پیر، 30 نومبر، 2015

اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو / قرۃ العین حیدر

لگا کے کاجل چلے گوسائیںؐ ___ بھورے قوال کی فلک شگاف تان سے چراغ کی لو بھی تھرا گئی۔ ارے لگا کے کاجل چلے گوسئیاںؐ___ بھورے خاں کے دس سالہ صاحبزادے شدّو اپنی باریک آواز میں نغمہ سرا ہوئے۔ اہے لگا کے کاجل چلے گوسئیاں ___ چاروں فاقہ زدہ ساتھی تالیاں بجا بجار کر دہرانے لگے۔ بھورے خاں ہارمونیم پر سرنیہوڑائے تیز تیز انگلیاں چلایا کیے۔ پھر سر اٹھا کر اوپر روشن آسمان کو دیکھاجس پر بارہویں شب کا چاند جگمگا رہا تھا۔ آسمان صحرائے شام کا وہ سیاہ پوش راہب ہے جواپنی خانقاہ کی محراب میں قندیل جلائے رکھتا ہے لیکن مسافروں کو راستہ نہیں ملتا۔
چلے گوسائیںؐ ___ چلے___ شب معراج کا بیان اور بھورے خاں کا لاثانی فن۔ ہنڈے شاہ کا بارونق عرس، سامعین تھے کہ مبہوت بیٹھے تھے۔ ایک آدمی قوال پارٹی کے سامنے دھری تیل کی ڈبیا کی لَو اکسانے میں منہمک ہوگیا کیوں کہ درگاہ میں آویزاں گیس کا ہنڈہ مدھم پڑ چکا تھا۔ اسی زنگ آلود پیٹرومیکس کی وجہ سے وہ بزرگ ہنڈے شاہ کہلاتے تھے۔ وہ اپنے معتقدین کے مانند ایک مسکین ، غیر معروف بزرگ تھے۔ جانے تھے بھی کہ نہیں۔ یہ سب جو ہورہا ہے یا نہیں۔ یا اُس کی اصل اور بنیادکیا ہے۔ ہنڈے شاہ غیر موجود ہیں تو موجود کیاہے اور جوکچھ ہے بس یہی ہے تو غیر موجود کیا ہے اور جو ہے اس کا جواز بھی کوئی بتلائے۔ مزید برآں فن کاروں، ادیبوں شاعروں کی طرح اولیاء بھی اس لحاظ سے بعضے خوش نصیب ہوتے ہیں کہ ان کو دنیا جانتی ہے ۔ بعضوں کو چند اللہ کے بندے ہی چراغ جلانے کے لیے میسر آتے ہیں۔ بعضوں کو وہ بھی نہیں۔
پیر ہنڈے شاہ کے غریبا مئو عرس میں آنے والے تیلی، جولا ہے، کنجڑے ، قصائی ، بھڑ بھونجے، کاشت کار، کھیت مزدور، جھونپڑوں میں زندگیاں گذار کر کچّی قبروںمیں دفن ہوئے۔ خدا کے مقبول بندے وہی ہیں جیسے وہ بوڑھی شریفن___ بیوہ ، لاوارث، مفلس ، ان پڑھ ، جو درگاہ کے پیچھے چبوترے پر نماز عشاء پڑ ھ رہی ہے۔ بسم اللہ الرحمن رحیم۔ لا الٰہ الااللہ محمد رسول اللہ۔ اللہ اکبر___ اللہ اکبر___ قیام ۔ رکوع ، قومہ، سجدہ ، قعدہ ، رکوع ، قومہ ، سجدہ ، قعدہ، اس عورت نے جسے نماز پڑھنا نہیں آتی، ساری عمر جب بھی کمر توڑ محنت مزدوری سے مہلت پائی اپنے رب کو اسی طرح یاد کیا اس کی اکلوتی، جوان معصوم مظلوم لڑکی کو اس کے سسرال والوں نے گنڈا سے سے مار کر ہلاک کردیا تھا اور پولس کو کھلا پلا کر مزے سے دندنا تے ہیں۔ شریفن گھر گھر جاکر چکی پیستی ہے اور چار آنے روز کماتی ہے ۔ سب سے پہلے جنت میں وہی جائے گی۔
اور یہ گم نام بے بضاعت دیہاتی قوال اور یہ ان کے سامعین ۔ غیر اہم حقیر، عسرت زدہ، صابر و شاکر، اور عرس کے میلے کے یہ دوکان دار___ چگّی داڑھیوں ولے تہمد پوش، میلے دو پٹوں ، چاندی کی بالیوں اورپیوند لگے گھٹنوں والی جوان اور بوڑھی عورتیں جو اپنے سامنے ٹاٹ بچھائے بیٹھی ہیں اور ان پر تھوڑی سی کھجوریں، مونگ پھلی کی ذرا ذرا سی ڈھیریاں، ریوڑی، بتاشے ، اندر سے ، گڑ کی بھیلیاں دھری ہیں اور ایک ایک ٹین کی ڈبیا ٹمٹما رہی ہے ۔ یقین جانو اور ایمان لے آؤ کہ اہلِ بہشت یہی لوگ ہیں۔
ایک سفید ریش بڑے میاں’’ ہر مال ملے گا چار آنے ‘‘ کی صدا لگا رہے ہیں۔ ان کی دوکان فیتوں میں ٹنکے بُندے، کلپ ، ہاروں اور نقلی گھڑیوں پر مشتمل ہے۔ میلے والیاں ہیں کہ اس ڈپارٹمنٹ اسٹور پر ٹوٹی پڑ رہی ہیں۔
’’ یہ کلپ کیا بھاؤ دیا___ ‘‘ ایک نو عمر لڑکی جارجٹ کا بوسیدہ سبز دوپٹہ سر سے لپیٹ کر اکڑوں بیٹھ جاتی ہے۔
’’ ہر مال ملے گا چار آنے ___ بٹیا ۔‘‘
لڑکی دوپٹے کے کونے کی گرہ کھول کر چونّی نکالتی ہے ۔ پھر ایک ہار کو للچائی نظروں سے دیکھتی ہے۔ اَنٹی میں فقط چار آنے باقی ہیں۔ ابھی جمیلن کے لیے بھی کچھ خریدنا ہے۔
’’ اچھا ایک کلپ اور دے دو___ وہ لال والا ۔ ہماری چھوٹی بہن کے لیے ___ ‘‘ لڑکی نے زرد ’’ کیلے‘‘ کی قمیض اور نیلے ساٹن کی شلوار پہن رکھی تھی۔ کلائیوں میں ہری ’’ ریشمیں‘‘ چوڑیاں۔
’’ رشکِ قمر ___ او ر شکِ قمر ___ ‘‘ بھیڑ میں سے آواز آتی ہے۔
’’ جانو تمہری مہتاری گہراوت ہیں ۔‘‘ ایک عورت ٹہو کا دے کر اس سے کہتی ہے۔ وہ درگاہ کی طرف بھاگتی ہے جہاں بھورے خاں کا پروگرام ختم ہوچکا ہے۔ اب ’’ امرتی جلیبی‘‘اور ’کانڑے بھانڈ‘‘ کا نمبرہے۔
لڑکی دوڑتی ہوئی چبوترے کی سمت آئی ہے۔ جہاں ایک یک چشم مسخرہ پھندنے کی ترکی ٹوپی اور سرخ واسکٹ اور سلی پنگ سوٹ کا نیلا دھاری دار پائجامہ پہنے ایک مختصر سا ہارمونیم سنبھال چکا ہے۔ ایک مدقوق عورت دھٹّرشال (دھت ٹر)میں لپٹی ڈھولک اپنے آگے سرکاتی ہے۔ ایک کمسن بچی قریب بیٹھی مجمع کو غور سے دیکھ رہی ہے۔ مدقوق عورت اسے ایک تھیٹر رسید کرتی ہے۔ ’’ اری بد ذات ادھر کیا بیٹھی ہے تھُوا کی تھُوا۔ سامنے آکر بیٹھ۔‘‘
’’ خالہ ہمیں اٹھاؤ تو ‘‘ ___ بچّی نرمی سے کہتی ہے۔
’’ سات فاقوں پر بھی وزن ہے کہ بڑھتا چلا جارہا ہے ۔ مرنے جوگی کا ___ ‘‘ مدقوق عورت بڑ بڑاتی ہے۔ اتنی دیر میں نیلی شلوار، ہرے دوپٹے والی لڑکی چپوترے پر پہنچ جاتی ہے۔
’’بجیا___ ‘‘ بچی اس کی طرف باہیں پھیلاتی ہے۔ بڑی لڑکی اسے گود میں اٹھا کر ہارمونیم کے سامنے بٹھال دیتی ہے۔ بچی اپنی خشک ٹہنی ایسی ٹانگ کو احتیاط سے اپنے منّے سے غرارے میں چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔ اب یک چشم مسخرہ سر ترچھا کر کے ہارمونیم پر تیز تیز انگلیاں چلاتا ہے۔ بڑی لڑکی کان پر ہاتھ رکھ کر تان لگاتی ہے۔
’’ چلو___ چلو امرتی جلیبی گاوت ہیں۔‘‘ مجمع میں بھنبھناہٹ۔
بڑی لڑکی نے گانا شروع کر دیا ہے ۔ ’’ سفر ہے دشوار___ سفر ہے دشوار خواب کب تک ___ بہت بڑی منزل عدم ہے۔‘‘
لنگڑی بچی مصرع ثانی اٹھاتی ہے___ ’’ نسیم جاگو ___ نسیم جاگو___ کمر کو باندھو اٹھاؤ بستر کو رات کم ہے___ ‘‘ سامعین سر ہلا ہلا کر جھوم رہے ہیں۔
’’ جوانی و حسن، جاہ و دولت، یہ چند انفاس کے ہیں جھگڑے ___ ‘‘ اپاہج بچی بڑی محنت سے بڑی بہن کا ساتھ دیتی ہے___
’’ اجل ہے ایستادہ دست بستہ، نوید رخصت ہر ایک دم ہے___ بسان دستِ سوال سائل تہی ہوں ہر ایک مدعا سے___ ‘‘ بڑی لڑکی شین قاف سے درست، نہایت سلیقے سے گارہی ہے۔
’’___ نیاز ہے بے نیازیوں سے ، بغل میں دل صورتِ صنم ہے۔‘‘
’’ حق اللہ ___ ‘‘ ایک کالا بھجنگ ملنگ نعرہ لگاکر فرش پر لوٹنے لگتا ہے ۔‘‘ اللہ ہو اللہ___ اللہ ہو ___ اللہ ___ ‘‘
’’ مآل کارِ جہانِ فانی کبھی نہیں ایک قاعدے پہ___ جو چار دن ہے وفورِ راحت تو بعد اس کے غم و الم ہے___ ‘‘
گاؤں کے چودھری حامد علی کے چچا زاد بھائی جو مقدمے بازی میں لٹ پٹ چکے ہیں زور زور سے فرش پر ہاتھ مارتے اور روتے ہیں اور چلّا چلاّ کر دہرا رہے ہیں۔ ’’ جو چار دن ہے___ جو چار دن ہے___ واہ رے اللہ ___ واہ ___ واہ رے مولاواہ ___ دیکھ لی تیری قدرت___ دیکھ لی___ ‘‘
’’ زبان روکو بہک رہے ہو، سرور دو شینہ جوش پر ہے ___ ‘‘ بڑی لڑکی ان کو مخاطب کر کے گاتی ہے ___ ان چند لوگوں کو حال آر ہا ہے___ جوش و خروش بڑھتا جاتا ہے۔ معذور بچّی کو یک چشم مسخرے نے اپنے کاندھے پر بٹھا لیا ہے۔ وہ اپنے منّے منّے ہاتھوں سے تال دے کر بہن کی ہمنوائی میں مصروف ہے___ ’’ زبان روکو بہک رہے ہو___ سرورِ دو شینہ جوش پر ہے___ ‘‘
’’ یہ مصرع ، بجز مصیبت پسند ہم کو کمال آیا___ نسیم جاگو___ کمر کو باندھو___ اٹھاؤ بستر___ اٹھاؤ بستر___ کہ رات کم ہے___ ‘‘
غربت زدہ سامعین اکنیاں دونیاں مدقوق عورت کی طرف پھینکتے ہیں وہ اپنا دوپٹہ پھیلا کر اس میں سمیٹتی جارہی ہے۔
’’ کھسکے ڈبل ___ کھسکے ڈبل___ کھسکے ڈبل___ ‘‘ بڑی لڑکی رشکِ قمر عرف قمرن عرف امرتی ٹھمکی لگاتی گاؤں کے سفید پوشوںکی طرف جاتی ہے جو اسے چونّی اٹھّنی دیتے ہیں۔ سب ملاکر ساڑھے نو روپے بنے۔ رشک قمر مایوسی سے پیسوں پر نظر ڈال کر ان کو دوپٹے کی گرہ میں باندھ لیتی ہے۔
مجمع چھٹنے لگتا ہے۔ قمرن کا کنبہ اپنا سازو سامان سمیٹ کر چبوترے سے اترتا ہے ۔ وہ درگاہ کے احاطے سے نکل کر نانبائی کی دوکان کی طرف جاتے ہیں جہاں ان کا زادِ راہ ایک کونے میں رکھا ہے۔ نانبائی بھی اپنی دوکان بڑھانے میں مشغول ہے۔ قمرن ٹین کا چھوٹا سا بکسا کھول کر بڑی احتیاط سے اپنے دونوں کلپ اس میں رکھتی ہے۔ اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے ہیں۔
’’ ٹسوے کیوں بہاتی ہے کم نصیب ہے۔‘‘ مدقوق عورت برقعہ سر پرڈالتے ہوئے اسے جھڑکتی ہے۔ ’’ جمیلن کو اٹھا ۔‘‘
’’ کھانا توکھالو ___ ‘‘ نانبائی المونیم کے کٹورے میں تھوڑا تھوڑا شوربہ اور چارنان ان کو دیتا ہے۔وہ زمین پر اکڑوں بیٹھ کے سر جوڑ کر طعامِ شب تناول کرتے ہیں___ نانبائی ان سے پیسے نہیں لیتا۔ اب یک چشم بھانڈ ریلوے قلی کی سی پھرتی سے ٹرنک اور وردی میں لپٹا بستر اپنے سر پر دھرتا ہے۔ ہارمونیم کمر سے لٹکاتا ہے۔ عورت ڈھولکی سنبھالتی ہے۔ قمرن گود میں جمیلن کو اٹھا لیتی ہے۔ تینوں سر جھکائے یکّوں کے اڈّے کی سمت چل پڑتے ہیں۔ میلے کے بازار میں سے گذرتے ہوئے ننھی جمیلن سرموڑ موڑ کر للچائی نظروں سے چوڑیوں کی دوکان کو دیکھتی ہے۔ کانٹرا بھانڈ چلتے چلتے ایک لمبا سانس لے کر درگاہ کو مخاطب کرتا ہے___ ‘‘ واہ پیرہنڈے شاہ ___ بڑی آس مراد لے کر آپ کے دربار میں آئے تھے___ ملاکیا ___ نو روپے سوا چھ آنے ___‘‘

(۲)

فرقان منزل کے زنان خانے میں ڈپٹی صاحب آرام کرسی پر بیٹھے آگے کو جھکے ایک ابرو اٹھا کر سر پر خضاب لگا رہے تھے ۔ ڈپٹیائن آئینہ لیے سامنے کھڑی تھیں، ڈپٹی صاحب گنگناتے جارہے تھے اور محوِ آرائش جمال تھے۔ دفعتاً انھوں نے کہا ۔’’ بیوی ۔ ہم رشک قمر سے متعہ کرلیں؟‘‘ڈپٹیائن نے آئینہ اسٹول پر رکھا اور و صلی کی بیٹھی ایڑیوں والی جوتیاں گھسیٹتی چپ چاپ اپنے کمرے کی طرف چلی گئیں ۔ اندر جا کر مسہری پر بیٹھ گئیں ۔ کچھ دیر باہر دالان میں جھانکا ۔ شوہر عینک کا کیس اور سر فراز اخبار سنبھالے سر جھکائے مردانے کی سمت جارہے تھے ۔
ڈپٹیائن نے چبوترے پر نکل کر آواز دی ۔’’ چھیدُو کی بی بی ___ذرا قمرن کی خالہ کو تو بھیجنا ۔‘‘
چھیدُو کی بی بی چپوترے کے نیچے سے نمودار ہوئیں اور ڈیوڑھی کی طرف چلیں ۔
یہ فرقان منزل ڈپٹی صاحب کے پردادا نے بنوائی تھی جو سنا ہے قندھار کے گورنر تھے ۔ ڈپٹی صاحب کے مخالفین کا قول تھا کہ واجد علی شاہ کے اصطبل میں سائیس تھے ۔ اب واللہ علم (ڈپٹیائن پیٹ بھر کے کنجوس تھیں ۔ چپوترے کے نیچے کا تہ خانہ دو دو روپے مہینہ کرائے پر اٹھا رکھا تھا ۔ کرائے دار عورتیں فرقان منزل میں مفت کام کاج کرتیں ۔ ان کے لڑکے بالے سودا سلف لاتے ۔ مرد فجر کے وقت باہر نکل جاتے، ٹھیلے چلاتے، پتنگیں بناتے یایوں ہی اوائی توائی پھرتے۔ پھاٹک کے باہر بھی چار کو ٹھریاں کرائے پر چڑھی ہو ئی تھیں ۔ ان میں سے ایک میں رشکِ قمر کا کنبہ رہتا تھا ۔ کانڑے خالو ۔ سِٹرن خالہ۔ لنگڑی بہن ۔ ہمہ خانہ آفتاب ___اللہ توبہ۔ اللہ توبہ!
چھیدُو کی بی بی ڈیوڑھی سے نکل کر گلی میں پہنچیں ۔ کوٹھری کے باہر کانڑے خالو کسبت کھولے بیٹھے تھے۔ ایک گاہک ان سے اپنا سر گھٹوا رہا تھا ۔ اندردھواں دھار کوٹھریا میں قمرن کی خالہ ہُر مُزی بیگم چولھادھونک رہی تھیں۔ نوجوان جمیلُن ایک چھلنگے پر پڑی چھت کی سیاہ گڑیاں گن رہی تھی۔ ایک کھونٹی پر ڈھولکی ٹنگی تھی۔ چھیدُوکی بی بی نے ٹاٹ کا پردہ اٹھا کر ہانک لگائی ۔ ’’ اے قمرُن کی خالہ! تم کو ڈپٹیائن یاد فرماتی ہیں ۔
’’ آگیا ملکُن موت کا بلاوا ___‘‘ہُرمزی بیگم نے پھنکنی پٹخ کر کہا ۔ چند منٹ بعد بکتی جھکتی بڑ بڑاتی اندر پہنچیں۔ ڈپٹیائن چبوترے پر ان کی منتظر تھیں۔ جا کر مُتارسی کھڑی ہوگئیں ۔
’’ آؤبیٹھو ___‘‘ڈپٹیائن نے فرش کی طرف اشارہ کیا ۔
بیٹھ گئیں ۔
’’ قمرُن کی خالہ ۔ ہم نے تم کو گرہستن سمجھ کر کرائے دار رکھا تھا ۔‘‘
’’ تو کیا ہم گرہستن نہیں ہیں ۔‘‘ خالہ نے چمک کر کہا ۔
’’ تمھاری لنگڑی بھانجی پر رحم کھایا۔‘‘
’’ شکریہ عنایت۔‘‘
بہت ہی بد عورت تھی۔
’’ تم نے ہم سے کہا تمھارا خاوند حجام ہے ۔‘‘
’’ تو کیا گراس کٹ ہے ۔‘‘
’’ ہم سے لوگوں نے آ آکر کہا آپ نے کن الفتوں کو گھر میں گھسا لیا۔ گلی گلی گاتے بجاتے مانگتے کھاتے پھرتے تھے ۔‘‘
’’ آپ سے تو مانگ کر نہیں کھاتے ۔‘‘
ڈپٹیائن تلملا کر رہ گئیں۔ مگر خالہ سِٹرن مشہور تھیں ۔ انداز گفتگو ہی یہی تھا ۔
’’ زبان سنبھال کر بات کرو ۔ اتنے جوتے لگواؤں گی کہ ہوش ٹھکانے آجائیں گے___ٹھیک کہتے ہیں کہنے والے کہ حسین آباد کی خانگیوں کا ٹب بر ہے ۔ ہم نے یقین نہ کیا ۔ حضور ؐ کی حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب تک خود نہ دیکھو کسی پر شک نہ کرو۔ لیکن اب ہم نے خود رشکِ قمر کو برقعہ اوڑھ کر رات برات باہر جاتے دیکھا ہے ۔ اب تم یہاں رہنے جوگی نہیں قمُرن کی خالہ ___ ‘‘ امّاں اور قمرن کی خالہ کے جھگڑے کی آواز سن کر فرہا د میاں اوپر سے اترے ۔ آج یونی ورسٹی نہیں گئے تھے ، دیر سے سو کر اٹھے تھے ۔زینہ طے کر کے آنکھیں ملتے چبوترے پر آئے۔ جمائی لے کر دریافت کیا ۔’’ امّی جان ! کیا پھر رشک قمر کا کوئی مقدمہ پیش ہے ؟‘‘
’’ ارے ہم نے کتنی بھلائی کی ان بے گھروں ، نا شکروں کے ساتھ۔ رشک قمر کو اسکول میں ڈالا، سلیقہ سکھلایا ___ ‘‘ ڈپٹیائن نے فریاد کی۔
’’ امّی جان ! آپ اب خاموش رہئے ۔ ہم آج سارا تیا پانچہ کیے دیتے ہیں ۔ قمرُن کی خالہ! آپ تشریف لے جائیے اپنی محل سرا…‘‘
’’ ارے طعنے نہ دو بھیّا ۔ خدا کے غضب سے ڈرو ۔‘‘ خالہ نے کمر پر ہاتھ رکھ کر فرش سے اٹھتے ہوئے کہا ۔ اور چبوترے سے اتر کر باہر سٹک لیں ۔ فرقان منزل کے شاہ پور آغا صفدر حسین خان قندھاری متعلم ایم ۔اے ۔(فارسی) کے کان میں اپنے قبلہ وکعبہ کی رشک قمر میں افلا طونی دل چسپی کی بھنک پڑ چکی تھی۔ غصّے اور شرم سے بھنّا ئے ہوئے چبوترے کی سیڑھیاں اترے۔ رشکِ قمر عرف قمرن صحن کے ایک گوشے میں ہینڈ پمپ کے تھڑے پر اکڑوں بیٹھی منھ دھورہی تھی۔ ریشمی ململ کا پستیٔ دو پٹّہ نزدیک گلِ مخمل کے پودوں پر سوکھ رہا تھا ۔ تھڑے کی منڈ یر پر گیسوؔ دراز ہیر آئل کی بوتل اور صابن دانی میں لکس سوپ رکھا تھا ۔ یہ ٹھا ٹھ باٹھ کہاں سے ہوتے ہیں ۔ رشکِ قمر نے منھ پر چھپکاّ مار کر سر اٹھایا، اس کی صورت دیکھتے ہی فرہاد میاں کا ساراغصّہ ہوا ہوگیا۔
’’ رشکِ قمر ___ منھ ہاتھ دھو لو تو اوپر ذرا ہمارے کمرے میں آنا ۔‘‘
’’ ڈپٹیائن وہ سامنے ہی بیٹھی ہیں ۔‘‘ رشکِ قمر نے ہنس کر جواب دیا۔ فرہاد صاحب جھینپ کر گلابی ہوگئے۔ واقعی خانگیوں کی اولاد ہے ۔ بے حیا۔ آوارہ ۔ انھوں نے نہایت سنجیدگی سے کہا۔ ’’ رشکے ۔ ہم تمھاری بھلائی چاہتے ہیں ۔ یہاں روز تمہاری وجہ سے کوئی نہ کوئی شگوفہ کھل رہا ہے اوپر آؤ بیٹھ کر سوچیں گے تمھارے لیے کیا بندوبست کیا جائے ۔‘‘
’’ بہت اچھا میاں! ابھی آتے ہیں ۔ آجائیے۔ ’’ لڑکی نے اب اسی متانت سے جواب دیا ۔
تھوڑی دیر بعد وہ لک چھپ کر مردانے زینے ہوتی ، دوسری منزل پر آغا فرہاد کی عمل داری میں پہنچ گئیں ۔ وہ ایک دروازے کے پاس کرسی پر بیٹھے دیوانِ فانیؔ کی ورق گردانی کررہے تھے ۔ دروازہ جس کے نچلے حصّے میں سلاخیں لگی تھیں گلی پر کھلتا تھا ۔ بڑی سہانی ہوا آرہی تھی ۔
’’ جی ۔ فرمائیے ۔‘‘ رشکِ قمر نے کمرے میں آکر بے باکی سے کہا ۔
’’ قمر ن !‘‘ فرہاد صاحب نے کتاب کشمیری تپائی پر رکھ کر بات شروع کی۔’’ ہم دوسال سے تمھیں دیکھ رہے ہیں ۔ تمھیں یہاں آئے دوسال ہوگئے نا؟ پہلے کوئی شکایت تمھارے خلاف سننے میں نہیں آئی ۔ جب تک اسکول جاتی رہیں ، کشمیری محلّے ، امن قائم تھا ۔ بھلا تم نے اسکول کیوں چھوڑ دیا؟‘‘
’’ وہاں کے اوپر چند صاحبزادیوں نے اعتراض کیا تھا۔ ہم نے کہا جاؤ جہنّم میں۔ ہم کون سا تمھارے ساتھ بیٹھ کر پڑھنا چاہتے ہیں ۔‘‘
’’ رشک قمر بیٹھ جاؤ۔‘‘
وہ قالین پر بیٹھنے لگی ۔
’’ نہیں ۔نہیں ___یہاں ۔‘‘
وہ صو فے پر بیٹھ گئی ۔
’’ آج ہمیں پورا قصہ بتا دو۔ یہ تم لوگوں نے کیا مسٹری بنا رکھی ہے ؟‘‘
’’ مسٹری کیا ___؟‘‘
’’ راز ___‘‘
’’ ہمارے کیا راز ہوں گے صاحب ۔ راز بڑے آدمیوں کے ہوتے ہیں ۔ ہم بہت چھوٹے کمین لوگ ہیں ۔‘‘
’’ لاحول ولا قوۃ لیکن امی جان سے محلے والیاں طرح طرح کی باتیں جڑ رہی ہیں ۔‘‘
’’ سب سچ کہتی ہیں۔‘‘
’’ ہیں؟‘‘
’’ جی ہاں۔ ہم میں یہی تو ایک خوبی ہے میاں کہ ہم جھوٹ نہیں بولتے ۔‘‘
’’ تم لوگ جب یہاں آئے تو کہا تھا کہ گاؤں میں کاروبار مندا تھا اس لیے شہر واپس آگئے ۔‘‘
’’ وہ بھی سچ کہا تھا ۔ ہم لوگ گاؤں گاؤں گھومتے تھے۔ خالہ نے کہا ۔ جوتیاں چٹخاتے چٹخاتے تھک گئے ، اب شہر واپس چلو ۔ یہاں کسی نے بتلایا آپ کے شاگرد پیشے میں کرائے کے لیے کوٹھری خالی ہے ۔ یہاں آگئے ۔ گانا بجانا البتہ چھوڑ دیا، یہاں اس کی گنجائش نہیں ۔ گھر گھر ریڈیو بج رہا ہے ۔ خالو اپنا پرانا کام کرنے لگے نائی کا ۔ سارے محلّے کی حجامت بناتے ہیں ۔ اس میں کون لمبے چوڑے راز کی بات ہے ۔‘‘
’’ اب تمھارا کیا ارادہ ہے رشکِ قمر ___ شادی نہیں کروگی ؟‘‘
’’ شادی ___؟‘‘
’’ کیوں ۔ تم کو تعجب کیوں ہوا؟ قاعدہ ہے جب لڑکیاں بڑی ہوجاتی ہیں ان کا بیاہ کردیا جاتا ہے ۔‘‘
’’ بڑی بڑی خان دانی لڑکیاں آج کل ماں باپ کے ہاں بیٹھی سوکھ رہی ہیں ۔ ہم جیسوں سے بیاہ کوئی عقل کا اندھا ہی کرے گا ۔ میاں آپ بھی کیا بھولی باتیں کرتے ہیں ___لائیے ہمیں دکھائیے آپ کیا پڑھ رہے تھے ۔‘‘ اس نے کتاب تپائی سے اٹھا لی ۔ اس کے ورق پلٹے ۔ ایک غزل گنگنانے لگی۔
’’ ذرا زور سے ___‘‘
’’ دروازے بھیڑ دیجئے ۔ نیچے سب آواز جاتی ہے ۔‘‘
فرہاد نے اٹھ کر صحن کی طرف کھلنے والے دروازے بھیڑ دئیے، رشکِ قمر نے ذرا نیچے سروں میں ترنم سے پڑھنا شروع کیا ۔ فرہاد میاں مسحور ومبہوت سنا کیے۔پھر یک لخت کرسی سے اٹھ کر کہا ۔’’ رشکے ___ملاؤہاتھ ۔ تمھارا کیریر سمجھ میں آگیا ۔ ہم تمھیں شاعرہ بنائیں گے ۔‘‘


