پیر، 30 اکتوبر، 2017

حیدرآباد کی چند اہم خواتین ناول نگار از جاوید شاہ آبادی


حیدرآباد کی چند اہم خواتین ناول نگار

شہرحیدرآباد اپنی بیش بہا خصوصیات کی بنا پر اپنی ایک منفرد پہچان رکھتا ہے۔ ابتدا ہی سے یہ شہر اپنی منفرد زبان، تہذیب اور ثقافت کا مرکز رہا ہے۔ بالخصوص اس شہر سے اردو زبان و ادب کی ہمیشہ ہی سرپرستی ہوتی رہی ہے۔ یہاں کی سرزمین اردو ادب کے لیے بہت زرخیز ثابت ہوئی ہے۔ اردو ادب کے پہلے صاحبِ دیوان شاعر سلطان محمد قلی قطب شاہ کا تعلق اسی سرزمین سے ہے۔ حیدر آباد کے حکمرانوں کو اردو ادب سے کافی شغف تھا، وہ خود صاحب طرز شاعر و ادیب تھے اور ادیبوں کی سرپرستی ان کا شیوہ تھا۔ یہاں کی خاک سے بے شمار شعرا وادبا نے جنم لیا، جنھوں نے ہر دور میں ادب کی آبیاری کی اور اپنی علم دوستی اور دانشوارانہ صلاحیتوں کی وجہ سے دنیا میں اپنے وطن کا نام روشن کیا۔ عہد آصفیہ سے قبل ہندستان کے لوگ قدیم روایا ت کے پابند تھے۔ خاص کر حیدرآباد کا ماحول عورتوں کے لیے سخت گیر تھا ۔اکثر گھرانوں کی خواتین گھر کی چہار دیواری سے باہر نہیں نکل سکتی تھیں ۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس رویے اور قدامت پسند ماحول میں تبدیلی آنے لگی۔ انیسویں صدی میں حیدرآباد میں تحریک نسواں کا آغاز ہوا، جس کا اثرمعاشرتی اور تمدنی زندگی پر راست یا بلاواسطہ طورپر ضرور پڑا۔ اس تحریک کی وجہ سے خواتین کو ایک حوصلہ اورہمت ملی، جس کی بدولت انھوں نے نہ صرف خود تعلیم حاصل کی بلکہ سماج میں روشن خیالی اور حصول علم کے رجحان کی تربیت کی۔ تحریک نسواں نے بہت سی خواتین نثر نگاروں کو پیدا کیا، جن میں جیلانی بانو، عفت موہانی، آمنہ ابوالحسن، رفیعہ منظورالامین ، قمر جمالی وغیرہ نے اپنی کاوشوں سے اردو نثر کو بہت آگے لے جانے میں کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی۔ ان نثر نگار خواتین نے اپنے فن پاروں کو کسی مخصوص موضوع تک محدود نہیں رکھا بلکہ تقریباً تمام موضوعات پر قلم اٹھایا۔ انھوں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے اردو ادب میں اپنی شناخت برقرار رکھی ہے۔ شاعری، افسانہ نگاری، تنقید، تدریس، غرض ہر میدان میں خواتین دکن کی صلاحیتوں کے نقوش نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ حیدر آباد کی خواتین ناول نگاروں نے بیسویں صدی کے نصف آخر میں ناول لکھنے شروع کیے اور تب سے آج تک یہ عمل مسلسل جاری ہے۔ کئی خواتین ناول نگار آج بین الاقوامی شہرت کی مالک ہیں۔ انہوں نے فن اور موضوع دونوں اعتبار سے اسے وسعت بخشی ہے۔ ان ناول نگار خواتین نے اپنے ناولوں میں عورتوں کے بنیادی مسائل کو جگہ دی ہے اور ناول کے ذریعہ عورتوں کی تعلیم و تربیت، سماجی و اخلاقی اور معاشرتی خامیوں کو دور کرنے کی بھی سعی کی ہے۔ ان کے نزدیک عورتوں کا ناخواندہ ہونا ہی تمام خامیوں اور برائیوں کی جڑ ہے۔ عورت اگر تعلیم یافتہ ہوگی توکامیاب زندگی گزار سکے گی۔ اس کے علاوہ انھوں نے سماج کے فرسودہ رسم و رواج کی طرف بھی لوگوں کی توجہ مبذول کرنے کی کوشش کی ہے۔    
  
جیلانی بانو
جیلانی بانو اردو کی مشہور و معروف فکشن نگار ہیں، انھوں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے سماج کے مختلف مسائل خصوصاً سرزمینِ حیدرآباد کی معاشرتی وسیاسی فضا، تہذیبی وثقافتی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ جیلانی بانو کی ولادت اتر پردیش کے مردم خیز شہر ضلع بدایوں میں 14 جولائی 1936 کو ہوئی۔ جیلانی بانو نے جس عہد میں ہوش سنبھالا وہ جاگیر دارانہ ماحول ومعاشرے کی ٹوٹتی بکھرتی روایتوں اور قدروں، سیاسی وسماجی تغیرات اور تحریک آزادی کا دور تھا۔ اس دور کے حالات ومسائل نے ان کے حساس ذہن کو متاثر کیا۔ اور جب انھوں نے قلم اٹھایا تو اپنی تمام فن کارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی کوشش کی۔ انسانی زندگی کے نشیب وفراز اور دیگر سیاسی، سماجی مسائل کو کہانیوں کے پیرائے میں ڈھال دیا۔ ان کی تخلیقات میں حقیقت پسندی اور سیاسی وسماجی شعور کی پختگی کا بھر پور اظہار ملتا ہے۔ جیلانی بانو نے نثر کی تمام اصناف پر طبع آزمائی کی ہے۔ انھوں نے اپنا تخلیقی سفر ملک کی آزادی کے بعد شروع کیا۔ ان کی پہلی کہانی کا نام ”موم کی مریم “ ہے جو کہ ادب لطیف لاہور کے سالنامے میں شائع ہوئی تھی۔اس کے بعد ان کا قلم بلا کسی جھجھک کے چل پڑا۔ انھوں نے افسانہ وناول نگاری کے ساتھ ساتھ کتابوں پر تبصرے بھی کیے ہیں۔ روزنامہ سیاست میں کالم ”شیشہ وتیشہ“بھی لکھا ہے۔ مختلف اخبارات ورسائل میں ان کی تخلیقات شائع ہوتی رہی ہیں ۔

جیلانی بانو کے دو مشہور ناول ”ایوان غزل “ اور ”بارش سنگ“ ہیں۔ ان کا پہلا ناول ”ایوان غزل “ ہے، جو 1976ء میں شائع ہوا۔ اس ناول کا نام پہلے ”عہد ستم “ تھا لیکن اس وقت ایمر جنسی کی وجہ سے کتابوں پر سنسر شپ عائد تھی اور یہ نام چوں کہ قابل اعتراض تھا لہذا اس کا نام بدلنا پڑا۔ یہ ناول آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد تک کے چند برسوں کی حیدرآبادی ثقافت و تہذیب کی حقیقی عکاسی کرتا ہے ۔اس ناول میں ریاست حیدرآباد کے زوال پزیر جاگیر دارانہ معاشرے میں پیدا شدہ حالات ومسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ”ایوان غزل “ دراصل ایک تہذیبی اور سماجی ناول ہے، جس میں ریاست حیدرآباد کے زوال کی داستان پیش کی گئی ہے ۔جیلانی بانو نے ”ایوان غزل“ لکھ کر اردو ناولوں کی فہرست میں ایک اچھے ناول کا اضافہ کیا۔ آج اس ناول کا شماراردو کے پسندیدہ ناولوں میں کیا جاتا ہے۔

جیلانی بانو کا دوسراناول ”بارشِ سنگ“1984 میں کراچی پاکستان سے اور 1985 میں حیدرآباد دکن سے شائع ہوا۔ بارش سنگ کا سب سے پہلے مراٹھی زبان میں ترجمہ کیا گیا اور حیدرآباد سے شائع ہونے والے رسالے ”پنج دھارا “میں اسے قسط وار شائع کیا گیا۔ بارش سنگ کا انگریزی میں بھی ترجمہ کیا گیا اور A Hail of Stones”کے نام سے دہلی سے شائع کیا گیا ہے ۔”پتھروں کی بارش“ کے نام سے اس کا ترجمہ ہندی میں 1987 میں دہلی سے شائع کیا گیا۔ ”بارشِ سنگ“ تلنگانہ کے کسان تحریک کے پس منظر میں تصنیف کیا گیا ہے، جس میں آزادی سے قبل اور آزادی کے چند برسوں بعد تک حیدرآباد کے رہنے والے دیہی علاقوں کے غریب کسانوں ،مزدوروں اور عورتوں کے حالات ومسائل کی حقیقی عکاسی کی گئی ہے۔ جاگیردارانہ نظام کا ظلم وستم، معاشی استحصال، سماجی غیربرابری اور طبقاتی کشمکش اس ناول میں پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔

رفیعہ منظورالامین

رفیعہ منظورالامین حیدرآ باد کی ایک مشہور ومعروف فکشن رائٹر ہیں۔ ان کی ولادت حیدرآباد کے ایک تعلیم یافتہ گھرانے میں ہوئی۔ ابتدا میں ان کی تعلیم کاچی گوڑہ، حیدرآباد کے ایک اسکول میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انھوں نے کاچی گوڑہ سے ہی میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اپنا تعلیمی سفر جاری رکھتے ہوئے انھوں نے  B.Sc.ویمینزکالج، کوٹی، حیدرآباد سے کیا۔ رفیعہ منظورالامین کو بچپن ہی سے کہانیاں لکھنے کا شوق تھا۔ انھوں نے پہلی کہانی آٹھ سال کی عمر میں لکھی تھی جو دہلی سے شائع ہونے والے رسالے ”پیامِ تعلیم “ میں شائع ہوئی تھی۔ کالج میں بھی وہ ادبی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔ کالج میگزین ”کاسماس“ کی ادارت کے فرائض بھی انہوں نے انجام دیے۔ ان کا پہلا ناول ”سارے جہاں کا درد“ پہلی بار1974 میں اور اس کے دس سال بعد دوبارہ 1984 میں نظامی پریس، لکھنؤ سے شائع ہوا۔ یہ ناول 343 صفحات پر مشتمل ہے۔ ”عالم پناہ“ مصنفہ کا دوسرا ناول ہے۔ اس ناول کے تین اڈیشن شائع ہوئے ہیں۔ ناول کو ہندوستان گیر شہرت حاصل ہوئی ہے۔ ”عالم پناہ“ کا ہندی زبان کے علاوہ کنڑ میں بھی ترجمہ ہوا۔ ہندی میں ناول کا ترجمہ منظورالامین نے کیا ہے۔ موصوفہ کا تیسرا ناول ”یہ راستے“ 1995 میں انجمن ترقی اردو، آندھرا پردیش، اردو ہال ، حمایت نگر، حیدرآباد سے چھپ کر منظر عام پر آیا ہے۔

