9/1/26

مظفر حنفی کی غزلیہ شاعری ،مضمون نگار:محمد وسیم رضا

 اردو دنیا،اکتوبر 2025

1970کے بعد جن فن کاروںنے غزل کے حوالے سے اپنی پہچان بنائی اور اپنے لب ولہجہ میں گرد و پیش کے حالات سے اپنی بے اطمینانی کا احساس دِلایا، اُن میں ایک اہم اورنمایاںنام مظفر حنفی کا ہے۔ اُن کی تخلیقی ہنرمندی یہ ہے کہ انھوں نے اردو غزل کی روایت کی پاس داری تو کی لیکن محض روایتی علائم و لفظیات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس میں وسعت پید اکی جس کا ثمرہ یہ ہے کہ ان کے کلام میں وہ تمام خصوصیات موجود ہیں جو ایک اچھے شاعر کے یہاں ہونی چاہئیں۔ مظفر حنفی کے یہاںقدیم وجدید کا امتزاج اور آمیزش ان کے داخلی آہنگ سے پوری طرح میل کھاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ آئیے! اب مظفرحنفی کی غزلیہ شاعری کے فکری و فنی اختصاص پر گفتگو کی جائے۔

یوں تو مظفرحنفی کے شعری مجموعوںکی تعدادنصف درجن سے زیادہ ہے۔ان کا پہلا شعری مجموعہ 1967 میں ’پانی کی زبان‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ یہی زمانہ جدیدیت کے رجحان کے شباب کا عہد ہے۔ اس مجموعے کی اشاعت نے مظفرحنفی کو جدید شعرا میں اہم مقام دِلانے میں کلیدی رول اداکیاہے۔ جدید غزل چونکہ نئے ذہن کی کیفیات و احساسات کی پیداوار ہے۔ جدید غزل نے پرانی لفظیات کی تکرار اور گھسے پٹے مفہوم کویکسر خارج کرتے ہوئے، اس کی جگہ پر نئے نئے الفاظ اور علامتوںکا استعمال کیا جو ایک نئی فکر اور نئے مفہوم کے ساتھ ہمارے سامنے اُبھری۔مظفرحنفی اس معاملے میں پیش پیش رہے۔ ان کے کئی شعری مجموعے تواتر کے ساتھ شائع ہوئے جنھیں جدیدیت کی شناخت قرار دیاگیا۔مثلاً شعری مجموعہ تیکھی غزلیں، صریر خامہ، ……و آگ،  ’یم بہ یم، طلسم حرف، کھل جا سِم سِم، پردہ سخن کا، یا اخی، پرچم گرد بار، ہات اوپر ہے، آگ مصروف ہے وغیرہ کی غزلیں ہمارے اس دعوے کی تائید کرتی ہیں۔مظفر حنفی کی انفرادیت یہ ہے کہ انھوںنے اپنی شعری لفظیات، اپنے شعری برتاؤ،لہجے میں بے نیازی، طنزیہ لہجے سے معمور اشعار میںجدید علائم اور اچھوتی تراکیب کی ایک دنیا بسائی ہے جس میں نئے نئے مفاہیم پیدا کیے گئے ہیں۔ اپنی باتوںکو تقویت بخشنے کے لیے چند اشعارپر اکتفاکرتاہوں         ؎

مظفرخود اپنی راہ نکالنے کی دُھن میں ہے

اگرچہ خود علم ہے اُسے ندی کی دھار کا

ــــــــــاپنے اشعار کے لہجے سے مظفر صاحب

بھیڑ میں دور سے پہچان لیے جاتے ہیں

ــــــــــاشعار مظفر کے پامال زمینوں میں

دو ہاتھ پرے ہٹ کر فرسودہ خیالوں سے

ــــــــــشاہراہوں پہ تو مجموع مظفر صاحب

شعر کہنے کے کئی اور بھی رستے ہوں گے

ان اشعار میں صاف گوئی بھی ہے اور بے باکی بھی اور یہ اشعار اُن کے شاعرانہ موقف اور تنقیدی نظریات کی عمدہ ترجمانی بھی کرتے ہیں۔ انھوں نے فرسودہ خیال اور فرسودہ اندازِ بیان سے اپنے آپ کو الگ کیاہے اور اپنے نجی لہجے اور اسلوب کی تشکیل کی ہے۔