(۳)

’’ آل انڈیا مشاعرہ قیصر باغ کی بارہ دری سے ریلے کیا جارہا ہے ۔ محترمہ صوفیہ نسیم صبیح آبادی مشاعرے کی صدارت فرمارہی ہیں ۔ ابھی آپ نے محترمہ نازنین بریلوی سے ان کا کلام سنا ۔ اب لکھنؤ کی ہونہارشاعرہ مس رشکِ قمر سے ان کی تازہ غزل سماعت فرمائیے ۔ آئیے بہن رشک قمر۔‘‘
مشاعرے کے اختتام پر رشکِ قمر نے اپنا لیڈی ہملٹن کا سیاہ برقعہ اوڑھا اور پچھلے دروازے سے نکل کر گیلری میں پہنچی جہاںآغا فرہاد سیاہ شیروانی سفید پائجامے میں ملبوس اپنی بیاض ہاتھ میں لیے ریڈیو اسٹیشن کے ایک نوجوان افسر سیّد صاحب کے ساتھ موجود تھے ۔ سید صاحب نے ہیڈ فون اتارا ۔ ان کے آدمیوں نے اپنا انگڑ کھنگڑسمیٹنا شروع کیا۔
’’ رشکے صاحبہ آپ کے ترنم نے مشاعرہ لوٹ لیا ۔‘‘ سیّد صاحب نے مسکراکر کہا ۔ رشکِ قمر نے نقاب الٹ کر تسلیم عرض کی۔
’’اب چپکے سے نکلو چلو ۔ ورما صاحب نے تمھارے لیے ایک اور پروگرام بنایا ہے ۔‘‘ آغا فرہاد نے اٹھتے ہوئے کہا ۔’’ وہ پروگرام کل بتائیں گے ۔ اچھا بھئی سیّد ۔ کل تم سے ورما کے ہاں ملاقات ہوگی ۔‘‘
آغا فرہاد کے ساتھ باہر آکر رشکِ قمر تانگے پر سوار ہوئی ۔
’’ تم سے کسی نے سوالات تو نہیں کیے ۔ غیر ضروری ___ ‘‘ فرہاد نے دریافت کیا۔
’’سوالات ہمیشہ غیر ضروری ہوتے ہیں ___ ‘‘ رشکِ قمر نے کہا ۔’’ لیکن اب آپ کون سا نیا پروگرام سوچ رہے ہیں ؟‘‘
’’ یہ بھی غیر ضروری سوال ہے ۔ خاموش رہو اور دیکھتی جاؤ۔ ہم تمھارا کیر یر بنا رہے ہیں۔‘‘
تانگہ پاٹے نالے کے ایک مکان پر جا کر رُکا۔ اس کے دروازے پر بھی ٹاٹ کا پردہ پڑا تھا ۔ لیکن یہ مکان فرقان منزل کی اس کوٹھری سے ہزار درجہ بہتر تھا ۔ ڈیوڑھی کے اندر چھوٹا سا آنگن۔کھپریل کا برآمدہ ۔ اندر دو کمرے ۔ ڈیوڑھی کے پاس بیت الخلا۔ دوسری طرف باورچی خانہ ۔ امرود کے درخت کے نیچے پانی کا نل ۔ رشک قمر کو مشاعروں سے آمدنی ہورہی تھی ۔ ریڈیو پرگانے کے پروگرام مل رہے تھے ۔چھ سات مہینے میں کا یا پلٹ گئی ۔ خالو اب کسی بڑھیا ہیر کٹنگ سیلون میں ملازمت کرنا چاہتے تھے۔ مگر ہر مزی خالہ نے منع کردیا کہ لوگ کہیں گے مس رشکِ قمر کے خالو نائی ہیں ۔ ان کو فرہاد صاحب نے ایک دوکان میں جلد سازی کے کام پر لگوادیا تھا۔
دوسرے روز شام کے پانچ بجے قمرن اور جمیلن برقعے اوڑھ کر نظر باغ فرہاد صاحب کے بتائے ہوئے پتے پر پہنچیں۔ بالائی منزل کی بالکنی میں میاں فرہاد انتظار ِ ساغر کھینچ رہے تھے ، اشارے سے اوپر بلایا ۔ جمیلن کے لیے نئی بیساکھی آگئی تھی مگر اسے زینہ چڑھنے میں دقت ہوتی تھی۔ فرہاد خود دوڑے ہوئے نیچے گئے۔ اس بے چاری کو سہارا دے کر دوسری منزل پر لائے ۔ گیلری میں ایک دروازے پر بورڈ لگا تھا ___نریندر کمار ورما جرنلسٹ (گولڈ مڈلسٹ) رائٹر اینڈ آرٹ ایڈ وائزر۔
اندر کمرہ منھ سے بول رہا تھا کہ ایک نخالص انٹلکچوئیل کی بیٹھک ہوں ۔ دیواروں پر چغتائی کے پرنٹ ۔ ایک طرف غالب دوسری طرف ٹیگور ۔ کونے میں فلو ر لیمپ ۔ بک شیلف میں انگریزی اردو کتابیں ۔ نیچی طویل میز پر اردوکے ترقی پسند جریدے اور چند تازہ بتازہ پاکستانی رسالے ۔ فرش پر رنگین چٹائی ۔ کشتی میں اسٹوڈیو پوٹری کاٹی سیٹ۔ صاحب خانہ فرش پر بیٹھے ، ریڈیو اسٹیشن والے دوست سے مصروف گفتگو تھے۔ ایک دیوان پر ایک نازک اندام گوری سی سترہ اٹھارہ سالہ لڑکی معمولی فالسیٔ ساری پہنے بیٹھی تھی ۔نووارد لڑکیوں کو دیکھتے ہی گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی اور ہاتھ جوڑ کر نمستے کیا۔ صاحب خانہ فوراً کھڑے ہوگئے ۔ قمرن جمیلن کو بڑے تپاک سے تسلیمات عرض کی اور ٹوکری نما نہایت آرٹسٹک کرسیوں پر بٹھایا۔ ورما صاحب آغافرہاد سے عمر میں چند سال بڑے تھے ۔ موٹے سیاہ فریم کی عینک، سرپہ جھّوا بھر بال ، کھادی سلک کا بادامی کرتا۔ نہرو جیکٹ چوڑی دار پائجامہ ، چہرے سے نیک دلی اور خوش خلقی ہویدا تھی ۔ دیکھنے سننے میں بھی برے نہیں تھے۔
بیچلر ا پارٹمنٹ تھا۔ ملازم چھوکرے کو آواز دی ۔ وہ نہیں آیا تو جھنجھلا کر چاء دانی اٹھائی اور کچن کی طرف بھاگے۔
’’ آپ نے اب تک بتایا ہی نہیں صاحب خانہ کون صاحب ہیں ۔‘‘ رشکِ قمر نے چپکے سے پوچھا ۔ ریڈیو والے دوست دیوان پر بیٹھے چھر یری لڑکی سے بات کررہے تھے ۔
’’یہ ___‘‘آغافرہاد نے جواب دیا ۔’’ ارے لا جواب آدمی ہیں۔ رئیس زادے ہیں۔ ما ں باپ نرہیؔ پر رہتے ہیں ۔ انھوں نے یہ فلیٹ لے رکھا ہے آرٹ اور کلچر کی خدمت کے واسطے۔ ہم نے تمھارے متعلق انھیں بتایا ۔ انھوں نے فوراً ایک اسکیم بنا ڈالی ابھی دیکھو آکربتلائیں گے ۔‘‘
ورماصاحب چاء دانی اٹھائے مسکراتے ہوئے واپس آئے ۔ اب آغا فرہاد نے سرگوشی میں ان سے دریافت کیا ___ ‘‘ یار یہ لڑکی کون ہے ؟‘‘
’’ یہ ___ ؟‘‘
’’ پہاڑن ہے ___ ‘‘
’’یہ ستواں ناک ، کنول نین، پتلی کمر ___آپ کو پہاڑن نظر آتی ہے ۔‘‘
’’ سنا ہے کہ ان کی کمر ہی نہیں ہے ۔ خدا جانے ناڑا کہاں باندھتے ہیں ___ ‘‘ فرہاد صاحب ایکّے تانگے والوں کی طرح گنگنائے۔
’’ لاحول ولا قوۃ ___‘‘ورما صاحب نے جھنجھلاکر کہا اور گوری لڑکی سے مخاطب ہوئے۔’’ موتی۔ادھر آکر بیٹھو ۔ لو ___ چاء بنانا سیکھو ___ بھئی رشک قمر صاحبہ ! ذرا آپ ان کی تربیت کیجئے۔‘‘
لڑکی دیوان سے اُتر کر چار پائی پر آبیٹھی اور گھبرائی ہوئی سی سب کے چہرے تکتی رہی۔
لو ___چاء بناؤ سب کے لیے ___ ‘‘ ورما صاحب نے ٹرے اس کے سامنے سرکائی۔
’’ چوکے میں بیٹھنا چھوڑ میری سرونؔ ۔ چھری کانٹے سے کھانا سیکھ ___ لہنگا پہننا چھوڑ میری سرونؔ ۔ سایہ پہننا سیکھ ___پیڑھی پر بیٹھنا چھوڑ میری سرونؔ ___ارے دھولے کنویں پہ تنبورے تانے میخیں دیں گڑ وائے ___ میخیں دیں گڑوائے ___ ‘‘سیّد صاحب نے جودلّی والے تھے، الا پنا شروع کیا۔
’’ یہ کیا ہے ؟ کہاں کالوک گیت ہے ؟‘‘ ورما نے دل چسپی سے پوچھا ۔
’’ ایک دیہاتن پر دلّی کا انگریز ریزیڈنٹ عاشق ہوگیا تھا ۔ اس کے متعلق اس زمانے میں ہماری طرف یہ گیت گایا جاتا تھا ___‘‘
’’ پھر کیا ہوا ___؟‘‘
’’ وہ انگریز قتل ہوا ___‘‘
’’ ولیم فریزر ___؟‘‘آغا فرہاد نے دریافت کیا۔
’’ ہماری موتی پہ کوئی فرنگی عاشق ہوگیا تو ہم بھی اسے قتل کردیں گے ___‘‘ورما صاحب نے اعلان کیا ۔
’’ صاحب یہ قتل خون کی باتیں نہ کیجیئے ۔ بد شگونی ہے ۔‘‘ رشکِ قمر بولیں۔
’’ بھائی سنو۔‘‘ ورما صاحب نے سینڈ وچز سرو کرتے ہوئے فرمایا ___‘‘ پچھلے ہفتے ہم گئے تھے علی گنج کے میلے ۔ والدہ کو لے کر ۔ وہ بے چاری ہنومان جی کے مندر جا جا کر ہمارے لیے منتیں مانتی ہیں کہ ہم راہ راست پر آجائیں یعنی اپنا گھر بسائیں ۔ اب خدا کی قدرت دیکھئے کہ والدہ تو گئیں مندر کے اندر ۔ ہم ذرا کیمرہ لے کر نکلے برائے مٹر گشت تو آپ نظر آگئیں ۔ ایک پیڑ کے نیچے کھڑی کجری گارہی تھیں ۔ پوری ٹولی ساتھ تھی ۔ قیامت کی آواز ہے ۔ بس رشک قمر صاحبہ آپ کے توڑ پر ہیں ۔ ہم نے آپ کو ریڈیو پر کئی دفعہ سنا ہے ۔‘‘
’’ تو آپ ان کو پٹا کے یہاں لے آئے ۔‘‘ رشکِ قمرنے بے تکلفی سے ہنس کر کہا۔
’ ’ بڑی مشکل سے۔ خاص الخاص ضلع فیض آباد کی پاتر ہیں ۔‘‘
’’ اور والدہ کو معلوم ہوگیا تو ___؟‘‘ آغا فرہاد نے پوچھا ۔
’’ ابھی تو انھیں کچھ علم نہیں ہے۔ ہم کیا کریں ۔ بجرنگ بَلی کی مرضی یہی تھی ۔ اچھا بھئی۔سنو ہماری اسکیم، ہم ایک سونگ برڈز کلب قائم کرتے ہیں ۔ آپ تینوں بحیثیت لوک گیت ایکسپرٹ اس کی اسٹارز ۔ شہر میں پروگرام کریں گے ، ٹور پرجائیں گے ۔ سونگ برڈز کلب اُڑ جائے گا ۔ ہم آر گنا ئیز ر آدمی ہیں۔ بلا کے ایفی شنٹ ۔ کل ہم آرٹ اسکول سے اس کے لیٹر ہیڈ کا نمونہ بھی بنوالائے دیکھئے ___‘‘انھوں نے کافی ٹیبل کے نچلے خانے سے ایک کاغذ نکالا۔ جس کی پیشانی پر لکھا تھا ۔’’ سونگ برڈز کلب مینجنگ ڈائر یکٹر این ۔ کے ۔ ورما ۔‘‘ گوشے میں آم کا درخت، اس پر چڑیاں ۔ نیچے ایک لڑکی بیٹھی طنبو رہ بجا رہی تھی۔ سب نے باری باری اس کا غذکو ملا حظہ کیا۔
’’ جب چڑیاں ہیں تو لڑکی کی کیا ضرورت ہے ___‘‘ آغا فرہاد نے اعتراض کیا۔
’’ بھائی آغا صاحب۔ یہ باریکیاں تمھاری سمجھ میں نہیں آئیں گی ۔ تم جاکے ہینگ بیچو۔ اور سنئے گا ۔ ان کا نام تھا موتی ۔ ہم نے رکھا ہے صدف آرا بیگم موتی ___‘‘ ورما صاحب نے لڑکی کو پالتو بلّی کی طرح مخاطب کیا ۔’’ موتی ___کہو صدف ۔‘‘
’’ صدیھ ___‘‘ لڑکی نے دہرایا ۔
’’ ارے بھئی صدف ___ ف سے ۔‘‘
’’ صدپھ ___ پھ سے ___‘‘
’’ استغفراللہ ۔کہو صدف آراء بیگم ۔‘‘
’’ صدپھ آرا بیغم ___‘‘
ورما صاحب نے ایک طویل سانس لی ۔’’ خیر۔ اللہ مالک ہے کل سے ان کا شین قاف درست کرنے کی INTENSIVEٹریننگ شروع۔ ڈیڑھ مہینے بعد سونگ برڈز کلب کا پہلا پروگرام ریڈیو پر بھی شیڈیول کرلیا گیا ہے ___کیوں میاں ؟‘‘ انھوں نے سیّد صاحب سے دریافت کیا ۔
’’ قطعی۔‘‘ انھوں نے پائپ سلگاتے ہوئے جواب دیا۔
اب ورما صاحب جمیلن کی طرف متوجہ ہوئے جو اس دوران میں چپکی بیٹھی غور سے سب کی گفتگو سن رہی تھی ۔ ورما صاحب نے اسے بڑے دھیان سے دیکھا ۔ پھر دفعتاً چٹکی بجا کر بولے ___ ’’ کماری جل بالا لہری ___‘‘
’’ کون ___ ؟ ہم ؟ ہمارا نام جمیل النساء بیگم ہے ۔‘‘ جمیلن نے بگڑ کر کہا۔
’’ کماری جل بالا لہری ۔‘‘ ورما صاحب نے قطعیت کے ساتھ دہرایا ۔’’ شکل میں بالکل بنگالی ملاحت ع آپ بنگال سے کل آئی ہیں ___ جل بالا لہری ___‘‘
’’ یہ جلا بلا کون بلا ہے؟ اور بنگال سے آئے ہماری بلا ۔ ہم حسین آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ اب پاٹے نالے پر رہتے ہیں ۔‘‘
’’ ارے بھائی ___ ہم تمھارا کیریر بنا رہے ہیں ۔‘‘
’’ کریر نہ سریر ___ وہ کیا ہوتا ہے ؟‘‘
’’ تمھارا مستقبل ۔‘‘
’’ ارے ہمارا کریر اللہ میاں نہ بناپائے ۔ آپ کیا بنائیں گے ۔‘‘ جمیلن نے خشکی سے جواب دیا۔
’’ نعوذ باللہ ___کیا کفر بکتی ہو۔‘‘ ورما صاحب نے برامان کر کہا ۔
’’جل بالا لہری ___‘‘ آغا فرہاد نے تو صیفاً دہرایا ___’’ خوب نام سوچا۔‘‘
’’ لہری کیوں ___؟ اس لیے کہ ہم لہرا کے چلتے ہیں؟‘‘ جمیلن نے سوال کیا ۔
’’ارے بھائی ذرا اس الٹی کھوپڑی کی لڑکی کو سمجھاؤ ۔ ‘‘ ورما صاحب نے عاجز آکر کہا۔’’ لہری ایک بنگالیSURNAMEہے۔‘‘
’’ ورما صاحب ہم انھیں سمجھا لیں گے ۔ اب آپ بتائیے ۔ رہرسلیں کب شروع کریں گے؟ ‘‘ رشکِ قمر نے دریافت کیا۔
ورما صاحب پیڈ پر لکھنے میں مصروف ہو چکے تھے ۔
سوَنگ برڈز کلب
۱۔ صدف آرا بیگم
۲۔مِس رشکِ قمر
۳۔کماری جل بالا لہری۔

