اتوار، 31 مئی، 2020

سیتا ہرن —ایک مطالعہ مضمون نگار: اسما مسعود




سیتا ہرن ایک مطالعہ
اسما مسعود
قرۃ العین حیدر نے بیسویں صدی میں اردو ناول نگاری کو فکر اور فلسفے کی ایک نئی جہت سے روشناس کیا۔ ان کے افسانے اور ناول ان کی ذہانت، فلسفیانہ تخیل ، عالمانہ با خبری اور حساسیت کے علاوہ زندگی کی اخلاقی قدروں اور انسانی تہذیب سے ان کی وابستگی کا بین ثبوت ہیں۔ تاریخی پس منظر میں انسانی تہذیب کی مرقّع نگاری نے قرۃ العین کے نظامِ فن کو بڑی وسعت اور گہرائی دی ہے۔ انھیں ماضی سے خاص لگاؤ ہے لیکن وہ ماضی پرست نہیں ہیں بلکہ زندگی کے منظر نامے پر ماضی اور حال کو یکجا کر دیتی ہیں تاکہ ماضی کی روشنی میں حال کا جائزہ لیا جا سکے اور وقت اور تاریخ کے پس منظر میں مستقبل کی تعمیر کا ایک بہتر تصور قائم ہو سکے۔ قرۃ العین حیدر کی عظمت یہ ہے کہ وہ انسانی مسائل کو عالمی پس منظر میں پیش کرتی ہیں۔ ان کا ناولٹ ’’سیتا ہرن‘‘ تاریخی بصیرت اور فنی صلاحیت کی بہت عمدہ مثال ہے۔ ’’سیتا ہرن‘‘ کا مرکزی کردار ڈاکٹر سیتا میر چندانی ذہین ، حساس اور انٹلیکچوئل ہے۔ قرۃ العین حیدر نے سیتا کے کردار کے ذریعے موجودہ تہذیبی انتشار اور نفسیاتی الجھنوں کو بہت خوبی سے ابھارا ہے۔ آسودگی کی تلاش میں بھٹکتی ہوئی سیتا کا کردار پورے ناولٹ پر چھایاہوا ہے۔ روحانی آسودگی کی تلاش میں نیپلز سے لے کر کولمبو، سندھ اور گنگ و جمن کے علاقے دو آبے تک بھٹکتی ہے لیکن اس کی روح کو کہیں بھی سکون میسر نہیں آتا۔
تقسیم ہند کے المیے نے سیتا اور اس کے خاندان کو اپنا گھر اور وطن[ سندھ] چھوڑ کر ہندوستان آنے پر مجبور کر دیا۔ اپنی زمینی روایتوں اور جڑوں سے کٹ جانے کے باعث سیتا کی شخصیت ، فکر اور اس کے احساسات مجروح ہو جاتے ہیں اور وہ ایک ذہنی الجھن سے دوچار ہو جاتی ہے۔ وہ سیاسی اور تہذیبی انتشار کے باعث پریشان ہو کر ایک موقع پر کولمبوکے ایک مشہور اخبار کے کالم نگار راما سوامی سے تمِلوں اور ہنسالیوں کے تصادم پر استفسار کرتی ہے تو اسے جواب ملتا ہے 
’’تمھارے یہاں جھگڑا کیوں ہوتا ہے؟ تم لوگ بھی ایک ملک کے باسی ہو۔ تم اور ہم دونوں سرمایہ دار بورژوا سیاست کے شکار ہیں۔‘‘
       [’’سیتا ہرن‘‘ مجموعہ ’’چار ناولٹ‘‘ ایجوکیشنل بک ہاؤس ، علی گڑ ھ، ص۔227]
یہ تہذیبی اور سیاسی انتشار آج کے انسان کا مقدر ہے جو دنیا میں ہر جگہ اپنی جڑیں پھیلا چکا ہے۔ جس نے انسان کو شدید قسم کی تنہائی کا شکار بنا دیا ہے۔ قرۃ العین حیدر نے آج کی انسانی زندگی کے اس کرب کو بڑی شدت سے محسوس کیا ہے۔ برلن، ہانگ کانگ، اردن، فلسطین، ہندوستان، پاکستان اور کولمبو کے ہزاروں لاکھوں مرد اور عورتوں کی طرح سیتا بھی ہجرت کے المیے کا شکار ہوئی۔ جب وہ یہ کہتی ہے کہ —
’’اب ہم وہ لوگ ہیں جن کا کوئی دیس اپنا نہیں‘‘  [سیتا ہرن، ص۔128]تو اس کی روح کے کرب کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ سیتا کے کردار کے ارد گرد پوری کہانی گردش کرتی ہے ۔بظاہر سیتا کے ساتھ دوست احباب (شہزاد، کامران، ہیما، للیتا، بلقیس اور حمیدہ) اور اس کے اعزہ و اقارب کا ایک بڑا حلقہ ہے لیکن اس کی روح تنہا ہے۔وہ اپنی نیند میں اور روح کا سکون نیو یارک میں اپنے شوہر اور اپنے بچے کے پاس چھوڑ آئی ہے۔ سیتا کی ایک غلطی کے سبب اس کے شوہر جمیل نے اسے چھوڑ دیا۔ اپنے احساسِ جرم کا کرب اس کی روح کو بے چین رکھتا ہے۔ سگریہ کی 600 فٹ اونچی چٹان پر کھڑی ہو کر وہ لزلی مارشی سے کہتی ہے — ’’احساس ِ جرم سگریہ کی چٹان کی طرح مہیب اور اٹل اور سیاہ اور خوفناک ہے۔‘‘