مظفرحنفی کی شاعری میں وہ تمام بنیادی خصوصیات موجود ہیں جو ایک فن کار کو بلند مقام عطا کرتی ہیں۔ ان کی غزلیہ شاعری میں تغزل کا رنگ بھی ہے اور محاکات آفرینی کی بوقلمونی بھی۔ عشق و محبت کی کیفیات و واردات بھی ہیں اور معاصر زندگی کے کرب کا اظہار بھی۔ان کے یہاں اخلاقی قدروںکی پامالی،رشتوںکا انہدام، سیاست کی شعبدہ بازی، اپنوںکی منافقت، کرب آگہی جیسے موضوعات کثرت سے مل جائیںگے۔ یہاں بھی انھوں نے اپنی انفرادیت قائم رکھی ہے۔

غم کھاکر مسکرانا ان کی فطرت میں شامل ہے بلکہ درد وغم کو وہ اپنی میراث سمجھتے ہیں اور اسے پی جانے میں انھیں عافیت کا احساس ہوتاہے۔ دیکھیے یہ اشعار       ؎

تلخیاں تو مظفر کی میراث ہے

شعر میں آنسوؤں کو چھپاتا ہے وہ

 

ــــــــــہزاروں مشکلیں ہیں دوستوں سے دور رہنے میں

مگر اک فائدہ ہے پیٹھ پر خنجر نہیں لگتا

ــــــــــجب وفا ہی نہ کی مظفر سے

غم کا ناطہ بھی توڑتے جاؤ

ــــــــــماحول میں زہر گھل چکا ہے

اب خون کثیف کردیا جائے

ـــــــــنہ جانے کیوں مِرا گھر جل رہاہے اور وہ خوش ہیں

یہی ہمسائے کل تک مجھ سے بے حد پیا رکرتے تھے

اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ مظفرحنفی کی شاعری میں نہ صرف موضوعات کا تنوع ہے بلکہ زندگی اور سماجی حقیقت نگاری کی سچی تصویر بھی پیش کی گئی ہے۔اُن کی نظر اپنے چاروں طرف پھیلے سماج کی فکر اور انتظام کے لیے کوشاں رہتی ہے۔ ان کا قلم معاشرہ کی سچی تصویر پیش کرنے سے نہیں چوکتا۔ نئے موضوع، طنزیہ لہجہ اور حوصلہ مندانہ طرزِ بیان ان کی شاعری کو انفرادیت بخشتی ہے۔ اُن کے یہاںرجائیت کا عنصر کوٹ کوٹ کر بھرا ہواہے۔ دیکھیے یہ اشعار         ؎

کھیتوں کھیتوں بھوک اُگی ہے، دریا دریا پیاس کا عالم

رستے رستے پیڑ کھڑے ہیں سائے کو دامن پھیلائے

ـــــــــظاہر ہے جسم و جاں کی خسارہ قریب ہے

ایک بلبلہ رواں ہے کنارہ قریب ہے

ــــــــــمجھے دربدری میں لطف آتا ہے

مِری بلا سے فراہم نہ کر در و دیوار

عشق اور معاملاتِ عشق اردو شاعری کا خمیر ہے۔تقریباً تمام شعرا نے عشق کے موضوع پر طبع آزمائیاں کی ہیں، نام گنانے کی ضرورت نہیں۔مظفرحنفی نے گرچہ عشقیہ اشعار اپنی غزلوںمیں پیش کیے ہیں لیکن فرسودہ خیال اور فرسودہ زبان اور اندازِ بیان سے اپنے آپ کوالگ رکھا۔اس کا مطلب یہ نہیںکہ وہ عشقیہ روایات سے ناآشنا ہیں۔ معاملاتِ عشق میں ان کی غزلوںمیں لہجے کی شوخی بھی ہے اور بے ساختگی اور بے باکی بھی۔ اندازِ گفتگو میں بے تکلفی بھی ہے اور احساس میں گرمی بھی۔ ان کے عشقیہ اشعار میں روایت اور جدت کا خوب صورت امتزاج ہے۔ دیکھیے یہ اشعار        ؎