(۴)

’’ ہلو ___ہلو ___جی ہاں۔میں ورمابول رہا ہوں۔ آخّاہ آداب عرض ۔ مزاج عالی ___ ارے صاحب آپ کہا ں تھے۔ دلّی سے کب آئے ۔ آپ نے ہمارا کونسرٹ مس کردیا ۔ جی ہاں ۔ بہت شان دار رہا ۔ ایک منسٹر نے اودگھاٹن کیا خوب تصویریں کھینچیں ۔ زبردست پبلسٹی رہی۔ اور ہاؤ س فل ، جی ___؟ جی نہیں۔ صرف لائٹ میوزک ۔ ہماری آر ٹسٹ لوگ غزل اور گیت کی ایکسپرٹ ہیں ۔ پریس نے بہت عمدہ ریویو کیے ۔ اس وقت ___؟ بھئی معاف فرمائیے گا۔ بات یہ ہے کہ آج منگل کی شام ہے۔ والدہ صاحبہ کو ایک کیرتن میں لے جانا ہے ۔ آج تو تشریف نہ لائیے ۔ ہم اسی وقت نرہی جارہے ہیں ۔ اپنے مکان پر ___جی ہاں جی ہاں۔ بہت بہت شکریہ ۔ آپ کی دعاؤ ں کا طالب ہوں ۔ تواگلے اتوار کو ___بہت خوب ۔ آداب عرض۔‘‘ ورما صاحب نے فون کا ریسیور واپس رکھ کر ایک گہری سانس بھری ۔ آکر دیوان پر گر گئے اور فرمایا۔‘‘ مائیں ہی آڑے وقت پر کام آتی ہیں ۔‘‘
’’ اماں کیوں اتنا سفید جھوٹ بولتے ہو ۔ دونوں وقت مل رہے ہیں ۔ کہنے لگے والدہ صاحبہ کو کیرتن میں لے جانا ہے ۔‘‘ فرہاد نے چٹائی پر لیٹے لیٹے کہا ۔’’ کون تھا ؟‘‘
’’ ایک مہا بور ۔ پروگرام کی کامیابی کی داد دینے آرہے تھے ۔ ہم نے ٹال دیا ۔ ’’ ارے بھائی صدف آراء ___‘‘ ورما صاحب نے آواز دی۔
’’ صدف آرا کچن میں کچا لو بنا رہی ہیں ۔‘‘ رشکِ قمر نے کہا ۔ وہ کرسی پر بیٹھی ایک رسالے کی ورق گردانی کررہی تھی ۔
’’صدف آراء نے آج تم لوگوں کے لیے بڑھیا کھانا بنایا ہے ۔‘‘ ورما صاحب بولے ۔
بہت بھلی لڑکی ہے ۔‘‘ قمرن نے کہا۔
ورما صاحب اچانک جوش میں آکر اٹھ بیٹھے ۔’’ تم تینوں بہت بھلی لڑکیاں ہو ___ سنو رشک قمر ہم نے ایک اور اسکیم بنائی ہے ۔‘‘
’’ اللہ خیر کرے ۔‘‘
’’ بات سنو۔ ہم ایک اردو رسالہ نکالیں گے ۔ کل ہی جاکر ڈیکلریشن داخل کرتے ہیں ۔ اس کا نام بھی سوچ لیا ہے ۔ گوہر شب ؔ چراغ ۔‘‘
’’ سبحان اللہ ۔‘‘ فرہاد نے کہا ’’ صدف آرا بیگم اور گوہر شب چراغ ۔ آپ کا جواب نہیں۔‘‘
’’ اور پہلے شمارے میں ایک مضمون لکھیں گے رشکِ قمر کے متعلق ۔ یہ دیکھو ___ ‘‘ انھوں نے کاغذ پر جلدی جلدی کچھ گھسیٹا اور کاغذ رشکِ قمر کو پیش کیا۔
’’ ممکن عنوان
رشکِ قمر کی شاعری
’’ کانظریہ ٔ فن
’’کا فلسفۂ حیات
’’ کے ساتھ ایک شام
’’ کے شب وروز ___‘‘
آغا فرہاد نے کاغذ لے کر پڑھا اور بولے ___’’ یہ آخری عنوان ہمیں پسند آیا ۔‘‘
’’ آپ لوگوں کو ہمارا مذاق اڑاتے شرم تو نہیں آتی ۔‘‘ رشک قمر نے اداسی سے کہا ۔
’’ مذاق ___؟ کمال کرتے ہو ___ ہم تمھارا ادبی کیریر بنا رہے ہیں ۔‘‘ورما صاحب نے سنجیدگی سے ارشاد کیا۔
جمیلن صوفے پر لیٹی تھی ۔ بیساکھی کے سہارے اٹھنے کی کوشش کی۔ ورما صاحب اور آغا فرہاد دونوں ان کی مدد کے لیے لپکے ۔ اچانک جمیلن سر جھکا کر رونے لگی۔
’’ جلی مُن ___ جمیلُن ___کیا ہوا؟‘‘ ورما صاحب نے ہڑ بڑا کر پوچھا ۔
’’ کچھ نہیں ورما صاحب ۔‘‘ جمیلُن نے کشمیری سلک کی ساڑی کے پلّو سے آنسو خشک کرتے ہوئے کہا ۔’’ ہمیں ابھی ابھی یہ خیال آیا ___کہ ___‘‘
’’ کیا ___؟کیا ___؟‘‘
’’ ___کہ ہم نے زندگی میں کبھی سکھ چین دیکھا ہی نہیں۔ اب جو اچانک یہ ہمارا ماحول بدلا ہے ۔ اس میں بھی کوئی دھوکا نہ ہو ___ بجیا تو سخت جان ہیں،
ہم نہیں ہیں ___‘‘
’’ کیسی باتیں کرتی ہو بھائی جلی مُن ___جمیلُن ___‘‘ ورما صاحب نے انتہائی خلوص کے ساتھ کہا۔
’’ ارے آپ لوگ ہماری رام کہانی سنیں تو یقین نہ آئے گا ۔‘‘ رشکِ قمر کافی بناتے ہوئے بولیں ۔‘‘ لیکن ہمیں ہمدردی وصول کرنے سے نفرت ہے اور شرم بھی آتی ہے ۔‘‘
’’ ہمیں نہیں آتی شرم ۔ جب قدرت کو ہماری یہ دھجا بناتے شرم نہ آئی تو ہمیں کیوں آئے ۔ ‘‘ جمیلُن نے رومال سے ناک پونچھتے ہوئے کہا ۔ ورما صاحب نے کافی کی پیالی پیش کی
’’ ہم پیدا ہوئے امّاںہماری پیدائش ہی میں مرگئیں ۔‘‘ جمیلن نے کافی کا گھونٹ بھر کے کہا ۔’’ ہم لنگڑے پیدا ہوئے ۔ خالہ نے پالا ۔ گلیوں میں رُل کے ، لوٹ پیٹ کر پانچ چھ سال کے ہوئے ۔ امّاں کے مرنے کے بعد گھر کا خرچ چلانے والی صرف خالہ رہ گئیں ۔ ان کو ہوگئی تپِ دق ۔ امّاں جو کچھ جوڑ جکوڑ گئی تھیں وہ خالہ کی دوا دارو میں اٹھ گیا۔ ڈاکٹر نے کہا ۔ بھوالی جاؤ ۔ جو تھوڑا سا پیسا بچا تھا اسے لے کر ہُر مُزی خالہ نے بھوالی جانے کی ٹھانی …‘‘
’’ اور یہ تمھارے خالو ___؟‘‘ آغا فرہاد نے بات کاٹی۔
’’ بتاتے ہیں سنتے جائیے۔ یہ ایک حجام ہمارے عقیقے کے لیے بلائے گئے تھے ۔ ان بے چارے کو ہم لوگوں سے ہمدردی ہوگئی ۔ کبھی کبھار آنکلتے ۔ خالہ پہلے توان سے اپنی چلم بھروانے کی بھی روادار نہیں تھیں۔ لیکن پردے میں بیٹھتی تھیں ۔ بیمار پڑیں تولوگوں نے ملنا جلنا چھوڑ دیا ۔ اب دوا علاج کی دوڑ بھاگ کون کرے ۔ ہم چھ سال کے تھے ، بجیا دس گیارہ سال کی ۔ یہ جمّن خاں حجام بے چارے باہر کے کام کردیتے ۔ ان کے بیوی بچّے مرچکے تھے ۔ وہ محبت اپنائیت کے دو بولوں کے بھوکے تھے ۔کہنے لگے میں تم لوگوں کے ساتھ بھوالی چلو ں گا ۔ حسین آبادکا مکان بھی کرائے کا تھا۔ ہم لوگ بوریا بستر باندھ کاٹھ گودام روانہ ہوئے۔
’’اب یہ نگوڑے یک چشم جمّن خاں تھے بڑے عیبی ۔ گانجے اور افیم کی لت انھیں ۔ جوا یہ کھیلیں ۔ خالہ ، ہم اور بجیا زنانہ تھرڈ کلاس میں سوار ہوئے ۔ وہ مردانے ڈبے میں جا بیٹھے۔
’’ مریں کو ماریں شاہ مدار ۔ سارا پیسہ خالہ نے ان کے حوالے کردیا تھا کہ حفاظت سے رکھیں گے ۔ وہ خود روگی ۔ ہم دونوں بچیّاں ۔ خیر ۔ کاٹھ گودام ٹرین پہنچی ۔ ہم لوگ اترے تو جمن خان نے اپنے ڈبّے سے اتر کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگے ۔ بولے رات کو سوتے میں کسی نے جیب کاٹ لی۔ خالہ نے کہرام مچادیا ۔ عیبی، بدذات،بھانڈا، شہدے ، کسی مسافر کے ساتھ تاش کھیلنے بیٹھا ہوگا۔ ساری رقم ہار گیا ۔ انھوں نے حمائل شریف ہاتھ میں لے کر قسم کھائی کہ کسی جیب کترے نے بٹوہ پار کردیا ۔انھوں نے جو انہیں کھیلا۔ ہم لوگ اپنی قسمت کو رو پیٹ کر پلیٹ فارم پر بیٹھ گئے ۔ اب کیا کریں ۔ جو ناشتہ ساتھ تھا وہ بھی ختم ہوگیا ۔ خالہ کے پاس دو چار روپے تھے وہ بھی خرچ ہوگئے ۔ اب کھائیں کہاں سے جمن خان اپنی کسبت ساتھ لائے تھے ۔ دوسرے دن وہ پلیٹ فارم کے سرے پرجا براجے ۔ مسافروں کی حجامت بنانے لگے ۔پھر خالہ کی سمجھ میں ایک بات آگئی ۔ وہ ہار مونیم ڈھولکی بھی ساتھ لائی تھیں ۔ انھوں نے ڈھولک بجیا کے آگے سرکادی۔ بجیا نے گانا شروع کیا ۔ مسافروں کی بھیڑ لگ گئی ۔ تھوڑی سی آمدنی ہوئی ۔ نینی تال جانے والے امیر لوگ ہمارا گانا سن کر ادھر آجاتے ۔ روپیہ دوروپیہ دے دیتے ۔ ریلوے اسٹیشن پر پڑے کئی دن گذر گئے تو پولس نے ہنکال دیا۔ نزدیک لکڑیوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے ۔ ایک سائبان تھا۔ اس میں جا بیٹھے۔
’’ کاٹھ گودام بھی آدھا نینی تال سمجھو۔ خالہ کی طبیعت بہتر ہونے لگی۔ ذرا دم آیا تو کسی نے جمّن خاں سے کہا آس پاس کے گاؤں میں گا بجا کر کافی کما سکتے ہیں۔ ہم لوگ لاری میں بیٹھ کر ہلدوانی پہنچے ۔ پھر وہاں سے اور آگے ۔ ترائی کے علاقے میں گھومنے لگے ۔ افضل گڑھ ، لال ڈانگ، کالا گڑھ، وہاں باگھ بگھیلوں کی کثرت تھی رات کو ہم لوگ کسی جنگل کے راستے سے گذرتے شیروں کے دہاڑنے کی آواز آتی۔ اکثر خالہ مجھے کوستیں ۔ کمبخت کوئی شیر بھی آکر اسے نہیں کھاتا۔میں بھی کبھی کبھی دعا مانگتی۔ اللہ میاں کوئی شیر تیندوا بھیج دو جو آکر مجھے کھا جائے۔ لال ڈانگ میں کوربٹ صاحب کا بنگلہ تھا ۔ وہ آدم خوروں کی تلاش میں بندوق اٹھائے جنگل جنگل گھومتا تھا ۔
’’اس علاقے کی آب وہوااتنی اچھی تھی کہ خالہ جو برسو ں حسین آباد کے گندے مکان میں محبوس رہی تھیں ، اچھی ہونے لگیں ۔ وہ بڑا سرسبز پر فضا علاقہ تھا ۔ واں کچے راستوں پر اب بھی دو منزلہ شکر میں چلتی تھیں ۔ ہم لوگ وہاں کئی برس گھومے۔ افضل گڑھ میں عیسائیوں کا مشن تھا۔ ایک دفعے انھوں نے اشارتاً ہم سے کہا کہ تم سب عیسائی ہوجاؤ اور ہماری تبلیغی ٹولی میں شامل ہو کر گاؤں گاؤں اسی طرح یسوع مسیح کے بھجن گاؤ تو تمھارا علاج بھی کرادیں گے ۔ اسکول کالج پڑھا بھی دیں گے ۔ میں نے خالہ سے کہا ۔ ہو جاؤعیسائی ۔ خدا نہ یہاں ہے نہ وہاں ، فرق کیا پڑتا ہے ۔ تمھارا اور میرا علاج تو ہوجائے گا ۔ بجیا اسکول میں داخل ہوجائیں گی۔ ان کی زندگی بن جائے گی ۔ خالہ ہمیشہ کی ہتھ چھُٹ ۔ انھوں نے مار مار ہمیں اتّو کردیا۔ ٹانگ تو غارت ہوئی ۔ بدبخت ایمان بھی کھونے پر تیار ہے ۔خیر ___ان مشنری عورتوں نے ہمیں اور بجیا کو تھوڑی سی انگریزی پڑھا دی۔ ، اُون کا کام سکھلا دیا۔
’’جُمّن خاں ذات کے بھانڈ تھے۔ کہتے تھے ان کے دادا پردادا شاہی کے لکھنؤ میں نامی گرامی بھانڈ تھے۔ زمانہ بدل گیا ۔ ان کے فن کے قدر دان نہ رہے۔ جمّن خان نے مجبوراً نائی کاکام سیکھ لیا۔ اب بھی ان کو تین چار نقلیں یا د تھیں۔ بے چارے بڑے کوشش سے میلوں ٹھیلوں میں وہی پیش کرتے۔ ۔ بجیا اور ہم گاتے ۔ خالہ ڈھولک بجاتیں ۔ بے چاری خالہ نے ان سے نکاح کرلیا تھا ۔ گنواروں نے ہمارا نام جملین سے جلیبی کردیا ۔ بجیا امرتیؔ کہلاتی تھیں ۔ بڑی کٹھن زندگی تھی۔ لیکن خالہ حسین آباد آنے کے لیے تیار نہ تھیں ۔ انھیں یقین تھا کہ ٹاٹ کے پردے کے پیچھے مقید ہو کر انھیں پھرٹی بی ہوجائے گی لیکن گاؤں اور قصبوںمیں اتنی غربت تھی ۔ زمین دار وں کی تقریبوں میں دس پانچ روپے ایک آدھ جوڑا کپڑا مل جاتا تھا ۔ بڑی مشکل سے گذر ہورہی تھی۔پھر پاکستان بنا۔سکھ ریفیوجیوں کو بسانے کے لیے جنگل کاٹے گئے ۔ اس علاقے میں پنجابی شرنار تھی آباد ہونے لگے۔ وہ ہمارے گانوںاور نقلوں کو کیا سمجھیں ۔ ہم لوگوں نے پھر ا ودھ کا رخ کیا۔
’’ وہاں ایک قصبے میںہم لوگ ایک سرائے میں ٹکے تھے۔ جاڑوں کا زمانہ تھا ۔ رمضان کا مہینہ۔ مجھے وہ رات اب تک اتنی صاف یاد ہے ۔۲۱؍رمضان کی شب تھی ۔ خالو گاؤں کی مسجد میں تراویح پڑھنے گئے ہوئے تھے ۔ میں اور خالہ اور بجیا سرائے کے برآمدے میں بیٹھے آگ تاپ رہے تھے ۔ خالو کا قاعدہ تھا کہ مسجد سے سحری کھا کر واپس آتے تھے کیوں کہ وہاں گاؤں والے دین داروں کی بھیجی ہوئی سحری کھانے کو مل جاتی تھی ۔ سحری کے بعد بستی کی طرف سے نوحے کی دل دوز آواز سنائی دی۔ ابن ملجم نے حیدرؑ کو مارا۔ روزہ دارو قیامت کے دن ہیں ___ خالو، بجیا اور میں بھی وہی نوحہ پڑھنے لگے ۔ اسی وقت ڈھاٹے باندھے ڈاکو صحن میں آکودے ۔ ایک ڈکیت بجیا کو اٹھا لے جانے کے لیے آگے بڑھا ۔ سرائے کے آنگن میں سحری کے لیے جگہ جگہ چولھے جل رہے تھے ۔ ہماری چیخیں سن کر سارے مسافر دوڑ پڑے ۔ ڈاکوؤں کو مار بھگایا ۔ مگر ہم تینوں دہل کے رہ گئے ۔ خالو فجر پڑھ کر مسجد سے لوٹے۔ خالہ نے کہا آج ہی شہر واپس چلو ۔ دیہات سے بھر پائے ۔ چنانچہ ہم لوگ لکھنؤ واپس آگئے ۔ یہاں آغا فرہاد کے شاگر پیشے میں ایک کوٹھری کرائے کے لیے خالی تھی اس میں آن بسے ___‘‘
ورما صاحب اور آغا فرہاد مبہوت بیٹھے سن رہے تھے ۔ جمیلن نے قصہ ختم کیا تو چونک پڑے۔ صدف آرا جو رسوئی سے آچکی تھی کہانی سن کرآنسوبہا رہی تھی۔
’’ مگر تعجب ہے رشکِ قمر تم لوگ بھابھرؔ کے علاقے میں پلی بڑھیں اور اردو تمہاری اتنی نفیس ہے ۔‘‘ ورما صاحب نے کہا۔
’’ ورما صاحب ___ جان صاحبؔ کی ریختی خانگیوں ہی کی زبان تھی___ ‘‘ آغا فرہاد بولے۔
’’ اور ہرمزی خالہ اور جُمن بھانڈ کی تربیت ۔ ‘‘ رشک قمر بولی ۔ ’’ ہرمزی خالہ سنک گئی ہیں لیکن اب بھی ان کو درجنوں شعر یاد ہیں۔‘‘
’’ او ہو___ ہمارا خیال تھا تم لوگ ذات کی میراثن ہو___‘‘
’’ میراثنیں بے چاریاں شریف ہوتی ہیں۔ پیشہ نہیں کرتیں۔ در اصل ہمیں اور بجیا کو گانے کا بہت شوق تھا اس لیے خالہ نے ڈھولک منگوادی تھی۔‘‘
’’ پردہ نشین خانگیاں گاتی بجاتی نہیں ہیں۔ ہم سے پوچھیے ۔ اچھا ایک بات بتاؤ قمرن۔ عورتیں خانگیاں کیوں بن جاتی ہیں؟‘‘
’’ یہ بھی نہایت غیر ضروری سوال ہے آغا صاحب۔ گویا آپ تو جانتے ہی نہیں ۔‘‘ رشک قمر نے اکتا کر جواب دیا ۔‘‘ انسان پیٹ کی خاطر سب کچھ کرتا ہے ۔ شرافت ورافت سب دھری رہ جاتی ہے ۔ زیادہ تر خانگیاں سفید پوش بدحال گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ خود ہمارے نانا بے حد شریف، بے حد غریب آدمی تھے۔ وہ مر مرا گئے۔ امّاں کو انہوں نے جس شریف غریب آدمی سے بیاہ دیا تھا وہ کسی وبا میں چل بسے ۔ ہمارے باپ ___ ہم ڈیڑھ برس کے تھے ۔ اماں سترہ برس کی عمر میں بیوہ ہوئیں بالکل بے سہارا رہ گئیں تو مجبوراً ___ ہرمزی خالہ کے میاں کسی فوج داری کے مقدمے میں پھنس گئے تھے ۔ وہ پولس سے چھپنے کے لیے لاپتہ ہوگئے ۔ خالہ کے سسرالیوں نے بے چاری کو منحوس منحوس کہہ کر گھر سے ہنکال دیا۔ وہ بھی ناچار اماں کے پاس حسین آباد آگئیں۔ جمیلن وہیں پیدا ہوئی تھی۔ اس کے باپ اسی شہر کے بڑے باعزت انسان ہیں۔ انہوں نے کبھی پلٹ کر اس کی خبر نہیں لی۔‘‘
’’ افوہ بھائی ۔‘‘ ورما صاحب نے ایک گہرا سانس لیا ۔ ’’ صدف آرا سے سنو تو وہ بھی کم ستائی ہوئی نہیں ہے ۔ اسے تیرہ برس کی عمر میں اس کی ماں نے ایک جھڑوس زمین دار کے ہاتھ بیچ دیا تھا۔ وہ تھا sadist اس کی خوش قسمتی سے وہ دس سال ہی میں لڑھک گیا۔ یہ گڑھی سے بھاگ کر پھر اپنے گاؤں واپس آگئی۔‘‘
صدف آرا اب زارو قطار رو رہی تھی۔
’’ کبھی آپ کے پاس وقت ہو تو ہمارے جمن خاں سے ان کی داستان حیات بھی سنئے گا۔ یہ جو آپ لوگ اپنی کتابوں رسالوںمیں بڑی اونچی اونچی باتیں لکھتے ہیں سب بھول جائیں گے۔ ‘‘ جمیلن نے تلخی سے مسکرا کر کہا۔
’’بھانڈوں کی حالت بہت الم ناک ہے ۔‘‘ آغا فرہاد سرہلا کربولے ۔ ’’ فاقے کر رہے ہیں۔ ہمارے بچپن تک بھانڈ اور سادھو بچے تقریبوں میں بلائے جاتے تھے۔ یار ورما! تم کو مصطفی حسین بھانڈ یاد ہیں؟ کیا زبردست فن کار تھے۔‘‘
’’ دھندلے سے یاد ہیں۔ ہماری بوا کی شادی پر برات کے ساتھ نر ہی تشریف لائے تھے۔‘‘ ورما صاحب نے جواب دیا۔
’’ ہمیں خوب یاد ہیں اسی برس کے تھے جب ہم نے دیکھا۔ اس عمر میں بھی کیا ناچتے تھے۔ باکمال رقاص تھے۔ اور بعض مرتبہ بس خاموش کھڑے ہوجاتے تھے لیکن اس انداز سے کھڑے ہوتے تھے کہ محفل زعفران زار بن جاتی تھی اور وہ ان کی گھوڑا چھوڑنے کی نقل ۔ ارے یہ لوگ ویسٹ میں پیدا ہوئے ہوتے تو ساری دنیا انہیں جانتی اور لکھ پتی ہوتے ۔‘‘
’’ جمّن خالومصطفی حسین صاحب سے اچھی طرح واقف تھے۔‘‘ رشک قمرنے کہا۔
’’ اب بتاؤ ۔ بے چارے جمن خاں کو نائی بننا پڑا ۔‘‘ ورما صاحب بولے۔
’’ یہ جو ہماری سوسائٹی میں بے چارے lowest of the lowly کہلاتے ہیں کبھی ان کی زندگیوں میں جھانک کر دیکھنا چاہئے ۔ ہمیں تو شہدوں پر بہت ترس آتا ہے ۔ ساری عمر مردے اٹھانا، شادیوں میں نچھاور کے پیسے لوٹنا، عجیب و غریب گالیاں دینا، یہی ان کی زندگی ہے اور یہ اسی طرح اپنا پیٹ پالتے ہیں___ اور گورکن اور مردہ شونیاں___‘‘ آغا فرہادنے کہا ۔
’’ بھائی اب زیادہ ڈیپریس نہ کرو۔‘‘ ورما صاحب اداسی سے بولے۔
’’ اور اب سونگ برڈز کلب___‘‘ جمیلن نے اسی تلخ آواز میں کہا۔

