12/1/26

رام پور رضا لائبریری کے چند اہم مخطوطات: تعارف و جائزہ ،مضمون نگار: محمد عبدالقادر

 اردو دنیا،اکتوبر 2025

رام پور رضا لائبریری کا شمار،دنیا کی چند اہم لائبریریوں میں ہوتا ہے، جس میں ہندوستانی اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے بیش قیمتی مآخذ و منابع موجود ہیں۔ اسے مخطوطات اور اسلامی تاریخ کے حوالے سے ایشیا کی سب سے بڑی لائبریری ہونے کا بھی شرف حاصل ہے۔ اس کی بنیاد، نواب فیض اللہ کے ہاتھوں 1774 میں رکھی گئی اور اس کی باقاعدہ تعمیر و ترقی کا زمانہ نواب سعیدخان کی تخت نشینی سے شروع ہوتا ہے انھوں نے ریاست رام پور کی اصلاح و ترقی میں اپنا کردار ادا کیا تو اس لائبریری کو بھی اصلاحی امور میں شامل کر کے تاریخ پر گراں قدر احسان کیااس عہد سے لے کر آج تک اس کی تابندگی میں اضافہ ہو تارہا ہے۔ نوابین رام پور نے ہر عہد میں اس کی حفاظت و صیانت میں بڑھ کر حصہ لیا ہے۔ہر نواب نے اس کی تعمیر و ترقی میںاپنے پیش رو سے زیادہ دلچسپی لی اور اس کی جلوہ سامانیوں کے نت نئے طریقے ایجاد کیے۔نوابین رام پورکونوادرا ت کا  بڑا شوق تھا انھوں نے نوادرات جمع کرنے کے لیے کو بہ کو شہر بہ شہر انپے کارندے پھیلا رکھے تھے جو عوام و خواص میں نوادرات کی تلاش و جستجو اور خرید پر مامور تھے خصوصی حالات میں نوادرات کے حصول کے لیے بڑی سے بڑی رقم دی جاتی، عام حالات میں نوادرات کی اہمیت کے لحاظ سے اس کی قیمت اداکی جاتی، اس طرح بہت سے اہم اور کار آمد سکے، مہریں، اور مخطوطا ت اس کی زینت بن گئے۔

اس میں عربی، فارسی، پشتو، سنسکرت، ترکی، ہندی،  تمل اور پنجابی زبانوںکی پندرہ ہزار قلمی کتب نیز سیکڑوں پینٹنگس،خوش خطی کے نادر و نایاب نمونے اس میں موجود ہیں۔ان سب سے بڑھ کر اس کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اس میں امام جعفر رضی اللہ تعالی عنہ کے دست کا لکھا ہوا قرآنی نسخہ بہ خط کوفی موجود اور لائق قرأ ت ہے۔ نایاب تفسیروں میں امام سفیان ثوری کی تفسیرکا واحد نسخہ اس کی زینت بنا ہوا ہے۔عرشی نے اس کو مرتب کرکے علمی دنیاکے سامنے پیش کیا ہے۔عربی کے مشہور شاعر جریر بن عطیہ کا دیوان مع شرح موجود ہے۔فارسی زبان و ادب میں کلیات سعدی، خسرو،اور تفسیر طبری کے چند فارسی تراجم موجود ہیں۔ اردوزبان و ادب کے حوالے سے دیوان زادہ شاہ حاتم جس کوانھوں نے اپنے دیوان سے مختصر کیا تھا،کلیات میر، سودا،حسن، جرأت، سوز،غالب کے دواوین کے نسخے اس میں موجود ہیں۔ ان شاء اللہ خان کی رانی کیتکی کے دو نسخے اس میں محفوظ ہیں۔