کچھ ایسے انداز سے جھٹکا اس نے بالوں کو

میری آنکھوں میں در آیا پورا کجلی پن

ــــــــــپھینکا گیا ہے پھول جہاں سے رقیب پر

تشویش ہے وہ تیرا دریچہ نہ ہو کہیں

ــــــــــوہ پاس آ کے مہکتی ہے کس قدر یارو

وہ دور سے نظر آتی ہے دل ربا کتنی

ان کے عشقیہ اشعار میںلہجے کی انفرادیت بھی ہے اور فکر کی ندرت بھی۔ حسن و عشق کی کیفیات، پیکر حسن کی تعریف، ہجر و وصال کی باتوں اور زلف و رخسار کے تذکروں کے علاوہ مظفرحنفی کی غزلیہ شاعری کی ایک اہم شق ان کی طنزیہ شاعری ہے۔

مظفرحنفی کی غزلوںمیںجو طنزیہ اسلوب ہے،اس میںجدید لہجے کی آمیزش، سونے پر سہاگا کا کام انجام دیتی ہے۔ مظفرحنفی نے معاشرتی زندگی کے انتشار، اخلاقی قدروںکی پامالی، سیاست کے مکر و فریب، فرقہ پرستی اور اقتدار کی ہوس کا مشاہدہ بہت ہی قریب سے کیا ہے۔لہٰذا انھوںنے طنزیہ اسلوب میں کہہ کر معاشرے کے بدصورت اور کریہہ چہرے کو آشکار کیاہے۔ اپنی باتوںکو تقویت بخشنے کے لیے کچھ ایسے اشعار پیش کرنے پر اکتفا کروںگا جن میں انھوںنے اپنے مزاج سے مطابقت رکھنے والے الفاظ اعتدال و توازن، مناسبت، برجستگی و بے باکی کے ساتھ برتاہے۔دیکھیے یہ اشعار       ؎

یہ کام اہلِ سیاست نے لاجواب کیا

خفا کسی سے ہیں، جینا میرا عذاب کیا

ــــــــــدیکھو مٹی کو لہو سے نہ کرو آلودہ

ورنہ اس سال بھی برسات نہیں ہونے کی

ــــــــــجاکر بلندیوں پر وہ طنز کررہے ہیں

ہم لوگ جن کے خاطر زینہ بنے ہوئے تھے

ـــــــــتم اپنے سر تو سہرا میرے سر الزام رکھتے ہو

کہاںکے رہنے والے ہو میاں کیا نام رکھتے ہو

ــــــــــیوں تو جس کو آپ فرمادیں وہی ہے بے گناہ

ورنہ اک معیار جس کا ہاتھ جتنا سرخ ہے

مذکورہ بالا اشعارزہر میں بجھے ہوئے تیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اپنے طنز کے فن پر رگڑکر جس طرح الفاظ کو نکیلا اور تیکھا بنایاہے، ان کی فنی اجتہادات پر دلالت کرتے ہیں۔بقول پروفیسر وہاب اشرفی:

’’طنز نگاری مظفرحنفی کاعمومی مزا ج ہے۔مظفرحنفی کو شاد عارفی سے تلمذ تھا اور موصوف کتنے بے باک اور خطرناک تھے..... مظفرحنفی کی تنقید نگاری محض تقلیدی نہیں ہے۔ شاد عارفی کے یہاں تو ایک قسم کا کھردراپن، نکتہ چینی کا تیور اور لڑائی بھڑائی کی کیفیت ہے لیکن مظفرحنفی لب ولہجہ کی متانت، انتہائی سنگین موقع پر بھی نہیں کھوتے۔ اس لیے ان کے طنز پر غصہ نہیں آتا۔‘‘

(بحوالہ تاریخ ادب اردو، جلد سوم، وہاب اشرفی)

ڈاکٹر انور سدید مظفرحنفی کی غزلوںمیں طنزیہ و مزاحیہ عناصر پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اردو میں طنز و ظرافت کی جو مثال شاد عارفی نے قائم کی تھی اور جس کے بارے میں خیال تھا کہ شاد عارفی اس اندازِ فکر کے شاعرِ آخرالزماں ہوں گے۔ اس کا ایک روشن زاویہ مظفرحنفی کی صورت میں اُبھرا ہے۔ مظفرحنفی جو شادعارفی کے ارشد تلامذہ میں سے ہیں اس لیے بجاطور پر کہاجاسکتاہے کہ ان کے فن میں فیضِ استاد کی تابندہ کرنیں ہیں۔‘‘

