9/1/26

مجروح کا شعری آفاق،مضمون نگار:محمد دانش

 اردو دنیا،اکتوبر 2025

اردو غزل کا ذکر جب جب ہوگا،متعدد شعرا کے ہجوم میں ایک شاعر ہمارے تصور کے پردے پر ابھر آئے گا۔

مجروح نے اردو غزل کو جدید لب و لہجہ،جدید تیور اور جدید طرز و آہنگ عطا کر کے غزل کے شیدائیوں کو مخمور کر دیا اور غزل کی لطافت،حلاوت اور حسیت کو قائم رکھا۔مجروح نے یہ ثابت کیا کہ غزل دنیا کے کسی بھی مسئلے، کسی بھی کیفیت اور کسی بھی موضوع کو بیان کرنے کی قابلیت رکھتی ہے۔خواہ مسئلہ چھوٹا ہو یا بڑا،غزل کے دو مصرعوں میں پوری داستان سما سکتی ہے۔غزل کے دو مصرعے سامع اور قاری کو بغیر وقت ضائع کیے جو لطف اور نتیجہ عطا کر سکتے ہیں۔کوئی دوسری صنف نہیں عطا کرسکتی۔

 مجروح کے شعری خزانوں میں غزلوں کی تعداد مختصر ہی سہی لیکن ان کے غزلیہ کارناموں نے ہر قسم کے طبقہ کو متاثر کیا۔ان کے مخالف نقاد بھی ان کے جادوئی سخن کے دیوانے ہو گئے۔انھوں نے فلموں میں بھی غزلیں لکھیں اور فلمی دنیا کے ذریعہ ان کے نغموں کی صدا ملکوں ملکوں گونجی۔غزل کی آبیاری میں ان کا خون پسینہ شامل ہے۔انھوں نے طب کا پیشہ اختیار کیا لیکن اسے جلد ہی ترک کر کے شاعری کو زندگی گزارنے کا ذریعہ بنالیا۔ان کے شعری مزاج کی پرورش آسی الدنی، رشید احمد صدیقی اور جگر مراد آبادی جیسی ذی اثر شخصیات کے زیرِ سایہ ہوئی۔لاکھ مخالفت اور سنگِ طعنہ سہنے کے باوجود مجروح نے غزل کا دامن نہیں چھوڑا۔حقیقت بیانی کے سبب ان پر بہتان لگا اور ڈیڑھ سال کے لیے جیل کی صعوبت برداشت کرنی پڑی۔

دیگر سخنوروں کی طرح مجروح نے بھی ابتدائی دور میں عشقیہ شاعری کی،چونکہ عشق حقیقی ہو یا مجازی ازل سے ہی انسانی جبلّت میںداخل ہے۔عشق ایک ایسا موضوع ہے،جسے بیان کرنے کے لیے مطالعہ،مشاہدہ یا خود عشق کرنا ضروری نہیں۔یہ ایک جذبہ ہے،جو عمر کے مطابق انسان اسے خود بخود محسوس کرنے لگتا ہے۔اسی عشق کے بیان نے اسرارالحسن خاں کو مجروح بنا دیا۔ انھوں نے روایتی کلاسیکی رنگ سے معمور تشبیہ اور استعارہ سے مزین شاعری کی۔پھر رفتہ رفتہ اس میں تغیر و تبدل پیدا ہوتا گیا اور کلام میں تہذیب و شائستگی، تہداری اور طرحداری کا رنگ نظر آنے لگا۔یہ وہ رنگ تھا، جو ان دنوں مہذب اساتذہ کا تھا اور مجروح کی غزلوں میں بھی وہ رنگ دیکھا جا سکتا ہے۔ذیل میں موصوف کے تعشقانہ جذبات کے متعلق چند اشعاردرج کیے جا رہے ہیںجو توجہ کے مستحق ہیں۔مثلاً         ؎

اس نظر کے اٹھنے میں،اس نظر کے جھکنے میں

نغمۂ سحر بھی ہے،آہِ صبح ِ گاہی بھی

یاد کر وہ دن جس دن تیری سخت گیری پر

اشک بن کے اٹھی تھی میری بے گناہی بھی

کبھی تو یوں بھی امنڈتے سرشکِ غم مجروح

کہ میرے زخمِ تمنا کے داغ دھو دیتے

غزل کے ان اشعار میں مجروح نے اشارہ کنایہ سے کام لیتے ہوئے مہذب اسلوب و زبان استعمال کی ہے۔کہیں بھی عریانیت جھانکتی نظر نہیں آتی۔