ہندی ادب کے حوالے سے بھی اس میں نایاب ذخیرہ اس کے خزائن کی دولت کو مزید تابندہ و تابناک بنا رہا ہے اس جانب تو کسی کی نظر ہی نہیں گئی اس کے مخطوطات پر ہندی ادبا کو کام کرنے کی بڑی ضرورت ہے تاکہ والیان رامپور کی علم پرستی اور ادب نوازی کا اندازہ ہو سکے اوراس کا یہ علمی ذخیرہ عام ہندی قارئین کے سامنے آجائے جس سے وہ اس علمی میراث سے مستفید ہوسکیں۔ مغلیہ دور حکومت سے متعلق مخطوطات کی بھی اس میں بہتات ہے کچھ مخطوطات بیرم خان عبدالرحیم خان خاناں وغیرہ کے دست کے یہاں ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے نوادرات بھی اس کی زینت ہیں جو صرف دنیا میں اسی کا حصہ ہیں باقی کسی بھی کتب خانے میںدیکھنے میںنہیں آتے۔فتاوی عالم گیری کے ترجمے کی اولین کاوش کا شرف روہیل کھنڈ کو حاصل ہے اس کا ترجمہ یہیں کیا گیا۔ نواب رام پور نے اس کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی کیوں کہ یہ سبھی فقہ حنفی کے پیرو کا ر تھے اس لیے اس حوالے سے عبادات و معاملات کے فیصلے اس کی روشنی میں کیے جاتے اس کام کے لیے اس عہد کے نہایت نام ور علما کی خدمات حاصل کی گئیں لیکن اس کی بد نصیبی کہیے کہ وہ آج تک شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ ممتاز عالم دین مفتی سعد اللہ مرادآبادی جن کی شہرت ونام وری کے چرچے چار دانگ عالم میں تھے ان کے قلم سے’طلسم ہوش ربا‘ کا نہایت حسین ترجمہ اس کی زینت ہے اس کے تراجم کی الگ الگ جلدیںمختلف ترجمہ نگاروں کے قلم کی زائیدہ ہیں مزید ان کے سوا ایسے جواہر پارے اس کی زینت ہیں کہ جن کے دیدار اورقرأ ت سے دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔اور مخطوطات کے حوالے سے تو یہ لائبریری اس قدر وسیع ہے کہ کوئی بھی محقق اس سے بے نیازی نہیں برت سکتا قدیم ہندوستانی تواریخ کے ایسے نایاب و نادر مآخذ اس میں موجود ہیں جن سے آنکھیں پھیرنا نا ممکن ہے اگر تحقیقی میدان  میں اعتبار حاصل کرنا ہے تو ان سے استفادہ کرنا ہی ہوگا۔ ورنہ کسی بھی محقق کی کاوش کو خواص میںاعتبار حاصل نہیں ہوگا۔ مخطوطات کے حوالے سے جیسا کہ مذکور ہوچکا یہ دنیا بھر میںاپنا کوئی جواب نہیں رکھتے، اس میں ہر موضوع سے متعلق، مواد کی اس درجہ کثرت ہے،جس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا، اس میں طب و حکمت، منطق و فلسفہ، فصاحت و بلاغت، بیان و بدیع، شعر و شاعری، سیرت و سوانح، تاریخ و تذکرہ،تجوید و قرأت، ناسخ و منسوخ، تاویل و تفسیر، حدیث،اصول حدیث، فقہ اور اصول فقہ، تصوف و طریقت، عقائد و اعمال اور تعارف رجال، فلسفہ و سحر، رمل و جفر جیسے سیکڑوں علوم و فنون سے متعلق ہزاروں مخطوطات کے ساتھ اسلامی علوم و فنون کی بیش بہا کتب اس میں محفوظ ہیں۔