 واجدہ تبسم

واجدہ تبسم اردو فکشن کا ایک اہم نام ہے۔ بر صغیر کی یہ نامورشخیصت امراوتی میں 16 مارچ 1935 کو پیدا ہوئی۔ ادبیات اردو میں جامعہ عثمانیہ سے ماسٹرزڈگری حاصل کی۔ بعد میں کچھ ایسے حالات بنے کہ انھیں اپنے اہل خانہ کے ساتھ 1947 میں حیدرآباد دکن میں مستقل قیام کرنا پڑا۔ حیدرآباد کا دکنی لہجہ جو کہ دیگر صوبوں کی اردو سے قدر مختلف ہے، ان کی کہانیوں اور افسانوں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ دکنی زبان کے محاورے، ضرب الامثال کو انہوں نے بڑی چابک دستی سے استعمال کیا ہے ۔ سرزمین دکن کی قدیم داستانوں، بود و باش اور رسوم کو انھوں نے اپنی تخلیقات میں بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ ” کیسے کاٹوں رین اندھیری“ اور ”نتھ کی عزت“ ان کے دو مشہور ناول ہیں، جن میں موصوفہ نے حیدرآباد دکن کی خاص مسلم تہذیب کو اجاگر کرنے کی سعی کی ہے۔ واجدہ تبسم کے ناولوں کا ایک مرکزی موضوع طوائف رہا ہے۔ حیدرآبادی معاشرت میں طوائف کا کردار اس کی زندگی کے نشیب و فراز، اس کی خوشیاں، اس کے غم، اس کی خواہشیں اور گھریلو زندگی پر اس کے اثرات کا تجزیہ بڑی خوبی کے ساتھ واجدہ تبسم نے اپنے ناولوں میں پیش کیا ہے۔ ”نتھ کی عزت“ اگرچہ ایک مختصر ناول ہے لیکن اس میں ”حیا“ نامی طوائف کے جذبات واحساسات کا ایک سمندر ٹھاٹھیں مارتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ واجدہ تبسم نے انتہائی مہارت اور چابک دستی سے اس کا کردار تشکیل کیا ہے ۔ ”کیسے کاٹوں رین اندھیری“ بھی حیدرآبادی ماحول پر لکھا گیا ایک دلچسپ اور عبرت آموز المیہ ناول ہے۔ اس ناول میں مصنفہ نے اس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ کس طرح طوائفوں کے پیچھے ہنستے کھیلتے بسے بسائے گھر برباد ہوجاتے ہیں ۔ حیدرآباد کی سماجی زندگی میں طوائف کے ناسور نے جو تباہیاں مچا رکھی تھیں، ان کا بیان ہی دراصل ”کیسے کاٹوں رین اندھیری“ کا موضوع ہے۔ اس وجہ سے یہ ناول ایک اصلاحی کتاب ہے، جسے ناول کے پیرائے میں لکھ کر مصنفہ نے ایک قابل قدر خدمت  انجام دی ہے۔

 صغرا ہمایوں مرزا
اردو دنیا میں صغرا ہمایوں مرزا ایک ادیبہ، شاعرہ، مدیرہ اور سماجی خدمت گزار کی حیثیت سے جانی اور پہچانی جاتی ہیں۔ بیگم صغرا ہما یوں کی ولادت 1884 میں حیدرآباد میں ہو ئی اور 1959 میں حیدرآباد ہی میں انتقال ہوا ۔ ان کی شادی 1901 میںہمایوں مرزا صاحب سے ہوئی۔ شادی کے بعد دونوں نے حیدرآباد ہی میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔حیدرآباد میں رہ کر انہوں نے بہت سے فلاحی کام انجام دیے ۔ لڑکیوں کی فلاح وبہبود کے خیال سے انہوں نے ایک مدرسہ صفدریہ قائم کیا ، جس کے لیے موصوفہ نے اپنی جائداد کا ایک حصہ وقف کر دیا۔ اس مدرسے میں آج بھی تعلیم کے ساتھ ساتھ مختلف پیشہ ورانہ کور سز سکھائے جاتے ہیں۔ صغرا ہمایوں مرزا نے نہ صرف فلاحی کام انجام دیے بلکہ اپنے قلم کے ذریعے سماج کی اصلاح کرنے کی کوشش بھی کی ہے ۔ مصنفہ کا شمار اردو کی اولین خواتین ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے تقریباًچودہ ناول لکھے ہیں ،جن میں ” تحریر النساء“ ، ”موہنی“، ”مشیر نسواں“، ’زہرہ“ اور ”سر گزشت ہاجرہ“ بہت مقبول ہوئے۔ بیگم صغرا ہمایوں مرزا کی تحریروں میں عموماً بیانیہ تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے۔ اپنے عہد میں ان کی تخلیقات کافی مقبول ہوئیں ۔ عوام اور خواص دونوں طبقوں میں مصنفہ کی تخلیقات بڑے شوق اور دلچسپی کے ساتھ پڑھی جاتی تھیں۔ ان کے فن پاروں میں اس عہد کے گہرے نقوش نظر آتے ہیں، جس کی بدولت اس عہد کی روایات کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔

فاطمہ تاج
فاطمہ تاج حیدر آباد دکن کی ادب خیز سر زمین سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ حیدرآباد کی ان باشعور خواتین میں سے ایک ہیں، جنھوں نے ہر صنف پر طبع آزمائی کی ہے۔ جیسے غزل، نظم، افسانہ، ناول، انشائیہ، خاکہ وغیرہ۔ فاطمہ تاج کی ولادت حیدرآباد میں 25 / اکتوبر 1948ء کو ہوئی۔ ان کے آباو اجداد مدینہ منورہ سے ہندوستان آکر آباد ہوئے۔ فاطمہ تاج کے دو ناول ”جب شام ہو گئی“ اور ”نقشِ آب“ اور ایک ناولٹ ”وہ“ منظر عام پر آچکے ہیں۔ فاطمہ تاج اپنی پرکشش تحریر سے اپنے احساسات، جذبات، تجربات و مشاہدات سب کچھ صفحہ قرطاس پر بکھیر دیتی ہیں۔ فنی نقطئہ نظر سے اگر دیکھا جائے تو انہوں نے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی کوشش کی ہے۔ فاطمہ تاج اچھی ناول نگار ہیں۔ ان میں بات کہنے کا سلیقہ موجود ہے۔ انہوں نے تقریباً تمام موضوعات پر اظہار خیال کیا ہے۔ ان کا یہ وصف ان کے شعور اور فن کا آئینہ دار ہے۔ فاطمہ تاج ہر لحاظ سے قابل قدر اور لائق ستائش ہیں۔

آمنہ ابوالحسن
حیدر آباد کی فکشن نگار خواتین میں آمنہ ابوالحسن کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ سید آمنہ ابوالحسن جو آمنہ ابوالحسن کے نام سے ادبی دنیا میں پہچانی جاتی ہیں، حیدر آباد کے ایک تعلیم یافتہ گھرانے میں 10 مئی 1941 کو پیدا ہوئیں۔ آپ کے نانا اپنے وقت کے جید عالم تصور کیے جاتے تھے۔ آمنہ ابوالحسن کے والد کا نام ابوالحسن سید علی تھا۔ آمنہ ابوالحسن کے بچپن میں ہی ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا۔ اپنے والد کے زیر سایہ انہوں نے تعلیم و تربیت حاصل کی۔ ان کے والد ابوالحسن سید علی مرحوم نامور قانون داں اور سیاست داں ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی رہنما بھی تھے۔ مصنفہ کی شادی دورانِ تعلیم ہی جناب مصطفی علی اکبر صاحب سے ہوئی جو آل انڈیا ریڈیو میں نیوز ریڈر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ آمنہ ابوالحسن 9 اپریل 2005 کو سرائے فانی سے عالم لافانی کو منتقل ہو گئیں۔ آمنہ ابوالحسن کو بچپن ہی سے کہانی لکھنے کا شوق تھا۔ ان کی پہلی کہانی ”ننھی کلی“ کے عنوان سے بچوں کے لیے شائع ہونے والے رسالے میں چھپی تھی، اس وقت موصوفہ آٹھویں جماعت کی طالبہ تھیں۔ کہانی شائع ہونے کے بعد ان کے قلم میں خود اعتمادی آگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی تخلیقات یکے بعد دیگرے منظرِ عام پر آنے لگیں۔ انہوں نے متعدد ناول لکھے جنھیں اردو ادب میں بہترین ناول تسلیم کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ”سیاہ سرخ سفید“،”تم کون ہو“،”واپسی“،”مہک“، ”یادش بخیر“وغیرہ۔

