بدھ، 25 مئی، 2022

اردو غزل کا علامتی نظام : ایک جائزہ - مضمون نگار : ساجد ممتاز

 



شعرا و ادبا اپنے خیالات و احساسات کے بہتر اظہار کے لیے ہمیشہ کوشش کرتے رہے ہیں۔ وہ ہمیشہ اس بات کی تلاش میں رہتے ہیں کہ اپنے احساسات و جذبات کے اظہار کے لیے مؤثر سے مؤثرترین طریقے اور ترسیل خیالات کے نئے نئے پہلو ایجاد کیے جائیں اور ان کو عملی زندگی میں استعمال کیا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ ادائے مطلب کے دوران ادب کا دامن بھی ہاتھوں سے چھوٹنے نہ پائے۔ اس کے لیے انھوںنے رمز و اشارہ اور کنایے کا سہارا لیا۔ مثلاً کبھی تشبیہ و استعارے کی شکل میں تو کبھی علامت کی صورت میں اور کبھی علم معانی و بدیع کی دوسری مختلف صنائع کے ذریعے اپنے خیالات کو پیش کیا۔ ان تمام خوبیوں کو برتنے کے پیچھے یہی جذبہ اور جوش کام کرتا رہتا ہے کہ ادائے خیالات کے نئے نئے سانچے مہیا ہوں جس سے سننے والے کے دل و دماغ میں اشیا اور محسوسات و جذبات کی صحیح تصویر کشی ہو سکے۔ 

اظہار کا بالواسطہ پیرایہ ادب کی ایک اہم خصوصیت ہے یعنی شاعر یا ادیب جو بات کہے اس سے دوسرے معنی مراد لیے جائیں۔ تشبیہ، استعارہ، کنایہ، تمثیل اور مجاز وغیرہ اس بالواسطہ اظہار کی مختلف صورتیں ہیں۔ اظہار کی یہ اہم ترین صورتیں بہ ظاہر تو ایک دوسرے سے مشابہ نظر آتی ہیں لیکن حقیقتاً یہ ایک دوسرے سے منفرد ہیں۔علامت بھی انھیں طریقۂ اظہار میں سے ایک مؤثر ترین طریقہ ہے۔ علمائے ادب اور شاعروں نے علامت کا استعمال بہت فصیح انداز میں کیا ہے۔ اس سے کلام میں وسعت پیدا ہوئی اور کلام اختصار کی سرحدوں سے نکل کر ایجاز کی وادیوں میں پہنچ گیا۔ معانی و مطالب کے نئے نئے غنچے کھلنے لگے۔ علامت کا لطف منتہا بھی یہی ہے کہ اس کے اشارے میں لطافت اور دلچسپی کوٹ کوٹ کر بھری ہو، شاعرانہ تخیل کو تیز رفتاری ملے، واقعے اور قصے میں چاشنی کے ساتھ ساتھ تجسس بھی ہو، کوزے میں سمندر بھی سمایا رہے اور باوجود ان خصوصیات کے فنی ضرورتوں اور تقاضوں سے اس کا دامن بھی خالی نہ ہونے پائے۔

علامت سے متعلق جب گفتگو ہوتی ہے تو ذہن میں لاشعوری طور پر یہ سوال رقص کرنے لگتا ہے کہ علامت کہتے کسے ہیں؟ علامت کی جامع و مانع تعریف کیا ہے؟ اس سلسلے میں زبان کے تخلیقی عناصر پر بحث کرتے ہوئے ادب کے ناقدین نے علائم کی مختلف تعریفیں اور توضیحیں کی ہیں۔ ان میں سے بیش تر تعریفیں اپنے آپ میں اتنی مبہم اور پیچیدہ ہیں کہ ان سے کوئی کامل نتیجہ نکالنا بہت مشکل ہے۔ اس کے باوجود ان سے علامت کو سمجھنے اور ان کی روشنی میں علامت کی ایک جامع و مانع تعریف متعین کرنے میں مدد ضرور ملتی ہے۔

انسانی فکر کی تاریخ میں علامت کا تصور بہت قدیم ہے۔ علامتی عمل نے اساطیر، لوک گیتوں و لوک کہانیوں، مذہب، سماجی رسومات اور تہذیب و تمدن کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

علامت کی تعریف کرتے ہوئے حامدی کاشمیری لکھتے ہیں:

’’کوئی لفظ جب اپنے معنی کے علاوہ کسی وسیع اور تہہ دار معنی کو پیش کرے تو وہ علامت کا درجہ حاصل کرتا ہے۔ گویا علامت شعری ہنر مندی سے زبان کے ایک مخصوص استعمال کے طریقے سے تشکیل پاتی ہے۔‘‘

(بحوالہ ڈاکٹر نجمہ رحمانی، جدید غزل کی علامتیں: ص 18:ایم آرپبلی کیشنز، نئی دہلی:2005)

علامت سے مراد وہ بیان ہے جس کے ذریعے جو کہا جائے اس سے کچھ الگ اور کچھ زیادہ معنی مراد لیے جائیں۔ علامت ہمارے ذہن کو معانی کی کئی جہتوں کی طرف منتقل کرتی ہے اور اس کی یہی خوبی ہے کہ یہ ان میں سے ہر جہت کے لیے موزوں قرار پاتی ہے۔

ٹی ایس ایلیٹ کا خیال ہے کہ نظم یا علامت جو ایک قائم بالذات شے ہے جو شاعر اور قاری کے مابین رہتی ہے اور کسی نہ کسی طرح اس کا رابطہ دونوں سے ہوتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ اس کا یہ رابطہ شاعر کے ساتھ بھی ویسا ہی ہو جیسا قاری کے ساتھ۔ نظم یا علامت شاعر کے مدعا کو ظاہر اور قاری کے ذہن کو (علامت کی طرف) منتقل تو کر سکتی ہے لیکن اس اظہار و انتقال میں مطابقت ہونا ضروری نہیں۔

علامت کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے ڈاکٹر انیس اشفاق لکھتے ہیںـ:

’’علامتی بیان میں جیسے جیسے ہم الفاظ اور ان کے انسلاکات کا تجزیہ کرتے جاتے ہیں ویسے ویسے وہ بیان وسیع المفہوم ہوتا جاتا ہے اور ہر تجربے کے بعد جہاں موضوع بیان میں تنوع پیدا ہے وہیں اس کا تاثر بھی مختلف ہو جاتا ہے۔‘‘

(ڈاکٹر انیس اشفاق،اردو غزل میں علامت نگاری  ص 96-97، اترپردیش اردو اکادمی1995)

آگے لکھتے ہیں :

’’علامتی اسلوب کبھی مفہوم کو مختلف زاویوں سے پیش کرتا ہے اور کبھی بجائے خود کثیرالمفہوم ہوتا ہے یعنی اس کا ہر لفظ معنی کا ذخیرہ ہوتا ہے اور ہر لفظ کے معنی دوسرے لفظ کے معنی سے مختلف لیکن متعلق ہوتے ہیں اور ہر لفظ مختلف مفاہیم کی ترجمانی میں قاری سے پورا تعاون کرتا ہے۔ ‘‘

(ڈاکٹر انیس اشفاق،اردو غزل میں علامت نگاری ص 102، اترپردیش  اردو اکادمی1995)

چونکہ غزل ایجاز و اختصار کا فن ہے اس لیے علامتیں اس اختصار میں سحر کاری کا کام کرتی ہیں۔ غزل کے فن میں علامتوں کی اہمیت مسلم ہے اور اس میں عہد بہ عہد تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں۔ مثلاً گل و بلبل سے پیدا علامت ہر دور میں مختلف رہی ہے اور لفظ ’سرخ‘ کبھی خوشی،  قربانی اور خطرے کی علامت رہا ہے تو کبھی انقلاب کا ہم معنی ٹھہرا ہے۔ غزل کی قدیم علامتوں میں گل و بلبل، شمع و پروانہ، ساقی و میخانہ وغیرہ کا استعمال کثرت سے ہوا ہے۔

جس طرح اردو کی شعری اصناف فارسی ادب سے مستعار ہیں اسی طرح اولین اردو غزل کا علامتی نظام بھی فارسی غزل کے علامتی نظام سے متاثر نظر آتا ہے۔ گل و بلبل اور شمع و پروانہ وغیرہ فارسی غزل سے ہی اردو غزل میں علامت کی شکل میں شامل ہوئے۔ فارسی ادب میں ان الفاظ کو علامت کی منزل تک پہنچنے میں چند مراحل سے گزرنا پڑا جب کہ اردو ادب میں یہ الفاظ سیدھے طور پر ایک علامتی الفاظ کی حیثیت سے مگر ناپختہ حالت میں شامل ہوئے۔ ان علامتی الفاظ کو اردو غزل میں منتقل ہونے سے بہت قبل ہی فارسی غزل میں ان کی علامتی حیثیت مستحکم ہو چکی تھی لہٰذا اردو شعرا نے انھیں علامتی شکل میں جوں کا توں قبول کر لیا اور ان علامتی الفاظ کا استعمال سب سے زیادہ صنف غزل میں ہوا۔ گل و بلبل، آئینہ، شمع و پروانہ، صیاد، قفس، باغ وغیرہ جیسے الفاظ فارسی شاعری کی ابتدا سے ہی ملنے لگتے ہیں۔ لیکن اس وقت یہ الفاظ کسی خاص علامت کی شکل میں استعمال نہیں ہوتے تھے۔ ایک عرصے تک یہ الفاظ محض منظروں کی عکاسی کے طور پر ہی اپنے اصل معنی و مفہوم میں استعمال ہوتے رہے۔ جیسے آئینہ خود کو دیکھنے، نکھارنے اور لازمۂ حسن کے طور پر استعمال ہوتا ہے، گل باغ کے حسن اور اس کی شادابی کو دوبالا کرتا ہے، باغ خوش نما اور خوب صورت منظر کو پیش کرتا ہے اور شمع صرف روشنی کا کام کرتی ہے اور محفل کی رونق میں اضافہ کرتی ہے۔ اس طرح شروع شروع یہ تمام الفاظ اکثر و بیش تر اپنے اصل معنی و مفہوم میں ہی استعمال ہوتے رہے۔ ان الفاظ میں چوں کہ علامتی قوت موجود تھی اس لیے وقت کے ساتھ ساتھ ان کی علامتی معنویت کا ظہور ہونے لگا۔ آہستہ آہستہ شاعر کو اپنے جذبات و احساسات کے لیے یہ پیرایۂ اظہار موزوں معلوم ہونے لگا۔ گل اپنے حسن شگفتگی اور خوشبو کی بنیاد پر محبوب سے مشابہ ہو گیااور بلبل کی نغمہ سرائی آہ و زاری میں تبدیل ہو کر عاشق کا کردار ادا کرنے لگی۔ اس طرح گل و بلبل کا تلازمہ عاشق و معشوق کی علامت بن گیا۔شمع پہلے صرف محفلوں کو روشن کرنے کا کام کرتی تھی لیکن بعد میں شعرا کو اس میں ایک قسم کے سوز و گداز کی نئی معنویت نظر آنے لگی۔ اب جو چراغ پہلے صرف محفلوں کو روشن کرنے کا کام کرتا تھا وہ اب غم کی نمائندگی بھی کرنے لگا۔ اب شمع کے ارد گرد پروانے کے والہانہ طواف اور جاں فشانی نے بھی عاشق کی بے لوث اور پُر خلوص محبت کے ساتھ ساتھ اس کے ایثار و قربانی کی معنویت اختیار کرنے لگا۔ اس طرح شمع و پروانے کا تلازمہ عاشق و معشوق، سوز وگداز اور نور و ضیا کے مفاہیم ادا کرنے لگے۔آئینہ جو پہلے صرف  لازمۂ حسن تھا بعد میں اس نے بے پناہ علامتی معنویت اختیار کر لیا اور وہ فرد کے غیر محدود ذہنی و مادی تجربات اور احساسات و کیفیات کی عکاسی کرنے لگا۔ صوفی شعرا نے آئینے کو مختلف مفاہیم اور مسائل کی نمائندگی کے لیے استعمال کیا۔ باغ اور اس کے متعلقات کو شعرا پہلے صرف مناظر کی عکاسی کے طور پرہی استعمال کرتے تھے لیکن بعد میں یہ باغ دنیا کی علامت کے طور پر پیش کیا جانے لگا اور اس کے متعلقات دنیوی ساز وسامان کے طور پر پیش ہونے لگے۔

اردو غزل کے علامتی نظام کی تشکیل پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداً اس کا علامتی نظام حسن، عشق اور غم کے ارد گرد ہی گھومتا ہے۔ عشق و محبت کے نتیجے میں پیدا شدہ ان جذبات و احساسات کے بالواسطہ اظہار کے لیے گل و بلبل اور شمع و پروانہ کا پیرایہ اپنی علامتی قوت کی وجہ سے ایک بہترین پیرایہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان پیرایوں کو اظہار کا وسیلہ بنایا گیا۔مگر جیسے جیسے ان کے تلازمے زیادہ معنویت کے حامل ہوتے گئے ویسے ویسے ان کے دائرے میں بھی مزید وسعت پیدا  ہونے لگی۔ اب یہ پیرائے اپنے متعلقات کے ساتھ حسن، عشق اور غم کے علاوہ دوسرے مفاہیم کی نمائندگی بھی کرنے لگے۔ مثلاً محفل میں شمع، پروانہ، شراب، کباب، پیالہ، مینا، صراحی، خُم، جُرعہ، نشہ، خمار، صبوحی، ساقی، مطرِب، چنگ، ارغواں مِضراب، پردہ اور ساز وغیرہ میں علامتی معنویت پیدا ہو گئی۔ اسی طرح باغ کے تلازمات میں سرو، قمری، گل و بلبل، صیاد، گلچیں، باغباں، آشیانہ، قفس، دام، دانہ، یاسمن، نسرین، نسترن، سوسن، خار وغیرہ دنیوی وقوعوں کے لیے علامتی تلازمات کا کام کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ یہ تمام تلازمات بالواسطہ طور پر مادی مسائل کے ساتھ ساتھ مابعدالطبیعات مسائل کی ترجمانی کرتے بھی نظر آنے لگے۔

یہ حقیقت ہے کہ تمام علامتیں پہلے استعاراتی اور تشبیہی پیرایوں میں ہی استعمال ہوتی ہیں اور پھر اپنی علامتی صلاحیت کی بنا پر یہی استعارے اور تشبیہیں علامتوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شروع شروع میں اردو ادب کے ابتدائی شعرا کے یہاں فارسی شاعری کے تلازمے علامتی پیرائے سے زیادہ استعاراتی اور تشبیہی پیرائے میں نظر آتے ہیں۔ البتہ کہیں کہیں یہ تلازمے نیم علامتی مفہوم ادا کرنے میں کامیاب ضرور ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ان شعرا کے یہاں استعاراتی اور تشبیہی پیرائے بھی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جس سے اردو شاعری پر فارسی روایت کے اثرات کے ساتھ ساتھ ابتدائی اردو شاعری کے علامتی نظام کا تجزیہ کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ دکنی شاعری بھی فارسی سے مستعار علامتوں کے استعمال سے اپنے علامتی نظام کو متاثر ہونے سے پاک نہ رکھ سکی۔ پھر بھی ان کے یہاں بعد کے شعرا کی مانند علامت کا وسیع استعمال نظر نہیں آتا۔ البتہ صوفیانہ مضامین کی عکاسی کرنے کی وجہ سے ان شعرا کے یہاں لفظِ آئینہ میں کثیرالمعنویت پیدا ہو گئی ہے۔ اسی طرح شمع کے علامتی مفاہیم بھی فارسی کے روایتی مفہوم کی طرح وسیع مگر کسی حد تک مختلف ہو گئے۔ یہاں چند ایسے اشعار اور ان کے علامتی پیرائے کے مفاہیم کو پیش کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے جس میںایسی مستعار علامتیں مستعمل ہیں          ؎         

گر نہیں ہے خنجرِ بیدادِ خوباں کا شہید

دامن صد چاکِ گل کس واسطے پر خوں ہوا

درد منداں باغ میں ہرگز نہ جاویں اے ولی

گر نہ دیوے نالۂ بلبل سراغ عاشقی

(ولی دکنی)

صحنِ گلزار میں کیا کام ہے صحرائی کا

جائے گل حیف یہاں خارِ بیاباں نہ ہوا

(سراج اورنگ آبادی)

فصلِ خزاں میں بلبل ہے گل کا مرثیہ خواں

مرغ چمن ہیں جتنے سب ہیں جوابیوں میں

(سراج اورنگ آبادی)

مندر جہ بالا اشعار میں گل و بلبل اپنے دیگر متعلقات کے ساتھ مل کر ایک علامتی نظام کی نمائندگی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بظاہر یہ الفاظ اور ان کے متعلقات عشقیہ مضامین کی ترجمانی کرتے ہوئے دِکھتے ہیں لیکن ان اشعار کے تجزیے سے جو مختلف مفاہیم اخذ ہوتے ہیں اس سے انسانی زندگی کے دوسرے معاملات کی طرف بھی ذہن منتقل ہوتا ہے۔ یعنی ان اشعار میں مستعمل تمام تلازمے دنیا کی واردات کے لیے ایک علامتی پیرایہ اختیار کر لیتے ہیں۔مثلاً ولی دکنی کا یہ شعر       ؎

گر نہیں ہے خنجر بیدادِ خوباں کا شہید

دامنِ صد چاک گل کس واسطے پُر خوں ہوا

اس شعر میں دو محبوب کا ذکر کیا گیا ہے۔ خوباں حقیقی محبوب کا ترجمان ہے اور گل مجازی محبوب کا اور حقیقی محبوب مجازی محبوب سے زیادہ حسین ہے۔ اس لیے مجازی محبوب حقیقی محبوب کے عشق میں مبتلا ہو کر اس کی سفاکیوں کا شکار ہو گیا ہے۔ یہ شعر عشق کی عالمگیری کو ظاہر کرتا ہے۔ کیوں کہ جب کسی حسین اشیا کو کوئی دوسری حسین تر اشیا مل جائے تو وہ اس کے عشق میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ اس شعر میں ایک قسم کا استفہام بھی شامل ہے۔ یعنی اگر گل (مجازی محبوب)، خوباں (حقیقی محبوب) کے ظلم کا شکار نہیں ہے تو اس کا دامنِ صد چاک خون سے کیوں بھرا ہے؟ یہ سوال ذہن کو مختلف پہلوؤں کی طرف منتقل کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ کیا یہ ظلم گلچیں نے کیا ہے یا چمن پر کسی اور آفت کا نزول ہوا ہے یا یہ کسی جنونی کا انتقام ہے؟ قاری کا ذہن ان سوالات کی طرف منتقل ہونے کی وجہ سے شعر میں ایک قسم کی دلچسپی کا پیدا ہونا لازمی بات ہے۔ یہ سوالات زندگی کے مختلف وقوعوں، ان کے نظریوں اور ان میں رونما ہونے والی مختلف تبدیلیوں کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے کہ ذہن کو ان سوالات کی طرف منتقل ہونے کے باعث جس طرح  شعر میں حسن پیدا ہوا ہے اسی طرح یہ زندگی کے مختلف وقوعوں اور نظریوں کو بھی تبدیل کرتا جاتا ہے        ؎

صحنِ گلزار میں کیا کام ہے صحرائی کا

جائے گل حیف یہاں خارِ بیاباں نہ ہوا

اس شعر میں علامت اپنے اصل جوہر کے ساتھ نمایاں ہوئی ہے۔ صحرا اور گلشن میں تضاد کا رشتہ ہے۔ صحرا پریشانی اور صعوبت کی علامت ہے اور گلشن آرائش اور مسرت کی۔ اس طرح یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ یہاں گلشن صحرائی کے لیے قفس بن گیا ہے۔ 

صحرائی کا اصل کام صحرا نوردی ہے اور صحرا میں صرف بنجر زمین اور خار ہوتے ہیں اور صحرائی انھیں خاروں کو دیکھنے کا عادی ہوتا ہے۔صحن گلزار پھولوں کا مسکن ہوتا ہے اور چوں کہ صحرائی پھولوں سے نامانوس ہے اس لیے صحنِ گلزار میں اسے پھولوں سے وہ خوشی اور مسرت نہیں حاصل ہو سکتی جو صحرا کے کانٹوں سے ہوتی ہے۔ صحرا نوردی میں ہر قدم پر صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب کہ صحن گلزار محض آرام و سکون کی جگہ ہے۔ صحرائی چونکہ گلشن میں رہنے کے لیے مجبور ہے اس لیے وہ چاہتا ہے کہ گلشن بھی بیاباں میں تبدیل ہو جائے۔

اس شعر میں صحرائی مشکل پسند اور متحرک انسان کی علامت ہے۔ خارِ بیاباں آلام و مصائب کی اور گل آرام و سکون کی علامت ہے یعنی سر گرم عمل رہنا ہی مشکل پسند انسان کی تسکین کا باعث ہے        ؎

فصلِ خزاں میں بلبل ہے گل کا مرثیہ خواں

مرغ چمن ہیں جتنے سب ہیں جوابیوں میں

مرثیہ خوانی میں جوابی وہ شخص ہوتا ہے جو مرثیہ خواں کے ادا کردہ الفاظ کو اسی لے، سُر اور انداز میں دہراتا ہے۔

خزاں کے موسم میں پھول مرجھا جاتے ہیں یعنی ان کی موت واقع ہو جاتی ہے اور بلبل ان کی موت پر مرثیہ خوانی کرتا ہے۔ گل کی موت واقع ہونے سے تمام مرغانِ چمن غم زدہ ہیں لیکن ان کا یہ غم فغانِ بلبل کے مقابلے میں کم درجہ کا ہے۔ جس طرح جوابی اصل مرثیہ خواں کے مقابلے میں کم درجے کا ہوتا ہے۔

اس شعر کے علامتی مفہوم پر نظر کیا جائے تو فصلِ خزاں زوال کی علامت ہے، گل قدیم آثار کی نمائندگی کرتا ہے اور بلبل وقت کی علامت ہے۔ مرغِ چمن سے ذہن اہلِ دنیا کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یعنی دنیا میں کسی شئے کو ثبات نہیں ہے۔ ہر شئے زوال پزیر ہے اور وقت اس زوال پزیری کو نہ صرف محسوس کراتا ہے بلکہ خود بھی زوال کا ماتم کرتا ہے اور اہل دنیا کو بھی اس ماتم میں شریک ہونے پر مجبور کرتا ہے۔

اٹھارویں صدی عیسوی کا دور سیاسی و سماجی اعتبار سے انتہائی تغیر کا دور تھا۔ ایک طرف اندرونی سازشیں دیمک کی مانند ملک کی جڑوں کو کمزور کر رہیں تھی تو دوسری طرف بیرونی حملوں نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی تھی۔  سر زمین ہند پر انسانی خون کی ندیاں بہنے لگیں۔ دلّی کے قتل عام نے انسان کے دل و دماغ پر اتنا شدید، گہرا اور دیر پا اثر چھوڑا کہ ایک زمانے تک یہ سانحہ لوگوں کو صدمے سے باہر نہ آنے دیا۔

ان حالات کا اثر معاشرے پر پڑنا لازمی تھا لہٰذا سماجی زندگی بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی اور اس سے سماج بہت حد تک متاثر ہوا۔ اُس وقت دلّی کے حالات کچھ ایسے ہو گئے تھے کہ ہر شخص زندگی کے ایک ایک پل کو آخری پل سمجھ کر اس سے پوری طرح لطف اندوز ہونے کی کوشش میں تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پورا معاشرہ رنگینیوں میں ڈوب کر بیتے ہوئے اور آنے والے کل کو بھولنے کی کوشش کرنے لگا۔ وہ صرف آج میں جینا چاہتے تھے۔ تمام کوششوں کے بعد بھی اس وقت کے شعرا و ادبا اپنے دل و دماغ پر جمے ہوئے حادثات کے گرد و غبار کو صاف کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ان غزلوں میں اس وقت کے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات ہمیں علامتی پیرائے میں ملتے ہیں۔

یہ حسرت رہ گئی کن کن مزوں سے زندگی کرتے

اگر ہوتا چمن اپنا گل اپنا باغباں اپنا

(مظہر)

خزاں تک تو رہنے دے صیاد ہم کو

کہاں یہ چمن پھر کہاں آشیانہ

(تاباں)

بلبلو کیا کروگے چہک کر

گلستاں تو اجڑ چکا کب کا

(تاباں)

مذکورہ بالا اشعار کا تجزیہ اگر اسی دور کے سماجی و سیاسی پس منظر کو سامنے رکھ کر کیا جائے تو ہر لفظ ایک علامتی پیرایہ اختیار کر لیتا ہے۔ جس طرح فیض کی شاعری میں گل و بلبل کو سیاسی علامت تسلیم کیا گیا ہے اسی طرح اس عہد کے شعرا کے یہاں مستعمل علامتی الفاظ کو بھی قبول کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اس عہد کے حالات بھی کم و بیش وہی تھے جو آزادی کے بعد ہند و پاک کے تھے۔ شاعر کسی وقوعے کے صرف لفظی پیکر دینے کا کام کرتا ہے۔ اس کے مفاہیم ہر قاری اپنے انداز سے اخذ کر سکتا ہے شرط یہ ہے کہ وہ اشعار میں مستعمل تلازمات کے لیے موزوں قرار پائے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر قاری کے ذہن میں کسی شعر کا ایک ہی مفہوم ہو۔ مفہوم اخذ کرنے میں قاری کے مزاج اور اس کے حالات کی مناسبت سے تبدیلی رونما ہوتی رہتی ہے۔ لہٰذا کلاسیکی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اردو شاعری کی علامتیں فارسی ادب سے مستعار ضرور ہیں لیکن ان کا استعمال و اطلاق ہندوستانی سماج پر ہی ہوا ہے۔

گل و بلبل کے بعد اردو شاعری میں شمع و پروانہ اور آئینے کو علامتی پیرائے میں پیش کیا جانے لگا۔ یہ علامتیں اپنی معنی خیزی اور معنی آفرینی کی بنا پر شاعری میں بہت زیادہ مقبول اور مستعمل رہی ہیں        ؎

تھا ذوق سراج آتش دیدار میں جلنا

صد شکر کہ پروانے کا مقصود بر آیا

پروانے کو مگر نہیں ہے خوفِ جاں سراج

ناحق چلا ہے شعلۂ دیدار کی طرف

(سراج)

مذکورہ بالا دونوں اشعار میں پروانہ بندے کی علامت ہے اور آتشِ دیدار و شعلۂ دیدار خدا کی علامت ہے۔ قربِ الٰہی (آتش دیدار میں جلنا) بندے کا مقصود ہوتا ہے اسی لیے وہ خود کو خدا کی ذات میں گُم کر دینا چاہتا ہے۔ آتشِ دیدار اور شعلۂ دیدار سے کائنات کے اسرار و رموز کی طرف بھی ذہن منتقل ہوتا ہے اور اس طرح پروانہ ان اسرار و رموز کی جستجو میں سرگرداں رہنے والے شخص کی علامت ہے۔ اسرار و رموز کی تلاش و تحقیق میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ انسان اسی جستجو میں اپنی ہستی بھی فراموش کر دیتا ہے      ؎

صافی دل کا اور عالم ہے

عکسِ آئینہ جس پہ زنگ ہوا

(آبرو)

صافی دل سے مراد یہ ہے دل بالکل صاف و شفاف ہے۔ اس پر کسی قسم کا کوئی داغ، دھبّہ یا نقش نہیں ہے۔ یعنی وہ اللہ کے علاوہ ہر شئے سے پاک ہے۔

عکس غیر مجسم اور مجرد شئے ہے۔ اس طرح شعر کا مفہوم یہ ہوا کہ دل کا آئینہ اتنا صاف ستھرا اور روشن ہے کہ غیر مجسم شئے یعنی آئینے پر بننے والا عکس بھی اس کے لیے زنگ کا کام کرتا ہے۔

لفظی مفہوم سے قطعِ نظر اس شعر کے دوسرے نکات بھی پیش کیے جاتے ہیں۔مادی آئینے کا عکس عارضی اور لمحاتی ہوتا ہے اور اس کا کوئی اپنا تاثر نہیں ہوتا۔ یہ عکس محض اسی وقت تک برقرار رہتا ہے جب تک کوئی شخص اس کے سامنے موجود ہوتا ہے۔ لیکن آئینۂ دل پر پڑنے والا عکس دیر پا اثر رکھتا ہے اور کبھی کبھی تو یہ انسان کی زندگی کے ساتھ ہی ختم ہوتا ہے۔

دل خارجی اور مادی اشیا کے تاثرات کا گہوارہ ہے یعنی دل کے آئینے پر اشیا کی غیر مرئی مگر زیادہ وقت تک رہنے والی اور تاثراتی نقش گری ہوتی ہے اور اس کے بر عکس مادی آئینے پر محض مرئی اور لمحاتی۔

یہاں عکس خود بینی کی علامت ہے۔ خود بینی ہمیں اپنی ذات میں محدود اور قید کر دیتی ہے اور اپنی ذات کے علاوہ سبھی سے ہمارے رشتے ٹوٹ اور ہم خارجی اشیا کے مشاہدے سے محروم ہو جاتے ہیں۔خارجی اشیا کے مشاہدے سے ہی ہم زندگی کی حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں کیونکہ بیرونی مظاہر سے ہی ہمیں زندگی کو سمجھنے کا شعور ملتا ہے۔

اس طرح اس شعر کا مفہوم یہ ہوا کہ اگر ہم میں خود بینی کا ذرا سا بھی خیال پیدا ہوا تو ہم اسرار کے مشاہدے سے محروم ہو جائیں گے۔ یعنی خود بینی (عکسِ آئینہ) ہمارے دل کے آئینے کو جو تمام تاثرات کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور تمام اسرار کو ہم پر عیاں کرتا ہے، اس طرح میلا کر دے گی کہ حقیقتاً جس عکس کو دیکھنے کے لیے آئینۂ دل بنا ہے اب وہی اس میں صحیح طور پر نظر نہ آ سکے گا۔ اس کا نتیجہ یہ بر آمد ہوگا کہ ہمارے ذریعے لیا گیا فیصلہ درست نہ ہوگا۔

اردو ادب کی اولین غزلوں کے علامتی نظام کا جائزہ لینے اور تجزیہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس طرح اردو ادب کے شعری نظام نے فارسی کی تمام اصناف سخن اور ان سے متعلق تمام موضوعات کو قبول کیا ہے اسی طرح فارسی شاعری میں مستعمل علائم بھی اردو غزل میں داخل ہو ئے ہیں۔ اردو غزل میں اس علامتی نظام کے منتقل ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ابتدائی اردو شعرا فارسی میں بھی شاعری کرتے تھے اس لیے انھیں ان علامتوں کو مختلف تلازموں کے ساتھ اردو غزل میں برتنے میں کسی خاص دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ فارسی شعرا کا اتباع کرتے ہوئے ابتدائی اردو شعرا ان علامتوں کے روایتی اور جدید تلازموں کے ایک ساتھ استعمال سے ایک وسیع مفہوم پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ابتدائی اردو غزل میں چوں کہ فارسی علامتیں اپنی موجودہ معنویت کے اعتبار سے ناکافی تھیں اس لیے نئی علامتوں کی تخلیق کے بجائے انھیں موجودہ علامتوں کی توسیع پر زیادہ زور دیا گیا۔ اخذ کی گئی علامتوں کے نئے نئے تلازمات اور مناسبات تلاش کیے گئے۔ ان تلازمات ومناسبات کی وجہ سے ایک طرف مستعار علامتوں کے معنوی امکانات کی توسیع ہوئی اور دوسری طرف شاعرانہ حدود میں بھی اضافہ ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلوبیاتی اور موضوعاتی یکسوئی کے باوجود اردو شاعری معنی و مفہوم کے اعتبار سے فارسی شاعری سے بہت کچھ مختلف ہے۔  

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول و معروف صنف ہے۔ مواد یا موضوع کو پیش کرنے میں جو اسلوب، انداز بیان اور طرز ادا اختیار کیا جاتا ہے اس کی بڑی اہمیت ہے۔ علامت کو غزل کے ہر دور میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اردو غزل میں علامت کا استعمال مختلف زمانے میں مختلف معنی و مفہوم کے لیے ہوتا رہا ہے۔ابتدا میں زیادہ تر علامتیں فارسی سے مستعار تھیں۔ ترقی پسند شعرا نے ان علائم کو غزل میں نئی معنویت کے ساتھ پیش کیا۔ غرض غزل میں علامتیں کبھی مذہب سے آئیں تو کبھی روایات و تہذیب کے بعض مظاہر علامتوں کی شکل اختیار کرتے ہیں۔

بیسویں صدی کی پہلی دہائی تک پرانی علامتیں کم و بیش قدیم معنی میں ہی استعمال ہوتی تھیں۔ اس کے بعد علامہ اقبال نے نہ صرف قدیم علامات کو نئی معنویت دی بلکہ نئی اور بلیغ علامات سے اردو غزل کو متعارف کرایا۔ جیسے شاہین، ابلیس، مرد مومن وغیرہ۔ شاہین کی علامت کو علامہ اقبال نے مرد مومن کی مکمل علامت بتایا ہے یعنی وہ ایک خاص اونچائی پر پرواز کرتا ہے اور گھر نہیں بناتا۔ علامہ اقبال کی اس علامت پر اگرچہ اعتراضات بھی بہت ہوئے جن میں سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ شاہین میں ہمدردی کا کوئی جذبہ نہیں ہوتا لہٰذا اسے مرد مومن کی علامت بتانا کسی بھی نظریے سے درست اور مناسب نہیں معلوم ہوتا۔ شاہین کے علاوہ اقبال نے شمع پروانہ، کہسار، گل و بلبل وغیرہ جیسی روایتی علامتوں کو بھی نئی معنویت بخشی۔

ملک کی آزادی کا مطالبہ بیسویں صدی کے اوائل سے جوش و خروش کے ساتھ ہونے لگا تھا۔ چوں کہ حکمراں طبقے کے ظلم و استحصال کا اظہار برائے راست خطرے کا باعث تھا۔ اس لیے یہ ماحول علامتوں کے استعمال کے لیے نہایت سازگار تھا۔ اس میں قفس، آشیاں، نشیمن، چمن، گلستان، صیاد، بلبل، صبا وغیرہ علامات نئی معنویت کے ساتھ غزل میں استعمال ہوئیں۔ 1947 کے بعد ان علامتوں کو نئی سماجی اور سیاسی معنویت بخشی گئی بالخصوص فیض احمد فیض نے علامتوں کے استعمال میں اپنی مہارت کا ثبوت دیا۔ فیض اور مخدوم محی الدین کے یہاں علامتوں کا استعمال زیادہ وسیع اور زیادہ عمیق ہے۔

انسانی زندگی کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی کیفیات نے غزل کے علامتی نظام کو ہر دور میں متاثر کیا ہے۔ جدید دور میں علی سردار جعفری، جاں نثار اختر، اختر الایمان، کیفی اعظمی، ناصر کاظمی، خلیل الرحمٰن اعظمی، منیر نیازی، زیب غوری، راجندر منچندا بانی، احمد مشتاق، ظفر اقبال، شہریار، عرفان صدیقی، افتخار عارف کے ساتھ ساتھ بشیر بدر نے بھی اپنی غزلوں میں علامتوں کا استعمال انتہائی خوبصورتی کے ساتھ کیا ہے جس سے ان کے انداز بیان میں مزید حسن اور کشش پیدا ہو گئی ہے۔ جو قاری کے ذہن کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔

کتابیات

         اردو غزل میں علامت نگاری:ڈاکٹر انیس اشفاق

         جدید غزل کی علامتیں: ڈاکٹر نجمہ رحمانی

         دیوانِ آبرو: مرتبہ ڈاکٹر محمد حسن

         دیوانِ تاباں:مرتبہ مولوی عبدالحق

         کلیات سراج : مرتبہ عبدالقادر سروری

         کلیاتِ ولی:مرتبہ نورالحسن ہاشمی

         نئی علامت نگاری: سید محمد عقیل

 Sajid Mumtaz

Ph.D, Research Scholar, Dept of Urdu

Maulana Azad National University

Hyderabad - 500032 (Telangana)

Mob.: 9616227262

 

 



پیر، 23 مئی، 2022

اردو زبان کی ترویج و اشاعت میں صوفیائے دکن کا حصہ - مضمون نگار : احمد

 



اردو بر ِ صغیر میں عام بول چال کی وہ زبان ہے جس کا قدیم ہند آریائی زبان سے بڑا گہرا رشتہ رہا ہے۔ ہندوستان میں رابطے اور بول چال کی زبان کے طور پر اس کی ترویج و اشاعت مسلمانوں کی آمد سے بھی پہلے کا واقعہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس دور میں ارباب اقتدار اور اہل علم و دانش نے اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ ہندوستان کے طول و عرض میں اس زبان کے ابتدائی نمونے متعدد علاقوں میںمختلف شکلوں میں شہہ پاروں کی صورت بکھرے نظر آتے ہیں۔ اردو زبان کی ایک اہم خاصیت رہی ہے کہ وہ جس علاقے میں گئی وہاں کے علاقائی اثرات کو قبول کرکے ایک نئی راویت کی بنیاد گزار بنی۔ اردو زبان کی اس کشادہ قلبی کا اثر یہ ہوا کہ ہر علاقے میں اس کا رنگ و آہنگ ایک دوسرے سے قدرے مختلف اور جداگانہ رہا۔ اس میں جذب و ادغام کا ایک لطیف رشتہ ہمیشہ موجود رہاجس نے قومی وحدت اور مذہبی ہم آہنگی کا راستہ ہموار کیا۔ اپنے مختلف رنگ و اسلوب اور لب و لہجے کی وجہ سے مختلف علاقوں میں اس کا نام بھی مختلف رہا۔ زبان کے نام میں اختلاف کی وجہ یہی ہے کہ علاقائی اثرات کو قبول کرنے کی وجہ سے اردو کا رنگ و روپ متعدد علاقوں میں جداگانہ رہا۔اردو زبان کو اس کے تاریخی پس منظر کی بنا پر مختلف ناموں مثلاًریختہ،  ہندوی،ہندوستانی،  اردو اور اردوئے معلی جیسے ناموں سے تعبیر کیا گیا۔

تاریخی حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ جس دور میں مسلمانوں کے سیاسی، سماجی اور معاشرتی اثرات ہندوستانی تہذیب و ثقافت سے ہم آہنگ ہورہے تھے اسی دور میں اردو زبان مقامی محاوروں اور کہاوتوں میں استعمال کی جارہی تھی۔ اردو زبان کی تاریخ کا مطالعہ اس بات کا شاہد ہے کہ ابتدا میں اشرافیہ کے بڑے طبقے نے اسے نا قابلِ اعتنا سمجھا کیونکہ ان کے درمیان فارسی جیسی متمول زبان رائج تھی۔یہ اشرافیہ طبقہ تھا جس کی زبان عربی اور فارسی تھی۔تیسرا گروہ ان انسان دوست صوفیا کا تھا جن کی آمد نے انسانیت اور اردو زبان کو بہت کچھ دیا۔صوفیا نے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی اور اردو نے ذہنوں میں۔ انھوں نے اردو کو بڑے پیمانے پر اپنایااور عوام میں اپنی تعلیمات کو پہونچانے کا ذریعہ بنایا۔ وہ اردو کو اپنے خیالات کی تبلیغ و اشاعت کا ایک بہترین ذریعہ اور وسیلہ سمجھتے تھے۔ اس کی ظاہر وجہ یہ ہے کہ یہ زبان عوام میں بولی اور سمجھی جاتی رہی ہوگی۔ لہٰذا اس کے توسط سے عوام سے مکالمہ کرنا آسان تھا۔ تبلیغ و ارشاد کے بامعنی اور مفید مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کسی نئی یا اجنبی زبان کو اپنانا کار لاحاصل تھا۔ اس بات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہندوستان میں اردو زبان کی بنیاد بہت قدیم ہے اور اس کے تشکیلی دور میں صوفیا کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ یہ اور بات ہے کہ صوفیا کے کلام اور ان کے ملفوظات سے ادبی تخلیقیت اور لفظوں کے خلاقانہ استعمال کی کوئی زندہ اور توانا روایت نہیں ملتی لیکن ایک زبان کی حیثیت سے اردوکی ترویج و اشاعت  میں ان کا کردار مثالی ہے۔ صوفیا کی ابتدائی کوششیں نہ ہوتیں تو شاید اردو زبان وادب اور  اسلوب و آہنگ کی زندہ اور توانا روایتیں بھی نہ ہوتیں۔

اردو زبان کے تشکیلی دور میں صوفیا کی تحریری سرگرمیوں، ملفوظات اور تواریخ میں محفوظ ان کے اقوال کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتاہے۔بلاشبہ زبان کی تعمیر و ترقی، ترویج و اشاعت صوفیا کا مطمحِ نظر نہیںتھا بلکہ عوامی زبان کی طرف ان کا میلان تبلیغی اور اصلاحی مقاصد کے پیش نظرتھا۔ صوفیا کے ارادت مندوں میں عوام اور خواص دونوںہی ہوتے ہیں۔ یہ صوفیا سے تعلق کا نتیجہ ہی تھا کہ اردو زبان کے بعض محاورے اور روزمرہ کی کہاوتیں ان مصنفین کی کتابوں میں بھی جگہ پا جاتی ہیں جو اپنی نگارشات فارسی میں رقم کیا کرتے تھے۔1مثال کے طور پر ابوالفرج، خواجہ مسعود سعد سلمان، منہاج سراج، ضیائ الدین برنی، شمس سراج عفیف اور امیر خسرو وغیرہ کی فارسی تصانیف میں بہت سے اردو یا ہندوی الفاظ کابے تکلف استعمال ہواہے۔

اردو زبان کی تشکیل کے تعلق سے سب سے پہلا نام مسعود سعد سلمان لاہوری (1046-1121) کا لیا جاتا ہے۔ انھیں ہندوی کا پہلا شاعر مانا جاتا ہے۔2

امیر خسرو کے مطابق ان کا ایک ہندوی دیوان بھی تھا جو آج مفقود ہے۔ امیر خسرو فارسی کے شاعر تھے لیکن ’دیباچۂ غرۃ الکمال‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے تفریح طبع کے طور پر ہندوی زبان میں بھی کچھ شاعری ضرور کی ہے۔ 3

امیر خسرو سے بہت سی معروف پہیلیاں اور کہہ مکرنیاں منسوب ہیں جن میں سے اکثر کی استنادی حیثیت مشکوک ہے۔ امیر خسرو کے علاوہ حضرت نظام الدین اولیا کے ایک اور مرید امیر حسن کی ایک غزل اور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، شیخ فریدالدین مسعود گنج شکر، شیخ حمید الدین ناگوری، خواجہ نظام الدین اولیا، شیخ شرف الدین بو علی قلندر پانی پتی، شیخ شرف الدین یحییٰ منیری وغیرہ کے ارشادات و ملفوظات اور بیاضوں میں بھی اس زبان کے ابتدائی نقوش اور تشکیلی عناصر دیکھے جاسکتے ہیں۔

یہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے کہ جنوبی ہندوستان ایک طویل مدت تک شمالی ہند سے الگ تھلگ رہا ہے۔ جنوبی ہند میں عرب تاجر اور مبلغ کی حیثیت سے اور ترک فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے۔جو اپنی زبان اور روایات بھی ساتھ لائے۔شمالی اور جنوبی ہندوستان کے سیاسی، سماجی اور معاشرتی روابط کا آغاز جنوبی ہندمیں علائ الدین خلجی اور اس کے سپہ سالار ملک کافور کے حملوں سے شروع ہواجو محمد بن تغلق اور اورنگ زیب کے عہد تک جاری رہا۔ان کے حملوں اور فتوحات کے سبب بڑے پیمانے پر آمد و رفت کے علاوہ تہذیبی لین دین کی راہیں استوار ہوئیں۔ محمد تغلق کی وفات کے بعد جب تغلق سلطنت کمزور ہوگئی تو دکن میں بہمنی سلاطین کو عروج حاصل ہوا اور امیر تیمور کے حملے کے بعد گجرات بھی آزاد ہوگیا اور نتیجتاً مظفر شاہ نے وہاں اپنی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ دکن کی ان دونوں ریاستوں کی تاریخ کے تحقیقی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دکن کے سلاطین کے عہد میں اردوزبان و ادب کو فروغ حاصل ہوا تھا۔اس عہد کی ادبی اور تخلیقی سرگرمی میں جن شعرا کا ذکر کیا گیا ہے ان میں فخرالدین نظامی بیدری کے علاوہ سبھی صوفی ہیں اور ان صوفیاکی تحریری کاوشیں مذہبی نوعیت کی ہیں۔ جن میں شیخ بہاالدین باجن (1388-1506) کی تصنیف ’خزائن رحمت اللہ‘ فارسی نثر میں ہے۔ اس کتاب کے ’خزینۂ ہفتم‘ میں شیخ باجن کا صوفیانہ کلام بھی شامل ہے۔ 4

قاضی محمود دریائی (1469-1534)کا کلام بھی صوفیانہ رنگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ شاہ علی محمد جیوگام دھنی (م 1565) شاہ ابراہیم کے بیٹے تھے۔ جیوگام دھنی کے مجموعے کا نام ’جواہر اسرار اللہ‘ ہے۔ شیخ خوب محمد چشتی (م 1614) اسی زمانے کے نامور صوفی شاعر اور گجرات کے صوفیائے کبار میں سے ہیں۔ فارسی زبان اور انشا پر انھیں مہارت حاصل تھی۔ ان کی اردو مثنوی ’خوب ترنگ (1578)‘ بڑی شہرت کی حامل ہے۔ شیخ خوب محمد چشتی کی تصنیف ’امواج خوبی‘ جو کہ فارسی نثر میں ہے دراصل اسی مثنوی کی شرح ہے۔ خوب محمد چشتی کا ایک منظوم رسالہ ’چھند چھنداں‘ بھی خاصا مشہور ہے۔ اس رسالے میں فارسی عروض کو ہندوی عروض کے توسط سے سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ شاہ باجن، قاضی محمود دریائی، شاہ علی جیوگام دھنی اور خوب محمد چشتی نویں اور دسویں صدی ہجری کے صوفی شعرا میں شمار کیے جاتے ہیں۔ 5

