اردو دنیا،اکتوبر 2025
معاصر
افسانوی منظرنامے میں ابواللیث جاوید منفرد اور جداگانہ طرزِ تحریر کی بدولت ایک
الگ شناخت رکھتے ہیں۔ 1970 کے قریب اردو کے افسانوی افق پر جو معتبر نام ابھرے ان
میں سرزمینِ بہار کا اہم رول ہے کہ یہاں حسین الحق، شفق، عبدالصمد، شموئل احمد اور
شوکت حیات وغیرہ کے ساتھ ابواللیث جاوید کی آمد سے اردو افسانے میںا یک نئی روش
کا آغاز ہوا۔
2018 کے اوائل سے قبل ابواللیث جاوید کو میں شخصی اعتبار
سے نہیں جانتا تھامگر ایک موقع سے ملاقات کی جب گھڑی آئی تو میں ان سے متاثر ہوئے
بغیر نہ رہ سکا۔ اس کے دو اسباب تھے۔ ایک تو یہ کہ اپنی وضع قطع کے اعتبار سے جہاں
وہ صوفی منش دکھائی دئیے وہیں دوسری جانب عصرِ حاضر میں دم توڑتی ہوئی اخلاقی
قدروں کے ضامن بھی۔ اس کا ثبوت انھوں نے یہ پیش کیا کہ میرے سلسلے میں ایک موقر
رسالہ میں شائع ہوئے میرے ایک مضمون کے حوالے سے مجھ سے متعلق اپنے ایک رشتۂ پارینہ
کی دریافت کی اور عرصۂ دراز سے گم شدہ ایک خاندانی رشتے کو آباد کردیا۔میری نظر
میں ان کا یہ عمل گہری اخلاقی جرأت کا مظہر تھا جو عہدِ حاضر میں سماجی اعتبار سے
ایک بڑے تناسب میں زوال آمادہ ہے۔ ایسے بحرانی حالات میں ابواللیث جاوید اپنی شخصیت
اور اپنے فن کے لحاظ سے اس لیے غنیمت معلوم ہوتے ہیں کہ ان کے یہاں کسی قسم کے تصنع
یا تکلف کا گزر نہیں ہے۔ ان کے یہاں کلیدی حیثیت سے اگر کچھ ہے تو وہ ان کا مذہب
اور ان کی انسانی محبت ہے جو ان کے اخلاق مندانہ رویوں میں ڈھل کر اپنی صحتمند
معنویت کے ساتھ ان کے افسانوں میں جابجا جلوہ گر ہے۔
یوں
تو ماقبل میں وقفے وقفے سے ان کے تین افسانوی مجموعے منظرعام پر آچکے ہیں مگر
اتفاق ہے کہ میں ان سے محض اطلاع بھرہی آشنا ہوں جب کہ بعد میں یعنی 2017 میں ’اب
صبح نہیں ہوگی‘ کے نام سے مزید ایک افسانوی مجموعہ اشاعت پذیر ہوا۔ چودہ افسانوں
پر مشتمل اس مجموعہ کے پیش لفظ میں مصنفین کے مسائل پر ابواللیث جاوید نے تخلیقی
کاروبارِ شوق کے تعلق سے کئی توجہ طلب نکات اجاگر کیے ہیں تو حقانی القاسمی نے
’ارتعاشی افسانے ‘ کا عنوان دے کر افسانہ نگار کی شخصی صفات کے علاوہ ان کے افسانوی
مزاج واطوار کا بخوبی احاطہ کیاہے۔ کتاب کے آخر میں ’سچی باتیں‘ کا عنوان قائم
کرکے چند مشاہیر ادب کے فن و شخصیت سے متعلق گرانقدر آرا یکجا کی گئی ہیں۔ کتاب میں
شامل مختصر خوبصورت سی ایک نظم ’تتلی‘ کی تلاش وجستجو کے واسطے سے کسی قدر قابلِ
ذکر ہے۔
جہاں
تک ابواللیث جاوید کے افسانوں کا سوال ہے تو ان کی اساس ان کے منتخب کردہ ایسے
موضوعات و مشاہدات پر مبنی ہے جو اپنے سماج واطراف سے گہری وابستگی کے نتیجے میں
ظہور پذیر ہوئے ہیں۔ چنانچہ ان کے یہاں موضوعات کی سطح پربڑی وسعت ہے۔ اپنے پسندیدہ