(۵)

لال باغ کی ایک نئی عمارت کی گیلری میں بورڈ۔
دفاتر سونگ برڈرز انیٹر پرائزز (پرائیوٹ) لمٹیڈ۔ منیجنگ ڈائرکٹر:
این۔ کے ۔ ورما (گراؤنڈ فلور)
سونگ برڈز اسکول آف لائٹ میوزک ۔ پرنسپل صدف آرا بیگم، وائس پرنسپل کماری جل بالا لہری۔ فرسٹ فلور ۔
’’ گوہر شب چراغ‘‘ اردو کو ارٹرلی ۔ ڈیوٹیڈٹو لائف اینڈ لٹریچر۔ پیٹرن: آغا فرہاد قندھاری ، ایڈیٹر این کے ورما اسسٹنٹ ایڈیٹر: مس رشک قمر لکھنوی۔ فرسٹ فلور۔
سونگ برڈز ڈانس اینڈ ڈراما گروپ۔ فرسٹ فلور۔
ریزیڈنس منیجنگ ڈائرکٹر شری این کے ورما۔ سکنڈ فلور۔

شری این۔ کے ۔ ورما اپنی نفیس خواب گاہ میں مسہری پر نیم دراز ’’ گوہر شب چراغ ‘‘ کا اداریہ لکھنے میں مشغول ہیں۔ صدف آرا بیگم ایک پتی ورتا استری کی مانند پائنتی بیٹھی ان کے پاؤں داب رہی ہیں۔ سہ پہر کا وقت ۔ خدا اپنی جنت میں ہے اور دنیا میں ہر طرح سے خیریت۔
’’ ورما صاحب___ ارے ورما صاحب___ ہم ای کہت رہن اکی___‘‘
’’ ہم یہ کہتے تھے کہ ___‘‘
’’ اچھا۔ ہم یہ کہتے تھے کہ اب قمرن کا کا ہو یہے۔ جمیلن بتاوت رہن مساعروں میں آئے والی ساعرہ لوگ ایجی ٹیسن کر رہی ہیں اکی جس مساعرے میںرسک کمر کو بلایا جیہے وہ نہ جہیں ۔ ان کا چال چلن خراب ہے___‘‘
’’ شاعرہ لوگ کا دماغ خراب ہے۔ تاریخ ادب اردو گواہ ہے کہ بہت سی اربابِ نشاط صاحبِ دیوان گذری ہیں اور اہلِ نظر نے ان کی ہمیشہ کی قدر کی ___‘‘
’’ کا___؟‘‘
’’ ارے یار۔ تم تو ہو گدھیّا۔ اب بک بک مت کرو ہمیں مضمون لکھنے دو ___‘‘
’’ ورما صاحب___ ہم ایک باری ایک سپنا دیکھے رہن___ اکی تم ہم سے بیاہ کر لیہن ہو اور آغا فرہاد رسک کمر سے۔‘‘
’’ اس رات تم کھانا بہت کھا کر سوئی ہوں گی۔‘‘
’’ پرکچھ زمانہ انہوں نے آغا فرہاد کے ساتھ اچھا بتا لیا۔ مساعروں میں دور دور بلائی گئیں۔ بمبئی گئیں توبتاوت رہین بہوتے آؤ بھگت ہوئی۔ رائیٹر لوگ کے ہاں روز دعوت۔ چاء پانی، پھوٹو ہینچے جگہ جگہ گجلیں سنائیں۔ مساعرے ہوئے ۔ ہر جگہ فرہاد صاحب اور رسکِ کمر۔ فرہاد صاحب اور رسکِ کمر دھوم مچادی۔‘‘
’’ جی ہاں اور جب صاحبزادے لکھنؤ واپس آئے تو ڈپٹی ڈپٹیائن نے وہ جوتے کاری کی۔ لگائے پچاس اورگنا ایک ۔ اسی مہینے باندھ بوندھ کر بیاہ کردیا۔‘‘
’’ یہی تو گجب بھوا۔‘‘
’’ کیا غضب ہوا۔ ماں باپ کی طے کی ہوئی لڑکی سے بیاہ نہ کرتے؟‘‘
’’ ارے تم مرد لوگ ہو بڑے حرامی، ہم تو جب جانتے جب فرہاد صاحب ڈنکے کی چوٹ رشک قمر سے دو بول پڑھوا لیتے۔‘‘
’’ زیادہ ٹر ٹر نہ کرو۔‘‘
’’ تم بھی ہمارے ساتھ یہی کرو گے ہمیں معلوم ہے۔ جہاں تمہاری ماتا کہیں گی اسی کنواری کنیا سپتری راج کماری، سوبھاگیہ لکشمی کے ساتھ سات پھیرے ڈالو گے۔‘‘
’’ دیکھو صدف ہمارا بھیجا مت کھاؤ ۔ جاکر سور ہو۔ بھول گئیں تم کون تھیں ۔ کیا سے کیا بنا دیا۔ نامور آرٹسٹ ۔ اب اور زیادہ اونچے خواب نہ دیکھو بھائی۔ میلوں ٹھیلوں میں گانے والی موتی کوصدف آراء بیگم میں تبدیل کردیا ۔ پھر بھی چاؤں چاؤں۔‘‘
’’ نام بدلے سے قسمت تھوڑے بدل جات ہے۔ جمیلن کا نام بدلے سے کیا ان کی ریکھا بدل گئی۔ ویسے ہی پڑی جھینک رہی ہیں کھاٹ پر۔ ہم جات کے ہندو۔ تم نے ہمیں بنایا صدف آرا بیگم، جمیلن کو کردیا جل بالا لہری۔ اس سے کیا فرق پڑا۔ ارے جو بھگوان کے گھر سے لکھوا کر لایا ہے وہی بھوگے گا۔‘‘
’’ عجیب پاگل عورت ہے۔‘‘
’’ ارے بھگوان کی بے انصافی کا کوئی ٹھکانہ ہے۔ رشک قمر کے ہاں چاربرس میں دوٹھو لڑکے۔ اور فرہاد صاحب کے ہاں تین تین بیٹیاں۔ بھگوان کا جو کام دیکھو الٹا ۔ اتنے زمانے سے سنسار چلاتے چلاتے گڑبڑا گئے ہیں۔ ارے سنو ورما صاحب…‘‘
’’ کیا ہے یار___ ‘‘ ورما صاحب اونگھ رہے تھے۔
’’ جب نادر پیدا ہوئے ہم نے قمرن کو سمجھایا تھا ___ یہ بڑے ہوجائیں تو آغا فر ہاد پر دعویٰ کر دینا۔ اتنی بڑی جائداد کے مالک ہیں کچھ تو مل جائے گا۔ وہ تو بہ تلّا کرنے لگیں کہ ایسی بات ہی پھر نہ کہنا۔ اس بے چارے کے مرنے کے بعد فرہاد صاحب نے قمرن کا دوئی سو روپیہ باندھا۔ یہ بھی الٹی بات۔ اب جون آفتاب پیدا بھئے تو ان کا چار سو روپیہ مہینہ نہیںکرنے کا چاہی؟‘‘
’ ارے چغد ! آفتاب ان کا لڑکا نہیں ہے۔‘‘
’’ وہ تو ہم ہوجانت ہیں۔ وہ جون آرٹسٹ پنجاب سے آیا رہا اُکا ہے۔ آئے بھی وہ گئے بھی وہ ___ ختم فسانہ ہوئے گیا۔ آغا فرہاد تو ملتے جُلتے ہیں نہیں۔ بیوی سے ڈرت ہیں۔ ہمدردی میں وظیفہ دیت ہیں۔ تو ہمدردی میں دو سو اور بڑھادیں۔ ان کے پاس پیسے کی کوئی کمی ہے۔ اور قمرن بے چاری کی حالت بہت خراب ہے ___ اے ورما صاحب___ سوئے گیئن___‘‘
ورما صاحب اب خراٹے لے رہے تھے۔ صدف آرا بیگم اٹھ کر رسوئی گھر کی طرف جارہی تھیں جب کال بیل بجی۔ جاکر ڈرائنگ روم کا دروازہ کھولا۔ ایک لمبا تڑنگا۔ خوش شکل گورا چٹّا اجنبی نیلا سوٹ پہنے کھڑا مسکرارہا تھا، اپنا نام بتایا۔ صدف آرا نے اندر جاکر ورما صاحب کو جگایا۔‘‘
’’ ارے ورما صاحب___ اٹھو ___ وہ آئے ہیں۔ آغا شب دیگ___‘‘

(۶)

’’بجیا___ بہت بن ٹھن کے چلیں___ آغا شب دیگ نے بلایا ہے؟‘‘
’’ جمیلن تم صدف کی نقل میں جاہلانہ باتیں نہ کرو۔ ہم آغا شب آویز ہمدانی کے ساتھ آن پکچرؔ دیکھنے جارہے ہیں۔‘‘
’’ شب آویزنام ہی انوکھا ہے۔‘‘
’’ خالص ایرانی نام ہے ۔ اور ہمدان سے ان کے باپ کلکتے آن بسے تھے۔‘‘
’’شکر دان، چاء دان، ہمہ دان معقول۔ بس ذرا یہ خیال رکھنا کہ کہیں یہ بھی چونا نہ لگا جائیں۔ ایرانی ہے۔ حد سے حد متعہ کرکے چھوڑ دے گا۔‘‘
’’کالی زبان۔ تھو تھو___‘‘
’’نکاح کرے گا___؟‘‘
’’ہاں کہہ چکا ہے۔‘‘
’’نکاح کے لیے تیار ہے؟ جمیلن خوشی کے مارے اٹھ بیٹھی۔ سرہانے سے کھسک کھسک کر پائنتی آگئی جہاں قمرن کھڑکی کے پاس کھڑی میک اپ کر رہی تھی۔
’’کل شام کہہ رہے تھے یہاں سے جاتے ہی خط لکھیں گے۔ ٹھیک دو مہینے بعد بلا لیں گے۔‘‘
’’کلکتے___؟‘‘
’’نہیں ان کی بزنس کئی جگہ پھیلی ہے۔ کراچی، طہران، لندن۔ ابھی تو کراچی جارہے ہیں۔‘‘
’’ورما صاحب ان سے اچھی طرح واقف ہیں؟‘‘
’’ورما صاحب ہی کے پاس تو آئے تھے اپنی بزنس کے سلسلے۔ صدف مجھ سے ریڈیو اسٹیشن پر ملی۔ کہنے لگی ایک آغا کلکتے سے آیا ہے۔ بہت امیر ہے اور چھڑا۔ شاید نکاح کرلے۔ موسیقی کا بہت شوقین ہے۔ بے چاری نے دوسرے روز ہی سونگ برڈز کلب کا پروگرام رکھا۔‘‘
’’بجیا___ ایک بات کہوں۔ ورما صاحب صدف کی اس عادت سے بہت پریشان ہیں کہ وہ تمہیں سونگ برڈز کے ذریعے لوگوں سے ملواتی ہے۔ سونگ برڈز اسی لیے بدنام ہورہا ہے۔‘‘
’’تو آخر میں کیا کروں؟ مرجائوں؟ مشاعروں کے دعوت نامے آنے بند ہوگئے۔ ریڈیو پروگراموں سے خرچہ چل سکتا ہے؟ دو سو روپلّی فرہاد کے ہاں سے آتے ہیں۔ پچاس روپے مہینہ ورما صاحب فرضی میوزک اسکول کی فرضی وائس پرنسپلی کے نام سے تم کو دے رہے ہیں محض از راہ ہمدردی۔ ڈھائی سو میں گذر ہوسکتی ہے؟ ابھی آفتاب کو اسکول میں ڈالنا ہے۔‘‘
’’بجیا___ یہ آغا ہمدانی واقعی تم سے شادی کرنے کو تیار ہے___؟‘‘
’’کہہ چکا ہے صاف صاف الفاظ میں۔‘‘
’’لگتا ہے تم اس پر عاشق ہوگئی ہو۔ کم بخت خوب صورت تو بہت ہے۔‘‘
’’ہاں عاشق تو ہوگئے ہیں۔ آج تک کسی پر عاشق نہیں ہوئے تھے۔ اس پر جان جاتی ہے اور وہ بھی ہمیں بہت چاہتے ہیں۔‘‘
’’مگر وہ تمہیں کراچی یا لندن بلاکر شادی کرے گا۔ یہ مجھے یقین نہیں آتا۔‘‘
’’کالی زبان۔ تھو۔ تھو۔ تھو___ تو تو میری خوشی دیکھ کر جلتی ہے___ لنگڑی چڑیل___ پچھل پائی___‘‘
’’از برائے خدا بجیا___ ایسی گھٹیا باتیں تو مت کرو___‘‘
بجیا پرس اٹھاکر تن تناتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئیں۔ ڈیوڑھی میں پہنچ کر ٹاٹ کا پردہ اٹھایا اور باہر نکلیں، سائیکل رکشا میں بیٹھیں۔ رکشا پاٹے نالے سے نکل کر کار لٹن ہوٹل کی طرف روانہ ہوئی۔

(۷)

اورے بدھاتا بنتی کروں توری پیاّں پڑوں بارم بار
اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو چاہے نرک دیجو ڈار
ڈھولک کی تھاپ پر صدف آراء اور کماری جل بالا لہری کی سریلی آوازیں اور ایک دل دوز پوربی گیت___ اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو___ ارے اگلے جنم___
سونگ برڈز میوزک اسکول کے کمرے میں ایک لڑکی ٹیپ ریکارڈ چلا رہی تھی۔ صدف اور جمیلن برآمدے میں چٹائی پر بیٹھی تھیں۔ جمیلن کی بیساکھی سامنے دھری تھی۔ صدف تھالی میں ترکاری کاٹ رہی تھی۔ ورما صاحب باہر گئے ہوئے تھے۔
’’آج پندرہ تاریخ ہے۔ قمرن اب تک کراچی پہنچ گئی ہوں گی۔‘‘ صدف نے آلو چھیلتے ہوئے کہا۔
’’کیا پتہ۔‘‘ جمیلن آہستہ سے بولی۔ ’’کب تک پہنچیں گی۔ دھکا پاسپورٹ سے گئی ہیں۔ کھوکھرا پار کا راستہ سنا ہے بڑا جان جوکھوں کا سفر ہے۔ جوان بیٹی کا ساتھ۔‘‘
’’آج کی بات ہے جب ماہ پارہ پیدا ہوئی تھی۔ سولہ برس گذر گئے۔‘‘ صدف نے کہا۔
’’اب کیا وہ بجیا کو پہچانے گا۔ روپا ہوگئے کیس___ صدف ہم تو جانتے ہیں بعض گیت ہی منحوس ہوتے ہیں۔ یاد ہے بجیا ہر پروگرام میں وہی ایک راجستھانی مانڈ سنایا کرتی تھیں۔ ساون بیتو جائے___ عالی جاہ بیگی آوورے___ عالی جاہ بیگی آوورے___ روپا ملا نہ ساجن ملے روپا ہوگئے کیس___ عالی جاہ بیگی حرام زادے الو کے پٹھے کو نہ واپس آنا تھا نہ آیا___ ارے ایک خط تک نہ لکھا___‘‘
’’شروع شروع میں دو چار چٹھیاں تو آئی تھیں___‘‘ صدف نے کہا۔
’’اس کے بعد گول___ بجیا نے کتنے خط لکھے۔ ہر پتے پر___ کراچی___ طہران___ لندن___ سترہ برس ڈاکیے کی راہ دیکھتے گذار دیئے۔ صبح شام دروازے پر جاکر ڈاک کا انتظار کرتیں۔ ہم سے بار بار پوچھتیں کوئی ڈاک آئی___ کوئی تار آیا۔ سترہ برس___ اتنا بڑا انتظار۔‘‘
’’بہت بڑا انتظار___‘‘ صدف نے دہرایا۔
’’جب ماہ پارہ پیدا ہوئی تھی یاد ہے ورما صاحب نے پھٹ سے اس کا کیا نام تجویزا تھا___ ماہ دُخت___ کہ ایرانی کی بیٹی ہے اس کا نام ہے ماہ دخت___ اور ایک نام امرا پالی رکھا تھا۔ ایک ایرانی نام رکھو۔ ایک ہندوستانی اور جب باپ کے پاس جاکر رہے گی انگلینڈ۔ ایک انگلش نام وہاں رکھ لے گی۔‘‘ جمیلن بے پایاں تلخی سے ہنسی۔ ’’ماہ پارہ اپنے اسکول میں لڑکیوں سے کہا کرتی تھی ہمارے ڈیڈی لندن اور کراچی کے بڑے بھاری بزنس مین ہیں۔‘‘
’’ورما صاحب کوئی تحفہ اس کے لیے فارن سے لے کر آتے اسے سمجھا دیتے۔ بٹیا امراپالی اسکول میں اپنی دوستوں کو بتانا تمہارے ڈیڈی نے لندن سے بھیجا ہے۔‘‘ صدف نے کہا اور دو پٹے سے اپنے آنسو پونچھے۔
’’صدف۔ بجیا کو ڈھونگی پیروں فقیروں کے چکر میں تم ہی نے ڈالا۔‘‘
’’ہم کیا کرتے جمیلن۔ قمرن ماہ پارہ کی وجہ سے بالکل خفقانی ہوئی جاتی تھیں۔ ہم سے روز کہتیں ماہ پارہ بڑی ہوتی جارہی ہے۔ کہیں اسے بھی میری طرح کی زندگی نہ گزارنی پڑے۔ میں چاہتی ہوں اسے کسی نہ کسی طرح اس کے باپ کے سپرد کردوں۔ جمیلن تو خدا ہی کو نہیں مانتیں ان سے کیاکہوں۔ تم کسی پہنچے ہوئے بزرگ کے پاس لے چلو۔ یہ تو اب کی بات ہے جب ماہ پارا تین سال کی تھی تب قمرن ایک شاہ صاحب کے پاس گئی تھیں ہمیں بھی ساتھ لے گئی تھیں___ ان کی بہت دھوم سنی تھی۔ انہوں نے قمرن سے کہا تمہارے اوپر کسی دشمن نے جادو کردیا ہے۔ راستے بند کردیئے ہیں۔ تمہارے بال کہیں پر دفن کیے گئے ہیں۔ تین سو روپے دو۔ قبرستان میں چالیس دن عمل کریں گے۔ ہم تو یہ سب سن کر ڈر گئے۔ ہم نے قمرن سے کہا واپس چلو___ ہم تو آگئے مگر وہ پھر پہنچیں ان کے پاس۔ ان سے مایوس ہوئیں تو دوسرے عاملوں کے پتے ڈھونڈ کر خود جانے لگیں___ کتنا روپیہ برباد کیا۔تم سے ڈرتی تھیں۔ تمہیں کیا بتائیں۔ ہم نے بہت سمجھایا مگر وہ مانی ہی نہیں۔ بس یہی لگن لگی تھی کہ شب دیگ کا خط آجائے۔ وہ بلا لے۔ بلا کر بیاہ کرلے یا ماہ پارہ کی ذمے داری سنبھال لے۔ سارے پیر فقیر، نجومی، رمال انہیں یہی آس دیا کیے۔ آج سے اکیسویں دن خط آوے گا۔ آج سے ساتویں رات وہ خواب میں آئیں گے۔ آج سے چالیسویں دن خط آوے گا۔ سنیچر کی ساڑھ ستّی ہے۔ وہ ختم ہوگی تو مراد پوری ہوگی___ ارے کتنا سینکڑوں ہزاروں روپیہ کھلادیا ان ٹھگوں کو___ مگر آس نہ ٹوٹی___‘‘
’’اس پیر گردی میں بجیا نے اپنے زیور بھی بیچ ڈالے۔ پورا ایک سیٹ بنوا لیا تھا جڑائو___ ایک جوڑ کڑے ٹھوس۔ تمہارے ہی ساتھ جاکر تو بنوائے تھے۔ ہم نے یہ دیکھا کہ کہیں جاتی ہیں تو گہنے نہیں پہنتیں۔ ہم نے پوچھا تو کہنے لگیں ماہ پارا کے لیے بنک کے لاکر میں رکھ دیئے ہیں۔ اب ان کے پاکستان جانے کے بعد خبریں مل رہی ہیں کہ سارے گہنے بیچ کر ایک ٹھگ پیر فلفل شاہ بلیّوں والے کو کھلا دیئے۔ وہ برسوں سے ان کے لیے بہت لمبے لمبے عمل کر رہا تھا۔‘‘
’’ایک بات ہے جمیلن۔ ان ہی فلفل شاہ نے ان کو کراچی جانے کی رائے دی۔‘‘
’’کہاں رہتا ہے۔ میرا بس چلے تو جیل بھجوادوں___‘‘ بخشی کے تالاب پر رہتا تھا۔ اب غائب ہے۔ ہم سے ایک روز قمرن نے آکر بہت خوشی خوشی بتایا کہ فلفل شاہ کہتے ہیں___ ’لڑکی کو لے کر پاکستان چلی جائو۔ ہم نے اس کا زائچہ بنایا ہے۔ اس کے ستارے بہت تگڑے ہیں۔ کراچی پہنچتے ہی گوہر مراد حاصل ہوگا۔ محبوب کا سر تمہارے قدموں پر ہوگا___‘ اب ہم تو یہ کہتے ہیں جمیلن ہوسکتا ہے کراچی میں شب دیگ سے ملاقات ہوجائے۔ اپنی لڑکی کو دیکھ کر ہی انہیں دیا آ جائے اور کچھ نہیں تو ماہ پارا کے نصیب ہی اچھے نکلیں۔ ان کا وہاں بیاہ ہوجائے۔ ہم تو دونوں جب سے گئی ہیں، روز دعائیں مانگ رہے ہیں۔ کبھی کبھی بھگوان سن بھی لیتے ہیں۔‘‘
’’اچھا___؟ تم اپنے لیے اتنی مدتوں سے دعا مانگ رہی ہو وہ تمہارے بھگوان نے سنی؟‘‘ جمیلن نے پوچھا۔
صدف سرجھکائے ترکاری کاٹتی رہی۔
’’ورما صاحب نہیں ا ٓئے اب تلک ہم چلیں۔‘‘ جمیلن نے اپنی بیساکھی اٹھاتے ہوئے کہا۔
’’اپنی پریشانیوں میں گھوم رہے ہیں۔ جب سے ان کے باپ مرے ہیں وہ باپ کی بزنس سنبھالیں کہ سونگ برڈز کو دیکھیں۔ کل کہہ رہے تھے اس کو بند ہی کردیں گے۔‘‘
’’پھر تم کہاں جائو گی___؟ ان کی ماتا جی تو تمہیں قبولنے کے لیے اب تک راضی نہیں ہوئیں۔‘‘
’’جہاں ہمارے مقدر میں ہوگا جمیلن ہم وہاں جائیں گے۔‘‘
’’ہمیں رکشا تک پہنچا دو صدف___ بجیا اگر کراچی پہنچ گئی ہیں تو وہاں دھکے کھاتی پھر رہی ہوں گی۔ اب ہم گھر جاکر ان کے خط کا انتظار شروع کریں گے۔‘‘