 اردو کے قدیم شعرا کے تذکرے بھی اس کی زینت ہیںفارسی زبان وادب کی نہایت عظیم الشان کتابیں اس میں موجود ہیں۔ اس عہدمیں ان کی ترتیب و تدوین کی ضرورت ہے تاکہ ان علمی ذخائر تک عام اہل علم کی رسائی ہو سکے اور ان سے استفادہ ممکن ہو سکے۔اردو کے ابتدائی تذکر ے بھی فارسی زبان میں مکتوب ہیں ان کے متداول اور غیرمتداول نسخوں سے ان کی ترتیب تدوین کا کام لیا گیا ہے جس وجہ سے ان کے متون اغلاط سے پر ہیںاگر ان میں یہ خامیاں نہیں بھی ہیں تو یہ جدید پیمانے پر پورے نہیں اترتے اس لیے اس عہد میں اس ذخیرے پر دوبارہ تنقیدی نظر ڈالنے کی اشد ضرورت ہے۔  اس کے لیے ان کے مطبوعہ اور غیر مطبوعہ نسخوں پر نظر ڈالنا وقت کا اہم تقاضا ہے عبد الحق، قاضی عبد الودود، امتیاز علی عرشی، حبیب الرحمن شیروانی، مسعود حسن رضوی ادیب، حنیف نقوی، اکبر حیدری یہی گنے چنے نام ہیں جنھوں نے اس جانب توجہ کی ہے۔باقی لوگوں کی دسترس سے یہ ذخیرہ باہر تھا جس وجہ سے عام محققین نے اس جانب نہایت کم توجہ دی۔ یا توجہ دینا چاہا بھی تو ان کی رسائی ان تک ممکن نہیں تھی اس وجہ سے ان کے حواس جواب دے گئے۔ مخطوطات کو بہ حیثیت فن مختلف زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ان کی مختلف قسمیں اس لائبریری میں موجود ہیں۔اردو شعرا سے متعلق تذکروں کے مخطوطات کو دو حصوں میں بانٹا جاسکتا ہے۔اولاً وہ تذکرے جو خود مصنف کے دست خط سے مزین ہیں۔ اور دسرے وہ تذکرے جو کسی کاتب نے نقل کیے ہیں دونوں قسم کے تذکرے اس میں وافر مقدار میں موجود ہیں۔

نکات الشعرا کا ایک ناقص الاوسط نسخہ اس میں موجود ہے۔ اس کا ایکسس نمبر 4811 ہے۔ اس کا سائز انیس ضرب گیارہ ہے۔ اس کے ہر صفحے پر15  سطور ہیں یہ میر تقی میرکے ہاتھ کا لکھا ہوا نسخہ ہے۔اس کے اوراق کی تعداد چھبیس اورصفحات 52 ہیں۔ لیکن اس کے اوراق پر جو نمبر درج ہیں وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ اس میں کمی ہے اگر وہ اوراق محفوظ ہوتے تو اس نسخے کی کیفیت نہایت بلند و بالا ہوتی۔اس کا زمانہ تصنیف 1752 ہے اس کی تکمیل کے بعد بھی اس میں میر نے اضافے کیے جس پر اس کے مندرجات شاہد ہیں میر نے اس میں فارسی کی تقلید کی ہے۔ اس کے اولین صفحے کی پشت پرریاست رام پور کی مہر ثبت ہے۔اس کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے ہوتا ہے اس کا خاتمہ اس شعر پر ہوتاہے        ؎

 کہاں آتی میسر مجھ کو تجھ سی خود نمائی

یہ خیر اتفاق، آئنہ ترے رو بہ رو ٹوٹا

(نکات الشعرا قلمی، میر تقی میرمخزونہ رضا لائبریری رام پور،ورق نمبر 26)