دسویں صدی ہجری کے اواخر اور گیارھویں، بارھویں صدی ہجری میں شیخ احمد گجراتی، سید محمد مہدی، میاں مصطفی، عالم گجراتی، محمد فتح بلخی وغیرہ قابل ذکر شعرا ہیں۔ یہ تمام شعرا گجرات سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی ادبی روایت ’گجری روایت‘ کہلاتی ہے۔

حضرت خواجہ گیسو دراز بندہ نواز کی دکن تشریف آوری سے دکن میں دکنی اردو کی تحریری تخم ریزی ہوئی۔ آپ کے خلیفہ میراںجی شمس العشاق (م1496) کو اردو لکھنے والوں میں اولیت حاصل ہے۔ ان کا تعلق خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کے سلسلے سے تھا۔ آپ شاہ کمال الدین بیابانی کے خلیفہ تھے۔6خوش نامہ، خوش نغز، شہادت التحقیق اور مغز مرغوب ان کی نظمیں ہیں۔ ’شہادت التحقیق‘ میراںجی کی ایک طویل نظم ہے جس میں انھوں عام لوگوں کی تفہیم کے لیے معرفت اور شریعت و طریقت کے مسائل قرآن و حدیث کی روشنی میں آسان اور سادہ زبان میں بیان کیے ہیں۔ سید اشرف بیابانی (1459-1528) کی تین تصانیف دستیاب ہیں: ’لازم المبتدی‘، ’واحد باری‘ اور ’نوسرہار‘ میں اردو زبان کے ابتدائی نقوش نمایاں طور پر نظر آتے  ہیں۔

شاہ برہان الدین جانم، میراں جی شمس العشاق کے فرزند ارجمند اور خلیفہ تھے۔7 ان کا مفصل حال نامعلوم ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان کا انتقال 1582  کے بعد ہوا۔ شاہ برہان الدین جانم اپنے وقت کے بڑے عارف باللہ اور برگزیدہ بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ’کلمۃ الحقائق‘ اور ’رسالۂ وجودیہ‘ ان کی نثری کتابیں ہیں۔ ان کا منظوم کلام ’وصیت الہادی‘، ’بشارت الذکر‘، ’فرمان از دیوان‘، ’حجۃ البقا‘، ’ارشاد نامہ‘، ’منفعت الایمان‘، ’نکتۂ واحد‘ اور ’سکھ سہیلا‘ کی شکل میں ملتا ہے۔ ان کی نظم وصیت الہادی ایک مربوط و مسلسل نظم ہے جس کے اوزان ہندوی ہیں لیکن عربی فارسی کے الفاظ کی تعداد دور ماقبل کی بہ نسبت زیادہ نظر آتی ہے جو کہ عربی فارسی کی وہ اصطلاحات ہیں جو تصوف میں رائج ہیں۔

جانم کی نثری تصنیف ’کلمۃ الحقائق‘ میں شریعت و طریقت کے مسائل بیان کیے گئے ہیں۔ اس کتاب میں ہندوی اور فارسی طرز احساس میں جو کشمکش چل رہی تھی وہ بہت نمایاں ہے۔ ان کی نثر کا نمونہ ملاحظہ کیجیے:

’’توں بندہ خدا تھے تو فعل تیرے وہ بھی خدا تھے جسے تیری طاقت میں آوتا و کار کمال قدرت غالب آتی خدا ست و نہ بینی کہ در کار دنیا نفسانی جہد کوشش تدبیر قوی دیکھلاتا و در کا خدائی یعنی کاہلی می کند انصاف نہ شوی در خور۔‘‘   8

شہباز حسینی قادری بیجاپوری (م 1606) ہدایت اللہ حسینی کے پوتے اور خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کی اولاد سے تھے۔9 ان کا کلام بہت کمیاب ہے جس کی وجہ سے ان کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنا مشکل امر ہے۔ البتہ دستیاب کلام سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا موضوع بھی تصوف ہے اور کلام میں عربی اور فارسی الفاظ کا تناسب بھی بڑھ گیا ہے۔

اس دور کے صوفی شعرا میں شیخ برہان الدین جانم کے دو مرید شیخ داول اور شیخ محمود خوش دہاں کے علاوہ ان کے پوتے شاہ امین الدین عالی بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان صوفیا کے کلام کی اہمیت یہ  ہے کہ اس سے صوفی طرز تحریر میں زبان کے ارتقائی مراحل کا علم ہوتا ہے۔ شمس العشاق میراں جی کا اسلوب گجری و ہندوی روایت سے عبارت ہے۔ برہان الدین جانم بھی بنیادی طور پر اسی روایت کے پیرو ہیں لیکن ان کے کلام میں فارسیت کی چمک اجاگر ہے۔ جانم کا یہی اسلوب شیخ داول، شیخ محمودالحق خوش دہاں اور امین الدین عالی کے یہاں اور بھی صاف و شستہ ہوگیا ہے۔

شیخ غلام محمد داول (م1657) نے اپنے متصوفانہ خیالات کے اظہار کے لیے اردو زبان کو وسیلہ بنایا۔ ان کا پیشہ کتابت تھا۔ ان کی چار نظمیں چہار شہادت، کشف الانوار، کشف الوجود اور’ ناری نامہ‘ ہیں۔ شیخ داول نے ’خیال‘ میں بھی طبع آزمائی کی ہے اور ان کے کئی ’خیال‘ دستیاب ہیں۔ شیخ داول نے عموماً برہان الدین جانم کے خیالات کی تشریح سے سروکار رکھا ہے۔ ان کا اظہار بیان کسی حد تک جدید اسلوب سے قریب ہے۔

شیخ محمود الحق خوش دہاں، شاہ ابوالحسن قادری کے بھانجے اور شاہ بدرالدین حبیب اللہ کے نواسے تھے۔ 10 بیجا پور میں پیدا ہوئے اور بیدر میں نانا کے یہاں پرورش و پرداخت ہوئی۔ بیجاپور آکے برہان الدین جانم کے مرید ہوگئے اور ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے امین الدین عالی کے اتالیق بھی ہوئے۔ان کا ایک اردو رسالہ دستیاب ہے جس کے مرتب حمید الدین شاہد ہیں اور انھوںنے اس رسالے کو ’رسالۂ محمود خوش دہاں بیجاپوری‘ کا نام دیا ہے۔ ان کی اردو نثر خاصی نکھری ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ اس کے چند جملے بطور نمونہ درج کردیے جائیں تو مضائقہ نہ ہوگا:

’’اول ذکر جلی اللہ کا نائوں ظاہر کے اعضا سوں، ذکر قلبی باطن کی زبان سوں ہمیشہ، بعد ازاں ذکر روحی مشاہدہ اس طریق سوں۔ اول مرشد کی صورت دل میں مقابلہ پکڑنا، اس صورت کوں دیکھنا۔ سو روح کا نظر ہے۔ اس دل میں یوں بولنا کہ صورت کوں دیکھتا سو کون۔ کیا نظر پاک ہے۔ عجیب لطیف بعد ازاں اس صورت پر تے نظر ثابت کرنا۔ علاحدہ نظر معلق رکھنا۔‘‘   11