(۸)

پیاری بجیا۔ تسلیم۔
آپ کو یہاں سے گئے ایک سال ہوگیا۔ خیریت سے پہنچے کا صرف ایک پوسٹ کارڈ آیا تھا۔ اور اس کے چار مہینے بعد ایک اور پوسٹ کارڈ۔ ہم اور خالہ یہاں فکر سے ادھ مؤئے ہوئے جارہے ہیں۔ از برائے خدا سب مفصل حالات لکھیے۔ شاید آپ نے مکان تبدیل کرلیا ہے۔ ہم آپ کو جتنے خط بھیجتے ہیں جواب نہیں آتا۔ صدف بھی کئی خط لکھ چکی ہیں۔ اب یہاں کے حالات سنیے۔ بڑے افسوس سے اطلاع دیتی ہوں کہ خالو کا بدھ کو انتقال ہوگیا۔ کل مسجد میں سوئم کی قرآن خوانی، فاتحہ خوانی بھی کروا دی گئی۔ بجیا دوسری بری خبر یہ سناتی ہوں کہ تمہارا لڑکا آفتاب ایک روز مجھ جاگتی کی سونے کی دونوں چوڑیاں جو تم بنوا گئی تھیں کلائیوں میں سے نوچ کر لے بھاگا۔ میں جنم کی اپاہج۔ اس کے پیچھے دوڑ بھی نہ سکی۔ خالہ ہائیں ہائیں کرتی رہ گئیں۔ یاد ہے پہلے کہا کرتا تھا فرہاد صاحب کے پیٹ میں چھرا گھونپ دوں گا۔ ان کی لڑکیوں کو غنڈوں سے اٹھوا لوں گا۔ اب تمہارے جانے کے بعد سے دھن سوار تھی کہ بمبئی جاکر ہیرو بنوں گا۔ میری چوڑیاں اڑا کر بمبئی بھاگ گیا۔ سنا ہے وہاں چاقو چھری لیے غنڈہ گردی کرتا پھر رہا ہے۔
فرہاد صاحب کی نئی کوٹھی بٹلر پیلیس کو لونی میں بن کر تیار ہوگئی ہے۔ وہ اس میں اٹھ گئے ہیں۔ ان کی بڑی لڑکی جس کی شادی انگلینڈ میں کسی ڈاکٹر سے ہوئی تھی وہیں پر ہے۔ چھوٹی جو بیاہ کے کراچی گئی تھی شاید تمہاری کبھی اس سے وہاں مڈ بھیڑ ہوجائے۔ سنا ہے اس کا شوہر وہاں کروڑ پتی ہے۔ منجھلی والی لڑکی آج کل لکھنؤ میں ہے۔ اس کے شوہر نے سیتا پور میں بڑے پیمانے پر فارمنگ شروع کردی ہے۔ فرہاد صاحب نے خالو کے کفن دفن کے لیے پانچ سو روپے بھجوائے تھے۔ جو ملازم پیسے لے کر آیا تھا اس نے یہ سب بتلایا۔
بجیا تمہیں یاد ہے ماہ پارا کے باپ کے لکھنؤ سے جانے کے چند روز بعد ہم لوگ سب ورما صاحب کے ہاں جمع تھے۔ تم نے کہا تھا پتہ نہیں ہماری ماں، خالہ اور ہم دونوں اتنے بد نصیب کیوں پیدا ہوئے تو میں نے تم سے کہا تھا ذرا دنیا کے اصل بد نصیبوں کو دیکھو۔ جنم کے اندھے۔ ڈھائی فٹ کے بونے بونیاں۔ کبڑی لڑکیاں، پیٹھ پر یہ بڑے بڑے کوبڑ یا چہرے پر چیچک کے نشان۔ بھینگی۔ کانی۔ ہم ہی کو دیکھ لو کہ اچک اچک کر چلتے ہیں۔ کم از کم تمہاری صورت تو اچھی ہے۔ آواز تو ہے اور دیکھو مردہ شونیاں، بھکارنیں، جیل کاٹنے والی عورتیں۔ فرض کرو تم کسی قتل کے مقدمے میں پھنس جاتیں اور عمر قید ہوتی۔ دنیا میں ہزاروں کیا لاکھوں انسان عمر قید کاٹ رہے ہیں۔ سینکڑوں پھانسی چڑھتے ہیں۔ قتل کیے جاتے ہیں۔ تم اور ہم تو لاکھوں سے بہتر ہیں، اپنے سے بد تر لوگوں پر نظر کرو۔
ورما صاحب تالی بجا کر بولے۔ شاباش جمیلن That's The Spirit لیکن اب بجیا ہماری اسپرٹ کا بھی کچھ کچومر نکلتا جارہا ہے۔ کہاں تک اور کب تک۔
اسی روز تم اس کم بخت آغا شب دیگ کی روانگی کی وجہ سے بہت اداس بیٹھی تھیں تو ورما صاحب نے تمہیں Cheer Up کرنے کے لیے چھیڑا تھا کہ رشکِ قمر تم گوہر شب چراغ کے لیے ایک افسانہ لکھو۔ افسانہ لکھ رہی ہوں دل بے قرار کا۔ آنکھوں میں رنگ بھرکے ترے انتظار کا___ تو میں نے چڑ کر کہا تھا افسانہ لکھیں بجیا کے دشمن اور موئی آنکھیں نہ ہوئیں بالٹیاں ہوگئیں۔ بالٹیوں میں رنگ بھرکے ترے انتظار کا۔ سب خوب ہنسے تھے۔ تم بھی ہنس پڑی تھیں۔ پھر ورما صاحب خود ہی کہنے لگے واقعی تم دونوں کی زندگیاں تو ایسی ہیں کہ کوئی گریک ٹریجڈی بھی اس کے مقابلے میں پکنک معلوم ہو۔ میں نے پوچھا گریک ٹریجڈی کیسی ہوتی ہے۔ تم نے کہا تھا وہی جو ہمارے مقابلے میں پکنک معلوم ہو۔
ورما صاحب بولے۔ تم لوگ تنہا نہیں ہو۔ ہمارے سماج میں زیادہ تر عورتوں کی زندگیاں ہمیشہ سے ٹریجک رہی ہیں اور انہیں مزید بے وقوف بنانے کے لیے انہیں ستی ساوتری، وفا کی پتلی، ایثار کی دیوی کے خطاب دے دیئے جاتے ہیں اور وہ خوش ہوجاتی ہیں۔‘‘
’’نہایت الو کی پٹھیاں ہیں۔‘‘ میں نے جل کے کہا تھا۔ کہنے لگے۔ ’’لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اس کی ماں روتی ہے کہ جانے کیسا نصیبہ لے کر آئی ہے۔ وداع ہوتی ہے تو ماں پچھاڑیں کھاتی ہے کہ نجانے سسرال میں اس پر کیا بیتے گی۔ کبھی تم نے کسی انگریز یا امریکن یا یوروپین لڑکی کو دیکھا یا سنا ہے کہ اس کے بیاہ پر وہ خود یا اس کے ماں باپ دھاڑیں مار مار کر روتے ہوں۔ پھر ہماری ہندوستانی عورت بیوہ ہوتی ہے تو دراصل پچھاڑیں اس لیے کھاتی ہے کہ اس کے روٹی کپڑے کا سہارا ختم ہوا۔
مگر بجیا۔ ان سب کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور۔ ورما صاحب نے ہمیشہ اسی طرح بڑی اونچی اونچی باتیں کیں مگر خود صدف سے بیاہ نہ کیا۔ ایسی وفادار عورت جس نے بیس اکیس برس ان کے پائوں دھو دھو کر پئے کسی دوسرے پر نظر نہ ڈالی اسے انہوں نے پچھلے دنوں پرانی جوتی کی طرح اتار پھینکا۔
چنانچہ اب ایک بلکہ دو زور دار خبریں بھی سن لو۔ شری نریندر کمار ورما کو ایک دولت مند گجراتن لیڈی ڈاکٹر نے اغوا کرلیا۔ ولایت سے آئی تھی۔ یہ موٹی بھینس کی بھینس۔ ورما صاحب پر خوب ڈورے ڈالے۔ بہت امیر عورت ہے۔ باپ احمد آباد میں مل اونر ہے۔ ورما صاحب کی سونگ برڈز انٹر پرائزز اب تقریباً ٹھپ ہوچکی ہے۔ اپنا خان دانی بزنس وہ گھاٹے سے چلا رہے تھے۔ گوہر شب چراغ بھی بند ہوگیا۔ اس میں بہت روپیہ اتنے برسوں ڈبویا۔ شاید یہی سب سوچ کر ڈاکٹرنی سے شادی کرلی۔ وہ انہیں رخصت کراکے احمد آباد لے گئی۔ بجیا تم سوچ سکتی ہو صدف کا کیا حال ہوگا۔ بہت برا حال تھا چہکو پہکو روتی تھی۔ لیکن ورما صاحب نے کچھ روپیہ اس کے نام جمع کردیا تھا۔ اس نے دو کمروں کا ایک فلیٹ لے لیا۔ اس میں اٹھ گئی۔ یہ کوئی چھ مہینے کی بات ہے۔ مگراب جو قصہ سناتی ہوں اس پہ سر دھنو۔ ابھی چار مہینے ہوئے لکھنؤ میں ہندوستانی لوک سنگیت پر ایک انٹر نیشنل کانفرنس ہوئی۔ مجھے اور صدف کو بھی مدعو کیا گیا۔ کانفرنس والے مجھے کرسی پر بٹھا کر لے گئے۔ میرے اندر اب گانے کی طاقت تو رہی نہیں بس بیٹھی بیٹھی ٹکر ٹکر سب کے منہ دیکھا کی۔ کانفرنس میں فارن کے لوگ بھی آئے تھے۔ ایک اردو ہندی داں امریکن بھی تھا۔ بجیا، وہ امریکن صدف پر لٹو ہوگیا۔ جتنی دیر انہوں نے گایا وہ بالکل الوئوں کی طرح منہ کھولے ان کو تکتا رہا۔ کانفرنس کے بعد صدف سے بار بار ملا۔ پندرہویں دن ان کو کورٹ میں لے جاکر سول میرج کرلی۔ صدف سے تین چار سال چھوٹا ہی ہوگا۔ ( یاد ہے ورما صاحب کہا کرتے تھے ہماری سرون پہ کوئی فرنگی عاشق ہوگیا۔ ہم جاکر اسے قتل کردیں گے!) شادی کے تیسرے دن صدف اسے لے کر ہم سے ملانے لائیں۔ کہنے لگیں یہ ہمیں سیڈی کہتے ہیں۔ کہتے ہیں ’’مس سیڈی تھامپسن‘‘ کسی انگریز کے مشہور ناول کی ہیروئن ہے۔ میں نے دل میں سوچا ورما صاحب کو بتانے والی بات ہے۔ وہ فٹا فٹ نام تجویز کرنے کے بہت شوقین تھے۔ مگر ورما صاحب اب کہاں احمد آباد میں بیٹھے سسرے کا بہی کھاتہ دیکھ رہے ہوں گے۔
آج پندرہ دن ہوتے ہیں بی صدف اپنے میاں کے ساتھ امریکہ چلی گئیں۔ چلتے وقت ہم سے لپٹ کر اور تمہیں یاد کرکے دھاروں روئیں۔ پرسوں ان کا پیرس سے ہمارے نام خط بھی آگیا۔
کاش بجیا اسی طرح تمہارے دن بھی پھر جائیں۔
ورما صاحب کا میوزک اسکول بند ہونے سے ہماری وہ پنشن بھی القط جو بے چارے نے اتنے برسوں دی۔ تمہارے جانے کے بعد تو ڈیڑھ سو روپیہ مہینہ کردیا تھا۔ فرہاد صاحب سے ہم ایک پیسے کی مدد نہ لیں گے۔ بجیا اب پھرا بالکل نہیں جاتا۔ پلنگ پر پڑے پڑے پلاسٹک کی ٹوکریاں، سوئیٹر بن کر بیچے۔ اب چکن کاڑھنی شروع کردی ہے۔ ایک ساڑی کے دس روپے۔ زیادہ کڑھت ہو تو بیس یا پچیس۔ بہت دیدہ ریزی کا کام ہے۔ مگر اب آمدنی کا یہی ایک ذریعہ ہے۔ فاقہ کشی کا وہی زمانہ واپس آگیا جو بچپن اور لڑکپن میں تھا۔ واہ ہماری بھی کیا زندگی رہی۔
بجیا اگر تمہارا کام وہاں نہ بنے تو از برائے خدا واپس آجائو۔ خالہ دعا لکھواتی ہیں۔ ماہ پارا کو بہت بہت پیار۔
تمہاری جمیل النساء
یہ خط مکتوب الیہ کے پاس نہیں پہنچا کیوں کہ ۷۱ئ؁ کی انڈوپاک جنگ شروع ہوچکی تھی۔ بھارت اور مغربی پاکستان کے درمیان ڈاک کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔

(۹)

میری پیاری بہن جمیل النساء ہزاروں دعائیں۔ میں جب سے یہاں آئی ہوں تم کو کئی خط لکھ چکی ہوں۔ ایک کا جواب نہیں آیا۔ تمہارے اور خالہ خالو اور آفتاب بیٹے کے لیے سخت فکر مند ہوں۔ میں نے تمہیں پہلے بھی لکھا تھا اب پھرتا کید ہے آفتاب کو کسی طرح مار پیٹ کر اسکول بھیجتی رہو۔ ورما صاحب سے کہو اس کی فیس معاف کرادیں اور اسے سمجھائیں کہ وہ پڑھنے میں دل لگائے۔ وہ میرے سامنے ہی حد سے زیادہ آوارہ ہوگیا تھا۔
میں تم کو یہاں کی داستان پوری لکھ چکی ہوں۔ یہ سوچ کر کہ شاید وہ مفصل خط تم کو نہیں ملا از سرِ نو سارا قصہ بتاتی ہوں۔ مگر تم میری فکر میں کڑھنا نہیں۔ انشاء اللہ سب ٹھیک ہوجائے گا۔
کھوکھرا پار کے رستے میں بریلی کے ایک غریب مولوی صاحب اور ان کی بڑھیا کا ساتھ ہوگیا تھا جو اپنے بیٹے کے پاس کراچی جارہے تھے۔ بڑے نیک لوگ تھے۔ مجھ سے کہنے لگے تم عورت ذات۔ جوان جہان بیٹی کا ساتھ۔ کراچی میں اکیلی کہاں دھکے کھائو گی۔ جب تک کوئی ٹھکانہ نہ بنے ہمارے ساتھ ہی رہو۔ میں نے ان کو یوں بتایا تھا کہ شوہر نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔ وہ چھ ماہ کراچی چھ ماہ لندن رہتا ہے اور میں نان نفقے کا مطالبہ کرنے پاکستان آئی ہوں۔ یہ سن کر انہیں بہت ہمدردی ہوگئی تھی کیوں کہ ان کی لڑکی کو بھی اس کے خاوند نے بے قصور طلاق طلاق طلاق کہہ کر دھتا بتائی تھی اور وہ بریلی میں پڑی اپنی جان کو رو رہی تھی۔
بہر حال۔ تو میں ان کے ساتھ لالو کھیت پہنچی جو یہاں غریب مہاجروں کی ایک بستی ہے۔ ان کا بیٹا محمد لطیف خان کسی امریکن کے ہاں موٹر ڈرائیور تھا۔ وہ بھی بہت اچھی طرح پیش آیا مگر اس کی بیوی ماہ پارا اور مجھ سے جلنے لگی۔ میں نے لطیف بھائی سے کہا کہ جلد از جلد مجھے کہیں کھانا پکانے کی نوکری ہی دلوادیں تو میں ان کے گھر سے چلی جائوں۔ وہ میرے لیے نوکری ڈھونڈنے لگے۔ ہمیں وہاں رہتے دس بارہ دن ہوئے تھے کہ ایک روز لطیف بھائی کی دلہن نے میلاد شریف کیا۔ اس میں میں نے نعتیں اور سلام پڑھا تو بہت تعریف ہوئی اور محلے میں گھر گھر میلاد شریف پڑھنے کے لیے بلائی جانے لگی۔ یہ ربیع الاول کا مہینہ تھا۔ اکثر مکانوں میں بیویاں میری حالت پر ترس کھاکر دوچار روپے بھی دے دیتیں۔ ایک بار پھر وہ ترائی کے گائوں میں گھومنے کا زمانہ لوٹ آیا۔ کیا اللہ کی شان ہے۔
ایک روز ایک محفل میلاد میں درود شریف پڑھا جارہا تھاکہ باہر ایک موٹر آن کر رکی اور اس میں سے کچھ غیر ملکی کیمرے سنبھالے اترے۔ میں سمجھی لطیف بھائی جہاں ملازم ہیں وہ لوگ ہیں۔ باہر گئی۔ وہ یوروپین ٹورسٹ تھے۔ اس وقت عورتیں اندر صحن میں زور زور سے درود شریف پڑھ رہی تھیں۔ ان لوگوں میں سے ایک نے جس کے لمبے لمبے سرخ بال تھے اور نیچے کو جھکی ہوئی مونچھیں۔ مجھے بلاکر انگریزی میں پوچھا ’’یہ آل محمڈن کیا ہے؟‘‘ پہلے تو میں چکرائی پھر خیال آیا کہ ’’آلِ محمدؐ ‘‘ ان کی سمجھ میں All Mohammaden آیا ہے۔ تو بہ توبہ۔ اتنے میں ماہ پارا آگئی۔ اس نے انگریزی میں سمجھایا کہ ہم لوگوں کی ریلی جس میٹنگ ہو رہی ہے۔ لال مونچھوں والا ماہ پارا کو دیکھتا کا دیکھتا رہ گیا۔ مجھ سے پوچھا کہ میری لڑکی ہے۔ میں نے کہا۔ ’’یس۔‘‘ اجازت چاہی تصویر کھینچ سکتا ہوں۔ ’’اسٹنگ پرشین بیوٹی‘‘ میں نے سرہلایا اس نے فوراً کئی تصویریں اتار لیں۔ اب ہمارے گرد بھیڑ اکٹھی ہوگئی۔ لال مونچھوں والے نے اپنا کارڈ ماہ پارا کو دیاکہ فلاں ہوٹل میں کل صبح دس بجے آئے۔ وہ اور تصویریں کھینچے گا۔ کسی فارن میگزین کے لیے اور اس کا بہت اچھا معاوضہ دے گا۔ ماہ پارا فوراً راضی ہوگئی۔ لیکن مجھے خیال آیا کہ لطیف بھائی سے پوچھ لینا ضروری ہے۔ میں نے ماہ پارا سے کہا اس سے کہہ دے کل فون کرکے بتادے گی کہ آسکتی ہے یا نہیں۔ چند منٹ بعد وہ لوگ چلے گئے۔ شام کو جب لطیف بھائی گھر آئے میںنے ان سے ذکر کیا۔ وہ بریلی کے پٹھان آدمی اور مولوی کے بیٹے ایک دم لال پیلے ہوگئے۔ کہنے لگے یہ لڑکی کا بربادی کی طرف پہلا قدم ہوگا۔ تمہیں معلوم ہے یہ لوگ فارن رسالوں کے لیے کس قسم کی تصویریں کھینچتے ہیں؟ اگر تم کو اپنی اور ماہ پارا کی عافیت منظور ہے اور یہ بھی چاہتی ہو کہ اپنے خاوند پر نان ونفقے کا دعویٰ کرسکو تو شرافت سے رہو۔ میںنے ایک جاپا نی کے ہاں آیا گیری کا بندوبست کردیا ہے۔ وہاں چلی جائو۔ وہ لوگ کوارٹر بھی دیں گے۔ لڑکی اپوا کے کسی انڈسٹریل ہوم میں کام سیکھ سکتی ہے۔ انگریزی اسکول میں پڑھ چکی ہے۔ کسی نرسری اسکول میںملازمت مل جائے گی۔ میں کوشش کروں گا۔ میں نے اس شریف انسان کی بات مان لی اور ماہ پارا کو ہوٹل جانے کے لیے سختی سے منع کردیا۔ مگر وہ صبح سویرے ہی چپکے سے بھاگ گئی اور پھر کبھی لالو کھیت واپس نہ آئی۔
آگے کی داستان بہت لمبی ہے مختصر کرتی ہوں۔ ماہ پارا کو اسی فائیو اسٹار ہوٹل میں غیر ملکیوں کے ساتھ دیکھا جانے لگا۔ وہ ہاں رہتی تھی اور کیا کرتی تھی کسی کو معلوم نہیں۔ بہت دنوں بعد مجھے جاپانیوں کے ہاں فون کیا جہاں مجھے لطیف بھائی نے آیا کی نوکری دلادی تھی۔ میں نے اپنا نام مونارکھ لیا۔ کوئی پرانا شناسا دیکھ بھی لے تو مونا آیا کو بھلا کیا پہچانے گا۔ میں نے آغا شب آویز ہمدانی کی تلاش جاری رکھی۔ جگہ جگہ فون کیے۔ معلوم ہوا کہ وہ اب مستقلاً لندن میں رہتے ہیں۔ تو پھر وہاں خط لکھے۔ اور حسب معمول جواب کا انتظار شروع کیا اور حسب معمول محروم رہی۔ ایک روز ماہ پارا نے بہت مضطرب آواز میں فون کیا کہ فلاں ہوٹل میں کوئی آغا ہمدانی طہران سے آکر ٹھہرے ہیں۔ میں تو ان سے ملنے نہیں جائوں گی، تم ہو آئو۔ شاید ڈیڈی ہوں۔ میں نے فوراً اپنی جاپانی میم سے چھٹی لی۔ برسوں بعد سنگھار پٹار کر کے اچھی ساڑی پہن کر دھڑکتے دل سے اس ہوٹل پہنچی۔ ریسیپشن کائونٹر پر آغا ہمدانی کے کمرے کا نمبر دریافت کیا۔ میرے حواس باختہ ہورہے تھے، رنگ فق تھا۔ کائونٹر کی لڑکیوں نے مجھے تعجب سے دیکھا۔ اتفاق سے اسی وقت آغا ہمدانی آگئے۔ وہ شب آویز کے بجائے ایک پچیس چھبیس سالہ نوجوان تھا۔ اب مجھے اتنی انگریزی نہ آئے نہ انہیں اتنی اردو۔ بہر حال میں نے ان سے پوچھا۔ آغا شب آویز ہمدانی کو جانتے ہیں کیسے ہیں؟ گفت۔ بالے بالے۔ خوبے۔ خوبے۔ لندن میں رہتے ہیں۔ ٹوٹی پھوٹی اردو میں بتایا۔ ان کی خانم اور میری خالہ شیراز میں ایک ہی دانش گاہ میں دانش جو تھیں۔ یک پسردارد۔ وہی نا؟
پھر آغا ہمدانی تو ایرانؔ ایئر کی کوچ کی طرف بڑھ گئے۔ میں نے ماہ پارا کا فون آنے کے بعد شب آویز کے نام جو کھرّا لکھا تھا وہ پرس سے نکالا پرزے پرزے کرکے وہیں ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا اور ہوٹل سے باہر آگئی۔ اب سکون ہے۔ اب کسی چیز کا انتظار نہیں لیکن اب ماہ پارا کی فکر کھائے جارہی ہے۔ وہ مجھ سے بالکل بر گشتہ ہوچکی ہے۔ کسی کو یہ بھی نہیں بتاتی کہ میں اس کی ماں ہوں۔ کہتی ہے میں ایک آیا کو اپنی ماں کیسے بتائوں۔ میرے پاس آکر کیوں نہیں رہتیں۔ کیوں ڈھائی سو روپے مہینے پر نوکرانی بنی اپنی اوقات کھو رہی ہو۔ میرے پاس پیسے کی کمی نہیں___ لیکن ماہ پارا کے ہاں دولت کی یہی فراوانی مجھے مارے ڈال رہی ہے۔ وہ ایک مشتبہ قسم کے ہوٹل میں رہتی ہے۔ اور طرح طرح کے مشتبہ لوگوں سے اس کی دوستی ہے۔ کبھی کہتی ہے اپنے ایک عرب فرینڈ کے ساتھ بیروت جارہی ہے۔ کبھی فون کرتی ہے کہ کیبرے ڈانس سیکھنے ہانگ کانگ جانے والی ہے۔ ہفتوں مہینوں غائب رہنے کے بعد صورت دکھاتی ہے تو لگتا ہے کوئی فلم اسٹار آگئی۔ بڑھیا ولایتی کپڑے، قیمتی عطر، نت نئے ہیر اسٹائل اور وگ، بے چارے بھائی لطیف خاں جو ورما صاحب کی طرح نیک دل آدمی ہیں مجھ سے بے حد ناراض ہیں، کبھی ملتے بھی نہیں۔ اور میں کیا منہ لے کر ان کے گھر والوں سے ملنے لالو کھیت جائوں۔ ان سب کو ماہ پارا کے متعلق معلوم ہوچکا ہے۔ میں ماہ پارا سے ایک پیسہ نہیں لیتی مگر وہ تو یہی سمجھتے ہوں گے۔
اب جب کہ آغا شب آویز کی طرف سے بھی مکمل نا امیدی ہوچکی ہے مجھے ماہ پارا کے ساتھ رہنے میں کیا عار ہے۔ میری سمجھ میں خود نہیں آتا کیا اماں، ہر مزی خالہ اور میں نے ساری عمر وہی نہیں کیا جواب ماہ پارا نہایت اعلیٰ پیمانے پر بڑے اسٹائل سے کر رہی ہے۔ میری جاپانی میم جسے مجھ سے بے حد ہمدردی ہے مجھے بتایا کرتی ہے کہ ٹوکیو میں ایک پورا علاقہ بے حد شان دار گینزا ڈسٹرکٹ کہلاتا ہے جس میں جاپان کی ہزاروں ہزار لڑکی ان ہی اشغال میں مصروف ہے اور پرانے فیشن کی باوقار گیشا گرلز کی جگہ لے چکی ہے۔
ٹھیک ہے۔ پھر مجھے ماہ پارا سے پیسے لیتے کیوں جھجھک آتی ہے۔ شاید اس لیے کہ ہم لوگوں نے ’’عزت‘‘ اور ’’وقار‘‘ کا ایک پردہ اپنے سامنے آویزاں کر رکھا تھا گو وہ پردہ ٹاٹ کا تھا اور ٹٹی دھوکے کی۔ وہ دھوکہ ہم اپنے آپ کو بھی دیتے تھے اور دوسروں کو بھی اور وہ کیا انوکھی وضع داری تھی۔ حالاںکہ تمہیں معلوم ہے ایران میں ’’خانگی‘‘ طوائف ہی کو کہتے ہیں۔ اب ایک علی الاعلان ’’ہائی کلاس پارٹی گرل‘‘ کی کمائی کھاتے مجھے شرم آتی ہے۔ کس قد غیر منطقی اور بے تکی بات ہے۔ اور ماہ پارا کی طرف سے تشویش بڑھتی جارہی ہے۔ ہماری وہ تنگ وتاریک گلیاں محفوظ تھیں اور انسان اتنے درندے نہیں تھے۔ آج یہ باہر کی کھلی فضائیں اور یہ جگمگاتی دولت مند موڈرن دنیا بے حد پر خطر ہے اور انسان زیادہ کمینے ہوچکے ہیں۔
بہر کیف، میں اپنی قسمت پر پیچ و تاب کھاتی ہوں اور شاید قسمت ہی سے انتقام لینے کی خاطر ماہ پارا سے کسی قسم کی مدد نہیں لیتی۔
ایک روز اتفاقیہ آغا فرہاد کی چھوٹی لڑکی سے ملاقات ہوگئی۔ میری جاپانی میم اپنی کسی امریکن سہیلی سے ملنے گئی تھیں۔ میں بھی ساتھ تھی۔ پڑوس کی عالی شان سہ منزلہ کوٹھی کے پھاٹک پر آغا فرہاد کے چھوٹے داماد کے نام کا بورڈ لگا تھا۔ میری میم صاحب امریکنوں سے ملنے ان کے ہاں گئیں۔ میں باہر دھوپ میں ٹہلنے لگی۔ ٹہلتے ٹہلتے پڑوس کے پھاٹک میں داخل ہوگئی۔ کوٹھی تھی کہ محل کا محل۔ جیسے امریکن رسالوں میں تصویریں ہوتی ہیں۔ برآمدے میں پہنچی۔ سنگ مرمر کا فرش۔ اندر جھانکا۔ سفید ’’وال ٹو وال‘‘ کارپٹ۔ نہایت بڑھیا فرنیچر۔ آغا فرہاد کی لڑکی سامنے ہی نظر پڑی۔ میں فوراً پہچان گئی۔ کئی بار لکھنؤ میں دیکھا تھا۔ وہ سفید رنگ کے ٹیلی فون پر جھکی ’’چپن ڈیل۔ چپن ڈیل‘‘ کر رہی تھی۔ جی ہاں ہم نے سکنڈ فلور کے لیے چپن ڈیل کا فرنیچر آرڈر کیا ہے۔ تھرڈ فلور کا صرف چھ کمروں کے لیے کوئین این فرنیچر چاہئے۔ جی ہاں۔ ہم نے سارا سامان یوروپ سے منگوایا ہے۔ پھر اس کی نظر مجھ پر پڑی۔ درشتی سے پوچھا کیا ہے؟ کیا چاہئے___؟ میں نے کہا کچھ نہیں بیگم صاحب۔ آپ کی آیا سے ملنے آئی تھی۔ اس نے جواب دیا___ اُدھر جائو۔ اندر کہاں گھستی آئی ہو___ میں برآمدے سے اتر کر ٹہلتی ہوئی پھاٹک سے باہر آگئی۔
میری جاپانی میم بہت اچھی عورت ہے۔ اس نے کہا ہے یہ خط اپنی ماں کو ٹوکیو بھیج دے گی۔ اس کی ماں اسے تمہارے پتے پر انڈیا ری ڈائریکٹ کردے گی۔
خالہ خالو کو دست بستہ آداب۔ ورما صاحب اور صدف کو سلام۔ آفتاب بیٹے کو پیار۔ تمہیں پیار۔
جمیلن دعا کرو ماہ پارا راہِ راست پر آجائے۔ اب سنا ہے وہ اسمگلروں کے ایک گروہ میں شامل ہوگئی ہے۔ خدا کرے یہ خبر غلط ہو۔ میں تو دعائیں مانگتے مانگتے بھی تھک کے چور ہوگئی۔
تمہاری بجیا۔
یہ خط بھی مکتوب الیہ کے پاس نہیں پہنچا۔ کیوں کہ جاپانی میم نے اسے اپنی ماما سانؔ کو ٹوکیو بھیجا۔ اور اس جاپانی ضعیفہ نے دوسری ڈاک کے ساتھ اپنی میز کی دراز میں رکھ دیا اور اسے انڈیا پوسٹ کرنا بھول گئی۔

(۱۰)

پاکستان کے اردو اخباروں کی ایک سرخی___ کلفٹن پر نو عمر حسینہ کا پر اسرار قتل، قاتل مفرور ہیں۔ لڑکی کی لاش صبح چار بجے کے قریب ساحل پر پڑی پائی گئی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ لڑکی غالباً اسمگلروں کے ایک بین الاقوامی گروہ سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کی ماں ایک غیر ملکی کے ہاں گھریلو ملازمہ ہے۔ تحقیقات کے بعد جس وقت اس عورت کو لڑکی کی لاش شناخت کرنے کے لیے بلوایا گیا وہ ہسٹریائی انداز میں چلا چلا کر کہہ رہی تھی۔ ’’ورما صاحب آپ کی امرا پالی مرگئی۔ ورما صاحب آپ کی امرا پالی کو مارڈالا___‘‘ اس وجہ سے یہ شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ دونوں ماں بیٹیاں بھارتی جاسوس تھیں۔ تحقیق وتفتیش جاری ہے۔

(۱۱)

پولیس کے مردہ گھر کا ایک منظر۔
’’متوفیہ کے باپ کا نام؟‘‘ پولیس افسر پوچھتا ہے۔
’’باپ کا نام___؟ قدرتِ خدا لکھ لیجئے۔‘‘
’’عجیب نام ہے۔‘‘
’’ہر نام عجیب ہوتا ہے۔‘‘
’’قدرتِ خدا۔ بنگالی معلوم ہوتا ہے۔‘‘
’’جی ہاں۔ متوطن کلکتہ۔ غالباً اس جہانِ فانی سے کوچ کرچکے ہیں۔‘‘
’’ان کی کیا قومیت تھی___؟‘‘
’’برٹش۔‘‘
’’مقتول کا پاسپورٹ نمبر___؟‘‘
’’صفر___ صفر___ صفر___‘‘
’’ٹھیک ٹھیک بتائو۔‘‘
’’لاش کا پاسپورٹ___؟ زیرو___ زیرو___ زیرو___‘‘
’’کیا اب پھر دورہ پڑنے والا ہے؟‘‘
’’لاش کا پاسپورٹ___ ہا ہا ہا___ سفر ہے دشوار۔ خواب کب تک___ بہت بڑی منزل عدم ہے___ ہا ہا___ نسیم جاگو۔ کمر باندھو___ اٹھائو بستر___ اجی اٹھائو بستر کہ رات کم ہے۔‘‘ عورت اب گانا شروع کردیتی ہے۔ پولیس کے لوگ اسے تعجب سے دیکھتے ہیں___ ’’جوانی وحسن، جاہ ودولت___ یہ چند انفاس کے ہیں جھگڑے۔ اجل ہے ایستادہ دست بستہ، نویدِ رخصت ہر ایک دم ہے___ بسانِ دستِ سوال سائل تہی ہوں ہر ایک مدعا سے___ تہی ہوں ہر ایک مدعا سے___ تہی ہوں ہر ایک مدعا سے___‘‘ عورت اب گراموفون ریکارڈ پر اٹکی ہوئی سوئی کی طرح بے تکان دہرا رہی ہے۔‘‘ سفر ہے دشوار___ سفر ہے دشوار___‘‘
’’بہت بڑی منزل عدم___ عدم___ عدم___ اجی چھاپ تلک سب چھینی موسے نیہا لگائے کے___ چھاپ تلک___ خسروؒ نظامؒ کے بل بل جائوں___ بل بل بل بل بل۔‘‘ اس نے پھر کی کے مانند چکر لگانا شروع کردیا۔ اس کا جوڑا کھل گیا اور لانبے بال شانوں پر بکھر گئے۔ اب وہ زبان نکال کر لٹو کی طرح گھومنے لگی___ جیسے زندگی کے مرگھٹ پر کالی رقصاں ہو۔
دو سپاہی اسے بدقت پکڑ کر باہر ایمبولنس کی طرف لے گئے۔

(۱۲)