موضوعات کے ذیل میں انسان انسان کے مابین اخلاق مندی اور وطنی اعتبار سے مذہبی
رواداری کے علاوہ اپنی زمین سے جذباتی وابستگی، سطح در سطح پھیلی بدعنوانی، حرص
وہوس کی عملداری، دینیات سے ناآشنائی، جہیز
پسند عالمِ سودائی،رہِ ظلمات کی اسیری، امتیازاتِ مشرق ومغرب سے آشنائی، نکسلی
ہنگامہ خیزیوں سے الفت ومحبت کی برآمدگی اور ہم جنس پرستی کے لعنتی وملامتی چلن
کے علاوہ جنگل کی دنیا کی سبق آموز سیرگاہی کا بطورِ خاص التزام دکھائی دیتاہے۔
ابواللیث
جاوید کے افسانوںسے ان کے انتساب کا جہاں ایک بلا واسطہ تعلق دکھائی دیتاہے جو
خدائے بزرگ وبرتر کے نام معنون ہے وہیں ان کے عملِ صالح کے تحت سورہ البقرۃ کا
اردو ترجمہ خدا، آدم اور ملائکہ کے حوالے سے تحریر کیا جانا ان کی صوفیانہ صفات
کو بخوبی اجاگر کرتاہے اور یہی سبب ہے کہ ان کے تقریباً تمام افسانوں میں موضوعات
کے ساتھ ساتھ کردار و واقعات کی سطح پر بھی مذہبی واخلاقی قدریں سایہ فگن دکھائی دیتی
ہیں۔ چنانچہ وہ صورتحال کو سامنے تو لاتے ہیں، اس کے ساتھ ہی مذہبی احکام کو پیش
کرنا بھی اپنے فرائضِ منصبی میں شمار کرتے ہیں۔ افسانہ’عالم پناہ‘، ’نصیب دشمناں‘
اور ’ میری بھی ایک بات‘ میں موضوعات کی سطح پر مماثلت ضرور ہے مگر افسانہ نگار کے
طرزِ اسلوب نے انھیں گہری توجہ کے ساتھ پڑھے جانے کے قابل بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ
متذکرہ افسانوں میں ایک نکتۂ خاص کا اشتراک یہ ہے کہ مذہبی اقدار سے لاتعلقی کے
سبب بالخصوص مسلمان حددرجہ عذاب میں مبتلا ہیں ورنہ گھریلو اعتبار سے آسودہ
افسانہ ’عالم پناہ‘ کے بدرِ عالم کی حرصِ دولت میں ملازمت سے معطلی کے بعد حضرتِ
بختیار کاکی کے آستانے پر گردشِ حالات سے نجات کے ہمراہ خوشنودیٔ خداوندی کی آرزو
مندی میں رسائی یقینی نہ بنتی۔ افسانہ ’نصیب دشمناں‘ میں بچے کو دین سے غافل رکھنے
اور محض دنیاوی تعلیم سے آراستہ کرنے کے بھیانک نتائج ایک شخص کے سامنے یوں آتے
ہیںکہ اس کا بیٹا جلال نہ صرف یہ کہ ایک غیرمسلم لڑکی سے ازدواجی طورپر وابستہ
ہوجاتاہے بلکہ وہ ملک کے باہر خود ڈاکٹر جئے لال بن جاتاہے اور بیٹے کا نام اسکول
میں کمل لال درج کراتا ہے۔’ میری بھی ایک بات‘ میں محض نام کے ایک قاضی کے حوالے
سے اس کے بالکل برعکس کردار و اطوار والے عصرِ حاضر کے جہیز کے ایک سودائی سے ہماری
آشنائی ہوتی ہے جس کے مطالبات میں لڑکی کی تصویر، ماروتی کار اور زیورات سبھی
شامل ہیں۔ اس افسانہ میں افسانہ نگار نے جہیز کے سلسلے میں جہاں سماج کے ایک غیر
مذہبی رویے کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے وہیں ایک صدائے احتجاج بھی بلند کی ہے۔
افسانہ کے آخر کے صرف دو جملے بطور مثال پیش کیے جاتے ہیں:
’’
میں تیزی سے باہر نکلا اور تیز تیز ڈگ بھرتا ہوا ان کے گیٹ
کے باہر آگیا۔ وہ مجھے بلاتے رہے مگر میں نے پیچھے مڑکر دیکھنا گوارہ بھی نہیں کیا۔‘‘(ص133)
’اب
صبح نہیں ہوگی‘ کے افسانوں کی ترتیب میں پہلا افسانہ ’چراغ کی لَو‘ ہے جسے فرقہ
وارانہ خیر سگالی کے ایک عمدہ ماڈل کے طورپر دیکھا جاسکتاہے۔ بالخصوص عصرِ حاضر میں
بابری مسجد کے تعلق سے مذہبی منافرت پھیلانے اور دلوں میں شگاف ڈالنے جیسے بدترین
عمل کو انگریزوں کی پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو جیسی پالیسی سے وابستہ کرتے ہوئے
افسانہ کا اختتام گائوں کے دونوں ہندومسلم فریقین کی دلی رضامندی پر کیا گیاہے
جہاں فرنگی جج کے مندر کے حق میں فیصلہ سنادئیے جانے کے باوجود وہاں کے باسیوں نے
اس سے اتفاق نہ کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی عدالت کے سامنے جلا دی تھی اور الفت ومحبت
کا عملی ثبوت پیش کیا تھا۔
افسانہ
نگار کا اسی طرز کا ایک افسانہ ’احساس‘ بھی ہے۔ اس افسانہ میں زلزلے کا ایک سماں
ہمارے ملاحظے میں آتاہے جہاں چہار جانب سے چیخ وپکار کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔ ایسے
بحرانی حالات میں بلا تفریق ِ مذہب وملت کارِ خیر کی روش کو عام کرنے کی ایک
صحتمندراہ ہمارے لیے وضع کرنے کی کوشش کی گئی ہے جہاں ایک دوسرے مذہب کا ریٹائرڈ
جوان مندر میں بیٹھے بھگوان پر چڑھاوے کے زیورات کی حفاظت کے لیے خود کو مامور کرلیتاہے
جب کہ اصلاً وہاں مامور پروہت ومکھیا زلزلے کے خوف سے فرار رہتے ہیں اور مصیبت کے
ٹل جانے کے بعد نمودار ہوتے ہیں۔
افسانہ
نگار نے اپنے سماج ومعاشرے پر توجہ مبذول کرتے ہوئے دو افسانے بعنوان ’زبانِ یار
من ترکی‘ اور ’اڑان ‘ تحریر کیے ہیں۔ اول الذکر افسانہ میں در اصل اپنے معاشرہ
ووطن سے بھٹکے ہوئے ایک ایسے خاندان کی شکست خوردگی کی داستان رقم کی گئی ہے جو
مدتِ طویل تک کناڈا میں بودوباش اختیار کرنے کے بعد اپنے مقام پر واپس لوٹتا ہے
اور اپنی خالص مغربی مزاج واطوار والی بیٹی کے لیے اپنے پڑوس کے انجینئر نوجوان کو
بیرونِ ملک کی آسودگی کا خواب دکھا کر اس سے منسوب ہونے کا آرزومند ہوتاہے مگر یہاں
افسانہ نگار نے اس نوجوان کے توسط سے انھیں انکار کی راہ دکھائی ہے اور یہ باور
کرانے کی کوشش کی ہے کہ ہزار تنگ دامانیوں کے باوجود ہماری زبان، ہماری تہذیب اور
ہمارا اسلامی معاشرہ بہر حال مقدم ہے اور اس سے کسی طرز کا سمجھوتہ محال ہے۔
افسانہ
’اڑان‘ میں بیرونِ ملک کے تعلق سے ایک بالکل متضاد کیفیت پیش کی گئی ہے جہاں پیداواری
رشتوں کو تیاگ کر دوردیس سے دل لگانے کا ایک الگ ہی قصہ بیاں ہوتاہے۔ یہ افسانہ
بڑے شہر میں کام کرنے والی ایک ملازمہ کے حوالے سے تحریر کیا گیاہے۔ یہاں مرکزی
کردار سلمیٰ کا ہے جو ایک بن بیاہی لڑکی ہے۔اس کے عزائم بلند ہیں کہ جہاں وہ اپنی
ماں اور بہنوں کی کفالت کرتی ہے وہیں بہنوںکی شادیوں کے ارادے بھی اسے دامن گیر
رہتے ہیں۔ فکری اعتبار سے اس افسانے کا عجیب موڑیہ ہے کہ وہ لڑکی اپنے اہلِ خانہ
کو بے دست وپا چھوڑکر صدیقی انکل کے چھوٹے انجینئر بیٹے جنھیں وہ سلمان خان سے
متشابہ مانتی تھی، ان کے ساتھ فرار ہوجاتی ہے۔ اس افسانہ میں افسانہ نگار نے اپنا یہ
مشاہدہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہمارے سماج میں سطح افلاس پر گزر بسر کرنے والوں
کے بالعموم کوئی Stand نہیں ہوتے
اور پلک جھپکتے عیش وآرام کی طلب میں وہ کچھ بھی کر گزرنے سے کبھی نہیں چوکتے۔
’اب
صبح نہیں ہوگی‘ کے عنوان سے تحریر کردہ افسانہ کا اسلوب نیا ہے اور وہ جدیدیت کے زیر
اثر تحریر کیا گیا ہے۔ متذکرہ تحریک کا ایک مخصوص عہد تک تخلیقی سطح پر شدید غلبہ
رہا جہاں اس بات سے انکار کی گنجائش بھی نہیں کہ اس عہد کے تحریر کردہ ادب میں ترسیل
کی پیچیدگیوں نے قاری کو اس سے یکسر بیگانہ بنا دیا تھا۔ چنانچہ اپنی شناخت و حیات
کے پیش نظر اکثر لکھنے والوں نے اپنے طرزِ تحریر میں تبدیلی پیدا کی اور صاف ستھری
راہوں پر گامزن ہوگئے۔ ابواللیث جاوید کے اس افسانہ کو اسی تجربۂ شوق کی نشانی
مانئے کہ تشکیلی اعتبار سے جس کی اساس علامت و استعارہ پر ٹکی تو ہے مگر معنوی
اعتبار سے افسانہ یہ باور کراتاہے کہ ہم وقتی راحت ومراعات کی طلب میں اپنے اسلاف
کی راہوں سے بھٹک کر ہزار مصیبتوں میں مبتلا ہوگئے ہیں اور اب ہمارے مابین حرام
وحلال کا امتیاز بھی باقی نہیں رہا۔ لہٰذا ہمیں اپنی روش بدلنے کی ضرورت ہے۔ شاید
کہ نئی صبح نمودار ہوجائے۔ پورا افسانہ دورانِ مطالعہ اس لیے بھی دلچسپ معلوم ہوتا
ہے کہ وہاں چرند وپرند کے استعارے ہیں اور بطورِ خاص ہنس کو مرکزیت حاصل ہے جس کے
خیالات نہایت پاکیزہ ہیں۔
افسانہ
’کیسے سمجھائوں‘ کا قصہ یہ ہے کہ وہ عصر حاضر کے نہایت اہم موضوع یعنی رشوت خوری
کے موضوع پرمبنی ہے۔ افسانہ گھر سے لے کر ملک گیر سطح کے متعلقہ حالات سے ہمیں
باخبر کرتاہے۔ اس افسانہ کا کردار ارجن اس طورپر بے حد اہم ہے کہ وہ بدعنوانی اور
کرپشن کے مسئلے پر شہر سے گائوں آتا ہے اور بازپُرس کرتاہے۔ متذکرہ مسئلہ کے ذیل
میں شہنشاہ اکبر اور سمراٹ اشوک وغیرہ کے ادوار سے بھی مثالیں پیش کی گئی ہیں۔افسانہ
کے اختتامی صفحہ پر رہنما اصول کے طور پر اپنائے جانے والے چند جملے قابل غور ہیں:
’’اپنی
ذہنیت کو بدلیے۔ نہ ایسی برائی خود کیجئے اور نہ کسی کو کرنے دیجیے۔ حل تو ہمارے
پاس ہے۔ صرف اس پر عمل کرناہے۔‘‘(ص47)
افسانہ’گردش‘
دراصل احتجاج کا افسانہ ہے جہاں گروجی کا کردار یہ ہے کہ وہ سارے عالم کو گردش سے
نجات پانے کی تدابیر بتاتے ہیں مگر خود ان کا المیہ یہ ہے کہ ان کے گھر میں تین بیٹیاں
بڑی عمر کو پہنچ گئیں اور ان کا نباہ نہ ہوسکا۔ اس افسانہ میں گروجی کے خانگی
حالات سے آشنا ہوکر آصف نامی کردار جو اپنے دوست اُتّم کے ساتھ اپنی پریشانیوں
سے نجات کی خاطر ان کے رابطے میں آیا تھا ان سے پورے طورپر متنفر ہوگیا۔
گویا
ایک تلخ حقیقت کے سامنے آتے ہی بطور انسان انسانی رویے میں جو تبدیلی رونما ہوئی
تھی وہ ان کی بیٹیوں کے سلسلے میں ایک طرح کا احتجاج تھی۔
’بن
باس‘ افسانہ میں افسانہ نگار نے ایک مریضہ مسز وہائٹ کی زبانی مغربی تہذیب کے جملہ
عیوب سے ہمیں روبرو ہونے کا وسیلہ عطا کیا ہے اور تقابلی اعتبار سے مشرقی کلچر کو
اعلیٰ و ارفع قرار دیا ہے۔ انھیں ہندوستان کے متعدد شہروں میں اپنے کلکٹر خاوند
مسٹر جان وہائٹ کے ساتھ بسر کیے ہوئے ایّام یادرہتے ہیں۔انھیں مشرقی کلچر میں
عورتوں کا ستی ہوجانا اور اپنے شوہروں کو مجازی خدا تصور کرنا قیمتی عمل معلوم
ہوتاہے جب کہ ان کی نگاہ میں مغرب میں زن وشو کے مابین باہمی لاتعلقی اور غیروں کے
مابین جنسی رشتوں کی استواری کے ساتھ بڑی عمروالوں کے اولڈ ایج ہوم پہنچائے جانے
کا مرحلہ ایک بڑا المیہ ہے۔ اس افسانہ میں انگریز خاتون کے ہندوستان میں قیام کے
دنوں کے ملازم اکبر اور لندن کے سینٹ تھامس ہاسپٹل میں مامور ڈاکٹر اعظم کے کردار
اہم ہیں۔
افسانہ
’پیج تھری‘ اپنے عنوان کے اعتبار سے تقریباً اپنا مدعا پیش کردیتا ہے۔ ہم جنس پرستی
کے موضوع پر افسانہ نگار کایہ ایک ایسا افسانہ ہے جہاں کالج کے دنوں سے سریش مسیح
اور سمیر خان کی ہم جنس پرستی کی داستان کا آغاز ہوتاہے۔ اس افسانہ میں ایک کردار
جاوید کا ہے جو دونوں کے تعلق سے کسی قسم کے تمسخر کا حامی نہیں ہے بلکہ وہ تو ان
کے روم کی دیوار پر انھیں عریاں دکھائے جانے اور ایک حمام میں دو ننگے جیسی سرخیاں
لگائے جانے کے عمل پر برطانوی اخبارات میں شائع ہونے والے پیج تھری کے مشمولات سے
انھیں آگاہ کرکے کسی قدر ڈھارس کا سامان فراہم کرتاہے۔ یہی نہیں وہ مشرقی معاشرے
میں بھی اخبارات کے توسط سے ماڈلس کی عریاں تصاویر کی اشاعت کے مایوس کن احوال بھی
بیان کرتا ہے۔ مگر جاوید کا قابلِ ذکر اہم کارنامہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے تعلق
سے مذہبیات کو بطورِ خاص فوکس کرتاہے۔ سمیر خان کو متنبہ کرتے ہوئے حضرت لوط علیہ
السلام کی قوم کا بے راہ روی کے سبب فنا کے گھاٹ اتارے جانے کا قصہ سنانے کا اس