                                                    [سیتا ہرن، ص۔ 198]
اس کا معصوم بیٹا راہل نیو یارک میں جمیل کے پاس ہے وہ اس کے لیے تڑپتی ہے۔ آسودگی کی تلاش میں وہ قمر الاسلام ، لذتی مادشی، پروجیش کمار چودھری اور عرفان کی طرف بڑھتی ہے لیکن جنھیں ساحل سمجھ کر وہ ان تک اپنی کشتی لے کر بڑھتی ہے حقیقت میں وہ تو ایسے جزیرے ہیں جو وقت کے سمندر کی قید میں ہیں۔
سیتا سے غلطیاں ہوتی ہیں لیکن اس کی مشرقیت اسے اس کی جڑوں کی طرف لوٹانے کی آرزو مند ہے۔ وہ اپنے آبائی وطن سندھ میںجس طرح اپنی پرانی یادوں کو سمیٹتی ہے اور سیاسی جبر کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہاں سے نکل جانے کے باجود جس آرزو مندی کے ساتھ وہیں لوٹ جانا چاہتی ہے نیز اپنے شوہر سے جس خلوص دل کے ساتھ معافی مانگنا چاہتی ہے یہ تمام باتیں سیتا کی مشرقیت کو ہی ظاہر کرتی ہیں۔ باجود اس کے کہ وہ Free thinker ہے اور سیاسی اور سماجی محفلوں میں کھل کر بحثیں کرنے کے لیے مشہور ہے۔
راماین کے سیتا ہرن کا واقعہ قرۃ العین حیدر کے ناولٹ میں آج کی سیتا کے روحانی کرب کی علامت بن کر ابھرتا ہے۔ رام کی سیتا کو جب راون نے ہرا تھا تو اس نے مدد کے لیے رگھورائے کو پکاراتھا اور اپنا دو پٹّا مدد کی آس میں پہاڑی پر بیٹھے ہوئے بندروں پر پھینک دیا تھا لیکن آج کی سیتا جسے تہذیب ، سیاست اور فلسفے کے راون نے ہر لیا ہے مدد کے لیے کسے پکارے؟’’ سیتا آج کی دنیا کے خوفناک جنگل میں کھو گئی ہے اس سیتا کو آج کی دنیا کا راون اڑا لے گیا‘‘ ۔   [سیتا ہر ن، ص۔211]
ناولٹ کے آخری حصے میں اس کی روح کا کرب اسے اس دنیا میں لے جاتا ہے جہاں اس کا کوئی رفیق اور مونس و غمخوار نہیں۔ وہ اکیلی رہ گئی ہے۔ جمیل کے دوبارہ نہ اپنانے پر وہ اس سے طلاق کا انتظار کرتی رہی تاکہ عرفان سے شادی کر کے اور ایک مقدس اور خوبصورت رشتے میں بندھ کر سکون حاصل کر سکے لیکن جب وہ جمیل کا طلاق نامہ لے کر بڑی امید کے ساتھ عرفان کے پاس لندن جاتی ہے تو بہت دیر ہو چکی تھی۔ عرفان نے شادی کر لی تھی۔ یہاں سیتا میر چندانی کا المیہ اپنی پوری شدت سے ابھرتا ہے :
’’کون........؟‘‘
’’میں ........مادام عرفان ہوں ........‘‘
’’جی ........؟ مادام عرفان ؟‘‘اجنبی نے جو ایک ادھیڑ عمر کا فرانسیسی تھا کواڑ سے آدھا باہر نکل کر اسے غور سے دیکھا۔ ’’آپ کو یقین ہے کہ آپ مادام عرفان ہیں؟‘‘
’’جی ہاں........کیوں........؟ کیا مطلب؟ غصے اور شرم اور خفّت سے اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔
مگر موسیو عرفان تو کل ہی صبح مادام عرفان کے ساتھ دو مہینے کی رخصت پر کراچی گئے ہیں۔ اتنے عرصے کے لیے اپنا فلیٹ مجھے دے گئے ہیں۔‘‘            [سیتا ہرن، ص۔ 255]