نورِ اسلام مسافر خانہ محمد علی روڈ بمبئی کے کلرک نے پوچھا___ ’’پاکستانی؟‘‘ اور رجسٹر کھولا۔
’’پتہ نہیں پاکستانی کہ ہندوستانی۔ دراصل جہنمی___‘‘
کلرک نے نووارد عورت کو تعجب سے دیکھا۔
’’آپ نے مجھے پاکستانی کیوں سمجھا___؟ کیا میرے ماتھے پر لکھا ہے؟‘‘
’’جی نہیں۔ بیگم صاحب آپ چاروں طرف ایسے دیکھ رہی تھیں جیسے بعض پاکستانی جو پہلی بار یہاں آتے ہیں، ہر چیز کو شبہے کی نظروں سے___‘‘
’’میں ساری دنیا کو شبہے کی نظروں سے دیکھتی ہوں___ کیا پتہ آپ بھی ابھی جاسوس سمجھ کر مجھے حوالات میں بند کروا دیں۔ دیوانی قرار دے کہ پاگل خانے بھیج دیں___ میری پیٹھ میں چھرا گھونپ کر میری لاش ساحل پر پھینک دیں۔ میرا زیور لوٹ کھائیں۔ مجھے فریب میں مبتلا رکھیں۔ میرے منہ پر کالک پوت دیں۔ میں ہزاروں خط لکھوں، ایک کا جواب نہ دیں۔‘‘
کلرک گھبرا کر منیجر کو بلانے کے لیے اٹھا۔
’’ گھبرائیے نہیں۔ اب میں بالکل اچھی ہوں۔ یہ میڈیکل سرٹی فکیٹ دیکھ لیجئے۔‘‘ اس نے پرس کھولا___ پھر بند کردیا۔ ’’ ایک فون کرسکتی ہوں___؟‘‘
’’ ضرور___ ‘‘ کلرک نے کہا۔
عورت ٹیلی فون ڈائرکٹری میں نمبر تلاش کرنے لگی۔ چند منٹ بعد اس نے ایک نمبر ڈائل کیا۔
’’ ہلو___ ہلو___ شیخ طاؤس ہیں؟‘‘
’’ جی میں حاضر ہوں۔ فرمائیے۔ کون صاحب؟‘‘
’’ میں رشک قمر بات کر رہی ہوں۔‘‘
’’ اوہو___ رشکِ قمر صاحبہ___ یہ عید کا چاند کہاں سے نکل آیا۔ سنا تھا آپ کراچی چلی گئیں تھیں۔‘‘
’’ جی ہاں۔ ابھی آج صبح دس بجے ہی وہاں سے واپس آئی ہو___‘‘
پچیس برس قبل جب وہ آغا فرہاد کے ساتھ بمبئی آئی تھیں شیخ صاحب کے ہاں کئی محفلیں رہی تھیں۔ شیخ طاؤس بھی اس زمانے میں افسانے لکھتے تھے اور شعر کہتے تھے ۔ طاؤس تخلص تھا۔ عرصے سے ادب سے تائب ہوچکے تھے اور اب لوہے کے بڑے بھاری بیوپاری تھے مگر گاہے بہ گاہے ادبی محفلیں منعقدکرتے تھے اور مشاعروں وغیرہ کی سرپرستی فرماتے تھے۔ ’’ تو فرمائیے کب ملیں گے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔ اتفاق سے غریب خانے پر کل ہی ایک نشست ہے۔ آپ کا قیام کہاں ہے ؟ ‘‘
’’ نور اسلام مسافر خانہ ___‘‘
’’ اوہ___‘‘
اگر وہ اوبے رائے شیرٹن یا تاج میں ٹھیری ہوتی تو شیخ طاؤس کہتے میں خود کار لے کر آپ کو لینے آؤں گا۔ اب انہوں نے ذرا سرد مہری سے جواب دیا۔ ’’ اچھا تو کل آپ سات ساڑھے سات تک آجائیے۔ میں ورلی سی فیس پر رہتا ہوں۔ آپ کو بس آسانی سے مل جائے گی۔ میرا پتہ لکھ لیجئے۔‘‘
دوسری شام وہ مسافر خانے کے کلرک سے بسوں کے نمبر دریافت کر کے ایک بس اسٹاپ پر جاکھڑی ہوئی۔ بہت لمبا کیو تھا۔ آدھ گھنٹے بعد وہ ایک غلط بس پر چڑھ گئی۔ وہ بمبئی کے راستوں سے نابلد تھی۔ غلط بس اسٹاپ پر اتر گئی۔ دوسری بس میں سوار ہوئی۔ اس نے حاجی علی پر اتار دیا۔ اس وقت تک وہ تھک کر چور ہوچکی تھی۔ تازہ دم ہونے کے لیے سمندر کی دیوار پر بیٹھ گئی سامنے ایک ٹاپو پر حاجی علی کی خوب صورت سفید درگاہ بقعۂ نور بنی ہوئی تھی۔ جمعرات کی شام تھی اور لوگوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ پانی میں بنے ہوئے طویل پختہ راستے پر سے گذرتے درگاہ کی سمت جارہے تھے۔ اس نے دور ہی سے فاتحہ پڑھی اور ایک برقعہ پوش عورت سے ورلی سی فیس کا راستہ پوچھ کر پیدل چلنا شروع کیا ۔ کچھ دیر بعد ایک عالی شان عمارت کے سامنے پہنچی۔ شیخ طاؤس کا بڑھیا فلیٹ پانچویں منزل پر تھا۔ ڈرائنگ روم میں محفل ناؤنوش گرم تھی۔ رشک قمر اپنے کھچڑی بالوں، معمولی ساڑی، بجھی ہوئی شخصیت کی وجہ سے میونسپلٹی کی اسکول ٹیچر معلوم ہورہی تھی۔ بلکہ ان میں سے ایک نے تو پوچھ بھی لیا۔ ’’ کیا آپ کسی اسکول میں پڑھاتی ہیں؟‘‘ صاحب خانہ اور الٹرافیشن ایبل بیگم طاؤس نے بھی کسی خاص گرم جوشی کا اظہار نہ کیا اور ایک دو غزلیں سن کر مہمانوں نے رسمی واہ واہ کے بعدنظر انداز کردیا۔ وہ ایک کونے میںخاموش بیٹھی رہی۔
رات کے دس بج چکے تھے۔ لوگ ڈنر کے لیے اٹھے۔ اس وقت ایک صاحب اس سے باتیں کرنے لگے۔ وہ دل ہی دل میں ان کی بہت مشکور ہوئی۔ وہ پلیٹیں لے کر اس کے ساتھ سمندر کے رخ ایک دریچے میں آبیٹھے۔ وہ خان صاحب خان صاحب کہلا رہے تھے اور نہایت معقول اور بھلے آدمی معلوم ہوتے تھے۔ کھانا ختم کرتے ہی انہوں نے صاحبِ خانہ سے اجازت چاہی ’’مجھے اپنے کام کے سلسلے میں ٹھیک ساڑھے گیارہ بجے ایک جگہ پہنچنا ہے۔ میں کولابہ میں رہتا ہوں۔ آپ کہا جائیں گی؟‘‘ انہوں نے رشک قمر سے دریافت کیا۔
’’محمد علی روڈ ___‘‘
’’ مجھے بھی ساؤتھ بومبے جانا ہے۔ لیکن راستے میں ذرا سا کام ہے۔ اس کے بعد آپ کو پہنچادوں گا۔ آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں؟‘‘
وہ نیچے آکر خان صاحب کی کار میں بیٹھی۔ خان صاحب نے انجن اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا ۔ ’’قمر صاحبہ___ میں امپر پساریو ہوں Artistes میں Deal کرتا ہوں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتاہے کہ آپ محض رسمی قسم کی شاعرہ نہیں پر فورمنگ آرٹسٹ ہیں یا رہ چکی ہیں۔
اوراس وقت کسی وجہ سے بے حد پریشان ہیں۔ کیا میں آپ کی کسی طرح سے مدد کرسکتا ہوں؟‘‘
’’ آپ نے شاید سنا ہو ۔ میں ایک زمانے میں ریڈیو پر گایا کرتی تھی۔‘‘
خان صاحب نے کار چلاتے چلاتے چٹکی بجائی ___ ’’ دیر یُو آر ___ میرا اندازہ کبھی غلط نہیں ہوتا___ اگر آپ مناسب سمجھیں اپنی پریشانی کی وجہ بتلادیں ___ یو سی___ مسز قمر ___ میری جولائن ہے اس میں میں نے آرٹسٹوں کی دکھی زندگیوں کے اتنے واقعات دیکھے ہیں کہ میرے اندر___ یوں کہنا چاہئے کہ اب ایک قسم کی وسعتِ نظر آگئی ہے اور جس طرح انسان انسان کو ستاتا ہے اس کی کمینگی اور رزالت پر اب میں متحیر بھی نہیں ہوتا۔‘‘
’’ نہیں میرے حالات تو ٹھیک ہیں۔ صرف سفر کی تکان ہے۔‘‘
خود دار عورت ہے۔ خان صاحب نے دل میں سوچا ۔ خاموشی سے راستہ طے کرنے لگے میرین ڈرائیو پر سے گذرتے ہوئے انہوں نے گھڑی دیکھی اور کہا ۔ ’’ آئیے کہیں چل کر کافی پی لیں۔‘‘ وہ اوبیرائے شیرٹن پہنچے ___ ریسٹوران میں جاکر کافی کا آرڈر دیا اور چپ چاپ بیٹھ گئے۔ شریف اور درد مند آدمی ہیں ۔ ورما اور لطیف خاں کی طرح ۔ رشکِ قمر نے سوچا ۔ پھر خود ہی بتانا شروع کیا۔
’’ میرے شوہر مجھے چھوڑ کر لندن چلے گئے تھے۔میں ان کے رشتے داروں کے پاس کراچی گئی۔ لڑکی کو لے کر۔ وہاں اس کی شادی کردی۔ اب واپس آگئی ہوں ۔‘‘
جہاں دیدہ خان صاحب اس کی آواز سے سمجھ گئے کہ وہ سچ نہیں بتا رہی ۔ مزید کرید کر کے اسے مضطرب کرنے کے بجائے نرمی سے دریافت کیا۔ ’’ اب کیا ارادہ ہے ؟‘‘
’’ پتہ نہیں۔ لکھنؤ جاکر سوچوں گی۔‘‘
’’ آپ قوالی گانا پسند کریں گی؟‘‘ پھر خود ہی فوراً خیال آیا کہ یہ اسٹیج پر غمزہ و ادا کے ساتھ قوالی گانے کی عمر سے کافی آگے نکل چکی ہیں۔
رشک قمرنے مسکرا کر کہا۔ ’’ بہ ایں سن و سال میں قوالی گاؤں گی؟‘‘
’’ کیوں نہیں۔‘‘ خان صاحب نے بات بنانے کی خاطر جواب دیا۔ ’’ شکیلہ بانو بھوپالی برسوں سے گا رہی ہیں۔ نور جہاں، رضیہ بانو، شکیلہ بانو اور نور جہاں تو انگلینڈ کا دورہ بھی کر چکی ہیں۔ پھر انہوں نے اپنی رسٹ واچ پر نظر ڈالی ۔‘‘ آئیے چلیں۔ سامنے ہی جانا ہے۔‘‘
وہ ہوٹل سے نکل کر نریمان پوائنٹ کے ایک تھیٹر ہال پر پہنچے جہاں ’’ مجرا کیبرے کمپیٹیشن‘‘ کا پروگرام شروع ہوچکا تھا۔ وہ اندر گئے۔ اسٹیج پر ایک لڑکی سنہرا وگ پہنے انتہائی لچر رقص کر رہی تھی۔
’’ اسے بیلی ڈانس کی الف بے بھی نہیں آتی___‘‘ خان صاحب نے کوفت سے کہا۔
’’ اور لوگ اتنے مہنگے ٹکٹ خرید کر اسے دیکھنے آتے ہیں۔‘‘
’’ جی ہاں زیادہ تر انڈر ورلڈ کے لوگ___ اور گلف کے عرب___ آئیے چلیں۔‘‘
وہ اٹھ کر باہر آئے۔ بارش شروع ہوچکی تھی اور سمندر کی اونچی لہریں ساحلی دیوار سے ٹکرا رہی تھیں۔ تیز ہوا چل رہی تھی اور سڑک پر سنّاٹا طاری تھا۔ برساتی میں ایک آدمی اوورکوٹ میں چہرہ چھپائے چپ چاپ کھڑا تھا___ اس نے رشکِ قمر سے فرنچ میں کچھ کہا۔ وہ گھبرا کر خان صاحب کے برابر دبک گئی۔
’’ بمبئی کی انڈر ورلڈ بہت خطرناک ہے۔ آئیے یہاں سے نکل چلیں___‘‘ خان صاحب بولے۔
’’ موسیو___ مادام ‘‘ اس آدمی نے بے بسی سے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں کہا ___ ‘‘ میں ماریشس سے آیا ہوں۔ ایک شخص نے میری جیب کاٹ لی۔‘‘
خان صاحب اور رشک قمر سرعت سے کار میں جا بیٹھے۔ سامنے ایک نامی گرامی اسمگلر کی کیڈی لیک آکر رکی۔ وہ اپنے گرگوں کے ساتھ جھومتا جھامتا اترا___ خان صاحب نے اپنی کار اسٹارٹ کی ___ ‘‘ بمبئی کی انڈر ورلڈ ___‘‘ انہوں نے دہرایا۔
’’ خان صاحب___ میری بچّی کراچی کی انڈر ورلڈ میں ماری گئی___‘‘ اس نے کہا اوربے اختیار رونے لگی۔
خان صاحب نے کار کی رفتار دھیمی کی اور نرمی سے بولے ۔’’ مجھے پورا واقعہ بتلا دیجئے ۔‘‘ تب اس نے پوری داستان ان کو مختصراً سنائی۔




’’___ پھر سپاہی مجھے اسپتال لے گئے اور جاپانی صاحب کو اطلاع کی۔ اس بے چارے نے مجھے ایک مینٹل ہوم میں داخل کروایا___ الیکٹرک شوک لگائے گئے۔ چار پانچ مہینے علاج ہوا۔ جاپانی نے سارا خرچہ اٹھایا۔ وہ ٹوکیو لوٹنے والے تھے۔ مجھ سے کہا مجھے کسی اور جاپانی یا امریکن کے ہاں نوکر رکھوا دیں گے۔ تب ہی میرے پاس مسقط سے پوسٹ کیا ہوا جمیلن کا چار سطروں کا پرچہ پہنچا کہ وہ سخت بیمارہے اور اس کی دیکھ بھال اور مالی اعانت کے لیے کوئی موجود نہیں۔ میں رات بھر دن بھر روتی رہی۔ جاپانیوں نے میری یہ حالت دیکھ کر اور اس خط کی بنیاد پر میرے لیے پروانہ راہداری کی تگ و دو کی۔ اس میں ایک سال لگ گیا۔ اجازت ملتے ہی میرے لیے باقی کا ٹکٹ خریدا۔ ایرپورٹ پر مجھے خود پہنچانے آئے ۔ میرا رواں رواں جاپانی میاں بیوی کو دعائیں دیتا ہے۔
’’ روانگی سے ایک دن قبل ماہ پارا کو خدا حافظ کہنے قبرستان گئی تھی۔ بہت دیر تک اس کی کچّی قبر کے سرہانے بیٹھی رہی۔ اچانک بہت گہما گہمی شروع ہوگئی۔ کسی وی آئی پی کا جنازہ لایا جارہا تھا۔ ٹیلی ویژن کیمرے ، پریس رپورٹر ، پھولوں کی بڑی سیاہ ربنوں والے ریتھ، سفید شفون اور جارجٹ کی ساڑیاں سفید سینڈلز پہنے، سفید پرس سنبھالے سیاہ چشمے لگائے ، ہلکا میک اپ کیے، نفاست سے سرڈھانپے سوگوار بیگمات۔ میں بس اسٹاپ کی طرف جانے کے لیے اٹھی۔ رستے میں جنازے کے جلوس میں آئی ہوئی شان دار امپورٹڈ کاروں کی اتنی طویل قطار تھی کہ میں ان کے گذرنے کے انتظار میں سڑک کے کنارے ایک سنگ میل پر بیٹھ گئی۔ ایک کار میں سے ایک سفید شفون کی ساڑی اور سیاہ چشمے والی بیگم اتریں۔ مجھے کوئی بھکارن سمجھ کر میرے سامنے چند سکّے پھینکے ۔ بلیجم کی لیس کے سفید نازک رومال سے اپنی ناک کی نوک چھوتی آگے بڑھ گئیں۔‘‘
’’ رشک قمر___ آپ نے ابھی بتلایا تھا کہ آپ کا ایک لڑکا بھی ہے۔‘‘
’’ جی ہاں۔ اسے اسکول میں پڑھانے کے لاکھ جتن کیے لیکن وہ لکھنؤ کی گلیوں میں آوارہ گردی کا شوقین تھا۔ اب کراچی میں کسی لکھنؤ سے آنے والے نے بتایا تھا کہ وہ بمبئی میں داداگیری کر رہا ہے۔ میں کل صبح سے جب سے یہاں پہنچی ہوں چاروں طرف آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہی ہوں، شاید وہ کہیںنظر آجائے مگر ایسے اتفاقات صرف ہندوستانی فلموں میں ہوتے ہیں۔‘‘‘
کار اب نور اسلام مسافر خانے بھنڈی بازار پہنچ چکی تھی۔ خان صاحب نے آہستہ سے کہا ۔ ’’ آپ پاکستان سے تو کچھ روپیہ ساتھ لا نہ سکی ہوں گی۔‘‘
’’ ایک پیسہ نہیں۔ میرے ہاتھ میں یہ دو سو نے کی چوڑیاں ہیں۔ کل صبح انہیں فروخت کر کے لکھنؤکا ٹکٹ خریدوں گی۔ مسافرخانے کا کرایہ بہت سستا ہے۔ صرف تین روپے روز‘‘
خان صاحب کا ہاتھ ان کے کوٹ کی جیب کی طرف گیا___ ’’ میں اگلے ہفتے اجمیر کے قوالوں کی ایک پارٹی کو لے کر مڈل ایسٹ اور انگلینڈ کے دورے پر جارہا ہوں۔ اس کی وجہ سے بہت زیادہ اخراجات در پیش ہیں۔‘‘ انہوں نے جیب سے بٹوہ نکالا۔
کھسکے ڈبل ___ کھسکے ڈبل___ کھسکے ڈبل___ رشک قمر عرف قمرن عرف میلے والی امرتی نے دل میں دہرانا شروع کیا۔ خان صاحب نے کہا ۔ ’’ اس وقت صرف اتنا ہی پیش کرسکتا ہوں ایک مخلص دوست کی طرف سے قبول کیجئے ۔ ’’ اور بٹوے میں سے چند نوٹ نکالے۔

(۱۲)

پڑوس کی مسجد میں عشاء کی اذان ہو رہی تھی جس وقت وہ ٹاٹ کا پردہ اٹھا کر اپنے آنگن میں داخل ہوئی ۔ سامنے امردو کی ایک ٹہنی سے سائیکل رکشا کے پرانے ٹیوب اور ٹائر لٹکے نظر آئے باورچی خانے کے آگے تین چار بچے کھیل رہے تھے۔ ایک عورت نے کھپریل میں سے آواز دی___ ’’ کون ہے؟ ‘‘ اسباب ڈیوڑھی میں رکھ کر وہ ’’ جمیلن ___ جمیلن‘‘ پکارتی اپنے کمرے کی طرف دوڑی ۔ جلدی میں دہلیز سے ٹھوکر لگی۔ انگوٹھے میں چوٹ آگئی۔ اندر اسٹول پر رکھی لالٹین اندھی اندھی جل رہی تھی۔
’’ جمیلن ___ خالہ ___ ہم آگئے ___‘‘
بے حد بوڑھی، سوکھی لقاط ہرمزی خالہ میلے کچیلے بستر پر سے دھویں کی پتلی لکیر کی طرح اٹھیں، ان کے برابر بچھا جمیلن کا پلنگ خالی پڑا تھا۔ اس کی بیساکھی کمرے کے ایک کونے میں رکھی تھی۔ رشک قمر کا دل دھک سے رہ گیا۔
’’ خالہ تسلیم___ ‘‘ وہ پلنگ کی پٹّی پر بیٹھ کر خالہ سے لپٹ گئی۔ وہ پھسر پھسر رونے لگیں۔
’’ خالہ ___ جمیلن ___ کہاں ہے؟‘‘
عورت باورچی خانے سے نکلی۔ اپنے بچوںکے ساتھ مل کررشک قمر کا اسباب ڈیوڑھی سے اٹھایا اور اسے لاکربرآمدے میں چن دیا۔ خود میلی اوڑھنی سے پسینہ پونچھتی دہلیز میں آکھڑی ہوئی اور گھر کی نووارد مالکن کو دیکھنے لگی۔
’’ خالہ ___ جمیلن ___ ؟‘‘ رشک قمرنے دہل کر دہرایا۔
’’ اللہ کے گھرگئی ؟ ‘‘ سٹرن خالہ نے روتے روتے جواب دیا ۔ ‘‘ اس کے دونوں پاؤں بے کار ہوگئے تھے___ مولا نے اس کی مشکل آسان کی۔‘‘
’’ جمیلن بٹیا تو بالکل ہل جل نہیں سکتی تھیں۔ یہ داگدر بلا کر لائے ۔ وہ بولا سارے بدن کو یہ ہوگیا ۔ گٹھیا ہوگئی ہے۔ جوڑ جوڑ جکڑ گیا ہے___ ’’ دروازے میں کھڑی عورت نے کہا ۔
رشک قمر نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
’’ آخر وقت تک اس نے تمہارا انتظار کیا ۔ اسے تو مرے بھی اب ایک سال ہوجائے گا۔‘‘ خالہ بولیں۔
رشک قمر گم صم باری باری ان دونوں کی صورتیں دیکھا کی۔ ایک آنسو آنکھ سے نہ ٹپکا۔ اس نے جذبات سے عاری سپاٹ آواز میں پوچھا۔ ’’ خالہ ___ تم نے ہمیں اطلاع بھی نہ بھیجی۔‘‘
’’ بیماری کی اطلاع تو بتول کا دیور مسقط جارہا تھا۔ اس کے ہاتھ بھجوا دی تھی۔ وہ بھی وہاں پہنچ کر لا پتہ ہوگیا۔ ہمارا کون سگا ولایت میں بیٹھاہے جس کے ذریعہ خط وکتابت کرتے۔‘‘
رشک قمر سر جھکائے جمیلن کے خالی کھرّے پلنگ کو تکتی رہی۔ تعجب کی بات ہے جمیلن کی موت کی خبر پر میری آنکھوں سے ایک آنسو نہیں گرا کیا ماہ پارا کی وفات ___ نہیں قتل ___ پر آنسوؤں کا سارا اسٹاک ختم ہوگیا۔ میں روئی نہیں تو جیوں گی کیسے۔ اچانک اسے جمّن خالو یاد آئے۔ شاید ابھی نماز پڑھ کر مسجد سے نہیں لوٹے۔‘‘
’’ خالہ ___ خالو کیسے ہیں؟‘‘
’’ کون ___ تمہارے خالو___ ان کو مرے پانچ سال ہوگئے۔ جمیلن مرحومہ نے تمہیں مفصل خط میں اطلاع دی تھی___‘‘
’’مجھے کوئی خط نہیں ملا خالہ___ کہیں سے کوئی خط نہیں آیا میرے نام۔‘‘
ہر مزی خالہ ۔ جمن خالو، رشک قمر لکھنوی، جمیل النساء بیگم عرف کماری جل بالا لہری___ ماہ پارا خانم ___ ہم سب ایک دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ پھنسے ہوئے تھے۔ دلدل میں پھنسا آدمی باہر نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارتا ہے ، روتا نہیں۔ اسے رونے کی فرصت نہیں ہوتی وہ دلدل سے نکلنے کی کوشش میں جٹا رہتا ہے ___ جمن خالو، جمیل النسائ، ماہ پارا خانم تینوں دلدل میں دھنس گئے۔ اس نے اپنی خشک آنکھوں پر انگلیاں پھیریں۔
’’ جمیلن ___ کب ___ کیسے مری___ خالہ ___؟‘‘
’’ آدمی کیسے مرتا ہے بٹیا___؟ بس مرجاتا ہے ۔ جمیلن نے رات کے وقت دم توڑ دیا۔ تاریخ اور مہینہ ہمیں یاد نہیں۔ بھری برسات تھی۔ گھر میں کفن دفن کے لیے ایک پیسہ نہیں تھا۔ بفاتی کہیں سے بیس روپے قرض لائے ۔ کہنے لگے محلے والوں سے چندہ کرلوں۔‘‘
’’ بفاتی کون ___؟‘‘
’’ حفیظن کے میاں___ رکشا چلاتے ہیں۔ جمیلن نے کرائے دار رکھ لیا تھا۔ جب سے وہ پلنگ سے لگی گانے کے لیے باہر نہیں جاسکتی تھی۔ ورما صاحب اور صدف آراء امداد کرتے رہتے تھے ۔ ورما شادی کر کے لکھنؤ سے اڑنچھو ہوئے ۔ صدف کسی گورے کے ساتھ ولایت چلی گئیں۔ بفاتی نے کہا مسجد میں جاکر چندہ جمع کریں۔ ہمارا دل نہ مانا۔ آنکھ پہ ٹھیکری رکھ کر انہیں آغا فرہاد کے ہاں بھجوایا۔ بارش کہے آج برس کے پھر نہ برسوں گی۔ فرہادمیاں خود بیمار پڑے تھے۔ انہوں نے اپنے منشی کے ہاتھ پیسے بھجوائے۔ سب کفن دفن کا انتظام اس نے کیا۔ موسلا دھار بارش میں لے جاکر غریب کی مٹی عزیز کی۔‘‘
’’ اب گذر کیسے ہوتی ہے___‘‘
’’ جمیلن مرحومہ پڑے پڑے چکن کاڑھ کر بیس روپے مہینہ پیدا کرلیتی تھی۔ پندرہ روپے مہینہ بفاتی کرایہ دیتے تھے۔ اب جمیلن کے مرنے کے بعد کرائے کے بجائے ہمیں دو وقت والی بھات کھلا دیتے ہیں۔ رکشا کھینچتے کھینچتے ٹی بی ہوگئی ہے پھر بھی ان کی پوری نہیں پڑتی۔ چار بچے؟‘‘ میاں بیوی ۔ اب بے چارے ہمیں بھی سال بھر سے کھلا رہے ہیں۔ شکر ہے تم یہ مکان خرید گئی تھیں ورنہ اس کا کرایہ کہاں سے ادا ہوتا___‘‘ دفعتاً ان کو ماہ پارا یاد آگئی پوچھا۔ ’’ اے قمرن___ بٹیا کہاں ہیں___ وہ ساتھ نہیں آئیں___؟‘‘
’’ ماہ پارا کی کراچی میں شادی کر دی ہے خالہ___ بہت اچھا لڑکا مل گیا۔ نیک ، شریف تعلیم یافتہ ، اچھی تنخواہ پاتا ہے۔ ‘‘ رشک قمر نے کرخت آواز میں جواب دیا۔
’’ شکر ہے ___ مولا تیرا شکر ہے ۔ الٰہی تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔‘‘ وہ پلنگ سے اٹھنے لگیں۔
’’ کہاں جارہی ہو___؟‘‘
’’ جب ماہ پارا پیدا ہوئی تھی تب سے چودہ رکعت نماز مان رکھی ہے کہ اس کی شادی ہوجائے۔ ‘‘
’’ تو اب کہاں چلیں___؟‘‘
’’ وضو کرنے ___‘‘
’’ خالہ ___ لیٹ جاؤ ۔ کل پڑھ لینا۔‘‘ اس نے ہرمزی بیگم کو پھر بستر پر لٹا دیا۔ وہ وفور مسرت سے دوبارہ اٹھ بیٹھیں___ رشک قمر نے ان کا دھیان بٹانے کے لیے پوچھا___ ‘‘ تم کہہ رہی تھیں آغا فرہاد بیمار پڑے ہیں___‘‘
’’ ارے انہیں کوئی جان لیوا مرض لگ گیا ہے۔ بڑے داماد کے پاس علاج کے لیے ولایت گئے ہیں۔ بڑا داماد وہاں ڈاکٹر ہے۔ بیوی اور منجھلی بیٹی داماد بھی ساتھ گئے ہیں۔ چلتے وقت دو سو روپے بھجوا گئے تھے اور تمہارے نام ایک بڑا لفافہ تھا۔ ابھی دیتے ہیں۔ ذرا لالٹین اٹھانا۔‘‘
ہرمزی خالہ نے پھراٹھنا چاہا۔
’’ خالہ مجھے بتاؤ میںڈھونڈلوں گی___‘‘
’’ وہ سابکسا کھینچنا ___ ‘‘
قمرن نے جمیلن کی چار پائی کے نیچے سے سرخ ٹین کا پھول دار پرانا بکس کھینچ کر باہرنکالا۔ اس میں جمیلن کے کپڑے رکھے تھے۔ وہ آغا فرہاد کا لفافہ ڈھونڈنے کے لیے کپڑے نکال نکال کر فرش پررکھتی گئی ۔ ٹرنک کی تہہ میں پرانا اخبار بچھا تھا۔ اس کے نیچے سے گلابی پلاسٹک کے دو کلپ نکلے جو اس نے مدتیں گذریںپیر ہنڈے شاہ کے عرس میں چار چار آنے میں اپنے اور جمیلن کے لیے خریدے تھے۔ ان کوکچھ دیر تک تکتی رہی۔ خالہ کی آواز پر چونک اٹھی۔ اب وہ کہہ رہی تھیں۔ ’’ آفتاب بھی غائب ہوگیا۔ بمبئی بھاگ گیا۔‘‘
رشک قمر پھر آغا فرہاد کا لفافہ تلاش کرنے میںمصروف ہوئی۔ وہ جمیلن کے ایک ادھ بُنے سوئیٹر کے نیچے رکھا ملا ۔ بہت بھاری تھا ۔ قمرن کے دل میں روشنی سی پیدا ہوئی۔ شاید نوٹوں کی گڈّی بھجوا گئے ہوں۔ جلدی سے جمیلن کی کھاٹ پر آ بیٹھی۔ اسٹول کھینچ کر قریب رکھا۔ لالٹین کی بتی اونچی کی ۔ لرزتے ہاتھوں سے لفافہ کھولا۔ ایک مراکو لیدر کی نفیس بیاض برآمد ہوئی اور ایک خط۔ اس نے خط پڑھنا شروع کیا:
رشک قمر!
ہم جمیل النساء مرحومہ کی تعزیت تم سے کن الفاظ میں کریں۔ ہمیں تمہارا کراچی کا پتہ معلوم نہیں ورنہ وہاں خط بھیجتے ۔ چاہے تم جواب نہ دیتیں۔ پچیس سال گذر گئے لیکن ہم تمہیں بھولے نہیں۔ جو تمہاری ہماری قسمتوں میں لکھا تھا سو پورا ہوا۔ تمہیں لکھنؤ سے گئے بھی پانچ چھ برس ہونے آئے تمہارے جانے کے بعد ہم نے جمیل النساء کو کئی بار مالی امداد کرنا چاہی انہوں نے ہمیشہ روپے واپس کردیئے۔ اس قدر کی غیور لڑکی ہم نے آج تک نہیں دیکھی۔ ساری عمر زندگی سے لڑتی رہی پھر موت سے لڑا کی۔ آخر میں دونوں سے ہار گئی ۔ اللہ تعالیٰ اسے دوسری دنیا ہی میںآرام اور چین نصیب کریں۔
رشک قمر! پچھلے چند برسوں میں تم ہمیں بے طرح یاد آئیں۔ اب ہم بھی بڈھے ہوچلے۔ بیوی اپنے میکے اور سسرال کی سیاست میں مشغول رہتی ہیں۔ بیٹیاں اپنے اپنے گھروں کی ہوگئیں ۔ اللہ نے ہمیں گھر بار، اولاد، دولت، آسائش سب کچھ دیا۔ دل کا چین نہ دیا۔ ہم نے تمہارے لیے بہت سی غزلیں کہیں۔ سب ایک بیاض میں لکھتے گئے۔ اس امید پر کہ شاید یہ کبھی تمہارے ہاتھ میں پہنچ جائے۔ شاید تم کبھی لکھنؤ لوٹ آؤ۔ پبلک کا حافظہ بہت کمزور ہوتاہے۔ اگر تم واپس آؤ اور مشاعروں میں مدعو کیا جائے ( اب ہماری سوسائٹی بھی کافی وسیع النظر ہوچکی ہے) تو یہ غزلیں تمہارے کام آئیں گی۔
اور کیا لکھیں رشکِ قمر! ڈاکٹروں نے سرطان کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ہم اپنے بڑے داماد کے پاس بغرض علاج لندن جارہے ہیں۔ اب کیا اچھے ہوں گے اور کیا زندہ واپس آئیں گے۔ رشک قمر اب خدا حافظ ۔ اگر ممکن ہو ہمیں معاف کردینا۔
تمہارا آغا فرہاد
(۱۴)

بمبئی والے خان صاحب کی دی ہوئی رقم میں سے اب صرف دس روپے باقی تھے۔ رشک قمر صبح کو پرانی عادت کے مطابق ڈاکیے کے انتظار میں ڈیوڑھی پر جاکھڑی ہوئی۔ چند منٹ بعد اچانک خیال آیا۔ میں بھی کتنی بڑی الو کی پٹھی ہوں۔ اٹھارہ انیس برس لندن کے خط کا انتظار کیا۔ اب تو سب طرف سے ہمیشہ کے لیے چھٹی___ وہ آنگن میں واپس آئے۔ بفاتی کی بیوی حفیظن باورچی خانے میں کھانا پکا رہی تھی۔بفاتی صبح صبح کاڑھا چاء اور ایک سخت لکڑ توڑ پاؤ کا ناشتہ کر کے رکشا لے کر باہر جاچکے تھے۔ بچّے گلی میں کھیل رہے تھے۔ خالہ اندر پلنگ پر پڑی کھانس رہی تھیں۔ رشک قمر کھپریل میں آ بیٹھی اور سوچنے لگی۔ اب کیا کروں؟ آغا فرہاد کی بیاض یاد آئی۔ اندر سے اسے نکال کر لائی ۔ ورق پلٹے ۔ ہر غزل کے مقطع میں قمر تخلص موجود تھا۔ اس نے بیاض بندکی۔ تب ایک بڑا سا آنسو اس کی آنکھ سے ٹپک کر کتاب کی عنابی جلد پر ٹپ سے گرا۔ وہ کچھ دیر تک سوچا کی پھر اٹھ کرکپڑے بدلنے کے لیے کمرے میں چلی گئی۔
بفاتی دوپہر کوکھانا کھانے ہانپتے کانپتے گھر لوٹے رشک قمرنے کھانے کے بعد ان سے پوچھا۔ ’’ بفاتی ہمیں ذرا منصورنگر تک لے جاؤ گے۔‘‘
’’ ضرور بٹیا___ چلیے ۔‘‘
وہ باہر آکر رکشا میں بیٹھی___ وکٹوریہ اسٹریٹ، فرنگی محل ، چوک۔ اکبری دروازہ ۔ غلام حسین کا پل۔
’’ محرم آنے والا ہے۔ سنا ہے اس سال بھی شیعہ سنی سر پھٹّول ہوگا۔ ’’ بفاتی نے رکشا چلاتے چلاتے اظہار خیال کیا۔
’’ اب بھی برابر ہوتاہے؟‘‘
’’ ہر سال اور بہت زوروں میں۔ ابھی تین چار برس ادھر کی بات ہے بٹیا۔ ایران سے کچھ لوگ آئے تھے۔ اپنے ٹیلی ویژن کے لیے لکھنؤ کے محرم کی پکچر بنانے ۔ یہاں پہنچے۔ یہاں ہورہی تھی زبردست جنگ شیعہ سنی کی۔ الٹے پاؤں واپس گئے۔‘‘
منصور نگر پہنچ کر وہ ایک پرانے مکان کے سامنے اتری۔ بیٹھک کے دروازے پر پہنچی۔ اندر ورما صاحب اور آغا فرہاد کے ایک متمول شاعر دوست اپنے حوالی موالیوں کے ساتھ بیٹھے چاء پی رہے تھے۔ اس نے خدا کا شکر ادا کیا۔
’’ اوہو ___ بی رشک قمر ___ آپ کب تشریف لائیں۔‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ مزید چاء اورناشتہ منگوایا گیا۔ رشک قمر نے ریل سے اترنے کے بعد سے اس وقت تک پیٹ بھر کھانا نہیں کھایا تھا۔ دل چاہ رہا تھا سامنے رکھی ساری نعمتیں چٹ کر جائے۔ بڑی ہمت سے ہاتھ روکا۔ باتوں باتوں میں پوچھا۔ ’’ آج کل مشاعرے کہاںکہاں ہورہے ہیں؟‘‘
’’ ایک تو پرسوں شام ہی کو ہے ۔ اتوار کے روز قیصر باغ کی بارہ دری میں آپ آئیں گی؟‘‘
’’ آپ بلائیں گے تو ضرور آئیں گے۔‘‘
’’ بات یہ ہے کہ اب ہم تو اس کے انتظامیہ کمیٹی سے الگ ہوگئے ہیں۔ ہمارے چھوٹے بھائی صاحب اس کے سکریٹری سے کہہ دیں گے۔ ارے میاں طاہر___‘‘
طاہر میاں تولیہ سے منہ پونچھتے اندر سے نکلے۔ جھک کر رشک قمر کو تسلیمات عرض کی۔
’’طاہر میاں! بی رشک قمر صاحب کو اپنے مشاعرے میں بلوا لو___ تم تو بچے تھے۔ ہمیں ان کا پڑھنے کا اندازہ اور آواز اب تک یاد ہے ۔‘‘
’’ بہت خوب بھائی جان۔ ہم انتظام کردیں گے۔‘‘
’’ کس وقت شروع ہوگا مشاعرہ___؟‘‘ رشک قمر نے دریافت کیا۔
’’ آٹھ بجے ۔ آپ فکر نہ کیجئے۔ ہم آدمی بھیج کر آپ کو بلوا لیں گے۔ اپنی کار بھیج دیں گے۔ مکان کا پتہ بتلا دیجئے ___‘‘ طاہر میاں نے فرمایا۔
اتوارکی صبح سویرے سے اس نے مشاعرے کی تیاریاں شروع کیں۔ ٹرنک کھول کر ساڑیاں دھوپ میں ڈالیں ۔ بلاؤز پر استری کی ۔ بال سیاہ رنگے ۔ سہ پہر کو آغا فرہاد کی بیاض نکال کر دو تین غزلیں منتخب کیں۔ ان کے ترنّم کی دھنیں بٹھاتی رہی۔ حفیظن سے کہا کھانا سات بجے تک تیارکر دے۔ رشک قمر نے کافی عرصہ قبل مکان میں بجلی منگوا لی تھی جو اس کے جانے کے بعد ادا نہ ہونے کی وجہ سے کاٹ دی گئی تھی۔ سورج ڈھلنے سے پہلے پہلے اس نے آنگن میں بیٹھ کر میک اپ کیا۔ کراچی میں خریدی ہوئی امریکن نائیلون کی ایک پھول دار نیلی ساڑی باندھی۔ جلدی جلدی کھانا کھایا اور طاہر میاں کی کار کے انتظار میں بیٹھ گئی۔ آٹھ بجے۔ ساڑھے آٹھ ، نو ، دس گیارہ، ساڑھے گیار، اسے مشاعرہ میں لے جانے کے لیے کوئی نہ آیا۔
صبح سویرے اٹھ کر اس نے بفاتی کو آواز دی۔ وہ برآمدے میں بیٹھے رکشا کے ٹائر میں ہوا بھر رہے تھے۔
’’ بفاتی‘‘۔ اس نے ان کے قریب جاکر کہا ۔ ’’ جمیلن مرحومہ کس ٹھیکیدار کے لیے چکن کاڑھتی تھیں۔ جانتے ہو ___؟‘‘
’’ جی ہاں۔ جانتے ہیں بٹیا۔‘‘
وہ باہر آکر ٹوٹے ہوئے مونڈھے پر بیٹھ گئی۔ حفیظن نے چنہٹ کی آرٹسٹک پیالی میں چاء پیش کی۔ اس نے چونک کر پوچھا۔ ’’ یہ کہاں سے آئی___؟‘‘
’’ صدف بٹیا چلتے وقت اپنے برتن دے گئی تھیں۔ سب بک گئے۔ یہی پیالی باقی بچی ہے۔‘‘ حفیظن نے کہا۔
’’ صدف بٹیا اور ان کا امریکن خاوند جاتے وقت پیسے بھی دے گئے تھے وہ ایک مہینے کے اندر جمیلن بٹیا اور خالہ کے علاج میں اڑ گئے۔ ‘‘ بفاتی سر اٹھا کر بولے ___ ’’ امریکہ جاتے وقت صدف آراء تو بنک میں ان کا کچھ روپیہ تھا، وہ جمیلن بٹیا کے نام کرنے والی تھیں۔ بٹیا نے ان کو بہت سمجھایا کہ وہ یہ حماقت نہ کریں۔ کل کلاں انہیں لکھنؤ واپس آنا پڑا تو ضرورت ہوگی۔ وہ نہ مانیں۔ مگر عین وقت پر گاؤں سے ان کے لٹھ بند باپ بھائی آن پہنچے کہ اس روپے پر ہمارا حق ہے۔‘‘
’’ صدف چلتے چلتے کہہ گئی تھیں کہ امریکہ سے روپیہ بھیج دیں گی مگر جمیلن بٹیا ہی نہ رہیں۔‘‘ حفیظن نے بھرّائی ہوئی آواز میں کہا۔ رشکِ قمر اسی طرح دل کڑا کیے سنا کی۔
’’ پھر بٹیا کی بیماری کی خبر سن کر آغا فرہاد نے اپنے آدمی کے ہاتھ پیسے بھجوائے وہ انہوں نے لوٹا دیئے ۔ دوسری بار پھر ان کا سکتّر پیسے لایا۔‘‘
’’ آغا فرہاد کے ہاں اب سِکتّر بھی ہے؟‘‘ رشک قمر نے پوچھا۔
’’ پورا عملہ ہے ۔‘‘ بفاتی نے اپنی نئی نویلی سائیکل رکشا کو صاف کرتے ہوئے جواب دیا۔ لاکھوں کا کاروبار ہے ۔ شاہجہاں پور میں غالیچے بنانے کا کارخانہ توان کا بہت برسوں سے چل رہا ہے۔ سیتا پور میں فارم لیا ہے۔ جائداد کا کرایہ الگ آتا ہے۔ یہ بڑی جنگی کوٹھی بنوائی ہے۔ مگر خدا کی شان۔ اتنی دولت اور نام چلانے کے لیے لڑکا ایک نہیں۔ سب کچھ دامادوں کو ملے گا۔‘‘
رشک قمر چہرہ پھیر کر دوسری طرف دیکھنے لگی۔ اسی مکان میں آغا فرہاد کا فرزند تولد ہوا تھا اور ورما صاحب نے فوراً اس کا نام نادر فردین رکھ دیا تھا ۔ وہ دو سال کا ہو کر جاتا رہا۔ آج پچیس برس کا کڑیل جوان ہوتا___ لیکن اگر زندہ رہتا تو بھی کیا ہوتا___ کچھ بھی نہیں۔ آفتاب تو زندہ ہے___ میری بد قسمتی نا قابلِ یقین ہے۔
حفیظن بالٹی اٹھا کر نل پر چلی گئیں۔ رشکِ قمر نے جمیلن کے خالی پلنگ پر نظر ڈالی ۔
جمیل النساء تمہیں تمہاری خود داری نے ہلاک کیا___ اسے یاد آیا جمیلن کو آغا فرہاد سے تب سے نفرت ہوگئی تھی جب اس نے نادر فردین کی ولادت کے بعد سونگ برڈز کلب میں فرہاد کو ورما سے یہ کہتے سن لیا تھا کہ اس طبقے کی چھوکریوں کے پاس بلیک میل کا یہ سہل ترین نسخہ ہے۔ کسی آئے گئے کی اولاد کسی مال دار شناسا کے سرمنڈھ دی۔ قمرن کے پاس ثبوت کیا ہے؟ آغا فرہاد کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ وہ اپنی تیز مزاج رئیس زادی رہپٹ بیوی سے بہت ڈرتے تھے اور سماج کے lowest of the lowly سے ان کی ہمدردی ہوا ہوچکی تھی۔ لیکن نادر فردین کے مرنے کے بعد اپنے اس رویے پر شدت سے نادم تھے۔ رشک قمر سے ملنا جلنا چھوڑ چکے تھے مگر دو سو روپے ماہوار ’’ پنشن‘‘ مقرر کردی تھی جو اس نے بھاگتے بھوت کی لنگوٹی ہی بھلی کہہ کر شکریے کے ساتھ قبول کی تھی لیکن بلا کی ذہین اور اپاہج جمیلن اس پروفیشن میں کبھی داخل ہی نہ ہوئی تھی اور پلنگ پر پڑی پڑی اپنے صاف و شفاف ذہن سے دنیا کوآرپار دیکھا کرتی تھی۔ آغا فرہاد کے ان جملوں کو اس نے کبھی معاف نہ کیا۔
’’ پھر کیا ہوا بفاتی___؟‘‘ رشک قمر نے پوچھا۔
’’ فرہاد میاں نے تیسری بار روپے بھجوائے تو ہم نے چپّے سے لے کررکھ لیے کہ ان کے لیے اچھا ڈاکٹر بلوائیں گے۔ اچھا کھانا پکوایا کریں گے۔ گھر کی حالت سدھرے گی۔ پوچھیں گی کہہ دیں گے کہ لاٹری نکل آئی ہے یا کسی سے قرضہ لیا ہے۔ مگر ہمارے ایک بچّے نے بھولے سے ان کو بتلا دیا۔ بہت بگڑیں چلّائیں۔ ہم نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔ بٹیا ہم آپ کو فاقے کرتے ایڑیاں رگڑ رگڑ کرمرتے نہیں دیکھ سکتے۔
’’ ہماری رکشا ٹوٹ گئی تھی۔ انہوں نے ہمارے بچّوں کی قسم دے کرہم سے کہا اس رقم سے نئی رکشا خریدلو۔ ہم تو مرنے ہی والے ہیں۔ تمہیں رکشا کے ذریعے اپنے کنبے کا پیٹ بھرنا ہے۔ مجبوراً ہم نے رکشا خریدی جو پیسے بچے اس سے بٹیا نے ہمارے بچّوں کے کپڑے بنوا دیئے۔ ارے وہ انسان تھیں کہ فرشتہ۔ مگر ضدی ایسی کہ ہسپتال میں بھرتی ہونے کوآخر دم تک تیار نہ ہوئیں۔
’’ جب تک چل پھر سکتی تھیں گانے کے پروگرام مل جاتے تھے۔ پلنگ سے لگ گئیں تو چکن کاڑھنے لگیں۔ اس میں بیس روپے کما لیتی تھیں۔ بٹیا بھوک سے مریں۔ ہم جو دال بھات کھاتے تھے وہیں انہیں کھلاتے تھے۔ ہمیں معلوم ہے وہ بھوکی رہتی تھیں۔ کہتی تھیں اپنی بیوی بچّوں کا پیٹ کاٹ کرہمیں نہ کھلاؤ۔ دو نوالے کھا کرہاتھ کھینچ لیتیں کہتیں ہمارا ہاضمہ خراب ہے۔ لالٹین کی روشنی میں چکن کاڑھتے کاڑھتے سوجاتیں۔‘‘
رشک قمر پتھر کا بت بنی سنتی رہی۔ بفاتی رکشا کو جھاڑ پونچھ کر چلنے کے لیے تیار ہوئے پھر خود ہی بولے۔ ’’ یہ رکشا خرید کر ہم آغا فرہاد کو بتلا آئے تھے کہ بٹیا نے پیسے اب بھی نہیں لیے ہم کو دے دیئے۔‘‘
’’ بفاتی جمیلن کے ٹھیکیدار سے ہمارے لیے کام لادو۔‘‘
’’ بٹیا۔ آپ ریڈیو پر گائیے۔ پہلے تو گاتی تھیں۔‘‘
’’ اب ہماری آواز ریڈیو کے لائق نہیں رہی۔ ہم یہاں تھے جب ہی بہت عرصے سے گانا چھوڑ چکے تھے___ چکن بنانے کا ریٹ آج کل کیا ہے___؟‘‘
’’ کرتوں کی ترپائی فی کرتا دس پیسے۔ ایک ساڑی کے پانچ دس یا پندرہ روپے۔ بھاری کام کے بیس پچیس ۔ ایک نیا پیسہ فی مرّی پتی ۔ ایک آنہ فی پھول پکّی کڑھائی۔ پتّی میں جالی بنانے کا ایک نیا پیسہ ایک نیا پیسہ فی شیڈو ورک۔ ایک نیا پیسہ فی بوٹی۔ ایک عورت ایک ساڑی نہیں بنا پاتی۔ ایک گھر میںمرّی پتّی بنے گی۔ دوسرے میں شیڈو ورک۔ تیسرے میں بیل ، جمیلن بٹیا مرّی پتّی بناتی تھیں۔ بٹیا یہی ساڑیاں بازارمیں اور فارن میں جاکر سینکڑوں میں بکتی ہیں۔ کاری گر بھوکے مرتے ہیں۔‘‘


دوسرے روز صبح ساڑھے نو بجے ٹھیکیدار چار کرتے، ایک سفید ساڑی اور سفید دھاگہ لے کر ڈیوڑھی پرآیا۔ قمرن نے ٹاٹ کے پردے کے پیچھے سے سارا سامان لیا۔ ٹھیکیدار نے دھاگہ ناپ کر دیا کہ عورت کہیں دو تین گز اپنے پاس نہ رکھ لے۔ پھر وہ بقچہ سنبھال کر پڑوس کے گھر کی طرف بڑھ گیا۔
قمرن کھپریل میں آئی۔ بوسیدہ تخت کو جھاڑن سے خوب اچھی طرح صاف کیا۔ اس پر چادر بچھائی اور ساڑی اپنے سامنے پھیلا کر اس پر چھپے ہوئے بیل بوٹوں کو غور سے دیکھا۔ سوئی میں سفید دھاگہ پرویا۔ دیوار کے سہارے بیٹھ کر ساڑی کا آنچل گھٹنوں پر پھیلایا اور بوٹا کاڑھنا شروع کیا۔
تب وہ دفعتاً اپنا سر گھٹنوں پر رکھ کر کے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