے
بارے میں آرٹیکل لکھنے کا آفر دیا تھا۔ میں اس کا مواد اکٹھا کرنے کے لیے بیگم
انیس قدوائی کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ انھوں نے بڑے تپاک اور اپنائیت سے میرا خیرمقدم
کیا تھااور دیر تک ان سے دلچسپ اور معمولات افزا گفتگو رہی تھی۔ ان سے تفصیلی
ملاقات کرکے اتنا اچھا لگا تھا کہ خواہش ہوتی تھی کہ ان سے دوبارہ بلکہ بار بار
ملا جائے۔ رخصت ہوتے وقت انھوں نے دوبارہ اور بھی ملنے کی تاکید کرکے دل خوش کردیا
تھا اور میں ان سے گاہے بگاہے ملنے لگا تھا۔ وہ ہر ملاقات میںا یسی محبت اور شفقت
سے پیش آتیں کہ لگتا کہ وہ مجھے بہت عزیز رکھتی ہیں۔ ان سے مختلف موضوعات پر جن میں
قدوائی خاندان کی تاریخ کے علاوہ تحریک آزادی، تقسیم ہند کا المیہ، گاندھی جی،
جواہر لال نہرو، مولانا آزاد، محمد علی جوہر اور سب سے بڑھ کر رفیع احمد قدوائی
کے بارے میں بات رہتی۔ اس سے میری معلومات میں قیمتی اضافہ ہوتا۔وہ میرے نانا
عبدالماجد دریابادی جو ان کے والد ولایت علی بمبوق کے نزدیکی دوست رہے تھے کے بارے
میں بھی اکثر ذکر کرتیں جو مجھے اچھا لگتا۔ ہماری ملاقاتوں کا سلسلہ تقریباً ساڑھے
چار سال تک چلا یعنی 1975 سے 1979 تک پھر میں کشمیر یونیورسٹی میں سروس جوائن کرنے
سری نگر چلا گیا لیکن ہمارا رابطہ برقرار رہا۔ چھٹیوں میں دہلی آنے میں ان سے
ضرور ملتا اور وہ ہمیشہ نہایت گرم جوشی اور اپنائیت سے ملتیں۔ مجھے آج بھی 16
جولائی 1982کی وہ ابرآلود شام یادا ٓتی ہے جب میں نے آل انڈیا ریڈیو سے ان کی
رحلت کی خبر سنی، اس سے مجھے دلی صدمہ ہوا اوران کے یہاں گزارے ہوئے خوشگوار لمحات
جذبات کی پوری شدت کے ساتھ بے اختیار
نظروں کے سامنے گھوم گئے۔ ان کا خیال آتے ہی ایک شفیق، شگفتہ چہرہ، زندگی سے
بھرپور ہستی جو لکھنوی تہذیب، خوش اخلاقی، خوش ذوقی اور خوش مزاجی کا دلکش امتزاج
تھی، خود بخود سامنے آگئی۔ وہ بلاشبہ ایک دل نواز شخصیت کی مالک تھیں اور سادگی
ان کا سب سے بڑا وصف تھی۔ آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ان کی مسحور کن شخصیت،
ان کی شفقت اور عنایت ذہن کے پردے پر ہمیشہ جھلملاتی رہیں گی۔ مجھے فخر رہے گا کہ
میں نے بیگم انیس قدوائی جیسی عظیم خاتون کو قریب سے دیکھا اور ن سے بہت کچھ سیکھا
اور سمجھا۔
بدقسمتی سے بیگم انیس قدوائی جیسی اہم اور عظیم شخصیت کے
بارے میں بیشتر لوگ بے خبر ہیں۔ ان کی عوامی اور ادبی خدمات اور کارناموں کو
نظرانداز کیا گیا ہے۔ ان کی سیاسی، سماجی سرگرمیوں اور تصنیفی کاموں سے نئی نسل
ناواقف ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مثالی خاتون کی خدمات اور کارناموں کو نئی
نسل خاص طور سے نوجوان لڑکیوں کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں ان کی
شخصیت سے فیض حاصل کرسکیں۔ وہ بلاشبہ ان کے لیے رول ماڈل ثابت ہوسکتی ہیں۔
Prof. (Dr.) Mohd Saleem Qidwai
C-501, Rosewood Apartment
Mayur Vihar
New Delhi- 110091
Mob.: 9953529424
mskidwai@hotmail.com

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں