12/1/26

تسلیم نیازی: اردو کا قلندر مزاج شاعر،مضمون نگار:احمد نثار

 اردو دنیا،اکتوبر 2025

اردو ادب کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو نہ صرف اپنی تخلیقات سے بلکہ اپنے طرزِ فکر، لہجے، اور ادبی روش سے ایک الگ پہچان قائم کرتی ہیں۔ تسلیم نیازی ایسی ہی ایک منفرد اور غیر روایتی شخصیت کا نام ہے، جو اردو شاعری میں قلندر مزاجی کا استعارہ بن کر ابھرتے ہیں۔ ان کی شاعری نہ صرف لسانی حدود کو چیلنج کرتی ہے بلکہ فکری جمود کو توڑ کر قاری کو ایک نئی معنویت سے روشناس کراتی ہے۔ قلندر کی طرح وہ کسی رسم یا تقلید کے پابند نہیں، وہ اپنی راہ خود بناتے ہیں، اپنی زبان خود تراشتے ہیں، اور اپنے قاری کو جھنجھوڑ کر جگانے کا ہنر رکھتے ہیں۔ تسلیم نیازی کا یہ قلندرانہ اندازِ سخن اردو شاعری کو ایک نئی جہت عطا کرتا ہے۔

تسلیم نیازی اپنے عہد کی دھڑکن تھے، سماج کے المیے، انسان کے باطن، اور فطرت کے نازک احساسات کو شعری قالب میں ڈھالنے کا ہنر جانتے تھے۔ ان کی شاعری صرف ردیف و قافیہ کی ترتیب نہیں بلکہ فکر و احساس کی بلند پروازی ہے۔

تسلیم نیازی اپنے مشاہدے، مطالعے اور فکری گہرائی سے اشعار میں وہ تاثیر پیدا کرتے ہیں جو روح کو چھو جائے۔ ان کے کلام میں جمالیاتی نزاکت، فکری بلندی اور انسانی دکھوں کا سچ ہوتا ہے جو قاری کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ ان کی غزلیں ہوں یا نظمیں، وہ جذبات کی گہرائی میں ڈوبی ہوتی ہیں۔ تسلیم نیازی کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ اپنے الفاظ سے معاشرتی شعور بیدار کرتے تھے۔ وہ روایتوں کی پاسداری کرتے ہوئے جدت کی راہیں نکالتے تھے۔

تسلیم نیازی کا اصل نام محمد تسلیم ہے اور جائے ولادت موضع ویائو، ضلع نالندہ(بہار) ہے۔ولادت کی تاریخ 17 فروری 1966 اور وفات 19 جنوری 2021 کو ہوئی انھیں برن پور کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ انھوں نے بی اے تک کی تعلیم حاصل کی تھی۔ انھوں نے اپنی علمی اور ادبی زندگی کا بیشتر حصہ علی گڑھ اور برنپور(آسنسول، مغربی بنگال) میں گزارا۔ وہ ایک دانشور، استاد، نقاد اور ماہرِ لسانیات بھی تھے، لیکن ان کی اصل شناخت شاعر اور صحافی کے طور پر ہوئی۔

تسلیم نیازی نے اپنے شعری سفر کا آغاز روایت کی پیروی سے کیا، لیکن جلد ہی وہ غزل کو محض رومانیت اور تشبیہات سے نکال کر ایک فکری تجربہ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔

تسلیم نیازی کی شخصیت میں سنجیدگی، فکری پختگی اور انفرادی طرزِ فکر نمایاں ہے۔ وہ عمومی میلانات سے ہٹ کر سوچنے والے، خوددار اور آزادیِ فکر کے علمبردار شاعر تھے۔ ان کی شاعری کا دائرہ صرف جمالیات تک محدود نہیں بلکہ تہذیبی، معاشرتی، سیاسی اور فلسفیانہ مضامین بھی اس میں سمائے ہوئے ہیں۔

تسلیم نیازی کی شاعری میں زبان ایک نیا تجربہ ہے۔ انھوں نے اردو زبان کے محاوروں، روزمرہ، دیہی لہجوں، جدید استعاروں، اور علمی اصطلاحات کو اس طرح استعمال کیا کہ اردو شاعری ایک نئے دور میں داخل ہو گئی۔

ان کے یہاں غزل محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ ایک فکری اور لسانی تجربہ ہے۔ انھوںنے زبان کو شاعری میں اس طرح برتا کہ وہ خود ایک موضوع بن گئی۔

تسلیم نیازی کی شاعری میں درج ذیل موضوعات نمایاں ہیں، تشخص اور شناخت کا بحران، مابعد الطبیعیاتی سوالات، سیاسی و سماجی تضادات، فرد کی تنہائی اور عدمِ مطابقت، محبت کا نیا شعور اور تہذیبی شکست و ریخت وغیرہ۔ ان کی غزلیں عام طور پر پیچیدہ اور علامتی ہوتی ہیں، لیکن ان میں گہرائی، تنوع اور معنویت کا ایک وسیع جہان موجود ہے۔ان کے ہم عصر شعرا نے ان کے اسلوب کی پذیرائی کی، اور ان کی جدت کو غزل کے ارتقا میں سنگِ میل قرار دیا۔ انھوں نے سینکڑوں غزلیں، رباعیات، قطعات اور نظمیں کہیں، مجموعے اور دیوان شائع کیے جن میں  ڈالفن، لہو شعر، جی خراب رہتا ہے، تجھے کیا پتا۔ ’تجھے کیا پتا‘  تسلیم نیازی کے غیر مطبوعہ کلام کا مجموعہ ہے جسے مغربی بنگال اردو اکادمی کے تعاون سے 2025 میں شائع کیا گیا جس کی مرتبہ ان دختر نیک اختر شاذیہ نیازی ہیں) وغیرہ شامل ہیں۔

چند اشعار ملاحظہ ہوں            ؎

ہم اپنے زخموں کو لائے ہیں اس مقام پہ خود

کسی کے پاس برائے نمک نہیں گئے ہیں

دنیا سے تو ہر جنگ میں وہ ہارا ہوا ہے

اپنے ہی خلاف آج محاذ آرا ہوا ہے

جلتے تھے جو چراغ وہ سب لو سے باز آئے

لازم ہے اب ہوا بھی تگ ودو سے باز آئے

بڑی امید سے تکتے ہیں سب تری آنکھیں

نہ جانے کس کو کریں منتخب تری آنکھیں

پیش ہے تسلیم نیازی کے چند اشعار کی تشریح و تجزیہ         ؎

ہم نہ موتی میں نہ مرجان میں رکھے ہوئے ہیں

ہم تو پاسنگ ہیں میزان میں رکھے ہوئے ہیں

اس شعر میں شاعر نے نہایت گہرا اور علامتی انداز اپنایا ہے۔ موتی اور مرجان دونوں قیمتی اور خوبصورت جواہرات ہیں۔ ان کا ذکر اکثر بلند مقام، قدر و قیمت اور دلکشی کے لیے کیا جاتا ہے۔

شاعر کہتا ہے کہ ہم ان قیمتی چیزوں میں شمار نہیں ہوتے،  یعنی ہماری حیثیت نہ بلند ہے، نہ قابلِ فخر۔ یہ ایک خود آگاہی یا خود انکاری کا مظہر ہے۔ ہم وہ نہیں جنھیں سراہا جائے، یا جنھیں زینت بنایا جائے۔

دوسرا مصرع:  ’ہم تو پاسنگ ہیں میزان میں رکھے ہوئے ہیں

پاسنگ ترازو میں رکھی جانے والی وہ چھوٹی سی چیز ہوتی ہے جو وزن کو توازن دینے کے لیے رکھی جاتی ہے، لیکن اس کی خود کوئی قدر یا قیمت نہیں ہوتی، یہ صرف معیار یا پیمائش کا آلہ ہے۔ شاعر نے یہاں اپنی ذات کو ایک ایسی چیز سے تشبیہ دی ہے جو صرف دوسروں کو پرکھنے یا تولنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، مگر خود کسی وقعت یا مرکزیت کی حامل نہیں۔

وہ شخص جو دوسروں کے لیے معیار بنتا ہے، لیکن خود نظرانداز کیا جاتا ہے۔ جیسے ایک استاد، ناقد یا مصلح، جسے معاشرہ صرف دوسروں کے کام آنے کی حد تک یاد رکھتا ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ ہم ترازو کے توازن کے لیے رکھے گئے ہیں، ہماری موجودگی سے دوسروں کا وزن معلوم ہوتا ہے، لیکن ہمیں کوئی نہیں گنتا۔ یہ شعر خود آگاہی، انکساری، اور معاشرتی بے قدری کے احساسات کا خوبصورت اظہار ہے۔ شاعر نے اپنے وجود کو کسی شوخ و قیمتی چیز کے بجائے ایک چھوٹے، مگر ضروری کردار سے تشبیہ دی ہے، جو نظر انداز ضرور کیا جاتا ہے، مگر غیر ضروری نہیں۔یہ شعر           ؎

کب سے ہے انتظار کسی خوش خرام کا

مجھ سے بھی کوئی گزرے، گزرگاہ میں بھی ہوں

یہ شعر کلاسیکی اردو غزل کی روایت میں عاشقانہ، انتظار، اور تنہائی کے جذبات سے لبریز ہے۔ شاعر کے احساسات میں گہری چاہت، بے قراری، اور ایک طرح کی خاموش التجا جھلکتی ہے۔

پہلا مصرع: ’کب سے ہے انتظار کسی خوش خرام کا

کب سے‘ یہ فقرہ طویل انتظار اور وقت کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعر مدتوں سے کسی کا منتظر ہے۔

انتظار‘ یہاں صرف جسمانی موجودگی کا انتظار نہیں، بلکہ ایک خاص کیفیت، ایک محبوب، ایک خواب جیسی ہستی کی راہ دیکھنا مراد ہے۔

کسی خوش خرام کا‘ یہ لفظ محبوب کی خوبصورتی، نرمی، اور پرکشش شخصیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

شاعر ایک ایسی شخصیت کا منتظر ہے جو نہ صرف خوبصورت ہو بلکہ اس کی چال میں بھی کشش ہو۔

دوسرا مصرع: ’مجھ سے بھی کوئی گزرے، گزرگاہ میں بھی ہوں

شاعر نہ صرف انتظار میں ہے بلکہ خود کو اس راستے پر موجود تصور کرتا ہے جہاں سے محبوب کا گزر ممکن ہو۔

مجھ سے بھی کوئی گزرے

ایک خاموش فریاد ہے۔ جیسے شاعر محبوب کو پکار رہا ہو کہ’میں بھی تو یہاں ہوں، ایک نظر ادھر بھی ہو۔

یہ احساس کہ ’میں بھی قابلِ توجہ ہوں‘، ایک خود پر سوال بھی ہے اور محبوب سے امید بھی۔

یہ ایک نہایت لطیف اور گہرا شعر ہے جو عشق، انتظار، اور تنہائی کی کیفیت کو نہایت دلنشیں انداز میں بیان کرتا ہے۔ شاعر اپنی موجودگی کو ثابت کر رہا ہے، لیکن ساتھ ہی اس کی بے بسی بھی جھلک رہی ہے۔

یہ شعر          ؎

جی خراب رہتا ہے

تو یہاں نہیں ہے کیا

یہ ایک مختصر، مگر گہرا شعر ہے جس میں ایک داخلی کیفیت اور خارجی حقیقت کے درمیان تعلق قائم کیا گیا ہے۔

پہلے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ میرا ’جی‘ (یعنی دل، ذہن یا طبیعت) خراب رہتا ہے، تو کیا اس کی کوئی وجہ یہاں موجود نہیں؟ کیا وہ سبب یا شخص جو اس کیفیت کا باعث ہے، یہاں (قریب، آس پاس یا زندگی میں)  موجود نہیں؟ دوسرا مصرع سوالیہ ہے، جو شکایت، حیرت اور استفسار کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ الفاظ عام فہم ہیں، مگر معنوی طور پر گہرائی رکھتے ہیں۔

اس شعر کا نفسیاتی و فلسفیانہ پہلو ہے کہ شاعر مسلسل بے چینی محسوس کرتا ہے مگر اس کی وجہ مکمل طور پر واضح نہیں ہوتی۔ شاعر اس بے چینی کا سبب کسی مخصوص وجود یا کیفیت سے جوڑ کر گویا یہ کہہ رہا ہے کہ اگر میرا جی خراب رہتا ہے، تو ضرور کوئی وجہ یہاں موجود ہے، یعنی یہ دنیا، یہ ماحول، یہ رشتے، سب میں کوئی نہ کوئی خرابی یا کمی موجود ہے۔ یہ شعر سادگی میں لپٹی ہوئی ایک گہری فکر پیش کرتا ہے۔ شاعر نے اپنی داخلی کیفیت کو اس قدر عمومی اور موثر انداز میں پیش کیا ہے کہ قاری کو اپنے وجود کی کیفیت کا عکس اس میں دکھائی دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا شعر ہے جو ذاتی احساس کو اجتماعی تجربے میں ڈھال دیتا ہے۔

یہ شعر جدید اردو شاعری کے اس رجحان کی نمائندگی کرتا ہے جس میں داخلی تجربات کو مختصر مگر پرتاثیر انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔

تسلیم نیازی کی شاعری نئی صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ وہ کلاسیکی غزل کے مزاج کو ایک جدید پیرایہ میں ڈھالتے ہیں۔ ان کا شعری سرمایہ اردو ادب کا قیمتی اثاثہ ہے۔ ان کی شاعری صرف تخلیقی اظہار ہی نہیں بلکہ فکری ارتقا کا استعارہ بھی ہے۔ وہ شاعر جس نے روایت کے ساتھ مکالمہ کیا، زبان سے تجربہ کیا، اور جدید انسان کے ذہنی اور روحانی تضادات کو فن کے دائرے میں برتا، تسلیم نیازی کو بجا طور پر اردو غزل کی نئی سمت کا رہنما کہا جا سکتا ہے۔


Ahmad Nesar

Editor 'Aalmi Falak'

Mohammad Ali road, City Colony

By Pass, P.O: B-Polytechnic- 828130

Dhanbad (Jharkhand)

Mob.: 8409242211

ahmadnesar2211@gmail.com


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

اِبن کنول کی غیر افسانوی نثری خدمات،مضمون نگار: عامر عباس

  اردو دنیا،اکتوبر 2025 ابن کنول کا شمار اردو ادب کے ان اہم قلم کاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے کلاسیکی ادب کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے جدید ت...