یہاں سیتا کا المیہ اس کی بے بسی اور روح کا کرب اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے قرۃ العین حیدر    عظیم الشان انسانی تہذیب کی مرقع نگار ہیں۔ ’’سیتا ہرن‘‘ میںوہ جس طرح قدیم ہندو تہذیب اور سندھ کی تاریخ و تہذیب کے نقشے کھینچتی ہیں یا سنہالی تاریخ و تمدن کو پیش کرتی ہیں اس سے ان کے مشاہدے اور علم کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے اور ’’سیتا ہرن‘‘ سیتا کی بے قرار روح کی کہانی سنانے کے ساتھ ساتھ ہمیں انسانی تاریخ و تمدن سے بھی روشناس کراتا ہے۔
’’کینڈی کے مشہور و معروف دانت کے مندر میں شام کی پوجا ہو رہی تھی۔ اس سے ملا ہوا کینڈی کے آخری بادشاہ وکرم راج سنگھ کا چھوٹا سا چوبی محل سنسان پڑا تھا۔ لزلی اس کے دیواروں کے نقش و نگار انگلیوں سے چھو کر دیکھتا رہا۔ اس بادشاہ کو 1815 میں انگریزوں نے شکست دے کر لنکا پر قبضہ کر لیا تھا۔ سیتا کو یاد آیا اس نے کولمبو میوزیم میں سر وکرم راج سنگھ کی رانی کا اطلسی بلاؤ ز ایک شو کیس میں رکھا دیکھا تھا جس کے شانے پر خون کا مدھم سا دھبہ تھا۔ بلاؤز کے نیچے ایک پرچی پر لکھا تھا ’’کینڈی کو تاراج کرنے کے بعد محل پر حملہ کرتے ہوئے برطانوی سپاہیوں نے مسا رانی کے کانوں سے دو بالیاں نوچی تھیں یہ اس کا خون ہے۔‘‘                                                               
                                                        [سیتا ہرن ، ص۔ 202]
سیتا اپنے تہذیبی آثار کی تلاش میں سندھ جاتی ہے تو عرفان کو سندھ کی تاریخ و تہذیب سے واقف کراتے ہوئے کہتی ہے:
’’یہ سامنے جو سندھ بہہ رہا ہے ہمارے لوگوں کا عقیدہ تھا کہ اس کے پچھم میں جہاں چاند ڈوبتا ہے موت کا دیس ہے اور ہر سندھی جو مرتا ہے اس گؤ ماتا پر جو اس نے زندگی میں برہمنوںکو دان کی —اس کی دم سے چمٹا ہوا اس دریا پر سے گزر جائے گا۔ بھادوں کی پورن ماشی میں اس کی آتما اس ناؤ پر سوار ہو کر واپس آتی ہے جو اس کے گھر والے پور نماشی سے دو روز پہلے سندھ دریا میں چھوڑ دیتے تھے۔ چیت کے مہینے میں بڑا بھاری میلا ہوتا تھا۔ در اصل ہمارا سب سے بڑا خدا یہی دریا تھا کیونکہ ریگستان میں بہتا تھا۔ جس طرح پراچین مصر والے نیل کو دیوتا مانتے تھے اسی سکھر میں مچھلی کی پیٹھ پر سوار دریا دیوتا کا مندر تھا۔ اسی کو مسلمان دریا پیر اور خواجہ خضر کہتے تھے۔ جنوبی پنجاب کے ہندو اسے دریا صاحب کہتے تھے۔‘‘
                                                   [سیتا ہرن، ص۔134-135]
جس طرح قدیم ہندو تہذیب کبھی تلسی کی ’’راماین ‘‘کے دوہوں میں کبھی ’’پدماوت‘‘ کے  ’’سنگھل دیپ کھنڈ‘‘ میں اور کبھی قدیم ڈرامے ’’مدر ا راکشش‘‘ کے صفحات پر ہمارے سامنے آتی ہے اسی طرح تاریخ و تمدن کی مرقع نگاری قرۃ العین حیدر کا فنی امتیاز ہے۔ ان کے ناول اور ناولٹ ہمارا اہم تہذیبی سرمایہ ہیں۔
مختصر طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ’’سیتا ہرن‘‘ ایک بہترین تمدنی مرقع ہونے کے ساتھ ساتھ آج کی عورت کی بے راہ روی اور بے بسی دونوں کا مؤثر اظہار ہے۔ زمانے کے حالات اسے پیڑ سے ٹوٹے ہوئے پتے کی طرح طوفانی لہروں پر بہاتے رہے اور وہ آخری لمحے تک طوفان کے طمانچے کھاتی رہی۔

