جمعرات، 29 اپریل، 2021

عصری حسیت اور ساتویں دہائی کی اہم ہندی کہانیاں - مضمون نگار: فیضان حسن ضیائی

 


ساتویں دہائی کا عرصہ ہندی افسانوی ادب کا سنہرا دور تسلیم کیا جاتا ہے۔جہاں ایک طرف سماجی مسائل کی حکایت تھی تو دوسری جانب انسان کی ذات کا کرب بھی سمویا جا رہا تھا۔جس کی وجہ سے افسانے کا موضوع ترقی پسندی کی خارجیت سے باہر نکل کر داخلیت کا متقاضی ہو رہا تھا۔اروو میں جہاں جدیدیت کے رجحان نے افسانے کے ٹرینڈ میں تبدیلی پیدا کی تو وہیں ہندی میں نئی کہانی آندولن کے زیر اثر نئی تہذیب کے نئے تقاضوں کو جدید زاویہ نظر سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی گئی ۔اس عہد میں تبدیلی کا رجحان بھی بڑھا اور تجربات بھی کیے گئے۔رسم و رواج میں تبدیلی،انسان کے فطری تقاضوں مثلاً جنسی آسودگی،محبت کا نیا مفہوم جس میں سڑکوں ہوٹلوں اور پارکوں کوبھی جگہ ملی۔اعلی سوسائٹی کی چمک دمک اور روشن خیالی کے نام پر مرد و عورت کے رشتوں کی نئی معنویت بھی ابھر کر سامنے آئی۔  لہٰذا نئی کہانی آندولن کے زیر اثر لکھنے والے مصنّفین نے زمانے کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے موضوعات،نقطئہ نظر،فلسفہ حیات،ہیئت اور اسلوب میں تبدیلی کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔اس حوالے سے معروف فکشن نگارکملیشور کے احساسات بھی ملاحظہ کیجیے:

ــــ’’ صدیوں جھوٹی بنی رہنے کے بعد اب کہانی سچی ہو گئی ہے۔صدیوں کے اس پاپ سے نجات پانے کے لیے کہانی کو خود اپنے آپ سے اوراپنے چاروں طرف کے ماحول سے زبردست جہاد کرنا پڑا ہے۔وقت اور بنی نوع انسان کے تفکرات کو اپنے دائرہ میں سمیٹ کرکہانی نے ایک انتہائی زور دار اور موثر ادبی صنف کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔رفتہ رفتہ کہانی نے سبھی انسانی فکروں کو اپنے دائرہ میں سمیٹ لیا جو دور حاضر کے اہم مسائل ہیں اور جو ہر ذی ہوش انسان کو ذہنی اور روحانی طور پرپریشان کرتے ہیں۔‘‘ (ہندی کہانی کا سفر : رسالہ معلم اردو،لکھنئو،ہندی کہانی نمبر،نومبر1984، ص 6)

یہ مشینی دور تھا جس میں یہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ انسا ن کی وقعت کم ہو رہی ہے بلکہ انسان اپنی شناخت کھوتا جارہا ہے اور اس احساس نے انسان کو تنہائی کے کرب میں مبتلا کر دیا ہے۔اس عہد کی ایک بڑی تبدیلی یہ بھی ہے کہ عورتیں گھر کی چہار دیواری سے باہر نکل کر خود کفیل ہورہی تھیں۔تعلیم نے خواتین کو اپنے بارے میں سوچنے اور اپنے وجود کا احساس کرنے کا موقع فراہم کیا تھا۔ ماحولیاتی، نظریاتی اور موضوعاتی صورت حال کی تبدیل ہوتی ہوئی فضا میں کئی کہنہ مشق اور جدید افسانہ نگار ابھر کر سامنے آئے جنھوں نے پرانے اصولوں، پرانی اخلاقیات، پرانے موضوعات اور نظریات سے انحراف کو اپنا امتیاز جانا۔ بھیروپرساد گپت کے زیر ادارت شائع ہونے والا ماہنا مہ ’کہانی ‘ نے اس نئی فکر کے لیے ایک مثبت فضا قائم کی۔ اس دہائی کے افسانہ نگاروں کے حوالے سے ڈاکٹر نامور سنگھ کی یہ رائے بھی اہم ہے:

 ’’ ساتویں دہائی کے افسانہ نگاروں نے کہانی کی روایات سے حاصل شدہ سچائیوں کو متروک قرار دیا اور اوسط آدمی کی عام زندگی پر مطلق احساس،اجنبیت و جلا وطنی،انسانیت سے بعید سلوک اور خوف و ہراس کی عمیق ترین گہرائیوں میں جھانکے کا جتن کیا جن سے اب تک آنکھ چرائی جاتی تھی۔‘‘  (ہندی افسانے :ڈاکٹر نامور سنگھ،نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا،دہلی، 1971، ص 316)

تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس عہد میں کئی رجحانات پیدا ہوئے۔ان کے نام تو مختلف تھے لیکن یہ رجحانا ت فکری اور نظریاتی اعتبار سے بے حد قریب تھے۔اس لیے کہانی ہو یا سمانتر کہانی،یا نئی کہانی اپنی مقصدیت اور منہاج کے اعتبار سے ان میں زیادہ فرق نہیں تھا۔بقول طارق چھتاری :

’’ نئی کہانی کے علاوہ ’ اکہانی، سچیتن کہانی ‘ اور سمانتر کہانیاں بھی لکھی گئی ہیں مگر موضوعات،اسلو ب اور زبان و بیان کے لحاظ سے یہ سارے رجحانات ’ نئی کہانی ‘ سے مختلف نہیں ہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ وقتا ً فوقتاً تحریک کے نام بدلتے رہے تھے۔سچیتن کہانی کے زیر اثر جو لوگ کہانیاں لکھ رہے تھے ان کا اسٹائل،موضوع، زبان، پس منظر غرضیکہ کچھ بھی نئی کہانی سے مختلف نہیں تھا۔‘‘ 

(جدید افسانہ : اردو ہندی، طارق چھتاری، ص،166،برائون بک پبلی کیشن،نئی دہلی2015)

  اس دہائی میں اپنی شناخت مسحکم کرنے والوں میں راجندر یادو، کملیشور،موہن راکیش، نرمل ورما، بھیشم ساہنی، گیان رنجن، منو بھنڈاری، دودھ ناتھ سنگھ،بلونت سنگھ، وکاشی ناتھ سنگھ غیرہ خاص اہمیت کے حامل ہیں۔یہا ں میں چند ایسے افسانہ نگار او ر ان کے افسانوں کا ذکر رہاہوں جو اس دہائی میں خصوصیت سے یاد کیے جاتے ہیں۔

راجندر یادو: ممتاز فکشن نگار،صحافی، دانشور، ترقی پسند تحریک سے وابستہ اور نئی ہندی کہانی کے بنیاد گزار راجندر یادو  کا شمار ہندی ادب کے ان ادیبوں میں ہوتا ہے جنھوں نے ہندی ساہتیہ کو ایک منفردمقام عطا کیا ہے۔ انھوں نے نہ صرف افسانے لکھے بلکہ افسانہ نگار کی نئی نسل کی تربیت بھی کی۔ان کا ادبی سفر کئی دہائیو ں پر محیط ہے۔ ان کے کارنامے کسی ایک صنف ادب تک محدود نہیں بلکہ علم و فن کے دیگر شعبوں میں بھی موصوف کی گراں قدر خدمات موجود ہیں۔ہندی افسانوں میں ان کے مجموعے  کھیل کھلونے(1953)، جہاں لکشمی قید ہے (1957)،  ابھیمنیو کی آتم ہتیا (1959)، چھوٹے چھوٹے تاج محل (1961)، کنارے سے کنارے تک (1962)، ٹوٹنا (1966) وغیرہ اہم یادگار ہیں۔ان کے علاوہ دیگر کہانیوں کے مجموعے بھی شائع ہوئے ہیں جو مختلف نمائندہ کہانیوں پر مشتمل ہیں۔ راجندر یادو کی کہانیاں زندگی کے لمحات، واقعات اور تاثرات کو اپنی گرفت میں رکھتی ہیں۔کہانی کے فن پر انھیں بے پناہ قدرت ہے اور قاری کو ہم خیال بنانے کا گر بھی انھیں خوب آتا ہے۔عام طور پر ان کے کردار سماج کے ٹوٹے اور تھکے ہارے لوگ ہیں جو زندگی کے مختلف شیڈس میں نظر آتے ہیں۔

کملیشور: ساتویں دہائی میں اپنی شناخت مستحکم کرنے والوں میں کملیشور ایک معتبر نام ہے۔ مختلف الجہات خوبیوں کے مالک،ٹیلی ویژن آرٹسٹ،ساریکا جیسے معیاری رسالے کے مدیر اور معر کۃ الآرا ناول کے خالق ہونے کے ساتھ نئی ہندی کہانی کے ایک اہم ستون ہیں۔جنہوں نے فکری سطح پر اہم موضوعات کی طرف توجہ کی ہے۔ ماحول اور زمانے کی بدلتی ذہنیت،اخلاقی اور جذباتی قدروں کی پامالی اور شہری زندگی کے بنیادی مسائل کو شدت کے ساتھ محسوس کیا ہے۔ ان کی پہلی کہانی ’کامریڈ‘ ایٹہ سے شائع ہونے والا رسالہ ’ اپسرا‘ میں (1950)  شائع ہوئی تھی۔کہانیاں لکھنے کا ابتدائی احساس کملیشور یوں بیان کرتے ہیں:

’’جب سے اپنے چاروں طرف کی دنیا کو دیکھنا شروع کیا تو پایا کہ کہیں کچھ بدل نہیں رہا تھا اس لیے مجھے بدلنا پڑا۔مجھے میرے چاروں طرف کی سچائیوں نے بدل دیا۔دسواں پاس کرتے کرتے انقلابی سماجی پارٹی کے رابطے میں آیا۔مارکسزم کی فعال پاٹھ شالا میں شامل ہوا اور ’ جن کرانتی‘ میں شہیدوں کی سوانح حیات پر چھوٹے چھوٹے مضمون لکھنے شروع کیے۔‘‘

(فرقہ ورایت اور اردو ہندی افسانے،محمد غیاث الدین، ایجوکیشنل پبلشنگ ہائو س،دہلی 1999، ص 255)

کملیشور کے تخلیقی کارناموں کی بڑائی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان کی قدر شناسی مختلف مکتبہ خیال کے اہل ذوق نے کی ہے۔بلا شبہ انھوں نے ہندی کہانی کو ایک نئی سمت دے کر اپنی انفرادیت کا اعتراف کروایا ہے۔کرشن چندر کی یہ رائے بھی ملاحظہ کیجیے:

’’ جدید ہندی افسانے میں کملیشور نے بہت نمایاں رول ادا کیا ہے۔وہ اسے گھر کی چہار دیواری سے نکال کر کھیت، چوپال، سڑک اور فٹ پاتھ پر لے آیا ہے... مشکل لہجے میں بات کرنا آسان ہے لیکن آسان لہجے میں پیچیدہ اور مشکل بات کرنا بہت مشکل ہے۔کملیشور نے اپنی حسی قوت سے اس مسئلے کو بخوبی حل کر لیا ہے۔‘‘ (ایضاً)

کرشن چندر کے اس تاثراتی اقتباس کی روشنی میں کملیشور کی کہانی ’ کھوئی ہوئی دشائیں‘ پر نظر ڈالتے ہیں۔ کملیشور نے اس کہانی میں شہر کی مصروف ترین زندگی میں ایک فرد کی ذہنی کشمکش کو قارئین کے حوالے کیا ہے۔کہانی کا مرکزی کردار چندر ایک ایسا نوجوان ہے جو الہ آباد جیسے چھوٹے شہر سے ملک کی راجدھانی دہلی آتا ہے۔شہری زندگی کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان خود اپنی دنیامیں مگن ہے ایسے میں شناسا چہرے بھی اجنبی معلوم ہوتے ہیں جہاں وہ خود اپنی ذات کی تلاش میں بے سمتی کا سفر کرتا نظر آتا ہے۔جہاں دماغ اور پیٹ کا ساتھ بھی ایسا ہو گیا ہے کہ سوچنے پربھی بھوک لگتی ہے۔

’’ اور تبھی چندر کولگا کہ ایک عرصہ ہو گیا،ایک زمانہ گزر گیا، وہ خود سے بھی نہیں مل پایا...یہ بھی نہیں پوچھا کہ آخر تیرا حال کیا ہے اور تجھے کیا چاہیے،نہ جانے کیوں من خود سے ملنے میں گھبراتا ہے۔رہ رہ کر کتراتا ہے۔ 

(کھوئی ہوئی دشائیں : کملیشور۔ایک دنیا سمانانتر، مرتب راجندر یادو، 1993، ص 142)

کہانی میں چندر کی محبوبہ اندرا اس کے لاشعور میں بسی رہتی ہے وہ اندرا جس سے چندر کو قلبی لگائو تھا۔جس سے آنکھیں ملائے اسے سکون میسر نہیں ہوتا لیکن اسے اپنی معاشی تنگی کا بخوبی اندازہ تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ اندرا اس کی شریک حیات بننے کے بعد پتھروں پر چلے اور کانٹوں بھری زندگی کا سامنا کرے اس لیے نرملا اس کی زندگی میں شریک حیات بن کر آتی ہے گزرے ہوئے لمحوں کی یادیں چندر کو ذہنی تنائو میں مبتلا کر دیتی ہیں وہ نرملا میں اندرا کا عکس دیکھنا چاہتا ہے لیکن اسے کامیابی نہیں ملتی اور وہ ذہنی کشمکش کا شکار ہو جاتا ہے۔

موہن راکیش: (1925 تا 1972) موہن راکیش بھی نئی ہندی کہانی کے اہم ستون ہیں۔ ان کا ادبی سفر نہ صرف افسانوی ادب تک محدود رہا بلکہ ناول، تنقید،اور ڈرامہ نگار کی حیثیت سے بھی ان کی شناخت ادبی حلقوں میں محفوظ رہی ہے۔موہن راکیش کے یہاں موضوعات کی مختلف جہتیں نظر آتی ہیں۔فرد معاشرہ اور وقت کے نشیب و فراز کے پیچیدہ مسائل نے راکیش کو فکری سطح پر اپنی گرفت میں رکھا ہے۔ان کی کہانیوں میں فرسودہ اور غیر حقیقی رسم و رواج کا اختلاف نمایاں نظر آتا ہے۔موہن راکیش لکھتے ہیں۔

’’ میرے لیے تجربے کا سیدھا راستہ میری سچائیوں سے ہے اور سچائی ہی میرا زمانہ ہے اور ماحول۔ آدمی سے خاندان خاندان سے قوم اور قوم سے انسانی معاشرے کا پورا دائرہ۔میں ان میں سے کسی ایک سے کٹ کر باقی سے منسلک نہیں رہ سکتا۔اپنے پاس کے ماحول سے آنکھ ہٹا کر دور کی فضا ؤں میں جی نہیں سکتا۔‘‘

(بحوالہ فرقہ واریت اور اردو ہندی افسانے، محمد غیاث الدین، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی 1999، ص 248)

راکیش کے خیال میں عصری مسائل و معاملات پر توجہ مرکوز رکھنا اہم فریضہ ہے  گزرے ہوئے زمانے پر آنسو بہانا بے سود ہے۔درج بالا اقتباس کی روشنی میں ان کی کہانی ’ ایک اور زندگی ‘ پر نظر ڈالتے ہیں۔کہانی ایک اور ز ندگی  دو بیویوں کے درمیان ایک شخص کی بے مزہ زندگی کی ذہنی اور نفسیاتی کشمکش کو اجاگر کیا گیا ہے۔معاشرے میں پنپنے والے جدید ذہن نے میاں بیوی کے درمیان روایتی زندگی گزارنے کے عمل کو جس طر ح مسمار کیا ہے اور جو خوفناک نتائج دن بہ دن ہمارے سامنے آرہے ہیں اس کی تصویر یہاں دکھائی دیتی ہے۔اس کہانی میں وینا پرکاش کی پہلی بیوی کی شکل میں سامنے آتی ہے جس سے ایک بیٹا بھی ہے۔وینا ایک تعلیم یافتہ،خود دار،ماڈرن اور اپنی شخصیت سے پر اعتماد لڑکی ہے۔معاشی اعتبار سے بھی وینا پرکاش سے مضبوط ہے۔وہیں پرکاش بھی اپنی شخصیت کے سلسلے میں بیدار ہے شاید یہی وجہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے مسائل بھی پہاڑ بن جاتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور بالآخر الگ الگ زندگی گزارنے لگتے ہیں۔ اس درمیان ایک بچے کی ولادت ہوتی ہے جسے خود وینا ایک آکسمک گھٹنا تسلیم کرتی ہے۔

نرمل ورما: ساتویں دہائی کا ایک اہم ترین نا م نرمل ورما بھی ہے۔نرمل ورما نے اپنے عہد کو جس طرح سمجھا اور سمجھ کر جس طرح اپنی کہانیوں میں برتا ہے وہ ان کی انفرادیت کا ایک اہم باب ہے۔شہری زندگی،پہاڑ، جنگل،سفر اور پردیس کے پس منظر میں ان کی کہانیوں نے تنہائی، رشتے، ناطے اور ذات کی تہہ داریوں کا بہت قریب سے مطالعہ و مشاہدہ کیا ہے۔ ان کی کہانیاں عصری زندگی کی پیچیدگیوں کی آگہی اور بصیرت میں قاری کو شریک کر لیتی ہیں ڈاکٹر نامور سنگھ، کتے کی موت، مایا درپن اور لندن کی ایک رات کے پس منظر میں انھیں پرگتی شیل کہانی کار تسلیم کرتے ہیں۔وہیں ان کی مشہور زمانہ کہانی ’ پرندے ‘کو نئی کہانی کا نقطہ آغاز بھی بتاتے ہیں۔ آئیے اس کہانی پر نگاہ ڈالتے ہیں۔ کہانی ’ پرندے‘‘ آزادی کے بعد ایک مخصوص طبقے میں پنپنے والی نفسیاتی اور ذہنی کشمکش کا کامیاب اظہار ہے۔ اس کا مرکزی کردار لتیکا ہے جو اسکول کی ٹیچر بھی ہے اور وارڈن بھی۔یہاں آنے کے بعد اس کی زندگی ایک محدود دائرے میں سمٹ گئی ہے۔جس کی وجہ میجر گریش نیگی سے اس کی ملاقات ہے۔ڈاکٹر مکر جی نے ایک تقریب میں لتیکا کو گریش نیگی سے متعارف کرایا تھا۔اس ملاقات کا اثر لتیکا پر یوں ہوتا ہے کہ گریش نیگی کو وہ اپنے مستقبل کا حصہ تصور کرنے لگتی ہے۔لیکن میجر نیگی اس اسکول کے علاقے سے کشمیر گئے تو پھر لوٹ کر نہیں آئے۔یہی وہ کرب ہے جو لتیکا کے لیے تنہائی کا سبب بن جاتا ہے اور وہ سردیوں کی طویل چھٹیاں بھی ہاسٹل میں گزار دیتی ہے کہ شاید میجر نیگی لوٹ آئیں۔ گویا محبت میں اس ناکامی کے باوجود وہ اپنی خوبصورت یادوں کو سینے سے لگائے رکھنا چاہتی ہے اور اسی کے سہارے اپنی زندگی کا سفر بھی طے کرنا چاہتی ہے۔بقول کہانی کار:

’’ لتیکا کو لگا جو وہ یاد کرنا چاہتی ہے وہی بھولنا بھی چاہتی ہے۔لیکن جب وہ سچ مچ بھولنے لگتی ہے تب اسے خوف آتا ہے جیسے کوئی چیز اس ہاتھوں سے چھین لے جارہا ہے۔ایسا کچھ جو سدا کے لیے کھو جائے گا۔من میں جب کبھی وہ اپنے کسی کھلونے کو کھو دیا کرتی تھی تو وہ گم سم  سی ہو کر سوچا کرتی تھی کہ کہاں رکھ دیا میں نے ؟ جب بہت دوڑ دھوپ کرنے پر کھلونا مل جاتا تو وہ بہانا کرتی کہ ابھی اسے کھوج رہی ہے۔

جس جگہ پر کھلونا رکھا ہوتا جان بوجھ کر اسے چھوڑ کر گھر کے دوسرے کونوں میں اسے تلاش کرتی ہے۔تب کھوئی ہوئی چیز یاد رہتی، اس لیے بھولنے کا خوف نہیں رہتا تھا۔ آج وہ بچپن کے اس کھیل کا بہانہ کیوں نہیں کر پاتی۔بہانہ شاید کرتی ہے۔ اسے یاد کرنے کا بہانہ جو اسے بھولتا جا رہا ہے ...دن مہینے بیت جاتے ہیں اور وہ الجھی رہتی ہے، انجانے میں گریش کا چہرہ دھندلا پڑ جاتا ہے۔ یاد وہ کرتی ہے لیکن جیسے کسی پرانی تصویرکے دھول بھرے شیشے کو صاف کر رہی ہے اب ویسا درد نہیں ہوتا صرف اس درد کو یاد کرتی ہے جو پہلے کبھی ہوتا تھا تب اسے اپنے اوپر شرمندگی ہوتی ہے۔وہ پھر جان بوجھ کر اس زخم کو کریدتی ہے جو بھرتا جا رہا ہے، خود بخود اس کی کوششوں کے باوجود بھرتا جا رہا ہے۔‘‘

(پرندے: نرمل ورما، بحوالہ ایک دنیا سمانانتر: راجندر یادو، ص 186)

 لتیکا کی دلچسپی کسی دوسری جانب نہیں ہوتی لیکن ہیوبرٹ دل ہی دل میں اس کے لیے جذبہ ہمدردی اور الفت کا اظہار بھی ایک خط میں کر چکے ہیں۔ڈاکٹر مکھرجی بھی لتیکا میں لاشعور ی طور پر دلچسپی کا اظہار اس طرح کرتے ہیں۔

’’   مس لتیکا میں کبھی کبھی سوچتا ہوں، کسی چیز کو نہ جاننا اگر غلط ہے تو جان بوجھ کر نہ بھول پانا ہمیشہ جونک کی طرح چپٹے رہنا یہ بھی غلط ہے۔برماسے آتے وقت جب میری بیوی کا انتقال ہوگیا تھا، اس وقت مجھے اپنی زندگی بے کا ر سی لگنے لگی تھی۔آج اس حادثے کو عرصہ گزر گیا اور جیسا آپ دیکھتی ہیں،میں جی رہا ہوں۔ امید ہے کہ عرصہ دراز تک یوں ہی جیتا رہوں گا۔ زندگی کافی دلچسپ لگتی ہے۔اور اگر عمر کی مجبوری نہ ہوتی تو شاید میں دوسری شادی کرنے میں بالکل نہ ہچکچا تا۔‘‘ 

(پرندے: نرمل ورما، ایک دنیا سمانانتر، راجندر یادو، نئی دہلی، 1993، ص 191)

میجر، ہیوبر ٹ،ڈاکٹر مکھرجی اور تمام لوگ اپنے دل کے نہا خانے میں لتیکا کے لیے جذبہ محبت تو رکھتے ہیں لیکن محبت کی حقیقی تعریف پر کھرا نہیں اترتے۔یہ سبھی موسمی پرندے ثابت ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ اپنے اپنے سفر پر رواں دواں نظر آتے ہیں ہیں۔ بقول طارق چھتاری:

’’ اس کہانی کا عنوان بھی اس بات کی تائید کرتا ہے کہ آج کا انسان ان پرندوں کی مانند ہے جو ہر موسم سرما میں انجان میدانوں کی جانب سفر کرتے ہیں،راہ کی کسی پہاڑی پر لمحے بھر کے لیے رکتے ہیں اور پھر آگے بڑھ جاتے ہیں۔جن کی زندگی کا سفر ایک محدود دائرے میں (ذات کے دائرے میں ) چکر کاٹتا رہتا ہے۔،بے مقصد اور اپنے اپنے درد کو دل میں چھپائے...!

(جدید افسانہ: اردو ہندی، طارق چھتاری، ص 166)

یہ ایک ایسے کردار کی کہانی ہے جو محبت میں ملے زخم کو اپنے دل میں ہمیشہ تازہ رکھنا چاہتی ہے۔وہ مختلف پروگراموں میں شامل ہوتی ہے۔زندگی کے معمولات طے ہوتے رہتے ہیںلیکن اس کے اندر کا کرب ہمیشہ تازہ رہتا ہے اور جب کبھی یہ زخم مندمل ہوتا ہے وہ اسے کرید کر تازہ کر دیتی ہے۔کہانی کار نے اسے ایک لڑکی نہیں بلکہ ادھیڑ عمر کی عورت کی شکل میں پیش کیا ہے۔محبت کی راہ میں ایک زخم خوردہ دل کی حسیت کو کہانی کار نے ایک نئے زاویہ نگاہ سے دیکھنے کی ایک کامیا ب کوشش کی ہے۔ٍ

منو بھنڈاری : ہندی افسانوی ادب میں خواتین افسانہ نگاروں کے درمیا ن منو بھنڈاری ایک خاص مقام رکھتی ہیں۔ اکیلی ، ایک پلیٹ سیلاب ،یہی سچ ہے ، عیسی کے گھر انسان ، مکتی اور سیانی بوا ان کے قابل ذکر افسانے ہیں۔ انھوں نے عورتوں کے طرز معاشرے،توہم پرستی، کھوکھلے رسم و رواج اور ان پر غیر ضروری پابندیوں کے خلاف آوازیں بلند کی ہیں۔معاشرے کے بنیادی مسائل (خاص کر عورتو ں کے حوالے سے ) کا مشاہدہ کرنے کے بعد عورتوں کی اپنی ضرورتیں،ان کے مساویانہ حقوق، نوجوان لڑکیوں کے جنسی اور نفسیاتی مسائل وغیر ہ کو نہایت فنکارانہ ڈھنگ سے پیش کیا ہے۔آ ئیے کہانی ’یہی سچ ہے‘ پر نظر ڈالتے ہیں۔مغربی تہذیب کے زیر اثر جدید عہد میں عورتوں کی طرز زندگی نے جسمانی اور روحانی طور پر جو آزادانہ روی اختیار کی ہے اس کی تصویر کہانی ’’ یہی سچ ہے ‘‘ میں نمایاں ہے۔اس کہانی میں تعلیم حاصل کرنے والی لڑکی کا ایک آزادانہ کردار ہمارے سامنے آتا ہے۔وہ بیک وقت دو لڑکوں سے عشق کرتی ہے۔ اور دونوں کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات اسے سکون بخشتے ہیں جب وہ کانپور میں رہتی ہے تو تو سنجے میں ہی اسے زندگی کے ہر رنگ نظر آتے ہیں اور جب کلکتہ کا سفر کرتی ہے تو قدیم ہم جماعت نشیتھ میں کشش محسوس کرنے لگتی ہے۔