آمنہ ابوالحسن کا سب سے پہلا ناول”سیاہ سرخ سفید“ 1968 میں نیشنل بک ڈپو، مچھلی کمان حیدر آباد سے شائع ہو کر منظر عام پر آیا۔ یہ ناول 224 صفحات پر مشتمل ایک رومانی ناول ہے۔ ان کا دوسرا ناول ” تم کون ہو“ 1974 میں نیشنل پرنٹنگ پریس، چار کمان، حیدر آباد سے شائع ہوایہ ناول 164 صفحات پر مشتمل ایک معاشرتی ناول ہے۔ان کا ایک اور ناول ” واپسی“1981 میں موڈرن پبلشنگ ہاوس ،گول مارکٹ سے شائع ہوا۔ ”یادش بخیر“1994 میں موڈرن پبلشنگ ہاوس ، دریا گنج، نئی دہلی سے شائع ہوا۔ ناول ” یادش بخیر “ میں قدیم تہذیب اور جدید دونوں رجحانات پائے جاتے ہیں ۔ مصنفہ نے ناول میں کہیں کہیں خود کلامی سے کام لیا ہے اور اس کے وسیلے سے کرداروں کے افکار و تصورات کی ترجمانی کی ہے۔

قمر جمالی
قمر جمالی کا اصلی نام قمر سلطانہ اور قلمی نام قمرجمالی ہے۔ موصوفہ کی پیدائش ڈسٹرکٹ نلگنڈہ کے ایک گاں ایٹور میں 1950 کو ہوئی۔ وہ دکن کی ایک مقبول و معروف فکشن نگارتصور کی جاتی ہے۔قمر جمالی کے ادبی سفر کا با قاعدہ آغاز ”اے چاند چھپ نہ جانا“ سے ہوا جو ایک عشقیہ موضوع پر مبنی کہانی ہے جو ایک ہفتہ وار اخبار ”رسالہ روداد حیات“ دہلی میں 1966 میں چھپا تھا۔ قمر جمالی بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں۔لیکن قمر جمالی ان تخلیق کاروں میں گردانی جا سکتی ہیںجنہوں نے ناول اور افسانہ دونوں کے تئیںحق ادا کیا ہے۔قمر جمالی نے ”آتش دان“ لکھ کر اپنی تخلیقیت اورفنی بصیرت کا مسلّم ثبوت ادبی دنیا کو فرا ہم کیا ہے۔ ’آتش دان‘نہایت ہی سہل اور آسان زبان میں لکھا گیا ہے جس میں وقت کے فلسفے کو ایک لطیف انداز میں پیش کیا گیا ہے اور اشاروں کنایوں میں زندگی کے فلسفے کو سمجھایا گیاہے۔موصوفہ کا یہ پہلا ناول ہے۔اب تک انہوں نے صرف افسانوی ادب تخلیق کیا ہے۔اصولی طور پر اس ناول میں افسانوی رنگ زیادہ ہونا چاہئے تھا لیکن ایسا نہیں ہے۔انہوں نے اس میں ایک نئے موضوع کو جگہ دی ہے۔ گاں کے کسانوں کی مظلومیت ،انانیت اور سیاست کی غنڈہ گردی ،دولت اور قبیلے کے بل بوتے پر ڈکٹیٹر شپ کی چکی میں پسے ہوئے عام انسان کو موضوع بنا یا گیاہے۔ناول نگار نے ایک چھوٹے سے دیہات کے ذریعہ ہندوستان کی سماجی ، سیاسی اور معاشی زندگی کو پیش کیا ہے۔ اس ناول میں جہاں ایک طرف سیاسی لیڈر کی انا پرستی اور ظلم کو واضح کیا گیا ہے وہیں انسان کی دم توڑتی قدیم سماجی زندگی کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ قمر جمالی کا ناول” آتش دان“ فنی نقطۂ نظر سے کامیاب ناول ہے۔ قمر جمالی نے اس وقت مارکسی نظریہ کو احیائے نو بخشا جب ہمارا اردو ادب نئے نظریات کے دھندلکوں میں کہیں گم ہوگیا تھا اور حقیقت نگاری کے بجائے غیر منکشف چیزوں پر زور دیا جاتا تھا۔ مجموعی طور پر قمرجمالی ایک ایسی نسائی آواز ہے جو اپنی تحریروں کی وساطت سے اردو دنیا میں اپنی پہچان بنانے میں کامیاب نظر آتی ہیں۔ ان کا ذوقِ جمال ان کے ناول ”آتش دان“ میں نکھر کر سامنے آیا ہے۔ ”آتش دان“ میں سلگتی جلتی بے چین و بے قرار دیہاتی زندگی کو پیش کیا گیا ہے۔

جاوید شاہ آبادی

جمعہ، 27 اکتوبر، 2017

خدیجہ مستور کی فکری اساس اور اردو ناول نگاری از غزالہ فاطمہ

خدیجہ مستور کی فکری اساس اور اردو ناول نگاری


اردو ادب کی تاریخ ہمارے ملک کی سیاسی ،سماجی ،ثقافتی،معاشرتی تاریخ  کا ایک اہم حصّہ رہی ہے ۔انیسویں صدی کے آخری عشرے اور بیسویں صدی کے اوائل میں ہماری سماجی فکر کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس دور میں متوسط طبقہ نے پہلی دفعہ اپنے آپ کو بحیثیت ایک طبقہ پہچانا۔اس سے پیش تر اردو ادب کا مرکز ومحور رؤسا  ہوا کرتے تھے۔ادب میں متوسط طبقے کی دریافت سماجی فکر کی پہلی دریافت تھی۔قدیم ادب کوخیالی و رومانی سمجھا جاتارہا ہے اور نئے ادب کو حقیقت کا ترجمان اور حقیقت پسند قرار دیا جاتا ہے ۔یوں دیکھا جائے تو نئے او رپرانے ادب میں بنیادی فرق مضمون و احساس کا ہے۔

پرانے ناولوں کا دائرہ محدود اور نئے ناول کا دائرۂ احساس وسیع ہے۔اگرچہ اردو ناول کی عمرڈیڑھ سو برس سے کم نہیں اور اس عرصے میں سیکڑوں ناول لکھے گئے لیکن ان میں گنتی کے ہی کچھ عمدہ اور بہترین ناول ملتے ہیں ۔ زندگی چوں کہ نِت نئے انقلاب کی داستان ہے اور زندگی کی طرح ادب میں بھی کئی موڑ آتے ہیں ۔یہ انقلابات ادب پر بھی دیر پا اثرات مرتب کرتے ہیں۔سر سید تحریک، رومانی تحریک اور ترقی پسند تحریک ایسے اہم تاریخی و ادبی ابواب ہیں جنھوں نے نئے اندازِ فکر کو جنم دیا۔انیسویں صدی کے آخری اور بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں جتنی خواتین ناول نگار اردو ادب میں نظر آتی ہیں۔ان میں سے بیش تر نے اصلاحی و مقصدی نقطۂ نظر سے ناول لکھے ۔ یہ اصلاحی و مقصدی نقطۂ نظر زیادہ تر متوسط طبقے کی خواتین کے حوالے سے تھا۔

بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں جب سماجی و سیاسی حالات میں تبدیلی ہوئی تو ادب بھی اس سے متاثر ہوا۔اردو ناول میں انیسویں صدی کے خاتمے تک،اخلاقی اور سماجی اصلاح پرزور دیا گیا اور اسی کے ساتھ تہذیبی اقدار کو بہتر سے بہتر بنانے کی فکر بھی ہوئی۔

یہ وہ دور ہے جب مسلم معاشرہ ہی نہیں بلکہ پورا  ہندوستانی معاشرہ عورتوں کو کسی بھی قسم کی آزادی دینے کے حق میں نہیں تھا اور حالات اس قدر خراب تھے کہ عورتوں کو واجبی سی تعلیم، وہ بھی گھر پر ہی دلا دینا بڑی بات سمجھی جاتی تھی۔معاشرے میں کوئی ان مجبور عورتوں کی حالت پر غور نہ کرتا تھا،جو مرد اساس معاشرے کے ظلم کاشکار تھیں اور طرح طرح کی صعوبتیں اٹھا کر کسی صورت اپنی زندگی کاٹ رہی تھیں،مگر بیسویں صدی میں صورت حال میں تبدیلی آئی اورچند روشن خیال گھرانوں نے عورتوں کی تعلیم کی طرف توجہ دیا ۔محمدی بیگم نے عورتوں کی ایسی گھٹن والی اور مظلوم زندگی پر چھوٹے چھوٹے ناول لکھے۔جن میں مردوں کے ظلم کی داستان اور عورتوں کے صبرو ایثار کی بڑی اچھی تصویریں پیش کیں۔پھر حیدرآباد کے نواب خاندان کی ایک تعلیم یافتہ خاتون صغرا ہمایوں مرزانے ”مشیرِ نسواں“یا ”زہرا“نام کا ایک ایساہی ناول لکھا۔جس میں جابجا عورتوں کی پستی اور اس کے استحصال کو ختم کرنے کی کوشش ملتی ہے اور انھیں ان کی پستی کے اسباب بتا کر ان میں حوصلہ پیدا کرنے کی فکر بھی پیدا کرتی ہے۔

حیدرآباد سے الگ ہٹ کر نذر سجّاد حیدر وغیرہ نے بھی اسی طرح کے ناول لکھے۔اور عورتوں کوسماجی زندگی میں ایک ترقی یافتہ کردار اختیار کرنے کی ترغیب دی۔یہ بیسویں صدی کی ابتداءسے لے کر1935 تک کا زمانہ ہے جب ان خواتین نے اپنی تحریروں سے عورتوں میں ایک نئی ذہنی بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی ۔در اصل انھی کوششوں سے سماج اور خصوصاً اردو ادب میں تانیثی ادبی فکر کی ابتداءہوتی ہے۔جو آگے چل کر عصمت چغتائی،جمیلہ ہاشمی،صالحہ عابد حسین،رضیہ سجاد ظہیر،قرة العین حیدر،جیلانی بانو،آمنہ ابوالحسن، خدیجہ مستور، رضیہ فصیح احمد،بانو قدسیہ،الطاف فاطمہ، ساجدہ زیدی اور متعدد خواتین ناول نگاروں کی شکل میں ادبی منظر نامے میں نظر آتی ہیں۔

