جمعہ، 30 ستمبر، 2022

مراٹھی زبان پر اردو کے اثرات: ہاجرہ بانو




داستان چاہے کوئی بھی ہو/ حروف اور الفاظ نہایت آسانی سے صدیوں کی کہانی بیان کرتے چلے جاتے ہیں جن کے نشیب و فراز میں انسان گردش کرتا ہوا زبان کو قوت بخشتا چلا جاتا ہے۔ جب دو زبانوں کے حروف و الفاظ ایک دوسرے میں شامل ہوتے ہیں تو اس عمل سے مثبت اور منفی پہلو بھی ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ کسی کو اپنی زبان کے خزانے میں اضافہ نظر آتا ہے تو کسی کو اپنی زبان گم ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ یہ حروف بھی اڑتی تتلیوں کی مانند ہیں کبھی اس پھول پر بیٹھے تو کبھی اس ڈال پر بیٹھے۔ شاید اسی موقعے کے لیے کہا گیا کہ       ؎

حرف رسوا ہوئے صدا بن کر

آبرو رہ گئی اشاروں کی

آج ہم ریاست مہاراشٹر کی مراٹھی زبان پر اردو کے اثرات دیکھیں گے لیکن اس سے پہلے ذرا مہاراشٹر کی ایک جھلک چند سطروں میں دیکھتے ہیں جو کہ مضمون کی نوعیت کے اعتبار سے ضروری ہے۔

طبعی ساخت کے اعتبار سے خوبصورت ریاست مہاراشٹر ساحلی، پہاڑی اور سطح مرتفعائی، تین حصوں میں تقسیم کیاگیا ہے جس کا زیادہ تر زمینی حصہ آتشی چٹان یعنی بسالٹ سے بنا ہوا ہے۔ کھڑکھڑاتی ہوئی بہتی ندیوں میں گوداوری، تاپتی، نربدا، بھیما اور کرشنا کا شمار ہوتا ہے۔ مغربی حصے میں وسیع بحر عرب جلوہ افروز ہے۔علاقوں کے اعتبار سے گرم اور معتدل آب و ہوا ہر طرف چھائی رہتی ہے۔ جن پر غیر مساوی  بار ش کی تقسیم جاری رہتی ہے۔ یہاں کاشتکاری ایک اہم پیشہ مانا جاتا ہے۔ دیہاتی و شہری زندگی کی جھلک بیک وقت نظر آتی ہے۔ کچے پکے، ڈھلوان، چھت والے، سیمنٹ کانکریٹ کے گھر انسانی زندگی کی بنیادی ضروریات کو پوری کرتے ہیں۔ لباس میں دھوتی، صدری، پگڑی ، ساڑی اور کرتا زیب تن کرتے ہیں۔ دیہاتوں میں موتی، منکے، کوڑی سیپیوں اور مختلف دھاتوں کے زیورات استعمال کیے جاتے ہیں اور شہروں میں سونا، چاندی اور نگینوں کا استعمال ہوتا ہے۔ جوار، باجرہ، چاول، ناچنی، ورتی، گیہوں، اڑد، مونگ، ارہر، لہسن، مرچ، پیاز اور سبزی ترکایوں کا استعمال اپنی غذا میں کرتے ہیں۔ سمندری دولت، معدنی دولت، جنگلاتی دولت، سیاحتی دولت، صنعتی دولت اور فلمی دولت  سے مالامال مہاراشٹر پورے بھارت میں اپنی مثال آپ ہے۔

مہاراشٹر بنیادی طور پر کئی آدی واسیوں کے کلچر پر مبنی ریاست ہے ،جس میں بنجارا،گونڈ، بھیل، کوکنا، لمان، پاردھی کیکاڑی، دھنگر، کورکو، وارلی، ٹھاکر، مہادیو کولی،  کولام، آندھ وغیرہ شامل ہیں۔ اس تناظر میں دیکھیں تو گورماٹی، مالونی، اہیرانی، مراٹھی اور کوکنی یہاں کی اصل زبانیں ہیں۔ چھٹی صدی عیسوی کے بعد ہندوستان مختلف علاقائی ریاستوں میں تقسیم تھا۔ محمود غزنوی کی آمد سے کئی سیاسی و سماجی تبدیلیاں ہوئیں جو تقریباً پونے دو سال تک قائم رہیں۔ اس کے بعد محمد غوری اور قطب الدین ایبک نے اپنی حکومتوں کی بنیاد ڈالی تو ہندوستانی ریاستوں نے پھر نئی کروٹ لی۔ اسی درمیان وسط ایشیا سے چنگیز خان کے خوف سے ایرانی بڑی تعداد میں ہندوستان آئے۔ 1316 میں علاء الدین خلجی نے جب دکن فتح کیا تو ایک نئے دور کی شروعات ہوئی جو اورنگ زیب اور انگریزوں و مراٹھوں تک جاری رہی۔ یہ مختصر ترین تاریخی ادوار کا خاکہ ہند آریائی زبانوں کی تشکیل عمل میں لاتا ہے۔ ان متعدد صدیوں میں تہذیبی اختلاط کی کئی مختلف نوعیتیں رہیں۔  زبان و مکان میں اشتراک کی جڑیں بہت گہرائی سے پیوست ہوئیں، جس کا اثر مہاراشٹر دکن کی سماجی زندگی کے ہر شعبے میں نظر آتا ہے۔ یوروپ اور ہندوستان کے تین بڑے خاندانوں کی زبانیں ہند جرمانی، سامی، تورانی میں سے تیسرے خاندان کی تورانی کا سلسلہ دریائے گنگا کے جنوبی حصے کے ذریعے ریاست مہاراشٹر کے شہرناگپور تک پہنچتا ہے۔ جہاں متمدن کول، گونڈ اور دوسرے تورانی قبائل بسے  ہوئے ہیں۔ اس علاقے میں تورانی خاندان کی وہ نو زبانیں بولی جاتی ہیں جو اس لسانی خاندان کے چوتھے ضمنی خاندان کول اور دراوڑی خاندان پر مشتمل ہیں جو مہاراشٹر اور ہندوستان کے مغربی حصے میں ہندی سے اور دکن میں مراٹھی آمیز تیلگو سے قربت رکھتے ہیں۔ ان زبانوں میں سے ایک گونڈ زبان ہے جو ناگپور کے قریب آکر مراٹھی میں ضم ہوجاتی ہے۔ مراٹھی اپنی وسعت اور اہمیت کے لحاظ سے ہندوستانی زبانوں میں صرف ہندی زبان کے بعد رکھی جاسکتی ہے۔ ناگپورسے شمال کی طرف چل کر اندور جاپہنچتی ہے او رپھر جنوب کی طرف مختلف غیرمتعین سمتوں سے ہوکر سورت تک جاکر سمندر سے جاملتی ہے۔ یہیں خاندیش کی پہاڑیوں میں بھیل قبیلے کے لوگ ملتے ہیں جو کول ہی کی ایک بولی بولتے ہیں۔ مراٹھی زبان کا دکنی خط ناگپو رسے ہوتا ہوا بیجاپور پہنچ جاتا ہے پھر یہ زبان بلدام او ردھارواڑ سے ہوتی ہوئی کنڑی زبان میں شامل ہوجاتی ہے۔

چودہویں صدی میںا یران سے کئی صوفیائے کرام نے دکن میں اپنی ادبی خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی تصنیف اور تصوف کے اثرات زبان اور روایتی کلچر میں صاف نظر آتے ہیں۔ محمد بن تغلق کے دور میں امیرنجم الدین حسن دکن تشریف لائے تھے۔ جو اعلیٰ مرتبہ شاعر اور تصوف میں ڈوبی ہوئی مقدس شخصیت کے مالک تھے۔ صحیح معنوں میں ان کی آمد سے فارسی ادب کا آغاز دکن میں ہوا۔ ایرانی خیالات اور روایات، زبان کے ساتھ ساتھ دکن کو بھی اپنی گرفت میں لیتے چلے گئے۔ امیر نجم الدین حسن کو مہاراشٹرکی زمین اتنی پسند آئی کہ وہ دوبارہ ایران نہیں گئے۔ آج بھی ان کا روضۂ مبارک خلدآباد  مہاراشٹر میں موجود ہے۔

پندرہویں صدی میں دکن میں زبان کا ایک سنہرا دور رہا ہے جس کا تاج فارسی اور اردو دونوں عظیم زبانوں کے سر رہاہے۔ دکن میں یہ دور فارسی ادب اور ثقافت کا عروج کا تھا۔ ایرانی تاجر خواجہ محمد گیلانی بہمنی سلطنت میں اپنی دانشوری کے باعث وزیر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ گیلانی کی ہمہ جہت شخصیت میں بہترین مصنف، اعلیٰ پایہ کا شاعر دوررس سائنسداں اور ماہر ریاضیات پوشیدہ تھے۔ اس لیے جب انھو ںنے سلطان کی اجازت سے بمقام بیدر ایک انڈوپرشین طرز کا جامعہ قائم کیا تو اس کے علم و فراست کی روشنی دور دور تک پھیل گئی۔ اس وقت سرکاری زبان کا درجہ فارسی کو حاصل تھا اور آج بھی بشمول ممبئی ان علاقو ںپر فارسی کے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں۔ عہد بندہ نواز سے عہد محمود گیلانی تک اور پھر عہد قلی قطب شاہ اور عہد ولی دکنی ان سب ادوار میں دکنی زبان کو خوب فروغ حاصل ہوا۔جس میں فارسی زبان کی روح علاقائی زبانوں کے جسموں کے ساتھ شامل ہے۔ یہ دور فن کا دلدادہ رہا۔ اگر حکمراں فن کی سرپرستی کرے تو فن آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگتا ہے اور یہی وہ سنہری دور تھا جب ہر طرف فن، تصوف اور زبان کا بول بالا تھا۔ ان ہی ادوار میں تخلیق شدہ ادب ساری زبانی خوبیوں کامرقع ہیں۔  رنگینی، سادگی، روانی، نشاطی، معنی آفرینی، تشبیہی اور استعاراتی جواہرات سے مزین ہیںاور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ یہ سارے جواہرات ایران و عربستان سے آئے اور دکنی زبان کے تاج میں جڑگئے۔ ان ادوار کے صوفی شعرا کا کلام ہو یا خواجہ بندہ نواز گیسو دراز یا پھر حکمراں قلی قطب شاہ ہوں یا پھر ولی دکنی ان سب کی تصانیف اس بات کا منھ بولتا ثبوت ہیں۔ کرناٹک، تلنگانہ، آندھراپردیش، کیرالہ اور مہاراشٹر کی مقامی زبانوں کے الفاظ اور لسانی قواعد کے  اشتراک سے دکنی زبان نے ایک نیا رنگ پایا لیکن ان کی بنیاد عربی اور فارسی ہی رہی کیونکہ فارسی زبان کو ایک سیکولر ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ تمام مذاہب کے لوگوں نے اسے پوری طاقت و قوت اور ہم آہنگی سے اپنایا۔ بعد میں سیاسی حالات کے پیش نظر مہاراشٹر کو الگ ریاست قرار دیا گیا اور فارسی کی مہک کے ساتھ ارد وکے 40%  سے زیادہ الفاظ مقامی زبان مراٹھی میں شامل ہوگئے۔ جو آج بھی پوری تابناکی کے ساتھ مروج ہیں۔ الفاظ کی دنیا تو انسانی دنیا سے مماثلت رکھتی ہے جس میں حسن، محبت، توانائی، رعنائی، ہم آہنگی، نزاکت، استحکام، پائیداری، کمزوری، شرافت اور منافقت بھی پائی جاتی ہے۔  الفاظ تو اشیا، کیفیات اور حالات کے ترجمان ہوتے ہیں۔ جب انسان روزمرہ کی زندگی میں ان الفاظ کے ربط میںا ٓتا ہے تویہ ترجمانی ایک خوبصورت معانی کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے۔ علمی زبان میں انھیں معانی کی علامتیں کہتے ہیں۔ ان ہی علامتوں کے ذریعے انسان سماج میں ایک دوسرے سے کاروباری اور جذباتی اظہارکرتا ہے۔ الفاظ کی تاریخ ہی علاقے میں اپنے سماجی ماحول کی مطیع رہی ہے۔ الفاظ ایک لامتناہی زندگی کا نام ہے اور جہاں زندگی ہے وہاں موت بھی ہے۔ ماحول میں الفاظ جنم  لے کر پھلتے پھولتے ہیں اور پھر اسی طرح حالات اور کیفیات کے تحت نشیب و فراز کا شکار ہوکر اپنی زندگی کی افق پر معدوم بھی ہوجاتے ہیں۔ یہ الفاظ ہی ہوتے ہیں جو عبارتوں میں جان ڈالتے ہیں اور بسااوقات عبارت کی جان نکال بھی لیتے ہیں۔ کبھی یہی الفاظ کئی جذبات و خیالات کو تصویری روپ دیتے ہیں، اسی پلڑے میں الفاظ کی گرانی و ارزانی ماپی جاتی ہے، جس کی کسوٹی انسان کے جذبات اور خیالات پر منحصر ہوتی ہے جو آگے چل کر الفاظ کی کئی سمتیں مقرر کرتی ہے، بعض الفاظ جذبات کی آئینہ داری کرتے ہیں ان میں انسان کی دلی کیفیت کا عکس ہوتا ہے، بعض الفاظ مرقع ہوتے ہیں جن میں صرف خارجی کائنات نظر آتی ہے اور بعض الفاظ اپنی گرانی کے سبب بلندی پر قائم رہتے ہیں، ان میں ساز اور رس سمائے رہتے ہیں جب یہ الفاظ عبارت کا روپ لیتے ہیں تو ایک حسین موسیقی پیدا کرتے ہیں۔ مہاراشٹر کی اردو، ہند آمیزمراٹھی بولی اسی کی مثال ہے۔ صوفیوں کے الفاظ میں لاانتہائیت ہوتی ہے جو افق کے پار موجود ذات کی نشاندہی کرتی ہے ،اس لیے یہ سب سے افضل ترین ہوتی ہے۔