کاعمل دراصل انھیں ہم جنس پرستی جیسی لعنت سے باہر نکالنے کی مؤثر کاوش ہے مگر اس
بدبختی کو کیا کہیے کہ وہ اپنے ہم جنس کے ساتھ لندن میں مقیم ہوجاتا ہے جہاں انھیں
شہریت وملازمت مل جاتی ہے۔ وہ کورٹ میرج کرلیتے ہیں اور برطانوی اخبار
’The Sun‘ کے پیج تھری پر ان کی بولڈتصویر شائع ہوتی ہے۔
’سناٹا
بولتاہے‘ افسانہ دراصل صوبہ بہار کے ایک گائوں اکبر پور کے سیاق وسباق میں تحریر کیاگیا
ہے جہاں بابو کیشو سنگھ اور حسن خاں جیسے زمینداروں کے زیر سایہ تمام مذہب وملت کے
لوگ مسرت کے دن گزار رہے تھے اور یہ آزادی کے آس پاس کا زمانہ تھا۔ اس افسانہ میں
ایک قصہ تو یہ ہے مگر افسانہ میں دوسرا قصہ چارو مجمدار کی قیادت والی نکسلی تحریک
سے متعلق ہے جو اصلاً افسانہ کی جان ہے۔ یہاں گائو ں کی مظلوم وِجیا ہے جو نکسلی
بن جاتی ہے اور دوسرا ایک فوجی سردار خان ہے اور وہ وِجیا کا محسن ہے۔ جس کابڑا
کارنامہ یہ ہے کہ گزرے ہوئے دنوں میں اسی کے احسان کی بدولت وِجیا نے اکبر پور پر
حملہ کرنا ترک کردیا تھا۔ وِجیا کے سلسلے کا یہ واقعہ گائوں والوں کے لیے جہاں ایک
پہیلی تھا وہیں دِل والوں کے لیے لائقِ ترغیب ایک ناقابل فراموش مثالی داستان کے
مترادف تھا۔افسانہ نگار کا متذکرہ افسانہ نہایت دلچسپ ہے اور اوّل تا آخر بہ شوق
پڑھے جانے کے قابل ہے۔
افسانہ ’وائلڈ لائف‘
افسانہ نگار کے دیگر افسانوں کے مقابلے منفرد ڈھب کا ہے جو قاری کو جنگل کی دنیا کی
سیر گاہی کا لطف عطا کرتاہے۔ اس افسانہ میں راوی کا یہ انکشاف بھی دلچسپ ہے کہ
دادا اور باپ کے شکار کے شوق کے علاوہ عہد طفلی میں خود اپنی شمولیت کے سبب ہی وائلڈ
لائف کے موضوع پر تحقیق کی جانب اس کی توجہ مبذول ہوئی تھی۔ اس ضمن میں وہ ہمیں
آگاہ کرتاہے کہ مدھیہ پردیش اور آسام کے گھنے جنگلوں میں شیر کی تلاش، ان کی
نسلوں میں بچے سے بڑے ہونے تک کے مراحل، روز مرہ کے معمولات کے ساتھ ان کی نفسیات
کے علاوہ دوسرے جانوروں کے ساتھ ان کے رویوں کے مشاہدات میرے موضوع سے متعلق تھے۔
اس
افسانہ میں افسانہ نگار نے ایک قابلِ توجہ قصے سے ہمیں روشناس کراتے ہوئے یہ عرض کیاہے
کہ اس کے اس کاروبارِ شوق میں ایک اہم واقعہ یوں پیش آتاہے کہ ایک شیرراوی یعنی
مرکزی کردار کے بہت قریب چلا آتاہے اور چند ساعت کو نظریں ملاکر جنگل میں واپس
لوٹ جاتاہے بالکل اس انداز سے کہ جیسے اس کا منشا کسی کا احسان اتارنا رہا ہو۔
صاحبِ
تحقیق عالمِ تحیر میں شیر کے اس انوکھے اور غیر فطری رویے پر جب غوروفکر کے مرحلے
سے گزرتا ہے تب اسے یاد آتاہے کہ ایک زخمی شیر کا بچّہ جس کے سر اور چہرے پر زخم
تھے اسی علاقے میں اسے کبھی ملاتھا جس کا علاج کرنے کے بعد اس نے اسے واپس جنگل میں