ہندوستان کی آزادی اپنے ساتھ تقسیم کا کرب لے کر آئی۔پاکستان کا قیام عمل میں آنے کے بعد ہندو پاک میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے اور قتل و غارت گری کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس سانحے نے انسان کے خصوصاً ادیبوں کے دلوں پر گہرے نقش چھوڑے اور انھوں نے اس سانحے سے متعلق اپنے کرب کو اپنی تخلیقات میں شامل کرنا شروع کیا ۔صرف مرد افسانہ نگار یا شاعر ہی نہیں بلکہ خواتین افسانہ اور ناول نگاروں نے اسے اپنی کہانیوں میں قلم بند کرنا شروع کیا۔عورت کا دل نازک اور حساس واقع ہواہے اور وہ ایسی کرب ناک اذیت سے مردوں کی نسبت زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ خواتین افسانہ نگار اور ناول نگار وں کی تحریروں میں یہ واقعہ اپنی پوری جذباتیت کے ساتھ قاری کے سامنے آتا ہے۔انھیں خواتین ناول نگاروں میں ایک اہم نام خدیجہ مستورکابھی ہے۔

خدیجہ مستورکی ہم عصر خواتین ادیباؤں نے جس دور میں اپنا تخلیقی سفر شروع کیا وہ کئی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے۔جہاں ایک طرف وہ سیاسی اور معاشرتی طور پر ہنگامہ خیز زمانہ تھا وہیں دوسری طرف اسی دور میں کئی فکری اور ادبی نظریات نے جنم لیا۔ ترقی پسند تحریک اس کی ایک مثال ہے جس نے ادب کو زندگی سے قریب تر لانے کی کوشش کی۔1947 کے بعد چند سال انتہائی انتشار کے تھے۔اسی تہذیبی انتشار نے شاعروں ، ادیبوں کوبھی ذہنی اور جذباتی طور پر متاثر کیا۔غالباً یہی وجہ ہے کہ اردو کے زیادہ تر ادیبوں نے اس خون آلود آزادی کا خیر مقدم نہیں کیا بلکہ اسے ایک عظیم انسانی ٹریجڈی کے روپ میں سامنے لانے کی کوشش کی۔فیض کی نظم’’ صبح آزادی‘‘،منٹو کے افسانے’’ ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘‘اور’’ کھول دو‘‘، راجندر سنگھ بیدی کا افسانہ ’’لاجونتی‘‘،راما نند ساگر کا ناول’’اور انسان مرگیا‘‘،اسی طرح کی ایک کوشش تھی۔

اسی طرح خدیجہ مستور نے بھی اس کریہہ منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اسے اپنے ناولوں میں بیان کیا۔خدیجہ مستور 11؍دسمبر 1927 بریلی میں پیدا ہوئیں۔ لیکن تقسیم ہند سے قبل ہی ان کا خاندان لاہور منتقل ہوگیا تھا۔ انہوں نے ناول بھی لکھے اور افسانے بھی۔پہلا ناول” آنگن “ 1962 میں اور دوسراناول ”زمین“ 1982 منظر عام پر آیا۔ انہوں نے اپنے ماحول کی حقیقت پسندانہ اور معنی خیز عکاسی کی ہے۔”آنگن“ کا بنیادی موضوع ہندوستانی معاشرے کی گھریلو زندگی پر سیاسی اثرات ہیں۔مصنفہ نے ایک متوسط طبقے کی عکاسی کی ہے جو ملکی سیاست کی پرپےچ گتھیوں کو سلجھاتے ہوئے تباہی کے دہانے پر آن کھڑا ہوا ہے۔”آنگن“ کے مرد سےاست کی خاطرگھر بار سے بے نیاز ہو گئے ہیں ۔وہ سےاسی تحریکوں میں جوش و خروش سے حصہ لیتے ہیں۔اس کے علاوہ خانگی جھگڑے اور رشتے ناتے میں ان کا ذکر بھی اس ناول میں ملتا ہے۔

ناول”آنگن“ ایک ایسی علامت نظر آتا ہے جو اپنے اندر اس زمانے کی بھر پور جد وجہد کے اثرات علامتی انداز میں سمیٹے ہوئے ہے۔چچا کا”آنگن“ صرف گھریلو زندگی کی عکاسی نہیں بلکہ پورے ہندوستانی معاشرے کی عکاسی کرتا ہے یہ اس دور کی حالت کو بیان کرتا ہے جو دوسری جنگِ عظیم سے تعلق رکھتی تھی۔ملک کی سیاست نے گھریلو زندگی پر ایسا اثر ڈالاکہ خاندان کے خاندان سیاست کی بھینٹ چڑھ گئے اور ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد مختلف نظریات کے پابند ہوجانے کے باعث ایک دوسرے سے دور ہو گئے۔

خدیجہ مستور نے اپنے دوسرے ناول ”زمین“میں قیام ِ پاکستان کے وقت اور اس کے بعد جو حالات تھے ان کو بڑی فن کاری کے ساتھ اجاگر کیا ہے۔”آنگن“ قیام پاکستان کے بعد کی ابتدائی زندگی کے حوالے سے تخلیق شدہ ناولوں میں اہم ناول ہے۔ خدیجہ مستور کا دوسرا ناول ”زمین“ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں سے ناول ”آنگن “ ختم ہواتھا۔”زمین “کو” آنگن “ کی توسیع بھی کہا جاتا ہے ۔اس ناول میں انھوں نے تاریخی شعورکا مظاہرہ کیا ہے۔اس میں پاکستان کی تاریخ کے حوالے سے اقدار کی شکست و ریخت اور معاشرتی تبدیلیوں کا قصّہ بیان کیا گیا ہے۔جنھوں نے انسانی زندگی میں مسائل پیدا کیے جن میں سب سے بڑا مسئلہ آدرشوں کی شکست وریخت ہے۔ اس ناول میں عالیہ کی جگہ ساجدہ نے لے لی ہے۔ ناول یہ تاثردیتا ہے کہ تاریخ کے دھارے پر بہتے ہوئے انسان کیا کیا منصوبے بناتا ہے اور کنارے آ لگنے پر سوچ ،فکر اور خوابوں کے تمام مناظر بدل جاتے ہیں۔لیکن ”زمین“ میں تاریخ اور سیاست میں کردار اتنے ملوث نہیں جتنے کہ آنگن میں ملوث تھے۔شاید وہ تحریک کا ابتدائی اوریہ انتہائی دور تھا اور یہ تنظیم کا مرحلہ ہے۔تاہم مصنفہ کا خلوص اور سادگی لائق ستائش ہے۔انھوں نے پاکستان بننے کے بعد کے حالات کو جو تاریخ اور سیاست سے اپنا وجود پاتے ہی گرفت میں لینے کی سعی کی ہے۔اس طرح ”آنگن“ اور ”زمین“ میں اگر قصے کی گہرائی میں اتر کر دیکھا جائے توہمیں اس حقیقت کا ادراک ہوگا کہ خدیجہ مستور تاریخ اور سیاست کے دیے ہوئے دکھوں کو اپنا موضوع بتاتی ہیں۔لیکن ”آنگن“ کا وسیع کینوس ”زمین“ سے ارفع ہے۔

”آنگن“ کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے لیکن”زمین“ قصہ گوئی، اسلوب اور سیاست کے حوالے سے مدغم فنی اظہار تخلیقی سطح پر خدیجہ مستور کی حیثیت کو مسلّم کرتا ہے ۔”زمین“اگرچہ ”آنگن“ کے مقابلے میں کم اہمیت کا حامل ہے۔تاہم ”زمین“ میں اخلاقی اقدار کے زوال کا المیہ بہتر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔تکنےکےاعتبار سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ منظر نگاری کے شیڈز زیادہ موثر طور پر نہیں بھرے جا سکے۔ممکن ہے کہ اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ خدیجہ مستور کو موت نے مہلت ہی نہ دی۔اس بحث سے قطع نظر ”زمین“ ایک پوٹریٹ ہے۔جس کے نقوش سیدھے سادے مگر اپنی جگہ بھر پور معنویت کے حامل ہیں۔

ناول ”آنگن “ اور ”زمین“ فسادات کے موضوع پر لکھے گئے ہیں اور ان کے کرداروں کا تعلق متوسط طبقے سے ہے۔لیکن ان کی ذہنی سطح ،خیالات اور رویے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔آنگن “کی عالیہ اگرچہ ”زمین“ کی ساجدہ کی طرح حساس ہے۔لیکن دونوں کے رویے ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔عالیہ میں خود اعتمادی کی کمی ہے۔وہ سب سے بہت کچھ کہنا چاہتی ہے۔لےکن جرأت کی کمی اور لڑائی جھگڑے کے خوف سے وہ ایسا نہیں کر پاتی۔اسے کسی خاص شخص سے محبت نہیں لیکن ا س کے ذہن میں ایک آئیڈیل کا تصور ہے۔ آئیڈیل کی خصوصیات اسے جمیل،کیمپ کے ڈاکٹراور صفدر میں نظر نہیں آتی تو وہ اکیلے زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیتی ہے۔جب کہ”زمین“کی ساجدہ عالیہ کے بر خلاف پر اعتماد اور باہمت لڑکی ہے۔ ہجرت کے بعد اسے مالک کے گھر میں پناہ لینی پڑتی ہے اور وہ وہاں بھی اپنی حیثیت منوالیتی ہے۔ہجرت کے بعد وہ صلاح الدین سے بچھڑ جاتی ہے ،اپنے تحفظ کے لیے اسے ناظم سے شادی کرنی پڑی ،لیکن عالیہ کی طرح تنہائی اس کا مقدر نہیں بنتی ۔اس کے ساتھ ناظم اور اس کے بچے تھے۔