علامتی ادب میں الفاظ بعض ذہنی ،نفسیاتی، روحانی اور سیاسی کیفیتوں کا نشانہ بھی بن جاتے ہیں۔ یہ حالت الفاظ کے استعمال کرنے والے پر منحصر ہوتی ہے کہ وہ امید اور توانائی کا پیغام دیتا ہے یا خود اسے کمزور بنا کر رکھتا ہے۔ ہر زبان میں الفاظ کے عروج و زوال کو اس کے لسانی، تاریخی اور سماجی پس منظر میں دیکھنا چاہیے کیونکہ یہاں تکنیکی فارمولہ کام نہیںآسکتا۔

اب ان الفاظ کو دیکھتے ہیں جو مراٹھی زبان میں پوری آب و تاب کے ساتھ ہیںخدا،نماز، روزہ، داشتہ، ناشتہ، نادیدہ، خانساماں، گلستان،چمنستان، چراغاں، درگاہ ،مصیبت، دوستی، دشمنی، اصل، نقل، جان، حقیقت عام بول  چال میں، اخباری، زبان میں آسانی سے بولے اور سنے جاتے ہیں۔ پہلے سرکاری زبان فارسی ہونے کی وجہ سے تمام سرکاری دفاتر اور عدلیہ میں فارسی آمیز اردو کی اصطلاحات کا چلن عام تھا۔ مثلاً، سرکاری، سرکار، دفتر، سرکاری دفاتر، دستاویز، دستور، دستوری، دستخط، عدالت، حلف نامہ، وصیت نامہ، قلم (ایکٹ)، حاضر، عمل نامہ، شکایت نامہ، گواہ، چشم دیدہ گواہ، گواہی، پیش، پیشی، پیشکش، پوچی، پوچی خط، منصف، منصف کورٹ، وکیل، وکالت، وکالت نامہ، قید، قیدی، حکم، حکم نامہ، فیصلہ، قانون، دعویدار، تھانے دار، قیدخانہ وغیرہ یہ عدلیاتی اصطلاحات مراٹھی زبان میں اب بھی استعمال ہوتی ہیں۔

مہاراشٹر میں ڈرامہ، تھیٹر اور فلم انڈسٹری کے نقوش کافی قدیم ہیں جس پر آریائی تہذیب اور فارسی آمیز اردو کے اثرات آج بھی دیکھیے جاسکتے ہیں۔ اس کا اثر علاقائی فلموں میں سب سے زیادہ نظر آتا ہے۔ مراٹھی فلمیں بھی اردو زبان کے اثر سے خالی نہیں ہیں۔ مغل اور مراٹھا تہذیبوں کاسنگم ان فلموں کو خوبصورت بنا کر اپنی جڑوں تک رسائی کرواتا ہے۔ جرأت مندانہ مراٹھالہجہ اور مغل تہذیبی پوشاک اور زیورات سے آراستہ ان مراٹھی فلموں کے اردو آمیز مکالمے حاضرین میںنیا جو ش پیدا کردیتے ہیں۔ فن موسیقی میں اردو، فارسی، عربی اور مراٹھی کا سنگم دیکھیے۔ راگ، ندا، ناد، آواز، ساز، ندب، نادی، صدر، نوبت، گان، گاین، گانا، نفیری، باجے، شہنائی، مدنگ، تال، تار، ستار، سارنگی، نقارچی، اونچا، سمل، سملت، عور، آسکت، آورت، عشق، عاشق، شاعر، راغ، دف، رباب، طبلہ، طبل بازی،  راغب، رغب، راغی وغیرہ۔

مراٹھی زبان میں رائج پیشے، صنعت کار اور پیشہ وروں کے ضمن میں بھی اردو زبان حاوی نظر آتی ہے۔ جس سے مسلم دور کے سماجی و تجارتی ماحول کے بارے میں بھی پتہ چلتا ہے۔ مسلم دور میں بالخصوص مغل دور میں تجارت اور فنون و حرفت و صنعت اپنی انتہا پر تھی۔ سودا، کسب، کمانا، بازار، دکان، مزدور، دلال، لین دین یہ عربی فارسی الفاظ مراٹھی زبان روزمرہ کاروباری استعمال میں ہیں۔ عربی فارسی میں مزدور اور بغیر پیسے کی مزدوری کو بیگار کہتے ہیں یہ بھی مراٹھی زبان میں مستعمل ہے۔ ان کے علاوہ  طلب، بیباق، جیسے ثقیل الفاظ بھی تجارتی زبان میں کہے جاتے ہیں۔ تجارتی زبان میں ہنڈی اس خط یا  پیغام کو کہا جاتا ہے جو لین دین کرنے والے مہاجن کسی کو روپیہ دلانے کے لیے بھیجتے ہیں یا جسے مہاجنی چیک کہاجائے تو غلط نہیں ہوگا۔ یہ سلسلہ و روایت راجا ٹوڈرمل سے منسلک ہے۔ مدت، انداز، سند، دام، ضروری، کوری، یہ الفاظ اردو زبان اور تہذیب سے متصل ہیں۔ مہاراشٹر میں جواہرات و زیورات کی بات کریں تو یہاں بھی اردو، عربی و فارسی کا اثر نظر آتا ہے۔ خزانہ، خزانہ داری، صراف،  صرافہ، سونا، چاندی، نگینہ، کھرا کھوٹا،ماشہ، تولہ، بارہ بانی، سونے کا فرق، کندن، میناکاری یہ سارے الفاظ اردو فارسی سے جڑے ہوئے یں۔ اناج و سبزی ترکاریوں میں تو اردو کے الفاظ ہی مراٹھی زبان میں چھائے ہوئے ہیں۔ گیہوں، جوار،باجرہ، مکئی، چنا، تل، مسور، ارہر، مونگ، ٹماٹر، بیگن، بھاجی، آلو، بھنڈی، گوبھی، کریلا، مولی، ادرک، لہسن یہ سارے الفاظ ارد وکے ہیں۔ لکڑی اور تعمیراتی کام کی اصطلاحات بھی اردو سے منسلک ہیں۔ جسے تعمیری کام کرنے والے کو مراٹھی زبان میں مستری کہتے ہیں۔ مستریہ فارسی زبان کا لفظ مزدور کے لیے مخصوص ہے جو تعمیری کام کرتا ہے۔ تعمیرات میں درکار اوزاروں کے نام بھی مراٹھی میں اردو فارسی کے لیے کہے جاتے ہیں۔ جیسے خراد (جو لکڑی کو چکنا کرنے کے لیے ہوتا ہے)، برما، برادہ، دروازہ، چوکھٹ، خط (لائن لگانا)، ریگ مال، ساہل، میز، کرسی، تخت وغیرہ سب مراٹھی میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح زمین اور عمارت کی تعمیرات کے سلسلے میں حد، چونا، سردو (جس سے زمین پکی کی جاتی ہے) دیوار جو دیوال کہاجاتا ہے۔ اس کے علاوہ کنگورہ، برج، گمٹی، (چھوٹا برج)  مفیار، محل وغیرہ سب مراٹھی زبان میں رائج ہیں۔

Dr. Hajra Bano
Aurangabad (MS)
Mob.: 9860733049
Email.: hajerabano555@gmail.com

منگل، 27 ستمبر، 2022

علامہ سید سلیمان ندوی کے سفرناموں پر ایک نظر: طلحہ نعمت ندوی


اردو اصناف ادب میں سفر نامہ نگاری کی جو اہمیت ہے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ علامہ سید سلیمان ندوی کی ادبی خدمات کی وسعتوں سے ادب کی یہ صنف بھی باہر نہیں،انھوں نے اس صنف میں بھی اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں، اگر چہ اس صنف میں باضابطہ ان کے ایک ہی سفر نامے کا ذکر ملتا ہے اور وہ سفرنامۂ افغانستان ہے۔

باضابطہ سفر نامے کی حیثیت سے گرچہ سید صاحب کی یہی ایک کتاب متعارف ہے جو اپنی اہمیت میں کچھ کم نہیں، اور اس صنف کا بیش قیمت اثاثہ ہے، اگر انھوں نے اس صنف میں کچھ نہ بھی لکھا ہوتا تو بھی ان کی عظمت کے اظہار اورانھیں ایک کامیاب سفر نامہ نگار ثابت کرنے کے لیے ان کی یہی کتاب کافی تھی جو سفر نامہ نگاری کے جدید اصولوں پر پوری اترتی ہے۔لیکن سید صاحب کے اور بھی سفر نامے ہیں جو ان کی تحریروں میں منتشر ہیں۔ ذیل میں ان پر ایک روشنی ڈالی جاتی ہے۔

سید صاحب نے اپنے ملک میں بے شمار سفر کیے، اور بیرون ملک ان کے تین سفر ہوئے۔پہلا سفر یورپ کا ہوا جس میں سید صاحب نے تقریباً آٹھ ماہ یورپ کے مختلف ملکوں انگلستان، فرانس، اٹلی اور سوئزرلینڈ میں گزارے۔

ارباب ادب و تنقید نے سفر نامہ کے طریقوں میں ایک طریقہ خطوط کی تکنیک کو بھی قرار دیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ مجموعۂ خطوط سفرنامہ کے اصولوں پر پورا اترتا ہے اور خطوط اورسفر نامہ دونوں صنفوں کا جامع اور دونوں کی خصوصیات کا حامل ہے،اور دونوں اصناف میں اس کا ادبی مقام مسلّم ہے۔

سید صاحب نے مقدمہ میں وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دیگر کاموں کے ساتھ ان کی ایک ذمے داری یہ بھی تھی کہ ہر مہینے ہفتے بھر کی رفتار کا راور کاموں کی رودادلکھ کرہندستان بھیجیں، چنانچہ وہ اس ذمے داری کو پوری تندہی سے انجام دیتے رہے۔

سید صاحب ان خطوط پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’یہ خطوط اب محض تاریخی ہیں، افسوس ہے کہ میری قسمت ماضی کی ورق گردانی سے کچھ ایسی وابستہ ہو گئی ہے کہ حال بھی ماضی ہی بن کر سامنے آتا ہے، یہ خطوط اگر آج سے بیس سال پہلے شائع ہوتے تو ایک سیاحت نامہ کا کام دیتے، مگر اب بیس برس کے بعد ان کی اشاعت صرف تاریخی افادیت رکھتی ہے، ان سے آج سے بیس برس پہلے کے ہندوستان اور دنیائے اسلام اور یورپ کی سیاست کی وہ تصویر نظرآتی ہے جو میرے قلم نے کھینچی تھی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کا نقشہ گو بدل چکاہے، ایسی حالت میں نہیں کہا جا سکتا کہ کیا چیز باقی ہے کیا چیز مٹ گئی، تاہم ایک تاریخی دستایز ہے۔‘‘ (برید فرنگ، ص 51)

اس سلسلے میں برید فرنگ کے متعلق انور سدید کا یہ تجزیہ اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ:

’’سید صاحب نے یورپ کو اپنے معتقدات کی روشنی میں دیکھا،لیکن جہاں یورپ کے محاسن اور ترقی کے آثار نظر آئے وہاں اپنی سابقہ رائے سے رجوع کرنے میں کوتاہی نہیں کی،یہی وجہ ہے کہ ان کا سفرنامہ برید فرنگ ایک کشادہ نظر اور حقیقت جو ادیب کا تجزیاتی سفرنامہ نظر آتا ہے۔‘‘ (اردو ادب میں سفرنامہ، ص 241)

برید فرنگ کے علاوہ حسابات وفد خلافت کے نام سے ایک کتابچہ بھی سید صاحب کے مقدمے کے ساتھ شائع ہوا تھا اس میں بھی سفر یورپ کی کچھ روداد ہے۔

سید صاحب نے سفر یورپ کے بعد 1924 میں حجاز کا سفر کیا، پھر دو سال کے وقفے کے بعد 1926 میں حجاز کا دوسرا سفر ہوا، پہلے سفر حجاز میں مصر بھی جانے کا موقع ملا۔  پھر 1933 میں افغانستان کا سفر ہوا۔

اس کے بعد بیرون کا کوئی سفر نہیں ہو سکا، کئی علمی کانفرنسوں کے دعوت نامے بھی آئے لیکن شرکت کا موقع نہیں مل سکا۔

سیدصاحب نے حجاز کے دو سفر وفدخلافت کے ساتھ کیے تھے جس میں پہلے سفر میں مصر کی سیاحت بھی شامل تھی۔ ان کا تیسرا اور آخری سفر خالص حج کے لیے اپنے اہل خانہ کے ساتھ پاکستان منتقل ہونے سے کچھ دن قبل 1949 میں ہوا تھا۔بیرون ہند کے اسفار میں یورپ کی روداد ’برید فرنگ ‘ مرتب کرکے خود سید صاحب نے اہل علم کے سامنے پیش کر دی تھی، اور سفر افغانستان کی مفصل روداد بھی تحریرکر دی، لیکن حجاز کے ان اسفار میں سے کوئی بھی سفر باضابطہ مرتب شکل میں سید صاحب کے قلم سے منظر عام پر نہیں آسکا۔ سید صاحب ان تینوں اسفار کو بھی آخری عمر میں کراچی کے دوران قیام مرتب کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اس کا ارادہ خود سیدصاحب کے قلم سے تو کہیں نہیں ملتا، البتہ سید صاحب کے شاگردمولانا مسعود عالم ندوی لکھتے ہیں:

’’سفر نامہ بھی استاد مرحوم کی تصنیفات میں شامل ہے، سیاحت افغانستان کی رودادمفصل معارف میں لکھی تھی۔۔۔۔۔عرب ملکوں کا سفر نامہ بھی ’میرے عرب کے تین سفر‘ کے نام سے مرتب کر رہے تھے مگر یہ پایۂ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔

(چراغ راہ کراچی، مضمون ’سید سلیمان ندوی مرحوم‘ مارچ 1954)

لیکن سید صاحب کی منتشرتحریروں میں کافی متعلقہ مواد موجود ہے جنھیں جمع کرکے سید صاحب کے حجاز و مصر کے تینوں سفر نامے مرتب کیے جا سکتے ہیں،گرچہ اس میں تشنگی باقی رہے گی اور تمام پہلؤوں کااحاطہ نہیں ہوسکتا لیکن کچھ تلافی تو ضرور ہوگی۔ ایسا لگتا ہے کہ سید صاحب نے اس سفرنامۂ حجاز کے لیے بہت کچھ مواد اپنی ڈائری میں جمع کر لیا تھا،اور یاد داشتیں بھی نوٹ کی تھیں، اس کا اشارہ خود  سید صاحب کی ایک تحریر میں ملتا ہے، سفر حجاز 1926 سے واپسی کے بعد سید صاحب نے معارف میں سب سے پہلے جوشذرات لکھے اس میں اپنے سفر کا اجمالی ذکر کیا جس کا آغازان الفاظ سے ہوتاہے:

’’الحمدُللہ کہ ساڑھے تین مہینے کی غیر حاضری کے بعد فریضۂ حج و زیارت سے مشرف ہو کر آج معارف کا ایڈیٹر آپ کی خدمت میں پھر حاضر ہے، ان ساڑھے تین مہینوں میں آنکھوں نے جو کچھ دیکھا،کانوں نے جو کچھ سنا اور دل نے جو کچھ مشاہدہ کیا یہ داستان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ان صفحات کے ذریعے کبھی کبھی آپ تک پہنچے گی۔‘‘ (شذرات، معارف شمارہ 3، ج8)

انہی شذرات میں اگلے صفحے میں تحریر کرتے ہیں:

’’مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ تک کی بارہ منزلیں نہایت آسانی سے طے ہوئیں،اور ہر منزل میں ایک نئی دلچسپی نظر آتی تھی،میں نے کوشش کی ہے کہ ہر منزل کی قلمی تصویر ناظرین کی چشم خیال تک پہنچاسکوں۔‘‘

پھر مسجد نبوی کے ذکر میں لکھتے ہیں:

’’اس مسجد کا تاریخی نقشہ ہاتھ آیا ہے کبھی وہ آپ کے سامنے بھی آئے گا۔ اسی کے ساتھ مسجد نبوی کی موجودہ صورت و شکل و خصوصیات کی الفاظ و حروف کے رنگ میں میں نے تصویراتاری ہے وہ بھی آپ دیکھیں گے۔‘‘

 ان تمام اقتباسات اور جملوں سے صاف ظاہر ہے کہ سید صاحب نے اپنے سفر حجاز 1926 کی یاد داشت اور مشاہدات کی کئی اہم یادگاریں نوٹ کر لی تھیں،بلکہ انھیں ایک حد تک قلمبند بھی کر لیا تھا لیکن شایدوہ انھیں جن دیگر مباحث کے ساتھ ہدیہ ٔناظرین کر نا چاہتے ہوں گے اس کی ترتیب و تکمیل کاانھیں موقع نہیں مل سکا،البتہ ان شذرات میں جن کتب خانوں کا اجمالی ذکر کیا گیا ہے ان پر سید صاحب کا مفصل مضمون، (جس میں مخطوطات کا مفصل ذکر ہے ) ’حجاز کے کتب خانے‘ کے عنوان سے معارف میں شائع ہوا تھا،بقیہ نوٹس ان کی ڈائری میں شاید محفوظ ہوں،لیکن اس ڈائری کا اب کوئی سراغ نہیں ملتا، شذرات کے مختصر سفر نامے کے ساتھ اگر اس مضمون کو مرتب کر دیا جائے نیز کچھ مباحث رپورٹ وفد خلافت 1926 سے اخذ کر کے اضافہ کردیے جائیں تو ایک حدتک اس سفر کے اہم واقعات ناظرین کے سامنے آجائیں گے۔

1924 میں جو وفد خلافت خود سید صاحب کی قیادت میں حجاز گیا تھا۔ اور جس میں مولانا عبدالماجد بدایونی اور مولانا عبدالقادر قصوری سید صاحب کے رفیق سفر تھے، اس کی رپورٹ اسی وقت مرتب ہوئی تھی جس کا اغلاط سے پر ایک بوسیدہ نسخہ بعض کتب خانوں میں محفوظ رہ گیا ہے، اس میں سفر کی پوری روداد موجود ہے۔ بمبئی سے روانگی سے واپسی تک کا ایک اجمالی ذکر ہے۔اس کے علاوہ وہاں کے ارباب حل و عقد سے جو ملاقاتیں اور باتیں ہوئیں، جومراسلات ہوئے ان کا اردو ترجمہ بھی موجود ہے۔ افسوس ہے کہ ان مراسلات اور انٹرویوز کی عربی اصل دستیاب نہیں کہ ترجمے سے ان کا موازنہ کیا جا سکے۔ مراسلات کے یہ ترجمے بظاہر کسی اور کے قلم سے ہیں،اس لیے کہ ان میں ترجمہ پن نظر آتا ہے،اور وہ بڑی تعداد میں ہیں، اس لیے پڑھنے والے کو شاید سید صاحب کے اسلوب پر شبہ ہو تو عجب نہیں،لیکن اگر ان تراجم کے علاوہ بقیہ تحریر دیکھی جائے تو اس میں سید صاحب کے طرز انشا کی پوری جھلک موجودہے، اس لیے قیاس یہی ہے کہ سید صاحب نے ہی اصل رپورٹ مرتب کی ہوگی اور مراسلات کا ترجمہ کسی اور نے کیا ہوگا۔ یہ مراسلات اکثر سید صاحب ہی نے عربی میں لکھے تھے۔ اصل مطبوعہ رپورٹ پر تینوں ارکان وفد کا نام درج ہے۔  1925 کے معارف کے شمارے میں سید صاحب نے’جزیرہ عرب کی تعلیمی حالت ‘کے عنوان سے ایک مضمون لکھا جس میں اپنے مشاہدات ذکر کیے، یہ بھی اسی وقت یاد داشت کے طور پر تحریر کیا گیا ہوگا جو بعد میں مرتب کرکے شائع کیاگیا۔

اس سفر میں سید صاحب کو جدہ سے آگے جانے کی اجازت نہیں ملی اس لیے سید صاحب زیارت حرمین سے مشر ف نہ ہو سکے تھے، چند دنوں کے انتظار کے بعد سید صاحب وہاں سے مصر تشریف لے گئے، اور مصر کے علما سے اپنے مدعا پر تبادلۂ خیال کیا،جن میں سب سے نمایاں نام شیخ ازہر مصر اور سید رشید رضا مصری کا ہے، سید صاحب نے وہاں کے سر گرم  اور سر گرم عمل جمعیات اور انجمنوں کا اخیر میں تعارف بھی کرایا ہے۔ا گر چہ یہ در حقیقت رپورٹ ہے اس لیے اس میں سفر نامے کی ساری تفصیل تلاش کرنا مشکل ہے لیکن اس کے مشمولات سفر نامے کی شرائط پر پورے اترتے ہیں۔ سید صاحب نے اپنے دونوں اسفار حجاز میں اپنے اعزہ کو وہاں کی کوئی رپورٹ نہیں بھیجی،اگر وہ خطوط میں برید فرنگ ہی کی طرح اس سفر کی تفصیلات بھی بھیجتے رہتے تو ’برید حجاز‘ یا’ برید عرب‘ کا مرتب ہونا بھی مشکل نہیں تھا،اور اس کے بعد سفرنامے کی تشنگی نہیں باقی رہتی۔ چند اشارات ان دستیاب خطوط میں ملتے ہیں جو اعزہ و اہل وطن کے نام لکھے گئے۔ممکن ہے کہ سید صاحب نے خطوط لکھے ہوں اور پھر جیسا کہ برید فرنگ کو مرتب کرنے کے لیے وہ خطوط منگوا لیے تھے اسی طرح حجاز کے خطوط بھی منگوائے ہوں اور انھیں بھی اسی طرح مرتب کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں جس کا مولانا مسعود عالم ندوی نے ذکر کیا ہے، لیکن یہ کام نہیں ہوسکا اور اب ان خطوط کا سراغ بھی نہیں ملتا،نہ عبدالحکیم رحمانی صاحب کے نام لکھے گئے خطوط کے قلمی مجموعہ میں وہ موجود ہیں۔

سید صاحب کا تیسرا سفر خالص حج کے لیے تھا،اس لیے سید صاحب نے اس میں یاد داشت مرتب کرنے کی طرف شاید بہت زیادہ توجہ ہی نہیں دی اور ان کی پوری توجہ عبادت و دعا ہی پر مرکوز رہی۔سید صاحب نے اپنے خانوادے کے بزرگ سید عبدالحکیم صاحب رحمانی کو حج کی واپسی کے بعد جو خط تحریر فرمایا اس میں لکھا تھا کہ اس دفعہ قلم چھونے کو دل نہیں چاہا۔اس سفر میں جب سید صاحب جہاز سے بندر گاہ جدہ پر اترے تو سعودی بادشاہ ملک عبدالعزیز( جن کو پہلے سے سید صاحب کی آمد کی اطلاع تھی ) کا قاصدسید صاحب سے بندرگاہ پر ملا اور شاہی پیغام سنایا کہ وہ حکومت کے مہمان ہوں گے، لیکن سید صاحب نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اس سے قبل میں سیاسی حج کر چکا ہوں اور اس مرتبہ خالصۃً لوجہ اللہ حج کے لیے حاضر ہوا ہوں اس لیے اس کی قبولیت سے معذرت ہے، اس کے بعد عبدالعزیزبن سعود نے ان کی خدمت میں پر تکلف شاہی دستر خوان بھیجا،اس کی تفصیل ان کے فرزندمولانا ڈاکٹر سید سلمان ندوی مدظلہ کی زبانی سنیے:

جدہ کی بندرگاہ پر اترتے ہوئے سلطان عبدالعزیز آل سعود کاایک ایلچی والد ماجد سے ملا اور سلطان کا پیغام پہنچایا کہ آپ اورآپ کے ہمراہ افراد سلطان کے شاہی مہمان ہوں گے،سلطان سے چونکہ والد ماجد کی ملاقات 1924 اور1926 میں ہوچکی تھی اس لیے سلطان نے اخلاقی فرض سمجھا کہ وہ ہم سب کواپنا مہمان بنائیں، والد صاحب نے جواب دیا کہ سلطان کو میرے انتہائی مخلصانہ جذبات کا پیغام دیں اور شکریے کے ساتھ یہ کہیں کہ میں اس سے قبل دو(سید صاحب کو پہلے سفر حجاز میں جدہ سے آگے بڑھنے کی اجازت نہیں ملی تھی، اس لیے اس سے پہلے حج ایک ہی ہوا تھا 1926 میں) سیاسی حج کرچکا ہوں اس بار صرف اللہ کے لیے حج کی نیت ہے ۔۔۔۔۔سلطان مرحوم کے اخلاق کی بھی تعریف کرنی پڑتی ہے کہ انھوں نے دوپہر کے کھانے کی دعوت کا اہتمام کیا،اور اس کے علاوہ والد ماجد کو اور مجھے خلعت سے نوازا۔‘‘ (قلمی ایک تحریر مملوکہ راقم)

اس کے علاوہ بھی ڈاکٹر صاحب نے سید صاحب کے دوسرے اہل علم سے ملاقات کی تفصیل لکھی ہے۔

نیز پروفیسر عبدالمنان صاحب بیدل صدر فارسی پٹنہ یونیورسٹی بھی سفر حج میں ساتھ تھے،انھوں نے معارف کے سلیمان نمبر میں ’ سفر حجاز کے تاثرات‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا جس سے اس سفر حج پر کچھ روشنی پڑتی ہے۔

سید صاحب کے ملکی اسفار :    ان تین غیر ملکی اسفار کے علاوہ سید صاحب نے ملک میں کثر ت سے سفر کیے،ان کو مختلف کانفرنسوں، علمی مجلسوں میں اور ملی کاموں کے لیے مدعو کیا جاتا اور سید صاحب کی شرکت سے ان جلسوں کی رونق دوبالا ہو جاتی،جا بہ جا سید صاحب کی تقریریں ہوتیں۔ ان تمام اسفار کی روداد تو محفوظ نہ رہ سکی البتہ بہت سے اسفار کا اجمالی تذکرہ سید صاحب نے واپسی کے بعد اپنے شذرات میں تحریر فرمایا تھایہی اجمالی ذکران کے ملکی اسفار کا مرقع بن گیا۔ اس سلسلے میں جو کچھ سرمایہ ان کی تحریروں میں موجود ہے وہ شذرات ہی کے ذیل میں لکھی گئی تحریریں ہیںجس میں کہیں تو عنوان درج ہے اور کہیں نہیں،کوئی پورے شذرات کو محیط ہے کوئی چند سطروں میں یا ایک دو صفحات میں ہے،ایک دو تحریریں اس  سے الگ ہیں۔سید صاحب کے دستیاب سفرناموں میں ان کا سب سے پہلا سفرنامہ بہ شکل مکتوب ہے۔1912 میںسید صاحب نے بنگلور، میسور اور دیگر جنوبی علاقوں کی سیاحت کی، ٹیپو سلطان کے مزار پر حاضر ہوئے اور واپسی کے بعد اپنے ہم وطن بزرگ اور رشتے کے چچا مولوی سید عبدالحکیم رحمانی دسنوی کے نام مفصل مکتوب تحریر فرمایا جس میں پورے سفر کی روداد اوراپنے تاثرات بیان کیے،یہ مکتوب صرف سفر ہی کی روداد پر مشتمل ہے، مکتوب الیہ نے اسے 1940  میں ماہنامہ ندیم (گیا) کے کسی شمارے میں اشاعت کے لیے بھیجا تھا۔ اس کے بعد دوبارہ مکتوب الیہ کے نام سید صاحب کے مکاتیب کے ضمن میں سب سے پہلے معارف میں شائع ہوا اور اب حیات سلیمان میں بھی شامل ہے،ایک مفصل خط بمبئی کی روداد سفر پر مشتمل ہے جو اب تک قلمی ہے اور سید صاحب کے مکاتیب بنام مولانا عبدالحکیم رحمانی میں شامل ہے، اسی طرح ایک مضمون سید صاحب نے ’سفر گجرات کی چند یادگاریں‘ کے نام سے لکھا تھا،یہ در حقیقت وہاں کے بعض نوادرات اور اردو کی چند قلمی تحریروںکے تعارف پرمشتمل ہے،اسی لیے سید صاحب نے موضوع کی مناسبت سے اسے ’نقوش سلیمانی‘ میں شائع کر دیا ہے لیکن اس میں سفر کا اجمالی ذکر بھی ہے، اس لیے بقول شخصے اسے سفر گجرات کا رپورتاژ کہنا چاہیے۔

سفر لندن کے دوران سید صاحب نے ایک مضمون ’انڈیا آفس میں اردوکا خزانہ‘ لکھ کربھیجا تھاجو اسی وقت معارف میں شائع ہوگیا تھا،یہ بھی درحقیقت ان کے سفرنامے ہی کا حصہ ہے۔

’نالندہ کی سیر‘ کے عنوان سے سیدصاحب نے مئی 1935 میں اپنے علاقۂ بہارشریف کے قریب نالندہ کے آثارقدیمہ کی زیارت کے بعد معارف میں موقعے کی مناسبت سے مختصرروداد سفر بیان کرتے ہوئے ایک تاریخی مضمون لکھا تھا،اس میں سفر کی روداد اجمالی ہے، بقیہ تاریخی مباحث ہیں۔

دارالمصنّفین میں سید صاحب کے کاتب و مسودہ نویس اور دارالمصنّفین کے مصحح ابوعلی عبدالباری اثری صاحب کا تحریر کردہ ایک قلمی مجموعہ ہے جس کے سرورق پر ’سفرنامہ حضرت علامہ سید سلیمان ندوی ‘ لکھا ہے، اس میں عبدالباری صاحب نے سید صاحب کے تمام شذرات سے منتخب کر کے ان کے اسفار کو یکجا کر دیا ہے لیکن اس میں بہت سے غیر متعلقہ مباحث بھی آگئے ہیں اور بہت سامتعلقہ مواد شامل ہونے سے رہ گیا ہے۔ الغرض اگران شذرات سے سید صاحب کے اسفار کو یکجا کر دیا جائے تو ایک اہم مجموعہ مرتب ہو سکتا ہے۔ سید صاحب کے ان شذرات میں جن مقامات کی سیاحت کا ذکر زیر قلم آیا ہے ان میں اکثر جنوبی ہند سے تعلق رکھتے ہیں۔رانچی کے سفر کا ذکر بھی بہت خوبصورت پیرایے میں کیا گیا ہے،اور لاہور،پشاور اور بمبئی کے اسفار کا بھی ذکر ہے،ان اسفار کی ایک اجمالی فہرست ذیل میں دی جارہی ہے۔

  1.         ناگپور کا سفر/ معارف،اپریل 1918
  2.         مئو کا سفر، معارف،فروری 1919
  3.         بھوپال کا سفر، معارف،ستمبر 1919
  4.         علی گڑھ ودہلی کا سفر ، معارف،فروری 1923
  5.         مدراس کا سفر، معارف، اکتوبر1925
  6.         ترپاتور(مدراس) کا سفر، معارف، دسمبر1925
  7.         امبالہ کا سفر
  8.         رانچی کا سفر، جون 1924
  9.         عمرآباد(مدراس) کاسفر ، اکتوبر1938
  10.       مدراس، بمبئی، حیدرآباد، بھوپال اور واردھا کا سفر، اپریل تا دسمبر1945
  11.       دکن(بعنوان میرامختصر سفر دکن) اکتوبر1937
  12.       پشاور،لاہور،بھاول پور کا سفر، مئی1949
  13.        حیدرآباد،پونہ وبمبئی کا سفر،جنوری 1940
  14.       ترچناپلی(مدراس) کا سفر 1927

یہ ایک سرسری خاکہ ہے سید صاحب کے ان اسفار کا جن کا ذکر معارف میں آیا ہے،ممکن ہے اس کے علاوہ بھی معارف یا دیگر رسائل میں کچھ میں کچھ لکھا گیاہو۔اخیر میں سید صاحب کا بمبئی کا ایک سفرنامہ جو بہ شکل خط  ہے اور اب تک قلمی ہے پیش کیا جارہا ہے،اس سے سید صاحب کی دقت نظر،واقعات پر غور اور اس کو معاصر اسلوب میں پیش کرنے کا سلیقہ معلوم ہوگا،اور سفرنامے کے لوازم اس میں پورے طور پر نظر آئیں گے۔

پاٹل جی ہوٹل بائی کلہ،۔بمبئی   

جناب مکرم!                  السلام علیکم !

والانامہ ملا، میں آپ کو خط لکھ رہاہوںاور پس دیوار گرجاسے ننوں کے نغمات مناجات دل کھینچ رہے ہیں، لیکن نہیں !میں سنبھلا بیٹھا ہوں۔

بمبئی یورپ کا ایک ٹکڑا ہے، یا ایشیاکا یورپ ہے، سڑکیں نہایت کشادہ اور وسیع۔

لطیفہ: ایک دن مولانا اور بیدل شاہجہاں پوری کے ساتھ اپالوبندر گیا، مولانانے کہاکس قدر سڑکیں کشادہ ہیں، میں نے ہنس کر کہا جتنی کشادہ سڑکیں ہیں، اتنی کشادگی میں تو ہمارے گائوں آبادہیں، سب لوگ بے اختیار ہنسنے لگے، میں نے جو کچھ کہامبالغہ نہیں واقعہ ہے۔

ہر دو فرلانگ پر تقریباً یہاں چوراہاہے، چوراہے میں ابتدا سے انتہا تک ایک ہی قسم کی عمارت کاایک سلسلہ ہے، سلسلے کی ابتدائی اور انتہائی عمارت ہمیشہ مثلث ہوتی ہے، تاکہ چوراہے کی وسعت میں فرق نہ ہو۔

جس طرح دس پندرہ قدم پر آپ نے لکھنؤ میں بالائی کی دوکان دیکھی تھی، ویسے ہی یہاں کھانے کے ہوٹل ہیں، ہمارے خیال میں شہر کاتقریباً ایک چوتھائی حصہ ہوٹلوں میں کھاتاہے، ہوٹلوں میں سنگ مرمر کی میزیں جابجا پڑی ہیں، اردگرد سیاہ گول کرسیاں ہیں، ایک میز کے سامنے کسی کرسی پر جا بیٹھا، نوکر ادھر ادھر کھڑے ہیں، ادھر آنابھئی !ایک پلیٹ بریانی، ایک پلیٹ قورمہ دینا،سامنے لاکر رکھ دیا، کھانا کھایا، دروازے پر پہنچا، وہاں صاحب ہوٹل بیٹھاہے، پیچھے سے آواز آئی،چھ آنے۔

یہاں کم ازکم ایک آدمی 3روز کھاسکتاہے، زائد کی حد نہیں، آج راج محل ہوٹل میں مولانا کے ساتھ گیا، بریانی کی ایک پلیٹ8؍ کو ملی، عموماً کافی کی چھوٹی پیالی دو پیسے کو، اور چائے کی چھوٹی پیالی ایک پیسے کی، ہوٹل کے مالک زیادہ ایرانی، پارسی اور ایٹالین ہیں، یہاں کی دولت کا کیاپوچھنا، میرے ہوٹل سے سو قدم پر ایک پارسی کا اسٹیچو ہے، جس نے اپنی زندگی میں بارہ لاکھ روپیہ خیرات کیا، دولت وتجارت میں پہلا نمبر مارواڑیوں کاہے، دوسرا میمن اور خواجہ مسلمانوں کا، تیسرا پارسیوں کا، اور چوتھا انگریزوں کا، عربوں کی تجارت بھی یہاں اچھی ہے، اتوار کے روز ایک تاجر عرب کے یہاں گئے تھے، موتیوں کاتاجر ہے، ہر وقت اس کے یہاں دو کروڑ کے موتی رہتے ہیں، اس کامکان سمندر کانہایت عالیشان سنگ مرمر کاہے، شیشہ اور پتھر کے سوا لکڑی اور اینٹ کانام نہیں، مکان کوچھوڑ کر صرف زمین کا کرایہ پچیس ہزار سالانہ گورنمنٹ کو ادا کرتاہے، موتی کے اور بہت سے لکھ پتی  عرب تاجر ہیں، وللہ الحمد۔آل جاثم نے ۔ڈیڑھ لاکھ ہندوستان،مصر اور عرب میں قومی کاموں میں دیاہے۔

یہاں کے لباسوں کانہ پوچھیے، دنیاکے ایک ایک گوشے کے آدمی ہیں، اوران کاگوناگوں لباس، مجھ کویہاں ہرلباس دیکھ کر حیرت معلوم ہوتی ہے، لیکن اہل بمبئی سے پرحیرت۔لباس سے بھی حیرت نہیں ہوتی۔

میمن مرد وعورت عربی لباس پہنتے ہیں، پارسنیں قمیص،  ساری، کوٹ،پائتابہ سر میں بعض کشادہ بھی پہنتی ہیں،مرہٹنیں ساڑی بصورت لنگی پیچھے کھونس کر،یہودنیں جدید فیشن کی۔تو یورپین لباس پہنتی ہیں، مگر قدیم وضع کا لمباکرتا اور ایک سفیدلمبی چادر جس سے ان کاتمام جسم ڈھکارہتاہے اورنہایت خوبصورت معلوم ہوتی ہیں، مسلمان عورتوں کے لیے قابل تقلیدہے، مسلمان عورتیں عموماً ایک نہایت لمباکرتا جو نہایت کشادہ اور چونندار ہوتا ہے، پہنتی ہیں، یہ کرتا ٹخنوں تک ہوتا ہے، وسط گریبان سینے پر نہیں، بلکہ دونوں طرف کندھوں پر ہوتا ہے، پائجامہ چھوٹے پائچہ کاتنگ،جس کا صرف چار پانچ انگل حصہ کرتا سے نیچے معلوم ہوتاہے، سر پر ایک دوپٹہ، مجھے یہ لباس نہایت پسندہے، بعض خوش وضع مسلمان عورتیں نیچے کرتا کے دامن میں جھالر لگاتی ہیں، اس قسم کا کرتا اگر کمر میں کمربند باندھ دیا جائے، تو بالکل سایہ یا گون معلوم ہوتاہے۔

یہاں کی مسجدیں عموماً نہایت شاندار وسیع ہوتی ہیں، رنگ ان کاعموماً سبز ہوتاہے، اندرون مسجد میں ایک چھوٹی سی نہرہوتی ہے، [وضو کے لیے] امام مسجدعموماً عرب یامصری ہوتے ہیں، مسجدمیں گنبد نہیں ہوتے، اگر کہیں ہیں بھی تو ایک اور چھوٹا سا، منارے ہوتے ہیں، اندرون مسجد بیش قیمت سامانوں سے اور آلات شیشہ سے آراستہ ہوتاہے۔

آج جمعہ کی نماز ایک مسجد میں پڑھی، پہلے دو مؤذنوں نے مناروں پر مل کر اذان دی، تھوڑی ہی کے دیر کے بعد جبہ سے آراستہ مؤذن سے نکلے، صفوں کو چیرتے ہوئے میز کے پاس پہنچے، عصا منبر سے لگارکھاتھا، اس کو ہاتھ میں لے کر نہایت قرأت سے قرآن مجیدکی خاص آیتیں اور دعائیں پڑھیں، دعائوں کا خاتمہ تھا کہ امام صاحب بھی جبہ پہنے عمامہ عربی زیب سر کیے برآمدہوئے، بہ ہزار دقت منبر تک پہنچے، اور قدم تولتے ہوئے عصا ٹیکتے ہوئے، تین چار منٹ میں تین چار زینے طے کیے، خطبہ نہایت قرأت سے شروع کیا، پہلاخطبہ ختم ہوا، تو مؤذن صاحب نے بلندآوازسے درودشروع کیا، پھر دوسرا خطبہ شروع ہوا۔

ہائے خطیب،جب یہاں پہنچا ہے، حامی الحرمین الشریفین السلطان بن السلطان الغازی محمد رشاد خاں، بدن کانپ گیا، رونگٹے کھڑے ہو گئے۔

انگریزی اسکول یہاں کثرت سے ہیں، میرے آس پاس چار پانچ اسکول ہیں، دو تین لڑکیوں کے اور باقی لڑکوں کے، مگر ان میں کون پڑھتے ہیں، انگریز، کرسیچن، پارسی، اور مرہٹے، مسلمانوں میں بالکل شاذ، عربی مدارس کئی ہیں، مگر سب بیکار، جہاں طلبہ تا اختتام زندگی طالب العلمی کرتے ہیں۔

مذہبی احساس مسلمانوں میں شدید ہے، مگر عجائب پرستی، توہم پرستی اور پیر پرستی کی حد تک۔

کتب خانے کئی ہیں، کریمی لائبریری، صدیقی لائبریری، مفید لائبریری، جامع مسجد لائبریری، ایشیاٹک سوسائٹی بمبئی،پرنس/فرنچ لائبریری، مگر سب معمولی اور ادنی۔سیرت نبوی ہو رہی ہے، ابھی گریجویٹ صاحب نہیں آئے ہیں، علی گڑھ کالج کے تعلیم یافتہ، مشرقی بنگال کے ایک مسلمان ایم اے گریجویٹ عبد الحکیم صاحب نے جو ابھی کامیاب ہوئے ہیں، عربی سے واقف ہیں، اپنے کو آنریری پیش کیا ہے، مجھ سے ملاقات ہے، نہایت نیک متواضع ہیں،غالباً وہ ایک ہفتے میں آ جائیں۔

آج جامع مسجد سے نکلتے ہوئے میں نے دو حبشنیں دیکھیں، حبشنیں کیا تھیں، کالی دیویاں تھیں، العظمۃ اللہ۔ اخلاقی حیثیت سے بمبئی کیا ہے ؟ دکان عصمت فروشی ہے، میرے ایک دوست کے سامنے دو یہودی بچیاں رہتی ہیں، محلے کا ہر نوجوان سمجھتا ہے مجھ کو چاہتی ہیں، ایک نوجوان کرسچن کا اس کے پیچھے برا حال ہے۔

سید سلیمان

23 جون 1912

Talha Nemat Nadwi

Asthawan Nalanda

Biharsharif (Bihar(

Mob.: 9117394766

Email.: talhanemat3@gmail.com 

پیر، 26 ستمبر، 2022

اردو میں ادب اطفال: ہلال احمد گنائی

 


ادب ِ اطفال کی بڑی اہمیت ہے۔ اس کے ذریعے بچوں کی ذہنی تربیت ہوتی ہے، شخصیت نکھرتی ہے،  نفسیات سنورتی ہے اور سماجی ذمے داریوں کا احساس جاگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ  قومیں ادب ِ اطفال کو بڑی اہمیت دیتی ہیں۔ ادب ِ اطفال اس  بنیاد کی طرح ہے جس پر عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ یہ جتنی مضبوط ہوگی اس پر اتنی ہی منزلیں تعمیر ہوسکیں گی۔ بظاہر بچوں کا ادب بڑا سہل اور آسان لگتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کی تخلیق و ترتیب میں ہمیں کئی پل صر اطوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ماہرین ِ تعلیم، ماہرین ِ نفسیات  ماہر ین ِ لسانیات اور دانشوروں کی ایک ٹیم سر جوڑکرمدتوں بیٹھتی ہے  تب کہیں جاکر بچوں کا نصاب تیار ہوتا ہے۔ ادب ِ اطفال کے زمرے میں وہ تخلیقات بھی آتی ہیں جوادیب اور شاعر اپنے ذوق و شوق یا ضر ورت کے تحت ضبط ِ تحریر میں لاتے ہیں۔ اس کی تیاری میں خاکوں، تصویروں اور مناظرکو استعمال میں لاتے وقت رنگوں کے بہترین امتزاج کا خیال بھی رکھا جاتا ہے تاکہ بچوں کی دلچسپی قائم رہے۔ اس لیے مواد کی تیاری میں فن ِ مصوری سے بھی مدد لی جاتی ہے۔ آج کل تو ادب ِ اطفال میں برقی میڈیا کا عمل دخل بھی ناگزیر ہو گیا ہے؛ جیسے کارٹون فلمیں، سلائڈس، سمعی امداد وغیرہ۔ یہ چیزیں بھی ادب ِ اطفال کا حصہ ہیں۔

معیاری ادب ِ اطفال ہم اسے ہی کہیں گے جس میں عمروں کے لحاظ سے بچوں کی نفسیات کا خیال رکھا گیا ہو۔ کوئی سبق آموز بات کہی گئی ہو۔ ایسی عام فہم زبان استعمال کی گئی ہو جوان کی لسانی استعداد کے عین مطابق ہو۔سبق کو رنگوں کے بہترین امتزاج سے اور خاکوں، تصاویر و قدرتی مناظرکی مدد سے جاذب نظر اور پر کشش بنایا گیا ہو اور کتابوں کی اشاعت و طباعت معیاری ہو۔ ادب اطفال کی تیاری میں بچوں کی دلچسپی کو قائم رکھنا بے حد ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے اگر کسی سطح پر بھی  مندرجہ بالا باتیں بچوں کا نصاب تیار کرتے وقت  پیش ِ نظر نہیں رہیں گی تو وہ  اسے نصاب کی کمزوری سمجھا گائے گا۔ نصاب کی کوتاہیاں بچوں کی طبیعت میں اچاٹ پن لے آتی ہیں۔ ادبِ اطفال میں ایک اہم چیز سائنٹفک temperament.کو ہونا ہے یعنی بچوں کے نصاب میں منطقی دلائل  سے چیزوںکادیکھنا  اور سمجھنا چاہیے۔یہ بھی ضروری ہے کہ بچے پڑھتے اور سمجھتے وقت کسی تناؤ اور الجھاؤ کا شکار نہ ہوں ورنہ ہم انھیں وہ نہیں دے پائیں گے جو انھیں دینا چاہتے ہیں۔ یہاں ہم شعری آہنگ سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو چیزیں یاد کرانے اور یاد رکھنے میں بچوں کی مدد کرتی ہیں اس طرح بڑی بڑی باتیں چھوٹے چھوٹے  اندازمیں ان تک پہنچ سکتی ہیں۔سیکھتے وقت ایسا کھلا ماحول ہونا چاہیے کہ کھیل کھیل میں ان تک باتیں پہنچتی رہیں۔یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب ادب ِ اطفال ہمارا ساتھ دے۔

ادبِ اطفال کے موضوعات میں تنوع ہونا چاہیے۔ وطن سے پیار، بڑوں کا ادب و احترام، صفائی ستھرائی، صحت و تندرستی، جانوروں سے محبت، امن و شانتی، جھوٹ و فریب سے نفرت، غریبوں اور کمزور طبقوںکی مدد اور ان کی عزت  وغیرہ  کے علاوہ بچوں کی دلچسپی کے متعدد ایسے موضوعات ہیں جو ادب  ِ اطفال کا موضوع بنتے رہے ہیں لیکن یہاں عصری تقاضوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، جیسے گلوبل وارمنگ کے مسائل،  ا ٓ لودگی کے مسائل، دہشت گردی اور مذہبی جنون سے پیدا ہونے والے مسائل، ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ سے سامنے آنے والے مسائل، برقی میڈیا کے مثبت اور منفی پہلو، ٹوٹتے سماجی رشتوں کے نقصانات وغیرہ۔ظاہر ہے یہ موضوعات بچوں کے لیے کافی مشکل اور بھاری بھرکم ہیں لیکن عصرِ حاضر کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ادب ِ اطفال سے انھیں یکسر خارج نہیں کیا جا سکتا۔ ہم کم سے کم اشاروں اورکنایوں میں ان باتوں کو اٹھا کر انھیں  بچوں کے شعور کا حصہ بناسکتے ہیں۔ زبان سلیس و سادہ اور لہجہ یقیناََ دھیما ہوگا۔

ہمارے یہاں اردو میں بچوں کا جو ادب دستیاب ہے، اس میں ترمیم و اضافے کی بڑی گنجائشیں ہیں۔ اول تو وہ بہت کم لکھا گیا ہے۔ دوسرے عالمی معیار پر پورا نہیں اترتا۔ محدود موضوعات ہیں۔بچوں کی نفسیات کے عین مطابق بھی نہیں ہے۔ افادیت سے محروم ہے۔ جدید حسیت کی عکاسی نہیں کرتا۔ طباعت و اشاعت بھی اچھی نہیں ہے۔ان باتوں کے علاو ہ  بچوں کے اندر نہ سائنٹفک شعور  پیدا کرتا ہے اور نہ ان میں      innovativeness لاتا ہے۔ اردو میں ادب ِ اطفال سے متعلق رسائل اور جرائد کی بھی کمی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نثرکے مقابلے میں نظم کی گئی بات  زیاد ہ ا ٓسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے اور یاد بھی رہ جاتی ہے۔شاید اسی لیے اردو میں منظوم قواعد لکھی گئیں۔ اردو میں ادب ِ اطفال کی روایت کافی پرانی ہے۔  یہ سلسلہ اٹھارہویں صدی کی آخری دہائیوں سے شروع ہوتا ہے۔ اردو میں ادب ِ اطفال کے موضوعات اس طرح ہیں: 

1.     زبان کی درس و تدریس میں تلفظ اور قواعد کے اصول

2.     مناظر ِ قدرت کا بیان

3.      وطن پرستی اور قومی یکجہتی

4.      انسان دوستی اور محبت و اخوت

5.      مذہبی عقائد اور سماجی ذمے داری

6.      پرندوں اور چرندوں سے پیار

7.      اخلاقی اقدار

8.      تہذیبی و ثقافتی زندگی کی عکاسی

9.      علم کے حصول کی اہمیت و افادیت

10.    اہم سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات کو خراجِ عقیدت  وغیرہ

ادب  اطفال کے یہ متنوع موضوعات  بتاتے ہیں کہ مادی زندگی کے مقابلے میں ہمارا زیادہ زوراخلاقی اور روحانی اقدار پر رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے ادب ِ اطفال میں دو اہم باتیں نہیں ہیں یعنی  temprament scientific  اورinnovation  جن کی بچوں کی ذہن سازی  میں بڑی اہمیت ہے۔ اردو میں بچوں کو زبان سکھانے کے جوطریق کار دستیاب ہیں وہ غیر سائنٹفک ہیں ۔ زبان سیکھنے اور سکھانے کی جدید تکنیک کوبروئے کار نہیں لایا گیا ہے۔ تلفظ کی مشقوں کے لیے بھی  صوتی عمل خانوں  میں کوئی مواد دستیاب نہیں ہے۔ سلائڈ،  تصاویر، خاکوں اور نقشوں کا بھی  رواج نہیں ہے۔ یہاں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ تلفظ اور قواعد کے تعلق سے  اردو میں جو مواد ملتا ہے اس میں منظوم مشقیں بھی شامل ہیں۔ کردار سازی اور اخلاقی رویوں کو لے کر  ادب ِ اطفال میں جو تحریریں سامنے آئیں ان میں پہلا بڑا نام نظیر اکبرآبادی کا ہے جنھوں نے صحیح معنو ں میں اردو میں ادب ِ اطفال کی بنیاد ڈالی اور بچوں کے لیے مختلف موضوعات پر لکھا۔ اس میں بچوں کے تلفظ کو معیاری بنانا بھی شامل ہے۔ نظیر اکبرآبادی نے بچوں کے احساسات و محسوسات کو بھی اپنی نظموں کا موضوع بنایا اور ایسی باتوں سے گریز کیا جو ان کی شخصیت  میں جذباتی بکھراؤ پیدا کریں۔ وہ خود بھی استاد تھے اور بچوں کی نفسیات اور ان کی دلچسپیوں کو سمجھتے تھے۔بچوں کی فرمائش پر بھی انھوں نے کئی نظمیں لکھی ہیں۔مثال کے طور پربرسات کی بہاریں، عید، ہولی، جاڑے کی بہاریں، آدمی نامہ ‘   ان کی مشہور نظمیں ہیں جو اردو کے ادب ِ اطفال میں بڑی اہمیت رکھتی ہیں ۔

انجمن پنجاب، لاہور نے ایک مشاعرے کا اہتمام کیا تھا جس میں اردو شاعری کی ایک صنف ’ نظم‘ متعارف ہوئی۔ اردو کے مشہور و معروف شعرا اور ناقدین نے اس مشاعرے میں شرکت کر کے اپنا کلام سنایا۔اس محفل میں محمد حسین آزاد ، الطاف حسین حالی اور اسمٰعیل  میرٹھی بھی تھے جنھوں نے اپنی نظمیں سنائیں جو بہت پسند کی گئیں۔ اسمٰعیل میرٹھی کواپنی نظموں کی وجہ سے ادب ِ اطفال کا شاعر کہا گیا کیونکہ ان کی زیادہ تر نظمیں بچوں کے لیے تھیں۔ ان کے کلام میں اخلاقی اقدار کے علاوہ سماجی ذمے داریوں اور رویوں کو لے کر بچوں کی ذہن سازی کی گئی تھی۔بچوں کی نفسیات اور دلچسپیوں کو لے کر ان کے لیے نصاب بھی تیار کیے۔ انھوں نے ایسے موضوعات پر قلم اٹھا یا جو وقت کی ضرورت تھے۔ان کی نظم چھوٹی چیونٹی، پن چکی ،  ہماری گائے، شیر، ماں اور بچہ، کچھوا اور خرگوش اتنی مقبول ہوئیں کہ یہ آج بھی بچوں کو پڑھائی جاتی ہیں۔ بحیثیت مجموعی اگر ان کے تحریر کردہ ادب ِ اطفال کے موضوعات کا جائزہ لیا جائے تو ان میں موسم ، جاندروں سے محبت، میلے اور تیوہار، کھیل کود، سماج رشتے وغیرہ اہم ہیں۔ سر محمد اقبال نے بڑے خوبصورت انداز میں بچوں کے لیے لکھا ہے جسے ہم ادب ِ اطفال میں شاہکار کہہ سکتے ہیں۔ان کی نظم  ’ترانہ ہندی‘  اتنی مقبول ہوئی کہ ایک طرح سے قومی ترانہ بن گئی۔ دوسری مشہور نظم’ لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری ‘ بھی اپنا ثانی نہیں رکھتی جو  آج بھی اسکولوں میں بچوں کے نصاب کا حصہ ہے۔ ایک گائے اور بکری ،  ایک پہاڑی اور گلہری،  ماں کا خواب بھی اپنے زبان و بیان  اور اسلوب و آہنگ کے اعتبار سے بہت اہم ہیں۔ علامہ اقبال کی بچوں کی نفسیات پر گہری نظر تھی اس لیے ان کی ہر نظم گہرے تاثر چھوڑتی ہے۔ عہد طفلی، طفل شیر خوار،بچہ اور شمع نظمیں بھی ایک کارنامہ ہیں۔ علامہ اقبال کی نظم ایک آرز و کا مرکزی خیال انگریزی سے ماخوذ ہے لیکن وہ بھی اپنی مقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑتی ہے۔

تلوک چند محروم کا نام بھی اردو کے ادب ِ اطفال میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ  خودبھی بچوں کے استاد تھے اور ان کی نفسیات کو سمجھتے تھے۔انھوں نے بچوں کے لیے کئی خوبصورت نظمیں لکھیں ہیں؛ جیسے بچوں کا سویرے اٹھنا، اچھے کام، کتاب، بلبل، صفائی، اچھا آدمی، پھول برسات وغیرہ۔ اردو کے مشہور شاعر حفیظ جالندھری نے بھی بچوں کے لیے لکھا۔ ان کا موضوع بچوں کے  اندر خود اعتمادی اور ایثار و قربا نی کا جذبہ پیدا کرنا تھا۔  نمائندہ نظموں میں  خدا سب کو دیکھتا ہے،   بول میرے مرغے بول،  سورج،  بہادر کسان ، گرمی کی رت آئی،  بیساکھی کا میلا، تاروں کی محفل  وغیرہ ادب ِ اطفال کا بہترین سرمایہ ہیں۔ شفیع الدین نیر بھی ادب ِاطفال میں ایک بڑا نام ہے۔ انھوں نے مختلف عمر کے بچوں کے لیے نفسیاتی، جذباتی، فکری اور سماجی تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے متعدد نظمیں لکھی ہیں۔ نظموں کے موضوعات میں ایثار، دوستی ، محبت، صفائی ستھرائی کے علاوہ جانوروں، پرندوں اور پھولوں کی رنگ و بو کو لے کر کئی اچھی نظمیں لکھی ہیں۔ انھوں نے نظموں کے علاوہ نثر میں بھی طبع آزمائی کی ہے اور بچوں کے لیے چھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھی ہیں۔ حامد اللہ افسر،  راجہ مہدی علی خاں، اندر جیت لال ، لطیف فاروقی،  صوفی تبسم، مائل خیرآبادی وغیرہ کے نام بھی اہم ہیں جنھوں نے ادبِ اطفال میں گرانقدر اضافے کیے ہیں۔