شاہ امین الدین عالی (1582-1675)، برہان الدین جانم کے بیٹے ]۱۲[اور شیخ خوش دہاں کے شاگرد تھے۔ شاہ امین الدین عالی کی کئی تصانیف ہیں جن میں ’محب نامہ‘، ’رموز السالکین‘، ’کلام اعلیٰ‘ نظم میں اور ’گفتار حضرت امین‘، ’وجودیہ‘ اور ’کلمۃ الاسرار‘ نثری تصانیف ہیں۔ امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ زبان و بیان میں جو تبدیلیاں رونما ہوئیں شاہ امین الدین عالی کا کلام ان تغیرات کا مظہر ہے۔ ان کی زبان ہمارے لیے قدرے مانوس ہے۔ یہی انداز اور اسلوب ان کے گیتوں اور دوہروں میں بھی ہے۔

 امین الدین عالی کی تصنیف ’وجودیہ‘ میں نثر کی ترتیب، تنظیم، ربط، جملوں کی ساخت اور بیان کا تسلسل خوش دہاں کی نثر سے زیادہ نمایاں ہے۔ ان کی نثر میں فاعل، مفعول اور فعل کی نشست ماضی کی نثر کے بالمقابل زیادہ باقاعدہ ہے۔ مثال کے طور پر ’وجودیہ‘ کا درج ذیل اقتباس ملاحظہ کیجیے:

’’علوی کے مرتبے چار ہیں۔ سفلی کے مرتبے چار ہیں۔ اول مرتبہ علوی۔ مرتبۂ چہارم سفلی۔ مرتبۂ اول مقام شہود۔ مرتبۂ دوم مقام محبت۔ مرتبۂ سیوم مقام حال۔ مرتبۂ چہارم سفلی۔ مرتبۂ اول تنگی لذت۔ دویم شہوت۔ سیوم خطرات نیک بتعلق دل۔ چہارم ممتنع دیگر عروج و نزول آدمیاں کا۔‘‘    13

گفتار شاہ امین الدین اعلیٰ‘ اور ’کلمۃ الاسرار‘ بھی ان کی نثری تصانیف ہیں۔’کلمۃ الاسرار‘ بہ طریق سوال و جواب لکھی گئی ہے۔

قطب شاہی دور میں اردو ادب شروع  سے ہی غیر مذہبی میلان کا حامل رہا ہے۔ اس کے باوجود دو صوفی بزرگ ایسے ہیں جن کی نثری تصانیف کو نظر اندازنہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ذکر کے بغیر  دکن میں اردو ادب اور صوفیائے کرام کی خدمات کا جائزہ نامکمل کہلائے گا۔ اس عہد میں میراں جی حسین خدا نما کی نثری تصانیف ’چہار وجود‘، ’شرح تمہیدات ہمدانی‘ اور ’قربیہ‘کے علاوہ میراں یعقوب کی تصنیف ’شمائل الاتقیا‘  بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔

میراں جی حسین خدا نما (1595-1663)عبداللہ قطب شاہ کی سرکار میں پیشے سے سواروں کے جمعدار تھے۔ وہ بیجا پور کے دربار میں قطب شاہی سلطنت کے سفیر بھی رہے۔انھوں نے اپنی تعلیمات کی تبلیغ و اشاعت کے لیے تین کتابیں تالیف کیں۔وہ اپنی تصنیف’چہار وجود‘ میں سوال و جواب کی صورت میں متصوفانہ مضامین کی تشریح پیش کرتے ہیں۔ ’تمہیدات ہمدانی‘ عربی کی مشہور تصنیف ہے جسے ابوالفضائل عبداللہ بن محمد عین القضاۃ ہمدانی (م 1138) نے تحریر کیا تھا۔ 14خواجہ بندہ نواز گیسو دراز (م1421) نے فارسی میں اس کتاب کی شرح لکھی۔ میراں جی حسین خدا نما نے گیسو دراز کی اسی فارسی شرح کو ’شرح تمہیدات ہمدانی‘ کے نام سے بہ زبان دکنی تحریر کیا۔ اس دور میں میراں جی حسین خدا نما کے شاگرد میراں یعقوب کی تصنیف ’شمائل الاتقیا‘ کا ذکر بھی ناگزیر ہے۔ میراں یعقوب کی نثر میں سادگی اور پُرکاری دونوں کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نثر تبلیغی مقاصد کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ ادبیت کے تقاضوں کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ نمونے کے طور پر درج ذیل اقتباس ملاحظہ کیجیے:

’’جھوٹ کیوں ہے۔ جوں چودویں رات کا چاند۔ جوں جوں دن جاتے تیوں تیوں کم ہوتا۔ ہور سچ جوں پہلا چاند ہے۔ روز روز روشن ہوتا ہے۔‘‘   15

اوپر پیش کیے گئے اقتباس میں تبلیغ کا دلنشین انداز اور نثر کا ادبی حسن اپنی طرف توجہ مبذول کراتا ہے۔ صاحب کتاب نے متصوفانہ اور شرعی اصطلاحات کو بھی اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ مثال کے طور پر وحدت کا ترجمہ ’ایک پنا‘، دوئی کا ’دو پنا‘، کثرت کے لیے ’بہوت پنا‘، آدمیت کے لیے ’آدمی پنا‘، خودی کے لیے ’میں پنا‘ وغیرہ۔ اس مضمون میں میرے پیش نظر حضرات صوفیا کی تالیفات اور اردو کی تشکیل میں ان کے کردار کا جائزہ لینا ہے اس لیے میں نے ان مذہبی تصنیفات سے صرف نظر کیا ہے جن مصنّفین کا تعلق جماعت صوفیا سے نہیں ہے۔ ورنہ قطب شاہی سلطنت میں دیگر مذہبی تصانیف بھی لکھی گئیں جن کے مصنّفین کا شمار صوفیا میں نہیں ہوتاہے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ اردو زبان کی ابتدائی تشکیل او ر ترسیل میں صوفیا ئے دکن کی تحریری و تقریری سرگرمیاں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ دکن کے صوفیا نے اردو زبان کی ترویج و اشاعت میں جو گراں قدر کارنامہ انجام دیا ہے وہ ناقابلِ فراموش ہے۔بہتر سماج کی تشکیل میں صوفیا کے روحانی کردار کے ساتھ ان کی لسانی خدمات کو بھی منظر عام پر لانا چاہیے۔ بلاشبہ ان کے ارشادات و ملفوظات کا لسانی مطالعہ اس پُر آشوب دور میں لسانی کدورتوں کو مٹانے میں معاون ثابت ہوگا۔

حواشی:

.1         مقالات حافظ محمود شیرانی (جلد اول)، شیرانی، مظہر محمود، مجلس ترقی ادب: لاہور، طبع دوم، 1966، ص: 62 تا 73

.2         تاریخ ادب اردو (جلد اول)، جالبی، جمیل، ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس: دہلی، طبع پنجم، 1993، ص23

.3         دیباچۂ غرۃ الکمال، امیر خسرو، مترجم: لطیف اللہ، گلشن اقبال، کراچی، سنہ ندارد، ص133

.4         تاریخ ادب اردو (جلد اول)، ص106

.5         ایضاً، ص: ملخص 107 تا 129

.6         اردو کی ابتدائی نشو ونما میں صوفیائے کرام کا کام، عبدالحق، مولوی، انجمن ترقی اردو ہند: اردو گھر، نئی دہلی، 1988، ص34

.7         ایضاً، ص45

.8         تاریخ ادب اردو (جلد اول)، ص211

.9         ایضاً، ص227

.10       ایضاً، ص305

.11       ایضاً، ص307

.12       اردو کی ابتدائی نشو ونما میں صوفیائے کرام کا کام، ص50

.13       تاریخ ادب اردو (جلد اول)، ص315

.14       ایضاً، ص498

.15       ایضاً، ص502

 

Dr. Ahmad

Lecturer History, MANUU, Gachibowli

Hyderabad-500032 (Telangana)

Mob.: 9811715196, 8851013094

Email.: ahmadkhanlaisi@gmail.com