مجموعی طور پر یہ ناول مہاجرین کے مختلف رویوں کا آئےنہ دار ہے جو مثبت اور منفی دونوں طرح کے ہیں۔ناول میں عورت کی معاشرتی حیثیت کو نمایاں طور پر دکھایا گیا ہے۔خاص طور پر ’’تاجی‘‘ کا کردار ناول کے موضوع کے لحاظ سے اہم ترین کردار ہے۔جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عورت چاہے آزاد ملک کے معاشرے کی کیوں نہ ہو ،اگر وہ کمزور اور بے بس ہے تو لوگ اسے اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور پھر بعد میں چھوڑ دیتے ہیں۔تاجی جس کی ماں نے اسے اس امید پر آزاد ملک پاکستان بھیج دیا تھاکہ اپنے ملک میں وہ بالکل محفوظ رہے گی اور کوئی بھی شریف مسلمان مرد اس سے شادی کر لے گا ۔لیکن پاکستان میں کاظم نے اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جو ہندوستان میں کوئی غیر مسلم نسلی تعصب کی وجہ سے کرتا۔

ناول میں دوسری حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ قیام پاکستان کے ابتدائی برسوں میں جن لوگوں نے ملک کی باگ ڈور سنبھالی یا مختلف اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز ہوئے ان میں سے بیش تر افسران نے مہاجرین کے مسائل کو حل کرنے اور ملک کی ترقی کے لیے سوچنے کے بجائے غیر قانونی طریقے سے اپنی حیثیت اورحقیقت کو بدلا۔ بعض مہاجرین ایسے تھے جنھیں ان کی حیثیت کے مطابق جائیداد نہ مل سکی تو وہ لوگ صرف روحانی طور پر زخمی نہیں ہوئے بلکہ وہ معاشی طور پر بھی تنگ دستی اور فاقہ کشی کا شکار ہوئے۔یہ پاکستانی معاشرے کی بد نصیبی کی ابتداتھی۔

”زمین “حقیقت نگاری کی روایت میں تحریر کیا ہوا ایک معاشرتی ناول ہے۔جس میں تمام کردار ایک گھر میں رہتے ہوئے متضاد ،طبقاتی رویوں اور خواہشوں کا اظہار کرتے ہیں۔صلاح الدین امراءاور جاگیر داروں کے طبقے کی نمائندگی کرتا ہے۔کاظم کا تعلق بیورو کریٹس کلاس سے ہوتا ہے تاجی اس عہد کی کمزور عورت کی داستان ہے۔ناول میں خدیجہ مستور نے ساجدہ کی زبانی اپنے احساسات اور جذبات بےان کیے ہیں۔جس سے ان کا اشتراکی نقطۂ نظر واضح صورت میں دکھائی دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ساجدہ جب تاجی کے کمرے میں جاتی ہے تو بے ساختہ کہتی ہے:
”ویران کو ٹھر ی میں کچے کچے خون کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔طاق میں رکھی ہوئی لالٹین ابھی ٹمٹما رہی تھی ۔اس نے تاجی کا میلا سا تکیہ اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔ وہ جو مدتوں سے ایک ایک آنسوؤں کو ترس رہی تھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔تاجی،ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب ایسی کوٹھریوں سے کچے خون کی بو نہیں آئے گی۔“           (زمین،خدیجہ مستور،ص110)

خدیجہ مستور کے دونوں ناولوں میں ان کی ترقی پسندیت واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔انھوں نے سماجی زندگی کے مسائل کی اچھی اور بہترین عکاسی کی ہے۔وہ ناولوں کی بنیاد مادی حقائق اور سماجی شعور پر قائم کرتی ہیں۔انہوں نے براہ ِراست زندگی اور اس کے مسائل کے بارے میں غور و فکر ہی نہیں کیا ہے بلکہ ان کو افراد کے سماجی تناظر میں پیش کیا ہے۔ڈاکٹر احسن فاروقی خدیجہ مستور کی ناول نویسی کے بارے میں اپنے مضمون” آنگن پر ایک نظر “میں لکھتے ہیں:
” یہ اردوکی دوسری نا ول(پہلی امراو جان ادا )ہے جس کو میں نے دوسری بار پڑھا اورباربا ر پڑھااور پہلی بار سے زیادہ لطف اندوز ہوا ۔بات یہ ہے کہ یہ ناول ان میں سے ہے جو فن کے صحیح مقام پر پہنچ گئی ہے اور اس لیے اس میں فن کا وہ جادو ہے جو سر چڑھ جاتاہے اور کبھی نہیں اترتا ۔نہایت سادگی ،بے ساختگی نہایت سیدھے طریقے اور پورے فن کارانہ خلوص کے ساتھ یہ ناول نگاری کے اس صراط مستقیم پر چلی جاتی ہے،جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تےز ہے۔اور جس پر چلتے چلتے ہمارے پرانے ناول نگار اخلاق اور نظریات کے جہنم میں کٹ کر گر جانے سے نہ بچ سکے۔ واقعیت کی وہ سیدھی راہ جوا خلاق زدگی کی بنا پررسوا کو بھی نہ مل سکی اور جدید نفسیاتی تحلیل کی فکر میں عصمت چغتائی کے ہاتھ سے اور جدید فنی تجربے کے ما تحت قرةالعین کے ہاتھ سے نکل گئی خدیجہ مستور کے سامنے صاف ہے وہ اس پرنہایت اطمینان سے چلتی نظر آتی ہیں۔نہایت معمولی نقوش کو نہایت نزاکت کے ساتھ میں وہ جین آسٹن کے شانہ بہ شانہ چلتی ہوئی نظر آتی ہیں ۔“    

اردو کی ترقی پسند ناول نگار خدیجہ مستور نے اپنے منفرد انداز سے اس عہد کے دیگر ناول نگاروں میں اپنے لیے راستہ بنایا ہے بظاہر ان کے ناول سیدھے سادے اور سپاٹ دکھائی دےتے ہیں لیکن وہ رمزیت سے پر ہیں۔خدیجہ مستور کو اگرچہ شہرت ان کے ناول”آنگن“ کی وجہ سے ملی ہے لیکن ”زمین“ بھی اپنے اسلوب طرز نگارش، مکالمہ نگاری اور جزیات نگاری کے حوالے سے بھر پور ہے۔انھوں نے کہانی کی بنت اور کرداروں کو مخصوص پس منظر میں ابھارنے کے لیے جہاں فن کے دیگر لوازم سے کام لیا ،وہاں زبان و اسلوب کا بھی خاص خیال رکھا۔

خدیجہ مستور کی سادگی میں پرکاری ہے۔انھوں نے دیگر ناول نگاروں کی طرح اپنے کرداروں کو پیش کرنے کے لیے مبالغے سے کام نہیں لیا بلکہ حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہانی کے مناظر ،مکالمے اور کرداروں کے عمل کے لیے ایسا اسلوب اختیار کیا۔جس میں قاری بھی خدیجہ مستور کے ساتھ سفر کرتا ہے ۔خدیجہ مستور کے دونوں ناول ایک ہی سلسلے کی دو کڑیاں ہیں۔اردو ناول نگاری کی تاریخ میں خدیجہ مستور بحیثیت ناول نگار ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ان کے ناول اردو ادب میں قابل قدراضافہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
غزالہ فاطمہ