پتہ:
اسما مسعود
Deptt. of Urdu [CSSH]
Mohanlal Sukhadiya University
Udaipur - 313001

سہ ماہی ’ فکر و تحقیق، جنوری تا مارچ 2008


جمعہ، 29 مئی، 2020

عشق حقیقی اور میر کی غزل مضمون نگار: سراج اجملی




عشق حقیقی اور میر کی غزل
 سراج  اجملی
مشرق کی شاعری کا غالب آہنگ عشقیہ ہے۔ عشق کی نیرنگیوں اور بو قلمونیوں کو اس دیار کی تمام زبانوں کے شعرا نے اپنے فن پاروں میں گرفت میں لانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ جس طرح اشیا کی ماہیت پر غور و خوض کے نتیجے میں ان کے دو پہلو بتائے گئے ہیں اسی طرح جذبۂ عشق کو بھی دو پہلوؤں میں تقسیم کیا گیا ہے یعنی حقیقی اور مجازی۔ شاعری میں ان دونوں پہلوؤں کو یکساں طور پر اہمیت حاصل ہے، لیکن جہاں جہاں جذبۂ عشق کے تعلق سے اصولی اور نظری گفتگو ہوئی ہے، عام طور پر مجاز کے مقابلے حقیقت کی جانب رجحان زیادہ غالب نظر آتا ہے۔ اردو کے عظیم شعرا میں دو نے تفصیل کے ساتھ یا دوسروں کے مقابلے قدرے شرح و بسط کے ساتھ اس تعلق سے گفتگو کی ہے۔ ہماری مراد میر تقی میر اور اقبال سے ہے۔ میر نے اپنی مثنویوں اور اقبال نے اپنی نظموں میں عشق کے بارے میں جو کچھ کہا ہے اسے پڑھ کر ان نادر روزگار تخلیق کاروں ہی کے یہاں نہیں، اس تہذیب میں بھی کہ جس کے یہ نمائندے ہیں عشق کی اہمیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اقبال کے یہاں عشق ایک ایسی قدر کی حیثیت سے نظر آتا ہے جو ہر عمل کے جوہر کا حکم رکھتا ہے۔ کچھ اشعار ملاحظہ ہوں :  
تند و سبک سیر ہے گرچہ زمانے کی رو
عشق خود اک سیل لیے سیل کو لیتا ہے تھام
عشق کی تقویم میں عصر رواں کے سوا
اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام
عشق دم جبرئیل عشق دل مصطفیٰ
عشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلام
عشق کی مستی سے ہے پیکر گل تابناک
عشق ہے صہبائے خام عشق ہے کاس الکرام
عشق فقیہ حرم عشق امیر جنود
عشق ہے ابن السبیل اس کے ہزاروں مقام
عشق کے مضراب سے نغمۂ تار حیات
عشق سے نور حیات عشق سے نار حیات
اسی طرح میر نے جذبہ عشق و محبت کے حوالے سے معاملات عشق میں 46 اشعار اور دریائے عشق میں 32 اشعار کہے ہیں۔ ان اشعار میں اقبال کے مذکورہ بالا اشعار کی طرح روح عشق یا جوہر عشق یا اصل عشق کے تعلق سے گفتگو کی گئی ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں :  
عشق ہے تازہ کار تازہ خیال

ہر جگہ اس کی اک نئی ہے چال
دل میں جاکر کہیں تو درد ہوا

کہیں سینے میں آہ سرد ہوا
کہیں آنکھوں سے خون ہو کے بہا

کہیں سر میں جنون ہو کے رہا
گہہ نمک اس کو داغ کا پایا

گہہ پتنگا چراغ کا پایا
واں طپیدن ہوا جگر کے بیچ

یاں تبسم ہے زخم تر کے بیچ
کسو چہرے کا رنگ زرد ہوا

کسو محمل کی رہ کی گرد ہوا
طور پر جاکے شعلہ پیشہ رہا

بے ستوں میں شرار تیشہ رہا


(دریائے عشق)


یا

کچھ حقیقت نہ پوچھو کیا ہے عشق

حق اگر سمجھو تو خدا ہے عشق
عشق ہی عشق ہے نہیں ہے کچھ

عشق بن تم کہو کہیں ہے کچھ
عشق تھا جو رسول ہو آیا

ان نے پیغام عشق پہنچایا
عشق حق ہے کہیں نبی ہے کہیں

ہے محمد کہیں علی ہے کہیں
عشق عالی جناب رکھتا ہے

جبرئیل و کتاب رکھتا ہے
عشق حاضر ہے عشق غائب ہے

عشق ہی مظہر عجائب ہے


(معاملات عشق)
اور مثنوی ’’شعلۂ عشق‘‘ کے ابتدائی اشعار تو ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ملاحظہ ہوں چند اشعار:
محبت نے ظلمت سے کاڑھا ہے نور