مجروح کی جس شاعری میں سیاسی اشارے، انقلابی آہنگ اور سماجی نظریہ پایا جاتا ہے، وہ ان کی شاعری کا عظیم کارنامہ ہے۔اس پرُ پیچ کارنامہ کو انجام دینے کے لیے انھیں دشوار امتحان سے گزرنا پڑا۔حالانکہ ایسا بھی نہیں تھا کہ شاعری میں سیاسی پہلو ؤ ں کو برتا نہیں گیا۔ کسی نہ کسی شکل میں اس کا پرتَو شاعری میں ضرور رہا ہے لیکن غزلیہ شاعری میں ایسے مضامین کم داخل ہو پائے تھے۔ علامہ اقبال اور اقبال سہیل کے علاوہ دیگر شعرا کے کلام میں سیاسی مضامین مل جاتے ہیں مگر غزلیہ شاعری میں بہت کم مل سکیں گے۔

مجروح کی سیاسی،انقلابی اور معاشرتی شاعری میں بہت شوروغل نہیں ہے،بلکہ ایک طرح کی سکون اوراطمینان بخش گفتگو ہے۔وہ مثبت خیالات کے حامل نظر آتے ہیں اور تروتازہ عزمِ مصمم رکھتے ہیں۔ تھوڑی سی امید کی کرن پر بھی مطمئن رہتے ہیں۔یہی وہ خصوصیات ہیں،جو موصوف کو اپنے ہم عصر شعرا سے منفرد کرتی ہیں۔ایک خوبی ان کے کلام کی نغمگی بھی ہے۔ جس سے ایسی کیفیت طاری ہوتی ہے کہ دامنِ دل کھنچتا ہے۔یہ شعری نغمگی ان کے کلام کی عظمت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی غزلوں میں عمدہ اور خاص قسم کا توازن ہے، جو شاعر کی غزلوں کا معیار بلند کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ قاری کو کیف بخشتا ہے۔مجروح کے کچھ ایسے اشعار دیکھتے چلیں جو شاعر کی انفرادی حیات سے تعلق رکھتے ہیں اور کچھ ان کی بے باکی و جرأت کا ثبوت دیتے ہیں۔مثلاً:   ؎

رفتہ رفتہ منقلب ہوتی گئی رسمِ چمن

دھیرے دھیرے نغمۂ دل بھی فغاں بنتا گیا

حیات لغزشِ پیہم کا نام ہے ساقی

لبوں سے جام لگا بھی سکوں خدا جانے

میرے ہی سنگ و خشت سے تعمیربام و در

میرے ہی گھر کو شہر میں شامل کہا نہ جائے

ہم کو جنوں کیا سکھلاتے ہو،ہم تھے پریشاں تم سے زیادہ

چاک کیے ہیں ہم نے عزیز و،چار گریباں تم سے زیادہ

مجروح کے کلام کا اسلوب سلیس ہے مگر اس سلیس اسلوب کی عبارت بہ آسانی حل نہیں ہوتی۔  ان کی غزل کے ہر شعر کا ایک خاص مقصد ہوتا ہے۔جس میں معنی کا دریا پنہاں ہوتا ہے۔یہ خوبی موصوف کو اردو کے چند بڑے غزل گو شعرا کی قطار میں لا کھڑا کرتی ہے۔اردو ادب کی تاریخ میں شاعروں کا ایک ہجوم نظر آتا ہے، لیکن ایسے شاعر نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہیںجن کے متعدد اشعار ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ اگر کسی شعر کو ضرب المثل کا درجہ مل جائے اور وہ شعر لازوال ہو تو یہ اس شاعر کی عظیم شاعری ہونے کا پختہ ثبوت ہے اور یہ اس کی پوری زندگی کا گراں بہا سرمایہ ہے اور بلا شبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ مجروح کے کئی شعروں کو یہ اعزاز نصیب ہوا اور ان میں ضرب المثل بننے کی صلاحیت موجود تھی۔مجروح کا ایک لافانی شعر یہ ہے       ؎

میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر

لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

مجروح کا یہ شعر بہت وسیع پیمانے پر مقبول ہوا۔ہر خا ص و عام کی زبان پر تھا اور آج بھی حافظہ میں محفوظ ہے۔ جب بھی کسی ادبی و معیاری مشاعروں اور جلسوں میں کسی کو حوصلہ دیتے ہوئے نصیحت کرنی ہوتی ہے تو مجروح کا یہ شعر بے ساختہ زبان پر دوڑا چلا آتا ہے۔یہ شعر اپنی فصاحت و بلاغت اور عزم و جرأت کا لوہا منوا چکا تھا۔شاعری کے باذوق قاری اپنی گفتگو کے دوران اس شعر کی مثال دینے میں فخر محسوس کرتے تھے۔اسی قبیل کے چند اشعار غور طلب ہیں       ؎

جو دیکھتے مری نظروں پہ بندشوں کے ستم

تو یہ نظارے مری بے بسی پہ رو دیتے

دیکھ زنداں سے پرے رنگِ چمن جوشِ بہار

رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ

ہم ہیں متاعِ کوچہ و بازار کی طرح

اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح

نظروں پر پابندی اور بے بسی پر نظاروں کی اشک فشانی سے معلوم ہوتا ہے کہ مجروح کی طبیعت بہت حساس تھی۔ وہ عمیق اور باریک نظر رکھتے تھے۔انھوں نے انسان کو فطرت سے سبق حاصل کرنے کا پیغام اس طرح دیا ہے کہ اگر رقص کرنا ہے تو بہار کا جوش دیکھنا چاہیے، کیونکہ انسان کے جنونی عمل سے ہر رکاوٹ د ور ہو جاتی ہے۔ مجروح پستی کی حالت میں رہ کر پستی پر ماتم کرنے کے قائل نہیں ہیں،بلکہ وہ پستی میں رہتے ہوئے بلندی پر پہنچنے کی جست لگاتے ہیں۔ ان کی شاعری حوصلہ خیز ہے جو استحصال طبقہ کی ہمت افزائی کرتی ہے اور انھیں ناجائز ظلم و جبر سے نجات دلاتی ہے۔جیسا کہ ہم نے میر و غالب جیسے عظیم شعرا کے دواوین کی سیر کی ہے۔ان کے ساتھ ساتھ بیشتر سخنوروں نے اپنے تخلیقی فن پارے پر فخر کا اظہار کیا ہے اور اپنی شعری استعداد و صلاحیت کی داد چاہی ہے۔مثلاً میر نے کہا        ؎

جانے کا نہیں شور سخن کا مرے ہر گز

تا حشر جہاں میں مرا دیوان رہے گا

پھر غالب نے کہا        ؎

ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور

ٹھیک اسی طرح مجروح نے بھی اپنے کلام پر فخرو ناز کا مظاہرہ کیا ہے۔اپنی کم سخنی کے متعلق اور اپنے کلام پر نکتہ چینی کرنے والوں کے متعلق نادر اشعار رقم کیے ہیں۔ مثلاً          ؎

دہر میں مجروح کوئی جاوداں مضموں کہا ں

میں جسے چھوتا گیا وہ جاوداں بنتا گیا

نوا ہے جاوداں مجروح جس میں روحِ ساعت ہو

کہا کس نے مرا نغمہ زمانے کے چلن تک ہے

تجھے نہ مانے کوئی تجھ کو اس سے کیا مجروح

چل اپنی راہ بھٹکنے دے نکتہ چینوں کو

ملے جو وقت نواسنجیِ ہزاراں سے

ادھر بھی دیکھ تماشا ہے میری کم سخنی

 یہ سچ ہے کہ مجروح نے جس مضمون کو ہاتھ لگایا، اسے دوام عطا کیا اور ان کی کم سخنی ہی تاریخِ ادب اردو کا اہم باب بن گئی۔

حوالہ جات

1        گلکاریِ وحشت کا شاعر مجروح،مرتبہ : خلیق انجم، مضمون مشمولہ، مجروح سلطانپوری: ایک تاثر،  انجمن ترقی اردو (ہند)، نئی دہلی، 2000

2        مجروح فہمی، تحقیق، ترتیب و مقدمہ : آصف اعظمی، مضمون مشمولہ : مجروح کی غزل میں پیکر تراشی، مجلس فخر بحرین برائے فروغ ِ اردو،بحرین 2019

3        کلیاتِ مجروح سلطانپوری، مرتب : تاج سعید۔از گفتنی نا گفتنی، الحمد پبلی کیشنز،2003

4        بحوالہ، تہذیبِ غزل کا شاعر مجروح سلطانپوری،  ترتیب: ڈاکٹر زیبا محمود۔مضمون مشمولہ،مجروح کی غزل گوئی، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی، 2012

 

Dr. Mohammad Danish

Bal Govind Patel Smarak P.G College

Sultanpur Khas Mau Aima

Prayagraj- 212507 (UP)

Mob.: 9794530403

da051217@gmail.com


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

ابواللیث جاوید کے افسانوں کے امتیازات،مضمون نگار:آصف سلیم

  اردو دنیا،اکتوبر 2025 معاصر افسانوی منظرنامے میں ابواللیث جاوید منفرد اور جداگانہ طرزِ تحریر کی بدولت ایک الگ شناخت رکھتے ہیں۔ 1970 کے قری...