جمعہ، 20 اکتوبر، 2017

حفیظ جالندھری بہ حیثیت افسانہ نگار از محمود فیصل


حفیظ جالندھری بہ حیثیت افسانہ نگار
بیسویں صدی میں اردو ادب کے اہم معماروں میں حفیظ جالندھری کا نام سر فہرست ہے۔ ان کے افکار عالیہ نے اردو نظم و نثر کوجو سرمایہ فراہم کیا ہے، وہ قابل تحسین ہے۔ حفیظ جالندھری آسمانِ اردو ادب پر ایک شاعر کی حیثیت سے جلوہ گرہیں۔ انھوں نے خوبصورت گیت، عمدہ ترانے، بہترین غزلیں اورشاہنامۂ اسلام جیسی شاہکارتخلیق پیش کی ہے۔ ان کی صلاحیت کا اعتراف کرتے ہوئے 1934 میں حکومت برطانیہ نے انھیں ’خان صاحب‘ کے خطاب سے نوازا۔ 1936 میں نواب ٹونک نے ’ملک الشعرا‘ کا خطاب عطا کیا۔ 1937میں مہاراجہ سر کشن پرساد صدر اعظم دولت آصفیہ نے ’حسان الملک بہادر‘ کا خطاب دیا۔ 1945 میں حکومت برطانیہ نے جنگ عظیم میں وفاداری کے صلے میں ’خان بہادر‘ کے خطاب سے سرفرازکیا۔ 1956میں حفیظ جالندھری کو ملّی جذبات وخدمات کے اعتراف میں ’ہلال امتیاز‘ کا تمغہ عطا کیا گیا اور6جولائی 1968 میں پاکستانی قومی ترانے کے خالق کے طورپر ایک خصوصی اعزاز ’نقرئی قلمدان‘ پیش کیا گیا۔
حفیظ جالندھری نے مختلف اصناف ادب میں طبع آزمائی کی اور اہل نقد و نظر سے داد وتحسین وصول کی۔ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی ادیب ایک سے زائد اصناف کو اپنے تخلیقی دائرے میں سمیٹنے کی کوشش کرتا ہے تواس کے لیے ان اصناف کے ہر جزکاحق ادا کرنا تقریباً ناممکن سا ہوتا ہے، کیوں کہ کسی ادیب کا ایک صنف پر عبور حاصل کرنا تو آسان عمل ہے، مگر ہر صنف کا ماہر ہونا تقریباً محال ہے۔ جیسے میر اور غالب کی عظمت کا ہرکوئی قائل ہے۔ دونوں کی غزلیں اردو ادب کا بہترین سرمایہ ہیں۔ لیکن میر کی مثنوی میرحسن کی مثنوی کا مقابلہ نہ کرسکی اور غالب کا قصیدہ ذوق یا سودا کے قصیدوں کامقام حاصل نہ کرسکا۔
حفیظ جالندھری جتنے اچھے شاعر اتنے ہی عمدہ  نثر نگار بھی تھے۔ ان کے مجموعۂ کلام کے تعارف یا دیباچے کی تحریریں اورعمدہ زبان اس کامنھ بولتا ثبوت ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ان کے یہاں باقاعدہ نثر لکھنے کا رجحان موجود ہے۔ ان کی نثری خدمات میں ’نثرانے‘ (مضامین کا مجموعہ)، ’چیونٹی نامہ‘ (اس میں مختلف طرح کے مضامین شامل ہیں، جس میں اکثر مضامین چیونٹی سے متعلق ہیں)، ’بدر شہزادہ-جواہر شہزادی‘، ’بدرالدین حسن کی خوابی دلہن‘، ’عمرو عیار(حصہ اول)‘، ’انتخاب دیوان حالی‘ اور’حفیظ تاشقند میں‘(سفرنامہ) شامل ہیں۔
حفیظ جالندھری کی حیثیت شاعری میں ایک مسلم الثبوت استاد کی ہے۔ بطور افسانہ نگار ان کی شناخت کسی دور میں نہیں رہی۔ مگر حفیظ جالندھری نے افسانہ لکھتے وقت افسانوں کے تمام فنی لوازم کوپیش نظر رکھا ہے۔ مجموعی طور پر وہ ایسے افسانہ نگاروں کی صف میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔ جنھوں نے معاشرتی مسائل کو موضوع بنا کر انسانوں کے اضطراب اور بے چینی کو سمجھنے اور اس کی مکمل ترجمانی کی کوشش کی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ کردار کے جذبوں اور اس کے داخلی پہلوؤں سے بھی غافل نہیں رہے، بلکہ افسانہ لکھتے لکھتے حفیظ جالندھری جدید افسانہ نگاری کی حدود کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔
حفیظ جالندھری کی افسانہ نگاری کی شروعات بھی ضرورت کے پیش نظر ہوئی تھی۔ 1924 میں انھیں معروف ادبی رسائل ’نونہال‘، ’ادب اطفال‘ اور ’ہزارداستان‘ کی ادارت کی پیش کش کی گئی،’ہزار داستان‘ میں طبع زاد افسانوں کے بالمقابل انگریزی ادب سے ماخوذ افسانوں کی اشاعت کا اہتمام کیا جاتا تھا، رسالے میں مدیر کا افسانہ شامل ہونا اس کی لیاقت وصلا حیت کی دلیل ہوتی تھی۔ حفیظ جالندھری بطور مدیر ان افسانوں کی نوک پلک تو سنوارتے تھے، لیکن اس وقت تک حفیظ جالندھری نے کوئی افسانہ نہیں لکھا تھا، ان کے ادبی حریفوں کو طعن و تشنیع کا ایک موقع ہاتھ آگیا، تب حفیظ جالندھری کو انگریزی زبان سے عدم واقفیت کا شدت سے احساس ہوا۔ اس مشکل کا حل تلاش کرنے اور حریفوں کولاجواب کرنے کے لیے حفیظ جالندھری نے طبع زاد افسانہ لکھنے کا آغاز کیا۔ ان کا پہلا افسانہ رسالہ ’ہزار داستان‘ مارچ 1924 میں ’احساس آوارگی‘ کے نام سے شائع ہوا، لاہور کے ادبی حلقوں میں اس افسانے کی بہت پذیرائی ہوئی، اس حوصلہ افزائی سے حفیظ جالندھری کی ہمت بندھی اور انھوں نے اس کے علاوہ کئی افسانے تحریر کیے۔ حریفوں کا یہ احسان ہے کہ ان کے طعن و تشنیع نے حفیظ جالندھری کو افسانہ نگار بنادیا اوراس کی وجہ سے اردو دنیا دو افسانوی مجموعے ’ہفت پیکر‘ اور ’معیاری افسانے‘ سے مالا مال ہوگئی۔
حفیظ کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’ہفت پیکر‘ کے نام سے1929 میں منظر عام پر آیا۔ کتاب کا انتساب معروف افسانہ نگار’ سجاد حیدر یلدرم‘ کے نام ہے۔ سیدامتیا زعلی تاج نے ’ ہفت پیکر‘ کا بہت طویل مقدمہ تحریر کیا ہے۔سیدامتیاز علی تاج نے مقدمے میں لکھا ہے کہ حفیظ جالندھری ایک اچھے افسانہ نگار ہیں لیکن ان کی شاعری کی شہرت و عظمت نے ان کے افسانوں کے حقیقی معیا رو مرتبے کو سامنے آنے نہیں دیا۔ اس سلسلے میں سیدامتیاز علی تاج رقمطراز ہیں:
اردو ادب میں حفیظ صاحب کو جو شہرت اور ناموری حاصل ہوئی ہے وہ تمام تر ان کی شاعری کی ممنون احسان ہے اور اس میں ان کے مختصر افسانوں کو ذرا بھی دخل نہیں۔ جو لوگ انھیں بحیثیت شاعر کے جانتے ہیں ان میں سے اکثر کو علم نہ ہوگا کہ وہ مختصر افسانہ لکھتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ان سے کہا بھی جائے کہ حفیظ کے افسانے ان کی شاعری سے کم قابل قدر نہیں توفی الحال کوئی اس پر غور کرنے کو آمادہ نہ ہوگا۔ لوگ حفیظ کی شاعری سے اس قدر متاثر ہو چکے ہیں کہ اب انھیں کسی دوسری حیثیت میں دیکھ کر داد دینے کی مطلق گنجائش نہیں رہی۔“1
ہفت پیکر‘ کے مقدمے میں ہی سیدامتیاز علی تاج نے حفیظ جالندھری کی افسانہ نگاری پر بھی بحث کی ہے اور افسانوں کے اقتباسات پیش کرکے ان کی فنی حیثیت پر رائے بھی قائم کی ہے۔ حفیظ کے افسانوں کے بارے میں وہ لکھتے ہیں :
حفیظ خصوصیت سے ایسے تاثر کو محسوس کرتا ہے جو مختصر افسانہ کے لیے مناسب و موزوں ہوتے ہیں اورپھر یہ بھول کر کہ مخلوط و منتشر زندگی کے کن واقعات یا خیالات نے ان تاثرات کا احساس دلایا تھا وہ اپنے مختصر افسانے کے لیے از سر نو ایسے واقعات تعمیر کرتا ہے جو نہایت واضح طور پر بغیر کسی قسم کی الجھن پیدا کرنے کے نہایت باقاعدگی اور خوبصورتی سے مطلوبہ اثر پڑھنے والے پر وارد کر دیتے ہیں۔“ 2
حفیظ جالندھری کے اس افسانوی مجموعے کی فنی و فکری حیثیت ضمنی ہی سہی، لیکن ایک بات توواضح ہے کہ حفیظ جالندھری نے ان افسانوں کے ذریعے جہاں معاشرتی مسائل کو سلیقے سے اجاگر کیا ہے وہاں دوسری جانب ان کی ذہنی و فکری صلاحیتوں کے کئی افق روشن ہوئے ہیں۔ یہ افسانے بنیادی طور پر ہمارے معاشرے کے معاشی، جنسی، معاشرتی اور نفسیاتی حقائق کو اجاگر کرتے ہیں۔ ان افسانوں کی زبان صاف، سادہ اور دلنشیں ہے۔ ہفت پیکر کو اردو افسانے میں ہمیشہ اس لیے اہمیت حاصل رہے گی کہ وہ حفیظ جالندھری کے افسانوں کا مجموعہ ہے۔ اس افسانوی مجموعے میں سہاگ کی رات، ہوشیار دیوانہ، خودکشی، احساس آوارگی، ملمع، حیات تازہ اور افسانہ در افسانہ شامل ہیں۔