مجموعی طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیںکہ مظفرحنفی کی غزلیہ شاعری کا کینوس بہت وسیع ہے۔ ان کی غزلیہ شاعری عشقیہ جذبات و احساسات کا اظہار بھی ہے اور نازک خیالی، نزاکتِ احساس کا لطیف بیان بھی۔ الفاظ کے استعمال میں تصویرکاری کا ہنر جانتے ہیں۔ انھوںنے طنزیہ اسلوب کو وسعت بخشتے ہوئے اس کے دائرے کو کافی وسیع کردیاہے۔ انھوںنے روایت سے اپنا رشتہ ہمیشہ استوار رکھا لیکن اپنی انفرادیت قائم رکھنے کے لیے صالح اور جاندار روایت کو اپنی شاعری میں جگہ تو دی لیکن فرسودہ روایات سے اپنا رشتہ توڑتے ہوئے نئی روایتوںکی تخلیق کی۔ انھوںنے اپنا لہجہ اور اسلوب تشکیل کیا۔ ان کی شاعری میں فن،زبان اور قواعد کا شعور پختہ ہے، ابلاغ کی ترسیل کا مسئلہ نہیں ہے۔ انھوںنے اپنی غزلوںکوسادہ، دل نشیں، سلیس اور تکلفات سے عاری زبان میں پیش کیاہے۔ بات دل سے نکلتی ہے اور دل میں اترتی چلی جاتی ہے۔عصری حسیت اور خود آگہی کے موتی الفاظ کے وسیلے سے اس طرح اُجاگر کیے گئے ہیں کہ ہر لفظ مفہوم و معنی کے اعتبار سے اثر انگیز ہو جاتاہے۔نئے نئے الفاظ، اختراعی عمل، نئی نئی تراکیبوں سے قاری کو جھنجھوڑنے کاہنرکوئی اُن سے سیکھے۔

 

D1970کے بعد جن فن کاروںنے غزل کے حوالے سے اپنی پہچان بنائی اور اپنے لب ولہجہ میں گرد و پیش کے حالات سے اپنی بے اطمینانی کا احساس دِلایا، اُن میں ایک اہم اورنمایاںنام مظفر حنفی کا ہے۔ اُن کی تخلیقی ہنرمندی یہ ہے کہ انھوںنے اردو غزل کی روایت کی پاس داری تو کی لیکن محض روایتی علائم و لفظیات پر اکتفا نہیںکیا بلکہ اس میں وسعت پید اکی جس کا ثمرہ یہ ہے کہ ان کے کلام میں وہ تمام خصوصیات موجود ہیں جو ایک اچھے شاعر کے یہاں ہونی چاہئیں۔ مظفر حنفی کے یہاںقدیم وجدید کا امتزاج اور آمیزش ان کے داخلی آہنگ سے پوری طرح میل کھاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ آئیے! اب مظفرحنفی کی غزلیہ شاعری کے فکری و فنی اختصاص پر گفتگو کی جائے۔

یوں تو مظفرحنفی کے شعری مجموعوںکی تعدادنصف درجن سے زیادہ ہے۔ان کا پہلا شعری مجموعہ 1967 میں ’پانی کی زبان‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ یہی زمانہ جدیدیت کے رجحان کے شباب کا عہد ہے۔ اس مجموعے کی اشاعت نے مظفرحنفی کو جدید شعرا میںاہم مقام دِلانے میںکلیدی رول اداکیاہے۔ جدید غزل چونکہ نئے ذہن کی کیفیات و احساسات کی پیداوار ہے۔ جدید غزل نے پرانی لفظیات کی تکرار اور گھسے پٹے مفہوم کویکسر خارج کرتے ہوئے، اس کی جگہ پر نئے نئے الفاظ اور علامتوںکا استعمال کیا جو ایک نئی فکر اور نئے مفہوم کے ساتھ ہمارے سامنے اُبھری۔مظفرحنفی اس معاملے میں پیش پیش رہے۔ ان کے کئی شعری مجموعے تواتر کے ساتھ شائع ہوئے جنھیں جدیدیت کی شناخت قرار دیاگیا۔مثلاً شعری مجموعہ تیکھی غزلیں، صریر خامہ، ……و آگ،  ’یم بہ یم، طلسم حرف، کھل جا سِم سِم، پردہ سخن کا، یا اخی، پرچم گرد بار، ہات اوپر ہے، آگ مصروف ہے وغیرہ کی غزلیں ہمارے اس دعوے کی تائید کرتی ہیں۔مظفر حنفی کی انفرادیت یہ ہے کہ انھوںنے اپنی شعری لفظیات، اپنے شعری برتاؤ،لہجے میں بے نیازی، طنزیہ لہجے سے معمور اشعار میںجدید علائم اور اچھوتی تراکیب کی ایک دنیا بسائی ہے جس میں نئے نئے مفاہیم پیدا کیے گئے ہیں۔ اپنی باتوںکو تقویت بخشنے کے لیے چند اشعارپر اکتفاکرتاہوں         ؎

مظفرخود اپنی راہ نکالنے کی دُھن میںہے

اگرچہ خود علم ہے اُسے ندی کی دھار کا

ــــــــــاپنے اشعار کے لہجے سے مظفر صاحب

بھیڑ میں دور سے پہچان لیے جاتے ہیں

ــــــــــاشعار مظفر کے پامال زمینوں میں

دو ہاتھ پرے ہٹ کر فرسودہ خیالوں سے

ــــــــــشاہراہوں پہ تو مجموع مظفر صاحب

شعر کہنے کے کئی اور بھی رستے ہوں گے

ان اشعار میں صاف گوئی بھی ہے اور بے باکی بھی اور یہ اشعار اُن کے شاعرانہ موقف اور تنقیدی نظریات کی عمدہ ترجمانی بھی کرتے ہیں۔ انھوںنے فرسودہ خیال اور فرسودہ اندازِ بیان سے اپنے آپ کو الگ کیاہے اور اپنے نجی لہجے اور اسلوب کی تشکیل کی ہے۔

مظفرحنفی کی شاعری میں وہ تمام بنیادی خصوصیات موجود ہیں جو ایک فن کار کو بلند مقام عطا کرتی ہیں۔ ان کی غزلیہ شاعری میں تغزل کا رنگ بھی ہے اور محاکات آفرینی کی بوقلمونی بھی۔ عشق و محبت کی کیفیات و واردات بھی ہیں اور معاصر زندگی کے کرب کا اظہار بھی۔ان کے یہاں اخلاقی قدروںکی پامالی،رشتوںکا انہدام، سیاست کی شعبدہ بازی، اپنوںکی منافقت، کرب آگہی جیسے موضوعات کثرت سے مل جائیںگے۔ یہاںبھی انھوںنے اپنی انفرادیت قائم رکھی ہے۔

غم کھاکر مسکرانا ان کی فطرت میں شامل ہے بلکہ درد وغم کو وہ اپنی میراث سمجھتے ہیں اور اسے پی جانے میں انھیں عافیت کا احساس ہوتاہے۔ دیکھیے یہ اشعار       ؎

تلخیاں تو مظفر کی میراث ہے

شعر میں آنسوؤں کو چھپاتا ہے وہ

 

ــــــــــہزاروں مشکلیں ہیں دوستوں سے دور رہنے میں

مگر اک فائدہ ہے پیٹھ پر خنجر نہیں لگتا

ــــــــــجب وفا ہی نہ کی مظفر سے

غم کا ناطہ بھی توڑتے جاؤ

ــــــــــماحول میں زہر گھل چکا ہے

اب خون کثیف کردیا جائے

ـــــــــنہ جانے کیوں مِرا گھر جل رہاہے اور وہ خوش ہیں

یہی ہمسائے کل تک مجھ سے بے حد پیا رکرتے تھے

اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ مظفرحنفی کی شاعری میں نہ صرف موضوعات کا تنوع ہے بلکہ زندگی اور سماجی حقیقت نگاری کی سچی تصویر بھی پیش کی گئی ہے۔اُن کی نظر اپنے چاروں طرف پھیلے سماج کی فکر اور انتظام کے لیے کوشاں رہتی ہے۔ ان کا قلم معاشرہ کی سچی تصویر پیش کرنے سے نہیں چوکتا۔ نئے موضوع، طنزیہ لہجہ اور حوصلہ مندانہ طرزِ بیان ان کی شاعری کو انفرادیت بخشتی ہے۔ اُن کے یہاںرجائیت کا عنصر کوٹ کوٹ کر بھرا ہواہے۔ دیکھیے یہ اشعار         ؎

کھیتوں کھیتوں بھوک اُگی ہے، دریا دریا پیاس کا عالم

رستے رستے پیڑ کھڑے ہیں سائے کو دامن پھیلائے

ـــــــــظاہر ہے جسم و جاں کی خسارہ قریب ہے

ایک بلبلہ رواں ہے کنارہ قریب ہے

ــــــــــمجھے دربدری میں لطف آتا ہے

مِری بلا سے فراہم نہ کر در و دیوار

عشق اور معاملاتِ عشق اردو شاعری کا خمیر ہے۔تقریباً تمام شعرا نے عشق کے موضوع پر طبع آزمائیاں کی ہیں، نام گنانے کی ضرورت نہیں۔مظفرحنفی نے گرچہ عشقیہ اشعار اپنی غزلوںمیں پیش کیے ہیں لیکن فرسودہ خیال اور فرسودہ زبان اور اندازِ بیان سے اپنے آپ کوالگ رکھا۔اس کا مطلب یہ نہیںکہ وہ عشقیہ روایات سے ناآشنا ہیں۔ معاملاتِ عشق میں ان کی غزلوںمیں لہجے کی شوخی بھی ہے اور بے ساختگی اور بے باکی بھی۔ اندازِ گفتگو میں بے تکلفی بھی ہے اور احساس میں گرمی بھی۔ ان کے عشقیہ اشعار میں روایت اور جدت کا خوب صورت امتزاج ہے۔ دیکھیے یہ اشعار        ؎

کچھ ایسے انداز سے جھٹکا اس نے بالوں کو

میری آنکھوں میں در آیا پورا کجلی پن

ــــــــــپھینکا گیا ہے پھول جہاں سے رقیب پر

تشویش ہے وہ تیرا دریچہ نہ ہو کہیں

ــــــــــوہ پاس آ کے مہکتی ہے کس قدر یارو

وہ دور سے نظر آتی ہے دل ربا کتنی

ان کے عشقیہ اشعار میںلہجے کی انفرادیت بھی ہے اور فکر کی ندرت بھی۔ حسن و عشق کی کیفیات، پیکر حسن کی تعریف، ہجر و وصال کی باتوں اور زلف و رخسار کے تذکروں کے علاوہ مظفرحنفی کی غزلیہ شاعری کی ایک اہم شق ان کی طنزیہ شاعری ہے۔

مظفرحنفی کی غزلوںمیںجو طنزیہ اسلوب ہے،اس میںجدید لہجے کی آمیزش، سونے پر سہاگا کا کام انجام دیتی ہے۔ مظفرحنفی نے معاشرتی زندگی کے انتشار، اخلاقی قدروںکی پامالی، سیاست کے مکر و فریب، فرقہ پرستی اور اقتدار کی ہوس کا مشاہدہ بہت ہی قریب سے کیا ہے۔لہٰذا انھوںنے طنزیہ اسلوب میں کہہ کر معاشرے کے بدصورت اور کریہہ چہرے کو آشکار کیاہے۔ اپنی باتوںکو تقویت بخشنے کے لیے کچھ ایسے اشعار پیش کرنے پر اکتفا کروںگا جن میں انھوںنے اپنے مزاج سے مطابقت رکھنے والے الفاظ اعتدال و توازن، مناسبت، برجستگی و بے باکی کے ساتھ برتاہے۔دیکھیے یہ اشعار       ؎

یہ کام اہلِ سیاست نے لاجواب کیا

خفا کسی سے ہیں، جینا میرا عذاب کیا

ــــــــــدیکھو مٹی کو لہو سے نہ کرو آلودہ

ورنہ اس سال بھی برسات نہیں ہونے کی

ــــــــــجاکر بلندیوں پر وہ طنز کررہے ہیں

ہم لوگ جن کے خاطر زینہ بنے ہوئے تھے

ـــــــــتم اپنے سر تو سہرا میرے سر الزام رکھتے ہو

کہاںکے رہنے والے ہو میاں کیا نام رکھتے ہو

ــــــــــیوں تو جس کو آپ فرمادیں وہی ہے بے گناہ

ورنہ اک معیار جس کا ہاتھ جتنا سرخ ہے

مذکورہ بالا اشعارزہر میں بجھے ہوئے تیر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اپنے طنز کے فن پر رگڑکر جس طرح الفاظ کو نکیلا اور تیکھا بنایاہے، ان کی فنی اجتہادات پر دلالت کرتے ہیں۔بقول پروفیسر وہاب اشرفی:

’’طنز نگاری مظفرحنفی کاعمومی مزا ج ہے۔مظفرحنفی کو شاد عارفی سے تلمذ تھا اور موصوف کتنے بے باک اور خطرناک تھے..... مظفرحنفی کی تنقید نگاری محض تقلیدی نہیں ہے۔ شاد عارفی کے یہاں تو ایک قسم کا کھردراپن، نکتہ چینی کا تیور اور لڑائی بھڑائی کی کیفیت ہے لیکن مظفرحنفی لب ولہجہ کی متانت، انتہائی سنگین موقع پر بھی نہیں کھوتے۔ اس لیے ان کے طنز پر غصہ نہیں آتا۔‘‘

(بحوالہ تاریخ ادب اردو، جلد سوم، وہاب اشرفی)

ڈاکٹر انور سدید مظفرحنفی کی غزلوںمیں طنزیہ و مزاحیہ عناصر پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اردو میں طنز و ظرافت کی جو مثال شاد عارفی نے قائم کی تھی اور جس کے بارے میں خیال تھا کہ شاد عارفی اس اندازِ فکر کے شاعرِ آخرالزماں ہوںگے۔ اس کا ایک روشن زاویہ مظفرحنفی کی صورت میں اُبھرا ہے۔ مظفرحنفی جو شادعارفی کے ارشد تلامذہ میں سے ہیں اس لیے بجاطور پر کہاجاسکتاہے کہ ان کے فن میں فیضِ استاد کی تابندہ کرنیں ہیں۔‘‘

مجموعی طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیںکہ مظفرحنفی کی غزلیہ شاعری کا کینوس بہت وسیع ہے۔ ان کی غزلیہ شاعری عشقیہ جذبات و احساسات کا اظہار بھی ہے اور نازک خیالی، نزاکتِ احساس کا لطیف بیان بھی۔ الفاظ کے استعمال میں تصویرکاری کا ہنر جانتے ہیں۔ انھوںنے طنزیہ اسلوب کو وسعت بخشتے ہوئے اس کے دائرے کو کافی وسیع کردیاہے۔ انھوںنے روایت سے اپنا رشتہ ہمیشہ استوار رکھا لیکن اپنی انفرادیت قائم رکھنے کے لیے صالح اور جاندار روایت کو اپنی شاعری میں جگہ تو دی لیکن فرسودہ روایات سے اپنا رشتہ توڑتے ہوئے نئی روایتوںکی تخلیق کی۔ انھوںنے اپنا لہجہ اور اسلوب تشکیل کیا۔ ان کی شاعری میں فن،زبان اور قواعد کا شعور پختہ ہے، ابلاغ کی ترسیل کا مسئلہ نہیں ہے۔ انھوںنے اپنی غزلوںکوسادہ، دل نشیں، سلیس اور تکلفات سے عاری زبان میں پیش کیاہے۔ بات دل سے نکلتی ہے اور دل میں اترتی چلی جاتی ہے۔عصری حسیت اور خود آگہی کے موتی الفاظ کے وسیلے سے اس طرح اُجاگر کیے گئے ہیںکہ ہر لفظ مفہوم و معنی کے اعتبار سے اثر انگیز ہو جاتاہے۔نئے نئے الفاظ، اختراعی عمل، نئی نئی تراکیبوں سے قاری کو جھنجھوڑنے کاہنرکوئی اُن سے سیکھے۔

 

Dr. Md. Wasim Reza

Head, Deptt. of Urdu

Rameshwar College

Muzaffarpur-842001

Mob. : 9955545128,

Email : drwasimreza@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

ابواللیث جاوید کے افسانوں کے امتیازات،مضمون نگار:آصف سلیم

  اردو دنیا،اکتوبر 2025 معاصر افسانوی منظرنامے میں ابواللیث جاوید منفرد اور جداگانہ طرزِ تحریر کی بدولت ایک الگ شناخت رکھتے ہیں۔ 1970 کے قری...