 اس کے تمام عنوانات شنگرفی روشنائی سے مکتوب ہیں۔ اس کا خط شکستہ ہے۔ بد خط ہے۔ اس کے اسلوب سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ نسخہ رواروی میں لکھا گیا ہے۔ اس کے اوراق آب رسیدہ ہیں، پورا نسخہ کرم خوردگی کا شکار ہے۔اس کا زمانہ تالیف و تصنیف اٹھارہویں صدی عیسوی ہے۔ اس کی تصنیف کس کے ایما پر ہوئی اس حوالے سے یہ نسخہ رہنما نہیں ہے۔بعض مواقع پر اس کی قرأت مشکل امر بن جاتی ہے۔اس کے کرم خوردہ اوراق کی جلد سازی میں دوسرے اوراق سے مدد لی گئی ہے۔اس کے آخری ورق پر بھی ریاست کی مہر مکتوب ہے۔ لیکن اس کے تمام اوراق پر ایک دوسرے ترتیبی نمبر بھی مکتوب ہیں جس سے قیاس کیاجا سکتاہے کہ یہ نسخہ کسی دوسری کتاب کے ساتھ ملصق تھا۔ورنہ اس کے ترتیبی نمبر اس پر مندرج نہ ہوتے۔اس کا کاغذ ہینڈ میڈ دہلوی ہے۔ اس کی رنگت مائل الی الصفرۃ ہے لیکن امتداد زمانہ کی وجہ سے اس کی رنگت کہیں بھوری اور کہیں عنابی ہوگئی ہے۔اس پر مصنف یا کاتب کی جانب سے کوئی مہر مکتوب نہیں ہے۔اس میں حواشی موجود نہیں ہیں۔ لیکن مصنف کی جانب سے دیگر شعرا کے اشعار پر تصحیح موجود ہے۔اس میں میر کے قلم نے نہایت قیمتی گوہر لٹائے ہیں اس میں لسانی مباحث اور زبان کے امثال و محاورات سے اس کی قدر و قیمت میں ایسے اضافے کیے ہیں جن کی مثال اس عہد کی تذکرہ نگاری میں مفقود ہے۔میر نے کہیں مختصر اورکہیں طویل تبصرے کرکے اس کے تنقید ی پہلوروشن کیے ہیں۔مضمون اور حاتم کے اشعار پر ان کی تصحیح کچھ اس طرح مندرج ہے۔ حاتم کے سوانحی کوائف میں میر لکھتے ہیں کہ اگر یہ شعر میرا ہوتا تو میں اسے ایسے لکھتا        ؎

اگرچہ شعر من می شود این چنیں می گفتم

مبتلا آتشک میں اب ہوں میں

آگے آیا میرے کیا میرا

(ایضا ص 20)

 میر نے انھیں کے ایک دوسرے شعر کی تصحیح میںایک لفظ کااضافہ کرکے شعر کی معنویت کو کس طرح آسمان کی بلندیوں تک پہنچادیا اوراس اضافہ نے اس کی دل کشی کے ساتھ اس کی معنوی رونق بھی مزید بڑھائی ہے جس سے میر کی معنی شناسی کے ساتھ ان کی بصیرت کا عرفان بھی ہمیں ہو جا تا ہے کہ میر کو انھیں باریکیوں اور لفظ شناسی کی وجہ سے شاعری کا خدائے سخن کہا جاتا ہے۔ ان استاذ شعرا کے یہاں بھی یہ خوبیاں مفقود ہیں جو میر نے ان کے اشعار میںتھوڑی سی ترتیب وترمیم اور حذف و اضافہ کرکے پیدا کی ہیں یہ صرف میر کی استادی کا کمال ہے۔ورنہ ان کی جانب خود شاعر کا ذہن بھی راہ نہ پا سکا اگر اس جانب ان کا ذہن راہ پاتا تو وہ ان خوبیوں کوہرگز فراموش نہیں کرتے جن کی ایجاد کا سہرا میر کے سر ہے۔ ان کے ایک دوسرے شعر کی تصحیح کرتے ہوئے لفظ قصاب کا میر نے اضافہ کیا ہے۔اور اس اضافے نے شعر کی بلندی کو چار چاند لگائے ہیں          ؎

نظر آتا تھا بکری ساکیا پر ذبح شیروں کو

 نہ جانا میںکہ یہ قصاب کا رکھتا ہے دل گردا

(ایضاً، ص 20)