افسانہ ’سہاگ کی رات‘ میں حفیظ جالندھری نے کسی نئے موضوع کا انتخاب نہیں کیا ہے، لیکن فن کے اعتبار سے وہ مکمل افسانہ کہلانے کا مستحق ہے۔ حفیظ جالندھری نے مخصوص حالات کے پیش نظر انسانی ذہن میں پیدا ہونے والے وسوسوں اور اندیشوں کو خواب کی شکل میں بیان کیا ہے، واقعات کو بالکل سیدھے سادے انداز میں پیش کیا ہے۔اس افسانے میں ٹرین کے سفر کی روداد بیان کی گئی۔ حفیظ کے زمانے میں ٹرین سے سفر کرنا ایک دشوار ترین مرحلہ تھااور شادی بیاہ کے موقع پر تو لوٹ مار کے واردات ہوتے ہی رہتے تھے۔ خواب کا تعلق یہ ہے کہ آدمی جوسوچتا ہے یا جو وسوسے اس کے دل میں پیدا ہوتے ہیں، نیند میں بھی اس کو اسی طرح کے خیالات یا اس سے ملتی جلتی چیزیں نظر آتی ہیں۔اس افسانے میں ایک دلہن کی رخصتی کے منظر کو پیش کرنے کے بعدراستے میں پیش آنے والے واقعات کی تفصیل ہے،کہ کس طرح ڈاکوٹرین میں گھس کر دلہن کا سامان اور زیور زبردستی لوٹ لیتے ہیں اور اس کا شوہر اس کی حفاظت میں ڈاکوؤں سے دست و گریباں رہتا ہے، مگر اس درمیان ایک ڈاکو اس کی بیوی کو ٹرین سے نیچے پھینک دیتا ہے، اپنی دلہن کی حفاظت کی خاطر دولہا بھی ٹرین سے کود کر اس کی تلاش میں مصروف ہو جاتا ہے، دلہن بے ہوشی کی حالت میں اس کو ملتی ہے۔ موسم بھی بادو باراں کا ہو رہا ہے۔ بارش بھی اولے کے ساتھ شروع ہو جاتی ہے۔اسی بارش میں وہ اس کو کندھے پر لادے بڑی مشقت کے بعد ایک محفوظ مقام پرپہنچتا ہے،بہت جتن کرنے کے بعدجب دلہن کو ہوش آتا ہے تودولہا اس کی مزاج پرسی میں لگ جاتا ہے، ابھی اطمینان کا سانس بھی نہیں لے پاتا ہے کہ اتنے میں آسمانی بجلی اس کی بیوی کی زندگی کو ختم کردیتی ہے۔ جب دولہے کو ہوش آتا ہے تو الٹے لوگ اس سے سوال کرتے ہیں کہ کہاں سے بھگا کے لایا ہے،اوپر والے نے تجھے تیری غلطی کی سزا دے دی۔ مگر جب اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بیوی مر چکی ہے توخود بھی ٹرین کے آگے کود کر جان دے دیتا ہے۔
انسانی فطرت کی منظر کشی حفیظ نے بہت ہی عمدہ انداز میں کی ہے۔ کہ شادی کے بعد آدمی شب زفاف کے لیے کیا کیا خواب سجاتا ہے۔مگر ایک خواب کے ذریعے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ’سہاگ کی رات‘ ایسی بھی  ہو سکتی ہے۔ البتہ اس افسانے میں ایک بات اور ہے کہ کس طرح شادی کے بعد آدمی (شوہر) کی ذمے داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ ہرحال میں اس کے دکھ سکھ کا خیال رکھتاہے۔
اس افسانے کا اختتام حفیظ نے مثبت انداز میں کیا ہے کہ قاری کو اندازہ ہوجائے کہ یہ تو ایک خواب تھا جو ہمارے تجسس کو ہوا کے ہمرکاب کیے ہوئے تھا۔ افسانے کا اختتام اس طرح ہوتا ہے۔
میں نے یکایک بیدار ہو کر آنکھیں کھول دیں۔ والد میرا شانہ ہلا ہلا کر مجھے جگا رہے تھے۔
اٹھو اٹھو۔ اپنے شہر کا اسٹیشن آگیا۔
اتنے میں گاڑی پلیٹ فارم پر رکی میرے رشتے دار اور دوست دولہا دلہن کے خیر مقدم کے لیے کھڑے تھے۔ باجہ سے مبارکباد کی سریں نکل رہی تھیں۔ ہر طرف صبح صادق کا نور پھیلا ہوا تھا۔
میں نے تشویش سے کمرے میں ادھر ادھر دیکھا۔ والدہ دلہن کو برقع اوڑھا رہی تھیں۔ دولہن کے زیوروں کی چھنکار اور ہنسی قہقہوں کے درمیان میں اٹھ بیٹھا۔
واقعی میں نے خوفناک خواب دیکھا تھا۔‘‘ 3
ہوشیار دیوانہ‘ معاشرے اور انسانی فطرت اور اس کے باہمی رویوں کا ترجمان ہے۔ افسانے میں شوہر کا کردار بےوفا بیوی سے انتقام لینے کی کہانی بیان کرتا ہے۔ شوہر انتقام میں اتنا اندھا ہوجاتا ہے کی اپنی حاملہ بیوی کو قتل کردیتا ہے، اس کی بیوی کے ساتھ اس کا بچہ بھی اس انتقام کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے، لیکن قتل کے بعد احساس جرم اس کو بے چین کیے رہتا ہے اور کسی بھی پل چین نہیں لینے دیتا ہے،اس کی بیوی اور زمین پر قدم رکھنے سے پہلے ہی موت کے گھاٹ اتاردیے جانے والے بچے کی یادیں اس کو مسلسل عذاب میں مبتلا رکھتی ہیں۔ افسانے کے آغاز کا اقتباس ملاحظہ ہو:
میں نے گناہ کیا، یہ صدا ئے خاموش میرے کانوں میں گونج رہی ہے۔ یہ ایک احساس ہے جو مدت سے میری زندگی پر محیط ہے۔ اتنی مدت سے جس کو میرے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ 4
اس افسانے میں حفیظ جالندھری نے آدمی کو ضمیر کی عدالت میں مجرم گردانا ہے اور ’میں نے گناہ کیا‘ یہ صر ف ایک جملہ نہیں ہے بلکہ ایک سزا ہے جو ضمیر کی عدالت کے ذریعے دی گئی ہے۔ سزا کی نوعیت یہ ہے کہ مجرم مسلسل ایک عذاب میں مبتلا ہے، جس کی وجہ سے اس کو سکون کا سانس نصیب نہیں ہوتا ہے۔
افسانہ ’خودکشی‘ میں ایک اہم سماجی المیے کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ مڈل کلا س خاندانوں کی پریشانیاں، خونی وجذباتی رشتوں کی رسہ کشی، سوتیلے پن اور اس کے رویوں کے مکروفریب کی کہانی ہے جس میں ہر کوئی اپنا ہے مگر اپنوں کی خوشی سے خوش نہیں ہے۔ اپنوں کی ترقی کو اپنی تذلیل سمجھتا ہے۔ ان کی خوشحالی ایک آنکھ نہیں بھاتی ہے۔ ان کے سکھ سے اتنا دکھی ہے جتنا کہ اپنے دکھ سے بھی نہیں ہے۔
افسانہ ’احساس آوارگی‘ موجودہ معاشرتی مسائل کا بہترین ترجمان ہے۔ حفیظ نے اس مسئلے کو موضوع بنایا ہے جس سے نوجوان نسل برباد ہو رہی ہے۔ جب والدین اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر اپنی ساری پونجی یہ سوچ کر قربان کرتے ہیں کہ ہمارے بیٹے کا آنے والا کل شاندار ہو گا اور اس کے ساتھ ہمیں بھی سکون ملے گا، لیکن جب نئی نسل یا اولاد اس کا فائدہ نہیں اٹھا پاتی ہے اور اس موقع کو ضائع کردیتی ہے، تو آنے والا کل جب ذمے داریوں کے ساتھ ان کے مقابل آکھڑا ہوتا ہے تووہ اس سے بھاگنے لگتے ہیں اور فرار حاصل کرنے کے چکر میں اپنے بوڑھے والدین اور بیوی بچوں سے بھی لاتعلق ہو جاتے ہیں۔ یہ تاثر ایک خاص طرح کی صورت حال میں افسانہ نگار کے ذہن کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ حفیظ نے افسانے کی شروعات ایک اچھے ماحول میں کی ہے اور مطلوبہ تاثر پیدا کرنے میں کامیاب بھی رہے ہیں یعنی وہ کردار کو احساس آوارگی دلانے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور یہ افسانہ آج کے ماحول و کردار کی بھی مکمل ترجمانی کرتا ہے۔ حفیظ جالندھری کا یہ افسانہ جدید افسانہ نگاری کی حدود کے بہت قریب ہے۔
افسانہ ’ملمع‘ میں ایک بہت ہی عام موضوع کو زینت بخشی گئی ہے۔ ’ملمع‘ کے معنیٰ ہیں، روشن کیا ہوا، چمکیلا، ظاہری ٹیپ ٹاپ، دکھاوا، اس افسانے کے موضوع کے لحاظ سے حفیظ جالندھری نے اس کانام بھی رکھا ہے کیونکہ اس میں ملمع سازی کی کاریگری ہی نظر آتی ہے۔ کما ل کی بات یہ ہے کہ ہر کوئی اس سے باخبر بھی ہے مگر پھر بھی جان بوجھ کر اس کاشکار بنتا رہتا ہے۔ حفیظ جالندھری نے ایک جذباتی اور کریہہ واقعہ کو خوبصورت کرداروں کے ذریعے اسلوب کے سہارے زندہ کرنے کی کوشش کی ہے اور اس میں وہ بہت حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ حفیظ نے ایک اندھے دیوتا کی پرکشش فریب کاریوں کو بہت ہی خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے کہ ما فی الضمیر بھی ادا ہوگیا اور دل کو ٹھیس بھی نہیں لگی۔ اس افسانے میں فن بدرجۂ اتم موجود ہے اور بہت ہی عمدہ اور کامیاب طریقے سے انسانی جذبات و احساسات کی عکاسی کی گئی ہے۔ جذبات کو پیکر عطا کرنا ہی حفیظ جالندھری کا کارنامہ ہے۔
افسانہ ’حیات تازہ‘ میں حفیظ جالندھری موضوع کی مناسبت سے سجاد حیدر یلدرم سے متاثر نظر آتے ہیں۔ اس افسانے میں حفیظ جالندھری نے سماج کی بالکل صحیح تصویر پیش کی ہے، جس میں سماج کی عیاریاں و مکاریاں اور فریب کاریاں ظاہر ہوتی ہیں۔ گھر کے سرغنہ کے انتقال کے بعدرشتے داروں اور پڑوسیوں کے معاملات کرنے کے اندازکس طرح بدل جاتے ہیں، اس افسانے میں اس کی مکمل تصویر موجود ہے۔ ہر آدمی صرف تعزیت کو ہی اولین فرض سمجھتا ہے اور اس کے بعد اپنی ذمے داری سے آزاد ہوجاتاہے۔ افسانے کے ہیرو کو دنیا کی ظاہری رسمیں صرف دکھاوا نظر آتی ہیں۔ اس کو سماج اور اس کی رسموں سے نفرت ہوجاتی ہے۔ اس لیے کہ والدین اور بیوی کے انتقال کے بعد وہ اپنے کمرے میں اکیلے قید رہتا ہے، اس تنہائی سے وہ وحشت زدہ ہوجاتاہے کہ کیا والدین کے ساتھ سارے رشتے دفن ہوگئے، مجھ سے کسی کا کوئی رشتہ نہیں رہا۔ آخر اس سے کوئی ملنے کیوں نہیں آتا ہے۔ کوئی اس کی پرواہ کیوں نہیں کرتا ہے، اسی وجہ سے دنیا اور دنیا والوں سے اس کو نفرت ہو جاتی ہے۔
افسانہ در افسانہ‘ میں حفیظ جالندھری پریم چند سے متاثر نظر آتے ہیں۔ اس افسانے میں حفیظ نے دیہات کی منظر کشی کی ہے اور عورت کی اس تصویر میں رنگ بھرنے کی کوشش کی ہے جس میں وہ اپنے خون کے آخری قطرے کو نچھاور کر نے کے بعد بھی مکمل نہ کر سکی۔ حفیظ نے سماج کے سب سے حساس موضوع ’آنرکلنگ‘ پر قلم اٹھایا ہے،جس کو ہمیشہ سماج نے مکروہ اور گھناؤنا سمجھا ہے لیکن اس کے باوجود اس بوجھ کو ڈھویا ہے اور آج بھی ڈھو رہی ہے۔ حفیظ نے سماج میں رائج اس جھوٹے اور کھوکھلے رسم و رواج پرطنزکیا ہے کہ کس طرح سماج میں بدنامی کے ڈریا جھوٹی عزت کی خاطر لوگ جنونی اور پاگل پن کے شکار ہو جاتے ہیں اوردرندگی پر آمادہ ہوکراپنوں کے خون کی ہی ہولی کھیلتے ہیں،جب اپنوں کو انھیں ہاتھوں سے قتل کرتے ہیں جن سے ان کی پرورش کی ہے اور انھیں اپنی آنکھوں سے تڑپ تڑپ کر جان دیتے ہوئے دیکھتے ہیں تب ان کی جھوٹی عزت نفس کو سکون ملتا ہے۔ تحیر اورتجسس پورے افسانے میں شروع سے آخر تک موجود ہے۔ حفیظ پورے افسانے میں قاری کو باندھ کر رکھتے ہیں اوراضطراب اور کشمکش آخر تک برقرار رہتا ہے۔ افسانے کا انجام مثبت ہے جو کہ حفیظ جالندھری کاخاص انداز ہے جو آخر میں قاری کے اعصاب کے تناوکو یک لخت کم کردیتا ہے۔
ہفت پیکر کے افسانوں کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اردو افسانے کے ابتدائی دور میں حفیظ جالندھری کے افسانوں میں جدید افسانے کی بیشتر خصوصیات جلوہ گر ہیں، وحدت تاثر اور اختصار ان افسانوں کو مختصر افسانے کی صف میں شامل کرتا ہے۔ حفیظ بے جا طوالت سے گریز کرتے ہیں اور کسی جگہ بھی فنی جھول کا شکار نہیں ہوتے۔جس دور میں یہ افسانے لکھے گئے وہ سیاسی اعتبار سے ایک ہنگامہ خیز دور تھا۔ بیسویں صدی کے ابتدائی تین عشروں میں سیاسی اعتبار سے بے شمار واقعات رونما ہوئے۔ جنگ عظیم اول اور جلیانوالہ باغ کا سانحہ اس دور کے اضطراب اور بے چینی کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن حفیظ نے اپنے کسی افسانے میں ان حالات کو موضوع نہیں بنایا ہے۔
تکنیکی اعتبار سے حفیظ ایک کامیاب افسانہ نگار ہیں۔ پلاٹ کے سلسلے میں بھی وہ جملہ تقاضوں کو پورا کرتے ہیں اور قاری کے ذہن کو ادھر ادھر بھٹکنے نہیں دیتے ہیں۔ پلاٹ قاری کو ایک ہی سمت میں محو سفر رکھتا ہے۔ البتہ اس میں ارتقا اور وسعت بھی موجود ہے۔
جدید افسانے میں واقعہ کردار کے رد عمل سے پیدا ہوتا ہے اور کردار یا کرداروں کی داخلی کشمکش نقطہ عروج تک پہنچ کر منطقی انجام سے آشنا ہوتی ہے۔ حفیظ نے اپنے افسانوں میں کردار کی داخلی کشمکش کو نہایت کامیابی کے ساتھ نقطۂ عروج تک پہنچایا ہے۔
حفیظ کے یہاں کردارنگاری کی عمدہ تصویر نظر آتی ہے۔ یہ کردار اپنے زندہ ہونے کامکمل ثبوت دیتے ہیں اور فطری تقاضوں اور محسوسات کے حوالے سے زندہ و جاوید اور فعال نظر آتے ہیں، البتہ کچھ افسانوں میں ان کے کردار غیر معمولی انداز میں متحرک نظر آتے ہیں۔ حفیظ کے مکالمے فطری اور کرداروں کی نفسیات کے عین مطابق ہیں اسی وجہ سے یہ مکمل طور پرفطری اور حقیقی معلوم ہوتے ہیں۔
حفیظ جالندھری کو زبان پر عبور حاصل تھا، انھوں نے کہیں کہیں اتنے اچھے جملے استعمال کیے ہیں کہ جملوں کو دیکھ کر بے اختیار کہنا پڑتا ہے کہ واہ! الفاظ میں کیا جادو بھر دیا ہے؟ جیسے:
 ’ا س کا سفر عظیم الشان اوراس کی ہمت کے لحاظ سے پرشکوہ تھا‘
 ’چڑیاں درختوں کو لوریاں دے رہی تھیں‘
 ’چاند کی سفید روشنی میں اس کا سفید چہرہ نور کی قندیل تھا‘
 ’اس کی نیندیں دلآویز اور لطیف خوابوں سے پھر آباد ہو گئیں‘
 ’آفتاب مشرق کے پہاڑوں سے ابھرتا اور وادی میں مسرت اور شادمانی بکھیرتا ہواچلا جاتا۔ چاند نکلتا اور ان کی جھونپڑی کے ارد گرد راحت ہی راحت پھیلا دیتا‘
 ’چاند کے چہرے سے بادلوں کا نقاب سرک گیا تھا‘
’میں اپنے حسین بوجھ کو اٹھائے ریل کی پٹری پر چلا جا رہاتھا‘
 ’آہ یہ خیال خوفناک تھا۔ دنیا پھر میرے لیے مرجھا رہی تھی‘
 ’میں ہمہ تن چشم بن کر اس کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا‘ وغیرہ وغیرہ بہت سے جملے ہیں جو اپنے الفاظ کے انتخاب کے اعتبارسے بہت خوبصورت، حسین اور دلکش ہیں۔
معیاری افسانے‘ حفیظ جالندھری کا دوسرا افسانوی مجموعہ ہے جو 1933میں منظر عام پر آیا۔ یہ حفیظ جالندھری کے طبع زاد افسانے نہیں ہیں، بلکہ مختلف افسانہ نگاروں کے افسانوں کو حذف و اضافہ اور ترمیم کے بعد شائع کیا گیا ہے، اس لیے حفیظ جالندھری نے اپنے نام کے اوپر ’منتخبہ، مہذبہ و مبدلہ‘ تحریر کیا ہے۔اس کا دیباچہ حفیظ جالندھری نے خود مرتب کیا ہے، دیباچے میں حفیظ جالندھری نے یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ دور جدیدمیں اخبارات و رسائل میں افسانوں کی اشاعت کا خصوصی اہتمام کیا جاتا تھا، تاہم طبع زاد افسانے لکھنے والوں کی تعداد بہت کم تھی لہٰذا رسالہ ’ہزار داستان‘ (1924) اور ’مخزن‘ (1927) کی ادارت میں موصول ہونے والے اہم اور معیاری افسانوں کواپنے الفاظ کا جامہ پہنادیا اور انھیں معیاری افسانوں کے نام سے شائع کر دیا۔ اس کے بارے میں حفیظ جالندھری خود ہی لکھتے ہیں :
’’۔۔۔۔۔۔۔۔ معیاری افسانے‘‘ مجموعہ ہے ان سب افسانوں میں سے انتخاب کا جو میری فرمائش پر احباب نے مہیا کیے تھے ان میں سے ایک دو کا ترجمہ مشہور افسانہ نگاروں نے کیا تھا چند ایسے ہیں جن کا ترجمہ میں نے ازسرتا پا اصلاح سے مزین کیا۔ باقی وہ ہیں جن کو میں نے فضا اور ماحول بدل کرنئے سانچوں میں ڈھال دیا۔ مجھے یقین ہے اس مجموعے کو پسند کیا جائے گا۔“5
معیاری افسانے‘ میں کل اٹھارہ افسانے عورت یا شیر، مرد کی خواہش، جواہرات، اندھی دنیا، داستان چنگیز خان اور اس کے پوتے کی، شہزادی کا معمہ، پتھر کا دل، زندگی کا سانس، جاں نثار دوست، شکستہ پر،شکست کی فتح، شرط، وہ بدمعاش مرن، محتاج کا دل، لخت جگر، انوکھا انتقام، بربطی مغنی اور ’مسافر کی کہانی‘ شامل ہیں۔ حفیظ جالندھری نے اس کتاب کے دیباچے میں اس بات کی وضاحت تو کی ہے کہ یہ ان کے اپنے طبع زاد افسانے نہیں ہیں۔لیکن اس کے باوجود کسی بھی افسانہ نگار کا نام درج نہیں کیا ہے۔
ان افسانوں کے بارے میں حفیظ نے خود ہی اعتراف کیا ہے کہ ان افسانوں کے صرف نوک پلک سنوارے گئے ہیں اصل میں یہ کسی اور کے تراجم اور تخلیق ہیں۔ لہٰذا اس کو حفیظ کے افسانوں میں شامل کرنا مناسب نہیں، ہے،اسی لیے ان کے تجزیے اور فنی پہلوؤں پر بھی بات کرنا مناسب نہیں، کیوں کہ یہ اندازہ لگانا ناممکن ہے کہ اس میں حفیظ کی کاوش کس حد تک ہے۔ اردو افسانے کی تاریخ میں شاید یہ پہلا اتفاق ہے۔
حواشی
1۔ سیدامتیاز علی تاج مقدمہ’ ہفت پیکر‘ حفیظ جالندھری، مجلس اردو، لاہور 1929، ص9
2۔ سیدامتیاز علی تاج، مقدمہ’ ہفت پیکر، حفیظ جالندھری، مجلس اردو، لاہور 1929، ص14-15
3۔ حفیظ جالندھری، ’سہاگ کی رات‘، ’ہفت پیکر‘، مجلس اردو، لاہور 1929، ص45
4۔ حفیظ جالندھری، ’ہوشیار دیوانہ‘، ’ہفت پیکر‘، مجلس اردو،  لاہور 1929، ص46
5۔ حفیظ جالندھری دیباچہ’ شاہنامہ اسلام، جلد چہارم، مجلس اردو، لاہور 1973 ص18

محمود فیصل
جے این یو، نئی دہلی