ادبِ  اطفال کے تعلق سے اگر نثری کاو شوں پر نظر ڈالیں تو کئی ایسے نام سامنے آئیں گے جو اردو فکشن کے بڑے ادیب ہیں لیکن انھوں نے بچوں کے لیے بھی لکھا ہے؛  جیسے حیات اللہ انصاری، کرشن چند ر، قرۃ العین حیدر وغیرہ۔ ڈاکٹر ذاکر حسین جو بعد میں صدر جمہوریہ ہند بھی ہوئے، انھوں نے بھی بچوں کے لیے کہانیاں لکھی ہیں۔ جہاں تک بچوں کے رسائل کا تعلق ہے، ان میں پھول، کلیاں، غنچہ، بچوں کی دنیا،کھلونا ، چاند ، ہلال ، نور، بچوں کا آجکل ، امنگ وغیرہ اہم ہیں۔


حواشی

1.           اردو ادب اطفال کے معمار، مصنف،  ڈاکٹر خوشحال زیدی، نہرو چلڈرن اکیڈمی،  (سنہ اشاعت، جنوری 1993)

2.    بچوں کے ادب کی تاریخ،مصنف،  ڈاکٹر سید اسرارلحق سبیلی (اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ ڈگری کالج سدی پیٹ، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی

3.    ادبِ اطفال ایک مطالعہـــ، مصنف ڈاکٹر بانو سرتاج، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی

 

Helal Ahmad Ganai

Research Scholar, Dept of Urdu

Aligarh Muslim University

Aligarh - 202001 (UP)

ہندوستانی آئین میں اردو زبان کا مقام:آفتاب عالم

 

انسانی زندگی میں زبان کی اہمیت :

 انسان فطری طورپر معاشرے میں ایک ساتھ زندگی گزارنا پسند کرتاہے اسی وجہ سے بنی نوعِ انسان نے موجودہ معاشرے کی تشکیل کی ہے۔ زبان انسانی تعلق کا ایک اہم جز ہے۔اگر چہ تمام انواع کے جاندار کے رابطے کے طریقے الگ الگ ہیں لیکن انسان کے رابطے کا ذریعہ صرف زبان ہے۔زبان میں معاشرے کو بنانے اور تباہ کرنے دونوں کی طاقت ہے۔انسان کی زندگی میں زبان کی اہمیت نا قابلِ تردید ہے کیوں کہ جذبات، احساسات اور نظریات کے اظہار اور آپسی تعامل اور تہذیب و تمدن کے تحفظ اور ترسیل کا واحد ذریعہ زبان ہے۔زبان ہی ہے جو انسان کو تمام جاندا ر سے ممتاز کرتی ہے اور اہم، بے مثال اور اعلی ترین مخلوق بناتی ہے۔ زبان صرف ذریعہ مواصلات ہی نہیں بلکہ جب ہم بات کرتے ہیں، پڑھتے اور لکھتے ہیں یہاں تک کہ جب ہم سماج بنانے کے عمل میں ہوتے ہیں، گاڑی چلاتے ہیں یا تجارت کرتے ہیں ہر جگہ زبان کو کسی نہ کسی شکل میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ زندگی کے ہر پہلومیں زبان شامل ہے۔ زبان کی اصطلاحی تعریف یہ کی جاسکتی ہے کہ زبان الفاظ، علامتوں، نشانیوں، آوازوں، اشاروں کا ایک نظام ہے جس کا استعمال ایک طبقہ،قوم اور ایک ثقافت کے لوگوں میں عام ہوتاہے۔

زبان اور ثقافت:

زبان اور ثقافت میں ایک گہراربط ہے اور دونوں کے مابین جز اور کل کا رشتہ ہے۔ہر زبان کسی نہ کسی مخصوص قوم اورلوگوں کی جماعت کی نشاندہی کرتی ہے اور اس کی ثقافت کا اظہار اسی زبان کے ذریعے ہوتاہے۔ جب ہم کسی دوسری زبان والے کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس ثقافت کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں۔دنیا کی کسی بھی ثقافت تک رسائی اور اس کی سمجھ بغیر اس کے متعلق زبان کے نہیں ہوسکتی۔ کرامچ (1991) نے کہا ہے کہ زبان اور ثقافت دونوں لازم اور ملزوم ہیں اور ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ زبان اور ثقافت دونوں ہی انسانی زندگی کے لازمی جز ہیں نیز زبان ثقافت کا تعین کرتی ہے اور اس پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ثقافت کے بغیر زبان مردہ ہے اور زبان کے بغیر ثقافت کی کوئی شکل نہیں ہوگی۔ زبان انسان کی شخصیت او ر اس کی تہذیب و ثقافت کا لازمی جز ہے جس کا کردار نوع انسانی کو وحشت سے نکال کر معاشرتی زندگی میں لانے میں اہم ہے۔ایک نسل سے دوسری نسل تک تہذیب و ثقافت اور علوم و فنون منتقل کرنے میں زبان کا رول ناقابل فراموش اور ناقابل تردیدہے۔

اردو زبان اور اس کی مقبولیت:

اردو زبان خالص ایک ہندوستانی زبان ہے جس میں اتنی شیرینی ہے کہ اس کو محبت کی زبان کہاجاتاہے اور اس کی ابتدا بھی غزل اور عشق و عاشقی کی شاعری سے ہوئی ہے۔ آزادی سے پہلے اور اس کے بعد بھی اس زبان کی مقبولیت میں کبھی کمی نہیں آئی بلکہ بر صغیر کی نہایت مقبول اور ہندوستان کی آئینی زبانوں میں سے ایک ہے۔اس زبان پر عربی اور فارسی کے اثرات ہونے کے باوجود ہندی کی طرح ایک ہند آریائی زبان ہے جس کی پیدائش اور ترقی برّ صغیر ہند میں ہوئی۔اردو اور ہندی دونوں جدید ہند آریائی زبانیں ہیں اور دونوں کی اساس یکساں ہے، صوتی اور قواعدی سطح پر دونوں زبانیں اتنی قریب ہیں کہ ایک زبان معلوم ہوتی ہیں لیکن طریقۂ استعمال اور رسم الخط کی سطح پر دونوں میں فرق نمایاں ہے۔

اردو جنوبی ایشیا کی اہم اور بڑی عوامی زبانوں میں سے ایک ہے اور روز بہ روز اس کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہورہاہے۔ حقیقت میں یہ زبان عوامی تہذیب کی سطح پر ترسیل کا ذریعہ ہے اور فلموں، ڈراموںاور تمام طرح کے تفریحی پروگرام میں وسیع پیمانے پر استعمال کی جاتی ہے۔ اس کے باوجود کہ اردو دنیا کی نئی زبانوں میں سے ایک ہے لیکن اپنے پاس معیاری ادب اوراس کا ایک وسیع ذخیرہ رکھتی ہے اور خصوصاًجنوبی ایشیائی زبانوں میں یہ اپنی شاعری کے حوالے سے مشہوراورمعروف ہے۔

 ہندوستان میں زبان کی پالیسی:

ہندوستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اس ملک میں زبان، تہذیب و تمدن، نسل،مذہب اور ذات و غیرہ کا تنوع نہایت ہی قدیم اور مضبوط ہے۔تنوع اس ملک کی شناخت ہے اورا س کثیر ثقافتی اور کثیرلسانی معاشرے میں موجود امن و شانتی اور بھائی چارے کی وجہ ہے کہ تنوع میں وحدت کے لیے دنیا میں ہندوستان کی مثال دی جاتی ہے۔ آزادی کے بعدمجلس دستور ساز نے آئین ہند میں بھی اس تنوع کا پاس و لحاظ رکھا ۔ عہد قدیم اور عہد وسطی نیز عہد جدید میں بھی ہندوستان کے مختلف علاقوں میں مختلف حکمرانوں کی حکومت ہو نے کی وجہ سے مختلف زبانیں بولی جاتی تھیں۔ اس ملک میں افراد بیک وقت کئی زبانیں استعمال کرتے ہیں مثلاًایک زبان معاشرے میں دوسری زبان آفس میں اور تیسری زبان مذہبی معلومات اور رسومات میں۔ تاریخی طور پر اکثر ممالک میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ہمیشہ مذہبی رسومات، عدالت اور اشراف کی زبان، تعلیم اور ادب و ثقافت کی زبان اور گھر اور معاشرے کی ایک زبان ہوتی ہے اوراعلی تعلیم اور اشراف کی زبان کا ہی غلبہ رہتاہے لیکن ہمارا ملک ہندوستان اس معاملے میں منفرد ہے کیوں کہ ہندوستان میں ہر 60-80 کیلومیٹر میں زبانیں بدل جاتی ہیں اور کسی ایک زبان کا غلبہ بھی نہیں ہے۔ ویدک عہد میں رابطے کی زبان سنسکرت تھی، اس کے بعد پالی، عہد وسطی میں فارسی اورپھر اردو اور انگریزوں کے دور میں انگریزی اور آزادی کے بعد ہندوستان کے مختلف حصوں میں ہندی کے ساتھ اردو بھی رابطے کی زبان ہے۔

آئین ہند:

یہ آئین جمہوریہ ہند کا دستور اعلی اور دنیا کا سب سے ضخیم تحریری دستور ہے جس میں جمہوریت کے بنیادی سیاسی نکات اور حکومتی اداروں کے ڈھانچے، طریقہ کار، اختیارات اور ذمے داریوں نیز شہریوں کے بنیادی حقوق، رہنما اصول اور ان کی ذمے داریاں شامل ہیں۔ اس دستور کا معماراعظم ڈاکٹر بھیم رائو امبیڈکر ہیں جو آئین ہند کی مجلس مسودہ سازی کے صدر تھے۔ آئین ہند کے مطابق دستور کو موجودہ پارلیمان پر فوقیت حاصل ہے لہذا پارلیمان اس دستور کو معطل نہیں کر سکتی ہے۔ آئین ہند کو مجلس دستور سازنے 26 نومبر 1949 کو تسلیم کیا اور 26 جنوری 1950 کو نافذ کیا۔ نفاذ کے وقت یہ دستور 22 ابواب، 8درج فہرست اور 395پر مشتمل تھا اور جنوری 2019 کے ڈاٹا کے اعتبار سے103 ترمیم کے بعد اس دستور میں 25 ابواب، 12 درج فہرست اور 448 ہیں۔ اس ملک کے عاملہ، مقننہ اور عدلیہ کو اختیار اسی دستور سے ملتا ہے اور سب اسی کے پابند ہیں۔

دستور ہندکی دفعہ 21 اور21 اے:

 دفعہ21کے تحت اس ملک کے ہر شہری کو اپنی زندگی اور ذاتی آزادی کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔ قانون کے ذریعے قائم کردہ طریقہ کار کے علاوہ کسی بھی شخص کو اس کی زندگی اور ذاتی آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ دفعہ21 اے شہریوں کو یہ بنیادی حق دیتا ہے کہ ریاست چھ سے چودہ سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم مہیا کرے اور اس کے لیے ریاست قانون بناسکتی ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں چودہ کی عمر کو بڑھا کر 18 کردیاہے۔اب اس میں اسکول کی مکمل تعلیم آجاتی ہے جو مفت اور لازمی اس ملک کے ہر بچے کو دی جائے گی۔

دونوں دفعات سے یہ استخراج ہوتا ہے کہ اس ملک کا ہر شہری اپنی مرضی سے جینے اور آ زادی سے جینے کا بنیادی اور آئینی حق رکھتاہے اور اس آزادی سے جینے میں اپنے تہذیب و تمدن، ثقافت اور ریتی رواج کے ساتھ جینا شامل ہے۔ 2009 میں Right to Education (آر ٹی ای )ایکٹ پاس ہوا جس کا مقصد اس ملک کے ہر بچے کو مفت اور لازمی اسکو ل کی تعلیم دیناہے۔ لہٰذا وہ اپنے آئینی حقوق، ذمے داریاں اور تہذیب و تمدن، ثقافت اور ریتی رواج اور اس کی اہمیت سے بخوبی واقف ہو جا ئیں گے اور ان کے تحفظ کے لیے اقدامات بھی اٹھاسکیں گے۔جس فرد اور شہری کی تہذیب و تمدن، ثقافت کا حصہ اردو زبان ہے وہ صرف اس کے ساتھ جینے پر اکتفا نہ کرکے اس کے تحفظ کے لیے اپنے آئینی حقوق کا استعمال اور اقدامات بھی اٹھائیں گے۔

ہر مذہب اس کی تعلیمات کسی نہ کسی زبان کے سہارے لوگوں تک پہنچتی ہیں۔اردو کی ابتدائی دور میں ترویج و اشاعت اور ترقی میں صوفیائے کرام کا ناقابل فراموش کردار رہا ہے اور شروع سے ہی مدارس اور مکاتب بھی اس ضمن میں نہات ہی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہندوستان بلکہ اس بر صغیر میں اسلامی تعلیمات اور مذہبی معلومات کا سب سے بڑا ذخیرہ اردوزبان میں موجود ہے۔مذکورہ بالا دفعات کے ذریعے حاصل شدہ بنیادی حقوق کے حصول کے ضمن میں اردو زبان کا تحفظ اور ترویج و اشاعت کی جا سکتی ہے۔آئینِ ہندمذہب کے تعلق سے جو بنیادی حقوق فراہم کرتاہے اس کے ذریعے مختلف زبانوں کو تخفظ حاصل ہے اور ان کی وجہ سے زبان کی بھی حفاظت کی جاسکتی ہے۔

دستور ہندکی دفعہ 29 اور 30:

دفعہ 29 اور 30 دونوں اقلیتوں کو کچھ مخصوص حقوق کی ضمانت دیتی ہیں۔دفعہ 29 اقلیتوں کے مفاد کا تحفظ اس طرح کرتی ہے کہ کوئی بھی الگ زبان، رسم الخط اور ثقافت رکھنے والے شہری اور قوم کو اپنے ان امور کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے۔ ان دفعات کے تحت کسی کے ساتھ بھی مذہب، نسل، ذات، زبان یا ان میں کسی کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کیا جاسکتا۔دفعہ 30 اقلیتوں (مذہب یا زبان کی بنیاد پر ہو) اس بات کا حق دیتا ہے کہ وہ اپنے اعتبار سے تعلیمی ادارے قائم کریں اور انتظام کریں۔ حکومت اقلیتوں کے اداروں میں مداخلت نہیں کرسکتی اور ناہی ان کے ساتھ امتیازی سلوک کر تے ہوئے ان کی امدادروک سکتی ہے۔لسانی اور مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قومی اقلیتی کمیشن کا قیام عمل میں آیاہے۔

یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ زبان افراد کی ثقافت اورتہذیب و تمدن کا ایک جزوِلاینفک ہے اور جن لوگوں کی زبان اردو ہے یہ ان کی بھی ثقافت کا ایک حصہ ہے۔ لہذا اس کے بولنے والوں کو مکمل آئینی حق حاصل ہے کہ اس کا تحفظ کریں اور اس غرض سے اپنے تعلیمی ادارے قائم کریں اور حکومت سے امداد بھی حاصل کریں۔آئین ہند کی یہ دو دفعات اردو زبان والوں کو بنیادی حق دیتی ہیں کہ اس زبان کے فروغ اور ترقی کے لیے ہمہ جہت کوششیں کریں۔ان ہی دفعات کے تحت ملک میں لاکھوں لسانی اقلیتی تعلیمی ادارے قائم ہیں اور لسانی خدمات   میں مشغول ہیں خصوصی طورپر اردو زبان میں تعلیم دینے والے تعلیمی ادارے لا محدود ہیں جن سے اردو زبان کابراہ راست فروغ ہورہاہے۔

دستور ہند کی دفعہ 350، 350اے اور 350 بی:

دفعہ 350 ہر شہری کو حق دیتی ہے کہ وہ اپنی شکایت کے ازالے کے لیے یونین اور صوبے کے کسی افسر یا اتھارٹی کے پاس اس ملک میں استعمال ہونے والی کسی بھی زبان میں اپنی نمائندگی پیش کرے۔ 350 اے کے تحت اس ملک کی ہر ریاست اور مقامی اتھارٹی کی یہ کوشش ہوگی کہ وہ لسانی اقلیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو تعلیم کے بنیادی مرحلے میں مادری زبان میں تعلیم کے لیے مناسب سہولیات مہیا کریں۔ صدر جمہوریہ کسی بھی ریاست کو اس طرح کی ہدایات جاری کرسکتے ہیں اگر وہ اس طرح کی سہولیات کی فراہمی کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری یا مناسب سمجھتاہے۔ 350 بی کے تحت لسانی اقلیتوں کے لیے ایک خصوصی افسرکی تقرری صدر جمہوریہ کے ذریعے کی جائے گی۔یہ افسر آئین کے تحت لسانی اقلیتوں کو حاصل شدہ حقوق کی حفاظت سے متعلق تمام معاملا ت کی تحقیقات کرے گا اور صدر جمہوریہ کو رپورٹ کرے گا، یہ رپورٹیں ہرسال ایوان کے سامنے رکھی جائیں گی اور متعلقہ ریاستوں کی حکومتوں کو بھی بھیجی جائیں گی۔ ان دفعات کے مدنظر اردو کے محبین حکومتی معاملات میں اردو زبان کا کثرت سے استعمال کرسکتے ہیں اور حکومتوں کو پابند کراسکتے ہیں کہ ان کے بچوںکو اردو زبان میں ہی بنیادی تعلیم مہیاکرائیں اور ایسا نہ ہونے پر اس کی شکایت اس افسر سے کرسکتے ہیں۔

دستور ہندکی دفعہ 345 اور 347:

دفعہ 345 ملک کی ہر ریاست کو حق دیتی ہے کہ وہ اپنی مقننہ کے ذریعے ریاست میں بولی جانے والی زبانوں میں سے کسی ایک یا زیادہ زبان کو سرکاری زبان کے طورپر اپنا سکے۔دفعہ 347 کے تحت ریاستیں اپنی عوام کے ایک مخصوص طبقے کے ذریعے بولی جانے والی زبان کو پوری ریاست میں یا کسی خاص حصے میں ان عوام کے تقاضے پر حکومتی زبان کے طورپر مان سکتی ہیں اور مخصوص انتظامات کرسکتی ہیں۔

نئی تعلیمی پالیسی2020 اور ہندوستانی زبانوں کا فروغ:

 نئی تعلیمی پالیسی ہندوستان کی اکیسویں صدی کی سب سے اہم تعلیمی پالیسی ہے جو ایک لمبے انتظار کے بعد 2019 میں ایک مسودے کی شکل میں پیش کی گئی۔ ہندوستان کی یونین کابینہ نے اس مسودے کو 29 جولائی 2020 کو اپنی منظوری دی۔ یہ پالیسی ہر زاویے سے انقلابی، دوررس اور جامع ہے اور تعلیم کے تمام پہلوؤ ں جیسے بنیادی تعلیم، اعلی تعلیم، درس و تدریس، نصاب، تعلیمی نظم و نسق،صنعتی تعلیم، تعلیمی سرمایہ کاری، تعلیم بالغان اور تکنیکی تعلیم وغیرہ پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ اس پالیسی نے ملک کے تعلیمی ڈھانچے کے سارے زاویے جیسے قوانین، انتظام اور نظم و ضبط وغیرہ میں تصحیح اور سدھار کی پیشکش کی تا کہ ایک ایسا نیا نظام تیار کیا جا ئے جو اکیسویں صدی کے مقاصد کو پورا کرے اورامیدوں پر کھراترے۔

اس پالیسی کے ذریعے تمام ہندوستانی زبانوںجن میں اردو بھی شامل ہے کے تحفظ، نشو و نما اور فروغ کی ضمانت دی گئی ہے۔ اس پالیسی میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہر علاقے کی ثقافت وروایات کی صحیح شمولیت، اس کا تحفظ اور اسکولوں میں تمام طلبا کی صحیح تفہیم اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جب قبائلی زبانوں سمیت تمام ہندوستانی زبانوں کو مناسب احترام دیاجائے۔ اس طرح صحیح معنوں میں ہندوستان کی زرخیززبانوں جیسے اردو زبان اور ادبیات کا تحفظ کرنا با لکل ناگزیر ہے۔ اس پالیسی میں اس کی یقین دہانی کی گئی ہے کہ پورے ہندوستان میں مضبوط قومی اور علاقائی زبان اور ادب کے پروگراموں، اساتذہ کی تقرری، تحقیق اور کلاسیکی زبانوں کے فروغ کے ذریعے زبان، ادب اور سائنسی الفاظ پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔کلاسیکی زبان و ادب کے فروغ کے لیے موجودہ قومی اداروں کو مضبوط کیا جائے گا اور ایک قومی انسٹی ٹیوٹ برائے پالی، فارسی اور پراکرت بھی قائم کیا جائے گا۔سائنسی اور تکنیکی اصطلاحات کے کمیشن (Commission for Scientific and Technical Terminology)کا منشور اور فرمان یعنی ملک بھر میں یکساں استعمال کے لیے ذخیرہ الفاظ تیار کیا جائے گا۔

خاتمہ

مذکورہ بالا آئین کی دفعات اور ان میں اس ملک کے شہریوں کو دیے گئے حقوق اردو کی ترقی اور فروغ کا ضامن ہیں بشرطیکہ اس زبان کے بولنے والے اور اس کی محبت کا دعوی کرنے والے ان دفعات اور حقوق سے واقف ہوں۔محض واقفیت بھی کافی نہیں ہے بلکہ اس زبان کی ترقی اور فروغ کے لیے دیگر زبانوں کی طرح سعی مسلسل کی ضرورت ہے۔

اس زبان کی ترقی کے لیے خلوص کے ساتھ اس زبان کا کثرت سے استعمال کرنے، تعلیمی ادارے جہاں ذریعہ تعلیم اردو ہوقائم کرنے، اور اردو زبان کے فروغ کے لیے اس ملک میں قائم اداروں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔اس زبان کے تحفظ کے لیے آئین ہند کی جانکاری اور اس کی تعمیل نیز جمہوری اقدار اور طریقہ کار کو اپنانے کی ضرورت ہے۔اس زبان میں اتنی حلاوت ہے کہ یہ زبان بذات خود ترقی کی راہ طے کرے گی بشرطہ کہ اس کے راستے میں رکاوٹ پیدانہ ہو اور اگر ہو تو اس کو دور کیا جائے۔

Aftab Alam

College of Teacher Education,

MANUU)Darbhanga, Ilyas Ashraf Nagar

Chndanpatti, Laheria Sarai

Darbhanga- 846002 (Bihar)

Mob.: 8285835517