اس نسخے میں صفحہ نمبر گیارہ بارہ نصف ساقط ہے اس میں شعرا کی کل تعداد بانوے ہے یہ سبھی امور نسخے کی کیفیت سے متعلق ہیں اور اس کے صفات کی تشریح وتوضیح میں ممد ومعاون ہیں اگر محقق کو ان کا علم نہ ہو تو وہ کما حقہ نسخہ شناسی کے عرفان سے محروم رہے گا۔ نسخہ شناسی میں قدم قدم پر ان سبھی امور سے واسطہ پڑتا رہتا ہے۔

 تذکرہ ریختہ گویاں،سید فتح علی گردیزی 1224ھ مطابق1809 کی تصنیف ہے۔ ان کا تعلق گردیزی سادات سے ہے ان کی پیدائش دہلی میں ہوئی ان کو تصنیف وتالیف کا شوق تھا۔اس میدان کے سوا دوسرے میدانوں میں بھی ان کے رشحات قلم موجود ہیں۔ اس تذکرے کے دو نسخے رام پور رضالائبریری میں موجود ہیں ایک نسخہ کامل ہے اور دوسرا نسخہ ناقص الاول ہے۔ اس میں دیباچہ اورچودہ شعرا  کے تراجم مفقود ہیں۔اس کے صفحہ اول پر یہ عبارت مندرج ہے:

’’تذکرہ ریختہ گویاں از سید فتح علی حسینی گردیزی کہ بخط سید محسن علی صاحب سراپاسخن است‘‘

(ریختہ گویاں قلمی از سید فتح علی گردیزی ورق 1  مخزونہ رام پور رضا لائبریری رام پور )

اول الذکر نسخے میں ستانوے اور ثانی الذکر میں شعرا کی تعداد تراسی ہے۔ ان دونوں نسخوںکے شعرا کی تعداد میں چودہ شعرا کا فرق ہے۔ اس میں کون سے شعرا مذکور ہیں اورکون سے اس میں مذکور نہیں ہیں اس حوالے سے دونوں کا تقابل کرنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ان دونوں میں کافی فرق ہے۔ اول الذکر میں حمد و ثنا اور دیگر لوازمات تالیف کا لحاظ رکھا گیا ہے لیکن ثانی الذکر اس حوالے سے عاری ہے۔ بلا واسطہ حمد و ثنا سے اس کا آغاز ہوتا ہے۔اس حوالے سے دونوں میں یکسانیت موجود ہے۔اس کے کاتب سید محسن علی محسن ہیں۔ رضا لائبریری میں موجود ثانی الذکر نسخے کا ایکسس نمبر موجود نہیں ہے۔لیکن اس کا سیریل نمبر اس کی پیشانی پر درج ہے مزیداس کا قدیم نمبر بھی اس پر درج کیا گیا ہے۔ اس کی تشریح و توضیح کے لیے مصنف یا کاتب کی جانب سے کسی بھی قسم کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا ہے۔ اس کی زبان فارسی اور زمانہ کتابت 1166ھ مطابق 1752 عیسوی ہے۔ اس کا رسم الخط نستعلیق ہے۔لیکن اس کی کتابت باریک قلم سے کی گئی ہے۔اس میں کل شعرا کی تعداد ستاسی ہے۔ اس کے مجموعی اوراق کی تعداد 26 اور صفحات 52 ہیں۔ اس کے اورق میں سطورکی تعداد بھی متفرق ہے کسی صفحے میں یہ تعداد پندرہ، انیس، بیس یا اس سے کم ہے۔اوراق کرم خوردگی کا شکار ہیں۔لیکن ان کی مرمت کا اہتمام کیا گیا ہے ان کی رونق اور مرمت میں کسی بھی قسم کی کوئی کمی نہیںرہنے دی گئی ہے ان کو لائق استفادہ بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کو بروئے کار لایا گیا ہے۔ ان اوراق میں کسی بھی قسم کی تزئین کاری نہیں کی گئی ہے۔یہ اوراق جداول سے بھی عاری ہیں جو اس عہد میں عموماً رائج تھی۔اس میںچند جگہوں پر حواشی توموجود ہیں لیکن مصنف کی جانب سے کسی بھی قسم کی یاد داشت اس نسخے کاحصہ نہیں ہیں۔ اس میں آغاز تا انجام کسی بھی قسم کی مہرمکتوب نہیں ہے اس میں ترقیمہ بھی مفقود ہے۔ امتداد زمانہ کی وجہ سے ان اوراق کی رنگت پیلی ہوگئی ہے۔لیکن اس میں بھی تفاوت موجود ہے۔ سبھی کا رنگ ایک دوسرے سے جداگانہ ہے۔ اس کے نو صفحات درمیان سے یک گونہ خالی ہیں۔اور اس نسخے میں یہ سادہ پن کاتب کی جانب سے ہے۔اس کا سائز تیس ضرب بیس ہے۔ اس کا کاغذ ہنڈ میڈ دہلوی کاغذ ہے۔ اس کی روشنائی سیاہ ہے اس کے سوا اس نسخے میں کسی بھی روشنائی کا استعمال نہیں کیا گیا ہے اس کے جلی عنوانات میں کسی بھی امتیاز سے گریز کیا گیا ہے۔بعض صفحات میں یہ روشنائی پھیل گئی ہے۔ محسن نے اس کی کتابت کہاں کی ہے یہ آج تک پردہ خفا میں ہے۔کس کی فرمائش پر یہ معرض وجود میں آیا یہ بھی مجہول الحال ہے۔ اس کا خاتمہ اس شعر پر ہوتا ہے       ؎

دل پہ میرے ہیں داغ تیرے ہجر کے کئی

گنتی میں جن کی عمر میری سب گذر گئی

(ایضاً، ص 52)

 اس عہد میں بھی رضا لائبریری کا یہ نسخہ اپنے نقصان کے باوجود قارئین کو دعوت مطالعہ پیش کر کے اپنی جلوہ سامانیوں سے ادبی جہات کوروشنی فراہم کر رہا ہے۔

اردو میں میر حسن کی شناخت مختلف جہات سے ہوتی ہے۔تذکرۃ الشعرا از میر غلا م حسن کے بھی دو نسخے اس میں موجود ہیں۔ اسی تذکرے سے اردو زبان و ادب میں تذکرہ نگاری کی داغ بیل پڑی اوراس زبان کے اولین تذکرہ نگار ہونے کا ان کو شرف حاصل ہے۔ اس تذکرے کو میر حسن نے بڑی عمدگی کے ساتھ مرتب کیا ہے اپنے گرامی اوقات صرف کرکے ادب میں بہترین نمونہ پیش کیا اس کا آغازاس عبارت سے ہوتاہے۔مزید اس سے قبل رب یسر وتمم بالخیر کے دعائیہ کلمات شنگرفی روشنائی سے مکتوب ہیں:

’’سخن سنجان مضمون پرور، احمد قادری کہ بزبان لال قلم،از سرمہ دودہ ہم چشم منقاربلبلاں نمودہ اند۔‘‘ 

(تذکرۃ الشعرا قلمی از میر غلا م حسن ورق نمبر۱ مخزونہ رام پور رضا لائبریری رام پور)

 یہ نسخہ کامل ہے۔اس میں شعرا کو تاریخی اعتبار سے منقسم کیا گیا ہے متقدمین، متوسطین اورمتاخرین کے زمرے،اس کو ایک الگ حیثیت عطا کر رہے ہیں۔ اس کے کاتب خود میر حسن ہیں۔ اس کا خط نستعلیق ہے۔اگر چند مواقع کو شمار نہ کیا جائے تو یہ اول تا آخر خوش خطی کا بہترین نمونہ ہے جو اس بات کی روشن دلیل ہے کہ میر حسن کوخطوط کی اچھی خاصی معرفت حاصل تھی یہی وجہ ہے کہ ان کا طریقہ کار اس عہد میں رائج طریقوں سے جدا گانہ ہے۔ اور انھوں نے بہ قدر استطاعت اس میں جدت کو برتنے کی سعی مشکور کی ہے۔  اس کے اوراق 158اور صفحات تین سو سولہ ہیں۔ اس کا سائز بایئس ضرب ساڑے تیرہ ہے۔اس کا کاغذ ہینڈمیڈدہلوی کاغذ ہے۔ یہ نسخہ کرم خوردگی کاشکارنہیں ہے۔ اس کی جلد عمدہ اور اس کے اوراق نہایت صاف ستھرے اورسادہ ہیں۔ اس کے ہر صفحے میں،اول تا آخر تیرہ سطریں ہیں۔ مصنف نے اس کے اوراق میں جداول کااہتمام کیاہے۔اس کی طلائی جدولیں اس کی خوب صورتی میں اضافہ کا باعث ہیں۔ اس میں دو جگہ کے سوا کہیں بھی حاشیہ درج نہیں ہے۔ مصنف کی یاد داشتوں سے یہ نسخہ خالی ہے۔ میر حسن نے اس کے مواد کو تختیوں میں بانٹا ہے۔بہت ساری جگہوں پر اس کے صفحات سادہ ہیں۔ اس میں شنگرفی اور سیاہ روشنائی کا استعمال کیا گیا ہے۔ جلی عنوانات شنگرفی روشنائی سے درج کیے گئے ہیں۔ میر حسن کی جانب سے اس میں کسی مہر کا استعمال بھی نہیں کیا گیا ہے۔ اس کا مقام کتابت اور کس کی فرمائش پر یہ معرض وجود میں آیا، کس واسطے سے یہ رضا لائبریری پہنچا یہ سبھی امور آج بھی مجہول ہیں۔  اس نسخے میں نثر ونظم کے اندراج میں مصنف نے امتیاز برتا ہے۔ اگر نظم درج کی ہے تو ہر صفحے کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے اورنثر میں یہ اہتمام مفقود ہے۔ اس میں ترقیمہ موجود نہیں ہے اس کا خاتمہ اس شعر پر ہوتاہے       ؎

 گل نرگس میں بھیجوں ہوں یعنی

چشم تیرے ہی انتظار میں ہے

( ایضا ، ص 316)

تذکرۃ الشعرا کا دوسرا نسخہ بھی اس میں موجود ہے اس کے اوراق اس نسخے سے کم ہیں ان کی تعداد 122 اور صفحات 244 ہیں اس کا خط بھی نستعلیق ہے لیکن نہایت پراگندہ ہے چند مواقع پر تو اتنا بد نما ہے کہ دماغی مشقت کا باعث بن جاتا ہے۔اس میں جداول کا اہتمام نہیں کیا گیا ہے۔اس کا حجم بھی کم ہے۔ اس کے ہر صفحے میں پندرہ لائنیںہیں۔ یہ نسخہ بھی کامل ہے اس کا آغاز اولین نسخے کی مانندہوتا ہے۔ اس کا سائز پچیس ضرب ساڑھے پندرہ ہے۔ اس کا کاتب مجہول ہے۔ یہ کرم خوردہ ہے۔ لیکن اس کی تزئین و آرائش کا اہتمام نہیں کیا گیا ہے اس کی جلد صاف ستھری ہے نیز یہ اس عہد میں بھی لائق استفادہ ہے۔اس پر حواشی مفقود ہیں اس کے اوراق میںچند لائنیں خط کشیدہ ہیں۔اس کے آغازسے قبل بسم اللہ مکتوب ہے۔ لیکن رب یسر وتمم بالخیر کے دعائیہ کلمات اس نسخے میں موجود نہیں ہیں اول الذکر نسخے میںعلامت تخلص کئی جگہ مفقود ہے لیکن اس میں کاتب نے اس کا اہتمام کیا ہے۔ اس کا خاتمہ بھی اسی کی طرح ہے۔لیکن اس میں کاتب کا ترقیمہ موجود ہے لیکن ترقیمہ سادہ ہے۔ اس کی عبارت حسب ذیل ہے:

’’تمت تمام شد، روز دو شنبہ تمام شد ‘‘

(تذکرۃ الشعرا قلمی نسخہ ثانی از میر حسن، ص 244، مخزونہ رام پور رضا لائبریری رام پور)

اس ترقیمہ سے اس کے دن کا تعین ہو جاتا ہے اول الذکر میں یہ تعین مفقود ہے ان دونوں نسخوں میں کافی فرق ہے اور یہ دونوں مستقل الگ الگ نسخے ہیں۔ ان کے چند فرق یہاں درج کرتاہوں تاکہ ان کے فرق کو سمجھنے میں آسانی ہو۔میر، درد کے سوانحی کوائف دونوں میں یکساں ہیں لیکن اشعار کے درمیان فرق ہے۔ اول الذکرنسخے میں میر درد کے انتیس اشعار درج ہیں لیکن ثانی الذکر میں ستائیس اشعار درج ہیں۔ میر ظفر علی آزاد کے سوانحی کوائف میں یکسانیت ہے لیکن مذکورہ نسخے میں یہ شعر کم ہے         ؎

 مرغ دل تیری جدائی سے تڑپتا ہے

اس کو کیا حکم ہے آزاد کروں یا نہ کروں

(ایضاً، ص 16 )

ایک فرق ان میں یہ بھی ہے کہ اول الذکر میں اشعار کی ترتیب میں خلل پیدا ہو جاتا ہے لیکن اس نسخے میں اس حوالے سے صحت کا بھرپور لحاظ رکھا گیا ہے۔میر انشاء اللہ خان کے انتخاب میں بھی کمی بیشی ہے۔ اس میں سات شعر ہیں اور نسخہ اولی میں آٹھ شعر درج ہیں اول الذکر نسخے میں انشا کا انتخاب’ گالی سہی، جفا سہی، چیں جبیں سہی‘ سے شروع ہوتا ہے لیکن اس میں اس شعر کا اضافہ ہے        ؎

گر نازین کے کہنے سے مانو ہو کچھ برا

میری طرف تو دیکھیومیں نازنین سہی

(ایضاً، ص 123)

اس شعر کے سوا باقی اشعار یکساں ہیں۔ اس نسخے میں چند مواقع پر عبارتیں مٹ گئی ہیں۔ اکثر جگہوں پر حروف بوسیدہ ہوگئے ہیں۔ اس میں نستعلیق شکستہ آمیز ہو گیا ہے۔ محمد اعظم نامی شاعر کا اس میں اضافہ ہے جو اول الذکر میں موجود نہیں ہے بے نوا کے بیان میں بھی ان دونوں نسخوں میں فرق ہے لیکن کس کی دین اس جانب اس نسخے میںکوئی اشارہ موجود نہیں ہے اس بارے میں راقم کا خیا ل یہ ہے کہ یہ کاتب کی کرشمہ سازی ہے۔ اس طرح مزید فرق ان دونوںنسخوں میں موجود ہیں جن کی تعداد کا تعین تقابل کا متقاضی ہے اس حوالے سے الگ مضمون میں روشنی ڈالی جائے گی تاکہ اس کا کوئی بھی پہلو تشنہ نہ رہ سکے۔ اس مضمون سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ رام پور رضا لائبریری رام پورکی ادبی وراثت، محققین کی نظر نوازی کی حاجت مند ہے تاکہ اس کا ذخیرہ عام قاری کے سامنے آسکے ورنہ اس بحر ذخار کوعبور کرنا کسی ایک انسان کے بس کا کام نہیں۔

 

Mohd Abdul Qadir

Research Scholar, Dept of urdu

Delhi University

Delhi- 110007

Mob.: 9411659868

abdulquadirmisbahi7@gmail.com


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

اِبن کنول کی غیر افسانوی نثری خدمات،مضمون نگار: عامر عباس

  اردو دنیا،اکتوبر 2025 ابن کنول کا شمار اردو ادب کے ان اہم قلم کاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے کلاسیکی ادب کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے جدید ت...