نہ ہوتی محبت نہ ہوتا ظہور
محبت مسبب محبت سبب

محبت سے آتے ہیں کار عجب
محبت بن اس جا نہ آیا کوئی

محبت سے خالی نہ پایا کوئی
محبت ہی اس کارخانے میں ہے

محبت ہی سب کچھ زمانے میں ہے
محبت ہے آب رخ کار دل

محبت ہے گرمیِ آزار دل
محبت کی آتش سے اخگر ہے دل

محبت نہ ہو وے تو پتھر ہے دل
محبت لگاتی ہے پانی میں آگ

محبت سے ہے تیغ و گردن میں لاگ
وغیرہ وغیرہ۔
اوپر نقل کیے گئے تمام اشعار عشق و محبت کے جذبے کو جس درجے پر بیان کرتے ہیں اس میں حیات و کائنات کے تمام معاملات کی اصل اور روح کی حیثیت سے اسے قائم دکھایا گیا ہے اور یہی ہم عرض کرنا چاہتے ہیں ۔ ان شعرا سے قبل بھی ہمارے شعرا نے عشق کو سب سے بہتر شغل اور جملہ مسائل زمانہ کے علاج کے طور پر پیش کیا ہے۔ ولی دکنی کا مشہور شعر ہے:
شغل بہتر ہے عشق بازی کا
کیا حقیقی و کیا مجازی کا
اس تعلق سے عشقیہ شاعری یا فی نفسہٖ شاعری کے امام مولانا جلال الدین رومی کے یہاں فضائل عشق کے بیان میں جس شدت کا اہتمام نظر آتا ہے وہ اس جذبے کے بارے میں صرف شاعر کے نظریات کو ہی پیش نہیں کرتا بلکہ اس کی ماہیت اور بو قلمونی کی انسان کے ذریعے کیے جانے والے اعتراف کی بین دلیل بھی ہے۔ رومی کے تین اشعار ملاحظہ ہوں :
شاد باش اے عشق خوش سودائے ما
اے طبیب جملہ علت ہائے ما
اے علاج نخوت و ناموس ما
اے تو افلاطون و جالینوس ما
یا
داند آں کو نیک بخت و محرم است
زیر کی زابلیس و عشق از آدم است
رومی کے یہاں عشق کی حیثیت مثبت قدر کی ہے اور اس کے مقابلے زیر کی منفی قدر ٹھہرتی  ہے جس کا انتساب وہ ابلیس کی طرف کرتے ہیں۔ ہماری تہذیب میںر ومی کے مرید ہندی اقبال نے بھی پیر کی اتباع کرتے ہوئے عشق کو مثبت اور عقل کو منفی قدر بتایا ہے :
عشق تمام مصطفی عقل تمام بو لہب
پیر کے یہاں عشق جملہ علت ہائے حضرات انسان کے لیے طبیب کی حیثیت رکھتا ہے اور ان کے تمام تر نخوت و ناموس کا واحد علاج ہے۔ عرض کرنے کا مدعایہ ہے کہ عشق خواہ مجازی ہو یا حقیقی، انسان کو دوسرے امراض سے محفوظ رکھتا ہے اور جس کو یہ لاحق ہو جائے اس کے ذریعے شر اور فساد کے پھیلنے کا امکان تو معدوم ہو ہی جاتا ہے۔ عشق دلوں کو سوز کی دولت سے مالا مال کرتا ہے اور گداز قلب انعام کی شکل میں عطا کر کے اس کے حامل کو حیات جاوداںعطا کر دیتا ہے۔
برسبیل تذکرہ یہ سال یونیسکو کی جانب سے ہمارے ممدوح اور عشق کے مداح مولانا جلال الدین رومی کی آٹھ سو ویں سال گرہ پوری دنیا میں منا ئی جا رہی ہے۔ ہم اسے مداحی عشق کا انعام کہنے میں حق بجانب ہیں۔
اظہار کے بڑے پیرایوں یا ان شعرا کے یہاں اظہار کے پیرائے میں حقیقی و مجازی دونوں طریقہ ہائے عشق کے ساتھ یکساں برتاؤ نظر آتا ہے یہ ہم پہلے ہی عرض کر چکے ہیں کہ اس کی مثال رومی سے لے کر میر تقی میر تک ہر بڑے شاعر کے یہاں سے پیش کی جا سکتی ہے۔ اس بات سے شاید کسی کو اختلاف نہ ہو کہ ایک خاص ارفع سطح پر پہنچ کر ارضیت، ماورائیت، مثبت منفی، سب ایک ہو جاتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ کیا ہم بیاں کی سطح کو واقعی ارفع کر پائے ہیں؟ لیکن جن کے رتبے سوا ہیں وہ اسی لیے سوا ہیں کہ انھوں نے یہ کر دکھایا ہے۔ رومی کے یہاں جس طرح عشق حقیقی کا بیان ہوا ہے اسی طرح عشق مجازی کا بھی۔ یہی حال میر کا بھی ہے اور دوسرے شعرا کا بھی۔ ان میں بہت سے صوفی شعرا ہیں اور بہت سے صرف شعرا۔
سردست ہمارا سروکار میر کی شاعری سے ہے۔ اس شاعری سے جس کا تعلق حقیقی جذبات عشق سے ہے۔ میر کے والد کے ذریعے میر کو کی جانے والی وصیت ہمارے علما سے لے کر ایم. اے. کے طلبہ تک کو از بر ہے اور میر کے پس منظر میں عشق حقیقی کی اہمیت سے ہماری تہذیب کا ایک ایک فرد واقف ہے۔  لہٰذا یہاں اس اقتباس کو پیش کیے بغیر ہم آگے بڑھتے ہیں۔ عشق حقیقی ماسوا سے بے نیاز ہو کر مطلوب و معشوق حقیقی کا ہو جانے اور اس آگ سے سینے کو گلزار کر لینے کا نام ہے جو ماسوا کو جلا کر خاکستر کر دیتی ہے۔ جب اس آگ سے سینہ روشن ہو جائے تو دل پر صیقل ہو جاتی ہے اور زنگ کا قلع قمع ہو جاتا ہے پھر ہر روشنی نور مطلق کا انعکاس اور ہر تابش تابندگی جلوہ حضرت حق سے مملو نظر آنے لگتی ہے۔ اس جذبے کا کمال یہ ہے کہ اس کا عامل ہو یا اس کو بیان کرنے والا یعنی عملی طور پر ادارۂ تصوف کا ترجمان اور صوفی ہو یا تصوف کو ’’برائے شعر گفتن‘‘ کی حد تک اپنانے والا، اظہار کے ہنگام میں تقریباً ایک سطح پر ہی نظر آتا ہے۔ میر تقی میر کا تعلق کسی حد تک ثانی الذکر طبقے سے ہے۔
اس کے باوجود تصوف کی کون سی اصطلاح ہے جس کو میر نے پوری تخلیقی دیانت کے ساتھ نہیں برتا اور جس کی مثالیں کلیات میر میں آسانی سے دستیاب نہ ہوں۔ کلیات کے بالکل پہلے شعر بلکہ پہلی غزل سے ہی یہ بات شروع ہو جاتی ہے ملاحظہ ہو :
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا
خورشید میں بھی اس ہی کا ذرّہ ظہور تھا
پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں
معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا
آتش بلند دل کی نہ تھی ورنہ اے کلیم
یک شعلہ برق خرمن صد کوہ طور تھا
تھا وہ تو رشک حور بہشتی ہمیں میں میر
سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنی قصور تھا
قرآن کی آیت اللہ نور السموٰت والارضِ، تصوف کا نظریۂ وحدت الوجود اور حضرت علی ابن ابی طالب سے منسوب قول من عرف نفسہ، فقد عرف ربہ کی روشنی میں عرفان ذات کی متصوفانہ سرگرمیوں کی جانب جس طرح مذکورہ بالا اشعار میں اشارات ملتے ہیں اور جس طرح تلاش و عرفان ذات مطلق پر اصرار نظر آتا ہے وہ ان اشعار کو عشق حقیقی سے متعلق قدر اوّل کے بیان کی حیثیت عطا کرتا ہے۔
کلیات کی پہلی ہی غزل میں تصوف کے اتنے سارے نکات اس اہتمام اور طمطراق کے ساتھ معرض بیان میں آتا دیکھ کر تحریک ہوئی کہ اس نقطۂ نظر سے میر کا مطالعہ کیا جائے چنانچہ ایسا کیا گیا اور نتیجے کے طور پر ایسے اشعار خاصی تعداد میں نظر آئے جن میں موضوعات و مضامین عشق حقیقی سے بحث کی گئی ہے۔ اسے میر کے طریقۂ اظہار کا کمال کہا جائے یا موضوع کی روح میں اتر جانے کی صلاحیت کہ ہر شعر مضمون و معنی دونوں لحاظ سے یکتا اور مکمل نظر آتا ہے۔
مضامین تصوف کے کچھ اور اشعار  ملاحظہ ہوں :
کفر کچھ چاہیے اسلام کی رونق کے لیے
حسن زنار ہے تسبیح سلیمانی کا
یہ توہم کا کارخانہ ہے
یاں وہی ہے جو اعتبار کیا
دل کو ہم نے مثال آئینہ
ایک عالم کا روشناس کیا
جہاں جلوے سے اس محبوب کے یکسر لبالب ہے
نظر پیدا کر اوّل پھر تماشا دیکھ قدر کا
گوش کو ہوش کے ٹک کھول کے سن شور جہاں
سب کی آواز کے پردے میں سخن ساز ہے ایک
چاہے جس شکل سے تمثال صفت اس میں درآ
عالم آئینے کے مانند در باز ہے ایک
لایا ہے مرا شوق مجھے پردے سے باہر
ورنہ میں وہی خلوتی راز نہاں ہوں
عام ہے یار کی تجلی میر
خاص موسیٰ و کوہ طور نہیں
کہنے میں حجاب رخ دلدار ہے ہستی
دیکھیں گے اگر یوں ہی بھلا جان بھی جائے
اس کے فروغ حسن سے جھمکے ہے سب میں نور
شمع حرم ہو یا کہ دیا سومنات کا
بالذات ہے جہاں میں وہ موجود ہر جگہ
ہے دید چشم دل کے کھلے عین ذات کا
صورت پرست ہوتے نہیں معنی آشنا
ہے عشق سے بتوں کے مرا مدعا کچھ اور
نیا آناً فآناً اس کو دیکھا
جدا تھی شان اس کی ہر زماں میں
جلوے ہیں اس کے شانیں ہیں اس کی
کیا روز کیا خور کیا رات کیا ماہ
ہے ماسوا کیا جو میر کہیے
آگاہ سارے اس سے ہیں آگاہ
کوئی ہو محرم شوخی ترا تو میں پوچھوں
کہ بزم عیش جہاں کیا سمجھ کے برہم کی
سراپا آرزو ہونے نے بندہ کر دیا ہم کو
وگرنہ ہم خدا تھے گر دل بے مدعا ہوتے
کیا عبث مجنوں پئے محمل ہے میاں
یہ دوانہ باؤلا عاقل ہے میاں
رنگ بے رنگی جدا تو ہے ولے
آپ سا ہر رنگ میں شامل ہے میاں
اگر چشم ہے تو وہی عین حق ہے
تعصب تجھے ہے عبث ماسوا سے
یہ اشعار ’’کلیات میر‘‘ دیوان اول سے دیوان ششم تک کے ان سیکڑوں اشعار میں سے بغیر تلاش و تفحص کے انتخاب کیے گئے۔ ان میں تصوف کے اکثر موضوعات سمٹ آئے ہیں۔ انتخاب کے پہلے شعر میں زنار کو تسبیح سلیمانی کا حسن کہا گیا ہے۔ سلیمانی کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ یہ ایک پتھر ہے جس سے تسبیح بھی بنائی جاتی ہے۔ اس پر سیاہ لکیر ہوتی ہے اس سیاہ لکیر کو زنار کہتے ہیں اور زنار جنیو کو بھی کہتے ہیں جسے اہل ہنود کے یہاں مذہبی اہمیت حاصل ہے۔ میر نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ جس طرح تسبیح کے پتھر کی زینت زنار سے ہے اور اسے پتھر سے الگ نہیں کیا جا سکتا اسی طرح اسلام کی زینت کے لئے تھوڑا سا کفر بھی ضروری ہے۔ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ ارفع سطح پر پہنچ کر با ہم متضاد چیزیں ایک ہو جاتی ہیں۔ یہ معاملہ میر نے نظریات و عقائد کی حد تک پہنچا دیا۔ اسے یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ غیر خدا کو سجدہ کرنا کفر ہے لیکن اسی کفر کو نہ کرنے سے ابلیس دنیا کا سب سے بڑا اور پہلا کافر قرار پایا۔ یعنی اصل بات رضائے محبوب ہے۔ اسی بات کو خواجہ حافظ نے اس طرح کہا ہے:
بمے سجادہ رنگیں کن گرت پیر مغاں گوید
کہ سالک بے خبر بنود زراہ و رسم منزل ہا
یہ مضمون اصغر گونڈوی کے یہاں بھی بیان ہوا ہے :
اے شیخ وہ بسیط حقیقت ہے کفر کی
کچھ قید و رسم نے جسے ایماں بنا دیا
شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کا مشہور قول ہے : ’’انما الکون خیال‘‘ اسی پر نظریۂ وحدۃ الوجود کی بنیاد ہے۔ وجودی صوفی ذات مطلق کے سوا ساری کائنات کو محض وہم و خیال سمجھتا ہے اور اس پر یقین نہیں کرتا کہ یقین اسی پر ہو سکتا ہے جو موجود ہو، انتخاب کا دوسرا شعر اسی خیال پر مبنی ہے۔
دل آئینہ صفات الہٰی ہے۔ تصوف میں صفائے دل پر حد درجہ اصرار اور دل کے لیے آئینہ کی تمثیل اسی امر پر دلالت کرتی ہے۔ جب دل آئینہ ہو جائے تو اسے روشناس خلق ہونے میں کیا زحمت ہے ۔میر نے انتخاب کے اگلے شعر میں اسی خیال کو آئینہ کیا ہے۔
دل کے ساتھ ساتھ دنیا کو جمال حق کا آئینہ کہا گیا ہے ہم میر کے ذریعے بیان کردہ اس مضمون کو دوسرے صوفیوں کے یہاں بھی دیکھتے ہیں۔ حضرت آسی سکندرپوری کا شعر ہے :  
بے حجابی وہ کہ ہر ذرہ سے جلوہ آشکار
اس پہ گھونگھٹ وہ کہ صورت آج تک نا دیدہ ہے
مضامین تصوف میں جن لفظیات کو اعتبار حاصل ہے ان میں ساز، پردہ، نغمہ، سماع وغیرہ بہت اہم ہیں۔ شعر زیر بحث میں ساز، پردے اور آواز کے ذریعے وحدت الوجود کے نظریہ کو پیش کیا گیا ہے۔ صوفی دنیا کو آئینہ خانہ سمجھتا ہے جس میں اگر کوئی عکس ابھرتا ہے تو وہ محض ذات مطلق کا عکس ہے، انتخاب کے اس شعر میں اسی نقطۂ نظر کو پیش کیا گیا ہے۔
وجودی صوفیا عشق حقیقی کی بنیاد اس حدیث قدسی کو مانتے ہیں : کنتُ کنزاً مَخْفِیاً فَأحْبَبْتُ أن اُعرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ لاُعرَفَ۔
(ترجمہ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں ایک مخفی خزانہ تھا میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں پس میں نے خلق کو پیدا کیا تاکہ پہچانا جاؤں)
اس حدیث کا ذکر کرنے کے بعد اگر میر کا یہ شعر پڑھا جائے کہ:
لایا ہے مرا شوق مجھے پردے سے باہر
ورنہ میں وہی خلوتی راز نہاں ہوں
تو مزید کسی تصریح کی ضروریات باقی نہیں رہ جاتی اور شعر کا مضمون واضح ہو جاتا ہے۔
ہمارے شعرا نے موسیٰ اور طور کی تلمیحات خوب خوب نظم کی ہیں۔ اکثر شعرا نے موسیٰ کو بے ہوشی پر طعنے بھی دیے ہیں، کسی نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ :
ہمیں بھی جلوہ گاہِ ناز تک لیتے چلو موسیٰ
تمھیں غش آ گیا تو حسن جاناں کون دیکھے گا
میر نے’ تجلی یار‘ کو عام بتایا ہے بس اس کا مہبط بننے کے لئے لائق دل چاہیے اور یہ کام عشق حقیقی کے ذریعے ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یار کی تجلی کے لیے موسیٰ و کوہ طور ہی خاص نہیں، جلوہ تو ارزاں ہے کیوں کہ وہ یار کا جلوہ ہے۔
صوفیا نے ہستی کو حجاب اکبر کہا ہے، شعر زیر بحث میں اسی خیال کو پیش کیا گیا ہے۔ بعد کے شاعروں میں اس خیال کو اصغر گونڈوی نے بہت سلیقے کے ساتھ نظم کیا ہے:
اصغر حریمِ عشق میں ہستی ہی جرم ہے
رکھنا کبھی نہ پاؤں یہاں سر لیے ہوئے
جیسا کہ عرض کیا گیا میر کے ان اشعار کے انتخاب میں کسی خاص کاوش کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ میر کا کلیات مضامین عشق حقیقی سے پر اشعار بھی وافر تعداد میں اپنے دامن میں رکھتا ہے۔ یہ اشعار صرف مضامین کی حد تک قابل ذکر نہیں ہیں بلکہ صنائع و بدائع اور ان تمام ذرائع کے حوالے سے بھی خاصے کی چیز اور قابل ذکر ہیں کہ جنھیں عام طور پر میر شعر سازی کے عمل میں پیش نظر رکھتے ہیں۔
گفتگو کے آخرمیں صرف یہی عرض کرنا ہے کہ میر تقی میر جیسا ہمہ جہت اور مرتبۂ خدائے سخن پر فائز شاعر اپنے کیسے کیسے زر و جواہر رکھتا ہے اور ان کی چمک سے دیکھنے والی آنکھوں کی خیر گی کا کیا کیا سامان کرتا ہے۔ بیک وقت اس کے یہاں مختلف اور متضاد کیفیات بھی نظر آتی ہیں جو اس کی ہمہ جہتی پر دال ہیں۔ لطف کی بات یہ کہ وہ ان کیفیات کے بیان پر حاکمانہ قدرت رکھتا ہے جس کا اسے بخوبی احساس بھیہے، بقول میر :
طرفیں رکھے ہے ایک سخن چار چار میر
کیا کیا کہا کریں ہیں زبان قلم سے ہم


 پتہ:

 سراج  اجملی
Deptt. of Urdu
Faculty of Arts
Aligarh Muslim University
Aligarh - 202002
سہ ماہی ’ فکر و تحقیق، جنوری تا مارچ 2008