جمعہ، 2 دسمبر، 2022

تحریک آزادی اور ہماری فلمیں: انیس امروہوی


 ہندوستان کی آزادی کی تحریک یوں تو 1857 کی جدوجہد سے ہی شروع ہو گئی تھی، مگر انگریزوں کی بڑھتی ہوئی طاقت اور چالاکیوں نے اس تحریک کو اپنے ظلم و ستم سے دَبا کر ہندوستان کو غلام بنا لیا اور پورے ہندوستان پر قبضہ کر لیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب فوٹوگرافی کی تکنیک میں نِت نئے تجربے ہو رہے تھے اور تصویر کو متحرک بنانے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ دوسرے ممالک میں پردے پر چلتی پھرتی تصویروں کو ابھارنے کی کوشش 1893 میں ہی کامیابی کی طرف گامزن ہو چکی تھی۔ ہمارے یہاں ہندوستان میں اپنے طور پر بھی کوششیں جاری تھیں۔

اس زمانے میں ہندوستان میں اِس طرح کی کئی کتابیں شائع ہوئیں، جن میں تمام صفحات پر ایک جیسی تصویریں چھپی تھیں، مگر ہر تصویر پچھلی تصویر سے تھوڑی سی مختلف تھی۔ جب اس کتاب کے صفحات کو تیزی سے الٹا جاتا تو ایسا لگتا تھا جیسے اس کتاب میں چھپی تصویر متحرک ہو اٹھی ہو۔

پہلے پہل 1896 میں ہندوستان کے شہر بمبئی میں بیرون ممالک سے چھوٹی چھوٹی خاموش فلموں کی آمد شروع ہوئی اور 7جولائی 1896 کو لمونیئر برادرس نے بمبئی کے واٹسن ہوٹل میں ’میجک لائٹس‘ کے نام سے ایک چھوٹی سی فلم کی نمائش کی۔اس طرح کی فلموں کو عوام نے اور تھیئٹر کے مالکوں نے بہت پسند کیا۔ طویل فیچر فلموں کے سلسلے کو ہندوستان میں شروع کرنے کا سہرا داداصاحب پھالکے کو جاتا ہے۔ انھوں نے ’لائف آف کرائسٹ‘ نام کی فلم سے متاثر ہو کر بڑی جد وجہد سے فلم  ’راجہ ہریش چندر‘ کو ہندوستان میں تیار کیا اور 1913 میں اس خاموش فلم کی نمائش کی۔ اس طرح ہندوستان میں خاموش فلموں کا سفر شروع ہو گیا۔ حالانکہ 1900 میں گرودیو رابندر ناتھ ٹیگور نے گراموفون پر پہلی بار خود اپنی ہی آواز میں… ’’بندے ماترم…‘‘ گانا ریکارڈ کرایا تھا، مگر1931 میں ہندوستانی فلموں کو بھی بولنا آگیا اور آرڈیشر ایرانی نے ہندوستان کی پہلی بولتی فلم ’عالم آرا‘ کی نمائش کی۔ یہی وہ دَور تھا جب ہندوستان میں جنگِ آزادی کی تحریک بھی زوروں پر تھی۔

1885 میں انڈین نیشنل کانگریس کا قیام عمل میں آیاتھا۔ ہندوستان کے نوجوان، آزادی کے متوالے پوری طرح انگریزوں کو ہندوستان سے بھگا دینے کا فیصلہ کر چکے تھے اور گاندھی جی کی قیادت میں مکمل آزادی کی قرار داد پاس ہو چکی تھی۔ مگر ایسے وقت میں بھی ہماری فلموں میں آزادی کی تحریک کے اثرات کم دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو انگریز حکومت کی قائم کردہ پابندیاں اور ظلم وستم، جس کی وجہ سے کوئی بھی فلمساز ایسے موضوع کو اپنانے سے اپنا دامن بچاتا تھا، جس سے انگریز حکومت کے غضب کا شکار ہونے کا خطرہ لاحق ہو۔

دوسرے برٹش حکومت نے 1922میں پریس سنسرشپ قائم کیا اوراس کے دائرہ کار میں ہندوستانی سینما کو بھی جکڑ لیا۔ جس کی وجہ سے اگر کوئی فلمساز تحریک آزادی کو موضوع بناکر فلم بنا بھی لیتا تو اس کی نمائش پر پابندی لگ سکتی تھی۔ ایک اور خاص وجہ یہ تھی کہ اس وقت تک ہندوستانی فلموں کا مزاج صرف دیومالائی یا جادوئی کہانیوں تک محدود تھا، اور لوگ اسی کو پسند کرتے تھے۔

خاموش فلموں کے دَور میں بھی بمبئی میں کئی لوگوں نے ہمت کرکے سیاسی مقاصد کو پس منظر میں رکھ کر کئی اہم فلمیں بنائیں، جو مقبول بھی ہوئیں۔ فلم ’کس کا قصور‘ بیوہ عورتوں کے مسائل کو لے کر بنائی گئی تھی۔ مگر اس کے علاوہ ’گوری بالا‘ اور ’رام رحیم‘ میں سیاسی تحریک کو ایک خاص انداز میں پیش کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستانی قومیت کا جذبہ  اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے عنصر کو بھی ان فلموں میں شامل کیا گیا تھا۔ تحریک آزادی کی کامیابی اور مقبولیت کے لیے ملک میں ہندو مسلم اتحاد کی سخت ضرورت تھی اور اِسی موضوع کو مرکزی خیال بناتے ہوئے لکشمی پکچرز نے 1925 میں ’سورن‘ نام سے ایک ایسی فلم کی نمائش کی جس میں مغل تاریخ کے ایک واقعہ کے ذریعے ہندو مسلم اتحاد کا پیغام ہندوستانی عوام کو دیا تھا۔

فلم ’دی بم‘ میں بھی انگریزی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے پر اکسایا گیا تھا۔ اس لیے برٹش سنسر اور بھی ہوشیار ہو گیا اور اس نے اس فلم کو بری طرح کاٹ دیا تھا۔ وی۔ شانتارام نے فلم ’اودے کال‘ بھی انہی دنوں میں بنائی تھی۔ اس زمانے میں کوہِ نور اسٹوڈیو میں ایک خاص قسم کی ریلی کا اہتمام کرکے بھی فلم والوں نے تحریکِ آزادی میں حصہ لیا۔ اس کے بعد ہی ’انڈین فلم ایسوسی ایشن‘ کا قیام عمل میں آیا تھا، اور ایک دن کی مکمل علامتی ہڑتال بھی کی گئی تھی۔

اِسی دَوران ایک اور فلم ’غصہ‘ کی بھی نمائش ہوئی۔ اس فلم میں ہندوستانی سماج کا پچھڑاپن دِکھایا گیا تھا اور گاندھی جی کی طرح دِکھائی دینے والا ایک کردار بھی اِس فلم میں تھا جسے مکند نام کے ایک اداکار نے ادا کیا تھا۔

1935-36 کے آتے آتے ملک بھر میں ہندوستانی فلموں کے دیکھنے والے سنجیدہ اور غور طلب موضوعات پر بننے والی فلموں کو دیکھنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو گئے تھے۔ فلم بینوں کا یہ رویّہ دوسری جنگِ عظیم کے وقت تک اور پھر ہندوستان کی آزادی کی سنہری صبح کے آنے تک برقرار رہا۔ اِس کی خاص وجہ یہ تھی کہ زیادہ تر فلم بین متوسط طبقے کے تھے، یا پھر اونچی سوسائٹی کے لوگ تھے۔ فلمساز کے۔ سی۔ بروا نے روایت سے ہٹ کر اور کھوکھلی آزادانہ روش کے درمیان پھنسے انسانوں کے درد کو فلم ’’منزل‘‘ اور فلم ’’مایا‘‘ میں بڑے ہی پراثر انداز میں پیش کیا۔ جس نے ہمارے فلم بینوں کے ذہن و دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ دیوکی بوس نے فلم ’سنہرا سنسار‘ میں سماج کی نابرابری کے مسئلے کو پیش کیا۔ اس کے ساتھ ہی واڈیا کی فلم ’جئے بھارت‘، وجئے بھٹ کی ’پاسنگ شو‘ اور محبوب خان کی ’ڈکن کوئن‘ جیسی فلمیں بھی خاصی کامیاب رہیں۔ ان فلموں میں کسی نہ کسی طور پر دیش بھکتی اور تحریک آزادی کا جذبہ چھپا ہوا تھا۔ 1942 میں مشہور فلمساز و ہدایت کار محبوب خان نے ہی فلم ’روٹی‘ کی نمائش کی، جس کے ذریعے انھوں نے ہندوستانی عوام کو یہ پیغام دیا کہ انسان کو اپنا حق مانگنے سے نہ ملے تو چھین لینا چاہیے۔ یہ فلم سامراجی نظام کے خلاف ایک بہت اثردار ہتھیار تھی، لہٰذا انگریزی حکومت نے اس پر پابندی لگا دی۔ ہومی واڈیا کی فلم ’ویر پربھات‘ حالانکہ اسٹنٹ فلم تھی مگر اس میں برٹش حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی بات کو بڑے ہی پراثر انداز اور سلیقے سے پیش کیا گیا تھا۔

1946 میں چیتن آنند نے فلم ’نیچا نگر‘ پیش کی۔ اس فلم میں انگریز حکومت کے ذریعے معصوم ہندوستانیوں پر ڈھائے گئے مظالم کی تصویرکشی بڑے خوبصورت انداز میں پیش کی گئی تھی۔ اس فلم کی کہانی اردو کے ممتاز افسانہ نگار حیات اللہ انصاری نے تحریر کی تھی اور پنڈت جواہر لعل نہرو کو یہ فلم اِس قدر پسند آئی تھی کہ 1947 میں جب نئی دہلی میں پہلی ایشیائی کانفرنس منعقد ہوئی تو پنڈت نہرو کی خواہش کے مطابق یہ فلم کانفرنس کے ڈیلی گیٹس کو دِکھائی گئی۔

اس زمانے میں انگریز حکومت کی سخت سنسرشپ کی وجہ سے بہت سی باتیں سیدھے طریقے سے نہ کہہ کر موضوعات کو بدل کر بھی کہی گئیں۔ مثال کے طور پر شانتارام کی فلم ’پڑوسی‘ ہندو مسلم ایکتا پر بنائی گئی تھی۔ فلم میں دکھایا گیا تھا کہ ہندو اور مسلمان خاندان آپس میں مل جل کر رہتے ہیں، مگر باہری طاقتیں اپنے مقاصد حاصل کرنے کی غرض سے انھیں آپس میں لڑا دیتے ہیں۔ دوست بچھڑ جاتے ہیں، بعد میں انھیں طرح طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کے پاس صرف یادیں باقی رہ جاتی ہیں۔ ان کا دوبارہ ملن تب ہوتا ہے، جب ایک باندھ کے ٹوٹنے کی وجہ سے وہ سب موت کی آغوش میں ہوتے ہیں۔

فلم ’قسمت‘ بامبے ٹاکیز کی فلم تھی، جسے ایس مکھرجی کی ہدایت میں بنایا گیا تھا۔ حالانکہ یہ فلم جرائم کے واقعات پر مبنی ہلکی پھلکی مزاحیہ قسم کی فلم تھی، مگر اس فلم کا ایک گانا… ’دور ہٹو اَے دنیا والو، ہندوستان ہمارا ہے‘ نے بڑی شہرت حاصل کی اور تحریک آزادی کے متوالوں کو جھومنے پر مجبور کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی حب الوطنی کا جذبہ بھی لوگوں میں بیدار ہوا۔ اس گیت کی ایک لائن… ’تم نہ کسی کے آگے جھکنا، جرمن ہویا جاپانی‘ ایک طرح سے انگریزوں کی طرف ہی اشارہ تھا، اور گاندھی جی کے نعرہ ’انگریزو! بھارت چھوڑو‘ کی ہی ترجمانی کرتا تھا۔ ان دنوں یہ گانا ہندوستان کے بچے بچے کی زبان پر تھا، جسے کوی پردیپ نے تحریر کیا تھا۔

اِسی طرح دوسرے فلمسازوں نے بھی انگریزی سنسربورڈ کی پریشانیوں سے بچنے کے لیے ایسی حکایت آمیز اور دیوی دیوتائوں کی کہانیوں پر مبنی علامتی فلمیں بنائیں۔ حالانکہ ان کا مقصد لوگوں میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنا تھا۔

1945 سے 1947 تک کا وقت ہندوستانی سینما کے لیے بے حد اہم رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب دوسری جنگ عظیم ختم ہو رہی تھی اور ہندوستان کو آزادی ملنے ہی والی تھی، ہر طرح کے فن کے میدان میں تبدیلی کی لہریں نمایاں ہونے لگی تھیں۔ ہماری فلموں نے بھی ایسے ماحول میں کروٹ لی اور کچھ لوگوں نے ہمت کرکے خاص طرح سے تحریکِ آزادی کو موضوع بناکر فلمیں بنانے کا اِرادہ کر لیا۔ ادھر بنگال میں بھی نوجوانوں میں ایک خاص طرح کی لہر چل رہی تھی۔ تب وہاں بی۔این سرکار نے ’ہمراہی‘ فلم بنائی۔ پربھات کی فلم ’ہم ایک ہیں‘ کی کہانی بھی پوری طرح قومی ایکتا کے دھاگے میں پروئی ہوئی تھی۔ اس زمانے میں لیک سے ہٹ کر بننے والی فلموں کے موضوعات بائیں بازو کی تحریک سے متاثر ہونے لگے، کیونکہ ان کے لکھنے والے زیادہ تر ادیب اور شاعر اسی تحریک سے وابستہ تھے۔ اِس طرح کی تحریک کو اِپٹا (IPTA: Indian People theatre Assicoation) سے بھی کافی مدد ملی، اور اِس تحریک کا جذبہ فلموں پر حاوی ہوتا گیا۔

دیکھا جائے تو تحریک آزادی کو موضوع بناکر ہندوستان کی آزادی سے پہلے کوئی بہت زیادہ کام نہیں ہو سکا تھا۔29اگست 1918 کو لوک مانیہ تلک نے خاص طور پر کانگریس کا اجلاس بمبئی میں بلایا تھا۔ اس وقت بابو رائو پینٹر نے اپنے دو معاون داملے اور فتح لعل کو ساتھ لے کر اِس اجلاس کی فلم بندی کی تھی۔ مگر یہ فلم اس وقت کہیں پر بھی دکھائی نہ جا سکی تھی، اور جب 1920 میں بابو رائو پینٹر ہی کی فلم ’سیرندھی‘ کی بمبئی کے میجسٹک سینما میں نمائش ہوئی، تب اس فلم کو بھی ’سیرندھی‘ کے ساتھ ہی جوڑ کر دکھایا گیا۔ مگر اس فلم کی نمائش سے قبل ہی یکم اگست 1920 کو بال گنگادھر تلک کا انتقال ہو چکا تھا۔

1935 میں ایسٹرن کمپنی نے فلم ’بھارت کی بیٹی‘ بنائی تھی۔ اس کی ہدایت پریمانکور آشرتھی نے کی تھی اور کہانی کے۔ ایل۔ وِرمانی کی تھی۔ اس فلم میں بھی ہندوستان کی آزادی کی بات کو اٹھایا گیا تھا۔ 1938 میں محبوب خان نے وطن نام سے ایک فلم بنائی تھی، جو حب الوطنی پر مبنی کچھ باتوں کو لے کر پیش کی گئی تھی۔

ملک کی آزادی کے ساتھ ہی فلم والوں کو بھی اپنی مرضی کے موضوعات پر فلم بنانے کی آزادی ملی… اور بڑی تیزی سے تحریکِ آزادی اور حب الوطنی کے موضوعات پر فلمیں بننے لگیں۔ وی۔ شانتارام نے 1949  میں فلم ’اپنا دیش‘ بنائی۔ نتن بوس نے 1950 میں ’مشعل‘ بنائی۔ شیام مکھرجی نے 1950 میں ہی اشوک کمار کو لے کر فلم ’سنگرام‘ بنائی۔ 1952 میں فیمس پکچرز نے آر۔ ایس۔ چودھری کی ہدایت میں فلم ’جلیاں والا باغ‘ بنائی اور پھر 1953 میں منروا مووی ٹون کے بینر سے سہراب مودی نے فلم ’جھانسی کی رانی‘ پیش کی، جو بہت مقبول ہوئی۔ 1954 میں فلمستان نے ’جاگرتی‘ بنائی۔ 1954  میں ہی ’شہید اعظم بھگت سنگھ‘ کی نمائش ہوئی، جو مکمل طور پر تحریک آزادی پر مبنی فلم تھی۔

اس سلسلے کی سب سے مشہور اور بہترین فلم  ’شہید‘ تھی، جس نے تحریک آزادی کے متوالے نوجوانوں کو جوش وخروش سے لبالب بھر دیا۔ فلمستان کی اس فلم کے خالق رمیش سہگل تھے اور دلیپ کمار کی ہیروئین کامنی کوشل تھیں۔ چندر موہن، لیلا چٹنس اور رام سنگھ نے بھی اس فلم میں اہم رول ادا کیے تھے۔ فلم کے مکالمے اور کہانی کی بنت نے ہندوستانی عوام کے سینوں میں ایک جوش بھر دیا تھا۔ اسی نام سے ایک دوسری فلم 1965 میں بھی بنی تھی۔ اس دوسری فلم ’شہید‘ میں منوج کمار کے ساتھ اور کئی نامور اداکار اور اداکارائیں تھیں، اور یہ فلم بھی کافی مقبول ہوئی تھی۔ 1965 میں ہی آئی۔ ایس۔ جوہر نے ایک فلم ’جوہر محمود اِن گوا ‘ بنائی تھی۔ یہ فلم بھی تحریک آزادی کے موضوع پر ہی بنی تھی، مگر اس فلم میں خاص طور پر گوا کی آزادی کو ہی موضوع بنایا گیا تھا۔ منوج کمار کی فلم ’کرانتی‘ بھی تحریک آزادی کے ہی موضوع پر ایک بڑی فلم تھی اور اس میں دلیپ کمار نے بھی ایک اہم رول ادا کیا تھا۔ یہ فلم بھی کافی کامیاب ہوئی تھی۔

ان سب فلموں کے علاوہ بھی کئی فلمیں ایسی آئیں، جن میں ہندوستان کی تحریک آزادی کے کچھ حصے فلمائے گئے تھے، یا کہانی میں اس دور کے چند واقعات پیش کیے گئے تھے۔ اس سب کے باوجود اتنے بڑے ملک کی آزادی کی اتنی بڑی تحریک پر جو کام دنیا کی سب سے بڑی ہماری فلم انڈسٹری میں ہونا چاہیے تھا، میرے خیال سے وہ نہیں ہو پایا ہے۔ آزادی سے قبل تو انگریز حکومت کا سنسربورڈ آڑے آتا رہا، مگر اب اس سلسلے میں ضرور کوئی ایساکام ہونا چاہیے جس سے ملک کا وقار اونچا ہو۔ آزادی کے اس موضوع پر سب سے بڑی فلم ’گاندھی‘ کو ہی کہا جا سکتا ہے۔ اس فلم میں بڑے پیمانے پر گاندھی جی کی زندگی اور اس وقت کے حالات کی عکاسی ہوئی ہے۔ مگر یہ فلم مکمل طور پر ہندوستانی فلم نہیں کہی جا سکتی۔ کیا اس طرح کی کسی بڑی فلم کی امید ہم ہندوستانی سنیما سے بھی کر سکتے ہیں؟

Anees Amrohvi

104/B, Yawar Manzil, 1- Block

Laxmi Nagar

Delhi - 110092

Mob.: 9811612373

Email.: qissey@rediffmail.com

میزان: ارمیلا شریش، مترجم خورشید عالم


 ’’دیدی کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘

’’کون سی دیدی؟‘‘

’’دوچاردیدیاں ہیں کیا؟‘‘

’’میری تو دو دیدی ہیں نا۔‘‘

’’بڑی دیدی، روہنی دیدی۔‘‘

’’کیوں انھیں کیا ہوا؟ٹھیک ہی ہوں گی۔‘‘

’’تم تو اتنی بے پروائی سے جواب دے رہے ہو، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔‘‘

’’مجھے تو کچھ معلوم ہی نہیں ہے۔‘‘

’’کیا ان سے تمھاری بات چیت نہیں ہوتی؟‘‘

’’یہی سمجھ لو۔ایک سال پہلے کسی بات پرکچھ کہا سنی ہوگئی تھی۔وہ ناراض ہو گئیں اور میں نے بھی انھیں فون کرنا بند کر دیاتھا۔‘‘

’’شاباش،کیسے بھائی  ہو؟‘‘ ادھرسے بے رخی، طنز اور لعنت ملامت کرتی آواز جوتے کی طرح لگی۔

’’میں تصور نہیں کر سکتا کہ تم دونوں بھائی بہن کے درمیان ایسی دشمنی ہو سکتی ہے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے، دیدی تو ممی سے بھی زیادہ تمھارے لیے کیا کرتی تھیں۔ تمھاری ساری ذمے داری وہی تو اٹھاتی تھیں،تمھارا کتنا آنا جانا تھا، بات کتنی بھی بڑی ہو رشتے تو نہیں ختم ہو جاتے۔ مجھے تمھاری باتیں سن کر بڑی تکلیف ہو رہی ہے۔‘‘ نربھے نے دکھی آواز میں کہا۔

’’کئی بار ایساہوتا ہے کہ ہمارے خیالات اور مزاج نہیں ملتے ہیں۔ ہر روز کے بحث مباحثے سے تو بہتر یہی ہوتا ہے کہ مکالمہ ہی بند کر دیا جائے۔آپ کو تو معلوم ہے میں سچ بول دیتا ہوں اور سچ ہمیشہ تلخ ہوتا ہے،کوئی برداشت نہیں کر پاتا ہے۔‘‘

’’تو واقعی تمھیں کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔ تمھیں کسی نے بتایا بھی نہیں؟‘‘

’’نہیں کسی نے کچھ بھی نہیں بتایا۔اب آپ ہی بتا دیجیے دیدی کو ہوا کیا ہے؟‘‘

’’کینسر،دیدی کو کینسر ہے۔ ایک دن ہسپتال میں میں اپنے کسی دوست کو دیکھنے گیا تھاَ۔ وہ فائل لے کر اپنے نمبر کا انتظار کر رہی تھیں،تب انھوں نے بتایا تھا،بہت بری حالت تھی تب ان کی۔‘‘

’’یہ کب کی بات ہے؟‘‘

’’قریب چارپانچ ماہ پہلے کی بات ہے۔‘‘

’’چارپانچ ماہ،اورآپ نے مجھے بتایا بھی نہیں۔‘‘

’’میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تمھیں معلوم نہیں ہوگا۔‘‘

’’ مجھے کون بتاتا؟‘‘

’’بچے۔‘‘

’’بچے سوچ سکتے ہیں کہ تمھیں معلوم نہ ہو گا۔‘‘

’’آپریشن ہو چکا تھا۔آپریشن کے بعد چیک اپ کے لیے آئی تھیں۔کیمو تو پہلے ہی ہو گئی تھی۔‘‘

اسے ایسا محسوس ہوا کہ موبائل اس کے ہاتھ سے گر جائے گا۔اس نے پاس پڑی کرسی کو کھینچا اور دھپ سے بیٹھ گیا۔ دماغ کی نسوں کو دبایا،پھرآنکھوں کو پونچھا۔

’’آشی،آشی،آشی۔‘‘

وہ اونچی آواز میں چیخا۔بیوی دوڑتی ہوئی آئی، ’’کیا  ہوا، کیوں چیخ رہے ہو؟ سب ٹھیک تو ہے؟‘‘

’’کیا تمھیں معلوم ہے؟‘‘

’’کیا...کیا؟‘‘

’’دیدی کو کینسرہو گیاہے۔‘‘

’’اوہ...‘‘

’’اور ہم لوگوں کو پتہ تک نہیں چلا۔‘‘

آشی کچھ دیر تک حیران کھڑی رہی۔ اس کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکلا۔ اس نے اپنے شوہر کو پہلی بار اس طرح تڑپتے ہوئے دیکھاتھا۔وہ اکثرسبھی کو چیختے ڈانٹتے رہتے،یا سب کی شکایتیں کرتے نظرآتے تھے۔ ان کے مزاج میں جو خشکی اور ترشی تھی، اس سے سبھی اپنی تذلیل محسوس کرتے تھے۔

’’کئی بار دیدی پیڑ کے نیچے کھڑی نظر آتی تھیں۔‘‘

’’تم نے کبھی بتایا نہیں۔‘‘

’’کیسے بتاتی، تم تو ان کا نام سنتے ہی آگ ببولا ہو جاتے تھے۔‘‘

’’تو کیا وہ پیدل جاتی تھیں؟‘‘

’’میں تو کالج جاتے وقت اکثرانھیں پیڑ کے نیچے کھڑی دیکھتی تھی۔شاید بس یا کیب کا انتظارکرتی ہوں گی۔ کبھی گاڑی روک کر بات کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔‘‘

’’ستیش نے بھی نہیں بتایا۔‘‘

’’وہ تو ہم سب کے حکم کی تعمیل کرتا ہے اورشاید وہ دیدی کو جانتا بھی نہیں ہے۔ہاں... فرماں بردار ڈرائیور، جس نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ اس کی بڑی بہن یعنی دیدی دھوپ میں،بارش میں،ٹھنڈ میں سڑک پر کھڑی نظر آتی تھیں۔بس سے آتی جاتی تھیں۔‘‘

’’تو کیا ان کے پاس گاڑی نہیں تھی؟‘‘

’’گاڑی تو تھی ان کے پاس۔‘‘

’’ڈرائیور نہیں آرہا ہوگا۔‘‘

’’تو کیا گاڑی اور ڈرائیور دونوں ہی نہیں تھے،لیکن کیوں؟‘‘

’’پیسوں کی کمی ہوگی۔علاج میں خرچ ہو گیا ہوگا۔ ان کے پاس پیسہ تھا ہی کتنا۔ شوہر بیوی دونوں سرکاری نوکری میں۔دونوں کی تنخواہ میں دونوں بیٹیوں کو پڑھایا، شادی کی، مکان خریدا۔سبھی خانگی ذمے داریاں نبھاتی رہیں۔ کوئی ایسا رشتے دارنہیں تھا،جن کے لیے انھوں نے کچھ نہ کیا ہو۔‘‘

لینا دینا، اس کا ماتھا ٹھنکا۔ جس کے لیے انھوں نے دشمنی مول لی تھی،جس کے لیے انھوں نے اسے دھوکا دیاتھا۔ کیا ان لوگوں نے کوئی مدد نہیں کی ہوگی؟انھیں تو معلوم ہوگا۔ اگر انھیں معلوم ہوگا تو پھر پیسوں کی پریشانی تو نہیں ہونی چاہیے۔ ان لوگوں سے بھی اس کی بات چیت نہیں ہوتی ہے۔

’’پھرکیسے پتہ کریں،کس سے،کس بہانے؟‘‘

بے چینی میں گھومتا پھرتا،اۡٹھتا بیٹھتا وہ پسینے پسینے ہوا جا رہا تھا۔

کاش،ماں زندہ ہوتیں تو سب کچھ پتہ چل جاتا۔ ماں سے ہی سارے بھائی بہن ملنے آتے تھے۔ماں ہی سب کی باتیں بتاتی تھیں کہ کسی کو برا بھی نہ لگے اورسبھی کو ایک دوسرے کی اطلاعات بھی مل جائیں۔آج اسے ماں شدت سے یاد آرہی تھیں۔

’’اچھا ایک کام کرو...تم دیدی کی بڑی بیٹی راگنی کو فون کرو۔‘‘

’’میرا فون کرنا مناسب ہوگا؟‘‘

’’ہاں...ہاں، اس سے پتہ تو کرو۔‘‘

آشی پرانی ڈائری میں راگنی کا نمبر ڈھونڈھنے لگی۔ شاید تین سال ہو گئے اس خاندان سے بات چیت کیے ہوئے۔ بات تو بھائیوں کے درمیان کی تھی،بھلے ہی چچازاد ہی کیوں نہ ہو۔

مسئلے کی بنیاد ایک مکان تھا۔ مکان سے پہلے سب ایک ساتھ رہتے تھے،بعد میں دونوں کے درمیان بیوی بچوں کو لے کر اختلافات ہونے لگے تھے۔باتیں اکثر خانگی ہوتی تھیں۔ کھانے پینے کی گھٹیا باتیں۔ رہن سہن کو لے کر پسند نا پسند کی باتیں، تنازعہ رفتہ رفتہ بڑھتا گیا تھا۔ اسے امید تھی کہ دیدی اس جھگڑے میں اس کا ساتھ دیں گی۔ مکان... ہاں، اس مکان کے بٹوارے میں اس نے بڑے بھائی کا ساتھ دیا تھا۔ ان کے حصے میں بڑا برامدہ، گیراج،پیچھے کی دوکانیں اور باغیچہ آیا تھا اور اس کے حصے میں یہ چھوٹا سا حصہ، جس میں نہ ڈرائنگ روم تھا، نہ گیراج،نہ دوکانیں... نہ برامدے۔ایک ایک چیز الگ ہوتی گئی تھی... نل کا کنکشن،بجلی کا میٹر۔ بس، ایک چیز بچی تھی، وہ تھا مکان کا شاندار ڈرائنگ روم۔ اسے لگتا تھا کم سے کم یہ ڈرائنگ روم تو اس کے حصے میں آنا ہی چاہیے۔ بھائی بار باریقین دہانی کراتے کہ وہ پارٹیشن کروا دیں گے، لیکن وہ دن کبھی آیا ہی نہیں۔ ایک دوسرے کی شکایتیں پولس تک پہنچ گئی تھیں۔ تب اس نے کتنی باتیں سنائی تھیں۔

’’اتنا بڑا دھوکا؟‘‘وہ ان کے شوہر پر چلا رہا تھا۔

’’کس بات کا دھوکا؟‘‘

’’آپ تو نامرد ہیں،کبھی کوئی فیصلہ نہیں لے سکے۔‘‘

’’اوئے سن،زبان سنبھال کر بات کر۔ بغیر کسی بات کے مجھے گھسیٹا توزبان کھینچ لوں گا۔‘‘ادھر سے وہ چیخ رہے تھے۔

’’عجیب تماشہ ہے،مکان،پراپرٹی کے پیچھے پاگل ہو گئے ہیں۔ ان کے لیے رشتوں کی کو ئی اہمیت ہی نہیں ہے۔‘‘

’’آج سے میرا کوئی رشتہ نہیں ہے۔‘‘ وہ دھمکی دے رہا تھا۔

’’مت رکھو۔‘‘ وہ بھی زور سے چیخے تھے۔

’’بے ایمان... پورا خاندان ہی بے ایمان ہے۔ ایک بار بھی نہیں سوچا کہ میرے خلاف ہو کر چین سے نہیں جی سکیں گے۔ ان سب کے لیے اپنی ساری زندگی ختم کر دی، لیکن جب ان کے سپورٹ کا وقت آیا توبدل گئے‘‘ وہ بڑبڑا رہا تھا۔

وہ ماں کے پاس جاتیں تو اس بات کا خیال رکھتیں کہ اس سے سامنا نہ ہو۔ نہ ماں اس کے بارے میں بات کرتی تھیں،نہ وہ پوچھتی تھیں۔ کبھی کسی نے ان کی بات سنی ہی نہیں۔ وہ کیسے بتاتیں کہ وہ بڑے بھائی کے ساتھ کیوں کھڑی ہوئی تھیں۔ یہاں عدم مساوات کا کوئی اصول نہیں تھا، بلکہ یہاں ایک ضروری اور انسانی اولیت تھی۔ بڑے بھائی کبھی کچھ نہیں مانگتے تھے۔ خودداری سامنے آجاتی اور نوکری میں بھی ایمانداری کی مثال۔ اپنے اصول اور قدروں نے انھیں محرومیوں کے درمیان رہنا اور جینا سکھا دیا تھا۔ چار بچے ان کی تعلیم اور کرئیر،تین لڑکیوں کی شادی۔ وہ انھیں چوبیس گھنٹے کولہو کے بیل کی طرح کام کرتے نہیں دیکھ سکتی تھیں۔ وہ ان کے انھیں اوصاف کی مداح تھیں۔ ان کی عزت کرتی تھیں۔ انھیں ترازو کا وہ پلڑا دکھائی دیتا تھا، جو ایک طرف دھن دولت سے بھرا تھا اور دوسرا اوپر خلا میں لٹکا ہوا تھا۔ انھیں دونوں پلڑوں کو برابر کرنا تھا۔ ہاں، ماں کی موت پر سب جمع ہوئے تھے، لیکن کسی نے کسی سے بات نہیں کی تھی، بلکہ اس نے دیدی کی طرف دیکھا تک نہیں تھا،جبکہ وہ بارباراس کا اداس آنسوؤں سے بھرا چہرہ دیکھتی رہی تھیں۔

عجیب کھیل تھا۔ جائداد کی تقسیم میں بس اس نے اتنا سا تو گناہ کیا تھا ہر طرح سے کمزوربھائی کواس نے تھوڑا سا مضبوط بنا دیا تھا،مکان کا بڑا حصہ دلاکر۔

’’اس عجیب کھیل میں ان کے لیے بھائی کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو گئے تھے۔ ‘‘بڑی سماج سدھارک بنی پھرتی ہیں، اپنا پیسہ دان دے دیں تب تو کسی کو پتہ چلے گا۔

دوسروں کی کمائی کی چیز کوبانٹ دو اور مہان بن جاؤ۔ دیکھنا ایک دن ناک رگڑتی ہوئی آئیں گی۔‘‘

وہ سنتی رہتیں۔

’’اور کتنی زمین چاہیے،صبر کرنا سیکھو۔ جو دیا ہے وہی کافی نہیں ہے کیا؟ سگے نہیں تو کیا ہوا،اس آدمی نے، ان کے باپ نے اس خاندان کے لیے،اس خاندان کے بچوں کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی تھی۔ ایک ایک دن اور رات کا حساب لگاؤگے توسات جنم بھی کم پڑیںگے۔ ہم اپنا حصہ نہیں لے سکتے۔ انھوں نے کوئی تفریق نہیں کی تھی،پھر تم کیسے کر سکتے ہو۔ تم بھی چھوڑدو۔ دوسرا بنگلہ ہے وہاں چلے جاؤ۔ تاؤجی نے تمھاری پرورش کی ہے،بڑا کیا ہے۔‘‘ ان کی دلیلوں کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ اس کی ڈائری حساب کتاب سے بھری ہوتی۔ اس کا پیسہ ڈائری کے اوراق سے نکل کراس کے ذہن میں درج ہو گیا تھا۔ اخلاقیات کی چمک نے اسے چوندھیا دیا تھا۔ اس نے ایسے لوگوں کی سیکڑوں مثالیں دی تھیں، جنھوں نے بڑے بڑے مکان اور بنگلے بنائے تھے،لیکن آج وہ خالی پڑے تھے۔ ’’سنبھال سکو گے کیا؟‘‘

روہنی دیدی کے کچھ عکس اس کی آنکھوں کے سامنے کوند گئے۔ بچپن میں سائیکل سکھاتی دیدی، اسکول بھیجتی دیدی، صبح سے شام تک محنت کرتی دیدی۔ کالج سے واپس آکر سب کے لیے کھانا بناتی دیدی، شادی کے وقت رخصت ہوتی دیدی اور شادی کے بعد بھی بھاگی بھاگی آتی دیدی۔ بیماری شادی، بیاہ، چھوٹی بڑی ہر تقریب میں ہاتھ بنٹاتی دیدی۔ جو وقت بچتا اس میں بھی وہ اس کا اور اس کے آفس کا کام سنبھالتی۔ رجسٹر پر سبھی کی حاضری درج کرنا،پیسوں کا حساب کتاب رکھنا۔

غلطی، بس ان سے اتنی ہو گئی کہ جس مکان میں دیدی کا حصہ تھا، وہ شادی کے بعد انھوں نے بڑے بھائی کے نام لکھ دیا تھا، کیونکہ انھیں لگتا تھا، تاؤجی کے تعاون کا اندازہ پتا جی کو بخوبی نہیں تھا۔ باپ نے اپنے بیٹے کے نام سب کچھ لکھ دیا تھا،لیکن جو تاؤجی تاعمر ان سب کی ذمے داری اٹھاتے رہے، ان کے بیٹے کے نام کچھ نہیں کیا تھا۔ انہوں نے دونوں بھائیوں میں کبھی کوئی فرق نہیں سمجھا تھا، بلکہ ان کو(تاؤجی کے بیٹے)وہ زیادہ ہی مانتی تھیں۔

’’پیسہ تو ہم نے لگایا تھا، وہ بھی لاکھوں روپیہ۔‘‘

’’واپس لے لینا اور کیا؟‘‘

’’ہم نے کیا کیا نہیں کیا تم سب کے لیے،لیکن بدلے میں تم نے ہمارے ساتھ کیا کیا۔‘‘

ہاتھ سے بازی نکل چکی تھی۔ روہنی کے حساب سے انھوں نے اپنی زندگی کا سب سے بڑاکام کیا تھا جبکہ اس کے حساب سے انھوں نے دھوکا دیا تھا۔ اس کے لاکھوں روپئے کا نقصان کیا تھا۔

بس یہی ایک وجہ تھی جس نے ان دونوں کے درمیان نفرت،غصہ اوردرد کی خاردار راہ بنا دی تھی۔ جانتی ہیں، مکان کو لے کر اس کے بہت سے خواب تھے۔ مگر وہ جانتی تھیں غیرمنقولہ جائیداد رشتوں سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی۔ گھر میں چارچار گاڑیاں،جن کی قیمت ایک کروڑ سے ساٹھ لاکھ تھی۔ فارم ہاؤس،ویرہاؤس،مارکیٹ میں لگا پیسہ، بچوں کے نام فکسڈ ڈپازٹ،کلو دو کلوسونا،ہیرے جواہرات۔

’’تم تو ان سب کے پیچھے اس قدر بھاگ رہے ہو، ایک دن تمھیں ان ساری چیزوں سے بیراگ ہو جائے گا۔ یہ ساری چیزیں تمھیں بے معنی لگنے لگیں گی۔‘‘وہ سمجھاتی تھیں۔

تب بھی وہ حقارت سے کہتا تھا،’’بغیر پیسے کے تو نمک روٹی تک نہیں آتی۔ یہ ادھیاتمیک خیالات، مساوات اور سپردگی کی باتیں،کارخیر اور نیکی کی باتیں اوراصول سب دھرے رہ جائیں گے۔ جب خود کا پیسہ جائے گا، تب پتہ چلے گا۔کھوکھلی باتیں ہیں۔‘‘

’’ٹھیک ہے... یہی سمجھ لو۔‘‘ان کا ایک ہی جواب ہوتا تھا۔

’’کیا سوچ رہے ہو؟‘‘آشی نے پوچھا۔

’’کچھ نہیں۔ ایک بار بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا؟ کون ساتھ میں رہا ہوگا؟ کس نے کیا کیا ہوگا۔ لڑکیاں بھی اپنی ضد میں رہتی ہیں،ماں کی لڑائی کو اپنی لڑائی بنا لیا۔‘‘

’’دیدی کے اپنے پرسنل ریلیشنزبہت رہے ہیں۔‘‘

’’پھر بھی۔‘‘

’’کیا لڑکیاں نہیں آئی ہوں گی۔‘‘

’’آنی تو چاہیے۔‘‘

’’گھر ہو کر آتے ہیں۔‘‘

’’بات کر لو۔‘‘

’’نہیں، مل کر آتے ہیں۔‘‘

تجوری میں سے پچاس ہزارروپئے نکالے۔ راستے سے پھل اور میوے خریدے۔ نہ جانے کیوں ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے۔جی گھبرا رہا تھا... بات کیسے کریں گے؟حال چال کون پوچھے گا؟ انھوں نے بات نہ کی تو، دروازہ نہ کھولا تو۔

’’بہت برا ہوا۔‘‘آشی نے کہا۔

’’بتانا تو تھا...‘‘رہ رہ کر ایک ہی بات زبان پر آرہی تھی۔

’’ہاں...‘‘

سڑک پر بھیڑ تھی۔ اے سی گاڑی میں بھی عجیب سی بے چینی محسوس ہو رہی تھی۔ کالونی میں دائیں بائیں مڑ کر جانا پڑرہا تھا۔ تین سال سے نہیں آیا تھا، اس لیے سب کچھ بدلابدلا سا نظرآرہا تھا۔ جو پلاٹ خالی پڑے تھے، ان پراب مکان بن چکے تھے۔ ہرمکان کے سامنے ایک دو پیڑ لگے تھے،جس سے کالونی سرسبزوشاداب نظر آرہی تھی۔ گاڑی دروازے کے باہررکی۔ پڑوسن نے کھڑکی کھول کر دیکھا۔ بغل کا مکان روہنی  کا تھا۔ گیٹ پر تالا لگا تھا۔

گملوں میں پھول کھلے تھے،مٹی گیلی تھی۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ یہیں کہیں گئی ہوں گی۔ پڑوسن باہرنکل کر آئی۔

’’آپ کون؟‘‘

’’میں ان کا چھوٹا بھائی ہوں۔‘‘

’’نمستے۔‘‘

’’دیدی کہاں گئی ہیں، کچھ آئیڈیا ہے آپ کو۔‘‘

’’آپ کو نہیں معلوم؟ وہ تو بڑی بیٹی کے پاس چلی گئی  ہیں۔‘‘

’’کب؟‘‘

’’دس دن ہو گئے۔‘‘

’’ارے...‘‘

’’آئیے،اندرآئیے۔‘‘

’’طبیعت تو ٹھیک تھی؟‘‘

’’ہاں... آپریشن ہو گیا تھا۔بڑی بیٹی آگئی تھی۔ کیمو کے وقت چھوٹی بیٹی پاس میں تھی۔ ڈاکٹر نے جانے کی اجازت دی، تبھی گئیں۔ بڑی سمجھدار اور بہادرعورت ہیں،سب کچھ اکیلی کر لیتی تھیں۔ حالانکہ بیچ بیچ میں بیٹیوں کی دوست آجاتی تھیں۔ ان لڑکیوں نے بھی بہت سیوا کی۔‘‘

ایسا لگا اندر کچھ بہہ رہا ہے،گاڑھا،چپچپا سا،تیکھا اور کھولتا ہوا احساس۔

’’کب واپس آئیں گی،کچھ بتایا؟‘‘

’’نہیں، لڑکیاں کافی پریشان تھیں۔ اب شاید وہیں رہیں۔ ہاں... میرے پاس مکان کی چابی چھوڑ گئی ہیں۔ مالی بھی آتا جاتا رہتا ہے۔‘‘

’’آپ کے پاس موبائل نمبر تو ہوگا؟ دراصل میرے موبائل سے سارے نمبرڈیلیٹ ہو گئے ہیں۔‘‘ اپنی آوازکوفطری بناتے ہوئے اس نے کہا۔

’’ہمیں تو ان کی بڑی فکررہتی تھی، لیکن ایشور نے سب کچھ ٹھیک کردیا۔ بس وہ ٹھیک رہیں،ہم یہی پرارتھنا کرتے ہیں۔‘‘ان کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

’’چلتے ہیں۔آپ سے مل کراچھا لگا۔آپ لوگ یہاں کب آئے؟‘‘

’’پچھلے سال۔‘‘

’’آپ نکیتا کو جانتے ہیں؟‘‘ پڑوسن نے اس سے پوچھا۔

’’ہاں،بہت اچھی طرح۔‘‘

’’کیسے؟‘‘

’’وہ میری بۡوا کی لڑکی ہے۔ کزن۔‘‘

’’ہاں... وہ بھی ایسا ہی کچھ بتاتی تھیں۔‘‘

’’مجھے اچھی طرح تو نہیں معلوم،لیکن انھوں نے بتایا تھا کہ یہ مکان اپنی وصیت میں انھوں نے نکیتا کے نام کر دیا ہے۔ ایک کاپی انھوں نے پوسٹ کر دی تھی اور ایک میرے پاس رکھ دی تھی کہ کہیں کچھ گڑبڑ ہوجائے تو میں انھیں پہنچادوں۔‘‘

دونوں حیران ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے۔ باہر نکلتے ہوئے اس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے۔ گاڑی کا گیٹ کھول کرسیٹ پربیٹھا ہی تھا کہ اس کی آنکھوں سے آنسوبہنے لگے۔

’’ارے... اب کیوں رورہے ہو،دیدی ٹھیک ہیں نہ۔ ان سے بات کر لینا۔‘‘

’’اب بات کرنے کوبچا ہی کیا ہے۔‘‘

اس کے آنسو نہیں رک رہے تھے۔ ایسا لگا،آج وہ دنیا کا سب سے مفلس انسان ہے اور دیدی سب سے امیر اورمتمول۔

Khursheed Alam

F 23/6C, 2nd Floor

Shatabdi Enclave, Barola

Sector 49, NOIDA 201301

Mob.+91 98208 11320

 

 

 

 

 

 

 

 

 

جمعرات، 1 دسمبر، 2022

آخری دن: مترجم محمد قطب الدین

 

مجھے سوئٹزرلینڈ جانے کا اتفاق ہوا۔

میرے والد بیمار تھے،ان کا علاج وہاں ہونا طے پایا تھا،اہل خانہ نے فیصلہ کیا کہ ان کی تیمار داری کے لیے میں ہی ان کے ساتھ جاؤں،میرے شوہر نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ممکن ہے اس لیے کہ کوئی ان سے مشورہ ہی نہیں کرتا تھا۔

میں اور میرے والد کا قیام سوئٹزرلینڈ کے ایک چھوٹے سے شہر میں ہواجو ’لوگانوجھیل‘(Lake Lugano)  کے ساحل پر واقع تھا۔وہ نہایت خوب صورت اور پرسکون شہر تھا،گویا وہ جنت کا ٹکڑا تھا۔سرسبز و شاداب جنگلات نے اسے اپنی آغوش میں لے رکھا تھا۔پہاڑاس کے اوپر سے جھانک رہا تھا اور جھیل اس کے قدموں میں تھی۔

یوروپ کا یہ میرا پہلا سفر تھا۔میرے خواب وخیال میں بھی نہیں تھا کہ یوروپ اتنا خوب صورت ہوگا۔اس کی خوب صورتی نے میری رگوں میں زندگی دوڑا دی۔میرا دل کھِل گیا اور میرے ہونٹوں پر ایک ایسی مسکراہٹ بکھر گئی جو میرے چہرے کو نگلے جارہی تھی۔میرے ارد گرد تازہ ہواتھی۔سڑکیں ’آرکڈ‘ (Orchid) اور ’گلیڈیولس‘ (Gladiolus) کے پھولوں سے سجی ہوئی تھیں۔میں خوشی سے اڑنے والی تھی۔میرے والدکی حالت اتنی خراب نہیں تھی کہ میں ہروقت ان کے پاس رہتی، اس لیے صبح سویرے ان کی ضروریات کو پوراکرکے میں شہر کی سیر کو نکل پڑتی۔میرا جی کرتاتھا کہ شہر کومیں اپنی آنکھوں میں بسالوں، اس کی ہر چیز کو رکھ لوں،اس کی سڑکوں اور دکانوں کی تمام چیزیں نگل جاؤں۔یوروپ کی دکانوں میں رکھے سامان کے کیا کہنے !(اس کا تصور)عقل سے پرے ہے۔۔۔ ایسا محسوس ہورہا تھا گویا میں کسی جادوئی دنیا میں ہوں۔۔۔مجھے یوں لگ رہا تھا گویا میں مصر کے غار ’’علی بابا‘‘کی سیر کررہی ہوں۔ میں خود کو بھول چکی تھی۔اسی عالم کیف میں، میںاپنے کانپتے ہاتھوں سے دکانوں میں رکھی چیزوں کو الٹ پلٹ کردیکھنے لگی۔پھر اچانک مجھے محسوس ہو اکہ میں تو ایک نادار لڑکی ہوں،مجھے اپنی ناداری کا اب تک کبھی اس طرح احساس نہیں ہوا تھا۔درحقیقت اس وقت میں نادار ہوں، اس لیے کہ یوروپ کی تمام دکانوں کا سامان خرید نے کے لیے میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔

اس جنت نشان شہر میں میرے کافی دن گزرگئے۔

شہر کی ہر ایک شاہراہ کو میں نے پہچان لیا۔ہردکان اور اس کی ہرچیز سے واقف ہوگئی۔۔۔بلکہ شہر کے کافی لوگوں سے جان پہچان بھی ہوگئی اور ان کی بولی بھاشا کے بہت سے الفاظ اداکرنے لگی۔جب بھی میں ان سے ملتی تو وہ خوش ہوتے اور میرانام لے کر مجھے پکارتے۔

پھرمیرا جی اُوٗب گیا۔۔۔چند ہی دنوں میں،میں نے پورے شہر کو چھان مارا۔اب بے اختیار میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھرنے لگی۔میں اکثر اپنے آس پاس اپنی پسندیدہ چیزوں کو تلاش کرتی۔ اسی کیفیت میں،میں ہمارے قیام والے ہوٹل کے قریبی کافی ہاؤس میں جاتی۔حالانکہ کافی ہاؤس میں بیٹھناایک تعجب خیز امر تھا!کیوں کہ اس سے قبل کبھی بھی میں کافی ہاؤس میں نہیں بیٹھی،مگر اب کافی ہاؤس میں بیٹھنا ایک عام سی بات ہوچکی تھی۔اب میرے لیے نہ تو یہ کوئی باعث تعجب بات تھی اور نہ ہی کوئی انوکھی چیز۔

پھر( اچانک )احساس تنہائی مجھے ستانے لگا اور میرا من کرنے لگا کہ کاش میری سہیلیاں بھی میرے ساتھ ہوتیں تاکہ وہ سب میری اس جنت کو دیکھتیں جس میں اس وقت میں رہ رہی ہوں۔لمحات یوں ہی گزرتے جارہے تھے،مجھے اب فکر ستانے لگی کہ وطن واپسی کے بعد میں اپنی سہیلیوں سے کیسے ملوں گی۔چنانچہ ان کو سنانے کے لیے یہاں کی بڑی بڑی کہانیاں محفوظ کرنے لگی۔ سہیلیوں کا خیال جھٹک کر اب مجھے کسی مرد کی سنگت کی تمنا ہونے لگی،کاش میر ے ساتھ کوئی مرد ہوتا،جس کے ساتھ میں باغوں میں گھومتی،جھیل میں تیرتی،وہ میرے ساتھ کافی ہاؤس میں بیٹھتا اور ہم ایک ساتھ شاپنگ کرتے۔ میر ی آرزوہرگز یہ نہ تھی کہ وہ مرد میرا شوہر ہوتا۔۔۔نہیں ۔۔۔ہرگز نہیں۔۔۔!بلکہ میری خواہش تھی کہ وہ کوئی ایسا مرد ہوتا جس سے میں محبت کرتی ۔۔۔!!

 کافی ہاؤس میں بیٹھ کر میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کے اس جھنڈ کو ٹکٹکی لگاکردیکھتی رہتی جو جھیل کے کنارے (بے فکری کیف و سرمستی میں)گھومتا رہتا تھا۔ہر لڑکی کسی لڑکے کی بانہوں میں بانہیں ڈالے رہتی اور میں بس مسکراتی رہ جاتی۔(کبھی کبھی) اس قافلۂ عشق کودیکھ کر اس طرح مسکراتی گویا میں اس کی جانب بڑھ رہی ہوں۔۔۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میں ہر اس نوجوان لڑکے کو دیکھنے لگی جو اپنی بانہوں میں کسی نوعمر لڑکی کو لے کرچلتا،میں بھی اپنے لیے ایسی ہی تمنا کرنے لگتی۔۔۔یا میری تمنا ہوتی کہ کاش میںوہ خوش نصیب دوشیزہ ہوتی۔اب میری یہ تمنا ایک مخصوص قسم کے غصے میں تبدیل ہونے لگی۔مجھے غصہ آنے لگا۔ ہاں۔۔۔ غصہ۔۔۔ غصہ۔۔۔ ہر محبت کرنے والی لڑکی پر ۔۔۔ہر اس دوشیزہ پر جو کسی نوعمر لڑکے کے ساتھ گھومتی۔۔۔ میرے جی میں آتا کہ میں دوشیزہ پر حملہ کردوں اور اس کے بالوں سے ہی اسے پکڑکر باندھ دوںاور نوجوان لڑکے کو اس سے چھین لوں۔اب میں اکثر جھیل کے کنار ے گھوم رہے بے فکر نوجوان جوڑوں کے منظر کے خوب صورت مطلب کو بگاڑنے لگی اور خود سے کہنے لگی’’شاید لڑکا،لڑکی کو فریب دے رہا ہے ۔۔۔شاید لڑکی سے جھوٹ بول رہا ہے۔۔۔اسے تو صرف اس کا جسم چاہیے ۔۔۔‘‘مجھے احساس تھا کہ میں حسد کی آگ میں جل رہی تھی ۔۔۔میں سمجھتی تھی کہ اپنے سامنے کی خوب صورتی کے (خوب صورت)مفہوم کومیں بگاڑرہی ہوں۔

مجھے پتہ تھا کہ مجھے کیا چاہیے۔۔۔

میں اپنی من پسند چیز کے لیے (ہی تو)لڑرہی تھی۔۔۔

میں دانستہ نہیں لڑرہی تھی ۔۔۔بلکہ (بے اختیار اور) غیرارادی طور پر کسی (غیبی)طاقت کے زیر اثر لڑنے پر مجبور تھی۔وہ (غیبی)طاقت تھی اس طویل عمر کی جسے میں پہلے تو پیار سے خالی ایک دوشیزہ اور پھر شوہر کی محبت سے محروم ایک بیوی کی حیثیت سے گزاررہی تھی۔

جس ہوٹل میں ہمارا قیام تھا اس کے بغل والے کمرے میں ایک اطالوی شخص بھی قیام پذیر تھا،وہ ادھیڑ تھا،شاید چالیس کے لپیٹے میں ہوگا،اس کے سرکے بال کہیں کہیں سے سفید تھے۔۔۔مگر ہٹا کٹا،خوب صورت اور خوش وضع۔۔۔ (تھا)،مجھے دیکھ کر دورسے ہی مسکراتا ۔۔۔

میں اس کی مسکراہٹ کو نظر انداز کرتی اور دل ہی دل میں کہتی’’یہ صحیح نہیں ہے کہ میں دورسے آنے والی مسکراہٹ کا جواب دوں۔‘‘

مگر وہ شخص اپنی اس حرکت سے بازنہ آیابلکہ جب بھی ہمارا آمنا سامنا ہوتا،یاہم ڈائننگ ہال میں جمع ہوتے وہ میری جانب دیکھ کر مسکرانے لگتا۔اس کی آنکھوں میں (بلا کا)استقلال اور ثبات تھا،جیسے وہ اپنی من پسند چیز سے (اچھی طرح )باخبر ہے۔

)تاہم)اس کی مسکراہٹ سے تہذیب اور لطافت عیاں تھی۔(کبھی کبھی)اس میں شرمیلا پن بھی جھلکتا۔گویا وہ اس طرح مجھے (اپنی شرافت کا) یقین دلارہا تھا۔

مگر میں اس کی آنکھوں اور مسکراہٹ کو (مسلسل) نظر انداز کرتی رہی۔۔۔۔

ایک دن ہماری ملاقات لفٹ میں ہوگئی۔۔۔ اس (وقت لفٹ ) میںبس ہم دوہی تھے۔اس نے ادب سے میرے سامنے سرجھکا لیااور ایسی سریلی آواز میں بولا گویا گٹار کی آواز ہو

’’صبح بخیر‘‘

میں نے (بھی)احتراماً سر خم کردیا اور خاموش رہی۔۔۔ میں دور ایک کنارے میں کھڑی رہنا چاہتی تھی۔۔۔

اس شخص نے فرانسیسی زبان میں اپنی بات جاری رکھتے ہوئے پوچھا

’’میڈم!کیا آپ اسپین سے ہیں۔۔۔؟‘‘

اس کی طرف سے اپنی آنکھیں پھیرتے ہوئے میں نے تیز لہجے میں جواب دیا

’’نہیں۔۔۔!‘‘

اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا

’’توکیا فرانس سے۔۔۔؟‘‘

میں نے جواب دیا

’’نہیں۔۔۔!‘‘

وہ تھوڑی دیر خاموش رہا تاکہ مجھے بولنے کا موقع دے۔۔۔یا میں اسے بتاؤں کہ میں کہاں کی باشند ہ ہوں۔۔۔ مگر میں خاموش رہی اور اس سے اپنی آنکھیں پھیرلی۔

اس نے پھر پوچھا

’’اب (آپ کے)والد محترم کی طبیعت کیسی ہے؟‘‘

اس طرف دیکھے بغیر زورزور سے زمین پر پیر پٹختے ہوئے میں نے جواب دیا

’’الحمد اللہ!‘‘

لفٹ رک گئی۔ میں (تیزی سے) باہر نکل آئی۔ میرے پیچھے وہ شخص بھی باہر نکل آیا اور میرے سامنے آکھڑا ہوا۔ پھر کپکپاتے ہونٹوں پر مسکان بکھیرتے ہوئے کہنے لگا:

’’سچ تو یہ ہے کہ میں جانتا ہوں کہ آپ مصری خاتون ہیں،میں نے ہوٹل مینیجرسے دریافت کرلیا تھا ۔۔۔ میں آپ سے تصدیق کرنا چاہتا تھا اور کچھ بات بھی کرنا چاہتا تھا۔ آپ کا کیا خیال ہے، شہر کے باہر منعقد ہونے والے گھوڑ دوڑ کے مقابلے کو دیکھنے کے لیے میرے پاس دو ٹکٹ ہیں۔ (یہ )میری خوش نصیبی ہوگی اگرآپ میری دعوت قبول کریں۔‘‘

میں نے اس کی طرف منفی نظروں سے دیکھا اور جھٹ سے بولا

’’معاف کیجیے۔۔۔شکریہ!‘‘

میں جلدی سے بھاگ کر اپنے کمرے میں چلی گئی اور دروازے میں اندرسے تالا بھی لگالیا،اس خوف سے نہیں کہ وہ اندر آجائے گا بلکہ اس ڈرسے کہ کہیںمیں (ہی)نکل کر اس کے پاس نہ چلی جاؤں۔۔۔

میں نے لمبے چوڑے بیڈ پر خود کو ڈال لیا اور آزادی کی سانس لینے لگی۔

میں احمق ہوں۔۔۔

میں نے اس کی دعوت کیوں ٹھکرائی ؟

مجھے اس کی ضرورت ہے۔۔۔وہ ایک شائستہ انسان لگتاہے،بلکہ وہ اگر شائستہ نہ بھی ہو،تب بھی مجھے اس کی ضرورت ہے۔

لیکن اس کے بعد بھی (میں) مسلسل اس کو نظر انداز کرتی رہی اور اس کے سلام کے جواب میںبے التفاتی برتتی رہی۔۔۔

ایک دن جب میں ہوٹل واپس آئی تو اس شخص کو میں نے اپنے والد کے پاس بیٹھا ہوا دیکھا۔۔۔میں نے چاہا کہ اس کو نظر انداز کرتے ہوئے سیدھی اپنے کمرے میں چلی جاؤں۔۔۔مگر میرے والد(صاحب) نے مجھے بلالیا اور اس سے ملاقات کرادی۔۔۔ وہ شخص مجھ سے (گرمجوشی سے)ہاتھ ملاتے ہوئے بولا

’’محترمہ!اگر آپ کو یاد ہوتو اس سے پہلے بھی ہم لوگ لفٹ میں مل چکے ہیں۔‘‘

میں نے (بدستور)بے رخی سے کہا

محترمہ نہیں ۔۔۔بیگم۔۔۔‘‘

اس شخص نے جواب دیا

’’معاف کیجیے گا،مجھے پتہ نہیں تھا کہ آپ شادی شدہ ہیں! ‘‘

)پھر)میں اور وہ والد (صاحب)کے پاس بیٹھ گئے۔ تھوڑی ہی دیر میں مجھے محسوس ہوا کہ اس کی باتیں مجھے اسیر کیے جارہی ہیں۔۔۔وہ کبھی اپنے دیس کی باتیں کرتا اور کبھی میرے وطن کی ۔۔۔کبھی فیشن کے بارے میں تو کبھی میوزک اور آرٹ کے متعلق باتیں کرتا۔۔۔اس کی باتیں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔۔۔(وہ )دل چسپ بھی (اتنی ہی ) تھیں۔۔۔

(اب)وہ شخص ہمارا دوست بن گیا۔۔۔ہمیشہ ہمارے ساتھ بیٹھتا ۔۔۔ڈائننگ ہال میں اپنے ٹیبل سے اٹھ کر ہمارے پاس آکر بیٹھ جاتا۔۔۔

میری زندگی میں اب ایک نئی چیزرونما ہوچکی تھی۔

وہ شخص میرے وقت اور سوچ دونوں کو متاثر کرنے لگا۔

وہ صبح سویرے اپنے کام سے باہر چلاجاتا اور میں کافی ہاؤس میں جابیٹھتی،نیز اس کی واپسی سے پہلے لوٹ کر اس کا انتظار کرتی رہتی۔

میرے ہونٹوں پر (پرانی)مسکراہٹ لوٹ آئی۔۔۔

جھیل کے کنارے لڑکوں کے ساتھ لڑکیوں کو دیکھ کر اب میں غصہ نہ ہوتی۔۔۔’’روبرٹ‘‘مجھے اپنے ساتھ جھیل کے کنارے سیر کے لیے بلا لیتا ۔۔۔

مگر میں(ہمیشہ کی طرح)انکار کردیتی۔۔۔

میں کیوں انکار کردیتی تھی۔۔۔؟

مجھے نہیں معلوم۔۔۔

میں دیررات تک اس کے متعلق سوچتی رہی ۔۔۔ایسا لگ رہا تھا کہ وہ پارک میں میری بانہوں میں بانہیں ڈال کر گھوم رہا ہے،مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ وہ میرے ساتھ ہے اور ہم دونوں روپ وے(Ropeway)کے ذریعے پہاڑ پر چڑھ رہے ہیں۔مجھے خیال آتا کہ ہم دونوں ایک ساتھ جھیل میں تیراکی کررہے ہیں۔۔۔اور اس سے بھی بڑھ کر مجھے یوں لگتا تھا کہ وہ مجھے بوسہ دے رہا ہے اور اپنے سینے سے لگا رہا ہے۔

ان سب (باتوں)کے باوجود میں اس کی پیش کش کو ٹھکرادیتی ہوں۔۔۔

میں تو یہاں آزاد ہوں ۔۔۔بالکل آزاد اور تنہا بھی ۔۔۔ یہاں کوئی ایسی سوسائٹی نہیں ہے جو میرا محاسبہ کرے یا مجھے دیکھے اور میری پروا کرے۔۔۔یہاں تو دوستوں اور سہیلیوں کا بھی کوئی ڈرنہیں ہے۔۔۔میرے شوہر اور بچے سب مجھ سے دور ہیں۔اڈونچر (Adventure)کی ساری سہولتیں یہاں موجود ہیں۔۔۔اور روبرٹ (بھی)کسی اڈونچر سے کم نہیں ۔۔۔ وہ سراپا پیار ہے ۔۔۔ہاں۔۔۔! وہ پیار ہے ۔۔۔

اس کے باوجود میں اس کی پیش کش کو ٹھکراتی رہی۔۔۔

ایک مرتبہ جب میں نے اس کی پیش کش کو ٹھکرایا تو اس نے مجھ سے کہا

’’میں چاہتا تھا کہ میں تمھارے شوہر سے ملوں اور تمھاری وجہ سے اسے مبارک باد دوں،کیوں کہ میں نہیں جانتا کہ دنیا میں کوئی ایسی بیوی ہے جو اپنے شوہر کو اس حد تک پیارکرتی ہو۔۔۔‘‘

میں اس کا مذاق اڑاتے ہوئے مسکرائی۔۔۔

اسے معلوم نہیں کہ میں نے اس شوہر کو کیسے اختیار کیا؟

جب میں بارہ برس کی تھی اس وقت میرے گھروالوں نے زبردستی میری شادی کرادی۔۔۔میں اس عمر میں شادی کرنا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔میں تو اپنی پینٹنگ کی پڑھائی جاری رکھنا چاہتی تھی ۔۔۔اور یوروپ جاکر اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہتی تھی ۔۔۔مگر گھر والوں نے شادی پر اصرار کیا۔۔۔اوروہ میرے اس اکلوتے خواب کو چکنا چور کرنے پر اتارو ہوگئے جس کو میں جیتی تھی۔۔۔میری ایک نہ چلی ۔۔۔میں نے خود کشی کی بھی دھمکی دی۔۔۔مگر ان لوگوں نے اس کی بھی پروا نہیں کی۔۔۔

مجھے شادی کے لیے مجبور کیاگیا۔۔۔

میرے دروازے پر تین تین منگیتروں کی لائن لگی تھی ۔۔۔ایک نوجوان لڑکا جو ڈاکٹر تھا اور خوب رو اور کافی مال دار تھا ۔۔۔دوسرا انجینئرتھااورجوانی،خوب صورتی اور مال ودولت میں پہلے والے سے کم نہ تھا۔۔۔اور تیسرا شخص وزارت زراعت میں ملازم تھا،جو خوب رو نہیں تھا۔۔۔بلکہ اس کی آنکھوں پر ایک موٹے فریم والا چشمہ لگاتھا اور ان دونوں سے خوب صورتی اور مال داری میں بھی کم تھا۔

پھر بھی میں نے اسی تیسرے شخص کو چنا۔۔۔

میں نے ایسا کیوں کیا؟

میں نے اپنے گھر والوں کو اشتعال دلانے کے لیے ایسا کیا۔۔۔

مجھے لگا کہ ایسا کرکے میں ان سے بدلہ لے رہی ہوں اور انھیں سزا دے رہی ہوں۔۔۔

گھر والوں نے بڑی کوشش کی کہ میں اپنی رائے بدل دوں اور ڈاکٹر یا انجینئر سے شادی کروں۔۔۔میں اپنے فیصلے پر اٹل رہی ۔۔۔اور میں نے سختی سے کہاکہ اگر آپ لوگ میری شادی کروانا چاہتے ہیں تو میں اسی شخص سے کروں گی۔۔۔

آخر کار میرے گھر والوں نے اسی شخص سے میری شادی کرادی۔۔۔

میں گھر والوں کی پریشانی پر ایسے مسکرارہی تھی جیسے کہ میں نے ان سے انتقام لیا ہو۔۔۔

میری شادی کے پانچ برس بیت گئے ۔۔۔مگر روزاول سے ہی مسلسل میں تکلیف میں رہی اور خاموشی کے ساتھ پریشانی سہتی رہی۔۔۔

میرا سینہ جذبۂ انتقام سے بھر چکا تھا۔۔۔

میرا بیٹا اور بیٹی جن سے اللہ تعالیٰ نے مجھے نوازا تھا،ان کے پیدا ہونے سے بھی میری تکلیف کم نہ ہوئی بلکہ وہ دونوں تو محض اس اذیت کی قیمت تھے ۔۔۔

ان سب کے باوجو د ’روبرٹ‘یہ سمجھتا تھا کہ میں اپنے شوہر کی وجہ سے اس سے محبت کرنے میں ہچکچاہٹ سے کام لے رہی ہوں۔

نہیں روبرٹ ۔۔۔میں اپنے شوہر سے بالکل محبت نہیں کرتی ۔۔۔میں تو صرف تم سے محبت کرتی ہوں۔۔۔صرف تمھیں ہی چاہتی ہوں۔۔۔

یہ مت پوچھ کہ میں تم سے بے رُخی کیوں اختیار کررہی ہوں ۔۔۔مجھے خود بھی معلوم نہیں۔۔۔شاید اس لیے کہ میں تمھیں چاہتی ہوں۔۔۔مگر ڈرلگتا ہے کہ کہیں یہ پیار کامیاب نہ ہوجائے اور عنقریب جدائی کے بعد وہ پیارمیرے لیے کہیں پریشانی کا باعث نہ بن جائے۔۔۔ شاید میں پیار کے سلسلے میں ڈرپوک ہوں۔۔۔ہاں میں بزدل ہوں۔۔۔بزدل۔۔۔ بزدل ۔۔۔

میں تکلیف جھیل رہی ہوں۔۔۔

اپنی مزاحمت کی وجہ سے میں تکلیف میں مبتلا ہوں۔۔۔اپنے لیے مزاحمت ۔۔۔روبرٹ کے لیے مزاحمت ۔۔۔مزاحمت اس خوب صورتی کے لیے جو میرے گردو پیش میں ہے۔۔۔مزاحمت ہر اس چیز کے لیے جو پیار کے تبادلے پر مجھے آمادہ کررہی ہے۔۔۔

اب آخری دن آپہنچا ۔۔۔

کل ہم اپنے وطن مصر لوٹ جائیں گے۔۔۔

کافی ہاؤس میں بیٹھ کر میں وطن واپسی کے بارے میں سوچنے لگی۔۔۔

اپنے بچوں،شوہراور اہل خانہ کے بارے میں نہیں سوچ رہی تھی بلکہ اس ناکامی کے بارے میں سوچنے لگی جسے لے کر میں واپس لوٹ رہی تھی ۔۔۔میں خالی ہاتھ واپس جاؤں گی۔۔۔خوب صورتی کا آخری مزہ چکھے بغیر میں واپس لوٹ جاؤں گی ۔۔۔جیسے آئی تھی ویسے ہی عقل مند لوٹ جاؤں گی ۔۔۔

ایک شدید بغاوت مجھے کاٹ کھانے لگی ہے۔۔۔میں اپنی آزادی کا فائدہ اٹھانا چاہتی تھی۔۔۔اپنی تنہائی کا فائدہ اٹھانا چاہتی تھی۔۔۔میں خود سے لطف اندوز ہونا چاہتی تھی۔۔۔میں کسی بھی حالت میں اڈونچر چاہتی تھی۔۔۔بس مجھے ضرورت تھی جرأت و ہمت کی۔۔۔ہمت۔۔۔ہاں ہمت کی۔۔۔

کافی ہاؤس میں میرے بغل کی ٹیبل پر بیٹھا ایک دوسرا شخص میری طرف دیکھ رہا تھا اور مسکرارہا تھا ۔۔۔وہ کافی دیر تک مجھے دیکھ کر مسکراتا رہا۔

اچانک۔۔۔

غیر ارادی طور پر۔۔۔

میں اس کی طرف متوجہ ہوئی اور اس کے لیے ایک بے معنی لمبی سی بناؤٹی مسکراہٹ کا اظہار کیا۔۔۔

وہ منھ میں سگریٹ دبائے میری جانب بڑھا۔۔۔

اس نے اپنی جیب سے چاندی کے کچھ سکے نکالے اور میری کافی کی قیمت اداکرنے کے لیے انھیں ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔۔پھر اس نے بانہوں میں مجھے بھینچ لیا،سگریٹ اب بھی اس کے منھ میں تھی،اور بولا

’’میرے ساتھ چلو۔۔۔‘‘

میں نے اس کی طرف پس وپیش اور خوف کے عالم میں دیکھتے ہوئے پوچھا

’’کہاں؟‘‘

اس نے جواب دیا

’’جلد ہی تمھیں معلوم ہوجائے گا۔‘‘

وہ اپنی بانہوں کو میری بانہوں میں ڈال کر میری طرف دیکھے بغیر مجھے لے کر چل پڑا۔۔۔پھر مجھے اپنی کار میں بٹھایا۔۔۔میری سانسیں اٹک رہی تھیں۔۔۔میرا سینہ پھٹا جارہا تھا۔۔۔میری آنکھیں چکا چوندھ تھیں۔۔۔مجھے کچھ بھی پتہ نہیں چل رہا تھا ۔۔۔بس اتنا معلوم ہورہا تھا کہ میں کسی اڈونچرمیں ہوں مگر یہ معلوم نہیں کہ وہ اڈونچر ہے کیا۔۔۔؟

میں نے مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے اس سے کہا

’’میں جھیل کے کنارے پیدل چلنا چاہتی ہوں۔۔۔‘‘

اس نے جواب دیا

’’بعد میں ۔۔۔‘‘

میں نے پوچھا

’’کیا ہم پارک جائیں گے؟‘‘

وہ بولا

’’ابھی نہیں۔۔۔‘‘

سگریٹ اب بھی اس کے منھ میں تھی۔۔۔

شہرکے اطراف میں لکڑی سے بنے ایک چھوٹے سے گھر کے سامنے اس نے کارروک دی اور باہرنکل کر آرڈر کے لہجے میں بولا

’’)باہر )آؤ۔۔۔!‘‘

مجھے کچھ تردد ہوا اور کار سے باہر نہیں نکلی۔۔۔کار کے ارد گرد گھومتے ہوئے اس نے میرے لیے کار کا دروازہ کھولا اور میری کلائی پکڑکر باہر کھینچ لیا۔۔۔وہ خوف ناک طریقے سے مسکرارہا تھا اور اس کی مسکراہٹ کے بیچوں بیچ سگریٹ جھانک رہی تھی۔۔۔

وہ مجھے اس چھوٹے سے لکڑی کے گھر میں لے گیا ۔۔۔میں کھڑی اُ سے دیکھتی رہی اور وہ دوگلاسوں میں شراب انڈیل رہا تھا ۔۔۔گویا میں ایک بچی ہوں اور کسی مداری کو دیکھ رہی ہوں جو اپنا کرتب دکھانے کی تیاری کررہا ہو۔۔۔

میں نے اس کے ہاتھ سے ایک گلاس لے لیا اور شراب پینے لگی۔۔۔

مجھے اس جام کی ضرورت تھی۔۔۔

مجھے دوسرے پیگ کی بھی ضرورت تھی۔۔۔

وہ میرے قریب آیا اور کافی زور سے اپنے سینے سے مجھے لگایا اور بوسہ بھی دیا۔۔۔اس کا بوسہ بہت شدید تھا اور اس میں عجیب سی خوش بو تھی،میری عقل ہوش میں رہنے کی کوشش کررہی تھی تاکہ اس شخص کی سرگرمیوں پر نظر رکھوں اور اس مداری کے کرتب کو دیکھوں۔شاید کہ اس کا راز فاش ہوجائے ۔۔۔مگر مجھے چکر آنے لگا۔۔۔

میرے ارد گرد کی تمام چیزیں(جیسے) گھومنے لگیں ۔۔۔

شراب کا نشہ مجھ پر چڑھ چکا تھا ۔۔۔

وہ شخص میرے تن سے کپڑے اتارنے لگا ۔۔۔شایدمیںہوش میں آچکی تھی۔

نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔۔ہاں۔۔۔میں ہوش میں تھی۔۔۔نہیں ۔۔۔نہیں۔۔۔

زور زورسے قہقہے لگاتے ہوئے وہ شخص میرے تن سے کپڑے اتارنے لگا۔

مجھ میں اسے روکنے کی قوت نہیں تھی۔۔۔

میں (اسے)نہیں روک سکی۔۔۔

ہر چیز گھوم رہی تھی۔۔۔

میں رونا چاہتی تھی۔۔۔

پھر اس نے مجھے چھوڑدیا۔۔۔

میں لڑکھڑاتے ہوئے اٹھی اور اپنے کپڑے ڈھونڈنے لگی ۔۔۔مجھے(اپنی حالت سے) گھن آنے لگی۔۔۔بے بسی میرے پورے وجود میں سرایت کرچکی تھی۔۔۔

میں رونا چاہتی تھی۔۔۔

وہ میرے پاس آیا اور اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا، ہونٹوں میں سگریٹ دبائے ہوئے بولا

’’کتنا چاہیے؟‘‘

میں نے گھبراکر اس کی طرف دیکھا۔۔۔

وہ دوبارہ چیخ کر بولا

’’کتنا چاہیے؟‘‘

پھر قہقہہ لگاکر مجھے دیکھنے لگا،میں خاموش تھی اور میری آنکھوں میں گھبراہٹ تھی۔وہ میرے ارد گرد گھوما اور میرے پرس میںکچھ رقم رکھ دی۔۔۔

میں چیخ پڑی۔۔۔

میں پاگلوں کی طرح چیخ پڑی۔۔۔

گھر سے نکل کر تیز دوڑی اور بھاگتی رہی۔۔۔معلوم نہیں کتنا دوڑی۔۔۔پھر میں نے خود کو ایک ٹیکسی میں پایا۔۔۔ میں رورہی تھی ۔۔۔

میں ہوٹل واپس آئی ۔۔۔ابھی سیڑھیاں چڑھنے ہی والی تھی کہ روبرٹ مل گیا ۔۔۔اس نے میری طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا

’’تم کہاں تھی؟‘‘

تھوڑی دیر تک میں کھڑی اسے دیکھتی رہی ۔۔۔پھر اچانک چیخ پڑی

’’تم ۔۔۔تم ۔۔۔تم مجھ سے دور ہوجاؤ۔۔۔تم مجھ سے دور ہوجاؤ ۔۔۔‘‘

پھر میں بھاگ کر اپنے کمرے میں گئی،وہ کافی حیرانی سے میری حرکتیں دیکھتا رہا۔۔۔ہوٹل میں مقیم دوسرے لوگ بھی مجھے دیکھ رہے تھے۔۔۔ہوٹل کا ملازم بھی مجھے دیکھ رہا تھا ۔۔۔میں نے اپنے روم کے دروازے میں اندرسے تالا لگالیا ۔۔۔

میں نے کمرہ اس وقت کھولا جب میرے والد (صاحب)فلائٹ کے وقت کے قریب آنے کی اطلاع دینے آئے۔۔۔

میں اپنے یوروپ کے سفر کے بارے میں اپنی سہیلیوںسے زیادہ ذکر نہیں کرتی ہوں۔۔۔اور نہ ہی اس کے بارے میں اپنے شوہر اور بچوں کو کچھ بتاتی ہوں۔۔۔

میں اسے بھلانے کی کوشش کررہی ہوں۔۔۔

میں یوروپ کے سفر کو بالکل بھول جانا چاہتی ہوں۔۔۔