کہانی میں دیپا کا کردار عصری مسائل کی بھر پور ترجمانی کرتا ہے اور یہ احساس دلاتا ہے کہ آج کے عہد میں ہمارے ارد گرد کئی ایسے معاملات پیش آتے ہیں جب ایک لڑکی دو لڑکوں سے وابستہ پائی جاتی ہے۔ یہ مسائل خون خرابے کی شکل اختیار کر جاتے ہیں۔یہ ایک انوکھا کردار ہے جو لڑکی کی نفسیات پر غور کرنے کو مجبور کرتا ہے۔ اس میں ایک جانب آج کے دور میں ایک لڑکی کی آزاد خیالی اور خود مختاری کی بات پوشیدہ ہے تو دوسری جانب وہ جس کے قریب ہوتی ہے اسی میں کشش محسوس کرنے لگتی ہے۔اس کہانی میں دیپاکا کردار عشق کی ایک ایسی حقیقت لے کر ابھرتا ہے جو حالات کے تابع ہے۔طارق چھتاری کے مطابق:

’’ منو بھنڈاری نے یہ کہانی لکھ کر ثابت کردیا کہ عشق کی Reality وہ نہیں ہے جو اب تک ہندی کہانی میں پیش کی جاتی تھی بلکہ یہ ہے جو اس کہانی کی دیپا کے ساتھ گزر ی ہے۔

کچھ اس طرح کا خیال میرا سیکری کا بھی ہے۔

’’ کہانی کی سب سے بڑ ی خوبی یہ ہے کہ یہاں عورت ایک مختلف روپ لیے،ایک آزاد شخصیت لیے سامنے آتی ہے،عورت کا یہ روپ ہندی کے لیے ایک دم نیا ہے۔‘‘  (جدید افسانہ: اردو ہندی، طارق چھتاری، ص 166)

 گیان رنجن : گیان رنجن بھی اس عہد سے تعلق رکھنے والے ایک معتبر افسانہ نگار ہیں۔ان کی کہانیوں میں واقعات اور کردار عام زندگی سے اخذ کیے گئے ہیں۔ انھوں نے زندگی کی مختلف جہات کو اپنے افسانوں میں پیش کیا ہے۔ان کے افسانے اپنے دور میں عصری حسیت اور خود آگہی کے حامل رہے ہیں۔میرے پیش نظر ان کی کہانی ’ فینس کے ادھر اور ادھر ‘ ہے فینس ایک ٹوٹی ہوئی دیوار ہے جو دو تہذیبوں کی علامت ہے۔یعنی ایک وہ تہذیب جو پرانی قدروں کی حامل ہے اور دوسری وہ جو نئی قدروں پر مشتمل ہے۔یہ کہانی در اصل بدلتے سماجی سروکا رکی کہانی ہے۔جس میں پرانے پڑوسی مکھرجی کے تبادلے کے بعد نئے پڑوسی قیام پذیر ہیں جن کا ایک مختصر کنبہ ہے۔جب سے نئے پڑوسی آئے ہیں وہ لوگ اپنی دنیا میں مگن رہتے ہیں اپنے ہمسایہ اور آس پاس کے لوگوں سے ان کا کوئی میل جول نہیں رہتاہے۔ دوسری جانب دیوار کے اس پار کی دنیا اس کی خیر و خبر رکھنا چاہتی ہے۔ان کے بارے میں مسلسل گفتگو کرتی ہے اور دلچسپی لیتی ہے۔اس کے ذہن میں بار بار یہ خیال آتا ہے کہ ان سے رابطہ کیسے قائم ہو۔لیکن دوسری جانب کے لوگ اپنے ہمسایہ کی فکروں سے بے خبر اپنی دنیا میں مگن رہتے ہیں اور اپنے ہمسایہ میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے۔موجودہ معاشرے میں ایک دوسرے سے لا تعلقی اور نئی پرانی قدروں کے بکھرائو کو کہانی کار یو ں بیان کرتا ہے۔

’’...بڑے شہروں میں ایک دوسرے سے بے تعلق اور اپنی ذات میں محصور رہنے کی جو خاصیت پائی جاتی ہے غالباًہمارے یہ پڑوسی اسی خاصیت اور فطرت کے حامل ہیں۔یہ شہر اور یہ محلہ دونوں پر سکون ہیں۔یہا ں لوگ آہستہ آہستہ چلتے ہیں اور نسبتاً لاابالی سے چہل قدمی کرتے ہیں کیونکہ یہاں کی زندگی میں کوئی ہلچل نہیں ہے۔اسی لیے ہمیں اپنے پڑوسی عجیب لگتے ہیں۔میں باہر نکلتا ہوں وہ لوگ صبح کی چائے پی رہے ہوتے ہیں۔میاں بیوی کے علاوہ ایک لڑکی بھی ہے جو غالباً ان کی بیٹی ہے۔ یہی تین فرد ہمیشہ نظر آتے ہیں۔ان کے یہاں شاید چوتھا کوئی نہیںہے۔ لڑکی اگر چہ خوبصورت تونہیں لیکن سلیقہ شعار معلوم ہوتی ہے۔ڈھنگ سے میک اپ کرے تو شاید خوبصورت بھی نظر آئے،میں دیکھتا ہوں کہ وہ اکثر ہنستی رہتی ہے۔اس کے ماں باپ بھی ہنستے رہتے ہیں۔وہ سب ہمیشہ خوش و خرم نظر آتے ہیں۔وہ کس قسم کی باتیں کرتے ہیں اور وہ کیوں ہمیشہ ہنستے رہتے ہیں ؟ کیا ہر وقت ہنستے رہنے کے لیے ان کی زندگی میں ان گنت خوشگوار واقعات ہیں ؟ کیا وہ زندگی کے پر پیچ اور حقیقی مسائل سے غافل ہیں ؟ مجھے حیرت ہوتی ہے اورمیںاپنے گھر کے افرا د کا ان لوگوںسے موازنہ کرنے لگتا ہوں۔

(فینس کے ادھر اور ادھر، گیان رنجن، بحوالہ ہندی افسانے، ص 213-14)

کہانی کا میں ‘ دل ہی دل میں اس لڑکی سے عشق کر بیٹھتا ہے۔لیکن اس کی شادی کہیںاور ہو جاتی ہے۔دودھ والے سے شادی ہونے کی خبر تو مل گئی لیکن والدین سے جدائی کی اس گھڑی میں اس کی آنکھوں میں ایک بوند آنسو نہ تھے۔یہ حیرت ناک منظر دیکھ کر ما ں کی کربناک آواز دیکھیے  ؎

’’ پیٹ کاٹ کر جنھیں پالو پوسو ان کی آنکھوں میں ایک بوند آنسو بھی نہیں۔

جدید عہد کے اس المیے کو کیا کہیے ؟ بہت پہلے اقبال نے مشینوں کی حکومت کو دل کے لیے موت قرار دیا تھا آج جنریشن گیپ اس طرح حاوی ہے کہ پڑوسی کی شادی محبتیں اور رسمیں بھی جنریشن گیپ کی نذر ہوگئیں۔پتا جی کہنے لگے۔

’’ قدیم زمانے میں لڑکیاں رخصتی کے وقت بے تحاشا رویا کرتی تھیں...پتا جی کو بڑا درد ہوتا ہے کہ آج ویسا نہیں ہے۔۔پرانا زمانہ رخصت ہو رہا ہے

 اور آدمی کا دل مشین ہو گیا ہے۔

اس صورت حال سے تشویشناک حد تک دادی متاثر ہوئیں وہ زیر لب بڑا بڑا رہی ہیں۔ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ شادی بیاہ ایسے بھی ہوتا ہے۔ان کا لہجہ تلخ ہو اٹھا۔

’’...پھر ایسے موقع پر پڑوسی کو نہ پوچھنا،واہ رے انسانیت ! رام رام۔ (ایضاً، ص 217)

پروفیسر لطف الرحمن نے بجا لکھا ہے     ؎

اتنا  چپ چاپ تعلق پہ  زوال آیا  تھا

دل ہی رویا ہے نہ چہرے پہ ملال آیا تھا

ساتویں دہائی میں خصوصیت سے یاد رکھے جانے والے ان مذکورہ کہانی کاروں کے علاوہ بھی کئی اہم کہانیاں اور نام ہیں جنھوں نے ساٹھ کے بعد اپنا مقام بنایا اور ہندی کہانی کو ہیئت، اسلوب، موضوعات اور فن کی سطح پر اعتبار بخشا ہے۔جن میں رویندر کالیہ، کاشی ناتھ سنگھ، شری کا نت ورما، مہرالنسا پرویزدودھ ناتھ سنگھ،ناصرہ شرما، عبد ل بسم اللہ،بلونت سنگھ وغیرہ کے علاوہ ایک طویل فہرست ہے۔ جن کے یہاں انسان کی داخلی کیفیات بھی ہیں، سماجی حقیقت نگاری بھی اور اپنے عہد کا گہرا سیاسی و سماجی شعور بھی۔


Dr.Faizan Hasan Zeyai

S/O Late Dr Mozaffar Hasan Aali

MOH - Baradari, PO+PS Sasaram

Distt.: Rohtas - 821115 (Bihar)

E-mai . faizanzeyai.ssm@gmail.com

Mob   7631887356/ 7903399020



علامہ اقبا ل کے دو ممدوح: مرزا غالب اور سوامی رام تیرتھ - مضمون نگار: شمیم طارق


 


علامہ اقبال نے مرزا غالب کو بھی منظوم خراجِ تحسین پیش کیا ہے جن کا انتقال ان کی پیدائش سے 8 سال قبل ہوچکا تھا اور سوامی رام تیرتھ کو بھی جن کی پیدائش ان کی پیدائش سے 4 سال قبل ہوئی تھی۔ دونوں نظمیں ’بانگ درا ‘ میں شامل ہیں۔ غالب نے اگرچہ دعویٰ کیا تھا کہ          ؎

یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالب

اور بیعت بھی ہوئے تھے مگر ان پر تصوف تو کیا اسلام کی قبا بھی پوری طرح جچتی نہیں ہے۔ مگر سوامی رام تیرتھ کی زندگی ہی نہیں موت بھی ’ ویدانتی ‘ کی حیثیت سے جذب و مستی میںگزری تھی۔ ان دونوں نظموں کی مختصر تفہیم و تشریح پیش کی جارہی ہے۔

مرزا غالب

غالب اور اقبال دونوں نے فارسی میں بھی اشعار کہے ہیں اور اردو میں بھی۔ شاعروں کی مختصر سے مختصر فہرست بھی ترتیب دی جائے گی تو اس میں غالب اور اقبال دونوں کے نام شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ یہ حقیقت بھی ناقابل انکار ہے کہ اردو کی مملکت شاعری پرغالب کے غلبے کے باوجود غالب کے رنگ میں شعر کہنے والے تو کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں یعنی چند ہی شعر میں سہی مگر انہوں نے غالب کی یاد تازہ کر دی ہے مگر اقبال کا امتیاز یہ ہے کہ ان کے رنگ میں کسی نے شعر کہنے کی جسارت کی تو اپنا رنگ بھی برقرار نہیں رکھ سکا۔ اس کے باوجود اقبال نے نہ صرف غالب کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف کیا ہے بلکہ شعروں کے ان محاسن کی بھی نشاندہی کر دی ہے جو شاعری کو عظیم یا بڑی بناتے ہیں۔ اقبال نے اپنی نظم مرزا غالب میں غالب کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ         ؎

لطف گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں

ہو تخیل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیں

اس شعر میں چار لفظ خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ پہلا لفظ ’لطف‘ مذکر ہے اور ’مزہ‘ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے  جیسے خود اقبال نے اپنی نظم ’صدائے درد‘میں استعمال کیا ہے       ؎

اس چمن میں کوئی لطف نغمہ پیرائی نہیں

اور عنایت و مہربانی کے معنی میں بھی جیسے اقبال کی نظم ’وطنیت‘ کا مصرع ہے        ؎

ساقی نے بنا کی روش لطف و ستم اور

دوسرا لفظ گویائی مونث ہے اور خود اقبال نے اس لفظ کو کئی طرح سے استعمال کیا ہے مثلا صدائے درد (بانگ درا) کا ایک مصرع ہے       ؎

ذوق گویائی خموشی سے بدلتا کیوں نہیں

زیرتبصرہ نظم ’مرزا غالب‘ میں یہ لفظ بولنے کی کیفیت یا عمل کے طور پر بھی استعمال ہوا ہے مثلاً      ؎

تاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر میں 

اور فصاحت یا شعر گوئی کے معنی میں بھی مثلاً       ؎

لطف گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں

اقبال کی شاعری میں ایسی کئی تراکیب  استعمال ہوئی ہیں جو دو لفظوں کے امتزاج یا ملاپ کا نتیجہ ہیں۔ مثلاً اپنی نظم عہد طفلی (بانگ درا) میں ’لطف جاں‘ استعمال کیا ہے۔ جو اس روحانی کیفیت کی طرف اشارہ کرتا ہے جس سے روح لطف اندوز ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں        ؎

تھی ہر اک جنبش نشان لطف جاں میرے لیے

یہاں لطف گویائی سے شعر گوئی کا وہ ملکہ یا قدرت مراد ہے جو غالب کے لیے خاص تھی اور جس کے سبب غالب کا کوئی متبادل پیدا ہو سکا نہ مقابل۔

مصرع ثانی میں تخیل اور فکر یا فکر کامل کا استعمال  اقبال جیسا قادرالکلام شاعر ہی کر سکتا تھا جس کے استعمال کیے ہوئے لفظوں، وضع کی ہوئی ترکیبوں اور تخلیق کیے ہوئے مصرعوں میں پوری معنیاتی کائنات سمٹ آئی ہے۔ غالب کا یہ دعویٰ غلط نہیں ہے کہ        ؎

گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو  سمجھیے

جو لفظ کہ غالب مرے اشعار میں آوے

مذکورہ شعر بھی غالب کے اس دعوے کی دلیل ہے۔ 

تخیل سے مراد وہ قوت ہے جو خیالات کی صورت گری کرکے ان کو فہم کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے جبکہ منطق کی اصطلاح میں تخیل سے مراد وہ کیفیت ادراک ہے جو حواس خمسہ کے ذریعے خیالات میں جمع ہو جاتی ہے۔ انسان اندازہ نہیں کر پاتا کہ اس کا تخیل کہاں تک پرواز کرسکتا ہے اقبال نے اسی نظم میں غالب کے تخیل کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے       ؎

ہے پر مرغ تخیل کی رسائی تا کجا

فکر کا استعمال سوچ بچار، تردد، تدبر اور اندیشے کے معنی میں بھی  ہوتا ہے اور فکر کرنا، شعر گوئی کے لیے بھی مستعمل ہے۔ فلسفے کی اصطلاح میں فکر جدید یا جدید ترمعنی کے حصول یا جو معلوم ہے اس سے نا معلوم کی دریافت کو کہتے ہیں۔ اقبال نے اسی نظم میں کہا ہے        ؎

فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا

تخیل تذکیر ہے اور فکر تذکیروتانیث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔ ان دونوں لفظوں یعنی تخیل اور فکر کے استعمال سے اقبال نے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ غالب کی عظمت کا راز یہ ہے کہ وہ تخیل یعنی محسوسات کے ذریعے جمالیاتی تشکیل اور فکر کامل یعنی معقولات کے ذریعے حاصل کیے گئے معنی کو وہ خوبصورت پیرایۂ بیان عطا کرنے پر قادر ہے جس میں ان کی ہمسری کوئی دوسرا نہیں کر سکتا۔ نظم میں پانچ بند ہیں اور ہر بند میں مختلف انداز اور پیرائے میں اسی حقیقت کی ترسیل کی گئی ہے۔ 

پہلے بند میں اقبال نے غالب سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار اور ان کی شاعرانہ قدرت کا اعتراف کرتے ہوئے یہاں تک کہا ہے کہ غالب اس حسن کا متلاشی ہے جو سوز کائنات بن کر کائنات کی ہر شے میں پوشیدہ ہے۔ مگر جس طرح حسن ازلی پردے میں بھی ہے اور بے پردہ بھی اسی طرح غالب کی شاعری کا حسن یا جوہر پنہاں بھی ہے اور عیاں بھی۔ بہت کم لوگ ان کی شاعری کے محاسن کا ادراک کر سکے ہیں         ؎

زیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہا

بن کے سوز زندگی ہر شے میں جو مستور ہے

یہاں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ غالب کے کلام کے حقیقی محاسن ذکروفکر کو جلا دینے کے باوجود ہمارے ادراک اور قوت اظہار کے لیے آزمائش کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔

غالب بہت بڑے شاعر ہیں اور انہوں نے یہ عظمت اپنے کلام میں واردات عشق کی ہو بہو تصویر بنانے کے ساتھ ساتھ وہ شوخی پیدا کرکے حاصل کی ہے جو لب تصویر پر جنبش پیدا ہونے کے نادر تصور یا تخیل سے ظاہر ہوتی ہے۔ یعنی انداز بیان نہایت شوخ، دل کش اور نادر ہے        ؎

زندگی مضمر ہے  تیری  شوخی  تحریر  میں

تاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر میں

تیسرے بند کا آغاز        ؎

نطق کو سو ناز ہیں تیرے لب اعجاز پر

جیسے شاہکار مصرع سے ہوتا ہے۔ نطق مجموعہ ہے اس ادراک کا جو عقل اور احساس سے حاصل ہوتا ہے۔ یہاں اقبال نے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ غالب کی فکر یا ان کے اختیار کیے ہوئے پیرایئہ بیان میں یہ کائنات اپنی اصل سے زیادہ بڑی نظر آتی ہے اور یہی نہیں کہ غالب اپنے ذہن، اپنی شخصیت اور شاعری کے سبب بہت بڑے ہیں بلکہ وہ دہلی بھی جہاں غالب آسودہ خاک ہیں غالب سے نسبت کے سبب ’شیراز‘کے لیے قابل رشک بن گئی ہے۔ اس بند میں انھوں نے اس شہر کا بھی ذکر کیا ہے جہاں جرمنی کا شاعر گوئٹے دفن ہے۔  

چوتھے بند میں اقبال نے جو بات کہی ہے وہ غالب کا قصیدہ بھی ہے اور دلی کے ساتھ اس زبان اور شعری روایت کا مرثیہ بھی جس میں غالب نے اپنی عظمت کے نقوش چھوڑے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اردو زبان اور شاعری ابھی کمال کو نہیں پہنچی ہے دونوں کی ترقی کے امکانات باقی ہیں اس کے باوجود یہ ممکن نہیں ہے کہ مستقبل میں کوئی دوسرا غالب یا غالب کی ہمسری کرنے والا کوئی دوسرا شاعر پیدا ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ تخیل اور فکر، غالب جیسے نابغئہ روزگار میں ہی یکجا ہو سکتے تھے۔ یہ خصوصیت سب کا مقدر نہیں اور پھر ہندوستان کے حالات بھی بدل گئے ہیں۔ 

پانچویں بند میں دہلی کو گہوارہ علم و ہنر قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا گیا ہے کہ اس سرزمین میں ایک سے ایک صاحبان علم آرام فرما ہیں مگر ان میں غالب جیسا فخر روزگار کوئی دوسرا نہیں ہے۔ 

اس شاہکار نظم میں غالب کی شاعری کا جو جوہر سامنے آتا ہے اور لفظوں کو جمالیاتی تناظر میں دیکھنے، لفظوں کے بنائے ہوئے Images سے نئے معانی برآمد کرنے اور ماورائی تصورات و کیفیات کو خالص انسانی نقطہ نظر سے دیکھنے کی راہ استوار کرتا ہے۔ یہ وہ راہ ہے جہاں شاعر کی شوخی یعنی زندہ دلی اور جادوبیانی کے سبب زندگی کے پیچیدہ سے پیچیدہ خیالوں کی تصویر بھی زندگی کے زندہ مظاہر کی صورت اختیار کر لیتی ہے جس سے مایوسی و پژمردگی کی کیفیت میں کہا ہوا شعر بھی زندگی بخش بن جاتا ہے۔ مختصر یہ کہ اقبال کی فکر میں غالب کے شعروں میں لفظ و معنی کی یکجائی جمالیاتی تناظر فراہم کرتی اور انسانی قدروں کا احترام کرنا سکھاتی ہے اس لیے انھوں نے کہا ہے        ؎

زندگی مضمر ہے تیری شوخی تحریر میں

تاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر میں

سوامی رام تیرتھ

علامہ اقبال اور سوامی رام تیرتھ الگ الگ مذاہب سے مگر ایک ہی ملک اور ملک کے ایک ہی خطے (پنجاب) سے تعلق رکھتے تھے۔ سوامی رام تیرتھ گجرانوالہ کے ایک گائوں کے بہت ہی غریب خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کا سنہ پیدائش بہ اختلافِ روایت 1873 بتایا جاتا ہے جبکہ اقبال 1877 میں پیدا ہوئے۔ سوامی رام تیرتھ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے ریاضی میں ایم اے کیا تھا۔ اقبال 1904 میں اسی کالج میں لیکچرر ہوئے تھے اس لیے ممکن ہے دونوں میں ملاقات بھی رہی ہو مگر یہاں ان کے آپسی رشتے پر روشنی ڈالنا یا رشتے کی نفی کرنا مقصود نہیں۔ مقصود صرف یہ بتانا ہے کہ سوامی جی پر ویدانت کا رنگ ابتداء ہی سے غالب تھا۔ ’ویدانت ‘ سنسکرت کے دو الفاظ Ved اور Ant کا مجموعہ ہے اور چونکہ ہر وید کا آخری حصہ ’اپنشد ‘ ہے اس لیے ’ویدانت‘ اور ’اپنشد‘ ہم معنی ہیں۔ لغوی اعتبار سے اپنشد، کونو مع الصادقین کے مترادف ہے اور اس میں عارفانِ حق کو اپنے شاگردوں اور ارادت مندوں کو سمجھائی ہوئی وہ تشریحات شامل ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ کائنات میں بھی وہی حقیقت جاری وساری ہے جو انسانی شخصیت کی بنیاد ہے اور اس حقیقت کا قرب حاصل کرنے کے لیے اپنی فرض کی ہوئی شخصیت اور حیثیت کو بھول کر اس قدر وسیع النظر ہونا ضروری ہے کہ تنگی و کوتاہ نظری پاس بھی نہ پھٹکنے نہ پائے۔ منشی سورج نرائن مہر دہلوی کے لفظوں میں :

’’ لفظ ’اُپ نشد‘ کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ اس کا مادہ یا دھاتو ’سد‘ ہے۔ اُپ بہ معنی قریب اور نی بہ معنی بالکل۔ دو اُپسرگ ہیں جنھیں انگریزی میں پریپوزیشن اور عربی فارسی، اردو میں حروفِ جار کا نام دیا جاتا ہے سدچار معنی میں مستعمل ہے۔ ہلاک کرنا، ٹکڑے ٹکڑے کرڈالنا، چلنا، اور بیٹھنا۔ پہلے دو معنوں کے لحاظ سے اُپ نشد وہ بدیا (ودیا) یا علم ہے جس سے دنیا کا واہمہ باطل یعنی اگیان ناش ہوجاتا ہے یااس کے ٹکڑے ٹکڑے اُڑ جاتے ہیں۔ دوسرے دو معنوں کے لحاظ سے اُپ نشد وہ گیان ہے جو گورو (گرو) کے پاس جاکر یا بیٹھ کر لیا جاتا ہے۔ اہل یورپ، سد کے معنی زیادہ تر بیٹھنے کے لیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ زمانہ قدیم میں آچاریہ لوگ چیلوں کی جماعتوں کو بنوں میں بیٹھ کر تعلیم دیتے تھے۔ اس واسطے اس بدیا (ودیا) کو اُپ نشد کہنے لگے۔ مجازاً اُپ نشد کے معنی راز خفی کے لیے جاتے ہیں اور اس کا اطلاق برہم بدیا (ودیا) پر ہوتا ہے۔ چونکہ بعض کتابیں اسی برہم بدیا (ودیا) سے متعلق ہیں اس واسطے اول اول اس کا نام اُپ نشد پڑا اور بعد میں اُپ نشد کا اطلاق صرف انہی کتابوں پر ہونے لگا۔ وہ بدیا (ودیا) کا پہلا اطلاق جاتا رہا، اب اُپ نشد یہی کتابیں کہلاتی ہیں۔ ان میں سے دس بہت قدیم ہیں جن پر بھگوت پوجیہ پاد شری شنکر آچاریہ نے شرحیں لکھی ہیں۔ ان میں ایشا داسیہ سب سے پہلا اُپ نشد ہے۔ ‘‘

(منشی سورج نرائن دہلوی، شری اپنشد، دہلی 1914، ص 1-2)

یہ حقیقت ویدوں کے تیسرے حصے میں ہی بیان کردی گئی ہے کہ کائنات کی ہر چیز میں حقیقت مطلقہ کی ہی کارفرمائی ہے اور قربانی کے منتروں میں اسی کے ہونے کا اقرار و اظہار کیا جاتا ہے لیکن اپنشد میں ایک طرف حقیقت مطلقہ (برہمن بہ معنی برہمہ) کو اعلیٰ ترین حقیقت کے طور پر پیش کرکے اور دوسری طرف آرنیکا سے شروع ہونے والے باطنیت کے رجحان میں مزید غور و فکر سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ انسان کے اندر باہر ایک ہی لافانی ذات کی کارفرمائی ہے لیکن بقول سوامی وویکانند اس کا دیدار وہی کرسکتا ہے جو اپنی محدود شخصیت کو بھول کر ’’سنسار کو بھرم مئے یعنی بھرم (فریب حواس) سے بھرا ہوا‘‘ دیکھیے۔

(سوامی وویکانند، بھکتی اور ویدانت، لاہور، ص 74)

ابوریحان البیرونی نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’الہند‘ کی پہلی جلد کے دوسرے باب میں خدا کی ذات و صفات سے متعلق ہندوؤ ں کے اعتقاد کو ان لفظو ںمیں بیان کیا ہے :

’’اللہ پاک کی شان میں ہندوؤ ں کا اعتقاد یہ ہے کہ وہ واحد ہے، ازلی ہے، جس کی نہ ابتدا ہے نہ انتہا۔ اپنے فعل میں مختار ہے، قادر ہے، حکیم ہے، زندہ ہے، زندہ کرنے والا ہے، صاحب تدبیر ہے، باقی رکھنے والا ہے، اپنی بادشاہت میں یگانہ ہے جس کا کوئی مقابل اور مماثل نہیں۔ نہ وہ کسی چیز سے مشابہ ہے اورنہ کوئی چیز اس سے مشابہت رکھتی ہے۔ ……‘‘ (البیرونی مترجم سید اصغر علی، کتاب الہند جلد اوّل  دہلی 1941، ص 24-29)

لیکن چونکہ البیرونی کے تجربے میں یہ حقیقت بھی تھی کہ مذہبی شاستروں میں خدا کے بارے میں جو عقیدہ بیان کیاگیا ہے، عوام میں رائج عقیدہ اس سے مختلف ہے اس لیے اس نے  ’پاتنجلی‘،’گیتا‘ اور دوسری مذہبی کتابوں کے اقتباسات نقل کرنے کے بعد یہ رائے بھی دی ہے کہ:

’’ یہ ہے اللہ تعالیٰ کی نسبت ہندوؤ ں کے خواص کا قول۔ یہ لوگ اس کا نام ایشفر (ایشور) رکھتے ہیں، یعنی مستغنی اور جواد، جو دیتا ہے اورلیتا نہیں۔ اسی کی وحدت کوخالص وحدت سمجھتے ہیں، اس لیے کہ دوسرے موجودات کے وجود کا سبب اور سہاراوہ ہے۔ یہ توہّم کہ سب موجودات معدوم ہیں اور وہ موجود ہے، محال نہیں ہے اور یہ توہّم کہ وہ موجود نہیں اور سب موجودات موجود ہیں محال ہے۔ جب ہم ہندوؤ ں کے خواص کے طبقے سے نکل کر عوام کی طرف آتے ہیں تو ان کے اقوال میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔‘‘(البیرونی، مترجم سید اصغر علی،کتاب الہند،جلد اوّل، دہلی 1941، ص24-29)

سوامی جی عالم محویت یا جذب و مستی میں دریائے راوی کے کنارے ’بارہ دری کامران‘ میں بیٹھے رہتے تھے۔ کبھی شری رام کی تلاش میں جن کے وہ بھکت تھے کنارے کنارے بہت دور نکل جاتے تھے۔ جیسے جیسے ان کی بھکتی یا عالم محویت کی شہرت بڑھتی گئی ان کے گرد عقیدت مندوں کا ہجوم بڑھتا گیا۔ ایک مرتبہ وہ عقیدت مندوں اور شاگردوں کے ساتھ گنگا اشنان کے لیے ہری دوار گئے اور گنگا میں ہی سمادھی لگا دی یعنی جان جان آفریں کے سپرد کردی۔

چھے شعروں کی اس نظم میں اقبال نے سوامی رام تیرتھ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کئی ایسے نکات بیان کیے ہیں یا الفاظ استعمال کیے ہیں جن کو تصوف کی رہنمائی یا اس کی بعض اصطلاحات کو سمجھے بغیر سمجھا ہی نہیں جاسکتا۔ مثلاً رنگ وبو، نفی، اثبات، بت، عشق وغیرہ۔

ذات و صفات و افعال و آثار کے ظہور کو ’ رنگ ‘ کہتے ہیں جو ہر آن اور ہرلحظہ نئی صورت میں جلوہ گر ہوتا یعنی نیا جلوہ دکھاتا رہتا ہے۔ ’رازِ رنگ وبو کھولا ‘ سے مراد یہ ہے کہ موجودات یعنی حیات و کائنات کے راز سے پردہ اٹھایا۔ نفی اور ا ثبات تصوف کا بہت اہم مسئلہ ہے۔ اثبات سے ’احکام عبادت کا قائم رکھنا‘ اور نفی سے ’’صفات مذمومہ کو نیست و نابود کرنا یا رذائل کو دور کرکے فضائل سے آراستہ ہونا‘‘ مراد ہے۔ راقم نے نفی و اثبات اور ان کے فرق پر مختلف حوالوں سے اپنی کتاب ’’ تصوف اور بھکتی کی اہم اصطلاحات (ص 362-4)‘‘ میں ان لفظوں میں روشنی ڈالی ہے۔ یہ کتاب قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان نے ہی شائع کی ہے۔

’’ حضرت مصنف ’ کشف المحجوب ‘ اس سلسلے میں فرماتے ہیں کہ نفی کے معنی نفسانی یعنی بری اور ناپسندیدہ عادات کو اپنے اندر سے دور کرنا بلکہ بالکل مٹا دینا ہے اور اثبات کے معنی حقیقت کو اپنے اوپر غالب و قاہر کرکے پسندیدہ عادات و خصائل کو پیدا کرنا بلکہ ثابت کردینا ہے۔ صفتِ بشریت کی فنا،نفی اور غلبۂ حقیقت کا وجود اثبات ہے ۔۔۔۔۔

صوفیا کا قول ہے کہ اسی نفی سے مراد، حق تعالیٰ کے اختیار کے اثبات میں، بندے کے اختیار کی نفی ہے۔چنانچہ ایک بزرگ کا ارشاد ہے کہ ’’… بندے کے لیے حضرت حق کا اختیار اس کے اپنے علم سے بہتر ہے، جو بندے کو اپنے نفس کے لیے خدا سے غافل رہ کر اختیار ہو۔ اس لیے یہ بات مسلم الثبوت ہے کہ محبت میں محب کے اختیار کی نفی، محبوب کے اختیار کے اثبات سے وابستہ ہے۔ ‘‘

راضی برضا اور تفویض کے سلسلے میں ایک واقعہ ہے کہ ایک درویش دریا میں غرق ہورہا تھا۔ کسی نے اس سے کہا بھائی! کیا تجھے نکال لیا جائے؟ اس نے کہا نہیں۔تو اس نے پوچھا پھرکیا چاہتا ہے کہ ڈوب جائے؟ درویش نے کہا نہیں۔ اس نے کہا عجیب بات ہے کہ نہ ہلاکت چاہتا ہے نہ نجات؟ درویش نے کہا مجھے ایسی نجات کی کوئی حاجت نہیں جس میں میرا اختیار شامل ہو۔ میرا اختیار تو وہ ہے جو میرے پروردگار کا اختیار ہے ۔۔۔۔۔ ‘‘

بت ‘ سے مطلوب حقیقی بھی مراد ہے اور انسان کامل بھی۔ ’عشق ‘ اقبال کا بھی محبوب لفظ ہے اور صوفیا کا بھی۔ لفظ عشق کی تفہیم اقبال کے کلام سے بھی ہوجاتی ہے مثلاً           ؎

عشق دمِ جبرئیل عشق دلِ مصطفیٰ

عشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلام

عشق کی مستی سے ہے پیکر گل تابناک

عشق ہے صہبائے خام عشق جو کاس الکرام

——

جب عشق سکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی

کھلتے ہیں غلاموں پر اَسرارِ شہنشاہی

صوفیا کے اقوال اور تشریحات کے حوالے سے راقم الحروف نے عشق کی وضاحت ان لفظوں میں کی ہے :

’’ ۔۔۔۔۔ عشق مشتق ہے عشقہ سے اور عشقہ اس گھانس کو کہتے ہیں جو درخت پر لپٹتی ہے اور درخت کو بے ثمر اور زرد و خشک کردیتی ہے اسی طرح عشق بھی عاشق کی ذات کو تجلی جمال معشوق میں محو کردیتا ہے تاکہ تفرقۂ عاشق و معشوق باقی نہ رہے۔ عشق انتہا ہے درجۂ محبت کا یہ خود بخود ہوتا ہے اختیار سے نہیں ہوتا۔ اس کے پانچ درجے ہیں۔ درجۂ اول فقدانِ دل یعنی دل کا گم کرنا۔ درجۂ دوم تاسف ہے وہ یہ ہے کہ معشوق کے بغیر عاشق بیدل ہر وقت اپنی زندگی سے متاسف ہوتا رہے۔ درجۂ سوم وجود ہے اور یہ عجب قسم کا حال ہے جو تحریر و تقریر میں نہیں آسکتا اور اس کی وجہ سے عاشق کو کسی جگہ اور کسی وقت آرام اور قرار نصیب نہیں ہوتا۔ درجۂ چہارم بے صبری ہے اس درجے میں آتش شوق اس درجہ جوش میں آجاتی ہے کہ عاشق رات دن شور مچاتا رہتا ہے۔ درجۂ پنجم صیانت ہے۔ عاشق اس درجے میں پہنچ کر دیوانہ ہوجاتا ہے۔ بجز معشوق کے اس کو کسی کی یاد نہیں رہتی۔ عشق کی دو قسمیں ہیں مجازی و حقیقی۔ حقیقی خدا کا عشق ہے مجازی کی بھی دو قسمیں ہیں نفسانی و حیوانی۔ نفسانی باعث لطافت و صفائی نفس ہوتی ہے جس کی وجہ سے عاشق صاحب وجد اور صاحب فکر و گویا اور تعلقات دنیا سے منقطع ہوجاتا ہے۔ یہی مجاز ہے جو عمدہ ترین نعمت اور موہبت خداوندی ہے اور اس کی خاصیت ہے کہ یہ عاشق کو سوائے معشوق کے دوسری طرف متوجہ نہیں ہونے دیتا اس میں درحقیقت عاشق کی توجہ معشوق حقیقی پر ہوتی ہے جو صورت میں آکر جلوہ نمائی کرتا ہے سلوک میں سوائے اس عشق کے دوسری چیز مطلوب پر فائز کرنے والی نہیں ہے۔ ‘‘ (تصوف اور بھکتی کی اہم اصطلاحات، صفحہ 245-6)

مندرجہ بالا تشریحات کی روشنی میں اقبال کی نظم کے شعروں کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے         ؎

ہم بغل دریا سے ہے اے قطرئہ بیتاب تو

پہلے گوہر تھا بنا اب گوہر نایاب تو

اے قطرئہ بیتاب یعنی سوامی رام تیرتھ یعنی وہ جزو جو کل میں مل جانے کے لیے بیتاب تھا پہلے ہی گوہر تھا کہ قدرت نے تجھے ذاتی کمالات عطا کیے تھے اور تو اپنی اصل میں مل جانے کے لیے تپش عشق سے بیتاب ہوکر رذائل کو فضائل میں تبدیل کررہا تھا اور بالآخر دریا یعنی دریائے وحدت میں خود کو غرق کرکے ’گوہر نایاب‘ بن گیا یعنی تیری قدر و قیمت میں اضافہ ہوگیا۔ یہ تصوف کا بہت اہم مسئلہ ہے۔ صوفیا نے اشارہ کیا ہے کہ جب سالک کو عرفان حاصل ہوجاتا ہے تو اس کا ذاتی وجود باقی نہیں رہتا۔ مگر عشق میں اپنی ہستی کو فنا کرنے یا ذاتی وجود کو باقی نہ رکھنے کا کوئی مادی تصور نہیں ہے۔ اپنی ہستی کو فنا کرنے کی کسی ایسی صورت کو نفی ہستی نہیں کہا جاسکتا جس پر خود کشی کا گمان ہوتا ہو        ؎

آہ کھولا کس ادا سے تونے راز رنگ و بو

میں ابھی تک ہوں اسیر امتیاز رنگ و بو

دوسرے شعر میں کہتے ہیں کہ تو نے کس شان سے راز رنگ و بو یعنی کائنات کے اسرار سے پردہ اٹھایا اور بتایا کہ جب ساری کائنات اس ایک ذات کے گوناگوں تعینات کا پرتو ہے تو یہاں کی مختلف اشیا میں فرق کیوں کیا جائے۔ تو نے واضح کردیا کہ عالم کثرت میں وحدت کا راز پوشیدہ ہے۔ مگر افسوس میں اپنی کوتاہ بینی اور ناقص عقل کے سبب عالم کثرت کی مختلف اشیا کے درمیان فرق کرتا رہا ہوں          ؎

مٹ کے غوغا زندگی کا شورش محشر بنا

یہ شرارہ بجھ کے آتش خانۂ آزر بنا

غوغا زندگی کا‘ سے مراد زندگی کی سرگرمیاں ہیں اور ’آتش خانۂ آزر ‘ سے مراد نمرود کا آتش کدہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان جب اپنی اس ہستی کو فنا کردیتا ہے جس کو دیکھا جاسکتا ہے، چھوا جاسکتا ہے تو اس میں اور زیادہ طاقت پیدا ہوجاتی ہے کیونکہ وہ واصل بحق ہوجاتا ہے۔ اس کی مثال اس قطرے کی ہے جو سمندر یعنی بحر ناپیدا کنار میں مل کر خود بھی بحر ناپیدا کنار بن جاتا ہے        ؎

نفی ہستی اک کرشمہ ہے دلِ آگاہ کا

لا کے دریا میں نہاں موتی ہے الا اللہ کا

اپنی ہستی یا ظاہری وجود کی نفی وہی کرسکتا ہے جو ’دلِ آگاہ‘ کا مالک یعنی اس حقیقت کو جاننے اور تسلیم کرنے والا ہوکہ مالک و خالق اسی کو ملتا ہے جو اس کے علاوہ ہر حقیقت کی نفی کرچکا ہو۔ نفی و اثبات کی طرح فنا و بقا بھی تصوف کا بہت اہم مسئلہ ہے۔ راقم نے ’’ تصوف اور بھکتی کی اہم اصطلاحات (صفحہ 267-8)‘‘ میں اس کی بھی وضاحت کی ہے۔ بقا سے مراد وہ مقام ہے جہاں دیدار الٰہی میں کوئی چیز حجاب نہیں بنتی اور سالک حق کو موجود، باقی سارے عالم کو معدوم دیکھتا ہے۔ اسی طرح

’’ فنا سے وہ حالت مراد ہے جس میں سالک سے قولاً یا فعلاً یا عملاً جو کچھ صادر ہوتا ہے وہ حق سے ہوتا ہے اور اسی مرتبے پر پہنچ کر یزید بسطامی نے سبحانی اور منصور نے انا الحق کہا تھا۔

امام قشیریؒ کے مطابق ’’ صوفیا کے یہاں ’فنا‘ سے مذموم اوصاف کا ساقط ہوجانا مراد ہے اور ’بقا‘ سے اوصافِ محمودہ کا بندہ کے ساتھ قائم ہونا۔ ‘‘ (رسالہ قشیریہ)

امام ربانی مجدد الف ثانی نے لکھا ہے ’’ جو علوم کہ فنافی اﷲ اور بقا بااﷲ سے تعلق رکھتے ہیں، حق تعالیٰ نے اپنی عنایت سے وہ ظاہر فرما دیے ہیں اور اسی طرح خادم نے معلوم کرلیا ہے کہ ہر چیز کی وجہ خالص کیا ہے اور سیر فی اﷲ کے کیا معنیٰ ہیں اور تجلی ذاتی برقی کیا ہوتی ہے اور محمدی مشرب کون ہے اور اسی قسم کی دوسری چیزیں۔ ‘‘

(مکتوباتِ مجدد الف ثانی، دفتر اول، مکتوب 12)

امام ربانی نے اپنے ایک روحانی تجربے کے بارے میں بھی اپنے مرشد برحق کو لکھا ہے کہ ’’ جب سے اس خاکسار کو صحو میں لائے ہیں اور بقا عطا فرمائی ہے، عجیب و غریب علوم و معارف جو پہلے متعارف نہیں تھے، پے در پے و مسلسل  وارد ہورہے ہیں، ان میں سے اکثر قوم یعنی صوفیا کرام کے قول اور ان کی مروجہ و مستعمل اصطلاح کے ساتھ موافقت نہیں رکھتے۔ مسئلہ وحدت الوجود اور اس کے متعلقات کی نسبت جو کچھ ان حضرات نے بیان کیا ہے اس خاکسار کو اس حال سے ابتدا میں ہی مشرف کردیا گیا اور کثرت میں وحدت کا مشاہدہ حاصل ہوا۔ پھر اس مقام سے کئی درجے اوپر لے گئے اور اس ضمن میں کئی قسم کے علوم کا افادہ نصیب ہوا۔ ‘‘

(مکتوباتِ مجدد الف ثانی، دفتر اول، مکتوب 8) ‘‘

چشم نابینا سے مخفی معنی انجام ہے

تھم گئی جس دم تڑپ سیماب سیم خام ہے

            چشم نابینا ‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو حقیقت کو نہیں جانتے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ہر وقت عشق الٰہی کی آگ میں جلتا رہے۔ اگر انسان عشق الٰہی کی آگ یا تپش یا تڑپ سے محروم رہے گا تو پھر انسان کیسا۔ سیماب تڑپ سے محروم ہوکر سیم خام رہ جاتا ہے۔ یہی حال روح کا ہے جو عشق سے محروم ہوکر عشق کہلانے کی مستحق نہیں رہ جاتی۔

توڑ دیتا ہے بت ہستی کو ابراہیم عشق

ہوش کا دارو ہے گویا مستی تسنیم عشق

عشق کی حیثیت حضرت ابراہیم جیسی ہے جو بت شکن واقع ہوئے تھے۔ اس لیے وہ ’ بت ہستی ‘ یعنی ظاہری وجود کو مرضی الٰہی کے تابع کردیتا ہے۔ راقم الحروف نے لکھا ہے :

’’ فنا فی اللہ : سالک کا اپنی خودی کو حق میں نیست و نابود اور فنا کردینا مراد ہے چاہے یہ کیفیت ذکر و شغل کے سبب پیدا ہو یا من جانب اللہ۔ فنا فی الرسول : کہتے ہیں کہ سالک اپنے آپ کو وجود رسول میں فانی کردے اور اپنے وجود کو رسول کی صورت پر جانے۔ صوفیا نے بھی لکھا ہے کہ اس حال میں سنت کا اتباع عادتاً ہونے لگتا ہے۔ ‘‘

(تصوف اور بھکتی کی اہم اصطلاحات، ص 268)

اقبال جس تصوف کو مانتے تھے اور سوامی جی جس بھکتی کے قائل تھے اس میں اتحاد فکر کے ساتھ یہ اختلاف پوشیدہ ہے کہ اقبال کے نزدیک نفی ہستی کا مفہوم دنیا میں رہتے ہوئے خود کو ہر قسم کے رذائل سے پاک کرنا تھا اور سوامی جی کے نزدیک ’’ پران تیاگ دینا ‘‘


Shamim Tariq

---