چھوڑ دیا تھا۔ عالمِ تجسس میں کیمرے کا کلوزاپ بڑھانے پر عرصہ بعد اس حقیقت سے
آشنائی ہوئی کہ یہ وہی شیر کا بچہ تھا۔یہاں افسانہ کے خاتمے پر ایک شعر تحریر کیا
گیا ہے جو معنوی اعتبار سے یہ باور کراتاہے کہ اب جنگل میں ہی جائے پناہ ڈھونڈی
جائے کہ اب شہر میں بھیڑئیے آباد ہوئے جاتے ہیں۔
اس
طرح سے ابوللیث جاوید افسانوں کے سلسلے میں بطورِ مجموعی میرے خیالات و تاثرات یہ
ہیں کہ وہ اپنے تقریباً تمام افسانوں میں مذہبی اقدار اور زمینی حقائق کو بہر صورت
مقدم رکھتے ہیں کیونکہ ان کا یہ عقیدۂ مصمم ہے کہ مذہب کا ایک سچا پیروکار ہی
صدقِ دل سے سماجی سروکار سے وابستہ ہوسکتاہے اور اپنے اطراف کی جملہ بدعنوانیوں کو
اجاگر کرنے کے ساتھ ان سے نجات کی تدابیر بھی دریافت کرسکتاہے۔ ابواللیث جاوید اس
جہانِ اردو افسانہ میں غالباً اپنی اسی مخصوص روش کی بنیاد پر اپنے معاصرین کے
مقابلے ایک منفرد امتیازی حیثیت کے حامل بن جاتے ہیں۔
اس
کے علاوہ جہاں تک ان کے متذکرہ افسانوی مجموعہ میں شامل افسانوں کے اسلوب کا سوال
ہے تو اس سطح پر وہ راست بیانیہ کے قائل دکھائی دیتے ہیں۔ شواہد پہ آئیے تو
دورانِ مطالعہ ان کے افسانوں میں موضوعات کے برتائو کا یہ عالم ہوتا ہے کہ وہ اوّل
تا آخر بصد توجہ قاری کے رابطے میں ہوتے ہیں اور بہ آسانی فہم میں اتر کر انھیں
مسرت سے ہمکنار کرتے ہیں۔ ویسے ان کے نمونۂ فن کے تمام پہلو محض مثبت رخ پر مبنی
نہیں ہیں بلکہ ان کے یہاں قاری کے مزاج کو بوجھل کر دینے والے اسباب بھی یقینا
موجود ہیںجنھیں ان کے افسانوں میں جملوں کی ساخت کے اعتبار سے دیکھا جاسکتاہے۔ اس
کی متعدد مثالیں ہیں مگر صرف دو افسانوں سے مثالیں پیش کرتے ہوئے رعایتاً یہ عرض
کردینا ضروری سمجھتاہوں کہ ان کے افسانوں کی اعلیٰ وارفع ناصحانہ فکر انگیزیوں کے
صدقے انھیں فراموش کردینے میں کوئی عذر نہیں ہے کیونکہ ان معاملات کے سبب ان کے
افسانوں کی صحت پر بلاواسطہ کسی قسم کے مضر اثرات مرتب نہیں ہوتے۔
ابواللیث
جاوید اپنے افسانہ ’احساس‘ میں کہتے ہیں کہ:
’’بے
شمار لوگ ملبوں کے نیچے دبے پڑے موت اور زندگی کا بھیانک کھیل کھیل رہے ہیں۔‘‘
’’سمند
ر بھڑکا دیے جائیں گے یعنی تمام پانی میں آگ لگ جائے گی۔‘‘(ص 56)
اسی
طرح افسانہ’ اُڑان ‘میں ہے کہ :
’’ساری
اپنی راز کی باتیں بڑی بے تکلفی سے کہہ جاتی ہے۔‘‘(ص 86)
غرض
کہ ابواللیث جاوید کی افسانہ نگاری، اسلوب اور موضوعاتی تنوع دونوں کے اعتبار سے
اردو افسانے کے معاصر منظرنامے میں ایک نئی روش کی نمائندگی کرتی ہے۔
Dr. Asif Sal eem
Green Maraige Hall, Fase-2
Bari Path, Mahendru
Patna-800006 (Bihar)
Mob.: 9534052751
riyazahmadpat@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں